ہفتہ، 24 دسمبر، 2016

یہاں کوتاہی ذوق عمل ہے خود گرفتاری


جنوری کی فلکیاتی صورت حال، مشکلات اور نئے مسائل کا مہینہ
برسوں گزر گئے، جاتے ہوئے سالوں کو رخصت کرتے ہوئے اور آنے والے سال کا استقبال کرتے ہوئے،ہر بار روایتی سے جملے ذہن میں آتے ہیں، رخصت ہونے والے سال کی تباہ کاریاں، سختیاں اور مصیبتیں یاد آتی ہیں اور آنے والے سال کے بارے میں دعائے خیر کی جاتی ہے کہ ساری دنیا کے لیے خوشیاں لائے، لوگوں کے مسائل حل ہوں، وہ امن و آشتی کے ساتھ زندگی گزاریں مگر عام طور پر ایسا ہوتا نہیں ہے،جب نئے سال کی رخصتی کا وقت آتا ہے تو پھر ہم ان زخموں کا شمار کرنے بیٹھ جاتے ہیں جو رخصت ہونے والے سال نے دیے ہوتے ہیں، بس یہی گردشِ ماہ و سال صدیوں سے جاری و ساری ہے،اس حوالے سے کسی زمانے کی کوئی قید نہیں ہے،شاید ہر زمانے میں لوگ اسی روایت پر عمل کرتے چلے آئے ہیں، شاید یہی نظام قدرت ہے جس میں صدیوں سے مخلوق خدا کائناتی مظاہر و مصائب سے نبرد آزما ہے،لوگ آتے ہیں اور اپنی باری پوری کرکے چلے جاتے ہیں،بالکل اسی طرح ہر نیا سال بھی اپنی باری پوری کرتا ہے اور چلا جاتا ہے، ہم ہر سال کے صبح و شام ، دن اور رات کا شمار کرتے کرتے آخر خود بھی ایک روز دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں، کیا یہی زندگی ہے؟
جی ہاں! زندگی تو یہی کچھ ہے لیکن اسی زندگی میں لوگ بڑے بڑے کارنامے انجام دیتے ہیں اور ہمیشہ کے لیے اپنا نام دنیا کی تاریخ میں اس طرح رقم کرادیتے ہیں کہ آنے والی دنیا انہیں کبھی نہیں بھولتی، زمانہ کوئی بھی ہو،حالات کیسے بھی ہوں، وہ اپنا کام کرتے رہتے ہیں،یہاں تک کہ لوگوں کے ذہنوں اور دلوں میں ان کا ایک خاص مقام بن جاتا ہے، قبل از مسیح کے افلاطون، سقراط، بقراط، سائرس اعظم، بخت نصر، سکندر، بطلیموس ہوں یا بعد از مسیح کے مصلحین و فاتحین ہوں، ان کی زندگیاں بھی ایسی ہی تھیں جیسی ہماری ہیں، ان کے مسائل بھی ہمارے جیسے ہی یا ہم سے ملتے جلتے تھے ، غمِ جاناں، غمِ ہستی، غم روزگار سے وہ بھی ہماری طرح آزاد نہیں تھے،پھر بھی انہوں نے ایسے کام کیے جو آج بھی لوگ ان کا نام جانتے اور انہیں پہچانتے ہیں،چناں چہ زندگی گزارنے کے دو ڈھنگ ہمارے سامنے ہیں، ایک تو یہی کہ پیدا ہوئے، شادی کی، بچے پیدا کیے اور بالآخر زندگی کی کہانی ختم ہوئی، دوسرا انداز وہی ہے جو دنیا کے نامور لوگوں نے اختیار کیا اور آج ان کا نام لیے بغیر دنیا کی تاریخ مکمل نہیں ہوتی، ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہمیں جو زندگی عطا ہوئی ہے وہ ہم کس رنگ ڈھنگ کے ساتھ گزار رہے ہیں، اس سال کے اختتامی لمحات میں ہم صرف اتنی ہی گزارش کرنا چاہتے ہیں۔
کسی پرانے شاعر شاید صفی لکھنوی (مرحوم) نے برسوں پہلے زندگی کا فلسفہ ایک شعر میں اس طرح بیان کیا ہے کہ آج بھی آپ شاعر کی بات کو نظرانداز نہیں کرسکتے 
یہاں کوتاہی ذوق عمل ہے خود گرفتاری
جہاں بازو سمٹتے ہیں وہیں صیّاد ہوتا ہے
اس سے پہلے کہ نئے سال کے پہلے مہینے جنوری کے ستاروں کی پوزیشن پر اور جنوری میں ستاروں کے درمیان قائم ہونے والے زاویوں پر روشنی ڈالی جائے ، ضروری ہے کہ دسمبر کے آخری ہفتے اور جنوری کے پہلے ہفتے کے حوالے سے چند باتیں گوش و گزار کردی جائیں۔
دسمبر کی تقریباً 23 تاریخ سے سیارہ مریخ اور شمس راہو کیتو سے متاثر ہوکر خراب پوزیشن میں ہوں گے، اس کے بعد یہی صورت زہرہ اور عطارد کی ہوگی لہٰذا اکثر افراد خواہ وہ عام ہوں یا خاص، اس صورت حال سے متاثر ہوں گے اور کسی نہ کسی پریشانی یا تکلیف کا شکار ہوں گے، ایسے افراد اور ممالک خصوصاً اس صورت حال سے متاثر ہوں گے،جن کا برتھ سائن یعنی طالع پیدائش ثور ، سرطان، اسد، سنبلہ یا حوت ہوگا، پاکستان، انڈیا، ایران، مصر، برطانیہ اور امریکا بھی ایسے ممالک میں شامل ہےں،امریکا کے نومنتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا برتھ سائن اسد ہے، وہ بھی کسی مشکل مرحلے کا شکار ہوسکتے ہیں۔
وقت کی خرابی سیاروی گردش کے ناموافق ہونے کے باعث ہو یا کسی اور وجہ سے، ہر صورت میں اس کا حل صدقات و خیرات کے ذریعے ہی ممکن ہے لہٰذا ایسے اوقات میں زیادہ سے زیادہ صدقات اور اللہ کی راہ میں خیرات پر زور دینا چاہیے،اس کے علاوہ کثرت سے استغفار کا ورد رکھنا چاہیے۔
3 جنوری سے 11 جنوری تک سیارہ زہرہ کمزور اور نحوست کا شکار ہوگا لہٰذا یہ وقت نکاح و شادی کے لیے مناسب نہیں ہوگا، جو لوگ پہلے سے نکاح و شادی کی تاریخ مقرر کرلیتے ہیں اور وہ تاریخ اس عرصے میں ہو تو انہیں چاہیے کہ 3 جنوری سے پہلے نکاح کی رسم ادا کرلیں،باقی شادی کا فنکشن بعد میں بھی ہوسکتا ہے۔اس تمہیدی گفتگو کے بعد آئیے جنوری پر ایک نظر ڈال لی جائے، انشاءاللہ آئندہ ہفتے سال 2017 ءکی مجموعی صورت حال پر پاکستان کے زائچے کی روشنی میں بات ہوگی۔
جنوری کے ستارے
سیارہ شمس سال کے پہلے مہینے میں خاکی برج جدی میں حرکت کر رہا ہے،20 جنوری کو برج دلو میں داخل ہوگا، ذرائع ابلاغ کا سیارہ عطارد بحالت رجعت برج جدی میں ہے اور 4 جنوری کو واپس برج قوس میں ہوگا، جب کہ 8 جنوری کو مستقیم ہوکر اپنی سیدھی چال پر آئے گا، توازن اور ہم آہنگی کا ستارہ زہرہ برج دلو میں حرکت کر رہا ہے، 3 جنوری کو برج حوت میں داخل ہوگا، توانائی کا ستارہ مریخ آبی برج حوت میں حرکت کر رہا ہے،28 جنوری کو اپنے ذاتی برج حمل میں داخل ہوگا، وسعت اور ترقی کا ستارہ مشتری برج میزان میں پورا ماہ رہے گا، سیارہ زحل برج قوس میں ، سیارہ یورینس برج حمل میں، نیپچون برج حوت میں، پلوٹو برج جدی میں حسب دستور حرکت کریں گے،راس و ذنب بالترتیب برج سنبلہ اور حوت میں رہیں گے۔
نظرات و اثراتِ سیارگان
نئے سال کے پہلے مہینے میں سیاروی زاویے موافق و مددگار نہیں ہوں گے،کاموں میں رکاوٹ ، تاخیر اور نئے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں،اس مہینے میں پورے سال کے لیے پلاننگ کرنا اور غوروفکر کے ساتھ نئی حکمت عملی تیار کرنا بہتر ہوگا۔
جنوری میں اہم سیارگان کے درمیان چار قرانات ، چار تسدیسات اور چار تربیعات ہوں گی،مقابلہ یا تثلیث کی کوئی نظر قائم نہیں ہوگی، اس اعتبار سے الجھنیں اور پیچیدگیاں اکثر امور میں زیادہ ہوں گی، جنوری میں قائم ہونے والے سیاروی زاویوں کی تفصیل تاریخ وار درج ذیل ہے۔
یکم جنوری: مریخ اور نیپچون کے درمیان قران کا زاویہ نحس اثرات رکھتا ہے،پہلے سے جاری مسائل میں مزید پیچیدگیاں اور شدت پسندی سامنے آتی ہے،پاکستان کے زائچے میں یہ قران گیارھویں گھر میں ہوگا( بہ حساب یونانی) گیارھواں گھر پارلیمنٹ سے متعلق ہے لہٰذا اسمبلی میں عدم اتفاق اور اختلاف رائے نمایاں رہے گا،اپوزیشن کا احتجاج اور واک آو ¿ٹ، حکومت کے لیے ناپسندیدہ صورت حال وغیرہ کا امکان ہوگا۔
4 جنوری: عطارد اور زہرہ کے درمیان تسدیس کا زاویہ اگرچہ سعد ہوتا ہے لیکن عطارد کی رجعت کے باعث یہ کسی معاملے میں بھی فائدہ بخش نہیں ہوگا، باہمی تعلقات میں غلط فہمیاں اور بدگمانیاں جنم لے سکتی ہیں لہٰذا دوسروں سے گفت و شنید اور بات چیت میں محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی،دوسروں کی بات سمجھنے اور اپنی بات سمجھانے میں دشواری پیش آئے گی۔
7جنوری: شمس اور پلوٹو کے درمیان قران کا یہ زاویہ نحس اثر رکھتا ہے،پاکستان کے زائچے میں آٹھویں گھر میں ہوگا، ملک کے داخلی معاملات میں کوئی اہم تبدیلی ، بدنظمی اور انتشار یا کسی حادثے کے امکان کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے، عام افراد پر اس نظر کے اثرات نہیں ہوں گے،بین الاقوامی معاملات میں یہ نظر اہم کردار ادا کرسکتی ہے،طاقت کا اندھا استعمال اور پرتشدد رجحانات اس نظر کا شاخسانہ ہوسکتے ہیں۔
10 جنوری: شمس اور یورینس کے درمیان تربیع کا نحس زاویہ غیر متوقع حادثات اور سانحات کی نشان دہی کرتا ہے،خصوصاً پاکستان میں، یہ نظر حکومت اور اعلیٰ عہدے داران کے لیے غیر متوقع مسائل اور پریشانیاں لاسکتی ہیں، عام افراد کو اس وقت میں کوئی نیا رسک نہیں لینا چاہیے، کسی نئی تبدیلی کے لیے بھی یہ مناسب وقت نہیں ہوگا،اس وقت میں اکثر لوگ اپنا مو ¿قف یا پلان تبدیل کرلیتے ہیں، یہ تبدیلی بعد ازاں پچھتاوے کا باعث ہوتی ہے۔
11 جنوری: مریخ اور پلوٹو کے درمیان تسدیس کی نظر عام زندگی پر اثر انداز نہیں ہوگی، البتہ ملکی اور بین الاقوامی معاملات میں اہمیت کی حامل ہے،ظلم و زیادتی کے واقعات کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے گا اور ایسے فیصلے یا اقدام سامنے آئیں گے جن سے کسی نامناسب صورت حال کو مناسب رنگ میں ڈھالا جاسکے۔
12 جنوری: شمس اور مشتری کے درمیان تربیع کا زاویہ مالیاتی اداروں کے لیے پریشانی کا باعث ہوسکتا ہے،اس نظر کے تحت حکومت اضافی ٹیکس یا قیمتوں میں اضافہ کرسکتی ہے،ملکی معیشت کے لیے یہ اچھا وقت نہیں ہوگا، عام لوگوں کو اس وقت میں نئی سرمایہ کاری کرتے ہوئے محتاط رہنے کی ضرورت ہے، لوگوں سے لین دین کرتے ہوئے بھی اس بات کو یقینی بنائیں کہ باہمی طور پر تحریری ایگریمنٹ کریں۔
13 جنوری: زہرہ اور نیپچون کے درمیان قران کی نظر جذباتی زندگی میں عدم توازن اور شدت پسندی لاتی ہے،ہم کسی حد سے گزر جاتے ہیں یا دوسرے ہمیں اپنے فیصلوں اور رویے سے حیران کرتے ہیں،خصوصاًمحبت اور دوستی کے معاملات میں ہم شدید جذباتیت اور حساسیت کا شکار ہوسکتے ہیں،یہ نظر ہوائی سفر کے دوران میں کسی غفلت کے سبب حادثات کا باعث بھی بنتی ہے۔
19 جنوری: مریخ اور زحل کے درمیان تربیع کا نحس ترین زاویہ ہمیشہ نقصانات کا امکان لاتا ہے،پیٹرول اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے،دیگر پیٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے بھی اس امکان کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا،یہ نظر دہشت گردی کی کارروائیوں کا امکان ظاہر کرتی ہے اور مزید یہ کہ اس حوالے سے حکومت کے سخت اقدامات بھی سامنے آسکتے ہیں،عام افراد کی زندگی میں کاموں میں رکاوٹ اور حالات کی سختیاں ظاہر ہوتی ہیں۔
20 جنوری: زہرہ اور پلوٹو کے درمیان تسدیس کا زاویہ اگرچہ ایک سعد نظر ہے لیکن عام آدمی کی زندگی میں زیادہ اہم کردار نہیں رکھتی،البتہ ملکی اور بین الاقوامی معاملات میں خواتین کے تحفظ کے لیے گفت و شنید ہوسکتی ہے۔
24 جنوری: عطارد اور نیپچون کے درمیان تسدیس کا زاویہ سعد اثر رکھتا ہے، یہ وقت اعلیٰ درجے کی تخلیقی سرگرمیوں کے لیے موزوں ہے،ذہانت اور دانش مندی کے مظاہرے دیکھنے میں آتے ہیں، ہوشیاری اور حکمت عملی سے کام لے کر غیر معمولی کارنامے انجام دیے جاسکتے ہیں۔
27 جنوری: زہرہ اور زحل کے درمیان تربیع کا زاویہ نحس اثر رکھتا ہے،یہ وقت عدم توازن اور اختلاف رائے لاتا ہے،خصوصاً ازدواجی تعلقات میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے،کوئی مسئلہ باہمی کشیدگی پیدا کرسکتا ہے، ملکی معاملات میں اپوزیشن اور حکومت کے درمیان محاذ آرائی شدت اختیار کرسکتی ہے جس کا مظاہرہ پارلیمنٹ میں ہوسکتا ہے۔
30 جنوری: عطارد اور پلوٹو کا قران کسی بھی زائچے میں اپنی پوزیشن کے لحاظ سے اچھا یا برا اثر دیتا ہے،پاکستان کے زائچے میں آٹھویں گھر میں ہوگا جو ایک خراب گھر ہے،داخلی صورت حال میں بدنظمی ، انتشار یا کوئی حادثہ نمایاں ہوسکتا ہے،اس نظر کے تحت نظریات و عقائد میں انتہا پسندی کا رجحان نمایاںہوتا ہے،لوگ اپنی بات منوانے کے لیے کسی حد تک بھی چلے جاتے ہیں۔
شرفِ قمر
نیو یارک اور ٹورنٹو ٹائم کے مطابق قمر اپنے شرف کے برج میں 6 جنوری کو 03:17 pm پر داخل ہوگا لیکن درجہ ءشرف پر 06:40 pm سے 08:22 pm تک رہے گا، یہ نہایت سعد اور مبارک وقت ہوگا، اس وقت میں جائز ضروریات کے لیے وظائف و نقوش کیے جاسکتے ہیں، عام طور پر ہم اس موقع پر بسم اللہ الرحمن الرحیم 786 مرتبہ اول آخر گیارہ بار درود شریف کے ساتھ پڑھ کر کچھ چینی پر دم کرنے کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ یہ چینی گھر میں استعمال ہونے والی چینی میں شامل کرلی جائے، اس چینی کے استعمال سے گھر میں خیروبرکت اور خاندان میں محبت و اتفاق پیدا ہوتا ہے۔
قمر در عقرب
نیویارک اور ٹورنٹو ٹائم کے مطابق قمر برج عقرب میں 19 جنوری 05:09 pm پر داخل ہوگا اور 22 جنوری 5:45 am تک رہے گا، اس دوران میں ہبوط قمر کا نحس وقت 19 جنوری کو 09:09 pm سے شروع ہوگا اور 11:10 pm تک رہے گا،یہ نحس وقت ایسے اعمال کے لیے موزوں ہے جس میں بری عادتوں یا برے کاموں سے روکنے کے لیے وظائف یا نقوش دیے جاسکتے ہیں،اس حوالے سے ہر مہینے مختلف ضروریات کے لیے نقوش و وظائف دیے جاتے رہتے ہیں،ان سے کام لیا جاسکتا ہے،کسی خاص مسئلے میں رہنمائی کے لیے براہ راست رابطہ کرسکتے ہیں۔
شرفِ زہرہ
سیارہ زہرہ جب برج حوت کے 27 درجے پر پہنچتا ہے تو اسے شرف کی قوت حاصل ہوتی ہے،اس سال کی ابتدا ہی میں سیارہ زہرہ نیویارک اور ٹورنٹو ٹائم کے مطابق 29 جنوری کو دوپہر 02:20 pm پر اپنے شرف کے درجے پر آئے گا اور 30 جنوری شام 06:35 pm تک درجہ ءشرف پر رہے گا۔
واضح رہے کہ شرفِ زہرہ ایک نادر موقع ہے جس کا ماہرین جفر سال بھر انتظار کرتے ہیں،اس وقت تسخیر خلق یا تسخیر خاص سے متعلق جفری الواح و طلاسم تیار کیے جاتے ہیں، وہ لوگ جن کے زائچے میں سیارہ زہرہ ناقص یا ہبوط یافتہ ہو ، عموماً ان کی شادی میں تاخیر ہوتی ہے یا ازدواجی زندگی کی خوشیوں سے محروم رہتے ہیں،ایسے لوگوں کے لیے یہ وقت کسی نعمت سے کم نہیں ہے،اس موقع پر ”لوح شرف زہرہ“ تیار کرکے پاس رکھنا چاہیے، اس لوح کی تیاری کا طریقہ انشاءاللہ آئندہ دیا جائے گا، وہ لوگ جو اس موقع پر کسی خاص مقصد کے لیے کوئی عمل یا وظیفہ چاہتے ہوں ، وہ براہ راست رابطہ کرسکتے ہیں۔
عزیزان من! آپ اگر کسی بھی مسئلے میں پریشان ہیں تو اپنا مسئلہ بذریعہ خط یا ای میل ارسال کرسکتے ہیں،اسی کالم میں آپ کو تسلی بخش جواب مل جائے گا، اگر آپ اپنا نام اور مقام ظاہر نہیں کرنا چاہتے تو خط میں یہ بات ضرور لکھیں، اگر براہ راست جواب چاہتے ہوں تو جوابی لفافہ بھی ساتھ میں روانہ کریں، خط و کتابت کا پتا یا ای میل ایڈریس یہاں دیا جارہا ہے۔

پیر، 19 دسمبر، 2016

خوف کا دور اور خوف زدہ لوگ


ہم درحقیقت خوف اور وسوسوں کے دور میں سانس لے رہے ہیں
ہم جس ماحول میں زندہ ہیں یہاں خوف، وسوسے، ڈر اور اندیشے کسی نہ کسی انداز میں ہمارے ذہنوں میں ہر وقت سرسراتے رہتے ہیں، معاشرے کے بیشتر افراد آپ کو کسی نہ کسی خوف، وہم یا اندیشے میں مبتلا نظر آئیںگے، بہت کم ایسے ہوں گے جنہیں ہر خوف و ڈر سے آزاد قرار دیا جاسکتا ہے یا یہ کہا جاسکے کہ ان کے ذہن میں کسی بھی قسم کا کوئی خوف یا اندیشہ نہیں ہے، اگر حقیقت پسندی سے ہم اپنی ذہنی حالتوں کا تجزیہ کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ہم میں سے ہر شخص کسی نہ کسی خوف اور اندیشے میں مبتلا ہے،کسی نہ کسی شے سے، کسی نہ کسی پہلو پر اور اندر ہی اندر سہا ہوا ہے اور اکثر لوگ اسی خوف زدگی کے عالم میں پوری زندگی گزار دیتے ہیں۔
شاید ہمارے موجودہ معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ یہاں تمام انسان سہمے ہوئے اور کسی نہ کسی حوالے سے خوف زدہ ضرور ہیں، کوئی اپنی بقا کے سلسلے میں تشویش کا شکار ہے، کسی کو اپنی نسل کے ختم ہوجانے یا برباد ہوجانے کی فکر لاحق ہے، کوئی غم دوراں یا غم روزگار کی سختیوں سے سہما ہوا ہے تو کوئی اپنی زندگی میں نفع و نقصان کے حساب میں الجھ کر پریشان و ہراساں ہے اور سودوزیاں کی یہ فکر ہر لمحہ اس کے اعصاب پر سوار ہے، الغرض بچہ، بوڑھا، جوان، عورت، مرد ، شادی شدہ، بے روزگار یا برسرروزگار، صحت مند یا بیمار کسی نہ کسی نوعیت کے، کسی نہ کسی خوف میں ضرور مبتلا ہے، یہ خوف شعوری بھی ہوتا ہے اور لاشعوری بھی، شعوری خوف اس قدر خطرناک ثابت نہیں ہوتا ہے جتنا لاشعوری، شعوری خوف سے نجات پانے کے لیے انسان کوششوں میں مصروف رہتا ہے کیوں کہ یہ اس کا کھلا مدمقابل ہے، وہ اسے جانتا پہچانتا ہے اور اس سے نمٹنے کی تدبیریں سوچتا اور ان پر عمل کرتا رہتا ہے مگر لاشعوری خوف ایک نہایت خطرناک چھپا ہوا دشمن ہے جس سے انسان بے خبر ہونے کی وجہ سے قدم قدم پر شکست کھاتا اور اس کے حملوں سے اپنی روح کو مجہول کرتا رہتا ہے لیکن اسے یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اس کی ذہنی اور روحانی تباہی کے اسباب کیا ہیں؟
ماحولیاتی آلودگی
موجودہ دور میں دنیا بھر کے سائنس دانوں اور عالمی ماحولیاتی اداروں کے مفکرین کے نزدیک جو مسئلہ روز بہ روز پیچیدہ تر اور ایک نہایت بھیانک حقیقت کی حیثیت اختیار کرتا جارہا ہے، وہ ماحولیاتی آلودگی ہے، دنیا بھر میں بہت بڑے پیمانے پر اس مسئلے کے تدارک کے لیے سر توڑ کوششیں ہورہی ہیں، ایک زر کثیر، فنڈز کی صورت میں ایسی تنظیموں کو فراہم کیا جارہا ہے جو ماحولیاتی آلودگی کے خلاف کام کرنے کی دعوے دار ہیں۔
ماحولیاتی آلودگی سے مراد دنیا میں بڑھتی ہوئی کثافت، گندگی اور وہ آلائشات ہیں جو روز بہ روز کرئہ ارض کے ماحول کو تباہ کر رہی ہیں اور اسے نسل انسانی کے لیے ناقابل سکونت بناتی جارہی ہیں، ماہرین ماحولیات اور سائنس دانوں کے لیے یہ مسئلہ یقیناً بہت اہمیت رکھتا ہے، زمینی یا فضائی آلودگی ہم سب کا مسئلہ ہے لیکن کیا ہم میں سے کوئی ذہنی آلودگی کی طرف بھی متوجہ ہے؟ کیا سائنس دان انسانی دماغوں کو مختلف آلائشوں سے پاک کرنے کے لیے بھی کوئی کوشش کر رہے ہیں؟
ذہنی آلودگی
جیسا کہ ہم نے ابتدا ہی میں عرض کیا تھا کہ ہم درحقیقت خوف ، وسوسوں اور اندیشوں کے دور میں سانس لے رہے ہیں، ہمارے اردگرد کا ہر شخص خوف زدہ ہے، کسی نہ کسی اندیشے میں مبتلا ہے، یہ خوف اور اندیشے صبح و شام عام آدمی کے ذہن میں ہلچل مچائے رکھتے ہیں اور ان ہی کی بدولت آج کے دور کا انسان کسی بھی زمانے کے مقابلے میں ذہنی طور پر زیادہ انتشار اور پراگندگی کا شکار ہے، اس کی دماغی کثافتیں روز بہ روز بڑھتی جارہی ہیں اور ہزار ہائے اقسام کے اعصابی دباو ¿ اسی کی شخصیت اور صلاحیتوں کو کچل رہے ہیں لیکن اس ذہنی آلودگی کے تدارک کے لیے کسی بھی سطح پر کوئی باقاعدہ کام نہیں ہورہا، انفرادی طور پر یقیناً ایسے لوگ موجود ہوں گے اور ہیں جو بساط بھر کوششیں کر رہے ہیں، اس سلسلے میں ہمارے اہل تصوف ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں اور آج بھی ہیں مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں تصوف اور روحانیت کے نام پر پیشہ وری اور فراڈ بہت زیادہ فروغ پاگیا ہے، اس کی وجہ سے عام لوگوں کا اعتماد و اعتقاد بری طرح مجروح ہوا، دنیا میں اور خاص طور پر ہمارے ملک میں سرکاری سطح پر اس نوعیت کا کوئی کام ماہرین کی زیر نگرانی نہیں کرایا جاتا جو انسانوں میں بڑھتی ہوئی ذہنی آلودگی کے تدارک میں معاون ثابت ہوسکتی ہے بلکہ محسوس یہ ہوتا ہے کہ جیسے ابھی تک دنیا کو اس ذہنی آلائش اور فکری پراگندگی کے نقصان کا صحیح ادراک ہی نہیں ہے جس کی تعداد بڑھتے بڑھتے اب ایک سو ایک مختلف شکلیں اختیار کرگئی ہے۔ جی ہاں ! ایک بین الاقوامی سروے رپورٹ کے مطابق دنیا میں ذہنی خوف دن بہ دن بڑھتے جارہے ہیں اور اب تک ان کی ایک سو ایک انتہائی مہلک اقسام سامنے آچکی ہیں،ا س میں ریگرو فوبیا (کھلی جگہوں پر خوف) سے لے کر کلسٹر و فوبیا (بند جگہوں کا خوف) تک ہر چیز کا خوف شامل ہے، یقیناً دنیا میں بہت سے خوف ابھی ایسے ہیں جو لوگوں کو لاحق ہیں مگر وہ تاحال سائنس دانوں کی نگاہ سے نہیں گزرے اور اس کے نتیجے میں ایک سو ایک خوف کی اس فہرست میں شامل نہیں ہوسکے جو سروے کرنے والی ٹیم نے تیار کیے، اس سروے کے آخر میں بتایا گیا ہے کہ یہ تحقیق ابھی بھی جاری ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ اس تعداد میں حیرت ناک حد تک اضافہ ہوگا۔
 دنیا خوف کی ذہنی کیفیت کے نت نئے پہلوو ¿ں سے مستقبل قریب میں یقیناً روشناس ہوتی رہے گی اور اس کی نت نئی تباہ کاریاں سامنے آتی رہیں گی، ہم سب خوف کی بڑھتی ہوئی اقسام کو دیکھ کر خوف زدہ ہوتے رہیں گے کیوں کہ یہ خوف کا دور ہے اور ہم سب خوف زدہ لوگ ہیں۔
ہمارے خیال میں خوف کی نئی اقسام کی دریافت اور خوف سے نجات کے لیے تمام سائنس دانوں اور ماہرین نفسیات کی بہ نسبت روحانی سائنس یا روحی سائنس کے اسکالرز زیادہ بہتر کام کرسکتے ہیں، یہ بات ہم اپنے کچھ ذاتی تجربے کی بنا پر لکھ رہے ہیں جو ہمیں موصول ہونے والے لاتعداد خطوط کے ذریعے حاصل ہوئی ہے، ہمارے اعداد و شمار کے مطابق مندرجہ بالا سروے رپورٹ میں دیے گئے ایک سو ایک خوف کی تعداد بہت کم ہے ، موجودہ دور میں خوف کی اقسام اس سے کہیں زیادہ ہوچکی ہیں، انشاءاللہ آئندہ اس موضوع پر مزید اظہار خیال کیا جائے گا، فی الحال ایک اور اس کا جواب، پہلا خط خوف کی ایک قسم ہی کے حوالے سے ہے۔
سحروجادو یا آسیب و جنات؟
ایل، اے، لکھتے ہیں ”مو ¿دبانہ گزارش ہے کہ میں تقریباً چار سال سے مشکلات میں گھرا ہوا ہوں، ہر طریقہ آزمایا، دس بارہ علما حضرات کے پاس بھی گیا لیکن کچھ حاصل نہ ہوا، ہمارا مسئلہ بگڑتا ہی چلا گیا، اگر کسی نے جادو ٹونا بتایا اور اس حساب سے تعویذ وغیرہ بھی دیے تو ان تعویذوں کا بھی کوئی اثر نہ ہوا اور کسی نے سایہ بتایا اور اسی حساب سے تعویذ وغیرہ بھی دیے تو بھی کوئی اثر نہ ہوا، اب حال یہ ہے کہ جن بھوتوں کے بغیر کوئی چیز نظر نہیں آتی، کچھ منہ کھولے بیٹھے ہیں، کچھ قلابازیاں کھارہے ہیں، طرح طرح کی حرکتیں کرتے ہیں، ان کے علاوہ دنیاوی کوئی چیز نظر ہی نہیں آتی، یہ سب کچھ میری بیوی کے ساتھ ہورہا ہے جو تقریباً اندھی ہوچکی ہے، ایک سال سے مسلسل اسی حالت میں ہے، اولاد بھی نہیں ہے، والدین بھی ساتھ نہیں ہیں، ہم میاں بیوی اکیلے رہتے ہیں، میں جاب کرتا ہوں، بیوی گھر پر اکیلی پڑی رہتی ہے،کام سے فارغ ہوکر گھر میں بھی کھانا پکانا، کپڑے وغیرہ دھونے کا کام بھی مجھے ہی کرنا پڑتا ہے، بیوی الگ پریشان، دوسروں کی محتاج بنی بیٹھی ہے، اب سمجھ میں کچھ نہیں آتا کیا کروں، وقت اور پیسا دونوں برباد ہورہے ہیں لیکن فائدہ کچھ نہیں۔
آج سے چھ سال پہلے ہماری شادی ہمارے والدین کی مرضی اور موجودگی میں ہوئی تھی، شادی کے کچھ عرصے بعد بیوی کو یہاں لے آیا تھا، ساڑھے چار ماہ بعد واپس لے گیا، اس کے بعد ہم پھر واپس آئے اور تقریباً 13 ماہ بعد پھر گھر گئے اور میں اسے وہیں چھوڑ کر اکیلا واپس آگیا، چار ماہ بعد جب میں اپنی بیوی کو لینے گیا تو معاملہ بگڑا ہوا تھا، ہمارے درمیان کچھ شرطیں آگئی تھیں جو میری بیوی کے والدین خود مجھ سے نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ میری بیوی کے ذریعے مجھے بتانا چاہتے تھے، میں نے شرطوں سے صاف انکار کردیا اور بیوی کو لے کر واپس آگیا، یہاں ایک سال تو آرام سے گزر گیا لیکن دوسرے سال میں اس مصیبت نے پکڑلیا جو اب تک چھوڑنے کا نام ہی نہیں لیتی، تیسرے سال میں میری بیوی کی حالت بہت خراب ہوگئی تو اسے اسپتال میں داخل کروادیا، وہاں وہ مرتے مرتے بچی لیکن ہمارے دونوں طرف کے گھر والوں نے خیریت تک نہ پوچھی کہ وہ زندہ بھی ہے یا مرگئی؟ بہر حال اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ وہ صرف زندہ ہی نہیں بلکہ جسمانی طور پر اچھی خاصی صحت مند بھی ہے، تکلیف صرف اتنی ہے کہ وہ دیکھ نہیں سکتی، اگر کسی چیز کو دیکھنے کی کوشش کرتی ہے تو نظروں کے سامنے جن بھوت آجاتے ہیں جو اسے چوبیس گھنٹے نظر آتے رہتے ہیں، علماءکرام نے بہت کوشش کی ہے کہ وہ حاضر ہوکر بتائیں کہ وہ میری بیوی کے ساتھ کیوں لگے ہوئے ہیں لیکن وہ حاضر نہیں ہوتے اور میری بیوی کے علاوہ کسی اور کو نظر ہی نہیں آتے، اسے کوئی اور تکلیف بھی نہیں دیتے، دورے وغیرہ بھی نہیں پڑتے، صرف ہم دونوں میاں بیوی کو قریب نہیں ہونے دیتے، یہی شک والی بات ہے کہ کوئی ہے جو ہمیں الگ الگ کرنا چاہتا ہے، وہ کون ہے، یہ اللہ بہتر جانتا ہے“۔
جواب: عزیزم! آپ نے اپنے خط میں خاصی گول مول گفتگو کی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی اپنی معلومات بھی میڈیکل کے سلسلے میں خاصی کمزور ہے اور مزید یہ کہ نام نہاد عالموں یا عاملوں نے آپ کے ذہن میں نہایت شدت سے جو بات بٹھادی ہے، اُس پر آپ کو یقین کامل ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ کی بیوی کے ساتھ کچھ نادیدہ قوتیں مصروف کار ہیں،اسی کی مناسبت سے علاج معالجہ بھی ہوتا رہا ہے۔
آپ نے جو حالات بیان کیے ہیں، وہ خاصے تشنہ اور غیر واضح ہےں،مثلاً آپ نے یہ نہیں بتایا کہ وہ شرطیں کیا تھیں جو آپ کے سسرال والے آپ سے چاہتے تھے، حالاں کہ یہ بڑی اہم بات تھی جو آپ کو لکھنا چاہیے تھی، اسی طرح آپ نے یہ بھی نہیں بتایا کہ بیوی کو اسپتال لے جانے کی نوبت کیوں آئی اور اُس وقت وہ کون سی بیماری کا شکار ہوئی جس میں اس کی جان کے لالے پڑگئے، مزید یہ کہ اس دوران میں اسپتال میں اس کا کیا ٹریٹمنٹ کیا گیا؟ وغیرہ وغیرہ۔
بقول آپ کے آپ کی بیوی ان معنوں میں اندھی ہوچکی ہے کہ وہ اگر آنکھیں کھولے تو اُسے جن بھوت قلابازیاں کھاتے نظر آتے ہیں لہٰذا خوف کی وجہ سے وہ آنکھیں ہی نہیں کھولتی اور آپ اس مفروضے پر یقین رکھتے ہوئے کہ واقعی اس کی نظروں کے سامنے جن بھوت آجاتے ہیں، خاموش ہوجاتے ہیں، پھر تو یقیناً دیگر کاموں کے علاوہ اسے اپنی نجی ضروریات مثلاً کھانے پینے ، نہانے دھونے اور دیگر ضروریات سے فارغ ہونے کے لیے بھی آپ کی ضرورت پیش آتی ہوگی، اس حوالے سے آپ نے اپنی کسی پریشانی کا ذکر نہیں کیا، اسی لیے ہم نے عرض کیا ہے کہ آپ کی باتیں خاصی گول مول ٹائپ کی ہیں۔
شاید آپ کا خیال یہ ہو کہ اپنے سسرال والوں کی شرائط قبول نہیں کیں تو انہوں نے کوئی جادوئی کارروائی کی ہو کیوں کہ بقول آپ کے انہیں اپنی بیٹی کی زندگی اور موت سے بھی کوئی دلچسپی نہیں تو آخر ایسا کیا گناہ ان کی بیٹی نے کیا یا آپ سے سرزد ہوا کہ وہ آپ کے خلاف اس حد تک چلے جائیں کہ اپنی بیٹی کی زندگی کو برباد کرنے پر تُل جائیں، رہے آپ کے گھر والے، بقول آپ کے انہیں بھی آپ دونوں کے مرنے جینے سے کوئی دلچسپی نہیں، آخر وہ کیوں آپ سے اس قدر بے زار ہیں؟جب کہ بقول آپ کے یہ شادی دونوں کے والدین کی مرضی سے ہوئی تھی یعنی آپ نے کوئی ایسی لو میرج بھی نہیں کی جس میں دونوں جانب کے خاندان والے مخالف ہوتے! حقیقت یہ ہے کہ آپ کا خط درحقیقت خود ایک معمہ ہے، سمجھنے کا ، نہ سمجھانے کا۔
آپ نے اپنی یا اپنی وائف کی مکمل تاریخ پیدائش وغیرہ بھی نہیں لکھی ورنہ ہم یقیناً آپ کی وائف کی بیماری پر تفصیلی روشنی ڈالتے ، اب صرف اندازہ ہی کیا جاسکتا ہے کہ اصل معاملہ کیا ہوسکتا ہے۔
دنیا میں بے شمار قسم کی عجیب عجیب بیماریاں موجود ہیں جن میں سرفہرست ایک بیماری خوف بھی ہے اور ضروری نہیں ہے کہ خوف کی وجہ کسی خاص نوعیت کی ہو،کاش آپ اپنے سسرال والوں کی شرطیں بھی لکھ دیتے تو آپ کی بیوی کا خوف بھی واضح ہوجاتا، ہمارے خیال سے وہ یقیناً کسی خوف کے زیر اثر آپ سے دور ہوگئی ہے،جہاں تک آنکھیں کھولنے پر جن بھوت نظر آنے کا معاملہ ہے تو یہ فریب نظر حد سے بڑھی ہوئی حساسیت کی ایک شکل ہوسکتی ہے،بعض لوگ پیدائشی طور پر بہت ہی حساس اور وہمی ہوتے ہیں،وہ جس بات کا خیال اپنے ذہن میں بٹھالیں، پھر وہ ذہن سے نہیں نکلتا،ا سی طرح وہ جو بات بھی سوچتے ہیں، وہی ان کو اپنے سامنے نظر آتی ہے،فی الحال ہمارا مشورہ صرف اس قدر ہے کہ اپنی بیوی کا کھانے میں نمک بالکل بند کردیں یعنی کسی بھی قسم کا نمک ان کی خوراک میں شامل نہ ہو، اس کے علاوہ روزانہ نہار منہ ایک کپ عرق گلاب میں تھوڑا سا شہد ملاکر پلادیا کریں، پھر دیکھیں ایک ماہ بعد ان کی حالت میں کیا فرق آتا ہے،اگر آپ اس مسئلے کا اطمینان بخش حل چاہتے ہیں تو بہتر ہوگا کہ براہ راست فون پر رابطہ کریں۔

ہفتہ، 10 دسمبر، 2016

”فوج وہی کرے جو اس کا کام ہے“جنرل باجوہ

”ہم سب کو اختیارات اپنے پاس رکھ کر چوہدری بننے کا شوق ہے“
حادثات و سانحات زندگی کا حصہ ہیں لیکن بعض حادثے یا سانحے ایسے ہوتے ہیں
 جنہیں انسان کبھی فراموش نہیں کرسکتا، 7 دسمبر کو ایسا ہی ایک سانحہ پیش آیا جو پورے پاکستان کے لیے کسی المیے سے کم نہیں، چترال سے اسلام آباد جانے والی فلائٹ نمبر 661 حویلیاں کے قریب حادثے کا شکار ہوگئی، اس میں موجود 47 افراد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے، کراچی سے تعلق رکھنے والے مشہور مبلغ اور نعت خواں جنید جمشید بھی اپنی اہلیہ کے ساتھ طیارے میں سوار تھے، وہ ایک تبلیغی دورے پر چترال گئے ہوئے تھے،واپسی کے سفر میں بالآخر اپنے خالق حقیقی سے جاملے، انا للہ وانا الیہِ راجعون۔
سال 2016 ءجاتے جاتے پاکستان کے بے شمار لوگوں کو ایک نیا غم دے گیا، ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام مرحومین کے اہل خانہ کو صبرجمیل عطا فرمائے، آمین۔
جنرل باجوہ اور کرکٹ
گزشتہ کالم میں ہم نے عرض کیا تھا کہ موجودہ سال کے اگر اہم ترین واقعات پر نظر ڈالی جائے تو پہلا واقعہ پاناما لیکس کا ہے جو تقریباً پورا سال وزیراعظم نواز شریف کے لیے ایک مستقل درد سر بنارہا ہے اور اب تک ان کے لیے پریشانی اور فکر مندی کا باعث ہے،عدالت ان کے حق میں فیصلہ دے یا خلاف، ہر صورت میں اس سارے معاملے میں نقصان انہی کو اٹھانا پڑ رہا ہے کیوں کہ پورا سال ان کی دولت مندی عوام کی نظروں میں ایک سوالیہ نشان بنی رہی ہے اور آئندہ بھی یہ ایک سوالیہ نشان ہی ہوگا۔
دوسرا اہم واقعہ پاکستان آرمی کی ہائی کمان میں تبدیلی ہے،جنرل راحیل شریف کے بعد اب جنرل قمر جاوید باجوہ ہماری مسلح افواج کے سربراہ ہےں۔
گزشتہ کالم میں ہم نے لکھا تھا کہ ہم ان کی تاریخ پیدائش معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ علم نجوم کی روشنی میں یہ معلوم ہوسکے کہ ہمارے نئے چیف آف اسٹاف کس موڈ اور مزاج کے انسان ہیں،اس حوالے سے جب وکی پیڈیا سے رجوع کیا گیا تو ان کی تاریخ پیدائش 2 جنوری 1959 ءسامنے آئی لیکن اسی دوران میں ایک کالم بھی نظر سے گزرا جس کا عنوان تھا ”سرباجوہ“ یہ کالم ملک کے کثیر الاشاعت روزنامے میں شائع ہوا ہے اور جنرل قمر باجوہ کے کسی قریبی دوست ارشاد بھٹی صاحب نے تحریر کیا ہے،انہوں نے تاریخ پیدائش 11 نومبر 1960 ءبیان کی ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ وہ کراچی میں پیدا ہوئے،حالاں کہ ان کی فیملی کا تعلق گکھر منڈی سے ہے،وکی پیڈیا پر پیدائش کا مقام گکھر منڈی ہی بتایا گیا ہے۔
ہم نے جب دونوں تاریخوں کو چیک کیا تو 11 نومبر 1960 ءزیادہ درست معلوم ہوئی،بہر حال جنرل صاحب کے زائچے کے حوالے سے تو فی الحال کوئی بات کرنا مناسب نہیں ہے کیوں کہ ابھی تک پوری طرح تاریخ پیدائش، وقت پیدائش اور مقام پیدائش کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے، البتہ ارشد بھٹی صاحب کا کالم نہایت دلچسپ اور توجہ طلب ہے،انہوں نے جنرل صاحب سے اپنے قریبی بے تکلفانہ مراسم کا ذکر کرتے ہوئے ان کی شخصیت اور مزاج پر بھرپور روشنی ڈالی ہے اور بعض بڑی دلچسپ باتیں بیان کی ہیں،یہ کالم یکم دسمبر کو جنرل صاحب کے فوجی کمان سنبھالنے کے فوری بعد شائع ہوا ہے،ہمیں نہیں معلوم کہ ماضی میں کسی جنرل کی تقرری کے بعد ان کے کسی قریبی دوست یا عزیز نے ایسا کالم لکھا ہو، عموماً صحافی حضرات محدود نوعیت کی معلومات کا اظہار کرتے ہیں لیکن قریبی دوست اور عزیز اس طرح کھل کر نجی معاملات پر اظہار خیال کرنے سے گریز کرتے ہیں،جیسا کہ ارشد بھٹی صاحب نے کیا ہے، آئیے اس کالم کے چیدہ چیدہ اقتباسات پر ایک نظر ڈال لی جائے۔
کالم کا آغاز اس فقرے سے ہورہا ہے ”میں انہیں اکثر کہتا ، کچھ بھی ہو، جیت آخر آپ کی اور لوگوں کی دعاو ¿ں کی ہی ہوگی اور پھر دعاو ¿ں اور عاجزی نے میدان مارلیا“
اس کے بعد بھٹی صاحب نے جنرل صاحب کی زندگی کے چند اہم واقعات جن میں والدہ کی وفات کا واقعہ بھی شامل ہے،بیان کیے ہیں، ایک واقعے میں اپنے ایک فوجی جوان کی شہادت پر وہ بہت افسردہ و غم زدہ نظر آتے ہیں، اسی طرح اپنے یونٹ کے لوگوں سے ان کی گہری وابستگی بھی بعض واقعات سے ظاہر ہوتی ہے،اسی کالم کے ذریعے یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کے والد کرنل اقبال باجوہ تھے جن کا انتقال کوئٹہ میں ہوا،انہوں نے 23 اکتوبر 1980 ءکو آرمی جوائن کی، بعد ازاں کینیڈین فورسز کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج ٹورنٹو سے گریجویشن اور نیول پوسٹ گریجویٹ یونیورسٹی کیلیفورینا سے بھی فارغ التحصیل ہیں، ان کی شادی جنرل اعجاز امجد کی صاحب زادی سے ہوئی۔
بھٹی صاحب لکھتے ہیں کہ ایک روز اپنے فیوچر پلان پر گفتگو کے بعد جب جنرل صاحب خاموش ہوئے تو میں بول پڑا ”اگر آپ چیف بن گئے تو پہلی ترجیح کیا ہوگی؟“
انہوں نے مسکراکر میری طرف دیکھا پھر صوفے سے ٹیک لگاکر کہا ”میں ہسٹری کا اسٹوڈنٹ ہوں، مجھے بخوبی علم ہے کہ جہاں جہاں بھی فوج نے اپنے کام کی بجائے ”کچھ اور“ کیا وہاں مسائل گھٹے نہیں، بڑھے ہیں لہٰذا میری اولین ترجیح ہوگی کہ فوج وہی کرے جو اس کا کام ہے“ یہ کہہ کر وہ رکے اور پھر پچھلے آدھے گھنٹے سے سامنے پڑے قہوے کا کپ اٹھاکر ٹھنڈے قہوے کا گھونٹ بھر کر کہنے لگے ”اگرچہ ہم سب کو اختیارات اپنے پاس رکھ کر چوہدری بننے کا شوق ہے مگر میری خواہش ہوگی کہ اس بار یہ نہ ہو“
ظاہر ہے یہ گفتگو بھٹی صاحب اور جنرل صاحب کے درمیان چیف آف اسٹاف کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے ہوئی ہے اور اس سے ہمارے نئے جنرل صاحب کے خیالات اور نظریات سے آگاہی ہوتی ہے،اسی کالم کے ذریعے یہ بھی معلوم ہوا کہ ٹی وی پروڈیوسر اور پی ٹی وی کے جنرل منیجر جناب رفیق وڑائچ جنرل باجوہ صاحب کے ماموں تھے چناں چہ ان کے گھر آنے والی فنکار برادری سے بھی جنرل صاحب کی خاصی یاد اللہ رہی ہے جن میں اداکار محمد علی اور مصطفیٰ قریشی کی باتیں انہیں اب تک ازبر ہیں، ان کی یاد داشت بہت اچھی ہے،ان کی سب سے بڑی عیاشی کتابیں پڑھنا، کرکٹ کھیلنا اور فیملی کے ساتھ کرکٹ دیکھنا ہے، وہ آرمی کرکٹ ٹیم کی طرف سے پیٹرن ٹرافی کھیل چکے ہیں، بھٹی صاحب مزید لکھتے ہیں کہ وہ برے وقتوں کے اچھے دوست اور ہر وقت ہر کسی کی مدد کے لیے تیار رہنے والے ، وضع دار،کھلے ڈھلے جن میں نہ احساس برتری اور احساس کمتری، وہ جرنیلی میں بھی ویسے ہی ہیں جیسے کپتانی میں، اپنے سپاہیوں کے ساتھ برستی گولیوں میں زمین پر بیٹھ کر کھانا کھانے میں بھی تکلفات کے عادی نہیں ہیں، بے حد سادہ مزاج ہیں، پروفیشنل سولجر ، فوج میں ہر دلعزیز کمانڈر، سچے پاکستانی اور پکے مسلمان، جمہوریت کے حامی، مارشل لاءکو خرابیوں کی جڑ سمجھنے والے انسان ہیں، بھٹی صاحب کا خیال ہے کہ اب ”سول ملٹری“ تعلقات واقعی بہتر ہونے کی امید ہے۔
یہ کالم پڑھ کر ہم نے خدا کا شکر ادا کیا کہ وزیراعظم نواز شریف صاحب نے اس بار یقیناً ایک بہترین انتخاب کیا ہے،ہمارے نئے جنرل باجوہ صاحب جمہوریت پسند ہیں اور مارشل لاءکو ملک و قوم کے لیے بہتر نہیں سمجھتے، ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ”فوج وہی کرے جو اس کا کام ہے“ان کا یہ جملہ بھی ہمارے قومی مزاج کی عکاسی کرتا ہے کہ ”اگرچہ ہم سب کو اختیارات اپنے پاس رکھ کر چوہدری بننے کا شوق ہے“ مزید یہ بھی فرمایا ”میری خواہش ہوگی کہ اس بار یہ نہ ہو“ 
اس خواہش پر ہمیں مرزا غالب کا مشہور مصرع یاد آگیا ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۔
ہمارے لیے اس کالم کا سب سے بڑا انکشاف جنرل صاحب کی کرکٹ سے دلچسپی ہے،وہ خود بھی کرکٹ کے کھلاڑی رہے ہیں اور نہایت ذوق و شوق کے ساتھ کرکٹ میچ دیکھتے ہیں، ان کی فیملی بھی کرکٹ میچ دیکھنے کی شوقین ہے،پاکستان میں ابتدا ہی سے کرکٹ کا کھیل نہایت مقبول رہا ہے اور اس کھیل کے نمایاں ترین کھلاڑیوں میں عمران خان کا نام نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، وہ پاکستان کے پہلے کپتان ہیں جن کی قیادت میں پاکستان ٹیم نے ورلڈ کپ جیتا تھا، اب یہ ہمیں نہیں معلوم کہ کرکٹ کے کھلاڑیوں میں جنرل صاحب کا پسندیدہ کھلاڑی کون رہا ہے؟ایک زمانہ تھا کہ پاکستان کرکٹ میں ماجد خان، ظہیر عباس، آصف اقبال، حنیف محمد، مشتاق محمد، جاوید میانداد وغیرہ پوری قوم کے پسندیدہ کھلاڑی تھے،عمران خان کا نام بھی اس فہرست میں شامل رہا ہے،اگر بھٹی صاحب ان کے پسندیدہ کرکٹر کا نام بھی بتادیتے تو اچھا ہوتا۔
ہمارے وزیراعظم نواز شریف صاحب بھی کرکٹ کے شوقین رہے ہیں اور جس زمانے میں عمران خان کرکٹ کھیل رہے تھے تو وہ انہیں پسند بھی کرتے تھے، لاہور کے کینسر اسپتال کے لیے پلاٹ کی ضرورت پیش آئی تو سنا ہے کہ انہوں نے عمران خان کی مدد کی،اس طرح کرکٹ پسند وزیراعظم کے بعد اب کرکٹ پسند جنرل بھی ہمیں مل گئے ہیں۔
ہمارے ملک میں اہم شخصیات کی درست تاریخ پیدائش معلوم ہونا بڑا دشوار کام ہے،حالاں کہ دنیا بھر میں یہ اتنا مشکل نہیں ہے،جب بھی کوئی نمایاں شخصیت سامنے آتی ہے یا کسی اہم عہدے پر تعینات ہوتی ہے تو اس کی تاریخ پیدائش اخبارات و رسائل میں شائع ہوجاتی ہے،پاکستان میں بھی یہ روایت موجود ہے مگر شائع شدہ تاریخ پیدائش عموماً درست نہیں ہوتی یا ایک سے زیادہ تاریخیں مشہور ہوجاتی ہیں،اس لیے علم نجوم کی روشنی میں مطلوبہ شخصیت پر گفتگو کرنا عموماً ایسا ہی ہوتا ہے جیسے ہوا میںبلّا گھمانا، بہر حال اپنے طور پر ہم کوشش کرتے رہتے ہیں کہ درست تاریخ معلوم ہوسکے لیکن ہماری صحافتی برادری کو اس حوالے سے بھی کردار ادا کرنا چاہیے، جیسے ہی ہم جنرل صاحب کی تاریخ پیدائش سے مطمئن ہوں گے، ضرور ان کے زائچے پر بات کریں گے، فی الحال بھٹی صاحب نے جو تاریخ پیدائش لکھی ہے وہ کافی حد تک درست معلوم ہوتی ہے،ا سے دیکھ کر یہ بات تو یقینی طور پر کہی جاسکتی ہے کہ ان کا شمسی برج عقرب ہے اور قمری برج سرطان ہے، یہ دونوں واٹر سائن ہیں اور بہت حساس، گہری اور پائیدار وابستگی رکھنے والے برج ہیں،برج عقرب غیر معمولی صلاحیتوں اور خوبیوں کا حامل ہے،اس برج کے تحت بڑے بڑے غیر معمولی لوگ پیدا ہوئے ہیں،مثلاً علامہ اقبال، محترم پیر صاحب پگارا (مرحوم)، اداکار شاہ رخ خان، ڈاکٹر کرسچن برناڈ وغیرہ۔
 برج عقرب کی نمایاں خصوصیات میں اپنی کاز سے اور اپنے نظریات سے غیر معمولی وابستگی مشاہدے میں آتی ہے، یہ لوگ بہت گہرے اور ایک نظر میں سمجھ میں نہ آنے والے ،کسی حد تک پراسراریت کے حامل ہوتے ہیں، رازداری کو بڑی اہمیت دیتے ہیں، بے شک انتہائی نرم دل اور رقیق القلب ہوتے ہیں لیکن اپنے نظریاتی اور اصولی معاملات میں اسی قدر سخت اور ثابت قدم بھی ہوتے ہیں، بہترین اور جانثار دوست ہونے کے ساتھ ساتھ بدترین دشمن بھی ثابت ہوسکتے ہیں، جب کسی کام کا ارادہ کرلیں تو اسے ہر قیمت پر پایہءتکمیل تک پہنچاتے ہیں، تحمل مزاجی اور قوت برداشت بلاکی ہوتی ہے،صورت حال خواہ کچھ بھی ہو، آپ ان کے چہرے سے اس کا اندازہ نہیں لگاسکتے،جذبات پر کنٹرول کرنا یہ لوگ خوب جانتے ہیں، فی الحال جنرل صاحب کے بارے میں اتنا ہی کافی سمجھیے، جب تاریخ پیدائش کے حوالے سے مکمل اطمینان ہوجائے گا تو انشاءاللہ بشرط زندگی اس پر مزید گفتگو ہوگی۔
آئیے اپنے سوالات اور ان کے جوابات کی طرف :
پسند کی شادی میں رکاوٹ
شادی فی زمانہ ہر گھر کا نہایت اہم اور تکلیف دہ مسئلہ بن گئی ہے خصوصاً لڑکیوں اور ان کے ماں باپ کے لیے۔ مناسب رشتے آسانی سے دستیاب نہیں ہوتے چنانچہ یہ مسئلہ تقریباً ہر گھر میں کوئی نہ کوئی گمبھیر صورت اختیار کر لیتا ہے اور جب لڑکیوں کی شادی میں تاخیر ہو رہی ہو تو کسی کی پسندیدگی کی نظر یا دو میٹھے ہمدردی کے بول امید کی کرن روشن کر دیتے ہیں۔ ہمارا تجربہ اور مشاہدہ یہ ہے کہ لڑکیوں کی اکثریت سادہ، معصوم اور نرم دل ہوتی ہے۔ ہر نرمی سے بات کرنے والے کو اپنا ہمدرد، خیر خواہ سمجھ بیٹھتی ہے۔ پیار محبت جتانے والے لڑکوں کی باتوں اور وعدوں پر انہیں بہت جلد اعتبار آجاتا ہے۔ ایسی صورت میں اگر گھر والے سمجھائیں بجھائیں تو اس کا الٹا اثر ہوتا ہے۔ آئیے پہلے ایک خط سے کچھ اقتباسات ملاحظہ کیجیے۔
ق۔ ر۔ لکھتی ہیں۔ ”میں ایک لڑکے کو پسند کرتی ہوں لیکن میری شادی اس سے نہیںہو پا رہی ہے۔ کیا میری شادی اس سے ہو جائے گی یا نہیں؟ اگر ہو گی تو کب تک؟ میں بہت پریشان رہتی ہوں۔ آپ بتائیں کیا میرے ستارے گردش میںہیں؟ میرے اچھے دن کب شروع ہوں گے؟ میری شادی اپنوں میں ہو گی یا میری پسند کے لڑکے سے؟ شادی شدہ زندگی کیسی گزرے گی؟“
جواب:۔ عزیزم! تم بہت اچھی اور بہت پیاری بیٹی ہو، ذہین بھی ہو، سلیقہ مند بھی ہو لیکن فطرتاً نادان اور ناسمجھ ہو۔ تہمارے دل میں دنیا بھر کی ہمدردی موجود ہے۔ تمہارا اس لڑکے کا کوئی جوڑ نہیں ہے۔ وہ اپنے مزاج اور فطرت کے اعتبار سے نہایت غیر ذمہ دار اور بہت ہی خود غرضانہ سوچ رکھنے والا ہے۔ آپ دونوں کے مزاجوںمیں بھی زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ تمہارا برج سنبلہ خاکی عنصر رکھتا ہے جب کہ اس کا ہوائی۔ مٹی اور ہوا میں دشمنی ہے۔ اصول فطرت کے مطابق مٹی کی کثرت ہوا کو دھندلا اور کثیف بنا دیتی ہے جب کہ ہوا کی شدت مٹی کو اڑا کر رکھ دیتی ہے۔ ابھی تو ازدواجی زندگی کی حقیقتیں سامنے نہیں آئی ہیں اور آپ دونوں چونکہ زبانی کلامی مراحل میں ایک دوسرے کو پیار کی لوریاں دے رہے ہیں لیکن شادی کے بعد محبت کا بھوت اس وقت اتر جائے گا جب تم جیسی عملی سوچ رکھنے والی لڑکی اس ہوائی قلعے بنانے والے اور محض تصورات کی دنیا میں رہنے والے شخص کا نکما پن دیکھے گی۔ زندگی کی ضرورتیں محض سہانے خواب دیکھنے سے پوری نہیں ہوتیں۔ پیٹ کی آگ محبت کی بارش سے نہیں بجھائی جا سکتی لہٰذا ہمارا مشورہ یہ ہے کہ اس رشتے کے لیے خود کو پریشان اور ہلکان نہ کرو، تمہارا پیدائشی برج سرطان ہے۔ اس حساب سے سیارہ زحل پیدائشی برج سے پانچویں گھر میں ہے جو عقل و شعوراور رومانی دلچسپیوں کا خانہ ہے۔سیارہ زحل طالع سرطان کے لیے منحوس اثر رکھتا ہے، یقیناً کسی خراب وقت میں تم نے یہ تعلق جوڑ لیا ہے جو وہ اس وقت ٹوٹ جائے گا جب فروری 2017 ءمیں زحل اس گھر سے رخصت ہو گا اور خود تمہارے زائچے کے چھٹے گھر میں آجائے گا پھر یقیناً تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہو گا۔ اس عرصے میں کسی اور جگہ بھی اگر گھر والے شادی کے لیے کہہ رہے ہوں تو اس کی بھی تاریخ پیدائش دیکھ لی جائے کہ وہ تم سے موافقت رکھتا ہے یا نہیں کیوں کہ خود تمہارا زائچہ تمہارے شوہر کے حوالے سے کوئی بہت خوش کن بات نہیں بتا رہا کیوں کہ شوہر کی نشان دہی کرنے والا سیارہ مشتری بھی زائچے میں کمزور ہے، اس خرابی کو دور کرنے کے لیے تمہیں لوح مشتری پاس رکھنی چاہیے یا پیلا پکھراج پہننا چاہیے۔
تمہاری شادی میں تاخیر بھی اسی وجہ سے ہو رہی ہے کہ اول تو پیدائش کے زائچے میں زحل زہرہ کو متاثر کر رہا ہے اور دوم یہ کہ حالیہ زائچہ میں زحل پانچویں گھر میں بیٹھا ہے اور ساتویں شادی کے گھر پر اس کی نظر ہے، بہرحال آئندہ سال فروری کے بعد زحل یہاں سے ہٹ جائے گا تو انشاءاﷲ کوئی نئی صورت حال پیدا ہوگی جو شادی کے معاملے میں مددگار ہوگی،زیادہ پریشان نہ ہوں اور اس محبت کو دل کا روگ نہ بناﺅ۔ تم ایسی لڑکی نہیں ہو جو کوئی بڑا روگ پالے جیسے ہی حقیقت کی آنکھیں کھلیں گی تمہیں سنبھلنے میں دیر نہیں لگے گی کیوں کہ بہر حال شمسی برج سنبلہ والوں پر دل کے مقابلے میں دماغ غالب ہوتا ہے اور وہ اچھے برے کی تمیز بھی رکھتے ہیں۔ البتہ پیدائشی برج سرطان والے خاصے حساس اور جذباتی ہوتے ہیں۔
بدنصیبی یا خوش نصیب
ش۔ الف۔ کراچی: عزیزم! آپ کا طویل خط یہاں نقل نہیں کیا جا سکتا اور اس کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ آپ کی بدنصیبی کی داستان کے کچھ اسباب تو خود آپ کے خط میں ہی موجود ہیں یعنی جس طرح آپ کی زندگی کی ابتدا ہوئی وہ آپ کے لیے کیا خود آپ کی والدہ کے لیے بھی کسی سانحے سے کم نہیں تھی۔ یعنی ان کے شوہر کا نہ ہونا اور آپ کا باپ سے محروم ہونا۔ بہرحال آپ کی خوش قسمتی یہ ہے کہ جیسے تیسے پرورش پالی اور جوان ہو گئے۔ اﷲ کی مہربانی سے شادی بھی ہو گئی، صاحب اولاد بھی ہیں۔ اولاد میں بھی اﷲ نے تین بیٹوں سے نوازا ہے۔ جیسے تیسے محنت مزدوری کر کے عزت سے گزارا بھی ہو رہا ہے۔ آگے چل کر بیٹے اگر لائق اور فرمانبردار ہوں گے تو آپ کا بڑھاپا آرام سے گزرے گا۔ اب رہا سوال یہ کہ آپ بدنصیب ہیں یا خوش نصیب اور بدنصیبی اور خوش نصیبی کا پیمانہ کیا ہے؟ کیا صرف دولت دنیا خوش نصیبی کا پیمانہ ہے۔ اس حد تک تو یہ بات درست ہے کہ اتنی دولت بہرحال انسان کی ضرورت ہے جس سے وہ اپنی جائز ضروریات پوری کر سکے اور آپ نے جو اپنی آمدنی لکھی ہے وہ یقیناً ناکافی ہے مگر آمدنی کی کمی کو بدنصیبی نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ یہ تو کسی شخص کی ذاتی کمزوریوں اور نااہلی کی نشانی ہے کیوں کہ اگر انسان اپنی کمزوریوں پر قابو پاکر زیادہ اہلیت حاصل کرے اور مسلسل محنت سے ترقی کرکے کسی اعلیٰ مقام تک پہنچ جائے تو یہ اس کا ذاتی فعل ہے، بے شمار لوگ دنیا میں ایسے گزرے ہیں جن کی ابتدائی زندگی محرومیوں اور مشکلات سے بھری پڑی تھی مگر انہوں نے مسلسل جدوجہد کے بعد خود کو کسی اعلیٰ مقام تک پہنچادیا۔
آپ نے جو اپنی تاریخ پیدائش لکھی ہے وہ اگر صحیح ہے تو ہمیں یہ کہنے میں کوئی جھجک نہیںکہ آپ نے اپنا لڑکپن او نوجوانی یقیناً فضول کاموں میں گزارا ہے۔ اگر تعلیم حاصل کرنے کے مواقع نہ مل سکے تو کوئی اچھا ہنر سیکھنے کی بھی ضرورت نہیں سمجھی جس کی بدولت آپ اپنی معاشی زندگی کو مضبوط اور مستحکم بنا سکتے اور آج عمر کے 50 ویں سال میں کم آمدنی کا مسئلہ پیدا نہ ہوتا،بے شمار لوگوں نے تعلیم کے بغیر بھی کاروباری ترقی کی ہے۔
اس تاریخ پیدائش کے مطابق آپ ایک تفریح پسند، کھلنڈرے، تنک مزاج، جھگڑالو، ناک پر مکھی نہ بیٹھنے دینے والے، اپنے خود ساختہ نظریات، اصولوں اور عقائد کے مالک انسان ہیں اور یہ خصوصیات لڑکپن اور جوانی میں اپنے عروج پر ہوں گی اور ایسی خصوصیات کی موجودگی میں انسان ایک ایسا بے مہار اونٹ بن جاتا ہے جس کی کوئی منزل ہی نہیں ہوتی۔ اسے ہوش اور عقل اس وقت آتی ہے جب عمر کی نقدی ختم ہونے لگتی ہے اور جسمانی توانائیاں ساتھ چھوڑنے لگتی ہیں تو پھر انسان کو خوش قسمتی اور بدقسمتی کا خیال آتا ہے۔
اپنی بعض خامیوں کے باوجود آپ ایک غیر معمولی قوتوں کے حامل انسان ہیں مگر آپ کو درست رہنمائی کی ضرورت ہے۔ آپ نے اس حوالے سے کچھ نہیں لکھا کہ آپ کا پیشہ کیا ہے، ماضی میں کیا کرتے رہے ہیں اور آج کل کیا کر رہے ہیں ورنہ ہم ضرور کوئی مشورہ دیتے۔ بہرحال اگر اب بھی آپ کوئی صحیح راستہ اختیار کر لیں تو آنے والا سال بھی آپ کی زندگی بدل سکتا ہے کیوں کہ آپ کا ستارہ مشتری ہے جو اس سال اور آئندہ سال آپ کے زائچے میں بہتر پوزیشن میں ہوگا اور آپ بدنصیب نہیں خوش نصیب آدمی ہیں لیکن آپ کے اندر منفی سوچیں بہت زیادہ ہیں، ان سے نجات حاصل کریں۔
مسائل ہی مسائل
م۔ ع۔ آرائیں ،لکھتے ہیں ”جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے، مسائل ہی مسائل زندگی میں ہیں۔ مہربانی کر کے زائچے میں دیکھیںکہ میری زندگی میں کوئی کامیابی ہے کہ نہیں؟ اور میرے مسائل حل ہوں گے کہ نہیں؟“
جواب:۔ آپ کا شمسی برج اور قمری برج دونوں ثور ہیں جس کا حاکم سیارہ زہرہ ہے۔ قمر برج ثور میں حالت شرف میں ہوتا ہے اور یہ بڑی خوش قسمتی کی بات ہے۔ ڈبل ثوری ہونے کی وجہ سے آپ کی زندگی کا مقصد اور آپ کا رجحان دولت اور صرف دولت ہے لیکن آپ کا عطارد پیدائش کے وقت بے حد کمزور تھا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کے اندر ذہانت کی کمی ہے۔ اسی لیے آپ نے یہ لکھا ہے کہ جب سے ہوش سنبھالا ہے مسائل ہی مسائل ہیں۔ ہمارے خیال سے تو ابھی آپ نے ہوش سنبھالا ہی نہیں ہے۔ آپ جن مسائل کو اپنے مسائل سمجھ رہے ہیں وہ آپ کے مسائل ہی نہیں ہیں۔ اس عمر میں آپ کا سب سے اہم مسئلہ تعلیم و تربیت ہے اور عطارد کی ناقص پوزیشن ظاہر کر رہی ہے کہ آپ نے اس سلسلے میں یقیناً غفلت برتی ہو گی جس کا الزام آپ شاید دوسروں کو یا حالات کو دیں۔ بہرحال ابھی کچھ نہیں بگڑا۔ آپ کے ہاں صلاحیتوں کی کمی نہیں ہے مستقل مزاجی سے اپنا کیریئر بنانے کی کوشش کریں تو آپ مستقبل میں ایک کامیاب انسان ثابت ہو سکتے ہیں۔ بدھ کے دن کسی سبز چیز کا صدقہ دیا کریں جیسے سبز مونگ کی دال یا ہرے پتوں والی سبزیاں وغیرہ۔ اس کے علاوہ زمرد یا سبز فیروزہ بھی آپ کے لیے ضروری ہے ، لوح عطارد آپ میں ذہانت اور عقل مندی پیدا کرے گی۔
گردشِ وقت
ایچ، اے، کراچی: آپ کے بچوں کی تاریخ پیدائش سے آپ کے ستارے اور برج کا کچھ اندازہ ہو رہا ہے کیوں کہ بچوں کے برج اور ستارے ماں باپ کے برج اور ستاروں سے بڑی مطابقت رکھتے ہیں۔ آپ کے بچوں کی اکثریت شمسی یا قمری حوالے سے برج حمل کے زیر اثر ہےں، گویا اس اعتبار سے آپ اور آپ کا پورا خاندان سیارہ زحل کے ناقص ٹرانزٹ کا شکار ہے جس کی وجہ سے کاموں میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے،انشاءاللہ آئندہ سال فروری سے جون تک صورت حال بہتر ہوگی اور پھر مزید چند مہینے کے لیے رکاوٹیں دوبارہ پیدا ہوں گی اور دسمبر سے اس خراب اور ناموافق صورت حال سے جان چھوٹ جائے گی، اخراجات پر کنٹرول کریں، معلوم ہوتا ہے کہ آپ پورا گھرانہ شاہانہ مزاج کا حامل ہے، صرف ایک لڑکی جو دوسرے نمبر کی ہے جس کا برج جدی ہے، وہی کفایت شعار اور نظم و ضبط والی ہے۔ بہر حال ہفتہ کے دن صدقہ دینا شروع کر دیں اور اسمائے الٰہی ”یافَتّاحُ یا رَزّاقُ “ 99 مرتبہ روزانہ پڑھیں،کاروباری معاملات میں زیادہ ڈیوٹی فل ہو جائیں اور تمام نظم و ضبط اپنے ہاتھ میں لیں، دوسروں پر زیادہ اعتبار نہ کریں، اندازوں یا قیاسات کی بنیاد پر کوئی کام نہ کریں تو انشاءاﷲ جلد صورت حال پر قابو پا لیں گے۔
درست جاب نہیں ہے
کے، کے ، کراچی : عزیزم! آپ کا اسم اعظم یہ ہے۔ یا رَحمن الفَتّاحُ الکَافِی الصَّمدُ۔ اسے نوچندے بدھ سے 1125 مرتبہ اول و آخر درود شریف کے ساتھ روزانہ پڑھیں اور اپنے مقاصد کے لیے دعا کریں، اس کے علاوہ گھر پر پرندوں کو دانا پانی ڈالنے کا مستقل انتظام کریں، انشاءاﷲ حالات کی سختی ختم ہو جائے گی اور رزق میں اضافہ ہو گا۔

ہفتہ، 3 دسمبر، 2016

ورد و وظائف میں پرہیز اور کسی ردّعمل کا خوف

دسمبر کا تیسرا ہفتہ وزیراعظم اور کابینہ کے لیے بھاری ہوسکتا ہے
اگر اس سال کے دو بڑے واقعات کی نشان دہی کی جائے جو پاکستانی سیاست کے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہوسکتے ہیں تو سرفہرست پانامالیکس اور جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کو شمار کیا جائے گا کیوں کہ آخری وقت تک لوگ ان کی ایکسٹینشن کی آس لگائے بیٹھتے تھے،حالاں کہ وہ اس حوالے سے واضح تردید بہت پہلے کرچکے تھے، نئے جنرل کی آمد کو ایک بڑی تبدیلی اور بڑا واقعہ کہنا چاہیے۔
 پاناما لیکس کا آغاز غالباً اپریل میں ہوا تھا اور اختتام تاحال نہیں ہوسکا ہے،کئی مراحل سے گزرنے کے بعد یہ کیس اب سپریم کورٹ میں پہنچ چکا ہے،فریقین اپنی اپنی کامیابیوں اور دوسرے کی ناکامیوں کا ڈھندورا پیٹ رہے ہیں، گزشتہ سماعت کے دوران میں یہ ڈھنڈورا اس طرح پیٹا گیا کہ تحریک انصاف کے وکیل جو نہایت قابل اور ملک کے نامور وکیل ہیں، کیس سے دستبردار ہوگئے، اس بار 30 ستمبر کی سماعت میں تحریک انصاف والے خوش نظر آتے ہیں، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔
قصہ مختصر یہ کہ سال 2016 ءکے تقریباً 8 مہینے پانامالیکس کی نذر ہوچکے ہیں اور ابھی تک یہ طے نہیں ہوسکا کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے؟ اس ساری ہنگامہ آرائی میں عمران خان اور اپوزیشن کے لیے تو بہت سے خوش گوار اور دلچسپ پہلو موجود ہیں لیکن ہمارے محترم وزیراعظم اور ن لیگ کے لیے یہ ایک ناسور بن چکا ہے کہ اسے جتنا بھی کریدا جارہا ہے،اتناہی پُرتعفن مواد ابلتا چلا جارہا ہے۔
30 نومبر کی سماعت کے بعد صورت حال نے ایک نئی کروٹ بدل لی ہے،جسے دیکھتے ہوئے پاکستان کے ایک نامور سیاسی تجزیہ کار اور وزیراعظم کے مشیر بے محکمہ نے جو ایک بڑے چینل پر پروگرام کرتے ہیں، شاید کسی خطرے کی بو سونگھ لی ہے لہٰذا یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ اب یقیناً عدالت کوئی کمیشن بنادے گی اور اس جنجال پورے سے اپنی جان چھڑائے گی،وہ یہ بات خوب جانتے ہیں کہ کمیشن بننے کا مطلب یہ ہے کہ معاملہ مہینوں نہیں بلکہ سالوں پر پھیل سکتا ہے اور سابقہ ریکارڈ کے مطابق نتیجہ کچھ بھی برآمد نہیں ہوگا،اس کے برعکس تحریک انصاف کے ایک فاضل وکیل جناب ڈاکٹر بابر اعوان ایک پروگرام میں کمیشن کی مخالفت کرچکے ہیں اور ان کا مو ¿قف یہی تھا کہ جب کسی معاملے کو سرد خانے کی نذر کرنا ہو تو کوئی کمیٹی یا کمیشن بنادینا چاہیے۔
دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ موجودہ چیف جسٹس صاحب بھی دسمبر کے آخر میں ریٹائر ہورہے ہیں، کیا یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ اس مقدمے کا فیصلہ ان کی ریٹائرمنٹ سے پہلے ہوسکے گا؟اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس وقت پورے پاکستان کی نظر اس مقدمے پر لگی ہوئی ہے اور لوگ نہایت بے چینی سے کسی فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں، بقول غالب 
عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب
دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہونے تک
عزیزان من! شاید آپ کو یاد ہو 5 جون 2013 ءکو شام تقریباً ساڑھے پانچ بجے جب نواز شریف صاحب نے بہ حیثیت وزیراعظم اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا تو ہم نے ”زائچہ ءحلف“ پر اظہار خیال کرتے ہوئے عرض کیا تھا کہ یہ حلف کسی شُبھ گھڑی میں نہیں اٹھایا گیا اور یہ بھی مشورہ دیا تھا کہ اگر دوبارہ حلف کسی مناسب وقت پر لے لیا جائے تو کوئی مزائقہ نہیں ہوگا، اس حوالے سے صدر اوباما کی مثال بھی دی گئی تھی کہ وہ بھی دو بار حلف اٹھاچکے ہیں،حقیقت یہ ہے کہ حلف کا وقت انتہائی ناموزوں تھا، ایسٹرولوجی میں کسی اچھے یا برے وقت کی بڑی اہمیت ہے اور اچھے یا برے وقت کی نشان دہی صرف علم نجوم کے ذریعے ہی ممکن ہے،چناں چہ اگر ہم حلف اٹھانے کے بعد سے اب تک کہ واقعات پر نظر ڈالیں تو وزیراعظم صاحب مسلسل مشکلات اور پریشانیوں کا شکار نظر آتے ہیں،ان مشکلات کا آغاز 2014 ءسے ہی ہوگیا تھا اور تاحال جاری ہے اور 14 نومبر 2018 ءتک جاری رہے گا، گویا اگر بقول ن لیگ آئندہ الیکشن 2018 ءمیں ہونے ہیں تو وزیراعظم کے لیے نئے الیکشن کے حوالے سے بھی مشکلات اور سختیاں موجود ہوں گی جن سے عہدہ برآ ہونا شاید ان کے لیے ممکن نہ رہے،چوتھی بار وزیراعظم تو کیا وہ شاید اسمبلی کے ممبر بھی نہ بن سکیں۔
وزیراعظم کی ایک مشکل تو 29 نومبر کو آسان ہوگئی،جب بہ خیرو خوبی فوجی کمان کی تبدیلی کا عمل مکمل ہوا کیوں کہ جنرل راحیل شریف کی مقبولیت اور ان کی ایکسٹینشن بھی ایک مسئلہ تھی، حالاں کہ وہ اس سال کے شروع ہی میں کہہ چکے تھے کہ وہ ایکسٹینشن نہیں لیں گے،پھر بھی شاید ان کے بعض مشیر مطمئن نہیں تھے، اب نئے جنرل قمر جاوید باجوہ بھی حسب معمول انہی کا انتخاب ہیں، تاحال ہمیں ان کی درست تاریخ پیدائش وغیرہ حاصل نہیں ہوسکی ہے کہ ان کے زائچے پر کوئی اظہار خیال کیا جاسکے۔
دسمبر کی فلکیاتی صورت حال میں ہم نے عرض کیا تھا کہ اس مہینے میں تقریباً 11 دسمبر سے 20 دسمبر تک کا وقت وزیراعظم پاکستان کے لیے زیادہ سخت ہوگا، اس وقت کوئی ایسی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے جسے سنبھالنا خاصا مشکل ہوجائے، واللہ اعلم بالصواب۔
آئیے ایک اہم خط کی جانب:
ورد و وظائف میں پرہیز
ایک بہن لکھتی ہیں جن کا نام و مقام شائع کرنا ہم ضروری نہیں سمجھتے ”میرے خط لکھنے کی وجہ یہ ہے کہ بہت پہلے آپ نے اسم اعظم معلوم کرنے کا طریقہ بتایا تھا اور میں نے بھی کوشش کرکے اپنا اسم اعظم آپ کے دیے ہوئے طریقے کے مطابق نکالا تھا، بعد ازاں پابندی سے اس کا ورد کیا اور تاحال یہ سلسلہ جاری ہے،بے شک اس کے فوائد بھی میں نے محسوس کیے ہیں لیکن اسی دوران میں ایک اور صاحب نے یہ لکھا ہے کہ اسم اعظم کا نقش مشک اور آب زمزم سے لکھ کر پاس رکھنا ضروری ہے،نیز ورد میں کوئی غلطی یا ناغہ یا زیروزبر کی غلطی سے شدید ردعمل ظاہر ہوتا ہے،بجائے فائدے کے نقصان ہوجاتا ہے، اس کے علاوہ جلالی و جمالی پرہیز بھی ضروری ہے، آپ کی طرف سے ایسی کوئی ہدایت موجود نہیں تھی، امید ہے کہ وضاحت فرمائیں گے تاکہ شکوک و شبہات دور ہوکر ذہن کو سکون ہوجائے، آپ خود اس معاملے کی اہمیت ہم سے بہتر سمجھ سکتے ہیں،ایک زحمت آپ کو یہ دے رہی ہوں کہ میں نے جو اپنے لیے اسمائے الٰہی منتخب کیے وہ تفصیل سے آپ کو لکھ رہی ہوں، آپ صرف یہ بتادیں کہ مجھ سے کوئی غلطی تو نہیں ہوئی،ایک بار پھر آپ کے لیے دعائے خیر کرتے ہوئے درخواست کرتی ہوں کہ اس سلسلے میں یہ بھی رہنمائی فرمادیں کہ اس کا کھلا ورد کسی خاص شرط کا پابند تو نہیں ہے؟نیز جن لوگوں نے اسے اپنے نام کی اعداد کی مقدار میں پڑھا ہے وہ کھلا ورد کرسکتے ہیں اور کس طرح ؟امید رکھتی ہوں کہ قریبی اشاعت میں میرے سوالوں کے جواب عنایت فرمائیں گے“
جواب: عزیز بہن! آپ نے اسمائے الٰہی سے جو فیض حاصل کیا اس کے لیے مبارک باد، اسم اعظم کے حوالے سے آپ نے کسی صاحب کی جو رائے لکھی ہے،وہ درست نہیں ہے،اکثر لوگ ایسی باتیں اس لیے بھی لکھتے ہیں کہ ان سے رجوع کیا جائے کیوں کہ مشک وغیرہ عام آدمی کہاں سے لائے گا؟ آج کے زمانے میں مشک ایک نہایت قیمتی شے ہے اور آسانی سے دستیاب بھی نہیں ہوتا، دوسری بات یہ ہے کہ ہر شخص نقش وغیرہ تیار کرنے کے قواعد بھی نہیں جانتا، اگر جانتا ہو یا جان لے تو اپنے لیے خود نقش بناسکتا ہے، اس سلسلے میں مشک کی ضرورت نہیں ہے بلکہ زعفران اور عرق گلاب سے بھی لکھا جاسکتا ہے،اسی طرح کسی غلطی یا ناغے کی صورت میں شدید رد عمل سے ڈرانا ، فائدے کے بجائے نقصان کا خوف دلانا، جلالی و جمالی پرہیز کی خصوصی شرائط عائد کرنا، یہ تمام باتیں صرف اور صرف اس لیے ہیں کہ ضرورت مند گھبراکر لکھنے والے سے رابطہ کریں، امید ہے کہ اس وضاحت سے آپ مطمئن ہوگئی ہوں گی۔
اب ذرا اس مسئلے کو سمجھ لیجیے کہ کوئی چھوٹی موٹی غلطی کیا اہمیت رکھتی ہے اور یہ اہمیت کس جگہ مو ¿ثر ہے اور کس جگہ غیر مو ¿ثر ، اس کے علاوہ کسی بھی ورد یا وظیفے یا عمل میں رجعت یا شدید ردعمل ظاہر ہونے کا خوف کہاں ہے اور کہاں نہیں؟ پرہیز جلالی و جمالی کہاں ضروری ہوتا ہے اور کہاں غیر ضروری؟ 
ایسے تمام اعمال ، ورد و وظائف جو انسان اپنی جائز اور حقیقی ضروریات کے تحت اللہ سے استعانت کے لیے اختیار کرتا ہے، ان میں قبولیت اور اثر پذیری کا معاملہ انسان کی نیت اور ضرورت کی درستگی، نیز مقصد کی سچائی اور طلب و لگن سے مشروط ہوتا ہے،چھوٹی موٹی غلطیاں اس پر اثر انداز نہیں ہوتیں کیوں کہ وہ قبول کرنے والا ، مشکل حل کرنے والا، نیتوں کے حال جاننے والا، ہماری ضروریات کے جائز و ناجائز فیصلہ کرنے والا، ہماری تمام کمزوریوں اور خوبیوں سے بہ خوبی واقف ہے، وہ ہماری دعا کو قبول کرتا ہے اور اس کے بعد ہمیں وہی کچھ دیتا ہے جو ہمارے لیے بہتر ہے،جب کہ ہم نہیں جانتے کہ ہمارے لیے کیا بہتر ہے؟ لہٰذا ایسے اعمال و وظائف میں کسی رجعت یا شدید ردعمل کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا جس میں انسان اپنی جائز ضروریات کے لیے کسی بھی طریقے سے اپنے رب کو پکار رہا ہو،نہ ہی ایسے اعمال و وظائف کے لیے کسی جلال و جمالی پرہیز کی ضرورت ہوتی ہے،ہاں! البتہ کچا لہسن پیاز کھانے سے اس لیے منع کیا جاتا ہے کہ ان کی بو دیر تک قائم رہتی ہے اور ملائکہ کو بھی ناپسند ہے،حضور اکرم نے فرمایا کہ کچا لہسن پیاز کھاکر ہماری مسجد میں نہ آئیں، اس کی بو سے ملائکہ کو تکلیف ہوتی ہے،اس ارشادِ رسول اکرم کی روشنی میں ہم سمجھتے ہیں کہ جو لوگ اللہ کے بابرکت ناموں کا ورد کرتے ہیں یا دیگر کلام الٰہی اکثر اپنے ورد میں رکھتے ہیں، انہیں کچے لہسن پیاز سے پرہیز کرنا چاہیے،بس اتنی سی بات ہے، پرہیز کے معاملے میں۔
اب ذرا یہ مسئلہ بھی سمجھ لیجیے کہ پرہیز اور کوئی چھوٹی سی غلطی بھی کون سے عملیات و وظائف میں سخت نقصان دہ ثابت ہوتی ہے،سب سے پہلے اس ذیل میں وہ اعمال و وظائف آتے ہیں جن کے ذریعے انسان سپر نیچورل قوتوں کے حصول کے لیے سرگرداں ہوتا ہے یعنی کوئی شخص جنات، ہمزاد، کسی مو ¿کل یا کسی اور نوعیت کی روحانی قوتوں کے حصول کے لیے کوشش کر رہا ہو یا کسی ناممکن ایسی خواہش کی تکمیل کے لیے عمل و وظائف کر رہا ہو جن کا وہ اہل ہی نہیں ہے، استحقاق ہی نہیں رکھتا، مثلاً ایک شخص اہلیت نہ رکھتے ہوئے بھی ملک کا وزیراعظم بننے کے لیے چلّے وظائف شروع کردے یا کسی اور بڑے عہدے کا حصول اس کا مقصد ہو،لاٹری، ریس، سٹّہ وغیرہ میں جیتنے والے نمبروں کا حصول پیش نظر ہو، کسی کی محبت میں پاگل ہوکر ایسے وظیفے اور چلّے اسے حاصل کرنے کے لیے شروع کردے جب کہ دنیاوی طور پر وہ اس کا حق نہ رکھتا ہو یا وہ لڑکی یا اس کے والدین اسے صحیح نہ سمجھتے ہوں جس کی وجہ سے رشتہ دینے سے انکاری ہوں، المختصر بات اتنی ہے کہ اگر آپ اپنی جائز اور حقیقی ضرورت و پریشانیوں کے لیے اللہ سے اس کے کلام یا اسمائے الٰہی کے ذریعے دست بہ دعا ہوتے ہیں تو آپ کو کسی خاص پرہیز کی ضرورت نہیں ہے، نہ ہی کسی بات کا خوف ہونا چاہیے جب کہ اس کے برعکس صورت حال میں معاملہ برعکس ہوگا۔
محبت اور شادی وغیرہ کے حوالے سے جو اشارہ دیا گیا ہے اسے مزید وضاحت سے سمجھنے کی ضرورت ہے،یاد رکھیں کہ آپ اپنی ذات اور اپنی ذات سے متعلق مسائل کی حد تک آزاد ہیں،آپ کو تمام اختیارات حاصل ہیں لیکن جب معاملہ یا مسئلہ کسی دوسرے فریق سے منسلک ہوجائے تو پھر بات مختلف ہوجاتی ہے مثلاً اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنی پسند کی جگہ شادی کرے اور وہاں اس کی شادی نہیں ہورہی اور شادی نہ ہونے کی وجوہات میں دوسرے فریق یا اس کے لواحقین (والد، والدہ، بھائی، بہن) کا راضی نہ ہونا شامل ہے،ایسی صورت میں اس معاملے کو صرف فریق اول کا نجی اور ذاتی معاملہ قرار نہیں دیا جاسکتا اور نہ ہی اسے یہ حق دیا جاسکتا ہے کہ وہ کسی کی مرضی کے خلاف کسی بھی ذریعے سے کوئی اقدام کرے، اگر وہ ایسا کرے گا تو نقصان کا موجب ہوسکتا ہے،اسی طرح عملیات و وظائف کے ذریعے اپنے مخالفین اور ناپسندیدہ افراد کے خلاف کوئی کارروائی کرنا اکثر اوقات خود اپنے حق میں سخت نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے، بے شک آپ کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے مگر محض کسی مفروضے اور قیاس کی بنیاد پر دوسروں کو دشمن سمجھ کر ان کے خلاف جارحانہ کارروائی کرنا کسی صورت بھی جائز نہیں ہوسکتا بلکہ خود اپنے لیے نقصان و تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔
عزیزم! آپ نے اپنے لیے درست اسمائے الٰہی منتخب کیے ہیں، بے خوف و خطر انہیں اپنے ورد میں رکھیں، باضابطہ پڑھنے کا طریقہ ہم پہلے تفصیل سے سمجھا چکے ہیں،کھلے ورد کے لیے کوئی قید نہیں، اٹھتے، بیٹھتے، چلتے، پھرتے فرصت کے اوقات میں کھلا ورد کیجیے، جن بنیادی باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے، ان سے ہر مسلمان خود آگاہ ہوتا ہے یعنی پاک صاف رہا کرے اور پاکی کی حالت میں ہی اسمائے الٰہی اور کلام الٰہی کا ورد جائز ہے۔

اتوار، 27 نومبر، 2016

دسمبر کی فلکیاتی پوزیشن، ایک مثبت اثر مہینہ

زحل اور یورینس کے درمیان زاویہ ایک نئے سماجی انقلاب کا نشان
آخر سال 2016 ءبھی اپنی انتہا کو پہنچ گیا، اپنے پیچھے بہت سی کہانیاں ، بہت سے ہنگامے چھوڑ کر جانے والا موجودہ سال تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہوجائے گا، یہ کہنا تو بہت عجیب محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کے لیے ایک ہنگامہ خیز سال تھا کیوں کہ 2007 ءسے اب تک کون سا سال ایسا تھا جو ہنگامہ خیز نہیں تھا، اس سال کا سب سے بڑا ہنگامہ پاناما لیکس کی صورت میں نمودار ہوا اور تاحال جاری ہے اور اب پاکستانی عوام کی نظریں سپریم کورٹ پر لگی ہوئی ہیں دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گوہر ہونے تک۔
اسی سال کشمیر کی غیر معمولی صورت حال کے باعث انڈوپاکستان تعلقات میں کشیدگی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ سرحدوں پر مستقل جھڑپیں جاری ہیں، حکومت کا حال یہ ہے کہ پانامالیکس کے مسائل میں اس بری طرح الجھی ہے کہ اسے اپنا ہوش نہیں ہے،عالمی سطح پر پاکستان کو تنہا کرنے کی کوششوں میں بھارت خاصی حد تک کامیاب ہوچکا ہے،کشمیری مسئلے کی طرف سے توجہ ہٹانے کے لیے اس نے سرحدوں پر چھیڑ چھاڑ شروع کررکھی ہے،ہم کسی بھی عالمی پلیٹ فارم پر اس حوالے سے کوئی مو ¿ثر جوابی کارروائی کرنے کے اہل نہیں ہیں، وجہ صاف ظاہر ہے ، داخلی مسائل ہمیں اس کا موقع ہی نہیں دے رہے، اس موقع پر ہمارے وزیراعظم صاحب کو بہر حال یہ سوچنا ہوگا کہ پاناما لیکس کے معاملے کو اس قدر طول دے کر انہوں نے جو شہرت حاصل کی ہے، وہ مستقبل میں ان کے سیاسی مقام و مرتبے کے لیے کس قدر سود مند ہوگی، اس سے قطع نظر کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ان کے حق میں آئے یا خلاف، عوام ایسے فیصلوں کو اپنی مخصوص عینک سے دیکھتے ہیں اور صحیح یا غلط کا فیصلہ اپنی اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق کرتے ہیں، بے شک کورٹ کے فیصلے قانونی تقاضوں کے مطابق ہوتے ہیں لیکن عوامی فیصلے عوامی سوچ کے مطابق ہوتے ہیں۔
سال کا آخری مہینہ دسمبر میں فلکیاتی سیاروی کونسل کے مثبت اثرات کا حامل ہے، بے شک اس ماہ بعض سخت اور نحس اثرات بھی سامنے آئیں گے، خصوصاً حکومت کے لیے 12 دسمبر سے تقریباً 20 دسمبر تک کا وقت پریشان کن ہوسکتا ہے، اس عرصے میں حکومت اپنی ساکھ کھوسکتی ہے لیکن ایسی چیزوں کی بہر حال حکومت کو کوئی فکر نہیں ہوتی بلکہ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ پاکستانی سیاست میں ساکھ اور کردار وغیرہ کی زیادہ اہمیت ویسے بھی نہیں ہے،بہر حال مجموعی طور پر دسمبر کا مہینہ مثبت فیصلوں اور اقدام کا مہینہ ہوگا۔
دانش ور جنرل راحیل شریف کے حوالے سے ہم نے ان کے زائچے کے تجزیے میں لکھا تھا کہ وہ ایک امن پسند اور شریف النفس میزانی ہیں، تنازعات کو پسند نہیں کرتے، اگر انہوں نے مزید اس عہدے پر رہنا ضروری خیال کیا تو ان کی ایکسٹینشن میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی لیکن اگر وہ خود ہی بروقت ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کرلیں تو انہیں کوئی روک بھی نہیں سکے گا، چناں چہ انہوں نے ایسا ہی کیا، تقریباً سال بھر پہلے ہی انہوں نے اعلان کردیا تھا کہ میں ایکسٹینشن نہیں لوں گا، ہم نے انہیں دانش ور جنرل لکھا تھا، یہ ان کی دانش وری کا ثبوت ہے کہ انہوں نے پاکستانی سیاست کے موجودہ ”گند خانے“ میں زیادہ عرصہ رہنا پسند نہیں کیا اور نہایت شریفانہ طور پر اور باوقار انداز میں رخصت ہونا مناسب خیال کیا، ہم انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔
 دسمبر کا مہینہ امریکا کے لیے اور خاص طور پر موجودہ صدر یا منتخب صدر کے حوالے سے مشکلات کا مہینہ ہوگا، معیشت ، عوامی مسائل اور موجودہ الیکشن سے متعلق کچھ متنازع معاملات اس مہینے میں اہمیت اختیار کریں گے،ڈالر کی پوزیشن کمزور ہوسکتی ہے۔
دسمبر کے ستارے
حکومت و اختیار کا ستارہ سیارہ شمس آتشی برج قوس میں حرکت کر رہا ہے،21 دسمبر کو برج جدی میں داخل ہوگا، پیغام رساں عطارد بھی برج قوس میں ہے، 3 دسمبر کو برج جدی میں داخل ہوگا اور 19 دسمبر کو اپنی الٹی چال پر آجائے گا یعنی اسے رجعت ہوگی، توازن اور ہم آہنگی کا سیارہ زہرہ برج جدی میں ہے، 7 دسمبر کو برج دلو میں داخل ہوگا، قوت و توانائی کا مظہر سیارہ مریخ برج دلو میں حرکت کر رہا ہے، 19 دسمبر کو آبی برج حوت میں داخل ہوگا، علم و دانش کا سیارہ مشتری برج میزان میں سارا ماہ رہے گا، اسی طرح سیارہ زحل سارا ماہ برج قوس میں حرکت کرے گا، ایجادات کا سیارہ یورینس برج حمل میں بحالت رجعت حرکت کر رہا ہے، 29 دسمبر کو مستقیم ہوکر اپنی سیدھی چال پر آجائے گا، پراسرار نیپچون اس ماہ بھی برج حوت میں اپنی سیدھی چال پر ہوگا اور سیارہ پلوٹو برج جدی میں، راس و ذنب بالترتیب برج حوت اور سنبلہ میں حرکت کر رہے ہیں۔
شرف قمر 
اس ماہ چاند اپنے درجہ ءشرف پر 10 دسمبر کو 08:58 pm سے 10:35p m تک ہوگا، اس مبارک وقت میں اسمائے الٰہی یا رحمن یا رحیم 556 مرتبہ اول آخر گیارہ بار درود شریف کے ساتھ پڑھ کر اپنے جائز مقاصد کے لیے دعا کریں، انشاءاللہ کامیابی ہوگی، اس کے علاوہ اگر اس وقت میں بسم اللہ الرحمن الرحیم 786 مرتبہ اول آخر گیارہ بار درود شریف کے ساتھ پڑھ کر کچھ چینی پر دم کرلیں اور یہ چینی گھر میں استعمال ہونے والی چینی میں ملادیں تاکہ گھر کے تمام افراد یہی چینی استعمال کریں، جب چینی ختم ہونے لگے تو مزید چینی منگواکر اس میں شامل کردیا کریں، اس عمل سے تمام اہل خانہ کے درمیان محبت و اتفاق پیدا ہوگا اور جن گھروں میں نفسا نفسی اور باہمی طور پر اختلاف رائے رہتا ہے،وہ انشاءاللہ ختم ہوجائے گا۔
قمر در عقرب
اس ماہ قمر در عقرب کا آغاز پاکستان اسٹینڈرڈ کے مطابق 23 دسمبر شام 07:32 pm سے ہوگا اور قمر اپنے ہبوط کے برج میں 26 دسمبر 08:18 am تک رہے گا لیکن درجہ ءہبوط پر 23 دسمبر کو رات 11:38 pm سے 24 دسمبر 01:39 am تک رہے گا، یہ انتہائی نحوست کا وقت ہوگا، اس وقت میں نحس کاموں کے لیے عمل کیے جاتے ہیں، مثلاً بری عادتوں یا حرکتوں سے نجات کے لیے بندش کے عمل، عام طور پر لوگ خاندان میں یا دفتر میں حسد یا کسی بھی وجہ سے مخالف ہوجاتے ہیں اور پھر دوسروں کے خلاف ماحول کو خراب کرتے ہیں، یہ صورت حال عام ہے اور ہمارے خیال میں تو ملک یا بیرون ملک کہیں بھی اس مصیبت سے نجات نہیں ہے، اس بار ایک وظیفہ ایسے لوگوں سے نجات کے لیے دیا جارہا ہے۔
اگر کوئی شخص خاندان میں یا آپ کے آفس میں آپ کے خلاف ہے اور آپ کی برائی اور مخالفت میں حد سے بڑھ گیا ہے،اندیشہ ہے کہ آپ کو کسی نہ کسی طور پر نقصان پہنچاسکتا ہے تو قمر در عقرب کا جو وقت درجہ ءہبوط کا دیا گیا ہے اس وقت میں درج ذیل وظیفہ پڑھ کر اللہ سے دعا کریں، انشاءاللہ ایک ہی بار پڑھنے سے مسئلہ حل ہوجائے گا۔
باوضو ہوکر قبلہ رُخ بیٹھیں اور گیارہ بار درود شریف کے بعد 543 مرتبہ درج ذیل آیات نام مع والدہ کے ساتھ پڑھیں بعد ازاں پھر گیارہ بار درود شریف پڑھ کر دعا مانگیں۔
وَجَعلنَا مِن بَین اَیدِیھِم سدّاً وَمِن خَلفِھِم سدّاً فَاَغ ±شَینَاھُم فَھُم لایُبصِرون، صُمُ بُکمُ عُمیُ فَھُم لایَنطِقُون صُمُ بُکُم عُمیُ فَھُم لایَرجِعُون عَقَدَت لِسانِھُم وَسدَدت اَفواھِہِم فلاں بن فلاں 
آخر میں فلاں بن فلاں کی جگہ مخالف کا نام مع والدہ یا نام مع عہدہ لیں۔
نظرات و اثراتِ سیارگان
ہر ماہ ہماری کہکشاں میں گردش کرتے ہوئے سیارگان جو اپنے اپنے دائروں میں گھوم رہے ہیں، باہمی طور پر ایک دوسرے سے مختلف جیومیٹریکل زاویے تشکیل دیتے ہیں، ان زاویوں کی ماہرین فلکیات کی نظر میں بڑی اہمیت ہے، ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مختلف اثرات کرئہ ارض پر اور تمام جانداروں پر کسی نہ کسی طور اثر انداز ہوتے ہیں، دسمبر میں اہم سیارگان کے درمیان تثلیث کے چار زاویے جب کہ تسدیس کے 9 زاویے تشکیل پائیں گے، یہ سعد زاویے ہیں، تربیع کا ایک زاویہ اور مقابلے کے دو زاویے ہوں گے جو نحس اثرات رکھتے ہیں، جب کہ قران کے دو زاویے ہوں گے، یہ بھی نحس اثرات کے حامل ہیں، آئیے ترتیب وار ان زاویوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
یکم دسمبر: شمس اور نیپچون کے درمیان تربیع کا زاویہ جو اس ماہ تربیع کا واحد زاویہ ہے،نہایت منحوس اثر رکھتا ہے،خصوصاً صاحب حیثیت اور عہدہ و مرتبہ رکھنے والے لوگوں کے لیے پریشانی لاتا ہے،پاکستان میں یا دنیا بھر میں صاحب اقتدار افراد اس زاویے کی نحوست کا شکار ہوسکتے ہیں،عام افراد اس دوران میں گورنمنٹ سے متعلق معاملات میں پریشانی کا شکار ہوں گے،ان کے کاموں میں رکاوٹ یا ایسی پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں جن کا کوئی حل فوری طور پر سمجھ میں نہ آسکے۔
2 دسمبر: مریخ اور مشتری کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ ٹیکنیکل نوعیت کے کاموں میں مددگار اور معاون ثابت ہوگا، مشینری سے متعلق کام یا کاروبار فائدہ بخش ثابت ہوں گے،ٹیکنیکل تعلیم یا ضروری معلومات کا حصول آسان ہوگا۔
7 دسمبر: مریخ اور یورینس کے درمیان تسدیس کا سعد زاویہ مشینری ، الیکٹرونکس کی اشیا ، انٹرنیٹ وغیرہ کے معاملات میں نئے رجحانات اور نئی ایجادات سامنے لائے گا، یہ وقت اکثر کاموں اور معاملات میں نیا حوصلہ اور ہمت دیتا ہے، ایسے فیصلے جو اب تک آپ کرنے سے ہچکچارہے ہوں، اس وقت میں اچانک سامنے آسکتے ہیں، اس وقت میں بعض دھوکا دینے والی یا فریبی باتیں یا اطلاعات سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے،ممکن ہے جو کچھ آپ دیکھ رہے ہوں یا سن رہے ہوں ، اس کے پس پردہ کوئی فریب چھپا ہو۔
10 دسمبر: شمس اور مشتری کے درمیان تسدیس کا سعد زاویہ مثبت حکومتی اقدام اور فیصلے سامنے لاسکتا ہے،ترقیاتی منصوبوں میں پیش رفت ہوگی، نئی قانون سازی پر توجہ دی جائے گی، عام افراد کے لیے یہ وقت گورنمنٹ سے فوائد کا حصول لاتا ہے،رکے ہوئے سرکاری کام یا مقدمات کے فیصلے مثبت انداز میں سامنے آسکتے ہیں۔
اسی تاریخ کو عطارد اور نیپچون کے درمیان بھی تسدیس کی سعد نظر ہوگی جو فائدہ بخش اور ضرورت کے مطابق معلومات کے حصول میں مددگار ہوگی، زبردست نوعیت کی تخلیقی قوت اس وقت میں حاصل ہوتی ہے۔
اچھے نظرات کے ساتھ ہی اس روز ایک منحوس زاویہ بھی موجود ہے یعنی شمس اور زحل کا قران، یہ قران بھی عہدہ و مرتبہ رکھنے والے صاحبان اقتدار کے لیے نحس اثر رکھتا ہے،بعض لوگوں کو تنزلی کا سامنا ہوتا ہے،بعض اپنی ساکھ اور عزت و وقار سے محروم ہوتے ہیں، عام افراد کو اس وقت میں گورنمنٹ سے متعلق کاموں میں رکاوٹ اور پریشانیوں کا سامنا ہوسکتا ہے،پراپرٹی سے متعلق معاملات کو اس دوران میں نہ چھیڑیں، یہ وقت حکمرانوں کے لیے عوامی احتجاج کا باعث بھی ہوتا ہے۔
12 دسمبر: شمس اور یورینس کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ صاحبان اقتدار کو سنبھالا دینے اور کسی غیر متوقع امداد کی نشان دہی کرتا ہے،حکومت چونکا دینے والے اعلانات اور اقدام کرسکتی ہے،عام افراد اس وقت میں غیر روایتی انداز اختیار کرکے زیادہ فوائد حاصل کرسکتے ہیں۔
25 دسمبر: زحل اور یورینس کے درمیان تثلیث کا طویل زاویہ عام لوگوں کی زندگی پر یا دنیا کے حالات پر کوئی فوری اثر نہیں دکھاتا ، دونوں غیر معمولی اور سست رفتار سیارے جب ایسے نظرات قائم کرتے ہیں تو اس کے اثرات پوری دنیا پر غیر معمولی اور طویل المدت ہوتے ہیں، ارضیاتی تبدیلیاں اور نئی سرحدیں، نئے راستے آنے والے سالوں میں کھلتے ہیں، انٹرنیٹ کے ذریعے اگرچہ ہم ساری دنیا سے رابطے میں آگئے ہیں لیکن آنے والے سالوں میں زحل اور یورینس کی تثلیث کے زاویے زمینی راستوں سے بھی دنیا کو ایک دوسرے کے قریب کردیں گے، یہ زاویہ دنیا میں محنت کشوں کے لیے نئی آگہی اور نیا شعور پیدا کرے گا، مستقبل میں کسی نئی سماجی تحریک کی ابتدا آنے والے سالوں میں ہوسکتی ہے۔
اسی روز زہرہ اور مشتری کے درمیان تثلیث کا مبارک زاویہ ترقیاتی کاموں کے لیے مددگار ثابت ہوگا، دوسروں کے ساتھ بہتر تعلقات اور نئے معاہدات اس وقت فائدہ مند ثابت ہوں گے، اسی روز زہرہ اور یورینس کے درمیان تسدیس اور زہرہ اور زحل کے درمیان تسدیس بھی ہوگی، گویا اس عرصے میں بیک وقت بہت سے سعد زاویے تشکیل پائیں گے،اس وقت کسی نئے کاروبار کی ابتدا ، نئی پارٹنر شپ، پراپرٹی کی خریداری یا فروخت ، منگنی، شادی وغیرہ جیسے معاملات بہتر رہیں گے،زہرہ اور یورینس کی نظر بعض لوگوں کی زندگی میں غیر متوقع طور پر محبت کے پھول کھلاسکتی ہے، واضح رہے کہ یہ نظرات تقریباً اصل وقت سے چند روز پہلے سے مو ¿ثر ہوں گے۔
26 دسمبر: مشتری اور یورینس کے درمیان مقابلے کی نظر مالیاتی سیکٹر میں اپ اینڈ ڈاو ¿ن لاسکتی ہے،اس وقت نئی سرمایہ کاری سے گریز کرنا چاہیے اور ضرورت ناگزیر ہو تو اچھی طرح غوروفکر کے بعد کوئی قدم اٹھانا چاہیے، خصوصاً اسٹاک مارکیٹ اور شیئرز کے کاروبار میں محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی۔
27 دسمبر: عطارد اور نیپچون کے درمیان تسدیس کی نظر اس ماہ دوسری بار سامنے آرہی ہے،اس بار عطارد رجعت کی حالت میں ہوگا لہٰذا یہ نظر کمزور اور منفی اثر کی حامل ہوگی، کسی معاملے میں آپ کے اندازے غلط ہوسکتے ہیں یا آپ کسی فریب کا شکار ہوسکتے ہیں لہٰذا سوچ سمجھ کر فیصلے کریں۔
اسی روز شمس اور مریخ کے درمیان تسدیس کا زاویہ بھی ہے،اگرچہ یہ سعد زاویہ ہے لیکن کچھ خرابیوں کے ساتھ ہے لہٰذا مثبت نتائج کا حامل نہیں ہوگا، انا اور ضد کے مسائل سامنے آئیں گے، صحت کی خرابیاں اس وقت پریشان کرسکتی ہیں، اعلیٰ افسران کا رویہ نامناسب ہوگا کیوں کہ وہ خود کسی مصیبت یا پریشانی کا شکار ہوں گے۔
28 دسمبر: عطارد اور شمس کے درمیان قران کا زاویہ منفی اثرات کا حامل ہوگا، اس وقت بھی صحت کے مسائل پریشان کرسکتے ہیں، کاموں میں رکاوٹ ، سفر میں التوا یا تاخیر اور دوران سفر میں مسائل ہوسکتے ہیں، ضروری اور مفید معلومات کا حصول مشکل ہوگا، بحث و تکرار سے تنازعات پیدا ہوں گے۔
اسی تاریخ کو عطارد اور مریخ کے درمیان بھی تسدیس کا زاویہ ہے، یہ بھی منفی اثرات رکھتا ہے،ایسے کاموں کے لیے بہتر ہوگا جس میں منفی طریقوں سے کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے، مثبت رویوں اور طریقوں کے نتیجے میں نقصانات ہوسکتے ہیں۔
30 دسمبر: شمس اور نیپچون کے درمیان تسدیس کی نظر بھی منفی اثر دے گی خصوصاً صاحب حیثیت افراد، افسران بالا سے کسی مثبت رویے کی توقع نہ رکھیں، وہ ٹالنے والا یا فریبی انداز اختیار کرسکتے ہیں، ان کے وعدے پر اعتبار نہ کریں، یہ وقت بھی منفی سرگرمیوں اور دلچسپیوں کے لیے مددگار ہوگا۔
آئیے اپنے خطوط اور ان کے جوابات کی طرف: 
شادی کا عذاب
کراچی سے ایک بہن کا خط ، لکھتی ہیں ” میری تمام بچیوں کی شادی ہوچکی ہے، آخری بچی کی شادی 2 سال قبل قریبی رشتے داروں میں کی تھی جس کا پچھتاوا اب ہورہا ہے، ان کے گھر میں مسئلہ یہ ہے کہ والد والدہ حیات نہیں ہیں، لڑکیوں کی شادی نہیں ہوئی اور جن دو لڑکیوں کی شادی ہوئی تھی انہیں طلاق ہوچکی ہے اور وہ واپس گھر آکر بیٹھ گئی ہیں،بڑے تین بھائی شادی کے بعد علیحدہ ہوچکے ہیں، میرا داماد سب سے چھوٹا ہے، اب ساری بہنوں کا زور اُسی پر چلتا ہے،وہ ہر وقت اپنی بہنوں کے مسائل میں الجھا رہتا ہے، میری بیٹی کا کوئی خیال نہیں کرتا بلکہ اس کے ساتھ رویہ بھی مناسب نہیں ہے،بہنوں کی باتوں میں آکر برا بھلا کہتا ہے،میری سمجھ میں نہیںآتا کہ اس مسئلے کا کیا حل کیا جائے؟ آپ سے درخواست ہے کہ تفصیلی روشنی ڈالیں اور کوئی حل بھی تجویز کریں“
جواب: دونوں کے زائچوں کا جائزہ لینے کے بعد پہلی بات تو یہ ہے کہ دونوں کے درمیان موافقت اور محبت نہیں ہے لہٰذا اگر آپ اس تعلق کو مزید جاری رکھنا چاہتی ہیں تو مسلسل کوشش کرنا پڑے گی، تب کہیں جاکر صورت حال میں بہتری آئے گی، اس سلسلے میں بہت سے روحانی اعمال ہم لکھتے رہتے ہیں، مثلاً میاں بیوی کے درمیان محبت کے لیے سورج، چاند گہن یا قمر در عقرب وغیرہ میں مختلف عمل و نقوش دیے جاتے ہیں، ان سے کام لینا چاہیے، مزید یہ کہ لڑکی سے کہیں کہ شوہر کو کوئی بھی چیز کھانے پینے کے لیے دیا کریں تو اس پر 20 مرتبہ اسم الٰہی یاودودُ پڑھ کر دم کردیا کرے۔
گھر کی مجموعی صورت حال جو بہنوں کے دباو ¿ یا زیادتی کا نتیجہ ہے، اسے تبدیل کرنے کے لیے ایک عمل تحریر کیا جارہا ہے،بیٹی سے کہیں کہ اس پر سختی سے عمل کرے۔
نیا چاند ہونے کے بعد کسی بھی اتوار، پیر ، جمعرات یا جمعہ سے عمل شروع کریں، عمل کے لیے کوئی ایک وقت مقرر کرلیں اور پھر اس کی پابندی کریں، خواہ فجر کا وقت رکھیں یا عصر و مغرب کے درمیان یا عشاءکے بعد، اسمائے الٰہی یا اللہُ القابض الکریمُ 313مرتبہ اول آخر گیارہ بار درود شریف کے ساتھ پڑھ کر اللہ سے اپنے نیک مقاصد اور مخالفین پر غلبے کے لیے دعا کیا کریں، یہ عمل 41 روز تک کریں، بعد ازاں روزانہ ہر نماز کے بعد 7 مرتبہ ضرور ورد کرلیا کریں، انشاءاللہ کچھ عرصے میں حالات تبدیل ہونے لگیں گے اور اللہ کوئی ایسا راستہ نکال دے گا کہ آپ کی بیٹی کی پوزیشن گھر میں بہتر ہوجائے گی۔
شادی میں تاخیر
طاہرہ بی بی،حیدرآباد سے لکھتی ہیں ”میری تین بیٹیاں ہیں، دو کی شادی ہوچکی ہے لیکن سب سے بڑی بیٹی ابھی تک گھر بیٹھی ہے،اس وجہ سے میں بہت پریشان ہوں، اس کا کوئی رشتہ کہیں طے نہ ہوسکا، حالاں کہ کوشش بہت کی گئی، رشتہ کرانے والیوں کو پیسے بھی بہت دیے لیکن کہیںبات طے نہیں ہوسکی، لوگ آتے ہیں اور پسند بھی کرتے ہیں مگر پھر پلٹ کر نہیں آتے، کئی جگہ سے معلومات کیں تو یہی پتا چلا کہ رشتہ باندھ دیا گیاہے، ایک صاحب نے بتایا کہ جنات کا عمل دخل ہے،وہ اس کی شادی نہیں ہونے دیتے، بہت سے علاج بھی کرائے لیکن ابھی تک کوئی کامیابی نہیں ہوئی، چھوٹی بہنوں کی شادی کی وجہ سے وہ مجھ سے بھی ناراض رہنے لگی ہیں، حالاں کہ میں نے تو اس کے لیے ہر طرح کی کوششیں کی ہیں، اب بہت چڑچڑی ہوگئی ہے،کوئی نیا رشتہ آتا ہے تو ناراض ہوتی ہے،سامنے آمنے سے انکار کرتی ہے، آپ سے درخواست ہے کہ اس معاملے کو خصوصی توجہ دیں اور بتائیں کہ اصل مسئلہ کیا ہے اور اس کا حل کیا ہے؟ آپ کا یہ احسان مجھ پر ہمیشہ رہے گا“
جواب: یہ بڑی عام بات ہوگئی ہے کہ اگر شادی میں کچھ زیادہ تاخیرہوجائے تو ہمارے روحانی معالجین بندش یا آسیب وغیرہ کا فتویٰ دے دیتے ہیں، ہم برسوں سے پاکستان میں ہونے والا یہ تماشا دیکھ رہے ہیں، وہ بے چارے بھی کیا کریں، اپنا بھرم رکھنے کے لیے انہیں کوئی نہ کوئی فتویٰ تو دینا ہی ہے۔
شادی میں تاخیر یا رکاوٹ یا ازدواجی زندگی میں مسائل کے حوالے سے ہم کئی بار یہ وضاحت کرچکے ہیں کہ بعض لوگوں کی شادی جلدی ہوجاتی ہے اور بعض کی دیر سے،بالکل اسی طرح بعض لوگ اپنی ابتدائی زندگی ہی میں کامیاب ہوکر اچھی جاب یا اچھے کاروبار کا لُطف اٹھاتے ہیں اور بعض دیر سے،ایسے بہت سے لوگ آپ نے دیکھے ہوں گے کہ انہیں زندگی میں کامیابی 35 یا 40 سال کی عمر کے بعد ملی،ان سارے موضوعات پر بہترین رہنمائی علم نجوم کے ذریعے ہی ممکن ہے کیوں کہ انسان اپنے پیدائشی اثرات کے تحت ہی پوری زندگی گزارتا ہے،بہر حال لڑکیوں کی شادی کے حوالے سے علم نجوم کی روشنی میں سیارہ زہرہ اور مشتری اہم کردار ادا کرتے ہیں، اگر زہرہ کی پوزیشن خراب ہو تو شادی میں تاخیر ہوتی ہے،اگر پوزیشن بہت زیادہ خراب ہو تو بعض اوقات شادی نہیں ہوتی، اگر مشتری کی پوزیشن خراب ہو تو شوہر اچھا نہیں ملتا، اگر شادی ہوگی تو کسی کمتر درجے کے یا گھٹیا انسان سے ہوگی، اس بنیادی کلیّے کی روشنی میں آپ کی بیٹی کے زائچے میں سیارہ زہرہ اپنے برج ہبوط میں ہے اور یہی وجہ شادی میں تاخیر ، رکاوٹ یا بندش وغیرہ کا سبب ہے،یہی صورت مشتری کی بھی ہے، اس کی پوزیشن بھی کمزور ہے اور وہ زائچے میں خراب جگہ تعینات ہے لہٰذا جیسا رشتہ آپ یا آپ کی بیٹی چاہتی ہوگی وہ نہیں مل رہا اور جو لوگ شادی کے لیے آمادہ نظر آتے ہوں گے، انہیں آپ قبول نہیں کریں گی۔
اس خرابی کو دور کرنے کے لیے جمعہ کے روز اور جمعرات کے روز پابندی سے صدقہ دیں، جمعہ کے روز غریب کنواری لڑکیوں کی مدد کیا کریں اور جمعرات کے روز غریب اہل علم جو بچوں کو پڑھاتے ہوں، ان کی مدد کیا کریں، اگر جمعہ کے روز سفید رنگ کی چیزوں کا صدقہ دیا جائے یا جمعرات کو پیلے رنگ کی چیزوں کا صدقہ دیا جائے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہوگا۔
بیٹی کو دائیں ہاتھ کی رنگ فنگر میں عمدہ قسم کا اوپل کا نگینہ یا سفید پکھراج کا نگینہ کسی موافق وقت پر پہنادیں، ساتھ ہی شہادت کی انگلی میں پیلا پکھراج پہنانا ہوگا، اگر وہ خود وظیفہ پڑھنے کے لیے تیار ہو تو درج ذیل وظیفہ کسی بھی نوچندے جمعرات یا جمعہ سے شروع کرے۔
چوں کہ اس کے نام مع والدہ کے اعداد 748 ہیں لہٰذا اسی تعداد میں اول آخر گیارہ بار درود شریف کے ساتھ سورئہ توبہ کی آیت نمبر 128 پڑھ کر اللہ سے عاجزی و انکساری کے ساتھ دعا کیا کرے، یہ آیت لقد جاءکم سے رو ¿ف الرحیم تک ہے،انشاءاللہ بہت جلد نصیب کھل جائے گا۔
سرکاری جاب
ہاشم علی، حیدرآباد سے لکھتے ہیں ” میرے والدین نے مجھے تعلیم دلانے کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں اور اب جب کہ میں اپنی تعلیم مکمل کرچکا ہوں مجھے کہیں معقول جاب نہیں مل رہی، تقریباً 2 سال سے کوشش کر رہا ہوں، اسی دوران میں میں نے باہر جانے کے لیے بھی بہت کوشش کی لیکن اس میں بھی کامیابی نہیں ملی، آخر میرے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟ میں چاہتا ہوں کہ مجھے کوئی مناسب سرکاری جاب مل جائے، اس حوالے سے میں نے سفارش کا سہارا بھی لیا لیکن کچھ نہ ہوا، میری والدہ کو کسی نے بتایا کہ آپ کے بیٹے کا روزگار باندھ دیا گیا ہے،جب تک بندش نہیں کھلے گی، کوئی جاب نہیں ملے گی، آپ اس سلسلے میں رہنمائی کریں گے تو شکر گزار رہوں گا“
جواب: عزیزم! پہلی بات تو یہ ہے کہ آج کل کے زمانے میں سرکاری نوکری حاصل کرنا آسان کام نہیں ہے،بہتر ہوگا کہ کسی پرائیویٹ جاب کے لیے کوشش کریں، دوسری بات یہ کہ آپ کے زائچے کے مطابق آپ فروری 2017 ءتک ایک منحوس دور سے گزر رہے ہیں، فروری کے بعد آپ کی زندگی میں بہتر دور کا آغاز ہوجائے گا اور امید ہے کہ آپ کو کوئی معقول جاب مل جائے گی، موجودہ دور دسمبر 2015 ءسے شروع ہوا تھا اور اس سے پہلے بھی جو دور جاری تھا، وہ بھی آپ کے لیے سپورٹنگ نہیں تھا، عام طور سے ایسے خراب وقت میں جو بھی کام مل جائے، کرلینا چاہیے اور برے وقت کو کسی نہ کسی طور گزار لینا چاہیے، بہ صورت دیگر انسان محرومی کا شکار ہوکر ڈپریشن اور بہت سی بدگمانیوں میں مبتلا ہوجاتا ہے،بدگمانیاں پیدا کرنے والوں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے،جیسے کہ آپ کی والدہ کو کسی نے بتادیا،آپ کو پابندی سے ہفتے کے روز بوڑھے، معذور اور بیمار افراد کی مدد کرنی چاہیے، منگل کو چیل کوو ¿ں یا کتوں کو خوراک ڈالا کریں۔

ہفتہ، 19 نومبر، 2016

الفاظ کے استعمال اور اثرات کی اہمیت، منفی اور مثبت طرز فکر


مو ¿کل و ہمزاد کی خاطر وظائف و چلّے کرنے والے گمراہی کا شکار 
ہمارے معاشرے میں ایک بہت عام بیماری ”غلط فہمی“ ہے، اگر آپ اپنے ارد گرد کے لوگوں اور ان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعات، لڑائی جھگڑوں کا بہ غور مشاہدہ کریں تو محسوس کریں گے کہ تمام تر فتنہ و فساد کی جڑ ”غلط فہمی“ ہے، خود آپ کے ساتھ کئی مرتبہ ایسا ہوا ہوگا یعنی آپ نے کچھ کہامگر دوسرے فرد نے کچھ اور سنا، یا آپ کی بات کا کچھ اور ہی مطلب نکال لیا، عموماً ایسی صورت پیدا ہونے کے بعد ہی جھگڑے کا آغاز ہوتا ہے لیکن یہ غلط فہمی ہوتی کیا چیز ہے؟
آئیے آج اس موضوع پر بات کرتے ہیں۔
لوگ باہم اکثر ملاقات کرتے ہیں اور مختلف مسائل اور موضوعات پر بات کرتے ہیں، اس بات چیت کے دوران میں تنازعات کی بڑی وجہ ہمارے اپنے الفاظ ہوتے ہیں، الفاظ اور زبان کا استعمال ہم میں سے اکثر افراد دیکھ بھال کر، سوچ سمجھ کر اور احتیاط کے ساتھ نہیں کرتے اور پھر نتیجے کے طور پر مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، ایک پرانا مقولہ ہے کہ کمان سے نکلا ہوا تیر اور زبان سے نکلی ہوئی بات واپس نہیں آسکتی، الفاظ کی اہمیت کو یہ مقولہ بڑی گہرائی کے ساتھ ثابت کرتا ہے۔
الفاظ در حقیقت آپ کی کامیابی اور ناکامی کا بہت بڑا سہارا ہیں، اس کے ذریعے آپ دوست بھی بناسکتے ہیں اور دوستوں کو دشمن بھی، زندگی بھر کے لیے رستا ہوا ناسور بھی کسی کو بھی دے سکتے ہیں اور اس پر مرہم بھی رکھ سکتے ہیں، آپ اپنے الفاظ کے ذریعے اپنی گفتگو کے ذریعے کچھ بھی کرسکتے ہیں، اگر ہم دنیاکے بڑے بڑے نامور افراد کی زندگی کا مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ان کا لفظ و بیان سے بڑا گہرا رابطہ تھا اور وہ الفاظ کے استعمال کا فن خوب جانتے تھے۔
مشہور ہے کہ عظیم فاتح سکندر نے اپنے شکست خورد حریف راجہ پورس سے سوال کیا ”بتاو ¿! تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟“ 
پورس نے نہایت اطمینان سے جواب دیا ”وہی جو ایک بادشاہ کو دوسرے بادشاہ کے ساتھ کرنا چاہیے“۔
اس سادہ مگر دانش مندانہ جواب نے سکندر کے دل پر عجیب اثر کیا، اس نے پورس کو معاف کردیا اور اس کا مفتوحہ علاقہ اس کا تاج و تخت واپس اس کے حوالے کردیا، ممکن ہے اس وقت پورس اگر کوئی ایسا جواب دیتا جو سکندر کے دل و دماغ پر منفی اثر ڈالتا تو شاید آج تاریخ میں یہ واقعہ کسی اور طرح درج ہوتا۔
دراصل الفاظ اپنی جگہ کچھ بھی نہیں ہوتے، یہ تو علامت ہوتے ہیں، ان جذبات و احسات اور تاثرات کی جو آپ کسی کے لیے اپنے لاشعور میں رکھتے ہیں، مثلاً اگر آپ کسی شخص کے خلاف اپنے دل میں بغض رکھتے ہوں مگر اس کا اظہار نہ کرسکتے ہوں اور مسکراکر ملنا بھی آپ کی مجبوری ہو، تب بھی آپ محسوس کریں گے کہ کبھی نہ کبھی نادانستہ طور پر آپ کے منہ سے ایسی کوئی نہ کوئی بات یا لفظ ضرور نکل جاتے ہوں گے جو آپ کے دلی جذبات کا مظہر ہوں گے، آپ لاکھ ان جذبات کا اظہار نہ کریں مگر نادانستگی میں کوئی نہ کوئی اشارہ ضرور کسی موقع پر دے جاتے ہوں گے۔
الفاظ اور لاشعور کا یہ گہرا تعلق اس وقت مزید مو ¿ثر ہوجاتا ہے جب آپ تبدیلی کے خواہاں ہوں اور ترقی کی جانب مائل ہوں، ایسے موقع پر صرف ایک لفظ آپ کی یا دوسروں کی زندگی تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اب یہ لفظ کون سا ہے؟ 
عبرت اثر واقعہ
آئیے یہ جاننے کے لیے ایک واقعہ سنتے ہیں، یہ واقعہ ایک ایسے شخص کا ہے جو اس واقعے سے پہلے سخت بوریت، یکسانیت اور ناکامیوں کا شکار تھا، وہ کہتا ہے۔
” میرے لیے وہ دن انتہائی بوریت اور بے زاری کے تھے، میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا تھا اور روز روز کی ناکامیوں سے اپنی شخصیت اور توانائیاں کھو رہا تھا، ایسے وقت میں مجھے کسی سہارے کی ضرورت تھی کسی ایسے ہاتھ کی ضرورت تھی جو مجھے سنبھال سکے یا میری رہنمائی کرسکے ، مایوسی کے اس عالم میں نوٹوں سے بھرا ہوا بریف کیس مل جانے کے خواب بھی دیکھتا تھا، کسی کروڑ پتی سیٹھ کی اکلوتی بیٹی کی نظر انتخاب کا خواہش مند رہتا تھا، غرض میری سوچیں عجیب احمقانہ اور خیال پرست ہوتی جارہی تھیں، پھر ایک دن انتہائی ڈپریشن کے عالم میں، میں ایک فقیر کے سامنے جا بیٹھا، وہ آنکھیں بند کیے سڑک کے کنارے بیٹھا تھا اور ایک کپڑے پر کچھ سکے اس کے سامنے پڑے تھے، وہ روزانہ ہی وہاں بیٹھا رہتا تھا، اس کے انداز میں ایک کاروباری اور پیشہ ور بھکاری کی تمام جھلکیاں تھیں مگر پھر بھی نہ جانے کیوں میں اس کے سامنے بیٹھ گیا اور اپنا دکھڑا رونے لگے، شاید مجھے امید تھی کہ وہ اپنے کسی جھولے میں ہاتھ ڈالے گا اور میری تمام مشکلات کا حل پلک جھپکتے ہوجائے گا لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوا، پہلے تو وہ بھونچکا سا ہوکر میری شکل دیکھتا رہا، پھر اس نے مجھے دور بھگانے کی کوشش کی، میں نے اسے قلندرانہ بے نیازی سمجھا اور مزید شدت سے اپنا دکھڑا رونا شروع کیا، یہاں تک کہ فقیر تنگ آگیا اور زور سے بولا ”جا، جا خدا تیرا بھلا کرے گا“
یہ سنتے ہی جیسے مجھے سکون سا آگیا، جیسے اچانک کوئی خزانہ مل گیا ہو، میں نے جیب سے سارے پیسے نکال کر فقیر کے آگے ڈال دیے جو بہر حال کچھ زیادہ نہیں تھے اور خوشی خوشی گھر آگیا۔
آپ یقین جانیے کہ حیرت انگیز طور پر میری ذہنی کیفیت بدل چکی تھی اور اب مجھے یقین تھا کہ خدا میری مدد ضرور کرے گا اور خدا نے پھر میری مدد کی، چند ہی روز بعد مجھے ایک جگہ ملازمت مل گئی، اب یہ فقیر کی دعا کا اثر تھا یا اس خوش امیدی کی قوت تھی جو فقیر کے الفاظ سن کر میرے دل میں پیدا ہوئی تھی، آج بھی جب میں اپنی اس وقت کی کیفیت کا اندازہ لگاتا ہوں تو محسوس کرتا ہوں کہ مجھے محض کسی جذباتی سہارے اور رہنمائی کے چند الفاظ کی ضرورت تھی، وہ الفاظ جو بجلی کی طرح چمکتے اور ہماری ساری زندگی کو روشن کردیتے ہیں، میرا خیال ہے کہ فقیر کی دعا نے کوئی کرشمہ نہ دکھایا، ہاں اگر اس نے کچھ کیا تھا تو صرف اتنا کہ مجھے ایک راستہ دکھا دیا تھا، غیر ارادی طور پر اس نے مجھ سے ایک مہمل سا جملہ کہا اور میں نے اسے اپنے لیے توانائی کا ذریعہ سمجھ کر نئے عزم و حوصلے اور ارادوں کے ساتھ جدوجہد شروع کردی، یہاں تک کہ میں کامیاب ہوگیا، فقیر کے الفاظ نے میرے طرز فکر میں تبدیلی پیدا کردی اور میں نے منفی طرز فکر یعنی مایوسی کو ترک کرکے مثبت طرز فکر کو اختیار کرلیا“
اوپر بیان کیا گیا واقعہ یقیناً الفاظ کے مثبت اثرات سے تعلق رکھتا ہے ، دین اسلام سے بھی ہمیں یہی سبق ملتا ہے کہ مایوسی کفر ہے اور ہمیشہ خوش امید رہنا چاہیے اور یہ خوش امیدی خاص طور پر اللہ رب العزت کی جانب سے ہونی چاہیے، ایک آیت کا مفہوم کچھ یوں ہے ”اللہ ہمیشہ ہمارے گمان پر پورا اترتا ہے، اب ہمارا وہ گمان مثبت ہے یا منفی ، اُسی کے مطابق نتیجہ سامنے آئے گا۔
ہماری طرح آپ نے بھی یہ مشاہدہ اکثر کیا ہوگا کہ بعض لوگ ہمیشہ مثبت انداز میں سوچتے اور مثبت طرز عمل اختیار کرتے ہیں جب کہ بعض لوگ اس کے برعکس منفی سوچ کا شکار رہتے ہیں اور منفی طرز عمل اختیار کرتے ہیں، مثبت سوچ اور مثبت طرز عمل یہ ہے کہ ہم ہمیشہ خوش امید رہیں اور اپنی جائز کوششوں کو جاری رکھیں، خواہ نتائج کتنے ہی دل شکن کیوں نہ ہوں، منفی سوچ اور طرز عمل یہ ہے کہ ہم راتوں رات دولت مند بننے کے خواب دیکھیں اور کامیابی کے لیے شارٹ کٹ تلاش کریں، جب کسی مشکل میں پھنس جائیں تو فوری طور پر دوسروں کو مورد الزام ٹھہرائیں ، بدمزاجی کا مظاہرہ کریں ، لہجے میں تلخی نمایاں ہوجائے، اپنے آپ سے اور دنیا بھر سے بلکہ بعض اوقات مذہب سے بھی بے زاری کا اظہار کریں۔
الفاظ کا مثبت یا منفی استعمال اچھا یا برا ہوسکتا ہے،اس کا انحصار ہماری سوچ کی گہرائی یعنی قوت خیال پر منحصر ہے،گویا دوسرے معنوں میں ہماری روحانی قوت اور وقت کی تاثیر مل کر کبھی کبھی عجیب کرشمہ دکھاتے ہیں اس کے لیے یہ بھی ضروری نہیں کہ الفاظ ادا کرنے والا خود کس حیثیت کا حامل ہے، دوسری طرف الفاظ کے نفسیاتی اثر کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، اسی لیے ماہرین نفسیات لوگوں کو مایوسانہ گفتگو اور بزدلانہ باتوں سے منع کرتے ہیں، منفی الفاظ لاشعوری طور پر انسان کی ہمت توڑتے ہیں، اسے کمزور کرتے ہیں، آپ نے خود محسوس کیا ہوگا کہ جب آپ کہتے ہیں ”نہیں، یہ نہیں ہوسکتا“تو درحقیقت آپ اپنے آپ کو ڈرا کر پیچھے ہٹارہے ہوتے ہیں اور اپنی لاشعوری شکست کے احساس کو دبا رہے ہوتے ہیں اس کے مقابلے میں جب آپ یہ کہتے ہیں ” ہاں ، یہ ہوسکتا ہے“ تو آپ اپنی ہمت کی بیٹری چارج کر رہے ہوتے ہیں، اپنی توانائی بڑھا رہے ہوتے ہیں اور یہی مثبت طرز فکر ہے، یاد رکھیے اس کے بغیر کامیابی کا کوئی دروازہ نہیں کھولا جاسکتا۔
اخبار کی تبدیلی
عزیزان من! جیسا کہ آپ سب واقف ہیں کہ روزنامہ جرا ¿ت میں ہمارا کالم گزشتہ تقریباً 19 سال سے باقاعدگی کے ساتھ شائع ہوتا رہا ہے لیکن گزشتہ دنوں برادرم مختار عاقل نے اخبار سے علیحدگی اختیار کرلی لہٰذا یہ کالم بھی جرا ¿ت میں بند کردیا گیا ہے،اب مختار عاقل صاحب ”ویکلی الاخبار“ جو پہلے جرا ¿ت ہی کا حصہ ہوتا تھا، علیحدہ سے شائع کر رہے ہیں، یہ ہر اتوار کو بازار میں دستیاب ہوگا، 20 نومبر بروز اتوار کو آپ الاخبار میں ہمارا کالم دیکھ سکیں گے، اس کے علاوہ ایک دوسرا نیا روزنامہ فرسٹ نیوز کے نام سے شائع ہورہا ہے، اس میں پیر کے روز ہمارا کالم شائع ہوا کرے گا، اس کے علاوہ ”آج کا دن“ بھی روزانہ فرسٹ نیوز میں شائع ہوگا۔
وظائف یا چلّے میں اجازت
ایک خط ہمیں نامعلوم کس جگہ سے اور کس نے لکھا ہے، بہر حال انہوں نے جو کچھ معلوم کیا ہے، ہم اس کا جواب دینا ضروری سمجھتے ہیں تاکہ وہ بھی اور دیگر پڑھنے والے بھی کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں، وہ لکھتے ہیں ”آپ سے دریافت یہ کرنا ہے کہ نقش لکھنے یا وظائف پڑھنے کے لیے سنا ہے کہ کسی پیر و مرشد کی اجازت لازمی مطلوب ہوتی ہے، اکثر و بیشتر وظائف چالیس روزہ ہوتے ہیں، اس کی اجازت نہیں دی جاتی ہے، اگر کوئی شخص وظائف اس نیت سے کرے کہ وہ خلق خدا کو فائدہ پہنچائے گا تو وہ کیا کرے ؟ اس سلسلے میں تفصیلی معلومات فراہم کیجیے، اگر ہم اپنے والدین یا اساتذہ کرام یا اپنے کسی بزرگ سے اجازت لے کر وظائف یا کوئی چلہ کریں تو کوئی حرج تو نہیں ہے؟ کیوں کہ وظائف کے دوران میں نقصانات کا اندیشہ بھی رہتا ہے اور اگر کسی وظیفے کو چالیس روز تک کرلیا جائے تو انسان کیا اس کا عامل ہوجاتا ہے اور اس طرح وہ انسانیت کی خدمت کرسکتا ہے؟ اس کا کوئی مناسب اور تسلی بخش جواب مرحمت فرمائیں، میں نے قرآنی وظائف کے بارے میں یہ سنا ہے کہ ہر حرف کا ایک مو ¿کل ہے اور وظائف کے مکمل ہونے پر وہ مو ¿کل آپ کے تابع ہوجاتا ہے، رہنمائی فرمائیں، عین نوازش ہوگی؟“
عزیزم! سب سے پہلے تو ہمارا مشورہ یہ ہے کہ آپ ایسے کسی چکر میں ہر گز نہ پڑیں، انسانیت کی خدمت سے پہلے اپنی اور اپنے گھر والوں کی خدمت کے بارے میں سوچیے، یاد رکھیں، ان معاملات میں پہلی چیز تو دین اور دنیا کے علم کا حصول ہے، اس کے بعد ان فرائض و واجبات کی ادائیگی ہے جو آپ پر اللہ کی طرف سے لازم کردیے گئے ہیں،آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ عبادت کا ایک بٹا دس حصہ حقوق العباد کی ادائیگی میں ہے،اگر اس سے غفلت برتی جائے تو آپ کی عبادات بھی ضائع ہوسکتی ہیں، کجا یہ کہ چلّے اور وظائف کی مشقت میں خود کو ڈال کر اپنا قیمتی وقت ضائع کریں۔
 اجازت کا جو مطلب آپ نے لیا ہے وہ ہر گز نہیں ہے، اجازت کسی وظیفے، عمل یا نقش لکھنے کے سلسلے میں کوئی ایسا عامل ہی دے سکتا ہے جس نے اس وظیفے، عمل یا نقش کی زکات اکبر ادا کی ہو، تمام وظائف ضروری نہیں کہ چالیس دن کے ہوں، ان کی مدت میں کمی بیشی بھی ہوسکتی ہے، یقیناً ہر حرف کا ایک مو ¿کل ہوتا ہے مگر جیسا کہ آپ کو بتایا گیا ہے،وہ غلط ہے،مو ¿کل حرف کا بھی ہوتا ہے اور لفظ کا بھی،کسی آیت کا بھی ہوتا ہے اور اسم الٰہی کا بھی یا کسی سورة کا بھی، حد یہ کہ آپ کے نام کا بھی، جو لوگ کسی مو ¿کل یا ہمزاد یا جنّات وغیرہ کی خاطر وظیفہ یا چلّہ کرتے ہیں، اُن کی نیت میں یقیناً فتور ہوتا ہے، وہ چاہتے ہیں کہ اپنے مو ¿کل یا ہمزاد وغیرہ سے کام لے کر لوگوں میں مقبولیت حاصل کریں، مشہور ہوں اور عزت کمائیں مگر یاد رکھیں عزت، شہرت، مقبولیت انسان کو مو ¿کلوں کے ذریعے نہیں ملتی بلکہ اس کے علم اور اس کی محنت اور اس کے کردار سے ملتی ہے اور اس کام میں عام طور پر بڑا وقت لگتا ہے، چند روزہ یا چالیس روزہ وظائف و چلّے اس میں معاون و مددگار نہیں ہوتے، اس طرح کی باتیں خیالی دنیا میں رہنے والے نکمّے، ناکارہ، سُست و کاہل لوگ کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں، یاد رکھیں دنیا کے تمام خزانوں اور عزت و مرتبہ کی کنجی علم ہے لہٰذا آپ کو چاہیے کہ سب سے پہلے علم حاصل کریں، علم ہی آپ کو بتائے گا کہ مو ¿کل کیا ہوتا ہے، ہمزاد و جنات کی حقیقت کیا ہے؟ 

ہفتہ، 12 نومبر، 2016

امریکی انتخابات اور ڈونالڈ ٹرمپ کی کامیابی

ہیلری کلنٹن اور مسٹر ٹرمپ کے زائچوں میں وقتِ پیدائش کا فرق
امریکا کے تاریخ ساز انتخابات اپنے اختتام کو پہنچے،ہماری توقع اور پیش گوئی کے برخلاف ہیلری کلنٹن کے بجائے مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ کامیاب رہے اور اب آئندہ امریکا کے صدر ہوں گے۔
عزیزان من! تقریباً تین ماہ قبل ہم نے دونوں حریف امیدواروں کے زائچے پیش کیے تھے اور دونوں کی شخصیت و کردار پر روشنی ڈالی تھی، ساتھ ہی دونوں کے زائچوں کی ٹرانزٹ پوزیشن اور پیریڈ پوزیشن کو مدنظر رکھتے ہوئے، ہیلری کلنٹن کی جیت کا امکان ظاہر کیا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا، اس کی وجہ یہی ہے کہ عام طور پر مشہور شخصیات کی تاریخ پیدائش یا وقت پیدائش آسانی سے دستیاب نہیں ہوتے، پاکستان میں تو تاریخ پیدائش کا حصول بھی مشکل ہوتا ہے لیکن مغرب میں کم از کم تاریخ پیدائش درست معلوم ہوجاتی ہے لیکن وقت پیدائش کا معاملہ پھر بھی مشکوک رہتا ہے،اس حوالے سے دنیا کی سب سے بڑی سائٹ Astro Data Bank بڑی مددگار ثابت ہوتی ہے کیوں کہ اس میں دنیا کے تمام ممالک اور تقریباً تمام مشہور شخصیات کے برتھ چارٹ محفوظ کیے گئے ہیں اور تاریخ پیدائش یا وقت پیدائش مشکوک ہونے کی صورت میں ایک سے زیادہ برتھ چارٹ دے دیے جاتے ہیں، ہم نے بھی اسی سائٹ سے مدد لی تھی جہاں ہیلری کے ایک سے زیادہ زائچے موجود ہیں، اس موضوع پر دنیا کے بے شمار ایسٹرولوجرز صاحبان اپنے اپنے طور پر ان زائچوں پر رائے دیتے رہے ہیں اور تقریباً 75 فیصد ماہرین اس بات پر متفق تھے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کے مقابلے میں ہیلری کلنٹن کے زائچے کی پوزیشن زیادہ بہترہے اور ان کی کامیابی یقینی ہے۔
ایسٹرو ڈیٹا بینک کے مطابق ہیلری کی تاریخ پیدائش 26 اکتوبر 1947 ءہے، یہی تاریخ وکی پیڈیا پر بھی دی گئی ہے، جہاں تک ٹائم کا تعلق ہے تو اس حوالے سے اختلافات موجود ہیں، صرف آسٹرو ڈیٹا بینک پر پیدائش کا وقت صبح 8بجے ، صبح 08:08am اور 08:15am دیا گیا ہے،یہی صورت حال مسٹر ڈونالڈ کے ٹائم آف برتھ کی بھی ہے، جب کہ ہیلری کا ایک ٹائم رات کا بھی دیا گیا ہے، ان تمام اوقات میں سے کسی ایک ٹائم کے مطابق بنائے گئے زائچے پر آئندہ کی پیش گوئی کا انحصار ہوتا ہے مگر واضح رہے کہ بعض اوقات چند منٹ کے فرق سے رواں پیریڈ آگے پیچھے ہوجاتا ہے،ایسٹرولوجیکل پریکٹس کرنے والے اس مسئلے کو سمجھ سکتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ دونوں کے زائچوں کے مطابق ان کی شخصیت و کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے اور مسٹر ڈونالڈ کی مسلم دشمنی اور ہندوپرستی کے پیش نظر ہمارا ذاتی رجحان اور ہمدردی ہیلری کلنٹن سے ہونا لازمی تھا، چناں چہ ہم نے ان کا پیدائش کا ٹائم 08:45 am رکھا جس کے مطابق 26 ستمبر سے مشتری کا دور شروع ہوتا ہے، جب کہ اگر وقت 08:08 am یا 08:15 am لیا جائے تو الیکشن کے وقت راہو کا دور تھا جو بہر حال ناموافق اور نہایت منحوس تھا کیوں کہ راہو اپنے ہبوط کے برج میں ہے،ہمیں یہ اعتراف کرنے میں کوئی جھجھک نہیں ہے کہ ہیلری کی محبت اور ڈونالڈ کی مخالفت میں ہم نے اس حقیقت کو نظرانداز کیا، نتیجہ اب ہم سب کے سامنے ہے۔
اس سے قطع نظر کہ ہمارا اندازہ غلط ثابت ہوا اور ہیلری کے بجائے مسٹر ڈونالڈ کامیاب ہوئے، دونوں کے کردار کے حوالے سے ہماری رائے اب بھی وہی ہے جو ان کے زائچوں کی ریڈنگ میں دی گئی تھی۔
 مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ ہیلری کے مقابلے میں زیادہ جارحانہ مزاج کے حامل اور منفی شخصیت کے مالک ہیں، خصوصاً مسلم دنیا کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں رکھتے، بھارت کی جانب ان کا کھلا جھکاو ¿ اور ان کی کامیابی کے لیے امریکا میں موجود ہندو لابی کی کوششیں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے،کہا جاتا ہے کہ وہ چین مخالف اور کسی حد تک روس دوستی کے حق میں ہےں، اگرچہ کامیابی کے بعد انہوں نے یہ کہا ہے کہ میں تمام مذاہب سے بہتر تعلقات اور رواداری کا مظاہرہ کروں گا، اب یہ آنے والا وقت بتائے گا کہ وہ عملی طور پر کتنے روادار ثابت ہوتے ہیں۔
بدلتے زمانے
عزیزان من! اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ دنیا تبدیلی کے ایک بڑے مرحلے سے گزر رہی ہے،اس مرحلے کا آغاز تقریباً 2010 ءمیں ہوا تھا، جب سیارہ یورینس برج حمل میں داخل ہوا پلوٹو بھی برج جدی میں اور نیپچون برج حوت میں ایک طویل عرصے کے لیے قیام پذیر ہوئے، بڑے سیارگان کا طویل عرصے تک کسی ایک برج میں قیام اور بیک وقت تین اہم سیارگان کے برج کی تبدیلی کسی نئی پیش رفت کی نشان دہی کرتی ہے،یہ تبدیلیاں اچانک اور یکدم سامنے نہیں آتیں، بقول شاعر 
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ اک دم نہیں ہوتا
مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ کا صدرِ امریکا بننا ہمارے نزدیک ایسا ہی ہے جیسا پچھلی صدی کے آغاز میں جرمنی کے ایڈولف ہٹلر کا کامیاب ہونا، مسٹر ٹرمپ نے بھی الیکشن میں کامیابی کے لیے کچھ ایسے ہی حربے استعمال کیے جیسے ہٹلر نے کیے تھے، اس نے پہلی جنگ عظیم کے حوالے سے جرمنی کی مظلومیت کا ماتم کرکے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا، مسٹر ٹرمپ نے دوسری قوموں کی امریکا پر یلغار کو موضوع بنایا اور انہیں امریکا سے نکالنے یا ان کی مزید آمد پر پابندی لگانے کا نعرہ بلند کیا، عام امریکی جو کمزور امریکی معیشت کے سبب پچھلے چند سالوں میں ملازمتوں کے حصول میں پریشان ہورہے تھے، ٹرمپ کی اس چال میں آگئے، مزید یہ کہ ٹرمپ نے کالے اور گورے کی تفریق کو بھی نمایاں کیا، امریکا میں مقیم ہمارے ایک قریبی دوست نے بتایا کہ میں جب ووٹ ڈالنے گیا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ امریکی بوڑھوں کی بہت بڑی تعداد ووٹ ڈالنے کے لیے قطاروں میں کھڑی ہے جب کہ ینگ جنریشن کا دور دور تک نام و نشان نہ تھا، واضح رہے کہ پرانی نسل کے لوگ رنگ و نسل کے معاملے میں زیادہ شدت پسند ہیں جب کہ نئی نسل ان باتوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتی، چند سال پہلے ہی باراک اوباما کی مسلسل دو بار کامیابی نے سفید فام نسل پرستی کو زیادہ ہوا دی، ایک زمانہ تھا کہ وہ وہائٹ ہاو ¿س کے آس پاس بھی کسی کالے کو برداشت نہیں کرتے تھے، کجا یہ کہ ایک کالا آدمی وہائٹ ہاو ¿س میں گھس گیا اور 8 سال تک ان کے سینے پر مونگ دلتا رہا۔
جیسا کہ پہلے بھی ہم مسٹر ٹرمپ کی منفی سوچ کے حوالے سے نشان دہی کرچکے ہیں اور اس کے ثبوت میں کاروباری معاملات میں ان کی کرپشن کے بہت سے قصے اور جارحانہ مزاجی کے کئی واقعات مشہور ہیں، ایسے شخص کے امریکی صدارت پر براجمان ہونے کا مطلب کسی تیسری عالمی جنگ کے لیے میدان ہموار ہونا ہے کیوں کہ بہر حال تیسری عالمی جنگ کا خدشہ 2019-20ءمیں ظاہر کیا جارہا ہے، بین الاقوامی ماہرین نجوم ان سالوں کو عالمی جنگ کے حوالے سے خطرناک قرار دے رہے ہیں، واللہ اعلم بالصواب۔
سندھ کا منظر نامہ
سندھ میں گورنر کی تبدیلی اس ماہ کا اہم واقعہ ہے، ڈاکٹر عشرت العباد تقریباً 13 سال سے زیادہ عرصے تک سندھ کے گورنر رہے جو ایک ریکارڈ ہے،ہمیں کبھی ان کی دُرست تاریخ پیدائش معلوم نہ ہوسکی جس سے یہ اندازہ کیا جاتا کہ وہ گزشتہ 13 سال سے خوش قسمتی کے کون سے دور سے گزر رہے تھے، بنیادی طور پر وہ ایم کیو ایم کے نامزد کردہ گورنر تھے مگر بعد ازاں جناب آصف علی زرداری کے لیے بھی قابل قبول رہے اور ابتدا میں وزیراعظم نواز شریف بھی انہیں برقرار رکھنے پر مجبور ہوئے، اب گزشتہ دنوں پی ایس پی کے سربراہ مصطفیٰ کمال سے ان کی جھڑپ سب نے دیکھی،بہر حال اب وہ فارغ کردیے گئے اور ان کی جگہ سابق چیف جسٹس جناب سعید الزماں صدیقی کو گورنر بنادیا گیا ہے،صدیقی صاحب کے اگرچہ یہ آرام کے دن ہیں لیکن نواز شریف صاحب نے ان کے کاندھوں پر ایک بار گراں رکھ دیا ہے،عمر کی اس منزل میں جب بظاہر ان کی صحت بھی بہت اچھی نظر نہیں آتی، وزیراعظم صاحب کا یہ فیصلہ خاصا دلچسپ ہے، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم شاید اس فیصلے سے خوش اور مطمئن نہیں ہےں، خدا معلوم وزیراعظم صاحب اس تعیناتی سے کون سے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں؟
کراچی کے زائچے میں یکم جولائی سے سیارہ مریخ کا سب پیریڈ جاری ہے جو 06 جون2017ءتک جاری رہے گا، مریخ اگرچہ زائچے کا سعد سیارہ ہے لیکن تحت الشعاع ہونے کی وجہ سے سپورٹنگ نہیں ہےاور سیارہ شمس چوں کہ راہو کیتو سے متاثرہ ہے لہٰذا اعلیٰ عہدے پر فائز جناب عشرت العباد کے لیے معزولی کا باعث بن گیا،کراچی کے زائچے میں سیارگان کی حرکت اب اُفقی سمت میں شروع ہوچکی ہے اور یہ بہر حال اچھی بات ہے جس کے نتیجے میں آنے والے چند ماہ میں مثبت فیصلے اور اقدام سامنے آئیں گے، دہشت گردی اور اسٹریٹ کرائمز کو کنٹرول کرنے کے لیے خاطر خواہ کارروائی ہوگی، اسی سیاروی پوزیشن کی وجہ سے گزشتہ دنوں دہشت گردی اور جرائم کے کئی بڑے نیٹ ورک بے نقاب ہوئے اور اہم گرفتاریاں عمل میں آئیں، گورنر کی تبدیلی بھی اگرچہ ایک بہتر فیصلہ ہے لیکن جتنابڑا بوجھ جسٹس صاحب پر ڈالا گیا ہے، وہ مناسب نہیں ہے،بہتر ہوتا کہ انہیں زحمت دینے کے بجائے کسی اور چاق چوبند بندے کو سامنے لایا جاتا، بہر حال اب اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ آنے والے دنوں میں سندھ حکومت اور وفاق کے درمیان کوئی نئی محاذ آرائی شروع ہوسکتی ہے۔
سوالات و جوابات
شادی میں تاخیر
اے، خان لکھتے ہیں ”امید ہے سب اچھا ہوگا، ایک بار پھر آپ سے مشورہ کرنے کی ضرورت ہے،اپنی چھوٹی سسٹر کے بارے میں ، اس کی شادی کی پرابلم ہے،اول تو رشتہ ہی نہیں آتا، جب کوئی آیا بھی تو لوگ پسند نہیں کرتے، اس صورت حال میں اس کے مزاج میں بھی تھوڑی سی تلخی آگئی ہے،اس کی ڈیٹ آف برتھ اور ٹائم آف برتھ وغیرہ لکھ رہا ہو، مجھے بتائیں کہ شادی کب تک ہونے کے چانس ہیں اور ہم لوگوں کو کیا کرنا چاہیے، کوئی جادو یا نظربد ہے یا ایسٹرولوجیکلی برتھ چارٹ میں ایشو ہیں، اگر ہیں تو کیا کرنا چاہیے؟ وہ پی ایچ ڈی کرنا چاہ رہی ہے مگر والدہ کی دیکھ بھال کی وجہ سے مجبور ہے،والدہ کی صحت کی حوالے سے بھی مناسب مشورہ دیں؟“
جواب: عزیزم! آپ کی بہن کا سن سائن اور برتھ سائن دونوں اسد (Leo) ہےں اور اس کا حاکم سیارہ شمس زائچے میں اچھی پوزیشن رکھتا ہے جو اعلیٰ درجے کی ایڈمنسٹریٹیو صلاحیتوں کا مالک بناتا ہے،اس نے جس سبجیکٹ میں ڈگری لی ہے، وہ اس کے لیے مناسب ہے، اگر وہ پی ایچ ڈی کرلے تو یہ بہت اچھی بات ہوگی، مستقبل میں اس کا کرئر شاندار ہوگا،خیال رہے کہ ایک ورکنگ وومن کے طور پر وہ زیادہ خوش رہے گی،گویا گھریلو ذمے داریوں کے علاوہ گھر سے باہر کی مصروفیات بھی اس کے لیے ضروری ہیں۔
جہاں تک شادی کے مسئلے کا تعلق ہے تو فیملی اور اسٹیٹس کا سیارہ مرکری ہے جو بری طرح متاثرہ پوزیشن میں ہونے کی وجہ سے شادی میں رکاوٹ اور شادی کے بعد ازدواجی زندگی میں مسائل کی نشان دہی کر رہا ہے،اگرچہ وہ اس سال 6 جون سے ایسے دور میں داخل ہوگئی ہے جو شادی کا دور ہے اور یہ دور تقریباً 2 نومبر 2018 ءتک جاری رہے گا، اس دور میں یقیناً شادی ہوسکتی ہے، اگر زائچے میں موجود خرابیوں کو دور کیا جائے۔
اس کے لیے آپ کو ایمرلڈ اور اوپل کے نگینے استعمال کرنے ہوں گے، کم از کم 5 کیرٹ وزن میں ایمرلڈ دائیں ہاتھ کی سب سے چھوٹی انگلی میں کسی اچھے وقت پر پہنایا جائے، اسی طرح اوپل یا وہائٹ ٹوپاز رنگ فنگر میں پہنایا جائے، ہفتے کے روز بوڑھے یا معذور افراد کی مدد کی جائے اور منگل کے روز آوارہ کتوں کو خوراک ڈالی جائے، یہ ریمیڈیز برتھ چارٹ میں موجود شادی میں تاخیر اور آئندہ ازدواجی زندگی کے مسائل کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، چوں کہ زائچے میں مشتری کی پوزیشن بہت مضبوط اور بہتر ہے لہٰذا شوہر اچھی پوزیشن کا حامل اور دین دار ہوگا، اس کا تعلق قانون یا ایجوکیشن کے شعبے سے ہوسکتا ہے،امید ہے کہ اس تفصیلی جواب سے آپ مطمئن ہوگئے ہوں گے۔
جہاں تک والدہ کی بیماری کا تعلق ہے تو اس مرض میں اور اس عمر میں زیادہ تیز رفتار پیش رفت کی امید نہیں رکھنی چاہیے، یقیناً آپ کی والدہ لاہور میں ہوں گی اور وہاں بہت اچھے ہومیوپیتھک معالج موجود ہیں لیکن ایسے معالجین سے علاج نہ کرائیں جو اشتہارات کے ذریعے اپنی پبلسٹی کرتے ہوں، پرانے تجربے کار ہومیوپیتھ سے رابطہ کریں، ان کے زائچے کے مطابق پیر اور بدھ کے روز ان کا صدقہ دیا کریں، پیر کے روز کسی غریب بچوں والی عورت کی مدد کیا کریں یا سفید رنگ کی چیزیں صدقے کے طور پر دیا کریں اور بدھ کے روز سبز رنگ کی چیزیں مثلاً سبزیاں وغیرہ کسی غریب کو دیا کریں، اگر سچا موتی (pearl) آسانی سے دستیاب ہو تو وہ انہیں رنگ فنگر میں پہنائیں۔