ہفتہ، 17 مارچ، 2018

شرف شمس کا باسعادت و مؤثر ترین وقت اور فتح نامہ

ماہرین علم جفر نقش فتح نامہ کو حل المشکلات کا درجہ دیتے ہیں

شمس اپنے درجۂ شرف پر ہر سال آتا ہے اور ماہرین علم جفراس وقت کا نہایت شدت سے انتظار کرتے ہیں کیوں کہ شمس کا تعلق توانائی ، اقتدار اور عزت و مرتبہ سے ہے ، سرکاری محکمہ اور تمام کارِ سرکار سیارہ شمس کے زیراثر ہیں،صحت اور توانائی کے حصول کے لیے بھی اس وقت کو مؤثر اور فائدہ بخش تسلیم کیا جاتا ہے،چناں چہ اس وقت سے فائدہ اٹھانے کے لیے سال بھر انتظار کیا جاتا ہے‘ ضروری نہیں ہے کہ ہر سال شرف کا وقت نہایت موثر اور با قوت بھی ہو‘ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ عین شرف کے وقت دیگر نحس اثرات بھی موجود ہوں جن کی وجہ سے شرف کا وقت متاثر ہو رہا ہو‘ایسی صورت میں صاحب علم افراد وقت ضائع کرنا پسند نہیں کرتے‘ شمس کے دیگر باقوت اوقات سے فائدہ اٹھاتے ہیں یعنی اوج شمس یا شمس در اسد وغیرہ۔
عزیزان من! اس سال شرف شمس کا وقت بہت سی ایسی نحوستوں سے پاک ہے جو کسی بھی عمل کو برباد یا غیر موثر کرسکتی ہیں‘ لہٰذا وقت سے بہت پہلے ہی نہ صرف یہ کہ درست وقت کی نشاندہی کی جا رہی ہے بلکہ اس وقت جو خصوصی روحانی تحائف تیار ہو سکتے ہیں اور عام افراد کی ضروریات میں معاون ہو سکتے ہیں ان کی تفصیل بھی وقت سے خاصا پہلے دی جا رہی ہے تاکہ عام لوگوں کو ضروری تیاری کے سلسلے میں کوئی پریشانی نہ ہو اور کوئی یہ شکایت نہ کر سکے کہ ہم اس کے لیے پہلے سے تیار نہ تھے‘ بہتر ہوگا کہ یہ پورا مضمون سنبھال کر رکھیں کیوں کہ ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ عین وقت پر لوگ ہمیں فون کرتے ہیں کہ آپ کا وہ کالم کہیں گم ہوگیا ہے‘ اب آپ فون پر ہی ہمیں سب کچھ سمجھادیں‘ تو یہ ممکن نہیں ہوتا ۔
اوقاتِ شرف شمس
پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق شمس اپنے درجہ ء شرف پر بروز اتوار 02:32 am پر پہنچے گا اور 9 اپریل 02:47 pm تک شرف یافتہ رہے گا جب کہ جی ایم ٹی ٹائم کے مطابق شرف کا وقت 7 اپریل کو 07:23 pm سے شروع ہوگا اور اختتام 8 اپریل 07:47 pm پر ہوگا، دیگر ممالک کے افراد جی ایم ٹی ٹائم سے اپنے ملک اور شہر کا فرق معلوم کرکے اس ٹائم میں سے کم یا زیادہ کرلیں۔
چوں کہ یہ شرف اتوار کے دن ہوگا اور اتوار سیارہ شمس کا دن ہے لہٰذا پہلی ساعت صبح سورج نکلنے کے فوری بعد سیارہ شمس کی ہوگی جو تقریباً ایک گھنٹہ رہے گا جب کہ دوسری ساعت دوپہر تقریباً 01 بجے سے 02 بجے تک ہوگی، شمس سے متعلق کام دن کے اوقات میں کرنا بہتر ہوتا ہے لہٰذا رات کی ساعتیں نہ لی جائیں تو بہتر ہے۔
فتح نامہ
شرف شمس کا وقت فتح نامے کی تیاری کے لیے بھی انتہائی موزوں اور پُرتاثیر ہے،یہ مشرق کے نامور علمائے جفر کا نادر ترین عمل ہے جو کبھی فیل نہیں ہوتا اور تقریباً ہر قسم کے مسائل اور مشکلات میں مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ہمارے پرانے قارئین کو یاد ہوگا کہ کئی سال پہلے ہم نے اس کا طریقہ متعارف کرایا تھا اور بے شمار لوگوں نے اس سے فائدہ اور فیض حاصل کیا تھا ، 2011 ء میں بھی یہ طریقہ ء دیا گیا تھا۔بعد ازاں بہت سے نقال اسے لے اُڑ ے لیکن ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ‘ کیوں کہ ہمارا کام تو علم کو پھیلانا ہے ۔
فتح نامہ کے فوائد میں کامیابی‘حالات کی سختی سے نجات اور ہر طرح کی نحوست سے چھٹکارا ،کاروبار میں ترقی‘ قرض کی ادائیگی‘ ملازمت میں ترقی یا بہتر ملازمت کا حصول‘ مالکان یا اعلیٰ افسران کے رویے میں نرمی اور عمدہ سلوک ، گھریلو حالات کی بہتری ‘ سحر و جادو‘ آسیب و جنات سے نجات‘ دشمنوں سے بچاؤ‘ مقدمے میں کامیابی ، صحت میں بہتری‘ بیماری سے شفا‘ شادی میں کوئی بندش یا رکاوٹ ہو تو اس کا خاتمہ‘ الغرض بے شمار مقاصد ’’فتح نامہ‘‘کے دائرہ کار میں آتے ہیں ۔
فتح نامے کی تیاری یقیناً تھوڑا سا مشکل کام ضرور ہے مگر جو لوگ اسے درست اصول و قواعد کے مطابق تیار کرلیں گے وہ سمجھ لیں کہ انہوں نے دنیا فتح کرلی ہے، ہماری ہر ممکن کوشش ہوگی کہ مشکل طریقہء کار کو آسان الفاظ میں پوری وضاحت کے ساتھ بیان کردیں اس کے بعد بھی اگر طریقۂ کار کو سمجھنے میں کوئی دشواری پیش آئے تو براہِ راست رابطہ کرکے سمجھ سکتے ہیں۔
اصول و قواعد فتح نامہ 
سب سے پہلے اپنے پورے نام کے اعداد ابجدِ قمری سے حاصل کریں پھر اپنی والدہ کے نام کے اعداد بھی نکالیں۔ اس کے بعد سات پیغمبروں کے نام لیں اور ان کے اعداد حاصل کریں۔ مثلاً آدم ؑ ‘ نوح ؑ ‘ سلیمانؑ ‘ موسیؑ ‘ داؤدؑ ‘ یوسفؑ اور محمدﷺ ۔ اس کے بعد آیات فتوحات کے اعداد لیں۔ آیات فتوحات یہ ہیں، آیاتِ فتوحات سے پہلے دُعائے فتح ہے۔
1 ۔اَفْتِح اَبْوَابِ فَتْحَکَ لِیْ ےَا مُفَتِّحُ الْا بْوَابِِْ ۔
2 ۔ اِنَّاا فَتَحْنَالَکَ فَتْحاً مُّبِےْنَا۔ ( سورہ فتح)۔
3 ۔ رَبَّنَاافْتَحْ بَےْنَنَاوَ بَینَ قَوْ مِنَا بِا لْحَقِّ وَاَنْتَ خَےْرُ الْفَا تِحِینَ ْ ( سورہ اعراف)۔ 
4 ۔ نَصْرُ مِّنَ اﷲ وَ فَتْح قَرِیب ( سورہ صف)۔
تینوں آیات اور دعا کے اعداد کا مجموعہ سات ہزار دو سو پچھتر (7275 ) ہوا۔ آپ کی سہولت کے لیے سات انبیاء کے ناموں کے اعداد کا مجموعہ بھی لکھ رہے ہیں جو 679 ہے۔ اب آپ کو صرف اپنے نام اور والد کے نام کے اعداد ہی معلوم کرنا ہیں اور پھر تمام اعداد کو باہم جمع کرنا ہے۔ مثلاً آپ کے نام مع والدہ کے اعداد کل 343 برآمد ہوئے تو کل مجموعہ ء اعداد 8288 ہو جائے گا۔ 
اعداد آیت = 7275 
اعداد نام انبیاء = 679 
اعداد مفروضہ نام مع والدہ= 334 
مجموعہ = 8288 
اس مجموعہ ء اعداد کا 7x7 خانوں کا نقش تیار کریں یعنی ایسا نقش جس میں 49 خانے ہوں جس کا طریقہ یہ ہے کہ کل مجموعہ اعداد میں سے 168 عدد کم کریں اور پھر باقی اعداد کو 7 پر تقسیم کردیں۔ اب جو باقی حاصل قسمت آئے اُسے نقش کے خانہ اول میں رکھ کر باقی خانوں میں ترتیب وار ایک عدد کے اضافے سے نقش بھرتے چلے جائیں۔ مثلاً مندرجہ ذیل مجموعہ اعداد 8288 میں سے 168 عدد کم کریں تو باقی بچے 8120۔ اس کو 7پر تقسیم کیا تو جواب آیا 1160 ۔اسے نقش کے خانہ ء اوّل میں رکھیں اور پھر ایک عدد کے اضافے سے خانہ ء دوم میں اور اسی طرح آخری خانے تک ایک عدد کا اضافہ کرتے ہوئے پورا نقش مکمل کریں۔
سات درسات کی چال کا نقش ہم دے رہے ہیں۔ اس میں پہلا خانہ وہ ہے جس میں نمبر ایک لکھا ہے۔ اسی خانے سے نقش کی ابتدا ہوگی۔ 1160 اسی خانے میں لکھیں پھر جس خانے میں نمبر 2 ہے اس میں 1161 لکھیں پھر نمبر 3 میں 1162 ۔ الغرض اسی طرح ایک عدد کے اضافے سے 49 خانوں کا یہ نقش مکمل کر لیں۔ تمام کام وقت سے پہلے ہی تیار کرنا ہوگا تاکہ شرفِ شمس کے اوقات میں اور ساعتِ شمس میں صرف چال کے مطابق نقل کرنا ہی باقی رہ جائے ، نقش کے چاروں کونوں پر قولہ الحق ولہ الملک لکھیں اور چاروں ملائیکہ جبرائیل ، عزرائیل ، میکائیکل، اسرافیل لکھیں نقش کے دائیں بائیں کھیعص ، حمعسق لکھیں اور نقش مکمل کرنے کے بعد پشت پر یاروقیائیل ابو عبداللہ المذہب لکھیں جو سیارہ شمس کے مؤکلاتِ ارضی و سماوی ہیں۔
نقش کی چال

اب ایک مسئلہ اور باقی رہ گیا ہے اسے بھی سمجھ لیں۔ کل مجوعہء اعداد کو جب آپ 7 پر تقسیم کریں گے تو ضر وری نہیں کہ وہ برابر تقسیم ہو جائے۔ برابر تقسیم ہونے کی صورت میں تو ایک بہترین بات ہوگی لیکن تقسیم کے بعد اگر کوئی عدد باقی بچے تو پھر نقش میں کسر دینا ہوگی تب ہی وہ درست ہوگا۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ تقسیم کرنے کے بعد اگر ایک عدد باقی بچے تو نقش کے خانہ نمبر43 میں 1عدد کا اضافہ کرنا ہوگا۔ 2 باقی رہیں تو خانہ نمبر 36 میں 1کا اضافہ کریں۔ 3 باقی ہوں تو خانہ نمبر 29میں 1عدد بڑھا دیں۔ 4باقی رہیں تو 22ویں خانے میں 1عدد بڑھائیں۔ 5باقی ہوں تو خانہ نمبر 15میں 1عدد بڑھائیں اور اگر 6باقی ہوں توآٹھویں خانے میں 1عدد کا اضافہ کریں۔ یہاں ایک عدد کا اضافہ کرنے کا مطلب بھی سمجھ لیں۔ مثلاً آپ نقش کے خانے ایک ایک عدد کے اضافے سے بھرتے چلے جا رہے ہیں تو جب کسر کا خانہ آئے تو اس میں 1کے بجائے 2کا اضافہ کر دیں۔ باقی نقش اسی طرح بھرتے چلے جائیں۔ نقش کے درست بھرے جانے کی پہچان یہ ہو گی کہ نقش کے ہر سات خانوں کی میزان وہی آنی چاہیے جو آپ کے نام مع والدہ کے اعداد، آیتوں کے اعداد اور اسمائے انبیاء کے اعداد کامجموعہ ہو گا۔ اگر اس مجموعے کے مطابق نقش کے ہر سات خانوں کا مجموعہ نہیں ہے تو سمجھ لیں نقش غلط بھرا گیا ہے۔ کہیں نہ کہیں آپ سے حساب میں غلطی ہوئی ہے۔
نقش کی تیاری کے لیے مزید اصول و قواعد بھی سمجھ لیں۔یہ نقش ہرن کی جِھلّی یا ایسے کاغذ پر لکھیں جو ایک طرف سے گولڈن یا زرد کلر کا ہو، روشنائی اگر مشک و زعفران سے تیار کی گئی ہو تو کیا کہنے مگر آج کے دور میں شاید یہ ممکن نہ ہو ، ایسی صورت میں زرد یا سرخ رنگ استعمال کریں، شرف کا وقت تقریباً 24 گھنٹے رہے گا، اس تمام عرصے میں صرف شمس کی ساعتیں نقش لکھنے کے لیے مؤثر ہوں گی، مقررہ وقت سے پہلے غسل کرکے پاک صاف لباس پہنیں اور زعفران یا مشک کے عطر کی خوشبو لگائیں، علیحدہ کمرے میں رجال الغیب کا خیال کرکے بیٹھیں کہ آپ کا رخ رجال الغیب کی طرف نہ ہو، کمرے میں عود و لوبان کا بخور جلا کر خوشبو کریں،یہ میسر نہ ہو تو عمدہ خوشبو دار اگربتیاں جلائیں،بہتر ہوگا کہ سرخ یا زرد لباس پہنیں یا پھر اس رنگ کا کوئی کپڑا نیچے بچھالیں،کوئی زرد رنگ کی مٹھائی مثلا بیسن کے لڈو وغیرہ پاس رکھیں تاکہ کام ختم ہونے کے بعد فاتحہ دی جاسکے۔
اب ایک مسئلہ اور باقی رہ گیا ہے اسے بھی سمجھ لیں۔ کل مجوعہء اعداد کو جب آپ 7 پر تقسیم کریں گے تو ضر وری نہیں کہ وہ برابر تقسیم ہو جائے۔ برابر تقسیم ہونے کی صورت میں تو ایک بہترین بات ہوگی لیکن تقسیم کے بعد اگر کوئی عدد باقی بچے تو پھر نقش میں کسر دینا ہوگی تب ہی وہ درست ہوگا۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ تقسیم کرنے کے بعد اگر ایک عدد باقی بچے تو نقش کے خانہ نمبر43 میں 1عدد کا اضافہ کرنا ہوگا۔ 2 باقی رہیں تو خانہ نمبر 36 میں 1کا اضافہ کریں۔ 3 باقی ہوں تو خانہ نمبر 29میں 1عدد بڑھا دیں۔ 4باقی رہیں تو 22ویں خانے میں 1عدد بڑھائیں۔ 5باقی ہوں تو خانہ نمبر 15میں 1عدد بڑھائیں اور اگر 6باقی ہوں توآٹھویں خانے میں 1عدد کا اضافہ کریں۔ یہاں ایک عدد کا اضافہ کرنے کا مطلب بھی سمجھ لیں۔ مثلاً آپ نقش کے خانے ایک ایک عدد کے اضافے سے بھرتے چلے جا رہے ہیں تو جب کسر کا خانہ آئے تو اس میں 1کے بجائے 2کا اضافہ کر دیں۔ باقی نقش اسی طرح بھرتے چلے جائیں۔ نقش کے درست بھرے جانے کی پہچان یہ ہو گی کہ نقش کے ہر سات خانوں کی میزان وہی آنی چاہیے جو آپ کے نام مع والدہ کے اعداد، آیتوں کے اعداد اور اسمائے انبیاء کے اعداد کامجموعہ ہو گا۔ اگر اس مجموعے کے مطابق نقش کے ہر سات خانوں کا مجموعہ نہیں ہے تو سمجھ لیں نقش غلط بھرا گیا ہے۔ کہیں نہ کہیں آپ سے حساب میں غلطی ہوئی ہے، وہ لوگ جو کسی مجبوری کی وجہ سے خود یہ تمام نہ کرسکیں، براہ راست رابطہ کرسکتے لیکن اس صورت میں وقت سے پہلے یعنی یکم اپریل تک اپنا نام مع والدہ اور خصوصی مقصد سے آگاہ کریں، کاغذ پر یا ہرن کی جھلّی پر فتح نامہ تیار کیا جائے گا۔

ہفتہ، 10 مارچ، 2018

حقیقی شفا بخشی کے عمل کے لیے ضروری شعور

مروجہ علاج کے طریقے اور بیماریوں کا روحانی اور جسمانی عمل دخل
گزشتہ ہفتے ہم نے عرض کیا تھا کہ علاج معالجے کے سلسلے میں مریضوں اور ان کے سرپرستوں میں بے شمار غلط تصورات رواج پاگئے ہیں اور اس کی پہلی وجہ تو ہم روحانی علاج کے حوالے سے بیان کرچکے ہیں کہ لوگ کسی کرامت اور معجزہ کی تلاش میں رہتے ہیں لیکن دوسری وجہ ایلو پیتھی اور اس سے وابستہ کمرشل ازم ہے، ساتھ ہی یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ موجودہ مشینی دور کے انسان کے پاس علاج معالجے کے لیے فرصت بھی بہت کم ہے لہٰذا وہ اپنے دکھ ، تکلیف سے فوری نجات پاکر جلد از جلد کاروبار زندگی کی بھاگ دوڑ میں مصروف ہونا چاہتا ہے، ایلو پیتھی طریقہ علاج نے اسے یہ سہولت فراہم کردی ہے اور اس سے وابستہ معالجین اور دواؤں کی کمپنیوں نے ایسی دواؤں کو فروغ دیا جو فوری اثر کرکے مریض کو آرام پہنچادیں، ایسی دوائیں درحقیقت عارضی ضرورت کے تحت ایجاد ہوئی تھیں اور کسی ایمرجنسی کے تحت ناگزیر صورت حال میں ہی ان کا استعمال جائز قرار دیا گیا تھا مگر پیشہ ور افراد نے ان دواؤں کا ناجائز استعمال شروع کردیا، ایسی ادویات کے لیے میڈیکل سائنس میں اسٹریو رائیڈ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے، تمام پین کلر، درد میں فوری افاقہ لانے والی دوائیں اسی ذیل میں آتی ہیں، تمام مسکن ادویات جن کے استعمال سے مریض فوری طور پر نیند کی آغوش میں پہنچ کر اپنی تکالیف کو فراموش کر بیٹھتا ہے، ایسی ہی ہیں اور آج کے دور میں کارٹی زون نے بھی اس حوالے سے بہت شہرت پائی ہے، اس کے بارے میں ہر اچھا ڈاکٹر جانتا ہے کہ اس کا زیادہ استعمال نہایت مضر صحت اور خطرناک ہے لیکن اپنی پریکٹس کو چمکانے اور دواخانے کی آمدن بڑھانے کے لیے بعض غیر مخلص اور ہوس زر میں مبتلا ڈاکٹر اسے بے دریغ استعمال کرتے ہیں، مریض بھی خوش خوش گھر چلا جاتا ہے کہ اسے فوری آرام مل گیا۔
ایسی دواؤں کا ایک اور استعمال نہایت خطرناک صورت میں سامنے آیا ہے اور وہ ہر مرض کی پیٹنٹ ادویات بناکر اشتہارات کے بل بوتے پر دوائیں فروخت کرنے والی کمپنیوں نے متعارف کرایا ہے، یہ کمپنیاں بھی صرف اسی وجہ سے کہ پہلی ہی خوراک مریض پر اثر دکھا دے اور وہ ان کی پیش کردہ پروڈکٹ کے دام میں پھنس جائے اس طرح اصل بیماری قائم رہتی ہے ، صرف کچھ عرصے کے لیے یا کچھ وقفے کے لیے مریض کو تکلیف سے نجات مل جاتی ہے، کارٹی زون کے بارے میں تو یہ بات بھی تجربے میں آئی کہ جو مریض اس کا عادی ہوجائے پھر اس پر کوئی اور دوا اثر نہیں کرتی، اسے صرف کارٹی زون ہی سے آرام آئے گا مگر بالآخر یہ مریض کو قبر تک پہنچا کر ہی دم لیتی ہے، یہی صورت حال اینٹی بایوٹک ادویات کے بے تحاشا اور اندھا دھند استعمال کی ہے،مشہور میڈیسن ڈیلٹا کارٹیئل میں کارٹی زون موجود ہے۔
کچھ عرصہ پہلی کی بات ہے حیدرآباد میں کوئی صاحب چینی کی پڑیا بانٹ رہے تھے اور دعویٰ یہ تھا کہ اس سے شوگر کا مرض ختم ہوجاتا ہے، لوگ جوق در جوق چینی لینے حیدرآباد جارہے تھے،ہمارے بھی چند واقف وہ چینی استعمال کرچکے ہیں، ایک صاحب نے پوچھنے پر بتایا کہ پڑیا کھانے کے فوراً بعد شوگر نارمل ہوجاتی تھی مگر بعد میں پھر شوگر بڑھ گئی، یہ شعبدہ بھی ایسی ہی ادویات کے استعمال کا نتیجہ تھا جو چینی میں ملادی جاتی تھیں۔
ایک مشہور بوٹی ’’گڑمار‘‘ کہلاتی ہے، اس کے پتے چبانے کے بعد اگر آپ کوئی میٹھی چیز کھائیں تو پھیکی معلوم ہوگی، اس کا سفوف یا جو شاندہ وغیرہ فوراً شوگر کو کم کرتا ہے، طب یونانی میں یہ شوگر کے علاج میں بھی استعمال ہوتی ہے مگر یہ شوگر کا مستقبل علاج نہیں ہے، ہومیو پیتھی میں بھی اس بوٹی سے ایک دوا بنائی گئی ہے اور وہ بھی شوگر کو کنٹرول کرنے میں مددگار ہوتی ہے، الغرض ایسی تمام دوائیں جو مرض کی شدت کو عارضی طور پر کم کرکے مریض کو وقتی سکون پہنچاتی ہیں، اصطلاحاً ’’اسٹریو رائیڈز‘‘ کہلاتی ہیں، ان سے یہ توقع رکھنا فضول ہے کہ وہ مرض کو جڑ سے ختم کردیں لیکن لوگ اب اسی طریقہ علاج کو بہتر سمجھنے لگے ہیں اور اس کے عادی ہوچکے ہیں، اگر کسی معالج کی دوا فوری کوئی فائدہ نہ دکھائے تو وہ فوراً معالج بدلنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں لہٰذا پیشہ ور معالج بھی مجبور ہیں کہ مریض کو روکنے اور اپنے روزگار کو استحکام دینے کے لیے ایسے ہتھکنڈوں کا سہارا لیں۔
بخار ایک عام مرض ہے اور اس کی بہت سی قسمیں ہیں جن میں سے بعض نہایت خطرناک ہیں اور اس کو فوراً اتارنا خطرناک تصور کیا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں بہتر یہی سمجھا جاتا ہے کہ اس کا زور فوراً توڑ دیا جائے، ہم نے دیکھ اہے کہ اکثر چھوتے بچے کم عمری میں جب بخار کا شکار ہوتے ہیں تو ماں باپ محبت سے مجبور ہوکر کسی فوری زود اثر علاج کی طرف رجوع کرتے ہیں اور عام ایلوپیتھ ڈاکٹر بھی ان کی بے چینی کو دیکھتے ہوئے فوراً اینٹی بائیوٹک ادویات کا سہارا لیتے ہیں، نتیجتاً بخار تو فوراً اتر جاتا ہے لیکن ایسے بچے بعد میں پولیو یا کسی مہلک بیماری کا شکار ہوکر ساری عمر معذوری میں گزارتے ہیں۔
اس تمام سمع خراشی کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ لوگوں میں علاج معالجے اور امراض کے سلسلے میں شعور اجاگر کیا جائے جو حقیقی شفا بخشی کے عمل کے لیے ضروری ہے، انہیں یہ بات سمجھ لینا چاہیے کہ پیچیدہ امراض کا علاج کسی ایک دوا سے صرف چند روز میں ممکن نہیں، حالاں کہ ایلوپیتھک علاج کے دوران میں اکثر بیماریوں میں مریضوں کو طویل عرصے تک اور بعض صورتوں میں عمر بھر دوائیں استعمال کرنا پڑتی ہیں اور پھر بھی صرف عارضی روک تھام ہی ہوسکتی ہے اور اس سلسلے میں وہ جو دوائیں مستقل استعمال کر رہے ہیں ان کے سائیڈ افیکٹ کچھ دیگر جسمانی اعضا کو نقصان پہنچا رہے ہیں، کچھ نئی بیماریاں جنم لے رہی ہیں تب بھی وہ اس بات پر راضی نہیں ہوتے کہ کسی دوسرے طریقہ علاج کو مستقل مزاجی سے آزمائیں اور اس راستے میں اگر کچھ تکلیفیں انہیں برداشت کرنا پڑتی ہیں تو تھوڑے دن کے لیے برداشت کرلیں، اس سلسلے میں خصوصاً لوگوں کو ہومیو پیتھی سے یہ شکایت نظر آتی ہے کہ وہ مرض کو بڑھاتی ہے اور یہ بات ناقابل برداشت ہے، اس اعتراض کا جائزہ لینے کے لیے دونوں طریقہ علاج کے بنیادی نظریات کو جاننا اور سمجھنا ضروری ہے۔
ایلو پیتھی اور طب یونانی یا آیورویدک طریقہ علاج ’’علاج بالضد‘‘ کہلاتے ہیں یعنی جسم کا جو حصہ بیماری سے متاثر ہوتا ہے، اس طریقہ علاج میں دواؤں کے ذریعے اس کو ہدف(ٹارگٹ) بنایا جاتا ہے یعنی جگر، معدہ، گردے یا کوئی بھی جسمانی عضو جو بیماری سے متاثر ہے اور مریض کے لیے وہ بیماری تکلیف و پریشانی کا سبب ہے تو صرف اس حصے کے علاج پر زور دیا جاتا ہے جب کہ ہومیو پیتھی کے نظریات اور طریقہ علاج اس کے بالکل برعکس ہیں۔
ہومیو پیتھی کو ’’علاج بالمثل‘‘ کہا جاتا ہے یعنی کسی مریض کا علاج ایسی دوا سے کیا جائے جس کے مسلسل استعمال سے ایک صحت مند آدمی ویسے ہی عارضے میں مبتلا ہوسکتا ہے جو اس دوا سے منسوب ہے ، مثلاً ’’گڑماربوٹی‘‘ کا خام شکل میں استعمال لبلبے کی خرابی کا سبب بن سکتا ہے اور انسان شوگر (ذیا بطیس) کی بیماری میں مبتلا ہوسکتا ہے تو اس کے علاج کے لیے گڑمار بوٹی ہی نہایت قلیل و لطیف مقدار میں استعمال کرائی جائے گی، اس نظریے کے تحت کسی مخصوص مرض یا جسمانی عضو کا علاج نہیں ہوتا بلکہ مکمل مریض کا علاج ہوتا ہے، یہی وہ نکتہ ہے جو شفا بخشی کے حقیقی اصولوں کی طرف رہنمائی کرتا ہے، وہ دوا جو صرف کسی ایک مرض کا علاج کرنے کے لیے دی جارہی ہے اور مزید چار نئے امراض پیدا کر رہی ہے، کسی صورت بھی مکمل شفا کے قانون پر پوری نہیں اترسکتی، ہاں وہ دوا جو مریض کے پورے ذہنی، جسمانی اور روحی سسٹم پر اثر انداز ہوکر اصلاح کے عمل کا آغاز کر رہی ہے، اس سے امید رکھی جاسکتی ہے کہ وہ مکمل شفا بخشی دے اور مزید کوئی نئی خرابی پیدا نہ ہونے دے، اپنے اس مشن کی تکمیل کے لیے اگر وہ جسم سے کچھ فاسد مادوں کے اخراج پر زور دیتی ہے اور اس کے نتیجے میں بخار مزید تیز ہوجاتا ہے، نزلہ بڑھ جاتا ہے، جسم پر جلدی امراض ظاہر ہوجاتے ہیں یا مریض کو اسہال شروع ہوجاتے ہیں تو یہ صحت مندی کی طرف جانے کی علامات ہیں، نہ یہ کہ گھبراکر علاج ہی چھوڑ دیا جائے اور ان فاسد مادوں کے اخراج کو روکنے کی کوشش کی جائے، یہاں یہ سوال اٹھایا جاسکتا ہے کہ ایسی کسی صورت میں جب بخار، موشن شدید ہوجائیں تو مریض کی جان کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے یا جسم پر پھوڑے پھنسی کی نمو اس کے لیے عذاب بن سکتی ہے یا کسی بھی مرض کے علاج میں مرض کی شدت بہر حال تکلیف دہ ہوتی ہے تو ہم یہ وضاحت کردیں کہ اگر کسی ہومیو پیتھک دوا کے استعمال سے ایسی صورت پیدا ہو تو وہ زیادہ عرصہ نہیں رہتی اور خطرناک ہر گز ثابت نہیں ہوتی، دوسری بات یہ کہ اسے پھر ہومیو پیتھک دوا ہی سے کنٹرول بھی کرلیا جاتا ہے، اس طرح کوئی مہلک مرض بالآخر اپنے انجام کو پہنچ جاتا ہے، یاد رکھیے کہ اصول یہی درست ہے کہ بیماری اندر سے باہر کی طرف آجائے نہ یہ کہ بیماری اندر ہی دب کر رہ جائے۔
جسمانی اعضاء کا علاج یا جسم مثالی کا علاج
اب تک کی گفتگو کا مقصد یہ ہے کہ عام قارئین کو صحیح صورت حال کا اندازہ ہوسکے، یہ اس لیے بھی ضروری تھا کہ عام اور سادہ بیماریوں اور خاص یا پیچیدہ بیماریوں کے علاج میں فرق کو سمجھا جاسکے، جب تک اس فرق کو نہیں سمجھا جائے گا، پیچیدہ بیماریوں پر قابو پانا مشکل ہوگا بلکہ یہ بیماریاں مزید مشکل اور بھیانک شکل اختیار کرتی رہیں گی اور لوگ سحرو جادو یا آسیب و جنات کے چکر میں گرفتار ہوتے رہیں گے۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جب کوئی معمولی سے معمولی بیماری بھی طویل عرصے تک انسان کے پیچھے لگی رہے اور ہر قسم کے علاج معالجے کے باوجود اس سے پیچھا نہ چھوٹے تو سادہ مزاج عام لوگ تو کجا، بڑے بڑے تعلیم یافتہ اور جہاں دیدہ افراد بھی الجھن میں پڑجاتے ہیں، ان کا ذہن فوراً کسی نادیدہ ماورائی اثر کی کار فرمائی کے بارے میں سوچنے لگتا ہے، یہی صورت حال اس وقت بھی ہوتی ہے جب انسان گردش وقت کا شکار ہوکر یا اپنی کوتاہیوں، حماقتوں وغیرہ کے سبب زوال پذیر ہوتا ہے اور اس کی بہتری کے لیے کیے گئے تمام اقدام بے کارو بے فیض ہوتے چلے جاتے ہیں لہٰذا وہ یہ سوچنے لگتا ہے کہ اس کی بدقسمتی اور ناکامیوں کا سبب یقیناً کوئی جادوئی یا ماورائی چکر ہے، ایسے موقع پر فوری طور سے وہ لوگ ذہن میں آنے لگتے ہیں جن سے کوئی پرانی چپقلش، محاذ آرائی وغیرہ موجود ہو یا کبھی کسی مسئلے پر ان سے کوئی بدمزگی وغیرہ ہوئی ہو، مزید سونے پر سہاگہ یہ کہ ان مفروضہ حریفوں میں کسی کو شوق عملیات و نقوش بھی ہو، یہ کام خواہ وہ اپنے ہی مسائل کے حل کے لیے کرتے یا کراتے ہوں لیکن شک و شبے کے معاملے میں سرفہرست وہی ہوتے ہیں۔
ہمارے ملک کے نام نہاد روحانی معالجین نے بھی اپنی پیشہ ورانہ مجبوریوں کے تحت مستقل طور پر یہ روش اپنالی ہے کہ ہ رپریشان حال یا ہر قسم کے بیمار پر سحروجادو، بندش و آسیبی اثر کا فتویٰ صادر کردیتے ہیں، ہمارے پاس آنے والے اکثر افراد اور ہمیں موصول ہونے والی بے شمار ڈاک سے ہمیں اس صورت حال کا پتا چلتا رہتا ہے کہ معاملہ خواہ کچھ بھی کیوں نہ ہو، نام نہاد روحانی معالج اسے بندش آسیب وغیرہ ہی قرار دیتے ہیں، اگر وہ ایسا نہ کریں تو پھر کیا کریں؟ روٹی تو کسی طور کما کھائے مچھندر، کیوں کہ میڈیکل سائنس سے وہ ناواقف، نفسیات اور مابعدالنفسیات کا انہیں کوئی علم نہیں، روحانیات کے نام پر ان کا مخصوص حلیہ اور ان کے زبانی دعوے کافی ہیں، ذرا سوچیے آج سے ڈیڑھ دو سو سال قبل اگر موجودہ دور کے سائنسی کمال پیش کیے جاتے تو کیا یہ ماہر روحانیات انہیں سحروجادو اور آسیب و جنات کے سوا کوئی اور نام دے سکتے تھے؟
جہاں علم نہ ہو اور عقل محدود ہوکر رہ جائے وہاں ایسے ہی معاملات سامنے آتے ہیں، بقول مولانا حسرت موہانی۔
خرد کا نام جنون رکھ دیاجنون کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
قصہ مختصر یہ کہ ننانوے فیصد آسیب و جنات اور سحروجادو کے کیسوں میں کم علمی اور ناقص العقلی کارفرما ہوتی ہے اور یہ کارفرمائی اکثر اوقات عجیب رنگ دکھاتی ہے یعنی ایک عام سی بیماری یا پریشانی کا معاملہ غلط تشخیص اور غلط علاج کے سبب بگڑتے بگڑتے واقعی آسیبی یا سحری ہوجاتا ہے، اس کی مثال یہ ہے کہ کسی ذہنی یا جسمانی مرض میں مبتلا مریض جو پہلے ہی اپنی ذہنی و جسمانی توانائی میں کمزوری کا شکار ہوتا چلا جارہا ہو، اسے جب روحانی علاج کے نام پر جھاڑ پھونک اور عملیات و تعویذات کے زیر اثر لانے کی کوشش کی جائے گی تو وہ ان کے زیر اثر آجائے گا، اب اگر اس پر سحری اثرات نہیں تھے تو ہوگئے، ہم نے ہومیو پیتھک طریقہ علاج کے حوالے سے ’’علاج بالمثل‘‘ کے اصول کی وضاحت کی تھی، اس اصول کی بنیاد یہی ہے کہ ایک صحت مند شخص جب ذہنی، روحی یا جسمانی طور پر کسی بیرونی مادی یا ماورائی شے کے زیر اثر آتا ہے تو اس کی روح یا جسم متاثر ہوکر ردعمل ظاہر کرتے ہیں، ہومیوپیتھی کے بانی ہنی مین نے اس حقیقت کا تجربہ سب سے پہلے اپنی ذلت پر کیا تھا، اسے معلوم تھا کہ کونین ملیریا کے علاج کے طور پر استعمال ہوتی ہے لہٰذا اس نے کونین کھانا شروع کردی، تھوڑے ہی دن میں اسے ملیریا ہوگیا یعنی اس کے جسم میں وہی علامات ظاہر ہونے لگیں جو ملیریا کے مریض میں ظاہر ہوتی ہے، یہ وہ پہلا تجربہ تھا جس نے علاج بالمثل یعنی ہومیو پیتھی کی بنیاد رکھی، اس کے بعد ہنی مین نے کونین ہی سے اپنا علاج کیا، اس کی ایک نہایت قلیل اور لطیف مقدار استعمال کرنا شروع کی، نتیجتاً وہ علامات ختم ہوگئیں جو کونین کی زیادہ مقدار ایک صحت مند جسم میں داخل ہونے سے پیدا ہوگئی تھیں۔
اس مثال سے قارئین نے سمجھ لیا ہوگا کہ اندھا دھند طریقوں پر علاج کے کیا نتائج سامنے آسکتے ہیں، آج ہمارے معاشرے میں پیچیدہ ترین بیماریوں کی بھرمار کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ مرض کی صحیح تشخیص نہیں ہوپاتی اور اس کا غلط علاج شروع کردیا جاتا ہے اور ایسا خصوصاً عطائی ڈاکٹروں، نیم حکیموں اور نام نہاد روحانی معالجین کی ہوس زر کی وجہ سے ہوتا ہے۔
جہاں تک مادی طریقہ علاج کا تعلق ہے اس سے متعلق مسائل کا ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں لیکن روحانی علاج معالجے کا معاملہ نہایت نازک ہے، اس کے لیے معالج کا علم نہایت وسیع ہونا ضروری ہے اور یہ وسعت صرف کسی ایک علم تک محدود ہو ناکافی نہیں، ہمارے ہاں تو رواج ہوگیا ہے کہ روحانی معالج کی قابلیت اور علمیت کے بارے میں کسی چھان پھٹک کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جاتی، صرف ان کے دعوؤں کی بنیاد پر لوگ ان کے ٹھکانوں کی طرف دوڑ پڑتے ہیں، جیسا کہ ہم نے حیدرآباد میں چینی کی پڑیا والا واقعہ بیان کیا ہے یا پھر صرف اس بات پر اطمینان کرلیا جاتا ہے کہ معالج صاحب نمازی پرہیزگار اور بزرگ صورت ہیں، ہمیں اس سے انکار نہیں کہ اللہ کے نیک بندے روحانی قوتوں سے سرفراز ہوتے ہیں، جن کی زبان میں اثر ہوتا ہے، شیطانی قوتیں ان کے سامنے نہیں ٹک سکتیں مگر جہاں مسئلہ خود انسان کے اپنے اعمال بداور غلط کاریوں سے یا معاشرتی خرابیوں سے، ذہنی اور نفسیاتی پیچیدگیوں سے وجود میں آیا ہو اور اتنا پیچیدہ ہوچکا ہو کہ خود انسان کے شیطان بننے کے آثار پیدا ہوچکے ہوں، وہاں عام قسم کی روحانی قوتیں کیا کریں گی؟ موجودہ دور میں ولی کامل ہونے کے دعوے دار تو بہت ہیں مگر حقیقی ولی کامل کوئی نظر نہیں آتا لہٰذا یہ توقع رکھنا فضول بات ہوگی کہ کوئی ولی کامل مل جائے اور پلک جھپکتے میں سارے مسائل حل کردے، ہر بیماری کا علاج کردے۔
بات کہاں سے کہاں نکل گئی لیکن اس طرح کے موضوعات میں اس طرح تو ہوتا ہے، ہم اپنے اس مؤقف کا اظہار کرچکے ہیں کہ تمام مروجہ طریقہ علاج جو علاج بالضد کے اصول پر کام کرتے ہیں، پیچیدہ بیماریوں کے علاج میں ناکام ہیں۔(پیچیدہ بیماریوں میں سحری اور آسیبی امراض شامل ہیں) لیکن وہ طریقہ علاج جو علاج بالمثل کے اصول پر قائم ہوں صرف ان ہی سے حقیقی شفا بخشی کی امید رکھی جاسکتی ہے، ایسے طریقہء علاج صرف وہی ہوسکتے ہیں جو فطرت کے اصولوں سے ہم آہنگ ہوں اور انسانی تخلیق کے فارمولے کو مدنظر رکھتے ہوئے مرتب کیے گئے ہوں، اس سلسلے میں سرفہرست پیراسائیکالوجی کی مختلف شاخیں اور ہومیو پیتھک طریقہ علاج ہے۔
پیرا سائیکالوجی کے حوالے سے ہم گزشتہ سالوں میں وقتاً فوقتاً بہت کچھ لکھتے رہے ہیں اور ہومیو پیتھی کے حوالے سے بھی مختصراً اظہار خیال کیا ہے، ہمارے قارئین کے ذہن میں سوال ضرور ابھرتا ہوگا کہ ہم پیراسائیکالوجی کے بعد ہومیوپیتھی کو کیوں اتنی اہمیت دیتے ہیں لہٰذا اس کی تھوڑی سی وضاحت کردی جائے۔
روحانی سائنس کا ہر طالب علم یہ بات جانتا ہے کہ انسان کا جسم براہ راست مرض کا شکار نہیں ہوتا بلکہ کسی بھی خرابی کی ابتدا سب سے پہلے اس کے ہمزاد یا جسم مثالی سے ہوتی ہے اور اس کا ظہور انسانی جسم پر ہوتا ہے لہٰذا پیراسائیکالوجی بنیادی طور پر انسان کے جسم مثالی کی اصلاح پر توجہ دیتی ہے۔ اگر جسم مثالی کی خرابیوں کو دور کردیا جائے تو ہر قسم کے جسمانی عارضے خود بخود ختم ہوجاتے ہیں، اس سلسلے میں پیراسائیکولوجی کے اپنے اصول و قواعد ہیں جن کے تحت علاج معالجے کے بے شمار طریقے موجود ہیں، ہومیو پیتھی کے بنیادی اصول اور ہومیو پیتھک دوا کی لطافت ہمارے نزدیک وہ اہم حقیقت ہے جس پر غوروفکر ضروری ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ انسان کا جسم مثالی کوئی مادی شے نہیں ہے اور غیر مادی شے پر مادی شے مؤثر نہیں ہوسکتی ، جسم مثالی کی لطافت کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری ہے کہ لطیف ترین طریقہ علاج اپنایا جائے جو پیراسائیکولوجی کے بعد ہومیو پیتھی ہی ہے، خیال رہے کہ ہم کلر تھراپی کو بھی پیراسائیکولوجی کی ایک شاخ تصور کرتے ہیں۔
ہومیو پیتھک دوا اونچی طاقت میں اپنا مادی وجود کھودیتی ہے، صرف اس کا روحی اثر باقی رہتا ہے،ا س کی یہی لطیف ترین شکل ہمارے جسم مثالی یا ہمزاد پر مؤثر ہوسکتی ہے اور اس میں پیدا شدہ خرابی کو دور کرسکتی ہے۔

ہفتہ، 3 مارچ، 2018

پیچیدہ امراض کے علاج معالجے کا مشاہداتی جائزہ

معاشرتی وہم و گمان کی کرشمہ سازیاں، شرف زہرہ کے مزید مؤثر اوقات
اکثر خطوط، ای میلز یا فون پر لوگ جب اپنے مسائل کے بارے میں بات کرتے ہیں تو اکثریت کا دل و دماغ کسی پراسرار گتھی میں الجھا ہوا نظر آتا ہے،وہ ہمیں یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ کوئی نہایت پراسرار قسم کا معاملہ ہے جو کسی طرح بھی قابو میں نہیں آتا، وہ ہر طرح کا علاج معالجہ کرچکے ہیں لیکن ہمیشہ ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، جسمانی بیماریاں ہوں یا معاشی مسائل ، ازدواجی الجھنیں ، شادی میں تاخیر کے معاملات ، دو افراد کے درمیان ناچاقی، طلاق، کاروبار میں نقصان، الغرض کوئی بھی مسئلہ ہو، لوگ بالآخر اسے کسی نہ کسی جادو ٹونے یا آسیب و جنات سے جوڑ لیتے ہیں، مزید یہ کہ اس حوالے سے ان کے شبہے کو تقویت دینے والوں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے، ہمارے نام نہاد پیر فقیر اور عامل کامل ان کے یقین کو مزید مضبوط کردیتے ہیں۔
گزشتہ دنوں بھی پاکستان اور بیرون ملک سے کچھ اسی نوعیت کے خطوط اور ای میلز ہمیں ملے ہیں اور تقریباً سب کا یہی خیال ہے کہ وہ کسی آسیبی چکر میں پھنسے ہوئے ہیں یا پھر ان کے دشمن ان کے خلاف کوئی تعویذ یا عمل کراتے ہیں ، حالاں کہ ان تمام کیسز میں ایک کیس بھی ایسا نہیں تھا جس میں کسی آسیب یا جادو کی کارفرمائی نظر آئے اور تقریباً سب ہی یہ بھی بتارہے ہیں کہ فلاں اور فلاں اور فلاں نے کہا ہے کہ آپ پر بڑی سخت بندش کی گئی ہے یا آپ کے گھر میں آسیبی اثرات ہیں وغیرہ وغیرہ۔
آج کی نشست میں اسی صورت احوال پر گفتگو ہوگی اور اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ اگر کہیں واقعی آسیب و جنات یا سحروجادو کا معاملہ ہے بھی تو وہ باآسانی پاکیزگی اور کلام الٰہی کی برکت سے ختم ہوجاتا ہے لیکن اس کے برعکس نفسیاتی یا دیگر جسمانی امراض کے سبب اگر کوئی پیچیدگی پیدا ہوگئی ہو تو پھر ان طریقوں سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا جاسکے گا، بلکہ اس صورت میں ضروری ہوگا کہ مریض کی پوری کیس ہسٹری کا جائزہ لے کر مرض کے اصل سبب کو جاننے کی کوشش کی جائے لیکن نہایت افسوس ناک بات یہ ہے کہ مریض عموماً خود تو اس پوزیشن میں نہیں ہوتا کہ معالج سے بھرپور تعاون کرے لیکن مریض کے لواحقین بھی اس سلسلے میں وہ تعاون نہیں کرتے جو انہیں کرنا چاہیے اور اس کی سب سے بڑی وجہ وہ جہالت آمیز تصورات اور نظریات ہیں جو جنات، آسیب، بدارواح اور سحرو جادو کے حوالے سے پھیل گئے ہیں۔
ان نظریات و تصورات کے تحت جہاں لوگ ہر قسم کی پیچیدہ بیماری کو خواہ وہ نفسیاتی ہوں یا جسمانی، سحروآسیب کی کار گزاری سمجھنے لگتے ہیں وہیں ان کے علاج کے سلسلے میں بھی وہ یہ توقع رکھتے ہیں کہ بس کوئی پھونک مار دے اور مریض اچھا ہوجائے یا کہیں سے کوئی ایسا نقش، تعویذ یا طریقہ مل جائے جو چند دنوں میں مریض کو صحت یاب کردے، حد یہ کہ اپنی نا اہلی، نالائقی ، کاہلی، سستی، بے ہنری، بے علمی یا حالات و وقت کی گردش کے سبب پیدا ہونے والی بدحالی، مفلسی، بے روزگاری الغرض ہر قسم کے اقتصادی اور معاشرتی مسائل کی زیادتی کو بھی جب سحروجادو اور آسیب و جنات کی کارروائی قرار دیا جاتا ہے تب بھی یہی توقع کی جاتی ہے کہ بس کہیں سے کوئی ایسی شے مل جائے جو چند دنوں میں ہمارے حالات بدل کر رکھ دے جب کہ یہ ممکن نہیں ہوتا۔
فطرت کے قوانین اپنی جگہ اٹل ہیں، ان کا اطلاق سب پر یکساں ہوتا ہے، فطری قوانین کے تحت ہی تعمیر اور تخریب کا عمل انجام پاتا ہے ، یہ ممکن نہیں ہے کہ جو عمارت ایک سال میں تعمیر ہوسکتی ہو اسے ایک دن میں تعمیر کرلیا جائے، اگر ایسا کرنے کی کوشش کی گئی تو عمارت ناپائیدار، نقصان دہ ثابت ہوگی مگر کیا کیا جائے کہ لوگ آج بھی کرامات اور معجزوں کی تلاش میں رہتے ہیں جب کہ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ کرامات اور معجزے بھی قوانین اور فطرت کے پابند ہیں یعنی ان کے ظہور کے لیے فطرت نے کچھ شرائط مقرر کردیں اور ہر جگہ ہر معاملے میں ان کا اطلاق ممکن نہیں، انبیاء ہوں یا اولیاء سب قوانین فطرت کے پابند ہوتے ہیں اور معجزوں یا کرامات کا ظہور ان کی ذات سے انتہائی خاص مواقع پر ہی منسوب ہوا ہے، انبیاء کو معجزاتی صفت دین کی سربلندی اور اللہ کی وحدانیت اور بڑائی کے مشن کے لیے تفویض کی گئیں، یہی صورت اولیاء کرام کے ساتھ رہی ان کی ذات سے بھی کرامات کا ظہور صرف اس صورت میں ہوا جب وہ اللہ کے دین کی نشرواشاعت کے کام میں مصروف ہوئے، اپنی ذات اور اپنے مسائل کے حل کے لیے ان صفات کو کبھی استعمال نہیں کیا گیا، اہل تصوف میں اس ولی کا درجہ کم تر مانا گیا ہے جس کی ذات سے کرامات کا اظہار (یعنی خوارق عادات کا ظہور) جاوبے جا وقتاً فوقتاً کثرت سے ہوتا رہے اور اس میں ولی کے ارادے کو بھی دخل ہو، ایسا عموماً اس وقت ہوتا ہے جب کوئی راہ سلوک کا مسافر ابتدائی منازل میں ہوتا ہے، اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی زیادہ پی کر بہکنے لگے، کوئی پیمانہ لبریز ہوکر چھلکنے لگے، ایسے مرحلوں میں مرشد کامل کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ورنہ اکثر غلط راہ پر پڑ کر ذہنی توازن بھی کھو بیٹھتے ہیں یا شیطان کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔
انبیاء اور اولیاء کے حالات و واقعات کا بغور مطالعہ کیا جائے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ان کی اور ان کے عزیزو اقرباء کی ذاتی زندگیاں مادی مسائل اور پریشانیوں سے لبریز رہی ہیں اور ان کے حل کے لیے انہوں نے کبھی اپنی ان قوتوں کو استعمال نہیں کیا جو کائنات میں تصرف کے لیے انہیں حاصل ہوتی ہیں، اسی طرح حاجت مندوں کی حاجت روائی میں بھی ’’خوارق عادات‘‘ کا ظہور انتہائی خاص خاص مواقع پر ہی نظر آتا ہے اور پھر اس کے نتیجے میں ہم دیکھتے ہیں کہ بالآخر کوئی بہت بڑی آفاقی مصلحت پوشیدہ ہوتی ہے، بات کہاں سے کہاں نکل گئی، یہی موضوع چلتا رہا تو ہم اپنے اصل موضوع سے ہٹ جائیں گے لہٰذا واپس اصل موضوع کی طرف آئیے۔
ہوتا یوں ہے کہ جب ہم کسی بیماری کے علاج معلاجے میں مستقل ناکام ہوتے رہتے ہیں تو پھر ذہن فوراً کسی نادیدہ پراسرار قوت کی مداخلت کی طرف چلا جاتا ہے، میڈیکل سائنس اور دیگر جدید علوم سے ناواقفیت کے سبب ہمیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ہم برسوں جن معالجین کے زیر علاج رہے انہوں نے ہمارا علاج درست کیا یا غلط؟ یا وہ ہمارے مرض کی صحیح تشخیص بھی کرسکے یا نہیں لہٰذا مہینوں برسوں کے مختلف علاج معالجوں کے بعد آخر انسان یہی سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ اس کی بیماری کسی ماورائی نوعیت کی ہے جو اتنے بڑے بڑے ڈاکٹروں کے قابو میں نہیں آرہی۔
بدقسمتی سے ہمارے ملک میں عام علاج معالجے کی صورت حال بھی نہایت ناقص اور خراب ہوچکی ہے، اول تو اعلیٰ درجے کے مخلص معالجین کی شدید قلت ہے اور جو ہیں ان کی حد سے بڑھی ہوئی مصروفیات اور کمرشل تقاضے انہیں اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ کسی پیچیدہ کیس پر اپنے مقررہ وقت سے زیادہ وقت صرف کرسکیں، ایسی صورت میں وہ خود معاشی پریشانیوں کا شکار ہوسکتے ہیں، یہ صورت حال عام مادی پریشانیوں کے حوالے سے ہے، نفسیاتی اور روحانی امراض کا ذکر تو چھوڑیے کیوں کہ یہ وہ شعبہ ہے جو ہمارے ملک میں انتہائی غریب اور ضعیف ہے، اس شعبے میں تحقیقاتی کام کسی بڑے ادارے کی نگرانی میں باضابطہ طور پر نہ ہونے کے برابر ہے، البتہ انفرادی طور پر ضرور کچھ مخلص افراد کام کرتے رہے ہیں۔
نفسیاتی علاج معالجے کے حوالے سے ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ وہ لگے بندھے اصول پر جاری ہے جس کی وجہ سے نفسیاتی مریض عارضی طور پر پرسکون ضرور ہوجاتا ہے مگر مکمل طور پر شفایاب نہیں ہوتا اور ماہرین نفسیات اس سے صاف طور پر کہہ دیتے ہیں کہ دوائیں تو آپ کو عمر بھر کھانا پڑیں گی پھر طویل عرصے تک ان دونوں کے استعمال سے جو دیگر عوارض جنم لیتے ہیں وہ مریض کو کسی کام کا نہیں رہنے دیتے، سب سے پہلے تو اس کا دماغ ہی متاثر ہوتا ہے اور پھر دیگر اعضائے جسمانی کی کارکردگی بھی وہ نہیں رہتی جو ہونا چاہیے، یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں نفسیاتی علاج معالجہ اتنا مہنگا ہے کہ عام آدمی خصوصاً غریب آدمی اس کے اخراجات زیادہ دن برداشت ہی نہیں کرسکتا پھر ڈاکٹر کا یہ کہنا بھی اسے اس علاج سے بے زار کردیتا ہے کہ ’’دوائیں تو آپ کو عمر بھر کھانا پڑیں گی‘‘۔
ہمارے پاس ایسے لوگ آتے ہیں جو دس دس پندرہ پندرہ سال سے ڈاکٹروں کی تجویز کردہ دوائیں استعمال کر رہے ہیں اور اب ان دواؤں کے بغیر نہیں رہ سکتے بلکہ وہ دوائیں ان کی ایسی ضرورت بن چکی ہیں جیسے ایک ہیروئنچی کی ضرورت ہیروئن یعنی وہ دوا نہ لیں تو جسم اس کی طلب شدت سے کرتا ہے، ہسٹیریا، مرگی، شیزوفرینیا وغیرہ کے مریضوں کے نفسیاتی علاج میں بھی یہی صورت مشاہدے میں آرہی ہے اور کسی ایک مریض کو بھی ہم نے شفایاب ہوتے نہیں دیکھا بلکہ روز بروز اس کی حالت کو بد سے بدتر ہوتے ہی دیکھا۔
نفسیاتی علاج کی مہنگائی اور عارضی فوائد کی وجہ سے لوگ روحانی علاج کی طرف رجوع کرتے ہیں، روحانی علاج معالجے اور روحانی معالجین کا حال مزید خراب ہے، اس شعبے میں نہ باقاعدہ تعلیم و تربیت کا رواج ہے اور نہ ہی کوئی تحقیق کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے، اس شعبے سے وابستہ اکثر معالجین کی اپنی علمی و روحانی حیثیت ہی مشکوک ہوتی ہے، روحانی کا ذکر تو چھوڑیے اکثر معالجین دنیاوی علوم ہی سے نابلد نظر آتے ہیں، مخصوص گیٹ اپ کے ساتھ کلام الٰہی سے علاج کا نعرہ ایسے معالجین کی شناخت بن گیا ہے، کلام الٰہی سے انہیں صرف اتنی ہی واقفیت ہوتی ہے جتنی ہر قرآن پڑھے ہوئے مسلمان کو یا بازار میں دستیاب قرآنی اعمال و نقوش کی کتابوں سے جو کچھ معلومات حاصل ہوگئیں وہی عمر بھر کے لیے کافی ہیں، ایسے لوگ عموماً اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہمارا علم خاندانی ہے، سینہ گزٹ کی طرح سینہ بپہ سینہ چل رہا ہے لہٰذا اس پر کوئی علمی و تحقیقی گفتگو بھی نہیں ہوسکتی نہ ہی وہ عام لوگوں پر ظاہر کیا جاسکتا ہے، ایسے معالجین کی بھی دو قسمیں ہیں، ایک وہ جو مالی منفعت کے لیے یہ روپ بھرتے ہیں اور دوم وہ جن کا نعرہ ’’خدمت خلق فی سبیل اللہ‘‘ ہوتا ہے، دوسری قسم کے معالجین کسی سے کوئی معاوضہ نہیں لیتے، اس لیے زیادہ معتبر قرار دیے جاتے ہیں اور لوگ ان کی بات پر آنکھ بند کرکے یقین بھی کرلیتے ہیں ، یہ قسم دوم معاشرے میں زیادہ پائی جاتی ہے بلکہ ہر گھر اور محلے میں موجود ہے اور اپنی ناقص معلومات کے سبب خلق خدا کو سب سے زیادہ نقصان انہیں کے ذریعے پہنچتا ہے، اس میں شک نہیں کہ ان کے دم درود میں واقعی اثر ہوتا ہے مگر یہ مرض کی درست تشخیص نہیں کرسکتے بلکہ ہر مریض پر بندش، سحر، آسیب اور جنات کا فتویٰ لگاکر اسے چھو چھا کے کام پر لگادیتے ہیں، مرض خواہ کوئی بھی ہو اگر کلام الٰہی پڑھ کر کوئی عابد و زاہد شخص دم کرے یا کوئی پانی پڑھ کر دے یا نقش لکھ کر باندھے تو مریض کو عارضی ہی سہی، افاقہ و آرام تو ضرور محسوس ہوگا، اب اسے یہ یقین آجائے گا کہ اس کا مرض نفسیاتی یا جسمانی نہیں ہے بلکہ آسیبی یا ماورائی ہے اور یہ نظریہ بھی عام ہے کہ ایسی صورت میں علاج بھی روحانی یا ماورائی ہی ہوگا، بس یہیں سے معاملہ غلط ہوجاتا ہے، ہونا یہ چاہیے کہ پیچیدہ امراض کے علاج میں روحانی امداد کے ساتھ معقول مادی علاج پر بھی توجہ دی جائے اور اسے ترک نہ کیاجائے تو مکمل شفا تک پہنچنا ممکن ہوسکے گا۔
ایک بار ہم نے اپنے ایک ناکام کیس کا تذکرہ کیا تھا جو درحقیقت صرف اس لیے ناکام رہا کہ لڑکی کی ماں کی جہالت اور گھر کا ماحول اسے صحت مند نہیں ہونے دیتا تھا، وہ اصل میں مرگی کی مریضہ تھی لیکن اس کی ماں بضد تھی کہ یہ کسی جن کے زیر اثر ہے لہٰذا پابندی سے اس کا معقول علاج کرانے کے بجائے مختلف پیروں، عاملوں، کاملوں کے دروازوں کے چکر لگاتی رہتی تھی، دلچسپ بات یہ ہے کہ تقریباً پندرہ سال سے اس کا مختلف طریقوں پر علاج ہورہا تھا اور وہ ایلو پیتھک دوائیں جو مرگی کے مریض کو دی جاتی ہیں پابندی سے استعمال کر رہی تھی کیوں کہ ان دواؤں کے سہارے کے بغیر گزارہ ہی نہیں تھا مگر اس کھلی حقیقت کے باوجود اس کے ماں باپ کی آنکھیں کبھی نہیں کھلیں۔
ہمارے معاشرے میں ایسے مریضوں کی کوئی کمی نہیں ہے جو خود پر زبردستی کے جن بھوت اور آسیب چڑھائے پھر رہے ہیں یا اپنی دانست میں سحروجادو کا شکار ہیں، اس موضوع کی ابتدا ہی میں ہم عرض کرچکے ہیں کہ ہمیں جنات، آسیب، ہمزاد یا سحروجادو کی حقیقت سے انکار نہیں مگر ہماری ذاتی تحقیق و مشاہدہ یہ ہے کہ حقیقی آسیب زدہ یا سحر زدہ مریضوں کی تعداد صرف ایک فیصد ہے، 99 فیصد مریض جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں، اب یہ ایک علیحدہ موضوع ہے کہ یہ بھیانک اور لاعلاج، ساتھ ہی حیرت انگیز بیماریاں کس طرح جنم لیتی ہیں جنہیں ہمارے معاشرے میں جنات وغیرہ کے کھاتے میں ڈال کر روحانی علاج کے نام پر نت نئے تماشوں سے گزارا جاتا ہے۔
اس کے بعد وہ مریض موضوع بحث آنا ضروری ہیں جو ہر گز جنات، آسیب وغیرہ کے زیر اثر نہیں بلکہ اپنے فکروخیال کے جنات ہمزاد ہی پالے بیٹھے ہیں، ان مریضوں کا علاج زیادہ مشکل اور صبر آزما ہوتا ہے، جنات وغیرہ تو انسان کی ذرا سی سختی اور کلام الٰہی کے سامنے ایک منٹ بھی نہیں ٹھہر سکتے، وہ تو خود حضرت انسان سے خوف زدہ رہتے ہیں، یہ تو ہمارے اپنے پیدا کردہ جنات و شیاطین ہیں جن پر ہر کلام نرم و سخت بے اثر ہوجاتا ہے، انہیں ختم کرنے یا ان سے نجات پانے کے لیے اگر ہم خود تیار نہیں ہوں گے تو کبھی ان سے چھٹکارا نہیں مل سکے گا، آپ نے دیکھا ہوگا (ہم تو دیکھتے ہی رہتے ہیں) کہ ایسے مریض برسوں بیمار رہتے ہیں یعنی آسیب زدہ کہلاتے ہیں مگر ان کا جسمانی طور پر کچھ نہیں بگڑتا یعنی کوئی جن بھوت انہیں جان سے مارنے کی کوشش نہیں کرتا، وہ جسمانی طور پر خاصے چست اور توانا رہتے ہیں، کھانا پینا اور اپنی مرضی کے مطابق زندگی کے دیگر امور انجام دینا جاری رہتا ہے، اپنی مرضی کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں ہوتی، ایسی صورت میں فوراً دورہ پڑجاتا ہے جو کچھ دیر جاری رہ کر خود بخود ختم ہوجاتا ہے یا کچھ پڑھ کر دم وغیرہ کرنے سے بھی دور ہوجاتا ہے، اگر وہ بات جو دورے کا سبب بنی تھی دوبارہ نہ ہو تو پھر ٹھیک رہتے ہیں، اسی طرح عمر گزرتی رہتی ہے، یہاں ایسی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں جن میں وقت کے ساتھ ساتھ ایسے مریضوں کو لاحق ہونے والی بعض جسمانی بیماریوں اور دیگر تکالیف کا حوالہ دیا جاسکتا ہے تو یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے، بیماریاں اور جسمانی تکالیف ہر انسان کی زندگی کا حصہ ہیں، البتہ ایسے لوگوں میں ان کی زیادتی کے بہت سے اسباب ہیں جن میں سرفہرست توان کا غیر شادی شدہ ہونا ہی ہوتا ہے، انسان عورت ہو یا مرد اگر بلوغت کے بعد زندگی قدرتی تقاضوں سے دور رہے گی تو یہ فطرت سے جنگ ہوگی اور اس جنگ میں شکست در حقیقت انسان ہی کے حصے میں آئے گی، یوں سمجھ لیں کہ رات اللہ نے آرام کے لیے بنائی ہے، رات میں سونا، صبح جلدی اٹھنا، درست وقت پر کھانا پینا، دیگر حوائج ضروری سے فراغت پانا یعنی تمام جبلی تقاضوں کو پورا کرنا ہی ایک صحت مند زندگی کے لیے ضروری ہے ، اس کے برخلاف جو زندگی گزارتا ہے وہ فطری تقاضوں کو نظر انداز کرکے اپنے جسم و جاں کے ساتھ زیادتی کا مرتکب ہوتا ہے اور اس زیادتی کے نتائج بد بالآخر ذہنی و جسمانی طور پر ضرور ہوتے ہیں۔
اب ایسی مثالیں بھی سامنے آتی ہیں جن میں شادی کے بعد بھی ایسے مریض ٹھیک نہیں ہوتے یا شادی شدہ افراد کے ساتھ ایسے واقعات پیش آتے ہیں اور وہ کسی آسیبی چکر کا شکار ہوتے ہیں تو پہلی صورت میں ایسا تب ہی ہوتا ہے کہ شادی کے بعد بھی مریض یا مریضہ کی مرضی کے خلاف کوئی صورت حال موجود ہو اور شادی شدہ کی اپنی ازدواجی زندگی کے دوران میں کوئی ذہنی و نفسیاتی بیج پڑگیا ہو، ایسے تمام آسیب زدہ شہرہ آفاق ماہر نفسیات سگمنڈ فرائڈ کے نظریے کے مطابق تو اَنا گزیدہ ہیں یعنی ان کی انا شدید طور پر مجروح ہوئی ہے اور پھر انہیں احتجاج یا جوابی کارروائی کی توفیق بھی نہ ہوسکی، انہوں نے اپنے دل و دماغ میں اپنی روح میں برپا ہونے والے غم و غصے کے طوفان کو دبالیا، بس پھر یہی طوفان جن یا آسیب کی شکل میں نمودار ہوکر پورے گھر یا خاندان کے لیے عذاب بن گیا یا خود آسیب زدہ کے لیے مصیبت بن گیا کیوں کہ ہم نے ایسی دونوں صورتیں دیکھی ہیں۔
ہسٹیریا، شیزوفرینیا، ڈپریشن اور مرگی وغیرہ کے حوالے سے ہم پہلے لکھ چکے ہیں، یہ بیماریاں ہمارے معاشرے میں بہت تیزی سے بڑھ رہی ہیں، خصوصاً ڈپریشن کے مریضوں کی تعداد روز بروز ترقی کر رہی ہے، اس کی وجہ ملک کے اقتصادی حالات ہیں جن کی وجہ سے ہر گھر مفلسی و تنگ دستی کا شکار ہوکر بڑھتی ہوئی مہنگائی کے بوجھ تلے دبا جارہا ہے، اس کے نتیجے میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی خواتین ہیں کیوں کہ ایک خوش حال معاشرے میں لڑکیوں کی شادی اور شادی کے بعد ازدواجی زندگی کی خوشیوں کا دارومدار ہی معاشی کشادگی سے وابستہ ہوتا ہے، بصورت دیگر وہ خواب بکھرنے لگتے ہیں جو برسوں سے آنکھیں دیکھ رہی تھیں، اس معاملے میں ہمارے ملکی اور غیر ملکی ٹی وی چینلز بھی انتہائی منفی کردار ادا کر رہے ہیں اور خواتین کے رسالے یا شو بزنس کے میگزین و اخبار کا کردار بھی ہر گز قابل تعریف نہیں، ذرائع ابلاغ کے یہ مراکز اپنے ڈراموں، کہانیوں وغیرہ میں عام زندگی کے جو رخ پیش کر رہے ہیں وہ ایک مخصوص طبقے کی عکاسی کرتے ہیں، یہ دولت مند طبقہ ملک کی پوری آبادی کے لیے آئیڈیل نہیں ہوسکتا لیکن ہر گھر میں ٹی وی موجود ہے، رسائل اور اخبار بھی پڑھے جاتے ہیں جن کے ذریعے معصوم اور کچے ذہن اپنی آنکھوں میں وہ ماحول بسا لیتے ہیں جو وہ ڈراموں، فلموں اور کہانیوں میں دیکھتے ہیں لیکن انہیں اپنی حقیقی زندگی میں وہ کہیں نظر نہیں آتا، ہاں اس کے خواب ضرور وہ دیکھنے لگتے ہیں، یہ خواب لاشعور کو آہستہ آہستہ پرورش کرتے رہتے ہیں اور اندر ہی اندر محرومیوں کا احساس پرورش پاتا رہتا ہے جو کسی بھی وقت کوئی بھی بہروپ دھار سکتا ہے۔
قصہ مختصر یہ کہ ہمارے نزدیک ایسے مریض زیادہ توجہ طلب ہیں اور ان کا علاج صرف جھاڑ پھونک، دعا تعویذ سے ممکن نہیں، ایلو پیتھک طریقہ علاج والے ایسے مریضوں کو ماہرین نفسیات کے حوالے کرتے ہیں، ماہرین نفسیات کے حوالے سے ہم لکھ چکے ہیں کہ وہ جو مکھی پہ مکھی مار رہے ہیں اس کے نتیجے میں ہم نے کسی مریض کو مکمل طور پر شفایاب ہوتے نہیں دیکھا، روحانی علاج کے مروجہ اصولوں پر بھی بات ہوچکی تو پھر اب کیا کیا جائے؟
طویل مشاہدے اور مطالعے کے بعد اور تجربات کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ صرف ہومیو پیتھی ہی وہ طریقہ علاج ہے جس کی مدد سے ایسے مریضوں کا شافی و کافی علاج ممکن ہے، ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ ہم ہومیو پیتھی کو مادی طریقہ علاج سے زیادہ روحی طریقہ علاج سمجھتے ہیں لیکن اس سلسلے میں بھی مزید تحقیق و تفتیش کی ضرورت ہے اور یہ کام سرکاری سرپرستی میں ہونا چاہیے، ہمارے ہاں موجود عام ہومیو پیتھ ناقص طریقہ تعلیم اور اعلیٰ درجے کی پریکٹس کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے پہلے ہی ہومیوپیتھی کی رسوائی کا سبب بن رہے ہیں اور جو اعلیٰ درجے کے ہومیو پیتھ موجود ہیں انہیں عام نوعیت کی مادی بیماریوں کے علاج ہی سے فرصت نہیں یا پھر ان کے پاس ایسے پیچیدہ کیسوں میں سر کھپانے کا حوصلہ ہی نہیں کہ آمدن کم اور کام زیادہ والا معاملہ ہوجاتا ہے، دوسری اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ مریضوں اور ان کے سرپرستوں میں ہومیوپیتھی کے حوالے سے غلط تصورات پیدا ہوگئے ہیں وہ اس طریقہ علاج کو بھی ایلو پیتھک طریقہ علاج کے تناطر میں دیکھتے ہیں۔
شرفِ زہرہ
شرف زہرہ کے سلسلے میں شرف کے وقت کی پہلے ہی نشان دہی کی جاچکی ہے اور یونانی علم نجوم کے مطابق یہ وقت 3 جون کو تھا، اس موقع پر اسم الٰہی العلی کا خصوصی نقش دیا گیا تھا جو خاص طور پر لڑکیوں کی شادی اور ازدواجی زندگی کے مسائل ، لوگوں میں مقبولیت ، شوہر سے محبت جیسے معاملات میں معاون و مددگار ہوتا ہے،وہ لوگ جنہوں نے 3 جون کے وقت سے فائدہ اٹھایا ، مبارک باد کے مستحق ہیں، اس وقت طلسم زہرہ کی انگوٹھی بھی تیار کی جاتی ہے اور لوح زہرہ نورانی یا لوح تسخیر بھی تیار ہوتی ہے،ضرورت مند اس سلسلے میں براہ راست رابطہ کرسکتے ہیں۔
ہم نے اپنے پچھلے کالم میں نشان دہی کی تھی کہ اگر ویدک سسٹم کے مطابق زہرہ کے باقوت اوقات میں یہ چیزیں تیار کی جائیں تو ہمارے تجربے کے مطابق زیادہ ذود اثر ثابت ہوتی ہیں، ممکن ہے ہماری بات سے روایتی طور طریقوں پر کاربند رہنے والے حضرات اتفاق نہ کریں لیکن ہم اپنا تجربہ بیان کرنے کا حق رکھتے ہیں، کوئی اس سے متفق ہو یا نہ ہو۔
علم نجوم ایک سائنس ہے اور اس سائنس کے دنیا میں دو اسکول آف تھاٹ ہیں، ایک کو نریانہ سسٹم کہا جاتا ہے اور دوسرے کو سیانہ ، دونوں سسٹم سے متعلق ماہرین اپنے اپنے سسٹم میں رہتے ہوئے علم نجوم کی پریکٹس کرتے ہیں اور مفید نتائج حاصل کرتے ہیں، ہمارے ملک میں اس سائنسی مسئلے کو ہندو مسلم مسئلہ بناکر بے جا اعتراضات کیے جاتے ہیں جو درست نہیں ہیں۔
اس بار ہم سیارہ زہرہ کے باقوت اور شرف یافتہ دیگر اوقات کی بھی نشان دہی کر رہے ہیں جو نریانہ سسٹم یعنی ویدک سسٹم کے مطابق ہیں، ہمیں امید ہے کہ جو لوگ ان اوقات سے کام لیں گے وہ ان کے بہترین نتائج خود ملاحظہ کریں گے۔
نریانہ سسٹم کے مطابق سیارہ زہرہ دو مارچ کو برج حوت میں داخل ہوا ہے اور تقریباً اس ماہ کے آخر تک اپنے شرف کے برج میں رہے گا، 6 مارچ کو یہ نہایت باقوت اثرات کا حامل ہوگا، اس روز کراچی لوکل ٹائم کے مطابق 12:25 pm سے 01:07 pm تک ایسا وقت ہوگا جس میں شرف زہرہ کا کوئی بھی کام کیا جائے تو نہایت مؤثر ثابت ہوگا، اس کے بعد 6 تاریخ ہی کو دوپہر 02:39 pm سے 03:24 pm تک مؤثر وقت ہوگا۔
اس ماہ میں ایسے اوقات مزید بھی نکالے جاسکتے ہیں، خیال رہے کہ نقش و طلسمات کی تیاری کا یہ طریقہ ہاؤس بیس سسٹم کہلاتا ہے اور دنیا بھر میں رائج ہے، پاکستان میں اس طریقے سے واقفیت رکھنے والے کم ہیں کیوں کہ زیادہ تعداد ایسے ہی لوگوں کی ہے جو لکیر کے فقیر اور چند کتابوں اور رسالوں سے نقل در نقل کے ذریعے کام چلاتے ہیں اور اپنے عامل و کامل ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں،اللہ بس باقی ہوس۔

ہفتہ، 24 فروری، 2018

مارچ کی فلکیاتی صورت حال،ایک دھماکہ خیز مہینہ

سینیٹ کے الیکشن سے عدلیہ کے فیصلوں تک ایک رنگا رنگ منظر نامہ 
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں وقت کی یہ تیز رفتاری خال خال ہی نظر آتی ہے، کوئی دن ایسا نہیں ہوتا جب کوئی چونکا دینے والی اہم خبر سامنے نہ آئے،شاید اس کی ایک وجہ عدلیہ کی حد سے بڑھی ہوئی فعالیت بھی ہے،چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے تو اپنی چھٹیاں بھی منسوخ کررکھی ہیں، وہ ہفتہ اور اتوار کو بھی مصروف عمل نظر آتے ہیں، اہم مقدمات کی کارروائی اور فیصلے خاصی تیز رفتاری سے جاری ہیں، جناب نواز شریف کو ایک بار پھر نااہلیت کے سبب پارٹی کی صدارت بھی چھوڑنا پڑی، فلکیاتی نقطہ نظر سے یہ صورت حال راہو کیتو کی پاکستان کے زائچے میں موجودہ پوزیشن کے باعث ہے،اس کے علاوہ زائچے کے دسویں گھر کا حاکم سیارہ زحل اب آٹھویں گھر میں آئندہ ڈھائی سال کے لیے آگیا ہے،اسی لیے ہم نے بہت پہلے کہا تھا کہ آنے والے سالوں میں حکمران حلقے سکون کا سانس نہیں لے سکیں گے،انہیں اپنی عزت بچانا مشکل ہوجائے گا، راہو کیتو چوں کہ زائچے کے تیسرے اور نویں گھر میں ہیں، تیسرا گھر پہل کاری اور ایکشن کا گھر ہے،نواں گھر آئین و قانون، عدلیہ اور الیکشن کمیشن کا ہے لہٰذا عدلیہ اور الیکشن کمیشن زیادہ فعال ہیں، یہ فعالیت تقریباً سارا سال جاری رہے گی اور مئی سے اس کی شدت میں مزید اضافہ ہوگا، لوگ یہ شکوہ کرنا بھول جائیں گے کہ فلاں کو کیوں پکڑا اور فلاں کو کیوں چھوڑ دیا، اس کی ابتدا اگرچہ ہوچکی ہے، نیب نے بیوروکریٹس اور سابقہ جرنلز کے خلاف بھی کارروائی شروع کردی ہے۔
ہمیں سب سے زیادہ تشویش اپنی سیاسی اشرافیہ کی جانب سے ہے جو ہمیشہ سے اس ملک میں اپنے غیر جمہوری رویوں کے لیے مشہور ہے،اس کی جمہوریت زبانی کلامی حد تک رہتی ہے، عملی طور پر ہمارے اکثر سیاست داں جب اقتدار میں آتے ہیں تو ڈکٹیٹر بننے کی کوشش شروع کردیتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ اب تاحیات اقتدار کا ہما ان کے سر پر بیٹھا رہے، مزید یہ کہ ان سے کوئی باز پرس بھی نہ کی جائے، ایسی صورت میں وہ ’’جمہوریت کے خلاف سازش ‘‘ کا نعرہ لگانا شروع کردیتے ہیں اور یہی تازہ صورت حال کا المیہ ہے،پاناما کیس کی لپیٹ میں آئی ہوئی شریف فیملی عدالتی کارروائی کو جمہوریت کے خلاف سازش قرار دے رہی ہے،حالاں کہ ملک میں جمہوری عمل جاری و ساری ہے۔
یہ بھی پاکستان کی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے کہ عدلیہ کی گرفت میں پھڑپھڑاتی ن لیگ وفاق ، پنجاب اور کشمیر میں برسر اقتدار ہے، ماضی میں ہمیشہ فوجی مداخلت ، مارشل لا یا ایمرجنسی وغیرہ کے ذریعے جمہوری حکومت کی بساط لپیٹ کر حکمرانوں کے خلاف کارروائی کی جاتی تھی، اس بار معاملہ برعکس ہے اور یہی سب سے زیادہ دلچسپ اور عبرت اثر صورت حال ہے، پاناما کا قدرتی میزائل پاکستان سے فائر نہیں ہوا لیکن کچھ پاکستانی اس بین الاقوامی میزائل کا نشانہ بن گئے، انہیں سوچنا چاہیے کہ ان کے کون سے گناہ قدرت کی نظر میں ناقابل معافی ٹھہرے ہیں ، علامہ اقبال فرماتے ہیں ؂ حذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریں۔
مارچ کے ستارے
سیارہ شمس دائرۂ بروج کے آخری برج حوت میں حرکت کر رہا ہے،20 مارچ کو برج حمل میں داخل ہوگا اور ایک نئے سالانہ چکر کا آغاز کرے گا،گویا 20 مارچ سے ایک نئے فلکیاتی سال کی ابتدا ہوگی، برج حمل میں شمس کو شرف کی قوت حاصل ہوتی ہے،8 اور 9 اپریل کو شمس شرف کے درجے پر پہنچے گا، ماہرین جفر اس وقت کا پورا سال انتظار کرتے ہیں، اس وقت میں عروج و ترقی ، عزت و وقار میں اضافہ اور گورنمنٹ ملازمت میں پروموشن وغیرہ کے لیے خصوصی نقش تیار کیے جاتے ہیں۔
سیارہ عطارد اپنے برج ہبوط میں حرکت کر رہا ہے،یہاں اس کی پوزیشن نہایت خراب خیال کی جاتی ہے،6 مارچ کو برج حمل میں داخل ہوگا، عطارد اور شمس کے درمیان فاصلے کی کمی اسے غروب کردیتی ہے،فروری میں بھی یہ غروب رہا اور مارچ کے پہلے ہفتے میں بھی غروب رہے گا،6 مارچ سے طلوع ہوگا۔
توازن اور ہم آہنگی کا ستارہ زہرہ گزشتہ سال ہی سے غروب چلا آرہا ہے،فروری کی 20 تاریخ سے طلوع ہوچکا ہے اور اپنے شرف کے برج حوت میں ہے،3 مارچ کو اپنے درجہ ء شرف پر ہوگا، 7 مارچ کو برج حمل میں داخل ہوگا اور پھر 31 مارچ کو اپنے ذاتی برج ثور میں چلا جائے گا۔
توانائی کا سیارہ مریخ برج قوس میں حرکت کر رہا ہے،17 مارچ سے اپنے شرف کے برج جدی میں داخل ہوگا، اس سال 9 مئی سے 11 مئی کے درمیان درجہ ء شرف پر ہوگا، سیارہ مشتری برج عقرب میں حرکت کررہا ہے،9 مارچ سے اسے رجعت ہوجائے گی،سیارہ زحل اپنے ذاتی برج جدی میں حرکت کرے گا، یورینس برج حمل میں، نیپچون برج حوت میں اور پلوٹو بھی برج جدی میں حرکت کرے گا، راس و ذنب بالترتیب برج اسد اور دلو میں رہیں گے،سیارگان کی یہ پوزیشن یونانی علم نجوم کے مطابق ہے۔
نظرات و اثراتِ سیارگان
مارچ کے مہینے میں سیارگان کے درمیان چار قرانات واقع ہوں گے جو خاصے اہم ہیں،اس کے ساتھ ہی تربیع کے 6 زاویے تشکیل پائیں گے جب کہ تسدیس کے دو اور تثلیث کے چار زاویے ہوں گے، مقابلے کی کوئی نظر نہیں ہے۔
ابتری اور انتشار کا مہینہ
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مارچ کا مہینہ خاصا دھماکہ خیز ثابت ہوگا کیوں کہ ابتدا ہی سے ایسے نظرات شروع ہورہے ہیں جو ابتری و انتشار، حادثات و سانحات کا سبب بنتے ہیں ، ایک ہی مہینے میں تربیع کے 6 زاویے شدید دباؤ لانے والے ثابت ہوسکتے ہیں، خاص طور پر پاکستان کے زائچے کے مطابق 15 فروری سے 15 مارچ تک کا وقت نت نئے خدشات کو ہوا دیتا ہوا نظر آتا ہے،چوں کہ کثرت سیارگان اس عرصے میں زائچے کے آٹھویں گھر میں ہوگی جو خانہ ء اموات و حادثات ہے،مزید یہ کہ نویں گھر سے بارھواں گھر ہے اور نویں گھر کا تعلق آئین و قانون، عدلیہ اور الیکشن کمیشن سے ہے،چناں چہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ 15 فروری کے بعد سے عدلیہ مخالف لہر مزید تیز ہورہی ہے،آئین و قانون کے حوالے سے نت نئے سوالات اٹھائے جارہے ہیں، ایسی قانون سازی کے ارادے ظاہر کیے جارہے ہیں جو عوامی مفاد کے بجائے انفرادی مفادات کے لیے ہوں ، یہ لہر 15 مارچ تک جاری رہے گی، آئیے مارچ کے سیاروی زاویوں پر ترتیب وار نظر ڈالتے ہیں۔
یکم مارچ: عطارد اور مریخ کے درمیان تربیع کا سخت اور نحس زاویہ مہینے کے آغاز ہی میں قائم ہورہا ہے،زائچہ ء پاکستان کے مطابق سیارہ مریخ خراب اثر دینے والا ستارہ ہے،جب کہ سیارہ عطارد کا تعلق میڈیا ، بچوں کے معاملات اور شعور سے ہے، اسٹاک مارکیٹ بھی اس کے زیر اثر ہے،مریخ اور عطارد کے درمیان اسکوائر کا زاویہ میڈیا کے منفی رویوں اور غیر ذمہ دارانہ سرگرمیوں میں اضافے کی نشان دہی کر رہا ہے،پاکستان کے پیدائشی زائچے میں سیارہ عطارد پر راہو کی نظر گزشتہ سال تقریباً نومبر سے جاری ہے کیوں کہ راہو اسٹیشنری پوزیشن میں ہے لہٰذا بچوں سے متعلق جرائم ، تعلیمی سسٹم سے متعلق امور ، میڈیا کی سرگرمیاں تاحال آؤٹ آف کنٹرول ہیں، اس صورت حال کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ کوے کو سفید اور قُمری کو کالا نہایت دیدہ دلیری سے کہا جارہا ہے، بہر حال مارچ کے بعد یہ صورت حال بھی تبدیل ہوجائے گی۔
اسی تاریخ کو عطارد اور پلوٹو کے درمیان تسدیس کا زاویہ قائم ہوگا، یہ بھی میڈیا کے جارحانہ کردار کی نشان دہی کرتا ہے،عام زندگی میں لوگوں کو دوسروں پر برتری حاصل کرنے کا جنون ہوسکتا ہے،بحث و مباحثے میں گرما گرمی نظر آئے گی، یکم مارچ ہی کو سیارہ زہرہ اور مشتری کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ قائم ہورہا ہے،یہ اس مہینے کی پہلی سعد نظر ہے اور سعد اکبر ہے،کاروباری معاملات میں بہتری لائے گی،لوگوں سے معاملات طے کرنے میں آسانی ہوگی،سرمایہ کاری کے لیے بھی موزوں وقت ہوگا۔
زہرہ اور مشتری کے درمیان تثلیث کا زاویہ بھی ایسا موقع ہے جس کا ماہرین جفر سال بھر انتظار کرتے ہیں، اس وقت میں مالی فوائد کے حصول کے لیے طلسم و نقوش تیار کیے جاتے ہیں خصوصاً انعامی اسکیموں میں کامیابی کے لیے۔
2 مارچ: عطارد اور مشتری کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ رکے ہوئے کاموں کو آگے بڑھانے میں مددگار ہوگا، ضروری معلومات کے حصول میں آسانی لائے گا، سفر سے متعلق مسائل اور رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد ملے گی، اسٹاک مارکیٹ کی پوزیشن بہتر ہوگی، شیئرز کا کاروبار فائدہ بخش ثابت ہوگا، یہ وقت انعامی اسکیموں میں حصہ لینے کے لیے بھی بہتر ہوگا، اس دوران میں عدلیہ کے اہم فیصلے بھی آنے کا امکان ہے۔
4 مارچ: نیپچون اور شمس کا قران ایک نحس زاویہ ہے،ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اعلی عہدوں پر فائز افراد غلطیاں کرتے ہیں جو بہت نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں، پاکستان میں کسی صاحب حیثیت یا صاحب عہدہ و مرتبہ شخصیت کو تنزلی یا رسوائی کا منہ دیکھنا پڑسکتا ہے،عام افراد کو اس دوران میں گورنمنٹ سے متعلق معاملات میں محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی، ان کی توقعات گورنمنٹ سے پوری نہ ہوسکیں گی۔
اسی تاریخ کو عطارد اور زہرہ کے درمیان قران کا سعد زاویہ قائم ہوگا، یہ زاویہ آرٹسٹک سرگرمیوں اور تخلیقی نوعیت کے کاموں میں معاون و مددگار ہے،فنکار اعلیٰ درجے کی کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں، شاعر و ادیب یا آرٹسٹ اپنے ٹیلنٹ کا عمدہ مظاہرہ کرسکتے ہیں، اس وقت میں دو افراد کے درمیان بہتر تعلقات یا تنازعات کو ختم کرنے کے لیے بات چیت کی جاسکتی ہے، کاروباری ترقی کے لیے پبلسٹی اس وقت مؤثر ثابت ہوگی۔
11 مارچ: عطارد اور زحل کے درمیان تربیع کا زاویہ تحریر و تقریر میں محتاط رہنے کا اشارہ دیتا ہے،دستاویزی کاموں میں بھی ہوشیاری کی ضرورت ہوگی، کسی ایگریمنٹ پر آنکھیں بند کرکے دستخط نہ کریں، پراپرٹی سے متعلق کاموں میں رکاوٹ آئے گی، اسی طرح سفر میں التوا یا مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔
اسی تاریخ کو مریخ اور یورینس کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ ٹیکنیکل اور الیکٹرونکس امور میں غیر معمولی کارکردگی کی نشان دہی کرتا ہے،نئی پروڈکٹس متعارف ہوسکتی ہیں، مشینری سے متعلق نئی معلومات کا حصول آسان ہوگا،یہ زاویہ غیر متوقع فوجی کارروائی کی بھی نشان دہی کرتا ہے۔
11 مارچ ہی کو شمس و پلوٹو کے درمیان تسدیس کا زاویہ جارحانہ رویوں کی نشان دہی کرتا ہے خصوصاً حکومت یا افسران بالا کی طرف سے ایسے اقدام ہوسکتے ہیں جو عوامی مفادات کے خلاف ہوں،اس وقت مہنگائی میں اضافہ لانے والے حکومتی اعلانات بھی سامنے آتے ہیں، عام آدمی کے لیے یہ نظر اہم نہیں ہے۔
13 مارچ: زہرہ اور مشتری کے درمیان تربیع کا زاویہ منفی اثرات کا حامل ہے،یہ وقت عدم تعاون لاتا ہے،عورت اور مرد کے درمیان تناؤ کی فضا پیدا ہوتی ہے،اس وقت مالی امور اور نئی سرمایہ کاری کرتے ہوئے محتاط رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
14 مارچ: شمس اور مشتری کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ نہایت اہم ہے،اس وقت گورنمنٹ سے فوائد کے حصول میں مدد ملتی ہے،مقدمات میں کامیابی کے لیے کوشش کرنی چاہیے،ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دینی چاہیے، حکومت کی طرف سے نئی قانون سازی کی جاسکتی ہے۔
شمس اور مشتری کے درمیان تثلیث کی نظر جفری عملیات میں نہایت اہم خیال کی جاتی ہے،اس وقت بھی عروج و ترقی اور عہدہ و مرتبہ میں اضافے کے لیے الواح و نقوش تیار ہوتے ہیں، دشمن پر غلبے کے لیے یا مقدمے میں کامیابی کے لیے بھی اس وقت کی سعادت سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔
20 مارچ: اس ماہ عطارد اور زہرہ کا قران دوسری بار ہورہا ہے،پہلی بار یہ قران برج حوت میں ہوا ہے،اس وقت عطارد ہبوط یافتہ تھا یعنی کمزور تھا، دوسری بار برج حمل میں ہوگا، گویا زہرہ اور عطارد کی پوزیشن بہتر ہوگی، یہ دوسرا قران زیادہ مؤثر اور طاقت ور ہوگا، چوں کہ قران برج حمل میں ہے لہٰذا کاروباری ترقی اور خصوصاً ٹیکنیکل امور میں کامیابی کی نشان دہی ہوگی، مکان کی کنسٹرکشن کے لیے نقشہ نویسی کرانا بہتر ہوگا یا مشینری سے متعلق کاموں میں بہتر نتائج حاصل ہوسکیں گے،تنازعات کو نمٹانے کے لیے بات چیت مفید ثابت ہوسکے گی۔
24 مارچ: زہرہ اور پلوٹو کے درمیان تربیع کا زاویہ خواتین کے ساتھ جارحانہ رویہ لاتا ہے،وہ ظلم و زیادتی کا شکار ہوتی ہیں، خواتین کو بھی اس دوران میں اپنے جذبات اور غصے پر قابو رکھنے کی ضرورت ہوگی۔
اسی تاریخ کو شمس اور مریخ کے درمیان اسکوائر کا زاویہ ہوگا، یہ زاویہ محاذ آرائی اور شدید نوعیت کے اختلافات کو بڑھاوا دیتا ہے،خصوصاً حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تنازعات جنم لیتے ہیں، عام افراد کو اس دوران میں صحت کے مسائل ، ہائی بلڈ پریشر کی شکایت، گورنمنٹ سے متعلق کاموں میں رکاوٹ یا نقصانات کا سامنا ہوتا ہے۔
28 مارچ: زہرہ اور یورینس کا قران اگرچہ ایک سعد نظر ہے لیکن کسی جلد بازی کی صورت میں نقصان دہ بھی ہوسکتی ہے،اس وقت جذبات پر کنٹرول ضروری ہے،خاص طور سے رومانی معاملات میں اس وقت فیصلے کرتے ہوئے محتاط رہنا چاہیے،چٹ منگنی اور پٹ بیاہ جیسی صورت حال پیدا ہوتی ہے،تفریحات اور دیگر رومانی دلچسپیوں کے لیے پرلطف وقت ہوتا ہے۔
29 مارچ: شمس اور زحل کے درمیان تربیع کا نحس ترین زاویہ قائم ہوگا، یہ زاویہ حکومت کے خلاف عوامی احتجاج کا باعث ہوسکتا ہے،حکومت کا نامناسب رویہ سامنے آتا ہے، بیوروکریسی اور وزرا اور امرا کے لیے ایک مشکل وقت ہوتا ہے،عام افراد کو اس دوران میں نئے کاموں کی ابتدا نہیں کرنی چاہیے خصوصاً پراپرٹی سے متعلق کاموں میں نقصان ، رکاوٹ وغیرہ کا امکان ہوتا ہے،ملک میں جاری تعمیری و ترقیاتی کام رک جاتے ہیں۔
قمر در عقرب
قمر اپنے برج ہبوط میں پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 5 مارچ کو 10:02 pm سے 11: 52pm تک رہے گا جب کہ جی ایم ٹی ٹائم کے مطابق 05:02 pm سے 06:52pm تک درجہ ء ہبوط پر ہوگا، اسی مناسبت سے دیگر ممالک اور شہروں کا فرق جمع یا تفریق کرکے اس وقت کو اپنے شہر کے وقت کے مطابق کیا جاسکتا ہے۔
قمر در عقرب کا وقت نہایت منحوس تصور کیا جاتا ہے،اس وقت میں کوئی نیا کام شروع کرنا بہتر نہیں ہوتا، ایسا کام کبھی فائدہ مند ثابت نہیں ہوتا، البتہ یہ وقت علاج معالجے اور دیگر بیماریوں سے نجات کے لیے یا بری عادتوں سے چھٹکارے کے لیے بہتر ہوگا، اس وقت سے متعلق خصوصی عملیات و نقوش ہم اکثر دیتے رہتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی عمل اس وقت کیا جاسکتا ہے، اس بار نظرِ بدسے حفاظت، حسد کرنے والوں اور بے جا مخالفت کرنے والوں سے نجات کے لیے ایک عمل دیا جارہا ہے۔
جب قمر در عقرب کا وقت شروع ہو تو آٹھ دانے کالی مرچ کے پاس رکھ کر ، باوضو قبلہ رُخ بیٹھ کر پہلے گیارہ بار درود شریف پڑھیں پھر ہر دانے پر سورۂ فلق کی آخری آیت 80 مرتبہ پڑھ کر دم کریں جو یہ ہے۔
مَن شرّ حاسِداً اِذَا حَسد
آخر میں گیارہ مرتبہ پھر درود شریف پڑھیں اور اپنے مخالفین اور دشمنوں کا تصور کریں اور ان کے چہرے پر تصور ہی میں پھونک ماردیں، بعد ازاں کالی مرچوں کو آگ میں ڈال دیں تاکہ وہ جل جائیں، انشاء اللہ کسی کا حسد یا مخالفت آپ کو نقصان نہیں پہنچائے گی اور آپ دوسروں کی نظر بد سے بھی محفوظ رہیں گے۔
شرف قمر
قمر اپنے شرف کے برج ثور میں درجہ ء شرف پر پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 20 مارچ 09:39 am سے 11:24 am تک رہے گا جب کہ جی ایم ٹی ٹائم کے مطابق 04:39 am سے 06:24 am تک شرف قمر ہوگا، یہ وقت سعد اور نیک کاموں کے لیے موافق ہے، اس وقت میں اسمائے الٰہی یا رحمن یا رحیم 556 مرتبہ اول آخر گیارہ بار درود شریف کے ساتھ پڑھ کر اپنے جائز مقاصد کے لیے دعا کرنا چاہیے چوں کہ یہ شرف قمر عروج ماہ میں اور رجب کی دو تاریخ کو ہوگا، مزید یہ کہ اسی روز تحویل آفتاب یعنی نوروز بھی ہے لہٰذا اس شرف قمر کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے،نوروز سے متعلق خصوصی دعا کا عمل آئندہ دیا جائے گا۔
اس وقت میں ایک دوسرا عمل بھی نہایت مؤثر اور مفید ثابت ہوسکتا ہے جو ہم پہلے بھی دیتے رہے ہیں یعنی گھریلو ناچاقی اور گھر کے افراد کے درمیان نااتفاقی اور فتنہ و فساد کو ختم کرنے کے لیے شرف قمر کے وقت میں 786 مرتبہ بسم اللہ الرحمن الرحیم اول آخر گیارہ بار درود شریف کے ساتھ پڑھیں اور کچھ چینی پر دم کرکے وہ چینی گھر میں استعمال ہونے والی چینی میں ملادیں تاکہ تمام افراد خانہ کے استعمال میں آئے، جب چینی ختم ہونے لگے تو اس میں مزید چینی ملالیا کریں، اسے ختم نہ ہونے دیں، انشاء اللہ اس عمل سے گھریلو فتنہ و فساد سے نجات ملے گی۔
تثلیثِ زہرہ و مشتری
زہرہ و مشتری کو سعد اکبر سیارگان تسلیم کیا جاتا ہے اور اس دوران میں ماہرین جفر انعامی اسکیموں میں کامیابی کے لیے نقش و طلسم تیار کرتے ہیں، اس کے علاوہ دو افراد کے درمیان محبت اور دوستی کے لیے بھی نقش تیار کیے جاتے ہیں، اس بار زہرہ و مشتری کے درمیان تثلیث کا زاویہ پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 28 فروری 2018 ء سے رات 08:42 pm پر شروع ہوگا، کامل نظر یکم مارچ 04:21 pm پر ہوگی، اس نظر کا خاتمہ 2 مارچ 11:58 am پر ہوگا۔
تثلیث زہرہ و مشتری کی خصوصی لوح یا انعامی اسکیموں میں کامیابی کے لیے خصوصی انگوٹھی جو لوگ تیار کرانا چاہیں وہ فوری طور پر رابطہ کرسکتے ہیں۔
تثلیث عطاردِ مشتری
سیارہ عطارد اور مشتری دونوں علم و دانش سے متعلق ہے،اس کے علاوہ تعلیمی امور میں بھی اس سعد نظر سے مدد مل جاتی ہے، کاروباری مقاصد میں بھی ترقی کے لیے یہ وقت بہتر ہوتا ہے،اس ماہ عطارد و مشتری کے درمیان تثلیث کے زاویے کی ابتدا 2 مارچ شام 06:05 pm سے ہوگی اور اس کا خاتمہ 3 مارچ صبح 07:08 am پر ہوگا۔
عزیزان من! یہ اوقات پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق ہیں، دیگر ممالک کے افراد اس وقت میں سے وہ فرق جمع یا تفریق کرلیں جو دونوں ممالک کے درمیان ہے، بے شمار لوگ ایسے مواقعوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، ان کی سہولت کے لیے وقت کی نشان دہی کی گئی ہے،وہ لوگ جو خود ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کی اہلیت نہیں رکھتے، وہ براہ راست رابطہ کرسکتے ہیں۔
عقل و دانش اور تعلیمی امور میں دلچسپی کے لیے لوح عطارد و مشتری یا خاتم عطارد اس وقت تیار کی جائے گی ، ضرورت مند وقت سے پہلے رابطہ کرکے اطلاع دیں۔
شرفِ زہرہ
اگرچہ شرف زہرہ کی نشان دہی پہلے کردی گئی تھی اور اس حوالے سے ایک اہم نقش بھی جو اسم الٰہی العلی کا تھا، دیا گیا تھا لیکن اب وقت قریب ہے لہٰذا ایک بار پھر یاد دہانی کے لیے شرف زہرہ کا وقت دوبارہ دیا جارہا ہے،سیارہ زہرہ کو برج ثور کے تین درجے پر شرف کی قوت حاصل ہوتی ہے،اس سال یہ وقت پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 3 مارچ 11:39 pm سے شروع ہوگا اور 4 مارچ شام 06:55pm تک رہے گا، اس عرصے میں سیارہ زہرہ کی ساعتیں کارآمد ہوں گی۔
3 مارچ کو غروب آفتاب کے بعد سے دوسرے دن غروب آفتاب تک رجال الغیب مغرب کی سمت ہوں گے لہٰذا نقش تیار کرتے ہوئے یا سیارہ زہرہ سے متعلق کوئی بھی عمل کرتے ہوئے اپنا رُخ مشرق کی جانب رکھیں یا شمال کی جانب۔
شادی میں تاخیر اور شادی کی خوشیاں
جیسا کہ پہلے بھی بتایا جاتا رہا ہے کہ سیارہ زہرہ کا تعلق خواتین سے ہے اور خواتین میں بھی کنواری لڑکیاں سیارہ زہرہ کے زیر اثر ہیں، اس کے علاوہ علم نجوم کے مطابق سیارہ زہرہ شادی اور ازدواجی زندگی کی خوشیوں سے متعلق ہے، اگر پیدائش کے زائچے میں سیارہ زہرہ کمزور ہو یا دیگر نحس اثرات سے متاثر ہورہا ہو تو شادی میں تاخیر اور شادی کے بعد ازدواجی زندگی میں مسائل اور ناخوشی لاتا ہے،اس اعتبار سے خواتین کی زندگی میں سیارہ زہرہ کی بہتر پوزیشن نہایت اہمیت کی حامل ہے،دوسری طرف اگر مرد حضرات کے زائچے میں زہرہ کی پوزیشن خراب ہو، ان کو بیوی کی طرف سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے،بیوی کی بیماری یا اس سے متعلق دیگر خرابیاں ان کی زندگی میں زہر گھولتی ہیں۔
زہرہ کی خرابی کو دور کرنے کے لیے موافق اسٹون ڈائمنڈ ہے جو عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہے،اگر ڈیڑھ کیرٹ وزن کا ڈائمنڈ دائیں ہاتھ کی رنگ فنگر میں کسی ایسے وقت پر پہنا دیا جائے جب سیارہ زہرہ باقوت پوزیشن رکھتا ہو تو زہرہ سے متعلق خرابیاں دور ہوجاتی ہیں، ڈائمنڈ کے بعد وہائٹ سفائر اور اوپل بھی اس معاملے میں فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔
اسم الٰہی العلی کا نقش جو ہم نے متعارف کرایا ہے، ہمارا تجربہ شدہ ہے، اس نقش کو چاندی کی گول لوح پر شرف کے وقت ساعت زہرہ میں کندہ کرکے کسی بھی نوچندے جمعہ کو صبح سورج نکلنے کے فوراً بعد پہن لینا چاہیے ، پہننے سے پہلے 110 مرتبہ اسم الٰہی یا علیُ پڑھ کر نقش پر دم کریں اور بعد ازاں روزانہ 110 مرتبہ اپنے ورد میں رکھیں تو انشاء اللہ مقصد حاصل ہوگا اور یہ نقش کسی دو تین لاکھ روپے کے ڈائمنڈ سے زیادہ مؤثر ثابت ہوگا۔
خاتم زہرہ
خاتم کے معنی انگوٹھی کے ہیں، شرف زہرہ کے موقع پر زہرہ کے طلسم کو انگوٹھی پر کندہ کیا جاتا ہے اور اس کے بعد مندرجہ بالا طریقے کے مطابق دائیں ہاتھ کی رنگ فنگر میں پہن لیا جاتا ہے،یہ طلسم بھی زہرہ کی خرابیوں کو دور کرتا ہے اور لوگوں میں مقبولیت لاتا ہے،مزید یہ کہ ایسے لوگوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے جن کا کام پبلک ڈیلنگ ہے،لوگ ان کی طرف کھنچتے ہیں اور ان کا کاروبار ترقی کرتا ہے،یہاں ہم طلسم زہرہ بھی دے رہے ہیں، یہ پورا عمل اور طریق کار ہماری کتاب مسیحا حصہ سوم میں دیا گیا ہے ، اس کے علاوہ اس موقع پر لوح تسخیر خاص بھی تیار کی جاسکتی ہے اور یہ بھی مسیحا حصہ سوم میں موجود ہے،وہ لوگ جو کسی وجہ سے خود یہ کام نہ کرسکیں، براہ راست رابطہ کرسکتے ہیں اور لوح شرف زہرہ اسمِ الٰہی العلی یا لوح تسخیر خاص اور خاتم زہرہ وغیرہ کے لیے اپنا آرڈر بُک کراسکتے ہیں۔

ہفتہ، 17 فروری، 2018

اے مِرے حسنِ نظر! تیِرے اعتبار پہ تُف

ایم کیو ایم میں انتشار کی وجہ اور فاروق ستار کا مستقبل
ملک بھر میں ہر طرف سیاسی محاذوں پر گرما گرمی عروج پر ہے،سینیٹ کے الیکشن قریب سے قریب تر ہورہے ہیں، سیاسی جوڑ توڑ عروج پر ہے اور سیاست کے چیمپئن جناب آصف علی زرداری سب کی نگاہوں کا مرکز بنے ہوئے ہیں، اپنے جلسوں میں بڑے بڑے دعوے کر رہے ہیں، یہ بھی اعتراف کرلیا کہ بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی ان کی ”دعاو ¿ں“کا نتیجہ ہے، ن لیگی قیادت کئی محاذوں پر معرکہ آرائی میں مصروف ہے اور لودھراں کی سیٹ جیت کر جشن منارہی ہے،عمران خان کی سیاست ٹوئٹر تک محدود ہوچکی ہے، کراچی میں ایم کیو ایم تقسیم در تقسیم کے عمل کا شکار ہے لیکن اس ماہ کی سب سے بڑی خبریں محترمہ عاصمہ جہانگیر اور جناب قاضی واجد کی وفات حسرت آیات ہے۔
عاصمہ جہانگیر صاحبہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے ابھی ہوش سنبھالا ہی تھا کہ عدالت کی پکار پر لبیک کہنا پڑا یعنی تقریباً 18 سال کی عمر میں جب کہ وہ زیرِ تعلیم تھیں انہیں اپنے والد کا مقدمہ لڑنا پڑا اور پھر اس کے بعد تو قانون اور عدالتیں ان کی زندگی کا لازمی حصہ قرار پائیں، انتقال سے دو روز پہلے بھی وہ کسی عدالت میں حاضر تھیں۔
پاکستان کے لیے یہ بڑے اعزاز کی بات ہے کہ محترمہ عاصمہ جہانگیر نوبل انعام کے لیے نومینیٹ ہوئیں، اس کے علاوہ بھی انہوں نے بین الاقوامی طور پر اپنی شخصیت اور اپنے کام کو منوایا، بے شک اپنے مخصوص نظریات کی وجہ سے مذہبی حلقے انہیں ناپسند کرتے تھے، بہر حال اب وہ تمام دنیاوی تنازعات سے آزاد ہوکر اپنے حقیقی خالق کی بارگاہ میں پہنچ چکی ہیں، اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔
قاضی واجد بھی ریڈیو اور ٹی وی کے ایسے فنکاروں میں شامل ہیں جن کا کام نصف صدی پر محیط ہے،ان کا متبادل کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا،وہ بلاشبہ غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل فنکار تھے، نیک طبیعت اور شریف النفس انسان تھے ، اپنے طویل کرئر میں ان کی ذات کے حوالے سے کبھی کوئی اسکینڈل نہیں بنا، چھوٹے ب ©ڑے سب ان کا احترام کرتے تھے، اللہ انہیں غریق رحمت کرے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔
جناب فاروق ستار اور ایم کیو ایم
20 نومبر کو انہی کالموں میں ہم نے جناب فاروق ستار صاحب کا زائچہ شائع کیا تھا جس میں ان کی خوبیوں اور خامیوں کی نشان دہی کی گئی تھی اور لکھا تھا ۔
”شخصیت و کردار اور فطرت سے متعلق اہم نکات پر نظر ڈالنے کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ صاحب زائچہ ایک اچھا بزنس مین ، صنعت کار، ڈاکٹر، ڈیلر، فوجی،پولیس مین،کرمنل کورٹ کا لائر، سیلزمین، میوزیشن تو ہوسکتا ہے لیکن ملک و قوم کی رہنمائی کا فرض ادا کرنا اس کے لیے خاصا مشکل ترین کام ثابت ہوسکتا ہے“۔
ان کے حال سے متعلق زائچے کی موجودہ سیاروی پوزیشن واضح کرتے ہوئے یہ بھی عرض کیا تھا کہ 
”یہ صورت حال ڈاکٹر صاحب کے لیے ہر گز خوش کن نہیں ہے،انہیں پارٹی میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں اور سیاسی میدان میں اپنی حیثیت کو مضبوط اور نمایاں کرنے میں سخت دشواریوں کا سامنا رہے گا، اگر آئندہ انتخابات ستمبر 2018 ءسے پہلے ہوں تو ان کے لیے اپنی نشست برقرار رکھنا بھی مشکل ہوسکتا ہے“۔
جناب فاروق ستار اور رابطہ کمیٹی کے درمیان تنازعات اس قدر بڑھے کہ رابطہ کمیٹی نے انہیں کنوینر کے عہدے سے ہٹادیا اور جواباً فاروق ستار صاحب نے رابطہ کمیٹی توڑ دی، حقیقت یہ ہے کہ وہ ایسے دور سے گزر رہے ہیں جس میں ان کے لیے موجودہ مشکلات اور تنازعات پر قابو پانا بہت مشکل نظر آتا ہے،ان کے کرئر کا ستارہ فی الحال ”مصیبت زدہ“ ہے، ہم نے اس کی نشان دہی کی تھی کہ مشتری ستمبر 2018 ءتک خراب پوزیشن میں رہے گا اور اس دوران اگر انہوں نے الیکشن میں حصہ لیا تو ناکامی مقدر ہوسکتی ہے، 14 مارچ 2018 ءتک بڑا مشکل نظر آتا ہے کہ وہ اپنی پوزیشن کو بحال کرسکےں، اس کے بعد بھی اس کے سوا کوئی امکان نظر نہیں آتا کہ وہ کسی نئے ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے اپنے سیاسی کرئر کو جاری رکھیں لیکن آئندہ سیاست کے میدان میں ان کا زیادہ فعال کردار نظر نہیں آتا ، یہ الگ بات ہے کہ وہ کسی کمزور پوزیشن کو قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوں گے،کسی شاعر نے ایسے ہی مواقع کے لیے کہا ہے کلاہِ خسروی سے بوئے سلطانی نہیں جاتی۔
دوسری طرف ایم کیو ایم کا سیاسی مستقبل داو ¿ پر لگا ہوا ہے،ایک ایسی سیاسی پارٹی جسے متفقہ طور پر ملک کی چوتھی بڑی پارٹی تسلیم کیا جاتا رہا ہے،اب کئی حصوں میں تقسیم ہوچکی ہے،پہلے صرف مہاجر قومی موومنٹ حقیقی اس کی حریف تھی لیکن اب 22 اگست 2016 ءکے بعد دو گروپ بن گئے یعنی لندن گروپ اور پاکستان گروپ پھر مارچ 2016 ءہی میں پاک سرزمین پارٹی کا قیام عمل میں آیا اور اب ایک بار پھر پارٹی دو گروپوں میں تقسیم ہورہی ہے یعنی فاروق ستار گروپ اور عامر خان گروپ، اس کی ایسٹرولوجیکل وجوہات ہمارے پیش نظر ہیں کیوں کہ سیاسی وجوہات ہمارا موضوع نہیں ہے۔
ہمارے قارئین کو یاد ہوگا کہ ہم نے فروری مارچ 2013 ءمیں پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے زائچے شائع کیے تھے اور اس وقت بھی یہ اشارہ دیا تھا کہ ایم کیو ایم کو آئندہ سالوں میں اپنی بقا کی جنگ لڑنا پڑے گی،پارٹی میں موجود سیاسی انتشار پر قابو پانا پڑے گا، اس حوالے سے فروری 2017ءتک نہایت خراب وقت گزرا ہے جس کے نتائج اب ہمارے سامنے ہےں، بے شک اب ایم کیو ایم کے زائچے میں مناسب پیریڈ کا آغاز ہوچکا ہے مگر اس سال 14 جنوری کے بعد سے راہو کیتو کی اسٹیشنری پوزیشن سیارہ مشتری پر ہے اور واضح رہے کہ ایم کیو ایم کا طالع پیدائش برج قوس ہے اور اس کا حاکم سیارہ مشتری ہے جب کہ پیدائشی زائچے میں مشتری اپنے برج ہبوط میں ہے،اگر کسی شخص یا ملک یا کسی پارٹی کا بنیادی ستارہ کمزور ہو یا کسی اعتبار سے بھی متاثرہ ہو تو اس کی زندگی میں اُتار چڑھاو ¿ بھی آتے ہیں اور رکاوٹیں اور مشکلات بھی بہت ہوتی ہیں، مزید یہ کہ جب پیدائشی طالع کے مالک ستارے پر منحوس اثرات بھی پڑ رہے ہوں جیسا کہ اس وقت صورت حال ہے تو شدید نوعیت کی مصیبتیں اور مشکلات اسے گھیر لیتی ہیں یہی کچھ اس وقت ایم کیو ایم کے ساتھ ہورہا ہے،یہ منحوس اثرات مارچ تک جاری رہیں گے لیکن اس دوران میں جو کچھ ہورہا ہے اس کی تلافی کیسے ہوگی؟یہ بڑا تلخ سوال ہے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ صورت حال پارٹی میں توڑ پھوڑ کے جاری عمل کو بالآخر اس مقام پر لے جائے گی جہاں سے ایک نئی پارٹی اور نئی قیادت سامنے آئے گی، گزشتہ سال ہی ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کے درمیان اتحاد کی کوششیں بھی سامنے آئی تھیں اور بات زیادہ آگے نہ بڑھ سکی، ممکن ہے ایسی کوئی پیش رفت آئندہ بھی دیکھنے میں آئے، اس صورت میں پاک سرزمین پارٹی کا زائچہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہوگی، جہاں تک مصطفیٰ کمال صاحب کے زائچے کا تعلق ہے تو ہم اس کی نشان دہی کر چکے ہیں کہ وہ زیادہ مضبوط پوزیشن کے حامل ہیں اور جناب فاروق ستار کے مقابلے میں بہتر انتظامی صلاحیتوں کے مالک ہیں، اگر دونوں پارٹیوں میں اتحاد ہوجاتا ہے تو آنے والے الیکشن کے لیے ایک نیک شگون ہوگا، چلتے چلتے کسی شاعر کے یہ چند شعر آپ کی نذر 
دلِ تباہ کو تجھ سے بڑی شکایت ہے
اے مِرے حسنِ نظر! تِیرے اعتبار پہ تُف
مِری گلی میں اندھیرا ہے کتنے برسوں سے
امیرِ شہر! تِرے عہدِ اقتدار پہ تُف
جادو نگری
بھارت کی حد تک تو یہ بات دُرست ہوسکتی ہے کہ اُسے جادو نگری کا نام دیا جائے کیوں کہ ہندو مذہب میں اس قدر ٹونے ٹوٹکے اور چُھوا چھکّا ہے کہ خدا کی پناہ لیکن پاکستان جو ایک اسلامی ملک ہے اور اکثریت مسلمانوں کی ہے،اسے بھی ہم نے جادو نگری بنارکھا ہے،بھارت میں پنڈتوں ، جوگیوں اور سادھوو ¿ں کا زور ہے، ان کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے جب کہ پاکستان میں نام نہاد عاملوں، مولویوں، پیروں اور فقیروں کی باتوں کو اہمیت دی جاتی ہے،عام لوگوں کا تو ذکر ہی کیا بڑے بڑے رہنمایان قوم تک ان پیروں فقیروں کے مرید ہیں اور ان سے رہنمائی چاہتے ہیں، آکسفورڈ کی تعلیم یافتہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی ایسی ویڈیوز آپ کو یوٹیوب پر مل جائیں گی جس میں وہ کسی پیر صاحب یا اللہ والے بزرگ کے سامنے باادب بیٹھی نظر آئیں گی، ان کے شوہرِ نام دار جناب آصف علی زرداری نے تو اپنے دور صدارت میں ایک فل ٹائم پیر صاحب کی خدمات حاصل کر رکھی تھیں، یہی صورت حال میاں نواز شریف یا اور دیگر سیاسی شخصیات کے بارے میں بھی نظرآتی ہے،گزشتہ دنوں آکسفورڈ ہی کے تعلیم یافتہ جناب عمران خان کی ایک پیرنی صاحبہ کے قصے بھی سننے کو ملے، اللہ بس باقی ہوس۔
اندازہ لگائیے عام آدمی کا کیا حال ہوگا؟ ہم یہ تماشے روزانہ دیکھتے اور سنتے رہتے ہیں اور آج سے نہیں برسوں سے اور حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ لوگ تھوڑا سا بھی کامن سینس استعمال نہیں کرتے، خصوصاً ہماری خواتین، آنکھ بند کرکے ایسی کسی بات پر یقین کرلیتی ہیں جس کا تعلق جادو، ٹونے ، آسیب و جنات سے ہو۔
آج ایک خاتون نے بیرون ملک سے فون کیا ہے اور کہا کہ ان کے گھر پر جادوئی اثرات ہیں، کسی نے بندش کرادی ہے،دشمن ان کے خون کے پیاسے ہیں، ہم نے پوچھا کہ آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ جادوئی اثرات ہیں یا کسی نے کوئی بندش کرائی ہے اور آپ کے دشمن کون ہیں؟
جواباً انہوں نے بتایا کہ تین روز سے روزانہ گھر کے دروازے پر صبح کلیجی اور کچھ دوسری چیزیں کوئی رکھ جاتا ہے اور انہیں یہ بات اس دودھ والے نے بتائی جو گھر پر دودھ دینے آتا ہے اور اس کا کہنا یہ ہے کہ باجی! آپ کیا کوئی دشمن آپ کے خلاف کالا جادو کر رہا ہے۔
ہم نے بلاکسی تردّد کے ان سے کہا کہ آپ کا دودھ والا ہی اصل مجرم ہے، وہی آپ کے دروازے پر یہ چیزیں رکھتا ہے اور پھر آپ کو دکھاتا ہے تو وہ بڑی حیران ہوئیں اور ہم سے بحث کرنے لگیں کہ آپ اتنے یقین سے اس بے چارے لڑکے پر اتنا بڑا الزام کیسے لگاسکتے ہیں؟ہم نے کہا کہ بالکل اسی طرح جیسے اس لڑکے کے الزام پر آپ نے بلاکسی تحقیق کے یقین کرلیا ہے،مزید ہم نے کہا کہ ہم تو یہ بھی بتاسکتے ہیں کہ وہ لڑکا اس معاملے میں آپ کی مدد کے لیے بھی تیار ہوچکا ہے اور آپ کو اپنے جاننے والے کسی عامل کے ذریعے آپ کے دشمنوں سے نجات دلانے کی کوشش کا وعدہ کرچکا ہے۔
ہماری بات سن کر چند لمحے کے لیے وہ سناٹے میں آگئیں، فون پر خاموشی چھاگئی، آخر ہم نے دوبارہ ہیلو کہا تو وہ بولیں، یہ تو آپ نے ہمیں حیران کردیا، کیا آپ کے پاس کوئی مو ¿کل ہے، یا ہمزاد ہے جس نے آپ کو یہ سب بتادیا ہے؟ہمارا جواب انکار میں تھا، ہم نے انہیں سمجھانے کی کافی کوشش کی اور ان سے یہ بھی کہا کہ ایک دیار غیر میں کون آپ کا دشمن ہوسکتا ہے تو اس پر ان کا جواب یہ تھا کہ یہاں تو نہیں لیکن پاکستان میں میرے سسرال والے اور خاص طور پر میری ساس میری دشمن ہے، ہم نے عرض کیا کہ آپ کی ساس کے پاس شاید بہت دولت ہے کہ وہ کسی دوسرے ملک میں یہ تمام انتظامات کر رہی ہیں کہ روزانہ آپ کے گھر کے دروازے پر کوئی کلیجی رکھ جایا کرے، قصہ مختصر یہ کہ اسی نوعیت کے واقعات اکثر سامنے آتے رہتے ہیں، دراصل ان کی بات سن کر ہمیں ایک بہت پرانا ایسا ہی واقعہ یاد آگیا تھا۔
کراچی کی ایک خاتون کو ایک انڈہ ڈبل روٹی گلیوں میں بیچنے والے نے اسی طرح بے وقوف بنایا تھا اور ان سے خاصی بھاری رقم وصول کی تھی لہٰذا ہم نے پورے اعتماد سے ہوا میں تیر چلادیا جو اتفاق سے نشانے پہ لگا۔

ہفتہ، 10 فروری، 2018

شرف زہرہ کے خاص موقع پر اسمِ الٰہی العلی کا نقش خاص

تسخیر خاص اور مقبولیت عام خصوصاً لڑکیوں کی شادی کے لیے مجرب
ہمارے موجودہ معاشرے میں معاشی مسائل کے بعد اگر کوئی مسئلہ سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے تو وہ لڑکیوں کی شادی اور ازدواجی زندگی سے متعلق ہے، ہم اس حوالے سے پہلے بھی بہت کچھ لکھتے رہے ہیں اور شاید آئندہ بھی لکھتے ہی رہیں گے، اس مسئلے کے پیچیدہ اور گمبھیر ہونے کی معاشرتی وجوہات سے قطع نظر جو بات نہایت اہم ہے وہ مقدرات ہیں، ہم دیکھتے ہیں کہ یہ مسئلہ صرف ان گھرانوں اور خاندانوں تک محدود نہیں جہاں معاشی پریشانیاں موجود ہیں بلکہ ان خاندانوں کے لیے بھی یہ مسئلہ ایک عذاب کی صورت اختیار کرلیتا ہے جہاں ہر طرح کی معاشی سہولیات اور خوش حالی موجود ہے لہٰذا ہمارے نظریے کے مطابق اس کو صرف معاشیات سے منسلک کرنا مناسب نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے اکثر و بیشتر مختلف طریقے پیش کیے جاتے رہتے ہیں جس میں موافق پتھر، صدقات، وظائف و عملیات اور نقش و طلسم شامل ہوتے ہیں، اکثر لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور بعض پھر بھی ناکام رہتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ مایوسی گناہ ہے اس لیے کوشش و جدوجہد سے غافل نہیں رہنا چاہیے، بدلتے وقت کے تقاضوں کے مطابق اصلاح احوال ضروری ہے ، ضروری نہیں ہے کہ ہم آج اللہ کے حضور کوئی درخواست پیش کریں اور وہ فوری منظور کرلے، اس میں کچھ تاخیر بھی ہوسکتی ہے اور وہ نامنظور بھی ہوسکتی ہے کیوں کہ ہم نہیں جانتے ہمارے لیے کیا بہتر ہے، بس اللہ ہی جانتا ہے کہ ہمارے لیے کیا بہتر ہے۔
لڑکیوں کی شادی کے سلسلے میں اپنا ایک مجرب طریقہ یہاں لکھ رہے ہیں، یہ اسم الٰہی ”العلی“ کا طلسماتی مثلث ہے۔
علی کے معنی سب سے زیادہ بلند مرتبے کے ہیں لہٰذا اس اسم کا ورد بلند مرتبہ اور قوت و اقتدار کے لیے موزوں ترین خیال کیا جاتا ہے، اس کے ذاکر کے درجات دینوی اور دنیاوی طور پر اللہ بلند کرتا ہے، ہر حاجت اس کی پوری ہوتی ہے، اس کا نقش پاس رکھنے سے لوگ اس کی عزت کرتے اور اس سے مرعوب رہتے ہیں، اعلیٰ حکام و افسران بالا اس کی عزت کرتے ہیں۔
علمائے جفر اس امر پر متفق ہیں کہ اسم الٰہی ”علی“ کا نقش اگر چاندی کی لوح پر شرف زہرہ میں یا شرف قمر میں کندہ کرکے ایسی لڑکی کے گلے میں ڈالا جائے جس کا رشتہ ہی نہ آتا ہو تو اس کی برکت سے نصیب کھل جاتا ہے اور جلد ہی شادی کا انتظام ہوجاتا ہے کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ سیارہ زہرہ انسانی زندگی میں شادی اور ازدواجی زندگی کی خوشیوں کا نمائندہ ہے لہٰذا ہم اس نقش کو سیارہ زہرہ کے سعد اوقات میں تیار کرنے کو افضل سمجھتے ہیں۔
ہم یہاں اسم الٰہی ”علی“ کا وہ طلسماتی نقش متعارف کرا رہے ہیں جو اپنے فوائد اور خوبیوں میں عجائبات میں سے ہے، یہ نقش ہر مرد اور عورت کے لیے اس کے نام کے پہلے حرف کی مناسبت سے تیار ہوگا، پے چیدہ حسابی عمل سے آپ کو بچانے کے لیے ہم نے اس کی ترتیب و تدوین خود کردی ہے، اس طرح یہ کل آٹھ نقش مرتب ہوئے ہیں، اس میں ہر فرد اپنے نام کے پہلے حرف کے مطابق اپنا نقش منتخب کرکے خود وقتِ مقررہ پر تیار کرسکتا ہے، تیاری کا درست طریقہ بھی تفصیل سے لکھا جارہا ہے، پہلے آپ نقوش ملاحظہ فرمائیے۔
وہ لوگ جن کے نام کا پہلا حرف ا، ب، ی، ک، گ، ق، ر یا غ ہو، ان کے لیے نقش علی یہ ہے جو 19 کے عدد سے شروع ہوگا۔
اسم ”علی“ کے اعداد ابجد قمری سے ایک سو دس ہیں اور مفرد عدد دو ہے، ان آٹھوں نقوش کے اندر چار خانوں میں موجود اعداد کی کل میزان 110 ہے، دائرے میں دو مثلث ہیں، درمیانی چھوٹی مثلث میں سیارہ زہرہ کا نشان ہے۔
پہلے 786 کے اعداد لکھیں پھر 110 لکھیں، اس کے بعد 195 اور پھر 278 لکھیں۔
اب اندرونی نقش کو اس طرح مکمل کریں کہ پہلے سب سے کم عدد والا خانہ بھریں یعنی پہلے نقش میں جو الف، ب وغیرہ کا ہے، سب سے چھوٹا عدد 19 ہے لہٰذا پہلے اسے لکھیں پھر 20 پھر 30 اور پھر 41 لکھیں گے، بس نقش مکمل ہوگیا، شروع کرنے سے پہلے اور بعد میں گیارہ گیارہ بار درود شریف پڑھ لیں، کام ختم ہونے پر کچھ سفید مٹھائی پر فاتحہ دیں اور مٹھائی بچوں میں تقسیم کردیں، خود بھی کھائیں، تمام کام علیحدہ کمرے میں کریں، صندل کی خوشبو جلائیں یعنی اگر بتی وغیرہ اور عطر سہاگ(حنا) لباس پر لگائیں، رجال الغیب کا خیال کرکے بیٹھیں، رجال الغیب کی سمت معلوم کرنے کا نقشہ زنجانی جنتری میں موجود ہے۔ نقش تیار کرنے کے بعد چھپا کر رکھ دیں اور جمعہ کے روز سورج نکلنے کے فوراً بعد ایک سو دس بار یا علی اول و آخر گیارہ بار درود شریف کے ساتھ پڑھ کر نقش پر دم کریں اور اپنے مقصد کے لیے دعا کریں پھر گلے میں پہن لیں یا بازو پر باندھیں، چھ فقیروں کو اس روز کھانا کھلادیں یا چھ سو روپے خیرات کردیں۔
اب روزانہ کسی وقت اسم الٰہی یا علی ایک سو دس مرتبہ مقصد حاصل ہونے تک پڑھ لیا کریں، انشاءاللہ، عام اجازت ہے۔ اگر 29 دن میں بھی مقصد حاصل نہ ہو تو پڑھنا نہ چھوڑیں، شادی میں رکاوٹ اکثر زائچہ پیدائش میں سیارگان کے ناقص اثر کی وجہ سے بھی ہوتی ہے، اس صورت میں زائچہ پیدائش بنوائیں تاکہ رکاوٹ کی وجہ کا پتا چلے اور اس کا درست علاج ہوسکے۔
اس نقش کو چاندی کی گول لوح یا چوکورتختی پر کندہ کریں یا انگوٹھی پر بھی بناسکتے ہیں، اگر ہرن کی جھلّی پر لکھنا چاہیں تو سبز روشنائی سے لکھیں اور تہ کرکے تعویذ بنالیں پھر انگوٹھی میں رکھ کر اوپرکوئی سفید نگینہ، سفید عقیق یا زرقون وغیرہ جڑوالیں۔
اوقاتِ عمل
بہ حساب یونانی پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق اس سال شرف زہرہ کا آغاز 3 مارچ رات 11:39 منٹ سے ہوگا اور زہرہ درجہ ءشرف پر 4 مارچ شام 06:55 pm تک رہے گا،اس دوران میں سیارہ زہرہ کی ساعتیں قابل عمل ہوں گی۔
مروجہ طریق کار یہی ہے لیکن ہم یہاں ویدک سسٹم کے مطابق سیارہ زہرہ کے مزید باقوت اوقات کی نشان دہی کر رہے ہیں، اس نقش کو تیار کرنے کے لیے یہ اوقات بھی مو ¿ثر ہوں گے،تجربہ شرط ہے۔
ویدک سسٹم کے مطابق سیارہ زہرہ اپنے شرف کے برج میں 3 مارچ کو داخل ہوگا، ابتدائی 5 درجات تک حالتِ طفولیت میں ہوگا لیکن 6 مارچ کو طاقت ور پوزیشن رکھتا ہوگا اور 22 مارچ تک طاقت ور پوزیشن میں رہے گا لیکن اس دوران میں 8 مارچ سے 9 مارچ تک قمر کی کمزوری اور زہرہ کی پوزیشن بہتر نہیں ہوگی لہٰذا یہ نقش اس عرصے میں نہ بنایا جائے، زہرہ کی ساعتیں اور دیگر مو ¿ثر و باقوت اوقات کی نشان دہی انشاءاللہ آئندہ کردی جائے گی۔
عزیزان من! یہ طریقہ نقش و طلسمات کی دنیا میں ہاو ¿س بیس سسٹم کہلاتا ہے اور بہت زیادہ پرتاثیر سمجھا جاتا ہے،اس طریقے کے مطابق مارچ کے مہینے میں مزید سعد اوقات بھی استخراج کیے جاسکتے ہیں جو لوگ اس طریقے کے مطابق عمل کریں گے وہ حیرت انگیز تاثیر ملاحظہ کریں گے، ممکن ہے بعض مخصوص نظریات کے حامل افراد ہمارے طریقے سے اختلاف کریں، ان کی خدمت میں یہی گزارش ہوگی کہ تجربہ سب سے بڑا استاد ہے۔ 

منگل، 6 فروری، 2018

مستقل مزاجی اور مقصدیت سے مضبوط تعلق مصطفیٰ کمال کا بنیادی وصف

جوش کے ساتھ ہوش اور اہداف کے حصول کے لیے ہر ممکن کوشش
گزشتہ سال نومبر میں ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ جناب فاروق ستار کے زائچے کی روشنی میں اظہار خیال کیا گیا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ اس حوالے سے پاکستان سرزمین پارٹی کے چیئرمین جناب مصطفیٰ کمال کا زائچہ بھی پیش کیا جائے گا لیکن بعض مصروفیات کی وجہ سے فوری طور پر یہ وعدہ پورا نہ ہوسکا، بہر حال تاخیر سے صحیح سابق میئر کراچی کا زائچہ حاضر ہے۔
پاکستان سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال میئر کراچی کی حیثیت سے اپنی نمایاں شہرت رکھتے ہیں،کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے دس سالہ دور میں کراچی کا حلیہ بدل کے رکھ دیا، پورے شہر میں پلوں اور زمیں دوز راستوں کا جال بچھا دیا،بعد ازاں وہ سینیٹر کی حیثیت سے بھی کام کرتے رہے اور پھر اچانک غائب ہوگئے یعنی دبئی چلے گئے لیکن ان کی واپسی بھی خاصی دھماکہ خیز رہی، انہوں نے اپنی اصل پارٹی اور قائد سے بغاوت کا اعلان کرکے ایک نئی پارٹی کی بنیاد رکھی، اس طرح کراچی کی سیاست میں خاصی ہلچل پیدا کرنے کا باعث بنے۔
سید مصطفیٰ کمال کی دستیاب تاریخ پیدائش 27 دسمبر 1971 ءکراچی ہے،ہمیں ان کا درست زائچہ بنانے میں خاصی الجھن درپیش رہی کیوں کہ پیدائش کا درست وقت معلوم کرنا خاصا مشکل کام ہوتا ہے،الحمداللہ کہ ہم اس مشکل کام سے بہ خوبی عہدہ برآ ہوسکے اور ایک اطمینان بخش زائچہ ہماری نظروں کے سامنے آگیا۔

زائچے کے پہلے گھر میں برج جدی کے 6 درجہ 30 دقیقہ طلوع ہے،سیارہ زہرہ راہو کے ساتھ برج جدی میں حالت قران میں ہے،زہرہ کا تعلق زائچے کے دسویں گھر( کرئر) سے ہے،راہو کیتو محور میں پھنسے ہوئے دسویں گھر کے حاکم کی متاثرہ پوزیشن پیشہ ورانہ کرئر میں اُتار چڑھاو ¿ ظاہر کرتی ہے، راہو سے اشتراک سیاست میں لانے کا باعث ہے لیکن اس کے ساتھ ہی کرئر کے معاملات میں شکوک و شبہات بھی پیدا کرتا ہے یعنی وہ کسی سیدھے سادے راستے سے اپنے کرئر میں بام عروج تک نہیں آئے، یقیناً اس راستے میں دو چار بہت سخت مقام بھی آئے ہوں گے، یہ بات ان کے حالاتِ زندگی سے بھی ظاہر ہے،سیارہ زہرہ کسی بھی مرد کے زائچے میں بیوی اور ازدواجی زندگی کا بھی نمائندہ ہے لیکن اس موضوع پر گفتگو کو ہم ضروری نہیں سمجھتے۔
سیارہ مریخ زائچے کے تیسرے گھر میں اور برج حوت میں طاقت ور پوزیشن رکھتا ہے اور انہیں ایک فعال ، پہل کار، کوشش اور جدوجہد میں تیز رفتار انسان بناتا ہے، سیارہ قمر زائچے کے چوتھے گھر برج حمل میں ہے اور قمری منزل اشونی ہے یعنی ڈاکٹر فاروق ستار ، عمران خان اور جسٹس افتخار چوہدری بھی اسی قمری پوزیشن کے حامل ہیں،یہ ایک نہایت دلچسپ بات ہے، برج حمل اور قمری منزل اشونی میں پیدا ہونے والے افراد اختیار اور اقتدار کے خواہش مند ہوتے ہیں، وہ قائدانہ کردار اور انتظامی صلاحیت کے حامل ہوتے ہیں، یہ ایک الگ بحث ہوگی کہ وہ اس حوالے سے کتنے کامیاب اور خوش بخت ہوسکتے ہیں۔
سیارہ زحل زائچے کے پانچویں گھر میں، کیتو ساتویں گھر میں، عطارد و مشتری گیارھویں گھر میں اور شمس بارھویں گھر میں قابض ہیں،مریخ، قمر ، زحل اور عطارد زائچے کے سعد اثر دینے والے سیارے ہیں اور خوش قسمتی سے زائچے میں اچھی جگہ اور باقوت ہیں، راہو کیتو کے علاوہ شمس اور مشتری زائچے کے نحس اثر دینے والے سیارے ہیں اور کمزور ہیں۔
زائچے میں 23 مارچ 2002 ءسے قمر کا دور اکبر شروع ہوا اور 23 مارچ 2010 ءتک جاری رہا، قمر زائچے کا نہ صرف یہ کہ سعد سیارہ ہے بلکہ باقوت پوزیشن بھی رکھتا ہے، اس دس سالہ دور میں مصطفیٰ کمال نے نمایاں شہرت اور عروج پایا، اس کے بعد سات سال کا سیارہ مریخ کا دور شروع ہوا جو 23 مارچ 2017 ءتک جاری رہا اور اسی دور میں نئی پارٹی کی بنیاد بھی رکھی گئی، 23 مارچ 2017 ءسے راہو کا طویل دور شروع ہوچکا ہے اور راہو کا ہی دور اصغر جاری ہے جو 4 دسمبر 2019 ءتک رہے گا،راہو سیاست کا ستارہ ہے اور زائچے کے پہلے گھر میں زہرہ کے ساتھ حالت قران میں ہے،گویا آئندہ مصطفی ٰ کمال سیاست کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنائیں گے۔
زائچے کا پہلا گھر برج جدی ہے،جدی نظم و ضبط ، مزاحمت، عزم و ہمت، ایمانداری، احتیاط روی،منطق، صبروبرداشت، خودداری، عملیت، ہوش مندی جیسی خوبیاں پیدا کرتا ہے،یہ لوگ بہت زیادہ پریکٹیکل سوچ رکھتے ہیں اور بلامقصد یا بے فائدہ کوئی قدم آگے نہیں بڑھاتے،برج جدی کے منفی پہلوو ¿ں میں اضطراب،ضد، بدلہ لینے کی خواہش، شک، شدت پسندی، حق ملکیت کا احساس، حاکمیت پسندی، سرد مہری، قنوطیت، قسمت پر ایمان، خود غرضی،کنجوسی اور مزاحمتی رویہ شامل ہے۔
یہ لوگ بوڑھا ہونے کے بجائے جوان ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں،اپنی ابتدائی عمر ہی سے سنجیدہ مزاجی اور بردباری ان میں نظر آتی ہے،گویا وہ پیدائش کے فوراً بعد ہی تیس سال کی عمر کو پہنچ گئے ہیں اور دنیا میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے بے چین ہیں،ایسا کردار جو ان کے شایان شان ہو یعنی دنیا پرحکمرانی کرنا اور نمایاں ترین مقام پر براجمان ہونا،وہ اس کردار کے حصول کے لیے تیاری شروع کردیتے ہیں،برج جدی کا عنصر مٹی ہے لہٰذا یہ ایک مادّی برج ہے،جدی افراد سخت محنت، اور مستقل مزاجی سے اپنی زندگی میں استحکام اور تحفظ کے لیے جدوجہد کرتے ہیں،اس برج کا نشان پہاڑی بکرا ہے جو پہاڑ کی چوٹی پر سیدھا چڑھتا چلا جاتا ہے اور بلندی پر پہنچ کر ہی دم لیتا ہے،چڑھتے وقت وہ نہ تو ادھر دیکھتا اور نہ اُدھر، بکرے کے بلندی پر پہنچے کے عزم کو احساس برتری سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا جو برج اسد کا خاصا ہے اور بلندی کے بعد پستی کی طرف بھی لے جاسکتا ہے،جدی والے چوٹی پر پہنچ کر مضبوطی سے جمے رہنا جانتے ہیں۔
”اندھیرا، اندھیرے کو دور نہیں کرسکتا، صرف روشنی ہی یہ کرسکتی ہے۔نفرت، نفرت کو دور نہیں کرسکتی صرف محبت ہی کرسکتی ہے“
یہ الفاظ مشہور امریکی انسانی حقوق کے علم بردار مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے ہیں جن کا برج جدی تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کی سیاست میں غیر معمولی کردار ادا کرنے والے افراد کا تعلق برج جدی سے رہا ہے،بانیءپاکستان قائد اعظم بھی برج جدی سے تعلق رکھتے تھے،ذوالفقار علی بھٹو ، جناب نواز شریف اور موجودہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا برج بھی جدی ہے۔
جنم راشی
یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ عمران خان ، ڈاکٹر فاروق ستار کی طرح سید مصطفی کمال کا قمری برج حمل اور قمری منزل اشونی ہے،گویا تینوں اپنی فطرت میں ایک ہیں، سیارہ قمر کی اس پوزیشن کے بارے میں ہم ڈاکٹر فاروق ستار کے حوالے سے لکھ چکے ہیں، برج حمل دائرئہ بروج کا پہلا برج اور اشونی منازل قمری میں پہلی منزل ہے، برج حمل کا حاکم ڈائنامک مریخ ہے اور اشونی پر حکمران غضب ناک کیتو ہے،یہ اپنی فطرت میں پاکیزہ ہے،مذہبی رجحان رکھتا ہے،ہمیشہ آگے کی طرف دیکھتا ہے،مسیحائی یا رہنمائی کرنا چاہتا ہے،روشنی اور خوشیاں اس کی خواہشات میں شامل ہیں۔
پیدائشی برج جدی کے ساتھ فطری برج حمل کا امتزاج ایک ایکشن فل اور عملی کردار سامنے لاتا ہے،برج حمل بے خوف بناتا ہے اور اکثر بچگانہ رویے بھی دیکھنے میں آتے ہیں،اس برج کا نشان مینڈھا ہے جسے چیلنج ملنے کا انتظار رہتا ہے اور پھر یہ فوراً حملے کے لیے تیار ہوجاتا ہے،حمل افراد بھی اپنی فطرت میں ایسے ہی ہوتے ہیں،یہ لوگ ہوائی قلعے بنانے کا رجحان بھی رکھتے ہیں،پہلے سے طے کرلیتے ہیں کہ جیسا وہ سوچ رہے ہیں یا خیال کر رہے ہیں،ایسا ہی ہوگا،جب نتائج توقع کے خلاف سامنے آئیں تو یہ بھڑک اٹھتے ہیں اور پھر کچھ بھی کرسکتے ہیں،جیسا کہ گزشتہ صورت حال میں دیکھا گیا ہے،مصطفیٰ کمال ڈاکٹر فاروق ستار کی پریس کانفرنس کے بعد بری طرح بھڑکے اور وہ کچھ کہہ گئے جو شاید اب تک نہیں کہا تھا، یہی حال عمران خان کا ہے لیکن فاروق ستار کا مسئلہ تھوڑا سا مختلف ہے کیوں کہ ان کا برتھ سائن حوت ہے،یہ آبی برج ہے،فاروق ستار نے صورت حال کی نزاکت کے مطابق خود کو ڈھالنے اور اپنے آپ پر کنٹرول کرنے کی صلاحیت زیادہ ہے۔
قمری منزل اشونی میں سیارہ شمس کو شرف حاصل ہوتا ہے لہٰذا ان لوگوں کا رجحان لیڈر شپ، عزت و وقار اور اختیارات کے حصول کی جانب رہتا ہے،یقیناً یہ اچھے لیڈر اور منتظم ہوسکتے ہیں لیکن زندگی میں ہمیشہ پہلی پوزیشن پر رہنا پسند کریں گے،اگر دونوں پارٹیوں کا انضمام ہوجاتا تو دونوں کے سربراہ کے لیے یہ بڑا مشکل کام ہوتا کہ کون نمبر ون ہوگا کیوں کہ نمبر ٹو والی پوزیشن دونوں میں سے کسی کے لیے بھی قابل قبول نہیں ہوسکتی تھی۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال غیر معمولی خوبیوں اور صلاحیتوں کے حامل ہیں، قائدانہ رجحانات اور انتظامی صلاحیتیں بھی رکھتے ہیں لیکن کیا قوم کی رہنمائی اور اسے کسی منزل تک پہنچانے کا ہدف حاصل کرسکتے ہیں ؟ اس سوال کے جواب کی طرف جانے سے پہلے دونوں کے درمیان ایک بنیادی فرق کو سمجھ لیں، ڈاکٹر فاروق ستار پُرجوش، نظریاتی ، فلسفیانہ اور تخیلاتی فطرت و کردار کے حامل ہیں اور ایسے لوگ اپنے جوش اور نظریاتی دباو ¿ کے تحت بعض اوقات ہوش کھو بیٹھتے ہیں، اس کے برعکس مصطفیٰ کمال جوش کے ساتھ ہوش مندی، عملیت اور اہداف پر نظر رکھ کر آگے قدم بڑھانے والے انسان ہیں۔
فاروق ستار صاحب کے حوالے سے ہم ان کے زائچے کی روشنی میں یہ عرض کرچکے ہیں کہ برج حوت کا کردار اپنے اندر ایک دہرا پن رکھتا ہے،یہ لوگ حالات کے زیر اثر خود کو تبدیل کرسکتے ہیں،دوسروں کے دباو ¿ میں آسکتے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ کہ اپنے احساسات کو کبھی نظر انداز نہیں کرتے، دوسری طرف سید کمال صاحب اس کے بالکل برعکس ہیں،وہ کوئی دباو ¿ قبول نہیں کرتے، ان کی مستقل مزاجی اور مقصدیت سے مضبوط تعلق کسی ہدف کے حصول میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس حوالے سے وہ اپنے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو ختم کرنے کے لیے سخت سے سخت فیصلے اور اقدام کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتے گویا برج جدی اور حمل کا امتزاج انہیں ایک ڈکٹیٹر بناتا ہے،جمہوریت پسندی کی باتیں کرنا اور بات ہے لیکن جمہوریت کے تقاضوں کے مطابق چلنا ایک دوسرا مرحلہ ہے،اس حوالے سے کسی حد تک عمران خان کو اہمیت دی جاسکتی ہے کیوں کہ برج حمل کے ساتھ ان کا پیدائشی برج میزان ہے جو بیلنس کی نشانی ہے اور انہیں توازن اور ہم آہنگی کی طرف لے جاتا ہے جہاں وہ اپنے مزاج اور فطرت کے خلاف سمجھوتے کرنے پر بھی مجبور ہوتے ہیں لیکن ان کی فطرت برج حمل کے زیر اثر جارحانہ، حاکمانہ اور خود مختارانہ ہے جس کا مظاہرہ اکثر دیکھنے میں آتا ہے،وہ اپنی مرضی کے خلاف کوئی بات سننا پسند نہیں کرتے،اپنے کرکٹ کرئر کے دوران بھی وہ ایک خود مختار کپتان رہے ہیں جو کرکٹ بورڈ کے سربراہ کو بھی خاطر میں نہیں لاتے تھے۔
عزیزان من! پی ایس پی کے سربراہ جناب سید مصطفی کمال کی فطرت و کردار سے متعلق بنیادی نکات ان کے زائچے کی روشنی میں پیش کردیے گئے ہیں، ضرورت کے تحت ڈاکٹر فاروق ستار اور ان کے درمیان نمایاں فرق بھی واضح کردیا گیا ہے، یقیناً ہمارے قارئین دونوں کے بارے میں اپنی رائے بناسکتے ہیں۔
مستقبل
جیسا کہ پہلے نشان دہی کی گئی ہے کہ اب ان کے زائچے میں راہو کا دور اکبر اور پھر راہو کا ہی دور اصغر جاری ہے جس کا تعلق سیاست کے علاوہ ، اسکینڈلز، حرس و ہوس سے ہے،راہو کے دور میں انسان کے لیے جائز و ناجائز میں تمیز کرنا مشکل ہوجاتا ہے، صرف مذہب سے حقیقی گہرا لگاو ¿ ہی انسان کو راہ مستقیم پر چلاتا ہے، بہ صورت دیگر انسان اپنے اہداف کے حصول میں نہایت آزادانہ اور خود مختارانہ فیصلے کرتا ہے جس کا نتیجہ بعد ازاں ضروری نہیں ہے کہ مثبت ظاہر ہو،ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس سال کے متوقع انتخابات میں مصطفیٰ کمال اپنی پارٹی کی کامیابی کے لیے ہر حربہ استعمال کرسکتے ہیں اور ہر صورت میں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کریں گے،وہ اس کوشش میں کامیاب ہوسکتے ہیں لیکن راہو کے دور میں حاصل ہونے والی کامیابیاں بعد میں گلے پڑجاتی ہیں، راہو کے دور اصغر کے بعد مشتری کا دور اصغر شروع ہوگا، مشتری اس زائچے کا منحوس اثر رکھنے والا سیارہ ہے، اگر مصطفی کمال خود کو راہ راست پر گامزن نہ رکھ سکے تو مشتری کا دور ان کے کرئر کے خاتمے کا دور ہوگا جو 4 دسمبر 2019 ءسے 29 اپریل 2022 ءتک جاری رہے گا، اس بدترین دور سے اگر وہ خیروخیریت سے نکل آئے تو پھر سیارہ زحل کا دور اصغر نہایت شاندار اور ان کے نیک مقاصد کی تکمیل کے لیے معاون و مددگار دور ہوگا جس میں انہیں معاشرے میں ایک نہایت باوقار مقام حاصل ہوسکے گا۔