ہفتہ، 30 جون، 2018

سورج اور چاند گہن، بدنظمی اور انتشار کے نقیب

گہن سے متعلق ضروری احتیاط ، صدقات اور اہم اعمال ووظائف
سال 2018 ء میں 5 سورج اور چاند گہن ہیں، ان میں سے دو جنوری فروری میں لگ چکے ہیں، آخری تین گہن جولائی اگست میں یکے بعد دیگر لگیں گے، پہلا سورج گہن 13 جولائی کو ہوگا، دوسرا 28 جولائی کو چاند گہن ہوگا، اس کے بعد 11 اگست کو پھر سورج گہن لگے گا، دونوں سورج گہن جزوی ہیں لیکن چاند گہن مکمل اور خاصے طویل دورانیے کا ہوگا، پاکستان کے حالات پر اکثر چاند گہن کے اثرات کا مشاہدہ کیا گیا ہے، جدید علم نجوم میں سورج اور چاند گہن کو کسی تبدیلی کی نشان دہی کرنے والا خیال کیا جاتا ہے،یہ تبدیلی مثبت بھی ہوسکتی ہے اور منفی بھی،اس اعتبار سے موجودہ گہن سیریز میں چاند گہن نہایت منفی اثرات کا حامل نظر آتا ہے،یہ زائچہ پاکستان کے نویں گھرمیں واقع ہوگا، جب کہ نواں گھر پہلے ہی اس سال غیر معمولی سیاروی ایکٹیویٹی ظاہر کر رہا ہے،نئے گھر کا تعلق آئین و قانون ، عدلیہ اور الیکشن کمیشن سے ہے،گہن کے اثرات ایک ماہ پہلے شروع ہوجاتے ہیں اور ایک ماہ بعد تک اپنا اثر دکھاتے ہیں، 28 جولائی کا چاند گہن ملک میں انتشار ، بدنظمی اور کسی غیر معمولی اقدام کی نشان دہی کر رہا ہے،اس گہن کے نتیجے میں عدلیہ اور الیکشن کمیشن کسی تنازع کی زد میں آسکتے ہیں، عبوری حکومت کی کارکردگی بھی متنازع ہوسکتی ہے،غیر ملکی سازشیں بڑھ سکتی ہیں،صورت حال کو سنبھالنے کے لیے مسلح افواج کو اپناکردار ادا کرنا پڑسکتا ہے۔
پاکستان اس ماہ الیکشن کی طرف بڑھ رہا ہے، سیاسی پارٹیوں کے درمیان زبردست جوش و خروش نظر آرہا ہے،آنے والے دنوں میں اس میں مزید اضافہ ہوگا، اگر کسی حادثاتی وجہ پر انتخابات کی تاریخ آگے نہ بڑھی اور انتخابات 25 جولائی کو ہی منعقد ہوئے تو نتائج چونکا دینے والے اور غیر متوقع ہوں گے،اکثر سیاسی پارٹیاں نتائج سے مطمئن نہیں ہوں گی،ویسے بھی یہ اس ملک میں ایک انتخابی روایت بھی ہے کہ شکست خوردہ جماعت کبھی اپنی شکست تسلیم نہیں کرتی، اس بار 28 جولائی کا چاند گہن ظاہر کر رہا ہے کہ انتخابی نتائج کے حوالے سے ملک بھر میں اور خصوصاً پنجاب میں کوئی احتجاجی تحریک جنم لے سکتی ہے جو ظاہر ہے شکست خوردہ پارٹی کی جانب سے ہی ہوسکتی ہے۔
ہم شروع سال سے ہی پاکستانی زائچے کے نویں گھر کی فعالیت کے پیش نظر عدلیہ کے جارحانہ کردار کی نشان دہی کر رہے ہیں اور نتیجے کے طور پر سیاست داں اور بیوروکریٹ خصوصی طور پر آئین و قانون کا شکار ہورہے ہیں، اس پر خاصا واویلا بھی ہورہا ہے،دلچسپ صورت حال یہ ہے کہ اگر قانون پوری طرح حرکت میں نہ آئے تو لوگ تقاضا کرتے ہیں کہ متعلقہ اداروں کو اپنے فرائض درست طور پر انجام دینے چاہئیں لیکن جب قانون حرکت میں آتا ہے اور خصوصاً اشرافیہ کے خلاف تو یہ شور اٹھتا ہے کہ ایسا کیوں ہورہا ہے؟ایک عجیب منطق یہ بھی ڈھونڈ لی گئی ہے کہ ہمیں اگر پکڑ اجارہا ہے تو فلاں کو کیوں چھوڑ دیا گیا ہے؟اس نوعیت کے مباحث اخبار و ٹی وی پر آئے روز سامنے آتے رہتے ہیں جن سے ہمیں کوئی غرض نہیں ہے، ہم سیاروی گردش کے اثرات کی نشان دہی کرتے ہیں جن میں کمی بیشی ہوسکتی ہے، جاری سیاروی صورت حال میں جولائی اور اگست کے سورج اور چاند گہن کے اثرات ملکی فضا میں اپنا کیا رنگ دکھا سکتے ہیں، ان کا اظہار علمی حد تک ضروری تھا، سو کردیا گیا ، واللہ اعلم بالصواب۔
اثرات و اعمالِ گہن
قدیم و جدید تحقیق کے مطابق سیارہ شمس قوت حیات کا نمائندہ ہے جب کہ چاند ہماری زمین کا قریبی ہمسایہ ہونے کی وجہ سے کرۂ ارض پر گہرے اثرات ڈالتا ہے،خصوصاً مائع اشیا پر اس کا اثر نمایاں طور پر مشاہدہ کیا جاسکتا ہے،سمندر میں مدوجزر اس کی واضح مثال ہے،انسانی جسم میں رطوبات زندگی سے متعلق گلینڈز اور دوران خون بھی اس کے زیر اثر ہیں،چناں چہ چاند یا سورج گہن کی حالت میں اپنی مثبت توانائی زمین تک پہنچانے سے قاصر ہوتے ہیں لہٰذا انسانی زندگی پر اس کے اثرات پڑتے ہیں جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے، البتہ یہ بتانا ضروری ہے کہ اس وقت میں حاملہ خواتین کو خصوصی احتیاط کرنا چاہیے، گہن کے وقت کوئی کام نہ کریں اور آرام دہ بستر پر آرام سے دراز ہوکر کثرت سے استغفار پڑھیں۔
عام افراد کے لیے بھی چاند یا سورج گہن کے ناقص اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے کثرت سے استغفار کا ورد کرنا سنت نبویؐ سے ثابت ہے،اس کے علاوہ ہفتہ اور منگل کے روز صدقات دینا بھی گہن کے اثرات سے محفوظ رکھتا ہے، یہ صدقات چاند گہن کے دوران میں مسلسل ایک ماہ تک اور سورج گہن کے دوران میں تقریباً تین ماہ تک دینا چاہیے،جہاں تک چاند اور سورج کے ناقص اثرات کی نشان دہی کا تعلق ہے تو یہ اثرات ہر شخص کے انفرادی زائچہ ء پیدائش یا زائچہ ء نکاح کے مطابق دیکھے جاسکتے ہیں، عام طور پر لوگ اپنے شمسی برج (Sun sign) سے واقف ہوتے ہیں اور اسی کے مطابق اپنے حالات و واقعات معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ایک غلط رجحان ہے،شمسی برج صرف ہماری شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتا ہے،حالات وواقعات کے اتار چڑھاؤ کا جائزہ لینے کے لیے پیدائشی برج (Birth sign) اہم ہے اور اسے معلوم کرنے کے لیے پیدائش کا وقت معلوم ہونا بھی ضروری ہے، جو لوگ اپنا زائچہ (Birth chart) بنواکر پاس رکھتے ہیں ، وہی اپنے پیدائشی برج سے واقف ہوتے ہیں اور علم نجوم کے ذریعے درست رہنمائی حاصل کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔
جولائی کے سورج اور چاند گہن
سال 2018 ء کا دوسرا جزوی سورج گہن 13 جولائی کو ہوگا، پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق اس کا آغاز 06:48 am سے ہوگا، انتہائی نقطہ ء عروج 08:01 am تک رہے گا، اس کے بعد اُترنا شروع ہوگا اور اختتام 09:13 am تک ہوجائے گا، فلکیاتی حساب سے یہ جزوی گہن برج سرطان کے 20 درجہ 38 دقیقہ پر لگے گا، بحر ہند کے کچھ علاقوں میں دیکھا جاسکے گا جب کہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں واضح طور پر نظر آئے گا، پاکستان میں نظر نہیں آئے گا۔
مکمل چاند گہن 27 اور 28 جولائی کی درمیانی شب لگے گا، فلکیاتی حساب سے یہ گہن برج دلو کے تین درجہ اور 13 دقیقے پر واقع ہوگا، گہن کا آغاز پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق رات 10:14 pm پر ہوگا جب کہ اس کا نقطہ ء عروج 28 جولائی شب 01:21 am پر ہوگا اور اختتام صبح صادق 04:28 am پر ہوسکے گا۔
چاند گہن کا نظارہ یورپ کے اکثر علاقوں ، ایشیا، آسٹریلیا وغیرہ میں کیا جاسکے گا، اس گہن کا دورانیہ 6 گھنٹہ 14 منٹ ہوگا،پاکستان ٹائم میں سے پانچ گھنٹے کم کرلیے جائیں تو جی ایم ٹی ٹائم نکل آئے گا، امریکا اور کنیڈا کے قارئین پاکستان اور امریکا کے درمیان وقت کے فرق کو کم کرکے درست وقت حاصل کرسکتے ہیں۔
سورج اور چاند گہن کا ماہرین عملیات انتظار کرتے ہیں، اس موقع پر مختلف ضروریات کے تحت اعمال کیے جاتے ہیں ، عاملین بعض اعمال کی زکات ادا کرتے ہیں کیوں کہ یہ انتہائی حساس اور سریع الاثر وقت ہوتا ہے،اگر تمام قواعد و ضوابط کی پابندی کرتے ہوئے کسی خاص مقصد کے لیے اس وقت عمل کیا جائے تو اس کا اثر بہت جلد ظاہر ہوتا ہے،ہمیشہ کی طرح عام نوعیت کی ضروریات کے لیے چند عمل دیے جارہے ہیں، جو لوگ ان سے فائدہ اٹھائیں، ہمیں بھی دعائے خیر میں یاد رکھیں۔
سورہ کوثر کا تالے والا عمل
سورج اور چاند گہن سے متعلق جو اعمال دیئے گئے ان کے حوالے سے اکثر ہمارے قارئین نے ای میل اور ٹیلی فون کے ذریعے بعض سوالات پوچھے ہیں اور ساتھ ہی بعض لوگوں نے فرمائش کی ہے کہ سورہ کوثر کا عمل دوبارہ شائع کیا جائے کیوں کہ گزشتہ سال کے اخبارات ان کے پاس محفوظ نہیں ہیں۔
اس عمل کے لیے گہن کے وقت سے پہلے ایک نیا غیر استعمال شدہ تالا لا کر رکھ لیں۔ تالا لوہے یا اسٹیل کا ہو۔ بہترین بات یہ ہو گی کہ ایسا تالا ہو جو چابی سے کھلتا اور بند ہوتا ہو لیکن اگر ایسا تالا نہ ملے تو کوئی حرج بھی نہیں ہے۔ آپ وہی تالا لے لیں جو بغیر چابی کے کھٹکے سے بند ہوتا ہو۔ مکمل گرہن کے وقت باوضو علیحدہ کمرے میں بیٹھیں اور بسم اﷲ پوری پڑھنے کے بعد سات مرتبہ سورہ کوثر پوری پڑھیں اور پھر زبان سے اپنے مقصد کا اظہار کریں۔ اس کے بعد تالے کے سوراخ میں پھونک مار کر تالا بند کر دیں۔ خیال رہے کہ اس سارے کام کے دوران اپنی ذہنی اور روحانی قوت کو اپنے مقصد پر مرتکز کریں۔ یعنی دل میں یہ یقین پیدا کر یں کہ آپ جو کچھ کر رہے ہیں اور جس مقصد سے کر رہے ہیں وہ یقیناًانجام پائے گا۔ اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہ رکھیں۔ مقصد کے حوالے سے سورہ کوثر پڑھنے کے بعد آپ کا جملہ اس طرح ہونا چاہیے۔
مثلاً کسی کے دل میں جگہ اور محبت پیدا کرنا مقصود ہے تو یوں کہیں۔ ’’میں نے باندھا خواب و خیال کو فلاں بن فلاں کے جب تک مجھے نہ دیکھے، چین نہ پائے۔‘‘
اگر مقصد کسی بری عادت یا حرکت سے روکنا ہے تو اس طرح کہیں ’’میں نے باندھا عادت بدگوئی اور جھوٹ کو فلاں بن فلاں کے کبھی جھوٹ نہ بولے اور خراب کلمات منہ سے نہ نکالے۔‘‘
اگر نشے یا جوئے کی عادت سے روکنا ہو تو جملہ اس طرح کہیں۔ ’’میں نے باندھا عادت نشہ یا جوا فلاں بن فلاں کا، کبھی نشہ نہ کرے یا کبھی جوا نہ کھیلے۔‘‘
الغرض کسی بھی برے کام یا بری عادت سے روکنے کے لیے اپنے مقصد کا اظہار ایک مختصر سے جملے میں اس طرح کریں کہ آپ کی کوشش کا اثبات ظاہر ہو اور اس کام کی نفی کی جائے جسے روکنا مقصود ہے۔
بعض لوگوں نے رجال الغیب کی سمت کے بارے میں سوال کیا ہے، ہماری ویب سائٹ www.maseeha.com کا وزٹ کریں اور علم جفر کا کالم کھول لیں تو رجال الغیب کی سمت معلوم کرنے کا نقشہ مل جائے گا، اس سے کام لیں۔
رجال الغیب چاند کی تاریخوں کے حساب سے معلوم کیے جاتے ہیں۔ اصول یہ ہے کہ عمل کے وقت جس سمت میں رجال الغیب ہوں ادھر رخ کر کے نہ بیٹھا جائے بلکہ اپنا رخ ایسی سمت میں رکھیں کہ آپ کی پشت رجال الغیب کی طرف ہو یا پھر وہ آپ کے بائیں ہاتھ کی طرف ہوں۔ اس اعتبار سے اگر وہ مشرق میں ہوں تو مغرب کی طرف منہ کر کے بیٹھیں اور شمال مشرق میں ہوں تو جنوب کی طرف منہ کر لیں۔ بس اتنی سی احتیاط کافی ہو گی۔ آخری بات یہ کہ وہ تمام افراد جو اعمال گہن سے مستفید ہونا چاہتے ہیں، انہیں چاہیے کہ عمل کرنے کے بعد صدقہ خیرات ضرور کریں۔
میاں بیوی میں محبت کے لیے عمل خاص
زن و شوہر میں اختلافات، مزاجی ناہمواری، باہمی لڑائی جھگڑا، محبت کی کمی وغیرہ کے لیے یہ ایک مجرب طریقہ ہے اور صرف شادی شدہ خواتین و حضرات ہی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ نہایت آسان بھی ہے۔ گرہن کے درمیانی وقت میں ایک سفید کاغذ پر کالی یا نیلی روشنائی سے پوری بسم اﷲ لکھ کر سورہ الم نشرح پوری لکھیں پھر یہ آیت لکھیں۔
والقیت علیک محبۃ فلاں بن فلاں (یہاں مطلوب کا نام مع والدہ لکھیں) علیٰ محبۃ فلاں بنت فلاں (یہاں طالب کا نام مع والدہ لکھیں) کما الفت بین آدم و حوا و بین یوسف و زلیخا و بین موسیٰ و صفورا و بین محمدؐ و خدیجۃ الکبریٰ و اصلح بین ھما اصلاحاً فیہ ابداً
اب تمام تحریر کے ارد گرد حاشیہ ( چاروں طرف لکیر) لگا کر کاغذ کو تہہ کر کے تعویز بنا لیں اور موم جامہ کر کے بازو پر باندھ لیں یا پھر اپنے تکیے میں رکھ لیں۔
خیال رہے کہ مندرجہ بالا نقوش لکھتے ہوئے باوضو رہیں، پاک صاف کپڑے پہنیں، علیحدہ کمرے کا انتخاب کریں، لکھنے کے دوران مکمل خاموشی اختیار کریں اور اپنے مقصد کو ذہن میں واضح رکھیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں، رجال الغیب کا خیال رکھیں کہ آپ جس طرف رخ کر کے بیٹھے ہوں وہ آپ کے سامنے نہ ہوں۔
مخالف کی زبان بندی
عین گہن کے وقت مندرجہ ذیل سطور کالی یا نیلی روشنائی سے لکھیں یا سیسے کی تختی پر کسی نوکدار چیز سے کندہ کریں اور پھر کسی بھاری چیز کے نیچے دبا دیں یا کسی نم دار جگہ دفن کر دیں۔ انشاء اﷲ وہ شخص آپ کی مخالفت سے باز آجائے گا۔
ا ح د ر س ص ط ع ک ل م و ہ لا د یا یا غفور یا غفور عقد اللسان فلاں بن فلاں فی الحق فلاں بن فلاں یا حراکیل
ناجائزو ناپسندیدہ تعلق کا خاتمہ
اکثر والدین اپنے بیٹے یا بیٹی کی ایسی محبت یا وابستگی سے پریشان رہتے ہیں جو ان کے نزدیک ناپسندیدہ ہوتی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا لڑکا یا لڑکی ایک غلط راستے پر چل رہے ہیں۔ 
ایسی صورت میں طریقہ یہ ہے کہ گہن کے وقت کسی علیحدہ کمرے میں باوضو بیٹھ کر مندرجہ ذیل سطور کسی سفید کاغذ پر کالی یا نیلی روشنائی سے لکھیں اور کا غذ کو تہہ کر کے تعویذ کی شکل بنا لیں اور پھر اس کاغذ کو کسی بھاری وزنی چیز کے نیچے دبا دیں یا قبرستان میں دفن کردیں، اگر ایسے دو نقش تیار کیے جائیں اور دونوں کو لڑکا اور لڑکی کے راستے میں دفن کردیا جائے تو انشاء اللہ دونوں کے درمیان علیحدگی ہوجائے گی۔
’’احد رسص طعک لموہ لادیا یا غفور یا غفور بستم تعلق فلاں بن فلاں و بین فلاں بن فلاں عَقدَت قُلوبِھم ابداً یا حراکیل بحق یا قابض یا مانع العجل العجل الساعۃ الساعۃ‘‘
بھاگنے والے کو روکنا یامفرور کی واپسی
اگر کوئی بچہ یا بڑا گھر سے بھاگتا ہو یا گھر چھوڑ کر چلا گیا ہو تو اس کے لیے سورج یا چاند گہن کے وقت نقش بنانے کا طریقہ یہ ہے۔
حسب دستور علیحدہ کمرے میں بیٹھ کر سفید کاغذ پر کالی یا نیلی روشنائی سے اس طرح نقش لکھیں۔ حروف صوامت کی چار سطریں دائیں بائیں اور اوپر نیچے اس طرح لکھیں کہ درمیان کی جگہ خالی رہے اور حروف کی سطروں سے ایک چوکور خانہ بن جائے۔ پھر اس خانے کے درمیان بیچ میں بھاگنے والے کا نام مع والدہ لکھیں۔ اس کے بعد حروف صوامت کی سطور کے اوپر سات سات مرتبہ یہ چار آیات لکھ دیں۔
صُم بُکم عُمی فَھُم لا یَرجعُون ۔ صُم بُکم عُمی فَھُم لا یَعقِلُون۔ صُم بُکم عُمی فَھُم لا یُبصِرُون۔ صُم بُکم عُمی فَھُم لایُتکَلِمُون۔
اب اگر بھاگنے والے کو روکنا مقصود ہے تو بیچ کے خانے میں اس کے نام کے ساتھ اس جملے کا اضافہ کردیں ’’ بستم قدم درون خانہ‘‘۔ اس تعویذ کو اس کے تکیے میں یا سرہانے کسی جگہ رکھ دیں۔ انشاء اللہ گھر سے بھاگنے سے باز آجائے گا اور زیادہ وقت گھر میں ہی گزارے گا۔ اگر بھاگے ہوئے کو واپس بلانا مقصود ہے تو اس نقش کو کسی لکڑی کے تختے یا موٹے گتیّ پر چپکادیں اور پھر اسے گھر کی جنوبی دیوار پر ایک کیل ٹھونک کر لٹکادیں۔ بھاگنے والے کا نام جو درمیان میں لکھا ہے،اس کے پہلے حرف پر کوئی سوئی یا آل پن چبھو دیں۔ انشاء اللہ 13 دن میں واپس آئے گا یا اس کی کوئی خبر ملے گی۔ عمل کے بعد مٹھائی پر فاتحہ ضرور دیں اور 300روپے خیرات کردیں۔
دو افراد کے درمیان عداوت و دشمنی
اکثر دو افراد کے درمیان عداوت یا دشمنی اس قدر بڑھ جاتی ہے اور پورے خاندان کے لیے عذاب بن جاتی ہے،اس کا خاتمہ ضروری ہے، اکثر تو اس بنیاد پر باہمی قریبی رشتوں میں دراڑیں پڑجاتی ہیں، ایسی صورت حال کے لیے درج ذیل عمل مفید ثابت ہوگا، دیکھنا یہ ہوگا کہ دونوں میں سے حق پر کون ہے اور ناحق کون کر رہا ہے؟ لہٰذا نقش لکھتے ہوئے پہلے اُس فریق کا نام مع والدہ لکھیں جو ظلم و زیادتی کر رہا ہو اور بعد میں اس کا نام لکھیں جو حق پر ہو اور اس ساری دشمنی میں اپنا دفاع کر رہا ہو۔
احدرسص طعک لموہ لادیایا غفور یا غفور بستم اختلاف و عداوت فلاں بن فلاں و بین فلاں بن فلاں بحق صمُ بکمُ عمیُ فہم لایعقلون یا حراکیل العجل العجل العجل الساعۃ الساعۃ الساعۃ الوحا الوحا الوحا
کسی صاف کاغذ پر نیلی یا کالی روشنائی سے دو نقش گہن کے وقت لکھیں اور موم جامہ یا کالی ٹیپ لپیٹ کر اُس راستے میں دائیں بائیں کسی سائیڈ دفن کردیں، جہاں سے اُن کا گزر ہوتا ہو، زمین میں دفن کرنے سے پہلے نقش پر کوئی وزنی پتھر بھی رکھ دیں، بعد ازاں کچھ مٹھائی پر فاتحہ دے کر بچوں میں تقسیم کریں اور حسب توفیق صدقہ و خیرات کریں،وہ لوگ جو اپنی مصروفیت یا کسی اور وجہ سے مندرجہ بالا اعمال میں سے کوئی بھی عمل خود تیار نہ کرسکتے ہوں تو ہمارے دفتر سے رجوع کرسکتے ہیں۔

اتوار، 24 جون، 2018

جولائی کی فلکیاتی صورت حال، ایک چونکا دینے والا مہینہ

الیکشن کے نتائج غیر متوقع اور متنازع ہوسکتے ہیں، ابتری و انتشار کا اندیشہ
رمضان المبارک اور عیدِ سعید کے بعد ملکی سیاست اور خصوصاً الیکشن کے حوالے سے حالات و واقعات میں گرم بازاری نمایاں ہے،پاکستانی تاریخ کے نہایت سنسنی خیز اور ناقابل یقین انتخابات کا وقت قریب آرہا ہے،الیکشن کمیشن کے اس اعلان کے بعد کے انتخابات مسلح افواج کی نگرانی میں ہوں گے،فوجی جوان پولنگ اسٹیشن کے باہر ہی نہیں اندر بھی موجود رہیں گے، یقین ہونا چاہییکہ الیکشن 25 جولائی کو ہی ہوں گے،یہ الگ بات ہے کہ الیکشن کے نتائج کے سلسلے میں کیسی ہاہاکار مچے گی اور نتائج کتنے حیران کن ہوں گے، اس کے بارے میں قبل از وقت کچھ کہنا قرین مصلحت نہیں ہوگا، عین 25 جولائی کو شمس اور نیپچون اور یورینس اور شمس کے زاویے ظاہر کر رہے ہیں کہ اس بار کے نتائج انتہائی چونکا دینے والے اور غیر متوقع ہوں گے،بڑے بڑے سیاسی تجزیہ کاروں کے اندازے غلط ثابت ہوجائیں گے لیکن بہر حال ؂ اب جو خدا دکھائے سو لاچار دکھیے۔
تقریباً جولائی کے تیسرے ہفتے سے سیارہ مریخ اور کیتو حالت قران میں ہوں گے،راہو کیتو اسٹیشنری پوزیشن میں ہیں اور پاکستان کے زائچے کے نویں گھر میں پیدائشی راہو سے قران کر رہے ہیں، یہ صورت حال انتہا پسندانہ حالات و واقعات کی نشان دہی کرتی ہے جس کے نتیجے میں کوئی بڑا حادثہ یا سانحہ بھی پیش آسکتا ہے،اگر ایسی صورت میں انتخابات کی تاریخ کچھ آگے کرنا پڑجائے تو تعجب نہیں ہوگا، دوسری صورت میں عین الیکشن کے روز جو سیاروی زاویے قائم ہورہے ہیں وہ منفی انرجی جنریٹ کریں گے چناں چہ الیکشن میں منفی رجحانات نقصان دہ صورت حال پیدا کرسکتے ہیں، کسی خوں ریزی کے امکان کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ، مزید یہ کہ انتہائی کوشش یہ ہے کہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہوں لیکن ہماری ملکی روایت یہ ہے کہ ہارنے والی پارٹیاں ہمیشہ دھاندلی کا الزام لگاتی ہیں ، اس بار ضروری نہیں ہے کہ نتائج سب کے لیے قابل قبول ہوں چوں کہ سیاروی پوزیشن منفی اثرات کی حامل ہوگی لہٰذا نتائج کو تسلیم نہ کرنے کی صورت میں شدید بدنظمی اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش ہوسکتی ہے جس پر قابو پانے کے لیے بہر حال فوج موجود ہوگی لیکن صورت حال حد سے زیادہ بگڑ جائے تو کسی ایمرجنسی کے نفاذ کا اندیشہ بھی موجود ہے،بہر حال ہماری دعا ہے کہ یہ سب کچھ نہ ہو اور انتخابات خیروعافیت سے بروقت اور منصفانہ ہوجائیں۔
صابر ظفر جدید اردو غزل کے اہم شاعروں میں شمار ہوتے ہیں، آج ان کا ایک شعر یاد آرہا ہے، آپ بھی سن لیں ؂
اگر ہمارا وطن ہے تو ہم کو جینے دو
وہ صاف ہے کہ وہ گدلا ہے پانی پینے دو
جولائی کے ستارے
بادشاہِ فلک سیارہ شمس اپنے اوج کے برج سرطان میں حرکت کر رہا ہے،23 جولائی کو شاہانہ مزاج برج اسد میں داخل ہوگا، منشئ فلک سیارہ عطارد برج اسد میں ہے،پورا مہینہ اسی برج میں حرکت کرے گا، 26 جولائی کو اسے رجعت ہوگی، گویا برج اسد میں اس کا قیام اپنے معمول سے زیادہ ہوگا، توازن و ہم آہنگی اور حسن و عشق کا ستارہ زہرہ برج اسد میں ہے،10 جولائی سے اپنے برج ہبوط سنبلہ میں داخل ہوگا اور مہینے کے آخر تک یہیں رہے گا، سپہ سالارِ فلک سیارہ مریخ برج دلو میں بحالت رجعت حرکت کر رہا ہے،وسعت و ترقی کا نگراں سیارہ مشتری بحالت رجعت برج عقرب میں ہے،10 جولائی کو مستقیم ہوگا اور اپنی سیدھی چال پر آئے گا، استادِ زمانہ سیارہ زحل بحالت رجعت برج جدی میں پورا ماہ حرکت کرے گا، ایجادات کا سیارہ یورینس برج ثور میں اور پراسرار نیپچون بحالت رجعت برج حوت میں بدستور ہوں گے،سیارہ پلوٹو بحالت رجعت برج جدی میں اور راس و ذنب بالترتیب برج اسد اور دلو میں رہیں گے،یہ سیاروی پوزیشن یونانی علم نجوم کے مطابق ہے۔
نظرات و اثرات سیارگان
جولائی کے مہینے میں نہایت دلچسپ سیاروی زاویے ترتیب پارہے ہیں، اس ماہ تثلیث کے پانچ زاویے اور مقابلے کے 4 زاویے غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں، تثلیث کا زاویہ سعادت اثر ہوتا ہے جب کہ مقابلے کی نظر نحس سمجھی جاتی ہے،دو تربیع کے زاویے اور صرف ایک تسدیس کا زاویہ ہوگا، بے شک یہ غیر معمولی حالات و واقعات کی نشان دہی کرنے والا مہینہ ہے جس میں سعادتیں بھی ہیں اور نحوستیں بھی،آئیے اس ماہ کے نظرات کے اثرات کا جائزہ لیتے ہیں۔
5 جولائی کو سیارہ شمس اور مشتری کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ قائم ہوگا جو اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ ملک میں آئین و قانون کی پاسداری اور انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لیے اہم اقدام کیے جاسکتے ہیں، زائچہ ء پاکستان کے مطابق یہ نظر اہم عہدہ و مراتب کے حامل افراد کے لیے بہتر نہیں ہوگی، ان کے لیے نئے مسائل جنم لے سکتے ہیں، عام لوگوں کے لیے یہ ایک مبارک زاویہ ہے،انھیں قانونی امور میں تعاون ملے گا، ترقی کے نئے مواقع سامنے آئیں گے۔
اسی تاریخ کو عطارد اور مریخ کا منحوس مقابلہ بھی ہوگا، زائچہ ء پاکستان کے مطابق یہ نظر نئے پنڈورا بکس کھولے گی،بچوں سے متعلق حادثات و سانحات میں اضافہ ہوگا، نوجوانوں میں غصہ و اشتعال کی لہر بڑھے گی،مستقبل کے حوالے سے خوف اور غیر یقینی کی کیفیت محسوس ہوگی، عام لوگوں کے لیے اس وقت سفر کرتے وقت محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی،ٹرانسپورٹیشن میں رکاوٹ اور مسائل کی نشان دہی ہوتی ہے،اس دوران میں جو کام الجھ جائیں گے یا تاخیر کا شکار ہوں گے،وہ بہت جلد کنٹرول میں نہیں آئیں گے،بہتر ہوگا کہ اس عرصے میں اہم معاملات میں کوئی رسک نہ لیں۔
8 جولائی: شمس اور نیپچون کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ آئل اور پانی سے متعلق معاملات کی اہمیت کو اجاگر کرے گا، اس سعد نظر کے اثر سے مستقبل میں پانی کے اہم منصوبوں کے بارے میں کوئی پیش رفت ہوسکتی ہے،عام آدمی کی زندگی میں یہ نظر کسی فوری اثر کی حامل نہیں ہوگی۔
9 جولائی: عطارد اور مشتری کے درمیان تربیع کا زاویہ نحس اثر رکھتا ہے،اس وقت اہم معلومات کے حصول میں دشواری ہوگی، سفر سے متعلق کاموں میں بھی دشواریوں کا سامنا ہوسکتا ہے،کاروباری معاملات میں کوئی رسک نہ لیں اور لوگوں کے زبانی وعدوں پر بھروسا نہ کریں، اس وقت قرض لینا اور دینا دونوں بہتر نہیں ہوں گے، غیر دانش مندانہ سوچ اور باتیں سامنے آئیں گی۔
12 جولائی: زہرہ اور یورینس کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ محبت، دوستی، منگنی یا شادی جیسے معاملات میں غیر متوقع اور اچانک خوش خبری لاسکتا ہے،اس وقت روایتی انداز میں سوچنا اور قدم اٹھانا بہتر نہ ہوگا بلکہ وقت کے تقاضے کے مطابق خود کو ڈھالنے کی ضرورت ہوگی۔
اسی تاریخ کو شمس اور پلوٹو کے درمیان مقابلے کی نظر اہم شخصیات خصوصاً سیاست، مذہب، بزنس وغیرہ سے متعلق اہم افراد کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے،کوئی حادثہ کسی سانحے کو جنم دے سکتا ہے،کسی اہم شخصیت کے انتقال کی خبر ، کسی بڑے سوگ کا باعث بن سکتی ہے،عام افراد کے لیے یہ نظر زیادہ اہم نہیں ہے البتہ گورنمنٹ سے متعلق کاموں میں خرابی پیدا ہوسکتی ہے۔
14 جولائی: زہرہ اور زحل کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ حالات میں توازن اور پائیداری لاتا ہے،ملکی معاملات ہوں یا عام لوگوں کی زندگی سے متعلق امور ہوں، الجھے ہوئے معاملات کو بہتر بنانے کے لیے مناسب وقت ہے،ازدواجی زندگی میں بھی یہ وقت خوش گوار اثرات لاتا ہے،اس وقت میں ایسے کام مناسب رہتے ہیں جن میں پائیداری اور استحکام کی ضرورت ہو، اس نظر کے آس پاس کی تاریخیں شادی و نکاح کے لیے بہتر ہوں گی لیکن مناسب ہوگا کہ نکاح کے وقت کے لیے کسی ماہر نجوم سے مشورہ کریں۔
22 جولائی: زہرہ و مشتری کے درمیان تسدیس کا سعد زاویہ کام اور کاروبار میں بہتری کے مواقع لاتا ہے،اس وقت سرمایہ کاری کرنا فائدہ بخش ہوسکتا ہے،دو افراد کے درمیان شراکت یا کوئی معاہدہ بہتر ہوگا، دوسروں سے خصوصاً مرد و زن کے درمیان بہتر تعلقات کے لیے کوششیں بارآور ثابت ہوتی ہیں۔
25 جولائی: زہرہ اور نیپچون کے درمیان مقابلہ ایک نحس نظر ہے،اس وقت خواتین کو بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی،وہ کسی فریب میں آسکتی ہیں یا کسی کو فریب دے سکتی ہیں، اس عرصے میں خواتین سے معاملات کرتے ہوئے محتاط رہیں، اس وقت کیے گئے عہد و پیمان حقیقی نہیں ہوں گے، زائچہ ء پاکستان کے مطابق یہ نظر الیکشن میں نہایت فنکارانہ انداز سے نتائج پر اثر ڈال سکتی ہے جس کے نتیجے میں الیکشن کے نتائج متنازع ہوسکتے ہیں۔
اسی تاریخ کو شمس اور یورینس کے درمیان تربیع کا زاویہ انتہائی نحس اثر کا حامل ہے،پاکستان میں الیکشن کے نتائج نہایت چونکا دینے والے اور غیر متوقع ہوسکتے ہیں، بہت سی قیاس آرائیاں باطل ثابت ہوسکتی ہیں، یہ وقت کسی تبدیلی کے لیے مناسب نہیں ہوتا، اپنے مؤقف یا فیصلے پر ڈٹ جانے کی ضرورت ہوتی ہے،بہ صورت دیگر نتیجہ پچھتانے والا ہوتا ہے۔
27 جولائی: شمس اور مریخ کے درمیان مقابلے کی نظر ملکی صورت حال میں انتشار اور بدنظمی کی نشان دہی کر رہی ہے اور یہ انتشار اگر فوری طور پر کنٹرول نہ کیا گیا تو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے،خیال رہے کہ سیارہ مریخ زائچے کے بارھویں گھر کا حاکم ہے لہٰذا کسی غیر ملکی سازش کا امکان نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، عام افراد کے لیے بھی یہ اچھا وقت نہیں ہوگا، تمام امور میں بے چینی اور بے یقینی کی کیفیت کا امکان نظر آتا ہے۔
28 جولائی: زہرہ اور پلوٹو کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ محبت اور دوستی کے معاملات میں انتہا پسندانہ نظریات اور فیصلے لاتا ہے اور انتہا پسندی بہر حال مناسب نہیں ہوتی، اس وقت خواتین زیادہ ذہنی دباؤ محسوس کریں گی،ان پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جاسکتی ہے یا ان کی مرضی کے خلاف فیصلوں پر مجبور کیا جاسکتا ہے،ملکی معاملات میں انتظامی طور پر سختی کا ماحول پیدا ہوسکتا ہے۔
شرف قمر
اس ماہ پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق قمر اپنے درجہ ء شرف پر 09:26 pm سے 11:13 pm تک رہے گا جب کہ جی ایم ٹی ٹائم کے مطابق 04:26 pm سے 06:13 pm تک شرف یافتہ ہوگا، یہ سعد اور مبارک وقت ہے،اس وقت اپنے جائز مقاصد کے لیے دعا کرنی چاہیے اور اسمائے الٰہی یا رحمن یا رحیم 556 مرتبہ اول آخر درود شریف کے ساتھ پڑھ کر مقصد کے لیے دعا کریں، ان شاء اللہ کامیابی ہوگی۔
قمر در عقرب
قمر اپنے ہبوط کے برج میں پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 20 جولائی 09:54 am سے 11:45 am تک رہے گا جب کہ جی ایم ٹی ٹائم کے مطابق 04:54 am سے 06:45 am تک ہوگا، یہ انتہائی خراب اور منحوس وقت ہے،اس وقت کوئی کام نہیں کرنا چاہیے اور کثرت سے استغفار کا ورد کرنا چاہیے،اس وقت میں علاج معالجے سے فائدہ ہوتا ہے،بیماریوں ، بری عادتوں اور دوسروں کے ظلم و زیادتی کو روکنے کے لیے عملیات و نقوش تیار کیے جاتے ہیں، اس حوالے سے ہم اکثر ایسے طریقے لکھتے رہتے ہیں ، اپنی ضرورت کے مطابق کسی بھی طریقے پر عمل کرسکتے ہیں، اگر پرانے کالم محفوظ نہ ہوں تو ہماری ویب سائٹ www.maseeha.com سے رجوع کریں۔
اوج شمس
سیارہ شمس کو شرف کی قوت اپریل میں حاصل ہوتی ہے جب کہ برج سرطان میں اوج کی قوت کا اظہار ہوتا ہے، یہ بھی ایک سعد اور باقوت وقت ہے،اس وقت فتح نامہ، لوح اسم اعظم یا لوح شمس وغیرہ تیار کی جاتی ہیں تاکہ مشکلات اور پریشانیوں سے نجات ملے اور عزت و وقار میں اضافہ ہو، مقدمات میں کامیابی ہو، صحت و تندرستی حاصل ہو، اس کا طریقہ بھی ہماری ویب سائٹ سے معلوم کیا جاسکتا ہے یا براہ راست رابطہ کریں۔

ہفتہ، 9 جون، 2018

ریحام خان کی کتاب کا چرچا اور تحریک انصاف کی بھاگ دوڑ


عمران خان کے زائچے کی روشنی میں خوبیاں، خامیاں اور مستقبل کے امکانات 
ایک طرف انتخابات کی گہما گہمی شروع ہوچکی ہے تو دوسری طرف ریحام خان کی کتاب کا چرچا عروج پر ہے،ایسی کتاب جو ابھی بازار میں نہیں آئی بلکہ بقول ریحام خان ابھی تک شائع بھی نہیں ہوئی، البتہ کچھ لوگوں نے جن میں سرفہرست ایک اداکار اور اینکر پرسن حمزہ عباسی نمایاں ہیں،کسی طرح کتاب تک رسائی حاصل کرلی،کتاب کے مندرجات کے بارے میں جو کچھ بتایا جارہا ہے وہ خاصا شرم ناک اور انتہائی متنازع ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ریحام خان اس بات پر بضد ہیں کہ ان کی کتاب ابھی شائع نہیں ہوئی ہے اور جس کتاب کے حوالے سے اقتباسات پیش کیے جارہے ہیں اس کے بارے میں وہ نہیں جانتیں لیکن وہ ان باتوں کی تردید بھی نہیں کر رہیں جو دریافت شدہ کتاب میں موجود ہیں، غرض ایک معما ہے ، سمجھنے کا نہ سمجھانے کا، پاکستان کے تقریباً تمام ہی اخبار اور ٹی وی چینلز کے ہاتھ ایک دلچسپ موضوع آگیا ہے۔
عزیزان من!شاید آپ کو یاد ہو ، عمران ریحام شادی کے فوری بعد فروری 2015 ء میں ہم نے دونوں کے زائچے پیش کیے تھے اور لکھا تھا 
’’دونوں کے درمیان ایسٹرولوجیکل اصولوں کے تحت باہمی طور پر اچھی میچنگ موجود ہے اور دونوں ایک دوسرے کے لیے باہمی کشش رکھتے ہیں جس کا نتیجہ دونوں کی یک جائی کی صورت میں اب ہمارے سامنے ہے لیکن ہمارا مشاہدہ یہی ہے کہ باہمی کشش اور محبت اپنی جگہ مگر شادی کے بعد ازدواجی زندگی کی ذمے داریاں اپنی جگہ ایک جداگانہ اہمیت رکھتی ہے اور اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایک دوسرے کو بے حد چاہنے والے جب شادی کے بندھن میں بندھتے ہیں تو صورت حال تبدیل ہونے لگتی ہے ، آہستہ آہستہ ان کے درمیان فاصلے پیدا ہونے لگتے ہیں پھر کسی مرحلے پر جدائی کے لمحات بھی آجاتے ہیں، ایک مشہور شاعر نے اس صورت حال کو بڑے خوب صورت انداز میں بیان کیا ہے ؂
بچھڑ بھی جاتے ہیں مل کر رہ محبت میں
مگر یہ بات ابھی تِرے سوچنے کی نہیں


فروری 2015 ء میں شائع ہونے والے ہمارے کالم کا اقتباس آپ نے ملاحظہ کیا اور جو شعر اس کے ساتھ دیا گیا تھا وہ بھی نہایت معنی خیز تھا، اس کے بعد جب طلاق ہوئی تو نومبر 2015ء ہی میں ہم نے عمران خان اور ریحام خان کے زائچوں پر مزید تفصیلی روشنی ڈالی، ہم نے ریحام خان کے زائچے پر لکھا تھا 
’’زائچے میں برج جوزا طلوع ہورہا ہے اور راہو کیتو پہلے اور ساتویں گھر میں موجود ہیں، طالع کے درجات سے قران کر رہے ہیں اور اس طرح پہلے ، تیسرے، پانچویں ، ساتویں ، نویں اور گیارھویں گھر کو متاثر کر رہے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ جوزا جیسے بے چین و بے قرار، ہر پل رنگ بدلتے برج کے ساتھ راہو کیتو کا اشتراک انسان کو زندگی میں کبھی چین سے بیٹھنے نہیں دیتا، بے حد منفی رجحانات شخصیت و فطرت میں جنم لیتے ہیں، تیسرا گھر راہو کی نظر کا شکار ہے جس کی وجہ سے ذہن اور کوشش کا رُخ دھوکے اور فراڈ کی جانب ہونا تعجب کی بات نہیں ہے‘‘
ریحام خان کے جاری ادوار کے حوالے سے ہم نے لکھا تھا۔
’’ مئی 2015 ء سے راہو کا دور شروع ہوا جو اپریل 2016 ء تک جاری رہے گا،اسی عرصے میں طلاق کا واقعہ پیش آیا، اب آگے کیا ہوگا؟ راہو کا دور جاری ہے، قسمت کا ستارہ چھٹے گھر میں ٹرانزٹ کر رہا ہے، قسمت ساتھ نہیں دے گی اور راہو کا دور مزید حماقتیں غلط فیصلے کرائے گا، شارٹ کٹ کے ذریعے دولت مند بننے کے لیے مزید کچھ بھی کرسکتی ہیں جس کا نتیجہ بہر حال اچھا نہیں نکلے گا، راہو کا دور ناجائز ذرائع سے مالی فوائد لاتا ہے جس کے نتیجے میں بعد ازاں بدنامی، دھوکا وغیرہ ہوسکتا ہے،مزید خرابی یہ ہے کہ راہو کا پیریڈ کسی کارخیر کے بجائے ہمیشہ کار بد کی جانب لے جانے کی کوشش کرتا ہے‘‘
تقریباً کچھ ایسی ہی صورت حال ریحام خان کے ساتھ نظر آتی ہے،وہ عمران دشمنی میں اس حد تک چلی گئیں کہ بعض لوگوں کی اطلاع کے مطابق دوسروں کے اکسانے پر عمران کے خلاف کتاب لکھنے پر تیار ہوگئیں، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس حوالے سے انھیں خاصی بھاری رقم بھی ادا کی گئی ہے،جنوری 2017 ء سے ان کے زائچے کی پوزیشن بہت بہتر ہوگئی ہے، قسمت کا ستارہ زحل ساتویں گھر میں آیا اور شمس کے دور اکبر میں زحل ہی کا دور اصغر شروع ہوا جو 7 جنوری 2018 ء تک جاری رہا اور اب وہ سیارہ عطارد کے دور سے گزر رہی ہیں جو چوتھے گھر کا حاکم اور زائچے میں بہترین پوزیشن رکھتا ہے۔
اس میں کوئی دورائے نہیں ہوسکتی کہ یہ ان کے لیے نہایت موافق اور سپورٹنگ وقت ہے، وہ زیادہ سے زیادہ دولت جمع کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہیں اور ایک شاندار رہائش گاہ کی مالک بن سکتی ہیں لیکن انھیں ایک اچھا اسٹیٹس نہیں مل سکے گا، ان کے زائچے میں اسٹیٹس کا سیارہ قمر ہے جو غروب ہے،قمر کا تعلق اسٹیٹس کے علاوہ فیملی کے معاملات سے بھی ہے اور ان کی فیملی بھی شوہر کے بغیر نامکمل ہے،بعض ذرائع کے مطابق عمران خان سے ان کی تیسری شادی ہوئی تھی، چوتھی شادی کے خدشے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اور اس کا امکان اس سال یا آئندہ سال ہوسکتا ہے۔ 
عمران خان اور تحریک انصاف


حقیقت یہ ہے کہ 2013 ء کے الیکشن کے بعد سے عمران خان اور تحریک انصاف مستقل اخبار اور ٹی وی کی شہ سرخیوں میں سرفہرست ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے پاکستان کی پوری سیاسی اشرافیہ عمران خان اور تحریک انصاف کو اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتی ہے ؂
کسی کا درد ہو کرتے ہیں تِرے نام رقم
گلہ ہے جو بھی کسی سے تِرے سبب سے ہے
الیکشن کے بعد ہی عمران خان نے دھاندلی کا نعرہ لگایا اور بالآخر وہ سڑکوں پر آگئے یعنی 2014 ء میں ایک طویل دھرنا دیا، پھر 2015 ء کی ابتدا میں ریحام خان سے شادی کرکے مزید شہرت پائی اور اسی سال دونوں کے درمیان طلاق کا واقعہ ایک نئی متنازع صورت حال کا باعث بنا، اس طرح عمران خان کے مخالفین کو بہت کچھ کہنے کا موقع ملا، وہ اپنے ابتدائی کرئر کے زمانے ہی سے ایک متنازع ، سرپھرے اور اسکینڈلز کی زد میں رہنے والے انسان تو تھے ہی، یہ روایت سیاست کے میدان میں بھی جاری رہی اور جاری ہے۔
2016 ء میں پاناما کا ہنگامہ عمران خان کے ہاتھ لگا اور اسے انھوں نے اپنے لیے ایک غیبی امداد تصور کیا پھر ساری مصروفیات ختم کرکے وہ اس مہم جوئی میں مصروف ہوگئے جس کا نتیجہ بالآخر 2017 ء میں سابق وزیراعظم جناب نواز شریف کی نااہلی کی صورت میں برآمد ہوا، انھوں نے اسے اپنی سب سے بڑی کامیابی قرار دیا،اس دوران میں وہ بھی مقدمات کی لپیٹ میں رہے لیکن سپریم کورٹ نے انھیں بری کردیا۔
سال 2018 ء میں ان کی تیسری شادی کا چرچا ہوا اور ایسا کہ ہر جگہ موضوع گفتگو یہ شادی رہی، اب الیکشن کا وقت قریب آرہا ہے اور عمران خان نہایت پر امید ہیں کہ اس بار میدان ان کے ہاتھ رہے گا مگر اچانک ہی ریحام خان کی کتاب کا ہنگامہ اٹھ کھڑا ہوا ہے،یہ سب بیان کرنے کا مقصد صرف اتنا ہی ہے کہ گزشتہ تقریباً سات آٹھ سال سے عمران خان اور ان کی پارٹی روز بہ روز ایک نمایاں حیثیت اختیار کرتی جارہی ہے۔
پاکستان میں عمران خان کا زائچہ سب سے پہلے ہم نے ہی پیش کیا تھا اور اس سلسلے میں خاصی تحقیق اور کوشش کی گئی تھی، عمران خان کی تاریخ پیدائش 25 نومبر 1952 ء بمقام لاہور بتائی جاتی ہے لیکن ایک موقع پر انھوں نے خود کہا کہ میرا برج میزان ہے،اس سلسلے میں ہمارے محترم سید انتظار حسین شاہ زنجانی نے ہماری مدد کی اور اپنے کسی واقف صحافی کے ذریعے عمران خان سے ان کی درست تاریخ پیدائش اور وقت پیدائش معلوم کیا، عمران خان نے بتایا کہ ان کی تاریخ پیدائش 5 اکتوبر 1952 ء اور وہ صبح 9 بجے لاہور میں پیدا ہوئے،چناں چہ ہم نے اسی تاریخ پیدائش اور وقت کے مطابق زائچہ بنایا جو ماہنامہ آئینہ قسمت لاہور میں اور ہمارے کالم میں شائع ہوا، دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض لوگ اب بھی 25 نومبر کو ہی اہمیت دیتے ہیں۔
ہمارے بنائے ہوئے زائچے کے مطابق عمران خان کا پیدائشی برج یعنی طالع پیدائش میزان ہے،اس کا حاکم سیارہ زہرہ زائچے کے پہلے گھر یعنی اپنے ہی گھر برج میزان میں نہایت طاقت ور پوزیشن میں موجود ہے،علم نجوم کے مطابق اس صورت حال کو ’’ملاویا یوگ‘‘ کہا جاتا ہے اور یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو خوش قسمت خیال کیے جاتے ہیں، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ آسانی کے ساتھ اپنے مقاصد کی تکمیل کرلیتے ہیں، ملاویا یوگ چوں کہ حسن و عشق سے وابستہ سیارہ زہرہ تشکیل دیتا ہے لہٰذا ان لوگوں کی زندگی میں حسن و عشق کی رنگینیاں اور سنگینیاں بھی دیکھنے میں آتی ہیں، ویسے بھی برج میزان اگرچہ توازن اور ہم آہنگی کا برج ہے لیکن انسان کو رومان پسند بھی بناتا ہے، زائچے کے تیسرے گھر برج قوس میں سیارہ مریخ، چوتھے گھر میں راہو اور کیتو ایسی پوزیشن میں ہیں جو زائچے کے دوسرے ، چوتھے ، چھٹے، آٹھویں اور بارھویں گھروں کو متاثر کر رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کی زندگی مستقل اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے،فیملی پرابلم، مالی مشکلات،والدہ کی شدید بیماری ، چوٹیں لگنا اور ساتھ کام کرنے والوں سے اختلافات، طلاق، کرئر سے متعلق مسائل ، میڈیسن کا زیادہ استعمال وغیرہ راہو کیتو کے نحس اثرات کا باعث ہے،یقیناً موجودہ شادی کے بعد وہ صدقات و خیرات پر زیادہ زور دیں گے۔
ساتویں گھر برج حمل میں قمر اور مشتری موجود ہیں،کیتو دسویں گھر میں ہے اور شمس ، زحل اور عطارد بارھویں گھر میں بری جگہ واقع ہیں، مریخ اور مشتری باہمی طور پر ایک دوسرے کے گھر میں ہونے کی وجہ سے ایک نہایت اہم یوگ بنارہے ہیں جسے ’’پری ورتن یوگ‘‘ کہاجاتا ہے چوں کہ یہ دونوں سیارے زائچے کے تیسرے اور ساتویں گھر کے حاکم ہیں لہٰذا اس یوگ کو ’’راج یوگ‘‘ کے برابر سمجھنا چاہیے، راج یوگ عام طور سے قائدانہ صلاحیت اور اعلیٰ پوزیشن پر فائز ہونے کا امکان ظاہر کرتا ہے،پہلے گھر کا حاکم ، پہلے ہی گھر میں واقع ہو اور وہ بھی زہرہ ہو تو صاحب زائچہ کو شاندار شخصیت اور ایک پرتعیش زندگی دیتا ہے، مزید یہ کہ مشتری ساتویں گھر میں رہتے ہوئے طالع کے درجات سے ناظر ہے،قمر کی پوزیشن سے بھی زہرہ ملاویا یوگ بنارہا ہے،سیارہ مشتری تیسرے گھر کا حاکم ہے جو پہل کاری ، کوشش اور جدوجہد سے متعلق ہے،اس کا حاکم ساتویں گھر میں ہے جو سفر کا رجحان ظاہر کرتا ہے،اسٹیٹس بنانے میں مدد دیتا ہے،بیرون ملک رہائش کی نشان دہی کرتا ہے جب کہ ساتویں کا حاکم تیسرے میں ہے،گویا عمران خان ابتدا ہی سے ملک سے یعنی اپنے پیدائش کے مقام سے دور چلے گئے اور باہر رہتے ہوئے ہی تعلیم حاصل کی اور اپنا کرکٹ کا کرئر شروع کیا پھر ایک طویل عرصہ ملک سے باہر ہی گزارا، حد یہ کہ شریک حیات کا پہلا انتخاب بھی ملک سے باہر ہی کیا اور پہلی شادی بھی ملک سے باہر ہی ہوئی۔
پانچویں گھر کا حاکم سیارہ زحل اس زائچے میں یوگ کارک ہے اور نہایت خراب پوزیشن میں بارھویں گھر میں مقیم ہے،اس پر راہو کی نظر ہے،عمران خان کے رجحانات ، شوق اور دلچسپیوں کے حوالے سے سیارہ زحل کی پوزیشن قابل غور ہے،کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ہر طرح کی حکمت عملی اختیار کرسکتے ہیں۔
سیارہ قمر زائچے کے دسویں گھر کا حاکم ہے اور ساتویں گھر میں مشتری کے ساتھ قابض ہے،یہ بھی ان کے کرئر کے معاملات میں بیرون ملک کامیابیوں کی نشان دہی کرتا ہے،گیارھویں گھر کا حاکم شمس بارھویں گھر میں ہے،ایسا شخص بیرون ملک رہ کر مالی مفادات حاصل کرتا ہے،اپنے کرکٹ کرئر کے دوران بھی ان کے ذرائع آمدن بیرون ملک سے متعلق تھے اور اب بھی ان کی پارٹی کو فنڈنگ بیرون ملک رہائش پذیر پاکستانیوں سے ہوتی ہے۔
یہاں ایک دلچسپ حقیقت کا انکشاف ضروری ہے،روس کے موجودہ صدر ولادی میر پیوٹن اور عمران خان کے زائچے میں نہایت معمولی سا فرق ہے ، مسٹر پیوٹن کی تاریخ پیدائش 7 اکتوبر 1952 ہے اور وہ صبح ساڑھے 9 بجے سینٹ پیٹر برگ میں پیدا ہوئے،علم نجوم سے دلچسپی رکھنے والے لوگ اگر ان کا زائچہ بنائیں تو حیران ہوں گے،ان کا بھی پیدائشی برج میزان ہے،قمر کے علاوہ باقی تمام سیارگان کی پوزیشن میں زیادہ فرق نہیں ہے،قمر البتہ اپنے شرف کے گھر برج ثور میں ہے،مسٹر پیوٹن ایک طویل عرصے سے روس میں حکمران ہیں ، ابھی حال ہی وہ ایک بار پھر الیکشن جیت کر صدر منتخب ہوگئے ہیں۔
ہم کسی بھی زائچے میں قمری منزل کو بہت اہمیت دیتے ہیں کیوں کہ ہمارے نزدیک قمری منزل انسان کی فطری خوبیوں، خامیوں کی نشان دہی کرتی ہے،عمران خان چاند کی منزل اشونی میں پیدا ہوئے ہیں اور جناب فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال بھی اسی منزل میں پیدا ہوئے ہیں،اس کا تذکرہ ہم نے دونوں کے زائچوں پر گفتگو کرتے ہوئے بھی کیا تھا۔
اشونی برج حمل میں واقع ہے اور اس پر غضب ناک کیتو حکمران ہے،بچپن میں ان لوگوں میں کھلندڑا پن اوربچگانہ پن دیکھنے میں آتا ہے لیکن یہ نڈر ، بے خوف ہوتے ہیں، نئے جہان دریافت کرنا چاہتے ہیں،سیارہ شمس برج حمل میں شرف پاتا ہے لہٰذا لیڈر شپ، جنگ جویانہ صلاحیت ان میں موجود ہوتی ہے،اختیارات اور قدرومنزلت کی چاہت بھی اس منزل سے وابستہ ہے،یہ لوگ جنس مخالف کو پسند کرتے ہیں، مزاجی طور پر غصہ ور اور جلد اشتعال میں آنے والے ، فطری طور پر ذہین، متحرک ، ہوشیار اور سخت مزاج ہوتے ہیں، اپنی وجاہت اور دل کشی کی وجہ سے دوسرے لوگوں میں ممتاز نظر آتے ہیں،ہوائی قلعے بنانے کا رجحان بھی رکھتے ہیں لیکن ان کے خیالات ہمیشہ صاف اور صحت مند رہتے ہیں، ان کے اندر جسمانی طور پر اچھی قوت مدافعت پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے جلد صحت یاب ہونے کی طاقت رکھتے ہیں، ذہنی و جسمانی طور پر ہمیشہ جوان رہتے ہیں، ان کی بیماریوں کا یا دیگر تکالیف کا بنیادی سبب غیر ضروری ذہنی پریشانی اور ذہنی انتشار ہوتا ہے۔
عمران خان اپریل 1996 ء میں سیاست میں آئے، آئندہ ان کی پارٹی کے زائچے پر بھی بات ہوگی، ایک طویل عرصہ مسلسل جدوجہد کے باوجود وہ کوئی خاص سیاسی کامیابی حاصل نہیں کرسکے،ان کے زائچے میں 1997 ء سے راہو کا دور اکبر شروع ہوا، راہو کو سیاست کا ستارہ کہا جاتا ہے،اسی راہو کے دور اکبر میں جب سیارہ زہرہ کا دور اصغر شروع ہوا تو عمران خان کے لیے ایسے اسباب بننا شروع ہوگئے کہ وہ بالآخر ایک کامیاب اور تاریخی جلسہ کرکے دوسری پارٹیوں کے مقابلے میں کھڑے ہوگئے، اس حوالے سے بھی بہت سی خفیہ داستانیں مشہور ہیں لیکن ہمیں ان سے کوئی غرض نہیں، جب انسان کا بہتر وقت شروع ہوتا ہے تو بہت سے عوامل اس کے مددگار ہوسکتے ہیں، 2013 ء کے الیکشن میں ان کی پارٹی نے سب سے زیادہ ووٹ لینے والی دوسری پارٹی کا اعزاز حاصل کیا، ن لیگ کو ان پر برتری حاصل تھی لہٰذا حکومت ن لیگ نے بنائی اور وہ حکومت مخالف کردار ادا کرتے رہے۔
جنوری 2015 ء سے راہو کا دور اکبر ختم ہوا اور مشتری کا دور اکبر شروع ہوا جو تاحال جاری ہے،مشتری تیسرے گھر کا حاکم اور طالع میزان کے لیے نہایت اہم سیارہ ہے،زائچے میں ساتویں گھر میں اچھی جگہ واقع ہے،مشتری ہی کے دور اصغر میں ان کی پاناما مہم جوئی عروج پر پہنچی اور مارچ 2017 ء سے سیارہ زحل کا دور شروع ہوا جو تاحال جاری ہے،زحل یوگا کارک سیارہ ہے لیکن نہ صرف یہ کہ بارھویں گھر میں ہے بلکہ بارھویں گھر کے حاکم سیارہ عطارد سے قریبی قران رکھتا ہے،گویا عمران خان کی آنے والے مہینوں میں کامیابیاں یا ناکامیاں خاصی مبہم نظر آتی ہیں، یہ دور بہت محتاط رہنے کا ہے اور بڑی ذہانت کے ساتھ منصوبہ بندی کا ہے،پانچواں گھر اور اس کے حاکم کی پوزیشن اسکینڈلز اور رسوائیاں ظاہر کرتے ہیں، ریحام خان کی حالیہ کتاب نے بہت سے متنازع سوالوں کو جنم دیا ہے، ان کے مخالفین ہر حربہ استعمال کرنے میں آزاد ہیں، سیارہ زحل کا دور اصغر صحت کے حوالے سے بھی تشویش ناک ہے،مزید یہ کہ عطارد سے قریبی نظر یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ وہ شاید بہتر فیصلے کرنے میں دشواری محسوس کریں ، یہ ان کی ایک فطری کمزوری بھی ہے،برج میزان والے ہمیشہ بروقت اور صحیح فیصلہ کرنے میں دیر کردیتے ہیں، وہ کسی معاملے پر بہت غوروفکر کرتے ہیں اور پھر دوسروں سے مشورہ کرتے ہیں مگر پھر بھی پوری طرح مطمئن نہیں ہوتے اور اکثر کوئی واضح فیصلہ نہیں کرپاتے جیسا کہ ابھی پنجاب اور کے پی کے میں وزارت اعلیٰ کے امیدواروں کے حوالے سے صورت حال سامنے آئی،عمران خان کے بھرپور ایسٹرولوجیکل تعارف کے بعد ان شاء اللہ آئندہ ان کی پارٹی تحریک انصاف کے زائچے پر بات ہوگی۔

پیر، 4 جون، 2018

رمضان المبارک میں جمعتہ الوداع کی سعادت کے حصول کا موقع


نقش جمعتہ الوداع اور خصوصی وظیفہ، کشادگئ رزق اور روزگار کے لیے
جمہوری تسلسل کا دوسرا دور اختتام کو پہنچا اور یہ بڑی خوش کن روایت قائم ہوئی، پہلے دور کے پانچ سال پیپلز پارٹی کے حصے میں آئے اور دوسرے دور کے مسلم لیگ ن کو حاصل ہوئے،دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں پارٹیوں نے اس عرصے میں ایک ایک وزیراعظم سے ہاتھ دھوئے، پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی توہین عدالت کیس میں نااہل ہوئے اور مسلم لیگ ن کے جناب نواز شریف کو تاحیات نا اہل قرار دیا گیا، ان پر مزید بھی مقدمات زیر سماعت ہیں اور اس بات کا امکان موجود ہے کہ نئے مہینے جون میں ان کے خلاف کوئی اور فیصلہ بھی آجائے۔
ملک میں عبوری حکومت قائم ہوچکی ہے جس کے سربراہ پاکستان کے سابق چیف جسٹس جناب ناصر الملک ہیں، اب تک تمام سیاسی پارٹیاں ان کے نام پر اتفاق کرچکی ہیں، سندھ کے وزیراعلیٰ کے نام پر بھی اتفاق ہوگیا ہے،البتہ پنجاب ، کے پی کے اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ کا معاملہ تادم تحریر طے نہیں ہوسکا ہے،بہر حال یہ مسئلہ بھی بالآخر حل ہوجائے گا، پاکستان یکم جون 2018 ء سے ایک نئے دور میں داخل ہورہا ہے، آئندہ انتخابات کے لیے 25 جولائی مقرر کی گئی ہے لیکن خدامعلوم لوگوں کو اس میں بھی شکوک و شبہات نظر آرہے ہیں،بلوچستان اسمبلی میں ایک قرارداد منظور کی گئی کہ انتخابات اگست میں کرائے جائیں، کے پی کے کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے بھی ایک ایسا مطالبہ پیش کیا ہے جس کی وجہ سے انتخابات کی تاریخ آگے بڑھ سکتی ہے،ان کا کہنا ہے کہ فاٹا کے علاقے کے پی کے میں شامل ہوچکے ہیں، وہاں بھی فوری انتخابات کرالیے جائیں، اسی طرح ایک مسئلہ نئی حلقہ بندیوں سے متعلق ہے جن پر اعتراضات کیے گئے ہیں اور عدالتیں اس معاملے کو دیکھ رہی ہیں،چناں چہ 25 جولائی کو الیکشن کی حتمی تاریخ نہیں کہا جاسکتا، بے شک اس وقت بارشوں کا موسم بھی ہوگا اور سیلاب وغیرہ کے امکانات بھی ہوسکتے ہیں،مزید یہ کہ گرمی بھی عروج پر ہے،ان تمام وجوہات کی بنیاد پر اگر تاریخ آگے بڑھادی جائے تو حیرت نہیں ہونی چاہیے۔
ہم پہلے بھی نشان دہی کرچکے ہیں کہ فلکیاتی صورت حال آئینی اور قانونی معاملات پر زور دے رہی ہے،راہو کیتو ،سرطان اور جدی میں اور سیارہ مریخ بھی اپنے شرف کے برج جدی میں داخل ہوچکا ہے،برج جدی زائچے کا نواں گھر ہے جس کا تعلق آئینی معاملات اور عدالتی یا الیکشن کمیشن سے متعلق امور سے ہے،ساتھ ہی خارجہ پالیسی بھی اسی نویں گھر سے متعلق ہے،جون کے مہینے میں خارجی امور میں بھی اہم معاملات پاکستان کے پیش نظر رہیں گے،پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے کی سازشیں ہورہی ہیں جو ان شاء اللہ کامیاب نہیں ہوسکیں گی لیکن اس کے لیے حکومت کو بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ اپنا کیس لڑنا ہوگا، ملک کے داخلی معاملات میں آئینی معاملات اہم چلے آرہے ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے اور اسی کے نتیجے میں اسمبلی نے ایک یادگار آئینی ترمیم منظور کی ہے جس کے نتیجے میں فاٹا ، خیبر پختونخواہ کا حصہ بن چکا ہے حالاں کہ بعض حلقے اس کی سخت مخالفت کر رہے تھے اور آئندہ بھی کریں گے ، جاتی ہوئی ن لیگ حکومت کا یہ فیصلہ بلاشبہ قابل تعریف ہے۔
اس ہفتے میں مریخ اور کیتو کے درمیان پہلا قران ہوگا، یہ نحس اثرات کا حامل ہے اور ملک کے خلاف ہونے والی سازشوں سے ہوشیار رہنے کا اشارہ کرتا ہے،بین الاقوامی سطح پر بھی اور ملکی سطح پر بھی چوں کہ یہ قران پیدائشی راہو کے قریب ہوگا لہٰذا کوئی پرفریب سیاسی چال کسی بیرونی ملک کی طرف سے پاکستان کے خلاف چلی جاسکتی ہے، یہی قران دوبارہ جولائی میں بھی ہوگا، اس وقت مریخ رجعت کی حالت میں ہوگا اور راہو کیتو اسٹیشنری پوزیشن میں ہوں گے،خطرہ ہے کہ اس وقت انتخابات کی تاریخ آگے بڑھانے کا شوشہ سامنے آئے اور اس پر عمل بھی ہوجائے (واللہ اعلم بالصواب)
نقشِ جمعتہ الوداع
عوام کے مسائل اگرچہ بے پناہ ہیں لیکن سب سے بڑا مسئلہ روزگار کا ہے کیوں کہ اس کے بغیر کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا ، بے روزگاری سب سے بڑا جہنم ہے جس کی آگ میں ہمارا ملک جل رہا ہے اور ملک سے باہر مقیم پاکستانی بھی روزگار کے حوالے سے کسی نہ کسی مسئلے کا شکار رہتے ہیں، انسان کی زندگی میں اچھے اور برے اوقات آتے رہتے ہیں بعض لوگ اپنی بہترین کوششوں کے باوجود روزگار کے معاملات میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کرپاتے ، ایسے افراد کے لیے ہم پہلے بھی مخصوص اوقات کی مناسبت سے ورد و وظائف، عملیات و نقوش کی نشان دہی کرتے رہے ہیں ، اسی مناسبت سے رمضان المبارک کے مقدس ترین مہینے میں جمعتہ الوداع سے متعلق ایک وظیفہ اور ایک نقش پیش کیا جارہا ہے جو مجرّب ہے اور انشاء اللہ تمام مسلمانوں کے لیے فائدہ بخش ثابت ہوگا ، یہ نقش اور وظیفہ گزشتہ کئی سالوں سے دیا جارہا ہے اور بے شمار افراد اس کے ذریعے فوائد حاصل کرچکے ہیں،ان شاء اللہ ہم بھی یہ نقش کاغذ پر اور ہرن کی جھلی پر تیار کریں گے، ضرورت مند رابطہ کرسکتے ہیں۔
وظیفہ جمعتہ الوداع
وظیفہ بہت آسان ہے اور صرف تھوڑی سی دیر کی محنت ہے ، اس محنت کے صلے میں ایک قیمتی تحفہ ہاتھ آجائے گا،یہ وظیفہ ان لوگوں کے لیے مفید ہے جو نزلہ و زکام یا جوڑوں کے درد میں مبتلا رہتے ہیں۔
عمدہ خالص چنبیلی یا زیتون کا تیل حاصل کرلیں اور جمعتہ الوداع کی صبح فجر کی نماز کے بعد اول آخر سات بار درود شریف کے ساتھ سورہ والعادیات سات بار پڑھ کر چنبیلی کے تیل پر دم کرلیں اور اسے محفوظ رکھیں ، تمام اقسام کے جسمانی درد اور نزلے کے لیے مفید ہے ، اکثر آرتھرائیٹس کے مریضوں کو بھی جوڑوں کے درد میں آرام ملا ہے ، پرانے نزلے کی صورت میں اس تیل کی سر پر مالش مفید ثابت ہوگی ۔
دوسرا عمل تھوڑا سا مشکل ضرور ہے لیکن اس کی افادیت بھی کم نہیں ہے ، جمعتہ الوداع کی صبح فجر کی نماز کے بعد سورج طلوع ہونے سے پہلے سورہ الاعراف کی آیت نمبر 10 کا نقش ہرن کی جھلّی یا عمدہ سفید کاغذ پر عرق گلاب میں زعفران ملاکر لکھ لیں ، اگر زعفران نہ مل سکے تو عرق گلاب میں ہلدی ملاکر روشنائی بنالیں بعد ازاں نقش کو عمدہ خوشبو سے معطر کریں اور اپنی دکان ، دفتر یا کاروبار و ملازمت کی جگہ پر رکھیں تو انشا اللہ بے انتہا خیر و برکت ہوگی ، کاروبار ترقی کرے گا ، اگر ملازمت ہے تو پائیدار ہوگی اور ترقی کے مواقع پیدا ہوں گے ، اگر گھر میں رکھیں تو بے برکتی ختم ہوجائے گی ، قرض ہے تو اس کی ادائیگی میں آسانی ہوگی ، فی الواقع نہایت موثر اور مجرب المجرب عمل ہے ۔
نقش لکھنے کے بعد زرد رنگ کی مٹھائی پر فاتحہ دے کر ایصال ثواب کریں اور حضرت کاش البرنی ؒ کے لیے بھی دعائے خیر کریں ، نقش پاس رکھنے کے بعد حسب توفیق صدقہ وخیرات کریں ، اس نقش کو تعویذ کے طریقے پر تہہ کرکے موم جامہ کرلیں اور گلے میں پہنیں یا بازو پر باندھیں تو آپ کی ذاتی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا ، اگر چاہیں تو فریم کراکے دکان یا دفتر میں یا گھر میں مغرب کی سمت دیوار پر آویزاں کرلیں ، اگر نقش کو پوشیدہ رکھنا چاہیں تو چار تہہ کرلیں اور موم جامہ یا پلاسٹک کوٹڈ کرکے کاروبار کی جگہ یا گھر میں کسی محفوظ مقام پر رکھیں، ہم یہ نقش ہر سال سفید کاغذ پر لکھتے ہیں اور ضرورت مندوں میں بلا ہدیہ تقسیم کردیتے ہیں لیکن ظاہر ہے کہ بہت زیادہ نقش لکھنا ممکن نہیں ہوتا، آپ سے درخواست ہے کہ خود ہی کوشش کریں اور کسی انتہائی مجبوری کے سبب اگر خود نہ لکھ سکتے ہوں تو ڈاک خرچ بھیج کر ہمارے ہاں سے منگوالیں، نقش درج ذیل ہے ۔

نقش بھرنے کے لیے مناسب ہوگا کہ نقش کے خانے پہلے سے تیارکرلیے جائیں اورعین وقت پر بسم اللہ پڑھ کر نقش مکمل کیا جائے ، سب سے پہلے نقش کی پیشانی پر 786 لکھیں پھر نقش کے چاروں کونوں پر قولہ الحق ولہ الملک اور چاروں ملائکہ کے نام ، آآیٰعٓصٓ اور حٰمٓعٓسٓقٓ لکھیں ، پھر نقش کے بیرونی خانوں میں پوری آیت اسی طرح نقل کرلیں جیسے کہ لکھی ہوئی ہے ، آخر میں درمیانی نقش مثلث بھریں ، یہ مثلث اسی آیت شریف کا ہے ، کیوں کہ آیت کے کل اعداد 2199 ہیں جس خانے میں 729 کے اعداد ہیں، یہ نقش کا پہلا خانہ ہے اس کے بعد ترتیب وار 730 ، 731 ، 732، 733، 734، 735، 736 اور آخری خانے میں 737 لکھ کر نقش مکمل کرلیں ، خیال رہے کہ نقش کے خانے بھرنے کی ترتیب یہی رہے گی ، بس کام مکمل ہوگیا ۔


ہفتہ، 26 مئی، 2018

مسلم لیگ ن اور نواز شریف کا مستقبل علم نجوم کے آئینے میں

پارٹی مفادات کے لیے کیا شہباز شریف کوئی بڑا اور تلخ فیصلہ کرسکتے ہیں؟

سیاسی پارٹیوں اور سیاسی شخصیات کے حوالے سے جو سلسلہ شروع کیا گیا ہے، یقیناً ہمارے قارئین کی دلچسپی اور معلومات میں اضافے کا باعث ہوگا، اس بات کا ہم کئی بار اظہار کرچکے ہیں کہ عام طور سے درست تاریخ پیدائش اور وقت پیدائش کا حصول ممکن نہیں ہوتا لہٰذا علمی اندازوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے اور اس میں غلطی یا کسی کوتاہی کا امکان بھی رہتا ہے۔
جناب نواز شریف ملک کے تین بار وزیراعظم منتخب ہوچکے ہیں، پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر رہ چکے ہیں اور اب تاحیات قائد ہیں، ان کی دستیاب تاریخ پیدائش 25 دسمبر 1949 ء ہے لیکن ہمارا خیال ہے کہ سال پیدائش 1948 ء زیادہ درست ہے،وہ لاہور میں 00:03 am پر پیدا ہوئے،یہ وقت بھی ہم نے اندازے کے مطابق رکھا ہے،سال پیدائش 1949 ء لیا جائے تو قمر برج دلو میں نظر آتا ہے اور میاں صاحب میں قمری برج دلو والی خصوصیات نظر نہیں آتی، اسی طرح قمری منزل بھی فطرت اور زندگی کے رجحانات سے میل نہیں کھاتی البتہ 1948 ء کے مطابق قمر برج سنبلہ میں ہے اور قمری منزل چترا ہے جو فطرت اور کردار کے عین مطابق ہے، اس کے باوجود بھی نواز شریف صاحب کے زائچے پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔


جناب نواز شریف کا پیدائشی برج سنبلہ (virgo) ہے،یہ ڈبل باڈی سائن کہلاتا ہے اور خاکی ہے،اس اعتبار سے مادّیت کی جانب جھکاؤ رکھتا ہے،گویا یہ لوگ بہت زیادہ پریکٹیکل سوچ کے مالک ہوتے ہیں،برج سنبلہ پر سیارہ عطارد حکمران ہے،یہ تجزیاتی صلاحیت دیتا ہے،عطارد زائچے کے چوتھے گھر میں سیارہ مشتری کے ساتھ حالت قران میں ہے،مشتری اپنے ذاتی گھر میں ایک طاقت ور پوزیشن رکھتا ہے اور ہمسا یوگ بنارہا ہے جو ذہانت اور دانش وری سے متعلق ہے،اگرچہ مشتری اور عطارد دونوں سیارہ شمس سے قریب ہیں لہٰذا انھیں غروب تصور کیا جاتا ہے،اسے سیارے کی کمزوری کہتے ہیں لیکن اساتذہ کے نزدیک اگر کوئی سیارہ اپنے ہی برج میں ہو یا اپنے شرف کے برج میں ہو تو اسے رعایت دی جاتی ہے،اسی طرح عطارد کا فاصلہ بھی شمس سے تقریباً 7 ڈگری ہے اور مشتری سے قران بھی مددگار حیثیت رکھتا ہے،دوسرے حیثیت ، آمدن اور فیملی سے متعلق سیارہ زہرہ تیسرے گھر میں اچھی مضبوط پوزیشن رکھتا ہے،سیارہ قمر پہلے گھر میں موجود ہے، کیتو دوسرے اور راہو آٹھویں گھرمیں ، مریخ چوتھے گھر میں جب کہ سیارہ زحل بارھویں گھر میں۔
گزشتہ دنوں اتفاق سے ملالہ یوسف زئی کا زائچہ بھی پیش کیا گیا تھا اور ان کا بھی پیدائشی برج سنبلہ تھا، ہمارے موجودہ چیف جسٹس جناب ثاقب نثار کا پیدائشی برج بھی سنبلہ ہے لہٰذا ضروری ہے کہ برج سنبلہ کی خوبیوں ، خامیوں پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی جائے۔
برج سنبلہ کا نشان کنواری دوشیزہ ہے، عنصر خاک، یہ لوگ تغیر پذیر ہوتے ہیں، نفسیاتی ٹائپ ان کی مثبت توانائیوں میں احساس تحفظ، صفائی پسندی، اپنے معمول پر کاربند رہنا، آزردگی کی کیفیت میں دل جوئی، کسی مقصد کے لیے خود کو وقف کردینا، متحرک رہنا ، کاملیت پسند ہونا ، جزئیات پر توجہ دینا، خیال آفرینی، ملازمت میں ذمے دارانہ رویہ ، منصوبہ بندی میں احتیاط وغیرہ۔
اپنی منفی خصوصیات میں یہ لوگ حاسد، کنجوس، خائف، اعتبار نہ کرنے والے،اتنے باریک بیں کہ ہر معاملے میں کیڑے نکالنے والے،چھوٹے چھوٹے مسائل پر توانائی ضائع کرنے والے اور بڑے بڑے مسائل کو نظر انداز کرنے والے ، صرف اپنے عقیدے اور نظریات کے پابند، وہمی ، نکتہ چینی کرنے والے، اڑیل اور ضدی ہوتے ہیں۔
ان خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ ان میں خدمت خلق کا جذبہ بھی بہت زیادہ ہوتا ہے،اس کے برعکس برج سنبلہ کا مقابل سائن برج حوت خدمت خود پر زیادہ زور دیتا ہے،اسے اپنی ذات سے باہر کچھ نظر نہیں آتا، سنبلہ افراد انسانیت کی بھلائی کے لیے بے لوث خدمات انجام دیتے ہیں،یہ الگ بات ہے کہ کسی موقع پر یہ بھی کہتے ہوئے نظرآئیں گے ’’کیا اس بے ترتیبی اور گندگی کو دور کرنے کے لیے میں ہی رہ گیا ہوں جسے برج اسد نے اپنے پیچھے چھوڑا ہے‘‘
معروف مدبر اور ادیب لارڈ چسٹر فیلڈ ایک سنبلہ شخصیت ہے،وہ کہتا ہے ’’اگر ہوسکتے ہیں تو دوسروں سے زیادہ عقل مند ہوں لیکن انھیں بتائیں مت کہ آپ ان سے زیادہ عقل مند ہیں‘‘
واضح رہے کہ برج سنبلہ سیارہ عطارد کی وجہ سے ذہانت اور عقل مندی کا برج ہے،یہی صورت سیارہ عطارد کے دوسرے برج جوزا کی ہے لیکن جوزا میں عنصر ہوائی ہونے کی وجہ سے بے پروائی، بے وفائی اور غیر ذمے داری کا عنصر زیادہ ہے،سنبلہ اپنے ذمے دارانہ کردار کی وجہ سے نہایت سخت حالات میں بھی مسلسل کام کرکے مثبت نتائج حاصل کرلیتا ہے۔
دلچسپ صورت حال یہ ہے کہ قمر بھی اسی برج میں آخری درجات پر ہے اور چاند کی منزل چترا ہے،ڈائنامک مریخ اس منزل پر حکمران ہے،اس نچھتر کی فطرت نرم ہے،موسیقی، رقص اور ڈرامے کے لیے اسے بہتر سمجھا جاتا ہے،اپنی فطرت میں یہ غیر انسانی ہے اور اس کا بنیادی محرک ’’خواہش‘‘ ہے،اس کی حیوانی علامت شیر ہے اور سمت مغرب ہے،یہ لوگ اپنی اصل عمر کے مقابلے میں کم نظر آتے ہیں، اپنے دشمنوں کو شکست دے سکتے ہیں، ماہر سیاست داں غیر معمولی طور پر ذہین ہوتے ہیں،ان کی وجدانی قوت بڑی اہمیت رکھتی ہے، وقت سے پہلے بہت سی باتیں جان لیتے ہیں، اس نچھتر میں پیدا ہونے والے افراد کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ لوگ زیادہ کوشش کیے بغیر غیر متوقع مدد اور انعام حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں، یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جنھیں اس بات کی کوئی پروا نہیں ہوتی کہ دوسرے ان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں یا کیا کہتے ہیں، لوگ ان کو متکبر سمجھنے کی غلطی کرسکتے ہیں، انھیں بولنے سے پہلے اچھی طرح سوچنا سمجھنا چاہیے کیوں کہ جذبات کی رو میں منہ سے نکلنے والی کوئی خود پسندانہ بات دوسروں کو بلاوجہ پریشان یا حواس باختہ کرسکتی ہے،یہ لوگ اپنے والدین اور بھائی بہنوں سے بہت پیار کرتے ہیں لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ان پر بھرپور اعتماد نہیں کرتے،عدم اعتماد برج سنبلہ کا بھی بڑا مسئلہ ہے۔
عزیزان من! ممکن ہے آپ سوچ رہے ہوں کہ ہم مزاج ، فطرت و کردار پر بہت زیادہ تفصیلی روشنی ڈال رہے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا مقصد ہی یہ ہے کہ عام لوگ اپنے قائدین کے بارے میں جان سکیں کہ وہ کن خوبیوں کے حامل ہیں اور کون سی کمزوریاں یا خامیاں ان کے اندر موجود ہیں، ہم اس بحث میں زیادہ نہیں پڑنا چاہتے کہ ماضی میں انھوں نے کیا کیا، اب کیا کر رہے ہیں اور آئندہ کیا کریں گے،بے شک وہ پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے قائد ہیں، ملک میں کروڑوں لوگ انھیں پسند کرتے ہیں بلکہ بعض ان کے دیوانے ہیں، ہم صرف علم نجوم کی روشنی میں ان کی شخصیت و کردار کے پوشیدہ پہلو نمایاں کرنا چاہتے ہیں۔
برج سنبلہ کے بارے میں یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہ لوگ بلا مقصد اور بے فائدہ کوئی کام نہیں کرتے،ان کا ہر انداز نپا تلا ہوتا ہے اور اپنا مستقبل انھیں بہت عزیز ہوتا ہے،مادّی برج ہونے کی وجہ سے زمینی حقائق ہمیشہ پیش نظر رہتے ہیں، ان کا نروس سسٹم بے حد حساس ہے،عطارد اور زحل کی کمزوری ان کی صحت کو متاثر کرتی ہے،حد سے زیادہ تھکن نروس بریک ڈاؤن کی طرف لے جاتی ہے،اکثر یہ لوگ مراقی بھی ہوجاتے ہیں، ہم پہلے بتاچکے ہیں کہ عطارد زائچے میں غروب ہے لیکن مشتری سے قران کر رہا ہے،مشتری اپنے گھر میں ہے لیکن پھر بھی عطارد کی کمزوری بہت سے دماغی خلل پیدا کرنے کا باعث ہوسکتی ہے،جیسا کہ ماضی میں کہا جاتا ہے کہ وہ پاکستان کے مختار کُل بننے کے خبط میں مبتلا تھے اور یہ خبط کبھی ختم نہیں ہوا اور طویل عرصہ جلاوطنی میں گزارنے کے بعد بھی جب وہ دوبارہ اقتدار میں آئے تو اول تا آخر اختیارات کے زیادہ سے زیادہ حصول کی طرف ہی توجہ رہی جس کی وجہ سے کئی بار سول ملٹری تناؤ پیدا ہوا، ڈان لیکس اسی تناؤ کا شاخسانہ تھا، مقدمے کا فیصلہ خلاف آیا تو ان کی انا اس توہین کو برداشت نہ کرسکی اور وہ عدلیہ کے خلاف ہوگئے۔
برج سنبلہ کا حاکم سیارہ عطارد سیارہ شمس کے آگے پیچھے یعنی آس پاس ہی رہتا ہے اور سال میں کئی بار تحت الشاع اور رجعت کاشکار ہوتا ہے، سال میں ایک بار اپنے ہبوط کے برج میں بھی چلا جاتا ہے اور اس سال خاص طور پر 3 مارچ سے تقریباً 9 مئی تک برج ہبوط میں رہا ، اس دوران میں تحت الشعاع بھی ہوا ، یہ صورت حال برج سنبلہ والوں کو پورا سال پریشان کرتی ہے اور ان کا حال وہی ہوتا ہے ؂ جو جل اٹھتا ہے یہ پہلو تو وہ پہلو بدلتے ہیں۔
عطارد کی یہ پوزیشن انھیں غیر محفوظ بناتی ہے اور خود کو محفوظ بنانے کے لیے یہ دولت جمع کرنا ضروری سمجھتے ہیں، حالاں کہ دولت زندگی کے ہر مسئلے کا حل نہیں ہے مگر یہ شعور صرف اسی صورت میں آتا ہے جب پیدائشی زائچے میں عطارد ہر طرح کی نحوست سے پاک اور طاقت ور ہو جیسا کہ ملالہ یوسف زئی کے زائچے میں ہے،اگر طالع سنبلہ ہو اور عطارد مضبوط ہو تو ایسے افراد کی شخصیت پرکشش ہوتی ہے اور وہ دل کش ہوتے ہیں،اس کے برعکس صورت حال میں فراست کی کمی ہوتی ہے،ان لوگوں کی تجزیاتی فطرت انھیں کامل اور نکتہ چیں بناتی ہے،ان سے کوئی غلطی برداشت نہیں ہوتی،بعض اوقات چڑچڑے اور ادھم مچانے والے ہوتے ہیں،ان تمام باتوں کا انحصار پیدائشی زائچے میں عطارد کی مضبوطی اور تعیناتی پر ہے۔
زائچے میں 15 جولائی 2005 ء سے سیارہ عطارد ہی کا دور اکبر جاری ہے جو 16 جولائی 2022 ء تک جاری رہے گا، اس سے پہلے جولائی 1986 ء سے سیارہ زحل کا دور اکبر جاری رہا جس میں انھوں نے اپنی زندگی میں خاصے اتار چڑھاؤ دیکھے،دو بار وزیراعظم بنے لیکن کبھی مدت پوری نہ کرسکے 1999 ء میں زحل اور مریخ کے دور میں ان کے خلاف فوج نے بغاوت کی اور انھیں سزا سنائی گئی مگر سعودی حکمران درمیان میں آئے اور ایک معاہدے کے تحت وہ سعودیہ چلے گئے۔
عطارد کا دور اکبر بہتر ثابت ہوا، انھیں لندن جانے کی اجازت ملی اور بے نظیر صاحبہ کے ساتھ انھوں نے میثاق جمہوریت پر دستخط کیے پھر وہ پاکستان آئے اور الیکشن میں خاصی نمایاں کامیابی حاصل کی،پنجاب میں حکومت بنانے میں کامیاب رہے،خود نواز شریف صاحب کوئی پوزیشن نہ لے سکے کیوں کہ عطارد کے دور اکبر میں 12 دسمبر 2007 ء سے کیتو کا دور اصغر جاری تھا ، کیتو زائچے کے دوسرے گھر میں ہے اور بارھویں گھر سے سیارہ زحل کی نظر اس پر ہے،زحل چھٹے گھر کا حاکم ہے لہٰذا وہ بعض تنازعات کی وجہ سے اسمبلی کا الیکشن نہ لڑسکے پھر اسی دور میں پنجاب میں گورنر راج بھی نافذ کیا گیا اور دیگر تنازعات بھی عروج پر رہے، دسمبر 2008 ء سے عطارد کے دور اکبر میں زائچے کے سب سے طاقت ور سیارے زہرہ کا دور شروع ہوا جو دوسرے گھر کا حاکم ہے اور تیسرے گھر میں قابض ہے،اس دور میں انھوں نے حکومت کو خاصا ٹف ٹائم دیا اور اپنی پوزیشن کو مضبوط بنانے میں کامیاب رہے،2013 ء کے الیکشن میں قمر کا دور اصغر تھا، وہ خود کو اتنا مضبوط کرچکے تھے کہ الیکشن میں کامیاب ہوکر وزیراعظم بن گئے مگر 2014 ء سے مریخ کا دور اور پھر ساتویں گھر میں قابض راہو کا دور نہایت پریشان کن رہا، راہو کے دور ہی میں پاناما کا تنازعہ سامنے آیا اور اسی دور کے بالکل آخر میں انھیں تاحیات نااہل کردیا گیا ، اب زائچے میں مشتری کا دور اصغر جاری ہے حالاں کہ اب بھی ان کے خلاف نیب عدالت میں مقدمات چل رہے ہیں اور بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ وقت ان کے خلاف چل رہا ہے،اگرچہ دور اکبر اور دور اصغر اتنے خراب نہیں ہیں لیکن زائچے میں سیارگان کے ٹرانزٹ کی پوزیشن خاصی تشویش ناک ہے،چھٹے اختلاف و تنازعات اور فتنہ و فساد کا حاکم سیارہ زحل زائچے کے چوتھے گھر میں حرکت کر رہا ہے اور نہ صرف یہ کہ بارھویں گھر کے حاکم شمس سے قران کر رہا ہے بلکہ مشتری اور زہرہ پر بھی منحوس اثر ڈال رہا ہے،یہ صورت حال قید و بند کے علاوہ جمع پونجی سے بھی ہاتھ دھونے کے مترادف ہے،زحل ابھی رجعت میں ہے،مستقیم ہونے کے بعد دوبارہ ان ہی درجات سے گزرے گا تو مزید پریشانیوں کا باعث ہوگا، دوسری طرف زائچے کا سب سے منحوس سیارہ مریخ تین مئی کو پانچویں گھر میں داخل ہوا، یہاں کیتو پہلے سے موجود ہے، مریخ کے داخلے کے بعد ہی جناب نواز شریف نے ایک ایسا بیان دے دیا جس نے پورے ملک میں ہلچل مچادی ہے،پانچواں گھر شعور سے متعلق ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنے مستقبل کے بارے میں درست اندازے لگالیے ہیں اور اب انھیں شاید کسی بات کا خوف نہیں رہا لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ آنے والے مہینے ان کے لیے بہت مشکل ثابت ہوں گے،پاکستانی سیاست میں وہ تنہا ہوچکے ہیں، ان کی پارٹی بھی انتشار کا شکار ہے،پارٹی کی صدارت بھی جناب شہباز شریف کے پاس ہے لہٰذا آنے والے الیکشن میں ان کا کوئی کردار نظر نہیں آتا، اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ وہ اپنا مزید وقت عدالتوں کے چکر کاٹتے ہوئے گزاریں۔
مسلم لیگ ن

ہمارے نزدیک کسی سیاسی جماعت کی مقبولیت میں بے شک اس کے مرکزی رہنما کا کردار بہت نمایاں ہوتا ہے لیکن جب وہ پارٹی الیکشن میں قدم رکھتی ہے تو پھر دیگر بہت سے عوامل مدنظر رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے اور ان میں سرفہرست پارٹی کا زائچہ بھی ہے،قانونی اور اصولی طور پر اب نواز شریف پارٹی کے سربراہ نہیں رہے ہیں ان کی جگہ شہباز شریف نے لے لی ہے،شہباز شریف کا زائچہ ہم پہلے شائع کرچکے ہیں اور یہ بھی نشان دہی کرچکے ہیں کہ وہ غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک انسان ہیں اور زائچے میں پیریڈز وغیرہ میں بھی موافقت میں ہیں لیکن ٹرانزٹ کی صورت حال کسی طرح بھی بہتر نہیں ہے، البتہ اگر انتخابات میں تاخیر ہوجائے اور وہ اکتوبر کے بعد ہوں تو شہباز شریف کا زائچہ زیادہ بہتر پوزیشن میں ہوگا، بہر حال فی الحال پاکستان مسلم لیگ ن کے زائچے پر نظر ڈالتے ہیں۔

ہمارے نزدیک پاکستان مسلم لیگ ن اس وقت وجود میں آئی جب محمد خان جونیجو صاحب سے نواز شریف صاحب نے علیحدگی اختیار کی اور جنرل حمید گل صاحب نے آئی جے آئی بنوائی،اس جماعت کی تاریخ پیدائش 26 اگست 1988 ء ہے،وقت شام 07:17 pm لاہور۔
طالع دلو زائچے میں طلوع ہے،آٹھویں گھر کا حاکم عطارد طالع اور ساتویں گھر کو متاثر کر رہا ہے،جب کہ چوتھے گھر کا حاکم بارھویں گھر میں موجود ہے،طالع کا حاکم گیارھویں گھر میں اچھی جگہ ہے ، دوسرے گھر میں مریخ جب کہ مشتری تیسرے گھر میں زہرہ پانچویں گھر میں، شمس ساتویں اور اس کے ساتھ کیتو اور عطارد ، راہو پہلے گھر میں ہے،یہ زائچے کی سیاروی پوزیشن ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک طاقت ور زائچہ ہے،مریخ ، مشتری اور شمس کے علاوہ سیارہ زہرہ بھی طاقت ور پوزیشن رکھتاہے، اگرچہ معمولی سا راہو سے متاثرہ ہے ، زائچے کے طاقت ور ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ مسلم لیگ ن اپنے پہلے الیکشن میں اگرچہ وفاق میں حکومت نہیں بناسکی لیکن پنجاب میں حکومت بنانے میں کامیاب رہی، دوسری بار وفاق کے علاوہ پنجاب میں بھی حکمران رہی اور تیسری بار بھی پنجاب میں برسر اقتدار آئی جب کہ وفاق میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی، چوتھی مرتبہ اس نے زیادہ طاقت حاصل کی اور وفاق کے علاوہ پنجاب میں بھی حکمران رہی اور سندھ میں بھی غوث علی شاہ اس کے وزیراعلیٰ تھے ، قصہ مختصر یہ کہ اس نے اپنی حریف پیپلز پارٹی کا بھرپور مقابلہ کیا ، 2008 ء کے الیکشن میں بھی یہی صورت حال رہی کہ وفاق میں پیپلز پارٹی اور پنجاب میں ن لیگ ، دوسری بار 2013 ء میں بھاری اکثریت سے وفاق اور پنجاب کے علاوہ بلوچستان میں بھی ن لیگ کا اثرورسوخ اہم رہا، سینیٹ کے الیکشن سے پہلے تک بلوچستان میں ن لیگ کا ہی وزیراعلیٰ تھا۔
طالع برج دلو ایک انوکھا اور غیر یقینی حالات و واقعات لانے والا برج ہے،اس کا حاکم اگرچہ سیارہ زحل ہے جو استحکام اور پائیداری کے ساتھ اکثر چونکا دینے والے نتائج لاتا ہے،طالع کا حاکم گیارھویں گھرمیں ہے جسے منافع کا گھر کہا جاتا ہے لہٰذا پارٹی میں اکثریتی رجحان کاروباری ہے،کاروباری لوگ پارٹی کو پسند کرتے ہیں ، قمر برج جدی میں بارھویں گھر میں ہے اور اس کی منزل دھنشٹا ہے،کہتے ہیں کہ اس منزل میں پیدائش مالی طور پر خوش بختی لاتی ہے،دولت دھنشٹا نچھتر والوں کے پیچھے بھاگتی ہے، اس نچھتر پر سیارہ مریخ حکمران ہے لہٰذا تنازعات اور لڑائی جھگڑے بھی ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔
مسلم لیگ ن کے قیام سے پہلے سیاست میں محاذ آرائی اور تنازعات کا وہ انداز نہیں تھا جو بعد میں دیکھنے میں آیا، لوگ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے جھگڑے بھولے نہیں ہوں گے،پہلی مرتبہ دولت کا بے پناہ استعمال ن لیگ ہی نے شروع کیا، چھانگا مانگا یعنی ممبران اسمبلی کی خریدوفروخت کے حوالے سے ’’ہارس ٹریڈنگ‘‘ کی اصطلاح بھی اسی دور میں سامنے آئی۔
پارٹی زائچے میں مشتری اور زحل کی ٹرانزٹ پوزیشن اچھی ہے لیکن تیسرے گھر کا حاکم مریخ بارھویں گھر میں کیتو کے ساتھ اکتوبر تک قیام کرے گا، یہ صورت حال غلط حکمت عملی اور طریقہ کار کی طرف لے جاسکتی ہے اور ایسا شاید اس لیے ہورہا ہے کہ پارٹی قائد جناب نواز شریف سے اپنی نا اہلی برداشت نہیں ہورہی اور وہ ’’میں نہیں تو کچھ نہیں‘‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، حالاں کہ شہباز شریف اور چوہدری نثار وغیرہ کی کوشش ہے کہ محاذ آرائی کی سیاست سے گریز کیا جائے،بہر حال مریخ کی پارٹی زائچے میں پوزیشن الیکشن میں غلط حکمت عملی کی نشان دہی کر رہی ہے جس کے نتائج ابھی سے سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔
پارٹی زائچے کے مطابق اگرچہ مشتری کا دور اکبر جاری ہے لیکن 26 جنوری 2016 ء سے زائچے کے سب سے منحوس سیارے عطارد کا دور اصغر شروع ہوا جو 3 مئی 2018 ء تک جاری رہا اور یقیناً اس دور میں پارٹی کو بہت زیادہ نقصانات اٹھانا پڑے،اقتدار میں رہتے ہوئے بھی پارٹی کی مقبولیت کا گراف نیچے آیا ، پارٹی کے وزیراعظم نااہل ہوئے وغیرہ وغیرہ۔
اب کیتو کا جاری ہے جو اپریل 2019 ء تک رہے گا، کیتو زائچے میں اچھی جگہ ہے یعنی ساتویں گھر میں ہے جو شراکت اور تعلقات سے متعلق ہے،اگر پارٹی صدر جناب شہباز شریف اس نکتے پر توجہ دیتے ہوئے حکمت عملی اختیار کریں تو زیادہ بہتر نتائج حاصل کرسکتے ہیں لیکن وقت تیزی کے ساتھ ان کے ہاتھ سے نکلتا جارہا ہے اور صورت حال نواز شریف صاحب روز بروز بگاڑنے پر تلے ہوئے ہیں، حد یہ کہ اب وہ ریاست کے خلاف بھی جانے کے لیے تیار نظر آرہے ہیں ، کیا شہباز شریف اتنی جرأت کرسکیں گے کہ اپنے بڑے بھائی اور ان کے ہم نواؤں کو بیک جنبش قلم پارٹی سے علیحدہ کردیں، جیسا کہ ماضی میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی والدہ کو علیحدہ کردیا تھا؟

نہ جانے کون سے ترکش کے تیر کب چل جائیں

آگ برساتے جون میں سیاروی گردش کی رفتار میں اضافہ ایک اہم مہینہ
قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی مدت پوری ہورہی ہے لیکن تادم تحریر عبوری وزیراعظم یا وزرائے اعلیٰ کا انتخاب نہیں ہوسکا ہے،تجزیہ کار کہہ رہے ہیں کہ ہمارے سیاست داں کسی مسئلے پر بھی اتفاق رائے نہیں کرپاتے،وقت گزرتا رہتا ہے اور مسئلہ جوں کا توں رہتا ہے،باہم ملاقاتیں جاری رہتی ہیں مگر نتیجہ کچھ نہیں نکلتا، اصولی طور پر تو اٹھارویں آئینی ترمیم میں یہ اصول ہی درست نہیں ہے کہ انتہائی اہم تقرریاں اپوزیشن لیڈر اور قائدایوان پر چھوڑ دی جائیں کیوں کہ اس طرح دونوں اپنی اپنی پارٹیوں کے مفاد کے مطابق فیصلے کریں گے اور اپنی مرضی کا بندہ لانے کی کوشش کریں گے، ہونا یہ چاہیے کہ اس قسم کی تعیناتی چیف الیکشن کمشنر یا سپریم کورٹ کے اختیا رمیں ہو، اس کے بغیر یہ ممکن ہی نہیں کہ غیر جانب دار قسم کی تقرری ہوسکے، یہ خرابی نیب اور الیکشن کمیشن کے سربراہوں کی تقرری میں بھی مسائل پیدا کرتی ہے لہٰذا آئندہ آئینی ترمیم کے ذریعے اسے درست کرنے کی ضرورت ہے،گزشتہ 2013 ء کے انتخابات سے قبل بھی اپوزیشن لیڈر اور قائد ایوان کے درمیان فیصلہ نہیں ہوسکا تھا اور بالآخر الیکشن کمیشن کو فیصلہ کرنا پڑا تھا۔
ہم مسلسل یہ نشان دہی کر رہے ہیں کہ زائچہ ء پاکستان کے مطابق گردش سیارگان نہایت حساس نوعیت کے معاملات کو نمایاں کر رہی ہے،پاکستان کے دسویں گھر کا حاکم سیارہ گزشتہ سال اکتوبر سے آئندہ ڈھائی سال کے لیے ایک خراب پوزیشن میں چلا گیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان مسلسل اپنا وقار کھورہا ہے،بین الاقوامی سطح پر اسے مسلسل ناکامی کا سامنا ہے،معاشی طور پر بھی ملک کی حالت اطمینان بخش نہیں ہے،موجودہ حکومت اپنے کارناموں کا جو ڈھول پیٹ رہی ہے،وہ محض ایک ڈھکوسلہ ہے، اہل نظر سے کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے ، اس اعتبار سے 31 مئی کو اگر یوم نجات کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔
خوف یہ ہے کہ ہماری سیاسی اشرافیہ صورت حال کو اپنے ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر ہر وہ فیصلہ یا اقدام کرسکتی ہے جو اس کے اپنے مفاد میں ہو، ملک و قوم کا مفاد یہاں کسی کو عزیز نہیں ہے،اس حوالے سے اگر روک ٹوک کی کوشش کی جائے تو فوج یا عدلیہ کو بے جا مداخلت کا الزام دیا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ آسمانی کونسل کے فیصلے اپنا کام جاری رکھتے ہیں، کون کیا کہتا ہے اور کس معاملے کی کیا توجیہ پیش کرتا ہے اس سے آسمانی کونسل کو کوئی فرق نہیں پڑتا،جون کا پہلا ہفتہ خاصا دھماکہ خیز نظر آتا ہے کیوں کہ اسی ہفتے میں سیارہ مریخ اور کیتو کے درمیان پہلا قران ہوگا اور سیارہ زہرہ دوسرے اور آٹھویں گھر سے اہم نظر بنائے گا ، سیارہ مریخ بھی اہم نظرات بنارہا ہے،یہ تمام سیاروی گردش ایک غیر معمولی تبدیلی کی نشان دہی کر رہی ہے جس میں زیادہ فعال کردار بلاشبہ اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کا ہوگا اور یہی بات ہماری سیاسی اشرافیہ کے لیے ناپسندیدہ ہوگی لہٰذا نئی ہا ہا کار اور چیخ و پکار سننے کے لیے تیار رہیں۔
سیاسی اشرافیہ کے بعض حلقے نہیں چاہتے کہ انتخابات وقت پر ہوں کیوں کہ وہ نتائج سے خوف زدہ ہیں اور وقت سے پہلے ہی جواز اور بہانے گھڑ رہے ہیں لہٰذا اس امکان کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ آنے والے انتخابات وقت مقررہ سے آگے بڑھ جائیں اور کتنا آگے بڑھ جائیں؟ اس کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے، بہر حال یہ طے ہے کہ آنے والے وقت میں جو کچھ بھی ہوگا وہ پاکستان کی بہتری کے لیے ہوگا کیوں کہ بزنس مینوں اور پیدا گیروں کا کاروبار ٹھنڈا ہوچکا ہوگا، ملکی مفادات اور قومی ضروریات کے مطابق اہم فیصلے اور اقدام سامنے آئیں گے اور وہ ضروری نہیں ہے کہ سیاسی اشرافیہ کی مرضی کے مطابق ہوں، جون سے ستمبر تک وقت کی رفتار بہت تیز ہوجائے گی،جیسا کہ گزشتہ سال بھی دیکھنے میں آیا تھا ؂
نہ جانے کون سے ترکش کے تیر کب چل جائیں
نشانِ مہر کمان سپر میں رکھا جائے
جون میں گردش سیارگان
یونانی علم نجوم کے مطابق حکمرانی اور اقتدار کا سیارہ شمس برج جوزا میں حرکت کر رہا ہے،21 جون کو آبی برج سرطان میں داخل ہوگا، اس برج میں شمس کو اوج کی قوت حاصل ہوتی ہے،پیغام رساں عطارد بھی برج جوزا میں حرکت کر رہا ہے،25 مئی سے غروب حالت میں ہے،13 جون کو برج سرطان میں داخل ہوگا اور 29 جون کو برج اسد میں ہوگا، سیارہ عطارد تقریباً پورا سال ہی مختلف اوقات میں اچھی اور بری حالت میں رہتا ہے،اسی وجہ سے برج سنبلہ سے متعلق افراد سال بھر عدم تحفظ کا شکار رہتے ہیں، ان کے کام بنتے بگڑتے رہتے ہیں، واضح رہے کہ سیارہ عطارد کا دوسرا برج جوزا ہے لیکن جوزا والے زیادہ متاثر نہیں ہوتے۔
توازن اور ہم آہنگی کا سیارہ زہرہ برج سرطان میں حرکت کر رہا ہے،14 جون کو برج اسد میں داخل ہوگا اور پورا مہینہ اسی برج میں گزارے گا، سیارہ مریخ برج دلو میں حرکت کر رہا ہے،27 جون کو اسے رجعت ہوگی اور یہ اپنی الٹی چال پر واپس برج جدی کی طرف سفر شروع کرے گا۔
سیارہ مشتری بحالتِ رجعت برج عقرب میں حرکت کر رہا ہے،سیارہ زحل بھی رجعت میں ہے اور برج جدی میں حرکت کر رہا ہے،سیارہ یورینس برج ثور میں اور نیپچون برج حوت میں جب کہ پلوٹو برج جدی میں حرکت کریں گے، نیپچون 19 جون کو رجعت میں چلا جائے گا جب کہ پلوٹو پہلے ہی رجعت میں ہے،راس و ذنب بالترتیب برج اسد اور دلو میں حرکت کر رہے ہیں۔
نظرات و اثراتِ سیارگان
سیارگان کے درمیان تشکیل پانے والے سعد و نحس زاویے جون کے مہینے میں نہایت مؤثر کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں،یکم جون سے نئی عبوری حکومت اقتدار سنبھالے گی لیکن پاکستان کے زائچے میں اس ماہ نہایت غیر معمولی سیاروی زاویے اپنا رنگ دکھا رہے ہیں جس کے نتیجے میں جون سے غیر معمولی حالات و واقعات کی ابتدا ہوسکتی ہے۔
جون کے مہینے میں تثلیث کے پانچ زاویے اور تسدیس کے دو، تربیع کے پانچ اور مقابلے کے چار زاویے قائم ہوں گے جب کہ قران کا ایک زاویہ ہوگا، آئیے تفصیل کے ساتھ ان زاویوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔
یکم جون: عطارد اور مریخ کے درمیان تثلیث کا زاویہ قائم ہوگا اور اسی روز زہرہ و مشتری کے درمیان بھی تثلیث کی نظر ہوگی، یہ دونوں زاویے سعد ہیں لیکن زائچہ ء پاکستان کے مطابق چوں کہ زہرہ چھٹے گھر کا حاکم ہے اور مشتری آٹھویں گھر کا جب کہ مریخ بارھویں گھر کا اور عطارد کا تعلق پانچویں گھر سے ہے،ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نئے مہینے کا آغاز سیاسی صورت حال کو یک دم تبدیل کردے گا، پاکستان میں بیوروکریسی اور فوج کا کردار نمایاں ہوکر سامنے آئے گا۔
عام افراد کے لیے یہ دونوں زاویے سعد اثر رکھتے ہیں خصوصاً کاروباری معاملات میں بہتری لانے کے لیے، ٹرانسپورٹ یا مشینری سے متعلق خریدوفروخت، ٹیکنیکل نوعیت کے کاموں کی انجام دہی، مالیاتی منصوبے یا کوئی نئی انویسٹمنٹ وغیرہ اس وقت بہتر رہے گی،کاروباری تعلقات میں بہتری لانے کے لیے کوششیں کامیاب ہوں گی۔
2 جون: زہرہ و نیپچون کے درمیان تثلیث کا زاویہ زبردست تخلیقی انرجی جنریٹ کرے گا، اس وقت میں تخلیقی نوعیت کی سرگرمیاں فائدہ بخش ثابت ہوں گی،محبت ، منگنی اور نکاح وغیرہ کے لیے بھی سعد وقت ہوگا۔
6 جون: شمس اور عطارد کے درمیان قران کا زاویہ ، زہرہ اور پلوٹو کے درمیان مقابلے کی نظر جب کہ عطارد اور نیپچون کے درمیان تربیع کا زاویہ ہوگا، یہ انتہائی نحس وقت کی نشانی ہے،ملک میں بڑے پیمانے پر انتظامی تبدیلیاں دیکھنے میں آسکتی ہیں،چونکا دینے والے واقعات اور انکشافات سامنے آسکتے ہیں،عام افراد کو اس دوران میں سفر میں التوا یا دشواری کا سامنا ہوسکتا ہے،ازدواجی زندگی میں تناؤ اور کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے،دھوکے اور فراڈ وغیرہ سے محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی،اپنے قیمتی سامان اور دستاویزات کی حفاظت پر توجہ دیں۔
7 جون: شمس اور نیپچون کے درمیان تربیع کی نظر نحس اثر رکھتی ہے،حکومت کی کوئی غلطی مسائل پیدا کرے گی،اعلیٰ عہدوں اور فائز افراد یا صاحب حیثیت لوگ رسوائی اور بدنامی کا شکار ہوسکتے ہیں،عام افراد کو اس دوران میں گورنمنٹ سے متعلق کاموں میں محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی خصوصاً مقدمات میں مخالف فیصلے آسکتے ہیں۔
13 جون: عطارد اور یورینس کے درمیان تسدیس کا سعد زاویہ خوش کن باتیں اور خبریں سامنے لاسکتا ہے،نئے مواقع نکلیں گے،سفر سے متعلق رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد ملے گی،اس دوران میں ایسی خبریں بھی آسکتی ہیں جو لوگوں کو حیران کریں اور بہت کچھ سوچنے پر مجبور کریں۔
15 جون: زہرہ اور یورینس کے درمیان تربیع کا زاویہ نحس اثر رکھتا ہے،اس وقت خواتین سے متعلق اسکینڈل سامنے آسکتے ہیں،محبت ، دوستی وغیرہ کے معاملات میں عدم توازن کے سبب ناخوش گوار صورت حال پیدا ہوسکتی ہے۔
16جون: عطارد اور زحل کے درمیان مقابلے کی نحس نظر قائم ہوگی، یہ وقت ٹرانسپورٹ سے متعلق حادثات لاتا ہے،پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اور دیگر زمین سے حاصل ہونے والی اشیا کے حصول میں دشواری ہوسکتی ہے،اس وقت پراپرٹی سے متعلق نئے معاہدے نہ کیے جائیں، تحریری دستاویزات پر دستخط کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچ سمجھ لیں۔
20 جون: عطارد اور مشتری کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ قانونی معاملات میں مددگار ثابت ہوگا، ضروری معلومات کا حصول آسان ہوگا، تعلیمی نوعیت کی سرگرمیوں میں مدد ملے گی،سفر کے لیے بہتر وقت ہوگا۔
21 جون: زہرہ اور نیپچون کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ لیکن زہرہ اور مریخ کے درمیان مقابلے کی نظر ملے جلے اثرات ظاہر کرتی ہے،یہ وقت شدت پسندانہ رجحانات اور جذباتی صورت حال سامنے لاتا ہے،خصوصاً عورت و مرد کے درمیان ، بہتر ہوگا کہ اس وقت جذباتی ہوکر یا کسی منفی سوچ کا شکار ہوکر فیصلے اور اقدام نہ کیے جائیں، پاکستان کے زائچے کے مطابق یہ نظر آئینی اور قانونی معاملات عدلیہ اور بیوروکریسی سے متعلق امور میں نئے تنازعات کا باعث ہوسکتی ہے۔
23 جون: شمس اور یورینس کے درمیان تسدیس کا سعد زاویہ غیر متوقع طور پر نئے راستے کھولے گا، بعض کام جن کے ہونے کی امید نہ رہی ہو، ہوسکتے ہیں، پاکستان کے لیے یہ زاویہ مددگار ثابت ہوگا، ملک بہتری کے کسی نئے راستے پر گامزن ہوگا۔
25 جون: زہرہ و مشتری کے درمیان تربیع کا زاویہ نحس اثر رکھتا ہے،اس دوران میں عام لوگ مالی معاملات میں محتاط رہیں،نئی انویسٹمنٹ سے گریز کریں،کاروباری تعلقات میں بھی کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے،زائچہ ء پاکستان کے مطابق یہ وقت نئے فیصلوں اور اقدام کے امکانات ظاہر کرتا ہے۔
27 جون: شمس اور زحل کے درمیان مقابلے کی نحس نظر قائم ہوگی، شمس و زحل کا مقابلہ نہایت منحوس تصور کیا جاتا ہے،یہ حکومت یا مملکت کے لیے بھی اچھا نہیں ہوتا، خاص طور پر صاحب حیثیت افراد اور اعلیٰ عہدوں اور مرتبوں پر فائز لوگ مقابلے کی اس نظر سے متاثر ہوتے ہیں اور نقصان اٹھاتے ہیں لیکن زائچہ ء پاکستان کے مطابق یہ نظر نحس اثرات نہیں رکھتی بلکہ انتظامی نوعیت کے معاملات کو سنبھالنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
30 جون: عطارد اور یورینس کے درمیان تربیع کا زاویہ نحس اثر رکھتا ہے،غیر متوقع حادثات و سانحات کا اندیشہ ہوتا ہے،اس وقت کوئی تبدیلی لانا مناسب نہیں ہوتا، دوسرے آپ پر کسی تبدیلی کے لیے دباؤ ڈال سکتے ہیں، بہتر ہوگا کہ اپنے مؤقف پر سختی سے قائم رہیں اور اس وقت کو گزر جانے دیں، ملکی سطح پر یہ وقت منفی خبریں اور افواہیں یا انکشافات لاسکتا ہے۔
شرف قمر
پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق شرف قمر کا آغاز 10 جون 12:33 pm سے ہوگا اور اختتام 02:17 pm پر ہوگا جب کہ جی ایم ٹی ٹائم کے مطابق 07:33 am پر قمر درجہ ء شرف پر پہنچے گا اور 09:13 am تک شرف یافتہ رہے گا،یہ سعد اور مؤثر وقت ہے،اس وقت اپنے جائز مقاصد کے لیے ورد و وظائف زود اثر ہوتے ہیں،ماہ رمضان کے مقدس مہینے میں شرف قمر کی تاثیر بڑھ جائے گی،روزے دار اور عبادت گزار لوگ روحانی طور پر اس ماہ میں زیادہ طاقت ور ہوتے ہیں، اسمائے الٰہی یا رحمن یا رحیم 556 مرتبہ اول آخر درود شریف کے ساتھ پڑھ کر اپنے کسی بھی جائز کام کے لیے دعا کریں، ان شاء اللہ مقصد پورا ہوگا۔
قمر در عقرب
پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق ہبوط قمر کے وقت کا آغاز 23 جون 03:55 am سے ہوگا اور 05:47 am تک رہے گا جب کہ جی ایم ٹی ٹائم کے مطابق 22 جون 10:55 pm سے ہوگا اور اختتام 23 جون کی درمیانی شب 12:47 am پر ہوگا، یہ انتہائی نحس وقت تصور کیا جاتا ہے،اس وقت بیماریوں اور بری عادتوں سے نجات کے لیے عمل و وظیفے کیے جاتے ہیں لیکن کسی طور بھی کوئی ایسا کام نہ کیا جائے جس کا آپ حق نہ رکھتے ہوں، اس وقت کے لیے میاں بیوی کے درمیان محبت ، اتفاق و اتحاد کے لیے ایک وظیفہ دیا جارہا ہے۔
میاں بیوی میں محبت کے لیے عمل خاص
زن و شوہر میں اختلافات، مزاجی ناہمواری، باہمی لڑائی جھگڑا، محبت کی کمی وغیرہ کے لیے یہ ایک مجرب طریقہ ہے اور صرف شادی شدہ خواتین و حضرات ہی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ نہایت آسان بھی ہے۔ قمر در عقرب کے درمیانی وقت میں ایک سفید کاغذ پر کالی یا نیلی روشنائی سے پوری بسم اﷲ لکھ کر سورہ الم نشرح پوری لکھیں پھر یہ آیت لکھیں۔
والقیت علیک محبۃ فلاں بن فلاں (یہاں مطلوب کا نام مع والدہ لکھیں) علیٰ محبۃ فلاں بنت فلاں (یہاں طالب کا نام مع والدہ لکھیں) کما الفت بین آدم و حوا و بین یوسف و زلیخا و بین موسیٰ و صفورا و بین محمدؐ و خدیجۃ الکبریٰ و اصلح بین ھما اصلاحاً فیہ ابداً، العجل العجل العجل الساعۃ الساعۃ الساعۃ
قمر در عقرب کے وقت باوضو قبلہ رُخ بیٹھ کر دو نقش لکھیں اور ایک اپنے تکیے میں رکھ دیں جب کہ دوسرا شوہر کے تکیے میں، اگر تکیے میں رکھنا ممکن نہ ہو تو سرہانے گدّے وغیرہ کے نیچے رکھ دیں، بعد ازاں حسب توفیق صدقہ و خیرات کریں۔


ہفتہ، 19 مئی، 2018

سیاست داں اور سیاسی پارٹیاں،علم نجوم کی روشنی میں

خوبیاں، خامیاں، انتخابات میں کامیابی یا ناکامی کے امکان کا جائزہ
مشہور اور غیر معمولی افراد کے زائچے عموماً اس لیے پیش کیے جاتے ہیں کہ ہم ان کے بارے میں جان سکیں، ان کی خوبیوں اور خامیوں سے باخبر ہوسکیں حالاں کہ ہمارے ملک میں اہل سیاست، کھلاڑی اور فلم و ٹی وی سے متعلق افراد کی درست تاریخ پیدائش کا حصول خاصا مشکل کام ہے،اس کے بعد پیدائش کے درست وقت تک رسائی اس سے بھی زیادہ مشکل ثابت ہوتی ہے،پاکستان میں ہم نے اس کام کی ابتدا کی کہ باقاعدہ طور پر تحقیق و جستجو سے ایسا زائچہ سامنے لایا جائے جو قریب ترین نتائج کی نشان دہی کرسکے، اس حوالے سے اب تک خاصی بڑی تعداد میں اہم افراد کے زائچے ہم پیش کرچکے ہیں مگر پھر بھی شک و شبہے کی گنجائش باقی رہتی ہے کیوں کہ بعض اوقات تاریخ پیدائش میں اتنا زیادہ فرق ہوتا ہے جو صورت حال کو بہت زیادہ الجھا دیتا ہے مثلاً عمران خان کی عام طور پر دستیاب تاریخ پیدائش 25 نومبر 1952 ہے لیکن خود عمران خان کا کہنا یہ ہے کہ ان کی تاریخ پیدائش 5 اکتوبر ہے، ماضی میں بہت پہلے ہم نے اسی تاریخ کے مطابق زائچہ بنایا تھا لیکن جب 5 اکتوبر کے بارے میں معلوم ہوا تو ایک صحافی کے ذریعے عمران خان سے رابطہ کیا گیا اور انھوں نے تصدیق کی کہ وہ 5 اکتوبر کو پیدا ہوئے اور پیدائش کا ٹائم صبح 9,10 بجے کے درمیان ہے لہٰذا دوبارہ ان کا زائچہ اسی تاریخ کے مطابق بنایا گیا ، قصہ مختصر یہ کہ ہمارے ملک کی مشہور شخصیات کے زائچے اکثر متنازع ہوجاتے ہیں، نواز شریف صاحب کی تاریخ پیدائش 25 دسمبر 1949 ء دستیاب ہے لیکن ہم اس سے متفق نہیں ہیں ہمارا خیال ہے کہ ان کا سال پیدائش 1948 ء ہے،جناب آصف علی زرداری 26 جولائی کو اپنی سالگرہ مناتے ہیں لیکن سال پیدائش مختلف ذرائع سے مختلف ہی دستیاب ہوتا ہے،ہم ان کا زائچہ بہت پہلے بناچکے ہیں لیکن اس سے مطمئن ہر گز نہیں تھے،ایک طویل عرصے کے غوروفکر کے بعد ہمارے خیال میں ان کی تاریخ پیدائش 26 جولائی 1954 ء ہے۔
گزشتہ دنوں ملالہ یوسف زئی کا زائچہ پیش کیا گیا تھا، ان کی تاریخ پیدائش میں کوئی اختلاف نہیں تھا، البتہ وقت پیدائش اندازے کے مطابق مقرر کیا گیا لیکن زائچہ درست وقت کے مطابق نہ بنایا جاسکا، اس کی اصلاح ضروری ہے،ہمارے نزدیک ان کا درست وقت پیدائش 11:55 am ہے، اس طرح طالع کے درجات 19 درجہ 50 دقیقہ ہوں گے۔
2013 ء میں بھی اہم سیاست دانوں کے زائچے اور سیاسی پارٹیوں کے زائچے کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا، اب الیکشن کی گرما گرمی شروع ہوگئی ہے،یہ ایک الگ بحث ہے کہ الیکشن ہوں گے یا کسی تاخیر کا شکار ہوں گے کیوں کہ زائچہ پاکستان میں اس سال مئی سے اکتوبر تک سیارہ مریخ اور کیتو کے تین قرانات ، سیارہ مشتری کی چھٹے گھر میں پوزیشن اور دسویں گھر کے حاکم سیارہ زحل کی آٹھویں گھر میں پوزیشن الیکشن کے انعقاد کو مشکوک بنارہی ہے لیکن اس ساری صورت حال کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے اور وہ یہ کہ زائچے کا نواں گھر بہت زیادہ ایکٹیو ہورہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس سال ابتدا ہی سے عدلیہ اور الیکشن کمیشن بھی کچھ زیادہ ہی فعال ہیں، عدلیہ کی فعالیت نے تو سیاسی اشرافیہ کی چیخیں نکلوادی ہیں،ساتھ ہی بیوروکریسی زد میں ہے،کڑے احتساب کا مطالبہ عروج پر ہے،اس کے بعد ہی الیکشن کا تقاضا بھی ہورہا ہے لیکن چیف جسٹس آف پاکستان اور آرمی چیف کی پوری کوشش یہی ہے کہ الیکشن بروقت منعقد ہوں، اب یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ فلکیاتی منظر نامے میں انسانی کوششیں کس حد تک بارآور ہوتی ہیں۔
ایک بات بہر حال پورے اعتماد کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ نویں گھر کی فعالیت اور آٹھویں گھر کے حاکم مشتری کی چھٹے گھر میں قیام و حرکت احتسابی عمل کو کسی منطقی انجام تک ضرور لے جائے گی اور چوں کہ دسویں گھر کا حاکم آٹھویں گھر میں مصیبت زدہ ہے لہٰذا اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے والے افراد خصوصاً ہدف بنیں گے، الیکشن ہوں یا نہ ہوں، احتسابی عمل رکتا نظر نہیں آتا اور شاید یہ بات ہماری اشرافیہ کی سمجھ میں بھی آچکی ہے،اسی لیے آئین میں ترامیم کے منصوبے زیر غور ہیں، نواز شریف صاحب تو صاف لفظوں میں اپنے آئندہ عزائم کا اظہار کرچکے ہیں، ان کے عزائم اپنی جگہ لیکن آسمانی کونسل کے فیصلے اپنی جگہ، اس بار آئینی تبدیلیاں تو ضرور ہوں گی لیکن اس انداز میں نہیں ہوں گی جیسا کہ نواز شریف صاحب سوچ رہے ہیں، ایک بالکل ہی نیا منظر نامہ سامنے آئے گا جو بہت سے لوگوں کو حیران کرسکتا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی

سیاسی جماعتوں اور ان سے متعلقہ اہم افراد کے زائچوں کی ابتدا ہم پاکستان کی ماضی کی سب سے بڑی پارٹی کے زائچے سے کر رہے ہیں، ہماری نظر میں پیپلز پارٹی کا پہلا زائچہ تو وہی ہے جو پارٹی کے قیام کی تاریخ کے مطابق ہے یعنی 30 نومبر 1967 ء بقام لاہور لیکن موجودہ پارٹی کا زائچہ ہم 30 دسمبر 2007 ء لاڑکانہ شب 8 بجے کے مطابق درست سمجھتے ہیں، اس زائچے کو پیپلز پارٹی کے 2008 ء میں اقتدار میں آنے کے بعد آزمایا گیا تو نتائج درست رہے، زائچے میں برج سرطان 15 درجہ 17 دقیقہ طلوع ہے،2013 ء میں جو زائچہ پیش کیا گیا تھا ، اس میں وقت مختلف رکھا گیا تھا لیکن زائچے کی آزمائش نے ثابت کیا کہ درست وقت شب آٹھ بجے زیادہ مناسب ہے۔

پہلے گھر یعنی طالع کا حاکم سیارہ قمر دوسرے گھر میں قابض ہے اور کمزور ہے جب کہ دوسرے گھر کا حاکم شمس چھٹے گھر میں کمزور ہے،اسی طرح تیسرے گھر کا حاکم سیارہ عطارد بھی چھٹے گھر میں کمزور پوزیشن رکھتا ہے، چوتھے گھر کا حاکم سیارہ زہرہ بھی کمزور ہے کیوں کہ زائچے کے سب سے منحوس سیارہ زحل کی نظر برج میزان پر ہے لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ محترمہ شہید کی شہادت سے جو کامیابی 2008 ء کے الیکشن میں حاصل ہوئی تھی، پارٹی اس کے بھرپور فوائد حاصل کرنے میں ناکام رہی اور مستقل رو بہ زوال ہے، 5 سالہ دور اقتدار ذاتی مفادات کے تحفظ میں گزر گیا، عوامی بھلائی اور ملکی ترقی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیے گئے،زائچے میں 18 نومبر 2010 ء سے قمر کے دور اکبر میں راہو کا دور اصغر شروع ہوا تو مصائب اور مسائل کا دروازہ کھل گیا، پہلے این آر او کا کیس گلے پڑا، پھر 2011 ء میں ایبٹ آباد کا سانحہ پیش آیا اور میموگیٹ اسکینڈل نے پریشان کیا، 19 مئی 2012 ء سے چھٹے گھر کے حاکم مشتری کا دور اصغر شروع ہوا تو پیپلز پارٹی کو اپنے وزیراعظم سے ہاتھ دھونا پڑے اور اسی پیریڈ میں وہ 2013 ء کے انتخاب میں گئی اور ناکام ہوئی،البتہ سندھ میں حکومت بنانے میں کامیاب رہی،مشتری کے دور میں پارٹی میں اختلافات بھی بڑھے اور پھر زحل کا دور اصغر شروع ہوا جو 19 اپریل 2015 ء تک جاری رہا، یہ تمام دور پارٹی کو مستقل طور پر زوال کا شکار بنانے میں نمایاں رہے،بعد ازاں اپریل 2015 ء سے عطارد کا دور اصغر شروع ہوا جو فعلی منحوس نہیں ہے لیکن کمزور ہے اور چھٹے گھر میں قابض ہے لہٰذا زرداری صاحب کی بے پناہ کوششوں کے باوجود پنجاب میں پارٹی پوزیشن اطمینان بخش نہیں ہوسکی۔
19 اپریل 2017 ء سے قمر کے دور اکبر میں زہرہ کا دور اصغر جاری ہے،اگرچہ دونوں کمزور سیارے ہیں لیکن زائچے میں اچھی پوزیشن کے حامل ہیں لہٰذا 2017 ء میں زرداری صاحب کے ساتھ بلاول بھٹو نے بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور سخت محنت سے صورت حال کو تبدیل کرنے کی کوشش کی،اسی دور میں جو 18 دسمبر 2018 ء تک جاری ہے ، پیپلز پارٹی بلوچستان میں اپنی مرضی کی تبدیلی لانے میں کامیاب رہی اور سینیٹ کے الیکشن میں بھی ن لیگ کی اکثریت کو شکست دینے کا موقع ملا، جناب آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی کی جدوجہد جاری ہے،حال ہی میں بلاول بھٹو نے فیڈرل بی ایریا میں جلسہ کرکے ایک پرانی روایت کو تازہ کیا لیکن کیا اس سال اگر الیکشن ہوئے تو پیپلز پارٹی وفاق میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوسکے گی؟اس سوال کا جواب نفی میں ہے لیکن چوں کہ دسویں گھر کا حاکم سیارہ مریخ زائچے کے ساتویں گھر میں شرف یافتہ پوزیشن میں ایک طویل عرصہ قیام کرے گا اور الیکشن اکتوبر سے آگے نہ گئے تو یہ امید کی جاسکتی ہے کہ پیپلز پارٹی 2013 ء کے مقابلے میں اپنی پوزیشن کو بہتر بنانے میں کامیاب رہے گی،مفاہمت اور جوڑ توڑ کے ماہر جناب آصف علی زرداری ایسے داؤ پیچ دکھا سکتے ہیں، جن کی وجہ سے انھیں اقتدار میں شمولیت کا موقع مل سکے، اگر الیکشن نومبر دسمبر میں ہوئے تو پیپلز پارٹی کو سندھ میں بھی حکومت بنانا مشکل ہوجائے گا۔
بلاول بھٹو زرداری

پارٹی کے زائچے کی صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد ایک نظر پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے زائچے پر ڈالنا بھی ضروری ہے،ان کی تاریخ پیدائش 21 ستمبر 1988 ء کراچی ہے اور پیدائش کا ٹائم تقریباً 11:18 am ہے،اس طرح ان کا برتھ سائن برج عقرب 10 درجہ سامنے آتا ہے،طالع کا حاکم سیارہ مریخ پانچویں گھر میں ہے،دوسرے گھر کا حاکم سیارہ مشتری ساتویں گھر میں نہایت طاقت ور پوزیشن رکھتا ہے اور پہلے ، تیسرے ، ساتویں اور گیارھویں گھر سے ناظر ہے،مشتری کی نظر سعادت ان کے زائچے کا سب سے اہم پوائنٹ ہے،اسی وجہ سے ان کی شخصیت اور قدوقامت بھی نمایاں نظر آتے ہیں، دوسرے گھر میں سیارہ زحل قابض ہے جو نوامسا چارٹ میں ہبوط یافتہ ہے،قمر زائچے کے تیسرے گھر میں ہے اور کمزور ہے جب کہ راہو چوتھے گھر میں اور زہرہ نویں گھر میں ، کیتو دسویں گھر میں، شمس کمزور گیارھویں گھر میں اور گیارھویں گھر کا حاکم عطارد بھی کمزور اور بارھویں گھر میں ہے۔
زائچے کی واحد خصوصیت دوسرے اسٹیٹس ، آمدن اور فیملی کے سیارے مشتری کی مضبوط پوزیشن ہے،گویا ہوش سنبھالتے ہی جب ان کی عمر انیس بیس سال تھی وہ پارٹی کے چیئرمین تسلیم کرلیے گئے، طالع برج عقرب آبی برج ہے،یہ لوگ حساس اور جذباتی ہوتے ہیں، عام طور پر پختہ عزم کے مالک، ضدی ، کچھ پیچیدہ شخصیت و کردار ، ایسے کام انجام دینے کی صلاحیت جسے کوئی اور انجام نہ دے سکے، دوسروں کو متاثر کرنے والے، سرگرم اور محنتی ، کم آمیز، پرجوش، عاشق، وفادار ہوتے ہیں۔
ان کی منفی خصوصیات میں توجہ طلبی ، حق ملکیت جتانے والے، حاسد، معاف نہ کرنے والے، آگ بگولہ ہوجانے والے،دشمنیاں پالنے والے، شکی مزاج،برج عقرب کا نشان بچھو ہے لہٰذا کہا جاتا ہے کہ ڈنک مارنا بچھو کی فطرت ہے۔
ہمارے نزدیک قمری برج انسان کی فطرت پر زیادہ بہتر روشنی ڈالتا ہے،بلاول بھٹو کا قمر برج جدی میں ہے،برج جدی کو نظم و ضبط کا برج کہا جاتا ہے،یہ لوگ اصول و قواعد کی پابندی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی مجبور کرتے ہیں کہ وہ اصول و قواعد کی خلاف ورزی نہ کریں، ایک مزاحمتی رویہ قمر در جدی میں پیدا ہونے والوں کی فطرت کا حصہ ہے،شاید یہی وجہ ہو کہ وہ اکثر اپنے والد سے بھی اختلاف کرتے رہے ہیں، سنا ہے کہ کئی بار ناراض ہوکر ملک سے باہر چلے گئے، سیاسی معاملات میں انھوں نے اپنی بعض باتیں منوائیں، یقین رکھنا چاہیے کہ جب بھی پیپلز پارٹی جناب زرداری کے اثر سے آزاد ہوگی اور بلاول بھٹو کو آزادانہ طور پر پارٹی چلانے کا موقع ملے گا تو پارٹی کی تنظیم نو بہتر انداز میں ہوسکے گی،وہ اپنے ارد گرد ایسے لوگوں کو برداشت نہیں کریں گے جن کے کردار اور قول و فعل مشکوک ہوں گے۔
قمری برج کے حوالے سے دوسری اہم ترین چیز قمری منزل ہے، ان کی پیدائش چاند کی منزل اُتر شدھ میں ہوئی ہے جس کا حاکم سیارہ شمس ہے،اُتر شدھ ’’عالمی ستارہ‘‘ کہلاتا ہے،اس کا تعلق گہری انسانیت اور تمام نسلوں کے لیے منصف مزاجی سے ہے،مشہور امریکی صدر ابراہام لنکن کا پیدائشی قمر اسی منزل میں تھا ، اس کی فطرت انسانی ہے ،زبردست بسیرت اور زیادہ مستحکم پوزیشن کے ساتھ ایک جارحانہ فطرت جنم لیتی ہے،یہ لوگ کسی بھی کام میں انتہائی انہماک کا مظاہرہ کرتے ہیں، قیادت کی خوبیاں اور لوگوں سے رابطہ کرنے کی اہلیت انھیں اچھا سیاست داں بناتی ہے،یہ جو بھی کام کرتے ہیں اس میں استقامت کا اظہار کرتے ہیں، ان لوگوں کا ایک نصب العین ہوتا ہے،انھیں اپنے پیشہ ورانہ معاملات میں بھی مقصدیت کی ضرورت ہوتی ہے، کوئی بڑا مقصد اگر ان کے سامنے نہ ہو تو یہ کام میں دلچسپی نہیں لیتے، یہ بھی ضروری ہے کہ مقصدیت کا تعلق عالم انسانیت کی بھلائی اور فلاح و بہبود سے ہو ورنہ انھیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کی زندگی ضائع ہورہی ہے۔
یہاں اس بات پر بھی توجہ کی ضرورت ہے کہ یہ منزل برج جدی میں واقع ہے اور سیارہ زحل اس برج سے وابستہ ہے،زائچے میں کمزور اور نوامسا میں ہبوط یافتہ ہے،یہ خرابی منزل کی بعض خوبیوں کو خامیوں میں بھی تبدیل کرسکتی ہے اور اس کے نتیجے میں طبیعت میں حد سے زیادہ بے چینی اور فعالیت پیدا ہوتی ہے،بے حسی اور سفاکی کا عنصر نمایاں ہوتا ہے،وہ کوئی نیا کام شروع کرسکتے ہیں لیکن اسے مکمل کرنے میں ناکام رہیں گے، ایک خود غرض ضدی فطرت نمایاں ہوتی ہے،جب برج کا حاکم متاثرہ ہو یا کمزور ہو۔ ان لوگوں کو عمر کے پینتیسویں سال میں زیادہ کامیابیاں ملتی ہیں۔
اس قمری منزل میں پیدا ہونے والی مشہور شخصیات میں نیپولین بوناپارٹ، امریکی صدر ابراہام لنکن، نازی لیڈر ایڈولف ایشمن، سابق بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی، شیخ ایاز، ڈان ابو سالم شامل ہیں۔
اس منزل میں پیدا ہونے والے افراد اکثر ’’پہل کار‘‘ ہوتے ہیں یعنی کسی نئے کام کی بنیاد رکھتے ہیں، توقع رکھنی چاہیے کہ بلاول بھٹو زرداری بھی مستقبل میں کوئی ایسا ہی نمایاں کام کرکے شہرت حاصل کریں گے۔
عزیزان من! زائچے کی تکنیکی موشگافیوں کے بجائے ہم نے زیادہ زور اس بات پر دیا ہے کہ آپ پیپلز پارٹی کے مرکزی لیڈر کی خوبیوں اور خامیوں سے آگاہ ہوسکیں، اب ضروری ہے کہ ان کے زائچے کے حوالے سے بعض تکنیکی امور پر بھی روشنی ڈالی جائے۔
زائچے میں مشتری کی مضبوط پوزیشن ان کی حیثیت کو متعین کرتی ہے،سیارہ زہرہ و مریخ کے علاوہ راہو کیتو اس زائچے کے فعلی منحوس سیارے ہیں، باقی سیارگان اپنی قوت کے مطابق سعد اثر دیں گے،مئی 2012 ء سے زائچے میں فعلی منحوس چھٹے گھر کے حاکم سیارہ مریخ کا دور اکبر شروع ہوا، اسی دور میں بارھویں گھر کے فعلی منحوس زہرہ کا دور اپریل 2007 ء سے جون 2008 ء تک رہا، اس منحوس وقت میں ان کی والدہ کا سانحہ پیش آیا۔
سیارہ مریخ کا دور اکبر مئی 2009 ء میں ختم ہوا اور راہو کا دور اکبر جاری ہے،راہو کے دور اکبر میں 26 جنوری 2012 ء سے مشتری کا دور اصغر 20 جون 2014 ء تک جاری رہا، اگر 2013 ء کے الیکشن میں مکمل قیادت بلاول بھٹو کے ہاتھ میں ہوتی تو شاید پیپلز پارٹی کی کامیابی کا گراف زیادہ بہتر ہوتا، ہم نے اس وقت یہ بات پارٹی سے قریبی تعلق رکھنے والے ایک جیالے سے کہی تھی لیکن ان کا کہنا یہ تھا کہ فی الحال یہ ممکن نہیں ہے،تازہ صورت حال یہ ہے کہ راہو کے دور اکبرمیں سیارہ عطارد کا دور اصغر جاری ہے جو نومبر 2019 ء تک جاری رہے گا، عطارد بارھویں گھر میں ہے ، راہو بھی زائچے میں طاقت ور پوزیشن نہیں رکھتا، لہٰذا موجودہ الیکشن میں ان کی کارکردگی نمائشی رہے گی، ان کی موجودگی پارٹی کو کچھ زیادہ فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔
آصف علی زرداری

یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت حقیقی معنوں میں جناب آصف علی زرداری کے دست کرشمہ ساز میں ہے،ہماری تحقیق کے مطابق ان کا طالع پیدائش برج حمل ہے جس کا حاکم ڈائنامک مریخ ہے،یہ لوگ تھکنا اور شکست تسلیم کرنا نہیں جانتے، چیلنج قبول کرنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے،برج حمل کا نشان مینڈھا ہے،طالع کے درجات 13 درجہ 4 دقیقہ ہیں اور اشونی منزل میں گر رہے ہیں، اس منزل کی خاص بات یہ ہے کہ یہ لوگ گھوڑوں سے بہت محبت کرتے ہیں، زرداری صاحب بھی گھوڑے پالنے کے ہمیشہ شوقین رہے ہیں، طالع کا حاکم سیارہ مریخ زائچے کے نویں گھر میں ہے گویا قسمت ان پر ہمیشہ مہربان رہی ہے،زائچے کا نواں گھر ’’بھاگیہ استھان‘‘ کہلاتا ہے،ایک نہایت اچھی بات یہ بھی ہے کہ زائچے میں کوئی سیارہ بھی 6,8,12 گھروں میں نہیں ہے، اگرچہ بھرپور طاقت کا حامل بھی کوئی نہیں ہے،قمر زائچے کے دوسرے گھر میں اپنے شرف کے برج میں ہے اور سیارہ زحل بھی ساتویں گھر میں برج میزان میں شرف کے گھر میں ہے،بھاگیا استھان یعنی نویں گھر کا حاکم سیارہ مشتری تیسرے گھر برج جوزا میں دو فعلی منحوسوں کے درمیان بری طرح متاثرہ ہے،شاید یہی وجہ ہے کہ وہ اعلیٰ تعلیم سے دور رہے،ساتویں گھر کے حاکم زہرہ پانچویں گھر میں براجمان ہے اور اس پر راہو کی نظر ہے،یہ صورت حال عاشق مزاج بناتی ہے،سنا ہے نوجوانی میں وہ خاصے رنگین مزاج رہے ہیں۔

جیسا کہ برج حمل کے حوالے سے چند خصوصیات کی نشان دہی کی گئی کہ یہ لوگ اپنی مثبت خصوصیات میں انتھک کام کرنے والے اور شکست قبول نہ کرنے والے ہوتے ہیں، مزید یہ کہ کھلے ذہن کے مالک ، انفرادیت پسند، چوکنا اور فوری بولنے والے ، پہل کار، پرعزم، فیاض، جرأت مند اور پراعتماد ہوتے ہیں، ان کی شخصیت کے منفی پہلوؤں میں خود غرضی، فوراً طیش میں آنا، چیلنج قبول کرنا، من موجی، بے صبر، صحیح سمت کا شعور نہ ہونا، دوسروں کے تجربے سے فائدہ اٹھانے کے بجائے خود تجربات کرنا، کسی کی پیروی نہ کرنا اور من مانی کرنا شامل ہیں۔
برج حمل کے زیر اثر پیدا ہونے والی ایک مشہور شخصیت اسپائک للی گین (مزاحیہ اداکار) کا قول ملاحظہ کریں، فرماتے ہیں ’’میں نے سوچا کہ میں شیکسپیئر کی کسی نظم سے ابتدا کروں لیکن پھر میں نے سوچا کہ میں ایسا کیوں کروں؟وہ کبھی میری نظم تو نہیں پڑھتا‘‘
آپ جب بھی زرداری صاحب کو تقریر کرتے یا کسی کو کوئی انٹرویو دیتے دیکھیں گے تو ایسا محسوس کریں گے کہ ان کے مخاطب بہت چھوٹے یا کم علم لوگ ہیں اور وہ انھیں سبق پڑھا رہے ہیں، دوران گفتگو اکثر ایک استہزائیہ مسکراہٹ ان کے چہرے پر رہتی ہے جیسے وہ یہ بتانا چاہتے ہوں کہ جو کچھ ہوں ، میں ہوں، کہا جاتا ہے کہ حمل افراد کا نعرہ ہے I AM" "، زرداری صاحب کے زائچے میں سیارہ قمر اپنے شرف کے برج ثور میں ہے اور یہ زائچے کا دوسرا گھر ہے،اگرچہ قمر معمولی سا کمزور ہے اور اس کمزوری کو نظرانداز کیا جاسکتا ہے، قمر زائچے کے چوتھے گھر کا حاکم ہے،گویاانھوں نے مالی طور پر مضبوط والدین کے گھر میں آنکھ کھولی اور سیاست انہیں ورثے میں ملی، قمر کی ثور میں موجودگی انھیں فطری طور پر مستقل مزاج ، ضدی اور اپنی لگن کا پکا ظاہر کرتی ہے،ان کی پیدائش چاند کی منزل روہنی میں ہوئی ہے،اس پر سیارہ قمر ہی حکمران ہے،اس منزل میں حسن، شہوانیت، کرشمہ اور سحر انگیزی منعکس ہیں، روہنی میں پیدا ہونے والے افراد شائستہ اطوار اور اچھی گفتگو کرنے والے ہوتے ہیں، اپنے حواس پر کنٹرول رکھنا جانتے ہیں، سیاست میں کامیاب ہوسکتے ہیں،عمر کے تیس سے پچاس سال تک کا عرصہ کامیابیاں لاتا ہے،لوگوں میں مقبول ہوتے ہیں،انھیں مالی معاملات میں کبھی پریشانی نہیں ہوتی اور ہمیشہ اپنے خاندان سے جڑے رہتے ہیں،یہ ہر اس کام کو انجام دینے کی فطری صلاحیت رکھتے ہیں جو انھیں سونپا جائے،ان کی تعلیم اوسط درجے کی ہوتی ہے،فطری طور پر ان کا رجحان دولت کمانے کی طرف رہتا ہے،برج ثور خاکی برج ہے اور مادّیت کی جانب جھکاؤ رکھتا ہے،عام طور پر یہ لوگ اپنے غصے اور اشتعال پر قابو پانے کی عمدہ صلاحیت رکھتے ہیں لیکن جب ایک بار انھیں غصہ آجائے تو اسے ٹھنڈا کرنا آسان ثابت نہیں ہوتا۔
اس منزل میں پیدا ہونے والی دیگر مشہور شخصیات میں ماہر نفسیات سگمنڈ فرائڈ، ملکہ وکٹوریا، امریکی صدر بارک اوباما، مدر ٹریسا، ہالی ووڈ اسٹار اومر شریف، اداکار پریم ناتھ وغیرہ شامل ہیں۔
عزیزان من! جناب آصف علی زرداری کی نمایاں خوبیوں اور خامیوں یا رجحانات آپ کے سامنے ہیں، وہ ایک خوش قسمت انسان ہیں، ان کے والد صاحب حیثیت تھے ، مزید خوش قسمتی یہ کہ ان کی شادی محترمہ بے نظیر بھٹو جیسی عالمی شناخت رکھنے والی سیاست داں سے ہوئی جو شادی کے بعد دو مرتبہ ملک کی وزیراعظم منتخب ہوئیں،ایک سانحے نے انھیں زرداری صاحب سے جدا کردیا لیکن لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بھی زرداری صاحب کے لیے کوئی گھاٹے کا سودا نہیں رہا، وہ ملک کے صدر بنے، اس سے بڑی خوش قسمتی اور کیا ہوگی کہ ایک نان گریجوئیٹ 5 سال تک ایوان صدر میں براجمان رہا، ان پر کرپشن اور بدعنوانیوں کے بے شمار کیسز بنائے گئے لیکن وہ تمام مقدمات سے جان چھڑانے میں کامیاب رہے،کہا جاتا ہے کہ انھوں نے گیارہ سال جیل میں گزارے اور وہاں ان پر سختیاں بھی ہوئیں لیکن دوسری طرف کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ جیل ان کے لیے کسی مصیبت و پریشانی کا باعث نہیں رہی،وہ جیل میں بھی ایک نمایاں اور برتر حیثیت کے حامل رہے۔
جناب آصف علی زرداری کے ماضی کے حوالے سے زیادہ روشنی ڈالنا ضروری نہیں ہے وہ ایک مشہور شخصیت ہیں اور تمام لوگ ان کے حالات زندگی سے واقف ہیں، چند اہم امور پر روشنی ڈالنا ضروری ہے،فروری 2001 ء سے ان کی زندگی میں سیارہ زحل کا دور اکبر شروع ہوا جو 19 سال پر محیط ہے ، سیارہ زحل زائچے میں اچھی جگہ واقع ہے اور اپنے شرف کے برج میں ہے،یہی وہ دور ہے جب ملک پر جنرل پرویز مشرف حکمران تھے اور مشرف ہی کے دور میں وہ رہا ہوئے، ملک سے باہر گئے،3 دسمبر 2007 ء سے زحل کے دور اکبر میں زہرہ کا دور شروع ہوا تو وہ اقتدار میں آئے اور پانچ سال کی مدت پوری کی،اس عرصے میں وہ جو کرنا چاہتے تھے انھوں نے کیا، 24 ستمبر 2014 ء سے راہو کے دور اصغر میں ان پر زیادہ دباؤ رہا جو جولائی 2017 ء تک جاری رہا، پھر مشتری کا دور شروع ہوا جو تاحال جاری ہے،مشتری جیسا کہ پہلے بتایا جاچکا ہے اگرچہ بھاگیا استھان کا مالک ہے اور سعد اثر رکھنے والا سیارہ ہے لیکن بری طرح متاثرہ ہے،چھٹے گھر کے حاکم عطارد اور کیتو اور راہو مشتری کو گھیرے ہوئے ہیں، یہ ایک ایسی پوزیشن ہے جسے مثبت نہیں کہا جاسکتا، یہ زائچے کا ایک منفی پہلو ہے جس سے کسی کارخیر کے بجائے کاربد کا امکان پیدا ہوتا ہے،حال ہی میں سینیٹ الیکشن میں زرداری صاحب نے جو کارنامے انجام دیے انھیں مثبت نہیں کہا گیا، تو کیا آنے والے الیکشن میں بھی ایسے ہی کسی کارنامے کی توقع کی جاسکتی ہے؟ مگر خیال رہے کہ منفی کاموں کا انجام بھی بالآخر منفی ہی ہوتا ہے۔