پیر، 4 دسمبر، 2017

محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی

پاکستان 2018 ءکے امکانات ، پاکستان کس طرف جارہا ہے؟

2017 ءکو ہم نے تبدیلی کا سال قرار دیا تھا اور عرض کیا تھا کہ یہ ایک نئے آغاز کا سال نظر آتا ہے جس میں نئے انتخابات کے امکان کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا،28 جولائی کو سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے کر ان کی حکومت ختم کردی، اگرچہ ن لیگ کی حکومت کو برقرار رکھا گیا اور اسمبلی نے نئے وزیراعظم کا انتخاب کرلیا ہے مگر حقیقتاً موجودہ حکومت ایسی بحرانی صورت حال سے دوچار ہے کہ نئے انتخابات کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے،تحریک لبیک کے دھرنے اور اس کے سامنے حکومت کی ناکامی نے صورت حال کو مزید واضح کردیا ہے کہ اب نئے انتخابات انتہائی ضروری ہوچکے ہیں۔
 سال 2018 ءکو گزشتہ سال 2017 ءکا تسلسل کہا جاسکتا ہے، اس سال تبدیلی اور ایک نئے آغاز کی جو لہر شروع ہوئی ہے وہ امکان ہے کہ 2018 ءمیں بھی جاری رہے گی، گویا پاکستان کا نیا سال جو 14ا گست سے شروع ہوتا ہے، دھلائی، صفائی اور پاکستان دشمن قوتوں سے لڑائی کا سال ہے۔
اصولی طور پر 2018 ءکو الیکشن کا سال قرار دیا گیا تھا کیوں کہ اس سال ن لیگ حکومت کی مدت پوری ہورہی ہے لیکن نئے سال میں سیارگان کی نشست و برخاست ظاہر کر رہی ہے کہ بعض وجوہات کی بنیاد پر الیکشن ملتوی ہوسکتے ہیں یا ان میں کچھ زیادہ تاخیر ہوسکتی ہے، ان وجوہات میں ملک کے انتخابی نظام کی اصلاح و درستگی سرفہرست ہوگی اور یہ جب ہی ممکن ہوسکے گا کہ ایک عبوری حکومت تین ماہ سے زیادہ عرصہ قائم رہے۔
جیسا کہ ہم نے عرض کیا تھا کہ 2017 ء ایک نئے آغاز اور تبدیلی کا سال ہے، ایسا ہی ہوا،پہلی مرتبہ ملک کی برسراقتدار اور طاقت ور سیاسی جماعت کے سربراہ اور وزیراعظم پاکستان کے خلاف عدالت عالیہ نے فیصلہ دیا اور کہا کہ وہ صادق و امین نہیں ہیں، ان کی فیملی کے اکثر افراد کے خلاف نیب کورٹ مین ریفرنسز دائر کیے گئے اور اب انہیں عدالت میں اپنی بے گناہی ثابت کرنا ہے،اس سال بہت سے کام ایسے ہوئے جو اس سے پہلے نہیں ہوئے تھے جیسا کہ عدالت کی طرف سے جے آئی ٹی تشکیل دینا،آئینی ترامیم کا متنازع ہونا اور اس کے نتیجے میں وزیرقانون کا استعفیٰ وغیرہ، تبدیلی کا عمل جاری ہے،سیاسی اشرافیہ اور بیوروکریسی آنے والی تبدیلیوں کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن یہ کوشش کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی۔ شاید اس ملک کی سیاست اور طرز حکومت ایک نیا رُخ اختیار کرنے جارہی ہے، سال 2018 ءایک غیر معمولی سال ہے جس میں ایسی تبدیلیوں کے اشارے مل رہے ہیں جو موجودہ پورے نظام کو ایک نیا رنگ دےنے کا باعث ہوسکتی ہیں،اس سال موجودہ آئین کے بارے میں بھی بہت سے سوال اُٹھ سکتے ہیں اور نئی آئین سازی یا موجودہ آئین میں مزید ترامیم کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے۔
پاکستان کے زائچے میں مشتری کے دور اکبر میں زہرہ کا دور اصغر جون 2019 ءتک جاری رہے گا اور اس دور میں عدلیہ اور فوج کی فعالیت بھی جاری رہے گی، نئے فوجی سربراہ جنرل قمر باجوہ کئی بار نہایت لطیف پیرائے میں اپنے اس عزم کا اظہار کرچکے ہیں کہ وہ آئین اور قانون کے ساتھ کھڑے ہیں، اب تک فوج نے سیاست میں مداخلت نہیں کی، یہ بات پاکستان کے اکثر معتبر و غیر جانب دار صحافی حلقے بھی کہہ رہے ہیں، سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف خاصے نرم طبیعت انسان تھے لیکن سیاست کے ساتھ جرم کو وہ بھی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے، شاید یہی پالیسی موجودہ جنرل باجوہ کی بھی ہے، وہ بھی چاہتے ہیں کہ عدالتوں کو آزادانہ طور پر کام کرنے دیا جائے اور پورا تحفظ فراہم کیا جائے، ہماری سیاسی اشرافیہ اسے بھی اسٹیبلشمنٹ کی سازش سمجھتی ہے، اکثر صحافتی حلقوں کا بھی کچھ ایسا ہی حال ہے مگر ہمارا مو ¿قف یہی ہے کہ سب اپنی اپنی چالیں چل رہے ہیں اور قدرت اپنی چال چل رہی ہے جس نے جو بویا ہے، وہی اسے کاٹنا ہے، قانون مکافات عمل ایک اٹل حقیقت ہے، برسوں پہلے سلیم احمد نے کہا تھا

تو منکر قانونِ مکافاتِ عمل تھا
لے دیکھ تِرا عرصہ ءمحشر بھی یہیں ہے
زائچہ ءپاکستان اور 2018 ئ


 زائچہ ءپاکستان میں طالع پیدائش برج ثور ہے اور اس زائچے کے مطابق زہرہ مشتری اور مریخ کے علاوہ راہو کیتو فعلی منحوس اثر رکھنے والے سیارے ہیں، پاکستان 11 دسمبر 2008 ءسے سیارہ مشتری کے دور اکبر سے گزر رہا ہے،مشتری زائچے کے آٹھویں گھر کا حاکم ہوکر زائچے کا سب سے زیادہ نقصان دہ اور نحس سیارہ بن گیا ہے،اگر غور کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے بعد سے پاکستان مستقل کسی نہ کسی مصیبت یا پریشانی کا شکار ہے، اسامہ بن لادن کی پاکستان سے برآمدگی ، بجلی، پیٹرول اور دیگر نوعیت کے بحران ، مہنگائی کا طوفان، عام آدمی پریشان، بے شک مشتری کا دور خاصا طویل ہے، اللہ پاکستان پر اور پاکستان کے عوام پر رحم فرمائے۔
اکتوبر 2016 ءسے مشتری کے دور اکبر میں زہرہ کا دور اصغر شروع ہوا، زہرہ چھٹے گھر کا حاکم ہوکر دوسرا فعلی منحوس ہے، اختلافات، تنازعات، جنگ، بیماریاں، اس گھر کی شناخت ہیں، ہم دیکھتے ہیں کہ اس دور کی ابتدا کے بعد ہی پاناما کیس عدالت تک پہنچا اور پھر 2017 ءکا پورا سال اسی کیس کی نذر ہوگیا، یہ سلسلہ تاحال جاری ہے، اس دوران میں اختلاف رائے اور تنازعات کا بھی ایسا بازار گرم رہا ہے جس کی کوئی مثال نہیں دی جاسکتی، اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی حلقے تو بہر حال کسی نہ کسی مسئلے میں ایک دوسرے سے اختلاف رائے کرتے ہی رہتے ہیں لیکن سیاسی جماعتوں میں بھی اختلافات اور تنازعات شدید رہے خصوصاً تحریک انصاف اور ن لیگ مسلسل برسرپیکار نظر آئیں، زہرہ کا دور اصغر ابھی جاری ہے اور جون 2019 ءتک جاری رہے گا، اس دور میں مزید اختلافات اور تنازعات پیدا ہوں گے جن کے منفی پہلوو ¿ں سے قطع نظر مثبت پہلو بھی قابل غور ہیں یعنی باہمی اختلاف رائے اور تنازعات کے نتیجے میں بہت سے چہرے بے نقاب ہوئے ہیں اور ہوں گے، ان کی اصلیت خاصی حد تک عوام کے سامنے آچکی ہے اور مزید آئے گی۔
سیارہ مشتری پاکستان کے زائچے کا سب سے زیادہ خطرناک اثر ڈالنے والا سیارہ ہے، یہ اب ویدک سسٹم کے مطابق برج میزان میں داخل ہوچکا ہے اور تقریباً پورا سال زائچے کے چھٹے گھر میں حرکت کرے گا جس کا تعلق وہی اختلافات و تنازعات، جنگ، الیکشن جیسے معاملات سے ہے، یکم دسمبر 2017 سے ہی زائچے کا دوسرا منحوس یعنی بارھویں گھر کا حاکم سیارہ مریخ بھی چھٹے گھر میں حرکت کر رہا ہے اور دونوں باہمی قران کی جانب بڑھ رہے ہیں، دو منحوسوں کا چھٹے گھر میں قران سول اور ملٹری سروسز کی ذمہ داریوں میں اضافے کرتا ہے اور انہیں مزید فعال بناتا ہے، مزید اس بات کی نشان دہی بھی ہوتی ہے کہ بے حد سخت فیصلے اور اقدام سامنے آسکتے ہیں، گویا نئے سال کی ابتدا بہت خوش گوار نظر نہیں آتی، نومبر میں فیض آباد دھرنا حکومت کے گلے پڑگیا اور ابھی اس حوالے سے صورت حال مکمل طور پر صاف نہیں ہوسکی ہے،لاہور میں ایک دوسرا گروپ اپنا دھرنا جاری رکھنے پر بضد ہے،دسمبر میں صورت حال مزید خراب ہوتی نظر آتی ہے،حکومت بے بسی کا نمونہ بنی ہوئی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی وقت بھی کوئی نیا سیٹ اپ سامنے آسکتا ہے۔
جیسا کہ ہم پہلے بھی نشان دہی کرچکے ہیں کہ دسویں گھر کا حاکم سیارہ زحل اب آئندہ ڈھائی سال تک زائچے کے آٹھویں گھر میں قیام کرے گا، گویا یہ صورت حال ملک کے سربراہ ، کابینہ اور ملک کے عزت و وقار کے لیے خوش آئند نہیں ہے،گزشتہ سالوں میں ہماری سیاسی اشرافیہ نے جمہوری تماشے کے نام پر جو بویا ہے ، اس نے ہمیں دنیا میں بہت رسوا کیا ہے،انڈیا کے بعد اب امریکا اور دیگر ممالک بھی ہم پر مختلف الزامات لگارہے ہیں، حالاں کہ ہم نے دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں اور دے رہے ہیں۔
جنوری میں سیارہ زحل کے علاوہ عطارد، شمس اور زہرہ بھی زائچے کے آٹھویں گھر میں ہوں گے لہٰذا جنوری کا مہینہ پاکستان کے لیے ایک مشکل مہینہ ثابت ہوسکتا ہے۔
زائچہ ءپاکستان میں پانچویں گھر کا حاکم سیارہ عطارد زائچے کے ساتویں گھر میں اچھی پوزیشن رکھتا ہے لیکن راہو کیتو کی نئی پوزیشن اس حوالے سے خاصی معنی خیز ہے، راہو زائچے کے تیسرے گھر میں رہتے ہوئے پیدائشی عطارد سے گزشتہ سال ہی سے ناظر ہے جس کی ایک جھلک 25 نومبر کو سامنے آئی تھی ، تمام ٹی وی چینلز، سوشل میڈیا اور یوٹیوب وغیرہ بند کردیے گئے تھے، یہ اسی زاویے کا کمال تھا، راہو کی نظر عطارد پر خاصے لمبے عرصے تک اثر انداز رہے گی جس کے نتیجے میں میڈیا اور سوشل میڈیا پر دباو ¿ بھی آئے گا اور اس کی کارکردگی بھی اطمینان بخش نہیں رہے گی لیکن موقع ملنے پر میڈیا منفی کردار ادا کرنے میں کسی سے پیچھے نہیں رہے گا لہٰذا اس پر پابندیاں اور قدغن لگ سکتے ہیں۔
بے شک پہلے بھی ایسے قوانین یا آرڈیننس لانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے کہ کسی طرح میڈیا پر قابو پایا جائے مگر ایسا ممکن نظر نہیں آتا، سال 2018 ءکے آغاز سے ہی میڈیا اپنا طاقت ور کردار ادا کرتا نظر آتا ہے جو مثبت کم ہے اور منفی زیادہ۔میڈیا میں جو گروپ بندی ہوچکی ہے یہ 2018 ءمیں مزید محاذ آرائی کا سبب بنے گی اور اس کا نتیجہ آگے چل کر پاکستانی میڈیا کی رسوائی اور ذلت کا سبب ہوگا۔
چوں کہ عطارد زائچے کے پانچویں گھر کی مول ترکون کا حاکم ہے جس کا تعلق انٹرٹینمنٹ، شعور، انعامی اسکیموں، اعلیٰ تعلیم اور بچوں کے معاملات سے ہے لہٰذا راہو کی نظر ان معاملات پر بھی اثر انداز ہوگی، شوبزنس میں بہت سی حدود قیود ٹوٹ سکتی ہیں، فلم اور ڈراموں میں نئے اور انوکھے تجربات کیے جاسکتے ہیں، دیگر انٹرٹینمنٹ کے معاملات، جوئے، سٹے وغیرہ سے متعلق معاملات میں بھی تیزی آسکتی ہے،یہ شعبے بے لگام ہوسکتے ہیں، تعلیم کے نام پر لوٹ مار کا سلسلہ پرائیویٹ اسکولوں نے جاری رکھا ہوا ہے،اس میں بھی اضافہ ہوگا، اسکولوں اور کالجوں اور یونیورسٹیز کا ماحول مزید خراب ہوسکتا ہے،2018 ءکی ابتدا میں یعنی پہلے 6 ماہ میں طلبہ میں سیاسی رجحان بڑھ جائے گا، اسٹوڈنٹس یونینز فعال ہوسکتی ہیں۔
مجموعی طور پر جنوری کے مہینے سے بہت ذیادہ مثبت توقعات وابستہ نہیں کی جاسکتیں۔
فروری
فروری میں کثرت سیارگان زائچے کے نویں گھر میں ہوگی لہٰذا اس مہینے کو مثبت ترقیاتی سرگرمیوں کا مہینہ قرار دیا جاسکتا ہے لیکن ساتھ ہی منفی پہلو بھی نمایاں رہیں گے خصوصاً نئی قانون سازی مثبت سوچ کے بجائے اور عوامی بھلائی کو نظر انداز کرکے ذاتی مفادات کے تحت ہوگی،مستقبل کی نئی منصوبہ بندی، آئینی اور قانونی معاملات پر توجہ، خارجہ پالیسی میں مثبت پیش رفت،سینٹ الیکشن کے سلسلے میں سرگرمیاں اس مہینے کا خاصہ ہوں گی، زائچہ ءپاکستان کے نویں گھر میں پیدائشی طور پر راہو، قمر اور زہرہ موجود ہیں لہٰذا ٹرانزٹ پوزیشن میں جب عطارد، شمس ، زہرہ اور کیتو اس گھر پر اثرات ڈالیں گے تو آئینی اور قانونی معاملات میں نئی ترامیم کا چرچا ہوگا،آئندہ انتخابات کے حوالے سے آئین ساز اسمبلی اور نئی آئین سازی کا شوشا سامنے آسکتا ہے، حکومت چاہے گی کہ آئین میں اپنی ضرورتوں اور مفادات کے مطابق مزید ترامیم کرے لیکن یہ اتنا آسان نہیں ہوگا، بے لگام میڈیا اور مقتدر حلقے اس کوشش میں حارج ہوں گے،اس بات کا امکان موجود ہے کہ فروری سے آئینی اور قانونی حوالوں سے نت نئے مباحثے شروع ہوجائیں، اسی مہینے میں خارجہ پالیسی کے نئے رُخ بھی سامنے آئیں گے اور وفاقی سطح پر بیوروکریسی میں بھی نمایاں تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی۔

مارچ، اپریل

مارچ سینیٹ کے الیکشن کا مہینہ ہے جس کے لیے تیاریاں فروری ہی سے شروع ہوجاتی ہیں، اس مہینے میں سیارہ مریخ زائچہ ءپاکستان میں آٹھویں گھر میں داخل ہوگا اور فوری طور پر پیدائشی مریخ اور گیارھویں گھر کو متاثر کرے گا ، ساتھ ہی دوسرے یا تیسرے گھر بھی اس کی زد میں آئیں گے، جس کے نتیجے میں سینٹ کے الیکشن میں بھی التوا کا خدشہ موجود ہے اور اسمبلیوں کے لیے بھی خطرات نظرانداز نہیں کیے جاسکتے، اگر الیکشن ہوئے تو حسب معمول دولت کا بے تحاشا استعمال یقینی ہے لیکن اس کے علاوہ غیر آئینی اور غیر قانونی سرگرمیاں عروج پر ہوں گی، مریخ کی یہاں موجودگی اس بار کچھ نئے گُل کھلائے گی، بعض معززین اور صاحب عہدہ و مرتبہ افراد کی پگڑیاں اچھلیں گی اور وہ ذلت کا سامنا کریں گے، اس مہینے میں معاشی صورت حال خاصی خراب ہوسکتی ہے، بعض حادثات و سانحات کا بھی خطرہ موجود ہے، کوئی اہم صاحب حیثیت شخصیت کسی حادثے یا سانحے کا شکار ہوسکتی ہے۔
اپریل کا مہینہ سیاسی طور پر خاصا پرجوش اور ہنگامہ خیز ہوسکتا ہے کیوں کہ سینیٹ کے الیکشن کے بعد کی صورت حال ایک نیا رُخ سامنے لائے گی، اسی مہینے میں آئینی ترامیم کے لیے کوششیں تیز ہوں گی لیکن زہرہ کا دور اصغر ان کوششوں کے بارآور ہونے میں رکاوٹ ثابت ہوگا، باہمی تنازعات و اختلافات حسب معمول جاری رہیں گے، حکومت اور حقیقی اپوزیشن تحریک انصاف کے درمیان بھی رسا کشی ہوتی رہے گی،اپریل میں مریخ اور زحل کا آٹھویں گھر میں قران کسی بڑے قومی سانحے یا کسی صاحب عہدہ و مرتبہ کی موت کا اندیشہ ظاہر کرتا ہے۔

مئی

مئی کی ابتدا ہی میں بارھویں گھر کا حاکم سیارہ مریخ نویں گھر میں داخل ہوگا اور فوری طور پر نویں ، بارھویں، تیسرے اور چوتھے گھر سے ناظر ہوگا، یہ نظر نئے آئینی اور قانونی پنڈورا باکس کھولے گی، بہت سے گڑھے مردے اکھڑےں گے، اگر ہم یہ کہیں تو غلط نہیں ہوگا کہ مئی کے مہینے میں شروع ہونے والی سرگرمیاں ایسی صورت حال پیدا کریں گی جن کا اختتام سال کے آخر تک نہ ہوسکے گا، اس اعتبار سے مئی کو ایک ہنگامہ خیز وقت کے آغاز کا مہینہ کہا جاسکتا ہے، اس مہینے تک عدلیہ کے اہم فیصلے بھی متوقع ہوں گے،واضح رہے کہ زائچے کے بارھویں گھر کا حاکم اور منحوس اثرات کا حامل سیارہ مریخ اپنے شرف کے گھر برج جدی میں داخل ہوگا جو پاکستان کے زائچے کا نواں گھر ہے اور اس گھر میں مریخ کا قیام اس سال خاصا طویل اور غیر معمولی اثرات کا حامل ہے۔

جون

مئی کے بعد جون کا مہینہ بھی خاصا سنسنی خیز نظر آتا ہے کیوں کہ نئی عبوری حکومت اگر اس دوران میں قائم ہوئی تو نئے تنازعات جنم لیں گے اور یہ تنازعات اس قدر بڑھ سکتے ہیں جن پر قابو پانا مشکل ہوجائے، میدان سیاست کی دو اہم پارٹیاں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) موجودہ سسٹم کو برقرار رکھنے کے لیے پوری کوشش کریں گی جب کہ تحریک انصاف اسے بدلنے پر زور دے گی جیسا کہ اس کا نعرہ ہے ، یہ محاذ آرائی جب حد سے بڑھے گی تو ایک بار پھر عدلیہ کو درمیان میں آنا پڑے گا۔
2018 ءمیں عدلیہ کا کردار خاصا نمایاں نظر آرہا ہے کیوں کہ سیارہ مریخ سال 2018ءمیں ایک طویل عرصہ زائچہ پاکستان کے نویں گھر میں گزارے گا اور خیال رہے کہ برج جدی سیارہ مریخ کے شرف کا گھر ہے، اس گھر میں پیدائشی زائچے میں چھٹے گھر کا حاکم زہرہ اور تیسرے گھر کا حاکم قمر پہلے سے موجود ہےں، ایک نہایت سنگین صورت حال کی بھی نشان دہی ہوتی ہے کیوں کہ کیتو بھی اسی گھر میں ٹرانزٹ کرے گا جب کہ سیاست کا ستارہ راہو بھی پیدائشی زائچے میں اسی گھر میں موجود ہے، سال 2018 ءکی یہ سب سے زیادہ اہم اور قابل توجہ صورت حال ہے جس کا آغاز مئی سے ہوگا، 8 جون کو مریخ اور کیتو کا پہلا قران ہوگا جب کہ 20 جولائی کو دوسری بار یہ دونوں قران کریں گے اور پھر تیسری بار 26 ستمبر کو مریخ اور کیتو قران کریں گے۔
بیرونی قوتوں اور ہمارے اہل سیاست کی کارروائیاں اس دوران میں تیز ہوجائیں گی،اہل سیاست کی کوشش ہوگی کہ عدلیہ کو مخصوص حدود و قیود میں رکھا جائے، بیرونی قوتیں اس مرحلے پر کوشش کرسکتی ہیں کہ ملک سے جمہوریت کی بساط لپٹ جائے اور پاکستان ایک غیر جمہوری ملک کہلائے، اس طرح وہ پاکستان کے حصے بخرے کرنے میں کامیاب ہوسکیں لیکن ان کا یہ خواب انشاءاللہ کبھی پورا نہیں ہوگا،عدلیہ کا کردار اور فیصلے اس سال بہت زیادہ اہمیت اختیار کریں گے اور تنازعات کا سبب بھی بنیں گے۔

دوسری شش ماہی

عزیزان من! موجودہ سال 2017 ءکی طرح آئندہ سال بھی 27 جون سے 12ستمبر تک کا وقت نہایت اہمیت کا حامل اور سنسنی خیز ہوگا کیوں کہ راہو کیتو دوسری بار 11 درجہ برج سرطان و جدی پر اسٹیشنری پوزیشن میں ہوںگے، زائچہ ءپاکستان میں نویں گھر برج جدی میں قمر تقریباً 6 درجہ اور زہرہ تین درجہ جب کہ راہو 12 درجہ قابض ہےں، ٹرانزٹ راہو کیتو 11 درجے پر اسٹیشنری ہوں گے اور اسی دوران میں اسی گھر میں مریخ کو رجعت ہوگی، یہ صورت حال نہایت خطرناک ہے، جمہوریت کے ساتھ آئین و قانون کی بساط بھی لپٹ سکتی ہے اور اس صورت میں الیکشن ایک خواب بن سکتے ہیں، خدا کرے کہ ہمارے اہل سیاست حالات کو ایسے رُخ پر نہ لے جائیں کہ ملک کسی غیر آئینی اقدام کا شکار ہو۔
اگر منفی سوچ کے ساتھ 2018 ءمیں بھی کام لیا گیا تو صورت حال مختلف ہوگی پھر جو خدا دکھائے سو لاچار دیکھیے۔
زائچے کے نویں گھر کی نہایت پیچیدہ اور سنگین سیاروی پوزیشن ہماری خارجہ پالیسی میں بھی کسی نئے یوٹرن کی نشان دہی کرتی ہے، مزید یہ کہ دیگر ممالک سے خصوصاً بھارت، افغانستان، امریکا وغیرہ سے تعلقات مزید کشیدہ ہوسکتے ہیں جس کے نتیجے میں ہم ایک غیر محسوس طریقے سے ایک نئی صف بندی میں شامل ہوجائیں گے،واضح رہے کہ 2018ءدنیا میں ایک نئی صف بندی کا سال ہے،اس سال کا مفرد عدد 2 ہے، دنیا 2 متحارب گروپوں میں تقسیم ہوجائے گی،پاکستان کو کسی ایک گروپ میں شامل ہونا پڑے گا جب کہ 2019 ءمیں تیسری عالمی جنگ کے امکانات بہت واضح ہیں۔
ستمبر 2018ءکے بعد کا پاکستان یقیناً ایک بدلہ ہوا پاکستان ہوگا، ملک نئے انتخابات کی طرف جائے گا یا کوئی ٹیکنوکریٹ حکومت ایک طویل عرصے کے لیے قائم ہوگی یا پھر ایک اور مارشل لا اس کا مقدر بنے گا، ان تمام سوالوں کا جواب ہمارے اہل سیاست کے آئندہ رویے اور طرز عمل پر ہے، اگر انہوں نے اب بھی صرف اپنے ذاتی اور پارٹی مفادات تک خود کو محدود رکھا تو انتخابات اُن سے بہت دور چلے جائیں گے، ایک سخت احتسابی عمل شروع ہوجائے گا، کوئی اس خوش فہمی میں نہ رہے کہ بین الاقوامی قوتیں ہمارے ملک میں جمہوری نظام کو سپورٹ کریں گی اور مارشل لائی نظام کی مخالفت کی جائے گی، امریکا میں ری پبلکن برسراقتدار ہےں اور امریکی صدر مسٹر ٹرمپ ایک بڑی انوکھی شخصیت کے مالک ہیں، ہمارے ملک میں جمہوریت ہو یا مارشل لا، وہ صرف اپنے مفادات کو دیکھیں گے۔
جولائی اگست اور ستمبر کے مہینے ایک بالکل بدلے ہوئے عوامی موڈ کی نشان دہی کرتے ہیں جن میں اہل سیاست سے شدید نفرت و بے زاری اور انتخابات کے بجائے احتساب کا مطالبہ شدید ہوگا، موجودہ آئین سے بھی بے زاری کا کھلا اظہار دیکھنے میں آئے گا اور شاید یہ مطالبہ زور پکڑ جائے کہ آئین کی ازسر نواصلاح کی جائے اور اس سلسلے میں آئندہ الیکشن وہ جب بھی ہوں آئین ساز اسمبلی کے لیے کیے جائیں، ممکن ہے اس حوالے سے کسی ریفرنڈم کا مطالبہ بھی سامنے آئے، اگست کا مہینہ جشن آزادی کا مہینہ ہے لیکن اسی ماہ سے پاکستان کا نیا سال بھی شروع ہوتا ہے اور اسی مہینے سے پاکستان میں تبدیلیوں کی ایک نئی لہر بھی شروع ہوتی ہے جو آنے والے سال اگست تک جاری رہتی ہے،اگر ضروری اصلاحات کرلی گئیں تو نئے انتخابات کی راہ ہموار ہوجائے گی بہ صورت دیگر انتخابات کی تاریخ آگے بڑھائی جاسکتی ہے اور یہ تمام معاملات عدلیہ کی زیر نگرانی طے ہوں گے۔
دسمبر 2018 ءسے ایک بار پھر راہو کیتو زائچہ ءپاکستان میں ایسی پوزیشن پر ہوں گے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی میں نمایاں تبدیلی لاسکتی ہے،اس وقت بھی پاکستان کے بین الاقوامی تعلقات خاصے پریشان کن ہوسکتے ہیں، گویا سال ختم ہونے سے پہلے ہی ہمیں ایک نئی بین الاقوامی صف بندی کا سامنا ہوگا جس سے الگ رہنا ممکن نظر نہیں آتا، اکتوبر 2018 اس اعتبار سے نہایت اہم مہینہ ہوگا جس میں پڑوسی ممالک سے جنگی محاذ آرائی کا امکان نظر آتا ہے اور اگر ایسا ہوا تو یہ کوئی چھوٹی موٹی سرحدی جھڑپ نہیں ہوگی بلکہ جنگی محاذ خاصا وسیع ہوسکتا ہے۔
حاصل کلام یہ ہے کہ سال 2018 ءموجودہ سیاسی اشرافیہ کے لیے تو کسی طور پر بہتر نظر نہیں آتا لیکن پاکستان اور پاکستانی عوام کے لیے یہ ایک بہتر سال ہوگا جس میں زیادہ سے زیادہ زور اصلاح و درستگی پر دیا جائے گا (واللہ اعلم بالصواب)

ہفتہ، 25 نومبر، 2017

دسمبر کی فلکیاتی پوزیشن، حالات میں نئی کروٹ کا امکان

سندھ اور کراچی میں آپریشن کی رفتار مزید تیز ، اہم شخصیات زیر عتاب 
کراچی سے خیبر تک ملک کا جو حال ہے،وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے،اخبارات اور ٹی وی کے ذریعے ہمیں روز ہی نت نئے افسوس ناک واقعات و تماشے دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں، ملک کا دارالحکومت اسلام آباد دھرنے کی وجہ سے مفلوج ہے،حکومت نام کی کوئی شے اگر ہے تو خدا معلوم کیا کر رہی ہے؟ ملکی معیشت کے بارے میں روز بہ روز پریشان کن خبریں آرہی ہیں، لاءاینڈ آرڈر کی صورت حال بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے،کرائم اور حادثات میں اضافہ ہورہا ہے،سیاسی جماعتیں اپنے اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ میں مصروف ہیں، بیوروکریسی ایک غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہے،فوج سرحدوں پر موجود خطرات اور داخلی طور پر دہشت گردی جیسے مسائل میں الجھی ہوئی ہے،دسمبر کا آغاز ملکی صورت حال میں خاصی دھما چوکڑی کی کیفیت لاسکتا ہے،اہم اور سنگین نوعیت کے واقعات اور حالات اس ماہ میں متوقع ہےں، سندھ اور کراچی کے زائچے کے مطابق دسمبر میں صورت حال کوئی نیا ٹرننگ پوائنٹ لاسکتی ہے،آپریشن کی رفتار مزید تیز ہوگی، اہم اور مشہور شخصیات اس کی زد میں آسکتی ہے،وزیراعلیٰ سندھ اور ان کی کابینہ کے لیے بھی سنگین خطرات ہوسکتے ہیں، عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا، مہنگائی کا نیا طوفان آسکتا ہے (واللہ اعلم بالصواب)۔
دسمبر کے ستارے
سیارہ شمس برج قوس میں حرکت کر رہا ہے،21 دسمبر کو برج جدی میں داخل ہوگا،سیارہ عطارد برج قوس میں ہے، 3 دسمبر کو اسے رجعت ہوگی اور پھر 23 دسمبر کو مستقیم ہوگا، توازن و ہم آہنگی کا ستارہ زہرہ یکم دسمبر کو برج قوس میں داخل ہوگا اور پھر 25 دسمبر کو برج جدی میں چلا جائے گا، 29 نومبر سے سیارہ زہرہ شمس کے قریب ہونے کی وجہ سے غروب ہے اور آئندہ سال 20 فروری تک غروب رہے گا، اس دوران میں شمس سے بہت زیادہ قریب ہوکر مکمل طور پر اپنی قوت کھودے گا، قوت و توانائی کا ستارہ مریخ برج میزان میں ہے،9 دسمبر کو اپنے برج عقرب میں داخل ہوگا اور پورا مہینہ اسی برج میں حرکت کرے گا، سیارہ مشتری برج عقرب میں رہے گا،سیارہ زحل برج قوس میں ہے،20 دسمبر کو اپنے ذاتی برج جدی میں داخل ہوگا اور آئندہ ڈھائی سال تک اسی برج میں قیام کرے گا،سیارہ یورینس برج حمل میں حرکت کر رہا ہے جب کہ نیپچون برج حوت میں اور پلوٹو برج جدی میں بدستور رہیں گے،راس و ذنب بالترتیب برج اسد اور دلو میں حرکت کریں گے، دسمبر کے مہینے میں سیارگان کی یہ پوزیشن یونانی یا ویسٹرن سسٹم کے مطابق ہے۔
نظرات و اثرات سیارگان
دسمبر میں اہم سیارگان کے درمیان باہمی طور پر جو زائچے تشکیل پارہے ہیں وہ آنے والے نئے سال کا استقبالیہ ہےں، اس مہینے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ سیارگان کے درمیان 6 قرانات ہوں گے،ایسا عام طور پر بہت کم ہوتا ہے،باہمی طور پر دو سیارگان کے ملاپ کو قران کہا جاتا ہے اور یہ قرانات نئے کاموں یا نئے معاملات یا مسائل کی بنیاد رکھتے ہیں جو اچھے بھی ہوسکتے ہیں اور برے بھی اس کا انحصار سیارگان کی باہمی خصوصیات کے مطابق ہوتا ہے،مزید یہ کہ اس مہینے سے توازن و ہم آہنگی، محبت و دوستی، منگنی اور شادی سے متعلق سیارہ زہرہ غروب حالت میں رہے گا جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوں گے،خصوصاً خواتین کے لیے یہ اچھا وقت نہیں ہوگا،اس عرصے میں منگنی یا نکاح وغیرہ کرنا موافق نہیں ہوگا۔
 اس مہینے میں تثلیث کے چار سعد زاویے اور تسدیس کے دو سعد زاویے ہوں گے جب کہ ایک مقابلے کا زاویہ اور دو اسکوائر کے زاویے ہوں گے جو عام طور پر نحس اثر کے حامل خیال کیے جاتے ہیں، 6 قرانات میں ایک انتہائی نحس ہوگا، دسمبر میں تشکیل پانے والے سیاروی زاویوں کی تفصیل ترتیب وار درج ذیل ہے۔
یکم دسمبر: مریخ اور یورینس کے درمیان مقابلے کا زاویہ سخت نحس اثر رکھتا ہے،یہ وقت حادثات و سانحات کا امکان ظاہر کرتا ہے،اس زاویے میں یورینس کی موجودگی غیر متوقع اور اچانک سامنے آنے والے حادثات و سانحات کا خدشہ ظاہر کرتی ہے،بین الاقوامی یا ملکی سطح پر حادثات و سانحات کے علاوہ اچانک پیدا ہونے والی کسی کشیدگی یا جنگ و جدل کا امکان ہوتا ہے،عام افراد کو اس دوران میں ڈرائیونگ میں احتیاط کرنا چاہیے،کسی ایڈونچر سے دور رہنا چاہیے۔
3 دسمبر: مشتری اور نیپچون کا قران ایک سعد اثر رکھتا ہے،اس وقت وجدانی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے،پیچیدہ قانونی معاملات میں نئے راستے سامنے آتے ہیں، عبادات و روحانی مشاغل کے لیے بہتر وقت ہوتا ہے، علمی اور تخلیقی نوعیت کے کاموں میں غیر معمولی کارکردگی کا نظارہ ہوسکتا ہے۔
اسی تاریخ کو شمس اور نیپچون کے درمیان اسکوائر کا زاویہ نحس اثر رکھتا ہے،گورنمنٹ کے نامناسب فیصلے اور اقدام ظاہر ہوتے ہیں، گورنمنٹ سے متعلق کاموں میں رکاوٹیں سامنے آتی ہیں، اعلیٰ عہدے اور مرتبے کے حامل افراد تنزلی یا عتاب کا شکار ہوتے ہیں، عام افراد کو اس وقت میں اعلیٰ افسران یا صاحب حیثیت افراد سے اچھی توقع نہیں رکھنا چاہیے، گورنمنٹ سے متعلق کاموں کو بھی آئندہ کسی بہتر وقت کے لیے اُٹھا رکھنا چاہیے۔
6 دسمبر: عطارد اور زحل کے درمیان قران کا زاویہ سعد اثر رکھتا ہے،اس وقت رکے ہوئے کاموں میں پیش رفت ہوسکتی ہے، ضروری نوعیت کے ایگریمنٹس کرنا بہتر ہوتا ہے،اہم دستاویزات کی تیاری، پراپرٹی سے متعلق امور بہتر طور پر انجام پاتے ہیں،علاج معالجے کے لیے بھی یہ وقت معاون و مددگار ہوسکتا ہے۔
اسی تاریخ کو عطارد و مریخ کے درمیان تسدیس کا زاویہ بھی سعد اثرات کا حامل ہے،اس وقت مشینری یا ٹرانسپورٹ سے متعلق کاروبار سے فائدہ ہوگا، ٹیکنیکل نوعیت کے کاموں کی انجام دہی بہتر رہے گی،سفر سے متعلق مسائل و مشکلات کو حل کرنے میں آسانی ہوگی،کوئی نیا سفر پیش آسکتا ہے۔
7 دسمبر: مریخ اور زحل کے درمیان تسدیس کا زاویہ سعد اثر رکھتا ہے،یہ وقت کان کنی اور زمین سے حاصل ہونے والی معدنیات کی تلاش یا ان کے حصول میں مددگار ہوگا، ایسے کاموں سے فائدہ ہوگا جن میں مشینری استعمال ہو، کنسٹرکشن کے لیے موزوں وقت ہے۔
10 دسمبر: عطارد اور یورینس کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ غیر معمولی نوعیت کی معلومات اور انکشافات سامنے لاتا ہے،میڈیا میں چونکا دینے والی خبریں گردش کرتی ہیں، اچانک سفر درپیش ہوتے ہیں، انٹرنیٹ اور الیکٹرونکس سے متعلق کام یا کاروبار کے ذریعے بہتر نتائج حاصل ہوتے ہیں، نت نئی الیکٹرونکس پروڈکٹس سامنے آتی ہیں، یہ وقت نئی تبدیلیوں کے لیے بھی معاون و مددگار ثابت ہوتا ہے۔
اسی تاریخ کو زہرہ اور نیپچون کے درمیان اسکوائر کا نحس زاویہ قائم ہوگا، اس وقت میں دھوکے یا فراڈ سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے خصوصاً خواتین کے معاملات میں محتاط ہوکر فیصلے کریں، ان کا رویہ اور طرز عمل گمراہ کن ہوسکتا ہے،خواتین کو بھی اس وقت میں جذباتی طرز عمل اور سوچ سے گریز کرنا چاہیے اور اپنی خواہشات پر کنٹرول کرنا چاہیے۔
13 دسمبر: شمس و عطارد کا قران ایک نحس اثر رکھتا ہے،اس وقت ضروری معلومات کے حصول میں دشواری ہوتی ہے یا غلط معلومات حاصل ہوتی ہیں،سفر میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے،لوگوں سے رابطے میں اور بات چیت میں مشکل پیش آتی ہے،اس وقت کسی بھی معاملے میں بحث و تکرار سے گریز کرنا چاہیے۔
15 دسمبر: زہرہ اور عطارد کے درمیان قران کا زاویہ سعد اثر رکھتا ہے،یہ وقت باہمی طور پر افہام و تفہیم کے لیے بہتر ہے،خصوصاً محبت، دوستی، منگنی یا شادی کے معاملات کو طے کرنے کے لیے لیکن چوں کہ زہرہ غروب ہوگا لہٰذا غلط فیصلے بھی ہوسکتے ہیں، دو افراد کے درمیان مصالحت یا تنازعات کو ختم کرنے کے لیے کوششیں بارآور ہوسکتی ہیں،اس وقت میں آرٹسٹک نوعیت کے کام اچھے نتائج دیتے ہیں، تحریروتقریر کے لیے بھی بہتر وقت ہوگا۔
16 دسمبر: شمس اور یورینس کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ قائم ہوگا، یہ وقت گورنمنٹ کے غیر متوقع اور اچانک فیصلے یا اقدام سامنے لاتا ہے،عام افراد کو اس وقت میں گورنمنٹ سے متعلق کاموں میں کامیابی مل سکتی ہے،الیکٹرونکس کے کاروبار میں غیر معمولی فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔
21 دسمبر: زہرہ اور یورینس کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ چونکا دینے والے اور غیر متوقع نئے تعلقات سامنے لاتا ہے،ایسے لوگوں سے اچانک ملاقات ہوجاتی ہے جن سے ملنے کی امید نہ رہی ہو، محبت کے معاملات میں بھی یہ نظر غیر متوقع یا اچانک نئی دلچسپیاں سامنے لاتی ہے،بعض لوگوں کی منگنی یا اچانک شادی کا پروگرام بن سکتا ہے،پہلی نظر کی محبت و پسندیدگی ایسے ہی اوقات میں رنگ دکھاتی ہے۔
22 دسمبر: شمس اور زحل کا قران ایک نہایت منحوس اثر کا حامل زاویہ ہے،یہ وقت حکومتوں کے خلاف عوامی احتجاج لاتا ہے،اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد یا سرکاری افسران وقت کی سختی اور حالات کی گردش کا شکار ہوتے ہیں، ایسی قانون سازی کا امکان ہوتا ہے جو عوامی مفاد میں نہ ہو، نئے ٹیکس یا مہنگائی میں اضافے کا امکان ہوتا ہے،عام افراد گورنمنٹ سے متعلق کاموں یا مقدمات میں پریشانی کا سامنا کرتے ہیں، پراپرٹی سے متعلق سودے یا دستاویزات کی تیاری اس وقت ناموافق ہوگی۔
25 دسمبر: زہرہ اور زحل کے درمیان قران کا زاویہ اگرچہ سعد اثر کا حامل ہے لیکن زہرہ کی پوزیشن اس وقت بہتر نہیں ہوگی جس کی وجہ سے مثبت نتائج کا حصول ممکن نہیں ہوگا،خصوصاً خواتین سے متعلق معاملات پیچیدگی یا تنازعات پیدا کرسکتے ہیں، ازدواجی زندگی میں کوئی بدمزگی یا تلخی ماحول کو متاثر کرسکتی ہے، خواتین کے ساتھ نامناسب یا ظالمانہ سلوک دیکھنے میں آسکتا ہے۔
28 دسمبر: مریخ اور نیپچون کے درمیان تثلیث کا زاویہ اگرچہ سعد اثر رکھتا ہے لیکن مثبت نوعیت کے کاموں کے لیے بہتر نہیں ہوگا، البتہ منفی دلچسپیوں اور سرگرمیوں میں مددگار ہوگا، شپنگ کے معاملات میں فوائد حاصل ہوں گے،اس وقت ٹیکنیکل نوعیت کی سرگرمیاں اور دلچسپیاں اچھے نتائج دیں گی۔
قمر در عقرب
قمر اپنے ہبوط کے برج عقرب میں پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 13 دسمبر کو شام 06:58 pm کو داخل ہوگا اور 16 دسمبر کو صبح 06:07 am تک برج عقرب میں رہے گا،اس دوران میں اپنے درجہ ءہبوط پر 13 دسمبر رات 10:51 pm سے 14 دسمبر 12:48 am تک رہے گا، یہی وقت زیادہ اہم اور مو ¿ثر ہوتا ہے۔
جی ایم ٹی ٹائم (لندن) کے مطابق برج عقرب میں قمر کا داخلہ 13 دسمبر کو دوپہر 01:58 pm پر ہوگا اور 16 دسمبر 01:07 am تک اسی برج میں رہے گا جب کہ اپنے درجہ ءہبوط پر 13 دسمبر کو 05:51 pm سے 07: 48pm تک رہے گا۔
عزیزان من! جی ایم ٹی ٹائم کے مطابق قمر در عقرب کی نشان دہی اس لیے کی جارہی ہے کہ دنیا بھر میں رہنے والے افراد اپنے اپنے ملک اور شہر سے لندن ٹائم کی کمی و بیشی کو مدنظر رکھ کر اس وقت کو اپنے شہر کے وقت کے مطابق تبدیل کرسکتے ہیں۔
قمر در عقرب کی مناسبت سے پہلے بھی بہت سے عملیات اور نقوش دیے گئے ہیں اس بار بھی ایک عمل دیا جارہا ہے، اسے طریقے کے مطابق اس وقت کیا جائے جب قمر اپنے درجہ ءہبوط پر ہو۔
دو افراد کے درمیان عداوت و دشمنی
اکثر دو افراد کے درمیان عداوت یا دشمنی اس قدر بڑھ جاتی ہے اور پورے خاندان کے لیے عذاب بن جاتی ہے،اس کا خاتمہ ضروری ہے، اکثر تو اس بنیاد پر باہمی قریبی رشتوں میں دراڑیں پڑجاتی ہیں، ایسی صورت حال کے لیے درج ذیل عمل مفید ثابت ہوگا، دیکھنا یہ ہوگا کہ دونوں میں سے حق پر کون ہے اور ناحق کون کر رہا ہے؟ لہٰذا نقش لکھتے ہوئے پہلے اُس فریق کا نام مع والدہ لکھیں جو ظلم و زیادتی کر رہا ہو اور بعد میں اس کا نام لکھیں جو حق پر ہو اور اس ساری دشمنی میں اپنا دفاع کر رہا ہو۔
احدرسص طعک لموہ لادیایا غفور یا غفور بستم اختلاف و عداوت فلاں بن فلاں و بین فلاں بن فلاں بحق صمُ بکمُ عمیُ فہم لایعقلون یا حراکیل العجل العجل العجل الساعة الساعة الساعة الوحا الوحا الوحا
کسی صاف کاغذ پر نیلی یا کالی روشنائی سے دو نقش گہن کے وقت لکھیں اور موم جامہ یا اسکاچ ٹیپ لپیٹ کر اُس راستے میں دائیں بائیں کسی سائیڈ دفن کردیں، جہاں سے اُن کا گزر ہوتا ہو، زمین میں دفن کرنے سے پہلے نقش پر کوئی وزنی پتھر بھی رکھ دیں، بعد ازاں کچھ مٹھائی پر فاتحہ دے کر بچوں میں تقسیم کریں اور حسب توفیق صدقہ و خیرات کریں۔
مخالف کی زبان بندی
عین ہبوط کے وقت مندرجہ ذیل سطور کالی یا نیلی روشنائی سے لکھیں یا سیسے کی تختی پر کسی نوکدار چیز سے کندہ کریں اور پھر کسی بھاری چیز کے نیچے دبا دیں یا کسی نم دار جگہ دفن کر دیں۔ انشاءاﷲ وہ شخص آپ کی مخالفت سے باز آجائے گا۔
ا ح د ر س ص ط ع ک ل م و ہ لا د یا یا غفور یا غفور عقد اللسان فلاں بن فلاں فی الحق فلاں بن فلاں یا حراکیل
برائے خواب بندی
خواب بندی سے مراد یہی ہے کہ کسی کی توجہ حاصل کی جائے یعنی وہ ہمیشہ آپ کے لیے بے چین اور بے قرار رہے ، اس مقصد کے لیے درج ذیل نقش لکھ کر کسی وزنی چیز کے نیچے دبائیں ،یہ نقش قمر در عقرب یا سورج یا چاند گہن میں لکھا جائے گا۔
ا ح د ر س ص ط ع ک ل م و ہ لا د یا یا غفور یا غفور بستم خواب و خود فلاں بن فلاں (یہاں اس کا نام مع والدہ لکھیں جس کے دل میںمحبت پیدا کرنا ہے) علے حب فلاں بن فلاں( اپنا نام مع والدہ) یا حراکیل
شرف قمر
اس ماہ چاند اپنے درجہ ءشرف پر پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق دو مرتبہ درجہ ءشرف پر آئے گا اور دونوں مرتبہ عروج ماہ ہوگا یعنی چاند کی پہلی سے 14 تاریخ کے درمیان، اس عرصے کو علم جفر کی اصطلاح میں عروج ماہ اور عام زبان میں چڑھتا چاند کہا جاتا ہے،اس عرصے میں شروع کیے گئے کام بہتر نتائج دیتے ہیں جب کہ چاند کی 14 کے بعد کا وقت زوال ماہ کہلاتا ہے اور اس دوران میں شروع کیے گئے کاموں میں سعادت کا حصول ممکن خیال نہیں کیا جاتا، قدیم زمانے سے شادی بیاہ جیسے معاملات میں چاند کی شروع تاریخوں کو ہمیشہ اولیت حاصل رہی ہے۔
چاند ہمارا سب سے قریبی سیارہ ہے،اسی لیے کہا جاتا ہے کہ زمین پر اس کے اثرات نہایت قوی اور فوری نوعیت کے ہوتے ہیں جیسا کہ سمندر میں مدجزر چاند ہی کی گردش کا نتیجہ ہے، چڑھتے چاند میں سمندر چڑھتا ہے اور اترتے چاند میں اترتا ہے، یہ ایک عام مشاہدہ ہے جو کوئی بھی شخص کرسکتا ہے،دنیا میں پہلی مرتبہ سمندر یا پانی پر چاند کے اس اثر کا مشاہدہ شہرہ آفاق پینٹنگ مونا لیزا کے خالق لیونارڈ ڈاو ¿نجی نے کیا تھا۔
قمر کو برج ثور کے تین درجے پر شرف کی قوت حاصل ہوتی ہے، اس ماہ پہلا شرف قمر پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق یکم دسمبر کو 4:58 am سے 06:38 am تک ہوگا جب کہ دوسرا موقع 28 دسمبر کو 02:50 pm سے 04:35 pm تک ملے گا۔
جی ایم ٹی (لندن) ٹائم کے مطابق پہلا شرف قمر 31 دسمبر رات 11:58 pm سے شروع ہوگا اور یم دسمبر 01:38 am تک رہے گا جب کہ 28 دسمبر کو 09:50 am سے 11:35 am تک قمر اپنے درجہ ءشرف پر ہوگا۔اپنے ملک اور شہر سے لندن ٹائم کا فرق اس ٹائم میں جمع یا تفریق کرلیں۔
عزیزان من! چوں کہ دسمبر میں شرف قمر 2 بار ہوگا اور سونے پر سہاگا یہ کہ عروج ماہ میں ہوگا، اس سعد اور مو ¿ثر ترین وقت پر اگر لوح قمر نورانی تیار کی جائے تو یہ ایک بےش بہا تحفہ ہوگا لہٰذا اس لوح کی تیاری کے تمام اصول و قواعد یہاں دیے جارہے ہیں اور لوح بھی دی جارہی ہے، امید ہے کہ ضرورت مند اس تحفہ ءخاص سے فائدہ اٹھائیں گے، جو لوگ کسی مجبوری کے تحت خود تیار نہ کرسکیں وہ براہ راست رابطہ کرسکتے ہیں۔
لوح قمر نورانی

حروف نورانی کا یہ نقشِ معظم ایک بیش بہا قیمتی تحفہ ہے، اس کے فوائد بے شمار ہیں جو لوگ وقتِ مقررہ پر تیارکرکے پاس رکھیں گے وہی اس کا لُطف بھی اُٹھائیں گے۔
واضح رہے کہ سیارہ قمر کا تعلق ملائکہ میں حضرت جبرائیل ؑ سے ہے اور اسماءالحسنیٰ یا رحمن یا رحیم ہیں،نقش مذکورہ کے ہر تین خانوں کی میزان 708 ہے اور یا ملک الرحمن الرحیم کے اعداد بھی 708 ہیں،حروف نورانی میں طٰسٓمٓ نٓ سیارہ قمر سے منسوب ہیں،الٓمٓرٰ سیارہ شمس سے اور حٰمٓعٓسٓقٓ سیارہ زہرہ سے منسوب ہیں،نقش کے درمیان میں انگریزی ہندسے نقش کی چال کو ظاہر کرتے ہیں یعنی پہلا خانہ کون سا ہے اور دوسرا، تیسرا کون سا ہے؟یہ اعداد نقش میں نہیں لکھے جائیں گے ۔
نویں خانے میں 313کے اعداد ہیں جو فتح و نصرت اور کامیابی سے متعلق ہےں،یہ راز بھی غور طلب ہے کہ تاریخ اسلام کا پہلا معرکہ ءحق و باطل غزوئہ بدر ہے جس میں شرکائے اسلام کی تعداد 313 تھی، صدیوں قبل حضرت داو ¿دؑ نے جالوت کے زبردست لشکر کو شکت دی، کہا جاتا ہے کہ اس جنگ کے دوران میں بھی آپؑ کے ساتھیوں کی تعداد 313 تھی، اگر 313 کا مفرد عدد حاصل کیا جائے تو 3+1+3=7 ، گویا مفرد عدد 7 ظاہر ہوا، اس کی پراسراریت اپنی جگہ،اسے ایک مقدس عدد بھی تسلیم کیا جاتا ہے، دنیا بھر کے تمام مذاہب میں 7 کے عدد کو مذہبی رسومات کی ادائیگی میں اولیت دی جاتی ہے،اس کی تفصیل میں جانے کی ہم ضرورت محسوس نہیں کرتے، اہل اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب بھی اس حقیقت سے باخبر ہیں۔
لوح قمر نورانی کو شرف قمر کے دوران میں چاندی کی پلیٹ پر لکھا جائے کیوں کہ قمر کی دھات چاندی ہے۔ باوضو ہوکر رجال الغیب کی سمت کا خیال رکھتے ہوئے، لوبان ‘کافور یا عود کی اگربتی کمرے میں جلائی جائے اور لباس میں کیوڑہ یا عرق گلاب کا عطر لگائیں۔
 نقش کی پُشت پر قمر کے مو ¿کلاتِ علوی و سماوی تحریر کریں اور اپنا نام مع والدہ بھی لکھیں،بعد ازاں کچھ مٹھائی پر فاتحہ دیں اور بچوں میں تقسیم کردیں،نقش کو موم جامع یا پلاسٹک کوٹڈ کرالیں اور نوچندے پیر کے روز صبح سورج نکلنے کے بعد ایک گھنٹے کے اندر 708 مرتبہ یا مالک الرحمن الرحیم کا ورد کرکے لوح پر دم کریں اور اپنے پاس رکھیں،یہ کام نقش لکھنے کے فوراً بعد بھی کیا جاسکتا ہے، اب ان اسمائے الٰہی کو اپنے ورد میں شامل کرلیں یعنی روزانہ 708 مرتبہ اول آخر گیارہ بار درود شریف کے ساتھ پڑھنا اپنا معمول بنالیں اور اللہ سے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے دعا کریں۔
 قمر کے مو ¿کلاتِ ارضی و سماوی یہ ہیں ۔یامیکائل ، یا شدحائل ابوالنور مرة الابیض بن الحارث 

ہفتہ، 18 نومبر، 2017

ایک شعلہ و شبنم فطرت و کردار کے مالک ڈاکٹر فاروق ستار

علم نجوم کی روشنی میں ایک تجزیاتی رپورٹ، خوبیاں، خامیاں، فطری میلان و رجحانات
مشہور ماہر نفسیات کارل یونگ کا قول ہے کہ میں نے انسانی نفسیات کو سمجھنے کے لیے ایسٹرولوجی سے مدد لی ہے،ان کی وفات کے بعد ایسٹرولوجی کے مخالف گروپ نے کارل یونگ کے اس قول کی صحت سے انکار کیا لیکن ثبوت و شواہد موجود تھے،اس حقیقت کو جھٹلانا ممکن نہ تھا۔
اس میں کوئی شک و شبہے کی کی گنجائش نہیں کہ علم نجوم درحقیقت ایک ایسی سائنس ہے جو انسان کی شخصیت و کردار پر بھرپور روشنی ڈالتی ہے اور ہماری پیچیدہ نفسیات کی پیچ در پیچ گتھیوں کو عیاں کرتی ہے، مزید آگے بڑھ کر ہم شخصیت و کردار کے مطالعے کے بعد اس علم کی مدد سے وقت کی اہمیت اور خوبیوں یا خرابیوں یعنی سعادت و نحوست کا جائزہ بھی لے سکتے ہیں، دنیا بھر میں اس علم سے ایسے ہی مفید کام لیے جارہے ہیں، ہماری بات اور ہے کہ ہمارے ملک میں اس سائنٹیفک علم کو علم غیب یا قسمت کا حال سمجھا جاتا ہے اور پھر مذہبی انتہا پسند اس کے خلاف فتوے دیتے ہیں، بڑے بڑے ثقہ مفتیان کرام نبی اکرم ﷺ کی ایک حدیث علم نجوم کے خلاف پیش کرتے ہیں، حالاں کہ وہ حدیث علم نجوم کے نہیں بلکہ کہانت کے خلاف ہے جس میں کہا گیا ہے ”جس نے کاہن کی بات مانی وہ ہم میں سے نہیں ہے“ اس مفہوم کی ایک سے زیادہ احادیث ہوسکتی ہیں، ہمارے مفتیان کرام کاہن کا ترجمہ نجومی کردیتے ہیںکیوں کہ وہ اپنی کم علمی کے سبب علم نجوم کو بھی غیب دانی کا علم سمجھتے ہیں، حالاں کہ موجودہ دور میں تو یہ بات مزید پایہ ءثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ علم نجوم علم ریاضی اور فلکیاتی سائنس کا علم ہے ، آج دنیا بھر میں اس علم پر اعلیٰ درجے کے ایسٹرولوجیکل سوفٹ ویئرز تیار ہوچکے ہیں، کسی غیب دانی کے علم پر کوئی سافٹ ویئر تیار نہیں ہوسکتا۔
کہانت یقیناًغیب دانی کے زمرے میں آتی ہے، عربوں میں کاہنوں سے مشورے لینے کا رواج تھا، زمانہ ءجاہلیت میں خانہ ءکعبہ میں بھی کاہن تعینات تھے جو اہم معاملات میں تیروں کے ذریعے فال نکال کر پیش گوئی کیا کرتے تھے، مشہور واقعہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے محترم والد حضرت عبداللہ کی قربانی حضرت عبدالمطلب کرنا چاہتے تھے، تمام عزیز رشتے دار اور پورا قبیلہ اس قربانی کے خلاف تھا لیکن حضرت مطلب اپنی منت اور خدا سے کیا ہوا وعدہ پورا کرنا چاہتے تھے،آخر کاہن کے ذریعے فال نکالی گئی تو حضرت عبداللہ ہی کا نام آیا، آخر کار کسی نے مشورہ دیا کہ مدینے میں ایک کاہنہ سے رجوع کیا جائے وہ اس مسئلے کا کوئی حل تجویز کرے گی،چناں چہ ایسا ہی کیا گیا اور کاہنہ نے بھی تیروں کے ذریعے فال نکالنے کا ایک منفرد طریقہ تجویز کیا، اس نے کہا کہ ایک تیر پر حضرت عبداللہ کا نام لکھا جائے اور دوسرے تیر پر دس اونٹ مقرر کیے جائیں، اگر اونٹ والا تیر نکل آئے تو دس اونٹوں کی قربانی دے کر آپ اپنی منت پوری کرلیں اور حضرت عبداللہ کی قربانی سے رک جائیں لیکن اگر پھر بھی حضرت عبداللہ ہی کا انعام نکلے تو دوسری مرتبہ قرعہ اندازی کی جائے اور اونٹوں کی تعداد بڑھادی جائے اور اس وقت تک یہ تعداد بڑھاتے رہےں جب تک اللہ راضی نہ ہوجائے لہٰذا سو اونٹوں پر فیصلہ ہوگیا، حضرت عبداللہ کی جان بچ گئی۔
کہانت کی اور بھی بہت سی اقسام عرب میں اور دیگر ممالک میں رائج رہی ہےں،کاہن مختلف مندروں، عبادت گاہوں وغیرہ میں اپنی پیش گوئیوں کے ذریعے لوگوں کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے تھے،کہانت بنیادی طور پر اپنی روحی یا روحانی صلاحیت کے ذریعے پیش گوئی کرنے کا نام ہے،یہ کام آج کے دور میں بھی جاری و ساری ہے،مکاشفہ یا استخارہ اسی کہانت کی ایک شکل ہے جس کی اسلامائزیشن کرلی گئی ہے۔
عزیزان من! گفتگو کا رُخ ایسی جانب مڑ گیا جو ہمارا فی الحال موضوع نہیں ہے، ہماری گزارش یہ ہے کہ خود کو اور دوسروں کو سمجھنے اور جاننے پہچاننے کے لیے اس سائنٹیفک علم سے استفادہ کرنا چاہیے،دنیا بھر میں اس علم سے ایسے ہی کام لیے جارہے ہیں،بڑی بڑی کمپنیاں اعلیٰ عہدوں پر کسی کی تعیناتی سے قبل اس کے ایسٹرولوجیکل بائیو ڈیٹا کو مدنظر رکھتی ہیں کہ وہ متعلقہ عہدے کے لیے موزوں امید وار ہے یا نہیں؟
ہماری کتاب ”آپ شناسی“ اسی ضرورت کے پیش نظر لکھی گئی ہے،کم از کم عام لوگ جو ایسٹرولوجی کی باریکیوں اور زائچہ ریڈنگ کی الجھنوں میں نہیں پڑنا چاہتے،ان کے لیے یہ کتاب صرف شمسی برج (sun sign) کو بنیاد بناکر لکھی گئی ہے،ہر شخص کو اپنی تاریخ پیدائش معلوم ہے،وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اس کا شمسی برج کیا ہے؟ یہ الگ بات ہے کہ اکثر پڑھے لکھے لوگ بھی اپنے برج کو اپنا ”اسٹار “ کہتے نظر آتے ہیں۔
ہمارے رہنما
اس تمام گفتگو کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ ہم زیادہ حساس اور نازک موضوع کو چھیڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں، اگرچہ یہ چھیڑ چھاڑ پہلے بھی جاری رہی ہے لیکن بہت مختصر اور اکثر اشاروں کنایوں میں ، کیوں کہ مشہور شخصیات پر بات کرتے ہوئے بہت محتاط رہنا پڑتا ہے،پہلے بھی ہم بعض سیاسی یا فوجی اہم شخصیات کے زائچوں پر بات کرتے ہوئے ان کی خوبیوں ، صلاحیتوں اور خامیوں وغیرہ پر روشنی ڈالتے رہے ہیں، اس بار ہمارے پیش نظر کراچی کی دو مشہور شخصیات ہیں جو گزشتہ دنوں پورے پاکستانی میڈیا پر چھائی ہوئی تھیں یعنی متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ جناب فاروق ستار صاحب اور پی ایس پی کے جناب سید مصطفیٰ کمال۔
ایم کیو ایم کراچی ، حیدرآباد اور میرپورخاص وغیرہ کی ایک نمائندہ جماعت ہے، اس کی ابتدا آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹ فیڈریشن سے ہوئی تھی اور پھر مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے یہ متحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل ہوگئی،گزشتہ سال سے ایک بار پھر نئے مرحلوں اور نئے ناموں کا دور دورہ جاری ہے،22 اگست 2016 ءکے بعد ایم کیو ایم کے سربراہ جناب فاروق ستار ہوگئے ہیں لیکن اس سے پہلے ہی ایم کیو ایم کے ایک اور رہنما جناب مصطفیٰ کمال کی 3 جون 2016 ءکو آمد نے کراچی کی سیاست میں ایک نیا محاذ کھول دیا اور انہوں نے ایک نئی جماعت پاک سرزمین پارٹی کے قیام کا اعلان کردیا، دونوں پارٹیاں سندھ کے شہروں کی اردو اسپیکنگ آبادی کے حقوق کا حصول ممکن بنانے کے لیے میدان سیاست میں اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہےں۔
 اصولی طور پر تو ان کی کارکردگی اور مستقبل کے حوالے سے پارٹی کے زائچے کو مدنظر رکھنا ضروری ہے،ہمارے قارئین کو یاد ہوگا کہ 2013 ءکے انتخابات سے قبل فروری مارچ میں ہم نے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے زائچے خاصی تحقیق اور محنت کے بعد پیش کیے تھے جس میں ایم کیو ایم کا زائچہ بھی تھا اور اس کی روشنی میں ہم نے یہ پیش گوئی بھی کی تھی کہ ایم کیو ایم 2013 ءکا انتخاب جیت لے گی لیکن اس کے بعد پارٹی میں انتشار و خلفشار کا جو عمل شروع ہوگا اس کے نتیجے میں ایم کیو ایم کو 2017 ءتک اپنی بقا کی جنگ لڑنا ہوگی، آج تقریباً5 سال بعد ہم دیکھتے ہیں کہ سب کچھ ہمارے ایسٹرولوجیکل اندوزوں کے مطابق ہی سامنے آیا ہے اور ابھی یہ عمل جاری ہے،ہم نے یہ بھی عرض کیا تھا کہ 2017 ءسے ایک بہتر دور کا آٓغاز ہوگا تو شاید یہ سلسلہ بھی شروع ہوچکا ہے۔
ہم کراچی میں رہتے ہیں اور کراچی ہی میں پیدا ہوئے ، ہمارا تعلق بھی انہی لوگوں میں سے ہے جو 1947 ءمیں ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ کراچی ، سندھ اور پاکستان کی موجودہ صورت حال کو نظر انداز کرکے ہم خوش اور مطمئن رہیں،اکثرو بیشتر اس حوالے سے جو بھی اچھا برا ذہن میں آتا ہے،ا س کا اظہار کرتے رہتے ہیں ، جناب فاروق ستار اور مصطفی کمال کے زائچوں پر بھی نظر ڈالنے کا خیال اسی لیے آیا ہے کہ اپنے ان قائدین کی خوبیوں ، خامیوں، صلاحیتوں سے آگاہی حاصل ہوسکے، آپ کو یاد ہوگا کچھ دن پہلے ہی جناب شہباز شریف اور پاک آرمی کے چیف جناب جنرل قمر باجوہ کے زائچے پر بھی اسی جذبے کے تحت اظہار خیال کیا گیا تھا، ماضی میں دیگر مشہور شخصیات پر بھی گفتگو ہوتی رہی ہے اور اس کا مقصد صرف اور صرف اتنا ہی ہے کہ ہم جان سکیں کہ ہماری باگ دوڑ اور ہمارا مستقبل کن ہاتھوں میں ہے کیوں کہ 70 سال بعد بھی مندرجہ ذیل شعر ایک سوالیہ نشان کی طرح ذہن میں گردش کرتا رہتا ہے
قافلے دلدلوں میں جا ٹھہرے
رہنما پھر بھی رہنما ٹھہرے
موجودہ سربراہ ایم کیو ایم پاکستان
جناب فاروق ستار صاحب کی دستیاب تاریخ پیدائش 9 اپریل 1959 ہے، ہمارے اندازے کے مطابق ان کا وقت پیدائش صبح 5:29 am ہوسکتا ہے،اس طرح زائچے کے پہلے گھر میں برج حوت (pieses) کے سات درجہ 49 دقیقہ طلوع ہےں، اس کا حاکم سیارہ مشتری ہے، جب کہ جنم راشی یعنی قمری برج حمل ہے ، اس کا حاکم سیارہ ڈائنامک مریخ ہے اور قمری منزل اشونی ہے جس پر غضب ناک کیتو حکمران ہے۔
زائچے کے سعد اور فائدہ بخش سیارگان میں مشتری ، مریخ، عطارد، قمر شامل ہیں جب کہ نحس اور نقصان دہ سیارگان میں راہو کیتو کے علاوہ زہرہ ، شمس اور زحل ہےں، مشتری اور مریخ نہایت باقوت پوزیشن رکھتے ہیں، البتہ قمر اور عطارد کمزور ہےں، عطارد اپنے برج ہبوط میں ہے ، راہو کیتو بالترتیب ساتویں اور پہلے گھر میں بیٹھے ہیں، طالع برج حوت اگر زائچے میں طلوع ہو تو مشتری اور مریخ کی باقوت پوزیشن صاحب زائچہ کو اسٹیٹس اور پیشہ ورانہ معاملات میں ایک کامیاب انسان بناتی ہے،چھٹے گھر کا حاکم سیارہ شمس کمزور ہو تو صحت قابل رشک نہیں ہوتی، قمر کی کمزوری زندگی میں مسائل کی زیادتی اور شدید نوعیت کے ذہنی دباو ¿ لاتی ہے،زائچے میں شمس اور قمر دونوں کمزور ہیں،سیارہ عطارد کچھ زیادہ ہی کمزور ہے کیوں کہ ہبوط یافتہ ہے، یہ صورت حال سائنس جیسے سبجیکٹ میں میتھ میٹکس کی کمزوری کے سبب پریشانی کا باعث ہوتی ہے،فاروق صاحب ڈاکٹر ہیں، یقیناً انہیں ایم بی بی ایس کرنے کے دوران میں خاصی مشکلات کا سامنا رہا ہوگا لیکن عطارد کی یہ پوزیشن زبردست قسم کی اسپریچوئل پاور ڈیولپ کرتی ہے اور ایسے لوگ تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال ہوتے ہیں مگر ہم انہیں غیر معمولی طور پر ذہین نہیں کہہ سکتے،وہ اپنے کام میں ماہر ہوسکتے ہیں اور ہدایت کے مطابق عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں مگر اعلیٰ درجے کی قوت فیصلہ سے محروم ہوتے ہیں،سونے پر سہاگا یہ کہ طالع پیدائش برج حوت ایک ڈبل باڈی سائن ہے اور اپنی ماہیت کے اعتبار سے آبی ہے، اس برج کے زیر اثر پیدا ہونے والے افراد رومانوی، تخیلاتی ، بامروت اور فیاض ہوتے ہیں، لطف اندوزی اور حساسیت اس برج کا طرئہ امتیاز ہے،یہ لوگ خوش مزاج، ہمدرد خیال رکھنے والے ، فرض شناس، جذباتی، پُرجوش، آدرش وادی، وجدانی، اخلاقی قدروں کے حامل، صوفیانہ، فلسفیانہ، برداشت کرنے والے یا بزدل، غیر محفوظ اور آرام طلب ہوتے ہیں،فطری طور پر بے چین اور ہمیشہ حرکت میں رہنے والے،عطارد کی کمزوری کے سبب اچھے مشیر ثابت نہیں ہوتے، اگر عطارد مضبوط ہو تو بہتر مشورہ دے سکتے ہیں، جناب فاروق ستار اپنے کردار و عمل میں کیسے نظر آسکتے ہیں اس کا اندازہ مندرجہ بالا خصوصیات کی روشنی میں کیا جاسکتا ہے۔
فطری میلانات
سیارہ قمر کسی بھی صاحب زائچہ کے فطری میلانات و رجحانات پر روشنی ڈالتا ہے اور مزید یہ کہ قمری منزل بھی فطری تقاضوں کی نشان دہی کرتی ہے،فاروق ستار صاحب کا قمر برج حمل میں ہے اور قمری منزل اشونی ہے،جناب عمران خان صاحب کا قمر بھی اسی پوزیشن پر ہے،دنیا کی دیگر مشہور شخصیات میں بھارتی صدر ذاکر حسین، سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، برطانوی پرنس چارلس وغیرہ کے زائچوں میں بھی قمر کی پوزیشن یہی ہے۔
برج حمل اور اس کا حاکم سیارہ مریخ ڈائنامک خصوصیات کے حامل ہیں، ہمیشہ ایکشن میں رہنا اس برج کا خاصا ہے،یہ لوگ توانائی سے بھرپور ہوتے ہیں،برج حمل منقلب اور آتشی برج ہے، اس طرح حوت اور حمل کا امتزاج ڈاکٹر صاحب کو ایک شعلہ و شبنم فطرت و شخصیت سے نوازتا ہے،مزاجی طور پر غصہ ور اور جلد اشتعال میں آنے والی فطرت یہاں موجود ہے،متحرک ، ہوشیار، سخت مزاج اور ممتاز رہنے کی خواہش نہایت شدت کے ساتھ برج حمل کا خاصہ ہے،ہمیشہ نمبر ون پوزیشن کی خواہش اور اس کے لیے کوشش و جدوجہد ، حد سے بڑھی ہوئی خود اعتمادی اور ہوائی قلعے بنانے کا رجحان بھی قمر کی اس پوزیشن سے ظاہر ہوتا ہے،برج حمل قائدانہ صلاحیتیں بھی دیتا ہے، یہ لوگ اپنے اہداف حاصل کرلیتے ہیں۔
قمر کی اس پوزیشن کے منفی پہلوو ¿ں میں ہیجان، جارحیت، ضد، گھمنڈ جیسی خصوصیات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا،یہ ممکن ہے کہ زائچے کے کچھ دوسرے عوامل منفی پہلوو ¿ں کو کنٹرول کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہوں لیکن انہیں یکسر نظرانداز بھی نہیں کیا جاسکتا۔
شخصیت و کردار اور فطرت سے متعلق اہم نکات پر نظر ڈالنے کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ صاحب زائچہ ایک اچھا بزنس مین ، صنعت کار، ڈاکٹر، ڈیلر، فوجی،پولیس مین،کرمنل کورٹ کا لائر، سیلزمین، میوزیشن تو ہوسکتا ہے لیکن ملک و قوم کی رہنمائی کا فرض ادا کرنا اس کے لیے خاصا مشکل ترین کام ثابت ہوسکتا ہے۔
جناب فاروق ستار نے 1987 ءمیں کوچہ ءسیاست میں قدم رکھا تھا اور وہ متحدہ قومی موومنٹ کے جھنڈے تلے ایک طویل کامیاب کرئر کے حامل ہیں،مندرجہ بالا تمام تجزیاتی عوامل کے پیش نظر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کی کامیابیوں اور ناکامیوں کے پیچھے کون کون سے عوامل کار فرما رہے ہیں، اس طویل عرصے میں وہ اعلیٰ عہدوں پر بھی فائز رہے اور خراب وقتوں میں سخت حالات کا بھی سامنا کیا،قیدوبند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں،گزشتہ سال 22 اگست کے بعد ان کی زندگی میں ایک اہم موڑ ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت کا آیا،وہ اس ذمے داری کو نبھانے میں کس حد تک کامیاب رہیں گے،اس کا اندازہ مستقبل میں ہونے والی سیاروی گردش سے لگایا جاسکتا ہے۔
زائچے میں راہو کا دور اکبر جاری ہے جس کی ابتدا 19 اکتوبر 2006 ءسے ہوئی،راہو کا تعلق سیاست سے ہے اور یہ زائچے کے چھٹے گھر میں اچھی پوزیشن رکھتا ہے،راہو کا دور 18 اکتوبر 2024 ءتک جاری رہے گا اور اس کے بعد سیارہ مشتری کا دور اکبر شروع ہوگا۔
راہو کے اس طویل دور میں فی الحال 19 اپریل 2017 سے کیتو کا دور اصغر چل رہا ہے،راہو کیتو ہمیشہ زائچے میں ایک دوسرے کے مقابل ہوتے ہیں اور عام طور پر انہیں منحوس تصور کیا جاتا ہے،اگر زائچے کے اچھے گھروں میں ہوں تو اچھی ٹرانزٹ پوزیشن میں بہتر نتائج بھی دیتے ہیں لیکن مجموعی طور پر صاحب زائچہ مختلف مسائل اور پریشانیوں میں گھرا نظر آتا ہے اور عموماً اس دور میں وہی کچھ کاٹتا ہے جو اس نے بویا ہو،چناں چہ ایسی ہی صورت حال کا سامنا ڈاکٹر فاروق ستار کر رہے ہیں، 13 ستمبر 2017 ءسے سیارہ مشتری جو ان کے کرئر کا اہم ترین سیارہ ہے،زائچے میں ایک انتہائی خراب پوزیشن میں چلا گیا ہے اور آئندہ سال ستمبر تک اسی پوزیشن میں رہے گا، یہ صورت حال ڈاکٹر صاحب کے لیے ہر گز خوش کن نہیں ہے،انہیں پارٹی میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں اور سیاسی میدان میں اپنی حیثیت کو مضبوط اور نمایاں کرنے میں سخت دشواریوں کا سامنا رہے گا، اگر آئندہ انتخابات ستمبر 2018 ءسے پہلے ہوں تو ان کے لیے اپنی نشست برقرار رکھنا بھی مشکل ہوسکتا ہے،ایسا ہی خطرہ 2013 ءمیں بھی موجود تھا لیکن اس وقت مشتری کی پوزیشن زائچے میں موافق و مددگار تھی۔
عزیزان من!انشاءاللہ آئندہ پی ایس پی کے چیئرمین جناب سید مصطفیٰ کمال کے زائچے پر گفتگو ہوگی۔

پیر، 13 نومبر، 2017

نومبر، دسمبر ملک میں کسی ایمرجنسی کا امکان ظاہر کرتے ہیں

تیسری عالمی جنگ کے لیے میدان تیار ہورہا ہے، نئی صف بندی ہورہی ہے
جیسے جیسے کوئی اہم ترین تاریخی واقعہ اپنی رونمائی کے قریب ہوتا جاتا ہے، حالات کی تبدیلیاں بھی تیز تر ہوتی چلی جاتی ہیں، کچھ ایسی ہی صورت حال پوری دنیا اور پاکستان میں بھی نظر آرہی ہے۔
 ہم گزشتہ ایک سال سے اس امکان کی نشان دہی کر رہے ہیں کہ تیسری عالمی جنگ 2019 ءمیں ہوگی اور 2016 ءسے دنیا میں ایسے واقعات کا ظہور شروع ہوچکا ہے جو متوقع عالمی جنگ سے کسی نہ کسی طرح پیوستہ نظر آتے ہیں، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی کامیابی ، یمن اور سعودی عرب کے درمیان جنگ اور اس کے نتیجے میں ایران عرب تنازع، شام کے حالات، داعش کی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ اور پھیلاو ¿، افغانستان کے بدلتے ہوئے حالات،چین کا سی پیک پروگرام، کوریا کا سخت رویہ اور ہائیڈروجن بم کا تجربہ، انڈوپاک کشیدگی میں اضافہ، پاکستان کی بدلتی ہوئی سیاسی صورت حال وغیرہ اور اس تمام منظر نامے کا پس منظر نہایت معنی خیز ہے۔
پاکستان میں اس سال پاناما کیس کا فیصلہ اور بعد ازاں سابق وزیراعظم کی نا اہلی کا فیصلہ جو اس وقت بھی ملک میں ایک اہم موضوع بنا ہوا ہے،معاشی بحران، کرپشن کے خلاف عوامی غم و غصہ، مہنگائی کا طوفان اور ناجائز ٹیکسوں کی بھرمار، کراچی میں کے الیکٹرک کی لوٹ مار اور بھی بہت سے دیگر مسائل اہمیت اختیار کرتے جارہے ہیں، سیاسی پارٹیاں اپنی اہمیت کھورہی ہیں، لوگ عدالتوں یا فوج کی طرف دیکھنے پر مجبور ہورہے ہیں، جمہوریت ناپسندیدہ ہوتی جارہی ہے،ٹیکنو کریٹس حکومت کی بازگشت سنائی دینے لگی ہے،ایک پرانا نعرہ ”پہلے احتساب اور پھر انتخاب“ دوبارہ گونج رہا ہے۔
کراچی میں گزشتہ سال سے ایم کیو ایم شدید انتشار اور خلفشار کا شکار ہے، پیپلز پارٹی سے لوگ پی ٹی آئی کی طرف جارہے ہیں، ن لیگ بھی ایک سے زیادہ گروپس میں تقسیم ہورہی ہے، قصہ مختصر یہ کہ ہونے کو تو بہت کچھ ہورہا ہے مگر ایک غیر یقینی کی کیفیت ہر معاملے میں موجود ہے،زائچہ ءپاکستان کے مطابق نومبر دسمبر کے مہینے غیر معمولی حالات و واقعات کی نشان دہی کر رہے ہیں، 3 نومبر کے بعد سے صورت حال روز بہ روز سنسنی خیز ہوتی چلی جارہی ہے،نیب کورٹ میں کیسز کی سماعت، ریویو پٹیشن پر سپریم کورٹ کا سخت ترین فیصلہ، کراچی میں ایم کیو ایم اور پی ایس پی کی مفاہمت اور علیحدگی ، الغرض یہ کہ ہر روز ایک نیا تماشا عبرت سامانی کا باعث بن رہا ہے،دسمبر کے پہلے ہفتے میں سندھ گورنمنٹ اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ صاحب کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے، 30 نومبر سے سیارہ مریخ زائچے کے چھٹے گھر میں داخل ہوگا تو پاکستان مزید تبدیلیوں کا شکار ہوگا، عدلیہ، بیوروکریسی اور ملٹری سے متعلق اداروں کے زیادہ فعال کردار کا مشاہدہ ہوسکے گا، یہ وقت کسی ایمرجنسی کی نشان دہی کر رہا ہے (واللہ اعلم بالصواب)۔
بین الاقوامی تناظر میں صدر ٹرمپ کے تازہ دورے کو ایک غیر معمولی موومنٹ قرار دیا جارہا ہے،وہ شمالی کوریا سے مذاکرات کے لیے بھی تیار نظر آرہے ہیں، ساتھ ہی سعودی عرب میں بھی کرپشن کے خلاف ایک سخت کریک ڈاو ¿ن شروع ہوچکا ہے،ابھی 2017 ءاپنے اختتام کو نہیں پہنچا، 2018 ءکی آمد آمد ہے،دنیا کس طرف جارہی ہے اور ہم کس طرف جارہے ہیں؟ نئے سال کے حوالے سے ہمارا تازہ آرٹیکل زنجانی جنتری 2018 ءمیں شائع ہوچکا ہے۔
خیالات اور احساسات کے دباو سے نجات 
انسان فطرت سے نہیں لڑسکتا، فطرت کے تقاضوں سے منہ نہیں موڑ سکتا، فطرت کے تقاضوں سے فرار کی کوشش نہایت پیچیدہ اور بعض اوقات بھیانک قسم کے مسائل کو جنم دیتی ہے۔
عورت ہو یا مرد فطری جذبات اور احساسات اس کی زندگی کا لازمی حصہ ہیں مثلاً کسی پسندیدہ بات یا منظر سے متاثر ہوکر خوش ہونا اور فرحت حاصل کرنا یا کسی ناپسندیدہ بات یا صورت حال سے متاثر ہوکر ملول و غم زدہ ہونا، غصے میں آنا وغیرہ، ایک معصوم بچہ جیسے جیسے بلوغت کی دہلیز کی طرف قدم بڑھاتا ہے، اس کے جذبات اور احساسات میں اسی مناسبت سے تبدل و تغیر رونما ہوتا ہے، یہ نئے جذبات و احساسات اس کے فطری جسمانی و روحانی تقاضوں کے مطابق ہوتے ہیں لیکن معاشرتی و اخلاقی اور مذہبی قوانین ان جذبات و احساسات کے برہنہ اظہار پر معترض ہوتے ہیں، انہیں مخصوص حدودوقیود کا پابند کرتے ہیں تاکہ جذبات و احساسات کا برہنہ اظہار انسان کو وحشت و درندگی کی طرف نہ لے جائے اور وہ ایک مہذب معاشرے کا مہذب فرد بن کر رہے۔
اخلاقی و مذہبی پابندیاں بھی اگر نارمل حدود سے گزر کر انتہا پسندی کی صورت اختیار کرلیں تو اکثر حساس طبیعت افراد کی نفسیات کے بگاڑ کا سبب بن جاتی ہیں اور وہ عجیب و غریب نوعیت کی نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہوکر اپنی زندگی کو عذاب بنالیتے ہیں، اکثر تو دوسروں کی تضحیک کا نشانہ بھی بنتے ہیں، مثلاً آپ نے دیکھا ہوگا کہ بعض افراد کو صفائی اور پاکیزگی کا خبط ہوجاتا ہے، ہاتھ بھی دھونا شروع کریں تو خاصی دیر تک انہیں مل مل کر رگڑ رگڑ کر دھوتے رہتے ہیں، دوسرے لوگوں سے ہاتھ ملاتے ہوئے ہچکچاتے ہیں کہ کہیں ان کا ہاتھ گندہ نہ ہوجائے، الغرض ہر طرف گندگی کا یہ احساس ان پر اتنا زیادہ غالب ہوتا ہے کہ ان کے لیے معاشرے میں گھل مل کر رہنا مشکل ہوجاتا ہے اور وہ عموماً دوسروں کے لیے تماشا بن جاتے ہیں۔
اس حوالے سے سب سے زیادہ پیچیدہ کیس خواتین میں نظر آتے ہیں، گندگی اور ناپاکی، گناہ و ثواب، جائز و ناجائز کے گہرے احساسات حالات اور ماحول کے جبر کی وجہ سے اکثر ان کے لاشعور میں اس طرح جذب ہوجاتے ہیں کہ پھر انہیں عمر بھر اپنے فطری تقاضوں کے خلاف جنگ میں مصروف رہنا پڑتا ہے، اس جنگ کے نتیجے میں بڑے بڑے تباہ کن امراض جنم لیتے ہیں، گھریلو اور ازدواجی زندگی تباہ و برباد ہوکر رہ جاتی ہے ، اولاد کی پرورش بھی نامناسب طریقے پر ہوتی ہے، شوہر دوسری شادی کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں یا دوسری خواتین سے عشق لڑانا شروع کردیتے ہیں اور اس تمام صورت حال کا ذمے دار سحرو جادو یا کسی جن بھوت کو قرار دے دیا جاتا ہے۔
اس تمام گفتگو کی روشنی میں آئیے ایک خط کا مطالعہ کرتے ہیں نام و پتا ہم پردہ داری کے خیال سے ظاہر نہیں کر رہے، وہ لکھتی ہیں۔
”خدا آپ کو صحت دے، آپ دکھی لوگوں کے مسئلے اسی طرح حل کرتے رہیں، اس دکھی بہن کو بھی کچھ بتادیجیے، میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرے دل میں ناپاک خیالات آجاتے ہیں، ایسے کہ نعوذ باللہ، ایک بے ہودہ لفظ تو میرے ذہن میں جم کر رہ گیا ہے، کسی بھی چیز کا خیال کرتی ہوں تو وہ لفظ فوراً ذہن میں آجاتا ہے، میں نماز پابندی سے پڑھتی ہوں، کلمہ پڑھتی ہوں، توبہ استغفار کثرت سے کرتی ہوں، درود شریف کا ورد مستقل رہتا ہے، اللہ سے رو رو کر معافی مانگتی ہوں مگر لگتا ہے کہ اللہ بھی ناراض ہوگیا ہے، میں پوری کوشش کرتی ہوں کہ یہ خیالات میرے ذہن سے دور ہوجائیں مگر یہ جان ہی نہیں چھوڑتے،ہم لوگ رزق حلال کھاتے ہیں اور میں اپنی پوری کوشش کرتی ہوں کہ زندگی خدا کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق گزاروں مگر یہ شیطانی، فاسق خیالات زندگی عذاب بنائے ہوئے ہیں، اتنا رو رو کر خدا سے دعا کرتی ہوں مگر کچھ نہیں ہوتا، کیا میرے اوپر کوئی سحری اثر تو نہیں ہے؟ آپ بتائیں کیا وجہ ہے؟ میرے ساتھ ایسا کیوں ہورہا ہے؟ کیا پڑھوں کہ میرا دل پاک و صاف خیالات کا مرکز بن جائے، میں روحانی طور پر ترقی کرنا چاہتی ہوں، مجھے مرشد کامل کی بھی تلاش ہے، آپ کے پاس میرا علاج ہو تو پلیز ضرور تفصیل سے لکھ دیجیے کہ میں کیا کروں؟“
عزیز بہن! آپ کے خط سے پہلے ہم نے جو گفتگو کی ہے، اسے پھر سے پڑھیں اور پھر اپنی زندگی میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کریں، مذہبی اور روحانی تصورات کو انتہا پسندانہ انداز میں خود پر نافذ کرنے کی کوشش نہ کریں، انسانی فطرت کے تقاضوں کو سمجھیں اور اس حقیقت پر غور کریں کہ آپ جس معاملے میں بھی شعوری طور پر خود پر جبر کرنے کی کوشش کریں گی وہ لاشعوری طور پر آپ کے لیے اذیت ناک مسئلہ بن جائے گا، فرض عبادات کے ساتھ مذہبی و اخلاقی تصورات اپنی جگہ لیکن ان کی روشنی میں دنیا میں موجود دیگر حقائق سے یکسر بے زاری اور نفرت کا احساس حد سے زیادہ بڑھ جانا ایک نارمل کیفیت نہیں ہے، دنیا میں جو اچھائیاں اور برائیاں موجود ہیں ہمیں ان کے درمیان ہی زندگی گزارنی ہے، اچھائیوں کے ساتھ برائیوں کا بھی مشاہدہ کرنا ہے اور ان پر غوروفکر کرکے ہی کسی اچھائی یا برائی میں تمیز کرنے کا فن سیکھنا ہے، یہ ممکن نہیں کہ آپ انہیں ذہن سے جھٹک کر نظر انداز کرکے صرف اچھائیوں کے تصور میں ہی زندہ رہیں، یہ صورت تو زندگی کے ایک اہم رخ سے فرار کے مترادف ہوگی، آئیے ہم آپ کو اس صورت حال سے نکلنے کا ایک طریقہ بتائیں، اس طریقے کو ماہرین نفسیات ”آزاد نگاری“ یا ”خود نویسی“ کہتے ہیں۔
جب بھی آپ کو نامناسب خیالات کی یلغار پریشان کرے، کاغذ اور قلم سنبھال کر ایک علیحدہ گوشے میں بیٹھ جائیں اور جو بھی خیالات ذہن میں آرہے ہیں انہیں لکھنا شروع کردیں، ان خیالات یا الفاظ سے نہ گھبرائیں، انہیں کاغذ پر منتقل کرنا شروع کردیں، خواہ اس کام میں کتنی ہی دیر کیوں نہ لگ جائے، اس وقت تک لکھتی رہیں، جب تک ذہن تھک نہ جائے، اس کے بعد تمام لکھے ہوئے کاغذات کو فوراً جلادیں، یہ کام روزانہ پابندی سے کرتی رہیں، تھوڑے ہی عرصے میں آپ دیکھیں گی کہ خود کو پہلے سے بہتر محسوس کر رہی ہیں اور خیالات میں بھی اعتدال آنا شروع ہوگیا ہے جو بے ہودہ لفظ زیادہ پریشان کر رہا ہے، اسے بھی روزانہ کثرت سے لکھنا اور جلانا شروع کردیں۔
اب یہاں ایک نکتہ اور سمجھ لیں، شریعت کی رو سے انسان کے خیالات اور سوچوں پر گناہ اور ثواب کے لیے کوئی تعزیز یا حد شرعی مقرر نہیں ہے لہٰذا اس وہم میں بھی نہ رہیں کہ ایسے خیالات کی وجہ سے آپ گناہ گار ہورہی ہیں، گناہ یا جرم اس صورت میں تسلیم کیا جائے گا جب اس کا ارتکاب انسان کے عمل سے ظاہر ہو۔
فری رائٹنگ یا آزاد نگاری کی مندرجہ بالا مشق ہر وہ شخص کرسکتا ہے جو کسی بھی قسم کے خیالات کے دباو ¿ میں ہو، یہ دباو ¿ حالات کے نامناسب اور ناگوار ہونے کا ہو یا کسی اور انداز کا ہر صورت میں یہ مشق صحت مندانہ راستوں کی طرف لے جائے گی اور مختلف بیماریوں کے لیے مفید ثابت ہوگی، مثلاً ہائی بلڈ پریشر (اگر کسی جذباتی الجھن اور تناو ¿ کی وجہ سے ہو) ڈپریشن، خوف، محبت، نفرت، غصہ یا انتقام، احساس کمتری، ہسٹیریا اور دیگر ایسے ہی نفسیاتی امراض جو جذبات و احساسات سے کوئی گہرا تعلق رکھتے ہوں، ان امراض کے علاج میں دیگر طریقہ ءعلاج کے ساتھ اس مشق کو بھی شامل کرلیا جائے تو جلد از جلد بہترین نتائج آنا شروع ہوجاتے ہیں، مزید تیز رفتار فوائد کے حصول کے لیے ”مشق تنفس و تصور“ بہترین ثابت ہوتی ہے(یہ مشق ہماری کتاب ”مظاہرنفس“ میں موجود ہے) اور طریقہ ءعلاج اگر ہومیو پیتھک ہو تو کلی شفا یقینی ہوجاتی ہے۔
ش،الف، حیدرآباد سے لکھتے ہیں ” آپ نے نیلے دھاگے کا جو عمل دیا تھا وہ میں نے کیا، اس میں چراند بھی تھی اور چنگاری بھی تھی، میں نے بہت علاج کرایا ہے مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا، گھر کے تمام افراد دونوں وقت قرآن پڑھتے ہیں اور اس کی وجہ سے ہم محفوظ ہیں ورنہ دشمن ہمیں زیادہ نقصان دینا چاہتا ہے، اس میں اس کو کامیابی نہیں ہے لیکن کاروبار بند کردیا ہے“
برادرم! جب دھاگہ جلنے میں چراند اور چنگاری موجود تھی تو آپ کو یہ عمل پورے گیارہ دن تک اور اگر اس کے بعد بھی بو یا چراند باقی رہتی ہے تو کرتے رہنا چاہیے تھا تاوقت یہ کہ بو یا چراند نہ ختم ہوجائے، اس کے علاوہ بھی جو صدقات وغیرہ کا طریقہ لکھا تھا، اس پر بھی عمل کریں، پھر نتائج سے مطلع کریں، آپ نے اپنے حالات بھی زیادہ تفصیل سے نہیں لکھے کہ ان کی روشنی میں مزید مشورہ دیا جاسکے، اپنے دشمن اور اس سے دشمنی کی نوعیت کے بارے میں بھی کچھ نہیں لکھا، آپ جو پڑھائی وغیرہ مسلسل کر رہے ہیں وہ کس نوعیت کی ہے؟ بہتر ہوگا کہ مکمل تفصیلات کے ساتھ خط لکھیں۔
ایس، اے لکھتی ہیں ” مجھے 16 سال کی عمر سے چکر آتے ہیں اور یہ مسلسل رہتے ہیں، چکر اس طرح شروع ہوئے تھے کہ ایک دن میں بیٹھی ہوئی تھی کہ بیٹھے بیٹھے اچانک ایسا لگا کہ جیسے کسی نے اوپر سے نیچے تک میری جان کھینچ لی اور پھر چکر آنے لگے، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے زمین نیچے کو دھنس رہی ہو اور کبھی محسوس ہوتا تھا کہ جیسے زمین چل رہی ہو، لیٹے بیٹھے کھڑے ہر طرح سے ایسا ہی محسوس ہوتا تھا، اب بھی کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کسی نے جان کھینچ لی ہو، پورے جسم میں درد رہتا ہے اور کھڑی ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ گر جاو ¿ں گی، نہ ہی کوئی کام کیا جاتا ہے اور اس کیفیت کی وجہ سے عبادت میں بھی دل نہیں لگتا، دیکھنے میں بالکل ٹھیک ٹھاک اور صحت مند لگتی ہوں لیکن اندر سے ایسا لگتا ہے کہ جیسے میں بالکل خالی ہوں، کھوکھلی ہوں جیسے اندر سے کوئی دیمک لگی ہوئی ہے، ہر وقت بے چینی اور بے سکونی رہتی ہے، ہر طرح کا علاج کروالیا ہے لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا، پورے جسم کا ایکسرے ہوا، ہر طرح کے ٹیسٹ بھی ہوچکے ہیں، سب کلیئر ہیں، کوئی بیماری نہیں ہے، بلڈ پریشر بھی نارمل رہتا ہے لیکن چکر مسلسل رہتے ہیں، مہربانی فرماکر میرے مسئلے کو حل کریں“۔
جواب: عزیز بہن! آپ کا علاج درست نہیں ہوا، نہ ہی تشخیص درست ہوسکی ہے، ایلوپیتھک طریقہ ءعلاج میں تو ویسے بھی ایسے کیسوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہوتی جہاں تمام ٹیسٹ کلیئر ہوں، اگر آپ نے ہومیو پیتھک علاج بھی کرایا ہے تو ڈاکٹر مناسب نہیں تھا ورنہ آپ ٹھیک ہوجاتیں، آپ بہتر ہوگا کہ براہ راست رابطہ کریں، باقی یہ وہم دل سے نکال دیں کہ آپ پر کوئی سحر یا ماورائی اثرات ہیں جو آپ کو پریشان کر رہے ہیں۔

ہفتہ، 4 نومبر، 2017

ہمارے خواب اور خواہشات کے نت نئے روپ بہروپ

ہر ذی شعور انسان ایک رات میں تین خواب ضرور دیکھتا ہے
ملک کی صورت حال پر ایسٹرولوجیکل تجزیہ اکثر ہوتا رہتا ہے، نومبر اور دسمبر اس حوالے سے خاصے اہم مہینے ہیں، خاص طور پر سندھ میں کسی بڑی تبدیلی کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، اس کے بعد نئے سال 2018 ءکا آغاز ہوگا،نومبر دسمبر کی ایسٹرولوجیکل صورت حال سندھ اور کراچی کے حوالے سے غیر معمولی حالات و واقعات کی طرف اشارہ کر رہی ہے خصوصاً 20 نومبر سے ایک ایسے وقت کا آغاز ہورہا ہے جو سندھ کے وزیر اعلیٰ اور ان کی کابینہ کے لیے موافق و مددگار نہیں ہوگا،انہیں بہت زیادہ دباو ¿ کا سامنا ہوگا جس کے نتیجے میں کوئی بڑی تبدیلی دیکھنے میں آسکتی ہے۔
کراچی کی سیاست میں بھی ایک بھونچالی کیفیت موجود ہے،ایم کیو ایم شدید انتشار اور ابتری سے دوچار ہے،ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ایم کیو ایم پاکستان کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہو، بعض سیاسی تجزیہ کار موجودہ ایم کیو ایم کے خاتمے اور ایک نئی جماعت کے وجود میں آنے کا امکان ظاہر کر رہے ہیں، اس امکان پر ہم کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے لیکن یہ ضرور کہیں گے کہ ایم کیو ایم کے حوالے سے 2013 ءمیں انقلابی تبدیلی کی جس لہر کی ہم نے نشان دہی کی تھی وہ اب آخری مرحلے میں ہے اور بقول شاعر 
جان لیوا ہے محبت کا سماں آج کی رات
آج کی رات بچیں گے تو سحر دیکھیں گے
 آج کی نشست میں خوابوں کی دنیا کے کچھ اسرار و رموز پر بات ہوگی، اس حوالے سے پہلے ایک خط پیش خدمت ہے۔
ایس، آر لکھتی ہیں ” پہلی بار آپ کو خط لکھنے کی جسارت کر رہی ہوں، جواب دے کر ممنون فرمائیے گا، میں نے رات ایک عجیب اور حیرت انگیز خواب دیکھا جس نے مجھے آپ کو خط لکھنے پر مجبور کردیا لیکن اپنا خواب لکھنے سے پہلے کچھ اپنے بارے میں واضح کرنا چاہتی ہوں، میری عمر 35 سال ہے، چودہ سال کی عمر میں مجھے نفسیاتی بیماری ہوگئی تھی، وہ اس طرح کہ میں امتحان کا بہت ٹینشن لیتی تھی، بیماری کے باعث بی اے کا امتحان بھی پاس نہ کرسکی پھر میں ایک مشہور کھلاڑی کی بے حد فین ہوں اس لیے بھی ایک الگ خیالی دنیا میں رہنے لگی تھی، ڈاکٹروں کے مطابق مجھے شیزوفرینیا ہوگیا ، میرا کافی علاج ہوا ہے، کئی مرتبہ شاک بھی لگائے گئے، اب خدا کے فضل سے میں بالکل ٹھیک ہوگئی ہوں، امی نے تین ماہ قبل علاج کے لیے تعویذ کروایا تھا جو کہ میں ہر وقت گلے میں ڈالے رکھتی ہوں۔
میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک چھوٹا سا گھر ہے، ساٹھ گز کا ڈبل منزلہ، میں اوپر کی منزل میں گئی، دیکھا کہ وہاں کمرے کے ایک کونے میں زیورات کا ڈبا رکھا ہوا تھا جس میں کئی ناک کی لونگیں اور کانوں کے بندے رکھے ہوئے تھے، میں نے زیور دیکھتے ہی پانچ چھ لونگیں اٹھالیں، بندے بھی دو سیٹ اٹھالیے لیکن باقی چیزیں مجھے زیادہ نہیں بھائیں، پھر میں نے دیکھا کہ ایک خاتون نیچے باورچی خانے میں کھانا پکارہی تھیں، انہوں نے کھانے کے لیے بلایا، میں باورچی خانے ہی میں بیٹھ گئی، ایک پتیلی کا ڈھکنا کھولا تو دیکھا، اس میں مچھلیاں پکی ہوئی تھیں، میں نے جوں ہی چمچہ چلایا، معلوم ہوا کہ مچھلیاں زندہ ہیں،پھر میں نے گھبرا کر دوستی پتیلی کا ڈھکنا کھول کر دیکھا تو مرغی کا گوشت بھنا ہوا پکا تھا، جب چمچہ چلایا تو پتا چلا کہ کھال اتری ہوئی ثابت مرغیاں تھیں۔
پھر میں نے دیکھا کہ ہم نے گھر بدل لیا ہے، وہ ہمارے گھر سے بھی بڑا اور صاف ستھرا گھر تھا اور اس گھر میں کمرے بہت سارے تھے، اچانک منظر پھر بدل جاتا ہے، میں نے پھر وہی پرانا گھر دیکھا، بتایا گیا کہ یہ انہی صاحب کا گھر تھا جنہوں نے تمہیں تعویذ دیا تھا اور وہ خاتون جو باورچی خانے میں تھیں، مولوی صاحب کی بیوی تھیں، جب میں گھر سے باہر نکلنے کے لیے باہر کے دروازے سے قدم باہر نکالتی ہوں تو تین سیڑھیوں کی اترائی پر ایک چھ ماہ کی بچی پڑی ہوئی رو رہی ہوتی ہے، ایک آواز آتی ہے کہ یہ تیری چوتھی اولاد ہے، تین ضائع ہونے کے بعد، اس کے ساتھ ہی میری آنکھ کھل جاتی ہے“۔
جواب: خوابوں کی دنیا ایک الگ ہی دنیا ہے، ماہرین نفسیات اس حوالے سے مستقل تحقیقات میں مصروف عمل ہیں، اس حوالے سے علم نفسیات کے باوا آدم سگمنڈ فرائڈ سے لے کر آج تک بے شمار ماہرین نفسیات اس پراسرار دنیا کی گتھیاں سلجھانے میں مصروف رہے ہیں اور ان کے درمیان اختلاف رائے بھی پایا جاتا ہے۔
فرائڈ نے کہا تھا ”انسانی خواہشات خوابوں میں نت نئے روپ دھار کر سامنے آتی ہیں“ مگر وہ یہ بھی تسلیم کرتا تھا کہ خواب بہر حال معنی رکھتے ہیں، ان کے ذریعے امراض کی تشخیص کی جاسکتی ہے۔
اس کے مخالفین نے فرائڈ کے نظریات کو غیر سائنٹیفک قرار دیا، اس اختلاف رائے کے باوجود علم نفسیات کے ماہرین فرائڈ کے نظریات کو یک لخت مسترد نہیں کرتے، فرائڈ کے نظریے کے مطابق انسان کا دماغ دو حصوں میں تقسیم ہے، ایک شعور اور دوسرا لاشعور، ہمارے شعوری تجربات و مشاہدات ہمارے لاشعور میں ریکارڈ ہوتے رہتے ہیں لہٰذا ہمارا لاشعور ایک ایسا ریکارڈ روم ہے جس میں ہماری زندگی سے متعلق یادوں کا ایک بڑا ذخیرہ موجود رہتا ہے، بقول فرائڈ یہی لاشعور ہمارے شعور کی بے خبری میں ہم پر حکم چلاتا ہے اور ہم اپنی لاشعوری حالت میں خیالات، تہذیب اور تمدن کی قید سے آزاد ہوجاتے ہیں، فرائڈ کی تحقیق کے مطابق ہماری تشنہ خواہشات اور بچپن کی ناآسودہ خواہشیں ہمارے لاشعور میں مسلسل سرگرم عمل رہتی ہیں اور وہ ہر اس موقع کی تلاش میں رہتی ہیں جب خود کو سیراب کرسکیں لہٰذا لاشعور میں رہائش پذیر یہ تشنگیاں اور نا آسودہ خواہشیں نیند کی حالت میں شعور کی سطح پر آجاتی ہیں۔
اس وضاحت کی روشنی میں ضروری ہوجاتا ہے کہ خواب کی تعبیر بیان کرنے والے کے سامنے خواب دیکھنے والے کا کردار واضح ہو۔
مابعد النفسیات
علم نفسیات کے بعد ماہرین مابعد النفسیات کی تحقیق کے حوالے سے بھی مختصراً عرض کرتے چلیں۔
وہ خوابوں کو کئی اقسام میں بانٹ دیتے ہیں اور یہ تقسیم بھی خواب دیکھنے والے کے ظاہری و باطنی کردار و کیفیات کو سامنے رکھ کر کی جاتی ہے، ان کا کہنا یہ ہے کہ انسان دو رخوں سے مرکب ہے، ایک رخ اس کے ظاہری حواس ہیں اور دوسرا رخ اس کے باطنی حواس کا ہے۔( علم نفسیات کی اصطلاح میں ظاہری حواس کو شعور اور باطنی حواس کو لاشعور ہی کہا جائے گا) نیند کی حالت میں ظاہری حواس معطل ہوجاتے ہیں اور باطنی حواس حرکت میں آجاتے ہیں، باطنی حواس کی حرکت ہی خوابوں کا سبب بنتی ہے، اب یہ ایک الگ بحث ہے کہ کون سا انسان کس قسم کے خواب دیکھے گا اور اس کے خوابوں کو کیا تعبیر دی جائے گی، ایک جنرل اصول یہ ہے کہ ہمارا لاشعور، پیراسائیکولوجی کی زبان میں جسم مثالی یا ہمزاد جس قدر عمدہ حالت میں ہوگا، ہمارے خواب بھی اتنے ہی روشن اور صاف ستھرے ہوں گے جب کہ اس کے برعکس جسم مثالی یا ہمزاد کی حالت جس قدر تباہ وگمراہ ہوگی، خواب بھی اسی قدر پے چیدہ اور بے ربط و عجیب و غریب ہوں گے۔
ہمارے خیال سے اس طویل وضاحت کے بعد آپ اور بہت سی دوسری خواتین خوابوں کے مسئلے سے کسی حد تک آگاہ ہوگئی ہوں گی۔ 
علم نجوم اور خواب
اس مسئلے میں علم نجوم کا حوالہ انتہائی اہم اور ضروری ہے کیوں کہ یہی وہ واحد علم ہے جو ہمارے شعور و لاشعور یا ظاہری و باطنی حواس پر مستند اور حقیقی روشنی ڈالتا ہے۔
دائرئہ بروج کے 12 برج (Sign) اپنی ایک علیحدہ کیمسٹری رکھتے ہیں، بارہ برجوں کو ماہیت اور عناصر کی بنیادی پر تقسیم کیا گیا ہے، چار برج (حمل، سرطان، میزان اور جدی) منقلب (cardnial) ہیں، چار ثابت (Fixed) ہیں اور چار ذوجسدین (Moovable)، اسی طرح عنصری تقسیم جس میں تین آتشی (Fire sign) تین خاکی (Earth sign) ، تین آبی (water sign) اور تین ہوائی (air sign) کہلاتے ہیں۔
شعوری مشاہدے کا سب سے بڑا لاشعوری ذخیرہ آبی اور ہوائی برجوں کے حامل افراد کرتے ہیں، دونوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ آبی برج (سرطان، عقرب اور حوت) کا مشاہدہ بہت گہرا اور پائیدار ہوتا ہے،وہ بہت چھوٹی عمر کے مشاہدات و تجربات بھی طویل عرصے تک اپنے لاشعوری ریکارڈ میں جمع رکھتے ہیں اور یہ ریکارڈ وقتاً فوقتاً عمر کے مختلف حصوںمیں خوابوں کے ذریعے ڈسپلے ہوتا رہتا ہے،ہوائی بروج جوزا ، میزان اور دلو کا مشاہدہ اور تجربہ زیادہ گہرا اور پائیدار نہیں ہوتا لہٰذا ان کا لاشعوری ریکارڈ دوسرے برجوں کے مقابلے میں اگرچہ سب سے زیادہ وسیع ہوتا ہے مگر اپنی وسعت کے سبب اس قدر گڈمڈ ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ ہمیشہ نہایت بے ترتیب، الجھے ہوئے اور بے معنی یا فضول خوابوں کی ایک لمبی سیریل دیکھتے رہتے ہیں۔سب سے کم خواب ثابت بروج دیکھتے ہیں یا یوں کہیں کہ انہیں اپنے خواب یاد ہی نہیں رہتے، البتہ ثابت بروج میں برج عقرب کے خواب بڑے اہم اور معنی خیز ہوتے ہیں، دیگر دو بروج ثور اور اسد کا معاملہ مختلف ہے، یہ لوگ کسی مخصوص صورت حال کے باعث ہی خواب دیکھتے ہیں ورنہ نہیں۔
 اب آئیے اپنے خواب کی تعبیر کی طرف۔
آپ نے اپنی جس بیماری اور علاج کا تذکرہ کیا ہے، وہ اس خواب میں نمایاں ہے،آپ تیزی سے صحت مندی کی طرف جارہی ہیں مگر ابھی مکمل طور پر صحت مند نہیں ہیں، البتہ آپ کے خواب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ مایوسی کے گڑھے سے نکل آئی ہیں، خوش امیدی جیسی شفا بخش قوت آپ کو حاصل ہوچکی ہے اور آپ بہت جلد مکمل طور پر شفایاب ہوجائیں گی، انشاءاللہ لیکن اس بات کا اندیشہ بھی موجود ہے کہ آپ علاج معالجے میں کوئی دھوکا کھاسکتی ہیں لہٰذا محتاط رہیں اور اس علاج کو ہر گز نہ چھوڑیں جس سے آپ کو حقیقی معنوں میں فائدہ ہوا ہے، اس سلسلے میں خواہ کوئی کتنا ہی سبز باغ دکھا کر اپنی طرف بلائے، اس کی باتوں میں نہ آئیں۔
خوابوں کی دنیا
دوسرا خط ایک اور کرم فرما کا ہے، لکھتے ہیں ”میرا ایک مسئلہ ہے وہ یہ کہ میری والدہ محترمہ کو وفات پائے عرصہ گزر گیا، میری خواہش اور کوشش رہتی ہے کہ وہ مجھے خواب میں نظر آئیں مگر وہ خواب میں نظر نہیں آتیں بلکہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ کوئی دو سال سے مجھے کوئی خواب ہی نظر نہیں آیا، کوئی طریقہ ایسا ہو کہ والدہ صاحبہ کا دیدار ہوجائے تو میں آپ کے لیے دعا گو رہوں گا“
برادرم! کالم کی پسندیدگی کے لیے ہم آپ کے شکر گزار ہیں، آپ نے اپنا جو مسئلہ بیان فرمایا ہے اس کے حوالے سے پہلے تو اس حقیقت کو سمجھ لیں کہ آپ خواب کیوں نہیں دیکھتے، یقینا آپ نہایت گہری نیند سوتے ہیں یا پھر سونے کے لیے مسکن ادویات کا استعمال کرتے ہیں، گہری اور نہایت پرسکون نیند بہترین ذہنی یکسوئی اور بے فکری کی علامت ہے، ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ آپ روزانہ ضرورت کے مطابق نیند نہ لیتے ہوں یعنی دیر سے سونا اور پھر جلدی اٹھنا، اس صورت میں بھی نیند کی شکل میں انسان پر گہری مدہوشی طاری ہوجاتی ہے۔
جدید نفسیاتی اور سائنسی تحقیق کے مطابق ہر ذی شعور انسان روزانہ کم از کم تین خواب ایک رات میں ضرور دیکھتا ہے ، پہلا خواب وہ نیند کے ابتدائی غلبے کے فوراً بعد دیکھتا ہے اور دوسرا خواب اس وقت دیکھتا ہے جب آدھی نیند لے چکا ہوتا ہے یعنی بہت گہری نیند سورہا ہوتا ہے، یہ دونوں خواب انسان کو یاد نہیں رہتے یا ان لوگوں کو یاد رہتے ہیں جو گہری نیند نہیں سوتے، ذہنی انتشار کی زیادتی کی وجہ سے نیند کی حالت میں بھی بے چین اور ہوشیار رہتے ہیں اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد کسی بھی وجہ سے ان کی آنکھ کھلتی رہتی ہے اور وہ اپنے خوابوں پر خصوصی توجہ دیتے، انہیں یاد رکھنے کی پریکٹس کرتے ہیں یعنی آنکھ کھلتے ہی جو کچھ خواب میں دیکھا اسے ذہن میں تازہ کرنا شروع کردیا، خواب کی جزئیات پر غوروفکر شروع کردیا، خواب غیر معمولی نوعیت کا ہو تو انسان ایسا ضرور کرتا ہے اور پھر وہ خواب اسے صبح بھی یاد ہوتا ہے۔
تیسرا خواب انسان اپنی نیند کے آخری مرحلے میں یعنی صبح کے قریب دیکھتا ہے، اس مرحلے میں تھکے ہوئے اعصاب بھرپور نیند کے سبب تازہ دم ہوچکے ہوتے ہیں اور شعور کی بیداری شروع ہوچکی ہوتی ہے یعنی گہری نیند نہیں ہوتی، لاشعور کی دنیا سے واپسی کا سفر شروع ہوچکا ہوتا ہے لہٰذا یہ خواب عموماً یاد رہ جاتا ہے،آنکھ کھلتے ہی انسان بستر پر کسمسانے کے دوران میں اس پر نظرثانی کرتا، خواب کی باتوں کو ذہن میں شعوری طور پر دہراتا اور پھر ذہن میں نقش کرتا ہے لیکن اس کے برعکس بھی ہوتا ہے، وہ لوگ جو بہت زیادہ مصروفیت کی زندگی بسر کرتے ہیں اور آنکھ کھلتے ہی فوراً ان کا ذہن کسی اور طرف متوجہ ہوکر مصروف عمل ہوجاتا ہے، یہ آخری مرحلے کا خواب بھی بھول جاتے ہیں، مثلاً دیر سے سونے کے بعد نامکمل نیند میں انہیں زبردستی اٹھنا اور فوراً کسی ضروری کام یا ڈیوٹی کے لیے بھاگنا پڑے، ایسی صورت میں دیکھے ہوئے خواب کو ذہن میں تازہ کرنے کی مہلت ہی نہیں ملتی لہٰذا وہ یاد بھی نہیں رہتا۔
اس تمام تفصیل کا مقصد یہ ہے کہ انسان خواب ضرور دیکھتا ہے، تحقیق سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ صرف پاگل خواب نہیں دیکھتے یعنی ذہنی خرابیوں کا شکار اور دماغی امراض میں مبتلا افراد، باقی ہر شخص جو اپنی شعوری دنیا کے ساتھ لاشعوری دنیا بھی رکھتا ہے، خواب دیکھتا ہے، خواہ بے داری کے بعد اسے وہ یاد نہ رہیں، یاد نہ رہنے کی کوئی بھی وجہ ہوسکتی ہے، کچھ وجوہات پر ہم روشنی ڈال چکے ہیں۔
اب آپ کا یہ سوال کہ والدہ محترمہ کبھی خواب میں نہیں آتیں تو اس کی بھی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں جن پر روشنی ڈالنے کے لیے آپ کے بعض حالات زندگی سے واقف ہونا ضروری ہے،والدہ کو خواب میں نہ دیکھنے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ آپ کی خواہش ناپختہ ہو یعنی جس لگن اور بے قراری کی اس خواہش کے لیے ضرورت ہے، وہ ناپید ہو، اگر آپ چاہتے ہیں کہ اپنی والدہ کو خواب میں دیکھیں تو سب سے پہلے ان کی کوئی اچھی سی تصویر اپنے کمرے میں اس طرح لگائیں کہ مستقل آپ کی نظر اس تصویر پر پڑھتی رہے،اس کے بعد تقریباً ہر جمعرات کو خصوصی اہتمام کے ساتھ عصر و مغرب کے درمیان کلمے شریف کا ختم اس طرح کرائیں کہ ایک مہینے یعنی چار یا پانچ جمعراتوں میں سوا لاکھ کی تعداد مکمل ہوجائے جمعرات کو والدہ کی پسندیدہ کوئی ڈش تیار کرائیں اور غریبوں میں تقسیم کردیا کریں، یقین کرلیں کہ آپ اپنی والدہ کو خواب میں دیکھ سکیں گے۔

پیر، 30 اکتوبر، 2017

اب خداوں کے دن تو گنے جاچکے


نومبر کی فلکیاتی صورت حال، پاکستانی سیاست و حکومت میں نیا موڑ
پل پل رنگ بدلتا آسمان ہمارے سروں پر سایہ فگن ہے، پاکستان اپنی تاریخ کے سب سے زیادہ اہم اور ناقابل فراموش دور سے گزر رہا ہے،تقریباً 17 سال قبل یعنی 2000 ءمیں یعنی نئی صدی کے آغاز ہی میں آسمانی کونسل کے تقریباً تمام ہی اراکین کا ایک بڑا اجتماع دائرئہ بروج کے پہلے برج حمل میں ہوا تھا، قمر اور مریخ کے علاوہ باقی تمام یعنی پانچ سیارگان ایک ہی برج میں جمع تھے،راہو کیتو بالترتیب برج سرطان اور جدی میں حرکت کر رہے تھے اور بعض ویدک ایسٹرولوجرز کے بقول ”کال سرپ یوگ“ بنارہے تھے، یہ یوگ نہایت منحوس اور نقصان دہ خیال کیا جاتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ صرف پاکستان کے لیے بلکہ دنیا بھر کے لیے اس کی نحوست اگر ہے تو اثر انداز ہوگی۔
کال سرپ یوگ ایک متنازع یوگ ہے،قدیم کلاسیکل ویدک سسٹم میں اس کا کوئی وجود نہیں ہے لیکن بعد کے اکثر ماہرین نجوم اسے تسلیم کرتے ہیں، جب کہ بعض اسے محض پنڈتوں کی من گھڑت قرار دیتے ہیں، ہمارا بھی یہی خیال ہے کہ یہ یوگ پنڈتوں نے اپنے پیشہ ورانہ مفاد کے لیے ایجاد کیا ہے تاکہ لوگوں کو خوف زدہ کرکے ان سے زیادہ سے زیادہ بھینٹ لی جائے۔
اس یوگ کا تذکرہ برسبیل تذکرہ آگیا ہے،ہمارے نزدیک زیادہ اہم بات ایک سے زائد سیارگان کا ایک ہی برج میں جمع ہونا ہے جسے اصطلاحاً ”قران“ کہا جاتا ہے، ایسٹرولوجی کے قدیم نظریات کے تحت ایک سے زائد یعنی تقریباً پانچ ، چھ یا سات سیارگان کا کسی ایک ہی برج میں اجتماع دنیا میں غیر معمولی تبدیلیوں کی نشان دہی کرتا ہے، روایت ہے کہ ایسے عظیم قرانات طوفان نوح سے قبل یا انبیاءکی پیدائش سے قبل اور یوم الفیل سے قبل یا دیگر بہت بڑے دنیاوی واقعات سے قبل مشاہدے میں آتے رہے ہیں۔
مئی 2000 ءمیں ہونے والا یہ اجتماع اب تقریباً 17 سال بعد یہ ظاہر کر رہا ہے کہ دنیا کس طرح تبدیل ہوچکی ہے،اس اجتماع کے فوری بعد 2001 ءمیں ورلڈ ٹریڈ ٹاور کی تباہی کا واقعہ پیش آیا جس نے پوری دنیا کی کیمسٹری تبدیل کردی، اس کے بعد امریکا نے افغانستان پر اور بعد ازاں عراق پر چڑھائی کردی، صدر بُش نے صلیبی جنگ کا نعرہ لگادیا ، بہر حال اب تک جو بھی حالات وواقعات سامنے آئے وہ یہاں بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے،پاکستان بھی اس صورت حال سے بری طرح متاثر ہوا، جنرل مشرف کے دس سال اور پھر پاکستان پیپلز پارٹی کے پانچ سال اور اب ن لیگ کے تقریباً ساڑھے چار سال مسلسل پاکستان کو مصائب و مشکلات سے دوچار کرتے چلے گئے ہیں، آج صورت حال یہ ہے کہ ملک کی سیاسی اشرافیہ اس طرح بے نقاب ہورہی ہے کہ لوگ سیاست سے نفرت کا اظہار کر رہے ہیں اور جمہوریت کو چند مخصوص افراد کے مفادات کا ذریعہ کہہ رہے ہیں، شاید اس سے پہلے جمہوریت کی ایسی ذلت و رسوائی دیکھنے میں نہ آئی ہو، اکثر سیاسی تجزیہ کار اور دانش ور اب کسی ٹیکنوکریٹ حکومت کی باتیں کرتے نظر آتے ہیں، ہمارے پیش نظر اس وقت سال کے آخری دو مہینے ہیں اور ہم اپنی گفتگو کو ان دو مہینوں تک ہی محدود رکھیں گے کیوں کہ سال 2018 ءکے حوالے سے ہمارا ایسٹرولوجیکل تجزیہ فی الحال اشاعت کے مرحلے میں ہے اور اپنے قارئین کے مطالعے کے لیے اسے ہم آئندہ ماہ پیش کریں گے۔
نومبر میں صورت حال خاصی سنسنی خیز ہے،3 نومبر سے ایک ایسے وقت کا آغاز ہورہا ہے جس میں اسٹیبلشمنٹ اہل سیاست پر حاوی نظر آتی ہے،ممکن ہے بعض احباب یہ بھی کہیں کہ ”وہ حاوی کب نہیں تھی؟“ لیکن زیادہ سنسنی خیز اور ایڈونچرر ٹائم کا آغازدسمبر کے پہلے ہفتے سے ہوگا، کوئی بڑا آئینی بحران جنم لے سکتا ہے،ممکن ہے جس ٹیکنوکریٹ حکومت کی باتیں کی جارہی ہیں، اس کے خدوخال نمایاں ہوجائیں (واللہ اعلم بالصواب) 
اس ماہ کے لیے اظہر عباس کا یہ قطع بڑا برمحل ہے
اب کوئی اور جادو دکھاو میاں
ایک ہی جھوٹ سے لوگ تنگ آچکے
تم خدائی کا دعویٰ نہ کر بیٹھنا
اب خداوں کے دن تو گنے جاچکے 
نومبر کے ستارے
حکومت و اقتدار کا ستارہ شمس برج عقرب میں حرکت کر رہا ہے،22 نومبر کو برج قوس میں داخل ہوگا، آسمانی کونسل کا وزیر اطلاعات و نشریات سیارہ عطارد برج عقرب میں ہے،6 نومبر کو برج قوس میں داخل ہوگا، توازن اور ہم آہنگی کا ستارہ زہرہ اپنے ذاتی برج میزان میں ہے،7 نومبر کو برج عقرب میں داخل ہوگا، سپہ سالارِ فلک سیارہ مریخ برج میزان میں حرکت کر رہا ہے اور پورا ماہ اسی برج میں رہے گا، وسعت و ترقی اور علم و دانش کا ستارہ مشتری برج عقرب میں پورا ماہ رہے گا، استاد زمانہ سیارہ زحل برج قوس میں ہے، ایجادات و اختراعات کا ستارہ یورینس برج حمل میں ہے،پراسرار نیپچون برج حوت میں اور کایہ پلٹ کرنے والا پلوٹو برج جدی میں ہے، جب کہ راس و ذنب بالترتیب برج اسد اور دلو میں حرکت کر رہے ہیں۔
عزیزان من! یہ رفتارِ سیارگان یونانی علم نجوم کے مطابق دی جارہی ہیں۔
نظرات و اثراتِ سیارگان
نومبر کے مہینے میں اہم سیارگان کے درمیان تشکیل پانے والے زاویے خاصے دلچسپ ہیں، اس ماہ تسدیس اور تثلیث کے چار چار، اسکوائر کے دو، اپوزیشن کا ایک زاویہ تشکیل پائے گا، جب کہ دو سیارگان کے باہمی ملاپ کے زاویے دو ہوں گے،تاریخ وار ان زاویوں کی نشان دہی اور ممکنہ اثرات درج ذیل ہیں۔
3 نومبر: زہرہ اور زحل کے درمیان تسدیس کا سعد زاویہ ہوگا، یہ نظر اکثر معاملات میں پائیداری اور افہام و تفہیم لاتی ہے،خاص طور پر ازدواجی زندگی یا شراکت کے امور میں مضبوطی کے لیے اس وقت کوشش کرنا چاہیے، میڈیسن سے متعلق بزنس کی ابتدا کرنا یا میڈیسن کے کام کو بہتر طور پر انجام دینا اس وقت آسان ہوتا ہے، زیورات کی تیاری کے لیے بھی اچھا وقت ہے۔
4 نومبر: شمس اور نیپچون کے درمیان تثلیث کا زاویہ اور اسی روز زہرہ اور یورینس کے درمیان مقابلے کی نظر ہے، گویا ایک سعد زاویہ ، دوسرا نحس، شمس اور نیپچون کی تثلیث گورنمنٹ کے ذریعے فوائد دیتی ہے، حکومت کی طرف سے نئے کاموں کی ابتدا ہوتی ہے، مائع اشیا کے بزنس کو ترقی دینے یا زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے کے لیے بہتر وقت ہے لیکن زہرہ یورینس کے درمیان اپوزیشن کا زاویہ باہمی ہم آہنگی اور توازن کو اچانک بگاڑ سکتا ہے،بنتے ہوئے کام بگڑ سکتے ہیں، خصوصاً خواتین کا رویہ عجیب اور نہ سمجھ میں آنے والا ہوسکتا ہے،بعض لوگوں کی منگنی یا محبت کے معاملات اچانک کوئی نیا رُخ اختیار کرسکتے ہیں، اس وقت فوری فیصلوں سے گریز کرنا چاہیے۔
زائچہ ءپاکستان میں یہ نظر غیر معمولی اہم واقعات کا باعث بن سکتی ہے،خصوصاً اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے اقدام یا فیصلے غیر معمولی صورت حال پیدا کرسکتے ہیں،کابینہ میں ردوبدل اور دیگر سرکاری اداروں میں تبدیلیاں دیکھنے میں آسکتی ہیں۔
9 نومبر: شمس و پلوٹو کے درمیان تسدیس کا زاویہ سعد اثر رکھتا ہے لیکن عام آدمی کی زندگی میں اس کا اثر خارج ازمکان ہے، بین الاقوامی سطح پر مختلف ممالک کے درمیان پاور پلے کا رجحان نظر آسکتا ہے۔
11 نومبر: زحل اور یورینس کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ بھی فوری اثرات کا حامل نہیں ہے اور عام آدمی کے لیے بھی اہم نہیں ہے کیوں کہ ایسے زاویے قوموں اور ملکوں کے لیے زیادہ اہم ہوتے ہیں اور ان کے اثرات ایک طویل عرصے میں جاکر ظاہر ہوتے ہیں، واضح رہے کہ اس سال کے شروع میں بھی یہ زاویہ تشکیل پایا تھا اور آئندہ بھی یہ زاویہ دیکھنے میں آئے گا۔
 بین الاقوامی طور پر اور ملکی زائچے میں اس کے اثرات معاشرتی اقدار اور رویوں میں نئی تبدیلیوں کی نشان دہی کرتے ہیں، گویا آئندہ سالوں میں دنیا نئی ارضیاتی تبدیلیوں کا سامنا کرے گی، انسانی محنت و مشقت کو کم کرنے اور زیادہ سے زیادہ الیکٹرونکس پر انحصار کرنے کا دور جو ماضی میں شروع ہوچکا ہے، آئندہ چند سالوں میں اپنی انتہا کو پہنچ جائے گا۔
13 نومبر: زہرہ اور مشتری کا باہمی ملاپ جو ”قران السعدین“ کہلاتا ہے،اس زاویے کو سعد اکبر تسلیم کیا جاتا ہے اور خوش قسمتی کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے، تقریباً تمام ہی کاموں کے لیے یہ وقت بہتر سمجھا جاتا ہے،خصوصاً مالی فوائد، پروموشن، کاروباری ترقی، دو افراد کے درمیان پارٹنر شپ یا محبت و دوستی وغیرہ کے لیے مددگار ثابت ہوتا ہے،اس وقت ماہرین جفر خصوصی نقش و طلسم تیار کرتے ہیں۔
پاکستان کے زائچے میں اس کے اثرات نحس ہوں گے،فوج اور بیوروکریسی سے متعلق افراد کو حادثات پیش آسکتے ہیں، حکومت سے متعلق امور میں نئے تنازعات اور اختلافات جنم لے سکتے ہیں، ملک میں جاری آپریشن مزید تیز ہوجائے گا۔
14 نومبر: عطارد اور نیپچون کے درمیان تربیع کا زاویہ نحس اثر رکھتا ہے،اس وقت دھوکے اور فراڈ کے معاملات سامنے آتے ہیں، افواہیں پھیلتی ہیں، میڈیا میں غلط خبریں گردش کریں گی، عام لوگوں کو اس دوران میں دوسروں سے معاملہ کرتے ہوئے محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی، اجنبی اور مشکوک افراد سے محتاط رہیں۔
16 نومبر: زہرہ اور نیپچون کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ محبت، دوستی اور نئی دلچسپ تفریحات کی طرف متوجہ کرتا ہے،ملک میں انٹرٹینمنٹ کے حوالے سے دلچسپ پروگرام سامنے آسکتے ہیں، عام آدمی کے لیے یہ بہتر انجوائے منٹ کا وقت ہوگا۔
17 نومبر: عطارد اور مریخ کے درمیان تثلیث کا زاویہ سعد اثر رکھتا ہے،متنازع اور اختلافی معاملات میں بات چیت کے ذریعے فوائد حاصل ہوسکتے ہیں، مشینری اور ٹرانسپورٹ سے متعلق کاروبار فائدہ بخش رہیں گے، ٹیکنیکل نوعیت کے کاموں میں بہتر نتائج اور کارکردگی آسان ہوگی۔
19 نومبر: مریخ اور پلوٹو کے درمیان تربیع کا زاویہ نحس اثر رکھتا ہے،یہ زاویہ حادثات و سانحات کا باعث بن سکتا ہے،ڈرائیونگ کے معاملات میں محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی،پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات سامنے آسکتے ہیں۔
21 نومبر: زہرہ اور پلوٹو کے درمیان تسدیس کا زاویہ سعد اثر رکھتا ہے،محبت، دوستی وغیرہ کے معاملات میں گرم جوشی اور شدت کا باعث ہوگا لیکن خواتین کو محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی، یہ نظر حدود و قیود کو توڑتی ہے اور گناہ کی طرف راغب کرتی ہے۔
25 نومبر: عطارد اور یورینس کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ قائم ہوگا، تحریری اور تقریری سرگرمیوں کے لیے اچھا وقت ہے،ذرائع ابلاغ کی بہتر کارکردگی دیکھنے میں آئے گی، نئی چونکا دینے والی خبریں یا اطلاعات منظر عام پر آئیں گی،عام آدمی کے لیے کوئی نئی تبدیلی لانے کا وقت ہے، اگر آپ اپنی زندگی میں یا کاروبار میں یا جاب میں کوئی تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو اس وقت سامنے آنے والے مواقع ضائع نہ کریں۔
28 نومبر: عطارد اور زحل کا قران ایک مثبت زاویہ ہے، اس وقت میں طویل المدت منصوبہ بندی یا ایگریمنٹ بہتر ثابت ہوں گے،پراپرٹی کی خریدوفروخت اور دستاویزات کی تیاری کے لیے بہتر وقت ہے، یہ وقت علاج معالجے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔
شرف قمر
چاند اس ماہ اپنے شرف کے برج ثور میں پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق جمعہ 3 نومبر کو دوپہر 02:46 pm پر داخل ہوگا اور شرف کے درجے پر 06:03 pm سے 07:42 pm تک رہے گا۔
غیر ممالک میں مقیم اپنے قارئین کے لیے ہم یہاں جی ایم ٹی ٹائم بھی دے رہے ہیں تاکہ تمام ممالک کے لوگ اپنے ملک سے جی ایم ٹی ٹائم کا فرق جمع یا تفریق کرکے درست وقت حاصل کرسکیں، اس سلسلے میں یہ بھی خیال رکھنے کی ضرورت ہوگی کہ برطانیہ، کنیڈا، امریکا اور آسٹریلیا یا جاپان وغیرہ میں اگر سمر ٹائم چل رہا ہو تو اس کا بھی خیال رکھنا ضروری ہوگا کیوں کہ یہ اضافی ٹائم ہوتا ہے۔
جی ایم ٹی ٹائم (لندن ٹائم ) کے مطابق قمر برج ثور میں جمعہ 3 نومبر کو 09:48 am پر داخل ہوگا لیکن درجہ ءشرف پر 01:03 pm سے 02:42 pm تک رہے گا۔کنیڈا اور امریکا والوں کو اس وقت میں پانچ یا چھ گھنٹے کا اضافہ کرنا پڑے گا، نیویارک اور ٹورنٹو کا فرق لندن ٹائم سے پانچ گھنٹے آگے کا ہے۔
بہت عرصے کے بعد شرف قمر کا وقت عروج ماہ میں آرہا ہے لہٰذا یہ شرف قمر زیادہ مو ¿ثر اور طاقت ور ہے،اس موقع کے لیے ہم ہر مہینے جو اعمال دیتے ہیں ، ان پر عمل کیا جاسکتا ہے لیکن خصوصی طور پر یہ وقت برکاتی انگوٹھی، خاتم قمر یا لوح قمر نورانی کی تیاری کے لیے نہایت مو ¿ثر اور مبارک ہے،اس سلسلے میں ہماری ویب سائٹ سے متعلقہ عملیات میں رہنمائی لی جاسکتی ہے،جو لوگ یہ چیزیں خود تیار نہیں کرسکتے، وہ براہ راست رابطہ کرسکتے ہیں۔
قمر در عقرب
اس مہینے میں قمر اپنے ہبوط کے برج عقرب میں پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق جمعرات 16 نومبر کو 01:18pm پر داخل ہوگا اور ہفتہ 18 نومبر کو 11:58 pm تک رہے گا لیکن اپنے درجہ ءہبوط پر 16 نومبر 05:10 pm سے 07:06 pm تک رہے گا جب کہ جی ایم ٹی ٹائم کے مطابق برج عقرب میں داخلہ16 نومبر 08:18 am پر ہوگا اور 18 نومبر کو 06:58 pm برج قوس میں داخل ہوجائے گا، اس عرصے میں ہبوط کے درجے پر 12:10 pm سے 02:08 pm تک ہوگا، یہی عملیات کے لیے مو ¿ثر ترین اور نحس ترین وقت ہے۔
اس نحس وقت میں روک تھام اور بندش کے عملیات و وظائف یا نقش تیار کیے جاتے ہیں جو ہم وقتاً فوقتاً دیتے رہے ہیں، اپنی ضرورت کے لیے ہماری ویب سائٹ www.maseeha.com سے رہنمائی لے سکتے ہیں یا براہ راست رابطہ کرسکتے ہیں۔

پیر، 23 اکتوبر، 2017

اک اور کہانی بھی کہانی سے الگ ہے

دنیا میں ہر انسان کسی نہ کسی احساس کمتری میں ضرور مبتلا ہے
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں آج کل افواہوں کا بازار گرم ہے،کبھی ٹیکنو کریٹ حکومت کی افواہ سنائی دیتی ہے تو کبھی کسی ایمرجنسی کی باتیں سامنے آتی ہیں، گزشتہ دنوں معاشی امور کے حوالے سے فوجی اور سیاسی حلقوں میں بیانات کی خاصی گرم بازاری رہی لیکن اب یہ معاملہ کسی حد تک ٹھنڈا ہوگیا ہے، واقعہ یہ ہے کہ زائچہ ءپاکستان میں جاری سیاروی گردش مختلف پھلجڑیاں سامنے لاتی رہتی ہیں اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا، سب سے زیادہ اہم زائچہ ءپاکستان میں اس وقت ایک اہم نظر جو گزشتہ تقریباً ایک ماہ سے قائم تھی اور 27 اکتوبر کو ختم ہوگی، وہ راہو اور زحل کے درمیان بننے والا زاویہ تھا، یہ نظر پیدائشی زائچے میں بھی موجود ہے،زحل چوں کہ دسویں یعنی حکومت اور کابینہ سے متعلق سیارہ ہے اور راہو سیاست اور فریب و فراڈ کا سیارہ ہے لہٰذا پاکستان میں سیاست کبھی قابل بھروسا نہیں رہی اور جب کہ یہ نظر قائم ہے تو موجودہ سیاسی نظام اور سیاست داں بری طرح اپنا اعتماد کھو رہے ہیں، حکومت اور کابینہ کا جو حال ہے وہ بھی کوئی ڈھکا چھپا نہیں ہے، ملکی حالات میں 3 نومبر تا 5 نومبر اہم تنازعات رونما ہوسکتے ہیں جن سے نئے مباحث جنم لیں گے۔
چوں کہ سیارگان کی کثرت زائچے کے چھٹے گھر کی جانب ہے لہٰذا آئندہ ماہ تک زیادہ فعالیت فوج، بیوروکریسی اور عدلیہ کی نظر آئے گی، البتہ یکم دسمبر سے سیارہ مریخ بھی زائچے کے چھٹے گھر میں داخل ہوگا تو اس کے بعد ایک زیادہ حساس وقت کا آغاز ہوسکتا ہے جس میں عدلیہ ، فوج اور بیوروکریسی کو خصوصی ہدف بنایا جاسکتا ہے،آئینی ترامیم یا نئی قانون سازی کے حوالے سے بھی کوئی نیا شوروغوغا سامنے آسکتا ہے،عدلیہ کے فیصلے اور ان کے حوالے سے رد عمل بھی دیکھنے میں آئے گا، وقت زیادہ حساس ہو تو کوئی ناخوش گوار صورت حال بھی پیدا ہوسکتی ہے جو پوری بساط ہی پلٹ دے۔
پاکستان میں معیشت کی زبوں حالی کا چرچا گزشتہ دنوں رہا اور اب یہی صورت حال انڈیا میں نظر آتی ہے کیوں کہ دونوں ملکوں کے زائچوں میں طالع برج ثور ہے،انڈیا میں معیشت پر دباو ¿ کے علاوہ وزیر اعظم اور ان کی کابینہ پر بھی اس وقت شدید دباو ¿ ہے،تھوڑی سی دیر سویر کے ساتھ دونوں ملکوں میں اکثر صورت حال میں یکسانیت دیکھنے میں آتی ہے،فرق صرف اتنا ہے کہ ہمارے ملک میں جمہوریت تاحال ایک تماشا ہے جب کہ انڈیا میں جمہوری عمل بہر حال جاری و ساری ہے، ہماری عدلیہ کو آزادانہ طور پر کام کرنے کے مواقع نہیں مل سکے،انڈیا میں عدلیہ زیادہ آزاد اور فعال ہے۔
حسب روایت ہمارے ایک محبوب شاعر عارف امام کا تازہ شعر نظر قارئین ہے
کردار ہے اک اور بھی کردار کے اندر
اک اور کہانی بھی کہانی سے الگ ہے
احساس کمتری
ہم جس ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں اس میں قدم قدم پر نت نئے مسائل سے واسطہ پڑتا ہے اور کبھی کبھی کوئی مسئلہ ایسی پیچیدہ نوعیت بھی اختیار کرلیتا ہے جو خود ہماری عقل و فہم سے بالاتر ہوتی ہے لیکن یاد رکھیے کہ مسئلہ خواہ کچھ بھی ہو اور کیسی ہی پیچیدہ نوعیت کیوں نہ اختیار کرگیا ہو اس کا کوئی نہ کوئی حل ضرور موجود ہوتا ہے، یہ اور بات ہے کہ ہماری عقل و فہم کی رسائی اس حل تک نہ ہو پارہی ہو،یہ بھی ممکن ہے کہ ہم اس مسئلے کو بالکل ہی غلط انداز میں دیکھ رہے ہوں اور غلط طریقے پر حل کرنے کی کوشش کر رہے ہوں ، اس سلسلے میں ایک خط ملاحظہ کیجیے جو ہمیں ”س ع“ صاحبہ نے تحریر کیا ہے، وہ لکھتی ہیں۔
”میں ان لوگوں میں سے ہوں جو حالات و مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ، ذہنی مریضہ بن چکی ہوں، اپنے آپ کو اس دھرتی پر، اپنے گھر والوں پر اور خود کو خود پر بوجھ سمجھتی ہوں، میں چاہتی ہوں مجھ میں جو برائیاں اور خامیاں ہیں اور جو کچھ بھی میرے دل میں ہے، میں اسے تحریر کردوں، میں اپنی وہ پریشانیاں آپ کو لکھنا چاہتی ہوں جنہوں نے میری زندگی بالکل بے سکون کردی ہے اور مجھے کسی گھڑی بھی سکون میسر نہیں ہے، میں اپنی شخصیت سے بہت پریشان ہوں، میری اپنی ذہنیت اپنے متعلق ٹھیک نہیں ہے، کوئی کام کرنے کی صلاحیت نہیں، میں بالکل بے کار چیز ہوں، میں اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہوں مگر سب کہتے ہیں کہ میں سب سے چھوٹی لگتی ہوں، معلوم نہیں کیوں ہر کوئی مجھے دیکھ کر یہی کہتا ہے کہ تم سب سے چھوٹی ہو، اس وجہ سے میں شدید احساس کمتری میں مبتلا ہوں، میری بہنیں مجھ سے بڑی لگتی ہیں اسی وجہ سے میں ان میں نہیں بیٹھتی، اگر گھر میں مہمان آجائیں تو میں پریشان ہوجاتی ہوں کہ اگر انہوں نے مجھے دیکھ لیا تو وہ کہیں گے کہ یہ سب سے چھوٹی لگتی ہے یا یہ کمزور ہے، یہ سن کر میں مایوس ہوجاتی ہوں، ان کی بات سے مجھے غصہ آتا ہے، ہر وقت یہی الفاظ ذہن میں گھومتے رہتے ہیں کہ کیا میں واقعی کمزور ہوں؟ کیا کہنے والے نے سچ کہا ہے یا پھر مجھ میں ہی شاید کسی چیز کی کمی ہے؟
”میں شروع سے ہی بڑی تنہائی پسند لڑکی تھی جو کسی نے دیا، کھالیا جس کسی نے پہنایا، پہن لیا، اپنی کوئی پسند یا ناپسند نہیں تھی، پہلے میرے والدین میرا بہت خیال رکھتے تھے، مجھے بہت پیار کرتے، میں ان کی لاڈلی بیٹی تھی مگر جوں جوں بہن بھائیوں کی تعداد زیادہ ہوتی گئی تُوں تُوں میرے لیے ان کے پیار میں کمی آتی گئی، اب تو یہ حال ہے کہ مجھے کوئی پسند ہی نہیں کرتا، یہاں تک کہ میرے بہن بھائی، میری والدہ بھی ہر وقت مجھے ڈانٹتے رہتے ہیں، میں سوچتی ہوں شاید مجھ میں بڑوں والی کوئی بات ہی نہیں ہے، اصل پریشانی کا سبب یہی ہے کہ میں بہت کمزور ہوں اور لاکھ کوشش کے باوجود بھی اپنے آپ کو اسمارٹ نہیں بناسکی، میری بھی یہ خواہش ہے اور یہ تو ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اس سے محبت کی جائے، اس کی قدر کی جائے، اس کی تعریف کی جائے مگر میں نے تو بچپن سے آج تک اپنی تعریف میں ایک لفظ تک نہیں سنا، کوئی کام بھی کیا تو ڈانٹ پھٹکا رہی سننے کو ملی، پہلے میں ٹھیک تھی مگر جوں جوں بڑی ہوتی جارہی ہوں گھر والوں کی نظر میں بلکہ اپنی نظر میں بھی خود کو کمتر محسوس کرتی ہوں، ہر وقت ذہن میں یہی الفاظ گونجتے رہتے ہیں کہ میں کمزور ہوں، کیا میں واقعی کمزور ہوں؟ کبھی اس کا جواب ہاں میں کبھی کبھار نہیں میں آتا ہے۔
”اگر میں خوب صورت ہوتی تو میری بھی تعریف ہوتی، میری بھی قدروعزت ہوتی مگر افسوس کہ میں اپنے ذہن میں اچھے الفاظ نہیں سوچ سکتی اور نہ اپنے اندر ایسی صلاحیتیں پیدا کرسکتی ہوں جو میری زندگی کو دوسروں کے لیے باعزت بنادیں، میرا ذہن ہر وقت ذرا ذرا سی بات پر پریشانی میں مبتلا ہوجاتا ہے، شاید میری شخصیت کے دو رخ بن گئے ہیں، کبھی میرا ذہن خاصا طاقت ور محسوس ہوتا ہے اور کبھی بہت کمزور محسوس ہوتا ہے ، پتا نہیں میرا ذہن ایسا کیوں ہوگیا ہے اور مجھے ہر وقت پریشانی کیوں گھیرے رہتی ہے ، آخر مجھے بھی خوش ہونے کا حق ہے مگر میرا دل بالکل نہیں لگتا، نہ ہی میرا کوئی دوست یا ہمدرد ہے، شاید اس کی وجہ بھی میری کمزوری ہے یا وہ رد عمل ہے جو ہر وقت میرے سر پر سوار رہتا ہے ، میرے ذہن میں ہر وقت یہی خیالات گھر کیے رہتے ہیں کہ کوئی مجھ سے اس لیے نہیں بولتا کیوں کہ میں کمزور ہوں یا میری شکل اچھی نہیں ہے، مخاطب سے بات کرتے وقت میری پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ میری باتوں سے خوش ہو مگر معلوم نہیں کیوں اس کے سامنے زبان بند ہوجاتی ہے اور ہر وقت یہی فقرہ سننے کے خیال میں رہتی ہوں کہ کہیں گفتگو کے درمیان سامنے والا میرے اندر کوئی نقص تلاش نہ کرلے یا یہ نہ کہے کہ بھئی بڑی کمزور لگ رہی ہو، کیا کچھ کھاتی پیتی نہیں ہو؟
”مجھ میں یہ بری عادت بھی ہے کہ ہر کسی کی باتوں کا اثر بہت لیتی ہوں اور دیر تک بات میرے ذہن کو پریشان کیے رہتی ہے کہ کہنے والے نے میرے بارے میں درست ہی کہا ہوگا، پھر میں اس کی بات کی روشنی میں اپنی شخصیت کا جائزہ لیتی ہوں اور یقین ہوتا ہے کہ کہنے والے نے میرے متعلق ٹھیک ہی کہا ہوگا۔
”لوگوں کی باتوں نے میرے ذہن پر بہت برا اثر ڈالا ہے اور مجھے دل برداشتہ کردیا ہے، اب میرے منگیتر ملتان سے آنے والے ہیں، مجھے یقین ہے کہ وہ بھی مجھے پسند نہیں کریں گے، وہ تو بہت خوب صورت لمبے اور گورے رنگ کے مالک، پڑھے لکھے ہیں جب کہ میں ان کے سامنے کچھ بھی نہیں ہوں لہٰذا یہی فکر لگی رہتی ہے کہ وہ آئے تو کیا ہوگا؟آخر پریشانی کیوں میرے ذہن پر سوار رہتی ہے؟ کیا میری رائے اپنے بارے میں اچھی نہیں ہوسکتی، میں خوب صورت نہیں بن سکتی؟ میں ذہنی طور پر خوب صورت بننا چاہتی ہوں، میں سمجھتی ہوں کہ اچھی سوچ انسان کو اچھی چیزوں اور اچھائی کی طرف مائل کرتی ہے، یہ جو میں نے اپنے اوپر سکوت طاری کر رکھا ہے، ختم نہیں ہوسکتا؟ ایسا کون سا طریقہ اختیار کروں کہ اپنے اوپر بھرپور اعتماد اور بھروسا ہو، اپنی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاو ¿ں، ذہن سے مایوسی کے بادل چھٹ جائیں، غم، غصہ اور اسی طرح کے منفی احساسات میرے قریب بھی نہ آئیں۔ 
”میرے اندر ایک بری عادت یہ بھی ہے کہ دوسروں کی نقل کرتی ہوں، لاکھ کوشش کے باوجود بھی ہمیشہ میرے اندر یہی خواہش رہتی ہے کہ میں اس جیسی بن جاو ¿ں، اگر ایسا کیا تو اس جیسی لگوں گی، کسی فلم اسٹار کو دیکھوں تو یہی خواہش ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح میں بھی اس جیسی نظر آو ¿ں مگر یہ کیسے ممکن ہے کہ جیسا سوچوں ویسا ہی کرلوں، اتنی طاقت تو کسی انسان میں نہیں ہوتی کہ جیسا سوچے، اسی روپ میں خود کو ڈھال لے، کیا میرے دل سے ان لوگوں کا خوف اور ان کی شخصیت کا بوجھ، ان کے طعنوں کی جلن نکل نہیں سکتی جنہوں نے مجھے آج تک پریشان رکھا؟ کیا میں انہیں پریشان نہیں کرسکتی۔
”مجھ میں ہر کام کرنے کی صلاحیت موجود ہے مگر کبھی کبھار لوگوں کے منفی رویّے سے غمگین ہوجاتی ہوں، براہ کرم میری کچھ رہنمائی کریں، مجھے اپنے ظلم کے ذریعے کوئی ایسا طریقہ بتائیں کہ میں خوش گوار زندگی گزار سکوں“۔
جواب: س،ع صاحبہ! آپ نے اچھا کیا کہ سب کچھ تحریر کردیا، اس سے آپ کے دل کا بوجھ ہلکا ہوگیا ہوگا جب بھی آپ کا ذہن الجھنوں کا شکار ہو، اپنے احساسات کو تحریر کرلیا کریں، اس سے آپ کے دل کا بوجھ ہلکا ہوجائے گا،اس سے آپ سکون محسوس کریں گی لیکن ایک بات آپ اچھی طرح ذہن نشیں کرلیں کہ نہ آپ ذہنی مریضہ ہیں، نہ کسی نفسیاتی بیماری کا شکار، آپ میں صلاحیتوں کی بھی کمی نہیں ہے، آپ نے شاید کبھی محسوس نہیں کیا کہ آپ کو قدرت نے لکھنے کی صلاحیت بھی دی ہے، آپ نے اپنی کیفیات کو بہت عمدہ اور مو ¿ثر انداز میں تحریر کیا ہے،ا گر آپ کوشش کریں تو اچھی قلم کار بن سکتی ہیں، دنیا میں کوئی بھی فرد بے کار نہیں پیدا ہوا، قدرت نے ہر ایک کو صلاحیتوں سے نوازا ہے، جو لوگ دشواریوں پر اشک بہانے کے بجائے ان پر قابو پانے کی جدوجہد کرتے ہیں، وہ کبھی ناکام نہیں ہوتے، حوادث سے الجھ کر ہی ان پر قابو پایا جاتا ہے، ہمت ہار کر یا خوف زدہ ہوکر نہیں، آپ تمام بہن بھائیوں سے بڑی ہیں، اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا، اگر آپ جسمانی طور پر کمزور ہیں اور کم عمر لگتی ہیں تو یہ کوئی خامی تو نہیں جو آپ خود کو کمتر محسوس کریں، آپ خود بتلائیں کسی بھی خاندان میں آپ نے تمام افراد کو جسمانی طور پر یکساں دیکھا ہے،ایسا کم ہی ہوگا ، کم عمر نظر آنا تو ایک خوبی ہے، خرابی نہیں، آج کل تو لوگ اس خوبی کے لیے نہ جانے کیا کیا کوششیں کرتے ہیں، آپ نے لکھا ہے کہ آپ والدین کی لاڈلی بیٹی تھیں لیکن جوں جوں بہن بھائیوں کی تعداد زیادہ ہوتی گئی ان کے پیار میں کمی آتی گئی، کیا یہ قدرتی بات نہیں ہے؟ بچے زیادہ ہوتے ہیں تو ماں باپ کا پیار بٹ جاتا ہے، وہ آپ کی طرح دوسرے بچوں کو بھی اس پیار میں حصہ دیتے ہیں، والدین کا سارا پیار اپنی ذات کے لیے مخصوص کرنے کی خواہش تو خود غرضی ہے، بڑی بہن کی حیثیت سے آپ کو بھی چھوٹے بہن بھائیوں سے پیار کرنا چاہیے، اب ایسا کیجیے کہ اپنے طرز عمل میں تھوڑی سی تبدیلی پیدا کیجیے، محبت صرف ان کو ملتی ہے جو دوسروں سے محبت کرتے ہیں، آپ چاہتی ہیں کہ دوسرے آپ سے محبت کریں، آپ کی قدر کریں، تعریف کریں، یہ خواہش تو سب کو ہوتی ہے، ہر دل عزیزی کے لیے چند اصول ہیں آپ ان پر عمل کیجیے پھر دیکھیے کیا نتائج بر آمد ہوتے ہیں۔
ہر دل عزیزی کے اصول
دوسروں کی تعریف اور ستائش کرنے میں کسی بخل سے کام نہ لیجیے، بھائی بہنوں اور سہیلیوں کی خوبیوں کو سراہنا سیکھیے اور خلوص کے ساتھ ان کی کوتاہیوں کو مسکراکر نظر انداز کردیجیے، جب بھی دوسروں کے درمیان بیٹھیں یا کہیں جائیں تو کسی کی خوبی کی تعریف کرنے میں دیر نہ کریں، آپ کا لباس بڑا خوب صورت ہے، آپ نے کھانا بہت لذیز پکایا ہے، آپ بہت سلیقہ مند ہیں یا ذہین ہیں، وغیرہ، یہ چند الفاظ ادا کرکے آپ لوگوں کو اپنا گرویدہ بناسکتی ہیں، ہر ایک کی بات دلچسپی اور توجہ سے سنیے، خود بولنے کے بجائے دوسرے کو بولنے کا موقع دیجیے، ان سے سوال کیجیے، ان کا دکھ معلوم کیجیے، اگر کوئی آپ کو تلخ بات کہہ دے تو غصے کا اظہار نہ کیجیے بلکہ غور کیجیے کہ آپ کی کس بات سے اسے تکلیف پہنچی، ممکن ہے اس معاملے میں آپ کا ہی قصور ہو، چھوٹے بھائی بہنوں کی دشواریوں میں ان کی مدد کیجیے، والدین کی ضروریات کا خیال رکھیے، آپ بڑی ہیں اس لیے یہ آپ پر فرض بھی ہے۔
انسان نہ جسمانی صحت سے بڑا ہوتا ہے، نہ ہی عمر سے، یہ اس کی خوبیاں اور صلاحیتیں ہیں، اس کا حسن اخلاق اور سلوک ہے جو اسے بڑا بناتا ہے، آپ موٹا ہونے کی فکر چھوڑ کر اپنی شخصیت کو دلکش بنائیے، اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھائیے، لباس کی سادگی میں بڑا حسن ہے، قیمت میں نہیں، مسکراتے چہرے اور خوش اخلاق افراد ہی لوگوں میں مقبولیت حاصل کرتے ہیں، اپنے بارے میں سوچنے کے بجائے دوسروں کے بارے میں سوچیے، دوسروں کی پسند کا خیال کیجیے، منگیتر آرہے ہیں تو خوف زدہ ہونے کی کیا بات ہے! انہوں نے یقیناً پہلے بھی آپ کو دیکھا ہے، ان کا خیر مقدم پر خلوص مسکراہٹ سے کریں، ان سے ان کی مصروفیات اور دلچسپیوں کے بارے میں گفتگو کریں، ان کی پسند کا خیال رکھیں، یاد رکھیں کہ دنیا میں ہر انسان کسی نہ کسی احساس کمتری میں ضرور مبتلا ہے، اس لیے اپنے احساس کمتری کی فکر نہ کریں، آئندہ جب بھی ذہن پر کوئی بوجھ محسوس ہو، فوراً قلم اور کاغذ سنبھال لیں اور اسے تحریر کر ڈالیں، خود نویسی بہت سی الجھنوں کا علاج ہے۔
امتحان میں کامیابی اور قوت حافظہ
محمد عرفان لکھتے ہیں ” میرا ذہن پڑھائی کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتا، میں کچھ بھی پڑھوں، خواہ وہ کوئی کتاب ہو یا اخبار یا رسالہ، ایک دو صفحے پڑھنے کے بعد ہی مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ میرا ذہن بار بار کسی اور طرف جارہا ہے،اپنی نصابی کتابیں تو مجھ سے بالکل پڑھی نہیں جاتیں بلکہ جو کچھ بھی پڑھتا ہوں وہ بعد میں یاد ہی نہیں رہتا، حالاں کہ میں بڑی کوشش کرتا ہوں کہ توجہ سے پڑھوں لیکن پڑھتے ہوئے بہت زیادہ توجہ دوں تو سر چکرانے لگتا ہے اور سر میں درد بھی شروع ہوجاتا ہے، برائے مہربانی مجھے نقش عطارد بنانے کا طریقہ بتائیں کیوں کہ میں اسے بنا نہیں سکا تھا، مزید یہ بھی بتائیں کہ اب نقش عطارد کی تیاری کا وقت کب ہوگا؟“
دوسرا خط ن، و کا ہے، وہ لکھتی ہیں” میں فرسٹ ایئر میں پڑھتی ہوں، میری یاد داشت بہت خراب ہے، جو چیز بھی یاد کرتی ہوں بہت جلدی بھول جاتی ہوں، لکھنے کے دوران میں بھی بڑی پریشانی ہوتی ہے، کچھ نہیں لکھا جاتا، کلاس میں اگر مجھ سے کوئی سوال پوچھ لیا جائے اور مجھے جواب آتا بھی ہو تو نہیں بتا پاتی، آپ یقین کریں میں اپنے طور پر پڑھائی میں کافی محنت کرتی ہوں، پھر بھی پتا نہیں کون سی چیز مجھے روکتی ہے اور کچھ نہیں کرنے دیتی، اکثر تو یہ بھی ہوتا ہے کہ کسی سے بات کرتی ہوں تو الفاظ زبان کا ساتھ نہیں دے پاتے، گڈمڈ ہوجاتے ہیں، کہنا کچھ ہوتا ہے، کہہ کچھ جاتی ہوں، حالاں کہ میں اپنی طرف سے سوچ سمجھ کر بولتی ہوں، اس خرابی نے مجھ میں احساس کمتری بھی پیدا کردیا ہے، آپ کا نقش عطارد والا کالم میں نے اس وقت دیکھا جب وقت گزرچکا تھا، اب اسے کب بنایا جاسکتا ہے یا اگر آپ کے پاس وہ نقش موجود ہو تو مجھے بھیج دیں میں اس کا ہدیہ بھی دینے کے لیے تیار ہوں“۔
تیسرا خط س، ا نے تحریر کیا ہے، لکھتے ہیں ”میرا دل پڑھنے میں نہیں لگتا، اس سال میں میٹرک کے امتحان میں بڑی مشکل سے پاس ہوسکا ہوں، حالاں کہ میں نے بہت محنت کی تھی لیکن جب امتحان دینے گیا تو کمرے میں جاکر سب بھول گیا، جو کچھ بھی پڑھتا ہوں یاد نہیں رہتا، نہ کتابیں سمجھ میں آتی ہیں، نہ کوئی اور بات، حساب کے مضمون میں خاص طور سے کمزور ہوں، میری بہت خواہش ہے کہ میں کالج میں پڑھوں، سائنس گروپ سے تعلق رکھتا ہوں لیکن نمبر اتنے کم آئے ہیں کہ داخلہ بہت مشکل ہے، میرے والد صاحب مجھے انجینئر بنانا چاہتے ہیں، میں بھی یہی چاہتا ہوں لیکن اب میرا دل ٹوٹ گیا ہے،ا گر آپ اس سلسلے میں میری کوئی مدد کریں تو آپ کا یہ احسان زندگی بھر نہیں بھولوں گا، آپ کی کتاب”مظاہر نفس“ میرے پاس ہے، اس میں دی گئی سانس کی ”مشقِ تنفس و تصور“ بھی میں کرنا چاہتا ہوں، کیا اس سے میرا دماغ اتنا طاقت ور ہوجائے گا کہ جو کچھ بھی میں سنوں یا صرف ایک مرتبہ ہی پڑھوں اور وہ مجھے یاد ہوجائے اور بھولے بھی نہیں؟ اس کے علاوہ کوئی نقش وغیرہ ہو تو وہ بھی بتائیں، جیسا کہ پہلے آپ نے نقش عطارد کے بارے میں بتایا تھا، وہ میں بتا نہیں سکا“۔
جواب: پہلی بات تو آپ تینوں اور دیگر پڑھنے والے بھی یہ سمجھ لیں کہ نقش عطارد کی تیاری کا وقت فی الحال کم از کم اس سال نہیں ہے،آئندہ سال جب شرف عطارد یا اوج عطارد کا وقت ہوگا تو ضرور اطلاع دی جائے گی، البتہ اس وقت میں تیار کردہ نقش عطارد ہمارے آفس سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔
دوسری اور نہایت اہم بات یہ ہے کہ ہماری تجویز کردہ سانس کی مشقِ تنفس و تصور اس سلسلے میں نہایت مفید ہے جو ہماری کتاب ”مظاہر نفس“ میں موجود ہے، جو لوگ یہ مشقیں کر رہے ہیں، وہ ان کی افادیت سے آگاہ ہیں، سانس کی یہ مشقیں دماغی قوتوں میں اضافہ اور حافظے میں پختگی کے ساتھ ساتھ اعصابی طور پر بھی انسان کو توانا بناتی ہیں۔
قوتِ حافظہ
آپ تینوں ایک بات یہ بھی سمجھ لیں کہ حافظہ کیا ہے؟
 حافظے سے مراد زندگی کے تجربوں کو اسی انداز میں یاد کرنا ہے جس انداز میں وہ پیش آتے ہیں،زندگی کے ان گنت واقعات کو ہم بظاہر بھول جاتے ہیں لیکن در حقیقت وہ ہمارے حافظے میں محفوظ رہتے ہیں اور کسی وقت اچانک یاد آجاتے ہیں، ماہرین نفسیات کی تحقیقات کے مطابق حافظے کے عوامل مندرجہ ذیل ہیں۔
1۔ آموزش (Learning)
2۔ خازنیت (rertention)
3۔ بازیافت (Reproduction)
4 ۔ شناخت (Recognition)
اب اس کو آسان زبان میں سمجھ لیں، آموزش سے مراد کسی بات کو ذہن نشیں کرلینا ہے، خازنیت سے مراد کسی بات کو اپنے ذہن میں خزانہ کرلینا ہے یعنی اس طرح محفوظ کرلینا کہ نقش ہوجائے، بازیافت سے مراد یاد کی ہوئی بات کو دہرانا ہے اور شناخت کہتے ہیں ماضی کے کسی تجربے کو پہچان لینا، ان چار عناصر کا نام ہے حافظہ۔
حافظے کی بہت سی اقسام ہیں لیکن ہم اس کی تفصیل میں نہیں جائیں گے کیوں کہ اس طرح ایک طولانی بحث چھڑ جائے گی لیکن عام طور پر ہم عمدہ اور کمزور حافظے کا ذکر کرتے ہیں، جس شخص کے ذہن کے مندرجہ بالا چاروں عناصر پوری صلاحیت سے کام کرتے ہوں، ہم اس کی یاد داشت کو اچھا قرار دیتے ہیں، بصورت دیگر اس کو کمزور حافظے کا مالک کہا جائے گا، ماہرین نفسیات کا اس بات پر اختلاف ہے کہ حافظے کو تیز اور بہتر بنایا جاسکتا ہے لیکن عام خیال یہ ہے کہ تربیت کے ذریعے حافظے کو تیز کیا جاسکتا ہے۔
آج ہمارے سامنے مطالعے یا مشاہدے کے بعد جو معلومات حاصل ہوتی ہیں یا جن کو ہم مطالعے کے دوران میں یاد کرلیتے ہیں، ان کو اسی طرح ذہن نشیں کرلینے کا مسئلہ درپیش ہے کہ امتحان کے وقت ان کی بازیافت ہوسکے، ہم آپ کو مختصراً یہ بتائیں گے کہ اس کی ذہنی تربیت کس طرح کی جائے گی۔
بہتر حافظے کے لیے اصول
مشہور ماہر تعلیم و ہپل نے مو ¿ثر آزموش کے لیے مطالعے کا درج ذیل طریقہ تجویز کیا ہے۔
 سب سے پہلے اپنی جسمانی صحت کا خیال رکھیے، جسمانی تکالیف مثلاً آنکھوں اور کانوں کی تکالیف، ہاضمے کی خرابی کا علاج کرائیے، یعنی مطالعے کے وقت جسمانی طور پر صحت مند ہونا لازمی ہے ورنہ دوران مطالعہ جسمانی تکالیف آپ کو ذہنی طور پر یکسو نہ ہونے دےں گی۔ اس کے بعد خارجی اسباب کو درست کیجیے، یعنی مطالعے کی جگہ ہوا دار ہو، روشنی کا مناسب انتظام ہو اور بیٹھنے کی جگہ بھی تکلیف دہ نہ ہو، کسی ایک جگہ پر جم کر مطالعہ کیجیے، بار بار جگہ بدلنے سے مطالعے میں خلل پڑتا ہے، مطالعے کا وقت مقرر کرلیں اور پھر اس کی پابندی کریں، پوری دلچسپی اور توجہ سے مطالعہ کریں، جس چیز سے ہمیں دلچسپی نہ ہوگی، اسے ہم پوری توجہ سے نہیں پڑھتے اور نہ یاد کرتے ہیں، مطالعے کے اوقات زیادہ طویل نہ ہوں، ہمیشہ وقفے کے ساتھ مطالعہ کیجیے، سب سے پہلے اس کام کو شروع کیجیے جسے آپ آسان خیال کرتے ہوں۔اس کے بعد اب یاد داشت کی بہتر تربیت کے چند اصولوں پر عمل کرنے کی عادت ڈالیے، وہ اصول یہ ہیں۔
مطالعہ کا روزانہ پروگرام ترتیب دیں جو کچھ پڑھیں، اس کے مختصر نوٹس تیار کریں اور مطالعے کے بعد اس کا آموختہ کریں، کلاس میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے، اس کے بھی نوٹس لیتے رہیں تاکہ گھر پر ان کو دہرا کر یادداشت تازہ کرلیں۔مطالعے کے دوران میں وقفہ کریں اور جتنا مطالعہ کرلیا ہے، اس کو یاد کریں، اگر کوئی نکتہ بھول جائیں تو اس کا دوبارہ مطالعہ کرنے کے بعد آگے بڑھیں، جو کچھ پڑھا ہے اس کا مفہوم اچھی طرح سمجھ لیں اور اگر اس میں دشواری ہورہی ہو تو استاد یا کسی اور سے مدد حاصل کریں۔
اپنی یادداشت پر اعتماد رکھیے، جب تک ایسا نہیں کریں گے، یاد داشت برقرار نہیں رہے گی، امتحانات کے دوران میں پوری طرح آرام کرنے کے بعد اعتماد اور سکون کے ساتھ امتحان کے لیے جائیں، پرچے کے تمام سوالات کو اچھی طرح سمجھنے کے بعد حل کرلیں، سب سے پہلے ان سوالات کو حل کریں جن کو آپ آسان محسوس کرتے ہوں اور اس یقین کے ساتھ جواب لکھیں کہ ان کا جواب آپ کو یاد ہے۔
آپ ان اصولوں پر عمل کریں گے تو مطالعے کا خاطر خواہ نتیجہ برآمد ہوگا، آپ کی یادداشت بہتر ہوگی، کسی بھی امتحان کے وقت گھبراہٹ کا شکار نہیں ہوں گے، کسی سے بات کرتے ہوئے ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوگی، ایک بات اور ذہن نشیں رکھیے کہ امتحان میں ناکامی کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہوتا کہ آپ کند ذہن ہیں، ناکامی کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے صحیح طور پر مطالعہ نہیں کیا اور پوری توجہ کے ساتھ امتحان کی تیاری نہیں کی۔