ہفتہ، 29 اپریل، 2017

جنات کے ذریعے الٹرا ساونڈ رپورٹ اور صحابی جن


حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ شاہِ جنات کے دربار میں
جنات کے حوالے سے جو گفتگو چل رہی تھی، اس کے تناظر میں ضروری ہے کہ بعض خطوط بھی شامل اشاعت کیے جائیں جو ہمیں وقتاً فوقتاً موصول ہوتے رہے ہیں، آئیے پہلے ایک خط ملاحظہ کیجیے۔
اے، کیو، کے لکھتے ہیں ” یہ آج سے تقریباً پانچ سال پہلے کی بات ہے کہ میں شدید بیمار ہوا، اس دوران میں میں ایک ڈاکٹر کے پاس زیر علاج تھا، انہی دنوں والد صاحب کے ذہن میں خیال آیا کہ کیوں نہ مجھے کسی عالم صاحب کو بھی دکھایا جائے، ہوسکتا ہے کسی جادو سحر یا جنات وغیرہ کے اثرات ہوں، اس لیے انہوں نے ہمارے محلے کی مسجد کے پیش امام صاحب سے مشورہ کیا، مولانا کے ایک واقف کار تھے جو اس وقت جیل روڈ پر واقع آنکھوں کے اسپتال کے عقب میں ایک مسجد میں پیش امام کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیتے تھے، انتہائی قابلیت کے حامل تھے اور بڑا نام رکھتے تھے، طے یہ پایا کہ مجھے ان کے پاس لے جایا جائے، پروگرام کے مطابق ہم سب ان کے پاس عصر کے وقت پہنچے، نماز کے بعد انہوں نے ہمیں اپنے حجرے میں بلا لیا جو مسجد کے باہر برابر ہی میں تھا، تمام حال سن کر انہوں نے اپنے چچا زاد بھائی سے بروہی زبان میں کچھ کہا اور وہ اٹھ کر حجرے سے باہر چلے گئے، کچھ دیر جب وہ واپس لوٹے تو ان کے ایک ہاتھ میں پانی کا جگ گلاس اور دوسرے میں ایک کپ تھا، یہ سب لاکر انہوں نے میرے سامنے رکھ دیا اور گلاس پانی سے بھر دیا، کپ میں چائے نہیں تھی، سرسوں کا تیل یا اس سے مشابہ کوئی چیز تھی، مولانا آگے آئے اور عین میرے سامنے بیٹھ گئے، ایک ہاتھ سے کپ اٹھایا اور دوسرے سے میرے بائیں ہاتھ کی چھنگلی کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور دل ہی دل میں کچھ پڑھنے لگے، وہ پڑھتے جاتے اور ایک پھونک کپ میں اور دوسری میرے سینے کی جانب مارتے جاتے، جوں جوں یہ عمل ہوتا رہا، مجھ پر غنودگی کی سی کیفیت طاری ہوتی گئی، کچھ دیر بعد میرا ذہن ایسا ہوگیا کہ میں دیکھ تو سب کچھ رہا تھا مگر سمجھنے کی طاقت نہیں تھی، بدن میں قوت یا احساس نام کی کوئی شے نہیں تھی، اپنے بدن کے کسی حصے کو حرکت دینے کی طاقت ختم ہوچکی تھی یا یوں کہہ لیں کہ جسم کا اور ذہن کا تعلق ٹوٹ چکا تھا اور ذہن بھی بے اختیار ہوچکا تھا ، بس گم صم بیٹھا مسلسل مولانا صاحب کی طرف دیکھ رہا تھا، پھر مولانا صاحب نے میرے سر سے دم کرنا شروع کیا، وہ کچھ پڑھ کر ایک پھونک میرے بدن کے کسی حصے پر مارتے اور دوسری کپ میں، اس کے بعد کپ میں بغور دیکھتے،آخری دم انہوں نے میرے پیروں کی جانب کیا پھر کچھ پڑھنے کے بعد دو تین دفعہ میرے سینے کی جانب دم کیا اور میری چھنگلی چھوڑدی۔
چھنگلی چھوڑتے ہی میرے ذہن میں ہلکی سی سنسناہٹ سی ہوئی اور مجھے ایسا لگا کہ میں کسی گہری نیند سے جاگا ہوں، پورے بدن میں گرمی کا احساس ہوا، حلق خشک ہوگیا اور اتنی شدت سے پیاس کا احساس ابھرا کہ بے اختیار میرے منہ سے لفظ”پانی “ نکلا، مولانا صاحب نے سامنے رکھا ہوا پانی سے بھرا گلاس فوراً میرے سامنے رکھ دیا اور میں نے ان حضرات کے سامنے انتہائی بے صبری اور جہالت کا ثبوت دیتے ہوئے ایک ہی سانس میں سارا پانی پی لیا، پانی پینے کے بعد آہستہ آہستہ مجھے کچھ سکون محسوس ہونے لگا، بعد میں مولانا نے والد صاحب کو بتایا کہ انہیں کوئی جادو، سحر یا جنات وغیرہ کے اثرات تو نہیں ہےں، البتہ انہوں نے میری پسلیوں کے نچلے حصے سے ناف تک اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس حصے میں کوئی تکلیف ہے جس کا میڈیکل علاج ممکن ہے، اب آپ چاہے اس کا الٹرا ساو ¿نڈ کرائیں یا اسے لندن لے جائیں، تکلیف انہیں بدن کے اسی حصے میں ہے (بعد میں ایسا ہی ہوا، میڈیکل رپورٹس کے مطابق میرے جگر میں خرابی تھی ) پھر انہوں نے کہا کہ میرے پاس کوئی ایسا جادو نہیں جس سے میں مرض کا علاج کروں، چند تعویذ شفا کے لیے دیتا ہوں،باقی شفا دینے والی اللہ کی ذات ہے۔
مختصر یہ کہ میڈیکل علاج کے ساتھ میرا بذریعہ تعویذ علاج بھی چلتا رہا اور میں چند ماہ میں شفایاب ہوگیا، اسی روز واپسی پر ہماری مسجد کے پیش امام صاحب نے بتایا کہ مذکورہ مولانا کے پاس کسی عالم صاحب کا بخشا ہوا جن ہے،علاج کے دوران میں وہ جن مریض کے جسم میں داخل کرتے ہیں اور جن مریض کے جسم میں رہ کر کپ کے اندر مولانا صاحب کو تمام اندرونی حالات سے آگاہ کرتا ہے، یہ ایک طرح کا الٹرا ساو ¿نڈ بھی ہوتا ہے جس سے ساری حقیقت کا بہ خوبی علم ہوجاتا ہے۔
یہ بات اگر مجھے پہلے معلوم ہوجاتی تو شاید میں اس تجربے کے لیے تیار نہ ہوتا کہ کوئی جن میرے جسم میں داخل ہو کیوں کہ میں اتنے مضبوط اعصاب کا مالک ہر گز نہ تھا، اگر یہ سارا واقعہ خود میرے ساتھ پیش نہ آیا ہو تا تو شاید میں بھی اسے من گھڑت یا ڈراما ہی سمجھتا مگر مجھے ان باتوں پر یقین ہوگیا ہے اور یقینا ایسی مخلوقات کا وجود برحق ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ایسی مخلوقات کا وجود ہے اور جب ہمارے عالم اتنی قابلیت رکھتے ہیں کہ یہ مخلوقات ان کے اشاروں پر کام کریں تو اس دنیا میں ہونے والے مسلمانوں پر مظالم سے کون آگاہ نہیں، ہمارے عامل و کامل حضرات ان کے مظالم کے خلاف ان اعمال کا عملی مظاہرہ کرنے سے گریز کیوں کرتے ہیں؟ مجھے آپ سے امید ہے کہ میرے سوال پر آپ ذرا باریک بینی سے غور فرماکر جواب ضرور تحریر کریں گے“۔
عزیزم! جو مولانا صاحب آپ کو اپنے واقف مولانا صاحب کے پاس لے گئے تھے، ہمیں ان کی نیکی اور شرافت پر کوئی شبہ نہیں، البتہ ان کی سادہ لوحی اور کم علمی میں کوئی کلام نہیں، خدا معلوم انہوں نے آپ کے والد سے یہ کیوں کہا کہ مذکورہ مولانا کے پاس کسی کا بخشا ہوا جن ہے جسے وہ مریض کے جسم میں داخل کرکے ”روحانی الٹراساو ¿نڈ“ کا کارنامہ انجام دیتے ہیں، اب جنات سے ایسے کام لیے جائیں گے؟ یہ تو جنات کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے، حضرت سلیمان ؑ نے تو اس مخلوق سے ہیکل سلیمانی تعمیر کرایا تھا، بہر حال آپ کا اور پیش امام صاحب کا خیال غلط ہے، مذکورہ مولانا صاحب نے یقینا اپنی روحانی صلاحیت سے کام لے کر آپ کے جسم میں موجود تکلیف اور متاثرہ حصے کا اندازہ کیا ہوگا اور آپ کی جو کیفیت بھی اس وقت ہوئی ، وہ ان کے روحانی عمل کی بدولت ہوئی ہوگی لیکن اس میں ہمیں کسی جن کی موجودگی نظر نہیں آتی۔
کپ میں موجود تیل میں دیکھنا حاضرات کی ایک قسم ہے، وہ اس عمل کے عامل رہے ہوں گے، بعض جفری طریقے اور نجوم کے کلیے جسم میں بیماری کی قسم یا متاثرہ حصے کی نشان دہی کردیتے ہیں، اس کے علاوہ ہیپناٹزم کے ذریعے بھی انسان کو ٹرانس میں لاکر ایسی کیفیت طاری کی جاسکتی ہے، جیسی آپ پر طاری ہوئی۔
آپ کا آخری سوال خاصا دلچسپ اور توجہ طلب ہے اور آپ کے اس سوال میں ہی آپ کے لیے ایک اور سوال موجود ہے، وہ لوگ جو جنات پر قابض ہونے اور انہیں اپنے اشاروں پر چلانے کے دعوے دار ہوں، آپ کے سوال کا جواب تو دراصل ان پر ہی قرض ہے، آپ یہ غور کریں کہ جو مخلوق آپ کے جسم میں داخل ہوسکتی ہے، کیا وہ صرف اندرونی اعضا کے بارے میں اطلاع ہی دے سکتی ہے؟ ان کی اصلاح و درستی نہیں کرسکتی؟ مولانا کو اس سلسلے میں کون سا امر مانع تھا کہ وہ اپنے غلام جن سے آپ کا علاج بھی کرادیتے؟ اس سوال پر آپ غور فرمائیے۔
ہمارے نزدیک تویہ مفروضہ ہی لغو ہے کہ کوئی کسی کو جن بخش دے، مو ¿کل عطا فرمائے، جنات و مو ¿کلات کی تسخیر آسان کام نہیں، لوگ اس راستے میں پوری زندگی تباہ کرلیتے ہیں لیکن کچھ حاصل نہیں ہوتا، اگر کسی کو کامیابی نصیب بھی ہوجائے تو اس کی اپنی زندگی بڑی محدود ہوکر رہ جاتی ہے، وہ خود سخت پابندیوں کا شکار رہتا ہے، ظاہر ہے کہ ایسی قوتوں کو اپنا پابند بنانے کے لیے خود بھی کچھ پابندیوں کو قبول کرنا پڑتا ہے جو کم از کم ہماری معلومات کے مطابق کسی دنیا دار انسان کے بس کا کام نہیں، ایسے لوگ دنیا سے کٹ کر رہ جاتے ہیں اور اپنا راز کسی پر ظاہر نہیں کرتے۔
اب رہ گئی دوسری شکل، جس کا ہم ایک بار محمد یونس صاحب اور مولانا جان محمد صاحب کے حوالے سے تذکرہ کرچکے ہیں کہ محمد علی آتشی نامی جن ان کے پاس تھا، وہ صورت خود مختارانہ اور آزادانہ ہے، اس میں پابندی نہیں ہے، جان محمد صاحب کے ہاتھ پر وہ مسلمان ہوا اور ان کے ساتھ رہنے لگا، ان کے انتقال کے بعد کبھی کبھی یونس صاحب سے بھی رابطہ کرلیتا تھا مگر اپنی مرضی سے، ایسے واقعات بہت ہیں کہ اپنی مرضی سے جنات انسانوں سے رابطہ کرلیتے ہیں، وہ ان کے اشاروں کے پابند نہیں ہوتے یعنی ان کے محکوم یا غلام نہیں ہوتے، بعض کو تکلیف پہنچاتے ہیں اور بعض پر مہربان بھی ہوتے ہیں مگر ان کی مہربانیوں کے پیچھے پھر ان کے اپنے مفادات ہوتے ہیں۔
مشہور ہے اور ہم نے کئی معتبر افرادسے سنا کہ مولانا مفتی محمد شفیع صاحب (مرحوم و مغفور بانی جامعہ دارالعلوم ،کورنگی کراچی) کے پاس جنات کے بچے قرآن شریف پڑھنے آیا کرتے تھے، بعض لوگ بتاتے ہیں کہ اکثر رات کو آپ کے حجرے سے قرآن پڑھنے اور کبھی کبھار بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرنے کی آوازیں آیا کرتی تھیں، آپ ؒ نے خود کبھی اس حوالے سے کوئی اظہار نہیں کیا، آپ کے لائق و فائق صاحب زادگان مفتی محمد رفیع عثمانی، محمد تقی عثمانی اور مولانا محمد ولی رازی صاحب آج بھی بقید حیات ہیں اور وہ یقینا اس بات سے آگاہ ہوں گے ، دیگر علماءکے حوالے سے بھی جنات سے ربط و ضبط کی خبریں ملتی ہیں مگر یہ صورت ہمیشہ آزادانہ اور اختیارانہ رہی ہے۔
صحابی جن
حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کا وہ واقعہ تو بہت ہی مشہور ہے جس میں آپ نے ایک صحابیءرسول جن کو دیکھا، یہ واقعہ آپ نے اپنی کسی کتاب میں خود بیان فرمایا ہے، کتاب کا نام اس وقت یاد نہیں آرہا ہے، آپ فرماتے ہیں کہ ایک رات میں لکھنے میں مصروف تھا کہ ایک سانپ کا بچہ اندر آگیا، میں نے چاقو سے اس کے دو ٹکڑے کردیے اور باہر پھینک دیا، دوسری رات دروازے پر دستک ہوئی، دو افراد موجود تھے اور مجھے اپنے ساتھ لے جانے کے لیے آئے تھے تاکہ کسی شرعی مسئلہ پر بات کرسکیں، شاہ صاحب ان کے ساتھ چلے گئے، یہ واقعہ دہلی کا ہے، وہ دونوں شاہ صاحب کو دہلی میں کوٹلہ فیروز شاہ کے عقب میں لے گئے اور آنکھوں پر پٹی باندھ دی، باقی راستہ اسی طرح طے ہوا۔
بقول شاہ صاحب، جب ہم کسی منزل پر پہنچ کر رکے اور میری آنکھوں سے پٹی ہٹائی گئی تو میں نے دیکھا کہ میں ایک بہت بڑے ہال میں کھڑا ہوں اور وہاں کسی بادشاہ کے دربار کا سا ماحول ہے، سامنے تخت شاہی موجود تھا جس پر ایک بادشاہ اور اس کے سامنے دونوں اطراف میں امراءوغیرہ با ادب بیٹھے تھے۔
شاہ صاحب کو دیکھ کر بادشاہ نے سلام کیا اور نہایت نرم لہجے میں کہا ”آپ کو اس طرح زحمت دینے کی وجہ ایک شرعی مسئلے میں آپ سے رہنمائی درکار ہے“ 
شاہ صاحب نے فرمایا” پوچھیے“ تو بادشاہ نے پوچھا کہ قتل عمد کی شریعت میں کیا سزا ہے؟ شاہ صاحب نے بلا تامل جواب دیا کہ جو شخص جان بوجھ کر کسی مسلمان کا خون بہاتا ہے، سزا کے طور پر اسے بھی ہلاک کیا جائے گا، بادشاہ نے پھر تنبیہ کے انداز میں پوچھا، ایک بار اور غور کرلیجیے، آپ نے پھر وہی دو ٹوک جواب دیا تو بادشاہ کے اشارے پر ایک سفید چادر اٹھا دی گئی جس کے نیچے ایک بچے کی دو ٹکڑے ہوئی لاش موجود تھی۔
شاہ صاحب نے لاش کی جانب دیکھا اور مسکرائے، پھر فرمایا” کل یہ ایک ایسی شکل میں میرے سامنے آیا کہ اس کا قتل مجھ پر واجب ہوگیا“ پھر سانپ کے حوالے سے حضور اکرم ﷺ کی حدیث سنائی۔
”قتل الموذی قبل الایذائ“ موذی کو ایذا دینے سے پہلے قتل کردو۔
شاہ صاحب کے اس ارشاد کے بعد پورے دربار میں سرگوشیاں شروع ہوگئیں، اچانک پچھلی صفوں سے ایک جن بزرگ کھڑے ہوئے، بقول شاہ صاحب ان کی پلکیں بھی سفید تھیں اور چہرا نورانی تھا، انہوں نے با آواز بلند فرمایا”شاہ صاحب درست فرمارہے ہیں، یہ حدیث میں نے خود رسالت مآب کی زبانی سنی ہے“۔
بقول شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ ان بزرگ کی اس تصدیق پر میں حیران رہ گیا کہ اس دربار میں ایک صحابی بھی موجود ہیں اور میرے لیے تو یہ بہت بڑا اعزاز ہے کہ ان کی زیارت کر رہا ہوں، شاید اسی اعزاز و سعادت کی وجہ سے جو خود کو تابعی بھی کہتے تھے۔
بہر حال اس کے بعد دربار میں سناٹا چھاگیا اور بادشاہ نے شاہ صاحب سے زحمت کے لیے معذرت کی پھر نہایت عزت و احترام سے آپ کو واپس روانہ کردیا، یہ واقعہ بعض کتب میں دوسرے انداز میں بھی بیان ہوا ہے، برسبیل تذکرہ درمیان میں آگیا لیکن اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جنات کی عمر یں بہت زیادہ ہوتی ہیں، ظاہر ہے کہ شاہ عبدالعزیزؒ کے دور میں مذکورہ بالا بزرگ جن کی عمر یقینا ہزار سال سے تو اوپر ہی ہوگی۔

ہفتہ، 15 اپریل، 2017

نے ہاتھ باگ پہ ہے،نہ پا ہے رکاب میں

ہمزاد یا شیطان کی اصلیت و حیثیت اور کارگزاریاں
15 اپریل سے ایسے وقت کا آغاز ہوچکا ہے جو پاکستان کے زائچے میں منفی اور مثبت دونوں اعتبار سے نمایاں اثرات سامنے لائے گا، خاص طور پر 15 مئی تک بہت سے غیر معمولی حالات و واقعات سامنے آنے کی توقع کی جاسکتی ہے،ممکن ہے مشہور زمانہ پاناما کیس کا فیصلہ بھی اسی دوران میں سامنے آجائے، سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو ایک یادگار اور ہمیشہ یاد رہنے والا فیصلہ قرار دیا ہے،اگرچہ فریقین اپنی اپنی فتح و کامیابی کا اعلان کرتے رہتے ہیں لیکن درحقیقت دونوں ہی خوف زدہ ہیں، تحریک انصاف کم اور ن لیگ زیادہ کیوں کہ تحریک انصاف کے نقصان کا معاملہ تو بقول غالب یہ ہے 
گھر میں تھا کیا کہ تِرا غم اسے غارت کرتا
وہ جو ہم رکھتے تھے اِک حسرت تعمیر سو ہے
البتہ دوسری جانب خوف و خطر زیادہ ہیں لہٰذا پیش بندیاں بھی زیادہ کی جارہی ہیں، بہر حال جیسا کہ ہم نے اس سال کی ابتدا میں بھی نشان دہی کی تھی کہ جون کے بعد حکومت کے حوالے سے خاصا عدم استحکام نظر آتا ہے اور نئے الیکشن کے امکان کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا مگر عمران خان موجودہ الیکشن کمیشن سے مطمئن نہیں ہیں،وہ انتخابی طریق کار میں اصلاح چاہتے ہیں جب کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ موجودہ انتخابی طریق کار کو ہی اپنے لیے مفید سمجھتی ہے،بہر حال جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ سیاسی تماشا شروع ہوا چاہتا ہے،تمام مداری اپنے کھیل تماشوں کے ساتھ میدان میں کودنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں،سب اپنی اپنی چالیں چل رہے ہیں، اپنے اپنے پینتریں بدل رہے ہیں مگر آسمانی کونسل کے فیصلے اپنی جگہ ہیں ، اس موقع پر مرزا غالب کا ایک اور شعر قابل غور ہے 
رو میں ہے رخشِ عمر، کہاں دیکھیے تھمے
نے ہاتھ باگ پہ ہے،نہ پا ہے رکاب میں 
ہمزاد یا شیطان 
ہمزاد، قرین نسمہ جسے انگریزی میں اورا (Aura) کہا جاتا ہے، یہ انسان کے ساتھ پیدا ہونے والا شیطان یا جن ایک ایسی حقیقت ہے جو نہ صرف قرآن و حدیث سے ثابت ہے بلکہ موجودہ دور میں سائنسی ذرائع سے بھی اس کا وجود ثابت ہوچکا ہے، یہ الگ بات ہے کہ غیر مسلم ماہر روحیات اسے انسانی روح ہی قرار دیتے ہیں لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہے، وہ روح جسے اللہ نے آدم اور اولاد آدم میں پھونک دیا ہے کچھ اور ہی شے ہے اور قرآنی الفاظ میں امر ربی ہے جس کے بارے میں جاننا ہَما شُما کا کام نہیں، بس اللہ جسے توفیق دے۔
روح تمام جان داروں میں زندگی کی علامت اور سبب ہے، علماءاور مفسرین اس سلسلے میں آیات و احادیث کی جو تشریحات کرتے ہیں، اس میں خاصا اختلاف رائے پایا جاتا ہے ، کہا جاتا ہے کہ انسان روح، نفس اور جسد خاکی سے مرکب ہے ، بعض کا خیال ہے کہ روح اور نفس ایک ہی ہیں، بعض انسانی جسم میں دو روحوں کی بات کرتے ہیں اور ایک کو نہایت لطیف قرار دیتے ہیں جو تمام بدن میں جاری و ساری ہے جب کہ دوسری انسانی جسم کے گرد حصار کیے ہوئے ایک ہالے (پیکر نور) کی شکل میں ہے، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جو روح شکم مادر کے اندر بچہ میں فرشتہ پھونکتا ہے وہ جسم سے ملتے ہی نفس بن جاتی ہے اور جسم سے متصل روح کو اعلیٰ روح نہیں کہا جاسکتا، اسی طرح نفس بھی نہیں کہا جاسکتا۔
قصہ مختصر یہ کہ روح نفس اور مادے کی اصل ہے اور نفس اس کے بدن کے ساتھ اتصال سے مرکب ہے، پس روح ایک وجہ سے نفس ہے نہ کہ تمام وجوہ سے، یہ تو تھے نظریات و اقوال مفسرین۔
ہمارا مو ¿قف وہی ہے جو مستند صوفیاءو اولیاءکا ہے یعنی روح چوں کہ امر ربی ہے، ہمارے رب کا حکم ہے لہٰذا دیگر مخلوقات کی طرح ایک مخلوق ہے ، اس سلسلے میں حضرت بابا تاج الدین اولیائ، قلندر بابا اولیاؒ کے ارشادات و تحقیق زیادہ معتبر اور قابل قبول ہیں، ماضی میں اس حوالے سے شیخ اکبر ابن عربی اور حضرت مجدد الف ثانیؒ کے ارشادات قابل توجہ ہیں۔
یہاں کتب احادیث سنن اور داو ¿د، جامع ترمذی، موطا امام مالک اور مشکوٰة میں یہ حدیث بھی ذہن میں رکھنے کے قابل ہے کہ میدان عرفات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کی پشت پر ہاتھ پھیرا تو قیامت تک پیدا ہونے والی تمام روحیں چیونٹیوں کی شکل میں زرد و سفید اور سیاہ نمودار ہوگئیں اور مسند احمد اور مشکوٰة میں ہے کہ ان کی الگ الگ جماعتیں نبیوں اور ولیوں کی قائم کیں، اسی طرح مسلمانوں اور کافروں ، نیکوں اور بدکاروں کی الگ الگ جماعتیں کرکے سب کی وہی صورتیں بنائیں جو دنیا میں ہوں گی، اس سے ثابت ہوا کہ روح ایک جداگانہ مخلوق ہے جو پیدا شدہ ہے۔
 اسلام میں ایک عقیدہ معاد ہے، معاد کے معنی ہیں جائے باز گشت یعنی لوٹنے اور واپس جانے کی جگہ،اس عقیدے سے مراد یہی ہے کہ جو روح اس مادی دنیا میں آئی ہے وہ پھر واپس چلی جائے گی اور مادی جسم جو اس دنیا سے منسوب ہے اسی دنیا میں رہ جائے گا، روح سے ہی ”عہد الست“ لیا گیا ہے یعنی اللہ نے تمام روحوں کو تخلیق کرنے کے بعد پوچھا”الست بربکم؟“ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب روحوں نے بیک زبان جواب دیا ”قالو بلیٰ شھدنا“ ہاں ہم اقرار کرتے ہیں کہ تو ہمارا رب ہے لہٰذا اسی بنیاد پر روح سے ہی اعمال کی باز پرس بھی ہوگی۔
 اب آئیے دوبارہ ہمزاد کی طرف جسے ہمارا ساتھی جن یا شیطان بھی کہا گیا ہے اور ہم ابتدا میں عرض کرچکے ہیں کہ اس کا وجود حضور اکرم ﷺ کے ارشادات سے بھی ثابت ہے اور قرآن حکیم کے فرمودات سے بھی، اسے شیطان یا جن اس لیے بھی کہا جاتا ہے کہ بخاری شریف میں یہ حدیث موجود ہے” شیطان انسان میں خون کی جگہ دوڑتا ہے “ مسلم شریف میں یہ حدیث موجود ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے ”اے عائشہ! تجھ پر تیرا شیطان غالب آگیا“
میں نے کہا ”یا رسول اللہ ﷺ کیا میرے ساتھ شیطان ہے؟“
 فرمایا ” ہاں“
 میں نے کہا کہ کیا ہرآدمی کے ساتھ شیطان ہے؟ فرمایا ”ہاں، میرے ساتھ بھی مگر میرے پروردگار نے مجھ کو اس پر غالب کردیا یہاں تک کہ وہ مسلمان ہوگیا ہے“۔
 ان احادیث میں اکثر شیطان اور قرین کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جہاں انسان کے ساتھی ہمزاد کا ذکر آیا ہے، مسلمان صوفیائے کرام نے اسے نسمہ، پیکر نور، پیکر مثالی وغیرہ کا نام دیا، مغرب یا غیر مسلم ماہرینِ روحیات اسے اورا ،اسٹرل باڈی، ہالہ نورانی، جسم لطیف وغیرہ کا نام بھی دیتے ہیں، انسان کی موت کے بعد روح اپنے مقررہ مقام کی طرف واپس چلی جاتی ہے جہاں اس کے لیے مخصوص احکام ہیں، دنیا کا اس سے کوئی رابطہ نہیں رہتا، نہ ہوسکتا ہے، نہ ہی دوبارہ دنیا اور دنیا والوں سے رابطے کی اسے ضرورت رہتی ہے، البتہ یہ ساتھی جن یا ہمزاد انسان کی موت کے بعد آزاد ہوجاتا ہے، ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ اگر مرنے والے کی تجہیز و تکفین اسلامی طریقے پر کی جائے اور دفن کرتے وقت تین مٹھی مٹی پر مخصوص دعا پڑھ کر قبر میں ڈال دی جائے، جیسا کہ طریقہ ہے تو مرنے والے کا ہمزاد بھی قبر میں محصور ہوجاتا ہے اور بھٹکنے سے بچ جاتا ہے، بہ صورت دیگر وہ غول بیابانی یا اپنے ہی جیسے آوارہ شیاطین کے ساتھ شامل ہوجاتا ہے، بعض اوقات انسان یا جنات عاملین بھی ایسے ہمزاد کو اپنے تابع کرلیتے ہیں، خصوصاً ہندو ¿ں کے ہمزاد کو، خیال رہے کہ ہندو مذہب میں چوں کہ مردے کو جلانے کی رسم ہے لہٰذا اس عمل سے مردے کا ہمزاد بھی غسل آتشی کرلیتا ہے جس کے نتیجے میں وہ جنات سے قریب ہوجاتا ہے، یہی صورت دریا میں بہانے یا لاش کو بے گوروکفن گدھوں کی خوراک بننے کے لیے چھوڑ دینے سے پیدا ہوتی ہے، ہمزاد آزاد ہوکر اپنی من مانی کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔
عملِ ہمزاد 
اس سلسلے میں ایک عمل بہت مشہور ہے جو ماہرین سفلیات کا پسندیدہ ہے، کسی نابالغ ہندو لڑکے کی لاش کو مٹی کے کونڈے میں غسل دے کر مخصوص عمل پڑھا جاتا ہے اور بعد ازاں وہ تیل کسی بوتل میں محفوظ کرلیتے ہیں، اب جب بھی لڑکے کے ہمزاد کو طلب کرنا ہو تو تیل چراغ میں ڈال کر چراغ روشن کیا جاتا ہے تو اس لڑکے کا ہمزاد حاضر ہوجاتا ہے پھر اس سے مخصوص کام لیے جاتے ہیں، خیر یہ بات تو برسبیل تذکرہ درمیان میں آگئی۔
قرین یا ہمزاد اپنی آزادی کے بعد سخت عذاب ناک حالت میں رہتا ہے اور خلق خدا میں شروفساد پھیلانے پر آمادہ ہوتا ہے ، البتہ اس سلسلے میں ایک رائے یہ بھی ہے کہ وہ لوگ جو اپنی زندگی میں نیک اور صالح تھے جنہوں نے اپنے تقویٰ، اطاعت الٰہی اور اتباع رسول ﷺ سے اپنے ہمزاد پر غلبہ حاصل کرلیا تھا ان کا ہمزاد ان کی موت کے بعد کسی فتنہ و فساد اور شر میں ملوث نہیں ہوتا اور اپنی قبر تک ہی محدود رہتا ہے، شیاطین کے گروہ سے بھی دور رہتا ہے لیکن اس کے برعکس صورت میں وہ موقع ملنے پر کسی شرارت سے باز نہیں آتا، خلق خدا کو نقصان پہنچانا، گمراہ کرنا اس کا مشغلہ بن جاتا ہے، خواتین خصوصاً اس کا ہدف بنتی ہیں، ایسے مرد اور عورتیں جو قرین کا شکار یا آلہ کار بنتے ہیں ”مقرون“ کہلاتے ہیں اور ہمارے معاشرے میں حاضری سواری کے کیسوں میں یہ صورت دیکھنے میں آتی ہے۔
دوسری قسم کا جن
ایک دس بارہ سالہ لڑکا آسیب زدہ تھا، اس پر بے ہوشی کی کیفیت طاری تھی ، اسی عالم میں جب اس سے سوال و جواب کا سلسلہ شروع کیا گیا تو اس نے بتایا کہ میں جن ہوں، پوچھا گیا کہ کس قبیلے سے تعلق ہے؟ تیرے خاندان والے کہاں ہیں تو جواب میں اس نے کہا کہ میرا کوئی قبیلہ اور خاندان نہیں ہے، میں دوسری قسم کا جن ہوں، پھر دوسری قسم کی تفصیل یہ بتائی کہ پہلی قسم کے جنات وہ ہوتے ہیں جو ایک خاص طرز بودوباش رکھتے ہیں، آپس میں شادی بیاہ کرتے ہیں اور ان کے ہاں اولاد بھی ہوتی ہے، ان کا خاندان بھی ہوتا ہے لیکن دوسری قسم وہ ہوتی ہے جو کسی انسان سے تعلق رکھتی ہے یعنی انسان کے ساتھ پیدا ہوتی ہے اور اس کے مرنے کے بعد آزاد ہوجاتی ہے لہٰذا میں دوسری قسم سے ہوں، میرا باقاعدہ کوئی خاندان نہیں ہے، جیسا کہ پہلی قسم کے جنوں کا ہوتا ہے، قرین کی ایک قسم جو خواتین کے لیے مسئلہ بنتی ہے، وہ ”مسان“ کہلاتی ہے، اس کی وجہ سے بے اولادی یا بچوں کا پیدا ہونے سے قبل یا بعد میں مرجانا ہوتا ہے ، غیر تسلی بخش صحت کے معاملات اگر زمانہ ءحمل میں بھی جاری رہیں اور نوماہ کی مدت سے پہلے بھی اسقاط حمل یا وضع حمل ہوجائے تو مردہ بچے کا قرین اس وقت تک تنگ کرتا رہتا ہے جب تک معقول علاج معالجہ نہ کرالیا جائے، یہ قرین بچوں کی پیدائش عمل کو بھی روکتا ہے اور عورت کی صحت تباہ کرنے کا سبب بھی بنتا ہے، ایسے قرین عامل کی کوششوں سے بھی نہیں بولتے کیوں کہ بولنا ، بات کرنا تو اسے آتا ہی نہ تھا۔
قرین کے پریشان کرنے کی ایک صورت اور بہت عام ہے جس میں کسی شخص کا قرین اس کی زندگی میں اس کے لیے عذاب بن جاتا ہے، اسے بگڑا ہوا قرین کہتے ہیں، ایسا کسی ذہنی و نفسیاتی بیماری یا کسی چلے وظیفے میں رجعت کے سبب ہوجاتا ہے، ایسی صورت میں انسان کا ذہنی توازن درست نہیں رہتا، وہ مجنون اور فاتر العقل ہوکر رہ جاتا ہے یا مجذوب کہلاتا ہے، آپ نے اکثر ایسے لوگوں کو کچرا چنتے یا سڑکوں پر چیختے چلاتے عجیب عجیب حرکتیں کرتے دیکھا ہوگا، ان میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کی جسمانی قوت اور برداشت غیر معمولی حد تک بڑھی ہوئی ہوتی ہے مثلاً شدید سردی میں برہنہ یا شدید گرمی میں نہایت گرم لباس میں ملبوس نظر آئیں گے ، نہ کسی سے کچھ لینا، نہ کھانا پینا یا اگر کھانے پر آجائیں تو کئی افراد کی خوراک اکیلے کھا جائیں، ان کی زبان سے نکلی ہوئی مہمل اور بے معنی باتیں اکثر پوری ہوجاتی ہیں اور لوگ ان سے عقیدتیں بھی وابستہ کرلیتے ہیں، الغرض یہ بھی بگڑے ہوئے قرین کی ایک شکل ہے مگر ان کا علاج بہت مشکل ہوجاتا ہے کیوں کہ ان کی تیمار داری ایک فل ٹائم جاب ہے۔
دنیا بھر میں ہمزاد یا اورا کے بارے میں تحقیق و تفتیش صرف ماہر روحیات نے ہی نہیں کی بلکہ سائنس دانوں نے بھی اس موضوع پر داد تحقیق دی ہے، سب سے پہلے سابقہ سویت یونین میں اس حوالے سے اورا کی تصویر لینے کا اہتمام کیا گیا، اس مقصد کے لیے مخصوص کیمیکلز استعمال کیے گئے اور مخصوص کیمرا تیار کیا گیا، چناں چہ پہلی مرتبہ ہمزاد کی ہفت رنگ تصویر سامنے آئی بعد ازاں بہت زیادہ جدید کیمرے سامنے آگئے اور ایسی کمپیوٹرائزڈ مشینیں تیار ہوگئیں جو باآسانی آپ کے ہمزاد کی خرابیوں پر روشنی ڈالتی ہے،دنیا کے بے شمار ممالک میں ان مشینوں سے کام لیا جاتا ہے۔
ہمارا حال یہ ہے کہ ہم ہمزاد کو قابو کرنے کے عمل ڈھونڈتے پھرتے ہیں، کتابوں اور رسالوں میں ایسے عملیات کی بھرمار ہے لیکن ایک بھی ایسا دعوے دار سامنے نہیں آتا جو اپنا دعوی ثابت کرسکے، ہمارے ایک شاگرد نے بتایا کہ آپ کے پاس آنے سے پہلے میں بہت سے ایسے افراد سے ملا جو بڑے بڑے زبردست قسم کے ہمزاد اور جنات کو قابو میں کرنے کے عملیات رسالوں میں یا اپنی کتابوں میں دیتے ہیں،انہی میں سے ایک عامل سے میں نے رابطہ کیا اور فرمائش کی کہ آپ کا عمل ہمزاد کی تعلیم دینے کا ہدیہ نذرانہ میں اُس وقت پیش کروں گا جب آپ اپنے قابو کیے ہوئے ہمزاد سے میری ملاقات کرادیں، انہوں نے انکار کردیا، واضح رہے کہ عمل ہمزاد کی تعلیم اور تربیت کے لیے انہوں نے اپنی فیس کے پچاس ہزار روپے طلب کیے تھے۔
ہماری نئی نسل کے ناکام و نامراد افراد جو بنیادی طور پر سہل پسندی کا شکار ہیں اور راتوں رات دولت مند بننا چاہتے ہیں یا اپنے دشمنوں سے انتقام لینا چاہتے ہیں، عملیات ، چلّے، وظائف کی طرف اسی ہمزاد کے چکر میں متوجہ ہوتے ہیں،ایسے بہت سے نوجوانوں سے ہمارا رابطہ ہوا ہے،انہوں نے جعلی نام نہاد عاملوں اور کاملوں کے چکر میں پڑکر ہزاروں بلکہ لاکھوں روپے لٹائے اور تباہ و برباد ہوگئے، اس کے علاوہ ایسے لوگ بھی دیکھنے میں آتے ہیں جنہوں نے تسخیر ہمزاد کے چکر میں ادھر اُدھر سے سنے سنائے یا کسی کے بتائے ہوئے عمل پڑھے اور پھر اپنا حال اور مستقبل دونوں برباد کرلیے،حدیہ کہ نفسیاتی مریض بن گئے، اللہ بس باقی ہوس۔

ہفتہ، 1 اپریل، 2017

اپریل میں شرفِ زہرہ و شمس کا نادر و موثر موقع


لوح تسخیر اعظم کے نایاب و مجرب نقش کا تحفہ ءخاص
نئے سال 2017 ءمیں سیارہ زہرہ کو دو بار شرف کی قوت حاصل ہورہی ہے،پہلی بار 30 تا 31 جنوری زہرہ درجہ ءشرف پر رہا بعد ازاں 4 مارچ کو برج حمل میں اسے رجعت ہوگئی اور بحالت رجعت اپنے شرف کے برج کی طرف واپسی کا سفر شروع ہوگیا، چناں چہ دوسری بار پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 13 اپریل 12:22 pm سے شرف کے درجے پر دوبارہ آمد ہوگی اور یہ آمد عام معمول سے مختلف ہوگی یعنی 17 اپریل 18:47 pm تک سیارہ زہرہ درجہ ءشرف پر رہے گا۔
13 اپریل کو درجہ ءشرف پر واپسی بحالت رجعت ہوگی اور اسی درجے پر استقامت کا عمل ہوگا، گویا یہ زہرہ کی اسٹیشنری پوزیشن ہوگی جو 17 اپریل تک جاری رہے گی، ہمارے نزدیک کسی سیارے کا ایک ہی درجے پر مستقیم حالت میں دیر تک قیام نہایت طاقت ور اثرات کا حامل ہے،اتفاق سے یہ زہرہ کے شرف کا درجہ بھی ہے۔
قدیم اصول و قواعد کے مطابق حالت رجعت میں سیارے کو کمزور قرار دیا گیا ہے،واضح رہے کہ یہ قدیم اصول و قواعد تقریباً دو ہزار سال پہلے یونانی علم نجوم کے باوا آدم بطلیموس کے مرتب کردہ ہیں اور بعد میں ان میں کبھی کوئی ترمیم و اضافہ نہیں کیا گیا لیکن مختلف زمانوں میں بعض ماہرین فلکیات نے بعض اصولوں پر اعتراض ضرور کیا ہے،یہاں تک کہ شرف و ہبوط کے درجات بھی بعض ماہرین کے نزدیک متنازع ہیں۔
عزیزان من! قدیم زمانے میں جو تحقیقات ہوئی ہیں، وہ حرف آخر نہیں ہیں، اگر علم نجوم ایک سائنس ہے، کوئی غیب کا علم نہیں ہے تو اس میں نئے نظریات اور نئے اصولوں کو جدید تحقیق کی روشنی میں اختیار کرنا کوئی جرم نہیں ہے بلکہ علمی اصولوں کو بہتر اور زیادہ کارآمد بنانے کے مترادف ہے،لکیر کے فقیر بنے رہنا کسی بھی علم و فن کی ترقی کا باعث نہیں ہوسکتا۔
ہمارے نزدیک سیارہ زہرہ کا دوسرا شرف جو اس سال اپریل میں ہوگا، بہت سے ماضی کے شرفات سے زیادہ مو ¿ثر اور باقوت ہوگا کیوں کہ زہرہ اپنے شرف کے درجے پر معمول کے وقت سے زیادہ عرصے تک قیام کرے گا، اس مو ¿ثر ترین شرف کے موقع پر ہم ایک نادر روزگار نقش قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں جو اپنی تاثیر اور افادیت میں لاجواب ہے، ہمارا مجرب المجرب ہے اور ہم نے کبھی اس نقش کے اثرات کو فیل ہوتے نہیں دیکھا، اس لوح کا نام ہم نے ”لوح تسخیر اعظم“ رکھا ہے کیوں کہ سورئہ توبہ کی جو آیت مبارکہ اس نقش میں استعمال ہوئی ہے اس کے بارے میں تقریباً تمام ہی علمائے جفر کا اتفاق ہے کہ یہ تسخیر کی سب سے زیادہ مو ¿ثر ترین آیت ہے، اس آیت کا نمبر سورئہ توبہ میں 128,129 ہے اور سورئہ توبہ کی آخری دو آیات میں شمار ہوتی ہے۔
لقد جاءکم رسول من انفسکم عزیز علیہ ما عنتم حریص علیکم باالمومنین رو ¿ف رحیم فان تولوا فقل حسبی اللہ لاالہ الا ھوا علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم
زیر نظر لوح اسی آیتِ مبارکہ سے مرتب کی گئی ہے جو یہ ہے
نقش کی چال کے لیے درمیان کے چار خانے رہنمائی کریں گے،خانہ نمبر 1 سے شروع ہونے والی آیت خود اپنا رُخ متعین کرتی ہے اور آخری خانے تک ترتیب وار پُر کی جائے گی،اسی طرح خانہ نمبر 2 سے جو آغاز ہوگا وہ بھی ترتیب وار نقش کے کسی کونے تک جائے گا، گویا مکمل آیت نقش میں چار بار لکھی جائے گی،آیت کا آغاز درمیان سے ہوگا اور اختتام چاروں کونوں میں سے کسی ایک کونے پر ، یہی اس نقش کی چال ہے۔
ہم نے یہاں سادہ نقش دیا ہے لیکن اصول نقش اور قواعد عملیات کی مکمل پابندی ضروری ہوگی یعنی قولہ الحق ولہ الملک کے ساتھ نقش کے دائیں بائیں حمعسق اور کھیعص کے ساتھ تمام ملائکہ و دیگر مو ¿کلات بھی لکھے جائیں گے۔
13 اپریل کو شرف کا آغاز ہوگا تو قمر در عقرب ہوگا لہٰذا 14 اپریل سے جب قمر برج قوس میں داخل ہوجائے گا تو سیارہ زہرہ کی ساعتیں اس نقش کو تیار کرنے میں معاون ہوں گی، یہی نقش شرف شمس میں بھی تیار کیا جاسکتا ہے،اس سلسلے میں فرق یہ ہوگا کہ اگر تسخیر امراءو حکام مقصود ہو ، دنیا میں اعلیٰ مقام و مرتبہ درکار ہو تو اس نقش کو شرف شمس میں تیار کریں،کاغذ پر لکھیں تو عرق گلاب میں مشک و زعفران و امبر ملالیں،چاندی یا سونے پر بھی تیار کرسکتے ہیں اور تانبے پر بھی لکھا جاسکتا ہے،بخورات شرف کی مناسبت سے جلائے جائیں اور خوشبویات بھی اسی مناسبت سے یعنی زہرہ کے وقت پر زہرہ کے بخور اور خوشبو اور شمس کے وقت پر شمس کے بخور اور خوشبو، رجال الغیب کا خیال رکھا جائے۔
شرف زہرہ میں تیار کردہ نقش تسخیر عام کے لیے کارآمد ہوگا،کاروباری ترقی ، عام لوگوں میں مقبولیت اور شہرت ، شادی میں رکاوٹ اور بندش وغیرہ کے لیے مجرب ہے،اگر کاغذ پر لکھ کر فریم کراکے دکان یا مکان میں لگائیں تو کاروبار ترقی کرے گا اور گھر میں محبت و اتفاق اور خیروبرکت خوب ہوگی، الا ماشاءاللہ۔یہ ایک ایسا تحفہ جسے آپ کبھی فراموش نہیں کرسکیں گے۔
نقش یا لوح کی تیاری کے بعد کسی بھی نوچندی جمعرات کو 111 مرتبہ مکمل آیت شریف پڑھ کر لوح پر دم کریں اور پہن لیں، بعد ازاں روزانہ 111 مرتبہ اپنے ورد میں رکھیں،انشاءاللہ حیرت انگیز نتائج ملاحظے میں آئیں گے۔

پیر، 27 مارچ، 2017

اپریل کی فلکیاتی صورت حال طاقت ور اثرات کا مہینہ


شرف شمس کا نادر موقع اور نقشِ فتح نامہ کی تیاری کا طریقہ
اپریل کے ستارے
20 مارچ سے سیارہ شمس دائرئہ بروج کے پہلے برج حمل میں داخل ہوچکا ہے، گویا دنیا میں موسم بہار کا آغاز۔ اپریل کی 20 تاریخ تک شمس اپنے شرف کے برج حمل ہی میں رہے گا، سات اور آٹھ اپریل کو درجہ ءشرف پر ہوگا، 20 اپریل کو برج ثور میں داخل ہوگا، پیغام رساں عطارد برج حمل میں حرکت کررہا ہے اور پورا مہینہ اسی برج میں گزارے گا، 31 مارچ کی رات کو برج ثور میں داخل ہوگا۔
توازن اور ہم آہنگی کا سیارہ زہرہ بحالت رجعت برج حمل میں ہے اور اسی پوزیشن میں 3اپریل کو واپس برج حوت میں آجائے گا، 13 اپریل سے 17 اپریل تک دوبارہ درجہ ءشرف پر ہوگا، اسی دوران میں، اسی درجے پر 15 اپریل کو مستقیم ہوگا یعنی اپنی سیدھی چال پر آجائے گا، اس اعتبار سے اس بار زہرہ کے شرف کی قوت بہت زیادہ ہوگی۔
توانائی کا ستارہ مریخ برج ثور میں حرکت کر رہا ہے،21 اپریل کو برج جوزا میں داخل ہوگا، سیارہ مشتری بحالتِ رجعت برج میزان میں ہے اور مہینے کے آخر تک یہیں رہے گا،سیارہ زحل برج قوس میں حرکت کر رہا ہے اور 6 اپریل کو اسے رجعت ہوجائے گی،سیارہ یورینس برج حمل میں، پراسرار نیپچون برج حوت میں اور پلوٹو برج جدی میں حرکت کر رہا ہے،اسے 20 اپریل کو رجعت ہوگی، راس اور ذنب بالترتیب برج سنبلہ اور حوت میں ہےں۔
نظرات و اثرات سیارگان
اپریل کے مہینے میں سیارگان کی پوزیشن بہتر ہورہی ہے،شمس اور زہرہ شرف یافتہ ہوں گے،البتہ عطارد کو رجعت ہوگی اور سیارہ زحل بھی رجعت میں چلا جائے گا،مشتری پہلے ہی اپنی الٹی چال پر ہے،زہرہ اپنے شرف کے برج میں مستقیم ہوگا، اس دوران میں سیاروں کے درمیان باہمی زاویے خاصے اہم ہیں، تثلیث کے تین زاویے اور قران کے تین زاویے ، تربیع کے تین زاویے جب کہ تسدیس کا صرف ایک زاویہ اور ایک مقابلے کی نظر ہوگی، تفصیل درج ذیل ہے۔
6اپریل: مریخ اور پلوٹو کے درمیان تثلیث کا زاویہ عام طور پر کوئی پاور پلے سامنے لاتا ہے، بین الاقوامی طور پر بھی اور پاکستان میں بھی ایسی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے جس میں طاقت ور اپنی من مانی کرنے کے لیے آزاد ہوں، وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اپنی مرضی کے فیصلے دوسروں پر مسلط کرسکتے ہیں،عام افراد کے لیے یہ زاویہ زیادہ اہم نہیں ہے۔
9 اپریل: زہرہ اور زحل کے درمیان تربیع کی نظر قائم ہوگی، یہ نظر توازن اور ہم آہنگی میں خرابی لاتی ہے،اگر کسی معاملے میں توازن نہ رہے،باہمی طور پر اختلافات کی فضا سامنے آئے تو اسی زاویے کا شاخسانہ ہوگا، یہ صورت حال پاکستان کے زائچے میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان عدم توازن اور اختلاف رائے کا سبب ہوسکتی ہے،اسی دوران میں عدلیہ کے فیصلے بھی اہمیت اختیار کرسکتے ہیں اور موضوعِ بحث بن سکتے ہیں،عام آدمی کی زندگی میں یہ وقت ازدواجی زندگی میں مسائل اور الجھنیں لاتا ہے،ایسے مسائل کو ٹھنڈے دل و دماغ سے اور دانش مندانہ طور پر حل کرنے کی کوشش کرنا چاہیے،پاکستان میں صحت کے مسائل پریشان کرسکتے ہیں،اس زاویے کے زیرِاثر خواتین اور مزدور پیشہ افراد متاثر ہوں گے۔
اسی تاریخ کو شمس اور پلوٹو کے درمیان بھی تربیع کا زاویہ ہوگا، یہ بھی کسی پاور پلے کی نشان دہی کر رہا ہے،حکومت اپنے ذاتی مفادات کے لیے فیصلے اور اقدام کرسکتی ہے، ایسے آرڈیننس جاری ہوسکتے ہیں جو متنازع یا اختلاف رائے پیدا کرنے کا باعث ہوں،عام افراد کے لیے حکومت کے فیصلے اور اقدام ناپسندیدہ ہوں گے۔
11 اپریل: شمس اور مشتری کے درمیان مقابلے کی نظر نحس سمجھی جاتی ہے،حکومت نئے ٹیکس یا مالیاتی امور میں دیگر ناخوش گوار فیصلے کرسکتی ہے،حکومت کے منصوبوں میں تعطل یا رکاوٹیں پیدا ہوسکتی ہیں،عام افراد کو اس دوران میں حکومت کی پیدا کردہ مالی دشواریوں کا سامنا ہوسکتا ہے،کاروباری سیکٹر متاثر ہوسکتا ہے،بینکنگ اور اسٹاک ایکسچینج کے معاملات میں اُتار چڑھاو ¿ پیدا ہوسکتا ہے، اس دوران میں نئی سرمایہ کاری یا اسٹاک مارکیٹ میں پیسا لگانا فائدہ بخش ثابت نہیں ہوگا۔
14 اپریل: شمس اور یورینس کا قران بڑا ہی غیر معمولی اور غیر یقینی صورت حال پیدا کرنے والا زاویہ ہے، خصوصاًاعلیٰ عہدوں پر فائز افراد اور صاحب حیثیت افراد اس وقت متاثر ہوسکتے ہیں، اپنے انفرادی زائچوں کی بنیاد پر اُن کی زندگی میں مثبت یا منفی واقعات رونما ہوسکتے ہیں، یہ وقت عام طور سے غیر متوقع صورت حال اور اچانک حالات کی نئی کروٹ کو ظاہر کرتا ہے، اس وقت عام افراد کو بھی اپنے پروگرام میں لچک رکھنی چاہیے ، ضروری نہیں ہے کہ اُن کی منصوبہ بندی اور پروگرام کسی نئی صورت حال سے دوچار نہ ہوں، اس وقت متبادل حکمت عملی پر پہلے سے سوچ بچار کرلینا چاہیے۔
17 اپریل: زہرہ اور مریخ کے درمیان تسدیس کا سعد زاویہ قائم ہوگا، یہ لوگوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے میں مددگار ہوسکتا ہے،خاص طور پر عورت اور مرد کے تعلقات میں خصوصی اثر رکھتا ہے،اس وقت میں نئے تعلق اور رشتے قائم ہوسکتے ہیں اور انہیں بہتر بنانے کے لیے کوشش کرنا چاہیے،واضح رہے کہ زہرہ اس موقع پر شرف یافتہ ہوگا لہٰذا اعمالِ محبت و تسخیر کے لیے نہایت مو ¿ثر وقت ہوگا۔
اسی تاریخ کو شمس اور زحل کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ بھی ہوگا، حکومت کو عوام سے رابطے کی ضرورت محسوس ہوسکتی ہے، دوسرے معنوں میں عوام کی فلاح و بہبود کا خیال آسکتا ہے،عام افراد کے لیے یہ سعد وقت حکومت سے فوائد کے حصول کے لیے موزوں ہوگا، خصوصاً سرکاری نوعیت کے کاموں سے فوائد حاصل ہوں گے،پراپرٹی سے متعلق کاروبار بہتر ہوگا اور اس دوران میں پراپرٹی کی خریدوفروخت بہتر رہے گی۔
20 اپریل: شمس اور عطارد کے درمیان قران کی نظر عام طور سے نحس ہوتی ہے،ملکی معاملات میں یہ ذرائع ابلاغ پر دباو ¿ لاتا ہے، درست خبریں سامنے نہیں آتیں اور لوگوں میں کنفیوژن پھیلتا ہے،ضروری معلومات کا حصول مشکل یا پیچیدہ ہوجاتا ہے،تحریری یا تقریری کاموں میں غلطیاں ہوتی ہیں،اس دوران میں اہم کاغذات پر دستخط کرتے ہوئے محتاط رہنا چاہیے، عام افراد کو سفر سے متعلق امور میں رکاوٹ یا تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے،سفر میں پریشانیاں یا مسائل پیدا ہوتے ہیں، اپنے انفرادی زائچے کے مطابق بعض لوگوں کے لیے یہ نظر فائدہ بخش بھی ہوسکتی ہے۔
21 اپریل: زہرہ اور زحل کے درمیان تربیع کا زاویہ اس مہینے دوسری بار قائم ہوگا، اس زاویے کے حوالے سے پہلے بھی وضاحت کردی گئی ہے،اس کے نتائج بہر حال مثبت نہیں ہوتے۔
24 اپریل: عطارد اور زحل کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ نہایت مبارک ہے،یہ وقت پراپرٹی ، سفر اور ضروری معلومات کے حصول میں بہتر ثابت ہوتا ہے،اس وقت طویل المیعاد منصوبوں پر کام شروع کرنا چاہیے اور مستقبل کی پلاننگ کرنی چاہیے،اہم دستاویزی کاموں کو مکمل کرنا چاہیے،باہمی گفت و شنید سے پیچیدہ مسائل کے حل میں مدد ملتی ہے،یہ وقت علاج معالجے کے لیے بھی بہتر ہوتا ہے۔
28 اپریل: عطارد اور یورینس کے درمیان قران کا زاویہ کوئی دلچسپ صورت حال سامنے لاسکتا ہے،خصوصاً میڈیا میں چونکا دینے والی نئی خبریں اور انکشافات سامنے آتے ہیں،اس وقت نئی ایجادات اور اختراعات ہوتی ہیں، راز فاش ہوتے ہیں، اچانک سفر کے پروگرام بنتے ہیں، نئے چانس کے امکانات پیدا ہوتے ہیں جن سے فائدہ اٹھانا کبھی ممکن ہوتا ہے اور کبھی نہیں، چوں کہ اس دوران میں عطارد اور زحل کے درمیان بھی سعد زاویہ قائم ہوگا لہٰذا یہ نظر مثبت امکانات کو نمایاں کرے گی۔
قمر در عقرب
قمر اپنے ہبوط کے برج عقرب میں بدھ 12 اپریل کو 03:41am پر داخل ہوگا اور 14 اپریل 03:26 pm تک اسی برج میں رہے گا،اس دوران میں اپنے درجہ ءہبوط پر 12 اپریل بروز بدھ صبح 07:37 am سے 09:38 am تک ہوگا، یہ وقت نہایت نحوست کا تصور کیا جاتا ہے،اس وقت میں برائیوں اور بیماریوں سے نجات کے لیے اعمال کیے جاتے ہیں، بندش کے تقریباً تمام کاموں کے لیے یہ وقت موزوں ہوتا ہے،اس حوالے سے مختلف ضروریات کے تحت عملیات پہلے بھی دیے جاتے رہے ہیں۔
شرف قمر
چاند اس ماہ اپنے شرف کے برج ثور میں 26 اپریل بروز بدھ صبح 06:56 am پر داخل ہوگا اور 28 اپریل بروز جمعہ صبح 06:36 تک اسی برج میں حرکت کرے گا، اس دوران میں اپنے درجہ ءشرف پر صبح 10:08 سے 11:45 تک رہے گا لیکن واضح رہے کہ اس بار شرف کا وقت زیادہ باقوت نہیں ہوگا کیوں کہ اسی روز قمر شمس سے قران کرے گا اور تحت الشاع ہوگا۔
شرف شمس
سیارہ شمس کو ہماری کہکشاں میں ایک بادشاہ کی حیثیت حاصل ہے،برج حمل کے 19 درجے پر اسے شرف کی قوت حاصل ہوتی ہے اور یہ موقع سال میں ایک بار آتا ہے،اس سال شمس اپنے درجہ ءشرف پر 7 اپریل رات 8:37 pm سے 8 اپریل رات 08: 53 pm تک رہے گا۔
شرفِ شمس اور فتح نامہ
شمس اپنے درجہ ¿ شرف پر ہر سال آتا ہے اور ماہرین علم جفراس وقت کا نہایت شدت سے انتظار کرتے ہیں کیوں کہ شمس کا تعلق توانائی ، اقتدار اور عزت و مرتبہ سے ہے ، سرکاری محکمہ اور تمام کارِ سرکار سیارہ شمس کے زیراثر ہےں،صحت اور توانائی کے اصول کے لیے بھی اس وقت کو مو ¿ثر اور فائدہ بخش تسلیم کیا جاتا ہے،چناں چہ اس وقت سے فائدہ اٹھانے کے لیے سال بھر انتظار کیا جاتا ہے،اس وقت لوحِ اسم اعظم یا خاتم اسمِ اعظم اور لوح شمس وغیرہ تیار کی جاتی ہیں جو زندگی میں عروج و کامیابی ، اعلیٰ پوزیشن کے حصول ، اعلیٰ حکام یا مالکان کے روبرو عزت و وقار اور مرتبے میں اضافے کے لیے مو ¿ثر ہوتی ہے لیکن اس بار ہم نقشِ فتح نامہ کی تیاری پر زور دیں گے۔
فتح نامہ کے فوائد مےں کامےابی‘حالات کی سختی سے نجات اور ہر طرح کی نحوست سے چھٹکارہ ،کاروبار میں ترقی‘ قرض کی ادائےگی‘ ملازمت مےں ترقی ےا بہتر ملازمت کا حصول‘ مالکان یا اعلیٰ افسران کے رویے میں نرمی اور عمدہ سلوک ، گھرےلو حالات کی بہتری ‘ سحر و جادو‘ آسےب و جنات سے نجات‘ دشمنوں سے بچاﺅ‘ مقدمے میں کامیابی ، صحت مےں بہتری‘ بےماری سے شفا‘ شادی مےں کوئی بندش یا رکاوٹ ہو تو اس کا خاتمہ‘ الغرض بے شمار مقاصد ”فتح نامہ“کے دائرہ کار مےں آتے ہےں ۔
فتح نامے کی تیاری یقیناً تھوڑا سا مشکل کام ضرور ہے مگر جو لوگ اسے درست اصول و قواعد کے مطابق تیار کرلیں گے وہ سمجھ لیں کہ انہوں نے دنیا فتح کرلی ہے، ہماری ہر ممکن کوشش ہوگی کہ مشکل طریقہءکار کو آسان الفاظ میں پوری وضاحت کے ساتھ بیان کردیں اس کے بعد بھی اگر طریقہ ¿ کار کو سمجھنے میں کوئی دشواری پیش آئے تو براہِ راست رابطہ کرکے سمجھ سکتے ہیں۔
اصول و قواعد فتح نامہ 
سب سے پہلے اپنے پورے نام کے اعداد ابجدِ قمری سے حاصل کریں پھر اپنی والدہ کے نام کے اعداد بھی نکالےں۔ اس کے بعد سات پےغمبروں کے نام لےں اور ان کے اعداد حاصل کریں۔ مثلاً آدم ؑ‘ نوح ؑ‘ سلےمانؑ‘ موسیؑ ‘ داو ¿دؑ‘ ےوسفؑ اور محمدﷺ ۔ اس کے بعد آےات فتوحات کے اعداد لےں۔ آےات فتوحات ےہ ہیں، آیات و فتوحات سے پہلے دُعائے فتح ہے۔
1 ۔اَف ±تِح اَب ±وَابِ فَت ±حَکَ لِی ± ےَا مُفَتِّحُ ال ±ا ب ±وَابِِ ´۔
 2 ۔ اِنَّاا فَتَح ±نَالَکَ فَت ±حاً مُّبِے ±نَا۔ ( سورہ فتح)۔
3 ۔ رَبَّنَااف ±تَح ± بَے ±نَنَاوَ بَےنَ قَو ± مِنَا بِا ل ±حَقِّ وَاَن ±تَ خَے ±رُ ال ±فَا تِحِےنَ ´ ( سورہ اعراف)۔ 
4 ۔ نَص ±رُ مِّنَ اﷲ وَ فَت ±ح قَرِےب ( سورہ صف)۔
تینوں آےات اور دعا کے اعداد کا مجموعہ سات ہزار دو سو پچھتر (7275 ) ہوا۔ آپ کی سہولت کے لےے سات انبےاءکے ناموںکے اعداد کا مجموعہ بھی لکھ رہے ہےں جو 679 ہے۔ اب آپ کو صرف اپنے نام اور والد کے نام کے اعداد ہی معلوم کرنا ہیں اور پھر تمام اعداد کو باہم جمع کرنا ہے۔ مثلاً آپ کے نام مع والدہ کے اعداد کل 343 برآمد ہوئے تو کل مجموعہ ء اعداد 8288 ہو جائے گا۔ 
اعداد آےت = 7275 
اعداد نام انبےاء= 679 
اعداد مفروضہ نام مع والدہ= 334 
مجموعہ = 8288 
اس مجموعہ ءاعداد کا 7x7 خانوں کا نقش تےار کریں یعنی ایسا نقش جس میں 49 خانے ہوں جس کا طرےقہ یہ ہے کہ کل مجموعہ اعداد مےں سے 168 عدد کم کریں اور پھر باقی اعداد کو 7 پر تقسےم کردےں۔ اب جو باقی حاصل قسمت آئے اُسے نقش کے خانہ اول مےں رکھ کر باقی خانوں مےں ترتےب وار ایک عدد کے اضافے سے نقش بھرتے چلے جائیں۔ مثلاً مندرجہ ذےل مجموعہ اعداد 8288 مےں سے 168 عدد کم کرےں تو باقی بچے 8120۔ اس کو 7پر تقسےم کےا تو جواب آےا 1160 ۔
سات درسات کی چال کا نقش ہم دے رہے ہےں۔ اس مےں پہلا خانہ وہ ہے جس مےں نمبر ایک لکھا ہے۔ اسی خانے سے نقش کی ابتدا ہوگی۔ 1160 اسی خانے مےں لکھےں پھر جس خانے مےں نمبر 2 ہے اس مےں 1161 لکھیں پھر نمبر 3 مےں 1162 ۔ الغرض اسی طرح ایک عدد کے اضافے سے 49 خانوں کا یہ نقش مکمل کر لیں۔ تمام کام وقت سے پہلے ہی تےار کرنا ہوگا تاکہ شرفِ شمس کے اوقات مےں اور ساعتِ شمس مےں صرف چال کے مطابق نقل کرنا ہی باقی رہ جائے گا ، نقش کے چاروں کونوں پر قولہ الحق ولہ الملک لکھیں اور چاروں ملائیکہ جبرائیل ، عزرائیل ، میکائیکل، اسرافیل لکھیں نقش کے دائیں بائیں کھیعص ، حمعسق لکھیں اور نقش مکمل کرنے کے بعد پشت پر یاروقیائیل ابو عبداللہ المذہب لکھیں ۔
نقش کی چال

اب ایک مسئلہ اور باقی رہ گےا ہے اسے بھی سمجھ لیں۔ کل مجوعہء اعداد کو جب آپ 7 پر تقسےم کرےں گے تو ضر وری نہیں کہ وہ برابر تقسےم ہو جائے۔ برابر تقسیم ہونے کی صورت مےں تو ایک بہترےن بات ہوگی لےکن تقسیم کے بعد اگر کوئی عدد باقی بچے تو پھر نقش مےں کسر دےنا ہوگی تب ہی وہ درست ہوگا۔ اس کا طرےقہ یہ ہے کہ تقسیم کرنے کے بعد اگر ایک عدد باقی بچے تو نقش کے خانہ نمبر43 مےں 1عدد کا اضافہ کرنا ہوگا۔ 2 باقی رہےں تو خانہ نمبر 36 میں 1کا اضافہ کریں۔ 3 باقی ہوں تو خانہ نمبر 29میں 1عدد بڑھا دیں۔ 4باقی رہیں تو 22ویں خانے میں 1عدد بڑھائیں۔ 5باقی ہوں تو خانہ نمبر 15میں 1عدد بڑھائیں اور اگر 6باقی ہوں توآٹھویں خانے میں 1عدد کا اضافہ کریں۔ یہاں ایک عدد کا اضافہ کرنے کا مطلب بھی سمجھ لیں۔ مثلاً آپ نقش کے خانے ایک ایک عدد کے اضافے سے بھرتے چلے جا رہے ہیں تو جب کسر کا خانہ آئے تو اس میں 1کے بجائے 2کا اضافہ کر دیں۔ باقی نقش اسی طرح بھرتے چلے جائیں۔ نقش کے درست بھرے جانے کی پہچان یہ ہو گی کہ نقش کے ہر سات خانوں کی میزان وہی آنی چاہیے جو آپ کے نام مع والدہ کے اعداد، آیتوں کے اعداد اور اسمائے انبیاءکے اعداد کامجموعہ ہو گا۔ اگر اس مجموعے کے مطابق نقش کے ہر سات خانوں کا مجموعہ نہیں ہے تو سمجھ لیں نقش غلط بھرا گیا ہے۔ کہیں نہ کہیں آپ سے حساب میں غلطی ہوئی ہے۔
نقش کی تیاری کے لیے مزید اصول و قواعد بھی سمجھ لیں۔یہ نقش ہرن کی جِھلّی یا ایسے کاغذ پر لکھیں جو ایک طرف سے گولڈن کلر کا ہو، روشنائی اگر مشک و زعفران سے تیار کی گئی ہو تو کیا کہنے مگر آج کے دور میں شاید یہ ممکن نہ ہو ، ایسی صورت میں زرد یا سرخ رنگ استعمال کریں، شرف کا وقت تقریباً 24 گھنٹے رہے گا، اس تمام عرصے میں صرف شمس کی ساعتیں نقش لکھنے کے لیے مو ¿ثر ہوں گی، مقررہ وقت سے پہلے غسل کرکے پاک صاف لباس پہنےں اور زعفران یا مشک کے عطر کی خوشبو لگائیں، علیحدہ کمرے میں رجال الغیب کا خیال کرکے بیٹھیں کہ آپ کا رخ رجال الغیب کی طرف نہ ہو، کمرے میں عود و لوبان کا بخور جلا کر خوشبو کریں،یہ میسر نہ ہو تو عمدہ خوشبو دار اگربتیاں جلائیں،بہتر ہوگا کہ سرخ یا زرد لباس پہنیں یا پھر اس رنگ کا کوئی کپڑا نیچے بچھالیں،کوئی زرد رنگ کی مٹھائی مثلا بےسن کے لڈو وغیرہ پاس رکھیں تاکہ کام ختم ہونے کے بعد فاتحہ دی جاسکے، تمام کام بہ خیرو خوبی انجام پاجائے تو سمجھ لیں کہ آپ نے ایک عظیم تحفہ حاصل کرلیا ہے، نقش کو تہہ کرکے موم جامہ یا پلاسٹک کوٹڈ کرلیں اور کسی بھی نوچندے اتوار کو صبح سورج نکلنے کے فوراً بعد پاس رکھیں یا بازو پر باندھ لیں، حسبِ توفیق صدقہ و خیرات کریں۔

اتوار، 19 مارچ، 2017

انسانی ذہن کی کرشمہ کاریاں اور اکبر شاہ جن


انسان کو کسی بھی دوسری مخلوق سے کمتر یا کمزور سمجھنا غلط ہے
ملک کی صورت حال جوں کی توں ہے، اگرچہ وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کی مصروفیات میں روز بہ روز اضافہ ہورہا ہے،اپنے خطابات میں وہ عوام کو خوش خبریاں دے رہے ہیں، مستقبل کے روشن منصوبوں سے ملک میں پھیلنے والی ترقی کی لہر سے آگاہ کر رہے ہیں ۔
حالات کے ایک ہی جگہ ٹھہر جانے کی سب سے بڑی وجہ پاناما کیس کا فیصلہ ہے جو معزز جج صاحبان نے تادم تحریر نہیں سنایا ہے، شنید ہے کہ شاید آئندہ ہفتے تک یہ فیصلہ سنادیا جائے،اس حوالے سے ایسی ایسی باتیں کہی جارہی ہیں جو اعلیٰ عدلیہ کے لیے نہایت چیلنجنگ ہیں، اپوزیشن یعنی عمران خان گروپ کیا کہہ رہا ہے، اسے تو نظر انداز کردیجیے لیکن دیگر اہلِ نظروفکر اس فیصلے کے حوالے سے سخت تشویش میں مبتلا ہیں،ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ تاریخی ہوگا اور یہ بات جج صاحبان بھی کہہ چکے ہیں کہ ہم ایسا فیصلہ دیں گے جسے مدتوں یاد رکھا جائے گا۔
گویا اس فیصلے کے بعد پاکستانی سیاست کا نیا رُخ مقرر ہوگا، پاکستان کے زائچے کے مطابق سیارہ زحل حکومت اور وزیراعظم کی نشان دہی کرتا ہے جو اس وقت زائچے میں اچھی پوزیشن میں نہیں ہے،مزید یہ کہ سیارہ شمس بھی وزیراعظم اور دیگر صاحب عہدہ و مرتبہ یا صاحبانِ اقتدار کی نمائندگی کرتا ہے،اس کی پوزیشن بھی اطمینان بخش نہیں ہے،پاکستان کے زائچے میں سیارہ مشتری کا دور اکبر اور سیارہ زہرہ کا دور اصغر جاری ہے،یہ دونوں زائچے کے ضرر رساں گویا فعلی منحوس سیارگان ہیں،اس سارے تناظر میں جو بھی فیصلہ آئے گا وہ کسی طور بھی حکومت اور وزیراعظم کے لیے اطمینان بخش نظر نہیں آتا، خاص طور پر وزیراعظم نواز شریف کی پوزیشن خاصی نازک نظر آتی ہے اور اس حوالے سے آنے والا وقت ان کے لیے مزید مشکلات میں اضافے کا باعث ہوسکتا ہے۔
زائچہ ءپاکستان کے مطابق پاکستان کی داخلی اور خارجی صورت حال میں بھی کوئی اطمینان بخش صورت 15 مئی تک نظر نہیں آتی لہٰذا بقول فیض اک ذرا صبر کہ فریاد کے دن تھوڑے ہیں۔
اس مختصر اشاریے کے بعد آئیے اُس موضوع کی طرف جو تاحال ادھورا ہے یعنی جنات اور انسان کے درمیان روابط و تعلقات، اس سے پہلے مضامین میں بھی اس حوالے سے کافی تفصیلی گفتگو ہوتی رہی ہے جسے ہمارے قارئین نے پسند بھی کیا ہے اور اس موضوع پر مزید واقفیت کے خواہش مند ہیں۔
اب تک جنات کے موضوع پر جس قدر گفتگو ہوئی اس کا لب لباب یہ ہے کہ جن ایک آتشی مخلوق ہے اور اس کا وجود مذہب کی رو سے ہی نہیں، سائنس کی روشنی میں بھی ثابت ہے، یہ مخلوق اللہ کی پیدا کردہ اور انسان سے بھی قدیم ہے، ان کے درمیان مختلف قومیں، نسلیں، مذہبی عقائد و نظریات اور قبائلی نظام موجود ہیں، ہر قبیلہ یا نسل اپنی مخصوص طرز بود وباش، پسند نا پسند وغیرہ رکھتی ہے، انسانوں سے ان کے مراسم و تعلقات ممکن ہیں، حد یہ ہے کہ دونوں مخلوقات کے مو ¿نث اور مذکر افراد باہم ازدواجی تعلقات بھی قائم کرسکتے ہیں اور اس کے نتیجے میں اولاد کی پیدائش بھی ممکن ہے لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ کوئی عام بات ہے؟ انسانوں اور جنات کے درمیان روابط و تعلقات عام زندگی کا حصہ ہیں اور اگر حصہ ہیں جیسا کہ بعض واقعات سے ثابت ہے تو کتنے فیصد؟
اس سوال کا جواب ہم اس بحث کے آغاز میں ہی دے چکے ہیں کہ صرف ایک فیصد، بعض ماہرین کے نزدیک تو اس سے بھی کم یعنی ہزاروں بلکہ لاکھوں آسیب و جنات کے کیسوں میں غالب اکثریت تو ذہنی و نفسیاتی امراض کی ہوتی ہے، انسانی ذہن بھی تو کسی جناتی پُراسراریت سے کم درجہ نہیں رکھتا، اس کا ثبوت وہ انسانی کارنامے ہیں جن پر دنیا آج تک حیران ہے یا انسان پر وارد ہونے والی ایسی کیفیات ہیں جن کے زیر اثر وہ سپر نیچرل قوتوں کا اظہار کرتا ہے۔ کیا مارشل آرٹ کا ماہر اپنی جسمانی قوت کے بل بوتے پر ہاتھ کی ہتھیلی کے ایک ہی وار سے برف کی سل کے دو ٹکڑے کرتا ہے؟ ہر گز نہیں۔
ایک عام یا خاص جسمانی قوت رکھنے والے انسان کے لیے یہ ممکن نہیں، خواہ وہ رستم زماں ہی کیوں نہ ہو، مارشل آرٹ کا ماہر اپنے خیال اور ارادے کی قوت کو ایک مرکز پر مرتکز کرکے یہ کام اپنے ذہن سے لیتا ہے، اس کی قوتِ خیال یہ کارنامہ انجام دیتی ہے،یاد رکھیے !کائنات میں قوتِ خیال سے بڑی کوئی قوت نہیں ہے اور اس قوت کو مو ¿ثر طور پر رو بہ عمل لانے کے لیے کامل یقین کی ضرورت ہوتی ہے۔
انسانی ذہن کتنا پیچیدہ ہے، کتنا گہرا اور کتنا تہ دار ہے، اس کا اندازہ ہپناٹزم، ٹیلی پیتھی اور مستقبل بینی کے مظاہرے دیکھنے والے بہ خوبی کرسکتے ہیں، ایک مثال ملاحظہ کیجیے کہ اگر ہپناٹزم کے ذریعے کسی شخص پر تنویمی نیند طاری کردی جائے اور اس نیند کو گہرا اور گہرا اور گہرا کرتے چلے جائیں یہاں تک کہ معمول کی پوری ذہنی، دماغی اور اعصابی شخصیت آپ کی گرفت میں آجائے اور وہ آپ کی نگرانی اور حکم پر چلنے لگے، اس عالم میں آپ معمول کے جسم اور نفس پر جو کیفیت اور حالت طاری کرنا چاہیں گے، وہ طاری ہوجائے گی، آپ اس کا آپریشن کردیجیے(مغرب میں بذریعہ ہپناٹزم آپریشن کیے گئے ہیں) اسے کوئی تکلیف نہ ہوگی، آپ اس کے جسم پر جو مشق ستم چاہے کریں، اسے کوئی احساس نہ ہوگا اور یہ سب کچھ وہ ان ہپناٹک سجیشنز کی وجہ سے برداشت کرجائے گا جو اسے دیے گئے تھے، اس کے جسم پر دہکتے ہوئے انگارے رکھ دیجیے اور کہیے کہ تمہارا جسم قطعی طور پر جلنے سے محفوظ ہے، پھر دیکھیے، وہ واقعی محفوظ رہے گا۔اس کے برخلاف یہ سجیشن دیجیے کہ میں تمہارے سر پر ہتھوڑا مار رہا ہوں جس سے تم سخت اذیت محسوس کروگے اور پھر صرف انگلی سے ہلکی سی ضرب اس کی پیشانی پر لگائیے، وہ چیخ اٹھے گا، تکلیف سے تڑپے گا جیسے کہ واقعی اس کا سر پھٹ گیا ہو۔
ایسے تجربات اور مشاہدات کی کوئی کمی نہیں، جب کسی انسان پر تنویمی نیند طاری کردی گئی یا خود بہ خود (سیلف ہپناٹزم کے ذریعے طاری ہوگئی) اور اس کے جسم کا کوئی حصہ ساکت یا شل ہوگیا، جسم اکڑ کر پتھر کی طرح سخت ہوگیا۔
 پولینڈ کے غیر آباد علاقوں میں ایک ایسی قوم کا سراغ بعض سائنس دانوں نے لگایا تھا جو خطرہ محسوس کرتے ہی خود پر تنویمی نیند طاری کرکے مردہ بن جاتے تھے۔ حد یہ کہ ان کی نبض اور دل کی دھڑکن تک رک جاتی تھی اور خطرہ ٹل جانے کی صورت میں وہ ایک خود کار طریقے سے اپنی اصل حالت میں واپس آجاتے، ماضی میں ہندو جوگیوں اور سادھوو ¿ں کے بھی ایسے واقعات ملتے ہیں اور صوفیائے اسلام کے کشف و کرامات میں بھی ایسے محیر العقول واقعات کی کمی نہیں، یہ الگ بات ہے کہ ہم ایسے واقعات و کرامات کو منجانب اللہ تصور کرتے ہوئے ان کی سائنٹفک توجیہہ اور تحقیق کے چکر میں نہیں پڑتے کیوں کہ عقیدت و ایمان کے مسائل درمیان میں حائل ہوتے ہیں، حالاں کہ ہم جانتے ہیں کہ صوفیائے کرام کی روحانی طاقتوں کی پشت پر توفیق و اجازت الٰہی کے ساتھ ان کی طویل روحانی تربیت و ریاضت بھی کارفرما ہے جس کے تحت وہ حبسِ دم (سانس کی مشق) ذکر و فکر الٰہی کی تکرار و تسلسل (مراقبہ) وغیرہ کے مراحل سے گزر چکے ہوتے ہیں، الغرض یہ ساری صورتیں اور مظاہر، انسان کی جسمانی قوت کا اظہار نہیں ہیں، ذہنی قوت کا اظہار ہیں جسے آپ روح کے کنٹرول میں سمجھتے ہوئے روحانی قوت کا اظہار بھی کہہ سکتے ہیں۔
ہم نے اوپر عمل تنویمی کے ان اثرات کی نشان دہی کی ہے جو انسانی جسم پر پڑسکتے ہیں اور اس میں غیر معمولی قوتیں یا صلاحیتیں بے دار کردیتے ہیں، اب آئیے ذہن کی طرف۔
 تنویمی کیفیت میں معمول، عامل کے اشارے پر غیر معمولی کیفیات کا مظاہرہ کرتا ہے،اس قسم کا ایک مظاہرہ ملاحظہ کیجیے، معمول کو تنویمی نیند کے عالم میں حکم دیا گیا کہ تم یہ محسوس کرو کہ میں اپنے جسم سے باہر نکل رہا ہوں، وہ اس حکم یا ترغیب کو کئی بار دہراتا گیا، آخر معمول نے اقرار کیا کہ وہ آہستہ آہستہ اپنے جسم سے باہر نکل رہا ہے، عامل یہی فقہر دہرائے جارہا تھا کہ تم محسوس کرو کہ میں اپنے جسم سے باہر نکل رہا ہوں، باہر نکل گیا ہوں۔
پانچ سات منٹ کے بعد معمول نے اطلاع دی کہ میں اپنے جسم سے باہر آگیا ہوں اور یہ میرے سامنے صوفے پر میرا جسم پڑا ہے، معمول سے سوال کیا گیا کہ تم اس حالت میں یعنی جسم سے باہر آکر کیا کیفیت محسوس کر رہے؟ اس نے کہا بالکل ہلکا پھلکا جیسے میرے اندر وزن ہی نہیں ہے جیسے میں ہوا کی طرح لطیف ہوں، اس کے بعد عامل نے کہا کہ تم برق رفتاری کے ساتھ لاہور چلے جاو ¿، چلے گئے؟ جواب ملا ”جی ہاں! میں چشم زون میں لاہور پہنچ گیا اور اب میں گلی نمبر فلاں اور فلاں محلے سے گزر رہا ہوں اور فلاں صاحب کا مکان میرے سامنے ہے“
عامل نے کہا ”مکان کے اندر داخل ہوجاو ¿ اور تفصیل کے ساتھ بتاو ¿ کہ فلاں صاحب اس وقت کیا کر رہے ہیں؟ ان کی بیوی کہاں ہے؟ بڑی بچی کہاں ہے اور جو ان کے گھر مہمان آئے ہوئے ہیں وہ کیا کر رہے ہیں؟“
معمول نے کہا، فلاں صاحب باتھ روم میں ہیں، بھابی شاپنگ کے لیے گئی ہوئی ہیں، بڑی بچی کو بخار ہے اور مہمان چلے گئے ہیں، جب معمول یہ تفصیل بیان کرچکا تو اسے حکم دیا گیا کہ اب واپس آجاو ¿، آگئے واپس؟ جواب ملا ”جی ہاں، آگیا“ کہا گیا کہ اب اپنے جسم میں داخل ہوجاو ¿، ”داخل ہوگیا“ جواب ملا۔
اس کے بعد سجیشنز کے ذریعے معمول کی نیند ختم کردی گئی، چند لمحے بعد معمول بالکل ہوش و حواس میں تھا، فوراً ہی لاہور ٹیلی فون کرکے مذکورہ گھر سے معلومات حاصل کی گئیں اور پوچھا گیا کہ کیا آپ چند لمحے پہلے غسل خانے میں تھے؟ کیا بھابھی خریداری کے لیے بازار گئی ہیں؟ کیا بڑی بچی کو بخار ہے؟ کیا آپ کے مہمان چلے گئے؟ انہوں نے ایک ایک بات کی تصدیق کی اور حیرت کا اظہار کیا کہ یہ ساری باتیں آپ کو کیسے معلوم ہوئیں، کیا اس واقعے سے اندازہ نہیں ہوتا کہ نفس انسانی کتنے عجائبات کا ذخیرہ ہے اور ایسی کسی صورت کو جو کسی عامل یعنی ماہر ہپناٹسٹ کی تخلیق کردہ ہو یا کسی سیلف ہپناٹزم کے ماہر نے خود تخلیق کی ہو، اسے کسی ماورائی جناتی صورت حال سے تشبیہ نہیں دی جاسکتی؟ یقیناً دی جاسکتی ہے اور اکثر دی جاتی ہے۔
ہمارے تجربے اور مشاہدے کے مطابق جن گرفتہ یا جن زدہ افراد کی اکثریت مالی خولیا، ہسٹیریا اور شیزوفرینیا جیسے نفسیاتی امراض کا شکار ہوتی ہے،صرف ایک فیصد کیس حقیقی طور پر جناتی ہوتے ہیں اور ان ایک فیصد میں بھی زیادہ تعداد ایسی ہوتی ہے جو ظاہر نہیں ہوتی،جنات عام طور پر انسانوں سے اپنے روابط کو خفیہ رکھنا پسند کرتے ہیں، خصوصاً جب وہ کسی کو پسند کریں یعنی عاشق ہوجائیں، باقی شریر اور ایذا پہنچانے والے جنات شدید نوعیت کی تکالیف اور پریشانیوں میں مبتلا کرتے ہیں۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ ایک حقیقی جن گرفتہ کی صورت حال کیا ہوسکتی ہے کہ ہم اسے حقیقی جنات کا کیس تسلیم کرنے پر مجبور ہوجائیں، یہ کیس ہم مرحوم جناب رئیس امروہی کے خطوط سے نقل کر رہے ہیں۔
رئیس صاحب کو اس کی اطلاع سرگودھا کے ایک ڈاکٹر مسعود چشتی نے دی تھی، وہ لکھتے ہیں۔
”ایک نوجوان لڑکی کو ہر سال ایک سانپ مقررہ تاریخ یعنی 29 اگست کو ڈستا ہے، اس سے پہلے تین چار سانپ مارے جاچکے ہیں مگر ڈسنے والے سانپ کا پتا نہیں چلتا، خط و کتابت کے بعد آپ کے مشورے سے لڑکی کو چراغوں کے سامنے بٹھایا گیا، دیے روشن کیے گئے اور جن گرفتہ مریضہ کو سرخ کپڑے پہنا کر چراغاں کے سامنے بٹھایا گیا، لڑکی سے کہا گیا کہ وہ چراغ پر پلک جھپکائے بغیر نظریں جمائے، اس کے بعد سورة جن کی تلاوت شروع کی گئی، جب سورئہ جن کی تلاوت دوسری بار کی جارہی تھی تو لڑکی پٹخنی کھاکر زمین پر گر پڑی جیسے کسی نادیدہ ہاتھ نے اسے زمین پر دے پٹکا ہے، لڑکی نے اس حیران کن حالات میں اعلان کیا کہ میرا نام ”اکبر شاہ جن“ ہے اور حضرت داتا گنج بخشؒ کے خدام میں شامل ہوں۔
 جن سے کہا گیا کہ وہ لڑکی کو پراسرار سانپ کے ڈسنے سے نجات دلادے لیکن کوئی تشفی بخش جواب نہ ملا، اب اس جن گرفتہ لڑکی کی حرکات ملاحظہ کیجیے۔پورا گھڑا جس میں چھ سات سیر پانی تھا غٹاگٹ چڑھا گئی، چائے کی چھ پیالیوں والی کیتلی کی ٹونٹی منہ سے لگاکر گرم گرم پانی پی گئی، دورے کی حالت میں مریضہ چھلانگیں لگاتی ہے، شور مچاتی ہے، اکبر شاہ جن نے جو مریضہ پر مسلط ہے ہمارے دوست محمد اقبال سے مطالبہ کیا کہ پانچ سو روپے لاو ¿، لڑکی کو بتائے بغیر ایک شخص کو بھیجا گیا کہ عامل (جن اتارنے والے) کو بلا لائے، لڑکی نے چیخ چیخ کر کہاکہ عامل کو بلانے کی ضرورت نہیں، کوئی فائدہ نہ ہوگا، وہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
 ڈاکٹر اس دورے کو ہسٹیریا کا دورہ قرار دیتے ہیں، چناں چہ ایک شخص کو چپکے سے برومائڈ(ہسٹیریا کی دوا) لانے کو کہا گیا، لڑکی بول پڑی ”میں ہسٹیریا کی مریضہ نہیں ہوں، برومائڈ سے کیا ہوگا؟ مریضہ کو بتائے بغیر چپکے سے سادہ پانی میں برومائڈ ملاکردیا گیا، لڑکی نے تھپڑ مار کر اس گلاس کو توڑ دیا کہ مجھے سادہ پانی میں برومائڈ ملاکر پلاتے ہو، تمہیں شرم نہیں آتی؟
ڈاکٹر مسعود چشتی رقم طراز ہیں کہ آپ کو ان حالات سے مطلع کیا گیا تو آپ نے ہدایت دی کہ فلاں سورئہ پانی پر دم کرکے مریضہ کو پلاو ¿، اس ہدایت پر عمل کیا گیا مگر کوئی فائدہ نہ ہوا، اس علاقے میں جتنے عامل رہتے تھے سب کو بلایا گیا اور آزمایا گیا مگر کوئی فائدہ نہ ہوا، پیر سیال شریف اور دوسرے بزرگوں نے اکبر شاہ جن پر قابو پانے کی اور اسے بھگانے کی تدبیریں کیں لیکن وہ اب تک اس لڑکی پر مسلط ہے، مریضہ اتنی کمزور ہوچکی ہے کہ پہچاننا مشکل ہے، اس کے بعد کے واقعات بے حد غم انگیز ہیں اور دردناک بھی۔
جن گرفتہ مریضہ کا گھر بالکل تباہ ہوچکا ہے، جن کے جنون میں مبتلا ہوکر اس نے چارپائیاں توڑ ڈالیں، ماں بہنوں کی زبردست بے حرمتی کی ، چھلانگ لگاکر چھت پر چڑھ گئی اور پھر چھلانگ لگاکر چارپائی پر کودی اور اسے توڑدیا، مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ یہ جن گرفتہ لڑکی جس گھر میں جاتی ہے وہاں تباہی مچ جاتی ہے، مثلاً محمد حسین دودھ والے کے گھر جانا آنا شروع کیا تو وہ ڈاکا زنی کے شبہے میں پکڑ اگیا، تلاشی پر اس کے گھر سے مال مسروقہ برآمد نہیں ہوا تاہم جیل کی ہوا کھارہا ہے، محمد حسین کی بیوی پر فالج گرگیا، منجھلے لڑکے کی ٹانگ ٹوٹ گئی، خود ڈاکٹر مسعود چشتی جنہوں نے لڑکی کے علاج معالجے میں کافی دلچسپی لی تھی، اکبر شاہ جن کی ہلاکت انگیزی سے نہ بچ سکے، ان کی صحت مند گریجویٹ بیوی وفات پاگئیں، ملکیتی مکان چھوڑنا پڑا، اب کرائے کے مکان میں سکونت ہے،پہلے کلینک خوب چل رہا تھا، اب الّوبول رہے ہیں، اکبر شاہ جن کا کہنا تھا کہ وہ جنوں کے ڈھائی لاکھ جنوں پر مشتمل قبیلے کا سردار ہے، یہ وہ قبیلہ ہے جو حضرت سید علی حجویریؒ کے دستِ مبارک پر اسلام لایا، اکبر شاہ جن کے قبیلے کے افراد خود عمل ، وظیفے اور ذکروافکار میں مشغول رہتے ہیں لہٰذا ان پر معمولی عملیات اثر انداز نہیں ہوتے“۔
یہ وہ مقام ہے جہاں عقل دنگ رہ جائے اور سائنس و میڈیکل یا نفسیات کی ساری موشگافیاں بغلیں جھانکنے لگیں، انسان کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ معاملات اور صورت احوال ماورائے عقل و شعور ہیں، اس پردئہ نگاری کے پیچھے یقیناً کوئی معشوقہءعجیبہ و نادیدہ جلوہ فرما ہے۔

ہفتہ، 4 مارچ، 2017

انسان اور جنات میں شادی بیاہ اور تعلقات کے چند نمونے


رات اچھی بھلی سوئی تھی، صبح اٹھی تو دلہن بنی ہوئی تھی
پاکستان کو اگر دنیا کے عجیب ترین ممالک میں سے ایک کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا،اس ملک اور قوم کے رنگ ڈھنگ ہی نرالے ہیں، ایک طرف پورا ملک بم دھماکوں کی گھن گھرج سے گونج رہا ہے،دہشت گردی کے خلاف ملک کی مسلح افواج اور دیگر تمام ایجنسیاں مصروف کار ہیں، ابھی حال ہی میں آپریشن ردّالفساد پنجاب میں شروع کرنے کی منظوری دی گئی ہے اور کارروائی کا آغاز بھی ہوگیا ہے،ہم دنیا بھر کو بتارہے ہیں کہ ہمارے دشمن ہمارے خلاف دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے اور کروارہے ہیں لیکن دوسری طرف لاہور میں کرکٹ کا فائنل منعقد کراکے شاید یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اس ملک میں سب کچھ ٹھیک ہے اور امن و امان کی فضا ہر طرح سے بہتر ہے،کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے؟
اس حوالے سے ایک دلیل یہ بھی دی جارہی ہے کہ ہم دشمنوں کو بتادینا چاہتے ہیں کہ وہ ہمارا کچھ نہیںبگاڑ سکتے اور ہم ان کے خوف کی وجہ سے اپنا ایک اہم پروگرام ملتوی نہیں کرسکتے،اس کمزور اور احمقانہ دلیل کا کوئی جواب نہیں ہے،دہشت گرد جب چاہتے ہیں اپنی مرضی کے اہداف مقرر کرکے بے شمار انسانی جانوں کا ضیاع کرتے ہوئے صاف بچ کر نکل جاتے ہیں اور تمام ادارے اور ایجنسیاں منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں،جس نوعیت کے انتظامات لاہور میں کیے جارہے ہیں اس کے بعد دہشت گردوں کو کیا ضرورت ہے کہ وہ لاہور کا رُخ کریں، وہ کوئی اور ٹارگٹ مقرر کرسکتے ہیں، انہیں تو کسی نہ کسی طرح ہمیں تکلیف دینا اور نقصان پہنچانا ہے،بہر حال حکومت چاہتی تھی کہ یہ فائنل لاہور ہی میں منعقد کیا جائے،خواہ اس کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے لہٰذا اب فائنل دیکھیے جس کے لیے نہایت زبردست نوعیت کے حفاظتی اقدام کیے گئے ہیں، کیا ایسے اقدام مستقل بنیادوں پر ہر شہر کے لیے کیے جاسکتے ہیں؟
دوسری طرف ہماری سیاسی جماعتیں ہیں جو ہر روز نت نئے دلچسپ تماشے دکھاتی رہتی ہیں،ایک دلچسپ صورت حال اس وقت سامنے آئی جب عرفان اللہ مروت کی پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان ہوا،فوری طور پر محترمہ کی صاحب زادیوں نے اس پر احتجاج کیا، گویا والد صاحب کی حکمت عملی سے اختلاف ، بعد ازاں یہ احتجاج کارآمد ثابت ہوا اور عرفان اللہ مروت کی پارٹی میں شمولیت کی تردید کردی گئی،اس حوالے سے سوشل میڈیا پر سب سے دلچسپ تبصرہ یہ تھا ”اگر جنرل ضیاءالحق زندہ ہوتے تو جناب آصف علی زرداری انہیں بھی پیپلز پارٹی میں شامل کرلیتے“
عزیزان من! ہم نئے سال کی پیش گوئیوں میں یہ اظہار کرچکے ہیں کہ اس سال کے آخر میں نئے الیکشن ہوسکتے ہیں،شاید زرداری صاحب بھی یہ محسوس کر رہے ہیں ، اسی لیے ابھی سے مضبوط امیدواروں کو پارٹی میں لارہے ہیں،جھنگ سے فیصل صالح حیات، کراچی سے نبیل گبول وغیرہ اس کی مثال ہیں،شاید عرفان اللہ مروت بھی ایسی ہی کسی حکمت عملی کا حصہ ہوں لیکن زرداری صاحب بڑے دانا و بینا سیاست داں ہونے کے باوجود اس حقیقت کو فراموش کردیتے ہیں کہ ساری شاطرانہ چالیں دھری رہ جاتی ہیں جب وقت خلاف ہوتا ہے اور یہ ایک زرداری صاحب پر ہی موقوف نہیں ہے،اکثر لوگ اس حقیقت کو نظراندازکرتے ہیں،زرداری صاحب نے اپنے 5 سالہ وفاقی دور اقتدار اور 8 سالہ صوبائی دور اقتدار میں جو کچھ بویا ہے، وہی انہیں کاٹنا ہے،قانون مکافات عمل اٹل ہے، اس سے مفر ممکن نہیں،اس حقیقت کو شاعر نے اس طرح بیان کیا ہے
تو منکر قانونِ مکافات عمل تھا
لے دیکھ تِرا عرصہ ءمحشر بھی یہیں ہے
گزشتہ دنوں انسان اور جنات کے باہمی روابط و تعلقات پر کچھ حقائق بیان کیے گئے تھے اور وعدہ کیا تھا کہ یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا تو آئیے اس حوالے سے گفتگو کو مزید آگے بڑھایا جائے۔
شریف جنات
ایک اور دلچسپ واقعہ قاضی جلال الدین احمد بن حسام الدین رازی سے روایت ہوا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے مشرق سے اپنے سفر کا آغاز کیا، کچھ دور چلے کہ ہم لوگوں کو بارش کی وجہ سے ایک غار میں سونا پڑا، میرے ساتھ دیگر افراد بھی تھے، ابھی میں سویا ہی تھا کہ کسی نے جگادیا، دیکھا تو وہ ایک عورت تھی جس کی ایک ہی آنکھ چہرے پر لمبائی میں موجود تھی، میں سہم گیا تو عورت نے کہا ”گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ، میں اس لیے آئی ہوں کہ تم میری حسین و خوبصورت بیٹی سے شادی کرلو“۔
میں سہما ہوا تھا ہی، میں نے کہا ”اللہ کے اختیار پر ہے“ پھر میں نے کچھ لوگوں کو آتے ہوئے دیکھا، وہ لوگ پہلی عورت سے مشابہ تھے یعنی چہرے پر صرف ایک آنکھ تھی اور وہ بھی لمبائی میں یعنی ہم انسانوں سے مختلف، ان میں قاضی اور گواہ بھی تھے، قاضی نے خطبہ ءنکاح پڑھا اور ایجاب و قبول کرایا، میں نے قبول کرلیا، وہ لوگ چلے گئے، پھر وہی عورت ایک خوب صورت لڑکی کو اپنے ہمراہ لے کر آئی اور میرے پاس چھوڑ کر چلی گئی، اس لڑکی کی آنکھ بھی اپنی ماں کی طرح تھی، میرا خوف پھر بڑھ گیا، میں نے اپنے ساتھیوں کو بے دار کرنے کے لیے پتھر پھینکنے شروع کردیے لیکن کوئی بھی اٹھنے کا نام نہ لیتا تھا، آخر کار میں اللہ سے دعا و گریہ زاری کرنے لگا اور رات گزر گئی۔
 صبح کوچ کا وقت ہوا اور ہم روانہ ہوئے تو وہ لڑکی میرے ساتھ تھی مگر میرے ساتھیوں کی نظروں سے اوجھل رہتی،انہیں نظر نہ آتی، وہ برابر تین دن میرے ساتھ رہی، چوتھے دن اس کی ماں آئی اور مجھ سے کہنے لگی ”لگتا ہے تمہیں یہ لڑکی پسند نہیں ہے، شاید تم اسے چھوڑنا چاہتے ہو؟ “
میں نے کہا ”ہاں، بخدا یہی بات ہے“۔
 اس نے کہا ”اسے طلاق دے دو“ میں نے اسے فوراً طلاق دے دی اور وہ چلی گئی، اس کے بعد میں نے ان دونوں کو کبھی نہیں دیکھا۔
یہ روایات ہم نے بہت سی روایات میں سے منتخب کی ہیں، ورنہ ایسے واقعات بہ کثرت مستند اور معتبر کتابوں میں مل جاتے ہیں جن سے باقاعدہ شادی کی رسوم ادا ہونے کا بھی پتا چلتا ہے۔
سِکھ جن
بہت پرانی بات ہے، کراچی کے علاقے لائنز ایریا میں نظامی مسجد کے پاس مولانا جان محمد صاحب (اللہ ان کی مغفرت کرے) رہا کرتے تھے، جنات کے اُتار کے کام میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے، بعض کافر جن ان کے ہاتھ پر اسلام بھی لائے، جیکب لائن اور جٹ لائن کے پرانے رہنے والے شاید اب بھی ان کے نام سے واقف ہوں، ان کے ایک شاگرد محمد یونس بھی تھے جن کا دو سال قبل 98 برس کی عمر میں انتقال ہوگیا،ہمارے محبت کرنے والوں میں سے تھے، جان محمد صاحب کے ہاتھ پر مسلمان ہونے والے ایک جن ان کے انتقال کے بعد یونس صاحب سے رابطے میں رہتے تھے، ان کا نام محمد علی آتشی تھا، محمد یونس صاحب نے اپنے استاد کا یہ واقعہ ہمیں سنایا کہ ان کے پاس ایک نہایت حسین لڑکی کو لایا گیا جو رات کو اچھی بھلی سوئی تھی، صبح اٹھی تو دلہن بنی ہوئی تھی، ہاتھ میں مہندی رچی ہوئی، زیورات سے لدی پھندی، سہاگ کا سرخ جوڑا پہنے بیٹھی تھی ، گھر والے بہت حیران و پریشان ہوئے کہ آخر یہ ماجرا کیا ہے؟لڑکی سے پوچھا گیا کہ یہ تجھے کیا ہوا ہے تو جواب ملا کہ یہ آج سے ہماری بیوی ہے، ہم نے اس سے اپنے مذہب کے مطابق شادی کرلی ہے۔
یہ جواب بظاہر لڑکی ہی نے دیا تھا یعنی آواز اس کے منہ سے نکلی جو مردانہ تھی مگر درحقیقت وہ کوئی جن تھا جو اس پر مسلط تھا، اس نے اپنا نام منگل سنگھ بتایا جس سے اس کے مذہب کا اندازہ ہوتا ہے، الغرض لڑکی کے والدین اسے علاج معالجے کی غرض سے دنیا بھر میں لے کر پھرے اور تقریباً کئی سال گزرنے کے باوجود اس جن نے لڑکی کا پیچھا نہیں چھوڑا، لڑکی ہمیشہ اسی طرح بنی سنوری دلہن کی طرح رہتی تھی، بالآخر یہ کیس جان محمد صاحب تک کسی طرح پہنچا، محمد یونس صاحب وہاں حاضر رہتے تھے لہٰذا دوران علاج جو کچھ معاملات رہتے تھے، ان سب کے چشم دید گواہ تھے، بڑے جتن کے بعد بہر حال جان محمد صاحب نے اس لڑکی کو اس جن سے نجات دلائی،بقول یونس بھائی اس لڑکی کا علاج تقریباً ایک سال تک جاری رہا، اس دوران میں جان محمد صاحب نے اُس جن کے بھائی بندوں اور رشتے داروں کو بھی بلایا اور کہا کہ اسے سمجھائیں تاکہ یہ لڑکی کا پیچھا چھوڑ دے،بہ صورت دیگر میں اس کے ساتھ کوئی سخت کارروائی کروں گا،اُس صورت میں آپ لوگ ناراض نہ ہوں لیکن وہ ضدی جن اپنے عزیزوں کی بات بھی نہ مانا اور وہ لوگ یہ کہہ کر چلے گئے کہ آپ اس کے ساتھ کچھ بھی کریں، ہم درمیان میں نہیں آئیں گے، تب جان محمد صاحب نے کوئی سخت قسم کا عمل کرکے اُسے ختم کردیا اور اس طرح لڑکی آزاد ہوگئی، ہم نے یونس بھائی سے سوال کیا کہ ختم کرنے سے کیا مراد ہے؟ کیا اُسے جان سے مار دیا؟ تو یونس بھائی بڑے سیدھے سادے اور بھولے بھالے انسان تھے،اپنے کام سے کام رکھنے والے، کہنے لگے، اب یہ تو پوچھنے کی مجھ میں ہمت نہیں تھی کہ آپ نے اس کا کیا حشر کیا ہے؟ لیکن یہ میں نے ضرور دیکھا کہ وہ ایک چھری کی مدد سے اُس لڑکی کے تمام جسم پر کوئی عمل کرتے رہے جس میں کافی وقت لگا اور اُس کے بعد وہ بے ہوش ہوگئی، جب ہوش میں آئی تو بھلی چنگی تھی۔
ملکہ سبا کی ماں
ایک دلچسپ بات ملکہ سبا جس کا نام بلقیس تھا کہ بارے میں بھی بیان کی جاتی ہے کہ اس کی ماں جنّی تھی اور ملکہ بلقیس کے پاو ¿ں کا پچھلا حصہ، یعنی ایڑھی چوپایوں کے کُھر کی طرح تھی، اس حقیقت کو جاننے کے لیے حضرت سلیمانؑ نے شیشے کا فرش بنوایا تھا جس کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے مگر اس آیت کی تفسیر میں علماءمیں اختلاف پایا جاتا ہے یعنی شیشے کے فرش کی تعمیر کے مقصد پر ، البتہ اس کی ماں کے جنّی ہونے کو بعض مفسر تسلیم کرتے ہیں۔
بہر حال یہ حقیقت ثابت ہے کہ جنات اور انسانوں کے درمیان عام اور خاص دونوں طرح کے روابط و تعلقات ممکن ہیں اور اس حوالے سے بے شمار واقعات کتابوں میں بھی موجود ہیں اور تجربے و مشاہدے میں بھی آئے ہیں۔
عاشق جنّی
ہمارے ایک واقف نے ایک بار ہمیں بتایا کہ اس کے ایک جنّی سے ایسے تعلقات ہیں جیسے میاں بیوی کے درمیان ہوتے ہیں، وہ موصوف نہایت ٹھاٹ باٹ کی زندگی بسر کرتے تھے، ہم نے انہیں کبھی کوئی کام دھندا کرتے نہیں دیکھا، ہر قسم کا جوا اور ریس کھیلنا ان کا مشغلہ تھا، اکثر جیت انہی کی ہوتی، جب کبھی ہار جاتے تو بہت بری طرح ہارتے اور پائی پائی کو محتاج ہوجاتے، ایسی حالت میں اکثر اپنی آشنا جنّی کو مستقل گالیاں بکتے رہتے کہ اس نے دھوکا دیا ہے، ہم پوچھ لیتے کہ اس نے دھوکا کیوں دیا تو جواب دیتے آج کل میرا اس سے جھگڑا چل رہا ہے۔
جھگڑے کی وجہ کبھی نہ بتاتے، ہم سے ان کے مراسم کی وجہ ہمارا اور ان کا مشترکہ شوق یعنی مچھلی کا شکار تھا، یہ ہماری نوجوانی کا زمانہ تھا، اس وقت ایسے معاملات کی بہت زیادہ سمجھ بھی نہ تھی، بعد میں وہ ملک سے باہر چلے گئے تو ان کی کوئی خیر خبر برسوں نہ مل سکی، 1981 ءمیں ہمیں ان کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ کراچی میں ہی ہیں، ان کے اور ہمارے ایک مشترکہ دوست نے خبر دی اور ہمیں ان سے ملانے لے گئے، برسوں بعد ہم نے انہیں جس حالت میں دیکھا وہ قابل عبرت اور نہایت افسوس ناک تھی، اپنے وقت کا جوان رعنا تقریباً ساٹھ ستر برس کا نحیف و نزار بوڑھا نظر آتا تھا، حالاں کہ ہمارے حساب سے اس وقت وہ صرف تیس سال کے تھے، یہ بھی معلوم ہوا کہ خون کے کینسر میں مبتلا ہیں اور یہ عارضہ انہیں اپنے سعودیہ میں قیام کے دوران ہوا، ہم نے بے تکلفی سے ان کی دوست جنّی کے بارے میں پوچھا تو سخت بے زاری کا اظہار کیا اور صرف اتنا کہا کہ اسی کی وجہ سے تو اس حال کو پہنچا ہوں، زیادہ تفصیلات بتانے سے گریز کیا لیکن اب ہمیں بھی مزید کچھ پوچھنے کی ضرورت نہ تھی، ساری بات ہماری سمجھ میں آچکی تھی، اسی سال ان کا انتقال ہوگیا۔
خفیہ تعلقات
ایک اور ذاتی واقعہ بھی بیان کرتے چلیں، یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہمارا اٹھنا بیٹھنا محمد یونس صاحب کے ساتھ زیادہ تھا، وہ بھی اپنے استاد جان محمد صاحب کی طرح جنات کے اتار کا کام فی سبیل اللہ کرتے تھے اور ان دنوں وہ ہم سے علم جفر کے رموز و نکات سیکھنے کے لیے بضد رہتے، ہم یہاں یہ بھی وضاحت کردیں کہ یونس صاحب عمر میں ہم سے بہت بڑے تھے،وہ ”محمد یونس برتن والے“ مشہور تھے کیوں کہ رزق حلال کے لیے وہ زندگی بھر ٹھیلے پر سلور کے برتن بیچا کرتے تھے۔
اسی زمانے میں ایک عورت یونس صاحب کی معرفت ہمارے پاس آئی کہ یونس صاحب نے اس کی مدد کرنے سے انکار کرکے اسے ہمارے پیچھے لگادیا تھا، ہم نے اس سے پوچھا کہ مسئلہ کیا ہے تو اس نے عجیب بات بتائی جو اس سے پہلے کسی نے ہم سے نہیں کہی تھی، اس کا کہنا تھا کہ وہ ایک جن سے مراسم رکھتی ہے یا یوں کہ ایک جن اس سے مراسم رکھتا ہے لیکن اب وہ ناراض ہوگیا ہے، اس نے آنا جانا چھوڑ دیا ہے، ہم نے کہا کہ چلو یہ تو اچھی بات ہے کہ خود بخود تمہارا پیچھا چھوٹ گیا تو وہ جواباً بولی کہ نہیں یہ اچھی بات نہیں ہے، اس کے ناراض ہونے کے بعد سے ہمارے حالات بہت خراب ہوگئے ہیں، شوہر کا کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے، گھر میں بچے بیمار رہنے لگے ہیں اور اب تو نوبت فاقوں تک آگئی ہے، خدا کے لیے کچھ بھی کیجیے مگر کسی طرح اسے واپس آنے پر مجبور کردیجیے۔
یہ سب سن کر ہم نے اس سے مزید تفتیشی سوالات کیے تو ہمارے شبہے کی تصدیق ہوگئی، اس عورت کے اُس جن سے ناجائز تعلقات تھے، حالاں کہ اس معاملے میں وہ صرف اتنی ہی قصور وار تھی کہ اس نے یہ تعلق جو زبردستی قائم ہوا تھا، برقرار رکھا اور اپنے علاج معالجے کی طرف توجہ نہ دی نہ ہی کسی کو ہمراز بنایا، اس کا کہنا تھا کہ وہ ڈرتی تھی کہ اس نے کوئی بھی ایسا قدم اٹھایا تو سخت نقصان پہنچ سکتا ہے جب کہ خاموشی اور رضا مندی کی صورت میں گھریلو اور معاشی حالات بہتر ہونا شروع ہوگئے تھے، شوہر کا کاروبار ترقی کر رہا تھا، شوہر شرابی بھی تھا اور اسے مارتا پیٹتا تھا، اب یہ ہوا کہ اس نے شراب تو نہ چھوڑی البتہ مار پیٹ سے یوں توبہ کی کہ اب وہ جب بھی شراب کے نشے میں دھت ہوکر دست درازی کرتا، الٹا بیوی کے ہاتھوں پٹتا اور ایسا کہ پھر کئی دن بستر پر پڑا رہتا،ہم نے پوچھا کہ تم اتنی حوصلہ مند اور طاقت ور کیسے ہوجاتی ہو کہ اُس کی بری طرح پٹائی کردیتی ہو؟ تو وہ بولی” مجھے نہیں معلوم کہ یہ کیسے ہوتا ہے بلکہ مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ میں نے اُسے مارا ہے، بعد میں اُس کی بری حالت دیکھ کر یقین کرنا پڑتا ہے“
 جن کی ناراضی کی وجہ یہ ہوئی کہ شوہر کو اس راز سے ایک دن اس نے آگاہ کردیا کہ تمہاری خوش حالی میری وجہ سے ممکن ہوئی اور تمہارے غلط رویے اور مار پیٹ کے نتیجے میں تمہاری پٹائی بھی میری وجہ سے ہوتی ہے، تمام صورت حال جان کر شوہر الگ برہم ہوا اور جن صاحب بھی راز فاش کرنے کی وجہ سے ناراض ہوگئے۔انہوں نے اقرار کرلیا کہ ان کے اور جن کے درمیان میاں بیوی والا خاص تعلق تھا اور وہ اس طرح کہ اچانک ہی انہیں محسوس ہوتا تھا کہ وہ کسی بھاری بوجھ سے دب گئی ہے اور حرکت بھی نہیں کرسکتیں، پھر اس کے بقول ان کے سارے احساسات وہی ہوتے تھے جو شوہر کے ساتھ وہ محسوس کرتی تھیں، ہم نے جن کی واپسی کے سلسلے میں تو کوئی مدد نہیں کی کیوں کہ ہمیں اندازہ تھا کہ وہ کہیں نہیں گیا؟ صرف شرارت پر آمادہ ہے، البتہ انہیں بتائے بغیر ایسا بندوبست کردیا کہ ان کی اس سے مستقبل جان چھوٹ جائے۔

ہفتہ، 25 فروری، 2017

ہر ایک نقش باعثِ عبرت ہے شہر میں

مارچ کی فلکیاتی صورت حال،اہم فیصلوں اور اقدام کا مہینہ
فروری دھماکوں کا مہینہ تھا،یکے بعد دیگر مختلف شہروں میں دہشت گردی کے واقعات ہوئے،خاص طور پر سیہون میں جس طرح قتل و غارت گری کے علاوہ حضرت لعل شہباز قلندرؒ کے مزار کی بے حرمتی کی گئی، وہ نہایت قابل مذمت ہے، قابل مذمت کیا نہیں ہے، حقیقت یہ ہے کہ اس ملک میں جو کچھ بھی ہورہا ہے اس کی مذمت کرتے کرتے اب زبان بھی تھک چکی ہے،دہشت گردی کے واقعات تو ملک و قوم کے دشمنوں کی کارروائی ہےں لیکن جو اس ملک اور قوم سے دوستی اور وفاداری کا دم بھرتے ہیں ، وہ کیا کر رہے ہیں؟اہل سیاست کا کردار کیا ہے؟ملک کے اہم ادارے کس طرح اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں؟ قصہ مختصر یہ کہ ملک کا تمام منظر نامہ اس قدر پیچیدہ اور غیر اطمینان بخش ہوچکا ہے کہ بیان سے باہر ہے 
کس کس کو دیکھیے گا، اب آنکھوں میں دم نہیں
ہر ایک نقش باعثِ عبرت ہے شہر میں
اب ہم نئے سال کے تیسرے مہینے میں قدم رکھ رہے ہیں،مجموعی طور پر آسمانی قونصل یعنی گردش سیارگان مارچ میں بھی خوش کن نظر نہیں آتی،منحوس راہو ،کیتو اپنی ساکت پوزیشن پر ہیں،یہی صورت مشتری کی ہے اور زحل بھی کمزوری کی حالت میں ہے،عطارد ہبوط زدہ اور غروب ہے،سیارگان کی اکثریت کا یہ حال ہو تو اس نئے مہینے سے بھی زیادہ بہتر توقعات وابستہ کرنا عبث ہوگا۔
موجودہ حکومت اور خصوصاً جناب وزیراعظم نواز شریف کے لیے اس سال کا ہر گزرتا دن نت نئے چیلنج سامنے لارہا ہے،پانامہ کیس کے باعث جو داغ ان کے دامن پر لگے ہیں، انہیں دیکھتے ہوئے لوگ جناب آصف زرداری کو بھول گئے ہیں، دو بزنس مائنڈڈ سیاست دانوں نے سیاسی کاروبار کو وہ رنگ و روپ عطا کیا ہے کہ ہر شخص اب یہی کاروبار کرنے کا متمنی ہے،دونوں کی دولت کے چرچے عام ہیں،وزیراعظم نواز شریف صاحب چوں کہ اقتدار میں ہیں اور ماضی میں بھی دو بار وزیراعظم رہے ہیں لہٰذا ان کی بے پناہ دولت کے بارے میں سوالات پیدا ہونا ایک فطری سی بات ہے،ہم نے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ اپنے زائچہ ءحلف کے مطابق وہ ایک بدترین دور سے گزر رہے ہیں جس کا آغاز 13 اگست 2014 ءسے ہوا تھا اور اختتام 13 اکتوبر 2018ءکو ہوگا،اگر ہم غور کریں تو یہ تمام عرصہ ان کے لیے نت نئی مشکلات اور چیلنجز لایا ہے اور اس سال بھی رفتہ رفتہ وہ مزید خطرات کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
پاکستان کے زائچے کے مطابق مارچ کے مہینے میں موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سخت اقدام دیکھنے میں آئیں گے جیسا کہ ابھی سے نظر آرہا ہے کہ اب پنجاب میں بھی فوجی آپریشن شروع کیا جارہا ہے،فوجی عدالتوں کے قیام کا معاملہ بھی جلد طے ہوجائے گا،لبرل سیاسی محاذ اور خصوصاً پیپلز پارٹی اس حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کر رہی ہے،وہ چاہتے ہیں کہ صرف مذہبی دہشت گردی کے کیس فوجی عدالتوں میں چلائے جائیں،کرپشن کے معاملات کو عام عدالتوں تک محدود رکھا جائے لیکن اس مہینے میں سیارگان کے نظرات یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ فوجی عدالتوں کے اختیارات محدود نہیں ہوں گے،اسی طرح ایسے قوانین بھی سامنے آسکتے ہیں جن کے ذریعے کرپشن اور دیگر بدعنوانیوں کی روک تھام کی جاسکے،یہ طے ہے کہ مارچ کے مہینے میں اہم فیصلے اور اقدام سامنے آئیں گے۔
مارچ کے ستارے
سیارہ شمس برج حوت میں حرکت کر رہا ہے،20 مارچ کو برج حمل میں داخل ہوگا،اس طرح اپنی سالانہ گردش مکمل کرکے ایک نئی گردش کا آغاز کرے گا جو آئندہ سال 19 مارچ تک جاری رہے گی،ہر سال گردشِ شب و روز اور موسموں کی تبدیلی سورج یعنی سیارہ شمس کی اسی گردش کا نتیجہ ہے۔
پیغام رساں سیارہ عطارد بھی برج حوت میں حرکت کر رہا ہے،یہاں اسے ہبوط یعنی انتہائی کمزوری کا سامنا ہوتا ہے،سونے پر سہاگا یہ کہ سیارہ شمس سے قربت کے سبب غروب بھی ہے،گویا اس دوران میں عطارد کی اپنی قوت و کارکردگی کچھ نہیں ہے،14 مارچ کو برج حمل میں داخل ہوگا، ہبوط کی پوزیشن سے نکل جائے گا لیکن بدستور اور غروب رہے گا،22 مارچ کو طلوع ہوگا۔
سیارہ زہرہ گزشتہ ماہ سے برج حمل میں حرکت کر رہا ہے،4 مارچ کو اسی برج میں اسے رجعت ہوگی جو 15 اپریل تک جاری رہے گی،گویا زہرہ ایک ہی برج میں خلاف دستور تقریباً 3 ماہ قیام کرے گا،دستور کے مطابق ایک برج میں زہرہ کا قیام تقریباً ایک ماہ یا اس سے کم ہوتا ہے،کسی ایک ہی برج میں کسی سیارے کا اپنی روایت کے خلاف طویل قیام غیر معمولی خیال کیا جاتا ہے،اس کے مثبت یا منفی اثرات ہر شخص پر اس کے اپنے انفرادی زائچے کے مطابق ہوتے ہیں۔
توانائی کا سیارہ مریخ اپنے ذاتی برج حمل میں حرکت کر رہا ہے،10مارچ کو برج ثور میں داخل ہوگااور پورا مہینہ یہیں رہے گا،سیارہ مشتری بحالت رجعت برج میزان میں پورا ماہ حرکت کرے گا،سیارہ زحل برج قوس میں، یورینس حمل، نیپچون حوت اور پلوٹو برج جدی میں حرکت کر رہے ہیں،راس و ذنب بالترتیب برج سنبلہ اور حوت میں ہیں اور مارچ تک اسٹیشنری پوزیشن پر رہیں گے،یہ پوزیشن کسی سیارے کے لیے زیادہ مو ¿ثر یعنی اثر انداز ہونے والی ہوتی ہے۔
نظرات و اثراتِ سیارگان
مارچ میں اہم سیارگان کے درمیان قائم ہونے والے زاویوں میں 5 قرانات اور 2 تثلیثات ہوں گی جب کہ 3 تسدیسات3 تربیعات اور 2 مقابلے ہوں گے،اس اعتبار سے یہ ایک نہایت اہم اور تمام معاملات میں تیزی لانے والا مہینہ ہوگا جس میں خاصی تیز رفتاری سے اہم اقدام اور فیصلے دیکھنے میں آئیں گے،مارچ کے مہینے میں قائم ہونے والے زاویوں کی تفصیل درج ذیل ہے۔
2 مارچ: شمس اور نیپچون کے درمیان قران کا زاویہ نحس اثر رکھتا ہے،خاص طور پر صاحب حیثیت اور عہدہ دار افراد کے لیے یہ نظر نقصان دہ ہوسکتی ہے،انہیں تنزلی یا کسی اسکینڈل کا سامنا ہوسکتا ہے،عام افراد اس نظر کے زیر اثر کارِسرکار میں کسی پریشانی یا پیچیدگی کا شکار ہوسکتے ہیں،انہیں غیر قانونی معاملات سے دور رہنا چاہیے، صاحب حیثیت و عہدہ افراد سے تعاون اور مدد کی امید نہیں رکھنا چاہیے،وہ اپنے ہی مسائل میں مبتلا ہوں گے۔
3 مارچ: مشتری اور یورینس کے درمیان مقابلے کی نظر عدلیہ ، مقننہ، بینکنگ، انشورنس اور اسٹاک مارکیٹ کے معاملات میں غیر معمولی اور چونکا دینے والی خبریں لاتی ہے لہٰذا پاکستان میں عدلیہ ، مقننہ اور دیگر شعبوں کے حوالے سے متنازع صورت حال پیدا ہوسکتی ہے،آئین و قانون میں اختلافی نظریات زیر بحث آسکتے ہیں،بینکنگ انشورنس اور اسٹاک مارکیٹ کے معاملات بھی ہدف تنقید بن سکتے ہیں اور بعض امور میں تبدیلی کی سفارش کی جائے گی،عام لوگوں کو اس دوران میں کسی نئی انویسٹمنٹ یا مالی امور میں کوئی رسک لینے سے گریز کرنا چاہیے،کسی مقدمے کا فیصلہ توقع کے خلاف آسکتا ہے۔
6 مارچ: مریخ اور زحل کے درمیان تثلیث کا زاویہ ایک سعد نظر ہے جو مثبت ترقیاتی کاموں میں مددگار ہوگی،خصوصاً ارضیاتی اور معدنیاتی امورمیں مثبت تبدیلیوں کی راہ ہموار ہوگی،نئی سڑکیں، پُل اور تعمیراتی منصوبے تیزی سے آگے بڑھیں گے،عام افراد کے لیے زمین یا مشینری میں انویسٹمنٹ کرنا اس وقت فائدہ بخش ہوسکتا ہے۔
7 مارچ: شمس اور عطارد کا قران ایک ناموافق وقت ہے،عطارد سے متعلق کام اور معاملات متاثر ہوں گے،سفر ، ضروری معلومات کا حصول،انٹرنیٹ اور دیگر ذرائع ابلاغ، ٹرانسپورٹیشن سے متعلق کام اس دوران میں تاخیر،ا لتوا یا کسی خرابی کا شکار ہوسکتے ہیں،عام لوگوں پر اس نظر کے اثرات ان کے انفرادی زائچے کے مطابق ہوں گے جو مثبت بھی ہوسکتے ہیں اور منفی بھی۔
8 مارچ: عطارد اور پلوٹو کے درمیان تسدیس ایک بے کار نظر ہے کیوں کہ عطارد کی پوزیشن بہتر نہیں ہے،اس نظر سے منفی رجحانات فروغ پاتے ہیں،لوگ شارٹ کٹ کے چکر میں نقصان اٹھاسکتے ہیں،جرائم کی شرح بڑھ سکتی ہے،عام آدمی کو بھی منفی خیالات سے بچنے کی ضرورت ہوگی۔
9 مارچ: شمس اور پلوٹو کے درمیان تسدیس کا زاویہ ایک سعد نظر ہے لیکن کسی جارحانہ اظہار کے لیے مناسب ہے،اس وقت میں طاقت اور اثرورسوخ کے ذریعے کامیابی حاصل ہوسکتی ہے۔
12 مارچ: عطارد اور زحل کے درمیان تربیع کا نحس زاویہ ہوگا، یہ وقت سفر میں التوا اور سفر سے متعلق امور میں پریشانیاں لاسکتا ہے،قابل بھروسا معلومات کا حصول مشکل ہوگا،خصوصاً پراپرٹی کے معاملات میں محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی،کوئی غلط اور نامناسب سودا ہوسکتا ہے،دستاویزی نوعیت کی غلطیاں سامنے آسکتی ہیں لہٰذا اہم دستاویزات پر دستخط کرنے سے پہلے اچھی طرح اطمینان کرلیں کہ آپ کوئی غلط فیصلہ تو نہیں کر رہے۔
18 مارچ: شمس اور زحل کے درمیان تربیع کی نظر نہایت منحوس اثر رکھتی ہے،اس وقت میں صاحب حیثیت و مرتبہ افراد غلطیاں کرتے ہیں،وہ ذاتی حرص و ہوس کا شکار ہوتے ہیں،اختیارات کا ناجائز استعمال دیکھنے میں آتا ہے،عام افراد کو اس دوران میں افسران بالا اور حکام سے دور رہنا چاہیے کیوں کہ وہ فائدہ پہنچانے کے بجائے آپ کو استعمال کرسکتے ہیں،یہ وقت بھی پراپرٹی سے متعلق کاموں میں احتیاط کا ہے،کوئی خریدوفروخت کرتے ہوئے دستاویزات کو اچھی طرح چیک کرلیں۔
اسی تاریخ کو عطارد اور زہرہ کا قران اگرچہ ایک سعد نظر ہے لیکن کمزور ہے،کسی حد تک مثبت اثر دے سکتی ہے،دوسروں سے تعلقات کو بہتر بنانے اور بات چیت کے ذریعے مقاصد کے حصول میں مددگار ہوسکتی ہے، اگر آپ ہوشیاری اور چالاکی کا مظاہرہ کریں ورنہ دوسرے آپ سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں یا آپ کو نقصان پہنچاسکتے ہیں۔
24 مارچ: عطارد اور پلوٹو کے درمیان تربیع کی نظر نحس اثر رکھتی ہے،یہ ایکسیڈنٹ اور دیگر ذرائع نقل و حمل کے ذریعے نقصانات ظاہر کرتی ہے،دوسروں سے گفت و شنید اور بات چیت میں گرما گرمی کی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے،اس وقت ٹھنڈے دل و دماغ سے اور عقل و دانش سے کام لینے کی ضرورت ہوگی۔
اسی تاریخ کو عطارد اور مشتری کے درمیان مقابلے کی نظر نحس ہے اور سونے پر سہاگا ہے،یہ نظر ترقیاتی امور میں رکاوٹ، مالی معاملات میں ذہنی الجھن اور فکر مندی لاتی ہے، اسٹاک مارکیٹ میں غیر معمولی منفی یا مثبت صورت حال ایک فریبِ نظر کی طرح سامنے آسکتی ہے۔
25 مارچ: شمس اور زہرہ کا قران بھی ایک نحس نظر ہے،زہرہ کا غروب اور تحت الشاع ہونا اسے کمزور کرتا ہے جس کی وجہ سے اس عرصے میں دوسروں سے تعلقات میں دشواری اور اکثر امور میں توازن اور ہم آہنگی کا برقرار رہنا مشکل ہوجاتا ہے،یہ وقت محبت، دوستی، منگنی یا نکاح وغیرہ کے لیے نہایت ناموزوں ہوگا۔
26 مارچ: عطارد اور یورینس کے درمیان قران کا زاویہ نئے انکشافات اور نئی معلومات کا باعث ہوگا، یہ انکشافات اور معلومات غیر متوقع اور چونکا دینے والے ہوسکتے ہیں،عام افراد کے لیے یہ ایک بے چینی اور اضطراب لانے والا وقت ہوگا جس کے زیر اثر ہم فوری طور پر غلط یا صحیح فیصلے بھی کرسکتے ہیں،عام طور پر جذبات اور خواہشات کے زیر اثر کیے گئے فیصلے اس وقت غلط ثابت ہوتے ہیں،کسی کام یا مسئلے میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں لانے سے پہلے بھی اچھی طرح سوچنا سمجھنا ضروری ہوگا۔
27 مارچ: مریخ اور نیپچون کے درمیان تسدیس کا زاویہ اگرچہ سعد ہے لیکن مریخ اور نیپچون کے نظرات سعد بھی ہوں تو مثبت نہیں ہوتے،یہ وقت شدت پسندانہ رجحانات لاتا ہے،انسان کسی انتہا پسندی کا شکار ہوسکتاہے،پُراسرار نوعیت کی سرگرمیاں اور دلچسپیاں سامنے آتی ہیں لہٰذا محتاط ہوکر کوئی قدم اٹھانا چاہیے۔
29 مارچ: عطارد اور زحل کے درمیان تسدیس کا سعد زاویہ پراپرٹی اور دستاویزی نوعیت کی سرگرمیوں کے لیے نہایت موافق ثابت ہوگا،اس دوران میں سفر اور ضروری معلومات کا حصول بہتر رہے گا،یہ وقت علاج معالجے میں بھی معاون و مددگار ہے،طویل المیعاد منصوبہ بندی یا کوئی پروجیکٹ شروع کرنے کے لیے بہترین وقت ہوگا۔
شرف قمر
پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق اس ماہ قمر 2 مارچ کو شام 04:04 pm پر درجہ ءشرف پر آئے گا اور 05:45 pm تک قمر شرف یافتہ ہوگا،یہ سعد وقت ہر ماہ ہمیں دستیاب ہوتا ہے،اس وقت میں اپنی جائز ضروریات کے لیے اسمائے الٰہی یا رحمن یا رحیم 556 مرتبہ، اول آخر گیارہ بار درود شریف کے ساتھ پڑھ کر اللہ سے عاجزی و انکساری کے ساتھ دعا کریں،انشاءاللہ ہر جائز مراد پوری ہوگی۔
قمر در عقرب
پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق قمر اپنے درجہ ءہبوط پر برج عقرب میں 16 مارچ کو رات 12:06 am سے 01:41 am تک رہے گا،یہ نہایت منحوس وقت تصور کیا جاتا ہے اور اس وقت برے کاموں سے روکنے اور بیماریوں کا علاج کرنے کے لیے اہم عملیات کیے جاتے ہیں،دشمن کی زبان بندی تاکہ کبھی خلاف نہ بولے اس وقت پر کی جاسکتی ہے،اس کے لیے ایک نادر، مجرب اور نہایت سخت عمل اس بار پیش کیا جارہا ہے لیکن ہر گزناجائز طور پر نہ کریں ورنہ خود نقصان اٹھائیں گے۔
درج ذیل نقش خاکی چال سے اس وقت میں کسی کاغذ پر کالی یا نیلی روشنائی سے لکھ کر تعویذ بنالیں اور اسے موم جامہ یا پلاسٹک کوٹڈ کرلیں،بکرے کی سری یعنی سر پہلے سے لاکر رکھیں، نقش کو بکرے کے منہ میں رکھ دیں اور سوئی دھاگا لے کر اس کا منہ سی دیں یعنی اس طرح سلائی کردیں کہ اس کا منہ بند ہوجائے، نقش کے نیچے اس شخص کا نام مع والدہ اس طرح لکھیں ”عقداللسان فلاں بن فلاں ابداً فی الحق فلاں بن فلاں“ ، ابتدا میں اس کا نام مع والدہ لکھیں جس کی زبان بندی کرنی ہو،بعد میں اپنا نام مع والدہ لکھیں۔
اب بکرے کی سری کو سمندر یا کسی نہر، تالاب وغیرہ کے کنارے یا کسی قبرستان میں دفن کردیں، دفن کرنے کے بعد پلٹ کر نہ دیکھیں، واپس گھر آکر غسل کریں اور حسب توفیق صدقہ و خیرات کریں، انشاءاللہ وہ شخص کبھی آپ کے خلاف زبان نہیں کھولے گا،نقش یہ ہے۔
نقش بھرتے ہوئے نقش کی چال کا خیال رکھیں،چال کی ابتدا 297 سے ہوگی،اس کے بعد ترتیب وار 298,299,300,301,302,303,304 اور آخری خانے میں 305 لکھیں گے تو نقش چال کے مطابق مکمل ہوجائے گا، آخر میں ایک بار پھر سخت تاکید ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراضگی اور غصہ نہ کریں، کسی بہت ہی بڑے کمینے اور مخالف کے لیے یہ عمل کریں جس نے آپ کی زندگی عذاب بنادی ہو اور آپ کو سخت نقصانات پہنچارہا ہو،اُس وقت رجال الغیب شمال کی سمت ہوں گے لہٰذا جنوب کی طرف رُخ کرکے بیٹھیں۔آئیے اپنے سوالات اور ان کے جوابات کی طرف: 
جڑواں مسائل
ن،س، کراچی سے لکھتی ہیں ”ہم جڑواں بہنیں ہیں، زائچہ دیکھ کر بتائیں کہ اب تک کچھ نہ کرسکے،تعلیم بہت اچھی حاصل کی لیکن کچھ نہ بن سکے،کوئی کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ناکام رہتے ہیں،زہرہ، مریخ، مشتری ، عطارد، راہو، کیتو، قمر، ان میں سے کیا متاثر ہے جس سے زائچہ کمزور ہے، ریمیڈی بتائیں؟کیا کرنا ہے، طالع اور قمر بتائیں؟، کیا پروفیشن اختیار کروں، ماسٹر کیا ہوا ہے، سب سے اہم یہ کہ اب تک شادی بھی نہیں ہوسکی جس کی وجہ بھی بتائیں، حل بتائیں کیا کریں، لوح مشتری ہے میرے پاس، ہانڈی والا عمل بھی کیا ہے،جمعرات کو مشتری کا صدقہ بھی دیتے ہیں، پلیز میرے خط کا جواب ضرور دیں“
جواب: سب سے پہلی بات تو یہ کہ جڑواں بچوں کے زائچے بنانا کوئی آسان کام نہیں ہے،آسان تو خیر عام زائچے بنانا بھی نہیں ہے کیوں کہ اکثر لوگوں کا پیدائش کا وقت درست نہیں ہوتا،دو چار منٹ یا دس پندرہ منٹ اور کبھی کبھی اس سے بھی زیادہ فرق ہوتا ہے،اسپتالوں سے ملنے والے برتھ سرٹیفکیٹ میں بھی وقت کی درستگی مشکوک ہوتی ہے،ایسی صورت میں ایک اچھا اور ماہر ایسٹرولوجسٹ اُس کمی بیشی کو ایڈجسٹ کرسکتا ہے بشرط یہ کہ صاحب زائچہ اس کے سامنے ہو یا اس سے کسی نہ کسی طور رابطے میں ہو تاکہ وہ اس کے قد قامت، چہرے کی ساخت وغیرہ سے درست طالع پیدائش اور طالع پیدائش کے درجات مقرر کرسکے،ہمارے ہاں علم نجوم کے حوالے سے اس قدر احتیاط اور باریک بینی عام طور پر مدنظر نہیں رکھی جاتی لہٰذا اکثر لوگوں کے زائچے غلط بن جاتے ہیں،پیدائش کا درست وقت وہ ہے جب انسان دنیا میں پہلی سانس لیتا ہے،یہ وہی وقت ہوتا ہے جب بچہ رونا شروع کرتا ہے،اسپتالوں میں نوٹ کیا گیا وقت ضروری نہیں ہے کہ اس کے مطابق ہو۔
مزید باریک بینی کی ضرورت جڑواں بچوں کے زائچے میں پیش آتی ہے کیوں کہ دونوں کی پیدائش کے درمیان کچھ نہ کچھ وقفہ ضرور ہوتا ہے،یہی وقفہ ایک ہی وقت پر اور ایک ہی تاریخ کو پیدا ہونے والے افراد کے درمیان نمایاں فرق اور زندگی میں پیش آنے والے اچھے برے واقعات میں بھی فرق ڈالتا ہے،اب آپ نے دونوں کے درمیان پانچ منٹ کا فرق ظاہر کیا ہے لیکن یہ نہیں معلوم کہ آپ دونوں میں سے پہلے کون پیدا ہوئی اور بعد میں کون ؟بعد میں پیدا ہونے والی کے مسائل آپ سے زیادہ ہیں۔
اس وقت کے مطابق دونوں کا طالع پیدائش برج قوس ہے،اگر آپ کی پیدائش کا وقت یعنی پہلی سانس لینے کا وقت اس سے پہلے یا کچھ بعد میں ہے اور دوسری بہن کا جو یقیناً بعد میں ہے تو بھی دونوں کا طالع پیدائش ایک ہی رہے گا یعنی برج قوس اور حاکم سیارہ مشتری جو زائچے میں کمزور اور خراب جگہ واقع ہےں لیکن چند منٹ کے فرق سے طالع کے درجات تبدیل ہوجائیں گے اور یہ چیز بھی نتائج میں فرق کا باعث ہوگی۔
آپ کا اور آپ کی بہن کا قمری برج عقرب ہے جو قمر کا بدترین برج ہے،مزید خرابی یہ ہے کہ نوبہرہ زائچے میں بھی قمر عقرب ہی میں ہے،قمر آپ کے زائچے میں شادی یعنی نکاح سے متعلق ہے اور شادی نہ ہونے کا سب سے بڑا سبب یہی ہے کہ قمر بدترین پوزیشن میں ہے،شادی سے متعلق دیگر سیارگان میں مشتری ہے جو آپ کا اپنا ستارہ بھی ہے اور شوہر کی نمائندگی کرتا ہے،یہ زائچے کے چھٹے گھر میں ہے جس کی وجہ سے آپ کے مزاج میں تیزی ، صحت کی خرابیاں، اختلاف رائے کی عادت، دوسرے معنوں میں جھگڑالو طبیعت ظاہر ہوتی ہے۔
بلاشبہ آپ دونوں بہنوں کا زائچہ نہایت دلچسپ اور قابل غور ہے،دل چاہتا ہے کہ اس زائچے کا نہایت تفصیل کے ساتھ تجزیہ کیا جائے لیکن ظاہر ہے یہ کالم اتنے تفصیلی تجزیے کا متحمل نہیں ہوسکتا، البتہ اپنی کسی کتاب میں مثالی زائچے کے طور پر یہ کام کیا جائے گا،فی الحال آپ کی فرمائش کے مطابق ضروری سوالات کے جواب دیے جارہے ہیں۔
پہلا گھر قوس اور اس کا حاکم مشتری آپ کی ذات اور شخصیت کی نمائندگی کرتا ہے، مشتری جیسا کہ پہلے بتایا، چھٹے گھر میں ہونے کی وجہ سے خراب جگہ واقع ہے جس کی وجہ سے شخصیت میں منفی طرز فکر پیدا ہوتا ہے،زائچے کا دوسرا اہم سیارہ زحل ہے جو تیسرے گھر پر حکمران ہے، تیسرا گھر پہل کاری، چھوٹے بہن بھائی، کوشش، اقدام اور جدوجہد کو ظاہر کرتا ہے،اس کا حاکم زحل بھی زائچے کے آٹھویں گھر میں کمزور ہے،پانچواں گھر جسے شعور ، خوشیاں، خوش بختی،محبت وغیرہ کے معاملات سے منسوب کیا گیا ہے، اس کا حاکم سیارہ مریخ ہے،یہ بھی کمزور ہے،شادی کے حوالے سے خصوصاً نکاح کے بندھن کا گھر آٹھواں ہے، اس کا حاکم قمر ہے جو زائچے کا فعلی منحوس بھی ہے، یہ بارھویں گھر میں برج عقرب میں ہے اور جیسا کہ پہلے بتایا کہ نوامسا چارٹ میں بھی برج عقرب میں ہے لہٰذا شادی اور ازدواجی زندگی کے لیے بندش ہے،زائچے کا نواں گھر جسے بھاگیہ استھان کہا جاتا ہے،مذہب، آئین و قانون،مستقبل کی منصوبہ بندی اور اعلیٰ تعلیم سے منسوب کیا گیا ہے،زائچے کا واحد طاقت ور اور مضبوط گھر ہے کیوں کہ اس کا حاکم سیارہ شمس چوتھے گھر میں ایک طاقت ور پوزیشن رکھتا ہے،کرئر اور اسٹیٹس یا پروفیشن دسویں گھر سے متعلق ہے،ا س کا حاکم عطارد ہے،یہ بھی اگرچہ پانچویں گھر میں ہے لیکن بہت مضبوط اور طاقت ور نہیں ہے،گیارھویں گھر کا حاکم سیارہ زہرہ ہے،گیارھواں گھر کاروباری اور زندگی میں دیگر فوائد سے متعلق ہے،دوست احباب کا گھر بھی یہی ہے اور عورت یا مرد کے زائچے میں شادی اور ازدواجی زندگی کی خوشیاں بھی سیارہ زہرہ سے متعلق ہےں،زہرہ زائچے کے چوتھے گھر میں سیارہ شمس سے قریبی قران کی وجہ سے تحت الشعاع (combust) پوزیشن میں ہونے کی وجہ سے اپنی قوت کھو بیٹھا ہے،حالاں کہ وہ اپنے شرف کے گھر میں ہے اور اس طرح زائچے میں ملاویا یوگ بن رہا ہے جو خوش قسمتی لاتا ہے،شرف کے گھر میں ہونے کی وجہ سے زہرہ کو تھوڑی بہت قوت حاصل ہے،اگر قمر کی پوزیشن انتہائی ناقص نہ ہوتی تو آپ کی شادی ہوجاتی۔
آپ نے لکھا ہے کہ لوح مشتری آپ کے پاس ہے،خدا معلوم آپ نے کہاں سے لی کیوں کہ کراچی میں تو لوح مشتری کے موسم میں بڑا دھوکا اور فراڈ ہوتا ہے،بے شک مشتری کی لوح آپ کے لیے فائدہ مند ہے اگر وہ درست وقت پر تیار کی گئی ہو اور درست وقت پر پہنی گئی ہو، آپ نے ہانڈی تالے والا عمل بھی کیا ہے جو ہمارا بڑا مشہور عمل ہے،ممکن ہے عمل میں کوئی غلطی ہوگئی ہو، جب آپ نے یہ عمل کیا گیا ہوگا تو آپ کو چاہیے تھا کہ مشورہ کرتیں اور عمل کے بعد بھی مشورہ جاری رکھتیں تاکہ ناکامی کی صورت میں آپ کی درست رہنمائی کی جاتی،یہ طریقہ عام طور پر غلط ہے کہ اگر ڈاکٹر کی دوا سے چند روز میں کوئی فائدہ نہ ہوا تو علاج ہی چھوڑ دیا،ایسی صورت میں یقیناً ہم آپ کو یہی مشورہ دیتے کہ اپنا زائچہ بنوائیں تاکہ بنیادی خرابی کا پتا چل سکے اور اس کے مطابق ہی علاج تجویز کیا جائے۔
آپ کا سب سے بڑا مسئلہ شادی کے حوالے سے قمر کی خرابی ہے اور پھر زہرہ اور مشتری کی کمزوری ، قمر چوں کہ آٹھویں گھر کا حاکم ہوکر فعلی منحوس بن گیا ہے لہٰذا قمر کا پتھر یا قمر سے متعلق کوئی بھی لوح یا نقش آپ استعمال نہیں کرسکتےں ورنہ کچھ دوسرے نقصانات کا بھی سامنا ہوسکتا ہے، اس کا حل صرف یہ ہے کہ پیر کے دن نفلی روزہ رکھا کریں اور کسی غریب بچوں والی عورت کی مدد اس طرح کریں کہ اُسے بھی محسوس ہو کہ واقعی آپ اس کی مدد کر رہی ہیں،مثلاً ماہانہ یا ہفتہ وار ایک معقول رقم پابندی سے دیا کریں یعنی جس حد تک بھی ہوسکے اُس کی کفالت کریں،دودھ اور دیگر سفید چیزوں کا استعمال زیادہ کریں،چاندنی رات میں قمر کی روشنی میں بیٹھ کر کچھ دیر مراقبہءنور کیا کریں۔
یلو سفائر کم از کم 5 کیرٹ وزن میں کسی مناسب وقت پر دائیں ہاتھ کی کلمے کی انگلی میں پہن لیں اور اصلی اوپل (آج کل اوپل نایاب ہے اور بازار میں عموماً میڈ ان چائنا اوپل مل رہے ہیں) دائیں ہاتھ کی رنگ فنگر میں کم از کم پانچ کیرٹ وزن میں ایسے وقت پر پہنیں جب زہرہ طاقت ور ہو، ایسا وقت 15,16 اپریل کو ہوگا کیوں کہ اُس وقت زہرہ اپنے شرف کے درجے پر ہوگا لیکن بالکل صحیح ٹائم رابطہ کرکے معلوم کریں۔