ہفتہ، 28 جولائی، 2018

ہر آسماں کو آج زمیں کر رہے ہیں ہم

اگست کی فلکیاتی صورت حال ، ایک مشکل اور سخت مہینہ 
تمام تر خدشات کے باوجود بالآخر الیکشن 2018 ء اپنے وقت پر منعقد ہوگئے، تحریک انصاف اس انتخاب میں سب سے بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے جب کہ دوسرے نمبر پر مسلم لیگ (ن) اور تیسری پوزیشن پاکستان پیپلز پارٹی کو حاصل ہوئی ہے۔
ہم نے اس خدشے کا بارہا اظہار کیا تھا کہ سیاروی صورت حال الیکشن کو ملتوی کراسکتی ہے یا الیکشن کی تاریخ آگے بڑھ سکتی ہے کیوں کہ زائچہ ء پاکستان میں کیتو اور مریخ کا قران نویں گھر میں جاری ہے جس کی وجہ سے جولائی میں پے در پے دہشت گردی کے واقعات ہوئے خصوصاً بلوچستان میں اس کا زور رہا لیکن پاکستان کی مسلح افواج اور عدلیہ مبارک باد کی مستحق ہے کہ اس نے انتہائی خراب صورت حال کے باوجود الیکشن کے انعقاد کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا، یہ الگ بات ہے کہ فوج اور عدلیہ پر تنقید کرنے والے آج بھی اپنے کام میں مصروف ہیں اور الیکشن کے نتائج پر بھی انگلیاں اٹھارہے ہیں،ہم نے پاکستان کی تینوں نمایاں سیاسی پارٹیوں اور ان کے سربراہوں کے زائچے گزشتہ دنوں پیش کیے تھے اور اس بات کی نشان دہی کی تھی کہ عمران خان اور تحریک انصاف کے زائچے کی پوزیشن دیگر جماعتوں کے مقابلے میں بہتر ہے،حقیقت یہ ہے کہ 2013 ء میں تحریک انصاف کے زائچے کی جو خراب پوزیشن تھی وہ اس سال مسلم لیگ ن کے زائچے میں نظر آرہی تھی، اسی طرح 2013 ء میں نواز شریف صاحب کے زائچے کی جو پوزیشن تھی وہ اس بار عمران خان کے زائچے کی تھی۔
الیکشن سے پہلے ہم لاہور اور راولپنڈی گئے تھے، راولپنڈی میں ہمارا قیام جناب انتظار حسین زنجانی صاحب کے ساتھ رہا، ان کی فرمائش پر ہم نے الیکشن کی صورت حال پر ایک پروگرام بھی ریکارڈ کرایا جو یوٹیوب پر موجود ہے، اس پروگرام میں بھی ہم نے واضح طور پر نشان دہی کردی تھی کہ اس بار الیکشن کے نتائج نہایت غیر متوقع اور چونکا دینے والے ہوں گے، سیاسی تجزیہ کار جو تجزیے پیش کر رہے ہیں یہ غلط ثابت ہوں گے، مزید یہ کہ موجودہ انتخابات ماضی میں ہونے والے 1977 ء کے انتخاب جیسے ہوسکتے ہیں،اس وقت بھی جو صورت حال پیدا ہوئی تھی وہ 2018 ء کے انتخابات کے نتائج پر سامنے آسکتی ہے چناں چہ ایسا ہی ہوا، ہارنے والی سیاسی پارٹیوں نے نتائج پر نہ صرف یہ کہ اپنے تحفظات کا اظہار کیا بلکہ انھیں تسلیم کرنے سے انکار کردیا، اب تمام جماعتیں اپنی آئندہ کی حکمت عملی طے کرنے کے لیے اکٹھا ہورہی ہیں، دیکھتے ہیں کیا فیصلہ کیا جاتا ہے، کیا نتائج کو مکمل طور سے مسترد کرکے نئے الیکشن کا مطالبہ کیا جائے گا جیسا کہ ماضی میں ہوا تھا اور نئی بننے والی حکومت کے خلاف کوئی تحریک چلائی جائے گی؟
مسلم لیگ ن کسی احتجاجی تحریک کے لیے شاید تیار نہ ہو لیکن ایم ایم اے جس کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ہیں اس تجویز کی حمایت کرسکتے ہیں لیکن ایسی کوئی تحریک بہر حال کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی، بے شک تحریک انصاف حکومت بنانے کی اچھی پوزیشن میں آچکی ہے اور امکان ہے کہ پنجاب میں بھی اپنی حکومت تشکیل دے سکے، اس طرح کے پی کے، پنجاب اور بلوچستان میں تحریک انصاف کو موقع مل سکتا ہے جب کہ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی پوزیشن بہتر ہے۔
عزیزان من! زائچہ ء پاکستان کی پوزیشن وہی ہے جس کا ہم بارہا اظہار کرتے رہے ہیں، ہم نے اس سال کو ’’دھلائی، صفائی اور لڑائی کا سال‘‘ قرار دیا تھا، اگر غور کریں تو سال 2018 ء کچھ ایسا ہی نظر آرہا ہے، گزشتہ چالیس سال سے برسراقتدار آنے والی جمہوری قوتیں اچانک منظر سے ہٹ گئی ہیں اور ایک نئی قیادت سامنے آئی ہے، ہمارے قارئین کو یاد ہوگا کہ ہم 2010 ء سے جب سیارہ یورینس برج حمل میں داخل ہوا تھا، یہ کہہ رہے ہیں کہ نئی قیادت کا ظہور ناگزیر ہے، سیارہ یورینس سات سال برج حمل میں گزار کر اب برج ثور میں اپنے نئے سفر کا آغاز کر رہا ہے، گزشتہ سات سال میں ایک نئی سیاسی جماعت اور قیادت نمایاں ہوکر سامنے آئی ہے جس کا پہلا اظہار 2013 ء کے الیکشن میں ہوا تھا، تحریک انصاف ملک کی دوسری اہم جماعت کے طور پر سامنے آئی تھی، آج وہ پہلی پوزیشن پر ہے۔
اس سال دھلائی، صفائی اور لڑائی کا جو عمل جاری رہا ہے وہ آئندہ بھی جاری رہے گا بلکہ اس میں مزید تیزی آئے گی،موجودہ الیکشن میں بڑے بڑے نامور سیاست داں شکست سے دو چار ہوئے ہیں، مولانا فضل الرحمن، اسفند یارولی، غلام احمد بلور، چوہدری نثار، سعد رفیق، فاروق ستار، رانا ثناء اللہ، مصطفیٰ کمال، سراج الحق اور بہت سے لوگ پارلیمنٹ سے دور ہوگئے ہیں،کراچی نے ایک نئی کروٹ لی ہے، ایک نیا شعور کراچی میں نمودار ہوا ہے اور انھوں نے اس بار ایک قومی سطح کی پارٹی کو ووٹ دے کر کامیابی حاصل کرنے میں مدد دی ہے، علاقائی اور لسانی سیاست سے خود کو الگ کرلیا ہے، یہ بڑی مثبت تبدیلی ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ قومی سیاست میں شمولیت کے لیے کراچی والوں نے ن لیگ یا پیپلز پارٹی کا انتخاب نہیں کیا، شاید اس کی وجہ یہ ہوگی کہ وہ برسوں سے ان پارٹیوں کے دور اقتدار کا مشاہدہ کرتے رہے ہیں اور اب ایک نئی قیادت کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
عمران خان اور ان کی پارٹی حکومت بنانے کے بعد کس طرح اپنے وعدے پورے کرے گی یا نہیں کرے گی ، یہ آنے والا وقت بتائے گا، تحریک انصاف کی حکومت پاکستان میں کیا تبدیلیاں لاسکتی ہے اور اسے مستقبل میں کیسے چیلنجز درپیش ہوسکتے ہیں، اس پر ان شاء اللہ آئندہ کسی موقع پر بات کریں گے کیوں کہ ابھی تک نئی اسمبلی وجود میں نہیں آئی ہے ، ممبران اسمبلی نے حلف نہیں اٹھایا ہے اور خود عمران خان نے بھی بہ حیثیت وزیراعظم حلف نہیں لیا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ نئے وزیراعظم کے حلف کی تاریخ اور وقت ہمیشہ اہم کردار ادا کرتا ہے، جب جون 2013 ء میں نواز شریف صاحب نے بطور وزیراعظم حلف اٹھایا تھا تو ہم نے لکھا تھا کہ حلف کے لیے یہ وقت مناسب نہیں ہے اور یہ تجویز بھی پیش کی تھی کہ انھیں چاہیے ، وہ دوبارہ کسی اچھے اور سعد وقت پر حلف اٹھائیں لیکن ایسا نہیں ہوا چناں چہ ان کا پورا دور اقتدار شدید مشکلات اور پریشانیوں کا باعث رہا، خراب وقت پر حلف اٹھانے کے نتائج نہ صرف حلف اٹھانے والے کو بلکہ ملک کو بھی بھگتنا پڑتے ہیں مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اس انتہائی اہم معاملے کو نہایت غیر اہم خیال کیا جاتا ہے،بہتر ہوگا کہ عمران خان ابتدا ہی میں ایسی کسی غلطی کا شکار نہ ہوں، ہم ان کی کامیابی کے لیے دعا ہی کرسکتے ہیں،فی الحال اپنا ایک شعر عمران خان کی نظر کرتے ہیں ؂
کل جو گماں تھا، اس کو یقیں کر رہے ہیں ہم
ہر آسماں کو آج زمیں کر رہے ہیں ہم
اگست کے ستارے
سیارہ شمس اپنے ذاتی برج اسد میں حرکت کر رہا ہے،23 اگست کو برج سنبلہ میں داخل ہوگا، سیارہ عطارد بھی برج اسد میں بحالت رجعت حرکت کر رہا ہے،19 اگست کو مستقیم ہوگا، شمس کے قریب ہونے کی وجہ سے غروب رہے گا، سیارہ زہرہ اپنے برج ہبوط سنبلہ میں حرکت کر رہا ہے،7 اگست کو اپنے ذاتی برج میزان میں داخل ہوگا، سیارہ مریخ برج دلو میں بحالت رجعت حرکت کررہا ہے، 13 اگست کو برج جدی میں داخل ہوگا اور اسی برج میں 27 اگست کو مستقیم ہوگا، سیارہ مشتری برج عقرب میں حرکت کر رہا ہے اور پورا مہینہ اسی برج میں رہے گا، سیارہ زحل بحالت رجعت برج جدی میں ہے،یورینس برج ثور میں حرکت کررہا ہے،7 اگست کو اسے رجعت ہوجائے گی،نیپچون بھی بحالت رجعت برج حوت میں حرکت کرے گا اور پلوٹو برج جدی میں بحالت رجعت رہے گا، راس و ذنب بالترتیب برج اسد اور دلو میں رہیں گے،یہ سیاروی پوزیشن یونانی علم نجوم کے مطابق ہے۔
نظرات و اثرات سیارگان
اگست کے مہینے میں سیارگان کے درمیان تثلیث کے چار زاویے اور تسدیس کا ایک سعد زاویہ قائم ہوگا جب کہ تربیع کے 6 نحس زاویے اور قران کا ایک زاویہ ہوگا، مجموعی طور پر اس مہینے میں نحس اثرات کا غلبہ رہے گا، عام افراد کو اس مہینے میں صدقات و خیرات اور کثرت سے استغفار پر توجہ دینی چاہیے، جولائی میں 2 سورج اور چاند گہن لگ چکے ہیں ، گیارہ اگست کو اس سال کا آخری سورج گہن ہوگا۔
2 اگست: مریخ اور یورینس کے درمیان نحس زاویہ ہے، یہ نظر غیر متوقع اور اچانک حادثات کی نشان دہی کرتی ہے،دہشت گردی کے واقعات اور روڈ ایکسیڈنٹس میں اضافہ ہوسکتا ہے، بیرون ملک سے داخلی معاملات میں مداخلت بڑھ سکتی ہے،پاکستان کی سرحدوں پر مسلح افواج کو چوکس رہنے کی ضرورت ہوگی۔
7 اگست: شمس اور مشتری کے درمیان تربیع کا نحس زاویہ نئے آئینی اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتا ہے،عام افراد مہنگائی میں اضافے کی وجہ سے پریشان ہوسکتے ہیں،گورنمنٹ سے متعلق کاموں میں رکاوٹوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔
8 اگست: زہرہ اور مریخ کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ قائم ہوگا، یہ سعد نظر ہے،عورت و مرد کے درمیان تعلقات میں بہتری لاتی ہے،اس وقت دونوں کے درمیان محبت اور کشش کے لیے جفری اعمال کیے جاتے ہیں، اس وقت میں مشینری سے متعلق خریدوفروخت کا کاروبار ترقی کرسکتا ہے۔
9 اگست: شمس اور عطارد کے درمیان قران کا زاویہ نحس اثر رکھتا ہے،تعلیمی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے،اس وقت امتحان یا کوئی انٹرویو وغیرہ دینا بہتر نہیں ہوگا، سفر میں رکاوٹ یا التوا کا سامنا ہوسکتا ہے،لوگوں سے رابطے اور بات چیت میں مشکلات پیش آسکتی ہیں،انھیں اپنی بات سمجھانا مشکل ہوگا، پاکستان میں بچوں اور نوجوانوں سے متعلق مسائل میں اضافہ ہوگا۔
اسی روز زہرہ اور زحل کے درمیان تربیع کا نحس زاویہ قائم ہوگا، یہ نحس نظر باہمی تعلقات میں کشیدگی لائے گی خصوصاً ازدواجی زندگی میں تلخیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔
11 اگست: عطارد اور مشتری کے درمیان تربیع کا نحس زاویہ کاروباری معاملات میں رکاوٹیں اور پریشانی لاسکتا ہے، ترقیاتی کام متاثر ہوں گے، سفر میں مشکلات یا التوا کا سامنا ہوسکتا ہے،اس وقت تحریری اور تقریری معاملے میں محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی، کسی معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے اچھی طرح غوروفکر کرلیں۔
18 اگست: عطارد اور زہرہ کے درمیان تسدیس کا سعد زاویہ ہوگا،یہ وقت معاملات کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے،بات چیت کے ذریعے مسائل حل کیے جاسکتے ہیں،لوگوں سے میل ملاقات خوش گوار ہوگی، تعلقات کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی،تخلیقی نوعیت کے کام عمدہ طور پر انجام پائیں گے،فنکارانہ صلاحیتوں کا بہتر اظہار ہوسکے گا۔
19 اگست: مشتری اور نیپچون کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ قائم ہوگا، پیچیدہ نوعیت کے مسائل کا حل سامنے آسکتا ہے،مائع اشیا کے کاروبار سے فوائد حاصل ہوں گے،یہ زاویہ طویل المدت ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کرنے کے لیے موافق ثابت ہوتا ہے۔
25 اگست: شمس اور یورینس کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ حکومت کی طرف سے اچھے اقدام اور فیصلے لاسکتا ہے،عام افراد کے لیے سرپرائز کے مواقع نکلتے ہیں، اس وقت میں غیر روایتی طریقوں سے اور نئے آئیڈیاز سے کام لینے میں فائدہ ہوگا،لکیر کے فقیر نہ بنیں، اپنے طرز زندگی یا کام کے حوالے سے طریق کار کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں۔
26 اگست: شمس اور زحل کے درمیان تثلیث کا زاویہ سعد اثر رکھتا ہے،تعمیری اور ترقیاتی کاموں کے لیے بہتر وقت ہوگا، اس وقت گورنمنٹ سے متعلق کاموں میں کامیابی ملتی ہے، پراپرٹی کی خریدوفروخت کے لیے بھی یہ اچھا وقت ہوگا،گورنمنٹ سے کیے گئے معاہدات فائدہ دیں گے، گورنمنٹ سے کنسٹرکشن کے ٹھیکے وغیرہ کا حصول آسان ہوگا۔
27 اگست: زہرہ اور پلوٹو کے درمیان تربیع کا نحس زاویہ جذبات میں شدت لاتا ہے،اس وقت اپنے جذبات پر قابو رکھیں، خواتین جلد غصے اور اشتعال کا شکار ہوسکتی ہیں،ان کی کوئی لغزش یا کوتاہی نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔
28 اگست: عطارد و مشتری کے درمیان تربیع کا نحس زاویہ دوسری بار قائم ہوگا، کاروباری یا ترقیاتی امور میں رکاوٹ یا تاخیر کا سامنا ہوسکتا ہے،سفر میں التوا یا پریشانی اور لوگوں سے معاملات کرنے میں مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔
شرف قمر
پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق قمر اپنے شرف کے درجے پر چار اگست کو 04:32 am سے 06:22 am تک رہے گا، جب کہ جی ایم ٹی ٹائم کے مطابق 3 اگست رات 11:32 pm سے 4 اگست 01:22 am تک ہوگا، دیگر ممالک کے لوگ جی ایم ٹی ٹائم سے اپنے ملک کا فرق نفی یا جمع کرکے درست وقت حاصل کرسکتے ہیں۔
شرف قمر کا وقت سعد اور مبارک ہوتا ہے،اس وقت نیک اعمال کرنا چاہئیں، اگر بسم اللہ الرحمن الرحیم 786 مرتبہ پڑھ کر کچھ چینی پر دم کردیں اور پھر یہ چینی گھر میں استعمال ہونے والی چینی میں ملادیں تاکہ گھر کے تمام افراد استعمال کرسکیں،اس کے استعمال سے تمام اہل خانہ کے درمیان محبت و خلوص پیدا ہوگا اور گھر میں خیروبرکت کا باعث ہوگا، اس چینی کو ختم نہ ہونے دیں، جب کم ہوجائے تو مزید چینی ملالیا کریں۔
قمر درعقرب
قمر اپنے ہبوط کے درجے پر پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 16 اگست 05:30 pm پر پہنچے گا اور 07:18 pm تک ہبوط یافتہ رہے گا، یہ انتہائی نحس وقت ہوتا ہے،اس وقت کیے گئے کاموں کے خراب نتائج نکلتے ہیں،خصوصاً کوئی بھی نیا کام قمر در عقرب کے دوران میں نہیں کرناچاہیے، البتہ علاج معالجہ بہتر رہتا ہے۔
اس وقت میں ایسے عملیات مناسب ہوتے ہیں جو بیماریوں سے نجات، بری عادتوں کو روکنے یا مخالفین کی زبان بندی وغیرہ کے لیے کیے جاتے ہیں، سورج اور چاند گہن کے موقع پر جو عملیات دیے گئے تھے،وہ بھی اس وقت کیے جاسکتے ہیں۔
سورج گہن
اس سال کا آخری سورج گہن پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق گیارہ اگست کو لگے گا، اس کا آغازدوپہر 01:02 pm پر ہوگا اور مکمل گہن 02:46 pm پر ہوگا جب کہ گہن کا اختتام شام 04:30 pm پر ہوگا، یہ گہن برج اسد کے 18 درجہ 37 دقیقہ پر لگے گا اور جزوی ہوگا، گہن کا مکمل نظارہ گرین لینڈ ، فن لینڈ، ناروے، کنیڈا، روس، کوریا اور چین میں کیا جاسکے گا، جی ایم ٹی ٹائم کے مطابق اس گہن کا آغاز 08:02 am پر ہوگا جب کہ مکمل گہن 09:46 am پر ہوگا، گہن کا خاتمہ 11:30 am پر ہوگا۔
سورج گہن سے متلعق عملیات گزشتہ ماہ دیے گئے تھے ، اپنی ضرورت کے مطابق ان سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔

پیر، 23 جولائی، 2018

ایمان کی کمزوری غیر اللہ کی طرف لے جاتی ہے


نام نہاد عامل اور بزرگ سادہ لوح افراد کو گمراہ کر تے ہیں 
معاشرے میں سحرو جادو کی وباء اس قدر پھیل گئی ہے کہ گھر میں مرا ہوا چوہا بھی نکل آئے تو لوگ سمجھتے ہیں کہ کسی نے ان پر کچھ کرایا ہے اور پھر اپنے کسی بھی دکھ تکلیف یا پریشانی کو اسی تناظر میں دیکھنے لگتے ہیں۔ہم اس موضوع پر سالہا سال سے لکھ رہے ہیں اور حتی الامکان یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سحرو جادو کے معاملات اتنے آسان اور اس قدر عام نہیں ہوتے کہ جس کا دل چاہے اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتا رہے۔بے شک سحرو جادو کی حقیقت اپنی جگہ مسلّم الثبوت ہے مگر اس علم کا جاننا اور اس پر عمل کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ہم اپنے علم اور تجربے کی بنیاد پر پورے یقین و اعتماد کے ساتھ یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ اس راستے پر چلنے والا کبھی فلاح نہیں پاسکتا اور اس ذریعے سے کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ یہ ضرور ہے کہ عارضی طور پر تھوڑی دیر کے لیے وہ کسی کو پریشان کرسکتا ہے مگر اس کی قیمت بھی اُسے بہت بھاری ادا کرنا پڑتی ہے لہٰذا اس علم کے حقیقی ماہرین بڑے محتاط ہوتے ہیں۔وہ بھی جائز و ناجائز کی تمیز رکھتے ہیں اور ایسے کاموں میں ہاتھ نہیں ڈالتے جن کے بارے میں وہ جانتے ہیں کہ یہ گھاٹے کا سودا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ایمان نہایت کمزور ہوچکے ہیں اور ہمیں اللہ پر، اُس کے رسولﷺ کے فرمان پر اور اُس کے کلام پر یقین نہیں رہا ہے۔ہم بے تحاشہ عبادات کرتے ہیں، کلام الہٰی کی تلاوت کرتے ہیں مگر یہ یقین نہیں رکھتے کہ ہمارے یہ اعمال ہمارے لیے فائدہ بخش ہیں اور ہمیں ہر برائی سے اور مصیبت سے بچاتے ہیں۔ اس کے برعکس ہمیں یہ یقین فوراً ہوجاتا ہے کہ ہم پر جو سحرو جادو کیا گیا ہے وہ ہم پر مؤثر ہوگیا ہے،ہمارے سارے کام اُس کی وجہ سے خراب ہورہے ہیں، ہمیں جو نقصانات ہورہے ہیں اُس کی وجہ بھی کسی کا کیا کرایا عمل ہے۔حد یہ کہ ہمیں جو دکھ بیماریاں لاحق ہوگئی ہیں اُن کی وجہ بھی سحری اثرات ہی ہیں۔ مزید جاہل اور جعلی پیروں، عاملوں اور جھاڑ پھونک کرنے والے بزرگوں نے یہ گمراہ کن پروپیگنڈا بھی کر رکھا ہے کہ گندے اور سفلی عمل کا توڑ،گندے اور سفلی طریقوں سے ہی ممکن ہے، اس معاملے میں نورانی طریقے کارآمد نہیں ہوتے۔ اس بیان کی جس قدر بھی مذمت کی جائے ،کم ہے۔ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے سورج کے چہرے پر دھول ڈال دی جائے۔افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے سادہ لوح عوام ایسے پروپیگنڈے پر یقین بھی کر لیتے ہیں اور بڑی سادگی کے ساتھ ہمیں آکر بتاتے ہیں کہ فلاں بزرگ نے یہ فرمایا ہے۔ 
ہمارے نزدیک تو ایسے بزرگوں کی بزرگی ہی مشکوک ہے۔ محض ظاہری حلیہ اور پیچیدہ گفتگو ، کیا یہی بزرگی کی نشانیاں ہیں، ہمارے نام نہاد عامل اور بظاہر بزرگ نظر آنے والے افراد جو اپنی روحانیت کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں عموماً طریقت کے فلسفے کی آڑ میں سخت گمراہیاں پھیلاتے ہیں ، ایسے ایسے شگوفے چھوڑتے ہیں کہ جنہیں سن کر عقل حیران رہ جاتی ہے اور ایک لمحے میں ان کی علمیت کا بھانڈا پھوٹ جاتا ہے ۔
تھوڑے دن پہلے ایک صاحب ایک مریضہ کو ہمارے پاس لائے، اُن کے ہمراہ ایک اور صاحب بھی تھے جن کا کہنا تھا کہ وہ بھی روحانیت سے شغف رکھتے ہیں اور مریضہ کا معاملہ ان کی سمجھ سے باہر ہے ، بڑے بڑے نامی گرامی عامل و کامل بھی اس کا علاج نہیں کرسکے ، نعتوں کی کیسٹ سنتے ہی یا مصلے پر کھڑے ہوتے ہی حاضری ہوجاتی ہے اور پھر یہ کسی کے قابو میں نہیں آتی ۔
اب غور طلب بات یہ ہے کہ نعتوں کی کیسٹ یا مصلے پر کھڑے ہونے کی صورت میں حاضری کا کیا مطلب ہے ، دوسرے معنوں میں وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ اس پر کسی بزرگ کی سواری آتی ہے کیونکہ نعتیں سن کر کوئی شیطان تو حاضر نہیں ہوسکتا ، دوسری طرف وہ اس حاضری سے اور لڑکی کی خراب حالت سے پریشان بھی تھے مگر یہ سوچنے کے لیے ایک لمحے کوبھی تیار نہیں تھے کہ معاملہ کسی آسیب و جنات یا کسی بزرگ کی روح کی مداخلت کا نہیں ہے بلکہ یہ کوئی نفسیاتی مسئلہ ہے ، وہ اس لڑکی کو مختلف مزارات پر بھی لے جاتے رہے تھے ۔
بات صرف اتنی تھی کہ لڑکی شیزوفرینیا کی مریض تھی اور اُس پر دورے پڑتے تھے۔ شیزو فرینیا میں انسان کی شخصیت تقسیم ہوجاتی ہے اور دورے کے دوران میں وہ اپنی شعوری حقیقت کو فراموش کردیتا ہے ، لاشعور کی دنیا میں چلا جاتا ہے اور اُس کے لاشعور یا تحت الشعور میں جو کچھ جمع ہوتا ہے وہ اس کے مطابق ایکٹ کرنا شروع کردیتا ہے۔ اس کیفیت کو کم علمی اور عدم واقفیت کے سبب آسیب یا جنات کا نام دے دیا جاتا ہے۔ایسی لاشعوری کیفیت میں مریض بے پناہ طاقت ور بھی ہوسکتا ہے اور حیرت انگیز باتیں یا حرکات بھی کرسکتا ہے۔
ہمارے نزدیک وہ سیدھا سادہ کیس تھا اور ہومیو پیتھک ٹریٹمنٹ سے ٹھیک ہوسکتا تھا۔ چناں چہ ہم نے اُنہیں یہی بتایا مگر شاید اُن کی سمجھ میں ہماری بات نہیں آئی اور آ بھی نہیں سکتی تھی۔ ایسے لوگ اپنی تسلی کے لیے بڑے سوال و جواب کرتے ہیں ، یہ اور بھی غلط رویہ ہے۔ خاص طور پر مریض کے سامنے اس طرح کی گفتگو کیس کو خراب کرتی ہے لہذا ہم نے انہیں سختی سے منع کیا کہ آپ خود کو اس الجھن میں نہ ڈالیں کہ مسئلہ کیا ہے۔ یہ مسئلہ آپ کی سمجھ میں اس لیے بھی نہیں آسکتا کہ آپ نے نفسیات بھی نہیں پڑھی اور میڈیکل کے بارے میں بھی آپ کا علم محدود ہے۔ آپ صرف ہماری ہدایات پر عمل کریں لیکن ہم نے محسوس کیا کہ وہ مطمئن نہیں ہوسکے اور بادل نا خواستہ دوا تو لے لی لیکن اُس کے بعد دوبارہ واپس نہیں آئے۔ یقیناً کسی نئے بزرگ یا عامل کی تلاش میں ہوں گے۔
ایسے کیسوں میں مریض یا مریضہ نہایت بے بس اور لاچار ہوتی ہے۔اُسے مستقل طور پر مختلف علاج معالجے کے بہانے تختہ مشق بنایا جاتا ہے اور ایسے ایسے مراحل سے گزارا جاتا ہے جن کے نتیجے میں اُس کی بیماری اور بھی پیچیدہ بلکہ لا علاج ہوتی چلی جاتی ہے اورمریضہ خود بھی یقین کی حد تک یہ سمجھ لیتی ہے کہ اس کے ساتھ واقعی کوئی پراسرار معاملہ ہے۔ ایسی ہی صورت حال اُن لوگوں کی بھی ہے جو اپنے حالات کی خرابی کی وجہ سحروجادو کو سمجھتے ہیں اور دوسروں کے کیے کرائے پر اللہ سے زیادہ یقین رکھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے حالات بھی کبھی نہیں بدلتے اور ہم نے انہیں ساری زندگی ناکام و نا مراد ہی دیکھا ہے۔ درحقیقت ایسے لوگ شرک جیسے گناہِ کبیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں جو کہ اللہ کے نزدیک ناقابلِ معافی گناہ ہے۔ ہم اس صورت حال کو شرک اس لیے سمجھتے ہیں کہ انسان اللہ سے زیادہ سحروجادو کے اثرات پر یقین رکھتا ہے۔
انسان کی زندگی میں حالات کی دھوپ چھاؤں جاری رہتی ہے۔ہم اللہ کے بنائے ہوئے جس نظام میں سانس لے رہے ہیں وہ کوئی جامد و ساکت نظام نہیں ہیں بلکہ جاری و ساری نظام ہے اور اس نظام میں زندگی کے اتار چڑھاؤ ہی کی بدولت زندگی کا حسن قائم ہے۔ غم اور خوشی ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔کسی پرانے شاعر نے کیا خوب کہا تھا ؂جہاں بجتی ہے شہنائی وہاں ماتم بھی ہوتے ہیں۔
زندگی کی یہ دھوپ چھاؤں اللہ کے قائم کردہ نظام میں سیارگان کی گردش کی وجہ سے جاری و ساری ہے ۔ اگر سیاروں کی گردش روک دی جائے تو پوری کائنات ساکت و جامد ہوجائے گی اور شاید زندگی کا جاری و ساری عمل بھی رک جائے لیکن اللہ کے بنائے ہوئے اس نظام کو اُس کے حکم کے مطابق ابھی چلتے رہنا ہے تاوقت یہ کہ اللہ ہی کا مقرر کردہ وقتِ اختتام نہ آجائے جسے ہم قیامت کہتے ہیں۔
انسان ازل ہی سے بڑا بے صبرا اور نا شکرا ہے بلکہ عموماً تو یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا۔بے شک اللہ نے انسان کو بے پناہ خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ بنایا ہے۔ شاید یہ امتزاج ہی دنیا کی رنگا رنگی کا سبب ہے اگر صرف خوبیاں ہی ہوتیں تو دنیا میں کوئی مسئلہ،کوئی ہنگامہ، کوئی فساد نہ ہوتا۔گویا انسان فرشتہ بن جاتا ہے مگر فرشتے تو پہلے سے موجود تھے۔ انسان کی تخلیق کا مقصد ہر گز یہ نہیں تھا کہ وہ فرشتوں جیسے طور طریقے اختیار کرے ۔ اسی لیے خوبیوں کے ساتھ خامیاں اور کمزوریاں بھی اُسے اپنے جدِّامجد سے ورثے میں ملیں اور یہ خامیاں اورکمزوریاں ہی تمام مخلوقات کے درمیان میں اُس کے شرف کا باعث ہیں کیوں کہ ان کی موجودگی میں بھی جب وہ اعلیٰ ترین صفات کا اظہار کرتا ہے تو اُس کا مقام فرشتوں سے بھی آگے بڑھ جاتا ہے۔
کہنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ انسان کو اپنی کمزوریوں اور خامیوں پر قابو پانے کی جدوجہد کرنا چاہیے تب ہی یہ ممکن ہے کہ ہم اپنی اعلیٰ صفات اور عمدہ صلاحیتیوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔ وقت کی دھوپ چھاؤں میں ہماری خوبیوں اور خامیوں کا امتحان ہوتا ہے اور اس امتحان میں ہم کبھی فیل ہوتے ہیں اور کبھی پاس۔ جب فیل ہوتے ہیں تو اپنی خامیوں کا احساس کرنے کے بجائے دوسروں کو اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار سمجھنے لگتے ہیں۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں سے ہمارے پیچیدہ مسائل کا آغاز ہوتا ہے اور ہم ایک ناکامی کے بعد دوسری ناکامی کی طرف قدم بڑھانا شروع کرتے ہیں اگر اس مرحلے پر ہم بغور اپنی ناکامی کی درست وجوہات کا جائزہ لے کر اپنی کمزوریوں کے بارے میں جان لیں اور پھر اُن پر قابو پانے کی مثبت کوششیں شروع کردیں تو یقیناً کوئی دوسری ناکامی ہماری زندگی میں نہیں آسکتی لیکن افسوس ہم یہی تو نہیں کرتے۔آیئے اس ساری گفتگو کے تناظر میں ایک خط کا جائزہ لیتے ہیں لیکن یہ اس حوالے سے کوئی پہلا خط نہیں ہے۔ایسے منظر نامے ہم پہلے بھی آپ کو دکھاتے رہے ہیں۔
اس خط کے سلسلے میں نام اور جگہ کا اظہار ممکن نہیں ہے،وہ لکھتے ہیں ’’اللہ پاک آپ کو صحت و تندرستی، سکون و راحت نصیب کرے۔ محترم! میں نے آپ کا کالم پڑھا اور اُس کے مطابق لوح شمس تیار کی۔ ہمارے ایک بزرگ جو روحانی علاج کا کام 30 سال سے کر رہے ہیں، انہیں دکھائی تو انہوں نے بہت عقیدت سے اُسے چوم کر میرے والد کو تنبیہ کی کہ اس لوح کو اپنے پاس ضرور رکھیں۔ پہلے ہمارا کاروبار بہت عروج پہ تھا اور فرصت نہیں ملتی تھی کہ ہم کچھ اور کرسکیں۔ اللہ نے بہت کرم کیا تھا لیکن پھر ہمارے برابر میں ایک دوسری دکان کھل گئی ، وہ کئی بھائی ہیں اور سب جانتے ہیں کہ وہ تمام بھائی تعویز گنڈے وغیرہ کرتے اور کرواتے ہیں ، میرے والد صاحب اور میں کالے علم وغیرہ پر بالکل یقین نہیں رکھتے تھے اور ہم نے ان کے بارے میں کبھی کوئی غلط بات بھی کسی سے نہیں کی ، آہستہ آہستہ ہمارا کام کم ہوتا چلا گیا ،آئے دن ہمارے گھر میں لڑائی جھگڑا ، بے سکونی اور دیگر پرابلم ہوتے ہوتے بہت حالت بگڑی اور حال یہ ہوا کہ والد صاحب بیمار رہنے لگے ، ان کے بعد والدہ کی طبیعت بھی خراب رہنے لگی تو ہم نے روحانی علاج کروایا تو پتا چلا کہ ہمارے کاروبار پر سخت بندش اور والد صاحب پر سفلی کسی ہندو سے کروایا گیا ہے اور والد کے ساتھ والدہ پر بھی اثرات کا بتایا ہے ، پچھلے چار سال سے ایک عامل کو چھوڑ دوسرے عامل کے پاس آنا جانا لگ گیا ، طبیعت آئے دن خراب رہتی ہے ، جب بھی کوئی کارروائی ہوتی ہے تو والد صاحب کی طبیعت مزید خراب ہوجاتی ہے ، میں سب کا تو نہیں کہتا پر دو عامل حضرات جنہیں صرف میں نہیں بلکہ پورا علاقہ جانتا ہے کہ وہ جھوٹ بولنے والے لوگ نہیں ، انہوں نے بھی یہی بتایا اور ساتھ ساتھ صرف ہمارے برابر والے دکان دار کے بارے میں ہی نہیں ہمارے رشتہ داروں میں سے بھی کچھ لوگوں کے بارے میں بتایا کہ وہ بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں ۔ آخر میں ان دونوں حضرات نے جہاں ہمارا دل مطمئن تھا یہ کہہ کہ ہم سے معذرت کرلی کہ ہمارے بیوی بچے ہیں اور یہ گندا کام گندا کرنے والے آسانی سے اتار سکتے ہیں ، ہمیں جس نے جو بتایا وہ پڑھا ، پڑھائی میں کبھی پیچھے نہیں رہے حتیٰ کہ 313 مرتبہ روز آیت الکرسی 41 دن پڑھی ، سورہ الناس، سورہ الفلق 1100 بار پڑھی ، یٰس شریف 41 بار 7 دن تک پڑھی ، دعائے حزب البحرپچھلے ایک سال سے بغیر ناغہ روز پڑھ رہا ہوں ، میرے پاؤں میں پڑھائی کر کر کے سوجن ہونے لگی ہے ، قرآن پاک کی تلاوت ، یٰس شریف کا ورد روز کرتا ہوں ، سارے گھر والے نمازی ہیں ، پاکی ناپاکی کا خاص خیال رکھا جاتا ہے ، کام دھندہ بالکل ختم ہوچکا ہے ، کسی نے بتایا سورہ رحمن پڑھو ، نکلتے سورج کی طرف اشارہ کرکے ، وہ بھی کیا ، سورہ اخلاص ایک ہزار بار روز صبح فجر میں پڑھی ، کسی عامل کے پاس جاؤ تو کچھ دن معاملا ت ٹھیک رہتے ہیں ، پھر وہی حال ، اکثر عامل حضرات یہی چاہتے ہیں کہ ہم ان کے دروازے کے چکر کاٹتے رہیں ، ان کو دیتے دلاتے رہیں ، اب بہت پریشان آگیا ہوں ، کب تک پڑھوں ، کب تک ان عامل حضرات کے چکر لگاؤں ، مجھے اسٹار وغیرہ پر تو کوئی زیادہ عقیدہ نہیں لیکن جب سے میں نے لوح شمس بنائی ہے اور اسے چیک کروایا اور خاص طور پر آپ کے کالم پڑھے تو مجھے شرک اور بدعت سے بالکل پاک اور اسٹیٹ فارورڈ لگے ، آپ کی دل سے رسپیکٹ کرنے لگا ہوں ، میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے کچھ ایسا سکھا دیں کہ میں سب کئے کرائے کا توڑ کرسکوں ، مجھے کوئی ایسا حل بتا دیں کہ مستقل مسئلہ حل ہوجائے ۔‘‘ 
جواب : عزیزم ! خدا معلوم آپ کون سی دنیا میں رہتے ہیں اور آپ کی سوچ کس قسم کی ہے ، اتنی محنت ، چلے وظیفے کرنے کے بجائے سب سے آسان حل تو یہی تھا کہ آپ وہ علاقہ ہی چھوڑ دیتے ، کسی اور جگہ دکان لے لیتے لیکن اس سلسلے میں بھی آپ کی اور آپ کے والد کی ضد یہ ہے کہ ہم کیوں جگہ چھوڑیں ، گویا آپ نے اپنے طور پر مقابلہ آرائی کی ٹھان لی ہے ، حالانکہ اس مقابلے میں خود اپنے بیان کی روشنی میں آپ بری طرح شکست کھا چکے ہیں اور اب حقیقت یہ ہے کہ جان کے لالے پڑ گئے ہیں ۔
آپ کے والد کے کاروبار میں خرابی اور ان کی بیماری ، والدہ کی بیماری، گھر میں لڑائی جھگڑے ان تمام باتوں کا ذمہ دار آپ اپنی قریبی دکان کے مالک کو سمجھتے ہیں اور یہ بھی اس وقت سے سمجھ رہے ہیں جب سے آپ روحانی علاج کے چکر میں عاملوں کے پاس گئے اور انہوں نے بتایا کہ بڑی سخت بندش ہے وغیرہ وغیرہ ۔ اس سلسلے میں کوئی ثبوت نہ وہ عامل پیش کرسکتے ہیں اور نہ آپ ، بے شمار لوگ ایسے ہیں جن کا کاروبار آہستہ آہستہ زوال کا شکار ہوجاتا ہے اور صحت بھی خراب رہنے لگتی ہے ، صحت کی خرابی کے اور بھی بہت سے اسباب ہوسکتے ہیں ، عمر کا تقاضا ، غم و فکر ، مالی پریشانیاں وغیرہ ۔ والدہ کی بیماری بھی اسی سلسلے سے جڑی ہوئی ہے کہ اول تو عمر کا تقاضا پھر شوہر کی بیماری اور شوہر کے کاروبار کی خرابیوں کی وجہ سے معاشی پریشانی وغیرہ ۔ یہ صورت حال گھر میں لڑائی جھگڑوں کو بھی جنم دیتی ہے ، لہٰذا صرف ان بنیادوں پر سحر ، جادو ، سفلی عمل وغیرہ کا فتویٰ نہیں لگایا جاسکتا ، پھر ایک ایسے گھرانے پر جہاں سب نماز کے پابند ، قرآن کی تلاوت کرنے والے اور پاک صاف رہنے والے لوگ رہتے ہوں ، اس کے برعکس آپ کے دشمن بقول آپ کے گندے اور سفلی عمل کرتے اور کراتے ہیں وہ نہایت خوش حال ہیں بلکہ عیش کر رہے ہیں اور جب چاہتے ہیں آپ کے خلاف کوئی کارروائی کر ڈالتے ہیں مگر آپ کے بے پناہ ورد و وظائف جن میں ایسی ایسی زبردست سورتیں اور آیات الٰہی شامل ہیں ، آپ کا کوئی تحفظ نہیں کررہیں ! نعوذباللہ اس طرح تو آپ اللہ اور اس کے کلام پر بڑا خوف ناک الزام لگا رہے ہیں جیسا کہ ہم ابتدا میں لکھ چکے ہیں کہ آپ کو اللہ اور اس کے کلام پر تو یقین نہیں ہے ، معمولی اور گھٹیا کام کرنے والے لوگوں کے گھٹیا کاموں پر پورا یقین ہے ، یعنی جس دن والد کی طبیعت زیادہ خراب ہوتی ہے آپ یہ طے کرلیتے ہیں کہ مخالفوں نے کوئی کارروائی کی ہے ، ہمیں یقین ہے کہ روحانی علاج معالجے کے چکروں میں اور معاشی پریشانی کی وجہ سے آپ نے یا آپ کے والد صاحب نے کبھی ڈھنگ سے اپنا یا والدہ کا علاج نہیں کرایا ہوگا ، کبھی معقولیت سے سارے ٹیسٹ نہیں کرائے ہوں گے کہ بیماری کا اصل سبب معلوم ہوسکے کیونکہ آپ تو یہ طے کیے بیٹھے ہیں کہ سب کچھ اللہ کے بجائے آپ کے دشمن کر رہے ہیں ، معاذ اللہ ۔۔۔معاذ اللہ ۔
خدا کے بندے ! جہالت کے اندھیرے میں سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے، آپ جن قابل اعتبار سچ بولنے والے بزرگوں کا حوالے دے رہے ہیں ہماری نظر میں تو وہ کتنے ہی سچے ، نیک اور پرہیز گار کیوں نہ ہوں مگر ان کی جہالت پر کو ئی شبہ نہیں کیا جاسکتا ، بلکہ انہوں نے جو نشان دہی فرمائی ہے اور آپ کے رشتہ داروں کو بھی اس میں شامل کردیا ہے وہ بھی ان کے فراڈ ہونے کا ثبوت ہے ۔ ان کا یہ مشورہ بھی کہ گندہ کام ،گندہ کرنے والے آسانی سے اتار کر سکتے ہیں انہیں جہنم کا راستہ دکھا سکتا ہے ، کیونکہ اس طرح وہ اللہ کی سادہ لو ح مخلوق کو کفر کا راستہ دکھا رہے ہیں اور خود ان کے روحانی ڈھونگ کا پول بھی ان کی اس بات سے کھل جاتا ہے کہ ’’ ہمارے بیوی بچے ہیں ‘‘ گویا انہیں خود بھی اللہ اور اس کے کلام پر کوئی یقین نہیں ہے ، شیطانی قوتوں سے وہ بھی ڈرتے ہیں بلکہ ان پر ایمان رکھتے ہیں ، یاد رکھیں ایک سچا مسلمان کبھی کسی شیطانی قوت سے خوفزدہ نہیں ہوتا ، وہ تو اس کے مقابلے پر ڈٹ جاتا ہے اور بالآخر فتح اسی کی ہوتی ہے کیونکہ اللہ اس کے ساتھ ہوتا ہے ، اللہ کبھی اس کا ساتھ نہیں دے گا جو غیر اللہ کی طرف جائے گا ، ایسے بزرگ کون سے علم کے ذریعے اس طرح کی پیش گوئیاں کرتے رہتے ہیں ؟ کیا انہیں کوئی غیب کا علم ہے ؟ علم جفر ، علم الاعداد ، فال ، رمل ، استخارہ الغرض جتنے بھی ذرائع ہوسکتے ہیں ان کے ذریعے وہ ایسی باتیں نہیں بتا سکتے ، استخارے کو تو حد درجہ بد نام کردیا گیا ہے ، مندرجہ بالا تمام طریقے نہایت کم زور جواب دیتے ہیں جن پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ، فال اور رمل کے لیے تو شریعت میں پابندی آئی ہے اور استخارہ صرف اس لیے ہے کہ کسی مسئلے میں اللہ کی رضا معلوم کی جائے ، آج کل لوگ استخارے کے نام پر بندش اور سحر جادو کا حال معلوم کر رہے ہیں ۔اس سے بڑا مذاق اور کیا ہوسکتا ہے یہ تو فرمان رسول ﷺ سے بھی انحراف ہے ۔دوسری صورت میں ایسے لوگوں سے یہ پوچھا جائے کہ کیا وہ کاہن ہیں جو غیب کی باتیں بتا رہے ہیں ، انہیں کون سے ذرائع سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا فلاں پڑوسی یا رشتہ دار آپ پر گندے عملیات کسی ہندو سے کرا رہا ہے ؟ 
آپ کی کم علمی کا ایک اور ثبوت آپ کا یہ جملہ ہے ’’ مجھے اسٹارز وغیرہ پر بھی کوئی زیادہ عقیدہ نہیں ‘‘ عزیزم ! اسٹارز یا علم نجوم کوئی عقیدہ نہیں ہے نہ یہ کوئی مذہب ہے ، جس قسم کے لوگوں میں آپ کی تربیت ہوئی ہے وہ اپنی جہالت کے سبب علم نجوم کو قسمت کا حال ، غیب کاحال اور نا معلوم کیا کیا کہتے ہیں اور خود غیب دانی اور کشف و کرامات کا دعویٰ رکھتے ہیں، حالانکہ علم نجوم ایک سائنس ہے ، بالکل اسی طرح جیسے میڈیکل سائنس ، آپ اسے مانیں یا نہ مانیں اس کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا ، کروڑوں لوگ دنیا میں جدید سائنس کی ترقی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور بے شمار ایسے بھی ہیں جو اسے برا بھلا کہہ رہے ہیں ، یہی صورت دیگر علوم کی بھی ہے ۔ 
آخر میں آپ نے جو فرمائشیں کی ہیں ہم انہیں آپ کے مسئلے کا حل نہیں سمجھتے ، آپ کے مسائل کا درست حل یہ ہے کہ والد اور والدہ کا درست علاج کرائیں ، فرضی مقابلہ آرائی اور دشمنی کی فضا کو ختم کریں ، اپنی خامیوں کا جائزہ لیں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ کاروباری معاملات میں آپ کی کوتاہیاں کیا ہیں اور آپ کے حریف کو کاروباری معاملات میں آپ پر کیا برتری حاصل ہے ،اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی نیا دکان دار آپ کے قریب جب دکان کھولتا ہے تو وہ اس بات کا خیال رکھتا ہے کہ آپ کے گاہکوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے آپ سے بہتر کوالٹی کا سامان اپنی دکان میں رکھیں یا آپ کے مقابلے میں اپنے مال کی قیمت کم رکھے، ایسی صورت میں آپ کو بھی نئی حکمت عملی پر غور کرنا چاہیے، لوح شمس آپ نے بنالی ہے اسے اپنے پاس رکھیں ، اسمائے الٰہی ’’ یا حی یا قیوم ‘‘ کا ورد رکھیں، روزانہ صبح کم از کم تین مرتبہ سورۂ شمس کی تلاوت کرکے لوح پر دم کردیا کریں اور اللہ سے دعا کیا کریں، بہت زیادہ پڑھائی کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، یہ اسمائے الٰہی اسم اعظم کا درجہ رکھتے ہیں ، کسی کا کیا کرایا آپ پر اثر نہیں کرسکتا ، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ جعلی عاملوں کی باتوں میں آکر ایک ایسے مرض کا علاج کررہے ہیں جو کہ اپنا کوئی وجود ہی نہیں رکھتا ، لہٰذا جو دوائیں بھی کھا رہے ہیں وہ کچھ نئے امراض پیدا کر رہی ہیں ، آخر میں ہم آپ کو دعا ہی دے سکتے ہیں کہ اللہ آپ کی آنکھیں کھول دے اور آپ کو ایمان دے ۔

ہفتہ، 14 جولائی، 2018

زمانہ ساز کوئی دوسرا ہے، میں نہیں ہوں

جن، بھوت، آسیب اور سحروجادو کا شکار مریضوں کے لیے خصوصی تحریر
ہمارے اندیشے درست نکلے، کے پی کے اور بلوچستان سے دہشت گردی کے واقعات کی اطلاعات آرہی ہیں، مزید یہ کہ نواز شریف اور ان کی صاحب زادی کی وطن واپسی اور گرفتاری کے نتیجے میں ن لیگی رہنما اور ووٹرز خاصے جذباتی موڈ میں نظر آرہے ہیں، تحریک انصاف اور ن لیگ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے،وجہ یہی ہے کہ الیکشن کی تاریخ ایسی سیاروی صورت حال کے درمیان رکھی گئی ہے جو کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے، 13 جولائی کا سورج گہن اور پھر 28 جولائی کا چاند گہن ہر گز کسی مثبت اور تعمیری کام کے لیے موافق نہیں ہیں، دو گہنوں کے درمیان جو کام کیے جاتے ہیں ان کے نتائج بہتر نہیں نکلتے، مزید یہ بھی کہ دو منحوسوں کیتو اور مریخ کا قران سونے پر سہاگہ ہے ،تیسرا سورج گہن 11 اگست کو لگے گا، راہو کیتو کا تیسرا قران ستمبر میں ہوگا گویا صرف 25 جولائی تک ہی موجودہ سیاسی یا غیر سیاسی معرکہ آرائیاں نہیں ہیں، الیکشن ہو بھی گئے تو ملک میں استحکام اور قوم کے لیے سکون کا حصول ممکن نظر نہیں آتا، جیسے جیسے الیکشن کی تاریخ نزدیک آرہی ہے، حادثات و سانحات میں اضافہ ہورہا ہے اور یہ سلسلہ الیکشن کے بعد بھی جاری رہے گا۔
دوسری طرف ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت نے یہ محسوس کرلیا ہے کہ اس بار ان کی پوزیشن کمزور ہے اور میدان تحریک انصاف کے ہاتھ میں رہے گا، پیپلز پارٹی میں زیادہ تجربے کار اور جہاں دیدہ لوگ موجود ہیں، وہ اس صورت حال میں بھی اپنے لیے کوئی مناسب راستہ تلاش کرسکتے ہیں لیکن ن لیگ کا مسئلہ نواز شریف ہیں جو اصولی طور پر سیاسی منظر نامے سے آؤٹ ہوچکے ہیں، ان کی ہر ممکن آرزو اور کوشش یہی تھی کہ زیادہ بہتر پوزیشن میں اقتدار سنبھالیں تاکہ آئینی تبدیلی کے ذریعے نواز شریف کے دامن پر لگے داغ دھل سکیں، چوں کہ ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا لہٰذا ان کے لیے موجودہ الیکشن بے معنی ہوکر رہ گیا ہے،اگرچہ وہ بائیکاٹ کی بات نہیں کر رہے لیکن یقیناً ان کی خواہش یہ ہوسکتی ہے کہ اگر ہم نہیں تو پھر کوئی بھی نہیں، اگلے الیکشن میں خاصے دن باقی ہیں، اس امکان کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ کسی مرحلے پر ن لیگ الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان کردے، اگر ایسا ہوگا تو موجودہ الیکشن کی حیثیت خاصی مشکوک ہوجائے گی اور بین الاقوامی طور پر بھی پاکستان کے دشمنوں کو انگلیاں اٹھانے کا موقع ملے گا۔
ہم کہہ سکتے ہیں کہ موجودہ نگراں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ اس وقت خاصی مشکل اور پریشانی کا شکار ہے،سارے مسائل سے نکلنے کے لیے وہ کیا حکمت عملی اختیار کریں گے ، اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا،کہانی الجھتی جارہی ہے، جمہوریت کا راگ بھی ایک بھونڈے تماشے میں بدلتا جارہا ہے ؂
یہ وقت صرف مِرا آئینہ ہے، میں نہیں ہوں
زمانہ ساز کوئی دوسرا ہے، میں نہیں ہوں
لاکھ جنات کا ایک جن، ہسٹیریا
جنات ، آسیب اور سحروجادو کے حوالے سے ہم ماضی میں لکھتے رہے ہیں لیکن ایک اور حقیقت کا اظہار بھی ضروری ہے جو ہمارے معاشرے میں بلکہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ آسیبی مریض پیدا کرتا ہے، کچھ اس کے بارے میں بھی بیان کردیا جائے، یہ مرض ہسٹیریا ہے،گزشتہ تقریباً 25 سال کے عرصے میں ذاتی طور پر اور خطوط یا ای میلز کے ذریعے ہسٹیریا کے بے شمار مریض ہمارے مشاہدے میں آئے ہیں، مریض کے گھر والے عام طور پر ایسے کیسوں کو جنات و غیرہ کا معاملہ ہی سمجھتے ہیں اور فوری طور پر اس سلسلے میں مولوی حضرات یا عامل حضرات سے رجوع کرتے ہیں، پچھلے دنوں تقریباً پانچ کیس ایسے ہی ہمارے مشاہدے میں آئے چناں چہ اس موضوع پر لکھنے کا خیال بھی آیا، آپ یقین کریں کہ پانچوں افراد جن میں دو لڑکے اور تین لڑکیاں شامل ہیں، ہر گز کسی جن یا آسیب کا شکار نہیں تھے، ان کا مسئلہ سو فیصد ہسٹیریا تھا۔
ہسٹیریا کے بارے میں ماہرین نفسیات ور ماہرین طب کے درمیان خاصا اختلاف رائے پایا جاتا ہے، قدیم حکماء اسے اختناق الرحم یعنی بچہ دانی کی بندش قرار دیتے ہیں اور اسے صرف خواتین کا مرض تصور کرتے ہیں، تمام طبی ماہرین نے یہ تصور آج سے تقریباً ڈھائی ہزار سال قبل کے یونانی حکیموں اور دانش وروں کی تحقیق سے لیا ہے، ان کا خیال تھا کہ ہسٹیریا صرف عورتوں کی بیماری ہے اور اس کے دوروں کا تعلق بنیادی طور پر خواتین کے تناسلی اعضا سے ہے، ان اعضا میں بھی ’’رحم‘‘ کی خرابیوں کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
ڈھائی ہزار سال پرانا یہ تصور تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ آج بھی بنیادی اہمیت کا حامل ہے اور موجودہ صدی کے ابتدائی دس سالوں تک تو یہ بھی یقین کیا جاتا رہا ہے کہ صرف خواتین ہی ہسٹریا کے مرض کا شکار ہوتی ہیں لیکن جب جنگ عظیم اول کے دوران میں محاذ جنگ پر بے شمار فوجی جوان ہسٹریا کے دورے میں مبتلا ہوئے تو ماہرین نفسیات کو بھی اپنے نظریات تبدیل کرنا پڑے، البتہ دوسرا قدیم نظریہ کہ جنسی عدم مطابقت ہسٹریا کا باعث بنتی ہے، آج بھی مقبول و مشہور ہے اور تحلیل نفسی کے پیروکار ماہرین نفسیات کا یہی بنیادی فلسفہ ہے۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ہسٹیریا ایک نفسیاتی مرض ہے، جنسی عدم مطابقت کے علاوہ مختلف اقسام کی ذہنی پے چیدگیاں اور ذہنی دباؤ اس مرض کا باعث بنتے ہیں اور اس حوالے سے کسی عمر اور جنس کی کوئی قید نہیں ہے، ہر عمر کے مرد، عورتیں اور بچے اس نفسیاتی بیماری کا شکار ہوسکتے ہیں، ایک سروے رپورٹ کے مطابق سولہ برس سے 33 برس تک کے افراد ہسٹریا کا زیادہ شکار پائے گئے ہیں اور ان کی تعداد 67 فیصد تک پہنچتی ہے۔
عظیم ماہر نفسیات سگمنڈ فرائڈ نے ہسٹریا پر قابل قدر تحقیق کی ہے، اس نے لاشعور میں پناہ گزیں تضادات اور محرومیوں کو اس مرض کی علت قرار دیا، اس کی تحقیق کے مطابق روز مرہ زندگی میں ہماری جبلی ضروریات بھوک، پیاس اور جنس وغیرہ اپنی تسکین کے لیے مصروف عمل رہتی ہیں، اس عمل کے دوران میں جب یہ ’’جبلی ضروریات‘‘ انسان کے شعور کا حصہ بنتی ہیں تو ماحول اور سماج کی عائد کردہ پابندیوں، مجبوریوں اور رکاوٹوں کی بنیاد پر ان جبلی ضروریات کی تسکین نہیں ہوپاتی لہٰذا انسان کے ذہن میں ایک تضاد جنم لیتا ہے جسے (Odd)نفس امارہ اور انا (Ego) کے تضاد سے منسوب کیا جاتا ہے۔
فرائڈ کے نظریے کے مطابق ہسٹریا انسان کے کسی ذاتی مسئلے کے اظہار کا طریقہ ہے، ہسٹریا کا مریض اپنا مسئلہ بعض وجوہات کی بناء پر الفاظ کے ذریعے بیان نہیں کرتا بلکہ جسمانی اشاروں کے ذریعے اس کے اظہار کی کوشش کرتا ہے۔
فرائڈ کی تشریح کے مطابق ’’اعصابی مریض اپنے افعال کے نتیجے میں اس مرض کا شکار نہیں ہوتے بلکہ جو کچھ ان کے ساتھ کیا جاتا ہے وہ اس مرض کا سبب بنتا ہے‘‘ یہاں فرائڈ سے کلی طور پر اتفاق نہیں کیا جاسکتا، بہر حال اس کا اشارہ واضح طور پر ان اخلاقی، سماجی اور مذہبی پابندیوں کی طرف ہے جن کے باعث جنسی تحریکیں اور جبلی خواہشات دب کر نفس امارہ کا حصہ بن جاتی ہیں اور جب بھی موقع ملتا ہے یعنی جب بھی انا کمزور پڑتی ہے، نفس امارہ اس پر غالب آنے کی کوشش کرتا ہے، اس کشمکش کے نتیجے میں انسان اعصابی مریض بن جاتا ہے، آئیے اس مسئلے کو مزید وضاحت سے بیان کریں۔
معاشرتی حوالے سے فرد کی بقا اور عزت کا دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ ان خواہشات کو کچل دے، دبادے، جن کی تسکین و تکمیل ماحول اور سماج کی عائد کردہ پابندیوں، مجبوریوں اور کاوشوں کی وجہ سے نہیں ہوسکتی کیوں کہ دوسری صورت میں فرد کی سماجی حیثیت اور اس کے وقار کو ٹھیس پہنچنے کا امکان ہوتا ہے، یہ ایک عمومی مشاہدہ ہے کہ ہم ہمیشہ دوسروں کی نظر میں اپنے وقار اور حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں، خواہشات کو دبانے اور کچلنے کا عمل لاشعوری ہوتا ہے، اس عمل میں غیر تسکین شدہ جبلی خواہشات شعور سے نکل کر لاشعور کا حصہ بن جاتی ہیں (ہمارے خوابوں کی رنگین و سنگین کہانیاں بھی اسی صورت لاشعور سے جنم لیتی ہیں)
اگر سمندر کی سطح کو ہم شعور سے تشبیہ دیں تو اس کی اتھاہ گہرائی کو ہم لاشعور کہہ سکتے ہیں یعنی لاشعور ہمارے ذہن کا ایک ایسا ہی گہرا حصہ ہے جس کی ماہیت اور بناوٹ سے ہم خود بھی آگاہ نہیں ہوتے، ہمارے بے شمار خیالات، احساسات اور محرومیاں اس گہرے حصے میں ایسی خاموشی سے دفن ہوتے رہتے ہیں کہ ہمیں خبربھی نہیں ہوپاتی اور نہ ہم کبھی اپنے لاشعور میں موجود احساسات اور خیالات سے آگاہ ہوپاتے ہیں جو کہ عموماً محرومیوں کی تلخی اور تندی کا رنگ لیے ہوئے ہوتے ہیں مگر ہمارے ذہن کا یہ حصہ یعنی ہمارا لاشعور ہمارے کردار کو کسی نہ کسی طرح کنٹرول ضرور کرتا رہتا ہے اور ایک ذہنی عدم مطابقت کا باعث بنتا ہے۔
فرائڈ کے اخذ کردہ نتائج کے مطابق لاشعور میں دھکیلا جانے والا مواد یا خواہشات اپنے اظہار یا تسکین کے لیے راستہ تلاش کرتا رہتا ہے اور بالآخر یہ اظہار براہ راست ہسٹریا کی جسمانی اور ذہنی علامتوں کی صورتوں میں ہوتا ہے۔
ہسٹیریا کی اقسام
ہسٹریا کی تشخیص میں اس مرض کی دو اقسام تسلیم شدہ اور مشہور ہیں، پہلی قسم ’’تحویلی یا افعالی ہسٹریا‘‘ اور دوسری ’’اختراقی ہسٹریا‘‘
تحویلی ہسٹریا میں حواس اور خود ارادی نظام عصبی کے اعمال میں نقص پیدا ہوتے ہیں، یہ نقائص احساسات اور حرکات دونوں اقسام کے ہوسکتے ہیں مگر قابل غور بات یہ ہے کہ ان نقائص کے باوجود طبی تشخیص انسان کے جسمانی نظام میں کوئی عضویاتی اور کیمائی خرابی کی نشان دہی نہیں کرپاتی، ہسٹریا اور دیگر عضویاتی نقائص کی وجہ سے پیدا ہونے والے امراض مثلاً مرگی میں بنیادی فرق یہی ہے۔
تحویلی ہسٹریا کی شناخت میں مندرجہ ذیل علامات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے، مریض کی جلد بے حس ہوجاتی ہے، اسے درد، تکلیف، گرمی، سردی کا احساس نہیں ہوتا، بینائی میں نقص آجاتا ہے، آنکھوں کے سامنے اندھیرا رہتا ہے یا دھندلا دکھائی دیتا ہے، بولنے کی طاقت کم محسوس ہوتی ہے یا بالکل ختم ہوجاتی ہے اور سنائی بھی کم دیتا ہے، جسم کا کوئی حصہ مفلوج و ناکارہ ہوجاتا ہے مگر یہ فالج مخصوص نوعیت کا ہوتا ہے مثلاً شانے تک بازو ، کلائی تک ہاتھ یا کبھی صرف انگلیاں حرکت سے معذور ہوجاتی ہیں، اس طرح ایک یا دونوں ٹانگوں کا فالج، صرف گھٹنے تک یا کولہے کے جوڑ تک مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ انسان لیٹے ہونے کی حالت میں اپنی ٹانگوں کو حرکت دینے کے قابل ہوتا ہے، اگر مکمل فالج کی کیفیت نہ ہو تو اکثر چلنے پھرنے کی قوت کم ہوجاتی ہے، دوسری صورت میں ہسٹریا عمومی علامات کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے جو ہمارے عام مشاہدے میں آتی رہتی ہیں، جسم کو جھٹکے لگتے ہیں، مریض کو ایسے دورے پڑتے ہیں جن سے ہاتھ پاؤں اور جسم اکڑ جاتا ہے، دم گھٹنے کی کیفیت حلق میں پھندا سا لگ جانا، لکنت کی شکایت، بہت زیادہ پسینہ آنا، متلی کی کیفیت اور بھوک کا ختم ہوجانا یا بے تحاشا بڑھ جانا وغیرہ یہ تمام جسمانی علامات کسی بھی اعصابی نقص کے بغیر ہوتی ہیں، یعنی تحویلی ہسٹریا میں لاشعوری محرکات ان جسمانی نقائص کی علت ہوتے ہیں جب کہ اس کے برعکس اختراقی ہسٹریا میں یہ لاشعوری محرکات ذہنی نقائص کا باعث ہوتے ہیں۔
اختراقی ہسٹریا کے مظاہرے میں یاد داشت اور شعور کی خرابیاں اہمیت کی حامل ہیں، ان خرابیوں اور نقائص کے ذریعے انسان لاشعوری طور پر ایسے واقعات و حادثات سے جنھیں اس کا شعور قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا، فرار حاصل کر رہا ہوتا ہے یا پھر وہ اپنی کسی دبی ہوئی خواہش کی تسکین کر رہا ہوتا ہے، اختراقی ہسٹریا کی علامتیں یہ ہوسکتی ہیں، یادداشت کی کمزوری یا بالکل ختم ہوجانا یہ جزوی یا مکمل طور پر بھی ہوسکتی ہیں لیکن اس خرابی کی کوئی عضویاتی وجہ نہیں ہوتی، اس حالت میں انسان اپنی پہچان،اپنا نام، پتا، خاندان اور ماضی فراموش کردیتا ہے، اسے سماجی عادات و اطوار اور اپنی ذلت کے علاوہ بے شمار باتیں یاد رہتی ہیں، نیند کی حالت میں چلنا بھی اختراقی ہسٹریا کی ایک قسم ہے۔
ایک اور قسم فیوگ (FUGE) کہلاتی ہے، اس میں انسان مکمل طور پر اپنی پہچان بھول جاتا ہے اور ایک بالکل مختلف قسم کی شخصیت بن جاتا ہے، یہ کوئی جناتی یا روحانی شخصیت بھی ہوسکتی ہے، فیوگ یادداشت کی خرابی کی ایک حالت ہے جو کسی سخت ذہنی جذباتی دباؤ کے بعد جنم لیتی ہے، فیوگ کا مریض ٹھیک ہونے کے بعد یعنی دورے سے نجات پانے کے بعد خود فراموشی کی حالت میں کیے گئے تجربات یاد نہیں رکھ سکتا، یہ مشکلات اور تلخیوں سے فرار کی ایک حالت ہوتی ہے کیوں کہ فرد کا شعور پیش آنے والے تلخ واقعات اور مسائل کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
اختراقی ہسٹریا کی ایک قسم وہ ہے ’’جسے کثیر شخصیتی‘‘ کہا جاتا ہے، اس میں انسان دو یا دو سے زیادہ شخصیتوں کا روپ دھار لیتا ہے، ہر شخصیت میں انسان کا کردار علیحدہ اور مخصوص نوعیت کا ہوتا ہے اور وہ خود اس بات سے بالکل بے خبر ہوتا ہے۔
ہسٹیریا کی مندرجہ بالا اقسام علم نفسیات کے ماہرین کی تحقیق کے مطابق بیان کی گئی ہیں، اس سلسلے میں خالص طبی نکتہ ء نظر سے اختلاف ممکن ہے اور پیراسائیکولوجی (مابعد النفسیات) کے ماہرین کی تحقیقات اور مشاہدہ مزید اقسام پر روشنی ڈالتا ہے، شعبہ ء نفسیات گورنمنٹ کالج جھنگ کے ایک سروے کے مطابق جو 1986 ء میں کرایا گیا تھا، آبادی میں ہسٹریا کے مریضوں کا تناسب ستائیس فیصد تھا، اب یقیناً یہ تناسب مزید بڑھ چکا ہے، خصوصاً کراچی میں یہ بات ہم اپنے ذاتی سروے کی بنیاد پر بھی کہہ رہے ہیں جس کی بنیاد وہ بے شمار خطوط میں جو پورے ملک سے ہزاروں کی تعداد میں ہمیں موصول ہوتے ہیں، ایسے معاشرے میں جہاں افراد جذباتی گھٹن اور دباؤ کا مستقل طور پر شکار رہتے ہوں، ہسٹریا، شیزوفرینیا، مالیخولیا، مراق اور مرگی کے مریضوں کا تناسب بڑھنا کوئی حیران کن بات نہیں ہے، آخر میں ایک اہم نکتہ اور ذہن نشین کرلیجیے، اوپر جن نفسیاتی امراض کا ہم نے ذکر کیا ہے، ان سب کی والدہ ماجدہ کا نام ہے’’افسردگی‘‘ یعنی ’’مس ڈپریشن‘‘ اور والد ماجد ہم ’’تناؤ‘‘ یعنی ’’مسٹر ٹینشن‘‘ کو قرار دیں گے کہ دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور یہی وہ تمام امراض ہیں جو بالآخر کسی آسیبی، جناتی یا جادوئی سلسلے سے جڑجاتے ہیں۔

ہفتہ، 7 جولائی، 2018

انسانی جسم میں مرض کا ظہور روح کے ذریعے



نواز شریف کے زائچے کی روشنی میں کیا گیا تجزیہ درست ثابت ہوا
بالآخر جس فیصلے کا انتطار تھا، وہ آگیا اور ن لیگ کے قائد جناب نواز شریف ، ان کی صاحب زادی مریم اور داماد کیپٹن صفدر کو نہایت سخت سزائیں سنا دی گئی ہیں، کیپٹن صفدر پاکستان میں موجود ہیں جب کہ نواز شریف صاحب اور ان کی صاحب زادی لندن میں ہیں، انھوں نے بہت جلد واپس آنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے لیکن پاکستان آنے کے لیے فی الحال کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا، اس فیصلے پر اور اس کے نتائج پر سیاسی اور صحافتی حلقوں میں جو تبصرے اور قیاس آرائیاں ہورہی ہیں اس سے قطع نظر ہم نواز شریف صاحب کے زائچے پر کیے گئے اپنے تجزیے کا حوالہ دیں گے،مئی کے آخری ہفتے میں پاکستان کی سیاسی پارٹیوں اور پارٹی کے قائدین کے حوالے سے جب ہم نے نواز شریف صاحب کے زائچے کی موجودہ پوزیشن کا جائزہ لیا تھا تو عرض کیا تھا۔
’’اگرچہ دور اکبر اور دور اصغر اتنے خراب نہیں ہیں لیکن زائچے میں سیارگان کے ٹرانزٹ کی پوزیشن خاصی تشویش ناک ہے،چھٹے اختلاف و تنازعات اور فتنہ و فساد کا حاکم سیارہ زحل زائچے کے چوتھے گھر میں حرکت کر رہا ہے اور نہ صرف یہ کہ بارھویں گھر کے حاکم شمس سے قران کر رہا ہے بلکہ مشتری اور زہرہ پر بھی منحوس اثر ڈال رہا ہے،یہ صورت حال قید و بند کے علاوہ جمع پونجی سے بھی ہاتھ دھونے کے مترادف ہے،زحل ابھی رجعت میں ہے،مستقیم ہونے کے بعد دوبارہ انہی درجات سے گزرے گا تو مزید پریشانیوں کا باعث ہوگا، دوسری طرف زائچے کا سب سے منحوس سیارہ مریخ تین مئی کو پانچویں گھر میں داخل ہوا، یہاں کیتو پہلے سے موجود ہے، مریخ کے داخلے کے بعد ہی جناب نواز شریف نے ایک ایسا بیان دے دیا جس نے پورے ملک میں ہلچل مچادی ہے،پانچواں گھر شعور سے متعلق ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنے مستقبل کے بارے میں درست اندازے لگالیے ہیں اور اب انھیں شاید کسی بات کا خوف نہیں رہا لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ آنے والے مہینے ان کے لیے بہت مشکل ثابت ہوں گے،پاکستانی سیاست میں وہ تنہا ہوچکے ہیں، ان کی پارٹی بھی انتشار کا شکار ہے،پارٹی کی صدارت بھی جناب شہباز شریف کے پاس ہے لہٰذا آنے والے الیکشن میں ان کا کوئی کردار نظر نہیں آتا، اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ وہ اپنا مزید وقت عدالتوں کے چکر کاٹتے ہوئے گزاریں‘‘
عزیزان من! موجودہ فیصلہ ہمارے اس تجزیے کی تائید کرتا نظر آتا ہے کیوں کہ دس سال کی سزا کے علاوہ ایک ارب روپے سے زیادہ کا جرمانہ اور لندن کی جائیداد کو ضبط کرنے کا حکم عدالت نے دے دیا ہے، بے شک اب وہ ہائی کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے اور پاکستان آنے کی صورت میں فوری گرفتاری کا اندیشہ بھی ہے،دوسری طرف انتخابات میں ن لیگ کی پوزیشن کمزور ہورہی ہے اور پی ٹی آئی کی بہتر ہورہی ہے،پی ٹی آئی اور ن لیگ کے زائچوں کی روشنی میں بھی ہم نے عرض کیا تھا کہ 2013 ء میں ن لیگ کے زائچے کی پوزیشن بہتر تھی اور پی ٹی آئی کے زائچے کی کمزور تھی، اس بار صورت حال اس کے برعکس ہے،بہر حال 25 جولائی قریب آرہی ہے اور اس وقت تک اور بھی بہت سی چونکا دینے والی غیر متوقع خبریں سامنے آئیں گی، پاکستان پیپلز پارٹی اور جناب آصف علی زرداری کے بارے میں بھی ان کے زائچے کی روشنی میں کسی خیر کی توقع ظاہر نہیں کی گئی تھی اور اب سیاروی پوزیشن زرداری صاحب کے بھی خلاف ہورہی ہے۔
جسمانی امراض کا انسانی روح سے تعلق
اکثر و بیشتر ایسے خواتین و حضرات سے رابطہ ہوتا ہے جو طویل عرصے سے مختلف تکالیف اور پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں، بے شمار ڈاکٹروں ، حکیموں اور روحانی معالجین سے علاج کراچکے ہوتے ہیں اور آخر کار اس نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں ، ان کی بیماری کا علاج ممکن نہیں ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی بیماری کسی جادوئی اثر یا آسیبی ، جناتی اثر کا نتیجہ ہے چناں چہ ایسے لوگوں کی تلاش میں رہتے ہیں جن کے بارے میں انھیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہت پہنچے ہوئے اور زبردست روحانی قوتوں کے حامل ہیں، بے شمار ایسے لوگوں کے ہاتھوں لٹنے اور علاج میں ناکامی کے باوجود بھی ان کی یہ تلاش جاری رہتی ہے،بھٹکتے بھٹکاتے ہماری طرف بھی آ نکلتے ہیں اور اگر ہم انھیں یہ بتانے کی کوشش کریں کہ آپ کی بیماری وہ نہیں ہے جو آپ سمجھ رہے ہیں تو وہ یقین نہیں کرتے، اپنی بات پر قائم رہتے ہیں، ایسے بے شمار مریضوں سے گزشتہ تقریباً 30 سال میں ہمارا واسطہ پڑتا رہا ہے،چند روز پیشتر ہمیں طویل خط موصول ہوا، خط لکھنے والے ہمارے پرانے قاری ہیں،بہت طویل عرصے سے ہمارے کالم پڑھتے رہے ہیں اور خاص طور پر ایسے کالم جو ہم نے علاج معالجے یا مختلف پیچیدہ امراض کے حوالے سے لکھے ہیں کیوں کہ ہم یہ بھی کئی بار لکھ چکے ہیں کہ جسمانی اور روحانی بیماریوں کا شافی علاج ہمارے نزدیک ہومیو پیتھک دواؤں سے ممکن ہے اور ہم ہومیو پیتھی کو روحانی طریقہ ء علاج سمجھتے ہیں لہٰذا خط میں ہم سے یہی سوال کیا گیا ہے کہ آپ کن بنیادوں پر یہ دعویٰ کرتے ہیں ، کسی بھی دوا کا روح سے کیا تعلق ہے؟خط بہت طویل ہے جو یہاں مکمل طور پر شائع نہیں کیا جاسکتا لیکن خط کا جواب دینے کی کوشش ضرور کی جائے گی۔
ہومیو دوا کی روحی حیثیت
ہومیو پیتھک دوا کو عام طور پر اس کی خالص حیثیت میں استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ اس کی پوٹینسیاں تیار کی جاتی ہیں یعنی ایک قطرہ دوا اور 99 قطرے الکوحل ملاکر سو جھٹکے دیے جاتے ہیں تو ایک پوٹینسی بنتی ہے پھر اس میں سے ایک قطرہ لے کر مزید ننانوے قطرے الکوحل کے ملائے جاتے ہیں اور پھر سو جھٹکے دیے جاتے ہیں تو اس طرح دوسری پوٹینسی تیار ہوتی ہے یہی طریقہ مستقل دہرایا جاتا ہے اور پوٹینسی کو 30 ، 200 ، 1000 یا ایک لاکھ تک بڑھایا جاتا ہے، اس صورت میں دوا کا پہلا قطرہ جو الکوحل میں شامل کیا گیا ہوتا ہے ، 200 یا 1000 کی پوٹینسی تک پہنچتے پہنچتے درحقیقت اپنا وجود کھودیتا ہے،اگر کسی لیبارٹری سے دو سو کی پوٹینسی کا تجزیہ کرایا جائے تو اصل دوا کا وجود ثابت نہیں ہوسکے گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ الکوحل میں اصل دوا کی صرف روح موجود رہتی ہے،چناں چہ ہومیو پیتھک دوا کو ایک روحی حیثیت دی جاسکتی ہے۔
ہمارے مروجہ طریقہ ہائے علاج میں امراض کی روحی حیثیت پر بالکل توجہ نہیں دی جاتی ، صرف ظاہری جسمانی تکالیف کے علاج پر ہی زور دیا جاتا ہے جب کہ روحیات اور بعض دیگر طریقہ علاج سے وابستہ ماہرین کا نقطہ نظر یہ ہے کہ مرض کی ابتدا درحقیقت روح پر وارد ہونے والی مختلف ناگوار اور ضرور رساں کیفیات سے ہوتی ہے، پیراسائیکالوجی کے ماہرین(قدیم ہوں یا جدید) اس بات پر متفق ہیں کہ انسانی جسم میں مرض کا ظہور اس کی روح کے ذریعے ہوتا ہے لہٰذا وہ روحانی علاج پر زور دیتے ہیں اور ایسے طریقے تجویز کرتے ہیں جو روح پر اثر انداز ہوں۔
روح کے ذکر سے یہاں یہ بحث چھڑ سکتی ہے کہ روح سے کیا مراد ہے یا یہ کہ روح کیا ہے؟ اس کا انسانی جسم سے کیا تعلق ہے؟
اس موضوع پر اہل تصوف و مذہب کے نظریات اور تشریحات موجود ہیں، ہم بھی بہت پہلے اسی کالم کے ذریعے اس موضوع پر لکھ چکے ہیں اور انسانی روح کی اقسام پر بھی اظہار خیال کرچکے ہیں جس میں نسمہ، جسم مثالی، پیکر نور یا ہمزاد (Aura) کے حوالے سے خاصی تفصیلی بحث ہوچکی ہے اور روحیات یا روحانیات سے تعلق رکھنے والا مکتبہ ء فکر( وہ جدید پیراسائیکولوجی سے تعلق رکھنے والے اہل مغرب ہوں یا مشرق کے اہل تصوف) اسی جسم مثالی میں پیدا ہونے والی خرابیوں کو دور کرنے پر زور دیتا ہے کیوں کہ ان کا خیال ہے کہ ہر مرض کی ابتدا اس جسم مثالی یا پیکر نور سے ہوتی ہے، بعد میں اس کا ظہور مختلف ذہنی و جسمانی بیماریوں کی شکل میں انسانی جسم میں ہوتا ہے لہٰذا اگر بنیادی خرابی کو درست کردیا جائے تو جسم میں ظاہر ہونے والے خطرناک سے خطرناک مرض کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔
کلر تھراپی (رنگ و روشنی سے علاج) کے ماہرین کا نظریہ یہ ہے کہ انسانی جسم کے ارد گرد (موجود ہالہ ء نور (Aura) رنگوں اور روشنی کی مخصوص مقدار ور ترتیب رکھتا ہے، اس مقدار میں کمی بیشی اور ترتیب میں بگاڑ ذہنی جسمانی امراض کے ظہور کا سبب بنتا ہے لہٰذا مقدار کی کمی بیشی اور ترتیب کے بگاڑ کو وہ رنگ و روشنی سے علاج کے ذریعے درست کرنے پر زور دیتے ہیں۔
ہپناٹزم کے حوالے سے بھی ہم پہلے سیلف ہپناٹزم کی ایک مشق پر گفتگو کرتے ہوئے لکھ چکے ہیں کہ اس طریقے پرعمل کرکے انسان اپنے جسم میں موجود خفیہ دفاعی سسٹم کو متحرک اور فعال بناتا ہے، وہ خفیہ دفاعی سسٹم روحیات کے ماہرین کے نزدیک انسان کا جسم مثالی بھی ہوسکتا ہے،اس موضوع پر تفصیلی معلومات کے لیے ہماری کتاب ’’مظاہر نفس‘‘ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
ہومیو پیتھی کو علاج بالمثل کہا جاتا ہے یعنی ایسا علاج جو جسم میں خرابیاں اور فساد پیدا کرنے والے اندرونی اور بیرونی عوامل ہی کے ذریعے کیا جائے مثلاً اگر کوئی شخص کسی زہر کے استعمال سے کسی موذی مرض میں مبتلا ہوجائے تو اسی زہر کی نہایت قلیل مقدار ایک خاص طریقے سے اس کے جسم میں داخل کرکے اس مرض کا علاج کیا جاتا ہے، یہ بالکل ایسی ہی بات ہے جیسے ایلو پیتھک طریقہ ء علاج میں مختلف بیماریوں کے ٹیکے وغیرہ لگاکر ان بیماریوں سے بچاؤ کے لیے تدابیر کی جاتی ہیں مثلاً پولیو کے ٹیکے کے ذریعے جو دوا جسم میں داخل کی جاتی ہیں وہ انسانی جسم کے اس دفاعی سسٹم کو بیدار کردیتی ہے جو پولیو کے جراثیم کا مقابلہ کرسکتا ہے، ہومیو پیتھک طریقہء علاج کی بنیاد تقریباً یہی نظریہ ہے اور اس کی ایجاد کا سبب بھی ایک ایسا ہی واقعہ تھا،
ہومیو پیتھک کے بانی ہنی مین کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ جس دوا کو کھانے سے کوئی مرض دور ہوسکتا ہے، کیا اسی دوا کے بہت زیادہ استعمال سے وہ مرض پید ابھی ہوسکتا ہے، چناں چہ اس نے اس نظریے کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے اوپر تجربات کیے اور نتیجتاً حقیقت کو پالیا کہ وہ تمام جسمانی اور ذہنی بیماریاں جو انسان کو اذیت اور تکلیف میں مبتلا کرتی ہیں ان کے بیرونی اور اندرونی عوامل کا سراغ لگاکر ان ہی عوامل کی نہایت قلیل اور انتہائی لطیف مقدار انسانی جسم میں داخل کی جائے تو اس بیماری کے خلاف انسان کا مخصوص دفاعی سسٹم حرکت میں آجاتا ہے اور حملہ آور بیماری کو شکست سے دو چار کردیتا ہے۔
اب تک کی مثالوں میں مختلف نظریات کی نشان دہی کے بعد ایک بات واضح ہوگئی ہے کہ مختلف طریقہ ہائے علاج کی اکثریت کا زور روحی یا روحانی خرابیوں اور ان کے علاج پر ہے ، ہومیو پیتھی میں بھی پرانے اور گہرے امراض کے حوالے سے انسان کے اندر موجود تین خفیہ قوتوں کی کارفرمائی پر نظر رکھی جاتی ہے اور انھیں انسانی جسم میں پیدا ہونے والی تمام بیماریوں کی جڑ تصور کیا جاتا ہے ، یہ تین خفیہ قوتیں اپنے اصطلاحی ناموں میں ’’سورا‘‘ ’’سفلس‘‘ اور ’’سائیکوسس‘‘ ہر انسان میں پیدائش کے وقت سے ہی موجود ہیں ، ان کی کمی یا بیشی مختلف بیماریوں میں شدید نوعیت کی پیچیدگی پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے، عام ہومیو پیتھک ڈاکٹروں کی دلچسپی کے لیے ہم یہ بھی بتاتے چلیں کہ موجودہ دور میں جدید ہومیو پیتھک تحقیقات کے نتیجے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ یہ خفیہ قوتیں جنھیں اصطلاحاً ’’میازم‘‘کہا جاتا ہے تین نہیں، چار ہیں، انڈین ہومیو پیتھک ماہرین نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ چوتھا ’’میازم‘‘ ٹیوبر کولیسز ہے، اس انکشاف کے بعد ہومیو پیتھی کی بنیادی فلاسفی میں خاصا بڑا انقلاب آیا ہے، بہر حال ہم یہاں اس بحث میں پڑنا نہیں چاہتے کیوں کہ یہ ہمارے عام قاری کا مسئلہ بھی نہیں ہے، ہم تو صرف یہ بتانا چاہتے ہیں کہ کیا مندرجہ بالا ہومیو پیتھک نظریات ان نظریات سے ہم آہنگ نہیں ہیں جو مرض اور مریض اور دوا کے روحانی یا روحی تعلق سے منسوب ہے؟
جیسا کہ ہم پہلے بھی عرض کرچکے ہیں کہ یہ بڑا طولانی اور تفصیل طلب موضوع ہے، ہم نے چند نکات کی نشان دہی کردی ہے، اہل علم حضرات اس پر غورو فکر کرسکتے ہیں اور ہماری طرف سے انھیں اظہار خیال کی بھی دعوت ہے، بہر حال ہم اپنی ذاتی حیثیت میں اس نظریے کے قائل ہیں کہ مرض کے بجائے مریض کا علاج کیا جائے اور مریض سے مراد صرف گوشت و پوست، ہڈیوں اور دیگر رطوبات کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ ان سب چیزوں کے ساتھ ساتھ انسان کی روحی اور روحانی حیثیت ہے، جب تک اس کی روح بیمار اور مجروح ہے، وہ جسمانی طور پر تندرست نہیں ہوسکتا، اب اس کے علاج کے لیے طریقہ علاج خواہ کوئی بھی اختیار کیا جائے، ہمیں اس سے غرض نہیں، ہاں یہ ضرور دیکھنا پڑے گا کہ جو طریقہ اختیار کیا جارہا ہے وہ مطلوبہ مقاصد پورے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں؟
اس سوال کے جواب میں ہمیں ایلو پیتھک طریقہ علاج میں کچھ نہیں ملتا کیوں کہ اس کی بنیادی فلاسفی صرف انسانی جسم تک محدود ہے، روح کے حوالے سے وہاں کوئی بات نہیں ہوتی، نہ ہی روحی مسائل کو کوئی اہمیت دی جاتی ہے بلکہ انھیں واہمہ قرار دے کر نظر انداز کردیا جاتا ہے، البتہ ہومیو پیتھی ایسی کسی بات کو نظر انداز نہیں کرتی، وہ انسانی خوابوں، واہموں اور دیگر تمام احساسات، جذبات اور خواہشات تک کو مرض کی تشخیص میں مدنظر رکھتی ہے، ہومیو پیتھی کا ایک اچھا طالب علم اس بات کو کبھی نظر انداز نہیں کرے گا کہ مریض خواب میں سانپ، چھپکلیاں، کتے، بلیاں یا دیگر حشرات الارض اور جانوروں کو اکثر دیکھتا ہے کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ ان علامات کے لیے ہومیو پیتھی میں دوائیں موجود ہیں۔
ایک خاتون بہت سی بیماریوں میں مبتلا تھیں، بہت سے ڈاکٹروں، حکیموں اور پیروں فقیروں سے علاج کراچکی تھیں اور اس اسٹیج پر پہنچ گئی تھیں جہاں انھیں اور ان کے گھر والوں کو یہ یقین ہوچکا تھا کہ معاملہ کسی عام بیماری کا نہیں بلکہ کوئی اوپری اثر ہے، کوئی جن بھوت ان پر مسلط ہوچکا ہے جو ان کو صحت مند نہیں ہونے دیتا، طویل بیماری نے انھیں بے حد حساس بھی بنادیا تھا اور یہ حساسیت بہت سے واہموں کو بھی جنم دیتی رہتی تھی، وہ اکثر غیر معمولی قسم کے خواب بھی دیکھتی تھیں اور تنہائی میں کچھ اجنبی آوازیں یا آہٹیں بھی انھیں سنائی دیتی تھیں، ایسے مریض طویل عرصہ تک مختلف ڈاکٹروں اور روحانی معالجوں سے واسطہ رہنے کے سبب خود بھی آدھے ڈاکٹر ہوچکے ہوتے ہیں اور عموماً کسی نئے معالج کے پاس جاتے ہیں تو اس کو اپنی مرض کے علاج پر راغب کرنے کی کوشش کرتے ہیں یعنی اپنے مرض کی تشخیص خود ہی کرتے ہیں اور زور دیتے ہیں کہ اسی مرض کا علاج کیا جائے جو ان کے خیال میں انھیں لاحق ہے یا صرف اس تکلیف پر توجہ دی جائے جس کی وجہ سے وہ فوری طور پر پریشان ہیں، ایسی صورت میں وہ بعض اہم علامات کا اظہار ہی نہیں کرتے اور عام ڈاکٹروں کو بھی اتنی فرصت کہاں کہ وہ مریض سے طویل گفتگو کرکے اصل خرابی کی وجہ معلوم کرے۔
یہ خاتون جب ہمارے زیر علاج آئیں تو تقریباً تین ماہ تک انھوں نے ہمیں خاصا پریشان کیا، معاملہ کسی صورت قابو میں نہیں آرہا تھا، اتفاق سے ایک روز ہم نے ان سے آسیب و جن کے حوالے سے گفتگو شروع کردی اور اس کے نتیجے میں ایک موقع پر ان کے منہ سے ایک ایسی بات نکل گئی جو اب تک انھوں نے ہمیں نہیں بتائی تھی کہ رات کو روز ٹھیک تین بجے ان کی آنکھ کھلتی ہے، وہ گھڑی پر نظر التی ہیں تو پورے تین ہی بجے ہوتے ہیں، ایک منٹ کم نہ زیادہ، بس اس کے بعد ان کی طبیعت مزید بگڑ جاتی ہے، ان کا اپنا خیال یہی تھا کہ ان پر مسلط جن یا آسیب رات ٹھیک تین بجے ان کے پاس آتا تھا، انھیں جگاتا تھا اور پھر تنگ کرتا تھا۔
ہومیو پیتھک ڈاکٹر خوب جانتے ہیں کہ یہ کس دوا کی علامت ہے، چناں چہ ہم نے کسی تاخیر کے بغیر انھیں مشہور ہومیو پیتھک دوا کالی کارب استعمال کرادی اور پھر اس کے حیرت انگیز مفید نتائج بھی دیکھے، خاتون کو یقین آگیا کہ وہ جن ان کا پیچھا چھوڑ گیا ہے، ایسے بے شمار واقعات ہومیو ڈاکٹروں کے تجربات میں محفوظ ہوں گے اور پریکٹس کرنے والوں کو پیش آتے رہتے ہیں، ہمارا کالم پڑھنے والے اگر تجربات بیان کرنا چاہیں تو ہمیں خوشی ہوگی اور انھیں لوگوں کے فائدے کے لیے اس کالم میں بھی شائع کیا جاسکتا ہے۔

ہفتہ، 30 جون، 2018

سورج اور چاند گہن، بدنظمی اور انتشار کے نقیب

گہن سے متعلق ضروری احتیاط ، صدقات اور اہم اعمال ووظائف
سال 2018 ء میں 5 سورج اور چاند گہن ہیں، ان میں سے دو جنوری فروری میں لگ چکے ہیں، آخری تین گہن جولائی اگست میں یکے بعد دیگر لگیں گے، پہلا سورج گہن 13 جولائی کو ہوگا، دوسرا 28 جولائی کو چاند گہن ہوگا، اس کے بعد 11 اگست کو پھر سورج گہن لگے گا، دونوں سورج گہن جزوی ہیں لیکن چاند گہن مکمل اور خاصے طویل دورانیے کا ہوگا، پاکستان کے حالات پر اکثر چاند گہن کے اثرات کا مشاہدہ کیا گیا ہے، جدید علم نجوم میں سورج اور چاند گہن کو کسی تبدیلی کی نشان دہی کرنے والا خیال کیا جاتا ہے،یہ تبدیلی مثبت بھی ہوسکتی ہے اور منفی بھی،اس اعتبار سے موجودہ گہن سیریز میں چاند گہن نہایت منفی اثرات کا حامل نظر آتا ہے،یہ زائچہ پاکستان کے نویں گھرمیں واقع ہوگا، جب کہ نواں گھر پہلے ہی اس سال غیر معمولی سیاروی ایکٹیویٹی ظاہر کر رہا ہے،نئے گھر کا تعلق آئین و قانون ، عدلیہ اور الیکشن کمیشن سے ہے،گہن کے اثرات ایک ماہ پہلے شروع ہوجاتے ہیں اور ایک ماہ بعد تک اپنا اثر دکھاتے ہیں، 28 جولائی کا چاند گہن ملک میں انتشار ، بدنظمی اور کسی غیر معمولی اقدام کی نشان دہی کر رہا ہے،اس گہن کے نتیجے میں عدلیہ اور الیکشن کمیشن کسی تنازع کی زد میں آسکتے ہیں، عبوری حکومت کی کارکردگی بھی متنازع ہوسکتی ہے،غیر ملکی سازشیں بڑھ سکتی ہیں،صورت حال کو سنبھالنے کے لیے مسلح افواج کو اپناکردار ادا کرنا پڑسکتا ہے۔
پاکستان اس ماہ الیکشن کی طرف بڑھ رہا ہے، سیاسی پارٹیوں کے درمیان زبردست جوش و خروش نظر آرہا ہے،آنے والے دنوں میں اس میں مزید اضافہ ہوگا، اگر کسی حادثاتی وجہ پر انتخابات کی تاریخ آگے نہ بڑھی اور انتخابات 25 جولائی کو ہی منعقد ہوئے تو نتائج چونکا دینے والے اور غیر متوقع ہوں گے،اکثر سیاسی پارٹیاں نتائج سے مطمئن نہیں ہوں گی،ویسے بھی یہ اس ملک میں ایک انتخابی روایت بھی ہے کہ شکست خوردہ جماعت کبھی اپنی شکست تسلیم نہیں کرتی، اس بار 28 جولائی کا چاند گہن ظاہر کر رہا ہے کہ انتخابی نتائج کے حوالے سے ملک بھر میں اور خصوصاً پنجاب میں کوئی احتجاجی تحریک جنم لے سکتی ہے جو ظاہر ہے شکست خوردہ پارٹی کی جانب سے ہی ہوسکتی ہے۔
ہم شروع سال سے ہی پاکستانی زائچے کے نویں گھر کی فعالیت کے پیش نظر عدلیہ کے جارحانہ کردار کی نشان دہی کر رہے ہیں اور نتیجے کے طور پر سیاست داں اور بیوروکریٹ خصوصی طور پر آئین و قانون کا شکار ہورہے ہیں، اس پر خاصا واویلا بھی ہورہا ہے،دلچسپ صورت حال یہ ہے کہ اگر قانون پوری طرح حرکت میں نہ آئے تو لوگ تقاضا کرتے ہیں کہ متعلقہ اداروں کو اپنے فرائض درست طور پر انجام دینے چاہئیں لیکن جب قانون حرکت میں آتا ہے اور خصوصاً اشرافیہ کے خلاف تو یہ شور اٹھتا ہے کہ ایسا کیوں ہورہا ہے؟ایک عجیب منطق یہ بھی ڈھونڈ لی گئی ہے کہ ہمیں اگر پکڑ اجارہا ہے تو فلاں کو کیوں چھوڑ دیا گیا ہے؟اس نوعیت کے مباحث اخبار و ٹی وی پر آئے روز سامنے آتے رہتے ہیں جن سے ہمیں کوئی غرض نہیں ہے، ہم سیاروی گردش کے اثرات کی نشان دہی کرتے ہیں جن میں کمی بیشی ہوسکتی ہے، جاری سیاروی صورت حال میں جولائی اور اگست کے سورج اور چاند گہن کے اثرات ملکی فضا میں اپنا کیا رنگ دکھا سکتے ہیں، ان کا اظہار علمی حد تک ضروری تھا، سو کردیا گیا ، واللہ اعلم بالصواب۔
اثرات و اعمالِ گہن
قدیم و جدید تحقیق کے مطابق سیارہ شمس قوت حیات کا نمائندہ ہے جب کہ چاند ہماری زمین کا قریبی ہمسایہ ہونے کی وجہ سے کرۂ ارض پر گہرے اثرات ڈالتا ہے،خصوصاً مائع اشیا پر اس کا اثر نمایاں طور پر مشاہدہ کیا جاسکتا ہے،سمندر میں مدوجزر اس کی واضح مثال ہے،انسانی جسم میں رطوبات زندگی سے متعلق گلینڈز اور دوران خون بھی اس کے زیر اثر ہیں،چناں چہ چاند یا سورج گہن کی حالت میں اپنی مثبت توانائی زمین تک پہنچانے سے قاصر ہوتے ہیں لہٰذا انسانی زندگی پر اس کے اثرات پڑتے ہیں جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے، البتہ یہ بتانا ضروری ہے کہ اس وقت میں حاملہ خواتین کو خصوصی احتیاط کرنا چاہیے، گہن کے وقت کوئی کام نہ کریں اور آرام دہ بستر پر آرام سے دراز ہوکر کثرت سے استغفار پڑھیں۔
عام افراد کے لیے بھی چاند یا سورج گہن کے ناقص اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے کثرت سے استغفار کا ورد کرنا سنت نبویؐ سے ثابت ہے،اس کے علاوہ ہفتہ اور منگل کے روز صدقات دینا بھی گہن کے اثرات سے محفوظ رکھتا ہے، یہ صدقات چاند گہن کے دوران میں مسلسل ایک ماہ تک اور سورج گہن کے دوران میں تقریباً تین ماہ تک دینا چاہیے،جہاں تک چاند اور سورج کے ناقص اثرات کی نشان دہی کا تعلق ہے تو یہ اثرات ہر شخص کے انفرادی زائچہ ء پیدائش یا زائچہ ء نکاح کے مطابق دیکھے جاسکتے ہیں، عام طور پر لوگ اپنے شمسی برج (Sun sign) سے واقف ہوتے ہیں اور اسی کے مطابق اپنے حالات و واقعات معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ایک غلط رجحان ہے،شمسی برج صرف ہماری شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتا ہے،حالات وواقعات کے اتار چڑھاؤ کا جائزہ لینے کے لیے پیدائشی برج (Birth sign) اہم ہے اور اسے معلوم کرنے کے لیے پیدائش کا وقت معلوم ہونا بھی ضروری ہے، جو لوگ اپنا زائچہ (Birth chart) بنواکر پاس رکھتے ہیں ، وہی اپنے پیدائشی برج سے واقف ہوتے ہیں اور علم نجوم کے ذریعے درست رہنمائی حاصل کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔
جولائی کے سورج اور چاند گہن
سال 2018 ء کا دوسرا جزوی سورج گہن 13 جولائی کو ہوگا، پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق اس کا آغاز 06:48 am سے ہوگا، انتہائی نقطہ ء عروج 08:01 am تک رہے گا، اس کے بعد اُترنا شروع ہوگا اور اختتام 09:13 am تک ہوجائے گا، فلکیاتی حساب سے یہ جزوی گہن برج سرطان کے 20 درجہ 38 دقیقہ پر لگے گا، بحر ہند کے کچھ علاقوں میں دیکھا جاسکے گا جب کہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں واضح طور پر نظر آئے گا، پاکستان میں نظر نہیں آئے گا۔
مکمل چاند گہن 27 اور 28 جولائی کی درمیانی شب لگے گا، فلکیاتی حساب سے یہ گہن برج دلو کے تین درجہ اور 13 دقیقے پر واقع ہوگا، گہن کا آغاز پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق رات 10:14 pm پر ہوگا جب کہ اس کا نقطہ ء عروج 28 جولائی شب 01:21 am پر ہوگا اور اختتام صبح صادق 04:28 am پر ہوسکے گا۔
چاند گہن کا نظارہ یورپ کے اکثر علاقوں ، ایشیا، آسٹریلیا وغیرہ میں کیا جاسکے گا، اس گہن کا دورانیہ 6 گھنٹہ 14 منٹ ہوگا،پاکستان ٹائم میں سے پانچ گھنٹے کم کرلیے جائیں تو جی ایم ٹی ٹائم نکل آئے گا، امریکا اور کنیڈا کے قارئین پاکستان اور امریکا کے درمیان وقت کے فرق کو کم کرکے درست وقت حاصل کرسکتے ہیں۔
سورج اور چاند گہن کا ماہرین عملیات انتظار کرتے ہیں، اس موقع پر مختلف ضروریات کے تحت اعمال کیے جاتے ہیں ، عاملین بعض اعمال کی زکات ادا کرتے ہیں کیوں کہ یہ انتہائی حساس اور سریع الاثر وقت ہوتا ہے،اگر تمام قواعد و ضوابط کی پابندی کرتے ہوئے کسی خاص مقصد کے لیے اس وقت عمل کیا جائے تو اس کا اثر بہت جلد ظاہر ہوتا ہے،ہمیشہ کی طرح عام نوعیت کی ضروریات کے لیے چند عمل دیے جارہے ہیں، جو لوگ ان سے فائدہ اٹھائیں، ہمیں بھی دعائے خیر میں یاد رکھیں۔
سورہ کوثر کا تالے والا عمل
سورج اور چاند گہن سے متعلق جو اعمال دیئے گئے ان کے حوالے سے اکثر ہمارے قارئین نے ای میل اور ٹیلی فون کے ذریعے بعض سوالات پوچھے ہیں اور ساتھ ہی بعض لوگوں نے فرمائش کی ہے کہ سورہ کوثر کا عمل دوبارہ شائع کیا جائے کیوں کہ گزشتہ سال کے اخبارات ان کے پاس محفوظ نہیں ہیں۔
اس عمل کے لیے گہن کے وقت سے پہلے ایک نیا غیر استعمال شدہ تالا لا کر رکھ لیں۔ تالا لوہے یا اسٹیل کا ہو۔ بہترین بات یہ ہو گی کہ ایسا تالا ہو جو چابی سے کھلتا اور بند ہوتا ہو لیکن اگر ایسا تالا نہ ملے تو کوئی حرج بھی نہیں ہے۔ آپ وہی تالا لے لیں جو بغیر چابی کے کھٹکے سے بند ہوتا ہو۔ مکمل گرہن کے وقت باوضو علیحدہ کمرے میں بیٹھیں اور بسم اﷲ پوری پڑھنے کے بعد سات مرتبہ سورہ کوثر پوری پڑھیں اور پھر زبان سے اپنے مقصد کا اظہار کریں۔ اس کے بعد تالے کے سوراخ میں پھونک مار کر تالا بند کر دیں۔ خیال رہے کہ اس سارے کام کے دوران اپنی ذہنی اور روحانی قوت کو اپنے مقصد پر مرتکز کریں۔ یعنی دل میں یہ یقین پیدا کر یں کہ آپ جو کچھ کر رہے ہیں اور جس مقصد سے کر رہے ہیں وہ یقیناًانجام پائے گا۔ اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہ رکھیں۔ مقصد کے حوالے سے سورہ کوثر پڑھنے کے بعد آپ کا جملہ اس طرح ہونا چاہیے۔
مثلاً کسی کے دل میں جگہ اور محبت پیدا کرنا مقصود ہے تو یوں کہیں۔ ’’میں نے باندھا خواب و خیال کو فلاں بن فلاں کے جب تک مجھے نہ دیکھے، چین نہ پائے۔‘‘
اگر مقصد کسی بری عادت یا حرکت سے روکنا ہے تو اس طرح کہیں ’’میں نے باندھا عادت بدگوئی اور جھوٹ کو فلاں بن فلاں کے کبھی جھوٹ نہ بولے اور خراب کلمات منہ سے نہ نکالے۔‘‘
اگر نشے یا جوئے کی عادت سے روکنا ہو تو جملہ اس طرح کہیں۔ ’’میں نے باندھا عادت نشہ یا جوا فلاں بن فلاں کا، کبھی نشہ نہ کرے یا کبھی جوا نہ کھیلے۔‘‘
الغرض کسی بھی برے کام یا بری عادت سے روکنے کے لیے اپنے مقصد کا اظہار ایک مختصر سے جملے میں اس طرح کریں کہ آپ کی کوشش کا اثبات ظاہر ہو اور اس کام کی نفی کی جائے جسے روکنا مقصود ہے۔
بعض لوگوں نے رجال الغیب کی سمت کے بارے میں سوال کیا ہے، ہماری ویب سائٹ www.maseeha.com کا وزٹ کریں اور علم جفر کا کالم کھول لیں تو رجال الغیب کی سمت معلوم کرنے کا نقشہ مل جائے گا، اس سے کام لیں۔
رجال الغیب چاند کی تاریخوں کے حساب سے معلوم کیے جاتے ہیں۔ اصول یہ ہے کہ عمل کے وقت جس سمت میں رجال الغیب ہوں ادھر رخ کر کے نہ بیٹھا جائے بلکہ اپنا رخ ایسی سمت میں رکھیں کہ آپ کی پشت رجال الغیب کی طرف ہو یا پھر وہ آپ کے بائیں ہاتھ کی طرف ہوں۔ اس اعتبار سے اگر وہ مشرق میں ہوں تو مغرب کی طرف منہ کر کے بیٹھیں اور شمال مشرق میں ہوں تو جنوب کی طرف منہ کر لیں۔ بس اتنی سی احتیاط کافی ہو گی۔ آخری بات یہ کہ وہ تمام افراد جو اعمال گہن سے مستفید ہونا چاہتے ہیں، انہیں چاہیے کہ عمل کرنے کے بعد صدقہ خیرات ضرور کریں۔
میاں بیوی میں محبت کے لیے عمل خاص
زن و شوہر میں اختلافات، مزاجی ناہمواری، باہمی لڑائی جھگڑا، محبت کی کمی وغیرہ کے لیے یہ ایک مجرب طریقہ ہے اور صرف شادی شدہ خواتین و حضرات ہی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ نہایت آسان بھی ہے۔ گرہن کے درمیانی وقت میں ایک سفید کاغذ پر کالی یا نیلی روشنائی سے پوری بسم اﷲ لکھ کر سورہ الم نشرح پوری لکھیں پھر یہ آیت لکھیں۔
والقیت علیک محبۃ فلاں بن فلاں (یہاں مطلوب کا نام مع والدہ لکھیں) علیٰ محبۃ فلاں بنت فلاں (یہاں طالب کا نام مع والدہ لکھیں) کما الفت بین آدم و حوا و بین یوسف و زلیخا و بین موسیٰ و صفورا و بین محمدؐ و خدیجۃ الکبریٰ و اصلح بین ھما اصلاحاً فیہ ابداً
اب تمام تحریر کے ارد گرد حاشیہ ( چاروں طرف لکیر) لگا کر کاغذ کو تہہ کر کے تعویز بنا لیں اور موم جامہ کر کے بازو پر باندھ لیں یا پھر اپنے تکیے میں رکھ لیں۔
خیال رہے کہ مندرجہ بالا نقوش لکھتے ہوئے باوضو رہیں، پاک صاف کپڑے پہنیں، علیحدہ کمرے کا انتخاب کریں، لکھنے کے دوران مکمل خاموشی اختیار کریں اور اپنے مقصد کو ذہن میں واضح رکھیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں، رجال الغیب کا خیال رکھیں کہ آپ جس طرف رخ کر کے بیٹھے ہوں وہ آپ کے سامنے نہ ہوں۔
مخالف کی زبان بندی
عین گہن کے وقت مندرجہ ذیل سطور کالی یا نیلی روشنائی سے لکھیں یا سیسے کی تختی پر کسی نوکدار چیز سے کندہ کریں اور پھر کسی بھاری چیز کے نیچے دبا دیں یا کسی نم دار جگہ دفن کر دیں۔ انشاء اﷲ وہ شخص آپ کی مخالفت سے باز آجائے گا۔
ا ح د ر س ص ط ع ک ل م و ہ لا د یا یا غفور یا غفور عقد اللسان فلاں بن فلاں فی الحق فلاں بن فلاں یا حراکیل
ناجائزو ناپسندیدہ تعلق کا خاتمہ
اکثر والدین اپنے بیٹے یا بیٹی کی ایسی محبت یا وابستگی سے پریشان رہتے ہیں جو ان کے نزدیک ناپسندیدہ ہوتی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا لڑکا یا لڑکی ایک غلط راستے پر چل رہے ہیں۔ 
ایسی صورت میں طریقہ یہ ہے کہ گہن کے وقت کسی علیحدہ کمرے میں باوضو بیٹھ کر مندرجہ ذیل سطور کسی سفید کاغذ پر کالی یا نیلی روشنائی سے لکھیں اور کا غذ کو تہہ کر کے تعویذ کی شکل بنا لیں اور پھر اس کاغذ کو کسی بھاری وزنی چیز کے نیچے دبا دیں یا قبرستان میں دفن کردیں، اگر ایسے دو نقش تیار کیے جائیں اور دونوں کو لڑکا اور لڑکی کے راستے میں دفن کردیا جائے تو انشاء اللہ دونوں کے درمیان علیحدگی ہوجائے گی۔
’’احد رسص طعک لموہ لادیا یا غفور یا غفور بستم تعلق فلاں بن فلاں و بین فلاں بن فلاں عَقدَت قُلوبِھم ابداً یا حراکیل بحق یا قابض یا مانع العجل العجل الساعۃ الساعۃ‘‘
بھاگنے والے کو روکنا یامفرور کی واپسی
اگر کوئی بچہ یا بڑا گھر سے بھاگتا ہو یا گھر چھوڑ کر چلا گیا ہو تو اس کے لیے سورج یا چاند گہن کے وقت نقش بنانے کا طریقہ یہ ہے۔
حسب دستور علیحدہ کمرے میں بیٹھ کر سفید کاغذ پر کالی یا نیلی روشنائی سے اس طرح نقش لکھیں۔ حروف صوامت کی چار سطریں دائیں بائیں اور اوپر نیچے اس طرح لکھیں کہ درمیان کی جگہ خالی رہے اور حروف کی سطروں سے ایک چوکور خانہ بن جائے۔ پھر اس خانے کے درمیان بیچ میں بھاگنے والے کا نام مع والدہ لکھیں۔ اس کے بعد حروف صوامت کی سطور کے اوپر سات سات مرتبہ یہ چار آیات لکھ دیں۔
صُم بُکم عُمی فَھُم لا یَرجعُون ۔ صُم بُکم عُمی فَھُم لا یَعقِلُون۔ صُم بُکم عُمی فَھُم لا یُبصِرُون۔ صُم بُکم عُمی فَھُم لایُتکَلِمُون۔
اب اگر بھاگنے والے کو روکنا مقصود ہے تو بیچ کے خانے میں اس کے نام کے ساتھ اس جملے کا اضافہ کردیں ’’ بستم قدم درون خانہ‘‘۔ اس تعویذ کو اس کے تکیے میں یا سرہانے کسی جگہ رکھ دیں۔ انشاء اللہ گھر سے بھاگنے سے باز آجائے گا اور زیادہ وقت گھر میں ہی گزارے گا۔ اگر بھاگے ہوئے کو واپس بلانا مقصود ہے تو اس نقش کو کسی لکڑی کے تختے یا موٹے گتیّ پر چپکادیں اور پھر اسے گھر کی جنوبی دیوار پر ایک کیل ٹھونک کر لٹکادیں۔ بھاگنے والے کا نام جو درمیان میں لکھا ہے،اس کے پہلے حرف پر کوئی سوئی یا آل پن چبھو دیں۔ انشاء اللہ 13 دن میں واپس آئے گا یا اس کی کوئی خبر ملے گی۔ عمل کے بعد مٹھائی پر فاتحہ ضرور دیں اور 300روپے خیرات کردیں۔
دو افراد کے درمیان عداوت و دشمنی
اکثر دو افراد کے درمیان عداوت یا دشمنی اس قدر بڑھ جاتی ہے اور پورے خاندان کے لیے عذاب بن جاتی ہے،اس کا خاتمہ ضروری ہے، اکثر تو اس بنیاد پر باہمی قریبی رشتوں میں دراڑیں پڑجاتی ہیں، ایسی صورت حال کے لیے درج ذیل عمل مفید ثابت ہوگا، دیکھنا یہ ہوگا کہ دونوں میں سے حق پر کون ہے اور ناحق کون کر رہا ہے؟ لہٰذا نقش لکھتے ہوئے پہلے اُس فریق کا نام مع والدہ لکھیں جو ظلم و زیادتی کر رہا ہو اور بعد میں اس کا نام لکھیں جو حق پر ہو اور اس ساری دشمنی میں اپنا دفاع کر رہا ہو۔
احدرسص طعک لموہ لادیایا غفور یا غفور بستم اختلاف و عداوت فلاں بن فلاں و بین فلاں بن فلاں بحق صمُ بکمُ عمیُ فہم لایعقلون یا حراکیل العجل العجل العجل الساعۃ الساعۃ الساعۃ الوحا الوحا الوحا
کسی صاف کاغذ پر نیلی یا کالی روشنائی سے دو نقش گہن کے وقت لکھیں اور موم جامہ یا کالی ٹیپ لپیٹ کر اُس راستے میں دائیں بائیں کسی سائیڈ دفن کردیں، جہاں سے اُن کا گزر ہوتا ہو، زمین میں دفن کرنے سے پہلے نقش پر کوئی وزنی پتھر بھی رکھ دیں، بعد ازاں کچھ مٹھائی پر فاتحہ دے کر بچوں میں تقسیم کریں اور حسب توفیق صدقہ و خیرات کریں،وہ لوگ جو اپنی مصروفیت یا کسی اور وجہ سے مندرجہ بالا اعمال میں سے کوئی بھی عمل خود تیار نہ کرسکتے ہوں تو ہمارے دفتر سے رجوع کرسکتے ہیں۔

اتوار، 24 جون، 2018

جولائی کی فلکیاتی صورت حال، ایک چونکا دینے والا مہینہ

الیکشن کے نتائج غیر متوقع اور متنازع ہوسکتے ہیں، ابتری و انتشار کا اندیشہ
رمضان المبارک اور عیدِ سعید کے بعد ملکی سیاست اور خصوصاً الیکشن کے حوالے سے حالات و واقعات میں گرم بازاری نمایاں ہے،پاکستانی تاریخ کے نہایت سنسنی خیز اور ناقابل یقین انتخابات کا وقت قریب آرہا ہے،الیکشن کمیشن کے اس اعلان کے بعد کے انتخابات مسلح افواج کی نگرانی میں ہوں گے،فوجی جوان پولنگ اسٹیشن کے باہر ہی نہیں اندر بھی موجود رہیں گے، یقین ہونا چاہییکہ الیکشن 25 جولائی کو ہی ہوں گے،یہ الگ بات ہے کہ الیکشن کے نتائج کے سلسلے میں کیسی ہاہاکار مچے گی اور نتائج کتنے حیران کن ہوں گے، اس کے بارے میں قبل از وقت کچھ کہنا قرین مصلحت نہیں ہوگا، عین 25 جولائی کو شمس اور نیپچون اور یورینس اور شمس کے زاویے ظاہر کر رہے ہیں کہ اس بار کے نتائج انتہائی چونکا دینے والے اور غیر متوقع ہوں گے،بڑے بڑے سیاسی تجزیہ کاروں کے اندازے غلط ثابت ہوجائیں گے لیکن بہر حال ؂ اب جو خدا دکھائے سو لاچار دکھیے۔
تقریباً جولائی کے تیسرے ہفتے سے سیارہ مریخ اور کیتو حالت قران میں ہوں گے،راہو کیتو اسٹیشنری پوزیشن میں ہیں اور پاکستان کے زائچے کے نویں گھر میں پیدائشی راہو سے قران کر رہے ہیں، یہ صورت حال انتہا پسندانہ حالات و واقعات کی نشان دہی کرتی ہے جس کے نتیجے میں کوئی بڑا حادثہ یا سانحہ بھی پیش آسکتا ہے،اگر ایسی صورت میں انتخابات کی تاریخ کچھ آگے کرنا پڑجائے تو تعجب نہیں ہوگا، دوسری صورت میں عین الیکشن کے روز جو سیاروی زاویے قائم ہورہے ہیں وہ منفی انرجی جنریٹ کریں گے چناں چہ الیکشن میں منفی رجحانات نقصان دہ صورت حال پیدا کرسکتے ہیں، کسی خوں ریزی کے امکان کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ، مزید یہ کہ انتہائی کوشش یہ ہے کہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہوں لیکن ہماری ملکی روایت یہ ہے کہ ہارنے والی پارٹیاں ہمیشہ دھاندلی کا الزام لگاتی ہیں ، اس بار ضروری نہیں ہے کہ نتائج سب کے لیے قابل قبول ہوں چوں کہ سیاروی پوزیشن منفی اثرات کی حامل ہوگی لہٰذا نتائج کو تسلیم نہ کرنے کی صورت میں شدید بدنظمی اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش ہوسکتی ہے جس پر قابو پانے کے لیے بہر حال فوج موجود ہوگی لیکن صورت حال حد سے زیادہ بگڑ جائے تو کسی ایمرجنسی کے نفاذ کا اندیشہ بھی موجود ہے،بہر حال ہماری دعا ہے کہ یہ سب کچھ نہ ہو اور انتخابات خیروعافیت سے بروقت اور منصفانہ ہوجائیں۔
صابر ظفر جدید اردو غزل کے اہم شاعروں میں شمار ہوتے ہیں، آج ان کا ایک شعر یاد آرہا ہے، آپ بھی سن لیں ؂
اگر ہمارا وطن ہے تو ہم کو جینے دو
وہ صاف ہے کہ وہ گدلا ہے پانی پینے دو
جولائی کے ستارے
بادشاہِ فلک سیارہ شمس اپنے اوج کے برج سرطان میں حرکت کر رہا ہے،23 جولائی کو شاہانہ مزاج برج اسد میں داخل ہوگا، منشئ فلک سیارہ عطارد برج اسد میں ہے،پورا مہینہ اسی برج میں حرکت کرے گا، 26 جولائی کو اسے رجعت ہوگی، گویا برج اسد میں اس کا قیام اپنے معمول سے زیادہ ہوگا، توازن و ہم آہنگی اور حسن و عشق کا ستارہ زہرہ برج اسد میں ہے،10 جولائی سے اپنے برج ہبوط سنبلہ میں داخل ہوگا اور مہینے کے آخر تک یہیں رہے گا، سپہ سالارِ فلک سیارہ مریخ برج دلو میں بحالت رجعت حرکت کر رہا ہے،وسعت و ترقی کا نگراں سیارہ مشتری بحالت رجعت برج عقرب میں ہے،10 جولائی کو مستقیم ہوگا اور اپنی سیدھی چال پر آئے گا، استادِ زمانہ سیارہ زحل بحالت رجعت برج جدی میں پورا ماہ حرکت کرے گا، ایجادات کا سیارہ یورینس برج ثور میں اور پراسرار نیپچون بحالت رجعت برج حوت میں بدستور ہوں گے،سیارہ پلوٹو بحالت رجعت برج جدی میں اور راس و ذنب بالترتیب برج اسد اور دلو میں رہیں گے،یہ سیاروی پوزیشن یونانی علم نجوم کے مطابق ہے۔
نظرات و اثرات سیارگان
جولائی کے مہینے میں نہایت دلچسپ سیاروی زاویے ترتیب پارہے ہیں، اس ماہ تثلیث کے پانچ زاویے اور مقابلے کے 4 زاویے غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں، تثلیث کا زاویہ سعادت اثر ہوتا ہے جب کہ مقابلے کی نظر نحس سمجھی جاتی ہے،دو تربیع کے زاویے اور صرف ایک تسدیس کا زاویہ ہوگا، بے شک یہ غیر معمولی حالات و واقعات کی نشان دہی کرنے والا مہینہ ہے جس میں سعادتیں بھی ہیں اور نحوستیں بھی،آئیے اس ماہ کے نظرات کے اثرات کا جائزہ لیتے ہیں۔
5 جولائی کو سیارہ شمس اور مشتری کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ قائم ہوگا جو اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ ملک میں آئین و قانون کی پاسداری اور انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لیے اہم اقدام کیے جاسکتے ہیں، زائچہ ء پاکستان کے مطابق یہ نظر اہم عہدہ و مراتب کے حامل افراد کے لیے بہتر نہیں ہوگی، ان کے لیے نئے مسائل جنم لے سکتے ہیں، عام لوگوں کے لیے یہ ایک مبارک زاویہ ہے،انھیں قانونی امور میں تعاون ملے گا، ترقی کے نئے مواقع سامنے آئیں گے۔
اسی تاریخ کو عطارد اور مریخ کا منحوس مقابلہ بھی ہوگا، زائچہ ء پاکستان کے مطابق یہ نظر نئے پنڈورا بکس کھولے گی،بچوں سے متعلق حادثات و سانحات میں اضافہ ہوگا، نوجوانوں میں غصہ و اشتعال کی لہر بڑھے گی،مستقبل کے حوالے سے خوف اور غیر یقینی کی کیفیت محسوس ہوگی، عام لوگوں کے لیے اس وقت سفر کرتے وقت محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی،ٹرانسپورٹیشن میں رکاوٹ اور مسائل کی نشان دہی ہوتی ہے،اس دوران میں جو کام الجھ جائیں گے یا تاخیر کا شکار ہوں گے،وہ بہت جلد کنٹرول میں نہیں آئیں گے،بہتر ہوگا کہ اس عرصے میں اہم معاملات میں کوئی رسک نہ لیں۔
8 جولائی: شمس اور نیپچون کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ آئل اور پانی سے متعلق معاملات کی اہمیت کو اجاگر کرے گا، اس سعد نظر کے اثر سے مستقبل میں پانی کے اہم منصوبوں کے بارے میں کوئی پیش رفت ہوسکتی ہے،عام آدمی کی زندگی میں یہ نظر کسی فوری اثر کی حامل نہیں ہوگی۔
9 جولائی: عطارد اور مشتری کے درمیان تربیع کا زاویہ نحس اثر رکھتا ہے،اس وقت اہم معلومات کے حصول میں دشواری ہوگی، سفر سے متعلق کاموں میں بھی دشواریوں کا سامنا ہوسکتا ہے،کاروباری معاملات میں کوئی رسک نہ لیں اور لوگوں کے زبانی وعدوں پر بھروسا نہ کریں، اس وقت قرض لینا اور دینا دونوں بہتر نہیں ہوں گے، غیر دانش مندانہ سوچ اور باتیں سامنے آئیں گی۔
12 جولائی: زہرہ اور یورینس کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ محبت، دوستی، منگنی یا شادی جیسے معاملات میں غیر متوقع اور اچانک خوش خبری لاسکتا ہے،اس وقت روایتی انداز میں سوچنا اور قدم اٹھانا بہتر نہ ہوگا بلکہ وقت کے تقاضے کے مطابق خود کو ڈھالنے کی ضرورت ہوگی۔
اسی تاریخ کو شمس اور پلوٹو کے درمیان مقابلے کی نظر اہم شخصیات خصوصاً سیاست، مذہب، بزنس وغیرہ سے متعلق اہم افراد کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے،کوئی حادثہ کسی سانحے کو جنم دے سکتا ہے،کسی اہم شخصیت کے انتقال کی خبر ، کسی بڑے سوگ کا باعث بن سکتی ہے،عام افراد کے لیے یہ نظر زیادہ اہم نہیں ہے البتہ گورنمنٹ سے متعلق کاموں میں خرابی پیدا ہوسکتی ہے۔
14 جولائی: زہرہ اور زحل کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ حالات میں توازن اور پائیداری لاتا ہے،ملکی معاملات ہوں یا عام لوگوں کی زندگی سے متعلق امور ہوں، الجھے ہوئے معاملات کو بہتر بنانے کے لیے مناسب وقت ہے،ازدواجی زندگی میں بھی یہ وقت خوش گوار اثرات لاتا ہے،اس وقت میں ایسے کام مناسب رہتے ہیں جن میں پائیداری اور استحکام کی ضرورت ہو، اس نظر کے آس پاس کی تاریخیں شادی و نکاح کے لیے بہتر ہوں گی لیکن مناسب ہوگا کہ نکاح کے وقت کے لیے کسی ماہر نجوم سے مشورہ کریں۔
22 جولائی: زہرہ و مشتری کے درمیان تسدیس کا سعد زاویہ کام اور کاروبار میں بہتری کے مواقع لاتا ہے،اس وقت سرمایہ کاری کرنا فائدہ بخش ہوسکتا ہے،دو افراد کے درمیان شراکت یا کوئی معاہدہ بہتر ہوگا، دوسروں سے خصوصاً مرد و زن کے درمیان بہتر تعلقات کے لیے کوششیں بارآور ثابت ہوتی ہیں۔
25 جولائی: زہرہ اور نیپچون کے درمیان مقابلہ ایک نحس نظر ہے،اس وقت خواتین کو بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی،وہ کسی فریب میں آسکتی ہیں یا کسی کو فریب دے سکتی ہیں، اس عرصے میں خواتین سے معاملات کرتے ہوئے محتاط رہیں، اس وقت کیے گئے عہد و پیمان حقیقی نہیں ہوں گے، زائچہ ء پاکستان کے مطابق یہ نظر الیکشن میں نہایت فنکارانہ انداز سے نتائج پر اثر ڈال سکتی ہے جس کے نتیجے میں الیکشن کے نتائج متنازع ہوسکتے ہیں۔
اسی تاریخ کو شمس اور یورینس کے درمیان تربیع کا زاویہ انتہائی نحس اثر کا حامل ہے،پاکستان میں الیکشن کے نتائج نہایت چونکا دینے والے اور غیر متوقع ہوسکتے ہیں، بہت سی قیاس آرائیاں باطل ثابت ہوسکتی ہیں، یہ وقت کسی تبدیلی کے لیے مناسب نہیں ہوتا، اپنے مؤقف یا فیصلے پر ڈٹ جانے کی ضرورت ہوتی ہے،بہ صورت دیگر نتیجہ پچھتانے والا ہوتا ہے۔
27 جولائی: شمس اور مریخ کے درمیان مقابلے کی نظر ملکی صورت حال میں انتشار اور بدنظمی کی نشان دہی کر رہی ہے اور یہ انتشار اگر فوری طور پر کنٹرول نہ کیا گیا تو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے،خیال رہے کہ سیارہ مریخ زائچے کے بارھویں گھر کا حاکم ہے لہٰذا کسی غیر ملکی سازش کا امکان نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، عام افراد کے لیے بھی یہ اچھا وقت نہیں ہوگا، تمام امور میں بے چینی اور بے یقینی کی کیفیت کا امکان نظر آتا ہے۔
28 جولائی: زہرہ اور پلوٹو کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ محبت اور دوستی کے معاملات میں انتہا پسندانہ نظریات اور فیصلے لاتا ہے اور انتہا پسندی بہر حال مناسب نہیں ہوتی، اس وقت خواتین زیادہ ذہنی دباؤ محسوس کریں گی،ان پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جاسکتی ہے یا ان کی مرضی کے خلاف فیصلوں پر مجبور کیا جاسکتا ہے،ملکی معاملات میں انتظامی طور پر سختی کا ماحول پیدا ہوسکتا ہے۔
شرف قمر
اس ماہ پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق قمر اپنے درجہ ء شرف پر 09:26 pm سے 11:13 pm تک رہے گا جب کہ جی ایم ٹی ٹائم کے مطابق 04:26 pm سے 06:13 pm تک شرف یافتہ ہوگا، یہ سعد اور مبارک وقت ہے،اس وقت اپنے جائز مقاصد کے لیے دعا کرنی چاہیے اور اسمائے الٰہی یا رحمن یا رحیم 556 مرتبہ اول آخر درود شریف کے ساتھ پڑھ کر مقصد کے لیے دعا کریں، ان شاء اللہ کامیابی ہوگی۔
قمر در عقرب
قمر اپنے ہبوط کے برج میں پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 20 جولائی 09:54 am سے 11:45 am تک رہے گا جب کہ جی ایم ٹی ٹائم کے مطابق 04:54 am سے 06:45 am تک ہوگا، یہ انتہائی خراب اور منحوس وقت ہے،اس وقت کوئی کام نہیں کرنا چاہیے اور کثرت سے استغفار کا ورد کرنا چاہیے،اس وقت میں علاج معالجے سے فائدہ ہوتا ہے،بیماریوں ، بری عادتوں اور دوسروں کے ظلم و زیادتی کو روکنے کے لیے عملیات و نقوش تیار کیے جاتے ہیں، اس حوالے سے ہم اکثر ایسے طریقے لکھتے رہتے ہیں ، اپنی ضرورت کے مطابق کسی بھی طریقے پر عمل کرسکتے ہیں، اگر پرانے کالم محفوظ نہ ہوں تو ہماری ویب سائٹ www.maseeha.com سے رجوع کریں۔
اوج شمس
سیارہ شمس کو شرف کی قوت اپریل میں حاصل ہوتی ہے جب کہ برج سرطان میں اوج کی قوت کا اظہار ہوتا ہے، یہ بھی ایک سعد اور باقوت وقت ہے،اس وقت فتح نامہ، لوح اسم اعظم یا لوح شمس وغیرہ تیار کی جاتی ہیں تاکہ مشکلات اور پریشانیوں سے نجات ملے اور عزت و وقار میں اضافہ ہو، مقدمات میں کامیابی ہو، صحت و تندرستی حاصل ہو، اس کا طریقہ بھی ہماری ویب سائٹ سے معلوم کیا جاسکتا ہے یا براہ راست رابطہ کریں۔

ہفتہ، 9 جون، 2018

ریحام خان کی کتاب کا چرچا اور تحریک انصاف کی بھاگ دوڑ


عمران خان کے زائچے کی روشنی میں خوبیاں، خامیاں اور مستقبل کے امکانات 
ایک طرف انتخابات کی گہما گہمی شروع ہوچکی ہے تو دوسری طرف ریحام خان کی کتاب کا چرچا عروج پر ہے،ایسی کتاب جو ابھی بازار میں نہیں آئی بلکہ بقول ریحام خان ابھی تک شائع بھی نہیں ہوئی، البتہ کچھ لوگوں نے جن میں سرفہرست ایک اداکار اور اینکر پرسن حمزہ عباسی نمایاں ہیں،کسی طرح کتاب تک رسائی حاصل کرلی،کتاب کے مندرجات کے بارے میں جو کچھ بتایا جارہا ہے وہ خاصا شرم ناک اور انتہائی متنازع ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ریحام خان اس بات پر بضد ہیں کہ ان کی کتاب ابھی شائع نہیں ہوئی ہے اور جس کتاب کے حوالے سے اقتباسات پیش کیے جارہے ہیں اس کے بارے میں وہ نہیں جانتیں لیکن وہ ان باتوں کی تردید بھی نہیں کر رہیں جو دریافت شدہ کتاب میں موجود ہیں، غرض ایک معما ہے ، سمجھنے کا نہ سمجھانے کا، پاکستان کے تقریباً تمام ہی اخبار اور ٹی وی چینلز کے ہاتھ ایک دلچسپ موضوع آگیا ہے۔
عزیزان من!شاید آپ کو یاد ہو ، عمران ریحام شادی کے فوری بعد فروری 2015 ء میں ہم نے دونوں کے زائچے پیش کیے تھے اور لکھا تھا 
’’دونوں کے درمیان ایسٹرولوجیکل اصولوں کے تحت باہمی طور پر اچھی میچنگ موجود ہے اور دونوں ایک دوسرے کے لیے باہمی کشش رکھتے ہیں جس کا نتیجہ دونوں کی یک جائی کی صورت میں اب ہمارے سامنے ہے لیکن ہمارا مشاہدہ یہی ہے کہ باہمی کشش اور محبت اپنی جگہ مگر شادی کے بعد ازدواجی زندگی کی ذمے داریاں اپنی جگہ ایک جداگانہ اہمیت رکھتی ہے اور اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایک دوسرے کو بے حد چاہنے والے جب شادی کے بندھن میں بندھتے ہیں تو صورت حال تبدیل ہونے لگتی ہے ، آہستہ آہستہ ان کے درمیان فاصلے پیدا ہونے لگتے ہیں پھر کسی مرحلے پر جدائی کے لمحات بھی آجاتے ہیں، ایک مشہور شاعر نے اس صورت حال کو بڑے خوب صورت انداز میں بیان کیا ہے ؂
بچھڑ بھی جاتے ہیں مل کر رہ محبت میں
مگر یہ بات ابھی تِرے سوچنے کی نہیں


فروری 2015 ء میں شائع ہونے والے ہمارے کالم کا اقتباس آپ نے ملاحظہ کیا اور جو شعر اس کے ساتھ دیا گیا تھا وہ بھی نہایت معنی خیز تھا، اس کے بعد جب طلاق ہوئی تو نومبر 2015ء ہی میں ہم نے عمران خان اور ریحام خان کے زائچوں پر مزید تفصیلی روشنی ڈالی، ہم نے ریحام خان کے زائچے پر لکھا تھا 
’’زائچے میں برج جوزا طلوع ہورہا ہے اور راہو کیتو پہلے اور ساتویں گھر میں موجود ہیں، طالع کے درجات سے قران کر رہے ہیں اور اس طرح پہلے ، تیسرے، پانچویں ، ساتویں ، نویں اور گیارھویں گھر کو متاثر کر رہے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ جوزا جیسے بے چین و بے قرار، ہر پل رنگ بدلتے برج کے ساتھ راہو کیتو کا اشتراک انسان کو زندگی میں کبھی چین سے بیٹھنے نہیں دیتا، بے حد منفی رجحانات شخصیت و فطرت میں جنم لیتے ہیں، تیسرا گھر راہو کی نظر کا شکار ہے جس کی وجہ سے ذہن اور کوشش کا رُخ دھوکے اور فراڈ کی جانب ہونا تعجب کی بات نہیں ہے‘‘
ریحام خان کے جاری ادوار کے حوالے سے ہم نے لکھا تھا۔
’’ مئی 2015 ء سے راہو کا دور شروع ہوا جو اپریل 2016 ء تک جاری رہے گا،اسی عرصے میں طلاق کا واقعہ پیش آیا، اب آگے کیا ہوگا؟ راہو کا دور جاری ہے، قسمت کا ستارہ چھٹے گھر میں ٹرانزٹ کر رہا ہے، قسمت ساتھ نہیں دے گی اور راہو کا دور مزید حماقتیں غلط فیصلے کرائے گا، شارٹ کٹ کے ذریعے دولت مند بننے کے لیے مزید کچھ بھی کرسکتی ہیں جس کا نتیجہ بہر حال اچھا نہیں نکلے گا، راہو کا دور ناجائز ذرائع سے مالی فوائد لاتا ہے جس کے نتیجے میں بعد ازاں بدنامی، دھوکا وغیرہ ہوسکتا ہے،مزید خرابی یہ ہے کہ راہو کا پیریڈ کسی کارخیر کے بجائے ہمیشہ کار بد کی جانب لے جانے کی کوشش کرتا ہے‘‘
تقریباً کچھ ایسی ہی صورت حال ریحام خان کے ساتھ نظر آتی ہے،وہ عمران دشمنی میں اس حد تک چلی گئیں کہ بعض لوگوں کی اطلاع کے مطابق دوسروں کے اکسانے پر عمران کے خلاف کتاب لکھنے پر تیار ہوگئیں، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس حوالے سے انھیں خاصی بھاری رقم بھی ادا کی گئی ہے،جنوری 2017 ء سے ان کے زائچے کی پوزیشن بہت بہتر ہوگئی ہے، قسمت کا ستارہ زحل ساتویں گھر میں آیا اور شمس کے دور اکبر میں زحل ہی کا دور اصغر شروع ہوا جو 7 جنوری 2018 ء تک جاری رہا اور اب وہ سیارہ عطارد کے دور سے گزر رہی ہیں جو چوتھے گھر کا حاکم اور زائچے میں بہترین پوزیشن رکھتا ہے۔
اس میں کوئی دورائے نہیں ہوسکتی کہ یہ ان کے لیے نہایت موافق اور سپورٹنگ وقت ہے، وہ زیادہ سے زیادہ دولت جمع کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہیں اور ایک شاندار رہائش گاہ کی مالک بن سکتی ہیں لیکن انھیں ایک اچھا اسٹیٹس نہیں مل سکے گا، ان کے زائچے میں اسٹیٹس کا سیارہ قمر ہے جو غروب ہے،قمر کا تعلق اسٹیٹس کے علاوہ فیملی کے معاملات سے بھی ہے اور ان کی فیملی بھی شوہر کے بغیر نامکمل ہے،بعض ذرائع کے مطابق عمران خان سے ان کی تیسری شادی ہوئی تھی، چوتھی شادی کے خدشے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اور اس کا امکان اس سال یا آئندہ سال ہوسکتا ہے۔ 
عمران خان اور تحریک انصاف


حقیقت یہ ہے کہ 2013 ء کے الیکشن کے بعد سے عمران خان اور تحریک انصاف مستقل اخبار اور ٹی وی کی شہ سرخیوں میں سرفہرست ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے پاکستان کی پوری سیاسی اشرافیہ عمران خان اور تحریک انصاف کو اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتی ہے ؂
کسی کا درد ہو کرتے ہیں تِرے نام رقم
گلہ ہے جو بھی کسی سے تِرے سبب سے ہے
الیکشن کے بعد ہی عمران خان نے دھاندلی کا نعرہ لگایا اور بالآخر وہ سڑکوں پر آگئے یعنی 2014 ء میں ایک طویل دھرنا دیا، پھر 2015 ء کی ابتدا میں ریحام خان سے شادی کرکے مزید شہرت پائی اور اسی سال دونوں کے درمیان طلاق کا واقعہ ایک نئی متنازع صورت حال کا باعث بنا، اس طرح عمران خان کے مخالفین کو بہت کچھ کہنے کا موقع ملا، وہ اپنے ابتدائی کرئر کے زمانے ہی سے ایک متنازع ، سرپھرے اور اسکینڈلز کی زد میں رہنے والے انسان تو تھے ہی، یہ روایت سیاست کے میدان میں بھی جاری رہی اور جاری ہے۔
2016 ء میں پاناما کا ہنگامہ عمران خان کے ہاتھ لگا اور اسے انھوں نے اپنے لیے ایک غیبی امداد تصور کیا پھر ساری مصروفیات ختم کرکے وہ اس مہم جوئی میں مصروف ہوگئے جس کا نتیجہ بالآخر 2017 ء میں سابق وزیراعظم جناب نواز شریف کی نااہلی کی صورت میں برآمد ہوا، انھوں نے اسے اپنی سب سے بڑی کامیابی قرار دیا،اس دوران میں وہ بھی مقدمات کی لپیٹ میں رہے لیکن سپریم کورٹ نے انھیں بری کردیا۔
سال 2018 ء میں ان کی تیسری شادی کا چرچا ہوا اور ایسا کہ ہر جگہ موضوع گفتگو یہ شادی رہی، اب الیکشن کا وقت قریب آرہا ہے اور عمران خان نہایت پر امید ہیں کہ اس بار میدان ان کے ہاتھ رہے گا مگر اچانک ہی ریحام خان کی کتاب کا ہنگامہ اٹھ کھڑا ہوا ہے،یہ سب بیان کرنے کا مقصد صرف اتنا ہی ہے کہ گزشتہ تقریباً سات آٹھ سال سے عمران خان اور ان کی پارٹی روز بہ روز ایک نمایاں حیثیت اختیار کرتی جارہی ہے۔
پاکستان میں عمران خان کا زائچہ سب سے پہلے ہم نے ہی پیش کیا تھا اور اس سلسلے میں خاصی تحقیق اور کوشش کی گئی تھی، عمران خان کی تاریخ پیدائش 25 نومبر 1952 ء بمقام لاہور بتائی جاتی ہے لیکن ایک موقع پر انھوں نے خود کہا کہ میرا برج میزان ہے،اس سلسلے میں ہمارے محترم سید انتظار حسین شاہ زنجانی نے ہماری مدد کی اور اپنے کسی واقف صحافی کے ذریعے عمران خان سے ان کی درست تاریخ پیدائش اور وقت پیدائش معلوم کیا، عمران خان نے بتایا کہ ان کی تاریخ پیدائش 5 اکتوبر 1952 ء اور وہ صبح 9 بجے لاہور میں پیدا ہوئے،چناں چہ ہم نے اسی تاریخ پیدائش اور وقت کے مطابق زائچہ بنایا جو ماہنامہ آئینہ قسمت لاہور میں اور ہمارے کالم میں شائع ہوا، دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض لوگ اب بھی 25 نومبر کو ہی اہمیت دیتے ہیں۔
ہمارے بنائے ہوئے زائچے کے مطابق عمران خان کا پیدائشی برج یعنی طالع پیدائش میزان ہے،اس کا حاکم سیارہ زہرہ زائچے کے پہلے گھر یعنی اپنے ہی گھر برج میزان میں نہایت طاقت ور پوزیشن میں موجود ہے،علم نجوم کے مطابق اس صورت حال کو ’’ملاویا یوگ‘‘ کہا جاتا ہے اور یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو خوش قسمت خیال کیے جاتے ہیں، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ آسانی کے ساتھ اپنے مقاصد کی تکمیل کرلیتے ہیں، ملاویا یوگ چوں کہ حسن و عشق سے وابستہ سیارہ زہرہ تشکیل دیتا ہے لہٰذا ان لوگوں کی زندگی میں حسن و عشق کی رنگینیاں اور سنگینیاں بھی دیکھنے میں آتی ہیں، ویسے بھی برج میزان اگرچہ توازن اور ہم آہنگی کا برج ہے لیکن انسان کو رومان پسند بھی بناتا ہے، زائچے کے تیسرے گھر برج قوس میں سیارہ مریخ، چوتھے گھر میں راہو اور کیتو ایسی پوزیشن میں ہیں جو زائچے کے دوسرے ، چوتھے ، چھٹے، آٹھویں اور بارھویں گھروں کو متاثر کر رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کی زندگی مستقل اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے،فیملی پرابلم، مالی مشکلات،والدہ کی شدید بیماری ، چوٹیں لگنا اور ساتھ کام کرنے والوں سے اختلافات، طلاق، کرئر سے متعلق مسائل ، میڈیسن کا زیادہ استعمال وغیرہ راہو کیتو کے نحس اثرات کا باعث ہے،یقیناً موجودہ شادی کے بعد وہ صدقات و خیرات پر زیادہ زور دیں گے۔
ساتویں گھر برج حمل میں قمر اور مشتری موجود ہیں،کیتو دسویں گھر میں ہے اور شمس ، زحل اور عطارد بارھویں گھر میں بری جگہ واقع ہیں، مریخ اور مشتری باہمی طور پر ایک دوسرے کے گھر میں ہونے کی وجہ سے ایک نہایت اہم یوگ بنارہے ہیں جسے ’’پری ورتن یوگ‘‘ کہاجاتا ہے چوں کہ یہ دونوں سیارے زائچے کے تیسرے اور ساتویں گھر کے حاکم ہیں لہٰذا اس یوگ کو ’’راج یوگ‘‘ کے برابر سمجھنا چاہیے، راج یوگ عام طور سے قائدانہ صلاحیت اور اعلیٰ پوزیشن پر فائز ہونے کا امکان ظاہر کرتا ہے،پہلے گھر کا حاکم ، پہلے ہی گھر میں واقع ہو اور وہ بھی زہرہ ہو تو صاحب زائچہ کو شاندار شخصیت اور ایک پرتعیش زندگی دیتا ہے، مزید یہ کہ مشتری ساتویں گھر میں رہتے ہوئے طالع کے درجات سے ناظر ہے،قمر کی پوزیشن سے بھی زہرہ ملاویا یوگ بنارہا ہے،سیارہ مشتری تیسرے گھر کا حاکم ہے جو پہل کاری ، کوشش اور جدوجہد سے متعلق ہے،اس کا حاکم ساتویں گھر میں ہے جو سفر کا رجحان ظاہر کرتا ہے،اسٹیٹس بنانے میں مدد دیتا ہے،بیرون ملک رہائش کی نشان دہی کرتا ہے جب کہ ساتویں کا حاکم تیسرے میں ہے،گویا عمران خان ابتدا ہی سے ملک سے یعنی اپنے پیدائش کے مقام سے دور چلے گئے اور باہر رہتے ہوئے ہی تعلیم حاصل کی اور اپنا کرکٹ کا کرئر شروع کیا پھر ایک طویل عرصہ ملک سے باہر ہی گزارا، حد یہ کہ شریک حیات کا پہلا انتخاب بھی ملک سے باہر ہی کیا اور پہلی شادی بھی ملک سے باہر ہی ہوئی۔
پانچویں گھر کا حاکم سیارہ زحل اس زائچے میں یوگ کارک ہے اور نہایت خراب پوزیشن میں بارھویں گھر میں مقیم ہے،اس پر راہو کی نظر ہے،عمران خان کے رجحانات ، شوق اور دلچسپیوں کے حوالے سے سیارہ زحل کی پوزیشن قابل غور ہے،کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ہر طرح کی حکمت عملی اختیار کرسکتے ہیں۔
سیارہ قمر زائچے کے دسویں گھر کا حاکم ہے اور ساتویں گھر میں مشتری کے ساتھ قابض ہے،یہ بھی ان کے کرئر کے معاملات میں بیرون ملک کامیابیوں کی نشان دہی کرتا ہے،گیارھویں گھر کا حاکم شمس بارھویں گھر میں ہے،ایسا شخص بیرون ملک رہ کر مالی مفادات حاصل کرتا ہے،اپنے کرکٹ کرئر کے دوران بھی ان کے ذرائع آمدن بیرون ملک سے متعلق تھے اور اب بھی ان کی پارٹی کو فنڈنگ بیرون ملک رہائش پذیر پاکستانیوں سے ہوتی ہے۔
یہاں ایک دلچسپ حقیقت کا انکشاف ضروری ہے،روس کے موجودہ صدر ولادی میر پیوٹن اور عمران خان کے زائچے میں نہایت معمولی سا فرق ہے ، مسٹر پیوٹن کی تاریخ پیدائش 7 اکتوبر 1952 ہے اور وہ صبح ساڑھے 9 بجے سینٹ پیٹر برگ میں پیدا ہوئے،علم نجوم سے دلچسپی رکھنے والے لوگ اگر ان کا زائچہ بنائیں تو حیران ہوں گے،ان کا بھی پیدائشی برج میزان ہے،قمر کے علاوہ باقی تمام سیارگان کی پوزیشن میں زیادہ فرق نہیں ہے،قمر البتہ اپنے شرف کے گھر برج ثور میں ہے،مسٹر پیوٹن ایک طویل عرصے سے روس میں حکمران ہیں ، ابھی حال ہی وہ ایک بار پھر الیکشن جیت کر صدر منتخب ہوگئے ہیں۔
ہم کسی بھی زائچے میں قمری منزل کو بہت اہمیت دیتے ہیں کیوں کہ ہمارے نزدیک قمری منزل انسان کی فطری خوبیوں، خامیوں کی نشان دہی کرتی ہے،عمران خان چاند کی منزل اشونی میں پیدا ہوئے ہیں اور جناب فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال بھی اسی منزل میں پیدا ہوئے ہیں،اس کا تذکرہ ہم نے دونوں کے زائچوں پر گفتگو کرتے ہوئے بھی کیا تھا۔
اشونی برج حمل میں واقع ہے اور اس پر غضب ناک کیتو حکمران ہے،بچپن میں ان لوگوں میں کھلندڑا پن اوربچگانہ پن دیکھنے میں آتا ہے لیکن یہ نڈر ، بے خوف ہوتے ہیں، نئے جہان دریافت کرنا چاہتے ہیں،سیارہ شمس برج حمل میں شرف پاتا ہے لہٰذا لیڈر شپ، جنگ جویانہ صلاحیت ان میں موجود ہوتی ہے،اختیارات اور قدرومنزلت کی چاہت بھی اس منزل سے وابستہ ہے،یہ لوگ جنس مخالف کو پسند کرتے ہیں، مزاجی طور پر غصہ ور اور جلد اشتعال میں آنے والے ، فطری طور پر ذہین، متحرک ، ہوشیار اور سخت مزاج ہوتے ہیں، اپنی وجاہت اور دل کشی کی وجہ سے دوسرے لوگوں میں ممتاز نظر آتے ہیں،ہوائی قلعے بنانے کا رجحان بھی رکھتے ہیں لیکن ان کے خیالات ہمیشہ صاف اور صحت مند رہتے ہیں، ان کے اندر جسمانی طور پر اچھی قوت مدافعت پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے جلد صحت یاب ہونے کی طاقت رکھتے ہیں، ذہنی و جسمانی طور پر ہمیشہ جوان رہتے ہیں، ان کی بیماریوں کا یا دیگر تکالیف کا بنیادی سبب غیر ضروری ذہنی پریشانی اور ذہنی انتشار ہوتا ہے۔
عمران خان اپریل 1996 ء میں سیاست میں آئے، آئندہ ان کی پارٹی کے زائچے پر بھی بات ہوگی، ایک طویل عرصہ مسلسل جدوجہد کے باوجود وہ کوئی خاص سیاسی کامیابی حاصل نہیں کرسکے،ان کے زائچے میں 1997 ء سے راہو کا دور اکبر شروع ہوا، راہو کو سیاست کا ستارہ کہا جاتا ہے،اسی راہو کے دور اکبر میں جب سیارہ زہرہ کا دور اصغر شروع ہوا تو عمران خان کے لیے ایسے اسباب بننا شروع ہوگئے کہ وہ بالآخر ایک کامیاب اور تاریخی جلسہ کرکے دوسری پارٹیوں کے مقابلے میں کھڑے ہوگئے، اس حوالے سے بھی بہت سی خفیہ داستانیں مشہور ہیں لیکن ہمیں ان سے کوئی غرض نہیں، جب انسان کا بہتر وقت شروع ہوتا ہے تو بہت سے عوامل اس کے مددگار ہوسکتے ہیں، 2013 ء کے الیکشن میں ان کی پارٹی نے سب سے زیادہ ووٹ لینے والی دوسری پارٹی کا اعزاز حاصل کیا، ن لیگ کو ان پر برتری حاصل تھی لہٰذا حکومت ن لیگ نے بنائی اور وہ حکومت مخالف کردار ادا کرتے رہے۔
جنوری 2015 ء سے راہو کا دور اکبر ختم ہوا اور مشتری کا دور اکبر شروع ہوا جو تاحال جاری ہے،مشتری تیسرے گھر کا حاکم اور طالع میزان کے لیے نہایت اہم سیارہ ہے،زائچے میں ساتویں گھر میں اچھی جگہ واقع ہے،مشتری ہی کے دور اصغر میں ان کی پاناما مہم جوئی عروج پر پہنچی اور مارچ 2017 ء سے سیارہ زحل کا دور شروع ہوا جو تاحال جاری ہے،زحل یوگا کارک سیارہ ہے لیکن نہ صرف یہ کہ بارھویں گھر میں ہے بلکہ بارھویں گھر کے حاکم سیارہ عطارد سے قریبی قران رکھتا ہے،گویا عمران خان کی آنے والے مہینوں میں کامیابیاں یا ناکامیاں خاصی مبہم نظر آتی ہیں، یہ دور بہت محتاط رہنے کا ہے اور بڑی ذہانت کے ساتھ منصوبہ بندی کا ہے،پانچواں گھر اور اس کے حاکم کی پوزیشن اسکینڈلز اور رسوائیاں ظاہر کرتے ہیں، ریحام خان کی حالیہ کتاب نے بہت سے متنازع سوالوں کو جنم دیا ہے، ان کے مخالفین ہر حربہ استعمال کرنے میں آزاد ہیں، سیارہ زحل کا دور اصغر صحت کے حوالے سے بھی تشویش ناک ہے،مزید یہ کہ عطارد سے قریبی نظر یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ وہ شاید بہتر فیصلے کرنے میں دشواری محسوس کریں ، یہ ان کی ایک فطری کمزوری بھی ہے،برج میزان والے ہمیشہ بروقت اور صحیح فیصلہ کرنے میں دیر کردیتے ہیں، وہ کسی معاملے پر بہت غوروفکر کرتے ہیں اور پھر دوسروں سے مشورہ کرتے ہیں مگر پھر بھی پوری طرح مطمئن نہیں ہوتے اور اکثر کوئی واضح فیصلہ نہیں کرپاتے جیسا کہ ابھی پنجاب اور کے پی کے میں وزارت اعلیٰ کے امیدواروں کے حوالے سے صورت حال سامنے آئی،عمران خان کے بھرپور ایسٹرولوجیکل تعارف کے بعد ان شاء اللہ آئندہ ان کی پارٹی تحریک انصاف کے زائچے پر بات ہوگی۔