بدھ، 19 جون، 2019

ہوائی بروج کا انداز محبت

میں جسے پیار کا انداز سمجھ بیٹھا تھا
ہوائی بروج کی جذباتی زندگی کے اتار چڑھاو  

ہوائی بروج کا انداز محبت

جوزا، میزان اور دلو کا عنصر ہوا ہے۔ ان تینوں بروج میں جوزا ذو جسدین یعنی دہرے پن کا حامل، میزان منقلب یعنی تغیر پذیر، تبدیل ہونے والا اور دلو ثابت یعنی ٹہراو ¿ رکھنے والا برج ہے۔ لہذا تینوں ہوائی برج اپنا ایک مختلف انداز رکھتے ہیں۔ اپنے عنصر ہوا کی مناسبت سے تینوں تخیلات اور تصورات کی دنیا میں رہتے ہیں اور اس حوالے سے ان کی محبت کے اظہار اور انداز بھی جدا جدا اور نرالے ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ یہ تینوں ہوائی تکون کے رکن دائرہ بروج کے انوکھے اور نرالے برج ہیں تو غلط نہیں ہوگا،تینوں بروج میں البتہ برج دلو اپنی انفرادیت میں یکتا ہے، ثابت قدم اور عملیت پسند ہیں جب کہ جوزا اور میزان نے ثابت قدمی اور عملیت کا فقدان ہے، چناں چہ ان کی محبت خیالی دنیا سے باہر قدم نکالنے میں ناکام رہتی ہے، ان کی محبت کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کھیل بچوں کا ہوا، دیدئہ بینا نہ ہوا۔

برج جوزا کا انداز محبت

برج جوزا کا تعلق انسانی ذہن اور ذہنی اعمال و افعال سے ہے لہذا جوزا افراد کوئی کام بھی ذہنی تحریک کے بغیر نہیں کرتے۔ سوچنا سمجھنا اور جاننا ان کے لیے اولیت رکھتا ہے لہذا محبت کے معاملات میں دل کے بجائے ان کا دماغ اور ذہن اپنا کردار ادا کررہا ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جوزا افراد کی محبت احساساتی نہیں ہوتی بلکہ کسی سوچے سمجھے منصوبے کا مظہر ہوتی ہے۔ شاید اسی وجہ سے وہ روایتی اور افسانوی محبت کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔ محبت ان کے نزدیک زندگی کے لیے ضروری تو ہے مگر ناگزیر نہیں ہے۔ کبھی کبھی تو وہ صرف تفریح طبع کے لیے بیک وقت دو تین جگہ عشق لڑا رہے ہوتے ہیں اور کبھی کسی ایسی محبت سے اچانک راہ فرار اختیار کرتے نظرآتے ہیں جس میں وہ مرنے جینے اور ہمیشہ ساتھ رہنے کی قسمیں کھائے بیٹھیں ہوں۔ دراصل جوزا ایک بڑا شریر بچہ ہے جس کی دلچسپیاں گزرتے وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ یہ صورت حال ان کی محبت کے انداز اور اظہار میں بھی جاری رہتی ہے۔
دو جوزا افراد کی محبت کا انداز بلکل ایسا ہی ہو گا جیسے درخت کی شاخ پر بیٹھے دو پرندے باہم چوہلیں، خوش فعلیاں کرتے نظر آئیں لیکن تھوڑی دیر بعد دوبارہ آپ اس شاخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہو گا کہ ایک ان میں سے غائب ہو چکا ہے اور دوسرا بھی کسی اور سمت پرواز کرنے کے لیے تیار ہے۔ پھر کچھ ہی دیر بعد دونوں اسی جگہ موجود ہوں گے اور حسب سابق اسی طرح باہم چوہلیں کرتے نظر آرہے ہوں گے۔
جوزا والوں کا انداز محبت ہی کیا، زندگی کے اور معاملات میں بھی طرز عمل اسی طرح جاری رہتا ہے، ان کی زندگی میں اکثر کام ادھورے رہ جاتے ہیں۔ یہ جتنی تیزی سے کسی نئی دلچسپی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اتنی ہی تیزی سے اس سے منہ موڑ بھی لیتے ہیں۔ ان لوگوں میں اپنے ذاتی معاملات کے لیے قوت فیصلہ بہت کمزور ہوتی ہے۔ بے شک یہ دوسروں کو ہر معاملے میں نت نئے مشورے دیتے ان کی مدد کرتے نظر آئیں گے مگر خود اپنے معاملات میں ان کے لیے کوئی حتمی فیصلہ کرنا بڑا مشکل کام ہوتا ہے۔ محبت کے معاملے میں بھی یہ آخر تک یہ فیصلہ ہی نہیں کر پاتے کہ وہ جسے پسند کرتے ہیں اس سے محبت بھی کرتے ہیں یا نہیں۔ دراصل ان کا ہر وقت سوچنے والا ذہن انہیں مستقل کسی نہ کسی الجھن میں مبتلا رکھتا ہے اور جب وہ الجھن ان کے سر کا درد بن جائے تو یہ ایک لمحے میں اسے ذہن سے جھٹک کر کسی نئی الجھن کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔ جوزا افراد سے محبت کرنے والے ان کی بے پروائی، کج ادائی اور بے وفائی کا شکوہ کرتے نظر آتے ہیں مگر وہ اپنی ان خصوصیات کو تسلیم نہیں کرتے۔ بلکہ اس سلسلے میں ان کا اپنا ایک نقطہ نظر ہے۔ ان کا فلسفہ یہ ہے کہ انسان کو کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ دنیا کو جان لینا چاہیے اور اس سلسلے میں آگے ہی آگے بڑھتے رہنا چاہیے، پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھنا چاہیے۔ گویا محبت کے روایتی نظریہ اور فلسفہ کے مطابق جوزا افراد اس کے بلکل برعکس نظر آتے ہیں۔ ان کی محبت میں عدم استحکام نظر آتا ہے۔ وہ کسی شاعر کے بقول تو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی کی مثال کو مدِ نظر رکھتے ہیں۔
یقیناً شمسی برج جوزا کے تحت پیدا ہونے والے اکثر افراد یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم ایسے نہیں ہیں تو یقیناً ان کے قمری یا پیدائشی برج ان کی محبت میں استحکام لانے کا سبب ہو سکتے ہیں۔
نوٹ: برجوں کے دلچسپ حیرت کدے میں محبت کے رنگ ڈھنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

برج میزان کا انداز محبت

ہوائی تکون کا دوسرا برج میزان ہے۔ بارہ بروج میں یہ واحد برج ہے جس کا نشان ایک بے جان چیز ترازو ہے۔ گویا توازن اور ہم آہنگی اس کی بنیادی خصوصیات میں شامل ہیں۔ اسی لیے ان کی انصاف پسندی اور سفارت کاری مشہور ہے۔ زندگی کا کوئی بھی معاملہ ہو یہ ہاتھ میں ترازو تھامے نظر آئیں گے یعنی محبت جیسے جذبے میں بھی ان کی ناپ تول جاری رہتی ہے۔ یہ ہر وقت تجزیہ کرتے رہتے ہیں کہ وہ جتنی محبت کسی سے کر رہے ہیں یا جتنا کسی کا خیال رکھتے ہیں کیا وہ بھی جواباً اتنا ہی ان کے ساتھ کر رہا ہے یا نہیں؟
میزانی افراد کا سارا زور توازن (Balance) پر رہتا ہے۔ لہذا محبت کے معاملات میں بھی یہ عدم توازن کا شکار نہیں ہوتے لیکن اگر کسی وجہ سے کسی معاملے میں بھی توازن بگڑ جائے تو یہ لوگ بہت پریشان ہوتے ہیں بلکہ کبھی کبھی اذیت کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ بارہ بروج میں برج میزان سب سے زیادہ رومان پسند اور امن پسند برج ہے۔ انہیں ہر وقت اور ہر معاملہ میں رومانس اور امن چاہیے کیونکہ رومانس اور امن کے بغیر ان کی بھرپور دلچسپی نمایاں نہیں ہوتی۔ یہ دنیا کہ سب سے زیادہ حسن پسند اور حسن پرست لوگ بھی ہیں۔ اسی لیے فنون لطیفہ میں بھی ان کا کردار غیر معمولی رہا ہے۔
ایک متوازن محبت اور پرسکون ماحول برج میزان کی ناگزیر ضرورت ہے۔ محبت میں انتہا پسندی اور جذبے کی شدت ان کے نزدیک خطرناک ہوتی ہے۔ یہ خود بھی اپنے انداز اور اظہار محبت میں محتاط روی کا خیال رکھتے ہیں اور اپنے محبوب سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں۔
ہوائی برج ہونے کی وجہ سے برج میزان بھی ذہانت اورذہن سے متعلق ہے۔ لہذا میزانی افراد کی محبت کا جذبہ دل سے زیادہ ذہن کا طابع ہوتا ہے۔ خیال رہے کہ برج میزان دائرہ بروج میں ایک مرکزی برج ہے۔ جو بارہ بروج کے درمیان میں واقع ہے۔ گویا بروج کے ہجوم میں گھرا ہوا ہے۔ لہذا یہ لوگ تنہائی سے خوفزدہ رہتے ہیں۔ انہیں ہر وقت ایک ساتھی کی ضرورت رہتی ہے۔ برج میزان شادی کا برج بھی ہے۔ لہذا شادی میزانی افراد کے لیے بہت خوشی کا باعث ہوتی ہے اور اگر من پسند ساتھی مل جائے تو یہ لوگ بہت مطمئن اور خوش رہتے ہیں لیکن ان کے ساتھی کو ہمیشہ کسی انتہا پسندی سے گریز کرنا چاہیے۔ ورنہ میزانی افراد پریشان ہو کر راہ فرار ڈھونڈنے لگتے ہیں۔ واضح رہے کہ اپنی امن پسندی کی وجہ سے میزانی افراد کسی مقابلے یا تنازع سے گھبراتے ہیں اور وہ مقابلہ کرنے کے بجائے اپنا راستہ بدل لینا بہتر سمجھتے ہیں۔
ایک شوہر یا بیوی کی حیثیت سے میزانی افراد تھوڑے سے مشکل ثابت ہوتے ہیں کیونکہ جس قسم کا توازن وہ ہر معاملے میں چاہتے ہیں اسے برقرار رکھنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔
میزانی افراد ضروری نہیں ہے کہ صرف ایک محبت پر قناعت کر لیں۔ ان کی زندگی میں ایک سے زیادہ رومانی تعلقات اور دلچسپیاں ہو سکتی ہیں۔ لہذا محبت کے روایتی تصور پر یہ اسی صورت میں پورا اتر سکتے ہیں جب کسی دوسرے آبی یا آتشی برج کا تعاون انہیں مل رہا ہو۔ میزانی افراد کے لیے محبت ایک رفاقت، ایک علاج تنہائی ہے۔ کسی کا ساتھ وہ اپنے لیے ضروری سمجھتے ہیں اور اس ساتھ کو استحکام دینے کے لیے شادی کو بھی ضروری خیال کرتے ہیں اگر ان کا ساتھی ایک اچھا سامع بھی ہووتو وہ بہت خوش رہتے ہیں۔ شادی کے بغیر ان کی محبت اتار چڑھاو ¿ کا شکار رہتی ہے۔ یہ بھی ان لوگوں میں سے ہیں جو آخر تک کسی نہ کسی تذبذب کا شکار رہتے ہیں اور کوئی حتمی فیصلہ کرنا ان کے لیے مشکل ثابت ہوتا ہے۔ بلکل آخری لمحوں میں یہ اپنا کوئی بھی فیصلہ تبدیل کر سکتے ہیں بلکہ اکثر تو یہ ہوتا ہے کہ میزانی افراد کسی مسئلہ میں الجھ کر اس کا بہت دیر تک ہر ہر پہلو سے جائزہ لیتے رہتے ہیں۔ بہت غور و فکر کرتے ہیں لیکن کسی فیصلے پر پھر بھی نہیں پہنچتے بلکہ آخر میں تنگ آ کر کوئی فیصلہ کیے بغیر ہی مسئلے کو ادھورا چھوڑ دیتے ہیں اور اپنے دل کو یہ کہہ کر تسلی دے لیتے ہیں کہ جب دوسرے فریق کی طرف سے کچھ ہو گا تو پھر اس کے مطابق ہی ہم بھی کوئی قدم اٹھا لیں گے۔ یہاں پر میزان افراد کے بارے میں ایک اہم حقیقت یہ سمجھ لینی چاہیے کہ یہ لوگ "پہل کار" نہیں ہوتے یعنی اپنی طرف سے کبھی پہل نہیں کرتے۔ محبت کے اظہار میں بھی پہل کرنے سے ہچکچاتے ہیں کیونکہ کوئی واضح فیصلہ کر نہیں پاتے۔ لہذا ان سے محبت کرنے والوں کو خود پہل کرنا چاہیے۔ اس انتظار میں نہیں رہنا چاہیے کہ وہ خود آگے بڑھیں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میزان افراد کو متاثر کرنے اور ان کا دل جیتنے کا سب سے بڑا گر یہی ہے کہ آپ انہیں پہل کرنے کی زحمت سے بچا لیں۔ وہ آپ کی پیش قدمی کو بہت اہمیت دیں گے اور اس سے انہیں خصوصی خوشی حاصل ہو گی۔ میزان شوہر یا بیوی کے سلسلے میں اگر اس بات کا خیال رکھا جائے تو اس کا نتیجہ بہت شاندار نکلے گا۔

برج دلو کا انداز محبت


دائرة البروج کا سب سے انوکھا اور نرالا برج دلو ہے۔ تو ظاہر ہے اس کی محبت کے انداز بھی انوکھے اور نرالے ہی ہوں گے۔ ہوائی برجوں کی تکون میں یہ تیسرا اور آخری برج ہے۔ اس کا نشان مشکیزہ بردار ایک معمّر شخص ہے۔ اپنی ماہیت کے اعتبار سے یہ ثابت (Fixed) ہے۔ 
برج دلو کا نمبر برجوں کی قطار میں گیارہواں ہے۔ گویا یہ فطری زائچہ کا گیارہواں گھر ہے جس کا تعلق امید و خواہشات اور دوستی سے ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ دلو افراد کے نزدیک محبت کے معنٰی دوستی ہیں تو غلط نہیں ہو گا۔ یہ لوگ کافی بڑا حلقہ احباب رکھتے ہیں اور اپنے دوستوں کے درمیان خوش رہتے ہیں۔ دوستوں کے کام آنا ان کے دکھ درد اور خوشی و غم میں شریک ہونا ان کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ لوگ ہمدردی کا جذبہ بھی بہت رکھتے ہیں۔ اگر سڑک پر کوئی حادثہ پیش آجائے یا کسی معذور کو سہارے کی ضرورت ہو تو ممکن نہیں ہے کہ ایک دلو شخص اسے نظر انداز کر کے آگے بڑھ جائے مگر اس خوبی کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ وہ یہ کہ اپنے اس سوشل ورک کی وجہ سے یہ لوگ اپنے ذاتی کام بھول جاتے ہیں۔ ان کی وہی مثال ہے کہ اپنے گھر میں اندھیرا اور پڑوسی کے گھر میں چراغ جلا رہے ہیں۔ دلو افراد سے ان کے اہل خانہ کو شکایت ہو سکتی ہے لیکن پڑوسیوں کو نہیں۔
برج دلو کی محبت، ہمدردی اور دوستی کے دائرے سے باہر نہیں نکلتی۔ حد یہ ہے کہ شادی کے بعد دلو مرد اور خواتین کو شوہر یا بیوی کی شکل میں ایک دوست چاہیے ہوتا ہے۔ اگر بیوی یا شوہر دوستانہ انداز اور ماحول پیدا نہ کرے تو یہ لوگ پریشان ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں یہ کوئی لڑائی جھگڑا یا تنازع مول لینے کے بجائے وقت گزاری کے لیے کوئی متبادل راستہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔
برج دلو کی محبت میں جوش و ولولہ، گہرائی اور گیرائی کا فقدان ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ شمسی برج دلو کے ساتھ کوئی آبی برج بھی موجود ہو۔
دلو افراد تعلقات کے معاملے میں کھلے دل اور کھلے ہاتھ کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔ وہ بہت جلدی تکلفات کی ساری حدیں توڑ کر آپ کے دل میں گھر کر لیں گے لیکن جیسے ہی وہ یہ محسوس کریں گے کہ آپ ان کی محبت میں بہت زیادہ سنجیدگی اور دیوانہ پن کی حدود میں داخل ہو رہے ہیں تو وہ گھبرا جائیں گے اور ممکن ہے راہ فرار اختیار کریں۔ دراصل برج دلو دوستی کے علاوہ آزادی، سچائی اور روشن خیالی کا برج بھی ہے۔ دلو افراد کے نزدیک ان کی سب سے سب سے زیادہ قیمتی شے ان کی آزادی ہے۔ جب وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ فریق ثانی ان کی محبت میں دیوانہ ہو رہا ہے اور یہ دیوانگی ان کے پیروں کی زنجیر بن سکتی ہے تو وہ گھبرا جاتے ہیں، سمجھ لیتے ہیں اب وہ ضرور ان سے شادی کا تقاضا کرے گا جس کا مطلب پابندی اور ذمہ داری ہے۔ کسی بھی قسم کی پابندی دلو افراد کے لیے ناقابل قبول ہے۔ ایسی صورت میں انہیں یہ احساس دلانے کی ضرورت ہو گی کہ شادی ایک دوستانہ اور ہمدردانہ تعلق کو مزید مضبوط بناتی ہے اور وہ اس رشتے میں بندھ کر بھی اپنی آزادی کا سودا نہی کر رہے۔
اگر دو دلو افراد ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور پھر شادی کر لیتے ہیں تو یہ جوڑی بری نہیں ہے لیکن اس میں خرابی یہ ہے کہ یہ کسی وقت بھی ٹوٹ سکتی ہے یعنی جب بھی دونوں ایک دوسرے سے بے زار ہوں گے یا ایک دوسرے سے شکایات پیدا ہوں گی تو دونوں بڑی آسانی کے ساتھ اپنے راستے الگ کر لیں گے۔ طویل عرصے تک ایک ساتھ رہنے کے باوجود وہ کسی بڑے جذباتی صدمے کا شکار بھی نہیں ہوں گے۔ بقول شاعر چار دن تڑپے تھے آخر پھر قرار آ ہی گیا۔
برج دلو سے متعلق افراد ہر معاملے میں رسم و روایات کے خلاف چلتے ہیں۔ وہ کوئی کام بھی اس طرح نہیں کرنا چاہتے جس طرح اس کام کو دوسرے کرتے ہوں۔ یہ لوگ اپنا نیا راستہ نکالنا پسند کرتے ہیں۔ اسی لیے برج دلو کو جدت پسندی اور غیر متوقع رویوں کا برج بھی کہا جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے یہ دوسروں کو حیران کرنے والے کام کر گزرتے ہیں۔ مشہور سائنسدان تھامس ایلو ایڈیسن کا شمسی برج دلو تھا۔ اس نے دنیا کو اپنی بے شمار ایجادات سے حیران کر دیا۔ جب وہ بچہ تھا تو ایک بار مرغی کے انڈوں پر بیٹھا ہوا تھا۔گھر والے بہت حیران ہوئے اور پوچھا کہ تم یہ کیا کر رہے ہو؟ تو اس نے جواب دیا "میں یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہوں کہ میں بھی مرغی کی طرح انڈوں میں سے بچے نکال سکتا ہوں یا نہیں۔"
محبت، دوستی اور تعلقات کے حوالے سے بھی دلو افراد کا رویہ حیرت انگیز ہوتا ہے۔ وہ اس معاملے میں بھی دوسروں کو چونکا دیتے ہیں۔ مثلاً وہ کسی ایسی شخصیت سے شادی کر سکتے ہیں جس سے انہیں محبت نہ ہو یا جو انہیں پسند نہ ہو۔ دلو مرد یا خواتین پوری زندگی ایسے کسی ازدواجی رشتے کو نبھانے کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتے ہیں جو ان کے لیے ناپسندیدہ ہو۔ ایسے رشتے کبھی تو ہمدردی کے جذبے کے تحت قائم ہوتے ہیں اور کبھی سوشل ورک کے طور پر وہ کسی ایسی شخصیت سے شادی کے لیے اچانک تیار ہو سکتے ہیں جس سے کوئی بھی شادی کرنا پسند نہ کرتا ہو یا اسے سہارے کی ضرورت ہو۔ ایسے موقعے پر وہ فوراً اپنی خدمات پیش کر سکتے ہیں۔
دلو افراد انوکھے ہوتے ہیں اور انوکھی چیزیں پسند کرتے ہیں جو روایت کے برعکس ہوں۔ اکثر بے جوڑ تعلقات اور شادیوں میں دلو افراد ہی اہم کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ مثلاً کوئی دلو مرد کسی ایسی عورت سے شادی کر سکتا ہے جو اس کے مقابلے میں انتہائی بدصورت یا کسی نہ کسی اعتبار سے نہایت کمتر ہو یا کوئی دلو عورت کسی ایسے شریک حیات کا انتخاب کر سکتی ہے جو ہر اعتبار سے اس سے کمتر نظر آئے۔ ایسی صورت میں وہ کسی مخالفت کی بھی پروا نہیں کرتے۔ نہ ہی انہیں اپنے اس انتخاب پر کوئی شرمندگی یا پشیمانی ہوتی ہے۔ دراصل اس معاملے میں بھی دلوافراد کی روایت شکنی اور انوکھی اور نرالی چیزوں کے پیچھے لپکنے کی فطرت کارفرما ہوتی ہے۔ وہ اپنی بے جوڑ شادی میں سب کچھ بھول کر فریق ثانی کی کسی انوکھی خوبی یا ادا کے اسیر ہو جاتے ہیں۔
دلو افراد کا اظہار محبت بڑا ہی عجیب ہوتا ہے۔ وہ اکثر دوسروں کو دھوکا دیتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ ایسا جان بوجھ کر نہیں کرتے بلکہ یہ ان کا ایک غیر اختیاری فعل ہوتا ہے۔ جب وہ کسی سے تعلقات بڑھاتے ہیں تو ان کی بے تکلفی اور ہمدردی حد سے بڑھ جاتی ہے۔ آپ کو یہ محسوس ہو گا کہ آپ کے سوا انہیں دنیا میں کسی چیز سے دلچسپی ہی نہیں ہے اور وہ آپ کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ آپ یقیناً یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ وہ آپ سے شدید محبت کرنے لگے ہیں۔ بس اب کسی وقت بھی شادی کی فرمائش کر سکتے ہیں مگر جب ایک طویل عرصہ گزرنے کے باوجود بھی وہ شادی کا لفظ زبان پر نہیں لاتے تو آپ یقیناً خود پہل کرنے کے بارے میں سوچیں گے یا کسی اور ذریعے سے انہیں شادی پر رضامند کرنے کی کوشش کریں گے مگر یاد رکھیں اس مرحلے پر بھی وہ آپ کو چونکا سکتے ہیں اور ان کا جواب کچھ اس قسم کا ہو سکتا ہے کہ میں نے تو کبھی بھی اس طرح نہیں سوچا۔ ہم بس بہت اچھے دوست ہیں یا یہ کہ میرا اب تک کا رویہ کسی ہمدردی کے جذبے کے تحت تھا۔ 
ذرا سوچیے اس قسم کے جواب کے بعد آپ کا کیا حال ہو گا؟ ساحر لدھیانوی کا ایک شعر تھوڑی سے ترمیم کے بعد دلو افراد کے اس رویے کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔

میں جیسے پیار کا انداز سمجھ بیٹھا تھا
وہ تبسم، وہ تکلم تیری عادت نکلا

بعض دلو افراد (مرد یا خواتین) برسوں کسی ایسے ہی محبت نما تعلق میں بندھے رہنے کے بعد اچانک کسی اور جگہ شادی کر بیٹھتے ہیں اور پھر یہی جواز پیش کر رہے ہوتے ہیں کہ ہمارا تعلق تو دوستی اور ہمدردی کا تھا۔ ہم ایسے کئی کیس دیکھ چکے ہیں۔ ایسی صورت حال کا نتیجہ فریق ثانی کے حق میں بہت برا نکلتا ہے۔
اس تمام گفتگو کا مطلب یہ نہیں کہ دلو افراد طوطا چشم، ہرجائی اور غیر جذباتی ہوتے ہیں۔ محبت کا پودا ان کے دل میں سرسبز و شاداب نہیں ہو سکتا۔ ایسا ہر گز نہیں ہے وہ جب کسی سے محبت کرتے ہیں تو آخری وقت تک ساتھ نبھاتے ہیں۔ بس بات صرف اتنی سی ہے کہ ان کی محبت صورت شکل، مال و دولت یا دیگر روایتی دنیاوی معیارات کے طابع نہیں ہوتی بلکہ کوئی انوکھی بات ان کی محبت کی بنیاد بنتی ہے۔ یہ بتانا بہت مشکل ہے کہ وہ ایسی کون سی بات ہو سکتی ہے۔ البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ کوئی ایسی بات جو ان کے خیال میں بہت انوکھی اور نایاب ترین ہو خواہ وہ بات دوسروں کی نظر میں معمولی اور غیر اہم ہی کیوں نہ ہو؟ 
شادی یا کسی بھی پارٹنر شپ سے دلو افراد اسی صورت میں بے زار ہوں گے۔ جب انہیں یہ محسوس ہو کہ ان کی فطری اور ذاتی آزادی خطرے میں ہے۔ دائرہ بروج کے بعض برج حاکمانہ مزاجی اور غلبہ پسندی پر مائل ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ دلو افراد ہر گز گزارا نہیں کر سکتے۔ ایسے بروج میں اسد، ثور، عقرب سر فہرست ہیں۔ دلو افراد کے ساتھ ان کی شراکت زیادہ مضبوط اور پائیدار ثابت نہیں ہو سکتی۔ 

مختلف بروج سے تعلق رکھنے والے افراد کی محبت کا انداز اور نظریہ

محبت وہم ہے یا وسوسا ہے؟
مگر یہ واقعہ اپنی جگہ ہے

مختلف بروج سے تعلق رکھنے والے افراد کی محبت کا انداز اور نظریہ


شاید دنیا کا سب سے زیادہ پڑھا اور لکھا جانے والا موضوع محبت ہے۔ بہت کم کہانیاں دنیا میں ایسی ہوں گی جن میں اس عالمی جذبے کی کارفرمائی موجود نہ ہو۔ دنیا کے طاقتور ترین جذبوں میں محبت اور نفرت ہی وہ دو جذبے ہیں جو انسانی نفسیات میں سرفہرست ہیں۔ باقی تمام جذبے محبت اور نفرت ہی کی اگلی کڑی کہلائیں گے۔ مثلاً انتقام ، لالچ وغیرہ۔
محبت کے عالمی اور لافانی کردار کو تمام مذاہب کے علاوہ وہ لوگ بھی تسلیم کرتے ہیں جو لامذہب یا دوسرے معنوں میں مادّہ پرست کہلاتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ محبت کی توجیح و تشریح میں بھی مادّی فوائد کو مدِ نظر رکھتے ہیں۔ مثلاً علم نفسیات کا باوا آدم سنگمنڈ فرائڈ محبت کے جذبے میں جنس کے پہلو کو اوّلیت دیتا ہے۔
جدید علم نفسیات میں اگرچہ محبت کے جذبے کو ہر حوالے سے سیکس کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے مگر ماہرین نفسیات ایک ایسی محبت کے بھی قائل ہیں جس میں محبت کے ساتھ سیکس کا وجود نظر نہیں آتا لیکن وہ ایسی کسی مثال کو محبت سے زیادہ کشش و پسندیدگی قرار دیتے ہیں اور اس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ انسانی جسم سے جو لہریں خارج ہوتی ہیں وہ کسی دوسرے انسان کی لہروں سے اگر ہم آہنگ ہو جائیں تو کشش و پسندیدگی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اگر وہ لہریں دوسرے انسان کی لہروں سے متصادم ہوں تو دونوں کے درمیان ناپسندیدگی یا دوسرے لفظوں میں بے رغبتی کا سبب بنتی ہیں۔ 

محبت اور علم نجوم


اس مسئلے کا جتنا واضح اور شافی و کافی جواب ہمیں ایسٹرولوجی دیتی ہے، دوسرا کوئی علم نہیں دیتا۔ سنگمنڈ فرائڈ کے جاں نشینوں میں ایک بہت بڑا نام ماہر نفسیات کارل یونگ کا ہے جس نے اپنے استاد سنگمنڈ فرائڈ سے اختلاف بھی کیا ہے۔ واضح رہے کہ کارل یونگ علم نفسیات کے ان اولین ماہرین میں سے ایک ہے جس نے انسانی نفسیات کو سمجھنے میں علم نجوم سے مدد لی۔ اس نے اعتراف کیا ہے کہ میں نے اپنے مشکل نفسیاتی کیسوں میں انسان کے نفسیاتی مسائل کو سمجھنے میں علم نجوم سے استفادہ کیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کارل یونگ کے اکثر پیروکار برسوں اس حقیقت کو چھپاتے رہے اور علم نجوم کا انکار کرتے رہے مگر پچاس کی دہائی میں عظیم ایسٹرولوجر سڈنی اومر کی کوششوں کے نتیجے میں یہ حقیقت روز روشن کی طرح دنیا کے سامنے آگئی۔ سڈنی اومر کی تحقیق اور جدوجہد کا ماجرا بھی خاصا دلچسپ ہے جو یہاں ہمارا موضوع نہیں ہے۔
آج بھی دنیا بھر میں تمام شادی شدہ یا غیر شادی شدہ افراد (خواتین و حضرات) کے لیے سب سے زیادہ دلچسپ اور اہم موضوع محبت، دوستی اور ہم آہنگی ہے۔ چونکہ اس کے بغیر زندگی کی گاڑی کے دونوں پہیّے سبک رفتاری سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔
ایسٹرولوجی میں بھی محبت یا دو افراد کے درمیان ہم آہنگی اور کشش کا موضوع سرفہرست ہے۔ اس موضوع پر اب تک ہزاروں کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ مشہور امریکن ایسٹرولوجر لنڈا گڈمین کی بے پناہ شہرت اور مقبولیت کا سبب ہی اس کی شہرہ آفاق کتاب Love Sign ہے۔ اس کے علاوہ بھی بے شمار ایسٹرولوجرز نے بارہ بروج کی باہمی کشش یا باہمی چپقلش کو موضوع بنایا ہے لیکن ہزارہا صفحات لکھے جانے کے باوجود یہ موضوع تاحال تشنہ اور نامکمل محسوس ہوتا ہے کیونکہ بے شمار جگہ ایک نیا جہان حیرت سامنے آتا ہے اور بقول مشہور شاعر جناب رئیس امروہوی مرحوم

یارب! غم عشق کیا بلا ہےہر شخص کا تجربہ نیا ہے


بے شک محبت، شادی اور ازدواجی زندگی کا ہر پہلو اس قدر رنگارنگ اور متنوع ہے کہ شاعر کو کہنا پڑا "ہر شخص کا تجربہ نیا ہے"۔
ہم اکثر محبت کے حوالے سے نت نئی کہانیاں سنتے اور ازدواجی زندگی کے رنگارنگ پہلوو ¿ں کا نظارہ کرتے رہتے ہیں۔ اب ہمیں زیادہ حیرت بھی نہیں ہوتی کیونکہ ہماری ساری حیرت علم نجوم کی مدد سے دور ہو جاتی ہے مگر عام لوگ اس وقت شدید حیرت کا شکار ہوتے ہیں جب دو محبت میں دیوانے افراد کو شادی سے پہلے یا شادی کے بعد علیحدہ ہوتے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر اس طرح ایک دوسرے کو پاگلوں کی طرح چاہنے والے اور شادی کے لیے ساری دنیا سے بغاوت کرنے والے اس جوڑے کو اب اچانک کیا ہو گیا ہے۔ اس موقع پر پھر ایک دلچسپ شعر ملاحظہ کیجیے اور اس پر غور کیجیے

بچھڑ بھی جاتے ہیں مل کر رہ محبت میں
مگر یہ بات ابھی تیرے سوچنے کی نہیں

عزیزان من! شاید آپ حیران ہو رہے ہوں گے کہ آج ہم یہ کس قسم کی باتیں کرنے بیٹھ گئے ہیں۔ دراصل ہمارے معاشرے میں ایسٹرولوجی کی اہمیت کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔ صرف تھوڑی سی تفریح کی حد تک ضرور اس میں دلچسپی لی جاتی ہے۔ ہماری موجودہ نسل انٹرنیٹ کی بدولت البتہ اب زیادہ دلچسپی لینے لگی ہے لیکن پرانی نسل مختلف وجوہات کی بنیاد پر اس اہم موضوع سے گریزاں رہتی ہے۔ البتہ جب کوئی مشکل پیش آتی ہے تو ضرور کسی ایسٹرولوجر سے مشورہ کیا جاتا ہے لیکن یہ مشورہ بھی اس وقت کیا جاتا ہے جب کھیل بگڑ چکا ہوتا ہے اور خراب نتائج سامنے نظر آرہے ہوتے ہیں اگر دو محبت کرنے والے یا دو شادی کرنے والے افراد پہلے ہی علم نجوم کی روشنی میں باہمی انڈراسٹینڈنگ کے مسائل کو سمجھ لیں تو شاید بعد کے بہت سے مسائل قبل از وقت ہی حل ہو جائیں مگر محبت ایک ایسی بلا ہے کہ جب یہ لپٹتی ہے تو انسان کو اندھا کر دیتی ہے۔ وہ اچھا برا، موافق ناموافق کچھ نہیں دیکھتا، ہم روزانہ یہ تماشا دیکھتے ہیں کہ دو افراد آپس میں شادی کے لیے پاگل ہو رہے ہیں، ہمارے سمجھانے کے باوجود کہ آپ کی جوڑی مناسب نہیں ہے، شادی پر بضد ہیں۔

مختلف بروج کی بنیادی خصوصیات

آئیے اس مسئلے کو ایسٹرولوجی کی فلاسفی کے تحت سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اس سے پہلے یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ دائرہ بروج (Zodiac Signs) کے بارہ برج محبت کے جذبے کو کس طرح دیکھتے ہیں اور اس حوالے سے ان کے مزاجی اور فطری رجحانات کیا ہیں۔
دائرہ بروج کا پہلا برج حمل (Aries) ہے اور آخری یعنی بارہواں حوت (Pisces) ہے۔ ماہرین نجوم نے بارہ برجوں کو مختلف اقسام (Categories) میں بانٹ دیا ہے۔ اس تقسیم کے لحاظ سے چھ برج مذکر (Male) ہیں اورچھ مونث (Female) ہیں۔ مذکر بروج حمل،جوزا، اسد، میزان، قوس، دلو ہے، جبکہ مونث برج ثور، سرطان، سنبلہ، عقرب، جدی اور حوت ہیں۔ اسی طرح ان برجوں کی عنصری تقسیم کے مطابق تین برج آتشی (Fire)، حمل، اسد اور قوس۔ تین خاکی (Earth)، ثور، سنبلہ، جدی۔ تین آبی (Water)، سرطان، عقرب، حوت اور تین بادی یا ہوائی (Air)، جوزا، میزان، دلو ہیں۔
اسی طرح بارہ برجوں کی تقسیم ماہیت کے اعتبار سے اس طرح ہے کہ چار برج منقلب یعنی تغیر پذیر (Cardinal) ہیں۔ جن میں حمل،سرطان، میزان اور جدی شامل ہیں۔ چار برج ثابت یعنی ٹھہراو ¿ والے (Fixed) ہیں۔ ثور، اسد، عقرب اور دلو۔ چار برج ذو جسدین یعنی دہرے جسم والے (Common Sign) کہلاتے ہیں۔ جوزا، سنبلہ، قوس اور حوت۔

مختلف بروج میں محبت کا جذبہ


بارہ بروج کی یہ تقسیم ان کے مزاج اور فطرت اور دیگر خصوصیات پر روشنی ڈالتی ہے اور اسی مزاج و فطرت کی بنیاد پر ان برجوں کے محبت، دوستی یا ازدوجی زندگی کے معاملات ہمارے سامنے آتے ہیں۔ چونکہ محبت کا تعلق دماغ سے زیادہ دل اور ہمارے جذبات و احساسات سے ہے لہذا اگر محبت کرنے والے یا محبت میں انتہا کے درجے پر جانے برجوں کا انتخاب کرنا ہو تو وہ آبی بروج (Water Sign) ہوں گے یعنی سرطان، عقرب اور حوت، یہ تینوں احساسات اور جذبات کے حوالے سے سرفہرست ہیں۔ اگر آپ کسی کو محبت میں یا کسی بھی تعلق میں نہایت جذباتی اور حساس پائیں تو سمجھ لیں کہ اس کی ساخت میں Water Sign کوئی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ لوگ محبت اور نفرت دونوں جذبوں میں نہایت شدت پسند اور انتہاو ¿ں کو چھونے والے ہوتے ہیں۔ یہ کسی تعلق کو بھی سرسری انداز میں نہیں لیتے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان کے جذبے ہمیشہ سچے اور کھرے ہوتے ہیں۔ ان کا تعلق محبت سے ہو یا نفرت سے، اسی بنیاد پر ان برجوں سے وابستہ افراد بحیثیت دشمن بھی بہت خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ وہ انتقام لینے پر تل جاتے ہیں۔ تینوں آبی بروج میں انتقامی جذبے کے حوالے سے برج عقرب سرفہرست ہے۔ عقربی افراد کے دل میں چبھی ہوئی پھانس کبھی نہیں نکلتی۔ بہرحال! یہ تینوں برج محبت میں گہرائی اور گیرائی کے قائل ہیں۔ البتہ تینوں کی محبت کا انداز اور اظہار خاصا مختلف ہے۔

سرطانی محبت

سرطان کی محبت میں مامتا کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ اسی لیے برج سرطان کو International Mother کہا جاتا ہے۔ ان کی محبت کا انداز اور اظہار ایسا ہی ہوتا ہے جیسے ایک ماں کا۔ ان لوگوں کو اپنی زمین، اپنے وطن، اپنے شہر، اپنے محلے، اپنی آبائی مکان، اپنے خاندان، اپنی ماں، اپنے بچوں کا بہت خیال رہتا ہے۔ ان کی کوئی خوشی ان چیزوں کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ حد یہ کہ سرطان عورتیں اپنے شوہر کا بھی اس طرح خیال رکھتی ہیں جیسے اپنی اولاد کا اور سرطان مرد اپنی بیوی سے بھی یہ ہی توقع رکھتے ہیں کہ وہ ان کا اسی طرح خیال رکھے جیسے ان کی ماں ان کا خیال رکھتی تھی۔ سرطان افراد کے لیے اپنا ذاتی گھر بھی نہایت ضروری ہے۔ وہ کرائے کے مکان یا کسی غیر کے گھر میں خوش نہیں رہ سکتے۔ سرطان لڑکے لڑکیاں جب محبت میں گرفتار ہوتے ہیں تو ان کی اولین کوشش اور خواہش شادی ہوتی ہے تاکہ جلد سے جلد گھر اور خاندان کی بنیاد رکھی جا سکے۔ یہی سرطانی افراد کی محبت کے جذبے کا انداز اور اظہار ہے۔
سرطانی افراد کو محبت میں مکمل اعتبار اور اعتماد چاہیے۔ ایسا اعتبار اور اعتماد جو ماں کی محبت میں پایا جاتا ہے۔ شاید اسی لیے سرطان بیویاں اور سرطان شوہر محبت کے معاملات میں شادی کے بعد بھی بے اعتمادی کا شکار رہتے ہیں۔ انہیں بار بار اپنی محبت کا یقین دلانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر اس کام میں بے پروائی کا مظاہرہ کیا جائے یعنی آپ اپنے سرطان پارٹنر کو اپنی محبت کا یقین دلانے میں سستی کا مظاہرہ کریں یا بے پروائی سے کام لیں تو سمجھ لیں ایک بہت بڑی غلطی کر رہے ہیں۔ اس کے شکوک و شبہات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ یہ کام آپ محض زبانی کلامی بھی کرتے رہیں تو کافی ہے۔

برج عقرب کے تین نشان


آبی بروج میں دوسرے نمبر پر برج عقرب ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ بارہ بروج میں یہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور عجیب خصوصیات کا حامل برج ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ یہ واحد سائن ہے جس کے تین نشان ہیں۔ اوّل بِِِِِچّھو (Scorpio)، دوم عقاب (Eagle)، سوم قُقنس۔ 
بِِچّھو کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ یہ تاریکی میں رہنا پسند کرتا ہے۔ ہمیشہ اپنے وجود کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ دوسرے معنوں میں چھپ کر رہتا ہے۔ خطرہ محسوس کرے تو اس صورت میں بھی پسپائی اختیار کرتے ہوئے چھپ کر وار کرتا ہے لیکن مقابلے سے دستبردار نہیں ہوتا۔ شکست تسلیم نہیں کرتا۔ ڈنک مارنا اس کا طرہ امتیاز ہے۔ دوسرا نشان عقاب ہے اور عقاب کا بہادری کے ساتھ جھپٹنا مشہور ہے۔ ہمارے قومی شاعر علامہ اقبال نے عقاب کو اپنا آئیڈیل بنایا ہے۔ ان کے ایک شعر سے عقاب کی خصوصیات اور زندگی پر بھرپور روشنی ڈالی جا سکتی ہے۔

جھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنالہو گرم رکھنے کا ہے ایک بہانہ


عقربی افراد کی زندگی یقیناً اس شعر سے عبارت ہے۔ یہ لوگ ساری زندگی ایسی ہی جدوجہد کرتے ہوئے گزار دیتے ہیں۔ بظاہر نہایت پرسکون نظر آنے والے عقربی افراد کے اندر کا ماحول بڑا طوفانی ہوتا ہے۔ وہ ہر لمحہ جھپٹنے، پلٹنے اور پلٹ کر پھر جھپٹنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔
تیسرا نشان روایتی اور افسانوی پرندہ قُقنس ہے۔ شاید ہمارے بہت سے قارئین کے لیے یہ نام نیا ہو اور وہ اس پرندے سے قطعی نا واقف ہوں۔ قُقنس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ایک انتہائی نایاب پرندہ ہے۔ دنیا میں ایسے خوش قسمت بہت تھوڑے ہوں گے جنہوں نے اس پرندے کو دیکھا ہو۔ اس کے بارے میں صدیوں سے یہ روایت چلی آرہی ہے کہ یہ ہمیشہ پوری دنیا میں ایک ہی ہوتا ہے۔ دوسرے معنوں میں اس کا جوڑا بھی نہیں ہوتا۔ جب ایک قُقنس کا آخری وقت قریب آجاتا ہے تو وہ کسی بلند مقام پر اپنے لیے ایک گھونسلا بناتا ہے پھر اس گھونسلا میں بیٹھ کر اپنی نہایت سریلی آواز میں ایک ایسی دھن نکالتا ہے جسے کلاسیکل موسیقی میں دیپک راگ کہا جاتا ہے۔ یہ روایت بھی موجود ہے کہ دیپک راگ قُقنس سے لیا گیا ہے۔ چناچہ اس کے نتیجے میں گھونسلے میں آگ لگ جاتی ہے لیکن قُقنس اپنے گھونسلے سے باہر نہیں نکلتا اور اسی آگ میں جل کر خاک ہو جاتا ہے۔ کتنی عجیب بات ہے اور اس میں اپنے مقصد، اپنے گھر سے محبت کا کتنا شدید جذبہ موجود ہے۔ بقول خدائے سخن میر تقی میر 

آگ تھے ابتداءعشق میں ہمہو گئے خاک، انتہا ہے یہ


اس خودسوزی کے بعد جب پہلی بارش کا پہلا قطرہ اس کی جلی ہوئی راکھ پر پڑتا ہے تو ایک نیا قُقنس اس راکھ سے جنم لیتا ہے۔ گویا ایک زندگی ختم ہوتی ہے تو پیدائش کا نیا عمل شروع ہوتا ہے۔ شاید اسی وجہ سے جدید ماہرین نجوم نے برج عقرب کا حاکم سیارہ پلوٹو کو مقرر کیا ہے، جو موت یعنی انجام اور حیات نو کا سیارہ ہے۔ 
قُقنس کی یہ صفت عقربی افراد میں پائی جاتی ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ عقربی افراد تنہا پسندی کو فوقیت دیتے ہیں۔ بسا اوقات تو ہزاروں کے مجمع میں رہتے ہوئے بھی اپنی ذات میں تنہا ہی ہوتے ہیں۔ ان کی یہ تنہائی درحقیقت روحانی ہوتی ہے۔ شاید مندرجہ ذیل شعر عقربی افراد کی تنہائی کے معاملے پر کچھ روشنی ڈال سکے۔

بھیڑ تنہائیوں کا میلہ ہےآدمی آدمی اکیلا ہے


قُقنس کی دوسری خصوصیت خودسوزی یا خودکشی ہے۔ عقربی افراد زندگی بھر اندر ہی اندر جلنے اور سلگنے کی خصوصیت رکھتے ہیں کیونکہ یہ لوگ اپنے جذبات و احساسات کا کھل کر اظہار نہیں کرتے یا ایسا کرنا مناسب نہیں سمجھتے۔ اسی طرح یہ لوگ مایوسی کے آخری درجے پر پہنچنے کے بعد خودکشی کی طرف بھی جلد راغب ہوجاتے ہیں۔ اگر ایک سروے کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ دنیا بھر میں خودکشی کرنے والوں میں عقربی افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہو گی۔ ماہنامہ سرگزشت کی ادارت کے زمانے میں ہم نے اس میگزین کا ایک "خودکشی نمبر" شائع کیا تھا جس میں ایسے افراد کی کہانیاں تھیں جنہوں نے خودکشی کی تھی۔ جب ہم نے ان کی تاریخ پیدائش کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ ان میں اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جن کا شمسی، قمری یا پیدائشی برج عقرب تھا۔

عقربی محبت


اس تمام وضاحت کا مقصد یہ ہے کہ آبی بروج کی تکون کا دوسرا برج عقرب محبت کے معاملے میں بھی دیگر تمام بروج سے زیادہ شدت پسند بلکہ انتہاپسند واقع ہوا ہے۔ اس برج سے متعلق افراد میں محبت کے جذبے کی شدت شدید جیلسی اور حسد کا مادّہ پیدا کرتی ہے۔ چناچہ عقربی افراد اپنے محبوب کو سات تالوں میں بند کر کے رکھنا پسند کرتے ہیں۔ وہ کسی لمحے بھی نہیں چاہتے کہ ان کا محبوب ان کی نظروں سے اوجھل ہو اور کوئی دوسرا اس کی طرف متوجہ ہو یا وہ خود کسی دوسرے سے کوئی تعلق رکھیں۔ بعض ناپختہ یا زائچے میں سیاروں کے خراب اثرات کا شکار عقربی افراد جنونی اور اذیت پسند بھی ہو جاتے ہیں۔ اس حوالے سے یہ برج خاصا خطرناک بھی ہے۔
عقربی افراد کی محبت اور چاہت کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ہر برج اس کا اہل نہیں ہے بلکہ بعض بروج تو اس محبت کی شدت کو برداشت ہی نہیں کر سکتے۔ اس موقع پر پھر ہمیں ایک شعر یاد آ رہا ہے جو عقربی افراد کی محبت کی شدت کا عکّاس ہے اور یہ شعر ایک عقربی شاعر کا ہے ، عبید اللہ علیم افسوس اب اس دنیا میں نہیں رہے۔

عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائےاب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے


عقربی افراد محبت یا نفرت دونوں صورتوں میں اس جذبے کو دل کی انتہائی گہرائیوں کے ساتھ قبول کرتے ہیں اور پھر زندگی بھر اسے فراموش نہیں کر سکتے۔ دیگر معاملات کی طرح محبت میں ناکامی ان کے لیے ناقابل برداشت ہوتی ہے۔ایسی صورت میں وہ انتقام یا خودکشی کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔ انگلینڈ کی مشہور شاعرہ سلویا پاتھ نے محبت میں ناکامی کے بعد اپنا سر اون میں رکھ کر خودکشی کی تھی۔ اس کا شمسی برج عقرب تھا۔
عقرب مرد اور خواتین دونوں کا محبت کے معاملے میں یہی حال ہے لیکن یہاں اس حقیقت کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آبی برج سرطان کی محبت کا مرکز و محور گھر اور خاندان ہے تو آبی برج عقرب کی محبت کا مرکز و محور سیکس ہے۔ برج عقرب کا یہ پہلو بھی انتہائی دلچسپ ہے کہ ایک طرف تو یہ روحانیت کا برج ہے اور دوسری طرف سیکس اور نسل انسانی کے ارتقاءسے تعلق رکھتا ہے۔ لہذا عقربی افراد محبت میں سیکس کے پہلو کو نظر انداز نہیں کرتے۔

برج حوت کی محبت کا انداز


آبی تکون کا تیسرا برج حوت (Pisces) ہے جس کا نشان ایک دوسرے کے مخالف رخ پر حرکت کرتی ہوئی دو مچھلیاں ہیں۔ حوت دائرہ بروج کی قطار میں سب سے آخر میں ہے اور ایک نظریہ کے مطابق ایک حوتی بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو وہ اپنی ذہنی سوچ کے مطابق اسّی برس کا ہوتا ہے گویا بچپن ہی میں دنیا سے روانگی کے سفر پر سوچ بچار شروع ہو جاتی ہے۔ 
برج حوت ذو جسدین (Double Body Sign) ہے۔ آبی بروج میں اس سے زیادہ حساس (Sensitive) کوئی دوسرا سائن نہیں ہے۔ اس پر طرفہ تماشا اس کی شخصیت کا دہرا پن ہے۔ ایک دوسرے کی مخالف سمت گردش کرتی ہوئی دو مچھلیاں حوتی افراد کی حساس طبیعت کے عدم اطمینان اور اضطراب کو ظاہر کرتی ہیں اگر ہم یہ کہیں کہ یہ لوگ کسی حال میں بھی خوش نہیں رہتے تو غلط نہیں ہو گا۔ محبت کی شدید بھوک سب سے زیادہ برج حوت میں پائی جاتی ہے۔ حوتی افراد کی محبت میں "نرگسیت" کا پہلو نمایاں ہے یعنی یہ لوگ چاہنے سے زیادہ چاہے جانا پسند کرتے ہیں۔ اگر بیک وقت بہت سے لوگ ان کی محبت میں گرفتار ہو جائیں تو اس بات کا برا نہیں منائیں گے بلکہ یہ ان کے لیے خوشی اور تسکین کا باعث ہو گی۔ یہ ہر وقت اور ہر لمحہ کسی کے دل کی گہرائیوں میں رہنا چاہتے ہیں۔
ایک حوت شخصیت جب کسی کو پسند کرتی ہے اور اس کی محبت میں مبتلا ہوتی ہے تو سمجھ لیں اس کے بدترین مسائل کا آغاز ہو جاتا ہے کیونکہ محبت میں ناکامی یا کامیابی دونوں ہی صورتیں حوتی افراد کے لیے نت نئے مسائل پیدا کرتی ہیں۔ ناکامی کی صورت میں حوتی افراد بھی شدید جذباتی ردِ عمل ظاہر کرتے ہیں اور مایوسی کی انتہا تک پہنچ جاتے ہیں۔ وہ خودکشی کریں یا نہ کریں ہر صورت میں محبت کا ناکام تجربہ ان کی زندگی میں اداسیوں کا موسم لے آتا ہے۔ وہ دنیا سے بے زاری کا اظہار کرنے لگتے ہیں اور ایسی انتہا پسندانہ سوچ میں مبتلا ہوتے ہیں جو کسی طور بھی مناسب نہیں ہوتی۔ مثلاً زندگی بھر شادی نہ کرنے کا فیصلہ وغیرہ۔ ان کا رویہ محبت میں ناکامی کے بعد کچھ ایسا ہوتا ہے پس معشوق جینا عشق کو بدنام کرنا ہے یا پھر بقول شاعر 

ایک محبت کافی ہے
باقی عمر اضافی ہے

لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے، بے شک وہ اپنی ناکام محبت کو کبھی نہیں بھولتے۔ اس کی یاد میں ہمیشہ ٹھنڈی آہیں بھرتے رہتے ہیں مگر دوسری محبت کی طرف بڑھتے ہوئے ہچکچاتے بھی نہیں ہیں اور اس دوسری محبت کا آغاز دوسروں کے ہمدردانہ رویوں سے ہوتا ہے۔
اگر حوتی افراد کو محبت میں ناکامی کے بعد سنبھالنا مقصود ہو تو انہیں گزشتہ محبت کا طعنہ دیے بغیر محبت کا اظہار کرنا چاہیے اور یہ اظہار ان کی اشک شوئی سے شروع کرنا چاہیے اگر آپ نے ان کے غم کو اہمیت نہ دی تو آپ کو انہیں اپنی طرف متوجہ کرنے میں ناکامی ہو سکتی ہے۔ آپ ان کے ہمدرد بن کر ان کے دل میں کوئی مقام بنا سکتے ہیں۔
برج حوت کا تعلق روح،احساسات اور تبدیلی سے ہے۔ حوتی افراد کا عقیدہ یا نعرہ یہ ہے "میں محسوس کرتا ہوں" (I Feel) گویا یہ لوگ کچھ سمجھتے نہیں ہیں، بس محسوس کرتے ہیں اور جو کچھ بھی یہ محسوس کرتے ہیں اسی کی بنیاد پر زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی تبدیلی بھی ضروری ہے یعنی وہ محبت میں بھی ایک جیسے انداز اور طور طریقوں سے بوریت اور بے زاری محسوس کر سکتے ہیں جس کے نتیجے میں انہیں کسی نئی محبت کی ضرورت محسوس ہو سکتی ہے، حوت افراد کے محبت کے معاملات کا یہ سب سے خطرناک پہلو ہے۔
محبت میں کامیابی ظاہر ہے کسی بھی محبت کرنے والے کی زندگی کا سب سے بڑا انعام ہو سکتی ہے لیکن حوتی افراد کا مسئلہ دوسرا ہے۔ شادی کے بعد انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ محبت جو شادی سے پہلے موجود تھی، ازدواجی زندگی کے مسائل میں کہیں گم ہو چکی ہے۔ ان کا لائف پارٹنر اب ان پر کم اور دیگر دنیا داری کے معاملات پر زیادہ توجہ دیتا ہے۔ لہذا ان کی محبت کی بھوک دوبارہ جاگ اٹھتی ہے۔ نتیجے کے طور پر ایک نئی محبت کی تلاش شروع ہو جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پہلی محبت سے شکایات کا دفتر کھل جاتا ہے۔ حوت افراد خاص طور پر خواتین کی اس کمزوری سے کچھ دوسرے عاشق مزاج فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیںکیوں کہ ان کی دل جوئی اور ہمدردی حوت خواتین کو ایک نئی محبت کی دلچسپیوں کا احساس دلاتی ہے۔
بہت کم حوتی افراد ایسے ہوں گے جو پسند اور محبت کی شادی کرنے کے بعد بھی ایک مطمئن اور آسودہ زندگی گزار رہے ہوں۔ اس حوالے سے حوت مرد اور خواتین کا رویہ کچھ تھوڑا سا مختلف ہے۔ مرد شادی کے بعد بہت جلد دوسری محبت کے خبط میں مبتلا ہو جاتے ہیں جبکہ خواتین پہلی محبت سے بے زار تو نہیں ہوتیں اور نئی محبت کے بارے میں فورا ہی نہیں سوچتیں لیکن ان کا فطری عدم اطمینان بہرحال ظاہر ہونے لگتا ہے۔ دراصل حوت افراد دوسروں کی مکمل توجہ چاہتے ہیں۔ وہ اس میں کسی بھی قسم کی کوئی کمی برداشت نہیں کر سکتے اور یہ ایک بڑا ہی مشکل اور ناممکن سا مرحلہ ہے۔
برج حوت کا عنصر پانی ہے اور شاید پانی کی طرح پھیلنا حوتی افراد میں سب سے زیادہ پایا جاتا ہے۔ چاہے جانے اور منظورِ نظر رہنے کی شدید خواہش سب سے زیادہ برج حوت میںپائی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر کسی حوت شخصیت سے 70 سال کی عمر میں یہ سوال کیا جائے کہ آپ کی آخری خواہش کیا ہے تو اس کا جواب یقیناً یہی ہو گا کہ "بس ایک محبت چاہیے"۔
شہرہ آفاق ہالی ووڈ فلم اسٹار ایلزبتھ ٹیلر ایک نمایاں اور مثالی حوت شخصیت ہے جس نے نو شادیاں کی ہیں اور رچرڈ برٹن سے دو بار شادی اور دو بار طلاق ہوئی۔ دونوں کی محبت اور شادی کے ہنگامے دنیا بھر میں اس قدر مشہور ہوئے اور رسوائیوں کا وہ طوفان اٹھا کہ ویٹی کن سٹی سے پوپ پال کو ان کے خلاف فتویٰ جاری کرنا پڑا۔ واضح رہے کہ رچرڈ برٹن ایک عقرب شخصیت تھا۔ بلاشبہ آبی برج ایک دوسرے کے لیے بڑی کشش رکھتے ہیں۔ خاص طور سے عقرب حوت کو بڑی رغبت اور للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتا ہے جبکہ حوت سرطان کو اور سرطان عقرب کو۔ آبی تکون کے تینوں برج سرطان ، عقرب اور حوت ایک دوسرے کی محبت میں آسانی سے مبتلا ہو سکتے ہیں مگر اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ وہ ایک کامیاب ازدواجی زندگی بھی گزار سکتے ہیں۔ محبت کا جذبہ اور فلسفہ ایک الگ حیثیت رکھتا ہے جبکہ شادی دو افراد کے ایک ساتھ زندگی گزارنے کا ایک معاہدہ ہے۔ یہ معاہدہ کچھ اصول و قواعد اور نظم و ضبط کی پابندی چاہتا ہے۔ اس کے تحت دونوں افراد پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ جب وہ ان ذمہ داریوں کو پوری طرح انجام نہیں دے پاتے تو یہ معاہدہ خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ ایک دوسرے سے محبت اور کشش کے باجود انہیں علیحدہ ہونا پڑتا ہے۔ لہذا ایسی شادی کی ناکامی کو محبت کی ناکامی نہیں کہا جا سکتا۔
غالباً ساتویں یا آٹھویں شادی کی ناکامی کے بعد جب کسی صحافی نے ایلزبتھ ٹیلر سے پوچھا کہ جب آپ کی کوئی شادی بھی کامیاب نہیں ہوتی تو آخر آپ مزید شادی کیوں کرتی ہیں؟ ایلزبتھ نے کچھ ناراض ہوتے ہوئے غصے سے جواب دیا "کیا مطلب ہے؟ کیا تم چاہتے ہو کہ میں رات کو اکیلی سوو ¿ں۔"
حوت افراد میں تنہائی کا خوف بھی پایا جاتا ہے۔ وہ اکیلا رہنے سے ڈرتے ہیں۔ بے شک حوت افراد دل کی گہرائیوں سے محبت کے معاملے میں آگے قدم بڑھاتے ہیں مگر ان کے قدموں کی لغزش سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ہم نے ایسے کیس بھی دیکھے ہیں کہ محبت میں مبتلا ہو کر طوفانی رفتار کے ساتھ منگنی کر لی، سارے گھر والوں کی مخالفت کے باوجود۔ پھر کچھ عرصے بعد کسی اور سے متاثر ہو کر پہلی منگنی توڑ دی اور دوسری جگہ شادی کر لی مگر بعد میں وہ شادی بھی کامیاب نہ رہی اب پھر پہلی محبت یاد آ رہی ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ برج حوت بلاشبہ ایک Love Sign ہے مگر اس کی محبت کے رنگ ڈھنگ نرالے ہیں۔
حوت افراد کی دہری شخصیت محبت میں عدم استحکام کا سبب بنتی ہے۔ ایک حوت عورت شادی کے بعد شوہر سے شکوے شکایات کر سکتی ہے اور علیحدگی کے بارے میں بھی سوچ سکتی ہے۔
لیکن ایک حوت مرد شادی کے بعد دوسری محبت کی خواہش صرف اس لیے نہیں کرتا کہ وہ اپنی پہلی محبت سے خوش نہیں ہے بلکہ درحقیقت وہ یہ چاہتا ہے کہ اس کی چاہنے والیاں اور بھی ہوں۔ وہ بہت سی خواتین کا منظور نظر رہے یعنی چاہے جانے کی خواہش یا تمنا عروج پر ہوتی ہے۔ اگر حوتی افراد کے زائچے میں سیارگان نحس اثرات ڈال رہے ہوں تو محبت میں بھونرا صفاتی ، بے وفائی اور بدنظری کا عنصر بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔ ایسے لوگ عیاشیوں میں بھی مبتلا ہو سکتے ہیں۔ 

عناصر کی آمیزش


اب تک تینوں آبی بروج کی محبت کے انداز اور مقاصد پر گفتگو ہوئی ہے لیکن اس سے پہلے کہ ہم باقی بروج پر بات کریں۔ اس حقیقت کو سمجھ لینا ضروری ہے کہ کسی بھی شخص )عورت یا مرد) کی شخصیت و کردار اور فطرت پر صرف ایک شمسی برج ہی اثرانداز نہیں ہوتا بلکہ اس کا مکمل زائچہ پیدائش (Birth Chart) اثر انداز ہوتا ہے جس میں عناصر کی تقسیم کا فارمولا بے حد اہمیت کا حامل ہے یعنی دیکھنا یہ ہو گا کہ زائچے میں کون سا عنصر قوی اور زیادہ اثرانداز ہے اگر آبی عنصر (Water Element) قوی ہے تو یقیناً ایسا شخص زیادہ حساس ہو گا اور اسی کی مناسبت سے اس کے رومانی اور جذباتی معاملات زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آئیں گے۔ اگر آتشی عنصر زیادہ قوی ہے تو شخصیت و کردار میں جذبے کے ساتھ جوش و جنون نمایاں ہو گا۔ اگر ہوائی عنصر (Air Element) زیادہ قوی ہو گا تو شخصیت میں خیالی، قیاسی اور تصوراتی رجحان زیادہ ہو گا اگر خاکی عنصر (Earth Element) زیادہ ہو گا تو ایسی شخصیت میں عقلیت اور عملیت پسندی زیادہ ہو گی۔ یہ لوگ کوئی بھی کام کریں اس میں نفع و نقصان کے پہلو کو نظر انداز نہیں کرتے۔ 
مندرجہ بالا آبی بروج کے اظہار و انداز محبت میں اس بات کو مدِ نظر رکھنا ہو گا کہ ان کے انفرادی زائچہ پیدائش میں اگر کوئی اور عنصر قوی ہے تو وہ خصوصیات جو بیان کی گئی ہیں، کوئی نیا رنگ اختیار کر سکتی ہیں مثلاً اگر سرطان، عقرب یا حوت کے ساتھ قمری یا پیدائشی برج خاکی عنصر کا ہو تو یہ لوگ اندھی محبت کے قائل نہیں ہوں گے بلکہ محبت کے معاملات میں برے بھلے اور نفع نقصان کی تمیز ضرور کریں گے۔ اگر آتشی برج قمری یا پیدائشی ہو تو یہ ایک آبی برج کے لیے سونے پر سہاگا ہو گا کیونکہ اس طرح ان کی حساسیت میں مزید شدت آجائے گی اور ایسے لوگ بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق کی مثال ہوں گے۔ اگر شمسی ، قمری اور پیدائشی تینوں بروج یا تین میں سے دو بروج آبی ہوں تو حساسیت مزید بڑھ جائے گی اور ایسے لوگوں کا عشق بڑی گہرائی اور گیرائی کا حامل ہو گا یعنی انہیں پھر اپنے محبوب کے سوا دنیا میں کچھ نظر ہی نہیں آتا، بقول شاعر 

یا ترا تذکرہ کرے ہر شخص
یا کوئی ہم سے گفتگو نہ کرے

اگر آبی بروج کے ساتھ ہوائی بروج کی شراکت موجود ہو تو حساسیت کے ساتھ وہم و قیاس اور تصورات کا اضافہ ہو جاتا ہے گویا بقول غالب بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے۔ ایسے لوگ عملیت کی کمی کا شکار ہوتے ہیں اور صرف محبوب کی یادوں سے دل بہلانا ہی کافی سمجھتے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ امتزاج دنیاوی اعتبار سے بہت کمزور ہے کیونکہ ایسے لوگ عملیت پسند نہ ہونے کی وجہ سے عموماً محبت میں ناکام رہتے ہیں اور ہمیشہ ٹھنڈی آہیں بھرتے نظر آتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے محبوب کو وصال یار کے لیے بھی خود ہی کچھ کرنا پڑتا ہے۔
مزید آگے بڑھنے سے پہلے یہ تشریح اس لیے ضروری تھی کہ ممکن ہے بعض لوگ یہ سوچےں کہ ہمارا شمسی برج فلاں ہے لیکن ہم ایسے نہیں ہیں جیسا کہ لکھا گیا ہے۔ ایسی صورت میں ان لوگوں کو اپنا قمری اور پیدائشی برج ضرور چیک کرنا چاہیے۔ تب ہی درست صورت حال کا اندازہ ہو سکے گا۔

ہفتہ، 10 نومبر، 2018

جس نے خود کو پہچانا اس نے اپنے رب کو پہچانا


انسان کو پہچاننے، جاننے اور سمجھنے کا بہترین ذریعہ علم نجوم ہے
کائنات عجائبات سے بھری پڑی ہے جس طرف بھی نظر ڈالئے قدرت خداوندی کا کوئی نہ کوئی عجوبہ نظر آجائے گا۔ نظام فلکی میں گردش کرتے ہوئے سیارے اور زمین پر پھیلے ہوئے دست قدرت کے عقل کو حیران کر دینے والے شاہکار پہاڑ، دریا، جنگل، ریگستان، سمندر اور پھر رنگ برنگی مخلوقات عالم۔ قدرت کی پیدا کی ہوئی ہر چیز انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتی نظر آتی ہے لیکن ان تمام چیزوں کے درمیان یا یوں کہیں کہ ان تمام عجائبات عالم کے درمیان سب سے بڑا عجوبہ خود انسان ہے لہٰذا سب سے زیادہ غور و فکر اور مطالعے و مشاہدے کی ضرورت انسانی ذات اور صفات کو ہے۔
جب سے یہ دنیا وجود میں آئی ہے شاید اسی وقت سے انسانی ذات و صفات کے مطالعے اور مشاہدے کا عمل شروع ہو گیا تھا جو آج تک جاری ہے اور شاید قیامت تک جاری رہے گا۔ اس کام کی ضرورت تو دینی نکتہ نظر سے بھی ایک مسلم الثبوت اہمیت کی حامل ہے کیوں کہ حدیث شریف میں یہ ارشاد رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم موجود ہے۔
’’جس نے اپنے آپ کو پہچانا، اس نے اپنے رب کو پہچانا۔‘‘
ہمارے تجربے اور مشاہدے کے مطابق انسان کو پہچاننے، جاننے اور سمجھنے کا سب سے بہترین ذریعہ علم نجوم ہے جس کے نتائج صدیوں کی تحقیق، تجربے اور مشاہدے کے بعد مرتب ہوئے ہیں۔ آج ساری دنیا اس علم کی افادیت کی قائل ہے اور اس سے استفادہ کرتی ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک کے معاشرے میں یہ علم عطائیوں اور دھوکے بازوں کی وجہ سے بہت بدنام ہے۔ اسے قسمت کا حال یا غیب کا علم سمجھا جانے لگا نتیجتاً مسلمانوں نے اس سے گریز کیا اور اسے طنز و تضحیک کا نشانہ بنایا۔ یہ روایت ہمارے ہاں آج بھی جاری و ساری ہے۔
ہمارا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ لوگ اس علم کو محض شعبدہ بازی اور قیاس آرائی یا پھر غیب دانی سمجھتے ہیں۔ اکثر نئے لوگ جب ہم سے ملتے ہیں اور انہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہم اس علم کا شوق رکھتے ہیں تو وہ بڑے خوش ہو کر نہایت بے قراری سے یہ ضرر کہتے ہیں۔ ’’اچھا تو جناب پھر کچھ ہمارے بارے میں بھی بتایئے۔‘‘
تب ہمیں خیال آتا ہے کہ لوگوں کو اس علم کی حسابی پے چیدگی، نازک مزاجی اور سنجیدگی کے بارے میں کچھ بھی نہیں معلوم۔ اگر انہیں معلوم ہوتا تو وہ یقیناًایسا سوال ہر گز نہیں کرتے۔ لوگ کسی ایسٹرولوجسٹ سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ انہیں ان کے ماضی، حال اور مستقبل کے بارے میں وہ سب کچھ چند منٹ میں بتا دے گا جو کہ وہ خود بھی جانتے ہیں اور پھر وہ بے اختیار تعریفی انداز میں کہیں گے۔ ’’واقعی آپ نے تو کمال کر دیا‘‘ لیکن اس کے برعکس اگر وہ انہیں کچھ ایسی باتیں بتاتا ہے جو پہلے انہیں معلوم ہی نہیں تھیں یعنی ان کی شخصیت و کردار کے اسرار، ان کے چال چلن کے رنگ ڈھنگ، اچھے یا برے طور طریقوں، کامیابیوں یا ناکامیوں کے اسباب، وقت کے اتار چڑھاؤ کے اثرات اور وقت کی مہربانیوں یا سفاکیوں کے رنگ وغیرہ تو یہ باتیں ان کی سمجھ میں نہیں آتیں۔ ایسے موقع پر ان پر اپنے جذبات و احساسات، ان کی اپنی پسند و ناپسند اور اکثر انا غالب آجاتی ہے اور وہ مطمئن نہ ہونے والے انداز میں یہ کہتے ہیں کہ آپ نے کوئی خاص بات تو بتائی ہی نہیں۔
عزیزان من! اس ساری گفتگو کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ علم نجوم سے فائدہ اٹھانے کے لئے اس علم کی حقیقت اور اہمیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ اس کے بغیر ہم اس سے بھرپور فائدہ حاصل نہیں کر سکتے۔
ستاروں اور برجوں کے اشارے بڑی وسعت و گہرائی رکھتے ہیں۔ جو لوگ علم نجوم سے واقفیت رکھتے ہیں وہ اپنی اپنی استعداد کے مطابق ان اشاروں کو سمجھ کر ایک شاعرانہ پیرائے میں بیان کرنے پر مجبور ہیں کیوں کہ یہ اشارے نہایت لطیف ہوتے ہیں۔ ان کا اظہار کرتے ہوئے لفظوں کے خوبصورت پیرہن کی ضرورت ہوتی ہے بصورت دیگر ان کا برہنہ اظہار ناقابل برداشت ہو سکتا ہے۔
قدیم زمانوں سے پیش گوئی کا انداز شاعرانہ ہی رہا ہے۔ دنیا کے عظیم پیش گو ناسٹرا ڈیمس کو جب یہ خوف ہوا کہ لوگ اس کی پیش گوئیاں سن کر کہیں اسے پاگل نہ سمجھنے لگیں یا وہ مقتدر حلقوں کے عتاب کا نشانہ نہ بن جائے تو اس نے اپنی تمام پیش گوئیاں اشعار کی شکل میں لکھ دیں جو آج تک محفوظ ہیں۔
مستقبل کے حوالے سے پیش گوئی کرتے ہوئے کسی بھی پیش گو کو اس وقت بڑی مشکل کا سامنا ہوتا ہے جب وہ یہ سمجھ رہا ہو کہ اس کی بات دوسروں کی سمجھ میں نہیں آئے گی یا وہ اس بات کا کوئی برا مفہوم لے لیں گے اور بعض باتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جنہیں وہ خود کوئی واضح نام یا عنوان نہیں دیتے۔ مثلاً ناسٹرا ڈیمس ہی کی مثال لے لیجئے کہ اس نے اٹلی کے بادشاہ کے انجام کے بارے میں لکھتے ہوئے کہا کہ اس کی لاش ایک لوہے کے بڑے سے تابوت میں ڈالی جائے گی جس میں 4 پہیے بھی لگے ہوں گے اور وہ تابوت خود بخود حرکت کرتا ہوا آگے بڑھ رہا ہو گا۔ ظاہر ہے یہ پیش گوئی اٹلی کے ڈکٹیٹر مسولینی کی موت سے 400 سال قبل کی گئی تھی۔ اس وقت تک نہ انجن دریافت ہوا تھا نہ موٹر کاریں بنائی گئی تھیں نہ ہی کوئی وین یا ایمبولینس ٹائپ سواری موجود تھی۔ اسی طرح پہلی یا دوسری جنگ عظیم کے بارے میں اس نے پیش گوئی کرتے ہوئے بتایا کہ ان جنگوں میں لوہے کے بڑے بڑے پرندے آسمان سے آگ برسائیں گے وغیرہ وغیرہ۔
ناسٹرا ڈیمس بہت قدیم پیش گو تھا موجودہ دور میں بلکہ گزشتہ کئی صدیوں میں اس جیسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ہم باتوں ہی باتوں میں اٹک کر ناسٹرا ڈیمس تک جا پہنچے۔
عزیزان من! ہم صرف یہ سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے کہ علم نجوم کو غیب دانی کا علم نہیں سمجھنا چاہئے۔ یہ ایک حسابی علم ہے اور اس کے ذریعے سب سے پہلے اپنی ذات و صفات کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے اس کے بعد وقت کی موافقت اور ناموافقت اس علم کا موضوع ہے۔ ان ہی دو باتوں پر ماضی، حال اور مستقبل کی پیش گوئیاں ممکن ہیں۔
جیسا کہ ہم نے ابتدا میں عرض کیا تھا کہ انسان کائنات کا سب سے بڑا عجوبہ ہے اور اس عجوبے کے مسائل بھی عجیب ہی ہوتے ہیں جو انسان کے اندر موجود خیر اور شر کی قوتوں کے درمیان تصادم کے بعد وجود میں آتے ہیں لیکن اکثر انسان یا تو اس کا ادراک نہیں رکھتے اور اگر ادراک ہو بھی جائے تو اپنی ذات کے مسائل سے نظریں چرانا زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔
خیالات اور احساسات کے دباؤ سے نجات کا ذریعہ
انسان فطرت سے نہیں لڑسکتا، فطرت کے تقاضوں سے منہ نہیں موڑ سکتا، ان تقاضوں سے فرار کی کوشش نہایت پیچیدہ اور بعض اوقات بھیناک قسم کے مسائل کو جنم دیتی ہے۔
عورت ہو یا مرد فطری جذبات اور احساسات اس کی زندگی کا لازمی حصہ ہیں، مثلاً کسی پسندیدہ بات یا منظر سے متاثر ہوکر خوش ہونا اور فرحت حاصل کرنا یا کسی ناپسندیدہ بات یا صورت حال سے متاثر ہوکر ملول و غم زدہ ہونا، غصے میں آنا وغیرہ، ایک معصوم بچہ جیسے جیسے بلوغت کی دہلیز کی طرف قدم بڑھاتا ہے، اس کے جذبات و احساسات میں اسی مناسبت سے تبدل و تغیر رونما ہوتا ہے، یہ نئے جذبات اور احساسات اس کے فطری جسمانی و روحانی تقاضوں کے مطابق ہوتے ہیں لیکن معاشرتی و اخلاقی اور مذہبی قوانین، ان جذبات و احساسات کا برہنہ اظہار، انسان کو وحشت و درندگی کی طرف نہ لے جائے اور وہ ایک مہذب معاشرے کا مہذب فرد بن کر رہے۔
اخلاقی و مذہبی پابندیاں بھی اگر نارمل حدود سے گزر کر انتہا پسندی کی صورت اختیار کرلیں تو اکثر حساس طبیعت افراد کی نفسیات کے بگاڑ کا سبب بن جاتی ہیں اور وہ عجیب و غریب نوعیت کی نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہوکر اپنی زندگی کو عذاب بنالیتے ہیں، اکثر تو دوسروں کی تضحیک کا نشانہ بھی بنتے ہیں، مثلاً آپ نے دیکھا ہوگا کہ بعض افراد کو صفائی اور پاکیزگی کا خبط ہوجاتا ہے، ہاتھ بھی دھونا شروع کریں تو خاصی دیر تک انھیں مل مل کر رگڑ رگڑ کر دھوتے رہتے ہیں، دوسرے لوگوں سے ہاتھ ملاتے ہوئے ہچکچاتے ہیں کہ کہیں ان کا ہاتھ گندہ نہ ہوجائے، الغرض ہر طرف گندگی کا یہ احساس ان پر اتنا زیادہ غالب ہوتا ہے کہ ان کے لیے معاشرے میں گھل مل کر رہنا مشکل ہوجاتا ہے اور وہ عموماً دوسروں کے لیے تماشا بن جاتے ہیں۔
اس حوالے سے سب سے زیادہ پیچیدہ کیس خواتین میں نظر آتے ہیں، گندگی اور ناپا کی، گناہ و ثواب، جائز و ناجائز کے گہرے احساسات، حالات اور ماحول کے جبرکی وجہ سے اکثر ان کے لاشعور میں اس طرح جذب ہوجاتے ہیں کہ پھر انھیں عمر بھر اپنے فطری تقاضوں کے خلاف جنگ میں مصروف رہنا پڑتا ہے، اس جنگ کے نتیجے میں بڑے بڑے تباہ کن امراض جنم لیتے ہیں، گھریلو اور ازدواجی زندگی تباہ و برباد ہوکر رہ جاتی ہے، اولاد کی پرورش بھی نامناسب طریقے پر ہوتی ہے، شوہر دوسری شادی کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں یا دوسری خواتین سے عشق لڑانا شروع کردیتے ہیں اور اس تمام صورت حال کا ذمے دار سحرو جادو یا کسی جن بھوت کو قرار دے دیا جاتا ہے۔
اس تمام گفتگو کی روشنی میں آئیے ایک خط کا مطالعہ کرتے ہیں ، نام و پتا ہم پردہ داری کے خیال سے ظاہر نہیں کر رہے ہیں، وہ لکھتی ہیں۔
’’خدا آپ کو صحت دے، آپ دکھی لوگوں کے مسئلے اس طرح حل کرتے رہیں، اس دکھی بہن کو بھی کچھ بتادیجیے، میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرے دل میں ناپاک خیالات آجاتے ہیں، ایسے کہ نعوذ باللہ، ایک بے ہودہ لفظ تو میرے ذہن میں جم کر رہ گیا ہے، کسی بھی چیز کا خیال کرتی ہوں تو وہ لفظ فوراً ذہن میں آجاتا ہے، میں نماز پابندی سے پڑھتی ہوں، کلمہ پڑھتی ہوں، توبہ استغفار کثرت سے کرتی ہوں، درود شریف کا ورد مستقل رہتا ہے، اللہ سے رو رو کر معافی مانگتی ہوں مگر لگتا ہے کہ اللہ بھی ناراض ہوگیا ہے، میں پوری کوشش کرتی ہوں کہ یہ خیالات میرے ذہن سے دور ہوجائیں مگر یہ جان ہی نہیں چھوڑتے،ہم لوگ رزق حلال کھاتے ہیں اور میں اپنی پوری کوشش کرتی ہوں کہ زندگی خدا کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق گزاروں مگر یہ شیطانی، فاسق خیالات زندگی عذاب بنائے ہوئے ہیں، اتنا رو رو کر خدا سے دعا کرتی ہوں مگر کچھ نہیں ہوتا، کیا میرے اوپر کوئی سحری اثر تو نہیں ہے؟ آپ بتائیں کیا وجہ ہے؟ میرے ساتھ ایسا کیوں ہورہا ہے؟ کیا پڑھوں کہ میرا دل پاک و صاف خیالات کا مرکز بن جائے، میں روحانی طور پر ترقی کرنا چاہتی ہوں، مجھے مرشد کامل کی بھی تلاش ہے، آپ کے پاس میرا علاج ہو تو پلیز ضرور تفصیل سے لکھ دیجیے کہ میں کیا کروں؟‘‘
عزیز بہن! آپ کے خط سے پہلے ہم نے جو گفتگو کی ہے، اسے پھر سے پڑھیں اور پھر اپنی زندگی میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کریں، مذہبی اور روحانی تصورات کو انتہا پسندانہ انداز میں خود پر نافذ کرنے کی کوشش نہ کریں، انسانی فطرت کے تقاضوں کو سمجھیں اور اس حقیقت پر غور کریں کہ آپ جس معاملے میں بھی شعوری طور پر خود پر جبر کرنے کی کوشش کریں گی وہ لاشعوری طور پر آپ کے لیے اذیت ناک مسئلہ بن جائے گا۔
فرض عبادت کے ساتھ مذہبی و اخلاقی تصورات اپنی جگہ لیکن ان کی روشنی میں دنیا میں موجود دیگر حقائق سے یکسر بے زاری اور نفرت کا احساس حد سے زیادہ بڑھ جانا ایک نارمل کیفیت نہیں ہے، دنیا میں جو اچھائیاں اور برائیاں موجود ہیں ہمیں ان کے درمیان زندگی گزارنی ہے، اچھائیوں کے ساتھ برائیوں کا بھی مشاہدہ کرنا ہے اور ان پر غوروفکر کرکے ہی کسی اچھائی یا برائی میں تمیز کرنے کا فن سیکھنا ہے، یہ ممکن نہیں کہ آپ انھیں ذہن سے جھٹک کر نظر انداز کرکے صرف اچھائیوں کے تصور میں ہی زندہ رہیں۔
یہ صورت تو زندگی کے ایک اہم رخ سے فرار کے مترادف ہوگی، آئیے ہم آپ کو اس صورت حال سے نکلنے کا ایک طریقہ بتائیں، اس طریقے کو ماہرین نفسیات’’آزاد نگاری‘‘ یا ’’خود نویسی‘‘ کہتے ہیں۔
جب بھی آپ کو نامناسب خیالات کی یلغار پریشان کرے، کاغذ اور قلم سنبھال کر ایک علیحدہ گوشے میں بیٹھ جائیں اور جو بھی خیالات ذہن میں آرہے ہیں ، انھیں لکھنا شروع کردیں، ان خیالات یا الفاظ سے نہ گھبرائیں، انھیں کاغذ پر منتقل کرنا شروع کردیں، خواہ اس کام میں کتنی ہی دیر کیوں نہ لگ جائے، اس وقت تک لکھتی رہیں جب تک ذہن تھک نہ جائے، اس کے بعد تمام لکھے ہوئے کاغذات کو فوراً جلادیں، یہ کام روزانہ پابندی سے کرتی رہیں، تھوڑے ہی عرصے میں آپ دیکھیں گی کہ خود کو پہلے سے بہتر محسوس کر رہی ہیں اور خیالات میں بھی اعتدال آنا شروع ہوگیا ہے جو بے ہودہ لفظ زیادہ پریشان کر رہا ہے، اسے بھی روزانہ کثرت سے لکھنا اور جلانا شروع کردیں۔
اب یہاں ایک نکتہ اور سمجھ لیں، شریعت کی رو سے انسان کے خیالات اور سوچوں پر گناہ اور ثواب کے لیے کوئی تعزیر یا حد شرعی مقرر نہیں ہے لہٰذا اس وہم میں بھی نہ رہیں کہ ایسے خیالات کی وجہ سے آپ گناہ گار ہورہی ہیں، گناہ یا جرم اس صورت میں تسلیم کیا جائے گا جب اس کا ارتکاب انسان کے عمل سے ظاہر ہو۔
فری رائٹنگ یا آزاد نگاری کی مندرجہ بالا مشق ہر وہ شخص کرسکتا ہے جو کسی بھی قسم کے خیالات کے دباؤ میں ہو، یہ دباؤ حالات کے نامناسب اور ناگوار ہونے کا ہو یا کسی اور انداز کا ، ہر صورت میں یہ مشق صحت مندانہ راستوں کی طرف لے جائے گی اور مختلف بیماریوں کے لیے مفید ثابت ہوگی، مثلاً ہائی بلڈ پریشر(اگر کسی جذباتی الجھن اور تناؤ کی وجہ سے ہو) ڈپریشن، خوف، محبت، نفرت، غصہ یا انتقام، احساس کمتری، ہسٹیریا اور دیگر ایسے ہی نفسیاتی امراض جو جذبات و احساسات سے کوئی گہرا تعلق رکھتے ہوں، ان امراض کے علاج میں دیگر طریقہ ء علاج کے ساتھ اس مشق کو بھی شامل کرلیا جائے تو جلد از جلد بہترین نتائج آنا شروع ہوجاتے ہیں، مزید تیز رفتار فوائد کے حصول کے لیے ’’مشق تنفس نور‘‘ بہترین ثابت ہوتی ہے اور طریقہء علاج اگر ہومیو پیتھک ہو تو کلی شفا یقینی ہوجاتی ہے۔
کون بہتر ؟
ایف، اے لکھتی ہیں۔’’میں آپ کو دو افراد کی تاریخ پیدائش دے رہی ہوں۔ ان میں سے میرے لیے کون بہتر ہے جس سے میں شادی کرسکوں؟
پہلا شخص کیتھولک غیر مسلم ہے لیکن مجھے امید ہے کہ وہ مسلمان ہو سکتا ہے۔ میں نے اس کے لیے کئی مرتبہ دعا کی ہے اور استخارہ بھی کیا ہے اور میں محسوس کرتی ہوں کہ اس کا دل بدل سکتا ہے اور مجھے یقین ہے کہ وہ اسلام کو سمجھ رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مذہب سے اس کا اعتماد اٹھ چکا ہے لیکن میں نے جب اسے اسلام کے اصولوں کے بارے میں بتایا تو اس نے ان کی تعریف کی۔ ہم دونوں کے درمیان خاصے طویل عرصے سے بہت اچھی انڈر اسٹینڈنگ ہے۔
دوسرا شخص مسلمان ہے۔ میں امید کرتی ہوں آپ میری مدد کریں گے تاکہ میں درست لائف پارٹنر کا انتخاب کر سکوں۔‘‘
جواب:۔ عزیزم! مختصر الفاظ میں آپ کے سوالات کا جواب صرف دو جملوں میں دیا جا سکتا ہے کہ فلاں موزوں ہے اور فلاں ناموزوں لیکن شاید اس طرح آپ کی تسلی نہ ہو۔ مزید یہ کہ اس کالم میں ہمارا مقصد صرف سوالوں کے جواب دینا ہی نہیں بلکہ علم نجوم کے تجزیہ سے متعلق دلائل کا اظہار کرنا بھی ہے لہٰذا ہم دونوں افراد کی تجزیاتی رپورٹ یہاں پیش کر رہے ہیں۔ فریق اول جو غیر مسلم ہے اگرچہ آپ کے لیے ناموزوں نہیں ہے کیوں کہ آپ کا شمسی برج جوزا اور اس کا میزان ہے۔ دونوں کے درمیان معقول ذہنی ہم آہنگی ہو سکتی ہے لیکن جہاں تک اس کے مذہب تبدیل کرنے کا سوال ہے اس پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔ آپ کی باتوں سے بقول آپ کے وہ خاصا متاثر ہے اور اسلامی اصولوں کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھتا ہے اور آپ نے یہ بھی کہا کہ مذہب سے اس کا اعتماد اٹھ چکا ہے۔
بات دراصل یہ ہے کہ میزانی افراد توازن پسند اور ہم آہنگی برقرار رکھنے والے ہوتے ہیں خصوصاً تعلقات میں وہ کوئی ایسی بدمزگی نہیں چاہتے جس سے تعلقات متاثر ہوں لہٰذا اکثر ناگوار اور ناپسندیدہ باتوں کو بھی برداشت کر لیتے ہیں یا نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اکثر مصلحت پسندی سے بھی کام لیتے ہیں اور اس خیال سے کہ کوئی تنازع نہ پیدا ہو، کبھی کبھی اپنے اصل نظریات کو پوشیدہ رکھتے ہیں۔ بے حد انصاف پسند ہوتے ہیں اس لئے ہر قسم کے نظریات پر غور و فکر کر لیتے ہیں اور ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ دوسروں کا موقف سنتے ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ دوسروں سے یا ان کے خیالات سے متاثر ہو گئے ہیں۔ اس کا قمری برج عقرب ہے لہٰذا وہ اپنی فطرت میں نہایت گہری اور اپنے ذاتی نظریات میں بہت شدت پسندانہ مضبوط سوچ رکھنے والا انسان ہے اور اس حوالے سے اس کی سوچ کو تبدیل کرنا بہت مشکل کام ہے۔ ممکن ہے وہ اپنے پیدائشی مذہب سے مطمئن نہ ہو اور دیگر مذاہب عالم کے حوالے سے بھی اس کی سوچ بے اعتمادی کا شکار ہو لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ وہ اسلام قبول کر لے۔ اس کے زائچے کی دیگر صورت حال بھی اس امکان کی نفی کرتی ہے۔ بنیادی طور پر وہ ایک رومان پرست اور اپنی خواہشات کا غلام انسان ہے۔ ممکن ہے آپ سے شادی کی خاطر یا کسی اور مقصد کے تحت مذہب تبدیل کر لے مگر یہ تبدیلی دائمی نہیں ہو گی چنانچہ یہ بات آپ کو بہرحال ذہن میں رکھنا ہو گی۔ زائچۂ پیدائش میں سیارہ عطارد الٹا پڑا ہے۔ یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اپنی سوچ اور خیال نظریۂ ضرورت کے تحت اکثر و بیشتر بدلتا رہتا ہے اور آئندہ بھی ایسا کر سکتا ہے۔ بہرحال آپ بھی ایک بڑا قلابازیاں کھانے والا ذہن رکھتی ہیں لہٰذا ’’خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو۔‘‘
فریق ثانی ہمارے نزدیک آپ کے لیے زیادہ موزوں شخصیت ہے۔ اس کا شمسی برج قوس ہے جو آپ کے برج جوزا سے مقابلے کا برج بھی ہے اور شراکت کا بھی۔ آپ دونوں ایک دوسرے کے اچھے شریک کار اور شریک حیات ثابت ہو سکتے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کی خوبیوں اور خامیوں کو سمجھنے کی اچھی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جتنی بے چینیاں اور بے قراریاں، جلد بازیاں اور ذہنی قلابازیاں آپ کے اندر موجود ہیں اتنی ہی دوسری جانب بھی ہیں۔ گویا یہ نہلے پر دہلا ہے۔ آپ کو جن خوبیوں کی تلاش ہے وہ برج قوس میں موجود ہیں اور برج قوس کو جو باتیں لبھاتی ہیں اور جن حرکتوں سے وہ خوش ہوتا ہے وہ سب آپ کے اندر موجود ہیں۔ آپ دونوں بہت پرامید، خوش مزاج اور نہایت بے فکرے ہیں۔ ایک دوسرے کی رفاقت میں خوب انجوائے کریں گے۔ دونوں غیر معمولی طور پر ذہین ہیں اور ایک دوسرے کی خوبیوں اور صلاحیتوں کو سراہنے والے اور خامیوں اور کمزوریوں کو نظر انداز کر دینے والے ہیں لہٰذا بہتر ہو گا کہ اپنی اسلامی مہم جوئی کو چھوڑ کر فریق ثانی کو لائف پارٹنر منتخب کر لیں۔
تعلیم اور شادی
ایس، ایچ لکھتی ہیں’’میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں آگے پڑھنا چاہتی ہوں لیکن میرے والد میری شادی کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے پہلے پری میڈیکل کا شعبہ اپنے لیے منتخب کیا تھا لیکن مالی حالات کی وجہ سے آگے نہیں پڑھ پائی۔ اب میرا ارادہ پھر سے سخت جدوجہد کے ساتھ آگے پڑھنے کا ہے۔ براہ مہربانی میری رہنمائی کیجیے اور بتائیے کہ میرے لیے کون سا شعبہ صحیح رہے گا؟‘‘
جواب:۔ پیاری بیٹی! تم بہت بہادر اور ہمت والی ہو۔ تمہارے دو برج جدی اور سنبلہ خاکی عنصر رکھتے ہیں اور زائچے میں سیارہ زحل بھی اپنے برج عروج جدی میں ہے لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ تمہاری سوچ بہت عملی اور حقیقت پسندانہ ہے۔ تم یقیناًاپنے والدین کے لئے ایک بیٹے کا کردار ادا کر سکتی ہو۔
بہتر ہو گا کہ اب اپنے لیے کامرس یا آرٹس کا شعبہ منتخب کرو۔ اگر آرٹس کا شعبہ لیتی ہو تو بعد میں ایل ایل بی کر سکتی ہو۔ قانون، اکاؤنٹس وغیرہ تمہارے لیے مناسب شعبے ہوں گے اور دوران تعلیم تمہیں وہ پریشانیاں بھی نہیں ہوں گی جو پری میڈیکل میں پیش آئیں۔ باقی تمہارے والد اگر تمہاری شادی کے لیے اصرار کر رہے ہیں تو اپنی دانست میں وہ بہرحال بہتر ہی سوچ رہے ہیں لیکن ہمارے خیال سے وہ ایسا کر کے غلطی کریں گے۔ ابھی تمہاری عمر ہی کیا ہے مزید یہ کہ خراب وقت چل رہا ہے۔ اس دوران میں اگر شادی ہوئی تو نتیجہ اچھا نہیں نکلے گا۔ ہمارا مشورہ ہے کہ کم از کم تین چار سال تمہاری شادی نہ کی جائے اور تمہیں تعلیم مکمل کرنے اور کرئر بنانے کا موقع دیا جائے۔ تقریباً 2020۔ 2021 سے تمہارا بہتر وقت شروع ہو گا اس وقت تک تمہیں محنت اور جدوجہد کر کے اپنا تعلیمی کرئر مضبوط کرنا ہو گا۔ ہفتہ کے روز اپنا صدقہ کسی کالی چیز کا دیا کرو اور نیلم، ترملین یا گارنیٹ کا نگینہ بائیں ہاتھ کی سب سی چھوٹی انگلی میں پہن لیں۔
خاندانی شراکت
این، آر: عزیزم! آپ دونوں میاں بیوی کا شمسی برج جدی ہے لیکن چونکہ آپ کے قمری برج جدا جدا ہیں یعنی آپ کے شوہر کا قمری برج سرطان ہے اور آپ کا سنبلہ۔ یہ بہت اچھی بات ہے آپ دونوں کے درمیان اسی وجہ سے محبت اور ہم آہنگی ہے۔ دونوں عملی سوچ رکھتے ہیں مگر شوہر کا جھکاؤ اپنے خاندان کی طرف زیادہ ہے۔ قمری برج سرطان ہونے کی وجہ سے وہ اپنی ماں، بہن، بھائیوں سے دور رہ کر خوش نہیں رہ سکتے۔ یہی چیز انہیں علیحدہ ہونے سے روک رہی ہے اور بنیادی طور پر آپ دونوں نہایت ضدی اور اپنی حاکمیت قائم کرنے والے ہیں۔ آپ اپنے شوہر کے مقابلے میں زیادہ سخت مزاج ہیں۔ مزید یہ کہ آپ کے قمری برج سے زحل کی ساڑھ ستی بھی چل رہی ہے لہٰذا ہمارا مشورہ یہی ہے کہ فی الحال معاملات کو زیادہ بگاڑنے کی کوشش نہ کریں، شوہر کی بات مان لیں اور جیسے تیسے ایک ہی گھر میں گزارا کریں۔ اپنے تنقیدی مزاج اور سخت رویہ پر نظر ثانی کریں۔ آپ کا شوہر بہت محبت کرنے والا اور نرم دل انسان ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے سخت رویے اور دو ٹوک انداز میں اسے آپ سے کسی حد تک بدگمان کر دیا ہے اسی لیے وہ آپ کے ہاتھ میں پیسے بھی نہیں دیتا۔ آپ بے شک اپنے شوہر سے بہت محبت کرتی ہیں اور نہایت ذمہ دار بھی ہیں لیکن کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ آپ محبت کے اظہار کی قائل نہیں ہیں، آپ کے عمل سے تو محبت ظاہر ہوتی ہے لیکن زبان سے اس کا اظہار کرنا ضروری نہیں سمجھتیں جب کہ آپ کا شوہر آپ سے یہی کچھ چاہتا ہے۔ آپ کا روکھا اور خشک انداز اور آپ کا بہت زیادہ حقیقت پسندانہ انداز میاں بیوی کے درمیان رومانس کا قاتل ہے۔ اسی طرح قمری برج سنبلہ کی وجہ سے آپ سے کوئی غلطی برداشت ہی نہیں ہوتی بلکہ دوسروں کی غلطیوں کی بھی اصلاح کے لیے تیار رہتی ہیں۔ اس طرح آپ دوست کم اور دشمن زیادہ بناتی ہیں۔ بہرحال آپ کے لئے بھی ہفتہ کے روز صدقہ دینا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی اگر نیلم، گرین یا براؤن ترملین یا گارنیٹ میں سے کوئی پتھر بھی پہن لیں تو آپ کے مسائل کے حل میں آسانی ہو گی بصورت دیگر یاد رکھیں یہ سال آپ کو کسی بڑے جذباتی صدمے سے بھی دوچار کر سکتا ہے۔

ہفتہ، 3 نومبر، 2018

کسے خبر تھی کہ لے کر چراغِ مصطفوی
جہاں میں آگ لگاتی پھرے گی بولہبی
کیا پاکستان کسی سویلین ایمرجنسی کی جانب بڑھ رہا ہے؟
وزیراعظم عمران خان کے زائچہ ء حلف کا تجزیہ کرتے ہوئے گزارش کی تھی کہ آئندہ سال مئی تک مشکلات اور رکاوٹیں حکومت کو پریشان کریں گی اور خاص طور پر 19 دسمبر سے 23 فروری تک کا عرصہ نہایت سخت اور کٹھن ثابت ہوگا، زائچہ ء حلف کا طالع میزان ہے جو وزیراعظم کے پیدائشی زائچے کا بھی طالع ہے، اس اعتبار سے سیارہ زہرہ دونوں زائچوں کا حاکم ہے،پیدائشی زائچے میں تو یہ نہایت طاقت ور پوزیشن رکھتا ہے لیکن زائچہ ء حلف میں اس کے برعکس نہایت کمزور ہے، گزشتہ ماہ 20 اکتوبر سے یکم نومبر تک سیارہ زہرہ، شمس کے انتہائی قریب رہا، اس صورت حال کو اصطلاحاً کسی ستارے کا غروب ہونا کہا جاتا ہے، صاحب زائچہ کی پوزیشن کمزور ہوجاتی ہے، اسی عرصے میں سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کے مقدمے کا فیصلہ سنادیا جس کے نتیجے میں پورے ملک میں شدید احتجاج اور ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی، 2 نومبر کو ملک گیر احتجاج ہوا اور اسی روز جمیعت العلمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق پر قاتلانہ حملہ بھی ہوا جس کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہوگئے (انا للہ وانا الہ راجعون)
وزیراعظم برادر ملک چین کے دورے پر گئے ہوئے ہیں، پاکستان کے زائچے کی صورت حال روز بہ روز بگڑتی جارہی ہے جس کے نتیجے میں مسائل اور حادثات مسلسل جاری ہیں اور بہ حیثیت وزیراعظم عمران خان کو بھی مشکلات کا سامنا ہے،اچھی بات یہ ہے کہ حکومت نیک نیتی اور سچائی کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن ان کوششوں میں غلطیوں سے بچنے کی ضرورت ہے کیوں کہ مخالفین اور ملک دشمن قوتیں ان غلطیوں ہی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہیں۔
سویلین ایمرجنسی کی ضرورت
زائچہ ء پاکستان کے مطابق 19 دسمبر سے ایسی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے کہ ملک میں سویلین ایمرجنسی نافذ کرنے کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے،کیا وزیراعظم اس آپشن پر غور کریں گے؟اس بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا، حال ہی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے کوچیئرمین جناب آصف علی زرداری نے حکومت سے تعاون کا ارادہ ظاہر کیا ہے اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی اسمبلی میں کہا ’’قدم بڑھاؤ عمران خان، ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘۔بظاہر یہ بڑی خوش آئند باتیں ہیں، ان پر کسی حد تک عمل ہوگا، اس کے بارے میں قبل از وقت کچھ نہیں کہا جاسکتا، ہم زائچہ ء پاکستان کی روشنی میں دیکھ رہے ہیں کہ حالات روز بہ روز مزید خراب سے خراب تر ہونے کا امکان موجود ہے،پاکستان کا معاشی بحران بھی اپنی جگہ ہے جس کی وجہ سے مہنگائی کا طوفان عوام کو پاگل کر رہا ہے،اس بحران سے نکلنے کے لیے پاکستان آئی ایم ایف کے پاس جارہا ہے، دوسرا آپشن ان لوگوں سے وصولی کا ہے جنھوں نے ملک میں ناجائز طور پر لوٹ مار کرکے اربوں کھربوں کے اثاثے بنالیے ہیں اور پاکستانی عام قوانین اتنے طاقت ور نہیں ہیں کہ ایسے لوگوں سے بھرپور طریقے سے نمٹا جاسکے، یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب ملک میں کچھ خصوصی قوانین نافذ کیے جائیں جو اسمبلی کے ذریعے ممکن نہیں ہیں، کسی ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ہی ایسا ممکن ہوسکے گا، اسی طرح سیاسی کھیل میں انتہا پسند عناصر جو کردار ادا کررہے ہیں انھیں بھی کنٹرول کرنے میں خصوصی قوانین معاون و مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
19 دسمبر سے 23 فروری کے درمیان زائچہ ء پاکستان اور زائچہ ء حلف وزیراعظم کی کیفیت نہایت تشویش ناک نظر آتی ہے،اس سے پہلے ہی اگر معقول احتیاطی تدابیر اختیار کرلی جائیں تو بہتر ہوگا، واضح رہے کہ برسوں پہلے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو ملک میں ایمرجنسی نافذ کرکے حکومت چلاتے رہے ہیں اور اس طرح انھوں نے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کی کوشش کی تھی ، بے شک یہ ایک خطرناک ہتھیار ہے جس کا غلط استعمال نقصان دہ بھی ہوسکتا ہے مگر ضرورت ایجاد کی ماں ہے، یہ ہتھیار عارضی طور پر چند مہینوں سے زیادہ استعمال نہیں ہونا چاہیے، گزشتہ ہفتے جو کچھ ہوا ، اس تناظر میں مشہور شاعر جمیل مظہری کا شہرہ آفاق شعر بہت یاد آیا ؂
کسے خبر تھی کہ لے کر چراغِ مصطفوی
جہاں میں آگ لگاتی پھرے گی بولہبی
میں کہ خود اپنے مذاق طرب آگیں کا شکار
برسوں سے ہزاروں خطوط ہمیں موصول ہوتے رہے ہیں، ایسے ہی خطوط میں سے ایک خط پیش نظر ہے، ہمیں یقین ہے کہ بے شمار نوجوان اس نوعیت کے مسائل کا شکار ہوتے ہیں، اس خط سے یقیناً انھیں رہنمائی مل سکتی ہے۔
’’اس وقت میری عمر 21 سال سے زائد ہے، میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے تب سے ہی اپنے آپ کو سمجھ نہیں پایا، مجھ میں ہر وقت ایک اندرونی خوف رہتا ہے، میری سوچ بھی منفی ہے، وجہ صرف یہ ہے کہ میں اپنے آپ کو اپنے دماغ کو ، اپنے چہرے کو کنٹرول نہیں کرپاتا، بس خوف ہی خوف ہے، اپنے حال اور مستقبل کے بارے میں کوئی منصوبہ نہیں بناپاتا، اگر بنا بھی لیتا ہوں تو اس پر عمل کرنا میرے جسم کے لیے بالکل ناممکن ہے، بس اسی سوچ میں صحت بھی گرتی جارہی ہے، میں نے میٹرک پاس کیا ہے اور بہت آگے تک پڑھنے کا ارادہ تھا، میں کچھ بننا چاہتا تھا، جب نویں میں تھا جب ہی سے یہ حال تھا اور میرے لیے مزید پڑھنا محال تھا لیکن خدا خدا کرکے میٹرک کر ہی لیا لیکن اب صورت حال بہت خراب ہے، اب آپ بتائیں میں اپنے آپ کو کنٹرول کروں یا پڑھائی پر توجہ دوں، میں سنجیدگی اور ہمت سے بھرپور زندگی گزارنا چاہتا ہوں لیکن ایک طرح سے ذہنی اور نفسیاتی مریض بن چکا ہوں، میں انتہائی بے بس اور پریشان ہوں، سوچتا ہوں کہ کوئی خدا کا قابل بندہ ملے تو اس کی رہنمائی حاصل کروں، شاید کہ وہ آپ ہوں، میں خدا کی بندگی سے بہت دور ہوں، پہلے میں پابندی سے نماز پڑھتا تھا لیکن بے بسی بڑھتی گئی، نماز میں کھڑے ہوئے بہت شرم آتی ہے، مجمع میں خوف و ڈر محسوس ہوتا ہے، لوگوں سے بات کرتے ہوئے گھبراہٹ ہوتی ہے، نہایت ہی بے اعتماد ہوں اور اپنے آپ پر بالکل بھی بھروسا نہیں، کیفیت ہی ایسی ہوگئی ہے، ہر کام سے فرار چاہتا ہوں، میں کسی بھی کام یا مسئلے کے بارے میں ہمیشہ منفی زیادہ اور مثبت کم سوچتا ہوں، آپ سے التجا ہے کہ خصوصی طور پر میرے مسئلے پر توجہ دیں اور حل تجویز فرمائیں‘‘۔
عزیزم! آپ اس حال کو جس وجہ سے پہنچے ہیں، اس کا ذکر آپ نے اپنے خط میں کہیں نہیں کیا، اپنی اصل بیماری کو پوشیدہ ہی رکھا، بہر حال آپ کی تحریر اور اس میں بیان کردہ علامات صاف طور پر آپ کی اصل بیماری پر روشنی ڈال رہی ہیں، یہ بیماری نوجوانوں میں عام ہے، ہم اس موضوع پر بے حد تفصیل سے لکھ چکے ہیں، بہترین بات تو یہ ہوگی کہ پہلے اپنی اس عادت بد سے نجات حاصل کریں، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیسے؟
یقیناً یہ نہایت اہم سوال ہے کیوں کہ آپ جیسے مریض درحقیقت اپنی اس عادت بد سے پیچھا چھڑانے میں عموماً ناکام ہی رہتے ہیں لیکن صدق دل سے کوشش کی جائے تو ایسا ناممکن کام بھی نہیں ہے۔
جب بستر پر سونے کے لیے لیٹنے کا ارادہ کریں تو پہلے وضو ضرور کرلیا کریں، پھر بستر پر لیٹ کر ایک چھوٹی سی سانس کی مشق کرلیں یعنی سیدھے لیٹ جائیں اور ہمیشہ اپنا سر شمال کی جانب کرکے لیٹا کریں، لیٹنے کے بعد چند گہری گہری سانسیں ناک کے ذریعے لیں یعنی سانس اندر کھینیچیں اور باہر خارج کریں، چند بار ایسا کرنے سے آپ کے اعصاب کا تناؤ ختم ہوجائے گا اور جسم ڈھیلا پڑ جائے گا، اب آنکھیں بند کرلیں اور سبز روشنی کا تصور کریں یعنی یہ خیال ذہن میں لائیں کہ آپ کے گرد سبز روشنی پھیلی ہوئی ہے اور آپ اس کے موجیں مارتے ہوئے سمندر میں ڈوبے ہوئے ہیں، چند سیکنڈ جب اس خیال پر توجہ مرکوز ہوجائے تو ناک سے آہستہ آہستہ سانس اندر کھینچیں اور یہ خیال کریں کہ اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی سبز روشنی کو ناک کے ذریعے اپنے جسم میں داخل کر رہے ہیں، جب پھیپھڑوں میں خوب ہوا بھر جائے تو سانس روک لیں اور سوچیں کہ آپ نے ناک کے ذریعے جو سبز شعائیں جسم میں داخل کی ہیں وہ آپ کے تمام جسم کو سبز کر رہی ہیں، سانس صرف اتنی ہی دیر روکیں جتنی دیر روک سکتے ہوں، جب سانس روکنا مشکل معلوم ہو تو منہ کے ذریعے تیزی سے خارج کردیں اور اس وقت یہ خیال کریں کہ سانس کے ہمراہ جسم کی اندرونی کثافت(گندگی) باہر نکل رہی ہے اور اس کے اخراج سے آپ فرحت اور اطمینان محسوس کر رہے ہیں۔
اب ایک لمحہ رک کر یہ غور کریں کہ واقعی آپ خود کو پہلے سے بہتر اور مطمئن محسوس کر رہے ہیں، اس کے بعد دوبارہ ناک سے سانس اندر کھینچیں مگر اس بار تیزی کے ساتھ اور تصور یہی رہے کہ سبز شعاعیں ناک کے راستے جسم میں داخل ہورہی ہیں پھر حسب سابق سانس روک کر وہی پہلا خیال ذہن میں دہرائیں اور جب سانس روکنا دشوار محسوس ہو تو منہ سے آہستہ آہستہ خارج کریں اور سانس باہر خارج کرتے ہوئے گندگی کے اخراج کا خیال کریں، تیسری مرتبہ بھی اسی طرح کریں مگر اب پھر ناک سے سانس آہستہ آہستہ لیں اور جب خارج کریں تو تیزی کے ساتھ۔
اس طریقے پر اگر ابتدا میں صرف تین مرتبہ یعنی سانس اندر کھینچنے اور باہ رنکالنے کا عمل کرلیں تو بہت ہے، البتہ اگر ہمت زیادہ ہو اور بہت تھکان محسوس نہ ہو تو پانچ مرتبہ تک کرسکتے ہیں۔
اس کام سے فارغ ہوکر سونے کی کوشش کریں اور ذہن میں یہ خیال رکھیں کہ اب میں پہلے سے زیادہ بہتر ہوں، میری کمزوریاں دور ہورہی ہیں، میں خود کو گندگی سے پاک اور ہلکا پھلکا محسوس کر رہا ہوں، اب مجھے نیند بھی بہت گہری اور پر سکون آئے گی، امید ہے کہ یہی باتیں سوچتے سوچتے آپ گہری نیند میں چلے جائیں گے اور صبح جب سوکر اٹھیں گے تو خود کو بہت چاق و چوبند محسوس کریں گے۔
کوشش کریں کہ صبح جب پہلی بار آنکھ کھلے تو فوراً بستر چھوڑ دیں، دوبارہ سونے کا خیال دل میں نہ لائیں، اٹھ کر باتھ روم میں جائیں اور غسل کریں یا غسل کرنا مکن نہ ہو تو وضو ضرور کرلیں۔
عزیزم! ہمیں یقین ہے کہ آپ نے ہماری ہدایت پر 75 فیصد بھی عمل کرلیا تو آپ اپنی مایوس اور پریشان زندگی میں ایک انقلاب رونما ہوتے دیکھیں گے، بری عادتیں ختم ہونے لگیں گی اور زیادہ سے زیادہ تین ماہ میں آپ ایک مختلف انسان نظر آنے لگیں گے، قوت ارادی میں اضافہ ہوگا، ذہنی صلاحیتیں بہتر ہوں گی، حافظہ اور ہاضمی عمدہ ہوجائے گا، بھوک کھل کر لگے گی، زندگی سے متعلق مثبت کاموں کی طرف آپ راغب ہونے لگیں گے، ذہن میں چھپے نامعلوم خوف زائل ہونے لگیں گے، آپ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے آپ کوکوئی بہت مشکل کام بتادیا ہے جو آپ کی ہمت و طاقت اور استطاعت سے باہر ہے۔
اس کے ساتھ مزید بہتری کے لیے ہومیو پیتھک دوا اسٹیفی میگر یا چھ طاقت میں اور چائنا چھ طاقت میں ساتھ لیتے رہیں تو سونے پر سہاگہ والی بات ہوگی، آخری بات جو نہایت ضروری ہے، سانس کی مشق رات کو سونے سے پہلے کسی صورت میں نہ چھوڑیں، اس سلسلے میں کوئی بہانہ ذہن کو نہ سوچنے دیں، ہم نے دیکھا ہے کہ آپ جیسے مریض پابندی سے علاج نہیں کرتے اور علاج نہ کرنے کے سو بہانے ڈھونڈ لیتے ہیں، مثلاً فلاں ہدایت پر تو ہم نے عمل کرلیا تھا مگر فلاں پر چوں کہ زیادہ دن عمل نہ ہوسکا تو سوچا اب کسی دوسری ہدایت پر بھی عمل کا کیا فائدہ، یہ بہت بڑی غلطی ہوتی ہے، یاد رکھیں کسی ایک ہدایت پر بھی عمل جاری رکھا تو ممکن ہے کچھ عرصے بعد دوسری ہدایات پر بھی عمل پیرا ہوجائیں۔
کالا جادو
وقاص احمد نے ایک عجیب واقعہ لکھا ہے کہ ایک صاحب پر کسی عورت نے کالا جادو صرف اس وجہ سے کردیا تھا کہ اس عورت کے ہاں بیٹے پیدا نہیں ہوتے تھے، اس جادو کے اثر کی وجہ سے اسے بھیانک خواب نظر آنے لگے۔
وہ اپنے خط میں لکھتے ہیں’’وہ دیکھتا کہ کوئی عجیب بلا اس کو مٹکے میں ڈال رہی ہے، اس کو اپنی موت کا اندازہ ہوگیا تھا، وہ ہمیشہ گھر بدلنے پر اصرار کرتا تھا، اس کی والدہ نے ایک عامل سے رجوع کیا، انھوں نے اسی عورت کی نشان دہی کی کہ اس نے اپنی اولاد میں بیٹوں کے لیے تمہارے بیٹے پر کچھ کروادیا ہے پھر عامل صاحب نے والدہ کو ایک عمل پڑھنے کو دیا اور بتایا کہ خواب میں وہ واضح نظر آجائے گا جس نے تمھارے بیٹے پر کچھ کیا ہے اور پھرکوئی ٹائم ضائع کیے بغیر میرے پاس آجانا لیکن والدہ کی بے پروائی کی وجہ سے معاملہ بگڑ گیا، وہ دو تین دن کے بعد عامل کے پاس گئیں، جب عامل صاحب کو یہ پتا چلا تو وہ بہت ناراض ہوئے، انھوں نے کہا کہ اب تمھارا بیٹا نہیں بچ سکتا، والدہ نے خواب میں اسی عورت کو دیکھا تھا اور پھروہی ہوا، اس لڑکے کی حالت بہت خراب ہوگئی، اس کے پیٹ کا درد بڑھتا چلا گیا، سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اس کے پیٹ کے نیچے بہت ساری ٹانگوں کی انگلیاں چل رہی ہیں، اسپتال میں ڈاکٹر نے آپریشن کیا تو پیٹ میں عجیب قسم کے جاندار نکلے جن کی شکلیں شیر جیسی تھیں، ڈاکٹر خوف زدہ ہوگئے لیکن انھوں نے آپریشن جاری رکھا لیکن وہ نہ بچ سکا، اب اس واقعے کو دس سال گزر چکے ہیں لیکن تمام گھر والے اب تک اس جادو کے اثرات سے نہیں نکل سکے ہیں‘‘
عزیزم! یہ واقعہ ہمیں حقیقت سے زیادہ فکشن معلوم ہورہا ہے کیوں کہ کراچی کے کسی بھی اسپتال میں آپریشن کے دوران ایسی عجیب مخلوق پیٹ سے برآمد ہوئی ہوتی تو اخبارات تک یہ خبر ضرور آتی اور پھر اس مخلوق کی زندہ یا مردہ نمائش کا اہتمام بھی ہوسکتا تھا مگر کم از کم ہمارا حافظے میں تو ایسا کوئی واقعہ اخبار میں نہیں آیا، اخبا رہم ہمیشہ سے بڑی پابندی سے اور توجہ سے پڑھتے ہیں، دوسری بات یہ کہ عامل صاحب کا رویہ بھی ناقابل فہم ہے، وہ یقیناً کوئی جعلی عامل ہی ہوں گے، ایسی حرکتیں وہی کرتے ہیں، لڑکے کی والدہ نے پہلے ہی اس عورت کے خلاف ذہن بنالیا تھا اور پھر عامل سے جاکر اپنے شک کا اظہار کیا اور موصوف نے تائید بھی فرمادی، پھر اس عورت کو خواب میں دیکھنے کا عمل بھی بتادیا ، آخر اس سارے ڈرامے کی ضرورت کیا تھی؟ سیدھا سیدھا لڑکے کا علاج کرنے پر توجہ دینا چاہیے تھی، پھر یہ شرط بھی عجیب ہے کہ خواب دیکھتے ہی فوراً آجانا، تاخیر کی صورت میں لڑکے کی موت کا فتویٰ دے کر علاج سے منہ موڑلیا، رہا سوال خواب میں اس عورت کو دیکھنے کا تو یہ سارا نفسیاتی عمل ہے جو بات آپ کے لاشعور میں پختہ جگہ بنالے گی یعنی ریکارڈ ہوجائے گی وہی خواب میں ری پلے ہوگی، اصل مرض کچھ اور ہوگا اور علاج کچھ اور ہوتا رہا، یہاں تک کہ لڑکا آپریشن ٹیبل تک پہنچ گیا، اول تا آخر اسے کالے جادو کا نام دیا جاتا رہا ہے اور اپنی حماقتوں اور درست علاج معالجے سے غفلت کے جرم پر اس بودی کہانی کے ذریعے پردہ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
خیالات اور احساسات کے دباؤ سے نجات کا ذریعہ
انسان فطرت سے نہیں لڑسکتا، فطرت کے تقاضوں سے منہ نہیں موڑ سکتا، ان تقاضوں سے فرار کی کوشش نہایت پیچیدہ اور بعض اوقات بھیناک قسم کے مسائل کو جنم دیتی ہے۔
عورت ہو یا مرد فطری جذبات اور احساسات اس کی زندگی کا لازمی حصہ ہیں، مثلاً کسی پسندیدہ بات یا منظر سے متاثر ہوکر خوش ہونا اور فرحت حاصل کرنا یا کسی ناپسندیدہ بات یا صورت حال سے متاثر ہوکر ملول و غم زدہ ہونا، غصے میں آنا وغیرہ، ایک معصوم بچہ جیسے جیسے بلوغت کی دہلیز کی طرف قدم بڑھاتا ہے، اس کے جذبات و احساسات میں اسی مناسبت سے تبدل و تغیر رونما ہوتا ہے، یہ نئے جذبات اور احساسات اس کے فطری جسمانی و روحانی تقاضوں کے مطابق ہوتے ہیں لیکن معاشرتی و اخلاقی اور مذہبی قوانین، ان جذبات و احساسات کا برہنہ اظہار، انسان کو وحشت و درندگی کی طرف نہ لے جائے اور وہ ایک مہذب معاشرے کا مہذب فرد بن کر رہے۔
اخلاقی و مذہبی پابندیاں بھی اگر نارمل حدود سے گزر کر انتہا پسندی کی صورت اختیار کرلیں تو اکثر حساس طبیعت افراد کی نفسیات کے بگاڑ کا سبب بن جاتی ہیں اور وہ عجیب و غریب نوعیت کی نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہوکر اپنی زندگی کو عذاب بنالیتے ہیں، اکثر تو دوسروں کی تضحیک کا نشانہ بھی بنتے ہیں، مثلاً آپ نے دیکھا ہوگا کہ بعض افراد کو صفائی اور پاکیزگی کا خبط ہوجاتا ہے، ہاتھ بھی دھونا شروع کریں تو خاصی دیر تک انھیں مل مل کر رگڑ رگڑ کر دھوتے رہتے ہیں، دوسرے لوگوں سے ہاتھ ملاتے ہوئے ہچکچاتے ہیں کہ کہیں ان کا ہاتھ گندہ نہ ہوجائے، الغرض ہر طرف گندگی کا یہ احساس ان پر اتنا زیادہ غالب ہوتا ہے کہ ان کے لیے معاشرے میں گھل مل کر رہنا مشکل ہوجاتا ہے اور وہ عموماً دوسروں کے لیے تماشا بن جاتے ہیں۔
اس حوالے سے سب سے زیادہ پیچیدہ کیس خواتین میں نظر آتے ہیں، گندگی اور ناپا کی، گناہ و ثواب، جائز و ناجائز کے گہرے احساسات، حالات اور ماحول کے جبرکی وجہ سے اکثر ان کے لاشعور میں اس طرح جذب ہوجاتے ہیں کہ پھر انھیں عمر بھر اپنے فطری تقاضوں کے خلاف جنگ میں مصروف رہنا پڑتا ہے، اس جنگ کے نتیجے میں بڑے بڑے تباہ کن امراض جنم لیتے ہیں، گھریلو اور ازدواجی زندگی تباہ و برباد ہوکر رہ جاتی ہے، اولاد کی پرورش بھی نامناسب طریقے پر ہوتی ہے، شوہر دوسری شادی کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں یا دوسری خواتین سے عشق لڑانا شروع کردیتے ہیں اور اس تمام صورت حال کا ذمے دار سحرو جادو یا کسی جن بھوت کو قرار دے دیا جاتا ہے۔
اس تمام گفتگو کی روشنی میں آئیے ایک خط کا مطالعہ کرتے ہیں ، نام و پتا ہم پردہ داری کے خیال سے ظاہر نہیں کر رہے ہیں، وہ لکھتی ہیں۔
’’خدا آپ کو صحت دے، آپ دکھی لوگوں کے مسئلے اس طرح حل کرتے رہیں، اس دکھی بہن کو بھی کچھ بتادیجیے، میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرے دل میں ناپاک خیالات آجاتے ہیں، ایسے کہ نعوذ باللہ، ایک بے ہودہ لفظ تو میرے ذہن میں جم کر رہ گیا ہے، کسی بھی چیز کا خیال کرتی ہوں تو وہ لفظ فوراً ذہن میں آجاتا ہے، میں نماز پابندی سے پڑھتی ہوں، کلمہ پڑھتی ہوں، توبہ استغفار کثرت سے کرتی ہوں، درود شریف کا ورد مستقل رہتا ہے، اللہ سے رو رو کر معافی مانگتی ہوں مگر لگتا ہے کہ اللہ بھی ناراض ہوگیا ہے، میں پوری کوشش کرتی ہوں کہ یہ خیالات میرے ذہن سے دور ہوجائیں مگر یہ جان ہی نہیں چھوڑتے،ہم لوگ رزق حلال کھاتے ہیں اور میں اپنی پوری کوشش کرتی ہوں کہ زندگی خدا کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق گزاروں مگر یہ شیطانی، فاسق خیالات زندگی عذاب بنائے ہوئے ہیں، اتنا رو رو کر خدا سے دعا کرتی ہوں مگر کچھ نہیں ہوتا، کیا میرے اوپر کوئی سحری اثر تو نہیں ہے؟ آپ بتائیں کیا وجہ ہے؟ میرے ساتھ ایسا کیوں ہورہا ہے؟ کیا پڑھوں کہ میرا دل پاک و صاف خیالات کا مرکز بن جائے، میں روحانی طور پر ترقی کرنا چاہتی ہوں، مجھے مرشد کامل کی بھی تلاش ہے، آپ کے پاس میرا علاج ہو تو پلیز ضرور تفصیل سے لکھ دیجیے کہ میں کیا کروں؟‘‘
عزیز بہن! آپ کے خط سے پہلے ہم نے جو گفتگو کی ہے، اسے پھر سے پڑھیں اور پھر اپنی زندگی میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کریں، مذہبی اور روحانی تصورات کو انتہا پسندانہ انداز میں خود پر نافذ کرنے کی کوشش نہ کریں، انسانی فطرت کے تقاضوں کو سمجھیں اور اس حقیقت پر غور کریں کہ آپ جس معاملے میں بھی شعوری طور پر خود پر جبر کرنے کی کوشش کریں گی وہ لاشعوری طور پر آپ کے لیے اذیت ناک مسئلہ بن جائے گا۔
فرض عبادت کے ساتھ مذہبی و اخلاقی تصورات اپنی جگہ لیکن ان کی روشنی میں دنیا میں موجود دیگر حقائق سے یکسر بے زاری اور نفرت کا احساس حد سے زیادہ بڑھ جانا ایک نارمل کیفیت نہیں ہے، دنیا میں جو اچھائیاں اور برائیاں موجود ہیں ہمیں ان کے درمیان زندگی گزارنی ہے، اچھائیوں کے ساتھ برائیوں کا بھی مشاہدہ کرنا ہے اور ان پر غوروفکر کرکے ہی کسی اچھائی یا برائی میں تمیز کرنے کا فن سیکھنا ہے، یہ ممکن نہیں کہ آپ انھیں ذہن سے جھٹک کر نظر انداز کرکے صرف اچھائیوں کے تصور میں ہی زندہ رہیں۔
یہ صورت تو زندگی کے ایک اہم رخ سے فرار کے مترادف ہوگی، آئیے ہم آپ کو اس صورت حال سے نکلنے کا ایک طریقہ بتائیں، اس طریقے کو ماہرین نفسیات’’آزاد نگاری‘‘ یا ’’خود نویسی‘‘ کہتے ہیں۔
جب بھی آپ کو نامناسب خیالات کی یلغار پریشان کرے، کاغذ اور قلم سنبھال کر ایک علیحدہ گوشے میں بیٹھ جائیں اور جو بھی خیالات ذہن میں آرہے ہیں ، انھیں لکھنا شروع کردیں، ان خیالات یا الفاظ سے نہ گھبرائیں، انھیں کاغذ پر منتقل کرنا شروع کردیں، خواہ اس کام میں کتنی ہی دیر کیوں نہ لگ جائے، اس وقت تک لکھتی رہیں جب تک ذہن تھک نہ جائے، اس کے بعد تمام لکھے ہوئے کاغذات کو فوراً جلادیں، یہ کام روزانہ پابندی سے کرتی رہیں، تھوڑے ہی عرصے میں آپ دیکھیں گی کہ خود کو پہلے سے بہتر محسوس کر رہی ہیں اور خیالات میں بھی اعتدال آنا شروع ہوگیا ہے جو بے ہودہ لفظ زیادہ پریشان کر رہا ہے، اسے بھی روزانہ کثرت سے لکھنا اور جلانا شروع کردیں۔
اب یہاں ایک نکتہ اور سمجھ لیں، شریعت کی رو سے انسان کے خیالات اور سوچوں پر گناہ اور ثواب کے لیے کوئی تعزیر یا حد شرعی مقرر نہیں ہے لہٰذا اس وہم میں بھی نہ رہیں کہ ایسے خیالات کی وجہ سے آپ گناہ گار ہورہی ہیں، گناہ یا جرم اس صورت میں تسلیم کیا جائے گا جب اس کا ارتکاب انسان کے عمل سے ظاہر ہو۔
فری رائٹنگ یا آزاد نگاری کی مندرجہ بالا مشق ہر وہ شخص کرسکتا ہے جو کسی بھی قسم کے خیالات کے دباؤ میں ہو، یہ دباؤ حالات کے نامناسب اور ناگوار ہونے کا ہو یا کسی اور انداز کا ، ہر صورت میں یہ مشق صحت مندانہ راستوں کی طرف لے جائے گی اور مختلف بیماریوں کے لیے مفید ثابت ہوگی، مثلاً ہائی بلڈ پریشر(اگر کسی جذباتی الجھن اور تناؤ کی وجہ سے ہو) ڈپریشن، خوف، محبت، نفرت، غصہ یا انتقام، احساس کمتری، ہسٹیریا اور دیگر ایسے ہی نفسیاتی امراض جو جذبات و احساسات سے کوئی گہرا تعلق رکھتے ہوں، ان امراض کے علاج میں دیگر طریقہ ء علاج کے ساتھ اس مشق کو بھی شامل کرلیا جائے تو جلد از جلد بہترین نتائج آنا شروع ہوجاتے ہیں، مزید تیز رفتار فوائد کے حصول کے لیے ’’مشق تنفس نور‘‘ بہترین ثابت ہوتی ہے اور طریقہء علاج اگر ہومیو پیتھک ہو تو کلی شفا یقینی ہوجاتی ہے۔

پیر، 29 اکتوبر، 2018

کراچی کے ایک مثبت سمت میں سفر کا آغاز

نومبر کی فلکیاتی صورت حال ایک مثبت اثر تعمیری مہینہ
کراچی کو پاکستان کا معاشی ہب کہا جاتا ہے، ماضی میں اس شہر کو عروس البلاد بھی کہتے تھے، پھر وہ وقت بھی دیکھا جب انسانی زندگی بے وقت ہوکر رہ گئی اور روزانہ کتنی ہی لاشیں اٹھائی جاتی رہیں، بے شک کراچی میں امن و امان کے قیام میں پاکستان رینجرز نے غیر معمولی کردار ادا کیا لیکن اب بھی صورت حال اطمینان بخش نہیں ہے، اسٹریٹ کرائمز آج بھی روز کا معمول ہیں، گزشتہ دس سال سے سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی حکمران ہے، ہم اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتے کہ سندھ اسمبلی اور حکومت کی دس سال میں کارکردگی کیا رہی لیکن کرپشن کے حوالے سے سندھ کو ایک نمایاں حیثیت دی جارہی ہے،سپریم کورٹ کے حکم پر بنائی گئی جے آئی ٹی منی لانڈرنگ کے ایک کیس میں ہر روز حیران کن انکشافات کرتی ہے،بعض اہم شخصیات کو گرفتار کرکے تفتیش کی جارہی ہے، زمینوں پر قبضے اور ناجائز تجاوزات کے مسائل اپنی جگہ ہیں، پینے کے پانی کا مسئلہ خوف ناک صورت اختیار کرچکا ہے،کراچی کی نمائندہ جماعت جو موجودہ الیکشن 2018 ء سے پہلے ایم کیو ایم تھی، اب تحریک انصاف بن چکی ہے، سندھ میں گورنر بھی تحریک انصاف سے لیا گیا ہے،ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایم کیو ایم تو اب ایک قصہ ء پارینہ ہوکر رہ گئی ہے۔
ہم طویل عرصے سے کراچی کے زائچے کے حوالے سے وقتاً فوقتاً گفتگو کرتے رہے ہیں، اسی طرح ایم کیو ایم کے حوالے سے بھی کئی بار اظہار خیال کیا ہے اور جن اندیشوں کا اکثر اظہار کرتے رہے ہیں، بالآخر وہ سامنے آکے رہے،فروری 2017 ء کے بعد ایسا وقت تھا جس میں ایم کیو ایم کی پوزیشن کو مزید بہتر کیا جاسکتا تھا لیکن ہر پارٹی کے ساتھ بہر حال انفرادی سوچ کے حامل افراد بھی ہوتے ہیں اور ان سے غلطیاں بھی ہوتی ہیں اور ایسی ہی غلطیاں بعض سنبھلنے کے مواقع ضائع کردیتی ہیں۔
گزشتہ سال ہی نومبر میں جناب فاروق ستار صاحب کا زائچہ شائع کیا تھا اور بہت سے خدشات کا اظہار کیا تھا، یہ بھی عرض کیا تھا کہ فاروق صاحب کو مصلحت و مصالحت کے ساتھ چلنے کی ضرورت ہے، بصورت دیگر وہ اس پوزیشن پر پہنچ سکتے ہیں، جب اپنی سیٹ بھی نہ بچاسکیں، چناں چہ ایسا ہی ہوا۔
کراچی کا طالع پیدائش برج حوت ہے، یہ بڑا ہی بوالعجب برج ہے،اس برج کے تحت پیدا ہونے والے لوگ کبھی ایک نارمل زندگی نہیں گزارتے،ان کی زندگی میں ہمیشہ اُتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں، یہی کچھ یکم جولائی 1970 ء کے بعد سے ہم دیکھ رہے ہیں، کراچی میں رہنے والے پرانے لوگ جانتے ہیں کہ کراچی 70 ء سے پہلے ایسا نہیں تھا کیوں کہ یہ وفاق کے زیر انتظام ایک شہر تھا، یہاں شیر و بکری ایک گھاٹ پانی پیا کرتے تھے،تہذیب و تمدن کا مرکز تھا، عروس البلاد کہلاتا تھا، ہر قسم کی علمی ، ادبی اور ثقافتی سرگرمیاں اس شہر کا طرۂ امتیاز تھیں، تعلیمی معیار کراچی کا پنجاب اور دیگر صوبوں سے بہتر تھا، 25 مارچ 1969 ء کو پاکستان میں جنرل یحیٰ خان نے مارشل لا لگایا اور ون یونٹ توڑ دیا، کراچی کو سندھ میں شامل کرکے سندھ کا دارالحکومت بنادیا گیا، کسی تاریخ کے مطابق کراچی کا زائچہ وجود میں آیا جس کے اثرات 70 ء کے بعد سے ہمارے مشاہدے میں آرہے ہیں اور ہمارے پڑھنے والے بھی دیکھ رہے ہیں، اس حوالے سے مزید کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
زائچہ ء کراچی کے مطابق مشتری کا دور اکبر جاری ہے،مشتری زائچے کے آٹھویں گھر میں مصیبت زدہ ہے،کراچی کے لوگوں کے لیے اور حکومت کے لیے ہمارا روحانی مشورہ ہے کہ کراچی میں یلو کلر کا استعمال بڑھائیں، عمارتوں کے رنگ اور دیگر معاملات میں بھی اس رنگ کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں، اس کے یقیناً مثبت نتائج برآمد ہوں گے،دوسرے نمبر پر گرین اور سُرخ کلر زیادہ استعمال کریں، بلیک، آف وہائٹ اور اورنج کلر سے پرہیز کیا جائے،کراچی کی گرینری کب اور کیسے ختم کی گئی، یہ بحث بھی اب فضول ہے، کراچی میں زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں، اس سلسلے میں بعض لوگ کوششیں بھی کر رہے ہیں مگر عوامی حمایت و دلچسپی کے بغیر لگائے گئے درخت عموماً ضائع ہوجاتے ہیں، عام لوگوں کو اس پر توجہ دینا چاہیے۔
5 جون 2017 ء سے مشتری کے دور اکبر میں راہو کا دور اصغر جاری ہے،راہو زائچے میں نہایت خراب پوزیشن رکھتا ہے،یہ سیاست کا ستارہ ہے لیکن دھوکا اور فریب اس سے منسوب ہے،اسی دور میں کراچی کی سیاست نے ایک ایسی کروٹ لی جس کے بارے میں پہلے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا، موجودہ الیکشن بھی راہو کے اسی دور میں ہوئے ہیں، یہ دور 31 اکتوبر 2019 ء تک جاری رہے گا۔
تازہ صورت حال یہ ہے کہ گزشتہ ایک سال سے سیارہ مشتری جو زائچے کا نہایت اہم سعد اثرات کا حامل سیارہ ہے وہ اپنی پیدائشی پوزیشن پر یعنی آٹھویں گھر میں ٹرانزٹ کر رہا تھا لیکن اسی اکتوبر میں اب نویں گھر میں داخل ہوچکا ہے،یہ کراچی والوں کے لیے خوش خبری ہے،مشتری آئندہ تین سال تک زائچے میں اچھی پوزیشن میں رہے گا لہٰذا اپنے مثبت اثر سے حالات میں بہتری لائے گا، فی الوقت زائچے کی پوزیشن خاصی خراب ہے،گزشتہ دو ماہ سے زائچے کے مختلف گھروں پر جو دباؤ راہو کیتو ڈال رہے تھے ، اس کے نتائج اب آنا شروع ہوچکے ہیں، ان میں مزید تیزی آئے گی،جن لوگوں نے غلط کام کیے ہیں وہ بہر حال اپنا بویا ہوا کاٹیں گے،موجودہ حکومت اور سندھ اسمبلی کو بھی مثبت انداز اختیار کرنا ہوگا ورنہ انجام بخیر نہ ہوگا، مشتری نویں گھر میں رہتے ہوئے قانونی طریقے سے کراچی اور سندھ کو لوٹنے والوں پر گرفت کرنے میں معاون ثابت ہوگا، سیارہ زحل زائچے کے بارھویں گھر کا حاکم اور فعلی منحوس سیارہ ہے،گزشتہ سال اکتوبر کے بعد سے دسویں گھر میں حرکت کر رہا ہے،اب حکومت میں صاف ستھرے کردار کے حامل افراد ہی رہ سکیں گے،یہی زحل کی موجودہ پوزیشن کا ثمرہ ہوگا (واللہ اعلم بالصواب)
تازہ ہوا کی چاپ سے تیرہ بنوں میں لو اٹھی
روحِ تغیرِ جہاں آگ سے فال لے گئی
نومبر کے ستارے
سیارہ شمس برج عقرب میں حرکت کر رہا ہے، 22 نومبر کو برج قوس میں داخل ہوگا، آسمانی قونصل کا وزیراطلاعات سیارہ عطارد برج قوس میں ہے،17 نومبر کو اسے رجعت ہوگی،یکم دسمبر کو واپس برج عقرب میں آجائے گا، توازن اور ہم آہنگی کا ستارہ زہرہ برج عقرب میں بحالت رجعت حرکت کر رہا ہے،16 نومبر کو مستقیم ہوکر اپنی سیدھی چال پر آجائے گا، سیارہ مشتری برج عقرب میں ہے اور 8 نومبر کو اپنے ذاتی برج قوس میں داخل ہوگا، سیارہ زحل برج جدی میں اور یورینس برج ثور میں حرکت کر رہا ہے، 6 نومبر کو بحالت رجعت یورینس برج حمل میں آجائے گا اور پورا مہینہ یہیں رہے گا، سیارہ نیپچون برج حوت میں بحالت رجعت حرکت کر رہا ہے، 25 نومبر کو مستقیم ہوگا، پلوٹو برج جدی میں اور راس و ذنب بالترتیب برج اسد اور دلو میں حرکت کر رہے ہیں، اس ماہ راس 6 نومبر کو برج سرطان میں داخل ہوگا اور ذنب اسی تاریخ کو برج جدی میں، یہ رفتار سیارگان یونانی علم نجوم کے مطابق ہیں۔
نظرات و اثراتِ سیارگان
سیارگان کی اکثریت کا اجتماع میزان ، عقرب اور قوس میں ہے لہٰذا نومبر میں باہمی قرانات زیادہ ہیں اور دیگر نظرات کم ہیں، اس ماہ سیارگان کے درمیان چار قرانات، تثلیث کے دو زاویے،تربیع کی ایک نظر قائم ہوگی جب کہ تسدیس کے تین زاویے بنیں گے،اس اعتبار سے نومبر کا مہینہ تعمیری رجحانات رکھتا ہے، نئے خیال ، نئے آئیڈیے، نئے منصوبے اور مستقبل کی منصوبہ بندی اس ماہ نمایاں ہوسکتی ہے،آئیے ترتیب وار اس ماہ قائم ہونے والے زاویوں پر نظر ڈالتے ہیں۔
6 نومبر: شمس اور نیپچون کے درمیان تثلیث کا زاویہ تخلیقی صلاحیتوں کو نمایاں کرتا ہے،حکمران اہم اقدام اور فیصلے کرتے ہیں، عام افراد کو اس دوران میں گورنمنٹ کے ذریعے فوائد حاصل ہوتے ہیں، تخلیقی اور فنکارانہ نوعیت کی سرگرمیاں عمدہ نتائج دیتی ہیں۔
9 نومبر: زہرہ اور مریخ کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ عورت اور مرد کے درمیان ہم آہنگی اور توازن کا باعث ہوتا ہے،باہمی طور پر کشش محسوس ہوتی ہے، دلوں میں نئے پھول کھلتے ہیں، اس وقت میں نئے تعلقات ، منگنی یا شادی باہمی محبت اور یگانگت کے لیے کوشش کرنا چاہیے، ماہرین جفر اس وقت کو محبت و تسخیر کے اعمال کے لیے زود اثر سمجھتے ہیں۔
11 نومبر: شمس و پلوٹو کے درمیان تسدیس کا زاویہ عام لوگوں کو متاثر نہیں کرتا، البتہ ملکوں اور قوموں کے درمیان باہمی تعلقات کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
15 نومبر: مریخ اور یورینس کے درمیان تسدیس کا سعد زاویہ نئی اختراعات اور ایجادات کے لیے مددگار ہے،خاص طور پر ٹیکنیکل سائڈ پر کارکردگی بہتر ہوتی ہے،مشینری اور الیکٹرونکس سے متعلق کاروبار سے فائدہ ہوتا ہے،نت نئی پروڈکٹس سامنے آتی ہیں۔
20 نومبر: مریخ اور مشتری کے درمیان تربیع کی نظر نحس اثر رکھتی ہے،مالی امور میں تناؤ پیدا ہوتا ہے، وعدے پورے کرنا مشکل ہوجاتا ہے،اخراجات بڑھ جاتے ہیں، قرض کے معاملات میں دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے،اس وقت نئی سرمایہ کاری سے گریز کرنا چاہیے،قانونی معاملات میں بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے،عدالتی فیصلہ خلاف آسکتا ہے۔
26 نومبر: شمس اور مشتری کا قران ایک ناموافق زاویہ ہے،سیارہ مشتری جب شمس کے قریب ہوتا ہے تو غروب ہوجاتا ہے،اپنی طاقت کھو بیٹھتا ہے،یہ وقت بھی مالی معاملات اور قانونی امور میں محتاط رہنے کا ہے،کوئی نئی انویسٹمنٹ نہ کریں، قسمت پر زیادہ بھروسا نہ کریں، اپنی کوششوں اور صلاحیتوں پر انحصار کریں،یہ وقت بینکنگ سیکٹر میں مندی کا رجحان لاتا ہے،یہی صورت حال اسٹاک ایکسچینج کی ہوتی ہے۔
27 نومبر: شمس اور عطارد کا قران نحس اثر رکھتا ہے،سفر میں رکاوٹ یا کوئی پریشانی آسکتی ہے،لوگوں سے رابطے میں دشواری کا سامنا ہوسکتا ہے،تحریری اور تقریری کاموں میں غلطیوں کا امکان رہتا ہے،اہم دستاویزات پر دستخط کرنے سے پہلے اچھی طرح غوروفکر ضرور کرلیں،تعلیمی سرگرمیاں بھی اس عرصے میں متاثر ہوتی ہیں، یہ زاویہ پانچ روز قبل اور پانچ روز بعد تک اپنے اثرات دیتا ہے۔
28 نومبر: مریخ اور زحل کے درمیان تسدیس کی نظر سعد ہے،تعمیری نوعیت کی سرگرمیاں سامنے آتی ہیں، کاموں کو آگے بڑھانا ممکن ہوتا ہے،زمین اور مشینری سے متعلق کاموں سے فائدہ ہوتا ہے،مزدور پیشہ افراد کی آمدنی میں اضافے کے لیے اچھا وقت ہے۔
اسی تاریخ کو عطارد اور مشتری کے درمیان قران کا زاویہ ہوگا، اگرچہ یہ ایک سعد نظر ہے لیکن دونوں سیارگان کی ذاتی پوزیشن بہتر نہیں ہے پھر بھی تحریروتقریر اور علمی نوعیت کے کاموں میں مدد ملے گی، قانونی مسائل جو بہت پیچیدہ ہوں انھیں حل کرنے میں آسانی ہوگی، ضروری معلومات حاصل ہوسکیں گے۔
قمر در عقرب
قمر اپنے درجہ ء ہبوط پر اس ماہ پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 6 نومبر کو 09:33pm سے 11:19 pm تک رہے گا، یہ انتہائی نحوست کا وقت ہے،جی ایم ٹی ٹائم کے مطابق 04:33 pm سے 06:19 pm تک درجہ ء ہبوط پر ہوگا۔
عام طور پر قمر در عقرب کے وقت میں بندش اور بری عادتوں سے نجات کے لیے عملیات دیے جاتے ہیں، اس بار ایک موذی اور پریشان کن بیماری مرگی سے نجات کے لیے ایک عمل دیا جارہا ہے،وقت سے پہلے تانبے کی ایک چھوٹی تختی اچھی طرح صاف اور پاک کرکے اپنے پاس رکھیں اور مقررہ وقت پر مندرجہ ذیل حروف نورانی اور آیت اس پر لکھ لیں، اس کام کے لیے چھوٹی انگریور مشین استعمال کی جاسکتی ہے۔
اآم اآمر اآرٰ طہٰ طٓس طٓسم کٓھٰیٰعٓصٓ
حمعٓسقٓ یٰسٓ والقرآن الحکیم
نٓ والْقلمِ وَما یَسْطُروْنَ
جب یہ تختی تیار ہوجائے تو عرق گلاب خالص اور شہد منگوالیں، ایک کپ عرق گلاب میں ایک چمچہ شہد ملاکر یہ تختی اس میں ڈال دیا کریں اور چند منٹ کے بعد عرق گلاب مریض کو پلادیں، دن میں تین مرتبہ یہ عمل کریں، دورے کی شدت کو کم کرنے کے لیے مندرجہ بالا حروف مقطعات اور آیت تین بار پڑھ کر دم کیا کریں۔
عرق النساء 
عرق النساء جسے لنگڑی کا درد بھی کہتے ہیں اور میڈیکل کی زبان میں شیاٹیکا کہلاتا ہے،عام طور سے یہ درد کولہے کی ہڈی سے شروع ہوکر نیچے گھٹنے تک یا پاؤں تک جاتا ہے،یہ درد دائیں سائیڈ بھی ہوسکتا ہے اور بائیں سائیڈ بھی، اس سے نجات کے لیے بندش کا ایک عمل دیا جارہا ہے۔
عین قمر در عقرب کے وقت جو اوپر دیا گیا ہے، سیسے (سکّہ) کی چھوٹی سی پلیٹ پر جو نرم ہوتی ہے، مندرجہ ذیل الفاظ لکھ لیں اور مریض کی اس ٹانگ میں جو مرض سے متاثر ہے، گھٹنے سے اوپر باندھیں، اگر سیسے کی تختی نہ ملے تو کسی صاف کاغذ پر کالی یا نیلی روشنائی سے لکھ لیں، نقش کو تہ کرکے موم جامہ کرلیں یا پلاسٹک کوٹڈ کرالیں اور پھر کسی کپڑے میں لپیٹ کر سلائی کرلیں تاکہ باندھنے میں آسانی ہو۔
ا ح د ر س ص ط ع ک ل م و ہ لادیا یا غفور یا غفور بستم درد شدید فلاں بن فلاں ابداً بحق یا قابض یا جبارُ العجل العجل العجل الساعۃ الساعۃ الساعۃ یا حراکیلُ۔
شرف قمر
قمر اس ماہ اپنے درجہ ء شرف پر پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 21 نومبر کو 08:18 am سے 10:05 am تک رہے گا، جی ایم ٹی ٹائم کے مطابق اس وقت کا آغاز 03:18 am سے ہوگا اور اختتام 05:05 am پر ہوگا، دیگر ممالک کے لوگ جی ایم ٹی ٹائم سے اپنے ملک کے فرق کو نفی یا جمع کرکے اصل وقت معلوم کرسکتے ہیں۔
قمر جب شرف یافتہ ہوتا ہے تو سعد اثر دیتا ہے،اس وقت سے متعلق مشہور طریقے ہم اکثر دیتے رہتے ہیں،اس بار جو طریقہ دیا جارہا ہے وہ تقریباً ہر مشکل کو آسان کرنے کے لیے مجرب ہے،خاص طور سے جب کسی سے کوئی اہم کام درپیش ہو اور وہ شخص نہایت مغرور یا آپ کا مخالف ہو ، یہ ڈر ہو کہ وہ کام کو بگاڑ دے گا تو اس عمل کو شرائط کے مطابق انجام دیں، اسی طرح یہ عمل جائز حدود میں پسند کی شادی کے لیے بھی مجرب ہے،خیال رہے کہ جائز حدود سے مراد یہ ہے کہ آپ اس رشتے کے اہل ہیں، لڑکی یا لڑکا راضی نہیں ہے یا دونوں راضی ہیں اور کوئی تیسرا درمیان میں خرابی پیدا کر رہا ہے تو اس عمل کو ضرور کریں، ان شاء اللہ کامیابی حاصل ہوگی۔
شرف قمر کا جو وقت دیا گیا ہے ، اس سے ایک گھنٹہ پہلے ہی عمل شروع کرسکتے ہیں اور جب تک عمل ختم نہ ہوجائے، جاری رکھیں،غسل کرنے کے بعد سفید لباس زیب تن کریں اور قبلہ رُخ بیٹھ جائیں، کوئی اچھی خوشبواستعمال کریں، گیارہ بار درود شریف پڑھیں اور پھر مندرجہ ذیل اسم 1200 مرتبہ پڑھیں، آخر میں پھر گیارہ بار درود شریف پڑھیں اور اپنے جائز مقصد کے لیے دعا کریں،سفید رنگ کی مٹھائی پاس رکھیں ، اس پر فاتحہ دیں اور بعد میں خود بھی کھائیں اور دیگر لوگوں میں تقسیم کریں۔
یا رحمٰنُ کُلِّ شَیُ وَ وَارِثَہُ وَرَاحمَہُ یَا رحمٰنُ
اس کام کے بعد روزانہ ہر نماز کے بعد یہ اسما 111 مرتبہ پڑھنا اپنا معمول بنالیں، اس وقت تک جب تک مقصد حاصل نہ ہوجائے۔

ہفتہ، 20 اکتوبر، 2018

حالات کی سختیاں اور پراسرار ہاتھ

اپنے حالات و مسائل کا حقیقت پسندانہ تجزیہ بہت کم لوگ کرتے ہیں
ایک بہت ہی دکھی بہن کا خط ملاحظہ کیجیے، ہمیں یقین ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسے بہنوں کی کوئی کمی نہیں جو حالات کی چکی میں مستقل پس رہی ہیں لیکن درست رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے حالات کے بھنور سے نکلنا مشکل ہوتا ہے۔
کراچی سے آر، پی لکھتی ہیں ’’تقریباً تیرہ سال قبل میری شادی ہوئی، یہ ارینج میرج تھی، شادی ہوتے ہی کاروبار ٹھپ ہوگیا، شوہر کی دکان میں کام نہ ہونے کی وجہ سے بند ہوگئی، دوسری طرف سسرال والوں نے مسائل اس قدر پیدا کردیے جس کی کوئی حد نہیں، اوپر سے یہ کہنے لگے کہ جب سے یہ منحوس آئی ہے، ہمارا بیٹا تباہ ہوگیا ہے، میرے شوہر میرے ساتھ اچھے ہیں مگر نہ جم کر کماتے ہیں اور نہ کوئی بات مانتے ہیں اور نہ ہی کسی بات کو راز رکھتے ہیں، دوسرے کی بات جلد مان لیتے ہیں، یہ سلسلہ ہنوز چل رہا ہے، اتنا کام مل جاتا ہے کہ روٹی پانی چل جائے مگر تنگ دستی کے ساتھ، مجھے اللہ نے صبروشکر سے نوازا ہے لہٰذا صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتی مگر بچوں کا چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے ترسنا نہیں دیکھا جاتا، آپ کے کالم پڑھنے سے اتنا شعور ملا ہے کہ اس کی روشنی میں اپنے حالات پر غور کیا تو کافی باتیں معلوم ہوئیں ہیں اور دوسرے لوگوں سے بھی پتا چلا ہے کہ جادو اور بندش وغیرہ کی کیا اہمیت ہے، میں جب شادی کے بعد اپنے سسرال آئی تو تقریباً ایک مہینے کے بعد کمرے کی سیٹنگ تبدیل کی تو میرے بیڈ کے نیچے سے چھوٹی ثابت مرچیں نکلیں، تعداد یاد نہیں، اس کے بعد حالات اتنے بگڑے کہ بس اللہ کے کرم سے گھر بچ گیا مگر بیچ کے لوگوں نے تفرقہ اس قدر ڈال دیا کہ اس کے اثرات اب تک ہیں، سب سے بڑا روزگار کا مستقل نہ ہونا ایک بڑا مسئلہ ہے، کام ایک ہفتہ مل جاتا ہے پھر کئی ہفتے تک نہیں ملتا، کسی نے بتایا تھا کہ کسی عورت نے روزگار باندھ دیا ہے، شوہر کے خاندان میں دو تین گھر ایسے ہیں جہاں یہ کام ہوتے ہیں ، میرے شوہر کی ان سے بنتی بھی نہیں ہے۔
رمضان سے ایک ہفتے قبل کی بات ہے کہ کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی جیسے نماز میں بیٹھتے ہیں اور کپڑے تہ کر رہی تھی، وقت تقریباً عصر سے کچھ پہلے کا تھا تو یوں لگا جیسے کوئی کمرے کے ساتھ والی گیلری میں کودا ہے، میں نے حیرت سے پیچھے دیکھا کیوں کہ ہمارا فلیٹ پانچویں منزل پر ہے پھر کوئی چلتا ہوا آیا اور میرے پیچھے سے سیدھے ہاتھ کے اوپر سے، سینے سے ہوتے ہوئے الٹے ہاتھ کے کاندھے کو دبوچ لیا، واضح طور پر بھاری مردانہ ہاتھ محسوس ہوا، پہلے تو میرا دل بیٹھ گیا پھر میں نے آیت الکرسی پڑھنی شروع کردی تو وہ ہاتھ آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنے لگا اور پھر چلتے ہوئے واپس چلا گیا، یہ میں باہوش و حواس لکھ رہی ہوں، نہ میں وہمی ہوں نہ تو ہم پرست مگر بچپن سے اس طرح کے حالات پیش آتے رہے ہیں کہ ان چیزوں کو ماننے پر مجبور ہوگئی ہوں، میری والدہ پر بھی گندہ علم کرایا گیا تھا اور وہ پاگل ہوگئی تھیں، اسی میں ان کا انتقال ہوا۔
محترم بھائی صاحب! شادی کے بعد تیرہ سالوں میں ہم نے آٹھ مکان کرائے کے بدلے اور اب نواں گھر ہمارا اپنا ہے، جو شوہر کے بڑے بھائی نے دلایا ہے، اب سارا زیور بیچ کر سوزوکی خریدی مگر وہ آئے دن خراب رہتی ہے، آج کل سوزوکی بیچ کر کوئی کھانے پینے کا کاروبار کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔
آپ کا کالم پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اپنا سگا بھائی مخاطب ہے، کالم میں یہ بات پڑھی تھی کہ اگر نحس اثرات سیارے کے ہوں تو ساڑھ ستی ہوتی ہے جو ساڑھے سات سال تک رہتی ہے مگر میری شادی کو تو تیرہ سال ہوگئے ہیں، اب تک یہ اثرات کیوں ہیں؟ آپ سے میری درخواست ہے کہ میرا زائچہ بناکر یہ بتادیں کہ میری زندگی میں سکون اور پیسہ ہے کہ نہیں، میں خود سلائی وغیرہ کرکے گزارا کرتی ہوں مگر کبھی کام ملتا ہے اور کبھی نہیں، کسی نے ہمارا روزگار باندھ تو نہیں دیا؟
جس وقت ہاتھ والا واقعہ ہوا تو میں کسی کتاب میں سے دیکھ کر ایک وظیفہ پڑھ رہی تھی، روز عشاء کے بعد اور مجھے وظیفہ پڑھتے ہوئے تقریباً ایک ماہ ہوگیا تھا، آج کل سب بند کردیا ہے صرف نماز اور قرآن پڑھتی ہوں، نام کے اعداد میں نے سب گھر والوں کے نکالے ہیں، ان پر نظر ثانی کرلیجیے گا، بیٹی بارہ سال کی ہوگئی ہے، کانوں سے پانچ فیصد سنتی ہے لیکن دماغی طور پر بہت ذہین ہے، کیا کوئی نقش اس کی بیماری دور کرسکتا ہے؟ ڈاکٹری رپورٹ کے مطابق وہ لہریں جو آواز کو قبول کرتی ہیں، کمزور ہیں، یہ بھی بتائیں کہ جنوب مشرق کا اتصال کیا ہوتا ہے؟ ہم جیسے کم عقل نہیں سمجھ سکتے، میں نے امی کے علاج کے سلسلے میں جو کچھ کیا(اس کی تفصیل خط میں موجود ہے) کیا اس کے کچھ اثرات تو مجھ پر نہیں ہیں؟ شوہر کے لیے کون سا کام بہتر رہے گا، میرا اصل نام تو وہی ہے جو خط میں لکھا ہے مگر پکارتے دوسرے نام سے ہیں، اس سے تو کوئی فرق نہیں پڑتا؟ میرا اسم اعظم بھی چیک کرلیں، درست ہے یا نہیں، میری تاریخ پیدائش کا نمبر 9 ہے، کیا نو کی انگوٹھی مناسب رہے گی؟‘‘
عزیز بہن! آپ کے طویل خط کا جواب ہم تفصیل سے دینے کی کوشش کر رہے ہیں کیوں کہ آپ کے مسائل ہمیں معلوم ہیں کہ یہ اکثر گھروں کے مسائل ہیں، سب سے پہلے تو ایک بات یہ سمجھ لیں کہ جس مکان کی بنیاد ہی غلط اصولوں پر رکھ دی جائے اس کی کوئی دیوار سیدھی نہیں رہتی، شادی کے فوراً بعد ہی جب یہ تصور کرلیا گیا کہ آپ منحوس ہیں تو بس ابتدا ہی غلط ہوگئی، شادی سے پہلے آپ کے شوہر کون سا عظیم کارنامہ انجام دے چکے تھے جو شادی کے بعد نہ دے سکے، اپنی رہائش کے لیے ایک مکان بھی علیحدہ نہیں بناسکے، دکان سے جو آمدن ہوتی تھی وہ بس اتنی کہ گزارہ ہوجائے، اس آمدن سے کچھ بس انداز کیا ہوتا، کچھ کاروبار کو مزید بڑھایا ہوتا تو شادی کے بعد یہ دن نہ دیکھنے پڑتے، کاروبار میں بھی اتار چڑھاؤ سب کے ساتھ آتے ہیں ، جن دنوں آپ کی شادی ہوئی ، خود آپ کے شوہر زحل کی نحوست کا شکار چل رہے تھے یعنی سیارہ زحل ان کے زائچہ پیدائش کے بارھویں گھر میں موجود تھا، ان کا شمسی برج بھی دلو ہے اور قمری برج بھی دلو، ان کی پیدائش کے وقت چاند کی آخری تاریخیں 29 یا 30 ہوں گی، زحل کی ساڑھ ستی کے تین دور ہوتے ہیں، ہر دور ڈھائی سال کا ہوتا ہے، پہلے دور میں انسان کو اس کی سختی زیادہ محسوس نہیں ہوتی کیوں کہ وہ اپنے ماضی کی کامیابیوں کے نشے میں بدمست ہوتا ہے اور غلط اقدام کرتا ہے، غلط صحبتیں اختیار کرتا ہے، اپنے حقیقی ہمدردوں کو نہیں مانتا، غیروں کی باتوں میں جلد آجاتا ہے،اپنا ذاتی گھر ہو تو اسے فروخت کرنے کی سوچتا ہے، کاروبار یا ملازمت تبدیل کرتا ہے، مختلف بہانے بناکر اپنے سیٹ اپ کو خراب کرتا ہے، دوسرے ڈھائی سالہ دور میں اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ کس مقام پر پہنچ چکا ہے لیکن اس وقت بھی وہ حقیقت پسندی اختیار نہیں کرتا، اپنی سستی، کاہلی، عاقبت نا اندیشی کے غلط رویے اور غلط اقدامات پر غور نہیں کرتا بلکہ اپنی ناکامیوں کے بارے یں دوسروں کو موردالزام ٹھہراتا ہے، خود شدید مایوسی اور ڈپریشن کا شکار ہوکر محنت سے جی چراتا ہے اور فضول مشغلوں میں وقت برباد کرتا ہے، تیسرا اور آخری دور شدید نوعیت کی مالی تنگی لاتا ہے، اگر بے روزگار ہو تو دوبارہ روزگار ملنا مشکل ترین ہوجاتا ہے، برسرروزگار ہو تو آمدن محدود ہوکر رہ جاتی ہے، بے انتہا محنت کرنے کے باوجود کچھ حاصل نہیں ہوتا، قرض بڑھتا ہے، لوگ مدد نہیں کرتے وغیرہ وغیرہ، ان ساڑھے سات سالوں میں اگر معقول رہنمائی نہ ملے تو انسان بہت ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے اور بعد میں بھی اسے سنبھلنے میں اکثر اوقات برسوں لگ جاتے ہیں، کچھ لوگ جو عقل مندی اور سمجھ بوجھ سے کام نہ لیں، حقیقت پسندی اختیار نہ کریں بلکہ کسی منفی راستے پر بھی چل پڑیں تو پھر وہ کبھی نہیں سنبھلتے، زندگی برباد ہوکر رہ جاتی ہے، اپنے شوہر کو حوصلہ دلائیں کہ وہ مستقل مزاجی سے جم کر کام کریں، خراب وقت گزر گیا ہے مگر گزشتہ خراب وقت کی دھول آہستہ آہستہ ہی صاف ہوگی اور اس کے لیے سخت محنت اور جدوجہد کرنا ہوگی، ہمارا مشورہ تو یہی ہے کہ وہ بنیادی طور پر برسوں سے جو کام کر رہے ہیں وہی کام کریں، ایسے کسی کام میں ہاتھ نہ ڈالیں جس کا انھیں پہلے سے تجربہ نہ ہو، وہ نہایت ذہین اور سیلز مین شپ کی عمدہ صلاحیت رکھتے ہیں، برج دلو والوں کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ یہ لوگ سائبیریا میں فریج فروخت کرسکتے ہیں لہٰذا یہ کاروبار خواہ کوئی بھی کریں، مستقل مزاجی شرط ہے، یہ ضرور کامیاب ہوں گے۔
اب آئیے اپنے زائچے کی طرف، آپ کا شمسی برج حوت اور قمری برج عقرب ہے، آپ غیر معمولی طور پر حساس ہیں، پیراسائیکولوجی کی زبان میں عمدہ معمول (میڈیم) ہیں، آپ نے جو واقعہ لکھا وہ اس کا ثبوت ہے، چوں کہ آپ ان دونوں ایک مخصوص وظیفہ کر رہی تھیں لہٰذا وظیفے سے متعلق منفی و مثبت ماورائی قوتوں کا آپ کی طرف متوجہ ہونا ضروری تھا، یاد رکھیں کہ جب ہم کوئی مخصوص عمل کرتے ہیں اور کوئی مخصوص اسم، آیت، سورت یا الفاظ کی شکل میں منتر وغیرہ تواتر کے ساتھ پڑھتے ہیں تو اس سے وابستہ مؤکلات علوی و سفلی متحرک ہوجاتے ہیں، اب کوئی بھی یہ پسند نہیں کرے گا کہ آپ اسے اپنے زیر تصرف لائیں، آسانی سے آپ کے کام کے لیے تیار نہیں ہوگا، کچھ نہ کچھ مزاحمت کرے گا، اگر آپ زیادہ باقوت ہیں تو آپ کے تابع ہوجائے گا ورنہ آپ پر حاوی ہونے کی کوشش کرے گا، تابع ہونے کی صورت میں آپ کا مطلوبہ کام کردے گا، ورنہ آپ کو پریشان بھی کرسکتا ہے، اکثر وظائف میں یہ مؤکلات کوشش کرتے ہیں کہ عامل کو اس وظیفے یا عمل کی تکمیل سے روک دیں لہٰذا ایسی حرکتیں کرتے ہیں کہ وہ ڈرجائے یا پریشان ہوکر عمل ترک کردے، ایسے ہی موقعوں پر کسی استاد کی رہنمائی اور نگرانی ضروری ہوتی ہے، دوران وظیفہ و عمل میں مخصوص حصار اور دیگر احتیاطیں بھی اسی لیے کی جاتی ہیں، اسی لیے ہم منع کرتے ہیں کہ ہر جگہ سے اندھا دھند وظیفے اور اعمال پڑھ کر ان پر عمل نہ کریں مگر آج کل ہم نے دیکھا ہے کہ خواتین کا یہ محبوب مشغلہ بن چکا ہے، بہر حال جو ہوا سو ہوا چوں کہ آپ کا وہ وظیفہ اتنا زیادہ نقصان دہ نہ تھا لہٰذا زیادہ نقصان نہیں ہوا مگر اسے ادھورا نہیں چھوڑنا چاہیے تھا، بعض اوقات ادھورے عمل عمر بھر پریشان کرتے ہیں، آپ کے لیے صدقہ یہ ہے ، ہفتے کے روز بوڑھے یا معذور افراد کی مدد کیا کریں،اتوار کے روز کسی غریب بال بچے دار کی مدد کریں اور جمعہ کو سفید رنگ کی چیزوں کا صدقہ دیا کریں مثلاً سفید چاول، انڈے، سفید کپڑا وغیرہ، مزید یہ کہ سچا موتی کم از کم 5 کیرٹ وزن میں دائیں ہاتھ کی رنگ فنگر میں کسی نوچندے پیر کو صبح سورج نکلنے کے فوراً بعد پہن لیں ، آپ کے شوہر کو نیلم کا نگینہ پہننا چاہیے تاکہ ان میں مستقل مزاجی آئے۔
دوسری شادی؟
یو ایم‘کراچی سے لکھتی ہیں’’میری شادی 2005 ء میں ناکام ہوئی‘ایک بچی اس دوران میں ہوئی تھی جو میرے ساتھ ہے‘میں یہ معلوم کرنا چاہتی ہوں کہ میری دوسری شادی کب ہوگی؟کس سال ہوگی؟ پاکستان میں ہوگی یا آؤٹ آف کنٹری ہوگی‘ شادی کے بعد کی لائف کیسی ہے ؟ ان صاحب کے نام کا پہلا حرف کیا ہوگا؟‘‘
جواب: چوں کہ آپ کا سارا زور دوسری شادی پر ہے‘پہلی شادی کی ناکامی وغیرہ سے آپ کو کوئی دلچسپی نہیں ہے لہٰذا ہم بھی اس موضوع کو نہیں چھیڑنا چاہتے‘صرف اتنا ضرور بتائیں گے کہ دوسری شادی بھی ناکام ہوسکتی ہے کیوں کہ نکاح یا شادی کا بندھن زائچے کے جس گھر سے تعلق رکھتا ہے وہاں مریخ اور زہرہ کا قران ایک منحوس اثر رکھتا ہے‘زائچے کے چوتھے اور ساتویں گھر کا مالک عطارد زحل کی نحس نظر کا شکار ہے لہٰذا ازدواجی زندگی کی خوشیاں اور گھریلو سکون حاصل ہونا مشکل نظر آتا ہے‘ اگر ضروری فلکیاتی ریمیڈیز پر توجہ نہ دی گئی تو دوسری شادی کا انجام بھی پہلی شادی جیسا ہی ہوگا‘ آپ کو پابندی سے جمعہ کو سفید رنگ کی چیزوں کا اور ہفتے کو بلیک کلر کی چیزوں کا صدقہ دینا چاہیے یا ہفتے کو کسی معذور یا بیمار اور معمر شخص کی مدد کرنی چاہیے‘ مرجان اور فیروزہ کسی اچھے اور مناسب وقت میں پہننا چاہیے۔
ہمارا خیال یہ ہے کہ آپ کا پیدائش کا وقت کنفرم نہیں ہے‘آپ نے جو وقت لکھا ہے ‘ یہ ہمیں دُرست معلوم نہیں ہورہا ‘ بہر حال جہاں تک گزشتہ حالات کی روشنی میں اسے درست کیا جاسکتا تھا وہ ہم نے کیا ہے جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے کہ آپ کے زائچے میں شمس ‘عطارد‘ مریخ اور زہرہ ایک ہی برج میں آٹھویں گھر میں ہیں اور آٹھواں گھر عورت کے زائچے میں نکاح کا بندھن‘ ازدواجی زندگی کی خوشیاں ظاہر کرتا ہے‘ مریخ اور زہرہ کا قران پہلی شادی لو میرج ظاہر کرتا ہے اور اس کی ناکامی کا بھی امکان ہے‘دوسری شادی بھی لو میرج ہی ہوسکتی ہے اور پاکستان ہی میں ہوگی‘کسی غیر ملکی کے خواب نہ دیکھیں تو اچھا ہوگا‘نام کا پہلا حرف بتانے والے لوگوں کو بے وقوف بناتے ہیں اور یہ بات ہم پہلے بھی کئی بار لکھ چکے ہیں‘آپ اتنی ذہین نہیں ہیں جتنی کری ایٹیو ہیں لہٰذا آسانی سے دھوکا کھاسکتی ہیں اور دوسری شادی بھی کسی غلط بندے سے کرسکتی ہیں جس کا نتیجہ پہلے جیسا ہی ہوسکتا ہے‘اس سال 14 جون سے ایسا ٹائم شروع ہوچکا ہے جس میں آپ کا کوئی افیئر اسٹارٹ ہوسکتا ہے جس کا نتیجہ اکتوبر 2020 ء میں شادی کی صورت میں نکل سکتا ہے‘امید ہے آپ کے تمام سوالوں کے جواب مل گئے ہوں گے‘جواب میں اتنی تاخیر کے لیے ہم آپ سے معذرت خواہ ہیں۔