ہفتہ، 15 جولائی، 2017

عرفانِ ذات اور ارتکاز خیال کی نئی اقلیم


محبت اور شادی؟ عشق کی آگ کا روحانی علاج
اس پر ہنگام اور پر آشوب زندگی اور مشینی ماحول میں جہاں ہم محض ضروریات زندگی بہم پہانے کی مشین بن چکے ہیں وہیں ہم اپنے آپ سے بھی دور ہوتے چلے جارہے ہیں یعنی اپنے آپ سے، اپنی ذات کے نقطہ ءاصل سے اور اس وجہ شرف سے کہ جس کی بناءپر آج نوع انسان کا سر فکروشعور کے تاج سے مزین ہے اور اس کی روح جذبہ و احساس کی خلعت فاخرہ میں ملبوس۔
اصول یہ ہے کہ کسی شے کا ورائے ادراک ہونا اس کے نہ ہونے کی دلیل نہیں ہوتا مثلاً کشش ثقل کائنات کے ابتدائی حقائق میں سے ہے لیکن وہ مشہور سائنس داں آئزک نیوٹن کے دور میں دریافت ہوئی اسی طرح پیراسائیکالوجی کی اصطلاح گو نئی صحیح مگر اس کا وجود اتنا ہی پرانا ہے جتنا حضرت انسان کا بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ آدمی پیراسائیکولوجی کی ہی وجہ سے قید عدم سے آزاد اور شرف انسانی سے ممتاز ہوا۔
آج خواص اور علماءکے علاوہ ایک عام ذہن بھی پیرا سائیکولوجی یعنی مابعد النفسیات کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کے بارے میں مشتاق ہے جو کہ بجائے خود ایک حیرت انگیز امر ہے ،آپ نے غور کیا کہ اس کی وجہ کیا ہے؟
تفکر کی روشنی میں دیکھیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہر شے اپنے اصل کی طرف لوٹتی ہے اور اسی کلّیے کے تحت آج ہم اس علم میں دلچسپی محسوس کرتے ہیں کیوں کہ یہ علم ہماری فطرت میں شامل، ہماری ذات کا اصل اور ہماری جسمانی اور دماغی موشگافیوں کے پس پشت کار فرما توانائی ہے ، یہ رشتے کی ایک ایسی زنجیر ہے جس میں تمام مخلوق باہم اور خاندان کی طرح پروئی ہوئی ہے، پیراسائیکولوجی کا طالب علم کائنات میں موجود یا کار فرما اس ربط کو پالیتا ہے جو اس تمام نظام کو مربوط رکھتا ہے اور اس کی نظر موجودات کی تمام انواع کے اصل مقصد تخلیق پر جاٹھہرتی ہے۔
مذکورہ بالا معروضات پر مزید تفصیلی بحث کرنے سے پہلے آئیے یہ دیکھ لیں کہ پیراسائیکولوجی کی تعریف کیا ہے ، یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ یہ علم اتنا جامع اور کثیر الجہات ہے کہ اس کی ہر ہر جہت ایک مکمل اور مبسوط تعریف کی متقاضی ہے ، اس کا ہر رخ معنی کی ایک نئی دنیا سمیٹے ہوئے ہے اور اس کا ہر زاویہ اپنے اندر آگہی کا ایک نیا جہاں بسائے ہوئے ہے یہاں اس شبہے کا ازالہ کرنا ضروری ہے کہ پیراسائیکولوجی جدید زندگی یا سائنس کی ترقی کے خلاف ہے ، کوئی بھی سائنس ہو، علمی کام ہو یا دماغی کاوش یہ سب ذہنی ارتکاز کے مرہون منت ہیں، خیال کی یہی گہرائی اور ارتکاز پیراسائیکولوجی کہلاتا ہے جس کا اردو ترجمہ مابعدالنفسیات ہے۔
آئیے اب اس کی تعریف مختلف جہات کے حوالے سے کرتے ہیں تاکہ اس کا مفہوم کھل کر سامنے آسکے اور عوام اسے نہ صرف پوری طرح سمجھ سکیں بلکہ اس سے استفادہ بھی کرسکیں جو کہ اس کے بنیادی مقاصد میں سے ایک ہے۔
عام فہم اور مروجہ اصطلاح میں یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ جہاں علم نفسیات کی انتہا ہوتی ہے وہیں سے پیراسائیکولوجی کی لافانی مملکت کا آغاز ہوتا ہے گویا ہمارے تمام شعوری اور لاشعوری رویے اور تحریکات اور وظائف زندگی بالواسطہ طور پر پیراسائیکولوجی کے تحت سر انجام پاتے ہیں، گہرائی میں دیکھا جائے تو انسان حواس ہی کا نام ہے یا ہم حواس ہی کی وجہ سے انسان ہیں ، ذرا سوچیے ! اگر ہم سے ہمارے حواس چھین لیے جائیں تو ہماری حیثیت کیا رہ جائے گی؟ لمس و احساس، نطق و بیان، فکروشعور اور آگہی و ادراک ہم ان ہی کا مجموعہ و مرکب تو ہیں۔
ہمارے اندر اس حواس یا ادراک کی دس قوتیں پائی جاتی ہیں، ان میں سے پانچ ظاہری ہیں اور پانچ باطنی، ہمارے ظاہری حواس قوت سامعہ (سننے کی قوت) قوت لامسہ (چھونے اور محسوس کرنے کی قوت) ،قوت باصرہ (دیکھنے کی قوت)،قوت شامہ (سونگھنے کی قوت) اور قوت ذائقہ ہیں جب کہ ہمارے باطنی حواسوں میں حس مشترک، خیال، وہم، حافظہ اور متصرفہ ہیں، باطنی حواسوں میں حس مشترک وہ حس ہے جو حواس خمسہ ظاہری میں منقوش اور مرتسم ہونے والے تمام محسوسات کو قبول کرلیتی ہے۔
وقت پیدائش ہی سے چوں کہ ہم ایک مخصوص ماحول میں پرورش پاتے ہیں اس لیے ہمیں صرف شعوری اور ظاہری حواس ہی کا ادراک و تجربہ ہوپاتا ہے اور ہم اپنے باطنی حواسوں کے فہم و ادراک سے محروم رہتے ہیں،اس کے نتیجے میں ہمیں اپنی باطنی صلاحیتوں کا شعور کبھی حاصل نہیں ہوتا اور جب یہ باطنی صلاحیتیں کچھ مخصوص حالات کے تحت ابھر کر ہمارے سامنے آتی ہیں تو ہم چکرا کر رہ جاتے ہیں،ہمارا ذہن فوراً کسی ماورائی پراسرار قوت کی طرف چلا جاتا ہے جو ہمارے خیال میں ہمارے معاملات میں مداخلت کر رہی ہوتی ہے،خاص طور پر ایسی صورت حال اکثر نہایت حساس خواتین کے ساتھ پیش آتی ہے،بعض موقع پر چھوٹے بچے بھی اس کا شکار ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں والدین یا دیگر اہل خانہ یہی سمجھتے ہیں کہ ہمارے ساتھ کچھ پراسرار صورت حال پیدا ہورہی ہے لہٰذا فوری طور پر مولویوں، پیروں یا عاملوں سے رجوع کیا جاتا ہے اور پھر جو کچھ ہوتا ہے،وہ یہاں بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
عزیزان من! اپنی پوشیدہ باطنی قوت کے حادثاتی ظہور کا تذکرہ اس لیے ضروری ہے کہ ہمارے معاشرے میں پیراسائیکولوجی تو کیا لوگ سائیکولوجی سے بھی واقف نہیں ہیں، وہ عام طور سے ہر پیچیدہ اور پراسرار معاملے کو کسی نہ کسی قسم کی ماورائیت سے جوڑ بیٹھتے ہیں، انہیں سحری اثرات، جنات و مو ¿کلات کا شبہ شروع ہوجاتا ہے کیوں کہ ہمارے معاشرے میں موجود نام نہاد عاملوں، پیروں اور فقیروں نے اپنے دھندے چمکانے کے لیے اسی قسم کی باتیں پھیلا رکھی ہیں۔
اپنی ذات یا اپنی باطنی یا پوشیدہ بے پناہ قوت سے فیض یاب ہونے کے لیے ہمیں پیراسائیکولوجی کا سہارا لینا ہوگا ، گویا پیراسائیکولوجی ہمیں اپنی ذات میں موجود اس قوت کی آگہی بخشتی ہے جس کے سامنے موجودہ سائنسی ترقی اپنے تمام تر کمال کے باوجود حقیر نظر آتی ہے۔
اگر ہم مذہبی اور روحانی نقطہ ءنظر سے دیکھیں تو ہم پیراسائیکولوجی کی تعریف یوں کریں گے کہ ارتکازیا مراقبے کے ذریعے ذات کا عرفان اور تخلیقی قوت کے حاصل کرنے کا نام پیراسائیکولوجی ہے، دوسرے لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ مذہبی حلقے جس قوت کو روح اور ارباب فلسفہ جیسے ذہنی طاقت کا نام دیتے ہیں، اس قوت کے تخلیقی استعمال پر عبور حاصل کرنے کے طریقے کو پیراسائیکولوجی کہتے ہیں۔
پیراسائیکولوجی کی مختصر تعریف کے بعد آئیے ذرا ان روایتی اور غیر روایتی طریقوں پر روشنی ڈالیں جن کا اس سے گہرا تعلق ہے۔
یہاں اس بات کا بیان غیر ضروری نہ ہوگا کہ علم نفسیات اس بات پر مصر ہے کہ ہمیں صرف اسی بات کا ادراک ہوسکتا ہے یا کوئی شے ہمارے لیے موجود اس وقت ہوگی جب ہمارے ظاہری حواس مثلاً شامہ، باصرہ، سامعہ، لامسہ اور ذائقہ وغیرہ ہمیں اس کا احساس دلانے کا ذریعہ بنیں، با الفاظ دیگر ہمارے ظاہری حواس کا دائرہ کار جتنا وسیع ہوگا بس وہی ہماری کائنات ہے، یہی وہ نکتہ ہے جس کی وجہ سے صاحب وجد ان لوگوں کی رسائی پیراسائیکولوجی تک ہوئی اور اس کی حدود اور دائرئہ کار علم نفسیات سے بلند ہوگیا کیوں کہ یہ بات تجربے میں ہے کہ ہمارے ظاہری حواس اکثر ہمیں دھوکا دیتے ہیں مثلاً سانپ کا ڈسا ہوا تلخی کو شیریں محسوس کرتا ہے، مٹھائی کھانے کے بعد چائے پھیکی محسوس ہونے لگتی ہے، سراب اور مالیخولیا یا شیزوفرینیا کے مریضوں کا فرضی شخصیات سے ملنا اور خیالی حالات و واقعات کا دیکھنا اور ان سے متاثر ہونا ہمارے ظاہری حواس کے فریب کھانے کی نشانیاں ہیں۔
پیراسائیکولوجی کا علم ظاہری حواس کی نفی نہیں کرتا ہے بلکہ ان کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے مگر اس کے اور نفسیات کے نقطہ ءنظر میں فرق یہ ہے کہ نفسیات کی رو سے یہ حواس نقطہ آخر ہیں جب کہ پیراسائیکولوجی انہیں نقطہ اول قرار دے کر ایسی مخفی اور طاقت ور صلاحیتوں کی جانب بھی اشارہ کرتی ہے جو حواس خمسہ کی مدد کے بغیر بھی انسان کو علم یا ادراک بخشتی ہے، ایسا ادراک جس کی گہرائی نامعلوم اور ایسا علم جس کی وسعت لامحدود ہے۔
روز مرہ کی بات ہے کہ ہم میں سے اکثر اپنی تمام زندگی میں کبھی کبھی ایسی نفسیاتی یا جذباتی کیفیت سے ضرور دوچار ہوتے ہیں جو ہمارے ذہن کو عام سطح سے بلند کرکے ہمیں اپنی ذات میں موجود نامعلوم قوتوں اور پر اسرار گوشوں سے متعارف کراتی ہے، گو وقتی طور پر ہی سہی اس کیفیت پر شعوری اور اختیاری عبور حاصل کرنا اور پھر اسے فلاح انسانی یا کم از کم فلاح ذات کے لیے استعمال کرنا پیراسائیکولوجی کے بنیادی مقاصد میں سے ہے۔
اکثر خطوط میں یہ تقاضا ہوتا ہے کہ ہمارا خط شائع نہ کیا جائے‘ صرف جواب دے دیا جائے یا مسئلے کا حل لکھ دیا جائے‘ عام نوعیت کے مسائل میں ہم اس فرمائش کی پابندی کرتے ہیں یعنی صرف جواب دینے پر ہی اکتفا کرتے ہیں لیکن کچھ مسائل ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی اشاعت سے دیگر پڑھنے والے بھی سبق حاصل کرتے ہیں اور ہمارے جواب سے وہ بھی فائدہ اٹھاتے ہیں پھر بھی ہم اس بات کا از حد خیال رکھتے ہیں کہ خط بھیجنے والے کا اصل نام و مقام پوشیدہ رہے یا انتہائی نجی نوعیت کی باتیں شائع نہ ہوں‘ اکثر یہ بھی ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ یا خط شائع نہ بھی کیا جائے تو جواب سے مسئلے کی نوعیت کا پڑھنے والوں کو اندازہ ہوجاتا ہے۔
آج ایک ایسا مسئلہ ہمارے پیش نظر ہے جو ہماری بے شمار بیٹیوں کا مسئلہ ہے یعنی پسند کی شادی‘ یہ مسئلہ معاشرے کی بدلتی ہوئی اقدار اور ضروریات زندگی کی عدم فراہمی کے سبب وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کررہا ہے۔
محبت و شادی
ایک زمانہ وہ بھی تھا جب لڑکیوں کو اپنی شادی کی کوئی فکر نہ ہوتی تھی‘ وہ اپنے خاندان میں دنیا و مافیہا سے بے خبر ہم جولیوں کے سنگ گڑیوں سے کھیلتی جو ان ہوجاتی تھیں اور پھر انہیں اچانک ہی یہ معلوم ہوتا تھا کہ اب ان کی شادی طے ہوگئی ہے پھر وہ چپ چاپ ازدواجی بندھن میں بندھ کر پیا گھر سدھار جاتی تھیں مگر اب صورت حال بالکل بدلتی جارہی ہے، اقتصادی مسائل نے معقول رشتوں کو نایاب کردیا ہے‘ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی ہر لڑکی اور اس کے والدین کا مسئلہ ہی یہ ہے کہ کوئی مناسب رشتہ جلد از جلد مل جائے۔
دوسری معاشرتی تبدیلی یہ واقع ہوئی ہے کہ وہ لڑکیاں جو کبھی گھر سے باہر بھی قدم نہیں رکھتی تھیں، اب کالج اور پھر ملازمت کے میدان میں آکر اپنی شادی کے مسئلہ پر خود مختارانہ غور و فکر کرنے لگیں‘ ساتھ پڑھنے والے لڑکے یا ساتھ کام کرنے والے افراد سے پسند و ناپسند کے معاملے زیر غور آنے لگے اور نتیجے کے طور پر پسند کی شادی کے نت نئے مسائل بھی سامنے آنے لگے اورباہم ایک دوسرے کو پسند کرنے والے لڑکا لڑکی جو باہمی شدید محبت کے دعوے دار بھی ہوتے ہیں، غالب کی زبان میں یہ سوچنے لگے۔
ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یارب
ہم ایسے سیکڑوں نہیں ہزاروں محبت کرنے والوں کے معاملات عشق و شادی کا مشاہدہ کرچکے ہیں اور کرتے رہتے ہیں۔
ہر دو فریقین کا دعویٰ یہی ہوتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے بغیر زندگی نہیں گزار سکتے مگر جب ہم انہیں علم نجوم کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں تو اکثر کا یہ دعویٰ غلط نظر آتا ہے‘ معلوم ہوتا ہے کہ وہ ظاہری وجوہات کی بنا پر یا حالات کے تحت ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے اور قریب ہوتے چلے گئے‘ یہاں تک کہ ایک دوسرے کی قربت کے عادی ہوگئے لیکن حقیقی معنوں میںان کے مزاج و فطرت میں ہم آہنگی نہیں ہے یعنی وہ محبت کے حقیقی جذبے سے محروم ہیں‘ اس لیے ان کا سارا زور صرف شادی پر ہوتا ہے، وہ محبت کے عظیم ولافانی جذبے کی معراج شادی کو سمجھتے ہیں‘ ایسے افراد کی جب شادی ہوجاتی ہے تو پھر رفتہ رفتہ مزاجی اور فطری تضادات ابھر کر سامنے آنا شروع ہوتے ہیں اور محبت و پسند کی شادی ایک ناکام ازدواجی زندگی میں تبدیل ہونا شروع ہوجاتی ہے۔
اس معاملے کا دوسرا رخ یہ ہے کہ شادی نہ ہونے کی صورت میں دونوں فریقین نہ صرف اپنی زندگی کو عذاب بنائے بیٹھے رہتے ہیں بلکہ اپنے گھر والوں کے لیے بھی مسائل و پریشانیاں کھڑی کرتے رہتے ہیں۔ گھر والے جہاں ان کی شادی کرنا چاہتے ہیں وہاں شادی کے لیے وہ تیار نہیں ہوتے‘ جہاں وہ شادی کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں وہاں گھر والے راضی نہیں ہوتے‘ اس کشمکش میں عمر عزیز کے قیمتی سال گزرتے چلے جاتے ہیں شادی کا بہترین وقت ضائع ہوجاتا ہے اور پھر نفسیاتی و جسمانی امراض ایسے افراد کی زندگی میں وہ زہر گھولتے ہیں جن کا تریاق عمر بھر ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا۔
اس ساری صورت حال کا سب سے زیادہ نقصان دونوں فریقین میں لڑکی کو اٹھانا پڑتا ہے‘ لڑکیاں عموما زیادہ حساس اور جذباتی ہوتی ہیں‘ وہ اس قسم کے تعلقات کا بہت گہرا اثر قبول کرتی ہیں‘ وہ جب کسی کو اپنے شریک حیات کے طور پر ذہن و دل سے قبول کرلیتی ہیں تو پھر کسی دوسرے کا خیال بھی اپنے دل میں لانا نہایت معیوب اور گناہ سمجھ لیتی ہیں‘ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اس شخص سے واقعی حقیقی محبت کررہی ہوتی ہیں بلکہ اکثر یہ ہوتا ہے کہ وہ اس تعلق کو اپنی نسوانی انا کا مسئلہ بھی بنالیتی ہیں کیوں کہ بعض کیسوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ ہمارے سمجھانے اور فریق ثانی کے نامناسب انداز و رویوں سے دل برداشتہ ہونے کے باوجود ان کی ضد یہی ہوتی ہے کہ اس سے شادی ضرور کروں گی‘ خواہ بعد میں کچھ بھی ہو۔
ان مسائل کے بے شمار پہلو ہیں‘ اگر بیان کرنے بیٹھ جائیں تو کبھی ختم نہ ہوں۔ اس ساری گفتگو کا مقصد یہ ہے کہ خدارا محبت کے اس پر فریب جال میں پھنس کر زندگی کو برباد نہ کریں‘ جذباتی انداز فکر عارضی طور پر بہت اچھا معلوم ہوتا ہے مگر زندگی کا کوئی مسئلہ اس کے ذریعے حل نہیں ہوسکتا‘ محبت یقینا ایک عظیم اور قابل قدر جذبہ ہے مگر محبت ہے کیا؟ اس کے تقاضے کیا ہیں؟ آداب کیا ہیں؟ انہیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ محبت کی معراج شادی نہیں ہے‘ شادی کی معراج محبت ہے‘ محبت تو قربانی کا دوسرا نام ہے لیکن دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ آج کل کے محبت کرنے والے قربانی دینے کے بجائے دوسروں سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ ان کے لیے اپنی تمام روایات ‘تمام حقوق، تمام آرزوئیں قربان کردیں‘ ورنہ یہ محبت کرنے والے اپنی ایک ذاتی خواہش کے پورا نہ ہونے پر ساری دنیا کو ظالم قرار دے کر ہر رشتے ناطے سے منہ موڑ لیں گے۔
ممکن ہے ہمارے بعض قاری اس موقع پر یہ اعتراض کریں کہ جناب آپ کو کیا معلوم کہ محبت کیا ہے؟ یہ ایک بے اختیاری جذبہ ہے‘ اس کے سامنے انسان بے بس ہے‘ ہم ان کی اس بات سے یقینا اتفاق کریں گے مگر جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیا تھا کہ اس جذبے کو پرکھنے کے بعد ہی کوئی فیصلہ صادر کیا جانا مناسب ہوگا اور پرکھنے کا آسان سا اصول ایک ہی ہے یعنی دونوں طرف قربانی کا جذبہ کتنا ہے اور خود غرضی کا مظاہرہ کس قدر ہے‘ ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ جب جذبے واقعی سچے ہوں تو ایسے لوگوں کی ہر مشکل آسان ہوتی چلی جاتی ہے لیکن فی زمانہ مشاہدہ میں جو بات زیادہ آرہی ہے وہ یہ ہے کہ دونوں فریقین کے جذبے عموما خام ہوتے ہیں‘ خصوصا اس معاملے میں لڑکوں کا کردار زیادہ مشکوک ہوتا ہے وہ لڑکی کی خاطر کوئی قربانی دینے کو تیار نہیں ہوتے جب کہ لڑکیاں جذبات کی رو میں بہہ کر ہر مرحلے سے گزرنے کو تیار ہوجاتی ہیں‘ ہمارا مشورہ ایسی لڑکیوں کے لیے یہی ہے کہ وہ ایسے محبت کے دعوے داروں سے ان کی محبت کا عملی ثبوت ضرور طلب کریں کہ وہ اپنے زبانی وعدوں اور اظہار محبت سے ہٹ کر ان کے لیے کوئی عملی کام کرکے دکھائیں ۔مرد ہونے کے ناطے ان کے لیے شادی کی کوشش کرنا زیادہ آسان کام ہے‘ اپنے گھر والوں کو راضی کرنا اور پھر لڑکی والوں کے گھر بھیجنا ان کی اولین ذمہ داری ہے‘ اگر وہ یہ بھی نہیں کرسکتے تو پھر ان کا جنون محبت یقینا لڑکی کو بے وقوف بناکر اپنی تفریح کا ذریعہ بنانا ہے اور کچھ نہیں۔
اگر وہ یہ کارنامہ انجام دے لیتے ہیں اور اس کے بعد لڑکی کے گھر والے راضی نہیں ہوتے تو کم از کم ان کی محبت پر شک کی گنجائش نہیں رہے گی‘ بہر حال جو بھی صورت ہو‘ شادی ہوسکے یا نہ ہوسکے محبت کے جذبے کا عملی اظہار فی زمانہ ضروری ہے‘ اس کے بغیر لڑکیوںکو اپنی عمر کے قیمتی سال داﺅ پر نہیں لگانے چاہیے ورنہ اس غلطی کا بھیانک خمیازہ انہیں ضرور بھگتنا پڑتا ہے۔

ہفتہ، 8 جولائی، 2017

پیراسائیکولوجی، روحیت، گیان دھیان یا نفس کشی

پیراسائیکولوجی، روحیت، گیان دھیان یا نفس کشی
اپنی ذات کے بحر بیکراں میں غوطہ زن ہوکر اس درّ نایاب کو حاصل کرلیں
وطن عزیز کی سیاسی صورت حال روز بہ روز دلچسپ اور سنسنی خیز ہوتی جارہی ہے،یہ سب زائچہ ءپاکستان میں راہو کیتو کی موجودہ پوزیشن اور سیارہ زحل پر راہو کی خصوصی نظر التفات کا نتیجہ ہے جس کا رونا ہم گزشتہ چند ماہ سے رو رہے ہیں اور اس سال کے آغاز پر بھی اپنے ایسے ہی خدشات کا اظہار کرچکے ہیں، حکومت پوری کوشش کر رہی ہے کہ موجودہ بحران سے نکل سکے مگر عجیب بات یہ ہے کہ حکومت کی ہر کوشش کوئی منفی رُخ اختیار کرلیتی ہے مثلاً 5 جولائی کو جس انداز میں نہایت تزک و احتشام سے مریم نواز صاحبہ نے جے آئی ٹی کے سامنے حاضری دی، وہ مناظر قابل دید تھے اور جس طرح انہیں مقدس شخصیات سے مماثل کیا جارہا ہے، یہ بھی ایک طرفہ تماشا تھا، بے شک ن لیگ کے کارکنان کے لیے تو یہ سب نہایت خوش گوار تھا لیکن دیگر اہل علم و دانش کے لیے نہایت غوروفکر کا مقام تھا، ماضی کے ڈکٹیٹروں کو برا بھلا کہنے والے ہمارے جمہوری سیاست داں یہ کس قسم کی جمہوری سیاست کا نمونہ پیش کر رہے ہیں! 
بہر حال یہ رنگ ڈھنگ حالات کو بہتری کے بجائے کسی اور ہی رُخ پر لے جارہے ہےں، زائچہ ءپاکستان میں دسواں گھر وزیراعظم اور ان کی کابینہ سے متعلق ہے اور سیارہ زحل اس کا حاکم ہے،راہو کی اس پر نظر وزیراعظم صاحب کو نامعلوم کس فریب میں مبتلا کر رہی ہے کہ انہیں نوشتہ ءدیوار نظر نہیں آرہا یا اگر نظر آرہا ہے تو وہ اسے کٹھ پُتلی تماشا اور سازش کا نام دے رہے ہیں، انہیں چاہیے کہ اس موقع پر تمام احتیاط کو بالائے طاق رکھ کر سازش کی نقاب کشائی فرمائیں نہ کہ سارا زور وہ اور ان کے رفقا جے آئی ٹی پر صرف کرتے رہیں،جے آئی ٹی کا کام تو 10 جولائی کو ختم ہوجائے گا ، اس کے بعد کیا ہوگا، اصل فیصلہ تو سپریم کورٹ کی تین رکنی بنچ کرے گی۔
ہم نے جس سیاروی صورت حال کی نشان دہی کی ہے یہ تقریباً ستمبر تک جاری رہے گی ، ستمبر کو ویسے بھی ستم گر کہا جاتا ہے،مزید یہ کہ اگست کے مہینے میں اس سال کے آخری چاند اور سورج گہن بھی قریب آگئے ہیں اور عام طور پر یہ مشاہدے میں آیا ہے کہ چاند یا سورج گہن کسی کام کو پایہ ءتکمیل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں،ہم انہیں ٹریگر کہتے ہیں، پہلا چاند گہن 7 اگست کو ہوگا جو پاکستان میں بھی دیکھا جائے گا، یہ گہن پاکستان کے زائچے کے اہم گھر میں واقع ہوگا، یہی صورت حال 21 اگست کو لگنے والے سورج گہن کی بھی ہوگی جن پر تفصیلی بات چیت انشاءاللہ آئندہ ہوگی،فیض صاحب کی مشہور نظم ایک شہرِ آشوب کا آغاز سے ایک شعر کا انتخاب 
اب صاحبِ انصاف ہے خود طالب انصاف
مہر اُس کی ہے میزان بہ دستِ دگراں ہے
پیراسائیکولوجی
برسوں سے ملنے والی ڈاک یا ای میلز وغیرہ میں شاید ہی کوئی تحریر ایسی ہوتی ہو جسے لکھنے والا اپنی زندگی میں اطمینان و سکون اور خوشیوں کی نوید دیتا نظر آئے، اس کے برعکس ہر خط تڑپتی سسکتی اپنے گوناگوں عذابوں پر نوحہ خواں انسانیت کے کرب و اذیت کا نمونہ ہوتا ہے جسے پڑھ کر دل و دماغ ایک عجیب سی اضطرابی کیفیت کا شکار ہوجاتے ہیں۔
آخر ہر شخص اس قدر پریشان اور مصیبت زدہ کیوں ہے؟ وہ بھی جو لاکھوں کمارہا ہے اور ہزاروں خرچ کرکے بھی رات کو سکون کی نیند نہیں سو سکتا، دن میں اپنی تفریحات اور اہل خانہ کے لیے فرصت کے چند لمحات نہیں نکال سکتا اور وہ بھی جو قلیل آمدنی میں روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے لیے روزوشب محنت و مشقت میں مصروف ہے، اپنی صحت کی خرابیوں کی جانب سے بے پروا اس مختصر سی زندگی کو مزید مختصر کیے جارہا ہے، ایسے ہی افراد کے لیے کسی شاعر نے کیا خوب کہا تھا۔
مجھ کو تھکنے نہیں دیتا یہ ضرورت کا پہاڑ
میرے بچے مجھے بوڑھا نہیں ہونے دیتے
ہمارے مذکورہ بالا سوال پر اگر دانش وران وقت کو اظہار خیال کی دعوت دی جائے تو وہی روایتی تقریریں سننے کو ملیں گی جن میں سیاست و معاشیات کی کھچڑی میں نئے وقت کے ترقیاتی تقاضوں کا تڑکا لگا ہوگا، تعلیم کی کمی اور جدید سائنسی نظریات سے ناآشنائی کا رونا ہوگا تو کیا واقعی ہمارے موجودہ معاشرے کی بدحالی ، دلی اضطراب اور ذہنی خستہ حالی اقدار کی تباہی، دلوں سے محبت کا فقدان وغیرہ کے اسباب و عوامل مندرجہ بالا امور وجوہات ہی میں پوشیدہ ہیں یا ان کا کوئی اور سبب بھی ممکن ہوسکتا ہے؟
آئیے اس سوال پر پیراسائیکولوجی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہیں کیوں کہ پیراسائیکولوجی کا عقیدہ انسانیت، اخلاق حسنہ اور مذاہب عالم کی تعلیمات کو علمی اور سائنسی انداز میں پرکھتے ہوئے ہمارے آج کے معاشرے میں مذہب اور سائنس کے درمیان پائے جانے والے خلا کو پرکرنے کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔
پیراسائیکولوجی کا ہر طالب علم انفرادی سطح پر تو کسی بھی نظریے، مسلک یا مذہب کا پیروکار ہوسکتا ہے مگر اجتماعی طور پر وہ ہر قسم کی پابندی سے بلند ہوکر نوع انسانی بلکہ تمام مخلوقات عالم کی بہتری، بہبود اور خدمت کے لیے ہمہ وقت مستعد اور تیار رہتا ہے۔
ہمارا آج کا معاشرہ دو انتہاو ¿ں میں بٹ کر رہ گیا ہے، نتیجتا ہم اپنے تمام تر مادی وسائل، ترقی اور تعیشات کے باوجود ذہنی کرب اور بے سکونی کی آگ میں جل رہے ہیں،مسائل کا ایک سمندر ہے جو انسان پر اس کی تمام تر قوتوں اور صلاحیتوں کے باوجود حاوی نظر آتا ہے، کہیں انسان صاحب اقتدار ہوکر اپنی حیوانی خواہشوں، انا پرستی اور ظلم و جبر کے زور پر اپنے ہی ہم جنسوں کا استحصال کر رہا ہے ، کہیں صاحب زر ہوکر اور کہیں مذہب کی آڑ لے کر ذاتی مفاد کی خاطر اجتماعیت کو قربان کیے دے رہا ہے، یہ جوہری بم نیو کلیئر اور کیمیاوی ہتھیاروں کی بھرمار اور ان کے زور پر دی جانے والی دھونس دھمکیاں انسانیت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا ہیں، ناگاساکی کے محروموں کی سسکیاں ابھی تک فضا میں سر سرارہی ہیں، ہیروشیما کے سینے کا زخم انسان کا سرشرم سے جھکانے کو اب بھی بہت ہے۔
آج اور ہزاروں سال قبل کے آدمی میں کیا فرق پیدا ہوا ہے؟ کیا یہ کہ پہلے وہ پتھروں اور کُند نیزوں سے ہلاک کیا کرتا تھا اور اب ان کی جگہ مشینی ہتھیاروں نے لے لی ہے یا پھر یہ کہ وہ سفر کے لیے گدھے گھوڑے استعمال کیا کرتا تھا جب کہ آج ہم سپر سانک طیاروں کی بات کرتے ہیں، وہ تنگ و تاریک غاروں میں رہا کرتا تھا اور ہم کشادہ اور ہوادار مکانات میں رہتے ہیں، کیا یہ حقیقت نہیں کہ بابل، یونان، مصر اور قدیم تہذیبوں کے آدمی میں جو حیوانی خواہشات پائی جاتی تھیں، وہی آج ہم میں مزید شدت کے ساتھ پائی جاتی ہیں، کیا یہی ہماری وہ ”ترقی“ ہے جس پر ہمیں ناز ہے، جب تک آج کا انسان اپنے نظریات میں انتہا پسند رہے گا اور اعتدال یا میانہ روی اختیار نہیں کرے گا وہ صحیح معنوں میں ترقی کے مراحل طے نہ کرسکے گا، انتہا پسندی خواہ نظریاتی ہو، مذہبی ہو، لسانی ہو، ثقافتی ہو یا سائنسی، یہ انسان کی آفاقیت کو محدود کردیتی ہے اور وہ انتہا پسندی کے خول میں بند ہوکر بعض ثابت شدہ عقلی اور سائنسی طور پر معقول حقائق کو بھی جھٹلانے لگتا ہے، مذہب اور سائنس کے درمیان پایا جانے والا خلا اسی انتہا پسندی کی واضح مثال ہے، پیراسائیکولوجی ایک ایسا سائنسی علم ہے جو اس خلا کو پر کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرسکتا ہے کیوں کہ یہی خلا انسان کے تعمیری اور تخلیقی ارتقا کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور یہی رکاوٹ شاید روز بروز نت نئے مسائل کو جنم دے رہی ہے۔
یاد رکھیے! ارتقاءفطرت کا اٹل قانون ہے، کائنات ہر لمحہ ایک نئی جہت، ایک نئے رخ کی طرف بڑھ رہی ہے۔
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آرہی ہے دمادم صدائے کن فیکون
جو لوگ فطرت کے اس قانون کو نہیں سمجھ پاتے یا سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں انہیں اس کا خمیازہ تنزل، پستی، جہالت اور گمنای کے اندھیروں کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے،ا نسان اگر مخلوقات کی بقیہ اقسام سے ممتاز، افضل یا ان پر فائق ہے تو اس کی وجہ بھی ”شعوری ارتقائ“ کی یہی صلاحیت ہے، اس کا ذوق تجسس اسے کشاں کشاں نئے نئے حقائق تک رسائی دلاتا اور علم و آگہی کے نئے نئے در وا کرتا چلاجاتا ہے ، مخلوقات کی تمام انواع قوانین فطرت کی پابند ہےں جب کہ فطرت انسان کی پابند اور بشر کے تحت ہے، اگر وہ حقیقی بشر ہو تب!
انسان اگر اپنی ارتقائی صلاحیت کو بھلا بیٹھے یا اسے پس پشت ڈال دے اور محض حیوانی اور نفسانی خواہشات کی تکمیل ہی کو اپنا مقصد حیات ٹھہرائے تو پھر ایک جانور میں اور اس میں کیا فرق باقی رہا۔
کائنات کی ارتقائی تیزی کا عالم یہ ہے کہ ”کلُ یوم ہوفی شان“ طلوع ہونے والا، ہر نیا دن ارتقاءکی نئی شان کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے اور ہم ابھی تک اپنی خواہشات و حواس میں الجھے بیٹھے ہیں، اپنی محدود فکری صلاحیت کو لامحدود ثابت کرنے میں مصروف ہیں، ترقی و حرکت کی اہمیت کے بارے میں ایک اور ارشاد رسول اکرم سنتے چلیے۔
”جس شخص کے تین دن یکساں حالت میں گزر جائیں، سمجھ لو کہ وہ شخص خسارے میں ہے“
جدید سائنس کی طوفانی رفتار مستقبل کے خوابوں کو حال کی حقیقت اور آج کی حقیقتوں کو خیال اور اوہام بناتی چلی جارہی ہے، موجودہ ترقی کی رفتار کا اگر یہی حال رہا تو بہت ممکن ہے کہ صرف چند برسوں میں ہی سائنس اور مذہب کا موجودہ خلا ختم ہوجائے، کثافت تقسیم کے بتدریج عمل سے لطافت میں بدل ہی چکی ہے اور اب وہ دن بھی دور نہیں جب لطافت کو کسی عمل کے ذریعے کثافت میں بدلا جاسکے گا۔
پیراسائیکولوجی پر مشرق میں کی جانے والی صدیوں پر محیط تحقیق کے نتائج جدید سائنس درست تسلیم کر رہی ہے مثلاً یہ نظریہ کہ انسان ابھی تک اپنی عام زندگی میں اپنی صلاحیتوں کا ایک حقیر حصہ ہی استعمال کرپاتا ہے، ثابت ہوچکا ہے اس دور کا جدید انسان اور عام نوعیت کی سائنسی معلومات رکھنے والا ذہن بھی یہ بات جانتا ہے کہ انسان کی تمام زندگی میں اس کے دماغ کا ایک بڑا حصہ قطعی غیر مستعمل رہ جاتا ہے اور اس کے ساقتھ ہی قبر میں چلا جاتا ہے، فرض کیجیے دماغ کو سو فیصد تصور کیا جائے تو جدید تحقیق کے مطابق ایک عام آدمی اپنی تمام زندگی میں اس کا صرف چار سے چھ فیصد ہی استعمال کرپاتا ہے،نیوٹن جیسا ذہین ترین سائنس داں بھی اس سو فیصد کا صرف تقریباً دس فیصد ہی استعمال کرپایا تھا، واضح رہے کہ آئزک نیوٹن وہ شخص ہے جسے مشہور کتاب ”دنیا کے سو بڑے انسان“ (جنہوں نے دنیا کو سب سے زیادہ متاثر کیا) میں درجات کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر رکھا گیا ہے، پہلے نمبر پر آقائے کائنات ہمارے رسول اکرم ہیں، یہ کتاب دنیا بھر کے اہل علم کی مشورت سے مائیکل ایچ ہارٹ نے مرتب کی تھی۔
اب جب کہ یہ بات ثابت ہوچکی ہے اور جدید سائنس بھی اس حقیقت کو مان چکی ہے کہ ہم ابھی تک اپنی ذہنی صلاحیتوں کا صرف چند فیصد ہی استعمال کرپاتے ہیں اور ہماری دماغی قوت کا بڑا حصہ خوابیدہ ہی رہتا ہے، اس کے باوجود انسان کی موجودہ حواسی صلاحیت اور حس و حرکی رینج کو نقطہ آخر مان لینا بھلا کہاں کا انصاف ہے؟ بڑے بڑے سائنس داں اپنی تمام تر ترقی کے باوجود ابھی تک یہی اعتراف کر رہے ہیں کہ ”یہ کائنات ایک سمندر ہے اور ہم ابھی تک کناروں پر سیپیاں ہی چن رہے ہیں“
ہم اپنے ابتدائی کالموں میں یہ بات بتاچکے ہیں کہ مغرب کے مادیت زدہ معاشرے میں بھی انیس ویں صدی کے شروع سے پیراسائیکولوجی کے متعلق ٹھوس کام شروع ہوچکا ہے مگر مغرب ابھی تک اس کے ابتدائی درجوں میں ہے جب کہ مشرق میں اسے باقاعدہ ایک علم کے طور پر صدیوں سے تسلیم کیا جاتا رہا ہے اور اس سلسلے میں ایسے ایسے طریقے وضع کیے جاچکے ہیں کہ جن پر عمل پیرا ہوکر ایک عام فرد میں موجود پوشیدہ صلاحیتیں بے دار ہونے لگتی ہیں، اس بات کو یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ دماغ کا ناقابل استعمال حصہ استعمال ہونے لگتا ہے، یہ ضرور ہے کہ مشرق میں اسے ”روحیت، گیان دھیان یا نفس کشی“ کے ناموں سے موسوم کیا جاتا ہے جب کہ ”پیراسائیکولوجی“ اس علم کے لیے مغربی اصطلاح ہے۔
پیراسائیکولوجی کے تجویز کردہ طریقوں اور عرف عام میں”ماورائی“ کہلائے جانے والے علوم کا مقصد یہی ہے کہ انسان میں ایسی جرا ¿ت رندانہ پیدا ہو کہ وہ اس کائناتی سمندر کی عظمت ورفعت کا طلسم پاش پاش کردے لیکن اس سے پہلے ہمیں چاہیے کہ اپنی ذات کے بحر بیکراں میں غوطہ زن ہوکر اس در نایاب اور گوہر آب دار کو حاصل کرلیں کہ جسے پاکر انسان اپنے حقیقی اور ازلی شرف سے ہم کنار ہوتا ہے تب زمان و مکان ایسے شہ زور بھی اس کے آگے سر جھکا دیتے ہیں، اس کی نظریں لامکانی پردوں کو الٹ دیتی ہیں اس کی زبان رموز ہائے نہاں کو بیان کرتی اور اس کا زور بیان کائناتی طنابوں کو تھام لیتا ہے پھر اس کے لیے کوئی مسئلہ ، مسئلہ نہیں رہتا، ذہن و دل کو وہ سکون اور اطمینان حاصل ہوجاتا ہے جس کی ہر روح انسانی متلاشی ہے، خلاصہ اس کلام کا یہ ہے کہ نوع انسان کو بہ حیثیت مجموعی اپنی تعمیر، تشکیل اور مفید وجود کے لیے پیراسائیکولوجی میں بہر حال دلچسپی لینی چاہیے تاکہ ہماری شخصیت مکمل بھرپور اور جامع انداز میں سامنے آسکے اور ہم ارتقائی منازل میں فطرت کے شانہ بشانہ چل سکیں، اس کے بغیر شاید یہ کبھی ممکن نہ ہوسکے کہ ہم ایک خوش حال، مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے میں سانس لے سکیں، انشاءاللہ اس موضوع پر مزید گفتگو آئندہ بھی جاری رہے گی۔

اتوار، 2 جولائی، 2017

بنیادی انسانی حقوق کی پامالی،معاشرے کی نفسیاتی گھٹن

انسانی حقوق کے بارے میں بات تو کی جاتی ہے مگر محض سیاسی نعرے بازی کے طور پر
جون میں سیاسی صفحوں میں زیادہ ہلچل اور سرگرمی نظر نہیں آئی، شاید احترام رمضان کا خیال اہل سیاست کو رہا ہوگا لیکن یہ ظالم مہینہ پارا چنار اور احمد پور شرقیہ جیسے سانحات کا باعث بنا، پارا چنار میں تاحال متاثرین کا دھرنا جاری ہے،راستوں کی بندش کے سبب جنرل باجوہ وہاں نہیں جاسکے، دیگر سیاسی رہنما بھی وہاں جانے کی ہمت نہیں کرسکے، احمد پور شرقیہ میں جو کچھ ہوا، وہ نہایت خوف ناک اور کرب ناک ہے، مصائب و مشکلات کا شکار لوگ چھوٹے چھوٹے سے فائدوں کے لیے بے قرار ہوجاتے ہیں اور کسی خطرے کی پروا نہیں کرتے، کچھ ایسا ہی احمد پور شرقیہ میں بھی دیکھنے میں آیا ہے، میڈیا کا دباو ¿ اس قدر بڑھا کہ وزیراعظم کو فوری طور پر لندن سے واپس آنا پڑا، متاثرین کے لیے خطیر رقم کا اعلان کیا گیا ہے، نہایت افسوس ناک صورت حال یہ تھی کہ قریب ترین کسی اسپتال میں کوئی برننگ سینٹر موجود نہیں تھا، ملتان کے نشتر اسپتال میں چودھری پرویز الٰہی کی نشانی کے طور پر ایک سینٹر دستیاب ہوا، کیا وزیراعلیٰ پنجاب کو صحت و زندگی کے یہ مسائل نظر نہیں آتے، ان کی نظر میں صرف گرین اور اورنج لائن منصوبے ہی عوام کے لیے ضروری ہیں؟ کہنے والے تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ایسے ہی منصوبے ، منصوبہ سازوں کے لیے فائدہ بخش ہےں، قصہ مختصر یہ کہ رمضان المبارک کا انعام عیدالفطر پاکستانی عوام کو لہو لہو میسر آیا۔
جولائی کا آغاز ہورہا ہے اور گزشتہ کالم میں ہم اس ماہ کی سختیوں اور سفاکیوں کی نشان دہی کرچکے ہیں، دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں پاناما کیس اور جے آئی ٹی کی کارکردگی کا بھی اندازہ ہورہا ہے،بظاہر حالات وزیراعظم کے خلاف نظر آرہے ہیں، نا اہلی کی تلوار ان کے سر پر لٹک رہی ہے مگر کیا وہ آسانی سے یہ سب برداشت کرلیں گے؟ماضی کی تاریخ تو خاصی سنگین ہے ، اس بار دیکھیے کیا ہوتا ہے، کوئی نئی تبدیلی ملک و قوم کے لیے بہتر ثابت ہوتی ہے یا بدتر؟
اگرچہ تبدیلیاں ہمیشہ ترقی کے راستے کا زینہ ہوتی ہیں بشرط یہ کہ انسان مثبت سوچ اور فکر رکھتا ہو لہٰذا امید کی جاسکتی ہے کہ مثبت سوچ کے ساتھ تبدیلیاں لائی جائیں تو وہ مستقبل کے لیے مفید ثابت ہوں گی لیکن ہمارے معاشرے کا اہم ترین مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہر شخص اپنے نظریات اور اقدام کے بارے میں یہ سوچ رکھتا ہے کہ وہ مثبت راستے پر ہے اور دوسرے منفی راستے پر چل رہے ہیں،یہ سوچ اتنی پختہ ہوجاتی ہے کہ پھر دوسروں کی رائے یا نظریات کو جاننے اور اس پر غوروفکر کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جاتی، اختلافی مسائل کو اس قدر حساس بنادیا جاتا ہے کہ ان پر بات کرنا بھی مشکل ہوجائے، نتیجے کے طور پر اختلافی موضوعات ایک ناسور بنتے چلے جاتے ہیں اور ان میں بدبودار مواد اندر ہی اندر پکتا رہتا ہے،اگر ایسے موضوعات پر کھل کر گفتگو ہوتی رہے اور مختلف نکتہ ہائے نظر سامنے آتے رہےں تو کوئی مسئلہ پیچیدگی کا شکار نہ ہو۔
ہم مغرب کی برتری اور ترقی کو حیرت سے دیکھتے ہیں اور ساتھ ہی مغربی معاشرے کی برائیوں کی نشان دہی کرتے ہوئے بھی نہیں تھکتے بلکہ بہ حیثیت مسلمان ہم نے ایک کافر اور مشرک معاشرے کی خامیوں اور برائیوں کو نمایاں کرنے کا کام پوری تندہی سے اپنے ذمے لے رکھا ہے تاکہ عام مسلمان ان کے فریب میں نہ آئےں، کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ اس کے ساتھ ساتھ اپنے مسلمان معاشرے میں پھیلی ہوئی انسانیت سوز برائیوں کو بھی اجاگر کیا جاتا ان پر نہایت اعلیٰ سطح تک ہر مفاد و مصلحت کو بالائے طاق رکھ کر گفتگو کی جاتی،ایسا نہیں ہے کہ ہر طرف خاموشی ہو، کسی نہ کسی حد تک اہل علم اور دانش ور حضرات حسب توفیق ایسے موضوع پر اظہار خیال کرتے رہتے ہیں لیکن ان کی آواز سدا بہ صحرا ہی ثابت ہوتی ہے۔
سب سے اہم معاملہ ہمارے ملک و معاشرے میں انسان کے بنیادی حقوق کا ہے جو بری طرح کچلے جارہے ہیں ، ان حقوق کے بارے میں بات تو کی جاتی ہے مگر محض سیاسی نعرہ بازی کے طور پر ، عملی طور پر ان حقوق کے حصول کے لیے کوئی سنجیدہ جدوجہد ہوتی نظر نہیں آتی، یہی وجہ ہے کہ اہل سیاست پر سے عام لوگوں کا اعتبار ختم ہوتا جارہا ہے اور کوچہ ءسیاست کی حالت بد سے بدتر ہوتی چلی جارہی ہے، آج یہ صورت حال ہے کہ ہر شخص سیاست دانوں کو برا کہہ رہا ہے اور جمہوری نظام پر لعنت بھیج رہا ہے،جمہوریت کسی طور بھی بری چیز نہیں لیکن ہمارے اہل سیاست نے اسے جس انداز میں پیش کیا ہے،وہ جمہوریت کے لیے بھی بدنامی کا باعث ہے،عوام نے سمجھ لیا ہے کہ سیاسی بازی گری کی منزل مقصود صرف اور صرف حصول اقتدار ہے ، عوامی مسائل کا حل نہیں۔
جب ملک میں آمریت ہوتی ہے تو تمام سیاست داں جمہوریت کے خوش گوار گیت گاتے نظر آتے ہیں، یہ گیت تو بہر حال اب بھی گائے جارہے ہیں مگر بے اثر ہیں کیوں کہ عوام تک حقیقی جمہوریت کے فوائد نہیں پہنچ رہے لہٰذا انہیں جمہوریت اور آمریت میں کوئی فرق نظر نہیں آرہا، ایسی ہی صورت حال میں جب فوج مداخلت کرتی ہے تو عوام ان کے راستے میں پھول بچھاتے ہیں اور مٹھائیاں باٹتے ہیں تو کیا ہمارے سیاست داں حالات کو ایسی ہی کسی جانب لے جارہے ہیں ؟

ہفتہ، 24 جون، 2017

جولائی کی فلکیاتی صورت حال، ایک سخت مہینے کا آغاز
وزیراعظم نواز شریف کے لیے ایک سخت اور ناموافق مہینہ
ایک طویل عرصے کے بعد پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے کرکٹ کے میدان سے جو خوشی کی خبر آئی ہے،اُس نے بلاشبہ رمضان کی سعادت اور عید کی خوشیوں میں اضافہ کردیا ہے، بہت بڑے بڑے بول بولنے والا انڈین میڈیا سناٹے میں آگیا ہے، اس کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ یہ ہوا کیا ہے؟ انڈیا کی مضبوط ترین کرکٹ ٹیم جس کی بیٹنگ لائن پر انہیں ناز تھا، اس طرح ڈھیر ہوگئی جیسے ریت کے گھروندے، بلاشبہ محمد عامر کا پہلا اسپیل ایسا ہی تباہ کن تھا جس نے انڈین بیٹنگ لائن کی کمر توڑ کر رکھ دی اور حیرت انگیز طور پر پاکستانی بیٹنگ لائن نے اپنی روایت کے خلاف کارکردگی کا مظاہرہ کیا، اس موقع پر بلاشبہ پاکستان کرکٹ ٹیم مبارک باد کی مستحق ہے اور قوم کے لیے سرمایہ ءافتخار ہے، برسوں پہلے رمضان المبارک کے مہینے ہی میں پاکستان نے ورلڈ کپ جیتا تھا اور اب چیمپئنز ٹرافی کا تحفہ بھی اسی مہینے میں حاصل ہوا، ہماری طرف سے بھی بہت بہت مبارک۔
جون سے شروع ہونے والا وقت کسی طور بھی وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے لیے موافق ثابت نہیں ہورہا، جیسا کہ ہم نے اپنے گزشتہ کالموں میں نشان دہی بھی کی تھی، جے آئی ٹی پر کی گئی چڑھائی پسپا ہوچکی ہے،سپریم کورٹ میں حسین نواز کی درخواست کو زیادہ اہمیت نہیں دی اور جے آئی ٹی کو بدستور اپنا کام وقت پر مکمل کرنے کی ہدایت کردی، سپریم کورٹ نے حکومت کو اور میڈیا کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ہے کہ وہ اپنی حدود میں رہیں اور کسی ایک شخص کو بچانے کے لیے منفی طریقے اختیار کرنے سے گریز کریں، بہ صورت دیگر سپریم کورٹ کوئی ناخوش گوار حکم بھی جاری کرسکتی ہے۔
اس سخت تنبیہ کے بعد حکومتی حلقوں میں خاصی سراسیمگی نظر آتی ہے،جے آئی ٹی کے خلاف جو شوروہنگامہ برپا تھا، وہ کسی حد تک تھم گیا ہے،آخری حربے کے طور پر شاید پرانے مسلم لیگی رہنما جاوید ہاشمی کی پریس کانفرنس سامنے آئی ہے،خود مسلم لیگ کے اندر دو گروپ بن چکے ہیں، اندرونی انتشار عروج پر ہے،معروف صحافی حامد میر کے مطابق وزیراعظم ہاو ¿س میں آج کل صرف میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے احکامات جاری ہورہے ہیں، گویا حکومت کو نامعلوم اندیشوں نے گھیر رکھا ہے،اب جولائی میں آسمانی کونسل کے تیور مزید سخت نظر آرہے ہیں، راہو کیتو کی زائچہ ءپاکستان اور وزیراعظم کے زائچہ ءحلف میں اسٹیشنری پوزیشن اپنا رنگ دکھارہی ہے، مزید یہ کہ مریخ اور پلوٹو کا کایہ پلٹ منفی زاویہ ، پلوٹو اور شمس کا مقابلہ، عطارد اور یورینس کی تربیع ایسے نظرات ہیں جو عید کے فوری بعد حکومت کو مزید کسی سخت امتحان میں ڈال سکتے ہیں،وزیراعظم اس امتحان سے کس طرح سرخرو ہوکر نکلیں گے ، اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا
شام آرہی ہے ڈوبتا سورج بتائے گا
تم اور کتنی دیر ہو، ہم اور کتنی دیر
جولائی کے ستارے
حکومت و اقتدار کا سیارہ شمس اپنے برج اوج سرطان میں حرکت کر رہا ہے،22 جولائی کو برج اسد میں داخل ہوگا، برج سرطان ہی میں پیغام رساں منشیءفلک سیارہ عطارد بھی موجود ہے جو 6 جولائی کو برج اسد میں داخل ہوجائے گا،شمس سے قریب ہونے کی وجہ سے غروب ہے، 6 جولائی کو طلوع ہوجائے گا، توازن اور ہم آہنگی، محبت و دوستی کا سیارہ زہرہ اپنے ذاتی برج ثور میں حرکت کر رہا ہے،5 جولائی کو برج جوزا میں داخل ہوگا اور پورا مہینہ اسی برج میں حرکت کرے گا۔
سیارہ مریخ جس کا تعلق توانائی اور مہم جوئی سے ہے،اپنے ہبوط کے برج سرطان میں کمزور ہے اور شمس سے قریب ہونے کی وجہ سے غروب ہے، 20 جولائی کو برج اسد میں داخل ہوگا، عقل و دانش، وسعت و ترقی کا سیارہ مشتری برج میزان میں رہے گا،استاد زمانہ سیارہ زحل برج قوس میں حرکت کر رہا ہے اور پورا مہینہ اسی برج میں بحالتِ رجعت رہے گا،ایجادات و انکشافات کا سیارہ یورینس برج حمل میں ہے اور پورا مہینہ اسی برج میں حرکت کرے گا،پُراسرار نیپچون 16 جون سے بحالتِ رجعت اپنے ذاتی برج حوت میں رہے گا، کایا پلٹ کرنے والا پلوٹو برج جدی میں ہے اور بحالت رجعت پورا مہینہ اسی برج میں حرکت کرے گا،راس و ذنب بالترتیب برج اسد اور دلو میں رہیں گے،6 جولائی سے 12 ستمبر تک ان کی پوزیشن اسٹیشنری ہوگی یعنی ایک ہی درجے پر قیام رہے گا۔
نظرات و اثراتِ سیارگان
جولائی کے مہینے میں اہم سیارگان کے درمیان قائم ہونے والے زاویے خاصے سخت نظر آتے ہیں،اس ماہ مقابلے کے چار زاویے، ایک قران، 5 تربیعات، 3 تسدیسات اور 3 ہی تثلیثات کے زاویے تشکیل پائیں گے، مقابلے اور تربیع کی نظر نحس یا نقصان دہ تصور کی جاتی ہیں جب کہ تسدیس اور تثلیث کے زاویے سعد اور مفید خیال کیے جاتے ہیں، چناں چہ اس ماہ مقابلے اور تربیع کے زاویے بہت زیادہ ہیں، یہ صورت حال حالات و واقعات میں اہم تبدیلیوں کے آغاز کی نشان دہی کرتی ہے،اس حوالے سے خاص طور پر سیارہ شمس ، مریخ، یورینس اور پلوٹو کے نظرات زیادہ اہمیت کے حامل ہوتے ہیں جو اس ماہ موجود ہےں۔
2 جولائی: مریخ اور پلوٹو کے درمیان مقابلے کا زاویہ نحس اثر رکھتا ہے اور اہم بات یہ ہے کہ مریخ جو زائچہ ءپاکستان کے بارھویں گھر کا حاکم ہے اور تیسرے گھر میں ہبوط یافتہ ، غروب ہے،نویں گھر میں موجود پلوٹو کے ساتھ مقابلے کی نظر بنائے گا،نواں گھر عدلیہ کا ہے اور تیسرا گھر ملکی زائچے میں ذرائع ابلاغ سے متعلق ہے، یہ نظر اپنا اثر تقریباً 5 روز قبل اور 5 روز بعد تک دے گی،اس عرصے میں عدلیہ کی جانب سے کوئی اہم خبر آسکتی ہے جو بحث و مباحثے کے نئے مسائل سامنے لائے گی،عام افراد کے لیے یہ نظر زیادہ مو ¿ثر نہیں ہے۔
4 جولائی: پلوٹو اور شمس کے درمیان مقابلے کی نظر ہے،ابھی پہلی نظر یعنی مریخ و پلوٹو کے مقابلہ کے اثرات جاری ہوں گے کہ دوسری اہم نظر پلوٹو اور شمس کے درمیان قائم ہوجائے گی، یہ بھی 4 جولائی سے 5 روز قبل اور 5 روز بعد تک اثر دے گی،اس نظر کے تحت صاحب حیثیت اور کوئی عہدہ یا مرتبہ رکھنے والے افراد تنزلی یا عتاب کا شکار ہوسکتے ہیں، ملکی زائچے میں سیارہ شمس کا تعلق طبقہءاشرافیہ، حکومت اور سربراہِ حکومت سے ہے لہٰذا اس نحس نظر کا منفی اثر وزیراعظم جناب نواز شریف بھی محسوس کرسکتے ہیں، انہیں چاہیے کہ اس تمام عرصے میں زیادہ سے زیادہ صدقہ و خیرات کریں اور غریب و مظلوم طبقے کی فلاح و بہبود کے لیے اقدام کریں،عام افراد اس نظر کے اثر سے گورنمنٹ سے متعلق کاموں میں رکاوٹ اور دشواری محسوس کریں گے،اس کے علاوہ اس نظر سے پیٹ کی بیماریاں وبائی صورت اختیار کرتی ہیں۔
5 جولائی: عطارد اور یورینس کے درمیان اسکوائر کا زاویہ نحس اثر رکھتا ہے،عطارد غروب ہے، اس وقت افواہیں اور غلط خبریں پھیل سکتی ہیں، پرنٹ یا الیکٹرونک میڈیا میں غیر ذمے دارانہ رویہ دیکھنے میں آسکتا ہے،سفر اور نقل و حمل کے معاملات میں بھی رکاوٹوں اور دشواریوں کا سامنا ہوسکتا ہے، اس وقت کوئی اہم سفر کرنا مناسب نہ ہوگا، ضروری معلومات کے حصول میں دشواری ہوسکتی ہے اور ادھوری یا کنفیوژ کرنے والی اطلاعات پریشان کرسکتی ہیں۔
6 جولائی: شمس اور نیپچون کے درمیان تثلیث کا زاویہ سعد اثر رکھتا ہے،ملکی اور سیاسی معاملات میں یہ نظر حکومت اور سربراہ مملکت کے لیے بہتر اثر رکھتی ہے،وزیراعظم کو درپیش مشکلات سے نکلنے میں مدد مل سکتی ہے، عام افراد اس دوران میں گورنمنٹ سے متعلق کاموں میں بہتری محسوس کریں گے لیکن خیال رہے کہ اس نظر کے تحت فوائد بہت ہوشیاری اور چالاکی کے ساتھ حاصل ہوتے ہیں۔
اسی تاریخ کو شمس اور مشتری کے درمیان تربیع کا زاویہ قائم ہوگا، یہ نحس نظر ہے اور حکومت کے لیے مالی مسائل لاتی ہے جن پر قابو پانے کے لیے نئے ٹیکسز یا اسی نوعیت کے دیگر اقدام دیکھنے میں آتے ہیں، عام افراد کے لیے یہ وقت گورنمنٹ سے مالی معاملات میں دشواری لاسکتا ہے،ضروری واجبات کا حصول مشکل ہوگا، کاروباری معاملات میں نئی انویسٹمنٹ وغیرہ کے لیے بھی یہ وقت موافق نہیں ہوتا۔
7جولائی: عطارد اور زہرہ کے درمیان تسدیس کا سعد زاویہ فائدہ بخش ہوتا ہے،اس وقت میں رکے ہوئے کاموں کو آگے بڑھانا ممکن ہوتا ہے، متنازع معاملات میں بات چیت کے ذریعے اچھے نتائج حاصل ہوسکتے ہیں، تعلقات میں مضبوطی پیدا کی جاسکتی ہے،محبت، دوستی، منگنی وغیرہ سے متعلق بات چیت نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے،سفر یا ضروری معلومات کا حصول آسان ہوتا ہے۔
15 جولائی: عطارد اور مشتری کے درمیان تسدیس کا سعد زاویہ قائم ہوگا، یہ نظر بھی فائدہ بخش ثابت ہوتی ہے،ترقیاتی اسکیموں کو آگے بڑھانے اور مالی معاملات میں بہتری لانے کے لیے موافق وقت ہوگا، علمی اور معلوماتی کاموں میں کامیابی ہوگی،کسی امتحان یا انٹرویو وغیرہ کے لیے بھی اچھا وقت ہے،یہ وقت تخلیقی اور فنکارانہ نوعیت کے کاموں میں شاندار نتائج دیتا ہے۔
17 جولائی: زہرہ اور نیپچون کے درمیان اسکوائر کا زاویہ نحس اثر رکھتا ہے خصوصاً اس وقت خواتین کو محتاط رہنا چاہیے،وہ غلط سوچ یا غلط فیصلوں کا شکار ہوسکتی ہیں،جذبات کی رو میں بہہ سکتی ہیں،یہ وقت محبت کے معاملات میں بھی احتیاط کا متقاضی ہے،اس عرصے میں دھوکے اور فراڈ کا سامنا ہوسکتا ہے،مرد حضرات بھی محتاط رہیں، خواتین ان کے لیے مسائل پیدا کرسکتی ہیں۔
18جولائی: مریخ اور یورینس کے درمیان اسکوائر کا زاویہ نحس اثر رکھتا ہے اور نہایت اہمیت کا حامل ہے،خصوصاً زائچہ ءپاکستان میں اس کے نحس اثرات کسی حادثے یا سانحے کا باعث ہوسکتے ہیں، دہشت گردی کے واقعات رونما ہوسکتے ہیں، اس عرصے میں محتاط انداز میں گاڑی ڈرائیو کریں اور تیز رفتاری سے گریز کریں، فوج ، پولیس وغیرہ کے محکموں میں اس وقت نئی تبدیلیاں دیکھنے میں آسکتی ہیں یا حادثات پیش آسکتے ہیں۔
19جولائی: زہرہ اور مشتری کے درمیان تثلیث کی نظر سعد اکبر تسلیم کی جاتی ہے،دونوں سعد سیارے ہیں،اس نظر کے زیر اثر لوگوں کے درمیان باہمی محبت و خلوص میں اضافہ ہوتا ہے،دوسروں سے مددوتعاون حاصل کرنا آسان ہوگا،مالی اور ترقیاتی نوعیت کے معاملات میں بہتری آئے گی،انویسٹمنٹ کے لیے یا انعامی اسکیموں میں حصہ لینے کے لیے موافق وقت ہوگا، ملک میں نئی قانون سازی یا آئینی اقدام کی اہمیت پر زور دیا جائے گا۔
20جولائی: عطارد اور زحل کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ نہایت اہم ہوگا، اس وقت حکومت اور وزیراعظم کو سپورٹ ملے گی، اپنی پوزیشن کو بہتر بنانے کا موقع ملے گا،عام افراد کے لیے یہ مستقبل کی پلاننگ کا وقت ہوگا، طویل المدت معاہدات یا منصوبہ بندی کرنا چاہیے، تحریری دستاویزات پر دستخط کرنے کے لیے اچھا وقت ہے،پراپرٹی سے متعلق معاملات میں تھوڑا سا محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی، آپ جو پراپرٹی خرید رہے ہوں، اس کے بارے میں اچھی طرح معلومات حاصل کریں،ورنہ کوئی دھوکا بھی ہوسکتا ہے۔
21 جولائی: شمس اور یورینس کے درمیان تربیع کا زاویہ منحوس اثر رکھتا ہے،حکومت اور سربراہ مملکت کے حوالے سے منفی انکشافات یا خبر سامنے آسکتی ہے جو چونکا دینے والی ہوگی، عام لوگوں کو رہائش، ٹرانسپورٹ وغیرہ کے معاملات میں مسائل کا سامنا ہوگا، حکومت سے سپورٹ نہیں ملے گی، اعلیٰ افسران وغیرہ کا رویہ نامناسب اور حیران کن ہوگا۔
24 جولائی: زہرہ اور زحل کے درمیان مقابلے کی نظر نجی زندگی میں مسائل لاتی ہے،خصوصاً ازدواجی زندگی میں تناو ¿ پیدا ہوتا ہے،خواتین کا رویہ عدم تعاون اور گریز کا ہوتا ہے،وہ کاموں میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہیں،خود خواتین بھی ڈپریشن اور عدم اطمینان کا شکار ہوتی ہیں، انہیں اس وقت میں کثرت سے استغفار کا ورد رکھنا چاہیے، ملکی معاملات میں یہ نظر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تنازعات اور تناو ¿ کا باعث ہوگی۔
اسی تاریخ کو عطارد اور یورینس کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ قائم ہوگا جو مثبت اثر رکھتا ہے اور اس وقت اچھی خبریں سننے کو ملیں گی،نئی ایجادات اور اختراعات سامنے آتی ہیں ، الیکٹرونکس اور انٹرنیٹ کے کاروبار میں نئی پروڈکٹس متعارف ہوں گی،زندگی میں جدید سائنسی سہولیات کا اضافہ ہوگا، پیچیدہ یا نہایت گمبھیر نوعیت کے مسائل کو حل کرنے کے لیے اس وقت بات چیت کرنا بہتر ثابت ہوتا ہے۔
27 جولائی: شمس اور مریخ کے درمیان قران کا نحس ترین زاویہ قائم ہوگا، یہ وقت بلاشبہ ملکی معاملات میں داخلی انتشار اور نقصانات لاتا ہے،خصوصاً سربراہِ مملکت اور کابینہ کے لیے بھی اچھے اثرات نہیں رکھتا،عام افراد بھی اس وقت مشکلات اور سختی کا سامنا کرسکتے ہیں، مختلف وبائی امراض پھیلتے ہیں، حکومت کی طرف سے عدم توجہ کی وجہ سے عام لوگ بھی مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔
30 جولائی: عطارد اور یورینس کے درمیان مقابلے کی نظر اس ماہ کا آخری سخت اور نحس زاویہ ہے،یہ نظر غیر متوقع نقصانات اور حادثات لاتی ہے، ہوائی یا زمینی حادثات کا اندیشہ رہتا ہے، ڈرائیونگ کرتے ہوئے محتاط رہیں، اس وقت لوگوں سے تنازعات، اختلافات اور بے مقصد بحث و مباحثہ پریشانی لاسکتا ہے،اپنے معمولات کے کاموں پر توجہ رکھیں، غیر ضروری معاملات میں پڑنے سے گریز کریں،یہ وقت الیکٹرونکس اور نیٹ سے متعلق خرابیوں کو جنم دے سکتا ہے لیکن بہرحال یہ خرابیاں عارضی ہوتی ہیں۔
اسی تاریخ کو زہرہ اور یورینس کے درمیان تسدیس کا سعد زاویہ قائم ہوگا، یہ وقت باہمی تعلقات میں حیران کن اور چونکا دینے والے مثبت واقعات لاتا ہے،ایسے لوگوں سے اچانک ملاقات ہوتی ہے جن سے ملنے کی امید نہ ہو، خواتین کی زندگی میں محبت اور منگنی کے معاملات رونما ہوتے ہیں۔
قمر در عقرب
قمر اپنے ہبوط کے برج میں اس ماہ پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 2 جولائی رات 09:59 pm سے 5 جولائی صبح 10:07 am تک رہے گا،اس تمام عرصے میں اپنے درجہ ءہبوط پر 3 جولائی 01:56 am سے 03:56 am تک رہے گا،یہی وقت زیادہ نحوست کا اثر رکھتا ہے اور اہم عملیات اسی وقت میں کیے جاتے ہیں۔
قمر در عقرب کا وقت اچھا نہیں خیال کیا جاتا، اس وقت نئے کاموں کی شروعات نہیں کرنی چاہیے،البتہ علاج معالجہ بہتر رہتا ہے، برائیوں اور بری عادات سے نجات کے لیے اس وقت عملیات کیے جاتے ہیں، دشمنوں سے نجات یا بدکردار افراد کو سزا دینے کے لیے بھی اس وقت عمل کرنا مناسب ہوتا ہے،اس حوالے سے ہر مہینے مختلف عملیات و وظائف دیے جاتے ہیں،ضرورت کے مطابق ان سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے، کسی خصوصی معاملے کے لیے براہ راست رجوع کرسکتے ہیں۔
اوج شمس
شرف کے بعد اوج کا درجہ اہم ہے،سیارہ شمس کو برج حمل کے 19 درجے پر شرف کی قوت حاصل ہوتی ہے جب کہ برج سرطان میں اوج کی قوت ملتی ہے،اس ماہ پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق سیارہ شمس 11 جولائی07:33 am سے اپنے اوج کے درجے پر آجائے گا اور 12 جولائی 08:44 am تک اوج یافتہ ہوگا۔
شرف کے بعد ماہرین جفر اوج شمس کو اہمیت دیتے ہیں، اس وقت میں فتح نامہ ، لوح اسم اعظم ، لوح شمس اور خاتم شمس وغیرہ تیار کی جاتی ہے، واضح رہے کہ شمس کی مثال تمام سیارگان میں ایک بادشاہ کی طرح ہے،قوت اقتدار اس کی خصوصیات میں شامل ہیں لہٰذا فتح نامہ یا لوح اسم اعظم اس وقت تیار کرنا مناسب ہوتا ہے،وہ لوگ جو اپنے پاس یہ الواح یا خاتم رکھتے ہیں، انہیں کبھی زوال کا سامنا نہیں ہوتا، دوسروں پر غالب رہتے ہیں اور کوئی ان پر غلبہ حاصل نہیں کرسکتا، گورنمنٹ سے متعلق معاملات میں کامیابی ملتی ہے،پروموشن میں آسانی ہوتی ہے، افسران بالا ان کا خیال رکھتے ہیں، کسی قسم کا سحروجادو اثر نہیں کرتا، صحت بہتر رہتی ہے، زندگی میں عروج اور شہرت حاصل ہوتی ہے۔
فتح نامہ ، لوح اسم اعظم یا خاتم اسم اعظم (اسم اعظم کی انگوٹھی) کی تیاری کا طریقہ ہم کئی بار دے چکے ہیں، ہماری ویب سائٹ سے بھی اس سلسلے میں مدد لی جاسکتی ہے لہٰذا اس موقع سے ضرور فائدہ اٹھائیں، مزید رہنمائی کے لیے براہ راست رابطہ کرسکتے ہیں۔
اوج زہرہ
جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے کہ شرف کے بعد اوج کی قوت کسی ستارے کے لیے اہم ہوتی ہے،سیارہ زہرہ کو شرف برج حوت میں اور اوج کی قوت برج جوزا میں حاصل ہوتی ہے،اس سال سیارہ زہرہ 24 جولائی کو 08:32pm سے 25 جولائی 05:33 pm تک اوج کی حالت میں ہوگا۔
زہرہ محبت، دوستی، ازدواجی زندگی ، توازن اور ہم آہنگی کا ستارہ ہے، عام طور پر جن لوگوں کے زائچے میں زہرہ ناقص یا کمزور ہوتا ہے وہ مندرجہ بالا معاملات میں عدم توازن کا شکار ہوتے ہیں، محبت میں ناکامی، لوگوں سے خراب تعلقات، شادی میں تاخیر خصوصاً لڑکیوں کی، ازدواجی زندگی میں مسائل اور ان کی اپنی شخصیت میں عدم توازن نظر آتا ہے،اس بار شرف زہرہ کے موقع پر لوح تسخیر اعظم متعارف کرائی گئی تھی، یہ لوح اوج زہرہ میں بھی تیار ہوسکتی ہے، اس وقت جو لوگ کسی وجہ سے حاصل کرنے میں ناکام رہے، وہ اس وقت کو ضائع نہ کریں ورنہ پھر آئندہ سال تک انتظار کرنا پڑے گا۔
اوج زہرہ کے موقع پر لوح تسخیر اعظم کے علاوہ لوح زہرہ نورانی ، خاتم زہرہ ، طلسم زہرہ وغیرہ بھی تیار کی جاسکتی ہیں ، اس وقت میں دو افراد کے درمیان محبت اور بہتر تعلقات کے لیے بھی عمل کیا جاسکتا ہے،یہ تمام عملیات اور نقوش ہماری ویب سائٹ پر دیکھے جاسکتے ہیں ، کسی خصوصی معاملے میں براہ راست رابطہ کریں۔
شرف قمر
قمر کو برج ثور کے 3 درجے پر شرف کی قوت حاصل ہوتی ہے اور یہ وقت سعد مبارک خیال کیا جاتا ہے،اس ماہ قمر پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 17 جولائی کو 01:30 pm سے 03:14pm تک درجہ ءشرف پر رہے گا،یہ وقت نیک مقاصد کے لیے فائدہ مند ہے،اس دوران میں اسمائے الٰہی یا رحمن یا رحیم 556 مرتبہ اول آخر گیارہ بار درود شریف کے ساتھ پڑھ کر اپنے مقصد کے لیے دعا کریں، ان شاءاللہ مقصد کے حصول میں مدد ملے گی۔
آئیے اپنے سوالات اور ان کے جوابات کی طرف:
ہائے ری محبت
ع، ر شیخ لاڑکانہ سے لکھتے ہیں ”پہلے بھی آپ کو ایک خط تحریر کیا تھا،پتہ نہیں آپ کو ملا یا نہیں،اس خط کا جواب فوراً دیں ، میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں ایک لڑکی سے محبت کرتا ہوں اور اس سے شادی بھی کرنا چاہتا ہوں، میری کچھ غلطی تھی جو اس نے رابطہ بند کردیا،میں نے کافی کوشش کی ہے مگر رابطہ نہیں ہوتا، مجھے تعویذ دیں یا کوئی وظیفہ بتائیں“
جواب! اول تو ہم ایسی محبت کے قائل ہی نہیں ہیں جو یکطرفہ ہو اور عمل و وظیفے کی مدد سے کی جائے ، آپ نے کوئی غلطی کی اور نتیجہ بھی دیکھ لیا، اب اگر آپ کا عشق سچا ہے تو اللہ ضرور مدد کرے گا،آپ نے اپنی یا لڑکی کی تاریخ پیدائش وغیرہ نہیں لکھی،لڑکی کی ماں کا نام بھی نہیں لکھا، بہر حال ایک چھوٹا سا وظیفہ ہم آپ کو بتارہے ہیں، چاند کی پہلی تاریخ کے بعد کسی بھی جمعرات یا جمعہ سے شروع کریں مگر جمعرات یا جمعہ نوچندہ ہو، فجر کی نماز سے پہلے باوضو ہوکر 11 بار درود شریف پڑھیں اور پھر 386 مرتبہ یہ آیت پڑھیں ”صُم بُکم عُمی فَہُم لایرجِعُون“ پھر گیارہ بار درود شریف پڑھ کر آنکھیں بند کریں اور اس کا چہرہ تصور میں لائیں اور پیشانی پر پھونک ماردیں، خیال رہے کہ پڑھائی کے دوران میں اس کا تصور قائم کریں ، وظیفہ پڑھنے کے بعد اللہ سے دُعا کریں کہ وہ اپنی ناراضگی دور کرے اور آپ سے رابطہ کرے،اس وظیفے کو 17 دن تک کریں اور وظیفے کے دوران میں روزانہ کبوتروں اور چڑیوں کو دو کلو باجرہ یا چاول ڈالا کریں اور اس عرصے میں ہر قسم کا گوشت ، انڈہ اور دودھ سے پرہیز کریں، وظیفہ ختم ہونے کے بعد 8 فقیروں کو کھانا کھلائیں، آخری بات یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ اگر اللہ نے آپ کو کامیابی دی تو اُس لڑکی کے ساتھ پوری طرح وفاداری کا ثبوت دیں گے اور شادی کے لیے جائز طریقے اختیار کریں گے ورنہ اس عمل کی رجعت بھی ہوسکتی ہے( یہ عمل عام لوگوں کے لیے نہیں ہے)
حافظہ کی کمزوری
 ف،الف، میرپورخاص: آپ بہت حساس ہیں، آپ کے اردگرد کا ماحول آپ کو ذہنی طور پر انتشار کا شکار بنارہا ہے جس کی وجہ سے آپ کی دلچسپیاں پڑھائی کے علاوہ کچھ اور طرف بھی لگ گئی ہیں۔ اسی وجہ سے پڑھائی کے معاملات میں خرابی آگئی ہے۔ بہتر ہوگا کہ جب تک تعلیمی سلسلہ چل رہا ہے دوسرے غیر ضروری معاملات میں زیادہ دلچسپی نہ لیں اور سانس کی مشق نمبر 1 کریں جو ہماری کتاب ”مظاہرنفس“ میں مل جائے گی، بایوکیمک دوا کالی فاس 6X دن میں تین چار ٹائم چار چار ٹکیاں لیں۔
پتھر کون سا موافق رہے گا؟
فوزی، کراچی: پہلے سوال کا جواب تو یہ ہے کہ اس سال کے آخر تک منگنی یا شادی کا امکان ہے اور آپ کے لیے موافق پتھر نیلم، اگر نیلم میسر نہ آئے تو بلیو ترملین پہن لیں، بہتر تو یہ ہے کہ پتھر پہننے کا وقت فون پر معلوم کرلیں یا پھر کسی بھی ہفتے کے روز صبح سورج نکلنے کے فوراً بعد پہننا بھی مناسب ہوگا۔
ا پنا کاروبار شروع کرنا بہتر ہے یا نہیں؟
اعجاز، سکھر: آپ کے لیے فی الحال اپنا ذاتی کاروبار شروع کرنا مناسب نہیں ہے ورنہ ناکامی ہوگی۔ البتہ سیلز مین شپ یا کوئی ایسا کام جس میں آپ کو کچھ سیکھنے سمجھنے کا موقع ملے کرنا بہتر ہوگا۔ ویسے بھی آپ کے اندر مستقل مزاجی کی کمی ہے۔ بنیادی طور پر آپ اصول پسند اور سچائی پسند انسان ہیں۔ موجودہ دور کی کاروباری پیچیدگیاں ابھی آپ کی سمجھ میں نہیں آئیں گی اگر آپ کو ایلو پیتھک شعبے میں کمپاﺅنڈر کے طور پر کام کرنے کا موقع ملا ہے تو آپ میڈیسن کا کام آسانی سے کرسکتے ہیں دواﺅں کی سیلز مین شپ کا کام کریں۔ یا میڈیکل اسٹور کھولنے کیلئے مالی سہولت موجود ہے تو چھوٹے پیمانے پر کام شروع کریں۔
اچھی جگہ رشتہ
مسز م،الف کراچی: رشتے کے معاملے میں جلدبازی نہ کریں۔ ورنہ امکان ہے کہ کوئی غلط انتخاب کر بیٹھیں گی۔ سیارہ زحل لڑکی کے زائچے میں شادی کے خانے سے گزررہا ہے۔ اس دوران میں نامناسب رشتے آجاتے ہیں اور جلد بازی کا شکار لوگ غلط جگہ پھنس جاتے ہیں۔ ابھی اس کی عمر اتنی زیادہ نہیں ہوئی کہ آپ بہت زیادہ پریشان ہونے لگیں۔ انشاءاللہ اس کا رشتہ اچھی جگہ ہوگا۔ برج حمل، جوزا، اسد، قوس یا دلو والے لڑکے بہتر شریک حیات ثابت ہوسکتے ہیں۔ فی الحال اس کی تعلیم جاری رہنے دیں۔ 2007ءتعلیمی میدان میں نمایاں کامیابیاں دے گا۔ اچھی تعلیم کے ساتھ، اچھے رشتوں کی توقع رکھنی چاہیے اور آخر اس میں کیا برائی ہے کہ مناسب تعلیم کے بعد اس میں اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی صلاحیت بھی پیدا ہوجائے۔

ہفتہ، 17 جون، 2017

دیکھےں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک

سیاست میں محاذ آرائی عروج پر، نقشِ جمعتہ الوداع
پاکستانی سیاست آج کل جے آئی ٹی کے گرد گھوم رہی ہے،ماضی میں وزیراعظم نواز شریف اور چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے درمیان محاذ آرائی ہوئی تھی جس کے نتیجے میں سجاد علی شاہ کو عہدہ چھوڑنا پڑا تھا، ن لیگ کے کارکنوں نے عدالتِ عالیہ کا گھیراو ¿ کیا اور خاصی ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی، اس بار عدالت عالیہ کی مقرر کردہ جے آئی ٹی سے معرکہ درپیش ہے ،ن لیگ نے جے آئی ٹی پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا ہے لیکن مجبوری یہ ہے کہ عدالت عالیہ نے جے آئی ٹی کو اپنا کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے اور وہ اپنا کام کر رہے ہیں،وزیراعظم بھی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوگئے، دلچسپ بات یہ ہے کہ ن لیگ کی نظر میں یہ قانون کی بالادستی اور وزیراعظم کی اعلیٰ ظرفی کا نمونہ ہے،اپوزیشن اس صورت حال کو دوسرے رنگ میں پیش کر رہی ہے، قصہ مختصر یہ کہ اس وقت پرنٹ اور الیکٹرونکس میڈیا کا من پسند موضوع جے آئی ٹی اور اس میں ہونے والی کارروائیاں ہیں، حکومت کے وزراءکی اچھی خاصی تعداد اسی مہم جوئی میں مصروف ہے اور ان کی باتوں سے صاف نظر آرہا ہے کہ وہ جے آئی ٹی کی تحقیق و تفتیش کے نتیجے میں تیار ہونے والی رپورٹ کو تسلیم نہیں کریں گے۔
ایک بالکل ہی مختلف نقطہءنظر جناب ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کا ہے، وہ اسے حکومت ہی کا اسٹیج کردہ ڈراما قرار دے رہے ہیں، ان کے خیال میں یہ بھی آئندہ الیکشن جیتنے کے لیے وزیراعظم اینڈ کمپنی کی ایک چال ہے،پاکستانی سیاست کے ایک اور مقبولِ عام کردار شیخ رشید احمد حسب سابق حکومت کے خاتمے کا اعلان کر رہے ہیں، پیپلز پارٹی کا کردار اس ساری صورت حال میں خاصا پراسرار نظر آتا ہے،ان کی اعلیٰ قیادت یعنی زرداری صاحب ملک سے جاچکے ہیں، بلاول بھٹو کے روایتی بیانات وقتاً فوقتاً نظر آجاتے ہیں، تمام تر سیاسی بوجھ قائد حزب اختلاف خورشید شاہ صاحب کے کاندھوں پر ہے لیکن یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کیا چاہتے ہیں؟
عزیزان من! اس منظر نامے کو سامنے رکھ کر اگر آپ ہمارے پچھلے کالموں پر نظر ڈالیں تو صورت حالات نئے انتخابات یا کسی عارضی سیٹ اپ کی جانب بڑھتی نظر آتی ہے،ہم نے پاکستان کے زائچے اور جناب نواز شریف صاحب کے زائچہ ءحلف کے حوالے سے عرض کیا تھا کہ جون سے حکومت اور وزیراعظم کے لیے ایک نہایت سخت وقت شروع ہورہا ہے جو ستمبر تک جاری رہے گا، ہمارے وزیراعظم یقیناً ایک خوش قسمت انسان ہیں، تین بار پاکستان کی وزارت عظمیٰ ان کے حصے میں آئی، پاکستان کے خوش حال ترین افراد میں ان کا شمار ہوتا ہے،ممکن ہے اس بار بھی ان کی خوش قسمتی ان کا ساتھ دے اور وہ اس مشکل مرحلے سے سُرخرو ہوکر نکلیں، بظاہر سب کچھ ان کے کنٹرول میں ہے، ان کے رفقاءسر دھڑ کی بازی لگانے کو تیار ہیں، جے آئی ٹی کی رپورٹ کو دیکھتے ہوئے عدالت عالیہ کیا فیصلہ دے گی، اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جاسکتا، بہر حال فیصلہ جو بھی ہو ، اسے ماننے یا نہ ماننے کا اختیار بہر حال وزیراعظم کے پاس ہے
دام ہر موج میں ہے حلقہ ءصدکامِ نہنگ
دیکھےں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک
سپریم کورٹ کا فیصلہ خواہ کچھ بھی ہو ، جولائی، اگست اور ستمبر کی فلکیاتی صورت حال ملک میں شدید نوعیت کے سیاسی انتشار اور ابتری کی نشان دہی کر رہی ہے جس کے نتیجے میں کسی بڑی تبدیلی کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا،حکومت اور اپوزیشن کے درمیان محاذ آرائی اپنی انتہا پر پہنچ جائے گی اور اس کی وجہ عدلیہ اور الیکشن کمیشن سے محاذ آرائی ہوسکتی ہے،وزیراعظم کو عدلیہ سے خدشات لاحق ہیں، وہ جج صاحبان ان کے خلاف پہلے ہی فیصلہ دے چکے ہیں، عمران خان الیکشن کمیشن سے نبردآزما ہیں، الیکشن کمیشن پر پہلے ہی سیاسی پارٹیوں کو اعتراضات ہیں، الیکشن کے قوانین میں اور طریقہ ءکار میں مناسب تبدیلیوں پر زور دیا جاتا رہا ہے،شاید اب ایسا وقت آرہا ہے جب ہمارے الیکٹرورل سسٹم کو مزید بہتر بنانا ضروری قرار پائے اور اس سلسلے میں عملی قدم اٹھایا جائے، عدلیہ کو بھی بہت زیادہ دباو ¿ کا سامنا کرنا پڑے، یہ ساری صورت حال بہر حال ملک میں بہتر پیش رفت کا باعث ہوگی (واللہ اعلم بالصواب)
 نقشِ جمعتہ الوداع
عوام کے مسائل اگرچہ بے پناہ ہےں لیکن سب سے بڑا مسئلہ روزگار کا ہے کیوں کہ اس کے بغیر کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا ، بے روزگاری سب سے بڑا جہنم ہے جس کی آگ میں ہمارا ملک جل رہا ہے اور ملک سے باہر مقیم پاکستانی بھی روزگار کے حوالے سے کسی نہ کسی مسئلے کا شکار رہتے ہیں، انسان کی زندگی میں اچھے اور برے اوقات آتے رہتے ہیں بعض لوگ اپنی بہترین کوششوں کے باوجود روزگار کے معاملات میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کرپاتے ، ایسے افراد کے لیے ہم پہلے بھی مخصوص اوقات کی مناسبت سے ورد و وظائف، عملیات و نقوش کی نشان دہی کرتے رہے ہیں ، اسی مناسبت سے رمضان المبارک کے مقدس ترین مہینے میں جمعتہ الوداع سے متعلق ایک وظیفہ اور ایک نقش پیش کیا جارہا ہے جو مجرّب ہے اور انشاءاللہ تمام مسلمانوں کے لیے فائدہ بخش ثابت ہوگا ۔
وظیفہ جمعتہ الوداع
 وظیفہ بہت آسان ہے اور صرف تھوڑی سی دیر کی محنت ہے ، اس محنت کے صلے میں ایک قیمتی تحفہ ہاتھ آجائے گا،یہ وظیفہ ان لوگوں کے لیے مفید ہے جو نزلہ و زکام یا جوڑوں کے درد میں مبتلا رہتے ہیں۔
 عمدہ خالص چنبیلی یا زیتون کا تیل حاصل کرلیں اور جمعتہ الوداع کی صبح فجر کی نماز کے بعد اول آخر سات بار درود شریف کے ساتھ سورہ والعادیات سات بار پڑھ کر چنبیلی کے تیل پر دم کرلیں اور اسے محفوظ رکھیں ، تمام اقسام کے جسمانی درد اور نزلے کے لےے مفید ہے ، اکثر آرتھرائیٹس کے مریضوں کو بھی جوڑوں کے درد میں آرام ملا ہے ، پرانے نزلے کی صورت میں اس تیل کی سر پر مالش مفید ثابت ہوگی ۔
 دوسرا عمل تھوڑا سا مشکل ضرور ہے لیکن اس کی افادیت بھی کم نہیں ہے ، جمعتہ الوداع کی صبح فجر کی نماز کے بعد سورج طلوع ہونے سے پہلے سورہ الاعراف کی آیت نمبر 10 کا نقش ہرن کی جھلّی یا عمدہ سفید کاغذ پر عرق گلاب میں زعفران ملاکر لکھ لیں ، اگر زعفران نہ مل سکے تو عرق گلاب میں ہلدی ملاکر روشنائی بنالیں بعد ازاں نقش کو عمدہ خوشبو سے معطر کریں اور اپنی دکان ، دفتر یا کاروبار و ملازمت کی جگہ پر رکھیں تو انشا اللہ بے انتہا خیر و برکت ہوگی ، کاروبار ترقی کرے گا ، اگر ملازمت ہے تو پائیدار ہوگی اور ترقی کے مواقع پیدا ہوں گے ، اگر گھر میں رکھیں تو بے برکتی ختم ہوجائے گی ، قرض ہے تو اس کی ادائیگی میں آسانی ہوگی ، فی الواقع نہایت موثر اور مجرب المجرب عمل ہے ۔
 نقش لکھنے کے بعد زرد رنگ کی مٹھائی پر فاتحہ دے کر ایصال ثواب کریں اور حضرت کاش البرنی ؒ کے لےے بھی دعائے خیر کریں ، نقش پاس رکھنے کے بعد حسب توفیق صدقہ وخیرات کریں ، اس نقش کو تعویذ کے طریقے پر تہہ کرکے موم جامہ کرلیں اور گلے میں پہنیں یا بازو پر باندھیں تو آپ کی ذاتی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا ، اگر چاہیں تو فریم کراکے دکان یا دفتر میں یا گھر میں مغرب کی سمت دیوار پر آویزاں کرلیں ، اگر نقش کو پوشیدہ رکھنا چاہیں تو چار تہہ کرلیں اور موم جامہ یا پلاسٹک کوٹڈ کرکے کاروبار کی جگہ یا گھر میں کسی محفوظ مقام پر رکھیں، ہم یہ نقش ہر سال سفید کاغذ پر لکھتے ہیں اور ضرورت مندوں میں بلا ہدیہ تقسیم کردیتے ہیں لیکن ظاہر ہے کہ بہت زیادہ نقش لکھنا ممکن نہیں ہوتا، آپ سے درخواست ہے کہ خود ہی کوشش کریں اور کسی انتہائی مجبوری کے سبب اگر خود نہ لکھ سکتے ہوں تو ڈاک خرچ بھیج کر ہمارے ہاں سے منگوالیں، نقش درج ذیل ہے ۔

نقش بھرنے کے لےے مناسب ہوگا کہ نقش کے خانے پہلے سے تیارکرلیے جائیں اورعین وقت پر بسم اللہ پڑھ کر نقش مکمل کیا جائے ، سب سے پہلے نقش کی پیشانی پر 786 لکھیں پھر نقش کے چاروں کونوں پر قولہ الحق ولہ الملک اور چاروں ملائکہ کے نام ، کٓھٓیٰعٓصٓ اور حٰمٓعٓسٓقٓ لکھیں ، پھر نقش کے بیرونی خانوں میں پوری آیت اسی طرح نقل کرلیں جیسے کہ لکھی ہوئی ہے ، آخر میں درمیانی نقش مثلث بھریں ، یہ مثلث اسی آیت شریف کا ہے ، کیوں کہ آیت کے کل اعداد 2199 ہیں جس خانے میں 729 کے اعداد ہیں، یہ نقش کا پہلا خانہ ہے اس کے بعد ترتیب وار 730 ، 731 ، 732، 733، 734، 735، 736 اور آخری خانے میں 737 لکھ کر نقش مکمل کرلیں ، خیال رہے کہ نقش کے خانے بھرنے کی ترتیب یہی رہے گی ، بس کام مکمل ہوگیا ۔
آئیے اپنے سوالات اور ان کے جوابات کی طرف:
بھائی کی پریشانی
محمد ناصر خان، ٹنڈوالہٰیار سے لکھتے ہیں” میں اپنے بھائی کی وجہ سے بہت پریشان ہوں،ایک تو وہ بات نہیں مانتا ، جس کام کا کہتے ہیں کرتا نہیں ہے،چڑچڑا اور غصے میں رہتا ہے، غلط لڑکوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے،کچھ بولتے ہیں تو لڑنے کو آتا ہے، پڑھائی کے اندر بھی دلچسپی نہیں لیتا، جسمانی طور پر بھی کمزور ہے، آنکھوں میں الرجی رہتی ہے، جلن اور خارش بھی ہوتی ہے، برائے مہربانی زائچہ بناکر اس کے متعلق بتائیں کہ اسے تعلیم کا کون سا شعبہ موافق ہوگا یا پھر کسی مناسب ہنر پر لگایا جائے تاکہ پڑھائی کے ساتھ کوئی ہنر بھی سیکھ جائے، آگے جاکر اپنی زندگی میں پچھتاوا نہ ہو اور یہ شکایت نہ ہو کہ کسی نے میری طرف دھیان نہیں دیا“
جواب: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی اور آپ کے بھائی کی باہمی طور پر اچھی انڈراسٹینڈنگ نہیں ہے لہٰذا وہ آپ کی بات نہیں سمجھتا اور آپ اس کی بات نہیں سمجھتے، یہ درست ہے کہ آپ اس سے مخلص ہیں اور اس کی بہتری چاہتے ہیں لیکن آپ کو یہ بھی خیال رکھنا چاہیے کہ وہ عمر کی جس منزل میں ہے وہ نادانی کی منزل ہے،ابھی اسے دنیا کا حقیقی شعور نہیں ہے، سختی سے یا زور زبردستی سے کام نہیں چلے گا، پیار محبت سے کام لینے کی ضرورت ہے۔
اس کے زائچے کے مطابق اس کا شمسی برج جدی ہے،یہ لوگ سخت مزاج اور محنتی ہوتے ہیں، پیدائشی برج دلو ہے اور یہ بہت ہی انوکھا برج ہے،یہ لوگ مکمل آزادی چاہتے ہیں، کسی قسم کی پابندی اور ذمے داری قبول نہیں کرتے، البتہ جو ذمے داری یہ اپنی مرضی سے قبول کرلیں اسے پورا کرتے ہیں، مزید یہ کہ برج دلو والے بہت آگے کی بات سوچتے ہیں ، وہ حال سے بے خبر یا لاتعلق رہتے ہیں، ان کے دماغ میں بہت آگے کے پروگرام یا منصوبے چل رہے ہوتے ہیں، یہ لوگ بہت یونیک اور غیر معمولی آئیڈیاز کے حامل ہوتے ہیں جن پر عمل کرنا بظاہر ناممکن نظر آتا ہے، انوکھی اور عجیب و غریب چیزوں کی طرف ان کا رجحان ہوتا ہے،دنیا کو ہر پہلو سے دیکھنا اور سمجھنا چاہتے ہیں لہٰذا اچھے بری کی تمیز انہیں فوراً نہیں ہوتی،آپ کے بھائی کا قمری برج سنبلہ ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ فطری طور پر ذہین اور زندگی میں کچھ کرنے کی خواہش رکھتا ہے،ہر معاملے کو سخت تنقیدی نظر سے دیکھتا ہے،ممکن ہے آپ کے اور دیگر گھر والوں کے بعض معاملات یا نظریات سے وہ مطمئن نہ ہو لہٰذا اس کی باتوں پر بھی توجہ دینے اور غور کرنے کی ضرورت ہے،ہمارے نزدیک یہ ایسا بچہ نہیں ہے جو آسانی سے بگڑ جائے یا غلط راستہ اختیار کرے، اگر وہ غلط لوگوں کی صحبت میں بیٹھنے لگا ہے تو بہت جلد ان سے دور بھی ہوجائے گا، جہاں تک تعلیمی دلچسپی کا سوال ہے تو یہ لوگ اپنی مرضی اور موڈ سے کام کرنے والے ہوتے ہیں، ان کو اسی طرح چلائیں، زیادہ زور زبردستی نہ کریں، کوئی ضروری نہیں ہے کہ امتحان میں اچھی پوزیشن حاصل کرے،دوست اور خدمت خلق کے معاملات اس کی زندگی میں بہت اہم ہیں، اسے اپنی مرضی سے زندگی گزارنے دیں، بے شک گزشتہ سالوں میں خاص طور پر اکتوبر 2015 ءسے اکتوبر 2016 ءتک اس کی دوستیاں تھوڑے سے غلط لڑکوں میں اور لڑکیوں میں ہوسکتی ہے لیکن اب وقت تبدیل ہوگیا ہے،اس کی زندگی میں اچھا دور شروع ہوچکا ہے جس میں یہ تعلیمی کامیابیاں حاصل کرے گا۔
سائنس اور آرٹ کے شعبے اس کے بہتر ہیں، قانون کی تعلیم بھی بہتر رہے گی لیکن اگر آپ سے محاذ آرائی جاری رہی تو صورت حال زیادہ خراب ہوسکتی ہے، آپ اسے اپنی مرضی اور اپنی سوچ کے مطابق چلانے کی کوشش نہ کریں، بری صحبت سے روکنے کے لیے بھی نرمی سے سمجھائیں، اس کے زائچے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ جنس مخالف یعنی عورت کی جانب اس کا رجحان بہت زیادہ ہے، اگر آپ ابھی سے اس کی کسی جگہ منگنی وغیرہ کردیں تو بہتر ہوگا تاکہ جنس مخالف کے سلسلے میں وہ دائیں بائیں ہاتھ پاو ¿ں نہ چلائے، بہتر ہوگا کہ اس کی شادی بھی جلد کردی جائے، بہ صورت دیگر آگے چل کر مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔
زیادہ مصروف رکھنے کے لیے کمپیوٹر کی فیلڈ میں ڈال دیں، اس طرح اُسے بری صحبت سے بھی نجات ملے گی اور کمپیوٹر کی تعلیم آئندہ بھی کام آئے گی۔
مزاج میں غصہ اور چڑچڑاپن دور کرنے کے لیے اسے مرجان کا نگینہ پہنائیں، ہفتہ اور بدھ کے روز اس کا صدقہ دیا کریں، ہفتے کے روز بوڑھے، معذور افراد کی مدد کریں اور بدھ کے روز سبز رنگ کی چیزوں کا صدقہ دیں، باقی آپ کا حد سے زیادہ پریشان ہونا مناسب نہیں ہے،ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس معاملے میں کچھ زیادہ ہی حساس اور جذباتی ہورہے ہیں۔
مسلسل بیماری 
 سلمان، لطیف آباد سے لکھتے ہیں ” میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں کافی عرصے سے بیمار ہوں اور مسلسل بیمار ہی ہوں ، مثلاً میرے پیروں میں اور پنجوں میں شدید درد رہتا ہے اور میں بچپن سے اداس اور پریشان رہتا ہوں ، کسی کے سامنے بول نہیں پاتا ، پریشانی اور غم کے سوا زندگی میں کچھ نہیں ہے ، سب مجھ سے آگے نکل چکے ہیں اور میں سب سے پیچھے ہوں ، کوئی کام سیکھ پاتا ہوں نہ کر پاتا ہوں ، عید بقرعید بھی اداسی میں گزر جاتی ہے ، کھانے پینے کی کوئی پریشانی نہیں ہے ، اپنا خود خیال رکھتا ہوں ، سب گھر والے میرے پیچھے لگے رہتے ہیں اور والد تو مجھے دشمن کی طرف مارتے ہیں ، گھر میں مجھے کچھ نظر آتا ہے ، کبھی کوئی آدمی ہنستا ہوا نظر آتا ہے ، گلے پر چھری رکھ دیتا ہے ، میرا جسم سوتے میں سن ہوجاتا ہے جیسے میں ہاتھ پیر چلا بھی نہیں سکتا ، چلّاتا ہوں تو پوری آواز میں چیخ رہا ہوتا ہوں مگر میری آواز اور کوئی نہیں سن پاتا ، عجیب طریقے سے کوئی پریشان کرتا ہے ، سینے پر گدگدی کرتا ہے ،کوئی اور نظر بھی نہیں آتا ، میں اسے روک نہیں پاتا ہوں ، جس گھر میں ہم رہتے ہیں یہ گھر پہلے برسوں تک بند رہا ہے ، میں آپ کا کالم بہت شوق سے پڑھتا ہوں خدارا میرے مسئلے کا کوئی حل نکالیں ، مجھے بتائیں میرا مسئلہ کیا ہے اور مجھے اپنا پیدائشی ، شمسی اور قمری برج بھی معلوم کرنا ہے ، ہوسکے تو موافق پتھر بھی بتا دیں ، آپ کا بہت شکر گزار رہوں گا ، میرا نام صحیح ہے یا نہیں ۔“
 جواب : عزیزم ! حیرت ہے کہ آپ کے گھر والے آپ کے علاج سے اس قدر غافل ہیں اور آپ کے ساتھ بقول آپ کے انتہائی خراب سلوک کرتے ہیں ، اگر والد دشمن ہیں تو کیا والدہ کو بھی آپ کا خیال نہیں ہے یا پھر کوئی اور ہی بات ہے جو آپ بھی نہیں جانتے ، اچھا ہوا آپ نے اپنی تاریخ پیدائش لکھ دی اس طرح ہمیں صورت حال کو سمجھنے کا موقع مل گیا ، حقیقت یہی ہے کہ آپ بھی نہیں جانتے کہ آپ کے ساتھ کیا معاملہ ہے اور آپ کے گھر والے بھی نہیں جانتے کہ آپ کا مسئلہ کیا ہے ، بلکہ وہ تو شاید اب تھک چکے ہوں گے اور آپ کی طرف سے مایوس ہوچکے ہوں گے ، ان کے خیال میں تو آپ ان کے لئے ایک پریشان کن مسئلہ ہیں ۔
 آپ کا شمسی برج جدی اور قمری برج حوت ہے جبکہ پیدائشی برج ثور ہے ، بلاشبہ یہ ایک انتہائی مشکل اور بہت سخت کمبی نیشن ہے ، آپ کے دو برج جدی اور ثور خاکی ہیں جبکہ برج حوت آبی ہے ، سونے پر سہاگہ یہ کہ قمری برج حوت ہے ، گویا آپ احساسات اور تصورات کے بادشاہ ہیں جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی تصویر یار 
ہمیں نہیں معلوم کہ آپ کے والدین نے آپ کے علاج معالجے کے سلسلے میں کیا کوششیں کی ہیں ، یقینا اپنی حد تک تو وہ سب کچھ کرچکے ہوں گے مگر آپ بھی کوئی معمولی چیزتو نہیں ہیں ، بڑے بڑے عامل کامل ، پیر فقیر بالآخر ہاتھ جوڑتے ہوئے بھاگ کھڑے ہوئے ہوں گے ، ایسا آسیب زدہ انہوں نے کہاں دیکھا ہوگا یا پھر ماہرین نفسیات نے آپ پر ایلو پیتھک دوائیں آزمائی ہوں گی مگر آپ نے اپنے خط میں اپنے کسی علاج معالجے کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی اپنی کسی دلچسپی ، کسی سرگرمی یا مصروفیت کا ذکر کیا ، آخر ایسا کیوں ہے ، آپ ہم سے یہ سب باتیں کیوں چھپا رہے ہیں اور سارا زور اپنے گھر میں موجود کسی نادیدہ قوت پر دے رہے ہیں جس کی موجودگی کا ثبوت بھی صرف آپ کی گواہی ہے اور دلیل یہ ہے کہ مکان برسوں تک بند رہا ہے ، آخر اس مکان میں آپ کے دیگر اہل خانہ بھی تو رہائش پذیر ہیں ان کے ساتھ یہ سب کچھ کیوں نہیں ہوتا جو آپ کے ساتھ ہو رہا ہے ؟ 
 ہمارے لئے بہت مشکل ہے کہ ہم آپ کو سمجھا سکیں کہ آپ کا مسئلہ کیا ہے ؟ عام فہم انداز میں ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ آپ کے گھر میں کوئی نادیدہ مخلوق نہیں ہے اور آپ کو جو نادیدہ مخلوق پریشان کرتی ہے وہ خود آپ کی پیدا کردہ ہوتی ہے ، آپ جب چاہیں ایسی مخلوقات پیدا کرسکتے ہیں ، اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا علاج ہوجائے تو آپ کو کھانے میں نمک بلکل بند کردینا چاہئے اور صبح شام عرق گلاب میں شہد ڈال کر پینا چاہئے ، تمام مرغن غذائیں بند کردینی چاہئیں ، خصوصاً گوشت، انڈا ، مچھلی ، ماش کی دال ، پھول گوبھی ، اروی ، بیگن وغیرہ۔ پانی زیادہ سے زیادہ پینا چاہئے ، اپنی سوچ کو مثبت بنانا چاہئے ، خوش امید رہنا چاہئے ، آپ کے علاج کے سلسلے میں یہ ابتدائی بنیادی اصول ہیں ، اس کے بعد کسی قابل اور تجربے کار ہومیو پیتھ سے رجوع کرنا چاہئے جو اس قسم کے کیسوں کا تجربہ رکھتا ہو۔ یاد رکھیں ، ہر ڈاکٹر آپ کا علاج نہیں کرسکتا ، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ فون پر ہم سے مشورہ کرکے دوا دریافت کرلیں اور بازار سے خرید کر استعمال کریں ، آپ یقینا ٹھیک ہوسکتے ہیں۔آپ کے لئے موافق پتھر لہسنیا ہے،اسے جمعہ کے دن پہن سکتے ہیں۔
کامرس بہتر ہے یا سائنس؟
جنید، حیدرآباد سے لکھتے ہیں ”میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں سائنس لینا چاہتا ہوں لیکن میرے والد کہتے ہیں کہ سائنس بہت مشکل ہے لہٰذا تم کامرس لے لو اور بینک میں جاب بھی مل جائے گی۔ وہ خود بھی بینک میں جاب کرتے ہیں۔ آپ مشورہ دیں کہ میرے لئے کیا بہتر رہے گا؟“
جواب:عزیزم! آپ کا شمسی برج ثور اور قمری برج سرطان ہے۔ آپ کو کامرس ہی لینا چاہیے اور آپ اس شعبے میں بہت آگے جاسکتے ہیں یعنی سی اے بھی کرسکتے ہیں۔ برج ثور کا تعلق اکنامکس سے ہے اور اکاو ¿نٹ کے شعبے میں بھی یہ لوگ غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ آپ مستقل مزاج بھی ہیں اور محنتی بھی۔ برج ثور کا تعلق مالیاتی اداروں اور دولت سے بھی ہے لہٰذا آگے چل کر آپ کا رجحان دولت کمانے پر زیادہ رہے گا۔ممکن ہے آپ کے والد سائنس کے شعبے میں آپ کے تعلیمی اخراجات کی وجہ سے پریشان ہوں اور اسی لئے کامرس پر زور دے رہے ہوں تو اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ہمارا مشورہ بھی یہی
ہے کہ آپ پہلے بی کام کریں۔

پیر، 12 جون، 2017

امریکا اپنے درست زائچے کی روشنی میں کیسا ہے؟


امریکا کی تباہی و بربادی کے خواب دیکھنے والے، خواب ہی دیکھتے رہیں گے
دنیا میں تبدیلی کی لہر کا اشارہ ہم تقریباً 2010 ءسے دے رہے ہیں جب سیارہ یورینس نے برج حمل میں قدم رکھا تھا اور سیارہ پلوٹو کے ساتھ اسکوائر کے کئی زاویے مختلف اوقات میں تشکیل دیے تھے، حال ہی میں اپنے گزشتہ کالموں میں بھی خصوصاً امریکی صدر مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ کے حوالے سے ہم نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ تیسری عالمی جنگ شاید بہت قریب آگئی ہے جس کا امکان 2019 ءمیں نظر آتا ہے۔
ماضی کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب جارحانہ اور مہم جویانہ مزاج رکھنے والے شدت پسند افراد کسی اعلیٰ عہدہ و منصب پر فائز ہوتے ہیں تو عموماً دنیا کا امن تباہ و برباد ہوتا ہے، مسٹر ٹرمپ کے علاوہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی، شامی صدر بشار الاسد ، مصری جرنل عبدالفتح جیسے لوگ میدان عمل میں ہوں تو دنیا میں کوئی بھی بھونچال جنم لے سکتا ہے،حال ہی میں اسلامی ممالک کا ایک اتحاد بھی وجود میں آچکا ہے اور مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ کے دورئہ سعودی عربیہ میں اسلحے کی خریداری کے اربوں ڈالر کے معاہدے طے پائے ہیں، گویا مڈل ایسٹ میں بھی دو گروپ بن چکے ہیں، ایک گروپ کی پشت پناہی امریکا کر رہا ہے تو دوسرے کی روس، چائنا فی الحال کسی گروپ میں شامل نہیں ہے اور پاکستان نے بھی خود کو بظاہر الگ تھلگ رکھا ہوا ہے۔
امریکا اور اس کے اتحادی چین کی پیش قدمی کو روکنا ضروری سمجھتے ہیں لہٰذا چین کی نئی حکمت عملی یعنی زمینی راستوں سے اپنی تجارت کو فروغ دینے کی کوشش امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے باعث تشویش ہے،اس نئے منظر نامے میں تیسری عالمی جنگ کے اصل حریف امریکا اور چائنا ہوسکتے ہیں، دونوں اپنے اپنے طور پر مختلف داو ¿ پیچ آزما رہے ہیں اسی کشمکش میں کوئی وقت ایسا بھی آسکتا ہے جب دونوں کھل کر ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہوجائیں اور ان کے اتحادی بھی اس محاذ آرائی میں شریک ہونے پر مجبور ہوجائیں ایسی ہی کسی صورت حال کا امکان 2019 میں نظر آتا ہے، اس صورت حال میں ضروری ہے کہ دنیا کے اہم ممالک کے مستند زائچوں کا مطالعہ کیا جائے کیوں کہ مختلف ممالک کے زائچوں پر ماہرین نجوم میں اکثر اختلافات پائے جاتے ہیں،سب سے پہلے ہم امریکا کا زائچہ پیش کر رہے ہیں جو ہماری نظر میں مستند ہے۔
مستند امریکی زائچہ
امریکا ایک بڑا ہی عجیب ملک ہے ، دنیا بھر کے ماہرین نجوم ہمیشہ امریکا کا درست اور مستند زائچہ بنانے میں مصروف رہے ہیں اس حوالے سے ویسٹرن سسٹم والوں کی اپنی تحقیق ہے اور ویدک سسٹم والے اپنا علیحدہ زاویہ ءنظر رکھتے ہیں، دونوں سسٹم کے ماہرین ایک سے زائد زائچے اب تک پیش کرچکے ہیں اور یہ عام طور پر مختلف ماہرین نجوم کی انفرادی تحقیق و جستجو رہی ہے، اس حوالے سے سب سے زیادہ تحقیقی کام بین الاقوامی شہرت یافتہ ویدک ایسٹرولوجر پروفیسر وی کے چوہدری اور ان کے ہم خیال گروپ نے کیا ہے، تقریباً دس سال تک اس سلسلے میں تحقیق ہوتی رہی اور بالآخر امریکا کے زائچے پر اتفاق رائے ہوسکا لہٰذا انفرادی طور پر بنائے گئے زائچوں کی بہ نسبت ہماری نظر میں یہ زائچہ زیادہ مستند ہے جس پر 10 سال تک بہت سے ماہرین نجوم کام کرتے رہے ہیں اور اس زائچے کے مطابق نہایت درست پیش گوئیاں کی جاتی رہی ہیں۔
امریکا کا یہ زائچہ امریکی قوم کی آزادی کے بہت بعد میں وجود میں آیا یعنی اس زائچے میں امریکی آزادی کی تاریخ 04-07-1776 کو نظرانداز کرکے 2 فروری 1781 ءکو بنیاد بنایا گیا ہے اور اس سلسلے میں اہم تاریخی حوالے بھی پیش کیے گئے ہیں کیوں کہ اسی تاریخ کو میری لینڈ میں کنفیڈریشن کے قانون کی منظوری دی گئی تھی اور ایک نئی ریاست ہوائی کو امریکن فیڈریشن میں شامل کیا گیا تھا۔
پروفیسر چوہدری اور ان کے رفقاءاس زائچے کو تقریباً دس سال تک امریکا کے حالات و واقعات پر جانچتے اور پرکھتے رہے، اس زائچے کے مطابق امریکا کا برتھ سائن سرطان 20 ڈگری ہے لہٰذا راہو کیتو کے علاوہ مشتری اور زحل بھی زائچے کے فعلی منحوس سیارے ہیں، کیتو زائچے کے چوتھے گھر میں اور راہو دسویں گھر میں لہٰذا بارھویں ،دوسرے، چھٹے ، آٹھویں اور دوسرے ، دسویں گھروں کو متاثر کر رہے ہیں، مشتری اور زحل زائچے کے پانچویں گھر عقرب میں کمزور ہےں لیکن جنگ و جدل کا ستارہ مریخ یہاں نہایت طاقت ور پوزیشن رکھتا ہے،اسی طرح شمس بھی ساتویں گھر میں مضبوط اور طاقت ور پوزیشن رکھتا ہے،جب کہ عطارد ساتویں گھر میں غروب ہے، زہرہ چھٹے گھر میں اور قمر گیارھویں اپنے شرف کے گھر میں ہے، مشتری کی نظر قمر پر ہے جب کہ سب سے منحوس سیارہ زحل کی نظر شمس پر ہے مگر یہ نظرات بہت بھرپور نہیں ہےں۔
عزیزان من! اس وقت امریکی زائچے کے حوالے سے کوئی پیش گوئی کرنا ہمارا مقصد نہیں ہے، ہم صرف اس حوالے سے جو تحقیقی کام ہوا ہے، وہ آپ کے سامنے لانا چاہتے ہیں اور یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس زائچے کی روشنی میں ماہرین نجوم امریکا کی خوبیوں اور خامیوں کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں، اس کا خلاصہ مندرجہ ذیل ہے۔
اس زائچے کے زیر اثر ایک آزاد اور خوش حال انسانی سماج وجود میں آتا ہے جو تخیّل پرستانہ اور مزاجی طور پر حساس ہے،زائچے کے پہلے گھر میں برج سرطان طلوع ہے اور اس کا حاکم سیارہ قمر اپنے شرف کے برج ثور میں ہے، زائچے میں اسے فائدے یا منافع کا گھر کہا جاتا ہے، چناں چہ امریکا دنیا بھر سے فوائد حاصل کرتا ہے۔
طالع سرطان کے حامل لوگوں کی زندگی میں خوش قسمتی کے بے شمار واقعات پیش آتے ہیں، کہا جاتا ہے کہ اس برج کے زیر اثر لوگ نوازے ہوئے اور باتدبیر ہوتے ہیں، اچھے میزبان، اثر پذیر، لچک دار، سخی، امن پسند، ہنسی مذاق والے اور پُرتخیّل ہوتے ہیں مگر غیر معمولی جذباتی ، حساس، شرمیلے ، موڈی، جذباتی لگاو ¿ رکھنے والے ، انحصار کرنے والے اور اپنے لیے بھی، دوسروں کے لیے بھی خدشات کا شکار رہنے والے بے چین فطرت ہوتے ہیں۔
برج اسد کی طرح سرطان کے مزاج میں بھی شاہی رنگ ڈھنگ دیکھنے میں آتے ہیں کیوں کہ اس کا حاکم سیارہ قمر تمام سیارگان میں ایک ملکہ کی حیثیت رکھتا ہے، وہ زائچے میں اپنے شرف کے گھر میں ہے اور یہ گھر بھی ایک سعد گھر ہے،یہ کیفیت امریکیوں کو دور اندیش اور اچھی آمدنی کا حامل بناتی ہے،قمر اور مشتری کے درمیان نظر ہے، مشتری چوں کہ چھٹے اختلافات اور تنازعات کے گھر کا مالک ہے لہٰذا امریکیوں یا امریکا کا مزاج جنگ جویانہ، فتنہ پرور اور اختلافات کو ہوا دے کر تنازعات کی شکل دینے والا ہے، ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا بھر کے معاملات میں امریکا کی مداخلت اور فتنہ پروری نمایاں نظر آتی ہے،معاملہ فلسطین کا ہو یا ماضی میں ویتنام کا، افغانستان کی جنگ اور اب حال میں کوریا سے تنازعات، چین سے اختلافات وغیرہ وغیرہ، الغرض دنیا بھر میں امریکا کے اختلافات و تنازعات موجود ہیں، سیارہ قمر پر دوسری طاقت ور اور سعد نظر جنگ جو ستارے مریخ کی ہے جو زائچے کے دسویں گھر کا مالک ہے لہٰذا امریکیوں کو اپنی بالادستی اور کاروباری مفادات بھی بہت عزیز رہتے ہیں، اس خوبی کی وجہ سے قومی قوانین کا سختی کے ساتھ اطلاق، بہترین ٹیکنیکل صلاحیت، جرا ¿ت و بہادری اور اعلیٰ کارکردگی امریکا کی وجہ شہرت ہے،اپنی اعلیٰ کارکردگی اور ٹیکنیکل مہارت کی وجہ سے امریکا انسان کو چاند پر بھیج کر واپس زندہ لانے والی دنیا کی پہلی قوم ہے۔
زائچے کے دوسرے گھر کا حاکم سیارہ شمس ہے، دوسرا گھر اسٹیٹس ، فیملی اور ذرائع آمدن سے متعلق ہے،سیارہ شمس ساتویں برج جدی میں طاقت ور پوزیشن رکھتا ہے اور ساتویں اور طالع کے درجات سے مفید زاویہ بنارہا ہے،یہ صورت حال زائچے میں دولت اور حیثیت کو مستحکم کرنے میں مددگار ہے، یہ روح اور قوت حیات کی نشان دہی بھی کرتی ہے، اس طاقت ور زاویے نے امریکا کو دنیا میں قابل ذکر حیثیت اور اثرورسوخ سے نوازا، مضبوط صدارتی اور جمہوری نظام نے مدد دی، شمس کی نظر نے امریکا کی شناخت ایک آقا کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کردی۔
زائچے کے تیسرے گھر کا حاکم سیارہ عطارد بھی ساتویں گھر برج جدی میں ہے،اگرچہ غروب ہے لیکن شمس سے فاصلہ بہت زیادہ ہے،اسے مکمل طور پر تحت الشعاع نہیں کہا جاسکتا لہٰذا امریکا اور امریکی قوم میں پہل کاری اور کوشش کا جذبہ بھرپور ہے،وہ ناممکن کو ممکن بنانے کی ہمت اور حوصلہ رکھتے ہیں، جیسا کہ ماضی میں اکثر دیکھنے میں آتا رہا ہے،ساتویں گھر میں اس کی موجودگی زندگی میں آزادی اور خوشی کا حصول، غیر ملکی اور تجارتی پالیسیوں کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
زائچے کے تیسرے گھر کا حاکم سیارہ زہرہ چھٹے گھر میں بری جگہ اور کمزور ہے، یہ پوزیشن ملک کے داخلی معاملات میں انتشار، اختلافات، نسلی کشیدگی اور شہری حقوق کا بحران، خانہ جنگی، انسانی حقوق کی لڑائیاں، قاتلوں اور دیگر جرائم پیشہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد ، حادثاتِ ارضی و سماوی کی بہتات کی نشان دہی کرتی ہے۔
چھٹے گھر کا حاکم سیارہ مشتری پانچویں گھر میں قمر سے مقابلے کا زاویہ بنارہا ہے، اس کی پانچویں گھر میںموجودگی امریکیوں کی نئی نسل میں شدت پسندانہ رجحانات، ممنوعات سے رغبت اور روایتی معاشرتی یا مذہبی اقدار سے بغاوت کی نشان دہی کرتی ہے جس کا مظاہرہ بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ مشاہدے میں آتا رہتا ہے، مزید یہ کہ انتہا پسندانہ اقدام کی نشان دہی ہوتی ہے جیسا کہ دوسرے جنگ عظیم کے دوران دیکھنے میں آیا کہ امریکا نے جاپان کے خلاف ایٹم بم استعمال کیا جو بربریت و سفاکی کا بدترین مظاہرہ ہے، دیگر محاذ آرائیوں میں بھی امریکا ایسے ہی انتہا پسندانہ قدم اٹھانے سے گریز نہیں کرتا۔
زائچے کے آٹھویں گھر کا تعلق موت اور سہل الحصول فوائد سے ہے یعنی ایسے فائدے جو زیادہ محنت کے بغیر حاصل ہوجائیں، اس کا حاکم سیارہ زحل پانچویں گھر برج عقرب میں اچھی جگہ ہے، تخلیقی صلاحیتوں، یونیورسٹیوں اور قیاس آرائیوں میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کا سبب بن رہا ہے، مزید اچھی بات یہ ہے کہ وہ زائچے کے کسی گھر سے کوئی زاویہ نہیں بنارہا لیکن چوں کہ آٹھویں منحوس گھر کا حاکم ہے لہٰذا تخلیقی کام ، فنکارانہ صلاحیتیں ، شاعری ادب، آرٹ یا ان سے متعلق ادارے بہر حال مادرپدر آزاد کارکردگی ظاہر کرتے ہیں جہاں روایتی حدود وقیود ختم ہوجاتی ہیں، مثلاً امریکا میں ایسی کتاب لکھی جاسکتی ہے یا ایسی فلم بنائی جاسکتی ہے جو امریکیوں کے مذہب کا یا ان کے قوانین کا یا ان کی مقدس شخصیات کا مضحکہ اڑا رہی ہوں اور ایسا بارہا ہوا ہے، اگر ایک طرف اعلیٰ ترین ٹیکنالوجی اور دیگر مثبت علمی اور ادبی کام ہوا ہے تو دوسری طرف منفی تخلیقی ، تحریری اور آرٹسٹک سرگرمیاں بھی کچھ کم نہیں رہی ہیں، ہالی ووڈ دنیا میں سب سے بڑا فلمی مرکز تسلیم کیا گیا اور یہاں سے شاہکار فلمیں سامنے آئیں مگر اسی مرکز سے منفی اور گھٹیا فلمی کاروبار بھی شروع ہوا جو عروج تک پہنچا، اس کا سبب سیارہ زحل اور مشتری کی پانچویں گھر میں موجودگی ہے، یہ دونوں سیارگان زائچے کے فعلی منحوس سیارے ہیں۔
سیارہ شمس پر زحل کی نظر امریکی صدور کی زندگیوں کو خطرات کا اشارہ دیتی ہے اور خلا کی تسخیر جیسے خطرات سے کھیلنے کا حوصلہ دیتی ہے،1835 ءسے امریکی صدور پر کیے جانے والے 18 قاتلانہ حملے جن میں سے 4 کامیاب رہے، آٹھویں گھر کے حاکم زحل کی شمس پر نظر کا شاخسانہ ہیں اور آئندہ بھی امریکی صدور کی زندگیوں کو خطرات لاحق رہیں گے،واضح رہے کہ کیتو کی موت کے گھر پر نظر بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
طالع کے حاکم سیارہ قمر کے ساتھ گیارھویں گھر کے حاکم مریخ کی سعد نظر ہے،امریکیوں کو ایک مضبوط اور طاقت ور فوج اور صنعتی ترقی میں نمایاں شناخت فراہم کرتی ہے،دسویں گھر کے حاکم مریخ کی پانچویں گھر میں مضبوط پوزیشن ، ایک مضبوط اور دانش ور حکومت اور دانش ور سربرہران مملکت کی نشان دہی کرتی ہے لیکن یہ بھی اہم نکتہ ہے کہ راہو کیتو دسویں اور چوتھے گھر میں ان گھروں کے درجات سے حالتِ قران میں ہیں جس کی وجہ سے حکومتی اور داخلی مسائل کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے،بعض حکمران راہو کے اثر کی وجہ سے غلطیوں کا شکار ہوکر قومی نقصان کا باعث بنتے ہیں، اسکینڈلز کا شکار ہوتے ہیں،کیتو کی وجہ سے فرقہ وارانہ اور نسلی کشیدگی پیدا ہوتی ہے جس کے مظاہرے وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے اور آئندہ بھی آتے رہیں گے۔
عزیزان من! امریکی زائچے کی روشنی میں امریکا اور امریکیوں کے بارے میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے، اس سے ماضی کی امریکی تاریخ اور حالیہ امریکی فیصلوں یا اقدام کی تائید ہوتی ہے، زائچے کے یہ اثرات دائمی ہیں، امریکا ہمیشہ ایسا ہی رہے گا جیسا زائچے کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے، اس کے مثبت اور منفی دونوں پہلو سامنے رکھنا چاہئیں۔
امریکی زائچے میں اگست 2016 ءسے زائچے کے طاقت ور سیارے شمس کا دور اکبر شروع ہوچکا ہے، کہا جاتا ہے کہ یہ دور امریکا کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ہوگا اور امریکا کی دنیا میں حیثیت تسلیم کی جائے گی جو بہر حال ایک آقا کے طور پر ہے،شمس کا دور اکبر اپریل 2022 ءتک جاری رہے گا،اس کے بعد قمر کا دس سالہ دور شروع ہوگا، یہ بھی زائچے کا طاقت ور سیارہ ہے،گویا وہ لوگ جو مستقبل میں امریکا کی تباہی و بربادی کے خواب دیکھ رہے ہیں، خواب ہی دیکھتے رہیں گے،البتہ اپریل 2057 ءسے جب سیارہ مشتری کا دور اکبر شروع ہوگا تو امریکا کے ٹوٹنے بکھرنے کا سلسلہ شروع ہوگا، مختلف ریاستوں پر قائم فیڈریشن باقی نہیں رہے گی۔
شمس کے دور اکبر میں 2 جون 2017 ءسے راہو کا دور اصغر جاری ہے جو 27 اپریل 2018 ءتک رہے گا،اس دوران میں امریکا کی سیاسی حکمت عملی منافقانہ اور فراڈ پر مبنی ہوسکتی ہے یعنی وہ مختلف حیلے بہانوں سے دنیا میں اپنے مفادات حاصل کرنے کی کوشش کریں گے جو بہر حال ایک مثبت طرز عمل نہیں ہے،جب طرز عمل مثبت نہ ہو تو مستقبل میں اس کے نتائج بھی مثبت نہیں ہوتے کیوں کہ 27 اپریل کے بعد مشتری کا دور شروع ہوجائے گا جو دنیا بھر میں امریکا سے اختلاف رائے اور تنازعات کا دور ہوگا، یہ تنازعات اس قدر شدت اختیار کرسکتے ہیں کہ ان کے نتیجے میں دنیا تیسری عالم گیر جنگ کی دہلیز پر کھڑی نظر آئے گی،اس حوالے سے سال 2018-19 ءنہایت اہم نظر آتے ہیں، یاد رہے کہ دوسری عالم جنگ کے وقت بھی امریکا مشتری کے دور سے گزر رہا تھا (واللہ اعلم بالصواب)

ہفتہ، 3 جون، 2017

آتا ہے ابھی دیکھیے کیا کیا مِرے آگے


وزیراعظم نواز شریف اور عمران خان کے درمیان جاری محاذ آرائی کا تماشا
مئی جون کے جلتے سلگتے موسم میں سیاسی گرم بازاری بھی عروج پر ہے اور اس کی وجہ کچھ اور نہیں، ہمارے دو سیاسی قائدین کی باہمی محاذ آرائی ہے یعنی عمران خان اور وزیراعظم نواز شریف صاحب جو ابتدا ہی سے ایک دوسرے کے حریف کے طور پر سامنے آئے تھے ، اپنی اس پوزیشن کو برقرار رکھے ہوئے ہیں، عمران خان کی کوششوں سے پانامہ لیکس کا مقدمہ عدالت عالیہ تک پہنچ گیا جس کا ایک فیصلہ آچکا ہے اور دوسرا شاید جولائی تک متوقع ہے کیوں کہ سپریم کورٹ نے تحقیق و تفتیش کا کام ایک جے آئی ٹی کے سپرد کردیا ہے جسے دو ماہ کے اندر سپریم کورٹ کو اپنی رپورٹ پیش کرنی ہے،جے آئی ٹی مصروف عمل ہے اور اس طرح کے ن لیگی رہنما سخت برہم ہیں، جے آئی ٹی کے دو ممبران پر سخت اعتراضات بھی کیے گئے جو سپریم کورٹ نے مسترد کردیے لیکن تازہ ترین خبر کے مطابق جو کچھ سینیٹر نہال ہاشمی نے کیا، اس پر خلق خدا حیرت زدہ ہے،اگرچہ ان کے شدید دھمکی آمیز بیان کے بعد ن لیگ نے ان کے خلاف سخت کارروائی کی ہے لیکن باشعور طبقہ عدم اطمینان کا شکار ہے،وہ نہال ہاشمی جیسے سینئر ایڈوکیٹ سے ایسے کسی احمقانہ بلکہ مجنونانہ اندازِ بیان کی توقع نہیں رکھتا تھا، آخر اچانک نہال ہاشمی کو کیا ہوا تھا؟ ممکن ہے اس سوال کا حقیقی جواب نہ مل سکے یا شاید برسوں بعد کبھی ملے۔
دوسری طرف ن لیگ نے بھی اب جارحانہ رنگ ڈھنگ اپنالیے ہیں اور عمران خان کو جوابی طور پر عدالت اور الیکشن کمیشن میں کھینچ لیا ہے،ان کی کوشش ہے کہ عمران خان کو نااہل قرار دیا جائے،اس وقت پاکستانی سیاست میں یہی دو موضوع گرماگرمی کا باعث ہےں۔
ہم اپنے گزشتہ کالموں میں زائچہ ءپاکستان اور زائچہ ءحلف جناب وزیراعظم کی روشنی میں یہ عرض کرچکے ہیں کہ جون تا ستمبر ایسا وقت چل رہا ہے جس میں پاکستان کے لیے بھی مشکل حالات کی نشان دہی ہوتی ہے اور وزیراعظم کے لیے بھی،دوسری طرف تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ہیں جن کا طالع پیدائش برج میزان ہے، وہ بھی ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں لیکن ان کی مشکلات وزیراعظم کے مقابلے میں بہت کم ہیں، اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ وہ اب پاکستانی سیاست میں ایک مقبول لیڈر بن چکے ہیں، ان کی جماعت کے پاس اسٹریٹ پاور بھی موجود ہے،تقریباً دونوں سیاست دانوں عمران خان اور جناب نواز شریف کو نا اہلی کے مقدمات کا سامنا ہے،دونوں ملک کے مقبول اور طاقت ور سیاست داں ہیں، نواز شریف وزیراعظم کے اعلیٰ ترین عہدے پر براجمان ہیں، حکومت ان کی ہے اس کے برعکس عمران خان فی الحال محض ایک اپوزیشن لیڈر ہیں، نا اہلی کی صورت میں زیادہ نقصان نواز شریف صاحب کا ہوسکتا ہے، عمران خان کی نا اہلی کو شاید زیادہ اہمیت نہ دی جائے، دونوں کے درمیان ایک فرق یہ بھی ہے کہ نواز شریف صاحب گزشتہ 25,30 سال سے سیاست میں ہیں اور ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں، ان پر کرپشن کے الزامات ہیں، کہا جاتا ہے کہ ان کی موجودہ بے پناہ دولت میں اضافہ اسی عرصے میں ہوا ہے جب وہ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئے، اس کے برعکس عمران خان کبھی ملک کے کسی اعلیٰ عہدے پر نہیں رہے لہٰذا کرپشن کا ان پر کوئی الزام نہیں ہے،البتہ غلطیاں یا کوتاہیاں ان کے گلے پڑ گئی ہیں جسے عوام زیادہ اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
دونوں قائدین کی باہمی محاذ آرائی مستقبل میں کیا رنگ لائے گی؟ اس سوال کا جواب دینے کی ہم کوئی ضرورت نہیں سمجھتے، اہل نظر جانتے ہیں کہ سیاست میں دوستیاں اور دشمنیاں عارضی ہوتی ہیں،جیسا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا معاملہ ہمارے سامنے ہے،وزیراعظم نواز شریف کے زائچہ ءحلف اور پاکستان کے زائچے کی روشنی میں ہم پہلے بتاچکے ہیں کہ وہ ایک نہایت ”بدترین“ وقت سے گزر رہے ہیں، بقول شاعر آج کی رات بچیں گے تو سحر دیکھیں گے۔
عمران خان کے لیے مسائل و مشکلات فی الحال ضرور ہیں لیکن وہ اس مشکل دور سے نکلنے میں کامیاب ہوجائیں گے،ان کے زائچے میں دور اکبر سیارہ مشتری کا جاری ہے جس کی ابتدا 27 جنوری 2015 ءسے ہوئی تھی، مشتری ان کے زائچے کا اہم ترین اور خوش قسمتی لانے والا سیارہ ہے،مشتری کا طویل دور 16 سال کا ہوتا ہے گویا یہ دور 28 اپریل 2031 ءتک جاری رہے گا۔
اگر دور اکبر کسی سعد سیارے کا ہو اور وہ سیارہ زائچے میں بھی کسی اچھے گھر میں تعینات ہو تو دور اصغر کی خرابیوں میں زیادہ شدت پیدا نہیں ہوتی، عمران خان کے زائچے میں دور اصغر سیارہ زحل کا جاری ہے،یہ بھی اگرچہ زائچے کا سعد ترین سیارہ ہے لیکن زائچے میں بارھویں گھر میں اور زائچے کے منحوس ترین سیارے عطارد سے متاثر ہونے کی وجہ سے پریشانیاں ، الجھنیں، سازشیں، نقصانات اور مستقبل کے خوف ظاہر کر رہا ہے،عمران خان کو چاہیے کہ اس دور میں نہایت پابندی سے ہفتہ اور بدھ کے روز صدقات دیا کریں۔
زحل کا دور اصغر 17 مارچ 2017 ءسے شروع ہوا ہے اور 22 ستمبر 2019 ءتک جاری رہے گا، اس عرصے میں کسی نئے الیکشن میں حصہ لینے کا امکان موجود ہے،بے شک زحل کی کمزوری اور خرابیاں انہیں پریشان کرتی رہیں گی، اس حوالے سے ان کے مخالفین آخری حد تک جاسکتے ہیں لیکن اس کے باوجود آئندہ الیکشن میں ان کی کامیابی کے امکان کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اور ان کے وزیراعظم بننے کی پیش گوئی بھی کی جاسکتی ہے،بشرط یہ کہ وہ ماضی کی غلطیاں نہ دہرائیں، بہت زیادہ خوش امیدی سے دور رہیں جو ان کے زائچے کا ایک کمزور پہلو ہے، آنکھیں بند کرکے اپنے ارد گرد موجود لوگوں پر اندھا اعتماد نہ کریں۔
وزیراعظم نواز شریف اور عمران خان کے زائچوں سے قطع نظر خود پاکستان کا زائچہ اس وقت سیاروی گردش کے مطابق کسی بڑی اور اہم نوعیت کی تبدیلی کا امکان ظاہر کر رہا ہے اور یہ تبدیلی وزیراعظم یا حکومت سے متعلق ہوسکتی ہے، جولائی ، اگست اور ستمبر کے مہینے اس حوالے سے اہم ہوسکتے ہیں ( واللہ اعلم بالصواب)
ہے موجزن اک قلزمِ خوں کاش یہی ہو
آتا ہے ابھی دیکھیے کیا کیا مِرے آگے