پیر، 16 اکتوبر، 2017

جنرل قمر جاوید باجوہ، ایک منفرد شخصیت و کردار

وہ سیاست پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں اور سیاسی نظریات بھی
جنرل راحیل شریف کے زائچے کی روشنی میں ہم نے انہیں دانش ور جنرل کہا تھا، ممکن ہے بہت سے لوگ ہماری بات سے اتفاق نہ کریں، ہمارا مو ¿قف علم نجوم کے ایک کلیے کی بنیاد پر تھا جو یہ ہے کہ ویدک ایسٹرولوجی میں ”پنچم مہاپرش یوگ“ تسلیم کیے گئے ہیں، ان پانچ سیاروی امتزاجات کی اپنی اپنی علیحدہ ایک اہمیت ہے،کہا جاتا ہے کہ کسی بھی شعبے کے غیر معمولی صلاحیت کے حامل افراد کے زائچے میں ان میں سے کوئی ایک یوگ ہونا ضروری ہے، جنرل راحیل کے زائچے میں ”ہمسایوگ“ موجود تھا، ہمسا یوگ کے حامل افراد غیر معمولی عقل و دانش کا مظاہرہ کرتے ہیں، ہمارے نزدیک جنرل راحیل نے اپنی مدت ملازمت کے دوران میں بہت سے دانش ورانہ فیصلے اور کام کیے مثلاً آپریشن ضرب عضب کا آغاز بھی ان کا ایک اہم فیصلہ ہے،اسی طرح کراچی میں جاری آپریشن بھی ان کے دور میں شروع ہوا، انہوں نے سیاسی قیادت کو قائل کیا کہ فوجی عدالتیں قائم کی جائیں تاکہ دہشت گرد کیفر کردار کو پہنچ سکیں،اس حوالے سے خصوصی اختیارات کا بل پارلیمنٹ سے پاس ہوا جسے بعض کٹّر جمہوریت پسند حلقوں نے پسند نہیں کیا ہے،بہر حال وہ باعزت طریقے سے اپنی مدت ملازمت پوری کرکے ریٹائر ہوگئے،فوری طور پر ان کے لیے ایک اور خوش بختی کا دروازہ کھل گیا اور انہیں سعودی حکومت نے بلاکر ایک اعلیٰ عہدے سے نواز دیا، جب تک وہ پاکستانی مسلح افواج کے سربراہ رہے، ان کی عوامی مقبولیت کا گراف بھی کسی بھی پاکستانی سیاست داں سے زیادہ ہی رہا، اب بھی لوگ انہیں یاد کرتے ہیں، ممکن ہے آئندہ بھی وہ ملک و قوم کے لیے کوئی اہم کردار ادا کرےں، یہی ہمسا یوگ کا اثر ہے۔
ان کے جانشین جنرل قمر جاوید باجوہ ہیں، اصولی طور پر تو ہمیں فوراً ہی ان کا زائچہ پیش کرنا چاہیے تھا لیکن ابتدا ہی میں ان کی ایک سے زیادہ تاریخ پیدائش کا مسئلہ الجھن کا باعث بنا، عہدہ سنبھالتے ہی ان کے حوالے سے بعض افواہیں بھی پھیلیں لہٰذا تحقیق مزید کی ضرورت پیش آئی اور بالآخر ایک اطمینان بخش نتیجہ سامنے آگیا لیکن یہ دیکھ کر خاصی حیرت ہوئی کہ ان کے برتھ چارٹ میں بھی ہمسا یوگ موجود ہے گویا وہ جنرل راحیل شریف کے حقیقی جانشین ہیں، اگرچہ مزاج اور دیگر عادت و اطوار میں جنرل راحیل سے بے حد مختلف ہےں لیکن ہمسا یوگ والی خصوصیات دونوں کے درمیان مشترک ہیں۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کی تاریخ پیدائش 11 نومبر 1960 ءہے، وہ کراچی میں پیدا ہوئے، ہمارے اندازے کے مطابق ان کی پیدائش صبح 10:05 am معلوم ہوتی ہے،ویدک سسٹم کے مطابق ان کا طالع پیدائش 9 درجہ 34 دقیقہ برج قوس ہے جس کا حاکم سیارہ مشتری ہے جو اپنے ہی برج قوس میں نہایت باقوت انداز میں براجمان ہے،جب کہ سیارہ قمر برج سرطان میں جو اس کا اپنا ہی گھر ہے اور شمس برج میزان میں ہبوط یافتہ ہے۔
 قوسی افراد سچائی پسند، اسپورٹس مین، علم سے محبت کرنے والے ،فلسفیانہ سوچ کے مالک اور ایڈونچرر ہوتے ہیں لیکن شمس کی برج میزان میں موجودگی مہم جوئی کی خصوصیات کو کنٹرول کرتی ہے۔برج قوس کا تعلق آئین اور قانون سے بھی ہے لہٰذا جنرل صاحب ہر صورت میں آئین و قانون کی پاس داری کریں گے، اس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ ابتدا ہی سے یہ کہہ رہے ہیں کہ فوج آئین و قانون کے ساتھ کھڑی ہے،بعض مبصرین کا خیال یہ ہے کہ وہ اعلیٰ عدلیہ کی پشت پناہی کر رہے ہیں،اس خیال پر ہم کوئی تبصرہ نہیں کریں گے، قوسی افراد اسپورٹس مین اور آو ¿ٹ ڈور کھیلوں میں دلچسپی لیتے ہیں، جنرل صاحب بھی کرکٹ کے زبردست شوقین ہیں اور خود بھی کرکٹ کھیلتے رہے ہیں، یہ چوکس ذہن کے مالک ہوتے ہیں، ان میں تجربہ کرنے کی لگن ہوتی ہے اور سفر کے دلدادہ ہوتے ہیں، انہیں اپنی صلاحیتوں پر بہت زیادہ اعتماد ہوتا ہے لیکن اکثر وہ اتنی ذمے داریاں اپنے سر لے لیتے جن سے نمٹ نہیں سکتے،قوس کے منفی پہلوو ¿ں میں بے صبرا پن، جارح انداز، وقت کی پابندی نہ کرنا اور متلون مزاجی شامل ہیں۔
جنرل صاحب کا قمری برج (Moon sign) سرطان ہے، برج سرطان اپنی فیملی، اپنے گھر اور اپنے وطن سے گہری وابستگی اور محبت رکھتا ہے، اپنی فیملی میں اپنی والدہ سے زیادہ قریب ہوتا ہے، اپنے بچوں سے بہت محبت کرتا ہے لہٰذا یہ بات یقینی ہے کہ جنرل باجوہ اپنے وطن اور اپنی قوم کے لیے خاصے جذباتی انداز میں سوچ سکتے ہیں اور جذباتی سوچ انسان سے کچھ بھی کراسکتی ہے، ان کی سچائی پسندی دودھ کو دودھ اور پانی کو پانی کہے بغیر نہیں رہ سکتی۔
ہماری سیاسی اشرافیہ اس ٹائپ کے لوگوں کو پسند نہیں کرتی اور محض زبانی کلامی آئین و قانون کی باتیں کرتی ہے، میدان سیاست کے تمام کھلاڑیوں کو یہ اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی پیدائش چاند کی منزل اشلیشا میں ہوئی ہے،اس منزل پر ذہانت کا ستارہ عطارد حکمران ہے،اشلیشا کے سنسکرت میں معنی ”لپٹنے والا“ کے ہیں ، اسے چمٹا ہوا ستارہ بھی کہتے ہیں،اس منزل کا نشان یا علامت ”کنڈلی مارنے والا سانپ“ ہے، اس منزل کا بنیادی محرک مذہب ہے، ایک عارفانہ قوت، روحانی آگہی اور برقیاتی صلاحیت کا یہاں اظہار ہوتا ہے مگر اس کی منفی فعالیت بھی نہایت تباہ کن ہوسکتی ہے،سیارہ عطارد اس منزل پر حکمران ہے جو ذہانت ، ہوشیاری اور چالاکی کا نمائندہ ہے۔اشلیشیا نچھتر کی فطرت غیر انسانی ہے،عطارد اور قمر کا امتزاج ذہنی اور دماغی ہے لہٰذا ایک گہرے فلسفیانہ ، مفکرانہ، سرائیت کرنے والے ذہین دماغ کی نمود دیکھنے میں آتی ہے جس کی تفسیر مرزا غالب کا یہ مشہور شعر ہے
بہ قدرِ شوق نہیں ظرفِ تنگنائے غزل
کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے
دنیا کی مشہور شخصیات میں سے مہاتما گاندھی، بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو، ناول نگار آسکر وائلڈ، اداکار ونود کھنہ، اداکارہ کاجول وغیرہ اسی منزل میں پیدا ہوئے ہیں۔
یہ لوگ اپنے طرز عمل میں سادگی پسند اور جس کام کا بھی ذمہ لیں اس میں نہایت مخلص ہوتے ہیں،عموماً دوسروں کے لیے کوئی مشکل کھڑی نہیں کرتے، کسی کو دھوکا نہیں دیتے،یہاں تک کہ اپنے اچھے سلوک کی وجہ سے اکثر غیر متوقع پریشانیوں میں گِھر جاتے ہیں لیکن کسی کا ناجائز دباو ¿ برداشت نہیں کرسکتے اور نہ ہی کسی پر بھرپور اعتماد کرتے ہیں،عجلت میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے بلکہ اپنے بااعتماد ساتھیوں کے ساتھ باہمی مشورے کے بعد ہی کسی نتیجے پر پہنچتے ہیں، عام طور پر سخت الفاظ استعمال کرنے سے گریز کرتے ہیں، چاہے کوئی تنازع یا بحث و تکرار ہی کیوں نہ ہو، اگر اپنی غلطی کا احساس ہوجائے تو معذرت کرنے اور شرمندگی کا اظہار کرنے سے نہیں ہچکچاتے،اپنے کاموں کی تعریف چاہتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہ ان کی حیثیت کو تسلیم کیا جائے، یہ لوگ قاعدانہ صلاحیت بھی رکھتے ہیں اور سیاست میں بھی نمایاں کارکردگی دکھاسکتے ہیں،کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ حرفوں کے بنے ہوئے ہیں اور اچھی طرح جانتے ہیں کہ کون سی چال چل کر اپنے دشمن یا مخالف کو زیر کیا جاسکتا ہے،ادھیڑ عمری میں ان کا وزن بڑھ سکتا ہے،دوسرے لوگوں کے لیے ان کی شخصیت میں چھپی ہوئی خوبیوں اور خامیوں کا پتا چلانا مشکل ہوتا ہے،ان کے ساتھ کافی عرصہ گزارنے اور معاملت کرنے کے بعد ہی کوئی ان کے رویے کے بارے میں کسی نتیجے پر پہنچ سکتا ہے یا کوئی رائے قائم کرسکتا ہے۔
اشلیشا ایک نہایت مشکل اور پیچیدہ قمری منزل ہے کیوں کہ اس کی فطرت غیر انسانی ہے اور یہی وہ وصف ہے جو انسان کو غیر معمولی کارکردگی یا کارناموں کی جانب لے جاتا ہے،یہاں اس کی مکمل تشریح ممکن نہیں، مختصراً اتنا سمجھ لیجیے کہ ہمارے نئے جنرل کوئی بہت سادہ اور بہت سیدھے انسان نہیں ہیں، یہ انہی سکّوں میں ادائیگی کریں گے جو انہیں وصول ہوں گے لہٰذا ہماری سیاسی اشرافیہ کو کسی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے۔
زائچے کا پہلا گھر برج قوس ہے جس میں اس کے حاکم مشتری کے ساتھ زہرہ اور زحل بھی موجود ہےں، زہرہ یہاں کمزور ہے لیکن زحل نہ صرف یہ کہ طاقت ور ہے بلکہ راہو کی بھرپور نظر بھی وصول کر رہا ہے،زحل زائچے کے دوسرے تیسرے گھر کا حاکم ہوکر پہلے گھر میں بیٹھا ہے،تیسرا گھر کوشش اور پہل کاری کا ہے،راہو کی نظر ظاہر کرتی ہے کہ ایک فوجی جنرل سیاست پر بھی گہری نظر رکھتا ہے اور اس کے اپنے سیاسی نظریات بھی ہیں جو مشتری کے طاقت ور اثر کی وجہ سے آئین و قانون کے پابند ہیں، لاقانونیت اور غیر آئینی اقدام ناپسندیدہ ہیں۔
پانچویں گھر کی مول ترکون کا حاکم سیارہ مریخ زائچے کے ساتویں گھر میں طاقت ور انداز میں موجود ہے،گویا اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک قیام ظاہر ہوتا ہے،اعلیٰ تعلیم مریخی منسوبات کے تحت فوج اور دیگر فنونِ حرب و ضرب ، سیارہ مریخ بھی زحل سے ایک سعد نظر بنارہا ہے،اس زائچے کی رو سے مریخ و زحل دونوں صاحب زائچہ کے لیے سعد اور موافق اثر دینے والے سیارے ہیں۔
قمر آٹھویں گھر کا حاکم ہے اور اپنے ذاتی برج سرطان میں مقیم ہے،قمر اور زحل کی مضبوط پوزیشن طویل العمری کی نشان دہی کرتی ہے،نویں بھاگیا استھان کا مالک سیارہ شمس گیارھویں گھر میں اپنے برج ہبوط میں ہے جس کی وجہ سے زندگی میں ترقی اور عروج کا مقام خاصی تاخیر کے بعد ملتا ہے اور اگر دیگر سیارگان مضبوط نہ ہوں تو کبھی نہیں ملتا، جنرل صاحب کو عمدہ قسم کا روبی کا نگینہ پہننا چاہیے۔
دسویں گھر کا حاکم سیارہ عطارد گیارھویں گھر میں غروب ہے،اس پر تیسرے گھر سے کیتو کی نظر بھی ہے لہٰذا کرئر میں بعض ناگوار اور پریشان کرنے والے معاملات بہر حال رہے ہوں گے، بہت سے ناگوار اور ناخوش گوار واقعات کو برداشت کرنا پڑا ہوگا۔
زائچے کی آراستگی پر تفصیلی روشنی ڈال دی گئی ہے،دیگر اہل نظر مزید نتائج اخذ کرسکتے ہیں ، ہم زیادہ تفصیل میں نہیں جانا چاہتے۔
23 اگست 2004 ءسے زائچے میں قمر کا دور اکبر جاری ہوا، قمر زائچے کا واحد فعلی منحوس سیارہ ہے کیوں کہ آٹھویں گھر کا حاکم ہے،اس کے علاوہ راہو کیتو بھی فعلی منحوس ہیں، یہ دس سالہ دور اکبر یقیناً زندگی میں مشکلات اور سخت محنت اور جدوجہد کی نشان دہی کرتا ہے لیکن 24 اگست 2014 ءسے پانچویں گھر کے حاکم سیارہ مریخ کا دور اکبر شروع ہوا اسے ہم جنرل صاحب کی زندگی کا ایسا دور کہیں گے جس میں انہیں اپنے کرئر میں زیادہ مضبوط پوزیشن بنانے کا موقع ملا ہوگا، 7 فروری 2016 ءسے مریخ کے دور اکبر میں مشتری کا دور اصغر شروع ہوا جو 13 جنوری 2017 ءتک جاری رہا، اسی دوران میں سیارہ مشتری 2016 ءکے آخر میں برج سنبلہ اور زائچے کے دسویں گھر میں داخل ہوا، ستمبر اکتوبر میں مشتری نے دسویں (پیشہ ورانہ امور)، دوسرے (اسٹیٹس، فیملی اور ذرائع آمدن) ، چوتھے (سواری اور پراپرٹی) اور چھٹے (پیشہ ورانہ عمل) گھروں سے سعد نظر بنائی، نتیجے کے طور پر 3 نومبر 2016 ءکو جنرل صاحب نے پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ کا عہدہ سنبھال لیا۔
دوسرے،تیسرے گھر کا حاکم سیارہ زحل نومبر 2014 ءسے زائچے کے بارھویں گھر میں رہا اور تاحال اسی گھر میں ہے، 27 اکتوبر کو پہلے گھر برج قوس میں داخل ہوجائے گا، گویا گزشتہ ڈھائی سال ایسے نہیں ہیں جن میں جنرل صاحب کو کام کرنے کے لیے فری ہینڈ ملا ہو، ان کی فطری مہم جوئی یا پہل کاری کی صلاحیت دبی رہی ہے، زحل برج قوس میں داخل ہونے کے بعد نئے عزائم اور ارادوں کو تقویت دے گا اور آئندہ ڈھائی سال اسی پوزیشن میں گزارے گا لہٰذا جنرل صاحب کی کارکردگی شاندار انداز میں ظاہر ہوگی، سیارہ مشتری اب زائچے کے گیارھویں گھر میں آچکا ہے،اس گھر کا تعلق زندگی میں فوائد اور مفادات سے ہے،یقیناً مشتری ان کی زندگی میں مزید بہتری اور ترقی لائے گا۔
حاصلِ کلام
عزیزان من! زائچے کی خوبیوں اور خامیوں اور صاحب زائچہ کے طور طریقوں یا رجحانات کی نشان دہی کردی گئی ہے،یقیناً ہمیں ایک ایسے جنرل کی سربراہی حاصل ہے جو اپنی فطرت اور مزاج میں تیز و طرار، سچائی پسند، آئین و قانون کا متوالہ، جمہوریت پسند لیکن جرم اور ناانصافی کو ناپسند کرنے والا ہے،کوئی دباو ¿ اس کے نزدیک ناپسندیدہ ہے،حال ہی میں صدر امریکا کی جنوبی ایشیا پالیسی کے حوالے سے پاکستان پر جو دباو ¿ ڈالا گیا اس کا جواب اسی انداز میں دیا گیا، ایک محب وطن شخصیت کے طور پر یقیناً انہیں یہ بات ناپسند ہوگی کہ پاکستان میں دہشت گردی، وہ خواہ کسی بھی نوعیت کی ہو، ختم کی جائے،ملک سے ہر سطح پر کرپشن اور کرائم کے خلاف کارروائی ہوتی رہے، ملکی اداروں کو مضبوط کیا جائے اور جمہوریت کے فروغ کے لیے سیاست کے میدان میں بھی اعلیٰ روایات کو قائم کیا جائے،سب جانتے ہیں کہ ان حوالوں سے ملک کے ہر شعبے میں اور ہر ادارے میں اصلاحِ احوال کی کتنی شدید ضرورت ہے، شاید جنرل صاحب اسی لیے بار بار یہ کہتے رہے ہیں کہ فوج آئین و قانون کے ساتھ کھڑی ہے،گویا وہ اصلاحات کے عمل کو آئینی و قانونی طور پر جاری رکھنا چاہتے ہیں، تازہ صورت حال میں یہ کام مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے کیوں کہ ہماری سیاسی اشرافیہ اپنے لیے الگ قانون اور اصول چاہتی ہے اور عام افراد کے لیے الگ جس کا مظاہرہ اکثر دیکھنے میں آتا رہتا ہے۔
جنرل صاحب اس وقت سیارہ زحل کے دور اصغر سے گزر رہے ہیں اور زحل پر نویں گھر میں قابض راہو کی نظر ہے،نواں گھر آئین و قانون سے متعلق ہے اور زحل ایکشن اور کوشش کے گھر کا حاکم ہے،چناں چہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہماری سیاسی اشرافیہ عدلیہ پر جب تنقید کرتی ہے تو اشاروں کنایوں میں دائیں بائیں فقرہ بازی سے بھی نہیں چوکتی حالاں کہ بعض حکومتی وزرا اور بعض غیر جانبدار صحافی اس بات کی گواہی دے رہے ہیں فوج سیاسی معاملات سے الگ تھلگ رہنے کی پالیسی پر کاربند ہے لیکن بہر حال وہ یہ بھی گوارہ نہیں کرسکتی کہ ہماری سیاسی اشرافیہ عدالتوں پر چڑھائی کردے اور عدلیہ کا تحفظ غیر یقینی ہوجائے، ان کے فیصلے بے اثر ہوجائیں، پاکستان کے آئین میں آرٹیکل 190 کے تحت فوج عدلیہ کی مدد کرنے کی پابند ہے، جے آئی ٹی کے معاملات میں اسی قانون کی وجہ سے فوج نے عدلیہ سے تعاون کیا تھا۔
22 فروری 2018ءسے زحل کا دور اصغر ختم ہوگا اور سیارہ عطارد کا دور اصغر شروع ہوگا، ہمارا خیال ہے کہ سیارہ عطارد کے دور میں جنرل صاحب کے رویے اور رجحانات میں نمایاں فرق آئے گا، انہیں ایسی مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے جن کا مقابلہ کرنے کے لیے سیدھے سادھے آئینی و قانونی ذرائع یا راستے کافی نہیں ہوں گے، معاملات بین الاقوامی ہوں یا داخلی، ہر سطح پر ایسے مسائل نمودار ہوں گے جن سے عہدہ برآ ہونے کے لیے بہت کچھ روایات کے خلاف کرنے کی ضرورت ہوگی، سیارہ عطارد کا دور اصغر 19 فروری 2019ءتک جاری رہے گا گویا ان کی مدت ملازمت پوری ہونے کا وقت بھی قریب آجائے گا۔
جنرل راحیل شریف کے بارے میں ہم نے لکھا تھا کہ وہ اگر محسوس کریں گے کہ ان کی مزید ضرورت ناگزیر ہے تو یقیناً ایکسٹینشن کے بارے میں سوچیں گے اور اگر ضرورت محسوس نہیں کریں گے تو انہیں ریٹائر ہونے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، بعض حلقوں کا خیال ہے کہ وہ ایکسٹینشن چاہتے تھے جو انہیں نہیں دی گئی اور بہر حال وہ رخصت ہوگئے، جنرل باجوہ صاحب جیسا کہ ہم نے ابتدا میں کہا کہ وہ جنرل راحیل سے مختلف مزاج اور فطرت کے انسان ہیں، وہ اپنے کام کو پایہ ءتکمیل تک پہنچانا ضروری سمجھتے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ وہ اکثر ایسا نہیں کرپاتے کیوں کہ بہت زیادہ کاموں میں خود کو الجھا لیتے ہیں مگر اس حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں کہ اگر وہ ایکسٹینشن کے خواہش مند ہوں گے تو اتنی آسانی سے رخصت نہیں ہوں گے جتنی آسانی سے جنرل راحیل شریف رخصت ہوئے۔

ہفتہ، 7 اکتوبر، 2017

آپ جانا اُدھر اور آپ ہی حیراں ہونا


 اکتوبر سے سیاروی پوزیشن غیر معمولی واقعات کی نشان دہی کر رہی ہے
ملک ایک بڑے بحران کا شکار ہے،اندرونی اور بیرونی خطرات بہت بڑھ چکے ہیں،یقیناً ملک کے مقتدر حلقے تشویش میں مبتلا ہیں اور اہل علم و دانش بھی خوف زدہ ہیں، صورت حال جس طرح روز بہ روز ایک نئی کروٹ لے رہی ہے، اس سے یہ اندازہ کرنا مشکل ہے کہ اس بحران کا انجام کیا ہوگا؟ 
پاکستان کی دشمن قوتیں کھل کر اپنے ناپاک عزائم کا اظہار کر رہی ہیں کہ وہ پاکستان کو چار ٹکڑوںمیں تقسیم کرنا چاہتے ہیں، امریکی صدر اپنے مطالبات کے لیے پاکستان پر عرصہ ءحیات تنگ کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں، اس صورت حال میں ہماری سیاسی اشرافیہ اپنے ذاتی مفادات کی جنگ لڑ رہی ہے،پارلیمنٹ سے حسب منشا آئینی ترامیم کرائی جارہی ہیں، جس کے نتیجے میں اختلاف رائے اور تنازعات مزید بڑھ رہے ہیں، فوج اور عدلیہ کو ہدف تنقید بنایا جارہا ہے،ملک معاشی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے،عام آدمی حیران و پریشان ہے کہ ہم کہاں جارہے ہیں اور ہماری اگلی منزل کون سی ہے؟
گزشتہ کسی کالم میں ہم نے ایک قول ربانی نقل کیا تھا ”وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور ہم اپنی چالیں چل رہے تھے“
تازہ صورت حال بالکل ایسی ہی ہے ، ہمارے ملک کی بساط سیاست پر متحرک مہرے اپنی اپنی چالیں چل رہے ہیں لیکن قدرت کی چالیں انسانوں کی سمجھ میں نہیں آتیں لیکن جب ان کا ظہور ہوتا ہے تو دنیاوی چالیں چلنے والے حیران رہ جاتے ہیں۔
ہم پہلے بھی زائچہ ءپاکستان کی روشنی میں یہ اظہار خیال کرچکے ہیں کہ ملک میں تبدیلی کی لہر روز بہ روز تیز سے تیز تر ہوتی جارہی ہے،رواں نام نہاد جمہوریت کی بساط لپٹ چکی ہے،اب نمائشی جمہوری مہرے بساط پر بھاگ دوڑ میں مصروف ہیں، مرکز اور صوبوں میں گویا کوئی حکومت ہی نہیں ہے، ایسا نظر آتا ہے کہ اس بھاگ دوڑ کا خاتمہ بھی بہت قریب ہے،نیا سال 2018 ءشروع ہونے سے قبل ہی شاید بہت کچھ تبدیل ہوچکا ہوگا اور اس تبدیلی میں اہم کردار ہماری سیاسی اشرافیہ کا ہی ہوگا کیوں کہ یہ تو ممکن نہیں ہے کہ اہل سیاست ملک کے دو اہم اداروں عدلیہ اور فوج کو فارغ یا عضو معطل کردیں، اپنا ہی کچھ نقصان کرسکتے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ وہ اس نقصان ہی میں کوئی فائدہ ڈھونڈ رہے ہوں؟
9 اکتوبر سے سیاروی پوزیشن آنے والے غیر معمولی واقعات کی نشان دہی کر رہی ہے اور یہ سلسلہ 15 نومبر تک جاری رہے گا، اگر ملک میں کوئی ایمرجنسی یا غیر آئینی صورت حال پیدا ہوگی تواس کے ذمے دار ہمارے اہل سیاست ہی ہوں گے جو اس بات پر سخت مشتعل ہیں کہ فوج آئین و قانون (عدلیہ) کی پشت پناہی کیوں کر رہی ہے 
وائے دیوانگی شوق کے ہر دم مجھ کو 
آپ جانا اُدھر اور آپ ہی حیراں ہونا
مسیحا حصہ سوم
حیدرآباد سے کامل علی لکھتے ہیں ”آپ نے اسی کالم میں بتایا تھا کہ مسیحا کا تیسرا حصہ شائع ہوگیا ہے، میں ان لوگوں میں سے ہوں جو نہایت بے چینی سے اس کا انتظار کر رہے تھے لیکن جب مارکیٹ میں جاکر معلومات کی تو کسی بھی بک اسٹال پر کتاب نہیں ملی، آخر اس کی کیا وجہ ہے اور اب اسے کیسے حاصل کیا جاسکتا ہے؟“
جواب: عزیزم! شاید آپ نے توجہ نہیں دی کہ ہم نے لکھا تھا کہ کتاب عام مارکیٹ میں نہیں دی جائے گی کیوں کہ اکثر ایجنٹ حضرات کتاب بیچنے کے بعد پیسے دینے میں پریشان کرتے ہیں لہٰذا آپ کو ہمارے آفس سے ہی منگوانا پڑے گی، فون پر رابطہ کرکے اپنا ایڈریس لکھوادیں تو آپ کو وی پی کے ذریعے کتاب بھیج دی جائے گی۔
عام بک اسٹالز والے اگر کتاب منگوانا چاہتے ہیں تو براہ راست رابطہ کریں۔
روحانیات کے حوالے سے ایک غلط فہمی کا ازالہ
ہم ایک خط زیر بحث لانا چاہتے ہیں کیوں کہ یہ خط ہماری نظر میں صرف ایک شخص کا نہیں، ایسے بے شمار خط ہمیں مل چکے ہیں اور ملتے رہتے ہیں، ہمارے معاشرے کے بے شمار نوجوانوں کا مسئلہ ہے، خط لکھنے والے کا نام اور مقام ہم ظاہرنہیں کرنا چاہتے، آپ صرف ان کے خط کے ضروری حصے ملاحظہ کرلیجیے، وہ لکھتے ہیں۔
”میری عمر اس وقت اکیس سال ہے، مجھے روحانیت سیکھنے کا بہت شوق ہے اور اس سلسلے میں ، میں نے کئی کتابیں بھی پڑھ رکھی ہیں، ان میں دیے گئے اعمال بھی کیے ہیں لیکن کسی میں کامیابی نہیں ہوئی، پچھلے چند ماہ میں مجھے ایک عامل کا پتا ملا، ہمارے ہی شہر کے ہیں، انہوں نے مجھے اپنا شاگرد بنالیا لیکن اب تک انہوں نے ایک عمل بھی نہیں کرایا، البتہ مختلف بہانوں سے مجھ سے پیسے لیتے رہتے ہیں، مثلاً آج فلاں کی نیاز دلوانی ہے، فلاں کی خیرات کرانی ہے، پھر کبھی کہتے ہیں تمہارے لیے استخارہ کروں گا، فاتحہ دلوانی پڑے گی، ہر دفعہ ہزار پانچ سو روپے لے لیتے ہیں، صرف ایک دفعہ انہوں نے ایک عمل کرایا، سورئہ مزمل کا لیکن میں وہ عمل صرف بارہ روز کرسکا، اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک روز مجھے کام کے سلسلے میں کراچی جانا پڑ گیا تھا، چناں چہ میرے استاد نے کہا کہ وہ وظیفہ ختم کردو، اب میں یہ محسوس کرنے لگا ہوں کہ وہ مجھے ٹالنے لگے ہیں، میری تنخواہ بہت کم ہے، ابھی مجھے شادی بھی کرنی ہے، اس تنخواہ میں گزارا مشکل سے ہوتا ہے، کوئی بچت نہیں ہوتی تو شادی کہاں سے کروں گا لیکن بہر حال شادی تو مجھے کرنی ہے اور وہ بھی صحیح وقت پر، اگر پیسے جمع کرنے میں پانچ چھ سال لگ گئے تو پھر شادی کا فائدہ؟ میرا چھوٹا بھائی آفیسر ہے، اس کی تنخواہ بہت زیادہ ہے، گھر میں معقول رقم دے کر بھی آٹھ دس ہزار بچا لیتا ہے، آپ میری مدد کیجیے اور بتائیے میں جب بھی کوئی عمل کرتا ہوں، وہ ناکام کیوں ہوتا ہے؟ انکل ! آپ تو مجھے مایوس نہیں کریں گے نا؟ آسودہ اور خوش حال زندگی گزارنا ہر انسان کا حق ہے، اگر اس کے لیے روحانیت کا سہارا لیا جائے تو کیا یہ غلط ہوگا؟ اور انکل حضرت محمدﷺ کا ارشاد ہے کہ جو چیز چاہو پہنو اور کھاو ¿ لیکن حلال ہو اور اس میں دو چیزیں نہ ہوں، اول اسراف اور دوسرا تکبر، پلیز، میری مدد فرمائیے کیوں کہ میں ہر طرف سے مایوس ہوچکا ہوں، میرے کزنز میرے دوست جو مجھ سے چھوٹے ہیں، شادی شدہ اور آسودہ زندگی گزار رہے ہیں، کیا میرا حق نہیں ہے، انکل ! ایک بات تو بتائیے، یہ عامل حضرات جن کے پاس روحانیت کا علم ہوتا ہے، یہ اتنے تنگ نظر کیوں ہوتے ہیں؟ میرے اس سوال سے آپ کوئی غلط مطلب مت لیجیے گا، یہ مت سمجھیے گا کہ میں آپ پر کوئی الزام لگا رہا ہوں، اب دیکھیے نا، کتابوں کی دکانوں پر ہزاروں قسم کی عملیات کی کتب ہیں لیکن ان میں درج کسی بھی عمل کو کرلیں، نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلتا، آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ آپ مجھے کوئی اچھی عملیات کی کتاب کا نام بتائیے جس سے آپ مطمئن ہوں یا آپ کی کوئی تصنیف اس موضوع پر ہو تو پلیز اسے ڈاک کے ذریعے بھجوائیے، اب چند سوالات ہیں روحانیت کے موضوع پر، ان کا جواب ضرور دیجیے گا، عمل کرتے وقت، وقت کی کیا اہمیت ہے؟ پرہیز کی کیا اہمیت ہے؟ عمل کے دوران میں بعض جگہ روزے بھی رکھوائے جاتے ہیں، وہ کیوں ضروری ہوتے ہیں؟بس آپ کا زیادہ وقت نہیں لوں گا، میرے لیے وظیفہ مقرر کرکے بھجوادیے لیکن انکل، وہ وظیفہ ہر وقت پڑھنے والا نہ ہو، چالیس دنوں والا ہو تو بہتر ہے، پرہیز وغیرہ بھی ضرور لکھیے گا، اگر آپ برا اور غلط نہ سمجھیں تو ایک بات پوچھوں؟ کیا وظیفے سے بانڈ وغیرہ کھل سکتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پلیز لکھ دیں، آپ کی بڑی مہربانی ہوگی، میری ڈیوٹی ایسی ہے کہ مہینے میں ایک آدھ بار شہر سے باہر رہنا پڑتا ہے، میں نے سنا اور پڑھا ہے کہ وظیفے کی جگہ بدلنے سے وظیفے کا اثر ختم ہوجاتا ہے،پلیز وظیفہ لکھیے گا جس سے جگہ بدلنے سے فرق نہ پڑتا ہو۔
عزیزم! آپ سخت گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں، بازاری کتابیں پڑھ کر آپ کے ناپختہ ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ روحانی مدد سے آپ دولت حاصل کرلیں گے جب کہ ایسا اس صورت میں ہر گز نہیں ہوسکتا جس طرح آپ چاہتے ہیں، پہلی بات تو یہ سمجھ لیں کہ پروردگار نے کائنات کو عالم اسباب بنایا ہے اور ہماری مادی زندگی کے لیے مادی اسباب و سائل پر زور دیا ہے، اسی لیے بچے کو ابتدا ہی سے تعلیم اور ضروری فنی تربیت کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے اور جوانی میں محنت و مشقت کے ذریعے اپنا رزق حاصل کرنے کو قابل تحسین سمجھا جاتا ہے، اس طرح ہر انسان اپنی صلاحیت کی بنیاد پر دنیا میں اپنا حصہ پاتا ہے، اگر اس نے معقول طور پر تعلیم حاصل کرکے معقول ذریعہءروزگار پالیا اور پھر اس ذریعہ ءروزگار میں اپنی محنت، لگن اور ذاتی استعداد میں مستقل اضافے کے سبب ترقی کی منازل طے کرنا شروع کردیں تو وہ رفتہ رفتہ اپنی آمدن میں اضافہ کرتا چلا جاتا ہے اور بالآخر ایک مضبوط و مستحکم مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے، ایسا ہر گز نہیں ہوتا کہ وہ نہ تو معقول تعلیم ہی حاصل کرے، نہ کوئی معقول ہنر سیکھے اور جو کچھ وقت نے حادثاتی طور پر سکھا پڑھا بھی دیا ہے، اس میں بھی کوئی اضافہ کرنے کی کوشش نہ کرے، پھر یہ بھی چاہیے کہ وہ ان لوگوں کے برابر آجائے یا ان سے آگے نکل جائے جو مندرجہ بالا تمام شرائط پر پورے اترتے ہیں خواہ وہ اس سلسلے میں کیسی ہی روحانی امداد کیوں نہ حاصل کرلے، اگر یہ ممکن ہو تا تو دنیا کے تمام نالائق و نکمے صرف عملیات و وظائف کے ذریعے ہی دولت مند اور کامیاب ترین انسان بنے بیٹھے ہوتے۔
ہم پہلے بھی یہ بات لکھ چکے ہیں کہ روحانیت کو کھیل نہیں سمجھنا چاہیے، پہلے مادی طور پر اپنے مسائل کے حل کی طرف توجہ دینا چاہیے اور ہر ممکن طور پر وہ مادی کوشش ضرور کرلینا چاہیے جو آپ کے مسئلے کے حل کے لیے دنیاوی طور پر موجود ہے، جب ہر مادی ذریعہ ناکام ہوجائے اور انسان مایوسی کے اندھیرے میں گھر جائے تو پھر ضرور روحانی امداد کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور تب وہ اپنے بندے کو کبھی مایوس نہیں کرتا یا یہ بھی ناجائز نہیں ہوگا کہ مادی کوششوں کے ساتھ ساتھ روحانی طور پر بھی اللہ سے مدد کی درخواست کی جائے لیکن یہ ہر گز ناجائز نہیں کہ مادی کوشش تو نہ ہونے کے برابر ہے، صرف وظائف و چلوں اور نقوش و طلسمات کے زور پر زندگی کا ہر معرکہ سر کرنے کی کوشش شروع کردی جائے، ایسے لوگ ہمیشہ ناکام رہتے ہیں۔
بے شمار لوگ ہمیں تسخیر ہمزاد کے سلسلے میں لکھتے ہیں اور بعض یہ بھی لکھتے ہیں کہ ہم نے فلاں کتاب سے فلاں عمل ہمزاد کیا مگر ناکام رہے، آپ کوئی تجربہ شدہ عمل ہمزاد لکھ دیں، روحانیت و عملیات کی کتابوں میں اور رسائل میں ایسے بے شمار عمل شائع بھی کیے جاتے ہیں مگر ان کے نتائج صفر ہیں بلکہ اکثر دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ معاملہ اُلٹ ہوجاتا ہے، لوگ ہمزاد کو تسخیر کرنے کے بجائے خود ہمزاد کے عذاب میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور پھر خط لکھتے ہیں کہ اس مصیبت سے جان چھڑائیں۔
عزیزم! ایک بات یاد رکھیے،تسخیر روحانیت کے اعمال عام انسان کے بس کی بات نہیں ہےں، ان اعمال کی انجام دہی میں اپنے نفس کو مارنا پڑتا ہے ،قناعت اختیار کرنا پڑتی ہے اور صرف رضائے الٰہی میں زندگی بس کرنا پڑتی ہے، یہ مقام صرف اولیائے اللہ کا ہے، آپ دیکھیں، حضرت سید علی ہجویریؓ المعروف داتا گنج بخش اپنی مایہ ناز تصنیف ”کشف المعجوب“ میں فرماتے ہیں کہ راہ سلوک کے مسافر کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ شادی نہ کرے، آپ نے خود بھی تمام عمر شادی نہ کی اور اپنے نفس پر قابو پایا جب کہ ہمارے ہاں یہ ہے کہ لوگ کتابوں میں عملیات و وظائف کے حوالے سے خوش کن تاثیرات پڑھ کر یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ وہ کوئی ہمزاد یا جن قابو کرکے یا کوئی اور روحانی قوت حاصل کرکے باقی زندگی عیش و آرام اور ٹھاٹ باٹ سے بسر کریں گے، ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا، دنیاوی طور پر ہی دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ جو انسان اپنا کاروبار جتنا زیادہ پھیلاتا ہے، اتنا ہی زیادہ مسائل اور مصروفیات کا شکار ہوتا چلا جاتا ہے، اگر کوئی کسی بڑی پوسٹ پر ملازمت کر رہا ہے اور بہت زیادہ کمارہا ہے تو اس پوسٹ سے وابستہ ذمے داریاں ہی اس کی نیند اڑائے رکھتی ہیں، درحقیقت ایک پرسکون زندگی صرف قناعت کے سائے میں ہی مل سکتی ہے، انسانی خواہشات کا طوفان جتنا بڑھتا جائے گا، انسانی زندگی مسائل کے بھنور میں اسی قدر گردش میں آتی جائے گی۔
آپ اور آپ جیسے بے شمار افراد سے ہم یہی گزارش کریں گے کہ اپنے مسائل کے حل اور دنیا میں ترقی کرنے کے لیے پہلے اپنی صلاحیتوں میں اضافے کی طرف دھیان دیں، اگر آپ ایک ٹیچر ہیں تو ہیڈ ماسٹر بننے کے لیے مزید جس تعلیم کی ضرورت ہے، وہ حاصل کریں، اسی طرح جس ملازمت میں بھی ہیں، اس سے متعلق ترقی کے مادی راستوں کو فراموش نہ رکیں اور اپنا فالتو وقت صحیح راستے پر چلتے ہوئے گزاریں، اگر آپ کوئی کاروبار کر رہے ہیں تو اس کاروبار سے متعلق اپنے علم اور تجربے میں اضافے کی طرف دھیان دیں، اس کے ساتھ ساتھ روحانی امداد کے طور پر نماز اور تلاوت قرآن جاری رکھیں اور صرف ان اعمال کی طرف متوجہ ہوں جو خیروبرکت، ترقی و خوش قسمتی کے لیے مروج ہیں۔
روحانیات کی تسخیر کے اعمال تو انسان کو فقیر گوشہ نشیں بننے پر مجبور کردیتے ہیں اور یہ کام انہی لوگوں کو زیب دیتا ہے جنہوں نے دنیا سے منہ موڑ کر صرف اللہ سے رشتہ جوڑ لیا ہے، یاد رکھیں کہ وہ شادی شدہ یا کنوارے نوجوان جو یہ دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں کہ ہم صرف اللہ سے رشتے جوڑنا چاہتے ہیں اور تسخیر روحانیت خلق خدا کی بھلائی اور خدمت کے لیے کرنا چاہتے ہیں، وہ خود کو اور دوسروں کو دھوکا دیتے ہیں ، اول تو ایسے لوگ اپنے ارادوں کا اعلان نہیں کرتے پھرتے، جو لوگ اعلان کرتے رہتے ہیں، ان کی نیتوں میں فتور ہوتا ہے یا وہ جہالت میں مبتلا ہوتے ہیں کیوں کہ اسلام رہبانیت کی تعلیم نہیں دیتا اور حقوق العباد پر بہت زیادہ زور دیتا ہے، اب ایک شخص کنوارا ہے تو وہ ماں ، باپ، بہن، بھائی سے منہ موڑ کر اپنی دنیاوی ذمے داریوں کو خیر باد کہہ کر اللہ سے رشتہ جوڑنے اور خلق خدا کی خدمت کرنے کا دعویٰ کس منہ سے کر رہا ہے؟ پہلے ماں باپ، بہن بھائی کی خدمت تو کرلے، یہی صورت شادی شدہ بال بچے دار کی ہے، وہ ان ذمے داریوں سے کیسے منہ موڑ سکتا ہے اور ہر دو صورتوں میں اللہ اس سے کیسے راضی ہوگا؟ ہاں شیطان راضی ہوسکتا ہے۔
رجال الغیب
مختلف عملیات میں اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ عمل کرتے ہوئے رجال الغیب کا خیال رکھیں، جس طرف رجال الغیب ہوں اُس طرف منہ نہ کریں، اس حوالے سے سانگھڑ سے ہمارے ایک قاری نے سوال کیا ہے کہ آخر یہ رجال الغیب کون ہیں اور ان کی کیا حیثیت ہے؟
ایسے سوالات پہلے بھی لوگ کرتے رہے ہیں اور ہم نے حسب توفیق انہیں جواب بھی دیا ہے، رجال الغیب کی سمت معلوم کرنے کا طریقہ بھی کئی بار شائع کیا ہے جو اکثر لوگ محفوظ نہیں رکھتے اور پھر عین وقت پر فون کرکے پوچھتے ہیں کہ آج رجال الغیب کس سمت ہوں گے۔
رجال الغیب وہ مردان غیب ہیں جو حضرت خضرؑ کی سربراہی میں کائنات کے انتظامی اور انصرامی امور پر مامور ہیں، منجانب اللہ۔رجال عربی میں رجل کی جمع ہے اور رجل کے معنی آدمی کے ہیں لہٰذا ایسے آدمی جو عالم غیب میں ہیں ، کسی کو نظر نہیں آتے، انہیں رجال الغیب کہا جاتا ہے۔
اہل تصوف یا باطنی علوم کے ماہرین کا خیال ہے کہ اولیاءاللہ جب ایک خاص مقام تک پہنچ کر قرب الٰہی حاصل کرلیتے ہیں اور اللہ کی نظر میں قابل اعتماد ٹھہرتے ہیں تو انہیں کائناتی امور کے حوالے سے اہم ذمے داریاں تفویض کی جاتی ہیں اور وہ سب براہ راست حضرت خضرؑ کی سربراہی میں اپنی اپنی ڈیوٹیاں انجام دیتے ہیں، یہ ضروری نہیں ہے کہ اپنے وصال کے بعد یہ خدمات انجام دیں، اکثر اپنی زندگی ہی میں اس ذمے داریاں کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں پھر انہیں دنیا کی کسی بات کا ہوش نہیں رہتا، ایسے بزرگ حضرات کا زیادہ وقت ایک عالم استغراق میں گزرتا ہے،ممکن ہے آپ نے ایسے لوگوں کو دیکھا ہو جن کے بارے میں مشہور ہو کہ وہ کسی سے نہیں ملتے، وہ کسی سے بات نہیں کرتے اور زیادہ تر سب سے الگ تھلگ گوشہ نشین رہتے ہیں، حضرت بابا قلندر اولیاؒ کے قریبی حلقے یہ بتاتے ہیں کہ عمر کے آخری حصے میں ان کا بھی یہی حال ہوگیا تھا، چند بزرگوں سے ہماری بھی واقفیت رہی ہے،انہیں ہم نے اسی حال میں دیکھا۔
حضرت خضرؑ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ صدیوں سے زندہ ہیں اور بہت سے انبیا کے ساتھ خصوصاً حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھ ان کا تذکرہ آتا ہے، سکندر ذوالقرنین کے ساتھ بھی ان کا واقعہ مشہور ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ وہ سکندر کے ساتھ آب حیات کی تلاش میں نکلے تھے اور انہیں آب حیات مل گیا، جسے انہوں نے پی لیا لیکن سکندر نہ پی سکا، ہمیں نہیں معلوم کہ اس واقعے میں کتنی حقیقت ہے،البتہ ایک اور ہستی بھی ایسی ہے جس کے قیامت تک زندہ رہنے کے ثبوت ملتے ہیں، ان کا نام عبداللہ بیابانی ہے اور وہ اس شرط کے ساتھ حضرت خواجہ غریب نوازؒ کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے تھے کہ انہیں لوگوں کی خدمت کے لیے قیامت تک کی زندگی دی جائے۔
عبداللہ بیابانی کا اصل نام جوگی اجپال ہے،اجمیر کے راجا پرتھوی راج نے انہیں حضرت خواجہ غریب نوازؒ سے مقابلے کے لیے بھیجا تھا کیوں کہ وہ ایک بہت بڑے جادوگر تھے اور پرتھوی راج سمجھتا تھا کہ حضرت معین الدین چشتیؒ بھی کوئی جادوگر وغیرہ ہیں (استغفراللہ) لہٰذا اس نے اس دور کے سب سے بڑے جادوگر کو طلب کیا، جوگی اجپال نے خواجہ صاحبؒ کو مقابلے کی دعوت دی تو آپؒ نے فرمایا کہ تو جو کچھ جانتا ہے وہ ہمیں دکھا،جوگی نے ایک بہت بڑا دھاگے کا گولا نکالا اور اس کا ایک سرا کسی پتھر میں باندھ کر آسمان کی طرف پھینکا، وہ پتھر بادلوں میں جاکر غائب ہوگیا، جوگی دھاگے کو پکڑ کر تیزی سے اوپر چڑھتا چلا گیا اور آخر خود بھی غائب ہوگیا۔
خواجہ غریب نوازؒ نے اپنی نعلین مبارک (کھڑاو ¿ں) کو اشارہ کیا تو اچانک دونوں کھڑاو ¿ں ہوا میں پرواز کرتی ہوئی جوگی کے پیچھے گئیں اور تھوڑی ہی دیر میں جوگی اس حال میں زمین پر واپس آگیا کہ کھڑاو ¿ں سے اس کی پٹائی ہوگئی تھی، زمین پر آکر وہ آپؒ کے قدموں میں گر گیا کہ یقیناً آپؒ اللہ کے اوتار ہیں اور بہت نیک ہستی ہیں ورنہ میرے جادو کا توڑ تو پورے ہندوستان میں کوئی نہیں کرسکتا، اس کے بعد اس نے اپنی شرط پیش کی اور مسلمان ہوگیا، آپؒ نے اس کے لیے اللہ سے دعا کی جو قبول ہوئی، وہ دن ہے اور آج کا دن جوگی اجپال جس کا اسلامی نام خواجہ صاحبؒ نے عبداللہ رکھا تھا ، اجمیر کے پہاڑی اور صحرائی علاقوں میں راستہ بھولنے والوں کو راستہ دکھانے کی ڈیوٹی انجام دے رہے ہےں اور لوگ انہیں عبداللہ بیابانی کے نام سے جانتے ہیں، جب کوئی راستہ بھٹک جائے اور تین بار ان کا نام لے کر باآواز بلند مدد کے لیے پکارے تو وہ اچانک کسی موڑ پر اس کے سامنے نمودار ہوجاتے ہیں۔
یہ واقعہ حضرت خواجہ غریب نوازؒ سے متعلق سوانح کی تمام کتب میں موجود ہے،جہاں تک عبداللہ بیابانی کے اب تک ڈیوٹی دینے کا تعلق ہے تو ہم ذاتی طور پر ایسے لوگوں سے مل چکے ہیں جو اجمیر کے صحرائی علاقوں میں راستہ بھٹک گئے اور انہیں کسی صاحب نے اچانک نمودار ہوکر صحیح راستہ بتایا، بعض کی خاطر تواضع بھی کی۔
عزیزان من! یہ واقعہ سنانے کا مقصد یہ ہے کہ ایسے ہی لوگ رجال الغیب کی فہرست میں شامل ہیں۔
رجال الغیب کی سمت
آخر میں رجال الغیب کی سمت معلوم کرنے کا طریقہ بھی ایک بار پھر بیان کیا جارہا ہے،ا مید ہے کہ حسب معمول آپ لوگ اسے اپنے پاس محفوظ نہیں کریں گے اور کسی ضرورت کے وقت ہمیں فون کرکے پوچھ رہے ہوں گے کہ آج رجال الغیب کس طرف ہےں؟
رجال الغیب کی سمت کا تعین چاند کی تاریخوں سے کیا جاتا ہے،ہر ماہ کی پہلی، نو، سولا اور چوبیس تاریخ کو رجال الغیب مشرق کی سمت ہوتے ہیں، چاند کی دو، دس، سترہ اور پچیس کو یہ جنوب مغرب کی طرف ہوں گے جب کہ تین، اٹھارہ، گیارہ اور چبھیس تاریخوں میں جنوب کی سمت پھر چار، بارہ، انیس اور ستائیس تاریخ کو مغرب میں ہوں گے اور پانچ ، تیرہ اور بیس تاریخ کو شمال مغرب کی طرف، چھ، اکیس اور اٹھائیس تاریخ کو شمال مشرق میں ، سات، چودہ، بارہ اور انتیس کو مشرق میں، آٹھ، پندرہ ، تئیس اور تیس تاریخ کو شمال کی طرف، جب بھی رجال الغیب کی سمت معلوم کرنی ہو کہ آج وہ کس طرف ہیں، چاند کی تاریخ کو نوٹ کریں اور مندرجہ بالا ہدایت کے مطابق سمت معلوم کرلیں،یہ بھی خیال رکھیں کہ چاند کی تاریخیں ایک غروب آفتاب سے دوسرے غروب آفتاب تک ہوتی ہیں یعنی اگر چاند کی پہلی تاریخ پیر کی ہوگی تو ایک روز پہلے غروب آفتاب کے بعد سے شب پیر شروع ہوجائے گی اور اسی اعتبار سے تاریخ کو بھی اہمیت دی جائے گی جب کہ پیر کی شام سے غروب آفتاب کے بعد دو تاریخ اور منگل کی شب شمار ہوگی۔

ہفتہ، 30 ستمبر، 2017

عملیات و وظائف کے دوران میں رجعت یا کوئی رد عمل

کون سے عملیات خطرناک اور نقصان دہ ہیں اور کون سے بے ضرر و محفوظ
پاکستان میں ڈاک کا نظام مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے،لوگ پاکستان پوسٹ کے ذریعے خط و کتابت یا پارسل وغیرہ یا منی آرڈر بھیجتے ہوئے ڈرتے ہیں، عام خطوط کا تو ذکر ہی کیا، رجسٹرڈ ڈاک بھی وقت پر نہیں پہنچتی یا غائب ہوجاتی ہے،ہم نے پاکستان پوسٹ کا بہت اچھا زمانہ بھی دیکھا ہے اور اب خدا یہ وقت بھی دکھا رہا ہے، ہم خود بھی اب کورئر سروس ہی کو ترجیح دیتے ہیں حالاں کہ اس طرح اخراجات بڑھ جاتے ہیں، محکمہ ءڈاک کا یہ انجام کوئی حیرت انگیز بات نہیں ہے کیوں کہ موجودہ دور میں پاکستان کے تقریباً تمام ہی محکمہ جات اسی زبون حالی کا شکار ہیں، اس کی وجہ سندھ میں کوٹا سسٹم اور دیگر صوبوں میں رشوت اور اقربا پروری ہے، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سندھ میں رشوت اور اقرباپروری نہیں ہے، سندھ تو اس حوالے سے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ چکا ہے،جب میرٹ کا گلا گھونٹ کر نا اہلوں کو سرکاری اداروں میں بھرتی کیا جائے گا تو نتائج ایسے ہی ہوں گے۔
اس گلے شکوے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ ہمیں ایک خط موصول ہوا جو گزشتہ رمضان سے پہلے روانہ کیا گیا تھا، خط لکھنے والی ایک خاتون ہیں جنہوں نے کچھ ضروری سوالات کیے ہیں، اس قدر تاخیر کے باوجود بھی ہم اس خط کا جواب دینا چاہتے ہیں کیوں کہ خط میں جو سوالات اٹھائے گئے ہیں وہ یقیناً عام لوگوں کے ذہن میں بھی ہوسکتے ہیں، آئیے پہلے خط کا مطالعہ کرتے ہیں۔
ایس آر صاحبہ لکھتی ہیں ”میں آپ کا آرٹیکل پابندی سے پڑھتی ہوں،ا یسے اور اس سے ملتے جلتے بہت سے آرٹیکل دیگر اخبارات و رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں لیکن آپ کا انداز تحریر اور کسی بھی موضوع پر وضاحت سے بات کرنے کا انداز مجھے پسند ہے،کافی پہلے آپ نے اسم اعظم اور حل المشکلات کے حوالے سے قارئین کو بیش قیمت تحفہ عنایت کیا تھا، جن لوگوں نے اس سے فیض حاصل کیا وہ اس کی قدروقیمت کا اندازہ کرچکے ہوںگے، سونے پر سہاگا یہ کہ آپ نے اس موضوع پر مسلسل لوگوں کی رہنمائی کی اور چھوٹی سے چھوٹی بات کی بھی وضاحت کرتے رہے، میں بھی ان خوش نصیبوں میں سے ہوں جنہوں نے اس نعمت عظیم سے فیض حاصل کیا، میں آپ کے لیے دل کی گہرائیوں سے دعا گو ہوں، اللہ تعالیٰ آپ کے علم کو مزید بڑھائے اور اثر انگیز بنائے، آپ نے بنا کسی بخل کے اپنے علم کو عام کیا۔
”میرے خط لکھنے کی وجہ یہ ہے کہ اسم اعظم کے حوالے سے ایک اور صاحب نے یہ لکھا کہ اس کا نقش مشک اور آب زم زم سے لکھ کر پاس رکھنا ضروری ہے نیز ورد میں کوئی غلطی یا ناغہ یا زیر زبر کی غلطی سے شدید ردعمل ظاہر ہوتا ہے،بجائے فائدے کے نقصان ہوجاتا ہے، اس کے علاوہ جلالی و جمالی پرہیز بھی ضروری ہے۔
”آپ کی طرف سے اسم اعظم کی دعوت کے موقع پر ایسی کوئی ہدایت موجود نہیں تھی، امید ہے کہ وضاحت فرمائیں گے تاکہ شکوک وشبہات دور ہوکر ذہن پرسکون ہوجائے، آپ خود اس معاملے کی اہمیت ہم سے بہتر سمجھ سکتے ہیں،ایک زحمت آپ کو یہ دے رہی ہوں کہ میں نے اپنے لیے جو اسمائے الٰہی منتخب کیے ہیں وہ تفصیل سے آپ کو لکھ رہی ہوں،آپ صرف یہ بتادیں کہ مجھ سے کوئی غلطی تو نہیں ہوئی، میں نے صرف 20 دن میں ان بابرکات اسمائے الٰہی سے پورا پورا فیض حاصل کیا ہے،میں ایک بار پھر آپ کے لیے دعائے خیر کرتے ہوئے درخواست کرتی ہوں کہ اس سلسلے میں رہنمائی فرمائیں کہ اس کا کھلا ورد کوئی خاص شرائط کا پابند تو نہیں ہے نیز جن لوگوں نے اسے اپنے نام کے اعداد کی مقدار میں پڑھا ہے وہ کھلا ورد کرسکتے ہیں اور کس طرح؟
”دوسری عاجزانہ درخواست یہ ہے کہ میرا بیٹا جو کہ 17 سال 10 ماہ کا ہے اس وقت میرے گھر کا بڑا بیٹا ہے،میں چاہتی ہوں کہ صالح، ذمے دار اور والدین کا فرماں بردار ہو جب کہ اس میں یہ تینوں صفات نظر نہیں آرہی ہیں، انتہائی غصہ ور، نافرمان ہے،میں اس کے لیے بہت ہی زوداثر اور کسی بھی نقصان سے پاک عمل تجویز کرنے کی درخواست کر رہی ہوں، امید رکھتی ہوں کہ قریبی اشاعت میں جواب عنایت فرمائیں گے“
جواب: قریبی اشاعت میں جواب تو ممکن نہیں ہوسکا، اس کی ذمے داری ہمارے محکمہ ءڈاک پر ہے،خدا ان لوگوں کو ہدایت دے جو اپنے رزق حلال کو حرام کر رہے ہیں۔
عزیز بہن! ہماری تحریر کی پسندیدگی کا شکریہ اور آپ نے اسمائے الٰہی سے جو فیض حاصل کیا اس کے لیے مبارک باد،آپ نے اسم اعظم کے حوالے سے کسی صاحب کی جو رائے لکھی ہے وہ اشتہاری ہے اور ایسی باتیں نہ لکھی جائیں تو لوگ ان سے رجوع ہی نہ کریں، اب بھلا مشک کوئی کہاں سے لائے گا؟ آج کل غالباً لاکھ سوا لاکھ روپے تولہ ہوگا، مجبوراً ضرورت مند کو پھر ایسے مشتہرین کے پاس جانا پڑتا ہے اور وہ ان سے مشک کے پیسے ٹھیک ٹھاک طریقے سے وصول کرلیتے ہیں، اسی طرح نقش کی شرط عائد کرکے ضرورت مند کو پابند کردیا جاتا ہے کہ وہ ان سے رابطہ کریں کیوں کہ ہر شخص تو نقش تیار کرنے کے اصول و قواعد نہیں جانتا اور نہ ہی ایسے اشتہاروں میں یہ قواعد بتائے جاتے ہیں، اس کے علاوہ ورد میں کسی غلطی یا ناغے کی صورت میں شدید ردعمل سے ڈرانا ، فائدے کے بجائے نقصان کا خوف دلانا، جلالی و جمالی پرہیز کی خصوصی شرائط عائد کرنا، یہ تمام باتیں صرف اور صرف اس لیے ہیں کہ ضرورت مند گھبراکر مشتہرین سے رابطہ کرے اور ہاتھ جوڑ کر عرض گزار ہو کہ سرکار یہ سب تو ہم سے نہیں ہوسکتا، آپ ہی ہماری کچھ مدد فرمائیے، آپ جو نذرانہ چاہیں گے وہ میں پیش کرنے کو تیار ہوں۔
یہ تھی اُس صورت حال کی وضاحت جس کا آپ نے حوالہ دیا ہے،اب ذرا اس مسئلے کو سمجھ لیجیے کہ کوئی چھوٹی موٹی غلطی کیا اہمیت رکھتی ہے اور یہ اہمیت کس جگہ مو ¿ثر ہے اور کس جگہ غیر مو ¿ثر؟ اس کے علاوہ کسی بھی ورد یا وظیفے یا عمل میں رجعت یا شدید ردعمل ظاہر ہونے کا خوف کہاں ممکن ہے اور کہاں نہیں؟ ساتھ ہی ہم اس کی بھی وضاحت کردیں کہ پرہیز جلالی و جمالی کہاں ضروری ہوتا ہے اور کہاں غیر ضروری؟
ایسے تمام عملیات، وردو وظائف جو انسان اپنی جائز اور حقیقی ضروریات کے تحت اللہ سے استعانت کے لیے اختیار کرتا ہے ان میں قبولیت اور اثر پذیری کا معاملہ انسان کی نیت اور ضرورت کی شدت و درستگی نیز مقصد کی سچائی اور طلب اور لگن سے مشروط ہوتا ہے، چھوٹی موٹی غلطیاں اس پر اثر انداز نہیں ہوتیں کیوں کہ وہ قبول کرنے والا، مشکل حل کرنے والا ، نیتوں کا حال جاننے والا ، ہماری ضروریات کے جائز و ناجائز کا فیصلہ کرنے والا ، ہماری تمام کمزوریوں اور خوبیوں سے بہ خوبی واقف ہے، وہ ہماری دعا کو قبول کرتا ہے اور اس کے بعد ہمیں وہی کچھ دیتا ہے جو ہمارے لیے بہتر ہے جب کہ ہم نہیں جانتے کہ ہمارے لیے کیا بہتر ہے؟ لہٰذا ایسے اعمال و وظائف میں کسی رجعت یا شدید ردعمل کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا جن میں انسان اپنی جائز ضروریات کے لیے کسی بھی طریقے سے اپنے رب کو پکار رہا ہو، نہ ہی ایسے اعمال و وظائف کے لیے کسی جلالی و جمالی پرہیز کی ضرورت ہوتی ہے،ہاں البتہ کچّا لہسن ، پیاز، کھانے سے اس لیے منع کیا جاتا ہے کہ اس کی بو دیر تک قائم رہتی ہے اور ملائکہ کو بھی ناپسند ہے،حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ کچّا لہسن پیاز کھاکر ہماری مسجد میں نہ آئیں، اس کی بو سے ملائکہ کو تکلیف ہوتی ہے،حضورﷺ کے اس ارشاد کی روشنی میں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جو لوگ اللہ کے بابرکت ناموں کا ورد کرتے ہیں یا دیگر کلام الٰہی اکثر اپنے ورد میں رکھتے ہیں انہیں کچے لہسن پیاز سے پرہیز کرنا چاہیے، بس اتنی سی بات ہے، پرہیز کے معاملے میں۔
اب ذرا یہ مسئلہ بھی سمجھ لیجیے کہ پرہیز اور کوئی چھوٹی سی غلطی بھی کون سے عملیات و وظائف میں نقصان دہ ثابت ہوتی ہے،سب سے پہلے اس ذیل میں وہ اعمال و وظائف آتے ہیں جن کے ذریعے انسان سپر نیچرل قوتوں کے حصول کے لیے سرگرداں ہوتا ہے یعنی کوئی شخص جنات، ہمزاد یا کسی اور نوعیت کی قوتوں کے حصول کے لیے کوشش کررہا ہو یا پھر کسی ناممکن ایسی خواہش کی تکمیل کے لیے عمل و وظائف کر رہا ہو جن کا وہ اہل ہی نہیں ہے،مثلاً ایک شخص اہلیت نہ رکھتے ہوئے بھی ملک کی وزارت اعظمیٰ کے حصول کے لیے عمل ، چلّے ، وظائف وغیرہ شروع کردے یا ایسی ہی کچھ اور خواہشات بھی ہوسکتی ہیں ، لوگوں کا تو یہ حال ہے کہ جوئے سٹّے، ریس، انعامی بانڈ کی پرچی وغیرہ یا لاٹری کی اسکیموں میں نمبر وغیرہ معلوم کرنے کے لیے بھی عمل و وظائف کرنا شروع کردیتے ہیں، اپنی پسند کی جگہ شادی کے لیے بھی یہ راستہ اختیار کیا جاتا ہے،حالاں کہ اللہ نے کسی کو بھی یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ طاقت و قوت سے یا عمل و وظیفے سے کسی کو زبردستی اپنی بیوی یا شوہر بنانے کی کوشش کرے،ایسے تمام عملیات اور وظائف یقیناً خطرناک قرار دیے جاسکتے ہیں جن میں انسان اپنی خواہشات کا غلام ہوکر سرگرم ہوتا ہے،ان کا نتیجہ اکثر خراب ہی نکلتا ہے لہٰذا بات اتنی ہی ہے کہ اگر آپ اپنی جائز اور حقیقی ضروریات اور پریشانیوں کے لیے اللہ سے اس کے کلام یا اسمائے الٰہی کے ذریعے دست بہ دعا ہوتے ہیں تو نہ آپ کو کسی خاص پرہیز کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی بات کا خوف ہونا چاہیے جب کہ اس کے برعکس صورت حال میں معاملہ بھی برعکس ہوگا۔
ایک اور نکتہ یہاں وضاحت طلب ہے اور وہ یہ کہ اپنی ذات سے متعلقہ مسائل کے حل کی حد تک انسان کو تمام اختیارات حاصل ہیں اور وہ اپنے اعمال و افعال میں آزاد اور خود مختار ہے لیکن جب معاملہ یا مسئلہ کسی دوسرے فریق سے منسلک ہوجائے تو پھر بات مختلف ہوجاتی ہے جیسا کہ پسند کی شادی کے سلسلے میں پہلے حوالہ دیا جاچکاہے مثلاً اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنی پسند کی جگہ شادی کرے اور وہاں اس کی شادی نہیں ہورہی اور شادی نہ ہونے کی وجوہات میں دوسرے فریق یا اس کے والدین کا راضی نہ ہونا شامل ہے ، ایسی صورت میں اس معاملے کو صرف فریق اول کا نجی اور ذاتی معاملہ قرار نہیں دیا جاسکتا اور نہ ہی اسے یہ حق دیا جاسکتا ہے کہ وہ کسی کی مرضی کے خلاف کسی بھی ذریعے سے کوئی اقدام کرے، اگر وہ ایسا کرے گا تو نقصان کا موجب ہوسکتا ہے، اسی طرح عملیات و وظائف کے ذریعے اپنے مخالفین ناپسندیدہ افراد کے خلاف کوئی کارروائی کرنا اکثر اوقات خود اپنے حق میں سخت نقصان دہ ثابت ہوتا ہے،یاد رکھیے آپ کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے مگر محض کسی مفروضے یا قیاس کی بنیاد پر دوسروں کو دشمن قرار دے کر ان کے خلاف جارحانہ کارروائی خود اپنے لیے نقصان اور تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔
آپ نے اپنے لیے درست اسمائے الٰہی منتخب کیے ہیں، بے خوف و خطر اسے اپنے ورد میں رکھیے، باضابطہ پڑھنے کا طریقہ ہم پہلے سمجھا چکے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر بھی اسم اعظم کا کالم موجود ہے اس میں تفصیل دی گئی ہے، کھلے ورد کے لیے کوئی قید نہیں، اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے فرصت کے اوقات میں کھلا ورد کیجیے، جن بنیادی باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے ان سے ہر مسلمان خود آگاہ ہوتا ہے یعنی پاک صاف رہا کریں اور پاکی کی حالت میں ہی اسمائے الٰہی اور کلام الٰہی کا ورد جائز ہے، اپنے صاحب زادے کے لیے اسمائے الٰہی کے ورد کے بعد دعا کیا کریں،زیادہ بہتر یہ ہوتا کہ آپ ان کے تمام کوائف اور حالات ہمیں لکھ دیتیں یعنی تاریخ پیدائش وغیرہ تو پھر ہم زیادہ بہتر طور پر کوئی مشورہ دے سکتے۔
سستی اور کاہلی
ایف، زیڈ، میری لینڈ سے لکھتی ہیں”میں آپ کا کالم پابندی سے پڑھتی ہوں، خاص طور پر جب آپ عام لوگوں کے مسائل لکھتے ہیں اور ان کا تجزیہ کرتے ہیں تو بہت اچھے انداز میں ہر بات کی وضاحت ہوتی ہے،میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرا بیٹا جس کی تاریخ پیدائش وغیرہ میں لکھ رہی ہوں، بہت زیادہ ڈرپوک اور کم ہمت ہے ، اسے نیند بہت آتی ہے، گھر میں اور اپنے کمرے میں محدود رہنا پسند کرتا ہے،اسے کالج جانا بھی ایک مشکل کام معلوم ہوتا ہے،نہ جانے کے لیے نئے نئے بہانے ڈھونڈ لیتا ہے، حالاں کہ ماشاءاللہ صحت مند ہے، اس کی خوراک بھی اچھی ہے اور اسی وجہ سے کچھ موٹاپے کی طرف جارہا ہے،معلوم یہ کرنا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے ، اسے کیا خوف ہے؟ پوچھنے پر کچھ بتاتا بھی نہیں ہے اور اپنی عمر کے حساب سے اتنا ایکٹیو کیوں نہیں ہے؟ جتنا اس عمر کے لڑکوں کو ہونا چاہیے، کمپیوٹر اور موبائل کی حد تک اس کی مصروفیت جاری رہتی ہےں، دوسرے لوگوں سے گھلنا ملنا ، زیادہ بات چیت کرنا بھی پسند نہیں کرتا، پلیز آپ اس کے برتھ چارٹ کی روشنی میں کچھ رہنمائی کریں؟“
جواب: آپ کے صاحب زادے کا برتھ سائن دلو (Aquarius) ہے، پہلی بات تو یہ کہ یہ لوگ اپنی ہی دنیا اور اپنے ہی خیالوں میں مگن رہتے ہیں، غیر روایتی ہوتے ہیں یعنی دوسروں کی پیروی نہیں کرتے،اپنا الگ انداز اختیار کرتے ہیں لیکن بہر حال دلو افراد سوشل ہوتے ہیں، بڑا حلقہ ءاحباب رکھتے ہیں، ان کا زیادہ وقت دوستوں کے ساتھ گزرتا ہے،خدمت خلق کے شوقین ہوتے ہیں، بے شک اپنے ذاتی یا اپنے گھر کے کاموں کو نظرانداز کردیں لیکن دوسروں کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔
آپ کے صاحب زادے کا برتھ چارٹ دیکھنے کے بعد اس خرابی کا اندازہ ہوا جو اس میں موجود ہے،کسی بھی زائچے کا تیسرا گھر بڑی اہمیت رکھتا ہے، اس گھر کا تعلق ایکشن ، پہل کاری اور انرشیٹیو سے ہے،کوشش، جدوجہد کی لگن بھی اسی گھر سے متعلق ہے، برج دلو کے لیے تیسرا گھر برج حمل ہے اور اس کا حاکم سیارہ مریخ ہے جو زائچے کے گیارھویں گھر میں اگرچہ اچھی جگہ واقع ہے لیکن ناقص یا منحوس اثرات کا شکار ہے جس کی وجہ سے اس گھر کی مندرجہ بالا خصوصیات دب گئی ہیں یا تقریباً ختم ہوگئی ہیں، کچھ بھی نیا شروع کرنے سے پہلے خوف زدہ ہونا ، کسی معاملے میں آگے بڑھ کر پُرجوش انداز میں حصہ لینا اس کے لیے ممکن نہیں رہا ، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اس خرابی کی وجہ سے سست، کاہل اور کم ہمت ہوگیا ہے،اس کا علاج یہ ہے کہ سُرخ مرجان کم از کم 5 کیرٹ وزن میں دائیں ہاتھ کی رنگ فنگر میں کسی اچھے وقت پر اسے پہنا دیا جائے اور پابندی سے بدھ کے روز اس کا صدقہ دیا جائے صدقے میں سبز رنگ کی چیزیں دی جائیں، اگر یہ ممکن نہ ہو تو ایسے غریب بچوں کی مدد کی جائے جو اسٹوڈنٹ ہوں، اس ریمیڈی سے انشاءاللہ اس کی کیفیات میں تبدیلی آئے گی،اس کے علاوہ سورئہ طٰہٰ میں حضرت موسیٰ ؑ کی دعا ہے جس کی ابتدا ”ربی شرح لی صدری....“ سے ہورہی ہے، اس دعا کو 7 مرتبہ پڑھ کر پانی پر دم کرکے صبح شام پلایا کریں اور یہ کام لمبے عرصے تک جاری رکھیں، انشاءاللہ فائدہ ہوگا۔
 جادو ٹونے کے بد اثرات
اے، این حیدرآباد سے لکھتے ہیں ” میرے ساتھ ایک ایسا واقعہ یا زندگی کا مایوس کن حادثہ پیش آیا ہے کہ میں اب انتہائی مایوس اور مجبور ہوکر آپ کو خط لکھ رہا ہوں تاکہ آپ اپنے علم و تجربات و مشاہدات کی روشنی میں میری رہنمائی کرسکیں ، تقریباً 4 سال قبل میری بائیں آنکھ میں اچانک شدید درد ہوا تو میں نے آئی اسپیشلسٹ سے رجوع کیا ، اس نے معائنے کے بعد مجھے فوری طورپر کسی بڑے اسپتال سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا ، میں نے کراچی کے ایک بڑے اسپتال میں علاج کرایا مگر آنکھ کی بینائی بحال نہ ہوسکی ، مجھے بتایا گیا کہ آنکھ کے پردے میں پرابلم ہوچکی ہے اور اس کا آپریشن بہت مشکل ہے ، لہٰذا میں مایوس ہوکر واپس چلا آیا اور کئی جگہ آنکھ کامعائنہ کرایا مگر یہی جواب ملتا رہا کہ آنکھ کا نورانی پردہ ناکارہ ہوچکا ہے اور اب 3 سال بعد جو تھوڑا بہت نظر آتا تھا اس میں بھی نمایاں کمی ہوگئی ہے ، جب کہ دائیں آنکھ میں بھی دھندلا نظر آنے لگا ہے ، دائیں آنکھ کے بارے میں ڈاکٹر کہتے ہیں کہ آپریشن ہوگا ، جب کہ ایک آنکھ پہلے ہی ناکارہ ہوچکی ہے ، آپ مشورہ دیں کہ کیا واقعی آنکھ کا آپریشن ہوگا یا لیزر شعاعوں سے علاج ہوجائے گا ، ایک عامل نے فی سبیل اللہ آنکھ کے موتےے کا آپریشن علم کے ذریعے کرنے کی پیشکش کی ہے ۔
 ” میری شادی بدلے میں ہوئی ہے یعنی میری دو بہنیں بھی میرے سالوں سے بیاہی گئی ہیں ، شادی کے فوراً بعد میری ساس نے مجھ پر بد عملیات ، جادو ٹونہ اور سحری علم کرانا شروع کردیا اور میرے والد محترم اور میری بہنوں اور ہمارے گھر پر بھی تعویذات کا عمل خفیہ طورپر شروع کردیا تھا تاکہ داماد اور اس کے گھر والوں کو اپنے قبضے میں کیا جاسکے ، لگتا ہے ان کے یہ بد عملیات کے اثرات کی بدولت میری آنکھ کی بینائی متاثر ہو رہی ہے اور جب کہ شادی کے ایک ماہ بعد ہی میری ملازمت بھی ختم ہوگئی تھی ، اس کے بعد 3 سال کے عرصے میں میرے والد محترم کی بائیں آنکھ میں بھی کالے پتنگے سے تیرنا شروع ہوگئے ہیں ، ایک بار میں اپنی بہنوں کو لینے گیا تو ان لوگوں نے مجھے کھانے یا پینے کی چیزوں میں کچھ کھلایا پلایا تھا اور اب بھی ان کی یہی کوشش رہتی ہے کہ ہمیں زیر کیا جاسکے ، وہ لوگ یہ بھی چاہتے ہیں کہ اپنی ایک اور لڑکی کو ہمارے گھر بیاہ دیں ، یعنی میرے چھوٹے بھائی کے ساتھ جو ہم ہرگز نہیں چاہتے ، وہ لوگ ہم سے پوری پوری دشمنی حسد و بغض رکھتے ہیں ، میری ساس نہ صرف میرے اور میرے والد اور گھر والوں کے ساتھ انتہائی انتقامی رویہ رکھتی ہے اور بد عملیات کرواتی ہے بلکہ میری دونوں بہنوں کے ساتھ بھی انتہائی ذلت آمیز اور روایتی ساس والا ظالمانہ سلوک رکھتی ہے اور بد عملیات کرواتی ہے جس کی وجہ سے ہمیشہ یہ مسائل پیش آرہے ہیں ، ہم لوگ صدقہ خیرات حسب توفیق دیتے رہتے ہیں اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کا بھی خیال رکھتے ہیں مگر اس کے باوجود نہ ملازمت مل سکی اور نہ کہیں کوئی کاروبار قائم کرنے کے لےے حالات سازگار ہوسکے ، ہم دونوں بھائی ابھی تک بے روزگار ہیں ، آپ مشورہ اور رہنمائی کے ساتھ دعا بھی کریں اور مجھے کوئی ورد وظیفہ عطا فرمائیں ، میرا شمسی قمری برج اور موافق نگینہ بھی بتا دیجےے اور یہ بھی فرماےے کہ کیا واقعی مجھ پر سحری اثرات ہیں جن کی وجہ سے جسمانی اور معاشی نقصان ہوا ہے یا کسی اور وجہ سے ، میں آپ کا بے حد ممنون و مشکور رہوں گا ۔“
 جواب: آپ نے اپنی آنکھ کی بیماری کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے اس کا تعلق ہمیں سحر جادو یا بد عملیات سے نظر نہیں آتا ، البتہ یہ ممکن ہے کہ یہ بیماری آپ کے خاندان میں موروثی طور پر موجود ہو کیونکہ آپ کے والد کو بھی یہ شکایت ہے اور بہن کو بھی موتیا کی شکایت ہوئی ہے اور آپ کو بھی ہوئی ہے ، آج کے زمانے میں آنکھوں کے حوالے سے بہت جدید ٹیکنالوجی متعارف ہوچکی ہے لہٰذا با آسانی علاج ہوسکتا ہے ، پہلے بھی آپ کو مایوس ہوکر واپس نہیں جانا چاہےے تھا ، کراچی میں صرف ایک ڈاکٹر نہیں ہے بلکہ بہت زیادہ اعلیٰ درجے کے آئی اسپیشلسٹ موجود ہیں پھر لیزر ٹیکنالوجی کی وجہ سے تو آنکھ کا آپریشن بہت ہی آسان اور صرف چند منٹ کا کام ہے ، بلکہ آنکھ میں لینس بھی ڈال دیا جاتا ہے اور موتیا کا علاج تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے ، بہتر ہوگا کہ اس سلسلے میں کراچی آکر علاج کرائیں ۔
 جہاں تک آپ کے دوسرے مسائل کا تعلق ہے اور آپ کا شک بلکہ یقین یہ ہے کہ آپ کی ساس یہ ساری حرکت کر رہی ہے تو اس سلسلے میں آپ نے جو وجوہات پیش کی ہیں اور جو دلیل پیش کی ہے وہ کافی کم زور ہے ، ممکن ہے آپ کی ساس واقعی اتنی خراب عورت ہو جتنا کہ آپ نے اس کے بارے میں لکھا ہے مگر اس کی آپ سے دشمنی ، حسد اور نفرت کی وجہ ہماری سمجھ میں نہیں آتی ، آخر وہ اپنے داماد کو نقصان پہنچا کر کیا حاصل کرنا چاہتی ہے ؟ 
 اس کی بیٹی کا مستقبل آپ سے وابستہ ہے تو آخر وہ کیوں آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گی ، آپ کے والد سے اس کی دشمنی کی وجہ بھی واضح نہیں ہے ، اگر وہ آپ کے گھر میں اپنی ایک اور بیٹی کو بھیجنا چاہتی ہے تو اس کے لےے بھی اسے آپ کے ساتھ اچھے تعلقات بنانے کی کوشش کرنی چاہےے ، اس سلسلے میں اگر وہ عملیات کا سہارا بھی لیتی ہے تو ان عملیات کا مقصد آپ کے والد کے دل کو نرم کرنا یا آپ کے بھائی کے دل میں جگہ بنانا ہونا چاہےے نہ یہ کہ وہ آپ کے پورے گھرانے کو تباہ کرکے اپنی کسی بیٹی کو آپ کے گھر میں بھیجنے کا انتظام کرے ، یہ تو بڑی غیر منطقی سی بات ہے ، آپ کی بہنوں کے ساتھ اس کا رویہ یقینا روایتی ساسوں والا ہوسکتا ہے مگر بہر حال وہ اس کے گھر میںہی آباد ہےں اور اپنے شوہروں کے ساتھ رہ رہی ہیں لہٰذا عقلی طور پر تو یہ بات زیادہ قابل قبول نہیں ہے کہ وہ آپ کی بیماریوں اور مسائل کی ذمہ دار ہیں،ایک اہم بات یہ بھی قابلِ غور ہے کہ آپ نے اپنی شادی کی جو تاریخ لکھی ہے اُس سے پہلے ہی آپ کی آنکھ کا مسئلہ سامنے آچکا تھا،جہاں تک شادی کے بعد حالات کی خرابی اور نوکری ختم ہونے کی بات ہے تو آپ نے شادی بھی کسی اچھے وقت میں نہیں کی تھی، قصہ مختصر یہ کہ آپ کے تمام معاملات میں جو خرابیاں رہی ہیں ان کی نشان دہی زائچے سے بھی ہوتی ہے،جادو ٹونے کے بجائے ہمارے نزدیک یہ سارا سلسلہ وقت کی خرابی کا ہے،اب روزگار نہ ملنے کی دیگر وجوہات بھی ہوسکتی ہیں جس میں ایک تو بینائی کی کمزوری بھی ہے،آپ جس علاقے میں رہتے ہیں وہاں ویسے بھی روزگار کے مواقع کم ہیں،آپ نے جو پروگرام بنایا ہے وہ درست ہے، پہلے اپنا معقول طریقے سے علاج کرائیں اور اُس کے بعد میڈیکل اسٹور وغیرہ کھول لیں،یقیناً آپ ترقی کرسکتے ہیں کیوں کہ اب وقت بدل رہا ہے اور آپ کی موافقت میں ہے،آپ کا شمسی برج سرطان اور قمری برج جدی ہے جب کہ پیدائشی برج ثور ہے،آپ کے لیے لکی اسٹون زمرد یا فیروزہ ہے،اسے پہننے سے مالی معاملات میں بہتری آئے گی لیکن آپ کو نیلم یا بلیو ترملین بھی پہننا چاہیے،یہ بھی آپ کے لیے خوش قسمتی لانے والا نگینہ ثابت ہوگا۔

منگل، 1 اگست، 2017

اگست کی فلکیاتی صورت حال،جولائی کے بعد ایک اور سخت مہینہ

عمران خان پر لٹکتی نا اہلی کی تلوار ، سندھ انتظامیہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں
ہم جس سے ڈر رہے تھے وہی بات ہوگئی، وزیراعظم اور ان کی کابینہ رخصت ہوئی، جناب نواز شریف کو تاحیات نااہل قرار دیا گیا اور ان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا گیا،فیصلے کی مکمل تفصیلات سے پوری قوم آگاہ ہے۔
گزشتہ سال 27 دسمبر کو میٹروچینل کے ایک لائیو پروگرام میں ہم نے تفصیل کے ساتھ 2017 ءکے امکانات کا جائزہ فلکیاتی صورت حال کی روشنی میں پیش کیا تھا، اس کے علاوہ ہمارے قارئین جانتے ہیں کہ نئے سال کی ابتدا ہی میں ہم نے اپنے کالم میں اس سال کا یہ منظر نامہ پیش کردیا تھا، اس کے بعد بھی وقتاً فوقتاً ہم اپنے کالموں میں جون جولائی کی سختیوں کا ذکر کرتے رہے ہیں،جناب نواز شریف کے زائچے اور ان کے حلف کے زائچے کے حوالے سے بھی پیش آمدہ خطرات کی نشان دہی کرتے رہے ہیں،بہر حال جو ہونا تھا وہ ہوچکا، اب آئندہ کیا ہونے جارہا ہے، اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے،جیسا کہ پہلے بھی بارہا ہم کہتے رہے ہیں کہ راہو کیتو تقریباً 9 ستمبر تک اسٹیشنری پوزیشن میں ہیں، اس پوزیشن کی ابتدا جولائی کے پہلے ہفتے میں ہوئی تھی،وزیراعظم کے زائچہ ءحلف کے علاوہ پاکستان کے زائچے میں بھی یہ پوزیشن نہایت خطرناک اور پریشان کن ہے،مزید یہ کہ اگست کے مہینے میں ایک چاند اور ایک سورج گہن بھی موجود ہےں، چاند گہن پاکستان کے زائچے میں تیسرے اور نویں گھر میں لگ رہا ہے، اس حوالے سے ہم نے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ یہ عدالت عالیہ کی فعالیت اور آئینی و قانونی مسائل و پیچیدگیوں کی نشان دہی کر رہا ہے،گویا آنے والے دنوں میں آئین کی شق 62,63 جو ابھی سے ملک بھر کی خصوصی توجہ کا مرکز بن گئی ہے،مزید شہرت حاصل کرے گی،اس مقدمے کے فیصلے کے بعد پوری قومی اسمبلی اور سینٹ اس تلوار کی زد میں ہیں۔
نئے وزیراعظم کے لیے دوڑ دھوپ شروع ہوچکی ہے،کہا جارہا ہے کہ پہلے 45 دن کے لیے ایک عبوری وزیراعظم لایا جائے گا اور پھر وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو وزیراعظم بنایا جائے گا ،کیا یہ سب باآسانی ہوجائے گا؟آسمانی کونسل کے اشارے تو یہ کہہ رہے ہیں یہ سب بھی آسان نظر نہیں آتا، وفاق میں اقتدار کی جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی نظر آتی ہے،کوئی نیا وزیراعظم عبوری مدت کے لیے آئے گا یا صورت حال نئے انتخابات کی طرف جائے گی، جیسا کہ ہم پہلے اس سال کو نئے انتخابات کا سال قرار دے چکے ہیں، یہ وہ موڑ ہے جہاں سے تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے راستے الگ ہوجاتے ہیں۔
تحریک انصاف
عدالتی فعالیت مزید بڑھے گی، وزیراعظم کی نااہلی پر جشن منانے والے اور مٹھائیاں باٹنے والے بھی 62,63 کی زد میں آسکتے ہیں، اس موقع پر ہم خاص طور سے تحریک انصاف کے سربراہ جناب عمران خان کے زائچے کے مطابق کچھ معروضات پیش کرنا چاہتے ہیں۔
عمران خان کا برتھ سائن میزان 25 ڈگری ہے، راہو کیتو ستمبر کے پہلے ہفتے میں گھر تبدیل کریں گے تو عمران خان کے لیے نئے مسائل جنم لے سکتے ہیں، مزید یہ کہ ان کے زائچے میں دسمبر تک کچھ دوسرے ناموافق اثرات بھی موجود ہیں جن کی وجہ سے انہیں سخت حالات کا سامنا ہوسکتا ہے،وہ بھی نا اہلی کی زد میں آسکتے ہیں جس کا امکان 60 فیصد تک ہے، قصہ مختصر یہ کہ پاکستان کا زائچہ بلاشبہ پاکستان کے لیے خاصی ناخوش گوار صورت حال کی نشان دہی کر رہا ہے،اندرونی و بیرونی خطرات بہت بڑھ چکے ہیں۔
عروس البلاد کراچی
کراچی کو اب عروس البلاد کہنا ایک مذاق لگتا ہے، اگست کے چاند اور سورج گہن کراچی کے زائچے میں بہت اہم نظر آتے ہیں، خاص طور پر 21 اگست کا سورج گہن زائچے کے چھٹے گھر میں ہوگا، راہو کیتو کی جولائی تا ستمبر اسٹیشنری پوزیشن بھی کراچی کے زائچے میں منفی رنگ بکھیر رہی ہے جس کے نتیجے میں صورت حال بد سے بدتر ہوتی چلی جاتی ہے،پیپلز پارٹی کی حکومت نے شاید نوشتہ ءدیوار پڑھ لیا ہے، اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ پاناما کیس کا نتیجہ کیا برآمد ہوگا لہٰذا وفاق میں وہ تحریک انصاف کے ساتھ سپریم کورٹ میں نظر آنے لگے اور سندھ میں انہوں نے پیش بندی کے طور پر ایسی قانون سازی شروع کردی جس کی چھتری کے نیچے وہ وفاقی نیب سے محفوظ ہوسکیں کیوں بقول سندھ اسمبلی اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن ”اسمبلی میں موجود پوری قطار نیب کو مطلوب ہے“
سندھ کے آئی جی کو عضو معطل کردیا گیا، پولیس کے محکمے کا برا حال ہے، اسٹریٹ کرائم میں دوبارہ اضافہ ہورہا ہے،یہ تمام صورت حال کراچی کے زائچے میں راہو کیتو کی خراب پوزیشن کے سبب ہیں،اب سونے پر سہاگا 21 اگست کا سورج گہن ہوگا جس میں انتظامی سطح پر بہت بڑی تبدیلیوں کا امکان نظر آتا ہے، حالات و واقعات سندھ حکومت کے کنٹرول سے باہر ہوسکتے ہیں، ممکن ہے ستمبر سے نومبر تک وزیراعلیٰ سندھ بھی کسی سخت مرحلے کا شکار ہوجائیں، قصہ مختصر یہ کہ آنے والے دنوں میں سندھ میں بھی بڑی تبدیلیوں کا امکان نظرانداز نہیں کیا جاسکتا (واللہ اعلم بالصواب)
اگست کے ستارے
سیارہ شمس اپنے ذاتی برج اسد میں حرکت کر رہا ہے،23 اگست کو برج سنبلہ میں داخل ہوگا، سیارہ عطارد بھی برج اسد میں ہے اور 13 اگست کو اسے رجعت ہوگی اور اپنی الٹی چال پر آجائے گا، سیارہ زہرہ برج سرطان میں ہے اور اس ماہ کی 26 تاریخ کو برج اسد میں داخل ہوگا، سیارہ مریخ برج اسد میں ہے اور پورا ماہ اسی برج میں حرکت کرے گا، سیارہ مشتری برج میزان میں اور سیارہ زحل بحالت رجعت برج قوس میں ہے ، 25 اگست کو زحل مستقیم ہوگا، سیارہ زحل برج حمل میں ہے اور 3 اگست کو رجعت میں چلا جائے گا جب کہ نیپچون اور پلوٹو بالترتیب برج حوت اور جدی میں حرکت کر رہے ہیں اور دونوں ہی رجعت میں ہیں،راس اور ذنب بالترتیب برج اسد اور دلو میں حرکت کر رہے ہیں۔
نظرات و اثراتِ سیارگان
اگست کا مہینہ قیام پاکستان کا مہینہ ہے، پاکستان کے فطری زائچے میں اکثر سیارگان اس ماہ میں پیدائش کے مقام پر آتے ہیں اور اپنے نئے سالانہ سفر کا آغاز کرتے ہیں گویا اسی ماہ سے پاکستان کا نیا سال شروع ہوتا ہے، تاریخ پاکستان کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ عام طور سے اسی مہینے سے ملک میں نئی تبدیلیوں کا آغاز ہوتا ہے جو دوسرے سال جولائی تک جاری رہتی ہےں،اس سال اگست میں دو گہن بھی لگ رہے ہیں پہلا 7 اگست کو اور دوسرا 21 اگست کو، اس اعتبار سے یہ مہینہ زیادہ اہمیت کا حامل ہوجاتا ہے،خیال رہے کہ چاند اور سورج گہن کے اثرات اصل وقت سے کچھ عرصہ قبل شروع ہوجاتے ہیں اور کچھ عرصہ بعد تک قائم رہتے ہیں۔
اگست کے مہینے میں اہم سیارگان کے درمیان 4 تثلیثات اور 3 تسدیسات کے زاویے قائم ہوں گے، یہ سعد اور مثبت اثر کے حامل تصور کیے جاتے ہیں جب کہ ایک مقابلہ اور 3 اسکوائر کے زاویے بھی قائم ہوں گے جنہیں نحس یا منفی اثر کا حامل کہا جاتا ہے،قران کا ایک زاویہ شمس اور عطارد کے درمیان ہوگا جو مختلف زائچوں میں مختلف اثر دیتا ہے لیکن مجموعی طور پر نحس ہوتا ہے کیوں کہ شمس کے قریب سیارہ عطارد تحت الشاع ہوجاتا ہے۔
آئیے ترتیب وار ان سیاروی زاویوں کے اثرات کا جائزہ لیتے ہیں۔
04 اگست: پہلا اہم ترین زاویہ مشتری اور پلوٹو کے درمیان اسکوائر کا ہوگا، یہ نحس اثر کا حامل ہے،مالیاتی ادارے، ترقیاتی منصوبے اور قانونی دباو ¿ اس زاویے کی بنیادی خصوصیات ہیں، پاکستان کے بینکنگ سیکٹر اور اسٹاک مارکیٹ متاثر ہوسکتی ہے،کرنسی کی قیمت میں کمی آسکتی ہے،آئین و قانون کے معاملات میں انتہاپسندانہ نظریات سامنے آسکتے ہیں،عام آدمی کی زندگی میں یہ نظر زیادہ اہم نہیں ہےں۔
10 اگست: عطارد اور زہرہ کے درمیان تسدیس کا زاویہ سعد اثر رکھتا ہے،یہ وقت تخلیقی اور فنکارانہ سرگرمیوں کے لیے معاون و مددگار ثابت ہوتا ہے، دوسروں سے تعلقات کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے،محبت، دوستی اور منگنی یا شادی وغیرہ سے متعلق بات چیت کے لیے مبارک اثر رکھتا ہے۔
11 اگست: شمس اور مشتری کے درمیان تسدیس کا سعد زاویہ حکومت اور عدلیہ کے درمیان بہتر افہام و تفہیم کا ماحول پیدا کرتا ہے،آئین و قانون کے مسائل کو حل کرنے میں مدد ملتی ہے،ترقیاتی کام اور مالی امور میں پیش رفت ہوتی ہے،عام افراد کے لیے یہ وقت گورنمنٹ کے معاملات میں مددوتعاون لاتا ہے،رکے ہوئے کام آگے بڑھتے ہیں۔
12 اگست: زہرہ اور نیپچون کے درمیان تثلیث کا زاویہ سعد اثر رکھتا ہے،خصوصاً تفریحی اور رومانی معاملات میں معاون و مددگار ہوتا ہے،یہ وقت تخلیقی اور فنکارانہ سرگرمیوں کے لیے بھی موافق ہے، اس وقت محبت کے جذبات میں شدت نمایاں ہوتی ہے۔
14 اگست: شمس اور زحل کے درمیان تثلیث کا زاویہ سعد اثر رکھتا ہے،حکومت عام لوگوں کے مسائل پر توجہ دیتی ہے اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے اقدام کیے جاتے ہیں، زراعتی شعبے اور دیگر زمین سے حاصل ہونے والی اشیا کے لیے خصوصی فیصلے اور اقدام دیکھنے میں آتے ہیں، پراپرٹی سے متعلق کاموں میں فائدہ ہوتا ہے،پراپرٹی کا کاروبار بہتر پوزیشن میں آتا ہے،اس وقت جائیداد کی خریدوفروخت بہتر ہوتی ہے۔
15 اگست: زہرہ اور پلوٹو کے درمیان مقابلے کی نظر نحس اکبر ہے،یہ نئے حادثات و سانحات کی نشان دہی کرتی ہے،معاشی نقصانات حادثات کے سبب بڑھ جاتے ہیں، سیکس کرائم میں اضافہ ہوتا ہے۔
17 اگست: زہرہ اور مشتری کے درمیان تربیع کا نحس زاویہ مالی اور بینکنگ سیکٹر میں نقصانات لاتا ہے، عام لوگوں کی زندگی میں دوسروں سے تعلقات میں خرابیاں جنم لیتی ہیں، کاروباری معاملات میں ذہنی تناو ¿ پیدا ہوتا ہے،پارٹنر شپ کے معاملات متاثر ہوتے ہیں۔
20 اگست: مریخ اور مشتری کے درمیان تسدیس کا زاویہ ایک سعد نظر ہے،ٹیکنیکل نوعیت کے معاملات اور مشینری سے متعلق امور میں معاون و مددگار ہوتا ہے،اس وقت ایسے کاموں میں انویسٹمنٹ کرنا بہتر رہے گا۔
21 اگست: شمس اور یورینس کے درمیان تثلیث کا زاویہ حکومت کی طرف سے چونکا دینے والے فیصلے اور اقدام لاتا ہے،عام آدمی کی زندگی پر زیادہ اثر انداز نہیں ہے،الیکٹرونکس سے متعلق اشیا کی قیمتوں میں اُتار چڑھاو ¿ آتا ہے۔
22 اگست: مریخ اور زحل کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ ارضیاتی تحقیق و ریسرچ میں مددگار ثابت ہوتا ہے،یہ وقت نئی کنسٹرکشن میں ٹیکنیکل نوعیت کے مسائل کو حل کرنے میں مدد دیتا ہے، انجینئرنگ کے اعلیٰ منصوبے سامنے آتے ہیں یا بہترین پیش رفت ہوتی ہے۔
25 اگست: زہرہ اور یورینس کے درمیان تربیع کا زاویہ نحس اثر رکھتا ہے،تفریحی و رومانی سرگرمیوں میں کوئی اپ سیٹ ہوسکتا ہے یا بدمزگیاں پیدا ہوسکتی ہیں، خواتین سے عدم تعاون اور اختلافات کا اندیشہ ہوتا ہے،ایسے انکشافات ہوتے ہیں جو باہمی تعلقات میں مسائل پیدا کرتے ہیں۔
27 اگست: شمس اور عطارد کا قران سعد اور نحس دونوں طرح کا اثر دے سکتا ہے،سعادت و نحوس کا انحصار ہر شخص کو اپنے زائچے کے مطابق ہوتا ہے،اس نظر کا عام اثر تحریر و تقریر میں غلطیوں کا امکان ، نامناسب خبروں کا میڈیا میں آنا ہے، یہ وقت بات چیت اور تحریری معاملات میں محتاط رہنے کا ہوگا، اہم دستاویزات پر دستخط کرتے ہوئے محتاط رہیں۔
شرف قمر
سیارہ قمر اس ماہ اپنے درجہ ءشرف پر 13 اگست کو شام 07:08 pm سے 08:53 pm تک رہے گا، یہ سعد و مبارک وقت ہے،اس وقت نیک اعمال کیے جاسکتے ہیں، اسمائے الٰہی یا رحمنُ یا رحیمُ 556 مرتبہ اول آخر گیارہ بار درود شریف کے ساتھ پڑھ کر اپنے جائز مقاصد کے لیے دعا کریں، اس کے علاوہ گھریلو ناچاقی اور باہمی فتنہ و فساد کو ختم کرنے کے لیے بھی بسم اللہ الرحمن الرحیم 786 مرتبہ پڑھ کر تھوڑی سی چینی پر دم کرلیں اور یہ چینی گھر میں استعمال ہونے والی چینی میں ملادیں تاکہ گھر کے تمام افراد استعمال کرسکیں، کوشش کریں کہ یہ چینی ایک ماہ سے پہلے ختم نہ ہو یا ختم ہونے لگے تو مزید چینی ملادیں، انشاءاللہ فتنہ و فساد ختم ہوگا اور باہمی طور پر دلوں میں محبت پیدا ہوگی۔
قمر در عقرب
چاند اس ماہ اپنے ہبوط کے برج عقرب میں ہفتہ 26 اگست کو داخل ہوگا لیکن درجہ ءہبوط پر شام 05:43 pm سے 07:39 pm تک رہے گا، یہ انتہائی نحوست کا وقت خیال کیا جاتا ہے،اس وقت کوئی نیا کام شروع کرنا مناسب نہیں ہوتا ہے،ایسے کاموں کے نتائج خراب نکلتے ہیں ، اس وقت میں علاج معالجہ کرانا بہتر ہوتا ہے یا برائیوں سے روکنے کے لیے عمل و نقش کیے جاتے ہیں،مختلف مقاصد کے لیے ہم ہمیشہ ایسے طریقے لکھتے رہے ہیں، ضرورت کے مطابق ان سے کام لیا جاسکتا ہے۔ 

ہفتہ، 15 جولائی، 2017

عرفانِ ذات اور ارتکاز خیال کی نئی اقلیم


محبت اور شادی؟ عشق کی آگ کا روحانی علاج
اس پر ہنگام اور پر آشوب زندگی اور مشینی ماحول میں جہاں ہم محض ضروریات زندگی بہم پہانے کی مشین بن چکے ہیں وہیں ہم اپنے آپ سے بھی دور ہوتے چلے جارہے ہیں یعنی اپنے آپ سے، اپنی ذات کے نقطہ ءاصل سے اور اس وجہ شرف سے کہ جس کی بناءپر آج نوع انسان کا سر فکروشعور کے تاج سے مزین ہے اور اس کی روح جذبہ و احساس کی خلعت فاخرہ میں ملبوس۔
اصول یہ ہے کہ کسی شے کا ورائے ادراک ہونا اس کے نہ ہونے کی دلیل نہیں ہوتا مثلاً کشش ثقل کائنات کے ابتدائی حقائق میں سے ہے لیکن وہ مشہور سائنس داں آئزک نیوٹن کے دور میں دریافت ہوئی اسی طرح پیراسائیکالوجی کی اصطلاح گو نئی صحیح مگر اس کا وجود اتنا ہی پرانا ہے جتنا حضرت انسان کا بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ آدمی پیراسائیکولوجی کی ہی وجہ سے قید عدم سے آزاد اور شرف انسانی سے ممتاز ہوا۔
آج خواص اور علماءکے علاوہ ایک عام ذہن بھی پیرا سائیکولوجی یعنی مابعد النفسیات کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کے بارے میں مشتاق ہے جو کہ بجائے خود ایک حیرت انگیز امر ہے ،آپ نے غور کیا کہ اس کی وجہ کیا ہے؟
تفکر کی روشنی میں دیکھیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہر شے اپنے اصل کی طرف لوٹتی ہے اور اسی کلّیے کے تحت آج ہم اس علم میں دلچسپی محسوس کرتے ہیں کیوں کہ یہ علم ہماری فطرت میں شامل، ہماری ذات کا اصل اور ہماری جسمانی اور دماغی موشگافیوں کے پس پشت کار فرما توانائی ہے ، یہ رشتے کی ایک ایسی زنجیر ہے جس میں تمام مخلوق باہم اور خاندان کی طرح پروئی ہوئی ہے، پیراسائیکولوجی کا طالب علم کائنات میں موجود یا کار فرما اس ربط کو پالیتا ہے جو اس تمام نظام کو مربوط رکھتا ہے اور اس کی نظر موجودات کی تمام انواع کے اصل مقصد تخلیق پر جاٹھہرتی ہے۔
مذکورہ بالا معروضات پر مزید تفصیلی بحث کرنے سے پہلے آئیے یہ دیکھ لیں کہ پیراسائیکولوجی کی تعریف کیا ہے ، یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ یہ علم اتنا جامع اور کثیر الجہات ہے کہ اس کی ہر ہر جہت ایک مکمل اور مبسوط تعریف کی متقاضی ہے ، اس کا ہر رخ معنی کی ایک نئی دنیا سمیٹے ہوئے ہے اور اس کا ہر زاویہ اپنے اندر آگہی کا ایک نیا جہاں بسائے ہوئے ہے یہاں اس شبہے کا ازالہ کرنا ضروری ہے کہ پیراسائیکولوجی جدید زندگی یا سائنس کی ترقی کے خلاف ہے ، کوئی بھی سائنس ہو، علمی کام ہو یا دماغی کاوش یہ سب ذہنی ارتکاز کے مرہون منت ہیں، خیال کی یہی گہرائی اور ارتکاز پیراسائیکولوجی کہلاتا ہے جس کا اردو ترجمہ مابعدالنفسیات ہے۔
آئیے اب اس کی تعریف مختلف جہات کے حوالے سے کرتے ہیں تاکہ اس کا مفہوم کھل کر سامنے آسکے اور عوام اسے نہ صرف پوری طرح سمجھ سکیں بلکہ اس سے استفادہ بھی کرسکیں جو کہ اس کے بنیادی مقاصد میں سے ایک ہے۔
عام فہم اور مروجہ اصطلاح میں یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ جہاں علم نفسیات کی انتہا ہوتی ہے وہیں سے پیراسائیکولوجی کی لافانی مملکت کا آغاز ہوتا ہے گویا ہمارے تمام شعوری اور لاشعوری رویے اور تحریکات اور وظائف زندگی بالواسطہ طور پر پیراسائیکولوجی کے تحت سر انجام پاتے ہیں، گہرائی میں دیکھا جائے تو انسان حواس ہی کا نام ہے یا ہم حواس ہی کی وجہ سے انسان ہیں ، ذرا سوچیے ! اگر ہم سے ہمارے حواس چھین لیے جائیں تو ہماری حیثیت کیا رہ جائے گی؟ لمس و احساس، نطق و بیان، فکروشعور اور آگہی و ادراک ہم ان ہی کا مجموعہ و مرکب تو ہیں۔
ہمارے اندر اس حواس یا ادراک کی دس قوتیں پائی جاتی ہیں، ان میں سے پانچ ظاہری ہیں اور پانچ باطنی، ہمارے ظاہری حواس قوت سامعہ (سننے کی قوت) قوت لامسہ (چھونے اور محسوس کرنے کی قوت) ،قوت باصرہ (دیکھنے کی قوت)،قوت شامہ (سونگھنے کی قوت) اور قوت ذائقہ ہیں جب کہ ہمارے باطنی حواسوں میں حس مشترک، خیال، وہم، حافظہ اور متصرفہ ہیں، باطنی حواسوں میں حس مشترک وہ حس ہے جو حواس خمسہ ظاہری میں منقوش اور مرتسم ہونے والے تمام محسوسات کو قبول کرلیتی ہے۔
وقت پیدائش ہی سے چوں کہ ہم ایک مخصوص ماحول میں پرورش پاتے ہیں اس لیے ہمیں صرف شعوری اور ظاہری حواس ہی کا ادراک و تجربہ ہوپاتا ہے اور ہم اپنے باطنی حواسوں کے فہم و ادراک سے محروم رہتے ہیں،اس کے نتیجے میں ہمیں اپنی باطنی صلاحیتوں کا شعور کبھی حاصل نہیں ہوتا اور جب یہ باطنی صلاحیتیں کچھ مخصوص حالات کے تحت ابھر کر ہمارے سامنے آتی ہیں تو ہم چکرا کر رہ جاتے ہیں،ہمارا ذہن فوراً کسی ماورائی پراسرار قوت کی طرف چلا جاتا ہے جو ہمارے خیال میں ہمارے معاملات میں مداخلت کر رہی ہوتی ہے،خاص طور پر ایسی صورت حال اکثر نہایت حساس خواتین کے ساتھ پیش آتی ہے،بعض موقع پر چھوٹے بچے بھی اس کا شکار ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں والدین یا دیگر اہل خانہ یہی سمجھتے ہیں کہ ہمارے ساتھ کچھ پراسرار صورت حال پیدا ہورہی ہے لہٰذا فوری طور پر مولویوں، پیروں یا عاملوں سے رجوع کیا جاتا ہے اور پھر جو کچھ ہوتا ہے،وہ یہاں بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
عزیزان من! اپنی پوشیدہ باطنی قوت کے حادثاتی ظہور کا تذکرہ اس لیے ضروری ہے کہ ہمارے معاشرے میں پیراسائیکولوجی تو کیا لوگ سائیکولوجی سے بھی واقف نہیں ہیں، وہ عام طور سے ہر پیچیدہ اور پراسرار معاملے کو کسی نہ کسی قسم کی ماورائیت سے جوڑ بیٹھتے ہیں، انہیں سحری اثرات، جنات و مو ¿کلات کا شبہ شروع ہوجاتا ہے کیوں کہ ہمارے معاشرے میں موجود نام نہاد عاملوں، پیروں اور فقیروں نے اپنے دھندے چمکانے کے لیے اسی قسم کی باتیں پھیلا رکھی ہیں۔
اپنی ذات یا اپنی باطنی یا پوشیدہ بے پناہ قوت سے فیض یاب ہونے کے لیے ہمیں پیراسائیکولوجی کا سہارا لینا ہوگا ، گویا پیراسائیکولوجی ہمیں اپنی ذات میں موجود اس قوت کی آگہی بخشتی ہے جس کے سامنے موجودہ سائنسی ترقی اپنے تمام تر کمال کے باوجود حقیر نظر آتی ہے۔
اگر ہم مذہبی اور روحانی نقطہ ءنظر سے دیکھیں تو ہم پیراسائیکولوجی کی تعریف یوں کریں گے کہ ارتکازیا مراقبے کے ذریعے ذات کا عرفان اور تخلیقی قوت کے حاصل کرنے کا نام پیراسائیکولوجی ہے، دوسرے لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ مذہبی حلقے جس قوت کو روح اور ارباب فلسفہ جیسے ذہنی طاقت کا نام دیتے ہیں، اس قوت کے تخلیقی استعمال پر عبور حاصل کرنے کے طریقے کو پیراسائیکولوجی کہتے ہیں۔
پیراسائیکولوجی کی مختصر تعریف کے بعد آئیے ذرا ان روایتی اور غیر روایتی طریقوں پر روشنی ڈالیں جن کا اس سے گہرا تعلق ہے۔
یہاں اس بات کا بیان غیر ضروری نہ ہوگا کہ علم نفسیات اس بات پر مصر ہے کہ ہمیں صرف اسی بات کا ادراک ہوسکتا ہے یا کوئی شے ہمارے لیے موجود اس وقت ہوگی جب ہمارے ظاہری حواس مثلاً شامہ، باصرہ، سامعہ، لامسہ اور ذائقہ وغیرہ ہمیں اس کا احساس دلانے کا ذریعہ بنیں، با الفاظ دیگر ہمارے ظاہری حواس کا دائرہ کار جتنا وسیع ہوگا بس وہی ہماری کائنات ہے، یہی وہ نکتہ ہے جس کی وجہ سے صاحب وجد ان لوگوں کی رسائی پیراسائیکولوجی تک ہوئی اور اس کی حدود اور دائرئہ کار علم نفسیات سے بلند ہوگیا کیوں کہ یہ بات تجربے میں ہے کہ ہمارے ظاہری حواس اکثر ہمیں دھوکا دیتے ہیں مثلاً سانپ کا ڈسا ہوا تلخی کو شیریں محسوس کرتا ہے، مٹھائی کھانے کے بعد چائے پھیکی محسوس ہونے لگتی ہے، سراب اور مالیخولیا یا شیزوفرینیا کے مریضوں کا فرضی شخصیات سے ملنا اور خیالی حالات و واقعات کا دیکھنا اور ان سے متاثر ہونا ہمارے ظاہری حواس کے فریب کھانے کی نشانیاں ہیں۔
پیراسائیکولوجی کا علم ظاہری حواس کی نفی نہیں کرتا ہے بلکہ ان کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے مگر اس کے اور نفسیات کے نقطہ ءنظر میں فرق یہ ہے کہ نفسیات کی رو سے یہ حواس نقطہ آخر ہیں جب کہ پیراسائیکولوجی انہیں نقطہ اول قرار دے کر ایسی مخفی اور طاقت ور صلاحیتوں کی جانب بھی اشارہ کرتی ہے جو حواس خمسہ کی مدد کے بغیر بھی انسان کو علم یا ادراک بخشتی ہے، ایسا ادراک جس کی گہرائی نامعلوم اور ایسا علم جس کی وسعت لامحدود ہے۔
روز مرہ کی بات ہے کہ ہم میں سے اکثر اپنی تمام زندگی میں کبھی کبھی ایسی نفسیاتی یا جذباتی کیفیت سے ضرور دوچار ہوتے ہیں جو ہمارے ذہن کو عام سطح سے بلند کرکے ہمیں اپنی ذات میں موجود نامعلوم قوتوں اور پر اسرار گوشوں سے متعارف کراتی ہے، گو وقتی طور پر ہی سہی اس کیفیت پر شعوری اور اختیاری عبور حاصل کرنا اور پھر اسے فلاح انسانی یا کم از کم فلاح ذات کے لیے استعمال کرنا پیراسائیکولوجی کے بنیادی مقاصد میں سے ہے۔
اکثر خطوط میں یہ تقاضا ہوتا ہے کہ ہمارا خط شائع نہ کیا جائے‘ صرف جواب دے دیا جائے یا مسئلے کا حل لکھ دیا جائے‘ عام نوعیت کے مسائل میں ہم اس فرمائش کی پابندی کرتے ہیں یعنی صرف جواب دینے پر ہی اکتفا کرتے ہیں لیکن کچھ مسائل ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی اشاعت سے دیگر پڑھنے والے بھی سبق حاصل کرتے ہیں اور ہمارے جواب سے وہ بھی فائدہ اٹھاتے ہیں پھر بھی ہم اس بات کا از حد خیال رکھتے ہیں کہ خط بھیجنے والے کا اصل نام و مقام پوشیدہ رہے یا انتہائی نجی نوعیت کی باتیں شائع نہ ہوں‘ اکثر یہ بھی ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ یا خط شائع نہ بھی کیا جائے تو جواب سے مسئلے کی نوعیت کا پڑھنے والوں کو اندازہ ہوجاتا ہے۔
آج ایک ایسا مسئلہ ہمارے پیش نظر ہے جو ہماری بے شمار بیٹیوں کا مسئلہ ہے یعنی پسند کی شادی‘ یہ مسئلہ معاشرے کی بدلتی ہوئی اقدار اور ضروریات زندگی کی عدم فراہمی کے سبب وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کررہا ہے۔
محبت و شادی
ایک زمانہ وہ بھی تھا جب لڑکیوں کو اپنی شادی کی کوئی فکر نہ ہوتی تھی‘ وہ اپنے خاندان میں دنیا و مافیہا سے بے خبر ہم جولیوں کے سنگ گڑیوں سے کھیلتی جو ان ہوجاتی تھیں اور پھر انہیں اچانک ہی یہ معلوم ہوتا تھا کہ اب ان کی شادی طے ہوگئی ہے پھر وہ چپ چاپ ازدواجی بندھن میں بندھ کر پیا گھر سدھار جاتی تھیں مگر اب صورت حال بالکل بدلتی جارہی ہے، اقتصادی مسائل نے معقول رشتوں کو نایاب کردیا ہے‘ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی ہر لڑکی اور اس کے والدین کا مسئلہ ہی یہ ہے کہ کوئی مناسب رشتہ جلد از جلد مل جائے۔
دوسری معاشرتی تبدیلی یہ واقع ہوئی ہے کہ وہ لڑکیاں جو کبھی گھر سے باہر بھی قدم نہیں رکھتی تھیں، اب کالج اور پھر ملازمت کے میدان میں آکر اپنی شادی کے مسئلہ پر خود مختارانہ غور و فکر کرنے لگیں‘ ساتھ پڑھنے والے لڑکے یا ساتھ کام کرنے والے افراد سے پسند و ناپسند کے معاملے زیر غور آنے لگے اور نتیجے کے طور پر پسند کی شادی کے نت نئے مسائل بھی سامنے آنے لگے اورباہم ایک دوسرے کو پسند کرنے والے لڑکا لڑکی جو باہمی شدید محبت کے دعوے دار بھی ہوتے ہیں، غالب کی زبان میں یہ سوچنے لگے۔
ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یارب
ہم ایسے سیکڑوں نہیں ہزاروں محبت کرنے والوں کے معاملات عشق و شادی کا مشاہدہ کرچکے ہیں اور کرتے رہتے ہیں۔
ہر دو فریقین کا دعویٰ یہی ہوتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے بغیر زندگی نہیں گزار سکتے مگر جب ہم انہیں علم نجوم کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں تو اکثر کا یہ دعویٰ غلط نظر آتا ہے‘ معلوم ہوتا ہے کہ وہ ظاہری وجوہات کی بنا پر یا حالات کے تحت ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے اور قریب ہوتے چلے گئے‘ یہاں تک کہ ایک دوسرے کی قربت کے عادی ہوگئے لیکن حقیقی معنوں میںان کے مزاج و فطرت میں ہم آہنگی نہیں ہے یعنی وہ محبت کے حقیقی جذبے سے محروم ہیں‘ اس لیے ان کا سارا زور صرف شادی پر ہوتا ہے، وہ محبت کے عظیم ولافانی جذبے کی معراج شادی کو سمجھتے ہیں‘ ایسے افراد کی جب شادی ہوجاتی ہے تو پھر رفتہ رفتہ مزاجی اور فطری تضادات ابھر کر سامنے آنا شروع ہوتے ہیں اور محبت و پسند کی شادی ایک ناکام ازدواجی زندگی میں تبدیل ہونا شروع ہوجاتی ہے۔
اس معاملے کا دوسرا رخ یہ ہے کہ شادی نہ ہونے کی صورت میں دونوں فریقین نہ صرف اپنی زندگی کو عذاب بنائے بیٹھے رہتے ہیں بلکہ اپنے گھر والوں کے لیے بھی مسائل و پریشانیاں کھڑی کرتے رہتے ہیں۔ گھر والے جہاں ان کی شادی کرنا چاہتے ہیں وہاں شادی کے لیے وہ تیار نہیں ہوتے‘ جہاں وہ شادی کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں وہاں گھر والے راضی نہیں ہوتے‘ اس کشمکش میں عمر عزیز کے قیمتی سال گزرتے چلے جاتے ہیں شادی کا بہترین وقت ضائع ہوجاتا ہے اور پھر نفسیاتی و جسمانی امراض ایسے افراد کی زندگی میں وہ زہر گھولتے ہیں جن کا تریاق عمر بھر ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا۔
اس ساری صورت حال کا سب سے زیادہ نقصان دونوں فریقین میں لڑکی کو اٹھانا پڑتا ہے‘ لڑکیاں عموما زیادہ حساس اور جذباتی ہوتی ہیں‘ وہ اس قسم کے تعلقات کا بہت گہرا اثر قبول کرتی ہیں‘ وہ جب کسی کو اپنے شریک حیات کے طور پر ذہن و دل سے قبول کرلیتی ہیں تو پھر کسی دوسرے کا خیال بھی اپنے دل میں لانا نہایت معیوب اور گناہ سمجھ لیتی ہیں‘ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اس شخص سے واقعی حقیقی محبت کررہی ہوتی ہیں بلکہ اکثر یہ ہوتا ہے کہ وہ اس تعلق کو اپنی نسوانی انا کا مسئلہ بھی بنالیتی ہیں کیوں کہ بعض کیسوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ ہمارے سمجھانے اور فریق ثانی کے نامناسب انداز و رویوں سے دل برداشتہ ہونے کے باوجود ان کی ضد یہی ہوتی ہے کہ اس سے شادی ضرور کروں گی‘ خواہ بعد میں کچھ بھی ہو۔
ان مسائل کے بے شمار پہلو ہیں‘ اگر بیان کرنے بیٹھ جائیں تو کبھی ختم نہ ہوں۔ اس ساری گفتگو کا مقصد یہ ہے کہ خدارا محبت کے اس پر فریب جال میں پھنس کر زندگی کو برباد نہ کریں‘ جذباتی انداز فکر عارضی طور پر بہت اچھا معلوم ہوتا ہے مگر زندگی کا کوئی مسئلہ اس کے ذریعے حل نہیں ہوسکتا‘ محبت یقینا ایک عظیم اور قابل قدر جذبہ ہے مگر محبت ہے کیا؟ اس کے تقاضے کیا ہیں؟ آداب کیا ہیں؟ انہیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ محبت کی معراج شادی نہیں ہے‘ شادی کی معراج محبت ہے‘ محبت تو قربانی کا دوسرا نام ہے لیکن دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ آج کل کے محبت کرنے والے قربانی دینے کے بجائے دوسروں سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ ان کے لیے اپنی تمام روایات ‘تمام حقوق، تمام آرزوئیں قربان کردیں‘ ورنہ یہ محبت کرنے والے اپنی ایک ذاتی خواہش کے پورا نہ ہونے پر ساری دنیا کو ظالم قرار دے کر ہر رشتے ناطے سے منہ موڑ لیں گے۔
ممکن ہے ہمارے بعض قاری اس موقع پر یہ اعتراض کریں کہ جناب آپ کو کیا معلوم کہ محبت کیا ہے؟ یہ ایک بے اختیاری جذبہ ہے‘ اس کے سامنے انسان بے بس ہے‘ ہم ان کی اس بات سے یقینا اتفاق کریں گے مگر جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیا تھا کہ اس جذبے کو پرکھنے کے بعد ہی کوئی فیصلہ صادر کیا جانا مناسب ہوگا اور پرکھنے کا آسان سا اصول ایک ہی ہے یعنی دونوں طرف قربانی کا جذبہ کتنا ہے اور خود غرضی کا مظاہرہ کس قدر ہے‘ ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ جب جذبے واقعی سچے ہوں تو ایسے لوگوں کی ہر مشکل آسان ہوتی چلی جاتی ہے لیکن فی زمانہ مشاہدہ میں جو بات زیادہ آرہی ہے وہ یہ ہے کہ دونوں فریقین کے جذبے عموما خام ہوتے ہیں‘ خصوصا اس معاملے میں لڑکوں کا کردار زیادہ مشکوک ہوتا ہے وہ لڑکی کی خاطر کوئی قربانی دینے کو تیار نہیں ہوتے جب کہ لڑکیاں جذبات کی رو میں بہہ کر ہر مرحلے سے گزرنے کو تیار ہوجاتی ہیں‘ ہمارا مشورہ ایسی لڑکیوں کے لیے یہی ہے کہ وہ ایسے محبت کے دعوے داروں سے ان کی محبت کا عملی ثبوت ضرور طلب کریں کہ وہ اپنے زبانی وعدوں اور اظہار محبت سے ہٹ کر ان کے لیے کوئی عملی کام کرکے دکھائیں ۔مرد ہونے کے ناطے ان کے لیے شادی کی کوشش کرنا زیادہ آسان کام ہے‘ اپنے گھر والوں کو راضی کرنا اور پھر لڑکی والوں کے گھر بھیجنا ان کی اولین ذمہ داری ہے‘ اگر وہ یہ بھی نہیں کرسکتے تو پھر ان کا جنون محبت یقینا لڑکی کو بے وقوف بناکر اپنی تفریح کا ذریعہ بنانا ہے اور کچھ نہیں۔
اگر وہ یہ کارنامہ انجام دے لیتے ہیں اور اس کے بعد لڑکی کے گھر والے راضی نہیں ہوتے تو کم از کم ان کی محبت پر شک کی گنجائش نہیں رہے گی‘ بہر حال جو بھی صورت ہو‘ شادی ہوسکے یا نہ ہوسکے محبت کے جذبے کا عملی اظہار فی زمانہ ضروری ہے‘ اس کے بغیر لڑکیوںکو اپنی عمر کے قیمتی سال داﺅ پر نہیں لگانے چاہیے ورنہ اس غلطی کا بھیانک خمیازہ انہیں ضرور بھگتنا پڑتا ہے۔

ہفتہ، 8 جولائی، 2017

پیراسائیکولوجی، روحیت، گیان دھیان یا نفس کشی

پیراسائیکولوجی، روحیت، گیان دھیان یا نفس کشی
اپنی ذات کے بحر بیکراں میں غوطہ زن ہوکر اس درّ نایاب کو حاصل کرلیں
وطن عزیز کی سیاسی صورت حال روز بہ روز دلچسپ اور سنسنی خیز ہوتی جارہی ہے،یہ سب زائچہ ءپاکستان میں راہو کیتو کی موجودہ پوزیشن اور سیارہ زحل پر راہو کی خصوصی نظر التفات کا نتیجہ ہے جس کا رونا ہم گزشتہ چند ماہ سے رو رہے ہیں اور اس سال کے آغاز پر بھی اپنے ایسے ہی خدشات کا اظہار کرچکے ہیں، حکومت پوری کوشش کر رہی ہے کہ موجودہ بحران سے نکل سکے مگر عجیب بات یہ ہے کہ حکومت کی ہر کوشش کوئی منفی رُخ اختیار کرلیتی ہے مثلاً 5 جولائی کو جس انداز میں نہایت تزک و احتشام سے مریم نواز صاحبہ نے جے آئی ٹی کے سامنے حاضری دی، وہ مناظر قابل دید تھے اور جس طرح انہیں مقدس شخصیات سے مماثل کیا جارہا ہے، یہ بھی ایک طرفہ تماشا تھا، بے شک ن لیگ کے کارکنان کے لیے تو یہ سب نہایت خوش گوار تھا لیکن دیگر اہل علم و دانش کے لیے نہایت غوروفکر کا مقام تھا، ماضی کے ڈکٹیٹروں کو برا بھلا کہنے والے ہمارے جمہوری سیاست داں یہ کس قسم کی جمہوری سیاست کا نمونہ پیش کر رہے ہیں! 
بہر حال یہ رنگ ڈھنگ حالات کو بہتری کے بجائے کسی اور ہی رُخ پر لے جارہے ہےں، زائچہ ءپاکستان میں دسواں گھر وزیراعظم اور ان کی کابینہ سے متعلق ہے اور سیارہ زحل اس کا حاکم ہے،راہو کی اس پر نظر وزیراعظم صاحب کو نامعلوم کس فریب میں مبتلا کر رہی ہے کہ انہیں نوشتہ ءدیوار نظر نہیں آرہا یا اگر نظر آرہا ہے تو وہ اسے کٹھ پُتلی تماشا اور سازش کا نام دے رہے ہیں، انہیں چاہیے کہ اس موقع پر تمام احتیاط کو بالائے طاق رکھ کر سازش کی نقاب کشائی فرمائیں نہ کہ سارا زور وہ اور ان کے رفقا جے آئی ٹی پر صرف کرتے رہیں،جے آئی ٹی کا کام تو 10 جولائی کو ختم ہوجائے گا ، اس کے بعد کیا ہوگا، اصل فیصلہ تو سپریم کورٹ کی تین رکنی بنچ کرے گی۔
ہم نے جس سیاروی صورت حال کی نشان دہی کی ہے یہ تقریباً ستمبر تک جاری رہے گی ، ستمبر کو ویسے بھی ستم گر کہا جاتا ہے،مزید یہ کہ اگست کے مہینے میں اس سال کے آخری چاند اور سورج گہن بھی قریب آگئے ہیں اور عام طور پر یہ مشاہدے میں آیا ہے کہ چاند یا سورج گہن کسی کام کو پایہ ءتکمیل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں،ہم انہیں ٹریگر کہتے ہیں، پہلا چاند گہن 7 اگست کو ہوگا جو پاکستان میں بھی دیکھا جائے گا، یہ گہن پاکستان کے زائچے کے اہم گھر میں واقع ہوگا، یہی صورت حال 21 اگست کو لگنے والے سورج گہن کی بھی ہوگی جن پر تفصیلی بات چیت انشاءاللہ آئندہ ہوگی،فیض صاحب کی مشہور نظم ایک شہرِ آشوب کا آغاز سے ایک شعر کا انتخاب 
اب صاحبِ انصاف ہے خود طالب انصاف
مہر اُس کی ہے میزان بہ دستِ دگراں ہے
پیراسائیکولوجی
برسوں سے ملنے والی ڈاک یا ای میلز وغیرہ میں شاید ہی کوئی تحریر ایسی ہوتی ہو جسے لکھنے والا اپنی زندگی میں اطمینان و سکون اور خوشیوں کی نوید دیتا نظر آئے، اس کے برعکس ہر خط تڑپتی سسکتی اپنے گوناگوں عذابوں پر نوحہ خواں انسانیت کے کرب و اذیت کا نمونہ ہوتا ہے جسے پڑھ کر دل و دماغ ایک عجیب سی اضطرابی کیفیت کا شکار ہوجاتے ہیں۔
آخر ہر شخص اس قدر پریشان اور مصیبت زدہ کیوں ہے؟ وہ بھی جو لاکھوں کمارہا ہے اور ہزاروں خرچ کرکے بھی رات کو سکون کی نیند نہیں سو سکتا، دن میں اپنی تفریحات اور اہل خانہ کے لیے فرصت کے چند لمحات نہیں نکال سکتا اور وہ بھی جو قلیل آمدنی میں روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے لیے روزوشب محنت و مشقت میں مصروف ہے، اپنی صحت کی خرابیوں کی جانب سے بے پروا اس مختصر سی زندگی کو مزید مختصر کیے جارہا ہے، ایسے ہی افراد کے لیے کسی شاعر نے کیا خوب کہا تھا۔
مجھ کو تھکنے نہیں دیتا یہ ضرورت کا پہاڑ
میرے بچے مجھے بوڑھا نہیں ہونے دیتے
ہمارے مذکورہ بالا سوال پر اگر دانش وران وقت کو اظہار خیال کی دعوت دی جائے تو وہی روایتی تقریریں سننے کو ملیں گی جن میں سیاست و معاشیات کی کھچڑی میں نئے وقت کے ترقیاتی تقاضوں کا تڑکا لگا ہوگا، تعلیم کی کمی اور جدید سائنسی نظریات سے ناآشنائی کا رونا ہوگا تو کیا واقعی ہمارے موجودہ معاشرے کی بدحالی ، دلی اضطراب اور ذہنی خستہ حالی اقدار کی تباہی، دلوں سے محبت کا فقدان وغیرہ کے اسباب و عوامل مندرجہ بالا امور وجوہات ہی میں پوشیدہ ہیں یا ان کا کوئی اور سبب بھی ممکن ہوسکتا ہے؟
آئیے اس سوال پر پیراسائیکولوجی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہیں کیوں کہ پیراسائیکولوجی کا عقیدہ انسانیت، اخلاق حسنہ اور مذاہب عالم کی تعلیمات کو علمی اور سائنسی انداز میں پرکھتے ہوئے ہمارے آج کے معاشرے میں مذہب اور سائنس کے درمیان پائے جانے والے خلا کو پرکرنے کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔
پیراسائیکولوجی کا ہر طالب علم انفرادی سطح پر تو کسی بھی نظریے، مسلک یا مذہب کا پیروکار ہوسکتا ہے مگر اجتماعی طور پر وہ ہر قسم کی پابندی سے بلند ہوکر نوع انسانی بلکہ تمام مخلوقات عالم کی بہتری، بہبود اور خدمت کے لیے ہمہ وقت مستعد اور تیار رہتا ہے۔
ہمارا آج کا معاشرہ دو انتہاو ¿ں میں بٹ کر رہ گیا ہے، نتیجتا ہم اپنے تمام تر مادی وسائل، ترقی اور تعیشات کے باوجود ذہنی کرب اور بے سکونی کی آگ میں جل رہے ہیں،مسائل کا ایک سمندر ہے جو انسان پر اس کی تمام تر قوتوں اور صلاحیتوں کے باوجود حاوی نظر آتا ہے، کہیں انسان صاحب اقتدار ہوکر اپنی حیوانی خواہشوں، انا پرستی اور ظلم و جبر کے زور پر اپنے ہی ہم جنسوں کا استحصال کر رہا ہے ، کہیں صاحب زر ہوکر اور کہیں مذہب کی آڑ لے کر ذاتی مفاد کی خاطر اجتماعیت کو قربان کیے دے رہا ہے، یہ جوہری بم نیو کلیئر اور کیمیاوی ہتھیاروں کی بھرمار اور ان کے زور پر دی جانے والی دھونس دھمکیاں انسانیت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا ہیں، ناگاساکی کے محروموں کی سسکیاں ابھی تک فضا میں سر سرارہی ہیں، ہیروشیما کے سینے کا زخم انسان کا سرشرم سے جھکانے کو اب بھی بہت ہے۔
آج اور ہزاروں سال قبل کے آدمی میں کیا فرق پیدا ہوا ہے؟ کیا یہ کہ پہلے وہ پتھروں اور کُند نیزوں سے ہلاک کیا کرتا تھا اور اب ان کی جگہ مشینی ہتھیاروں نے لے لی ہے یا پھر یہ کہ وہ سفر کے لیے گدھے گھوڑے استعمال کیا کرتا تھا جب کہ آج ہم سپر سانک طیاروں کی بات کرتے ہیں، وہ تنگ و تاریک غاروں میں رہا کرتا تھا اور ہم کشادہ اور ہوادار مکانات میں رہتے ہیں، کیا یہ حقیقت نہیں کہ بابل، یونان، مصر اور قدیم تہذیبوں کے آدمی میں جو حیوانی خواہشات پائی جاتی تھیں، وہی آج ہم میں مزید شدت کے ساتھ پائی جاتی ہیں، کیا یہی ہماری وہ ”ترقی“ ہے جس پر ہمیں ناز ہے، جب تک آج کا انسان اپنے نظریات میں انتہا پسند رہے گا اور اعتدال یا میانہ روی اختیار نہیں کرے گا وہ صحیح معنوں میں ترقی کے مراحل طے نہ کرسکے گا، انتہا پسندی خواہ نظریاتی ہو، مذہبی ہو، لسانی ہو، ثقافتی ہو یا سائنسی، یہ انسان کی آفاقیت کو محدود کردیتی ہے اور وہ انتہا پسندی کے خول میں بند ہوکر بعض ثابت شدہ عقلی اور سائنسی طور پر معقول حقائق کو بھی جھٹلانے لگتا ہے، مذہب اور سائنس کے درمیان پایا جانے والا خلا اسی انتہا پسندی کی واضح مثال ہے، پیراسائیکولوجی ایک ایسا سائنسی علم ہے جو اس خلا کو پر کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرسکتا ہے کیوں کہ یہی خلا انسان کے تعمیری اور تخلیقی ارتقا کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور یہی رکاوٹ شاید روز بروز نت نئے مسائل کو جنم دے رہی ہے۔
یاد رکھیے! ارتقاءفطرت کا اٹل قانون ہے، کائنات ہر لمحہ ایک نئی جہت، ایک نئے رخ کی طرف بڑھ رہی ہے۔
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آرہی ہے دمادم صدائے کن فیکون
جو لوگ فطرت کے اس قانون کو نہیں سمجھ پاتے یا سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں انہیں اس کا خمیازہ تنزل، پستی، جہالت اور گمنای کے اندھیروں کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے،ا نسان اگر مخلوقات کی بقیہ اقسام سے ممتاز، افضل یا ان پر فائق ہے تو اس کی وجہ بھی ”شعوری ارتقائ“ کی یہی صلاحیت ہے، اس کا ذوق تجسس اسے کشاں کشاں نئے نئے حقائق تک رسائی دلاتا اور علم و آگہی کے نئے نئے در وا کرتا چلاجاتا ہے ، مخلوقات کی تمام انواع قوانین فطرت کی پابند ہےں جب کہ فطرت انسان کی پابند اور بشر کے تحت ہے، اگر وہ حقیقی بشر ہو تب!
انسان اگر اپنی ارتقائی صلاحیت کو بھلا بیٹھے یا اسے پس پشت ڈال دے اور محض حیوانی اور نفسانی خواہشات کی تکمیل ہی کو اپنا مقصد حیات ٹھہرائے تو پھر ایک جانور میں اور اس میں کیا فرق باقی رہا۔
کائنات کی ارتقائی تیزی کا عالم یہ ہے کہ ”کلُ یوم ہوفی شان“ طلوع ہونے والا، ہر نیا دن ارتقاءکی نئی شان کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے اور ہم ابھی تک اپنی خواہشات و حواس میں الجھے بیٹھے ہیں، اپنی محدود فکری صلاحیت کو لامحدود ثابت کرنے میں مصروف ہیں، ترقی و حرکت کی اہمیت کے بارے میں ایک اور ارشاد رسول اکرم سنتے چلیے۔
”جس شخص کے تین دن یکساں حالت میں گزر جائیں، سمجھ لو کہ وہ شخص خسارے میں ہے“
جدید سائنس کی طوفانی رفتار مستقبل کے خوابوں کو حال کی حقیقت اور آج کی حقیقتوں کو خیال اور اوہام بناتی چلی جارہی ہے، موجودہ ترقی کی رفتار کا اگر یہی حال رہا تو بہت ممکن ہے کہ صرف چند برسوں میں ہی سائنس اور مذہب کا موجودہ خلا ختم ہوجائے، کثافت تقسیم کے بتدریج عمل سے لطافت میں بدل ہی چکی ہے اور اب وہ دن بھی دور نہیں جب لطافت کو کسی عمل کے ذریعے کثافت میں بدلا جاسکے گا۔
پیراسائیکولوجی پر مشرق میں کی جانے والی صدیوں پر محیط تحقیق کے نتائج جدید سائنس درست تسلیم کر رہی ہے مثلاً یہ نظریہ کہ انسان ابھی تک اپنی عام زندگی میں اپنی صلاحیتوں کا ایک حقیر حصہ ہی استعمال کرپاتا ہے، ثابت ہوچکا ہے اس دور کا جدید انسان اور عام نوعیت کی سائنسی معلومات رکھنے والا ذہن بھی یہ بات جانتا ہے کہ انسان کی تمام زندگی میں اس کے دماغ کا ایک بڑا حصہ قطعی غیر مستعمل رہ جاتا ہے اور اس کے ساقتھ ہی قبر میں چلا جاتا ہے، فرض کیجیے دماغ کو سو فیصد تصور کیا جائے تو جدید تحقیق کے مطابق ایک عام آدمی اپنی تمام زندگی میں اس کا صرف چار سے چھ فیصد ہی استعمال کرپاتا ہے،نیوٹن جیسا ذہین ترین سائنس داں بھی اس سو فیصد کا صرف تقریباً دس فیصد ہی استعمال کرپایا تھا، واضح رہے کہ آئزک نیوٹن وہ شخص ہے جسے مشہور کتاب ”دنیا کے سو بڑے انسان“ (جنہوں نے دنیا کو سب سے زیادہ متاثر کیا) میں درجات کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر رکھا گیا ہے، پہلے نمبر پر آقائے کائنات ہمارے رسول اکرم ہیں، یہ کتاب دنیا بھر کے اہل علم کی مشورت سے مائیکل ایچ ہارٹ نے مرتب کی تھی۔
اب جب کہ یہ بات ثابت ہوچکی ہے اور جدید سائنس بھی اس حقیقت کو مان چکی ہے کہ ہم ابھی تک اپنی ذہنی صلاحیتوں کا صرف چند فیصد ہی استعمال کرپاتے ہیں اور ہماری دماغی قوت کا بڑا حصہ خوابیدہ ہی رہتا ہے، اس کے باوجود انسان کی موجودہ حواسی صلاحیت اور حس و حرکی رینج کو نقطہ آخر مان لینا بھلا کہاں کا انصاف ہے؟ بڑے بڑے سائنس داں اپنی تمام تر ترقی کے باوجود ابھی تک یہی اعتراف کر رہے ہیں کہ ”یہ کائنات ایک سمندر ہے اور ہم ابھی تک کناروں پر سیپیاں ہی چن رہے ہیں“
ہم اپنے ابتدائی کالموں میں یہ بات بتاچکے ہیں کہ مغرب کے مادیت زدہ معاشرے میں بھی انیس ویں صدی کے شروع سے پیراسائیکولوجی کے متعلق ٹھوس کام شروع ہوچکا ہے مگر مغرب ابھی تک اس کے ابتدائی درجوں میں ہے جب کہ مشرق میں اسے باقاعدہ ایک علم کے طور پر صدیوں سے تسلیم کیا جاتا رہا ہے اور اس سلسلے میں ایسے ایسے طریقے وضع کیے جاچکے ہیں کہ جن پر عمل پیرا ہوکر ایک عام فرد میں موجود پوشیدہ صلاحیتیں بے دار ہونے لگتی ہیں، اس بات کو یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ دماغ کا ناقابل استعمال حصہ استعمال ہونے لگتا ہے، یہ ضرور ہے کہ مشرق میں اسے ”روحیت، گیان دھیان یا نفس کشی“ کے ناموں سے موسوم کیا جاتا ہے جب کہ ”پیراسائیکولوجی“ اس علم کے لیے مغربی اصطلاح ہے۔
پیراسائیکولوجی کے تجویز کردہ طریقوں اور عرف عام میں”ماورائی“ کہلائے جانے والے علوم کا مقصد یہی ہے کہ انسان میں ایسی جرا ¿ت رندانہ پیدا ہو کہ وہ اس کائناتی سمندر کی عظمت ورفعت کا طلسم پاش پاش کردے لیکن اس سے پہلے ہمیں چاہیے کہ اپنی ذات کے بحر بیکراں میں غوطہ زن ہوکر اس در نایاب اور گوہر آب دار کو حاصل کرلیں کہ جسے پاکر انسان اپنے حقیقی اور ازلی شرف سے ہم کنار ہوتا ہے تب زمان و مکان ایسے شہ زور بھی اس کے آگے سر جھکا دیتے ہیں، اس کی نظریں لامکانی پردوں کو الٹ دیتی ہیں اس کی زبان رموز ہائے نہاں کو بیان کرتی اور اس کا زور بیان کائناتی طنابوں کو تھام لیتا ہے پھر اس کے لیے کوئی مسئلہ ، مسئلہ نہیں رہتا، ذہن و دل کو وہ سکون اور اطمینان حاصل ہوجاتا ہے جس کی ہر روح انسانی متلاشی ہے، خلاصہ اس کلام کا یہ ہے کہ نوع انسان کو بہ حیثیت مجموعی اپنی تعمیر، تشکیل اور مفید وجود کے لیے پیراسائیکولوجی میں بہر حال دلچسپی لینی چاہیے تاکہ ہماری شخصیت مکمل بھرپور اور جامع انداز میں سامنے آسکے اور ہم ارتقائی منازل میں فطرت کے شانہ بشانہ چل سکیں، اس کے بغیر شاید یہ کبھی ممکن نہ ہوسکے کہ ہم ایک خوش حال، مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے میں سانس لے سکیں، انشاءاللہ اس موضوع پر مزید گفتگو آئندہ بھی جاری رہے گی۔

اتوار، 2 جولائی، 2017

بنیادی انسانی حقوق کی پامالی،معاشرے کی نفسیاتی گھٹن

انسانی حقوق کے بارے میں بات تو کی جاتی ہے مگر محض سیاسی نعرے بازی کے طور پر
جون میں سیاسی صفحوں میں زیادہ ہلچل اور سرگرمی نظر نہیں آئی، شاید احترام رمضان کا خیال اہل سیاست کو رہا ہوگا لیکن یہ ظالم مہینہ پارا چنار اور احمد پور شرقیہ جیسے سانحات کا باعث بنا، پارا چنار میں تاحال متاثرین کا دھرنا جاری ہے،راستوں کی بندش کے سبب جنرل باجوہ وہاں نہیں جاسکے، دیگر سیاسی رہنما بھی وہاں جانے کی ہمت نہیں کرسکے، احمد پور شرقیہ میں جو کچھ ہوا، وہ نہایت خوف ناک اور کرب ناک ہے، مصائب و مشکلات کا شکار لوگ چھوٹے چھوٹے سے فائدوں کے لیے بے قرار ہوجاتے ہیں اور کسی خطرے کی پروا نہیں کرتے، کچھ ایسا ہی احمد پور شرقیہ میں بھی دیکھنے میں آیا ہے، میڈیا کا دباو ¿ اس قدر بڑھا کہ وزیراعظم کو فوری طور پر لندن سے واپس آنا پڑا، متاثرین کے لیے خطیر رقم کا اعلان کیا گیا ہے، نہایت افسوس ناک صورت حال یہ تھی کہ قریب ترین کسی اسپتال میں کوئی برننگ سینٹر موجود نہیں تھا، ملتان کے نشتر اسپتال میں چودھری پرویز الٰہی کی نشانی کے طور پر ایک سینٹر دستیاب ہوا، کیا وزیراعلیٰ پنجاب کو صحت و زندگی کے یہ مسائل نظر نہیں آتے، ان کی نظر میں صرف گرین اور اورنج لائن منصوبے ہی عوام کے لیے ضروری ہیں؟ کہنے والے تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ایسے ہی منصوبے ، منصوبہ سازوں کے لیے فائدہ بخش ہےں، قصہ مختصر یہ کہ رمضان المبارک کا انعام عیدالفطر پاکستانی عوام کو لہو لہو میسر آیا۔
جولائی کا آغاز ہورہا ہے اور گزشتہ کالم میں ہم اس ماہ کی سختیوں اور سفاکیوں کی نشان دہی کرچکے ہیں، دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں پاناما کیس اور جے آئی ٹی کی کارکردگی کا بھی اندازہ ہورہا ہے،بظاہر حالات وزیراعظم کے خلاف نظر آرہے ہیں، نا اہلی کی تلوار ان کے سر پر لٹک رہی ہے مگر کیا وہ آسانی سے یہ سب برداشت کرلیں گے؟ماضی کی تاریخ تو خاصی سنگین ہے ، اس بار دیکھیے کیا ہوتا ہے، کوئی نئی تبدیلی ملک و قوم کے لیے بہتر ثابت ہوتی ہے یا بدتر؟
اگرچہ تبدیلیاں ہمیشہ ترقی کے راستے کا زینہ ہوتی ہیں بشرط یہ کہ انسان مثبت سوچ اور فکر رکھتا ہو لہٰذا امید کی جاسکتی ہے کہ مثبت سوچ کے ساتھ تبدیلیاں لائی جائیں تو وہ مستقبل کے لیے مفید ثابت ہوں گی لیکن ہمارے معاشرے کا اہم ترین مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہر شخص اپنے نظریات اور اقدام کے بارے میں یہ سوچ رکھتا ہے کہ وہ مثبت راستے پر ہے اور دوسرے منفی راستے پر چل رہے ہیں،یہ سوچ اتنی پختہ ہوجاتی ہے کہ پھر دوسروں کی رائے یا نظریات کو جاننے اور اس پر غوروفکر کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جاتی، اختلافی مسائل کو اس قدر حساس بنادیا جاتا ہے کہ ان پر بات کرنا بھی مشکل ہوجائے، نتیجے کے طور پر اختلافی موضوعات ایک ناسور بنتے چلے جاتے ہیں اور ان میں بدبودار مواد اندر ہی اندر پکتا رہتا ہے،اگر ایسے موضوعات پر کھل کر گفتگو ہوتی رہے اور مختلف نکتہ ہائے نظر سامنے آتے رہےں تو کوئی مسئلہ پیچیدگی کا شکار نہ ہو۔
ہم مغرب کی برتری اور ترقی کو حیرت سے دیکھتے ہیں اور ساتھ ہی مغربی معاشرے کی برائیوں کی نشان دہی کرتے ہوئے بھی نہیں تھکتے بلکہ بہ حیثیت مسلمان ہم نے ایک کافر اور مشرک معاشرے کی خامیوں اور برائیوں کو نمایاں کرنے کا کام پوری تندہی سے اپنے ذمے لے رکھا ہے تاکہ عام مسلمان ان کے فریب میں نہ آئےں، کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ اس کے ساتھ ساتھ اپنے مسلمان معاشرے میں پھیلی ہوئی انسانیت سوز برائیوں کو بھی اجاگر کیا جاتا ان پر نہایت اعلیٰ سطح تک ہر مفاد و مصلحت کو بالائے طاق رکھ کر گفتگو کی جاتی،ایسا نہیں ہے کہ ہر طرف خاموشی ہو، کسی نہ کسی حد تک اہل علم اور دانش ور حضرات حسب توفیق ایسے موضوع پر اظہار خیال کرتے رہتے ہیں لیکن ان کی آواز سدا بہ صحرا ہی ثابت ہوتی ہے۔
سب سے اہم معاملہ ہمارے ملک و معاشرے میں انسان کے بنیادی حقوق کا ہے جو بری طرح کچلے جارہے ہیں ، ان حقوق کے بارے میں بات تو کی جاتی ہے مگر محض سیاسی نعرہ بازی کے طور پر ، عملی طور پر ان حقوق کے حصول کے لیے کوئی سنجیدہ جدوجہد ہوتی نظر نہیں آتی، یہی وجہ ہے کہ اہل سیاست پر سے عام لوگوں کا اعتبار ختم ہوتا جارہا ہے اور کوچہ ءسیاست کی حالت بد سے بدتر ہوتی چلی جارہی ہے، آج یہ صورت حال ہے کہ ہر شخص سیاست دانوں کو برا کہہ رہا ہے اور جمہوری نظام پر لعنت بھیج رہا ہے،جمہوریت کسی طور بھی بری چیز نہیں لیکن ہمارے اہل سیاست نے اسے جس انداز میں پیش کیا ہے،وہ جمہوریت کے لیے بھی بدنامی کا باعث ہے،عوام نے سمجھ لیا ہے کہ سیاسی بازی گری کی منزل مقصود صرف اور صرف حصول اقتدار ہے ، عوامی مسائل کا حل نہیں۔
جب ملک میں آمریت ہوتی ہے تو تمام سیاست داں جمہوریت کے خوش گوار گیت گاتے نظر آتے ہیں، یہ گیت تو بہر حال اب بھی گائے جارہے ہیں مگر بے اثر ہیں کیوں کہ عوام تک حقیقی جمہوریت کے فوائد نہیں پہنچ رہے لہٰذا انہیں جمہوریت اور آمریت میں کوئی فرق نظر نہیں آرہا، ایسی ہی صورت حال میں جب فوج مداخلت کرتی ہے تو عوام ان کے راستے میں پھول بچھاتے ہیں اور مٹھائیاں باٹتے ہیں تو کیا ہمارے سیاست داں حالات کو ایسی ہی کسی جانب لے جارہے ہیں ؟