اتوار، 23 ستمبر، 2018

چاروں جانب سناٹا ہے دیوانے یاد آتے ہیں

اکتوبر کی فلکیاتی صورت حال، پل پل رنگ بدلتا مہینہ
کہتے ہیں پاکستان ایک نہایت ہی سخت اور بحرانی دور سے گزر رہا ہے،ہم نے جب سے ہوش سنبھالا یہی سنا، گویا پاکستان کا مشکل وقت ختم ہونے ہی میں نہیں آتا، اب نئی حکومت آچکی ہے اور نئے اقدام یا فیصلے ہورہے ہیں، مشتری اور زہرہ کے ادوار جاری ہیں لہٰذا کسی بھی معاملے میں زیادہ خوش امید ہونے کی ضرورت نہیں ہے، خراب اوقات میں نیک نیتی ، لگن اور محنت سے کوششیں جاری رکھی جائیں تو حالات میں بہتری لائی جاسکتی ہے،پاکستان کے زائچے میں سیارہ زہرہ ایسی پوزیشن میں ہے کہ آئندہ تین ماہ تک سول و ملٹری سروسز کی اصلاح و درستی کے موقع فراہم کرے گا لیکن اکتوبر کے آخر میں بیوروکریسی میں پایا جانے والا اضطراب کوئی رنگ دکھا سکتا ہے،حکومت کو چاہیے کہ اہم عہدوں پر مشکوک افراد کو نہ رکھیں، خصوصاً جن کا ماضی کسی اعتبار سے بھی متنازع ہو۔
سیارہ مریخ طویل عرصہ برج جدی میں گزار کر نومبر کے آغاز میں دسویں گھر میں داخل ہوگا، یہ وقت سربراہ مملکت اور کابینہ کے لیے نئی مشکلات لاسکتا ہے،اگر کسی غفلت کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو ان مشکلات پر قابو پانا زیادہ مشکل نہیں ہوگا، اسی طرح اکتوبر کے مہینے میں سیارہ مشتری بھی چھٹے گھر سے ساتویں گھر میں داخل ہوگا، اس وقت بیرون ملک تجارت کے معاملات متاثر ہوسکتے ہیں، مزید یہ کہ پارلیمنٹ میں تناؤ اور فتنہ فساد کی صورت پیدا ہوسکتی ہے،ہم نے وزیراعظم کے زائچہ ء حلف کے حوالے سے بھی اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ آئندہ سال مئی تک انھیں خاصے مشکل وقت سے گزرنا پڑے گا، خاص طور پر اکتوبر کا مہینہ بھی اس حوالے سے اہم ہے۔
ن لیگ کے قائد جناب نواز شریف ضمانت پر رہا ہوکر اپنے گھر واپس آگئے ہیں، یہ تمام لیگی کارکنوں اور قیادت کے لیے نہایت خوش کن بات ہے لیکن ان کے مقدمے بدستور جاری ہیں، موجودہ رعایت کا سبب دوسرے گھر میں سیارہ زہرہ اور مشتری کی سعد پوزیشن ہے، مشتری اکتوبر میں گھر تبدیل کرے گا، یہ بھی ان کے لیے مشتری کی سعد پوزیشن ہوگی جس کی وجہ سے انھیں مزید سپورٹ ملے گی، البتہ نومبر میں جب سیارہ مریخ چھٹے گھر میں داخل ہوگا تو دوبارہ قیدوبند کا اندیشہ موجود ہے،فی الحال راوی چین ہی چین لکھتا ہے لیکن نومبر دسمبر اور نئے سال کے ابتدائی مہینے ان کے لیے بہتر نہ ہوں گے،انھیں چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ صدقہ و خیرات پر توجہ دیں اور کثرت سے استغفار پڑھا کریں، یہ خبر بھی سوشل میڈیا میں اور کمرشل میڈیا میں پھیل رہی ہے کہ ان کی رہائی کسی این آر او کی بدولت ہوئی ہے، ہمیں اس خبر کی صداقت مشکوک لگتی ہے۔
عزیزان من! جیسا کہ ہم بہت عرصے سے کہتے آرہے ہیں کہ دنیا بدل رہی ہے، پاکستان بھی بدل رہا ہے،اگر کچھ لوگ اس حقیقت کو نظرانداز کر رہے ہیں تو وہ غلطی پر ہیں، ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ کیا ہوا اور کیسے ہوا؟ بہر حال جو کچھ بھی ہوا وہ اب ایک حقیقت ہے اور اسے کھلے دل سے قبول کرلینا چاہیے،اسی میں پاکستان کی اور قوم کی بھلائی ہے، وزیراعظم عمران خان اور ان کی پارٹی تحریک انصاف اگر ملک و قوم سے مخلص نہ ہوگی اور اپنے دورِ اقتدار میں وہی کرے گی جو ماضی میں ہوتا رہا تو اسے بھی نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
وزیراعظم کے زائچہ ء حلف پر روشنی ڈالتے ہوئے ہم نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ آئندہ سال مئی کے بعد وہ زیادہ جارحانہ انداز میں نظر آئیں گے،یہ بھی مناسب نہیں ہوگا، اپنے پیدائشی زائچے کے مطابق برج میزان کے زیر اثر اگر وہ مصلحت اور مصالحت پسند ہیں تو اپنے قمری برج کے مطابق ان کے اندر ایک جنگ جو بچہ چھپا ہوا ہے جو ہر چیلنج کو فوری قبول کرکے کارروائی کا آغاز کردیتا ہے،سیارہ مریخ ان کے زائچے کے تیسرے گھر میں انھیں ایک ڈائنامک سوچ اور شخصیت کا مالک بناتا ہے،چوں کہ پیدائش قمری منزل اشونی میں ہوئی ہے جس کا حاکم غضب ناک کیتو ہے لہٰذا انھیں غصہ جلدی آتا ہے اور جب آتا ہے تو فوری طور پر ٹھنڈا نہیں ہوتا، یہ اور بات ہے کہ اب وہ عمر کی اس منزل میں ہیں جب انسان تحمل و برداشت کا عادی ہوجاتا ہے۔
پیدائشی زائچے کے اثرات کی روشنی میں ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ وہ جس ٹارگٹ کے پیچھے لگ جائیں اسے حاصل کیے بغیر چین سے نہیں بیٹھتے، فی الحال ان کا اہم ترین ٹارگٹ کرپشن کا خاتمہ ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ وہ یہ کام کرسکتے ہیں، چاہے اس راستے میں انھیں اپنی حکومت کی قربانی ہی کیوں نہ دینا پڑے،اسی طرح ملک میں پانی کے مسائل کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے وہ ڈیم بنانے کے لیے بھی پرامید ہیں، بہت سے لوگ جو ڈیم کی مخالفت کر رہے ہیں اور اسے ایک خام خیالی کہہ رہے ہیں بہت ممکن ہے آئندہ دو تین سال بعد وہ اپنی رائے تبدیل کرلیں، بہر حال اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو، ہم نے بہت برا وقت دیکھ لیا ، آخر کوئی تو امید کی کرن بن کر سامنے آئے ؂
کوئی تو پرچم لے کر نکلے اپنے گریباں کا جالب
چاروں جانب سناٹا ہے دیوانے یاد آتے ہیں
اکتوبر کے ستارے
اقتدار کا ستارہ شمس اپنے برج ہبوط میزان میں ہے، 23 اکتوبر برج عقرب میں داخل ہوگا، سیارہ عطارد کی برج میزان میں حرکت کر رہا ہے،10اکتوبر برج عقرب میں داخل ہوگا، یہاں اسے اوج کی قوت حاصل ہوتی ہے،سیارہ زہرہ برج عقرب میں ہے، 6 اکتوبر کو اسے رجعت ہوجائے گی، سیارہ مریخ اپنی سیدھی چال پر برج دلو میں حرکت کر رہا ہے اور پورا مہینہ اسی برج میں رہے گا، سیارہ مشتری بھی برج عقرب میں ہے اور زحل جدی میں ، یورینس برج ثور میں جب کہ نیپچون حوت میں اور پلوٹو جدی میں حرکت کر رہا ہے،یکم اکتوبر کو اپنی سیدھی چال پر آجائے گا، راس و ذنب بالترتیب برج اسد اور دلو میں ہیں، سیارگان کی یہ پوزیشن یونانی ایسٹرولوجی کے مطابق ہیں۔
اکتوبر کے مہینے میں سیارگان کے درمیان بننے والے زاویے کم ہیں، ایک قران، ایک تثلیث، چار تسدیس اور تین تربیع کے زاویے تشکیل پائیں گے،ان کی تفصیل درج ذیل ہے۔
10 اکتوبر: عطارد اور یورینس کے درمیان تربیع کا زاویہ نحس اثر رکھتا ہے،چونکا دینے والی خبریں اور غیر متوقع صورت حال اس زاویے کا نتیجہ ہوتی ہے،یہ وقت کسی تبدیلی کے لیے مناسب نہیں ہوتا، کاموں میں کسی اپ سیٹ کی نشان دہی ہوتی ہے،اس وقت بہتر ہوگا کہ متبادل طریق کار کو بھی مدنظر رکھا جائے،تحریری یا تقریری معاملات میں بھی محتاط روی اختیار کی جائے، اہم دستاویزات پر اچھی طرح غوروفکر کے بعد دستخط کریں۔
12 اکتوبر: شمس اور پلوٹو کے درمیان تربیع کا نحس زاویہ قائم ہوگا، یہ وقت پاور پلے لاتا ہے،صاحب قوت و اقتدار افراد من مانی کرتے ہیں، عام افراد کو اس دوران میں اپنے باس یا اعلیٰ افسران سے دور رہنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اسی تاریخ کو عطارد اور زحل کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ قائم ہوگا، یہ وقت کاموں میں بہتری لاتا ہے،ترقیاتی امور پر توجہ دیں، آپ کی کارکردگی پہلے سے بہتر ہوگی، تحریروتقریر کے لیے اچھا وقت ہے،بزرگ اور سینئر افراد سے مشورہ کرنا فائدے مند ہوگا۔
16 اکتوبر: عطارد اور زہرہ کے درمیان قران کا سعد زاویہ ہوگا، یہ وقت تمام ہی کاموں کے لیے مبارک ہوتا ہے،خصوصاً رشتے کی بات چیت ، نکاح وغیرہ اور لوگوں سے بہتر تعلقات قائم کرنے کے لیے اس وقت کوشش کرنا اچھا ہوگا، کاروبار یا جاب کے سلسلے میں کوئی نئی پیش رفت بھی کی جاسکتی ہے۔
19 اکتوبر: عطارد اور نیپچون کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ قائم ہوگا، پیچیدہ نوعیت کے معاملات پر غوروفکر کے لیے مناسب وقت ہے،الجھے ہوئے مسائل کو سلجھایا جاسکتا ہے،تخلیقی نوعیت کی سرگرمیاں عمدہ نتائج دیں گی،میوزک، شاعری، آرٹ کے شعبوں میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ ہوسکتا ہے۔
اسی تاریخ کو عطارد اور مریخ کے درمیان تربیع کا نحس زاویہ بھی ہوگا لہٰذا غصے اور اشتعال پر قابو رکھیں، دوسروں کے بھڑکانے یا طنز وغیرہ کرنے کو نظر انداز کریں، اپنے کام سے کام رکھیں، اس وقت شرپسند اپنا کردار ادا کرتے ہیں،ڈرائیونگ میں محتاط رہیں اور ایسے کاموں میں دور رہیں جن میں حادثات کا امکان ہوتا ہے۔
23 اکتوبر: عطارد اور پلوٹو کے درمیان تسدیس کا زاویہ سعد اثر رکھتا ہے، اہم خبروں کے اصول کے لیے اچھا وقت ہے،اپنی معلومات میں اضافے کے لیے کوشش کریں، تھوڑی سی جرأت اور ہمت کا مظاہرہ کرکے آپ اپنے مطلوبہ ٹارگٹ کو حاصل کرسکتے ہیں۔
24 اکتوبر: شمس اور یورینس کے درمیان مقابلے کا نحس زاویہ صاحب حیثیت و اقتدار افراد کو متاثر کرتا ہے،وہ غلط فیصلے اور اقدام کرسکتے ہیں جن پر بعد میں پچھتانا پڑے، گورنمنٹ سے متعلق کاموں میں غلط اندازے آپ کو مایوس کرسکتے ہیں، بہت کچھ آپ کی توقع کے خلاف سامنے آسکتا ہے۔
26 اکتوبر: شمس اور زہرہ کا قران ایک نحس زاویہ ہے،اس دوران میں شادی بیاہ، محبت و دوستی کے معاملات متاثر ہوتے ہیں،زندگی میں عدم توازن پیدا ہوسکتا ہے،ازدواجی معاملات میں کوئی پریشانی سامنے آسکتی ہے،اس وقت جمعہ کے روز صدقہ دینا بہتر ہوگا، حکومت کے معاملات میں بیوروکریسی میں تبدیلیاں آسکتی ہیں یا نوکر شاہی پر عتاب نازل ہوسکتا ہے۔
28 اکتوبر: شمس اور زحل کے درمیان تسدیس کا سعد زاویہ مثبت اقدامات کے لیے بہتر ہے،اس وقت عام افراد خصوصاً مزدور طبقے کے مفادات کے لیے فیصلے ہوسکتے ہیں، نئی جاب کی تلاش یا انٹرویو وغیرہ کے لیے مناسب وقت ہوگا۔
29 اکتوبر: عطارد و مشتری کا قران ایک سعد زاویہ ہے،کاروباری ترقی کے لیے مواقع نکلتے ہیں، بات چیت کے ذریعے مسائل حل ہوسکتے ہیں، نئے معاہدے اور وعدے اس وقت بہتر رہیں گے، قرض لینے دینے کے لیے بھی سعد وقت ہوگا۔
قمر در عقرب
قمر اپنے درجہ ء ہبوط پر 10 اکتوبر کو پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 12:38 pm سے 02:22 pm تک رہے گا، جب کہ جی ایم ٹی ٹائم کے مطابق رات 02:38 am سے 04:22 am تک ہوگا، یہ وقت انتہائی نحوست کا شمار ہوتا ہے،اس وقت میں علاج معالجے یا بری عادتوں سے نجات اور ظالموں سے نجات کے لیے نقش و وظائف کیے جاتے ہیں۔
عشق بندی بذریعہ الحمد شریف
عموماً لڑکے لڑکیاں ایسے عشق و معاشقے میں مبتلا ہوتے ہیں جو سمجھ دار ماں باپ کے نزدیک نامناسب اور غلط ہوتا ہے، لڑکے لڑکیاں اندھے ہوکر ایک دوسرے کی محبت میں مبتلا ہوتے ہیں اور تعلیم و تربیت سے بے بہرہ ہوکر اپنا قیمتی وقت برباد کرتے ہیں، ایسی صورت حال میں سورۂ فاتحہ کے ذریعے بندش کی جاسکتی ہے لیکن یہ عمل بھی سورج یا چاند گہن میں یا قمر در عقرب میں کرنا چاہیے، عمل مجرب ہے، اس کی عام اجازت ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم، الحمد اللہ بستم رویش رب العالمین بستم مویش و بستم دلش الرحمن بستم لبانش الرحیم بستم گوشش مالک یوم الدین بستم سینہ اش فلاں بن فلاں علی حب فلاں بن فلاں ایاک نعبدو بستم شکمش وایاک نستعین بستم زبانش اھدناالصراط المستقیم بستم دست ھاش صراط الذین بستم پائش انعمت علیھم بستم عقلش غیر المغضوب بستم ھوشش علیھم ولاالضالین آمین از ابلیس شیطان دیواں پریاں من بستم شمانیز بہ بندیدنامن نکشائم شماھم نکشائید بحرمت اھیاً اشراھیاً فلاں بن فلاں علی حب فلاں بن فلاں العجل العجل العجل الیوم الیوم الیوم۔
دونوں میں سے کسی کا پہنا ہوا کپڑا لے کر کالی روشنائی سے لکھیں اور سرہانے تکیے میں رکھ دیں یا مسہری وغیرہ میں سرہانے کی طرف پوشیدہ کردیں، پہلی مرتبہ فلاں بن فلاں کی جگہ لڑکے کا نام پہلے لکھیں اور لڑکی کا بعد میں، دوسری مرتبہ لڑکی کا نام پہلے اور لڑکے کا نام بعد میں لکھیں ۔
شرف قمر
قمر اپنے شرف کے برج ثور میں پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 24 اکتوبر کو داخل ہوگا اور درجہ ء شرف پر رات 11:09 pm سے 25 اکتوبر رات 12:57 am تک رہے گا جب کہ جی ایم ٹی ٹائم کے مطابق دوپہر 01:09 pm سے 02:57 pm تک ہوگا، یہ سعد و مبارک وقت ہے، اس وقت نیک اعمال کرنے چاہئیں، خاص طور پر اسمائے الٰہی یا رحمن یا رحیم 556 مرتبہ اول آخر گیارہ بار درود شریف کے ساتھ پڑھ کر کسی بھی نیک مقصد کے لیے دعا کریں، ان شاء اللہ کامیابی ہوگی۔
اوج عطارد
شرف کے بعد سیارہ عطارد کو اوج کی طاقت ور پوزیشن حاصل ہوتی ہے، گزشتہ دنوں شرف عطارد کے موقع پر لوح عطارد نورانی اور خاتم عطارد متعارف کرائی تھی، جو لوگ اس وقت فائدہ نہیں اٹھاسکے، اوج عطارد کے وقت یہ لوح یا خاتم تیار کرسکتے ہیں۔
پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق اوج عطارد کا وقت 12 اکتوبر کو 08:02 pm سے شروع ہوگا اور 13 اکتوبر 11:50 am تک رہے گا، اس عرصے میں عطارد کی ساعتیں کارآمد ہوں گی،باقی لوح یا خاتم بنانے کا طریق کار پہلے دیا جاچکا ہے،ہماری ویب سائٹ پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

اتوار، 16 ستمبر، 2018

روح اور ہمزاد کا فرق، تسخیر ہمزاد کا دھوکا


حادثات کا شکار افراد کا ہمزاد راہ فرار اختیار کرتا ہے
عموماً دیکھا یہ گیا ہے کہ شیاطین ہمزاد جب کسی انسان عورت یا مرد سے رابطے میں آتے ہیں تو وہ اس پر یا دیگر افراد پر کبھی اپنی اصلیت ظاہر نہیں کرتے بلکہ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے ایسی اچھائی کی باتیں بیان کرتے ہیں جن سے ان کا کسی بزرگ یا ولی ہونے کا تاثر پیدا ہو مثلاً اگر ہمزاد کسی مسلمان کا ہے تو وہ قرآنی آیت کی تلاوت اور اسلامی احکام پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کرتا ہوا نظر آئے گا، یہ باتیں سن کر عام لوگ فوراً اس کے سامنے مؤدب ہوجاتے ہیں اور اسے کسی پہنچے ہوئے بزرگ کی روح تسلیم کرنے میں کوئی تامل نہیں کرتے، ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہوتی ہے کہ کوئی شیطان جن یا آسیب یا کوئی بدروح ایسی باتیں کیوں کرے گا ؟
دراصل ہمارے ذہنوں میں یہ تصور بیٹھ گیا ہے یا جعلی پیروں فقیروں نے یہ قصور بٹھا دیا ہے کہ جو بھی اللہ رسول کا نام لے رہا ہے وہ اللہ والا ہے اور جو بری اور غیر شرعی باتیں کر رہا ہو وہ شیطان ہے حالاں کہ ہزاروں واقعات، مشاہدات اس حقیقت کو گواہ ہیں کہ شیطان نت نئے بہروپ بھر کر انسانوں کو گمراہ کرنے پر کمربستہ ہے، عام انسانوں کی بات تو چھوڑیے، بڑے بڑے انبیاء، اولیاء اور صالحین کو ورغلانے اور راہ مستقیم سے بھٹکانے کے لیے شیطان نے کیا کیا جتن کیے اور کیسے کیسے بہروپ نہیں بھرے، ایسے واقعات بے شمار ہیں، یہ الگ بات ہے ، یہ انبیا ، اولیا اور دیگر صاحب ایمان صالحین، شیطان کے ہر ہتھکنڈے کو اپنی قوت ایمانی سے باطل کردیتے ہیں اور اس کے کسی فریب میں نہیں آتے لیکن عام انسان اور خصوصاً وہ انسان جس کے ہاں قوت ایمانی کی کمی پائی جاتی ہے وہ شیطان کے ایک معمولی شعبدے یا بہلاوے کا شکار ہوکر اس پر ایمان لے آتا ہے۔
روح کے بارے میں ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ انھیں حاضر کرنے کا اور ان سے ہم کلام ہونے اور مزید یہ کہ ان سے کام لینے کا شوق انسان میں نیا نہیں،بہت قدیم ہے اور یہ صرف مسلمانوں ہی میں نہیں بلکہ تمام اقوام عالم میں پایا جاتا ہے، مشرق سے مغرب تک حاضراتِ ارواح کے بے شمار طریقے مروج ہیں، مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے اپنے اپنے طور پر ان طریقوں پر عمل پیرا ہوتے ہیں اور روحوں کی حاضری کا تماشا دیکھتے ہیں۔
ایسے واقعات کی کوئی کمی نہیں ہے جن میں حاضرات ارواح کے مشاہدے، روحوں سے گفتگو، روحوں کے ذریعے ماضی ، حال اور مستقبل کی باتیں معلوم کرنا اور اپنے مسائل کے حل میں مدد لینا ثابت ہوتا ہے۔
جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ اس صورت حال کا شکار صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ تمام اقوام عالم ہیں، کچھ لوگ اس شوق کو اپنے فطری تجسس کے تحت اپناتے ہیں تاکہ یہ جان سکیں کہ بعد از موت انسانی روح کا ماجرا کیا ہے اور وہ کس حال میں ہیں اور جس حال میں ہیں اس کا دائرہ اختیار کیا ہے؟ وغیرہ وغیرہ اور کچھ لوگ اس کام کو پیشہ ورانہ طور پر اپنے مالی یا دنیاوی مفادات کے طور پر اختیار کرتے ہیں، ایسے لوگوں کی مشرق و مغرب میں کوئی کمی نہیں ہے۔
دونوں طرف صورت حال یکساں ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ مشرق میں ہمارے مسلمان اس کاروبار کو بھی مذہب کی سرپرستی میں کرنے کی کوشش کرتے ہیں جب کہ مغرب میں صورت حال اس کے برعکس ہے، وہاں یہ کاروبار کرنے والے کچھ دوسرے بہروپ بھرتے ہیں اور ان سے رابطہ کرنے والے بھی انھیں خالص مذہبی نکتہ ء نظر سے نہیں دیکھتے بلکہ انھیں جادوگر یا ماہر روحیات قرار دیتے ہیں۔
مغرب میں روحیات کا موضوع تقریباًا نیسویں صدی عیسوی میں تحقیق کا مرکز بنا اور بڑے بڑے نامور سائنس داں اور اہل علم اس شعبے میں داد تحقیق دینے کے لیے میدان میں آگئے، ایسے لوگوں میں مشہور مصنف سرآرتھر کاٹن ڈائل جو مشہور جاسوسی ناول نگار تھے اور شہرہ آفاق کردار شرلاک ہومز کے خالق بھی تھے، سرفہرست ہیں، ان کے علاوہ امریکا کے پروفیسر ہارنل ہارڈ، سوئیڈن کے آئی بی جورکھم، ڈاکٹر آرایچ تھامس، آسٹریا کے ایچ آئی اربین، سوئٹزرلینڈ کے جین گیزر، اٹلی کے پروفیسر ای سرویدو اور فرانس کے پال دا سے بہت مشہور ہوئے۔
1882 ء میں ایک عالمی سوسائٹی قائم کی گئی جس کا نام ’’دی سوسائٹی فار سائکیکل ریسرچ‘‘ (مجلس تحقیقات مظاہر نفس) رکھا گیا، تمام دنیا کے روحانیات سے دلچسپی رکھنے والے شوقین حضرات اس سوسائٹی سے رابطے میں رہے جن میں مشہور پامسٹ میر بشیر اور پاکستان کے جناب رئیس امروہوی مرحوم بھی شامل تھے، اس سوسائٹی کے قیام کا مقصد خوارق عادات مظاہر کی تحقیقات تھا۔
یہ سوسائٹی آج بھی قائم ہے، اس کے بعد ایسی مزید سوسائٹیز بھی قائم ہوئیں اور روحانیات کے موضوع پر بین الاقوامی سطح پر نہایت اعلیٰ پائے کے رسائل بھی جاری ہوئے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ان تمام سوسائٹیز کی تحقیقات اور نظریات روح تک محدود ہیں اور روح کے بارے میں ان کی تحقیقات اور نظریات گمراہ کن حد تک باطل ہیں اور جہالت آمیز ہیں، اس کی بنیادی وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ روحانیات پر تحقیق کرنے والے یہ ماہرین یا تو کسی بھی دین الٰہی سے منکر تھے یا ایسے مذاہب و مسالک کے پیروکار تھے جن کی اپنی اصل شکل فی زمانہ بگڑ چکی ہے، لہٰذا انھوں نے جو کام بھی کیا اس کے نتائج مبہم اور غیر اطمینان بخش ہی رہے، اس کے برعکس مشرق میں مسلم صوفیا خصوصاً اس شعبے میں ہمیشہ بہت آگے رہے، ان کا کام نہ صرف اطمینان بخش رہا بلکہ پیچیدگیوں سے مبرا اور جدید سائنس سے ہم آہنگ رہا، یہ الگ موضوع ہے کہ ہمارے صوفیا نے جن مسائل کو صدیوں پہلے حل کردیا تھا جدید سائنس اب ان کا عرفان حاصل کر رہی ہے، اپنے اس دعوے کے ثبوت میں ہم صرف ایک بات کہنا ضروری سمجھتے ہیں کہ مادے اور نور کی حقیقت آئن اسٹائن کی تھیوری کی روشنی میں آج جس طرح سمجھی جاری ہے ،اسے صدیوں قبل شیخ اکبرمحی الدین ابن عربی مسئلہ وحدت الوجود میں سمجھا چکے تھے اور کئی سو برس قبل حضرت مجدد الف ثانی نے وحدت الشہود کا نظریہ پیش کرکے اس میں مزید چار چاند لگادیے۔
پس ثابت ہوا کہ سائنس آج جن پیچیدہ اور ناقابل حل مسائل کی تحقیقات میں سر پٹخ رہی ہے وہ ہمارے مسلم صوفیا بہت پہلے حل کرچکے ہیں، یہ ہماری کوتاہ نظری ہے کہ ہم انھیں نظر انداز کرکے مغرب کی طرف دیکھنے کے عادی ہوچکے ہیں، مزید ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ہاں تصوف بھی کاروبار بن چکا ہے اور جاہل پیشہ ورانہ صوفیوں، پیروں، فقیروں، عاملوں، کاملوں کی اتنی دکانیں لگ چکی ہیں کہ ایک عام تعلیم یافتہ انسان ان سے صرف نظر کرکے سائنس کے مادی مظاہر سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا اور حقیقی روحی سائنس کو کچھ نہیں سمجھتا، درحقیقت اس میں قصور اس کا نہیں ان کاروباری حضرات کا ہے جو اپنی جہالت کے سبب اس کے سوالات کا اطمینان بخش جواب دینے کے بجائے اس کے ذہن میں مزید الجھاوے اور شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں۔
بات کیا ہورہی تھی اور ہم جانے کہاں نکل گئے، قصہ مختصر یہ کہ حاضراتِ ارواح کے جتنے بھی مظاہر مشرق و مغرب میں ہماری نظروں کے سامنے آتے ہیں ان سب میں بنیادی کارفرمائی یا تو شعبدے بازی کی ہوتی ہے یا ہمزاد کی، روح اعلیٰ ہر گز ایسے کسی مظاہرے میں شامل نہیں ہوتی، ایسے مظاہرے جس میں روح انسانی جسے ہمزاد، نسمہ یا اورا کہتے ہیں کی کارفرمائی نظر آتی ہے، اب یہ بات قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ ہر انسان کا اورا یا ہمزاد نیک اور صالح نہیں ہوتا، اس کا تو کام ہی انسان کو ورغلانا اور بھٹکانا ہے،دینی ضابطوں یا قوانین کی پیروی کسی کے شر سے محفوظ رہنے کے لیے لازمی قرار دی گئی ہے پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی مردہ یا مرحوم شخص کا ہمزاد اگر کسی زندہ شخص سے رابطہ کرتا ہے تو وہ اسے گمراہی کے راستے پر نہیں لے جائے گا، یہاں اس معاملے میں صرف اتنی ہی چھوٹ دی جاسکتی ہے جتنی حضور پاک ﷺ کی حدیث پاک کی روشنی میں ہمیں مل سکتی ہے جس میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرا ہمزاد یا قرین مسلمان ہوگیا اور اللہ نے مجھے اس پر غلبہ دیا اور وہ مجھے بھلائی کی باتیں ہی بتاتا ہے۔
بس ہم انھیں لوگوں کے ہمزاد سے خیر کی، بھلائی کی توقع رکھ سکتے ہیں جو ان کی زندگی میں ہی مسلمان ہوگئے تھے اور خیر کی طرف راغب ہوگئے تھے، ایسے لوگوں میں ظاہر ہے انبیا ، اولیا اور دیگر صالحین شامل ہیں مگر ہماری اس بات کا یہ مطلب بھی نہ لیا جائے کہ ایسے لوگوں کے ہمزاد یا قرین حاضرات ارواح کے مظاہروں میں با آسانی آسکتے ہیں یا ہر کس و ناکس سے رابطہ کرسکتے ہیں، ہمارے خیال میں تو انھیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، عام انسانوں سے رابطہ کرنے والے مردہ انسانوں کے ہمزاد کی اکثریت مفرورین کی سی ہے، یہ بھاگے ہوئے ہمزاد اپنے جسم خاکی کی تدفین کے وقت راہ فرار اختیار کیے ہوئے ہوتے ہیں اور ان میں سے اکثر اپنی بعض نا آسودہ خواہشات کے زیر اثر دنیا میں بھٹک رہے ہوتے ہیں، یہ خود کچھ نہیں کرسکتے جب تک انھیں کسی زندہ انسان کے کاندھوں کا سہارا نہ مل جائے، انھیں کسی آلہ ء کار کی ضرورت ہوتی ہے جہاں کوئی اچھا معمول انھیں نظر آیا یہ اس سے وابستہ ہوجاتے ہیں، اب اس وابستگی کی بے شمار صورتیں ہیں، کم علمی اور ناواقفیت کے سبب ہم ایسی وابستگیوں کو جنات، آسیب، سایہ، روح وغیرہ قرار دے کر بیٹھ جاتے ہیں۔
آپ نے اکثر ایسے واقعات سنے ہوں گے کہ کوئی مرد یا عورت کسی مقام پر حادثاتی موت کا شکار ہوا یا اسے قتل کردیا گیا، ایسے مقامات پر بعض اوقات اسی روز یعنی اسی تاریخ کو رات کے کسی پہر میں مقتول یا حادثے کا شکار ہونے والی کی روح دیکھی جاتی رہی ہے،ایسے سیکڑوں قصے مشہور ہوچکے ہیں، جدید تحقیق کے مطابق یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ایسی اموات کے بعد مرحوم کا ہمزاد اسی مقام پر چکر لگاتا رہتا ہے اور اس واقعے کی تاریخ پر خاص طور سے وہاں موجود ہوتا ہے، بعض لوگوں کو کسی نئے مکان میں یا کسی دکان یا کارخانے میں بھی ایسے پراسرار واقعات سے واسطہ پڑتا ہے جن میں وہ شکایت کرتے ہیں کہ انھوں نے اس جگہ پر کسی ماورائی وجود ، سایہ وغیرہ کو دیکھا یا محسوس کیا ہے یا کسی کی آواز سنی ہے، یقیناًوہاں کبھی نہ کبھی ایسی کوئی واردات ہوئی ہوگی۔
بعض کیسوں میں یہ بھی مشاہدے میں آیا کہ وہ مکان یا مقام ایسی کسی واردات کے بعد آباد نہ ہوسکا، اس میں رہنے والوں کو وہ جگہ چھوڑنا پڑی، کسی نہ کسی طور انھیں پریشان کیا جاتا رہا اور جگہ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، عموماً مشہور یہی ہوجاتا ہے کہ یہاں جنات یا بھوت پریت کا اثر ہے،حقیقت یہ ہے کہ عام طور پر ایسے مقامات پر ایسے ہی کسی لرزہ خیز حادثے یا قتل کے نتیجے میں کسی ہمزاد کا ڈیرہ ہوتا ہے، اب یہ الگ بات ہے کہ وہ ہمزاد کس قسم کی شخصیت کا حامل ہے،زندگی میں اگر انسان نے اچھے کام کیے ہوں اور شریعت کے مطابق زندگی گزاری ہو تو اس کا ہمزاد تدفین کے وقت عموماً راہ فرار اختیار نہیں کرتا، صورت حال اس کے برعکس ہو یعنی وہ شخص بظاہر خواہ کتنا ہی نیک پارسا نظر آتا ہو لیکن اپنے باطن میں گناہ آلود زندگی گزارتا رہا ہو، شدید منتقم مزاج ہو تو وہ اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے دنیا ہی میں بھٹکتا رہتا ہے اور اکثر اس مقام سے جڑا رہتا ہے جہاں اسے حادثہ پیش آیا تھا۔
حاضرات ارواح کے مظاہروں میں جب ایسے ہمزادوں سے رابطہ ہوا جنھیں مغربی دنیا انسانی روح سمجھتی رہی، انھوں نے اپنی زندگی کے بارے میں ایسی ہی باتیں بتائیں اور اپنے آئندہ کے عزائم کا بھی اظہار کیا، مثلاً وہ کسی سے انتقام لینا چاہتے ہیں، کسی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں یا کسی اور خواہش کے شدید اثر میں ہیں، ایسے تمام ہمزاد اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے زندہ انسانوں کے محتاج ہیں، وہ خود کچھ نہیں کرسکتے،ممکن ہے ہماری اس بات سے بہت سے لوگ اختلاف کریں اور ہمیں بتائیں کہ جناب فلاں صاحب نے ایک ہمزاد قابو کیا تھا اور اس سے بے شمار ذاتی کام لیتے رہے،آج بھی بہت سے لوگ یہ دعوا کرتے ہیں کہ وہ ہمزاد پر قابو پانے کا عمل جانتے ہیں یا انھوں نے کبھی کوئی ہمزاد قابو کیا تھا اور ایسی باتوں کو سن کر یا کتابوں رسالوں میں پڑھ کر ہماری نوجوان نسل جو اپنی بے عملی کے سبب نالائقی اور ناکامیوں کا شکار ہوتی ہے، تسخیر ہمزاد کی جستجو میں مصروف ہوجاتی ہے،بے شمار لوگوں نے گزشتہ 25,30 سال میں ہم سے صرف اسی لیے رابطہ کیا کہ ہم انھیں ہمزاد پر قابو پانے کا عمل بتائیں یااپنی نگرانی میں یہ عمل کرائیں لیکن جب ہم نے انھیں اصل حقیقت سمجھانے کی کوشش کی تو اکثریت نے ہماری بات پر توجہ نہیں دی اور کسی دوسرے ایسے شخص کی تلاش میں نکل پڑے جو انھیں کامیابی سے ہمکنار کردے۔
تسخیر ہمزاد کے جتنے بھی عملیات ، چلّے وظیفے ، کتابوں رسالوں میں ملتے ہیں، درحقیقت ان میں سے ایک بھی درست نہیں ہے،ان وظیفوں کے نتیجے میں عمل کرنے والے کا اپنا ہمزاد یا کسی اور مرحوم کا ہمزاد قطعاً متاثر نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کے سامنے آتا ہے،ہاں یہ ضرور ہے کہ وظیفے میں جو کچھ پڑھا جاتا ہے اس کے الفاظ چوں کہ اپنا ایک باطنی وجود رکھتے ہیں جسے عرف عام میں مؤکل کہا جاتا ہے،کبھی کبھی یہ مؤکل ضرور سامنے آجاتا ہے،اسی عامل کی شکل میں اور یہیں سے کچھ نئی خرابیاں شروع ہوتی ہیں، ہمزاد کو قابو میں کرنے والے عامل کو ایسے عملیات کے نتیجے میں نقصان اور بعض اوقات تباہی کا سامنا کرنا پڑتا ہے،اکثر کا دماغ الٹ جاتا ہے،ہم نے ایسے کیس بھی دیکھے ہیں، اس کے بعد ایسے لوگ ایک نارمل زندگی گزارنے کے لائق نہیں رہتے،تاوقت یہ کہ ان کا معقول علاج معالجہ نہ ہو۔
دوسری شکل یہ ہے کہ وہ لوگ جو نہایت حساس طبیعت رکھتے ہیں گویا ان کے ظاہری حواس کے مقابلے میں باطنی حواس زیادہ ایکٹیو ہوتے ہیں، ان سے بعض بھٹکتے ہوئے ہمزاد رابطہ کرلیتے ہیں اور آہستہ آہستہ انھیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر آمادہ کرتے ہیں، کم عمر لڑکے لڑکیاں عموماً ایسے آوارہ ہمزادوں کا شکار ہوتے ہیں، اگر وہ ان سے تعاون کرنے لگیں اور ان کے گھر والے بھی تعاون پر آمادہ ہوجائیں تو یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہ کوئی نیک روح یعنی کسی بزرگ کی روح ہیں، تعاون نہ کرنے کی صورت میں وہ لڑکے یا لڑکی کو صرف اس حد تک پریشان کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے کہ اکثر اس کے سامنے آجائے یا اپنی آواز اسے سنا سکے، جب کہ گھر کے دیگر افراد نہ اس کی آواز سن سکتے ہیں ، نہ اسے دیکھ سکتے ہیں لیکن اتنا ہی کافی ہے کوئی کم عمر یا نوجوان لڑکا لڑکی اس صورت حال سے کس قدر بے زار اور پریشان ہوسکتا ہے اس کا اندازہ آپ لگاسکتے ہیں اور اس کے نتیجے میں اس کے گھر والے بھی جس پریشانی اور اذیت میں مبتلا ہوتے ہیں وہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔
ہمارے معاشرے میں ایسی صورت حال سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر قریبی مولوی،عامل وغیرہ کی مدد لی جاتی ہے اور عارضی طور پر ایسے مریض کو فوری فائدہ بھی ہوتا ہے مگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہتا ہے، ہمارے نزدیک اس کا درست علاج اس طرح ممکن نہیں ہے۔
اس موضوع پر ان شاء اللہ آئندہ بھی گفتگو ہوگی، اگر آپ بھی ایسے کسی واقعے سے دوچار ہوئے ہیں یا آپ کے مشاہدے میں ایسا کوئی واقعہ ہے جو آپ کے لیے حیران کن اور ناقابل فہم ہے تو ضرور ہمیں اس سے آگاہ کریں، ہم ان شاء اللہ اس کا مفصل جواب دیں گے اور اس کی اصل حقیقت سے آگاہ کریں گے۔
آئیے اپنے سوالات اور ان کے جوابات کی طرف: 
لاشعوری خوف
مسز ن، م، کراچی سے لکھتی ہیں ’’یہ بچی مختلف قسم کے خوف کا شکار رہتی ہے،اس کے زائچے کے حساب سے اس کی شخصیت پر روشنی ڈالیں اور اس کا علاج بتائیں، پانی سے ڈرتی ہے یعنی سمندر سے، جھولوں سے ڈرتی ہے،اونچائی سے ڈرتی ہے، کسی کی موت کی خبر سنتی ہے تو روتی ہے،دو سال پہلے اس کے چھوٹے کا بیماری کی وجہ سے انتقال ہوگیا تھا تو اس وقت سے زیادہ ڈرتی ہے، پڑھائی میں زیادہ اچھی نہیں ہے، انٹر کیا ہے،اس کی شخصیت بھی دہری محسوس ہوتی ہے، شادی کا کب تک امکان ہے؟ کیا شادی کے بعد زندگی نارمل گزر جائے گی؟‘‘
جواب: بچی کا سن سائن جوزا اور پیدائشی برج قوس ہے، زائچے میں طالع پر یعنی پیدائشی برج پر راہو کی نظر ہے جو ذہن میں مختلف قسم کے وسوسے اور منفی خیالات لاتی ہے،مزید یہ کہ سیارہ قمر جس کا تعلق انسانی دماغ سے ہے، وہ بھی راہو کیتو کے محور میں بری طرح پھنس کر متاثرہ ہے،اسی طرح تیسرا گھر زائچے کا برج دلو ہے اور اس کا حاکم بھی راہو کی نظر کا شکار ہے،دوسری طرف سیارہ عطارد اگرچہ اپنے گھر میں طاقت ور ہے مگر اس پر بھی کیتو کی نظر ہے۔
یہ تمام وجوہات بچی کو تھوڑا سا ایب نارمل بنارہی ہے، بہتر ہوگا کہ اسے نیلم کا نگینہ پہنایا جائے اور ساتھ ہی لوح مشتری بھی پاس رکھیں، ہفتے کے روز بوڑھے اور معذور افراد کو صدقہ دیا کریں اور پیر کے روز غریب بچوں والی خواتین کی مدد کیاکریں، پرندوں کو دانا پانی ڈالنے کا انتظام مستقل رکھیں اور اس کام کی ذمے داری اس کے سپرد کریں،منگل کے روز آوارہ کتوں کو خوراک ڈالا کریں، شادی کا امکان 2020ء یا 21 ء تک ہے۔
ایک ہومیو پیتھک دوا بوریکس 200 کی پوٹینسی میں لیں اور اس کی ایک خوراک روزانہ رات کو سونے سے قبل دیا کریں، ایک دوسری دوا پلسا ٹیلا 1M کی ایک خوراک مہینے میں ایک بار اسے دیں اور صرف تین مہینے تک دیں تو ان شاء اللہ اس کا رونا اور دیگر ڈر اور خوف دور ہوجائیں گے ۔
غلطی کا خمیازہ
تاج الملوک ، کراچی: آپ کا زائچہ ء نکاح بنایا گیا ہے اور اس کے مطابق آپ کا طالع برج سرطان ہے،اس کا حاکم سیارہ قمر زائچے میں خراب پوزیشن رکھتا ہے،اس کے علاوہ بھی زائچے میں دیگر سیاروں کی پوزیشن کمزور ہے۔
آپ کے زائچے کے مطابق 2014 ء سے ایسا وقت شروع ہوا جو فتنہ فساد اور اختلافات لانے والا تھا لہٰذا آپ کے اور آپ کی بیوی کے درمیان جو پہلے ہی آپ کو پسند نہیں کرتی تھی ، اختلافات مزید بڑھ گئے اور اس کے بعد 2017 ء میں وہ سب کچھ ہوا جس کا آپ نے اپنے خط میں ذکر کیا ہے لیکن آپ نے ایک بہت بڑی غلطی کی کہ اس کو معاف کیا اور دوبارہ گھر لے آئے،اس کی باتوں میں آگئے کیوں کہ آپ خود بھی زیادہ ہوشیار اور عقل مند نہیں ہیں۔
تقریباً مارچ 2020 ء تک آپ کا خراب وقت جاری رہے گا، اس دوران میں اگر آپ نے مزید غلطیاں کیں تو اور زیادہ پریشان ہوں گے،اب آپ کو چاہیے کہ کسی صورت بھی اس عورت کو اپنے گھر میں نہ لائیں، اس معاملے کو ختم کریں، وہ عورت اپنے کردار کی کمزوریوں کی وجہ سے بگڑ چکی ہے،اب دوبارہ اس کا ٹھیک ہونا مشکل ہے،ہم نے اس کا زائچہ بھی دیکھا ہے، وہ شادی سے پہلے بھی خراب اور غیر شرعی کاموں میں مصروف رہی ہے،آئندہ بھی اسی طرح زندگی گزارے گی۔
اس معاملے کو ختم کرکے آپ دوسری شادی کرسکتے ہیں لیکن ضروری ہوگا کہ شادی سے پہلے ہم سے مشورہ کرلیں، جہاں بھی دوسری شادی کریں اس لڑکی کی تاریخ پیدائش وغیرہ معلوم کرکے ہمیں بتائیں، دوسری بات یہ کہ دوسری شادی کے لیے نکاح کی تاریخ اور ٹائم وغیرہ کے سلسلے میں بھی ہم سے مشورہ ضرور کریں تاکہ ایک بہتر وقت پر نکاح ہو تو آپ کی زندگی میں بہتری آئے،فی الحال آپ کے نکاح کا یہ زائچہ آپ کی مسلسل پریشانیوں کا سبب ہے،جب آپ اسے چھوڑ دیں گے اور مکمل طور پر علیحدگی ہوجائے گی تو پھر یہ زائچہ خود بہ خود ختم ہوجائے گا اور نئی شادی کا زائچہ نئی تاریخ اور ٹائم کے مطابق سامنے آئے گا۔
جہاں تک آپ کے نام کا مسئلہ ہے تو آپ کو کسی نے غلط مشورہ دیا ہے،صرف پکارنے والا نام اہم نہیں ہوتا بلکہ وہ نام زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے جو شناختی کارڈ میں سرکاری طور پر درج ہوتا ہے لہٰذا آپ کے پورے نام تاج الملوک کا عدد 9 ہے جو ایک طاقت ور اور اچھا عدد ہے،اس کا حاکم سیارہ مریخ ہے اور یہ قوت و توانائی کا ستارہ ہے اور آپ کے اندر ہمت اور حوصلہ پیدا کرتا ہے، جہاں تک نام کے پہلے حرف کا تعلق ہے تو آپ کے نام کا پہلا حرف ت ہے اس کے عدد چار ہیں اور یہ عدد دولت کے حروف میں سے ایک ہے،ایسے لوگ پریکٹیکل ہوتے ہیں اور مسلسل محنت اور جدوجہد کرکے کامیابی حاصل کرتے ہیں لہٰذا ہمارا مشورہ یہی ہے کہ اپنے نام کو تبدیل نہ کریں، آپ نے جو شکایت کی ہے کہ معاشرے میں آپ کا کوئی مقام نہیں ہے،اس کی وجہ زائچے کی خرابی ہے، اگر آپ لوح اسم اعظم منگواکر پاس رکھیں گے تو عزت و وقار میں اضافہ ہوگا اور آپ کو معاشرے میں اپنا مقام بنانے میں آسانی ہوگی۔
سستی اور کاہلی کو دور کرنے اور اپنی کارکردگی کو بڑھانے کے لیے آپ کو فیروزہ کا نگینہ کم از کم پانچ کیرٹ وزن میں دائیں ہاتھ کی سب سے چھوٹی انگلی میں کسی اچھے وقت میں پہننا چاہیے۔

منگل، 11 ستمبر، 2018

روحیات کو ہی درحقیقت روحانیات سمجھ لیا گیا

روحی اور روحانی نظریات کا فرق،روح اور ہمزاد کی حقیقت
کینیڈا سے ہمارے ایک پرانے قاری نے کچھ سوال کیے ہیں، وہ خود بھی صاحب مطالعہ اور علم دوست انسان ہیں، ان کا کہنا یہ ہے کہ آخر مغرب میں اکثر خواتین و حضرات جو خود کو ماہر روحانیات (Spritualist) کہتے ہیں اور پیشہ ورانہ طور پر عمل حاضرات وغیرہ بھی کرتے ہیں، ان کا دعویٰ ہے کہ وہ روحوں سے رابطہ کرسکتے ہیں بلکہ کسی کے عزیز یا رشتے دار کی روح کو بلاکر سائل کی بات چیت کراسکتے ہیں تو اس میں کتنی حقیقت ہے کیوں کہ یہاں میں ایسے لوگوں سے ملا ہوں جو اپنے تجربات بیان کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ فلاں ماہر روحانیت کی مدد سے وہ اپنے کسی قریبی عزیز روح سے مل چکے ہیں، انھوں نے اسے دیکھا نہیں لیکن ماہر روحانیت کی مدد سے بات چیت کی اور ایسی باتیں بتائیں جو ماہر روحانیات نہیں جانتے تھے، ہمارے عزیز ہی اس کا جواب دے سکتے تھے۔
وہ کہتے ہیں کہ میرے لیے یہ سب بڑا حیرت انگیز ہے کیوں کہ میں بہ حیثیت مسلمان ایسے ماہر روحانیات پر یقین نہیں رکھتا جو مسلمان نہیں ہے اور شریعت محمدی کا پابند نہیں ہے،امید کرتا ہوں کہ آپ میری الجھن دور فرمائیں گے اور اپنے کسی قریبی کالم میں اس مسئلے پر تفصیل سے بات کریں گے۔
بلاشبہ یہ موضوع تفصیل طلب ہے،مغرب میں اس حوالے سے جو کام ہوا ہے اس کی تفصیلات سے آگاہ ہونا بھی ضروری ہے اور مشرق میں اس موضوع پر جو تحقیقات ہوئی ہیں ان پر بھی نظر رکھنا ازحد ضروری ہوگا، بہ صورت دیگر شدید گمرہی کا شکار ہونے کا خطرہ موجود ہے،عام الفاظ میں روحانیات کی اصطلاح پوری دنیا میں رائج ہے،مسلمان ، عیسائی، یہودی، ہندو، بدھ، الغرض سارے ہی مذاہب روحانیات کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں اور اس کے مطابق خود کو ماہرِ روحانیات ظاہر کرتے ہیں، روحانیات کی یہ اصطلاح روح سے بنائی گئی ہے نہ کہ کسی بھی دین مذہب کے عقائد کی بنیاد پر وضع ہوئی ہے اور روح ایک نہایت لطیف اور روشن دوسرے معنوں میں نوری شے تصور کی گئی ہے،روح ہر جاندار میں موجود ہے، وہ انسان ہو یا کوئی اور مخلوق لہٰذا اصولی طور پر ایسے ماہرین کے لیے ماہر روحیات کی اصطلاح مناسب معلوم ہوتی ہے نہ کہ ماہر روحانیات کی، آئیے اس معاملے کا ذرا تفصیل سے جائزہ لیتے ہیں۔
مغرب میں اسپریچولزم (Spritualism) کا سلسلہ آج سے تقریباً ایک سو اڑتیس سال قبل یعنی 1863 ء میں شروع ہوا اور حاضرات ارواح کے مشغلے نے خاصی شہرت اور مقبولیت پائی، مغرب کے بہت سے اہل علم، ادیب، شاعر، سائنس دان وغیرہ اس شوق میں مبتلا ہوئے اور انھوں نے بعد ازاں اپنی تحقیق اور مشاہدات سے دنیا کو آگاہ کیا، ان لوگوں نے حاضرات ارواح کے مشغلے میں ماورائی نادیدہ دنیا سے رابطے کی کوششیں کیں اور پھر اپنے مشاہدات و محسوسات کو کتابی شکل میں دنیا تک پہنچایا۔
مشہور جاسوسی ناول نگار سر آرتھرکانن ڈائل اور مشہور سائنس دان سراولیور لاج نے اس سلسلے میں رات دن کام کیا، ان کے نظریات کے مطابق روح انسانی کو بعد از مرگ غذا، دولت، جنس وغیرہ سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ کسی خاص جذباتی کیفیت سے متاثر ہوتی ہے، البتہ انسان کا روحی جسم (ایسٹرل باڈی)، موسیقی، خوشبو، روحانی اشغال اور اسی طرح کے دیگر لطیف معمولات میں دلچسپی لیتا ہے۔
کانن ڈائل کہتا ہے کہ روحوں کا قیام خوبصورت باغوں، ہرے بھرے میدانوں اور دلکش جھیلوں میں ہوتا ہے، اس کے قول کے مطابق روحوں کے پسندیدہ جانوروں کی روحیں بھی ان کے ہمراہ رہ سکتی ہیں، اس سوال کے جواب میں کہ روحی جسم کیسا ہوتا ہے؟ وہ کہتا ہے کہ ’’ہمارا روحی جسم یعنی ہمزاد یا قرین ہو بہو ہمارے مادی جسم سے مشابہ ہوتا ہے جس کی لطافت ہماری ظاہرہ نظر سے اوجھل ہوتی ہے‘‘
پھر اس سے سوال کیا گیا کہ کیا روحی جسم یا ہمزاد ہر طرح سے مادی جسم کی طرح ہوتا ہے تو اس نے بتایا ’’ نہیں، بلکہ روحی جسم یا جسم مثالی ہر طرح کی خامیوں، بیماریوں اور کمزوریوں سے پاک ہوتا ہے، حلقہ حاضرات ارواح میں اس بات کے کئی ثبوت بھی مل چکے ہیں کہ جسم مثالی لطیف تر قوتوں کا مجموعہ ہوتا ہے‘‘۔
’’مرنے کے بعد کیا ہوگا؟‘‘
اس سوال کے بارے میں وہ ایک واضح جواب رکھتا تھا اور آخرت کے بارے میں بھی اس کا ایک واضح نظریہ تھا، کانن ڈائل لکھتا ہے کہ مرنے کے بعد انسان کی روح خود کو ایسے ماحول میں پاتی ہے جہاں اس کے ارد گرد ایسی مانوس روحوں کا اجتماع ہوتا ہے جو اس سے قبل عالم ظاہرہ سے بر زخ کی طرف لوٹ چکی ہوتی ہیں، روح کو اس ابتدائی استقبال کے بعد آرام کا وقفہ دیا جاتا ہے اور آرام کے اس وقفے کا دورانیہ اس لحاظ سے مقرر ہوتا ہے کہ دنیا میں روح نے کتنے دکھ جھیلے ہیں، بعض روحیں ایک ہفتے کے لیے آرام کرتی ہیں جب کہ بعض کو مہینوں پر محیط وقفہ سونے کے لیے دیا جاتا ہے۔
یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ روح کا سونا ہماری نیند جیسا ہر گز نہیں ہوتا بلکہ اس سے مراد روح کا تمام اشغال و مصروفیات سے کنارہ کش ہوکر حالت ارتکاز یا عالم ممنونیت میں چلے جانا ہوتا ہے، یہ مراقبے کی ایک شکل ہے۔
کانن ڈائل کے نظریات سے اسلامی نظریات کی روشنی میں اختلاف تو کیا جاسکتا ہے مگر انھیں یک دم رد کردینا یقیناً غیر منطقی اور متعصبانہ رویہ ہوگا کیوں کہ اس کے ان نظریات کے پیچھے اس کی تمام زندگی کی کاوشیں ، تجربات و مشاہدات اور تحقیق کار فرما ہے۔
60 ء کی دہائی میں روسی سائنس دانوں نے یہ انکشاف کیا کہ انسانی جسم کے گرد ایک ہالہ نور پایا جاتا ہے، انھوں نے اس ہالہ ء نور کی رنگین اور روشن تصاویر بھی شائع کیں لہٰذا روحیت کے میدان میں تحقیق کرنے والوں میں یہ سوال بھی اٹھا کہ کیا یہی ہالہ ء نور انسان کا ہمزاد ہے جس کے اور کئی نام بھی لیے جاتے ہیں، روسی سائنس دانوں نے یہ بھی بتایا کہ انسانی جسم سے نہایت تیز برقی لہریں بھی نکلتی ہیں اور ان کا رنگ کبھی کبھی نارنجی اور نیلا ہوتا ہے۔
ایک اور سائنس دان ماہر برقیات ڈاکٹر والٹر جے کلنر جوتھامسن اسپتال لندن سے وابستہ تھے، انہی شعاعوں کے بارے میں تجربات کر رہے تھے، انھیں یہ خیال آیا کہ جسم انسانی سے توانائی کی جو لہریں خارج ہوتی ہیں ان کا مطالعہ کیا جائے، ڈاکٹر والٹر کو صرف یہ معلوم تھا کہ حرارت کے علاوہ جسم انسانی سے جو توانائی خارج ہوتی ہے اس کا تعلق انفراریڈ سے ہے، انھوں نے ایک ایسا فوٹو گرافک پردہ تیار کرنے کی کوشش کی جس کے ذریعے انسانی جسم سے وابستہ ہالہ ء نور کا مطالعہ کیا جاسکے، چناں چہ انھوں نے مختلف کیمیائی محلول استعمال کیے مگر انھیں ناکامی ہوئی، انسانی جسم سے نکلنے والی انفراریڈ شعاعیں کسی صورت پردہ اسکرین پر نظر نہ آسکیں، آخر کار انھوں نے کولتار کے کیمائی مواد سے فلم کو رنگنے کا ایک کیمائی مسالہ تیار کیا اور شیشے کی ایک اسکرین پر پہلے جیلاٹن اور کولڈین نامی مرکبات کا ایک استر کیا، اس طرح وہ اپنی ایجاد کردہ مشہور اسکرین کے ذریعے انسانی ہالہ ء نور یا ہمزاد کا جائزہ لینے میں کامیاب ہوسکا بعدازاں ڈاکٹر والٹر نے اپنی کتاب ہیومن اٹماسفئر (Human Atmosphere) میں نہایت تفصیل کے ساتھ انسان کے ہمزاد پر روشنی ڈالی ہے، ان کی تحقیقات کا خلاصہ یہ ہے کہ انسانی جسم سے توانائی کا جو اخراج ہوتا ہے وہ ایک دائرے کی طرح انسانی جسم کے گرد نظر آتا ہے، ڈاکٹر والٹر نے اپنے ایجاد کردہ اسکرین پر انسانی ہمزاد کو دیکھنے کے بعد اسے ’’ایتھرک ڈبل‘‘ کا نام دیا، ان کے بقول ہمزاد ایک شفاف سایہ ہے اور یہ انسان کے ٹھوس جسم سے ایک انچ باہر کی طرف ہوتا ہے، ہمزادی جسم یا ہالے کے اندر ایک اور جسم ہوتا ہے جو پہلے جسم کے مقابلے میں لطیف تر ہوتا ہے پھر جسم لطیف کے اندر ایک اور روحانی وجود ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔
ڈاکٹر والٹر کا خیال تھا کہ ماورائے بنفشی شعاعوں کے ذریعے بھی انسانی جسم مثالی کی تحقیق ممکن ہے۔
مسلم صوفیا کے نظریات کے مطابق روح ایک توانائی کا نام ہے جو صفات الٰہیہ کی لاتعداد جہات سے مرکب ہے مگر خود روح بھی اپنی حرکت کے لیے ’’مادہ روح‘‘ کی محتاج ہوتی ہے، تمام ہی ارواح کی توانائی ان تجلیات کی رہین منت ہوتی ہیں جو انھیں مادہ روح سے سپلائی ہوتی رہتی ہیں جب کوئی روح عالم برزخ کی طرف رجوع کرتی ہے تو اسے وہاں کے ماحول سے مانوس ہونے میں کچھ وقت لگتا ہے، دنیا میں گزرا ہوا وقت کیوں کہ روح کے لیے اپنی اصل یعنی ’’مادہ روح‘‘ سے دوری کا وقفہ ہوتا ہے اس لیے جدائی کے اس عرصے کی نامانوسیت دور کرنے کے لیے روح کو محویت اور استغراق میں چلے جانے کے لیے وقت دیا جاتا ہے، یہی وقفہ روح کے آرام کا وقت کہلاتا ہے، اس عرصے میں وہ عالم برزخ کے ضابطوں، قوانین اور ماحول سے مانوس ہوتی ہے تاکہ اپنے قویٰ کے مطابق توانائی حاصل کرکے اپنے مقرر شدہ وظائف پر عمل پیرا ہوسکے۔
قیام دنیا میں اپنے مقصد تخلیق سے بے خبر رہ کر زندگی گزارنے والی ارواح کو علیحدہ مقام پر رکھا جاتا ہے جب کہ ایسی ارواح جس نے اپنے مقصد تخلیق کو پورا کیا ہوتا ہے اسے نہایت عزت و عظمت کے مقام پر جگہ دی جاتی ہے۔
مسلم صوفیا کے نزدیک روح یعنی انسان کا باطنی وجود تین زاویوں سے مرکب ہے، نمبر ایک روح حیوانی، نمبر دو روح انسانی ، نمبر تین روح اعظم۔
روح حیوانی کا تعلق انسانی فطرت اور جہالت سے ہے اور روح انسانی سے مراد روشنیوں کا وہ جسم ہے جسے اصطلاحاً حضرت شاہ ولی اللہ نے ’’نسمہ‘‘ کا نام دیا تھا،اسی کو پیکر لطیف، جسم مثالی، ہمزاد، قرین،ہالہء نور،ایسٹرل باڈی، پیکر نور یا اورا وغیرہ کہا جاتا ہے اور مغربی ماہرین روحیات کے نزدیک یہی انسان کے باطنی وجود کی آخری حد ہے، وہ روح اعظم کا ادراک نہیں رکھتے کیوں کہ روح اعظم کا ادراک صرف روحانی علوم کے ذریعے ہی ممکن ہے اور روحانی علوم کی فہم اور سمجھ اس وقت تک نصیب نہیں ہوسکتی جب تک مولائے کل ختم الرسل حضور ﷺ کی غلامی انسان کے ایمان کا جزو نہ بن جائے اور عشق رسول ﷺ انسانی رگ و پے میں جاری و ساری نہ ہوجائے، اس عشق کے سمندر میں ڈوب جانے والے ہی روح اعظم کے اسرار سے واقفیت حاصل کرتے ہیں ورنہ نناوے فیصد ماہرین روحیات ان کا تعلق مغرب سے ہو یا مشرق سے روح انسانی یعنی ہمزاد کے کھیل میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔
اس تمام تفصیل سے ہمارا مقصد صرف اس فرق کی وضاحت کرنا تھا جو روحانیات اور روحیات کے درمیان ہے کیوں کہ ہمارے ہاں بھی روحیات کو ہی درحقیقت روحانیات سمجھ لیا گیا ہے جو ایک نہایت گمراہ کن بات ہے۔
اس بات کو اچھی طرح جان لیں کہ حاضرات ارواح کے حوالے سے مغرب کے ماہر روحیات ہوں یا مشرق کے، جب وہ روحوں سے رابطے کی بات کرتے ہیں تو یہ رابطہ صرف اور صرف انسانی ہمزاد تک ہی محدود رہتا ہے کیوں کہ بعد از مرگ روح اعظم کے عالم برزخ میں چلے جانے کے بعد بعض صورتوں میں اکثر انسانوں کا ہمزاد دنیا میں آوارہ بھٹکنے کے لیے رہ جاتا ہے خصوصاً گناہ گار انسانوں کا ہمزاد یا ایسے لوگوں کا ہمزاد جن کی موت حادثاتی طور پر بے وقت واقع ہوئی اور موت کے وقت بھی وہ کسی خاص جذبے یا خواہش کی شدت کے زیر اثر ہو،ایسی ہی روح انسانی حاضرات ارواح کے عاملین سے رابطے میں آجاتی ہیں یا اعلیٰ درجے کے میڈیم شپ کی صلاحیت رکھنے والے عالم لوگوں سے رابطہ قائم کرلیتی ہیں، وہ ان کے سوالوں کے جوابات بھی دیتی ہیں اور کسی دوسرے مردہ شخص کی روح انسانی سے رابطے کا ذریعہ بھی بن جاتی ہیں، وہ روح انسانی جو دوسری روح انسانی سے رابطے کا ذریعہ بنتی ہیں’’گائیڈ روح‘‘ کے اصطلاحی نام سے مشہور ہوتی ہیں۔
مسلمانوں میں مردے کی تدفین کے وقت مخصوص دعا پڑھ کر تین مٹھی مٹی قبر پر ڈالنا وہ طریقہ ہے جس پر عمل کرکے انسانی روح کو بھٹکنے سے روکا جاسکتا ہے،اس کے علاوہ کثرت سے اس کے نام پر خیرات اور ایصال ثواب کرنا بھی اس کی بے قراری اور بے چینی میں کمی کا سبب ہوتا ہے۔

ہفتہ، 1 ستمبر، 2018

نئی حکومت کو ابتدا ہی میں شدید تنقید کا سامنا

شرف عطارد کے وقت کی نشان دہی اور لوح عطارد نورانی کے فوائد
تحریک انصاف کی حکومت کے قیام کو ابھی ایک مہینہ بھی نہیں ہوا ہے لیکن میڈیا کے تیور خاصے تیکھے نظر آتے ہیں، مختلف سیاسی پارٹیاں اور ان کے فالورز کی تو مجبوری ہے کہ وہ حکومت پر اپنے اپنے انداز میں تنقید کریں لیکن میڈیا کو ہر چھوٹے بڑے مسئلے پر طوفان کھڑا نہیں کرنا چاہیے، بہر حال ان کا جو کام ہے وہ اہل صحافت جانیں، حکومت کے قیام سے پہلے ہی ہم نے اس امر کی نشان دہی کردی تھی کہ فوری طور پر بہت سے چیلنجز پیش آسکتے ہیں،ایک ایسی جماعت کے لیے جو حکومت کا سابقہ تجربہ بھی نہیں رکھتی۔
اس ملک میں گزشتہ تقریباً تیس سال سے یعنی 1989 ء سے جمہوری اور غیر جمہوری ادوار میں جو کچھ ہوا ہے وہ بہر حال تباہ کن ثابت ہوا ہے، ادارے کمزور ہوئے، بیوروکریسی کرپٹ ہوئی اور اسے مزید کرپٹ فوجی یا جمہوری حکمرانوں نے کیا، گویا تیس سال کا بگڑا ہوا ڈھانچہ نئی حکومت سامنے ایک اتنا بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے جسے سنبھالنا مہینہ دو مہینہ نہیں کئی سال کا کام ہے،دلچسپ صورت حال یہ ہے کہ وزارتوں یا بیوروکریسی یا پولیس ، غرض یہ کہ کسی بھی شعبے میں ایسے افراد کا کال ہے جو ہر اعتبار سے صاف ستھرے ماضی کے ساتھ بہترین اہلیت بھی رکھتے ہوں چناں چہ کسی پرانے کی جگہ جب کسی دوسرے کی تعیناتی ہوتی ہے تو میڈیا اس کا ماضی دکھانا شروع کردیتا ہے، یہ صورت حال بیوروکریسی میں کچھ زیادہ ہی ہے۔
عزیزان من! پاکستان کے زائچے میں کسی اچھی صورت حال کا فی الحال کوئی امکان نظر نہیں آتا، جیسا کہ پہلے بھی کئی بار ہم لکھ چکے ہیں کہ پاکستان دو منحوس سیاروں کے دور اکبر اور دور اصغر سے گزر رہا ہے،مزید یہ کہ زائچے کے منحوس سیارگان بھی اپنا ناقص اثر ڈال رہے ہیں، جب کہ دسویں گھر کا حاکم سیارہ زحل زائچے میں آٹھویں گھر میں گزشتہ سال اکتوبر سے آئندہ ڈھائی سال کے لیے مقیم ہے،یہ بہت ہی تشویش ناک صورت حال ہے کیوں کہ زحل زائچے میں وزیراعظم اور ان کی کابینہ کا نمائندہ ہے،اس تمام وقت میں کوئی بھی حکمران وزیراعظم ہاؤس میں ہوگا وہ پریشان اور سختی میں ہی رہے گا،کابینہ کو بھی مستقل دشواریوں کا سامنا ہوگا، دوسری طرف سیارہ مریخ جو زائچے کا ایک اور منحوس سیارہ ہے،مئی سے نویں گھر میں مقیم ہے اور فی الحال چند دنوں سے ایسی پوزیشن میں ہے جس کی وجہ سے بہتر فیصلوں میں دشواری، ملک میں بے چینی اور اضطراب ، عدم استحکام کی کیفیت نظر آتی ہے، یہ صورت حال تقریباً ستمبر کے دوسرے ہفتے تک جاری رہے گی اس کے بعد یقیناً بہتری آئے گی اور حکومت کو سکون اور اطمینان کے ساتھ مثبت کارکردگی دکھانے کا موقع ملے گا۔
لوح شرف عطارد نورانی
سیارہ عطارد جب اپنے ذاتی برج سنبلہ کے پندرہ درجے پر پہنچتا ہے تو اسے شرف کی قوت حاصل ہوتی ہے ، اس سال پاکستان ٹائم کے مطابق عطارد 13 ستمبر بہ روز جمعرات 07:07 pm سے 14 ستمبر بہ روز جمعہ 07:42 am تک اپنے درجۂ شرف پر رہے گا ، عاملین و کاملین سال بھر اس وقت کا انتظار کرتے ہیں اور عطارد کی ساعتوں میں اپنی اپنی ضرورت کے مطابق الواح و طلاسم تیار کرتے ہیں ۔
سیارہ عطارد کو منشئ فلک کہا جاتا ہے اور اس کا تعلق ذہانت ، قوت حافظہ ، علمی سرگرمیوں ، کمیونی کیشن ، پرنٹنگ ، نشر و اشاعت ، محکمہ ڈاک و ٹیلی فون ، سفر اور ذرائع سفر ، ٹرانسپورٹ کے کاروبار وغیرہ سے ہے ‘ اس وقت لوح شرف عطارد تیار کی جاتی ہے جو تسخیر اہل قلم ‘ قوت حافظہ‘ مباحثہ علمی میں برتری کا حصول ‘ حصول علم وحکمت‘ فصاحت وبلاغت ‘ امتحان میں کامیابی‘ بچوں کی کند ذہنی یا علمی بے رغبتی کو دور کرنے کے لیے اور دماغی کمزوری سے نجات کے لیے موثر ہوتی ہے‘ اس کے علاوہ یہ لوح ان ملازمین کے لیے بھی مفید ثابت ہوتی ہے جن کی ترقی رکی ہوئی ہو یا کسی افسر سے کوئی کام اٹکا ہوا ہو‘ کسی وزیر یا مشیر سے غرض ہو‘ عہدے اور مرتبے سے تنزلی ہو گئی ہو‘ ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد بھی اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جن کی گاڑیاں حادثات کا شکار ہوتی ہوں یا انہیں اس کام سے خاطر خواہ مالی فوائد حاصل نہ ہو رہے ہوں‘ انشاء اللہ اس لوح کی برکت سے انہیں ضرور فائدہ ہوگا، وہ لوگ جو بے روزگاری کا شکار ہیں اور مناسب روزگار کے حصول میں دشواریاں یا رکاوٹ کا سامنا ہو وہ بھی اس باسعادت لوح کو اپنے پاس رکھیں تو ان شاء اللہ اس کے فوائد محسوس کریں گے۔
بعض پے چیدہ ذہنی امراض بھی سیارہ عطارد کے حلق�ۂ اثر میں آتے ہیں ، خاص طورپر یادداشت کی کم زوری ، ذہنی قوت کی کمی اور زیادہ پے چیدہ امراض میں مرگی ، مالی خولیا ، ہسٹیریا یا دیگر نفسیاتی بیماریاں ، چناں چہ شرف عطارد کے وقت ان امراض سے نجات کے لیے بھی نقش و طلسم تیار ہوتے ہیں۔
لوحِ شرفِ عطارد کی تیاری کے بہت سے طریقے مروج ہیں اور مخصوص ضروریات کے تحت سیارہ عطارد سے متعلق اعمال کی بھی کمی نہیں ہے لیکن ہم اس لوح مبارک کو حروف مقطعات یعنی حروف نورانی سے تیار کرتے ہیں یہ ہمارا مخصوص طریق کار ہے جو آپ کو کہیں اور نہیں ملے گا ۔
تیاری کا طریقہ
واضح رہے کہ قرآن کریم میں حروف مقطعات کی اصل تعداد 14 ہے اور یہی حروف نورانی ہیں ، اللہ رب العزت نے ان حروف سے قران کریم کی حفاظت فرمائی ہے، 14 حروف نورانی میں سے 2 کا تعلق سیارہ عطارد سے ہے ، طٰہٰ اور قٓ ، اس کے علاوہ دو حروف مقطعات سیارہ شمس کے ہیں اور ہم نے ان حروف نورانی کی روحانی توانائی سے مدد لی ہے ، اس لوح میں دیگر بھی بہت سے راز پوشیدہ ہیں جنہیں اہل علم و نظر ہی سمجھ سکتے ہیں ۔
برج جوزا اور سنبلہ والوں کے لیے تو یقیناًیہ ’’ لوح عروج و ترقی ‘‘ ہے مگر دیگر افراد بھی جو اپنی ذہنی صلاحیتوں میں کمی یا زائچے میں عطارد کی کم زوری سے پیدا ہونے والی خرابیوں سے پریشان ہیں اس لوح مبارک سے فیضیاب ہو سکتے ہیں، خصوصاً وہ لوگ جن کے جاب یا کاروبار میں مستقل اُتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے اور سال میں کئی بار وہ پریشانیوں کا شکار ہوتے ہیں، اس لوح کو پاس رکھنے سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں، یاد رہے کہ سیارہ عطارد تیز رفتار سیارہ ہے، 12 بروج کا دورہ سال بھر میں مکمل کرلیتا ہے اور اس دوران میں کم از کم تین یا چار مرتبہ رجعت یعنی الٹی چال میں بھی آتا ہے، مزید یہ کہ سیارہ شمس سے قریب رہنے کی وجہ سے اکثر غروب ہوجاتا ہے، ہر سال کے ابتدائی مہینوں فروری مارچ میں اپنے برج ہبوط سے گزرتا ہے، چناں چہ اکثر لوگ اس کی خراب پوزیشن کی وجہ سے مختلف نوعیت کے مسائل اور پریشانیوں کا شکار ہوتے ہیں، اس لوح کو پاس رکھنے سے ان تمام خرابیوں سے نجات مل سکتی ہے اور ہر طرح کا تحفظ حاصل ہوسکتا ہے۔
’’ لوح مبارک ‘‘ یہاں دی جا رہی ہے ۔

لوح کی پیشانی پر حروفِ نورانی طٰہٰ، حٰمٓ، آآآرٰ اور قٓ قائم ہیں،نقش کی میزان 433 ہے جو اسم الٰہی ’’اسمع السامعین‘‘ اور ’’محی الباقی المنعم‘‘ کے اعداد ہیں،نقش کی چال ذوالکتابت ہے، شرف کے اوقات میں سیارہ عطارد کی ساعات کارآمد ہوں گی جو اپنے شہر کے طلوع و غروبِ آفتاب کو مدنظر رکھ کر استخراج کی جائیں، عام لوگوں کی سہولت کے لیے ہم عطارد کی موثر ساعتوں کی نشاندہی کی جارہی ہے۔
ساعاتِ عطارد
شرف کا وقت شروع ہونے کے بعد پہلی ساعت عطارد رات 12 بجے کے بعد یعنی 14 ستمبر کو شب 12:28 am سے شروع ہوگی اور 01:26 am تک رہے گی جب کہ دوسری ساعت جمعہ کی صبح 14 ستمبر کو 07:19 am سے 08:20 am تک رہے گی،دیگر ممالک اور شہروں کے لوگ اگر ساعت معلوم کرنے کا طریقہ جانتے ہیں تو خود یہ کام کرسکتے ہیں یا پھر براہ راست رابطہ کرکے معلوم کرسکتے ہیں، یہاں جو ساعتیں دی گئی ہیں یہ سندھ کی حد تک کام دیں گی۔
رجال الغیب
شرف کے اوقات میں رجال الغیب مشرق میں ہوں گے لہٰذا مغرب کی طرف رُخ کرکے بیٹھنا درست ہوگا۔

ساعتِ عطارد میں باوضو ہوکر چاندی کی پلیٹ پر کندہ کریں یا ہرن کی جھلّی یا عمدہ سفید کاغذ پر بھی زعفران ، عنبر اور عرقِ گلاب کی روشنائی سے لکھ سکتے ہیں ،عمدہ قسم کے عطرِ مجموعہ کی خوشبو سے معطر کریں، نقش لکھتے ہوئے لوبان یا صندل کی اگر بتی جلائیں ، رجال الغیب کی سمت کا خیال رکھیں کہ وہ پُشت پر یا بائیں ہاتھ پر ہوں۔نقش کی پُشت پر مؤکلاتِ علوی و سماوی و ارضی کے نام لکھیں ۔
’’اَقسمتُ عَلَیکُم یا جبرائیل یا نوائیلُ، ابوالعجائب، برقانُ،بحق طٰہٰ،حٰمٓ، اآآرٰ،آ، ترقی و عروج، صحتِ کاملہ وحل المشکلات، العجل الساعۃ‘‘
نقش کی تیاری کے بعد قاعدے کے مطابق کچھ سبز شیرینی پر فاتح دیں اور نقش پہننے کے بعد حسبِ توفیق صدقہ و خیرات کریں خصوصاً معصوم بچوں کو،سمجھ لیں ایک ایسا تحفہ آپ نے پالیا ہے جو زندگی بھر معاون و مددگار رہے گا،نقش کو پہلی بار پہننے یا پاس رکھنے کے لیے نوچندے بدھ کی پہلی ساعت کا انتخا ب کریں یعنی سورج نکلنے کے بعد ایک گھنٹے کے اندر پہن لیں، اپنے روزانہ کے ورد و وظائف میں اسمائے الٰہی یا اسمع السامعین اور یا محی الباقی المنعم 433 مرتبہ پڑھا کریں،انشاء اللہ کوئی مسئلہ ، مسئلہ نہیں رہے گا۔
خاتم عطارد
عطارد ذہانت ‘ قوت حافظہ اور تعلیمی سرگرمیوں سے متعلق ہے‘ سفر اور نشرو اشاعت کے معاملات بھی اس کے زیر اثر ہیں‘ وہ لوگ جو کند ذہنی‘ کمزور حافظہ اور تعلیمی امور میں عدم دلچسپی کی شکایات رکھتے ہیں،لازمی طور پر ان کے پیدائشی زائچے میں سیارہ عطارد کمزور ہوتا ہے،بعض لوگ غبی اور کم عقلی یا کم فہمی جیسی کمزوریوں میں مبتلا ہوتے ہیں،وہ بھی عطارد کی کمزوری ہے،عام طور پر جن لوگوں کے زائچے میں عطارد کمزور ہو وہ علم ریاضی میں ہمیشہ کمزور رہتے ہیں،بعض بچے سائنس کے سبجیکٹ میں اپنی ریاضی کی کمزوری کے سبب آگے نہیں جا پاتے، ان کے لیے یہ وقت نہایت فائدہ بخش ہے‘ اس وقت میں لوح عطارد نورانی کے علاوہ ’’خاتم عطارد‘‘ بھی تیار ہوتی ہے یعنی عطارد کا مخصوص نقش انگوٹھی پر یا کسی موافق اسٹون پر کندہ کرلیا جاتا ہے‘خاتم عطارد کا خصوصی نقش اس بار دیا جا رہا ہے‘ جو لوگ تیار کرنا چاہیں ‘ کر سکتے ہیں‘ یہ 9 خانوں کا مثلث نقش ہے‘ اسے چاندی کی انگوٹھی یا کسی ایسے پتھر پر لکھیں جو سبز یا فیروزی رنگ کا ہو‘ پتھر کو بعد میں انگوٹھی میں جڑوا لیں یا اس کا لاکٹ بنوا کر گلے میں بھی پہن سکتے ہیں‘ نقش یہ ہے ۔


عطارد سال میں کم از کم تین مرتبہ رجعت میں ہوتا ہے یا شمس کے قریب ہونے کی وجہ سے غروب رہتا ہے جیسا کہ 13 اگست سے 5 ستمبر تک رہا، خاتم عطارد اس صورت حال میں معاون و مددگار ثابت ہوتی ہے، برج جوزا اور سنبلہ والوں کا ستارہ عطارد ہے،وہ بھی اس نقش سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو لوگ خود تیار نہ کر سکیں وہ براہ راست رابطہ کر سکتے ہیں۔
نقش عطارد بہت سادہ اور آسان ہے ، نقش کا پہلا خانہ وہ ہے جس میں 4 کا عدد ہے، اسی خانے سے نقش کی چال کا آغاز ہوگا اور پھر بالترتیب 4 سے 11 تک نقش بھرا جائے گا، اوپر دیے گئے اوج کے وقت میں عطارد کی ساعت اس کام کے لیے مناسب ہوگی، نقش کندہ کرتے ہوئے باوضو ہوکر قبلہ رُخ بیٹھیں تاکہ رجال الغیب سامنے نہ ہوں، لوبان کی اگربتی جلائیں اور چنبیلی کا عطر استعمال کریں، کام مکمل ہونے کے بعد سبز رنگ کی مٹھائی پر فاتحہ دے کر چھوٹے بچوں میں تقسیم کریں اور پھر نوچندے بدھ کے روز صبح پہلی ساعتِ عطارد میں پہن لیں۔
عطارد سال میں کم از کم تین مرتبہ رجعت میں ہوتا ہے یا شمس کے قریب ہونے کی وجہ سے غروب رہتا ہے جیسا کہ 13 اگست سے 5 ستمبر تک رہا، خاتم عطارد اس صورت حال میں معاون و مددگار ثابت ہوتی ہے، برج جوزا اور سنبلہ والوں کا ستارہ عطارد ہے،وہ بھی اس نقش سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو لوگ خود تیار نہ کر سکیں وہ براہ راست رابطہ کر سکتے ہیں۔

پیر، 27 اگست، 2018

مگر اب روش ہے الگ الگ مگر اب ہوا کوئی اور ہے

ستمبر کی فلکیاتی پوزیشن اور زائچہ ء حلف وزیراعظم پر اظہار خیال 
عام لوگ وقت کی اہمیت کا مکمل ادراک نہیں رکھتے بلکہ اس بات کی پروا بھی نہیں کرتے کہ کون سا کام کس وقت کرنا بہتر ہے، جب ذہن میں کوئی کام آگیا، اٹھ کھڑے ہوئے اور شروع کردیا، اسی وجہ سے اکثر ناکامیوں اور مایوسی سے سابقہ پڑتا ہے،خاص طور پر اہم کام کی انجام دہی کے لیے کسی مناسب اور سعد وقت کا انتخاب ضرور کرنا چاہیے، شادی بیاہ، کاروبار، جاب، سفر شروع کرنے کے لیے ہمیشہ کسی بہتر وقت کا انتخاب ضروری ہے۔
ہمارے قارئین کو یاد ہوگا کہ 2013 ء میں جناب نواز شریف نے جب بہ حیثیت وزیراعظم حلف لیا تھا تو ہم نے لکھا تھا کہ یہ وقت انتہائی نامناسب اور تباہ کن، کسی وزیراعظم کا حلف جیسے اہم معاملے کو خراب وقت میں انجام دینا خود اس کے لیے اور قوم و ملک کے لیے بھی نیک شگون نہیں ہوتا، چناں چہ ہم نے دیکھا کہ ان کا پانچ سالہ دور اقتدار کیسی کیسی ناگہانی آفات و مشکلات کا شکار ہوا، وہ خود بھی اب قید و بند کی تکلیف برداشت کر رہے ہیں۔
موجودہ انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی اور پھر عمران خان کی بطور وزیراعظم نامزدگی کے بعد پہلے ایک خبر یہ آئی تھی کہ وہ گیارہ اگست کو حلف لیں گے، اس روز سورج گہن تھا چناں چہ ہم نے سوشل میڈیا کے ذریعے اس غلط فیصلے کی نشان دہی کی پھر خبر آئی کہ وہ 18 اگست کو حلف لیں گے، اس روز تقریباً صبح 10:29 am سے قمر برج عقرب میں داخل ہورہا تھا، ہم نے دوبارہ سوشل میڈیا کے ذریعے اس خراب وقت کی نشان دہی کی اور پھر اپنے بعض ذرائع سے کوشش کی کہ اس خراب وقت سے بچا جائے ، اس خرابی کو دور کرنے کے لیے بہتر وقت کی بھی نشان دہی کی یا تو حلف صبح 10:29 سے پہلے مکمل ہوجائے یا پھر شام پانچ بجے کا وقت رکھا جائے، بہر حال ہمیں نہیں معلوم ہمارے ذرائع کس حد تک کامیاب رہے لیکن خوشی ہوئی جب ہمیں معلوم ہوا کہ حلف کا وقت صبح کا رکھا گیا ہے اور تقریباً 10:24 am پر حلف کی کارروائی مکمل ہوئی، یہ ایک مناسب وقت تھا حالاں کہ اگر یہ کارروائی شام پانچ بجے مکمل ہوتی تو مزید بہتر ہوتا۔
مندرجہ بالا وقت کے مطابق اسلام آباد کے اُفق پر برج میزان تقریباً دو درجہ طلوع تھا، برج میزان عمران خان کا ذاتی برج بھی ہے،بدقسمتی سے حلف کے وقت برج میزان کا حاکم سیارہ زہرہ زائچے کے بارھویں گھر میں ہبوط یافتہ ہے، یہ خرابی شام پانچ بجے کے وقت میں نہ ہوتی گویا اب زائچے کا حاکم سیارہ نہایت کمزور پوزیشن رکھتا ہے،یہ کمزوری صاحب زائچہ کو اپنے فرائض کی ادائیگی میں پریشان کرے گی،صحت کے معاملات بھی تسلی بخش نہ رہیں۔
بعض دیگر حوالوں سے زائچہ بہتر ہے،پہلے گھر میں قمر اور مشتری موجود ہیں اور گج کیسری یوگ بنارہے ہیں، یہ یوگ جس زائچے میں ہو ، رفاہی اور اصلاحی کاموں میں مددگار ہوتا ہے،صاحب زائچہ ایسے کام کرجاتے ہیں جنھیں یاد رکھا جاتا ہے،دوسرا یوگ چندرمنگل یوگ ہے یعنی قمر سے چوتھے گھر میں شرف یافتہ مریخ براجمان ہے،اس یوگ کا حامل آمدن کے ذرائع ڈھونڈنے اور انھیں بہتر بنانے کی عمدہ صلاحیت رکھتا ہے، تیسرا اہم ترین یوگ ’’رچاکا یوگ‘‘ ہے یعنی سیارہ مریخ چوتھے گھر میں شرف یافتہ اور نہایت طاقت ور پوزیشن رکھتا ہے، یہ تنہا راج یوگ کے برابر ہے کیوں کہ ایسے لوگ اقتدار حاصل بھی کرتے ہیں اور پھر آسانی سے اسے ہاتھ سے جانے نہیں دیتے،وہ اپنا اقتدار برقرار رکھنے کے لیے جائز ناجائز کی پروا بھی نہیں کرتے، ماضی میں رچاکا یوگ جرمنی کے چانسلر ایڈولف ہٹلر اور پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے زائچے میں موجود تھا۔
رچاکا یوگ کے حامل افراد اپنے مقاصد کے حصول کے لیے جبر سے بھی کام لے سکتے ہیں، وہ جو صحیح سمجھتے ہیں اسے ہر قیمت پر اور ہر صورت میں کرگزرتے ہیں، خواہ بعد میں اس کے نتائج کیسے بھی ہوں اس یوگ کا پہلا اثر تو یہ ہے کہ عوام کے حالات میں مثبت تبدیلیاں آئیں گی، دوم یہ کہ اپوزیشن اپنا سخت کردار ادا کرے گی اور وزیراعظم کے لیے مشکلات پیدا کرنے کا اور ان کی حکومت پر تنقید و احتجاج کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرے گی،یہ بھی ممکن ہے کہ کسی مرحلے پر اپوزیشن ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لے آئے، جیسا کہ ماضی میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت میں ہوا تھا، اگرچہ وہ تحریک عدم اعتماد کامیاب نہ ہوسکی اور چھانگا مانگا سیاست کا ٹائٹل مشہور ہوگیا۔
تیسرا اہم اثر راج یوگ کا عمران خان کا سخت اور بے لچک رویہ ہوگا، وہ اپنے اصولوں پر سمجھوتا نہیں کریں گے، وقتاً فوقتاً بھرپور قوت کا اظہار کرتے ہوئے اپنے مخالفین کے لیے ایک دو دھاری تلوار ثابت ہوں گے،یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اگر یہ دیکھیں کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام ہورہے ہیں اور اپوزیشن ان کے راستے میں رکاوٹ ڈال رہی ہے تو وہ وقت سے پہلے ہی اسمبلی توڑ کر نئے انتخابات کی کال دے دیں اور دوبارہ کامیاب ہوکر میدان میں آئیں۔
سوائے سیارہ زہرہ کے باقی تمام سیارگان زائچے میں مناسب پوزیشن رکھتے ہیں، ان کے ضعف و قوت سے قطع نظر وہ سعد گھروں میں قابض ہیں، حلف کے وقت قمر چاند کی منزل وشاکھا میں تھا، اس منزل پر سیارہ مشتری حکمران ہے،یہ نچھتر بھی کسی حد تک جارحانہ مزاجی کا مظاہرہ کرتا ہے اور اقتدار کو سپورٹ کرتا ہے،زائچے میں مشتری کا دور اکبر جاری ہے جب کہ دور اصغر سیارہ قمر کا ہے۔
اس زائچے کے مطابق مئی 2019 ء تک مشکلات کا سامنا رہے گا اور خاص طور پر 19 دسمبر 2018 ء سے فروری 2019 ء تک ایک نہایت سخت وقت کی نشان دہی ہورہی ہے،عمران خان کو اس عرصے میں اپنی سیکورٹی کے سلسلے میں بھی زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی، امکان ہے کہ یہ وقت موجودہ کابینہ میں بھی ردوبدل کا باعث ہوسکتا ہے،اپوزیشن کا احتجاج بھی شدت اختیار کرے گا اور ملک میں ایسے حالات پیدا ہوسکتے ہیں جو عمران خان کے لیے زیادہ پریشانی کا باعث ہو، اس وقت ان کی ساکھ اور عزت و وقار کو بھی خطرہ ہوسکتا ہے۔
ایسے وقت کے لیے صدقات اور غریبوں کی بھلائی کے کام زیادہ سے زیادہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے،مئی سے زائچے میں سیارہ مریخ کا دور اصغر شروع ہوگا تو وزیراعظم ایسی پوزیشن میں آجائیں گے جب وہ سب کرسکیں گے جو کرنا چاہتے ہوں گے اور بالآخر اپنی مدت پوری کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے (واللہ اعلم بالصواب)
عمران خان کے زائچے اور تحریک انصاف کے زائچے پر ہم پہلے تفصیل سے لکھ چکے ہیں، اب مختصراً زائچہ ء حلف پر بھی کچھ گزارشات پیش کی ہیں، اس موقع پر جناب نصیر ترابی کا ایک شعر بھی قارئین کی نظر ہے ؂
مرے موسموں کے بھی طور تھے، مرے برگ و بار ہی اور تھے
مگر اب روش ہے الگ الگ مگر اب ہوا کوئی اور ہے
ستمبر کے ستارے
حکمرانی اور اقتدار کا سیارہ شمس برج سنبلہ میں حرکت کررہا ہے،23 ستمبر کو اپنے ہبوط کے برج میزان میں داخل ہوگا، منشیِ فلک سیارہ عطارد برج اسد میں ہے، 6 ستمبر کو اپنے شرف کے برج سنبلہ میں داخل ہوگا لیکن سیارہ شمس کی اسی برج میں موجودگی کی وجہ سے غروب ہوجائے گا اور اکتوبر کی گیارہ تاریخ تک غروب رہے گا، توازن اور ہم آہنگی کا ستارہ زہرہ اپنے ذاتی برج میزان میں ہے، 9 ستمبر کو برج عقرب میں داخل ہوگا اور پورا مہینہ اسی برج میں حرکت کرے گا، قوت و توانائی کا ستارہ مریخ مستقیم ہونے کے بعد اپنی سیدھی چال پر شرف کے برج جدی میں ہے،گیارہ ستمبر کو برج دلو میں داخل ہوگا، سیارہ مشتری پورا مہینہ برج عقرب میں رہے گا جب کہ زحل بحالت رجعت برج جدی میں ہے، 6 ستمبر کو مستقیم ہوکر اپنی سیدھی چال پر آجائے گا، سیارہ یورینس برج ثور میں بحالت رجعت حرکت کر رہا ہے جب کہ نیپچون بحالت رجعت برج حوت میں رہے گا، سیارہ پلوٹو بحالت رجعت برج جدی میں رہے گا، راس و ذنب بالترتیب برج اسد اور دلو میں حرکت کریں گے،یہ سیاروی پوزیشن یونانی علم نجوم کے مطابق ہے۔
نظرات و اثراتِ سیارگان
ستمبر کے مہینے میں سعد و نحس نظراتِ سیارگان میں تثلیث کے 6 سعد زاویے اور تسدیس کے چار سعد زاویے ہوں گے جب کہ مقابلے کے تین نحس زاویے اور تربیع کے چار نحس زاویے ہوں گے،دو قرانات ہوں گے جن میں ایک سعد اور دوسرا نحس ہوگا، تفصیل درج ذیل ہے۔
3 ستمبر: عطارد اور زہرہ کے درمیان قران کا سعد زاویہ قائم ہوگا، یہ وقت لوگوں سے میل ملاقات اور معاملات کو خوش اسلوبی سے انجام دینے کے لیے موافق ہے، اس دوران میں فنکارانہ سرگرمیاں، اسپورٹس سے متعلق دلچسپیاں بہتر رہتی ہیں، کاروباری ترقی اور روزگار میں بہتری کے لیے کوشش کرنا مناسب ہوتا ہے۔
7 ستمبر: عطارد اور پلوٹو کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ دوسروں سے اپنی بات منوانے اور ان پر دباؤ ڈالنے کے لیے بہتر ہے، اس وقت کو پبلسٹی سے متعلق کاموں میں بہتر طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔
اسی تاریخ کو عطارد ور زحل کے درمیان تثلیث کا زاویہ ہوگا، یہ وقت تحریری دستاویزات کی تیاری اور آئندہ کے منصوبوں کو حتمی شکل دینے کے لیے بہتر ہے،اس وقت پراپرٹی سے متعلق کام یا کنسٹرکشن وغیرہ کے کاموں میں آسانی ہوتی ہے۔
اسی تاریخ کو شمس اور نیپچون کے درمیان مقابلے کا نحس زاویہ ہوگا، اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد مشکلات اور سازشوں کا شکار ہوتے ہیں، اس وقت گورنمنٹ سے متعلق کام کرتے ہوئے محتاط رہا جائے، آپ کسی نئی الجھن یا دشواری کا شکار ہوسکتے ہیں۔
9 ستمبر: زہرہ اور مریخ کے درمیان اسکوائر کا زاویہ ایک نحس نظر ہے، یہ وقت عورت اور مرد کے درمیان کشیدگی اور تنازعات لاتا ہے لہٰذا دونوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی، اس وقت میں منگنی یا نکاح وغیرہ بھی مناسب نہیں ہوتا۔
11 ستمبر: شمس اور مشتری کے درمیان تسدیس کا سعد زاویہ قائم ہوگا، اس موقع پر قانونی معاملات میں کامیابی ہوتی ہے،ماہرین قانون سے مشورہ کرنا بہتر ہوتا ہے،لون وغیرہ حاصل کرنے کے لیے کوشش کی جاسکتی ہے، گورنمنٹ سے متعلق معاملات میں مدد ملتی ہے، پروموشن کے لیے کوشش کرنا بہتر ہوگا۔
اسی تاریخ کو شمس اور پلوٹو کے درمیان بھی تثلیث کا زاویہ ہوگا،یہ بھی سعد وقت ہے،حکومت کی طرف سے بہتر اقدام سامنے آتے ہیں، عزت و وقار میں اضافہ ہوتا ہے۔
13 ستمبر: زہرہ اور یورینس کے درمیان مقابلے کی نظر نحس اثر رکھتی ہے،اس وقت اچانک اور غیر متوقع صورت حال کا امکان رہتا ہے،پہلے سے مقرر پروگرام ڈسٹرب ہوتے ہیں، محبت، دوستی یا کسی ڈیل وغیرہ میں اچانک کوئی نئی بات یا واقعہ صورت حال کو تبدیل کرنے کا باعث ہوتا ہے۔
اسی تاریخ کو زہرہ اور زحل کے درمیان تسدیس کا زاویہ ہوگا، یہ سعد نظر ازدواجی زندگی میں استحکام اور دو افراد کے درمیان تلخی یا اختلافات کو ختم کرنے میں معاون ہوتی ہے،روز مرہ کے کاموں میں مددگار ثابت ہوتی ہے، رکے ہوئے کام آگے بڑھتے ہیں۔
14 ستمبر: عطارد اور نیپچون میں مقابلے کی نظر نحس اثر رکھتی ہے، افواہیں یا غلط فہمیاں اور بدگمانیاں جنم لیتی ہیں، اس وقت آنکھ بند کرکے دوسروں پر خصوصاً اجنبی یا غیر افراد پر بھروسا نہ کریں، کسی بھی معاملے میں اچھی طرح معلومات حاصل کرنے کے بعد کوئی فیصلہ کریں، تحریر و تقریر میں غلطیاں ہوسکتی ہیں، آپ کی زبان سے کوئی ایسی بات نکل سکتی ہے جو آئندہ مسئلہ بن جائے، میڈیا میں افواہوں اور غلط خبروں کا زور ہوگا۔
16 ستمبر: عطارد اور پلوٹو کے درمیان تثلیث اور اسی تاریخ کو عطارد و مشتری کے درمیان تسدیس کے سعد زاویے قائم ہوں گے،تقریباً تمام ہی ضروری معاملات میں یہ نظرات مددگار ہوسکتے ہیں،دوسروں سے ضروری معلومات کا حصول ، سفر سے متعلق امور اور تعلیمی نوعیت کی سرگرمیاں اس وقت بہتر ہوتی ہیں، کاروبار کو ترقی دینے کے لیے فیصلے یا اقدام کرنا چاہئیں۔
19 ستمبر: مریخ اور یورینس کے درمیان اسکوائر کا نحس زاویہ غیر متوقع اچانک حادثات لاتا ہے،اس دوران میں ڈرائیونگ کرتے ہوئے محتاط رہیں، پاکستان میں یہ وقت سازشوں کے ذریعے نقصانات ظاہر کرتا ہے، اس دوران میں عام لوگوں کو ٹیکنیکل اور الیکٹریکل معاملات میں اچانک مسائل پیش آسکتے ہیں، مشینری کی خریدوفروخت یا الیکٹرونکس کی اشیا کی خریدوفروخت کے لیے اچھا وقت نہیں ہوگا۔
21 ستمبر: شمس اور عطارد کا قران ایک نحس نظر ہے،اس وقت غلطیوں کا امکان بڑھ جاتا ہے،اہم دستاویزات پر اس وقت دستخط نہ کریں یا اچھی طرح مطمئن ہوکر دستخط کریں، دستاویزی کاموں کے لیے بھی یہ وقت بہتر نہیں ہوگا، اس وقت میں سفر ملتوی ہوسکتا ہے یا دوران سفر میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔
23 ستمبر: عطارد اور زحل کے درمیان تربیع کی نظر نحس اثر رکھتی ہے،ایسا وقت شروع ہورہا ہے جس میں اہم کاموں کو روک کر اپنے معمول کے کاموں پر توجہ دینا چاہیے،کسی نئے کام کی ابتدا نہ کریں، خاص طور پر طویل المدت منصوبوں کا آغاز یا ایگریمنٹ نہ کریں، عام لوگوں کو کاموں میں مشکلات کا سامنا ہوگا۔
24 ستمبر: عطارد اور مریخ کے درمیان تسدیس کا سعد زاویہ ٹیکنیکل اور مشینری سے متعلق یا ٹرانسپورٹ سے متعلق کاموں میں مددگار ثابت ہوگی،یہ وقت مشینری کی خریدوفروخت کے لیے بھی بہتر ہے،مشکل اور رکے ہوئے کاموں کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔
26 ستمبر: شمس اور زحل کے درمیان تربیع کا زاویہ نحس اثر رکھتا ہے،گورنمنٹ سے متعلق کاموں میں رکاوٹ آئے گی،اس وقت پراپرٹی کے معاملات میں کوئی رسک نہ لیں، اعلیٰ عہدے دار یا صاحب حیثیت افراد تعاون نہیں کریں گے۔
28 ستمبر: شمس اور مریخ کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ گورنمنٹ سے متعلق ٹیکنیکل کاموں میں مددگار ہوگا۔
قمر در عقرب
اس ماہ قمر اپنے ہبوط کے برج عقرب میں پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 13 ستمبر کو 02:45am سے 04:31am تک رہے گا جب کہ جی ایم ٹی ٹائم کے مطابق 12 ستمبر کو 09:45 pm سے 11:31 pm تک رہے گا،یہ نحس وقت ہے اس وقت کیے گئے کاموں کے نتائج اچھے نہیں ہوتے، البتہ اس وقت علاج معالجہ بہتر رہتا ہے،بری عادات سے نجات، مخالفوں اور دشمنوں کو روکنے کے لیے جفری اعمال اور وظائف کرنا بہتر ہوتا ہے۔
شرف قمر
یکم ستمبر سے پہلے ہی یعنی 31 اگست کو پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 10:12 am سے 12:04 pm تک قمر اپنے درجہ ء شرف پر ہوگا، جی ایم ٹی ٹائم کے مطابق 05:12 pmسے 07:04 pm تک قمر شرف یافتہ ہوگا۔
اس ماہ دوسری بار شرف قمر پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 27 ستمبر کو 03:55 pm سے 05:45 pm تک قمر شرف یافتہ ہوگا جب کہ جی ایم ٹی ٹائم کے مطابق 10:55 am سے 12:45 pm تک۔
یہ سعد اور مددگار وقت ہے، اس وقت نیک اعمال فائدہ مند رہتے ہیں،ہم برسوں سے اس وقت پر گھر میں اتفاق اور محبت کے لیے بسم اللہ کا عمل دے رہے ہیں، اس سے فائدہ اٹھائیں، اس کے علاوہ اسمائے الٰہی یا رحمن یا رحیم کا عمل بھی نیک مقاصد کے لیے دیتے رہے ہیں، آپ وہ بھی کرسکتے ہیں۔
شرف عطارد
شرف عطارد کا وقت سال میں ایک بار آتا ہے، جب سیارہ عطارد اپنے شرف کے برج میں 15 درجے پر پہنچتا ہے، اس سال سیارہ عطارد پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 13 ستمبر 7:07 pm سے 14 ستمبر صبح 07:42 am تک درجہ ء شرف پر ہوگا، اس وقت لوح شرف عطارد یا خاتم عطارد اور سیارہ عطارد سے متعلق دیگر الواح و طلسم تیار کیے جاتے ہیں۔
سیارہ عطارد کا تعلق ذہانت ، قوت حافظہ اور تعلیمی سرگرمیوں یا ٹرانسپورٹ سے متعلق کاموں سے ہے،جو لوگ ان معاملات میں ناکامی کا شکار ہوتے ہیں ان کے لیے لوح عطارد یا خاتم عطارد مددگار ثابت ہوتی ہے،اکثر بچے علم ریاضی میں کمزوری کے باعث سائنس کے میدان میں پیچھے رہ جاتے ہیں،ان کے لیے بھی یہ بہتر موقع ہوگا، بعض لوگوں کو حافظے میں کمزوری کی وجہ سے بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے،ان کے لیے بھی یہ موقع بہتر ہوگا، لوح کی تیاری کا طریقہ ہماری ویب سائٹ پر موجود ہے یا براہ راست رابطہ کرکے ضروری معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔

ہفتہ، 18 اگست، 2018

ہر نفسیاتی گرہ کے پھندے میں کوئی نیا مسئلہ

بچہ ،جوان، بوڑھا، عورت، مرد سب اپنی نفسیات میں یگانہء روزگار 
انسانی نفسیات کا مطالعہ شاید دنیا کا سب سے زیادہ دلچسپ اور حیران کردینے والا کام ہے ، یہ پیچیدہ موضوع اس قدر تہہ دار اور گرہ دار ہے کہ ہر تہہ کے نیچے ایک نئی بالکل اجنبی تہہ موجود ہے اور یہ سلسلہ اسی طرح دراز ہے کہ ہر گرہ کے پھندے میں کوئی نیا مسئلہ بندھا نظر آتا ہے۔
قصہ مختصر یہ کہ انسانی نفسیات کی بوالعجبیاں کبھی ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتیں،مزید طرفہ تماشا یہ کہ بچہ ،جوان، بوڑھا، عورت، مرد سب اپنی اپنی نفسیات میں یگانہء روزگار ہیں،ہم ایک طویل عرصے سے انسانی نفسیات کی یہ نیرنگیاں دیکھ رہے ہیں اور اپنے قارئین کو بھی دکھا رہے ہیں مگر یہ سلسلہ ہے کہ ختم ہونے میں نہیں آتا ۔
انسانی نفسیات کے مسائل اگر کسی انسان کی ذات تک محدود رہیں تو صرف ایک فرد ہی متاثر ہوتا ہے مگر جب ان مسائل کا دائرہ کار ارد گرد یا ساتھ رہنے والوں تک بڑھ جائے تو زیادہ مشکلات اور الجھنیں جنم لیتی ہیں اور عموماً یہی ہوتا ہے کہ یہ مسائل پھیلتے چلے جاتے ہیں،آس پاس کے دیگر لوگ بھی اس کی لپیٹ میں آتے ہیں،اس طرح نت نئی پریشانیوں کا آغاز ہوجاتا ہے،مشکل یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں نفسیات اور مابعد النفسیات سے واقفیت نہ ہونے کے برابر ہے،ایسے تمام پیچیدہ نفسیاتی مسائل اور عوارض کو کسی اور ہی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور گھوم پھر کر سارا الزام آسیب و جنّات ، بھوت پریت،ارواحِ خبیثہ یا سفلی اور کالا جادو کے سر ڈال دیا جاتا ہے، اس نوعیت کے معاملات بھی معاشرے میں موجود ہیں اور اکثر لوگوں کو ان سے واسطہ پڑتا رہتا ہے مگر ہمارا تجربہ اور مشاہدہ یہ ہے کہ اکثریت نفسیاتی یا ما بعد النفسیاتی مسائل کا شکار ہوتی ہے اور ایسے مسائل کو آسیبی یا سحری رنگ ہمارے نام نہاد ماہرِ روحانیات یا بعض کم علم مذہبی بزرگ حضرات دے بیٹھتے ہیں،اُن کی بات کو نظر انداز کرنا سیدھے سادے معمولی سمجھ بوجھ رکھنے والے افراد کے لیے مشکل ہوتا ہے اور نتیجے کے طور پر مسئلہ پیچیدہ ترین ہوتا چلا جاتا ہے،یہاں تک کہ پھر مسائل زدہ کو یہ یقین دلانا بھی ممکن نہیں رہتا کہ اُس کا اصل مسئلہ وہ نہیں ہے جو وہ سمجھ رہا ہے۔
گزشتہ دنوں ایک 80 سالہ بزرگ ہمارے پاس آئے اور اپنے پیچیدہ سحری اور آسیبی مسائل کا احوال سنایا، ہماری سہولت کی خاطر وہ تمام احوال ایک پرچے پر لکھ کر لائے تھے، اُن کی اجازت سے ہم یہ سارا ماجرا اپنے کالم میں بیان کر رہے ہیں تاکہ دوسرے لوگ آگاہی حاصل کریں اور غلط روی سے بچیں۔
وہ لکھتے ہیں ’’ کافی عرصے سے آپ کے کالم پڑھتا ہوں، آپ نے سفلی اور کالے جادو کے بارے میں بھی تحریر کیا ہے،میں ایک عرصے سے پریشان ہوں،دراصل میں نے اپنا مکان توڑ کے دوبارہ بنوایا ہے لیکن بنیاد کی کھدائی کے دوران میں کسی نے تعویذ دبا دیے ہیں،مجھے بہت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا،کئی حضرات سے معلوم کیا تو بتایا گیا کہ ’’بد اثرات‘‘ ہیں،میں ایک پیر صاحب کا معتقد تھا، وہ مجھے بہت پیار کرتے تھے،میں نے ان سے کہا تو انہوں نے گیارہ کنکریاں پڑھ کر مجھے دیں، میں نے ہر کنکری ایک پلر کے نیچے دبا دی اور مکان بن گیا لیکن نحوست نے ڈیرے ڈال دیے اور پریشانیاں بڑھ گئیں،گھر سے برکت ختم ہوگئی،بچوں کا روزگار ٹھیک نہیں ہے،میری بیوی ایک دن صفائی کر رہی تھی تو سامان کی الماری میں ان کو ایک کاغذ کی پُڑیا نظر آئی، اس کو کھولا گیا تو اُس میں گیارہ باریک کاغذوں پر کچھ لکھا ہوا تھا،تحریر پڑی نہ جاسکی،بیوی نے بتایا کہ یہ پُڑیا ایک طویل عرصے سے الماری میں رکھی ہوئی تھی،میں گھبرایا گیا،گھر کے نزدیک ایک صاحب کا آستانہ ہے، میں نے وہ تعویذ لے جاکر ان کو دکھائے لیکن ان سے بھی تحریر پڑی نہ جاسکی،انہوں نے کہا کہ سفلی علم ہے اور جلد اس کو دریا برد کردیں،گھر میں نہ رکھیں،ان کے پاس ایک شیشہ تھا جو انہوں نے پڑھ کر مجھے دیا،اس میں دو عورتوں کی دھندلی شکلیں نظر آئیں،میں صبح ہی نیٹی جیٹی گیا اور آٹے میں ملا کر وہ کاغذات سمندر میں ڈال دیے۔
’’میں جس کمرے میں سوتا تھا وہاں پر دیوار پر ایک لال رنگ کی وال کلاک لگی ہوئی تھی اس کے ساتھ میں نے یا اللہ لکھا ہوا لگا دیا تھا،کچھ دنوں کے بعد رات کو مجھے ایک شخص نظر آیا جو گھڑی کے پاس ایک سیاہ چادر میں لپٹا ہوا تھا،اُس کا رُخ اللہ کے طغریٰ کی طرف تھا،میں اُسے بہت دن تک دیکھتا رہا پھر میرے بیٹے کے ایک ملنے والے نے چار تعویذ دیے اور کہا کہ بدن پر مل کر عصر کے وقت جلا دیں،میں نے وہ جلائے پھر وہ شخص نظر نہیں آیا لیکن کچھ دن بعد دوبارہ نظر آنے لگا،میں نے بیٹے سے کہا تو اُس نے پھر چار تعویذ لا دیے،میں نے وہ جلا دیے، تین دن جلانے کے بعد میں نے اسے گھڑی کے فریم میں دیکھا اُس نے مجھے گھور کر دیکھا، میں گھبرا گیا،رات کو وہ مجھے گھڑی کے فریم میں نظر آتا تھا،میں اللہ کا کلام پڑھتا اور دم کرتا تھا،اسی دوران میں میرا ایک عزیز اپنے ہندو دوست کو لے آیا،اُس نے کچھ کیا اور سارے گھر میں کیلیں گڑوادیں،اُس نے بتایا کہ آپ کے گھر میں جو کچھ ہے وہ کافی دیر میں جائے گا،پہلے تو گھر میں دیواروں پر ، غسل خانے میں اور چھت پر جگہ جگہ کالے دائرے نظر آئے لیکن پھر نظر آنا بند ہوگئے،میں جس کمرے میں سوتا تھا وہ بدل لیا،گھڑی بھی ہٹا دی پھر ایک دن میں رمضان میں سحری میں اٹھا، چار بجے کا وقت تھا، میں چارپائی پر بیٹھا تھا کہ اسٹور کی طرف سے ایک شخص میرے کمرے میں داخل ہوا، میں نے اُس سے کہا ’’ارے کدھر آرہے ہو‘‘وہ صوفے کے قریب آکر غائب ہوگیا،میں نے اُس کی شکل نہیں دیکھی،کچھ دن بعد مجھے کچن کے دروازے کے پاس ایک عورت نظر آئی، سفید دوپٹا پہنی ہوئی تھی،میں فکر میں پڑ گیا،تھوڑے دن بعد چھت کی سیڑھیوں سے ایک لڑکا آتا دکھائی دیا، ایک روز میں نے صبح فجر کے وقت اس کمرے کا دروازہ کھولا جس میں پہلے میں سوتا تھا تو سامنے ایک کبوتر کے برابر مرغی کا بچہ دانہ چگتا نظر آیا،میں باتھ روم گیا ، دروازہ کھولا تو ایک سفید چیز نظر آئی جو کموڈ میں داخل ہوگئی پھر کچھ دنوں کے بعد میرے کمرے کے دروازے پر ایک شخص نظر آیا۔
’’ایک صاحب اللہ کے ناموں کے بارے میں لکھتے ہیں انہوں نے اسم الٰہی یا جبار کے بارے میں تحریر کیا کہ کالے علم اور سفلی علم کے لیے مفید ہے اور اُس کا ورد بھی تحریر کیا،میں نے اُن کو خط لکھا۔ انہوں نے یا جبار کا نقش ارسال کیا،میں نے ہدایت کے مطابق یا جبار کا ورد شروع کیا اور گیارہ روز مکمل ہوگئے پھر ایک سال تک کچھ نظر نہیں آیا اور طبیعت بھی ٹھیک رہی مگر دوبارہ یہ سلسلہ شروع ہوگیا،مجھے اپنے کمرے کی دیواروں پر عجیب قسم کے چھوٹے چھوٹے جانور چپکے ہوئے نظر آنے لگے اور کالے دائرے بھی،میرے گھر میں بلّیاں بہت ہیں،باہر سے آجاتی ہیں،ایک بلّی کا سر میں نے دیوار پر لگا دیکھا، میں پریشان ہوگیا تو میں نے دوبارہ یا جبار کا ورد شروع کردیا،چار دن مجھے بہت سکون ملا، طبیعت بھی خاصی اچھی رہی پھر پانچویں دن ورد کیا تو رات کے تین بجے میری آنکھ کھلی،سامنے دیکھا تو دیوار پر چار پانچ سطر کی اردو یا عربی لکھی نظر آئی،پڑھنے کی کوشش کی لیکن نظر سے اوجھل ہوگئی،چھٹے دن بھی مجھے تحریر نظر آئی،ساتویں دن پھر میں نے دیکھا کہ کوئی تحریر لکھ رہا ہے اور بہت روانی سے ، ایسی تحریر جیسے کہ مکڑی کے جالے کی طرح ہوتی ہے،میں جب آنکھ بند کرکے کھولتا ہوں تو تحریر تھوڑی تھوڑی نظر آتی ہے اور پھر غائب ہوجاتی ہے،میں نے فی الحال ورد کرنا بند کردیا ہے لیکن وہ پھر بھی نظر آتی ہے،عجیب عجیب قسم کی تحریریں ہیں،ازراہِ کرم میری پریشانیوں کو ختم کرنے کا حل بتائیں،میرے گھر میں کالی اور دوسری بہت سی بلّیاں ہیں،باہر سے بھی آتی ہیں، مجھے خواب میں کالی اور دوسری بلّیاں نظر آتی ہیں،یہ تمام مناظر جو میں دیکھتا ہوں، صرف مجھے ہی نظر آتے ہیں،گھر والوں کو نہیں‘‘
جواب: محترم! آپ نے اپنے خط کے آخر میں یہ بھی لکھا ہے کہ اگر جواب اخبار میں دیں تو نام شائع نہ کریں،بہر حال آپ کو جواب دیا جارہا ہے مگر اُس سے پہلے ہمارے بھی کچھ سوالات ہیں،اُن پر ضرور غور فرمایئے گا۔
آپ نے یہ وضاحت نہیں فرمائی کہ آپ کو کیسے یقین ہوا کہ کسی نے مکان کی بنیاد کی کھدائی کے دوران میں تعویذ دبا دیے ہیں،آپ کی معلومات کے ذرائع کیا تھے؟ کیا محض کسی جاننے والے کی اطلاع پر یقین کرلیا تھا یا ایسی کیا وجہ ہوئی کہ آپ دیگر حضرات کے پاس گئے اور انہوں نے فرما دیا کہ بد اثرات ہیں جب کہ ابھی تو مکان زیرِ تعمیر تھا،آپ کے پیر صاحب نے توڑ کے طور پر گیارہ کنکریاں پڑھ کر دیں جو آپ نے مکان کے ہر پلر کے نیچے دبا دیں پھر مکان بن بھی گیا اور بقول آپ کے گھر میں نحوست نے ڈیرے ڈال دیے تو کیا آپ کے پیر صاحب کی گیارہ کنکریوں نے کوئی کمال نہیں دکھایا؟
گھر کی الماری سے جو پُڑیا آپ کی بیوی کو ملی اُس کی تحریر کسی سے پڑھی نہیں گئی لہٰذا اس بنیاد پر کسی آستانے والے صاحب نے سفلی علم کا حکم لگا دیا اور آپ نے یقین کرلیا! جب وہ پڑھ ہی نہیں سکے کہ کیا لکھا ہے تو ظاہر ہے محض گمان اور قیاس کی بنیاد پر کوئی بات کرنا کس حد تک درست ہے،انہوں نے آپ کو شیشہ کس لیے دیا جس میں آپ کو دو عورتوں کی دھندلی شکلیں نظر آنے لگیں؟
وال کلاک اور اللہ کا نام دیوار پر تھا آپ کو سیاہ چادر میں وہاں ایک شخص نظر آیا جس کا رُخ اللہ کی طرف تھا،آپ نے اُسے شیطان کیوں سمجھ لیا ؟شیطان کا اللہ سے کیا رابطہ؟ جوابی کارروائی کے طور پر آپ کے بیٹے نے کسی صاحب سے چار تعویذ لا دیے،یقیناً اُس نے کسی پیر صاحب یا عامل صاحب سے کہا ہوگا کہ میرے والد پر آسیب کا سایہ ہوگیا ہے اور انہوں نے کسی عملیات کی کتاب سے آسیب کو بھگانے کا تعویذ لکھ کر دے دیا ہوگا، اپنے طور پر کوئی تشخیص تحقیق کرنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی ہوگی،نتیجے کے طور پر وہ شخص بالآخر گھڑی کے فریم میں پناہ گزیں ہوگیا اور آپ کو گھورنے لگا۔
آپ ماشاء اللہ مسلمان ہیں ، نماز کی پابندی کرتے ہیں اور اللہ کا کلام بھی پڑھتے ہیں پھر آپ نے کس دل سے ایک ہندو کو اجازت دی کہ وہ آپ کے گھر میں کیلیں پڑھ کر گڑوادے؟اُس وقت آپ کے اور دیگر گھر والوں کے ایمان کو کیا ہوا تھا؟
آپ بنیادی طور پر ایک حساس اور اعصابی طور پر کمزور انسان ہیں،عمر کی جس منزل میں ہیں یہاں اعصاب اور بھی کمزور ہوجاتے ہیں،مزید یہ کہ اولاد سے متعلق مسائل اور پریشانیاں زود رنج بھی بنادیتی ہیں اور فکر مندی بھی لاتی ہیں،فکرو غم انسان کو مزید اعصابی طور پر توڑ کر رکھ دیتے ہیں،آپ ایک طویل عرصے سے محنت اور جدوجہد کر رہے ہیں لیکن آپ کی اولاد وہ مقام حاصل نہیں کرسکی جو آپ چاہتے تھے،اس تمام صورت حال کے ساتھ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جب اولاد جوان ہوجائے اور شادی شدہ بھی ہو تو ماں باپ تنہا رہ جاتے ہیں،اب تو آپ غالباً شریک حیات سے بھی جدا ہوچکے ہیں،پابندی سے عبادات میں مشغول رہتے ہیں،پرانے یار دوست بھی نہ رہے ہوں گے جن کے ساتھ بیٹھ کر ہنس بول لیا جائے اور دل کی بھڑاس نکال لی جائے،ایسی صورت میں انسان کی اپنی حساسیت مزید بڑھ جاتی ہے اور اُس کی سوچیں اور خیال نت نئے روپ اختیار کرنے لگتے ہیں۔ آپ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے چوں کہ ابتدا ہی سے آپ خاصے تَوَہّم پرست واقع ہوئے ہیں اور کانوں کے بھی کچے ہیں،لہٰذا جس نے جو کہہ دیا ، آپ نے اس پر یقین کرلیا،معاشی پریشانیوں اور گھریلو بیماریوں کو بھی آپ جادو اور آسیب کی کار گزاری سمجھنے لگے،خالی بیٹھے بیٹھے آپ صرف ایسے ہی معاملات کے بارے میں سوچ سوچ کر پریشان ہوتے رہتے ہیں، ایک کہاوت مشہور ہے کہ خالی مکان اور خالی دماغ آسیب کا مسکن ہوتا ہے،آپ کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ آپ خود کو بہت تنہا محسوس کرنے لگے ہیں کیوں کہ شادی شدہ اولاد کے اپنے مسائل کم نہیں ہیں، وہ آپ کے لیے زیادہ وقت نہیں نکال سکتے،آپ نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ جو کچھ آپ دیکھ رہے ہیں اُس سے آپ کو ذاتی طور پر کیا نقصان پہنچا؟ آپ اس عمر میں بھی بہتر صحت کے مالک ہیں،کھانا پینا، سونا جاگنا اور دیگر تمام مصروفیات جاری ہیں،کسی جادو یا جنات نے آپ کا کچھ نہیں بگاڑا،آپ کے بچے اور بچوں کے بچے جو اسی گھر میں مقیم ہیں، ان کا بھی کچھ نہیں بگڑا،جہاں تک معاشی پریشانیوں کا تعلق ہے تو یہ ایک الگ مسئلہ ہے جس کا تعلق آپ کے بیٹوں کی اپنی صلاحیت اور کارکردگی سے ہے اور جہاں تک بیماریوں کا معاملہ ہے تو جس گھر میں معاشی تنگی ہوتی ہے وہاں علاج معالجہ بھی صرف کسی ایمرجنسی کے تحت سرکاری اسپتالوں میں ہوتا ہے اور غذا کے طور پر جو مل جائے غنیمت سمجھا جاتا ہے لہٰذا بیماریاں گھر میں مستقل ڈیرا ڈال لیتی ہیں۔
آپ کھانے میں نمک بالکل بند کردیں، بہت زیادہ پڑھنے پڑھانے سے گریز کریں،گھر میں اگر مختلف روحانی معالجین کے دیے ہوئے نقش و تعویذ موجود ہیں تو انہیں بھی سمندر میں ڈلوادیں،اپنے کمرے میں تنہا نہ رہیں، رات کو کسی دوسرے کو ساتھ سلائیں،گھر کے باہر اپنے لیے کوئی مصروفیت تلاش کریں،کچھ نہیں تو رات کا کھانا کھانے کے بعد گھر کے باہر تھوڑی بہت چہل قدمی ہی کرلیا کریں،نماز باجماعت ادا کریں تاکہ مسجد میں دوسرے لوگوں سے سلام دعا رہے،اپنے معاملات کا تذکرہ کسی سے نہ کریں ورنہ مزید آستانوں اور پیروں یا مولویوں کی روحانی مدد کا بوجھ اٹھانا پڑ جائے گا،ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کریں جس نے آپ کو ایک طویل زندگی کی نعمت سے نوازا ہے، اولاد کی اولاد کو بھی جوان ہوتا دیکھ رہے ہیں، اپنی آنکھوں کا ٹیسٹ کرائیں، اگر نظر کمزور ہے تو چشمہ لگائیں اور ہمیں یقین ہے کہ آپ کی نظر کمزور ہے،آپ کا بلڈ پریشر لو رہتا ہے، ممکن ہے شوگر بھی کم رہتی ہو،یہ تینوں عوامل مل کر آپ کو نت نئے تماشے دکھا رہے ہیں،آپ جو کچھ سوچتے ہیں وہی آپ کو نظر آنے لگتا ہے،ضروری نہیں ہے کہ آپ کی یہ سوچ شعوری ہو، جو کچھ آپ دیکھ رہے ہیں یہ سب آپ کے لاشعور اور تحت الشعور کی کار گزاری ہے،حقیقت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے،آخری بات یہ کہ آپ جیسے نیک اور شریف بزرگ روحانی لطافت کا نمونہ ہوتے ہیں اور اُن کی آنکھوں پر پڑا وہ حجاب اٹھ جاتا ہے جو انسانوں اور دیگر ماورائی مخلوق کے درمیان پردے کا کام کرتا ہے لہٰذا اس نوعیت کی چیزیں نظر آنے لگتی ہیں،اس کی وجہ نمک کی زیادتی بھی ہوتی ہے،کاش ہماری ساری باتیں آپ کی سمجھ میں آجائیں اور آپ خوفزدہ ہونا یا پریشان ہونا چھوڑ دیں۔لہسنیا جسے انگریزی میں کیٹ آئی کہتے ہیں، پہن لیں۔ آپ کے گھر میں بلّیاں آنا بند ہوجائیں گی۔

پیر، 6 اگست، 2018

کہیں فریب نہ دیتی ہوں مل کے کچھ موجیں

گہن سیریز کا اور اس سال کا آخری سورج گہن، شیزوفرینیا کیا ہے؟
عزیزان من!25 جولائی کو پورے پاکستان میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن ہوگئے اور نتیجے کے طور پر تحریک انصاف ایک اکثریتی پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے،عمران خان وزیراعظم بننے کی تیاریاں کر رہے ہیں لیکن دلچسپ صورت حال یہ ہے کہ وفاق اور صوبوں میں تمام دیگر جماعتیں ایک گرینڈ الائنس بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ نئی بننے والی حکومت کے لیے ایک سخت اور جارح قسم کی اپوزیشن سامنے آئے۔
ہمارے قارئین کو یاد ہونا چاہیے کہ اپنے دو جولائی کے کالم میں جو سورج اور چاند گہن کے حوالے سے تھا، ہم نے جن خدشات کا اظہار کیا تھا وہ پوری طرح سامنے آچکے ہیں، ہم نے لکھا تھا ’’موجودہ گہن سیریز میں چاند گہن نہایت منفی اثرات کا حامل نظر آتا ہے، یہ زائچہ ء پاکستان کے نویں گھر میں واقع ہوگا جب کہ نواں گھر پہلے ہی اس سال غیر معمولی سیاروی ایکٹیویٹی ظاہر کر رہا ہے ، نئے گھر کا تعلق آئین و قانون، عدلیہ اور الیکشن کمیشن سے ہے، گہن کے اثرات ایک ماہ پہلے شروع ہوجاتے ہیں اور ایک ماہ بعد تک اپنااثر دکھاتے ہیں، 28 جولائی کا چاند گہن ملک میں انتشار، بدنظمی اور کسی غیر معمولی اقدام کی نشان دہی کر رہا ہے، اس گہن کے نتیجے میں عدلیہ اور الیکشن کمیشن کسی تنازع کی زد میں آسکتے ہیں، عبوری حکومت کی کارکردگی بھی متنازع ہوسکتی ہے، غیر ملکی سازشیں بڑھ سکتی ہیں، صورت حال کو سنبھالنے کے لیے مسلح افواج کو اپنا کردار ادا کرنا پڑسکتا ہے‘‘۔
مزید عرض کیا تھا ’’انتخابات 25 جولائی کو ہی منعقد ہوئے تو نتائج چونکا دینے والے اور غیر متوقع ہوں گے، اکثر سیاسی پارٹیاں نتائج سے مطمئن نہیں ہوں گی، اس بار 28 جولائی کا چاند گہن ظاہر کر رہا ہے کہ انتخابی نتائج کے حوالے سے ملک بھر میں اور خصوصاً پنجاب میں کوئی احتجاجی تحریک جنم لے سکتی ہے جو ظاہر ہے شکست خوردہ پارٹی کی جانب سے ہی ہوسکتی ہے‘‘۔
الیکشن کے فوراً بعد ہی تقریباً تمام ہی پارٹیوں نے الیکشن کی شفافیت پر آواز اٹھانا شروع کردی تھی، بعد ازاں ایک آل پارٹیز کانفرنس مولانا فضل الرحمن نے بلائی اور کہا کہ ہم نتائج کو مسترد کرتے ہیں اور اسمبلیوں میں بھی نہیں جائیں گے بلکہ شدید احتجاج کریں گے لیکن پیپلز پارٹی اس کانفرنس میں شریک نہیں ہوئی، انھوں نے بھی الیکشن کے نتائج کو مسترد کیا اور اسمبلی میں جاکر احتجاج کرنے اور سخت اپوزیشن کرنے کا ارادہ ظاہر کیا، تادم تحریر صورت حال یہ ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں ایک بڑا تحاد بناکر نئی حکومت کے خلاف صف آرا ہونے کی تیاریوں میں مصروف ہیں، البتہ اسمبلیوں میں جانے اور اسمبلی کی کارروائی میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں۔
گہن سیریز کا تیسرا گہن 11 اگست کو زائچہ ء پاکستان کے تیسرے گھر میں لگنے جارہا ہے،تیسرا گھر پہل کاری اور ایکشن کا گھر ہے لیکن اچھی بات یہ ہے کہ گہن کے درجات زائچے کے دیگر گھروں کو متاثر نہیں کر رہے مگر قمر تیسرے گھر کا حاکم ہے جو شمس سے قربت کی وجہ سے تحت الشعاع ہوگا، چناں چہ ایسے فیصلے اور اقدام سامنے آسکتے ہیں جو نئے تنازعات اور مسائل کو جنم دے سکتے ہیں، امکان یہ ہے کہ تقریباً اسی دوران میں کسی وقت عمران خان حلف بھی اٹھاسکتے ہیں، ایک خبر یہ بھی تھی کہ وہ گیارہ اگست کو حلف اٹھائیں گے مگر ابھی تک اس کی تصدیق نہیں ہوسکی، بہتر یہی ہوگا کہ نیا چاند نظر آنے کے بعد حلف لینے کا پروگرام بنایا جائے، مزید یہ کہ کامیابی کے نشے میں اس حقیقت کو نظرانداز نہ کیا جائے کہ شکست خوردہ پارٹیاں کسی صورت نہیں چاہتیں کہ تحریک انصاف وفاق یا دیگر صوبوں میں حکومت بنائے اور پھر کامیابی سے اسے چلائے، چناں چہ آخر وقت تک چوکس رہنے کی ضرورت ہوگی ورنہ ایسے نتائج سامنے آسکتے ہیں جو تحریک انصاف کے لیے بہتر نہ ہوں گے۔
گزشتہ دنوں عمران خان کے زائچے پر گفتگو کرتے ہوئے ہم نے عرض کیا تھا کہ زائچے میں بارھویں گھر کے قابض سیارہ زحل کا دور اصغر جاری ہے ،راہو سے متاثرہ ہے لہٰذا موجودہ دور ہر گز مکمل طور پر اطمینان بخش نہیں ہے،ان کی کامیابیاں اور ناکامیاں بہر حال بہت سے سوال پیدا کرتی ہیں ، الیکشن میں کامیابی اور وزیراعظم بننے کے سلسلے میں اس وقت ان کے زائچے کا سب سے مثبت پہلو یہ ہے کہ سیارہ مشتری ان کے پہلے گھر میں حرکت کر رہا ہے،11 اگست کے بعدمشتری طالع کے درجات سے مزید قریب ہوگا اور اس طرح پہلے ، پانچویں، ساتویں اور نویں گھر سے ناظر ہوگا،یہ صورت حال ان کی موافقت میں ہے لیکن ان کا اپنا ستارہ زہرہ بارھویں گھر میں اپنے برج ہبوط میں ہے، زہرہ کی یہ پوزیشن اچھی نہیں ہے، کسی بدمزگی یا تکلیف دہ صورت حال کی نشان دہی کرتی ہے،گویا جو کچھ وہ چاہتے ہیں ، شاید فوری طور پر نہ کرسکیں، البتہ جب زہرہ ستمبر کی ابتدا میں ان کے پہلے گھر برج میزان میں داخل ہوجائے گا تو صورت حال بہت بہتر ہوجائے گی اور وہ حالیہ جاری مسائل پر بھرپور طریقے سے قابو پانے کی پوزیشن میں ہوں گے، بہر حال ہم 2010 ء سے مسلسل آسمانی کونسل کے اشاروں کو دیکھتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے کہ نئی قیادت کا ظہور ناگزیر ہے، اس کی پہلی جھلک 2013 ء میں نظر آگئی تھی اور اب مکمل ظہور ہوچکا ہے، اس اعتبار سے 2018ء کے الیکشن تاریخی ہیں کہ لسانی ، صوبائی اور مذہبی سیاست پوری طرح ناکام ہوئی ہے، بڑے بڑے برج نئے اور گم نام جوانوں نے الٹ دیے ہیں، یہ ایک ابتدا ہے، انتہا خدا معلوم!
کہیں فریب نہ دیتی ہوں مل کے کچھ موجیں
جہاں تو ڈوب رہا ہے بھنور بھی ہے کہ نہیں 
سال کا آخری سورج گہن
جولائی کے مہینے سے چاند اور سورج گہن کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا اس کا اختتام اگست میں ہوگا، گیارہ اگست کو پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق سورج گہن کا آغاز 01:02 pm پر ہوگا، جب کہ گہن کا نقطہ ء عروج 02:46 pm ہے اور اختتام 04:30 pm پر ہوگا، جی ایم ٹی ٹائم کے مطابق گہن کا آغاز صبح 08:02 am پر ہوگا اور نقطہ ء عروج 09:46 am ہے اور اختتام 11:30 am پر ہوگا۔دیگر ممالک کے قارئین جی ایم ٹی ٹائم سے اپنے ملک کا فرق مدنظر رکھ کر گہن کا صحیح وقت معلوم کرسکتے ہیں۔
سورج گہن سے متعلق ضروری عملیات و وظائف گزشتہ ماہ دیے گئے تھے، وہ اس موقع پر بھی کیے جاسکتے ہیں، اگر آپ کے پاس گزشتہ کالم نہ ہو تو ہماری ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں۔ www.maseeha.com
گہن کے موقع پر بعض دیگر ضروریات کے لیے بھی کچھ عملیات پیش کیے جارہے ہیں، خیال رہے کہ جائز و ناجائز کا خیال رکھتے ہوئے ان سے کام لیں،بہ صورت دیگر کسی نقصان کا خطرہ رہے گا۔
عمل برائے دشمن
اگر کسی دشمن سے جان کا خطرہ ہو اور وہ مسلسل پریشان کرتا ہو تو 41 کالی مرچیں لے کر گہن کے وقت یہ عمل کریں،خیال رہے کہ باوضو بیٹھیں اور رجال الغیب کی طرف پشت کریں یا انھیں بائیں ہاتھ پر رکھیں،گیارہ اگست کو رجال الغیب شمال مشرق میں ہوں گے لہٰذا جنوب مغرب کی طرف رُخ کرکے بیٹھیں، قریب ہی کسی انگیٹھی میں کوئلے دہکا کررکھیں، سب سے پہلے تین بار یہ اسمائے الٰہی پڑھیں اور اپنے سینے پر دم کریں اور دونوں ہاتھوں پر دم کرکے ہاتھوں کو چہرے پر پھیر لیں، یا حافظ یا حفیظ یا رقیب یا وکیل۔
بعد ازاں ایک بار بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر پوری سورۂ لہب پڑھیں اور دشمن کا نام مع والدہ لیں پھر اس کالی مرچ پر دم کرکے اسے آگ میں ڈال دیں، اسی طرح 41 کالی مرچوں پر سورۂ لہب مع نام مع والدہ دشمن کا لے کر دم کریں اور اسے آگ میں ڈالتے جائیں، عمل ختم کرنے کے بعد کچھ مٹھائی پر فاتح دیں اور اسے لوگوں میں تقسیم کردیں، چاول اور باجرہ برابر وزن میں ملاکر پرندوں کو ڈالیں، ان شاء اللہ آپ کا دشمن تباہ و برباد ہوگا۔
عمل برائے سحروآسیب
اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ کسی سحر و جادو یا آسیب و جنات کی وجہ سے پریشان ہیں یا ان کے گھر میں ایسے اثرات موجود ہیں، ان کے لیے ایک عمل دیا جارہا ہے،گہن کے وقت پاک صاف ہوکر ایک سفید کاغذ پر بسم اللہ کے ساتھ چاروں قل لکھ لیں، لکھنے کے لیے بلیک یا بلیو پین استعمال کرسکتے ہیں، اس طرح کے پانچ نقش تیار کریں، ایک نقش اپنے پاس رکھیں اور باقی چار نقش اپنے گھر کے چاروں کونوں میں دفن کردیں، ان شاء اللہ ہر قسم کے اثرات کا خاتمہ ہوگا اور آئندہ بھی حفاظت رہے گی۔
برائے جسمانی و ذہنی کمزوری
اکثر لوگ جسمانی و ذہنی کمزوری کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں، ایسے لوگوں کے لیے ایک عمل دیا جارہا ہے، گہن کے وقت پوری سورۂ التین (والتین والزیتون) مع بسم اللہ سفید کاغذ پر زعفران اور عرق گلاب کی روشنائی بناکر لکھیں اور ایسے 14 نقش تیار کریں، ایک نقش اپنے بازو پر باندھیں اور باقی 13 نقش روزانہ ایک نقش عرق گلاب میں دھوکر تھوڑا سا شہد ملاکر صبح نہار منہ پی لیا کریں، ان شاء اللہ تھوڑے ہی دن میں ذہنی و جسمانی کمزوری دور ہونے لگے گی۔
شیزوفرینیا، ذہنی شکستگی یا شخصیت کی تقسیم
ہماری گفتگو میں ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ بات چین کی ہورہی ہو تو جاپان کی طرف بھٹک جاتے ہیں اور قصہ جاپان کا چھڑ جائے تو درمیان میں تائیوان آجاتا ہے، دراصل موضوع کی ضروریات کے تقاضے جب مختلف حوالوں پر مجبور کرتے ہیں تو ان حوالوں کی وضاحت ہمیں اصل موضوع سے دور لے جاتی ہے اور ایک بات سے دوسری بات نکلتی چلی جاتی ہے۔
جیسا کہ ہم پہلے بھی عرض کرچکے ہیں، یہی وہ جسمانی اور نفسیاتی عوارض ہیں جو جناتی اور آسیبی بیماریوں سے جڑے ہوئے ہیں، عام لوگ اپنی ناقص معلومات کی وجہ سے ایسی تمام بیماریوں کو جنات، ہمزاد، پری، دیو، خبیث اور سحروجادو سے تعبیر کرتے ہوئے مریض کا غلط علاج کرانے پر تل جاتے ہیں اور نتیجے کے طور پر اس کی زندگی برباد ہوکر رہ جاتی ہے۔
ہمارا ذاتی مشاہدہ ہے کہ ان امراض کے بارے میں لوگ شدید ناواقفیت اور کم علمی کا شکار ہیں، ہسٹریا کے بارے میں آپ پڑھ ہی چکے ہیں اور شیزوفرینیا کا حوالہ ہم پہلے بھی کئی بار دے چکے ہیں ، آئیے اب دیکھیں کہ یہ شیزوفرینیا کیا بلا ہے اور اس کے بارے میں ماہرین نفسیات اور طبی ماہرین کیا ارشاد فرماتے ہیں مگر اس سے پہلے بے شمار کیسوں میں سے ایک کیس کی روداد سن لیجیے۔
یہ 1995 ء کا قصہ ہے، ہمارے ایک دوست ہمیں اپنے ایک جاننے والے کے گھر لے گئے کہ وہ اپنی لڑکی کی طرف سے بہت پریشان تھے، انھوں نے بتایا کہ لڑکی کو عجیب طرح کے دورے پڑتے ہیں، وہ اپنے گھر والوں کی دشمن بنی ہوئی ہے، خاص طور پر اپنی ماں کی دشمن ہے، اسے پہچاننے سے بھی انکار کرتی ہے، بے ہودگی اور بدتمیزی سے پیش آتی ہے،ماں کو یا بہن بھائیوں کو مارنے پیٹنے سے بھی گریز نہیں کرتی، گھر کے برتن اٹھا کر پھینکنے لگتی ہے، قیمتی سامان توڑ ڈالتی ہے، کبھی کبھی اپنے آپ کو ننگا کرلیتی ہے یعنی کپڑے وغیرہ اتار کر پھینک دیتی ہے لیکن ڈرتی بھی بہت ہے، ماں سے کہتی ہے ہر وقت میرے ساتھ رہو، دن رات بجلی روشن رکھو، اندھیرا اسے خوف زدہ کردیتا ہے۔
ہم نے علیحدگی میں لڑکی سے ملاقات کی اور بہت نرمی سے اس سے گفتگو کا آغاز کیا، خیال رہے کہ ایسے مریض کا علاج اسی صورت میں ممکن ہے جب مریض اور معالج کے درمیان اعتماد اور خوش گوار فضا قائم ہوجائے ورنہ مریض معالج کو بھی اپنا دشمن سمجھ کر عدم تعاون اور سرکشی کے راستے پر گامزن ہوجاتا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ پہلے مریض کے ہم خیال و ہمدرد بننے کی کوشش کریں تاکہ وہ آپ سے تعاون کرے، تب ہی رفتہ رفتہ آپ اسے اپنے راستے پر لاسکیں گے۔
مریضہ نے ہمیں اپنا ہمدرد و غم خوار محسوس کیا تو کہنے لگی کہ یہ سب لوگ میرے دشمن ہیں، مجھے زہر دینا چاہتے ہیں، میں بیمار نہیں ہوں، میں تو ان سے بہت دور جاچکی ہوں، میرے ساتھ غیبی طاقتیں ہیں، میں ان کی آوازیں سنتی ہوں، کبھی کبھی مجھے جن اور بھوت بھی نظر آتے ہیں جن سے مجھے خوف آتا ہے کیوں کہ وہ بہت ڈراؤنے ہوتے ہیں، بڑے خراب اور بھیانک چہرے والے، وہ مجھ سے کہتے ہیں کہ اپنے گھر والوں کو مارو تو ہم چلے جائیں گے، ورنہ تمھیں نہیں چھوڑیں گے، مجھے ہر اطراف سانپ بھی دکھائی دیتے ہیں، کبھی کبھی میرا دل چاہتا ہے کہ ننگی ہوجاؤں، میں ڈرتی بھی بہت ہوں اس لیے اکیلی نہیں رہ سکتی، میرے گھر والوں کو مجھ سے محبت نہیں، وغیرہ وغیرہ۔
یہ مریضہ کے بیان کا خلاصہ تھا اور مریضہ سو فیصد شیزوفرینیا، تقسیم شدہ شخصیت یا ذہنی شکستگی کا شکار تھی مگر قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس کی بیماری کی علامات اور اس کی عادات و حرکات جناتی مریضوں سے کس قدر مشابہ ہیں، ہاں، ایک اور بات بھی سن لیجیے، اس کی والدہ کے بقول وہ اکثر پیش گوئیاں بھی کرتی جو پوری بھی ہوجاتی تھیں، ایک بار چھوٹے بھائی پر برہم ہوئی اور غصے میں کہا کہ تیرا ایکسیڈنٹ ہوگا، دوسرے ہی روز اس کی موٹر سائیکل سڑک پر سلپ ہوگئی اور اسے شدید چوٹیں آئیں، کبھی کسی مہمان کے گھر آنے کی اطلاع دیتی اور وہ واقعی آجاتا، غرض اس قسم کی باتیں بھی بہت سی تھیں۔
خدا کے فضل سے اب یہ لڑکی دو بچوں کی ماں ہے اور کامیاب ازدواجی زندگی گزار رہی ہے، 97 ء میں اس کی شادی ہوئی جس میں ہم بھی شریک تھے۔
شیزوفرینیا کی چار قسمیں مشہور و معروف ہیں، نمبر ایک سادہ یا ’’ابتدائی شیزوفرینیا‘‘ اس حالت میں مریض عام طور پر کند ذہن، دنیا سے کنارہ کش، تنہائی پسند اور کاہل ہوتا ہے، دوسری قسم کو’’کیٹانونیا‘‘ کہتے ہیں، اس کا مریض کبھی تو مدہوشی کی حالت میں ہوتا ہے اور کبھی ہیجانی کیفیت میں، مدہوشی اور ہیجان کئی قسم کا ہوسکتا ہے، یعنی نیم بے ہوشی یا اپنی حالت سے بے خبری اور اپنی کسی نئی شخصیت کا اظہار۔
تیسری قسم’’پیرانوئیا‘‘ کہلاتی ہیں، اس قسم کا مریض اس وہم میں مبتلا ہوتا ہے کہ لوگ اس کے دشمن ہیں، اسے دکھ، تکلیف پہچانے کے درپے ہیں۔
چوتھی قسم’’ہیبے فرینیا‘‘ ہے، اس کا مریض احمقانہ اور فضول حرکات اور بے سروپا باتیں کرتا ہے، اسے اس سے بھی کوئی غرض نہیں ہوتی کہ دوسرے اس کی حرکات اور باتوں میں دلچسپی لے بھی رہے ہیں یا نہیں۔
بات دراصل یہ ہے کہ انسان کی انا شدید خوف، غم و غصہ، ناکامی و محرومی اور توہین کو برداشت نہیں کرپاتی تو وہ ان پر قابو پانے کی کوشش میں اپنی تمام تر توجہ ان پر مرکوز کردیتی ہے، یہاں تک کہ خود ان جذبات کے ساتھ یک جان ہوکر رہ جاتی ہے، انسان کا ذہن ٹوٹ پھوٹ کر رہ جاتا ہے اور بیرونی حالات سے منہ موڑ کر اپنے اندر کی طرف رخ کرلیتا ہے، دوسرے معنوں میں وہ اپنے ہی مخصوص خول میں بند ہوجاتا ہے، اس کی نفسی حالت یہ ہوجاتی ہے کہ وہ عالم خواب کے کوائف کو جو زمان و مکان، شکل و صورت اور سیاق و سباق کی قید سے آزاد ہوتے ہیں، بیرونی حقیقی دنیا میں دیکھنے لگتا ہے، مثلاً جن، بھوت یا بزرگان دین، عزیزوں، رشتے داروں کی روحیں (ہمزاد) وغیرہ بھی اسے نظر آرہے ہوتے ہیں اور وہ ان سے باتیں بھی کر رہا ہوتا ہے، یوں سمجھ لیں کہ مریض کے نفسیاتی تصورات جسمانی خواص اختیار کرلیتے ہیں، اس کی دنیا ماورائی پر چھائیوں، غیبی آوازوں، دوستوں اور دشمنوں، اذیت رسانوں اور سازشوں سے بھری ہوتی ہے، بعض مریض تو خدا سے ہم کلامی اور شیطان وغیرہ سے ملاقات کا دعویٰ بھی کر بیٹھتے ہیں یا بعض اپنے ملاقاتیوں میں اللہ کے برگزیدہ بندوں، صاحبان مزار، جنات وغیرہ کو بھی شامل کرلیتے ہیں، اس طرح درحقیقت وہ اپنی محرومیوں، ناکامیوں کے ازالے کی کوشش کرکے اپنی مجروح انا کی تسکین کر رہے ہوتے ہیں۔
بعض جدید ماہرین نفسیات کے نزدیک دیگر نفسیاتی بیماریوں اور شیزوفرینیا میں فرق کی وضاحت کچھ اس طرح ہے، وہ کہتے ہیں’’جب آدمی نفس کے فساد میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ تین میں سے کسی ایک حالت میں ہوتا ہے، اول، دوسرے انسانوں سے کنارہ کشتی اختیار کرنا، دوم، دوسرے انسانوں کے خلاف ہوجانا اور سوم، خود اپنے خلاف ہوجانا‘‘ ان تین علامتوں میں سے کوئی ایک علامت شیزوفرینیا اور دیگر نفسیاتی امراض میں فرق کرتی ہے۔
پہلی علامت ذہنی شکستگی کی ہے، جب کہ دوسری علامت کے زمرے میں ہم اذیت رساں، تشدد پسند، جنونی قاتل، معاشرے،مذہب اور قانون کے باغی، ڈاکو افراد کو بھی شامل کرسکتے ہیں، تیسری حالت افسردگی اور مالیخولیا کی ہے۔
اس جگہ مشہور اعصابی بیماری نیوراسس اور سائیکوسس کے درمیان فرق کو بھی سمجھ لیں، نیوراسس یعنی اعصابی خلل یا اعصابیت ایسی اعصابی کیفیت کو کہتے ہیں جو مریض کے ماحول میں تناؤ، دباؤ اور تشویش کے باعث پیدا ہوتی ہے، اس کی چار اقسام طے شدہ ہیں،پہلی تشویشی حالت، دوسری ہسٹریا، تیسری دو عملی افسردگی اور چوتھی خبط و جنون۔
ہسٹریا کے تعارف میں اس حوالے سے ماہرین نفسیات کا نکتہ ء نظر ہم پیش کرچکے ہیں، یہاں اتنی وضاحت اور کردیں کہ اعصابیت کا مرض انسان کے بیرونی ماحول کی خرابیوں سے جنم لیتا ہے اور نفسی فساد مریض کے اپنے ذہن کی پیداوار ہوتا ہے۔
ہسٹریا کے بارے میں ہم خاصی تفصیل دے چکے ہیں، تشویش (Anxiety) کا مریض کسی نہ کسی فکر اور غم یا خوف میں مبتلا رہتا ہے اور اندر ہی اندر گھلتا رہتا ہے، مثلاً اس کی طبیعت صرف اس وجہ سے بھی خراب ہوسکتی ہے کہ امتحانات قریب آرہے ہیں یا کسی سفر پر روانہ ہوتا ہے، کسی گناہ یا احساس جرم یا مستقبل کا خیال بھی اسے مسلسل تشویش کے مرض میں مبتلا کرسکتا ہے، دو عملی یا تفاعلی افسردگی کسی بیرونی دباؤ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، مثلاً کوئی کام جو آپ کرنا نہیں چاہتے وہ جبراً آپ کو کرنا پڑے، کوئی ذمے داری آپ پر اچانک آ پڑے جس سے فرار ممکن نہ ہو، خبط اور جنون کسی بیرونی عمل کے رد عمل کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے اور اس کے اسباب انسانی نفس کے فساد میں بھی تلاش کیے جاسکتے ہیں۔
قصہ مختصر یہ کہ جسمانی بیماریاں زیادہ تر مادی اسباب کے باعث جنم لیتی ہیں اور ان کا اثر انسانی جسم تک ہی محدود رہتا ہے مثلاً ناقص غذا کے استعمال سے بدہضمی کا ہونا، ٹھنڈی اشیا کے استعمال پر ٹھنڈ لگ جانے سے نزلہ زکام و بخار وغیرہ مگر نفسیاتی اور ذہنی عارضے مادی اور جسمانی نہیں ہوتے، اسی لیے تشخیص کے مروجہ طریقے یعنی لیبارٹری ٹیسٹ وغیرہ ان کا سراغ لگانے میں ناکام رہتے ہیں، معاملہ کسی پراسرار صورت حال کی طرف چلا جاتا ہے مثلاً کسی بری خبر کے نتیجے میں اگر غشی یا سکتے کی کیفیت طاری ہوجائے یا امتحان کے خوف سے طالب علم کو بخار چڑھ جائے، سردرد شروع ہوجائے، دست لگ جائیں یا یہی صورت کسی سخت اور ظالم افسر کے ماتحت کے ساتھ ہو تو ہم اسے مادی اور جسمانی بیماری قرار نہیں دیں گے، ہاں یہ ضرور کہیں گے کہ ذہنی و نفسیاتی بیماری کا اثر جسم قبول کر رہا ہے جس کی علامت دست و بخار وغیرہ ہے۔
نفسیاتی بیماریوں کی ایک مادی وجہ جسمانی بیماریوں کا طول پکڑنا بھی مشاہدے میں آیا ہے کیوں کہ طویل عرصے تک جسمانی بیماری اپنی پوری شدت کے ساتھ لپٹی رہے تو انسان کا ذہن اور نفس بھی اس صورت حال سے متاثر ہوتا ہے اور انسان کسی نفسیاتی مرض میں مبتلا ہوسکتا ہے۔