Pakistan لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Pakistan لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 2 جنوری، 2015

ربیع الاوّل میں نئے سال کا آغاز مبارک

فوجی عدالتوں کا قیام جمہوری حکومت کی ناکامی اور جوڈیشنل مارشل لأ ہے

قارئین کرام! سب سے پہلے نئے سال کی مبارک باد قبول کیجئے ہماری دعا ہے کہ نیا سال آپ کی زندگی میں نئی خوشیاں اور نئی کامیابیاں لائے   پرانے مسائل کا خاتمہ ہو۔

نہایت خوشی اور شادمانی کا مقام ہے کہ سال 2015 کا آغاز ربیع الاول کے مبارک مہینے سے ہو رہا ہے یہ وہ مہینہ ہے جس میں آقائے دو جہاں  سرور کائنات حضرت محمدمصطفیٰ ﷺ اس جہان فانی میں تشریف لائے اور ظلم اور جہالت کی تاریکی چھٹ گئی دین مبین سر بلند ہوا صحرائے عرب سے بلند ہونے والی ایک صدائے حق ساری دنیا میں گونجنے لگی  اس زمانے کی سپر پاورز روم و ایران جو نہایت تحقیر کے انداز میں اس چھوٹی سی ریاست کو دیکھ رہی تھیں جو مدینہ میں قائم ہوئی تھی  اس وقت سخت حیران و پریشان ہوئیں جب انہیں مسلمانوں کے مقابلے میں پے بہ پے شکستوں کا سامنا کرنا پڑا اور جنگ یرموک و قادسیہ کے بعد تو جیسے روم اور ایران نے مکمل طور پر شکست تسلیم کرلی۔

پہلی اسلامی ریاست کا قیام خود حضور اکرم ﷺ کے مبارک ہاتھوں سے ہوا اور اس کے بعد یہ ریاست دنیا کی عظیم اسلامی سلطنت میں تبدیل ہو گئی  مشرق میں بنگال سے اگر آغاز کیا جائے تو مغربی افریقہ میں بحیرہ اوقیانوس کے ساحلوں تک اور شمال میں سائبیریا سے بحرہ ہند تک اسلامی سلطنتوں کا سلسلہ تقریباً 1500سال تک جاری رہا  دوسرے معنوں میں مسلمان 1500 سال تک دنیا کی سب سے بڑی اور موثر ترین طاقت رہے  یہ دور عروج ماضی میں کسی قوم کو حاصل نہیں ہوا اور آج بھی مسلمان کرہ ارض کے چپے چپے پر موجود ہیں اور دنیا کی اہم ترین مملکتیں اسلامی ممالک میں شامل ہیں لیکن بدقسمتی سے مسلمانوں کے درمیان مخلص قیادتوں کافقدان ہے جو مسلمانوں کی ترقی کے لیے مثبت طرز عمل اختیار کریں۔

کہاں یہ عالم تھا کہ مغرب سے حصول علم کے لیے لوگ مصر اور بغداد آیا کرتے تھے اور اب ہم انگلینڈ اور امریکہ جاتے ہیں  کسی اسلامی ملک میں ایسی اعلیٰ معیار کی یونیورسٹیز نہیں ہیں جو مغربی یونیورسٹیوں کا متبادل ثابت ہوں  یہی وہ خرابی ہے جس نے گزشتہ 500 سال میں مسلمانوں کو دنیا کی دیگر اقوام کے مقابلے میں خاصا پس ماندہ کردیا ہے اور اس حوالے سے ہمارے رہنماؤں کی سوچ اس سے بھی زیادہ پسماندگی کا شکار ہے ایک پروگرام کے دوران میں قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام کی مخالفت کر رہے تھے اور اس حوالے سے جو دلیلیں وہ پیش کر رہے تھے انہیں سن کر موصوف کی پسماندہ سوچ کا اندازہ کیا جا سکتا تھا۔

قافلے دلدلوں میں جاٹھہرے
رہنما پھر بھی رہنما ٹھہرے

 نئے سال 2015 کے حوالے سے گزشتہ ہفتے سال بھر کی فلکیاتی صورت حال پر گفتگو شروع کی گئی تھی جو تاحال نامکمل ہے  اس کا ابتدائی حصہ آپ نے یقیناً ملاحظہ کیا ہوگا  ہمیں نئے سال کے حوالے سے کوئی خوش گمانی نہیں ہے  ہم گزشتہ کئی سال سے ”تبدیلی کی جس لہر “ کا تذکرہ کرتے آئے ہیں   آنے والا ہر سال اس کی بھرپور نشان دہی کر رہا ہے اور 2014  میں تو سارا منظر نامہ ہی تبدیل کردیا ہے  اس حوالے سے عمران خان نے نمایاں قائدانہ کردار ادا کیا اوراس سال بھی عمران خان کا کردار نمایاں رہے گا  27 جنوری 2015  سے عمران خان کے ذاتی زائچے میں مشتری کا دور اکبر شروع ہورہا ہے اور دور اصغر بھی مشتری ہی کا ہوگا  مشتری زائچے کا لکی اسٹار ہے لیکن زائچے میں کمزور ہے عمران خان کو یلو سفائر کا نگینہ پہننا چاہیے   مشتری کے دور میں وہ غیر معمولی کارنامے انجام دے سکتے ہیں۔

 2014 میں پاکستانی قوم میں ایک نیا شعور بیدار ہوا ہے اور ہمارے جعلی  مفاد پرست سیاست داں بری طرح بے نقاب ہو ئے ہیں  یہ فرق بھی واضح ہو چکا ہے کہ کسی بھی مشکل مرحلے پر بالآخر پورے ملک کو فوجی ادارے کی طرف ہی دیکھنا پڑتا ہے اور وہی صورت حال کو درست کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں‘ کراچی کا مسئلہ ہو یا دہشت گردی کے ملک گیر مسائل بالآخر فوج ہی کو مداخلت کرنا پڑتی ہے  ابھی سانحہ پشاور کے بعد بڑے بڑے جمہوریت کے چمپئن زمیں بوس ہو گئے اور فوجی قیادت کے سامنے سجدہ شکر بجا لائے  یہ الگ بات ہے کہ اب اپنی جھوٹی انا کاپرچم بلند کرنے کے لیے نت نئی تاویلیں پیش کر رہے ہیں  کھل کر اس بات کا اعتراف کرلینا چاہیے کہ پاکستان کی سیاسی اور جمہوری اشرافیہ اعلیٰ درجے کی ایڈمنسٹریٹیو صلاحیتوں سے عاری ہے اور جب بھی کوئی جمہوری حکومت قائم ہوتی ہے تو بدانتظامی کے ایسے ایسے مظاہرے سامنے آتے ہیں کہ لوگ ماضی کی فوجی حکومتوں کو یاد کرنے لگتے ہیں  انتظامی صلاحیتوں کے فقدان کے علاوہ ایک مسئلہ نیتوں کے فتور کا بھی ہے جو ہماری سیاسی اشرافیہ کو کبھی سیدھے راستے پر آنے نہیں دیتا یہاں قدم قدم پر ذاتی اور پارٹی مفادات آڑے آتے ہیں اور ملکی اورقومی مفاد پس پشت چلے جاتے ہیں۔

جوڈیشنل مارشل لأ

 دہشت گردی کے خلاف فوجی عدالتوں کا قیام ایک طرح سے ”جوڈیشنل مارشل لأ“ ہے‘ قارئین کو یاد ہونا چاہیے ہم نے 22 نومبر کے نیو مون چارٹ کا تجزیہ کرتے ہوئے دسمبر کی خطرناک صورت حال کی نشان دہی کی تھی اور عرض کیا تھا کہ یہ حکومت کے لیے ایک سخت مہینہ ہوگا  کسی بڑے سانحے کی نشان دہی بھی اس زائچے میں نمایاں تھی بلکہ نظرات و اثرات سیارگان کے حوالے سے یورنیس اور پلوٹو کے درمیان اسکوائر کے نحس زاویے کی تشریح کرتے ہوئے لکھا تھا ”یہ نظر حادثات کی نشان دہی کرتی ہے کوئی بڑا حادثہ یا سانحہ پیش آ سکتا ہے ‘ دو ممالک کے درمیان محاذ آرائی میں اضافہ ہو سکتا ہے

 سانحہ بھی ہو چکا اور پاک بھارت تعلقات میں محاذ آرائی بھی بڑھ گئی ہے ملکی صورت حال میں فتنہ و فساد اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ نوبت فوجی عدالتوں کے قیام تک آ گئی ہے حقیقت یہ ہے کہ ایک غیر اعلانیہ ایمرجنسی کی صورت حال موجود ہے   ملک میں مارشل لا نہیں ہے مگر جوڈیشنل مارشل لا کی تیاری ہے  اس تازہ منظر نامے کے ساتھ ہم نئے سال 2015ءکا آغاز کر رہے ہیں  اس حوالے سے مختلف موضوعات پر آپ گزشتہ کالم کا مطالعہ کر چکے ہیں  آئیے چند دیگر موضوعات پر بھی بات ہوجائے۔

 ملکی مفادات

 گیارہواں گھر مفادات سے متعلق ہے اور اس کا حاکم قمر آٹھویں مصیبت کے گھر میں ہے‘ گیارھویں گھر میں مشتری شرف یافتہ لیکن رجعت میں ہے‘ لہٰذا کمزور ہے‘ سیارہ مریخ سے پوری نظر کا تبادلہ کر رہا ہے‘ گویا دونوں ایک دوسرے کو ناظر ہیں،یہ ایک نہایت پیچیدہ صورت حال ہے، مریخ آٹھویں مصیبت کے گھر کا حاکم اور مشتری چوتھے عوام ، سکون اور آسائشات کے گھر کا مالک ، دونوں کے درمیان مقابلے کی نظر اور قمر پربھی مریخ کی نظر عوامی سکون و چین کو برباد کرتی نظر آتی ہے، ملکی مفادات کے لیے بہر حال اس سال کو اچھا نہیں کہا جاسکتا‘ بین الاقوامی تجارتی امور میں ہم عام دنیا سے بہت پیچھے رہ سکتے ہیں‘ ہمارے دوستوں اور مدد گاروں سے بھی ہمیں خاطر خواہ فوائد شاید حاصل نہ ہو سکیں۔

گیارہواں گھر ملکی زائچے میں پارلیمنٹ کی بھی نمائندگی کرتا ہے‘ مریخ کی نظر یہ ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے کہ پارلیمنٹ کا کردار کس معیار کا ہوگا‘ ممبران اسمبلی اپنے ذاتی مفادات کے لیے سرگرم رہیں گے‘ ان کی حیثیت ربر اسٹمپ سے زیادہ نظر نہیں آتی‘ جہاں تک ملکی مفادات کا تعلق ہے تو اس کے لیے ان کا کوئی کردار نظر نہیں آتا‘ ویسے بھی ہمارے ملک میں ہرپارٹی کے ممبران اسمبلی پارٹی ڈکٹیٹر شپ کے زیر اثر میاں مٹھو ہی ثابت ہوتے ہیں‘ ان کی مجال نہیں ہے کہ پارٹی پالیسی کے علاوہ کوئی بات زبان سے نکال سکیں‘ لہٰذا اسمبلی ممبران اور ان کی کارکردگی پرکوئی بات کرنا ہی فضول ہے۔

 سیارہ مریخ برج سرطان میں یکم اگست کو داخل ہوگا اور 12اگست سے تقریباً 27اگست تک گیارہویں گھر کے حساس درجات سے گزرے گا‘ اپنے داخلے کے فوراً بعد زائچے کے پانچویں گھر میں موجود سیارہ زہرہ سے مقابلے کی نظر بنائے گا جس کے نتیجے میں معیشت کو بڑا جھٹکا ، مہنگائی میں اضافہ اور حادثات کی زیادتی ،کسی فلم یا ٹی وی فنکار سے متعلق کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آسکتا ہے۔

مریخ زائچے کے دوسرے ‘ پانچویں اور چھٹے گھر سے ناظر ہوگا‘یہ ممبران اسمبلی کے لیے بھی ایسا وقت ہوگا جس میں وہ نقصانات یا حادثات کا شکار ہو سکتے ہیں‘ مزید یہ کہ یہ وقت فوج ‘ بیو روکریسی کے معاملات میں بھی کسی نئی تبدیلی کا امکان ظاہر کرتا ہے‘ کوئی اہم فوجی مسئلہ اس وقت نمایاں ہوگا اور بعض بڑے بیوروکریٹس زیر عتاب آ سکتے ہیں، مریخ ستمبر کے دوسرے ہفتے میں پانچویں گھر میں موجود پیدائشی مریخ سے نظر مقابلہ قائم کرے گا،یہ وقت کسی بڑے حادثے کو جنم دے سکتا ہے۔

نقصانات اور خفیہ سازشیں

بارہواں گھر خالی ہے اور اس کا حاکم ہر سال کی طرح اس سال بھی چوتھے گھر میں براجماں ہے‘ ماضی کے سالوں کی نسبت سے اس کافاصلہ اب پلوٹو سے بڑھ چکا ہے‘ یہ اچھی بات ہے‘ جون کے پہلے ہفتے اور جولائی میں مریخ سے اس کی نظر قائم ہوگی جس کے نتیجے میں کسی صاحب حیثیت شخصیت یا اعلیٰ عہدے دار کی تنزلی یا کوئی حادثہ پیش آسکتا ہے۔

سیارہ مشتری 15اگست تک بارہویں گھر میں داخل ہوجائے گا اور یہ بہر حال اچھی بات نہیں ہوگی‘ خصوصاً عوامی مسائل میں مزید اضافہ ہوگا‘ حکومت کے بعض اقدامات کے نقصانات 15اگست کے بعد سامنے آ سکتے ہیں جو عوامی مفادات کے خلاف ہوں گے‘ ستمبر میں مشتری کے سعد اثرات عوامی سطح پر محسوس ہوں گے اور ملکی اثاثوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے لیکن 17ستمبر سے مریخ بارہویں گھر میں داخل ہوجائے گا‘ شمس پہلے سے یہاں موجود ہوگا‘ اس اعتبار سے اکتوبر کا مہینہ پڑوسی ممالک سے چھیڑچھاڑ اور جنگی مہم جوئی کا امکان ظاہر کرتاہے‘ اندرون ملک بھی دہشت گردی کی وارداتیں اور جرائم میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

 مریخ زائچے کے پہلے گھر میں 5 نومبر تک داخل ہوگا اس دوران میں سیارہ زحل بھی تیسرے ‘پانچویں ‘ نویںاور بارہویں گھر کومتاثر کر رہا ہوگا‘ مریخ اور زحل کی تربیع بھی قائم ہوگی دونوںباہم ناظر ہوں گے ‘ لہذا اکتوبر نومبرکو اس سال کے آسان مہینے نہیں کہا جا سکتا‘ اہم تبدیلیاں ان مہینوں میں متوقع ہوںگی خصوصاً 20نومبر سے 5 دسمبر تک کا وقت حادثات کو جنم دینے کا باعث ہو سکتا ہے ‘ دہشت گردی کی کارروائیاں اور ان کے خلاف فورسز کے آپریشن کی رفتار بڑھے گی، تقریباً 18 نومبر سے مریخ کے نحس اثرات زحل کے نحس اثرات کے ساتھ شامل ہوکر اندرون و بیرون ملک نئے مسائل کو جنم دینے کا باعث ہوں گے،اس وقت بھی خانہ جنگی جیسی صورت حال اور دہشت گردی کی کارروائیوں کا سامنا ہوسکتا ہے،ملک کی مسلح افواج اور سیکورٹی سے متعلق اداروں کی زیادہ فعالیت نمایاں رہے گی،عدلیہ اور آئین و قانون کی اہمیت تقریبا نہ ہونے کے برابر ہوگی۔ (واللہ اعلم بالصواب)

کتنے ہی سال مرے درپئے آزار ہوئے
اک سال اور سہی‘ یہ بھی گزر جائے گا

عزیزان من! ملک کے سالانہ زائچے کے حوالے سے یقینا آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ شاید ہم تصویر کا ایک ہی رُخ دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور دوسرا کوئی خوش نما یا خوش کن پہلو ہمیں نظر ہی نہیں آرہا تو اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک کی لیڈر شپ ہمیشہ سے کمزور، کرپٹ اور ملک سے غیر مخلص ہے، یہ صورت حال سیاست دانوں اور دیگر مقتدر حلقوں کے درمیان مستقل محاذ آرائی کا باعث ہے جس کے نتیجے میں سیاست داں اقتدار میں آنے کے بعد صرف اپنے اقتدار کی طوالت کے لیے مصروف عمل ہوجاتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح اپنی مدت پوری کریں،اس حوالے سے چاہے جیسے بھی سمجھوتے کرنا پڑیں، وہ کرتے ہیں اور اس کا نتیجہ ملکی عوام کے لیے اور ملک کے لیے اچھا نہیں نکلتا، اب لوگ یہ کہنے لگے ہیں کہ ملک نے اگر کبھی ترقی کی ہے اور عوام کو سکون اور چین کا سانس نصیب ہوا ہے تو وہ ڈکٹیٹرز کے دور میں ممکن ہوسکا ہے،اس خیال کی بنیادی وجہ وہی ہے جو ہم اوپر بیان کرچکے ہیں کہ سیاسی اور جمہوری سیٹ اپ کو اپنی ہی بقاءکی فکر لاحق رہتی ہے،عوامی مسائل اقتدار میں آتے ہی ان کی نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں،ایسی صورت حال میں زائچے میں پیدا ہونے والے ناقص اثرات اور مشکل اوقات سے نمٹنا آسان نہیں رہتا،ایسے ہی خراب اثرات دنیا کے دیگر ممالک کے زائچوں میں بھی موجود ہوتے ہیں لیکن وہاں صورت حال مختلف ہوتی ہے،حکومت اور لیڈر اپنے اقتدار کی جنگ لڑتے نظر نہیں آتے بلکہ کسی بھی مشکل وقت میں حکومت اور اپوزیشن متحد ہوکر کام کرتی ہے اور ملکی مفادات پر کوئی کمزوری یا لچک نہیں دکھاتی۔

کیا اس سوال کا کوئی جواب ہے کہ تقریباً 2007  سے 2014  تک کوئی ایک سال بھی ایسا گزرا ہو جو ملک میں مہنگائی ، بجلی کے بحران، پانی کے مسائل ، جرائم میں کمی،دہشت گردی کے واقعات سے نجات، مجرموں کی گرفتاری اور پھر سزا کا عمل، ملکی خزانے کی زبوں حالی، ورلڈ بینک سے قرضے وغیرہ سے نجات کا سال کہا جاسکے؟حالاں کہ اب 2008  سے ملک میں جمہوری نظام جاری ہے ، ایک اسمبلی نے اپنی مدت پوری کی ہے اور دوسری اسمبلی اپنی مدت پوری کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اس قسم کی باتوں کے جواب میں ہمارے بعض سیکولر دانش ور یا جمہوریت کے علم بردار جواباً کہتے ہیں کہ جمہوری عمل کو پختہ ہونے میں وقت لگتا ہے،کم از کم یہ عمل 40,50 سال جاری رہے تو میٹھے پھل کی توقع کرنا چاہیے،اس پر ہمیں مرزا غالب یاد آجاتے ہیں

ہم نے مانا کہ تغافل نہ کروگے لیکن
خاک ہوجائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

اس حوالے سے مثالیں برطانیہ اور امریکہ کی دی جاتی ہیں کہ جناب وہاں بھی جمہوریت کے پودے کو جڑ پکڑنے اور قد آور درخت بننے میں تقریبا 100 سال لگے، ایسے تمام جمہوریت نواز ہماری نظر میں یقینا پیٹ بھرے امرا  یعنی طبقہ  اشرافیہ سے تعلق رکھتے ہیں اور طبقہ ءاشرافیہ ہمارے ملک میں مختلف اقسام کے فیوڈلز پر مشتمل ہے جن کے بچے بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہیں اور وہ اپنے علاج معالجے کے لیے بھی لندن اور امریکہ کے اسپتالوں کو پسند کرتے ہیں۔

کیا اس سے بڑا مذاق کوئی اور ہوسکتا ہے کہ ایک جاگیردارانہ طبقاتی نظام میں جمہوریت کا ڈراما رچایا جائے اور دولت و طاقت کے زور پر اقتدار حاصل کیا جائے، زرداری صاحب آج نواز شریف صاحب پر طنز فر مارہے ہیں کہ وہ وزیر اعظم منتخب ہوئے ہیں، کوئی بادشاہ نہیں ہیں،کیا یہ لوگ خود آئینہ نہیں دیکھتے؟ ان کے وزیر اعظم اور فیملی کی عیاشیاں ان کے دور اقتدار ہی میں زبان زدِ عام تھیں اور آج تک انہیں کرپشن کے مقدمات کا سامنا ہے جب سارے سیاست داں اور ان کے ہم نوا جمہوریت پسند صحافی مل کر فوجی ڈکٹیٹروں کو صلواتیں سنا رہے ہوتے ہیں تو یہ بھول جاتے ہیں کہ اپنے اپنے جمہوری دور اقتدار میں انہوں نے ملکی اور عوامی بھلائی کے لیے کیا کارنامے انجام دیے؟وہ لوگ جو اپنی ذاتی سیاسی پارٹیوں میں کسی جمہوریت کے قائل نہیں ہیں، اپنی تقریروں میں جمہوریت کے گیت گاتے نظر آتے ہیں،عوامی مسائل حل کرنے کا دعویٰ کرنے والے لیڈروں کا اپنا حال یہ ہے کہ انہیں رہائش کے لیے عظیم الشان قلعہ نما محلات اور سواری کے لیے بلٹ پروف گاڑیاں اور حفاظت کے لیے ذاتی یا سرکاری محفاظوں کی ایک فوجِ ظفر موج درکار ہے،ہر ادنیٰ و اعلیٰ سیاست داں بڑے بڑے انقلابی نعروں اور تبدیلی کے وعدوں کے ساتھ میدان سیاست میں قدم رکھتا ہے اور کروڑوں یا اربوں روپے خرچ کرکے مسند اقتدار تک پہنچتا ہے پھر اور کچھ تو تبدیل ہوتا نہیں،وہ خودتبدیل ہوجاتا ہے، اس کی اپنی زندگی میں بڑا شاندار انقلاب آجاتا ہے،چناں چہ اس ملک کا مسئلہ ہی اعلیٰ، مخلص اور دیانت دار قیادت کا فقدان ہے جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا، ملک کا زائچہ ایسی ہی تصویر پیش کرتا رہے گا جیسی 2015 ءکے زائچے کی ہے، دعا کرنی چاہیے کہ اللہ رب العزت حبیب جالب مرحوم کے دعائیہ شعر کو قبولیت عطا فرمائے۔

کوئی تو پرچم لے کر نکلے اپنے گریباں کا جالب
چاروں جانب سناٹا ہے‘ دیوانے یاد آتے ہیں

سوالات و جوابات

ایس ڈبلیو لکھتی ہیں”اس سے پہلے بھی آپ کو میل کی تھی جس کا جواب آپ نے دیا تھا ‘ آپ نے بتایا تھا کہ میرا مون سائن اور برتھ سائن دونوں کیپری کورن (جدی) ہیں‘ میں نے آپ کے کالم کو پڑھ کر ایسٹرولوجی کے با رے میں جو کچھ سمجھا ہے آج اسی کے حوالے سے حاضر ہوئی ہوں‘ مون سائن کیپری کورن ہے تو اس حساب سے سیارہ زحل اگلے سال سے میرے زائچے کے بارھویں گھر میں آجائے گا تو برتھ سائن اور مون سائن دونوں کے حساب سے زحل کی ساڑھ ستی شروع ہوجائے گی جو خراب دور ہوگا لیکن آپ نے کہا تھا کہ زحل میرا حاکم سیارہ ہے اور زحل میرے برتھ چارٹ میں برج قوس میں ہے جو اس کا اوج کا برج ہے لیکن بارھواں گھر ٹھیک نہیں ہوتا یہ دو بالکل الگ باتیں ہیں کہ زحل اب میرے لیے کیا کردار ادا کرے گا کیوں کہ جب 2009ءمیں اپنے شرف کے برج میں آیا تھا تو وہ میرے لیے ایک خاصا بہتر دور تھا‘ اگست 2014ءکو آپ نے اپنے کالم میں ایک آدمی کو جواب دیا تھا کہ زحل آپ کا مبارک ستارہ ہے‘ جب کہ اس کے چارٹ میں زحل عقرب میں تھا اور بارھویں گھر میں تھا جہاں کمزور ہوتا ہے ‘ یہ باتیں میرے لیے کنفیوژن والی ہیں ‘ دوسری بات یہ کہ 2010ءسے میرے چارٹ میں جوپیٹر کا دور تھا جو میرے برتھ چارٹ میں جوزا میں ہے اور کمزور ہے تو اس حساب سے ایک خراب دور ہونا چاہیے تھا لیکن وہ میرے لیے بہت اچھا دور تھا لیکن جولائی 2012 سے میں اپنی زندگی کے بدترین دور سے گزری جتنی انسلٹ میری اس وقت ہوئی شاید ہی کبھی ہوئی ہو اپریل 2013 میں حالات بہتر ہونا شروع ہوئے ایسا کیوں ؟ اس لیے کہ جوپیٹر جیمنی میں تھا جہاں ویک ہوتا ہے‘ تیسری بات یہ کہ آپ نے کہا تھا کہ نومبر 2015ءسے راہو کا مین پیریڈ اور مرکری کا سب پیریڈ ہوگا جو ویک ہے اور میرے نویں گھر کا حاکم ہے جس کا تعلق قسمت سے ہے وہی میری شادی کا طے ہونے والا ٹائم ہے تو شادی ہوتے ہی کیا مسئلے ہوں گے؟ میں نے آپ کو دو بار میل کی ‘ آپ نے دونوں کا جواب دیا تھا ‘ امید کرتی ہوں کہ اس بار بھی جواب دیں گے

جواب: عزیزم! کسی علم سے ادھوری واقفیت گمراہی کا باعث ہوتی ہے لہٰذا تھوڑی بہت معلومات کی بنیاد پر قیاس آرائی کرنے سے گریز کرنا چاہیے ، یقیناً آپ اپنا زائچہ کسی ویب سائٹ کے ذریعے یا کسی ایسٹرولوجیکل سوفٹ ویئر سے خود بناتی ہیں اور ہمارا خیال ہے کہ وہ بھی ویسٹرن سسٹم کا سوفٹ ویئر ہوگا، اسی لیے آپ کو مشتری برج جوزا میں نظر آرہا ہے۔

آپ نے جو تاریخ پیدائش اور وقت پیدائش لکھا ہے اس کے مطابق بے شک آپ کا برتھ سائن یعنی طالع پیدائش اور قمری برج جدی ہے مگر یہ خیال رہے کہ ہم نے آپ کا زائچہ ویدک سسٹم کے مطابق بنایا تھا اور اسی کے مطابق ساری گفتگو کی تھی ویدک سسٹم کے مطابق سیارہ زحل اب برج عقرب میں داخل ہوا ہے اور آئندہ ڈھائی سال بعد برج قوس میں یعنی آپ کے بارھویں گھر میں داخل ہوگا لیکن جیسا کہ ہم پہلے بھی عرض کرچکے ہیں کہ سیارہ زحل آپ کا حاکم سیارہ ہے  یہ آپ کے لیے سعد اثرات رکھتا ہے لہٰذا آپ کو کسی ساڑھ ستی سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے،البتہ جب یہ بارھویں گھر برج قوس میں آئے گا تو مالی مسائل پیدا کرے گا،اگر آپ کا کوئی ذاتی سیارہ کسی خراب گھر میں آجائے تو اس کی حالت ایک قیدی کی سی ہوگی، اُس کے ذریعے آپ کو فوائد حاصل نہیں ہوں گے، بارھویں گھر میں رہنے کے دوران یہ مالی نقصانات ، جاب کی پرابلم ، فیملی میں غلط فہمیاں اور مستقبل کے خوف پیدا کرے گا،اُس وقت ہفتے کے روز صدقات دینا بہتر ہوگا۔

اگر کسی کے بارے میں ہم نے لکھا تھا کہ آپ کا مبارک ستارہ زحل ہے تو درست لکھا ہوگا اب اگر وہ عقرب میں ہے تو یہ ایک الگ بات ہے  بالکل اسی طرح جیسے کہ زحل آپ کا ذاتی ستارہ بھی ہے اور آپ کی حیثیت ، فیملی اور ذرائع آمدن کا ستارہ بھی ہے مگر زائچے میں برج قوس میں اور بارھویں گھر میں ہے،قوس میں اچھی پوزیشن کے باوجود بارھویں گھر میں ہونا اسے بے حد کمزور اور ناکارہ بناتا ہے،یہی بنیادی اصول ہے،انشاءاللہ بہت جلد ہماری کتاب” پیش گوئی کا فن“ شائع ہورہی ہے جس میں تمام اصول و قواعد اور زائچے کو پڑھنے کی تجزیاتی تکنیک پر تفصیلی مضامین موجود ہیں۔

آپ کے زائچے میں مین پیریڈ راہو کا جاری ہے جو 3 جنوری 2008  سے شروع ہوا تھا اور 2 جنوری 2026  تک جاری رہے گا لیکن فعال پیریڈ ہمیشہ سب پیریڈ ہوتا ہے اس اعتبار سے 15 ستمبر 2010  سے 7 فروری 2013 ءتک مشتری کا سب پیریڈ جاری رہا۔ یہ آپ کے زائچے کا منحوس سیارہ ہے ، بارھویں گھر کا مالک ہے اور برج ثور میں ہے، اس لیے یہ دور خراب تھا، اب آپ زحل کے دور سے گزر رہی ہیں جو اگرچہ سعد سیارہ ہے مگر زائچے میں بارھویں گھر میں ہے لہٰذا اس دور کو بھی زیادہ کامیاب دور نہیں کہا جاسکتا۔آپ کو چاہیے کہ نیلم کسی اچھے وقت میں پہن لیں۔


زحل کی ساڑھ ستی کے حوالے سے ہمارے ملک میں بہت سے گمراہ کن نظریات اناڑی اور اکثر جاہل منجمن نے پھیلا رکھے ہیں بالکل اسی طرح جیسے بعض جعلی عامل حضرات ہر شخص پر بندش ، اثراتِ بد اور آسیب وغیرہ کا فتویٰ لگاتے رہتے ہیں، اسی طرح ہمارے بہت سے نجومی حضرات ہر شخص کو زحل کی ساڑھ ستی کا اثر بتاتے رہتے ہیں، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا،صرف چند طالع برج ایسے ہیں جن پر زحل کی ساڑھ ستی کا قانون لاگو ہوتا ہے، باقی جن لوگوں کے لیے سیارہ زحل زائچے میں سعد اثر رکھتا ہے، اُن پر ساڑھ ستی کا کوئی اثر نہیں ہوتا، اس مسئلے پر ہم نے اپنی نئی آنے والی کتاب میں تفصیلی بحث کی ہے، یہاں مختصراً عرض کریں گے کہ صرف تین طالعات یعنی پیدائشی برج ایسے ہیں جن پر زحل کی ساڑھ ستی اثر انداز ہوتی ہے، پہلا سرطان ، دوسرا سنبلہ اور تیسرا حوت ، اس کے علاوہ باقی کسی طالع برج پر ساڑھ ستی نہیں لگتی، اسی طرح شمسی برج کے حوالے سے یا صرف طالع کے حوالے سے بھی ساڑھ ستی نہیں ہوتی،صرف قمری برج سے ساڑھ ستی تسلیم کی جاتی ہے۔

پیر، 29 دسمبر، 2014

نئے سال کے ماہ بہ ماہ رنگ بدلتے روز و شب

نیا سال دہشت گردی کی جنگ میں نئی قانون سازی یا کسی ایمرجنسی کا متقاضی ہوگا

حسب روایت نئے سال 2015ءمیں گردش سیار گان اور عالمی وپاکستانی حالات وواقعات پر اظہار خیال اب ایک معمول کی ذمہ داری ہے لیکن اس ذمہ داری کی ادائیگی سے پہلے گزشتہ سال 2014 کے حوالے سے تھوڑی سی گفتگو ضروری ہے  کیوں کہ اس حقیقت پر کسی کو شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ تمام سال ایک دوسرے سے اس طرح جُڑے ہوئے ہیں جیسے کسی طویل زنجیر کی کڑیاں  ہر کڑی اپنا ایک مخصوص اثر اور عمل ظاہر کرتی ہے جس سے بہر حال آنے والا سال کسی نہ کسی طور متاثر اور مہمیز ہوتا ہے۔




2014 کے آغاز میں ہم نے گردش سیارگان کی روشنی میں جو گزارشات پیش کی تھیں ان میں سے چیدہ چیدہ نمایاں باتیں درج ذیل ہیں۔
 ہم نے گزشتہ سال آبی بروج میں بننے والے گرینڈ ٹرائن(Trine) کے حوالے سے عرض کیا تھا یہ نظر اہم نوعیت کی نئی قانون سازی میں مدد گار ثابت ہوتی ہے لیکن ساتھ ہی سیلابی مسائل اور سمندری طوفانوں کا باعث بھی بنتی ہے  اس نظر کے زیر اثرمذہبی سیاسی حلقے تقویت پاتے ہیں لیکن چونکہ ساتھ ہی مریخ، یورنس ‘ پلوٹو اور شمس کے درمیان اسکوائرکے زاویے بھی موجود ہیں لہٰذا مذہبی انتہا پسندی کو بھی فروغ ملتا ہے‘ مشتری اور زحل کے درمیان تثلیث کا زاویہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک میں قانون سازی جاری رہے گی اور ضرورت کے مطابق نئے قوانین بھی بنائے جائیں گے  

2014  میں تحفظ پاکستان آرڈیننس جاری ہوا اور اب وہ اسمبلی سے منظور ہوکر ملک کاقانون بن چکا ہے   یہ خاصا سخت قانون ہے جسے ” کالاقانون“ بھی کہا جا رہا ہے  ملک کی بعض سیاسی جماعتیں اس کی مخالفت کر رہی ہیں  کیوں کہ اس کا غلط استعمال انسانی بنیادی حقوق کو معطل کر سکتا ہے اور حکومت اسے اپنے سیاسی حریفوں کے خلاف بھی استعمال کر سکتی ہے جیسا کہ ماضی میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کیا تھا انہوں نے ڈیفنس آف پاکستان رولز (DPR) کے نام سے ایک قانون بنایا تھا،اسی طرح سانحہ پشاور کے بعد سزائے موت پر پابندی ختم کردی گئی ہے اور عدالت سے سزا پانے والے مجرموں کو پھانسی دی جارہی ہے، تمام پارلیمانی جماعتیں فوجی عدالتیں بنانے اور تیزی سے مقدموں کے فیصلے کرنے پر متفق نظر آتی ہیں، اسی طرح اور بھی بہت سے فیصلے کیے جارہے ہیں جو آئین سے ماورا ہیں اور ان کے لیے مزید قانون سازی کی ضرورت ہے، ایسا ہی ایک معاملہ جوڈیشنل کمیشن کا بھی ہے جو الیکشن میں دھاندلی کی تحقیقات کرے گا اور اس حوالے سے تحریک انصاف اور عمران خان ایک طویل دھرنا دے چکے ہیں۔

 ہم نے عرض کیا تھا کہ ”آنے والا سال ایک مثبت کے بجائے منفی سال کے طور پر یاد رکھا جائے گا‘ بین الاقوامی طور پر بھی کافی ہنگامہ خیزی اور تبدیلیاں دیکھنے کو ملےں گی‘ اگر 2014ءنئی جنگ کے لیے کوئی نیا میدان تیار کردے تو حیرت نہیں ہوگی کیوں کہ تقریباً جولائی تک اور اس کے بعد بھی اکثر ممالک کے درمیان باہمی رسہ کشی اور تناؤ کی کیفیت رہے گی

یوکرین اور روس کی محاذ آرائی‘ شام کی خانہ جنگی اور سپر پاورز کی شاطرانہ چالیں‘ ایران اور سعودی عرب کی سرد جنگ ‘ عراق کی خانہ جنگی اور اسرائیل کی غزہ میں جارحیت ہمارے سامنے ہیں ‘صدر بارک اوباما روس کے خلاف بعض سخت پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کرچکے ہیں، اس سال کے آخر تک جیسا کہ ہم نے عرض کیا تھا ”کوئی معمولی سی چنگاری بھی ایک بھڑکتا ہوا شعلہ بن جائے گی جس میں سب کچھ جل کر خاک ہو سکتا ہے

پاکستان کے حوالے سے ہم نے مریخ کے ایک ہی برج میں طویل قیام اور راس و ذنب کے برج تبدیل کرنے کے حوالے سے عرض کیا تھا ”تبدیلی کی جو لہر گزشتہ سالوں سے چل رہی ہے وہ 2014 ءمیں اپنے عروج پر پہنچ جائے گی،ایک نیا ٹرینڈ، ایک نئی فکر اور سوچ 2014 ءمیں ہمیں دیکھنے کو ملے گی،مسائل کے حل کے سلسلے میں زیادہ شدت پسندانہ رجحان اور رویّے سامنے آئیں گے اور خاص طور پر نوجوان نسل زیادہ مشتعل اور برہم نظر آئے گی،پرانے طور طریقے اور اسٹرکچر تبدیل کرنے پر زور دیا جائے گا،دوسرے معنوں میں قدیم روایات اور جدید نظریات کے درمیان تصادم کی فضاءپیدا ہوگی، نوجوان نسل کا احتجاج کافی سنگین اور پرتشدد ہوگا“۔

عزیزان من! جون 2014 ءمیں مریخ اور راہو دوسری بار حالتِ قران میں آئے اور یہ قران 14 جولائی کو مکمل ہوا، جون ہی سے ڈاکٹر طاہر القادری نے نئی فکر اور نئی سوچ کے ساتھ انقلابی نعرہ لگایا اور عمران خان نے بھی لانگ مارچ کے ساتھ اسلام آباد میں دھرنے کا اعلان کیا اور پھر جو کچھ ہوا وہ ہم سب دیکھ چکے ہیں۔

میڈیا وار“ کے عنوان سے ہم نے لکھا تھا کہ ”میڈیا میں تبدیلی کی لہر زیادہ تیز ہے ، سوشل میڈیا زیادہ فعال ہوگا، اس شعبے میں بڑے پیمانے پر نئی انویسٹمنٹ کی نشان دہی ہورہی ہے، میڈیا کا شعبہ دولت کمانے کی دوڑ میں سب سے آگے ہوگا،روایتی طور طریقے ناقابل اعتبار اور محدود ہوتے جائیں گے، گویا ہم میڈیا کی ایک نئی شکل اور نیا انداز دیکھنے کے لیے تیار رہیں،بہت بڑے بڑے میڈیا گروپس سامنے آئیں گے، پرانے میڈیا گروپس کے لیے اپنی بقاءکی جنگ لڑنے کے لیے جدید طور طریقوں کو اپنانا ہوگا ورنہ وہ زوال کا شکار ہوں گے“۔

مئی کے آخر سے پاکستان میں ہونے والی میڈیا وار ہم دیکھ چکے ہیں جو تاحال جاری ہے ، ایک نیا اور بہت بڑا میڈیا گروپ ”بول“ کے نام سے لانچنگ پیڈ پر ہے۔

مریخ کی پوزیشن کے حوالے سے ہم نے نشان دہی کی تھی ”ہمارے نئے سال کی ابتدا ہی خاصی تشویش ناک ہے، مریخ کی پوزیشن جلتی پر تیل چھڑکنے والی ہے ، 2 مارچ سے زحل کو بھی رجعت ہوجائے گی لہٰذا فلکیاتی صورت حال اندیشہ ہے کہ مزید خرابیوں کو جنم دے جس کے نتیجے میں ملک کی داخلی صورت حال مزید انتشار زدہ ہوجائے اور مذاکرات کے بجائے فوجی آپریشن ناگزیر ہوجائے“۔

قارئین! آپ نے دیکھا کہ مذاکرات کی بساط لپٹ گئی اور شمالی اور جنوبی وزیرستان میں آپریشن جاری ہے اور اب وزیر اعظم نواز شریف اسے پورے ملک میں پھیلانا چاہتے ہیں ۔حکومت کے حوالے سے بھی عرض کیا تھا ”حکومت اور حکمران طاقت ور پوزیشن میں نہیں ہوں گے ، نیپچون سے تعلق کی وجہ سے ان کے فیصلے اور اقدام واضح اور قابل اعتماد نظر نہیں آتے،ایک گو مگو کی کیفیت انداز حکمرانی میں رہے گی،اپریل میں جب گرینڈ کراس مکمل ہوگا تو انداز حکمرانی بھی مزید سخت ہوگا جس کی وجہ سے عوامی اضطراب میں اضافہ ہوگا، حکومت اور حکمرانوں کے انداز اور طور طریقے متکبرانہ ہوں گے،اپوزیشن بھی سخت رویہ اختیار کرے گی اور اس طرح حکومت اور اپوزیشن کے درمیان محاذ آرائی بڑھے گی،اپوزیشن عوام کو سڑکوں پر لانے کی کوشش کرسکتی ہے

گزشتہ سال کے حوالے سے ہمارے اندازے اور تجزیے کس حد تک درست ثابت ہوئے ، اس کا اندازہ مندرجہ بالا اقتباسات سے لگایا جاسکتا ہے،آیئے اب نئے سال 2015 ءکی طرف چلتے ہیں۔

سالانہ زائچہ پاکستان

خیال رہے کہ یونانی سسٹم اور ویدک سسٹم کے درمیان اصول و قواعد میں بہت زیادہ فرق ہے اور اس بار ہم نے یونانی یا ویسٹرن سسٹم کے بجائے ویدک سسٹم کو ترجیح دی ہے لہٰذا ممکن ہے وہ قارئین جو یونانی سسٹم کے عادی ہیں اس طریق کار کو سمجھنے میں الجھن محسوس کریں خاص طور پر ویدک سسٹم میں سیارگان کے نظرات یونانی سسٹم سے مختلف ہوتے ہیں،ان کے اثرات کا تجزیہ بھی مختلف ہوتا ہے ویدک علم نجوم پر انشاءاللہ ہماری کتاب ”پیش گوئی کا فن“بہت جلد شائع ہونے والی ہے ،ایک دوسری کتاب ”اک جہان حیرت“ منازل قمری کے موضوع پر لاہور سے محترم شاہ زنجانی شائع کر رہے ہیں، امید ہے کہ شائقین کے لیے یہ دونوں کتابیں بیش بہا تحفہ ثابت ہوں گی۔

یکم جنوری 2015  شب صفر بج کر صفر منٹ بمقام اسلام آباد طالع یا لگن برج سنبلہ 12 درجہ 56 دقیقہ طلوع ہے،راہو اور کیتو زائچے میں بالترتیب پہلے اور ساتویں گھر میں ہےں،طالع کا مالک سیارہ عطارد زائچے کے چوتھے گھر برج قوس میں کمزور ہے،دوسرے اور نویں گھر کا مالک زہرہ پانچویں میں اگرچہ اچھے گھر میں ہے مگر کمزور اور منحوس زحل کی نظر میں ہے،تیسرے اور آٹھویں گھر کا مالک مریخ بھی پانچویں گھر میں شرف یافتہ ہے لیکن منحوس اثر رکھتا ہے،آٹھویں گھر میں قمر اور گیارھویں گھر میں مشتری کو اپنی نحوست سے متاثر کر رہا ہے،شمس بارھویں گھر کا مالک ہوکر چوتھے گھر کے درجات سے اور دسویں گھر کے درجات سے قریبی نظر رکھتا ہے جو نحس اثرات کی حامل ہے اور زحل پانچویں ، چھٹے کا مالک ہوکر تیسرے گھر میں بیٹھا ہے،پلوٹو سے قران اور یورینس سے تربیع کی نظر رکھتا ہے۔

خرابی کا پہلا مرحلہ

طالع کے حاکم کی کمزوری نئے سال کے زائچے کے لیے نیک شگون نہیں ہے،عطارد دسویں گھر کا بھی حاکم ہے جو حکومت اور سربراہِ حکومت سے متعلق ہے لہٰذا ملکی حالات میں بہتری اور حکومت کا استحکام مشکوک نظر آتا ہے۔

بارھویںگھر کا حاکم شمس چوتھے گھر میں ہے اور درجاتی اعتبار سے دسویں گھر سے ایک کمزور سی نظر رکھتا ہے،یہ پوزیشن حکومت اور وزیراعظم کے لیے ایک مستقل سازشی صورت حال وقتاً فوقتاً پیدا کرنے کا باعث ہوگی،داخلی امور میں بھی کرپشن ، بدعنوانیاں اور عوامی مفادات سے روگردانی اس کا نتیجہ ہوسکتی ہے،ملکی دولت اور وسائل کا نا مناسب یا ناجائز استعمال اور زیاں بھی شمس کے چوتھے گھر کے درجات سے قربت کا ثمرہ ہے۔

معاشی امور

دوسرا گھر خصوصی طور پر ذرائع آمدن اور معاشی معاملات سے متعلق ہے،زہرہ کی کمزور پوزیشن اور اس پر زحل کی نظر صورت حال کو مزید خراب کرنے کا اشارہ ہے اگر ابھی تک موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں پر زیادہ تنقید اور اعتراضات نہیں ہوئے ہیں تو 2015  اس حوالے سے نمایاں سال ہوگا ہمارے وزیر خزانہ مستقبل کے جو سہانے خواب دکھا رہے ہیں   نئے سال میں یہ بکھرتے نظر آتے ہیں،زحل کی نظر عام لوگوں کی زندگی میں فیملی سے متعلق معاملات میں اختلافات اور تنازعات کا باعث ہوگی خصوصاً 21 فروری کے بعد زیادہ اختلافی مسائل جنم لیں گے  معاشی طور پر مزید دباؤ  بڑھے گا اور قرضوں میں اضافہ ہوگا۔

کوشش اور اقدام

تیسرا گھر جس کا حاکم مریخ ہے اور اپنے شرف کے برج میں ہے لیکن یہ آٹھویں گھر کا بھی مالک ہے اور ویدک نجوم میں آٹھویںگھر کی نحوست اور مصیبت مشہور ہے، مریخ چوتھے ، ساتویں اور گیارہویں گھر کے مالکان مشتری اور قمر کو متاثر کر رہا ہے جب کہ قمر خود آٹھویں نحوست کے گھر میں ہے یعنی عام آدمی اور داخلی امور (چوتھا گھر) فوائد اور ترقی (گیارھواں گھر) متاثر ہورہے ہیں،ملکی عوام کے بجائے غیر اور دیگر حصہ دار فوائد حاصل کریں گے، پہلے ہی ملک کے بعض اہم ادارے فروخت کردیے گئے ہیں اور اب پی آئی اے کی نجکاری کا منصوبہ زیر غور ہے،یہ صورت حال عام طور پر غیر ملکی انویسٹرز کے لیے فائدے مند ہوتی ہے لیکن وہ زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے لیے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں جیسا کہ کے الیکٹرک میں ہورہا ہے، قصہ مختصر یہ کہ نئے سال میں اگرچہ ترقی اور فوائد حاصل کرنے کے مواقع بہت ہیں کیوں کہ مشتری گیارہویں گھر میں شرف یافتہ ہے لیکن اس ترقی کا فائدہ بہر حال عوام تک پہنچنے کی امید نظر نہیں آتی بلکہ ملک کو حاصل ہونے والے فوائد بھی غیروں کی جیب میں جاتے نظر آتے ہیں جس کی وجہ گیارہویں گھر کے مالک قمر کا آٹھویں گھر میں قیام ہے،غیر ملکی کمپنیوں کو پاکستان میں انویسٹمنٹ کی دعوت دی جائے گی اور زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے، اچھی بات یہ ہے کہ سیارہ مشتری گیارہویں گھر میں رہتے ہوئے تیسرے گھر کو ناظر ہے جس کی وجہ سے خاص خاص مواقع پر جب مشتری دیگر سیارگان سے سعد نظرات قائم کرے گا تو فائدہ بخش صورت حال پیدا ہوگی۔

تیسرا گھر کمیونیکیشن سے بھی متعلق ہے اور زحل کی اس گھر میں موجودگی اور مریخ کی پوزیشن میڈیا پر اسٹیبلشمنٹ کا دباؤ ظاہر کر رہی ہے، اس کے علاوہ اظہار رائے کے میدان میں ایسے لوگوں کو نمایاں کرے گی جو اپنے پیشے سے مخلص نہیں ہوں گے، بکاوؤ مال ہوں گے، اسٹیبلشمنٹ کے حاشیہ بردار تصویر کا وہی رُخ دکھا رہے ہوں گے جس کا انہیں حکم دیا جائے گا، دیانت دارانہ صحافتی سرگرمیوں کا فقدان ہوگا،ممکن ہے بعض صاحب کردار صحافیوں کو قید و بند یا ملک چھوڑنے کی صورت حال کا سامنا ہو،اگرنیا قانون تحفظ پاکستان آرڈیننس (ٹی پی او) میڈیا کے خلاف استعمال ہو اور اس کے نتیجے میں بعض اخبارات یا ٹی وی چینلز بند کردیے جائیں تو تعجب نہیں ہونا چاہیے،وقت اور حالات نے ثابت کردیا ہے کہ سول حکومتیں انتظامی معاملات میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے سے عاجز ہیں اور ہر قدم پر فوج کی طرف دیکھنے پر مجبور ہوتی ہیں، یہی سب کچھ دیکھتے ہوئے قائد تحریک جناب الطاف حسین نے کہا ہے کہ ایک مارشل لا اور لگادیا جائے ، مرحوم عبدالحمید عدم کا ایک شعر بڑا برمحل ہے.

اپنے مرکز کی طرف مائل پرواز ہے حسن
بھولتا ہی نہیں عالم تری انگڑائی کا

 داخلی امور

زائچے کا چوتھا گھر برج قوس کے زیر اثر ہے جس کا حاکم سیارہ مشتری گیارہویں گھر میں شرف یافتہ مگر رجعت میں ہے اور کمزور ہے‘ آٹھویں منحوس ترین گھر کا حاکم مریخ سے مقابلے کی نظر بنا رہا ہے‘ یہ انتہائی تشویش ناک صورت حال ہے‘ فطری طور پر مشتری اور برج قوس کا تعلق آئین اور قانون سے ہے جبکہ مریخ فوج کا نمائندہ ہے‘ یہ صورت حال کسی آئینی ایمرجنسی کی طرف اشارہ کرتی ہے‘ ملک میں پہلے ہی فوج کا عمل دخل آئینی طور پر بڑھا ہوا ہے‘ کراچی میں رینجرز کا آپریشن جاری ہے اور اسلام آباد میں آئین کی شق 245 کے تحت فوج کو اختیارات دے دیے گئے ہیں‘ کے پی کے اور بلوچستان میں بھی فوج کا عمل دخل بھرپور ہے‘ گویا ایک ”منی مارشل لاء“ ملک میں موجود ہے‘ سال 2014ءمیں فوجی اثرو رسوخ میں اضافہ ہوا ہے‘ یہ صورت حال 2015 میں بھی نمایاں نظر آتی ہے اور اس کی بنیادی وجہ چوتھے گھر کے حاکم مشتری پر مریخ کی نظر ہے۔

 چوتھا گھر ملکی زائچے میں اپوزیشن جماعتوں‘ داخلی صورت حال‘ ذرائع نقل وحمل‘ ملک کے بنیادی اثاثوں اور عوامی آرام و سکون سے تعلق رکھتا ہے‘ چوتھے گھر کے حاکم مشتری کی کمزوری اور مریخ کی اس پر نظر  مزید بارہویں گھر کے حاکم شمس کا چوتھے گھر کے درجات سے قریبی قران داخلی صورت حال کو خوش کن ظاہر نہیں کرتا‘ اپوزیشن جماعتیں احتجاجی کیفیت میں ہوں گی اختلاف رائے بڑھے گا اندرون ملک حادثات اور سانحات میںاضافہ ہو سکتا ہے عوام کی پریشانیاں اور تکالیف بڑھ سکتی ہیں  ان کا آئین اور قانون سے اعتبار اٹھ سکتا ہے  اگر وہ مدد کے لیے فوج کی طرف دیکھنے لگیں تو حیرت نہیں ہونی چاہیے فوج بھی ملکی سلامتی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے اپنے فرائض سے غافل نہ ہوگی۔

 ملکی اثاثہ جات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ شمس کی پوزیشن سے ظاہر ہوتا ہے اس کے علاوہ مستقبل کے خوف اور اندیشوں میں اضافہ ہوگا  آئینی ترامیم ناگزیر ہوسکتی ہیں جن کے تحت الیکٹورل ریفارم  انتظامی طور پر نئے یونٹوں کا قیام جیسے مسائل پر توجہ دی جا سکتی ہے‘ قصہ مختصر یہ کہ محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی۔

انٹرٹینمنٹ انڈسٹری

تفریحات اور فنکارانہ سرگرمیوں کا نمائندہ بنیادی طور پر سیارہ زہرہ ہے جس کی زائچے میں حالت اچھی نہیں ہے،اگرچہ وہ پانچویں انٹرٹینمنٹ کے گھر میں موجود ہے لیکن زحل کے تیر نظر کا شکار ہے۔ امکان ہے کہ اس سال فلم اور ٹی وی سے متعلق بہت سے لوگوں کے اختلافات اور تنازعات سامنے آئیں گے پروگراموں میں معیار کا فقدان ہوگا صرف زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کی ہوس نمایاں ہوگی شو بزنس سے متعلق بعض خواتین ازدواجی مسائل کا شکار ہوں گی اور بعض کے معاملات طلاق تک جاسکتے ہیں لیکن مجموعی طور پر انڈسٹری ترقی کرے گی۔

ملکی انتظامیہ

زائچے کا چھٹا گھر ملکی انتظامیہ‘ فوج ،پولیس، بیوروکریسی اور عدلیہ کے فیصلوں کے ساتھ الیکشن کمیشن کے اقدامات سے متعلق ہے،زحل اس کا حاکم ہے اور زائچے کے تیسرے گھر میں نہایت طاقت ور پوزیشن رکھتا ہے گویا تمام اقدام اور کوششوں پر اثر انداز ہے،اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ 2015ءکا سال اسٹیبلشمنٹ کی حکمرانی کا سال ہوگا‘ فطری طور پر زحل لیبر کلاس کا نمائندہ ہے  لہذا زحل کی طاقت ور پوزیشن لیبر کلاس کے مسائل اور مطالبات کو نمایاں کرتی نظر آتی ہے  حکومت کوئی بھی ہو اسے عام آدمی کے مسائل پر توجہ دینا پڑے گی۔
 ہم پہلے بھی نئے قانون ٹی پی او کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کرچکے ہیں، اس تناظر میں سیاسی اور جمہوری قوتوں کا کردار کیا ہوگا؟

حکومت اسٹیبلشمنٹ کے سامنے بے بس نظر آتی ہے، وزیر اعظم اور ان کے رفقاءسمجھوتے کرنے پر مجبور ہوں گے اپوزیشن کو اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا۔

وزیر اعظم کے زائچے کے حوالے سے ہم پہلے بھی عرض کرچکے ہیں کہ ان کا اپنا مزاج اتنا جمہوری نہیں ہے جتنا کاروباری ہے قصہ مختصر یہ کہ زہرہ کے دور اکبر میں نئے سال کا آغاز زحل کے دور اصغر (Sub Period) سے ہورہا ہے یعنی ہم اصولی طور پر زحل کے زیر اثر (چھٹے گھر کا حاکم) نئے سال میں داخل ہوں گے، اگر نیا سال شروع ہونے سے پہلے ہی چھٹے گھر کی منسوبات کا اثرورسوخ موثر و مقدم ہوجائے تو بھی حیرت نہیں ہونی چاہیے کیوں کہ سال کے اختتام پر مریخ اور پلوٹو کا قران زائچے کے چوتھے گھر میں ہوگا اور 2014 میں ستمبراوراکتوبر خاصے مخدوش مہینے تھے اس دوران میں کوئی سیاسی غلطی یا حکومت کی کوئی محاذ آرائی جمہوری بساط کو لپیٹ سکتی تھی۔

سیارہ مریخ سال کے آغاز ہی سے چھٹے گھر میں ٹرانزٹ کر رہا ہوگا  زحل فروری سے زائچے کے تیسرے پانچویں‘ نویں اور بارہویں گھر سے ناظر ہوگا یہ نظر فروری سے ان گھروں پر اثر انداز ہونا شروع ہوگی اور مندرجہ بالا گھروں کے معاملات کو ڈسٹرب کرے گی‘ جن میں آئین و قانون اور عدلیہ بھی دبا میں ہوں گے۔

یکم مارچ سے مریخ زائچے کے ساتویں گھر میں ہوگا  یہ خاصا خطرناک وقت ہو سکتا ہے پڑوسی ممالک بھارت یا افغانستان سے تعلقات میں کشیدگی اور سرحدی جھڑپوں یا کسی بڑی جنگی مہم جوئی کے امکان کو اس وقت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

 اندرونی و بیرونی تعلقات

 ساتویں گھر پر یورنس اور کیتو قابض ہیں کیتو خاص طور پر دیگر ممالک یا پڑوسیوں سے تعلقات میں خرابی لاسکتا ہے اور اس خرابی کا آغاز 15فروری کے بعد ممکن ہے‘ بھارت اور افغانستان سے تعلقات میں کشیدگی یا کوئی جنگ جو یانہ مہم جوئی کا خطرہ جولائی تک رہے گا، خاص طور سے فروری کا آخری ہفتہ اور مارچ کا پہلا ہفتہ پڑوسی ممالک سے کشیدگی کا کوئی معاملہ سامنے آسکتا ہے کیوں کہ کیتو کے ساتھ مریخ بھی ساتویں گھر کے حساس درجات پر ہوگا،دونوں مارچ کے پہلے ہفتے میں قران بھی کریں گے  یہ وقت بیرون ملک تعلقات میں مسائل اور کشیدگی لاسکتا ہے،ایسی ہی صورت حال دسمبر میں بھی پیدا ہوسکتی ہے۔

حادثات اور سانحات

 زائچے کے آٹھویں گھر میں قمر موجود ہے  اچھی بات یہ ہے کہ راہو کیتو اس سال چھٹے  آٹھویں اور بارہویں گھر کو متاثر نہیں کر رہے اسی طرح زحل کی نگاہوں سے بھی یہ گھر محفوظ ہے  البتہ مریخ مارچ کے آخر میں آٹھویں گھر میں داخل ہوگا   یہاں وہ طاقت ور بھی ہوگا  تقریباً 10اپریل سے آٹھویں  گیارہویں دوسرے اور تیسرے گھر کو متاثر کرے گا  زحل پر بھی اس کی نظر پڑے گی لہٰذا اپریل کا مہینہ حادثات و سانحات کے حوالے سے خاصا مخدوش ثابت ہو سکتا ہے  اس کے علاوہ مارچ اپریل کے مہینے مریخ اور شمس کے نحس اثرات کی وجہ سے دیگر حادثات میں بھی اضافے کا باعث ہوسکتے ہیں۔

آئین و قانون

نئے سال 2015 ءمیں زحل کی زہرہ پر نظر کی وجہ سے جہاں معاشی مسائل میں اضافہ ہوگا وہیں آئین و قانون کے حوالے سے بھی صورت حال اچھی نظر نہیں آتی،زہرہ نویں گھر کا بھی مالک ہے  ایک نیا قانون منظور ہوچکا ہے،اگر اس کا غلط استعمال شروع ہوجائے تو تعجب نہیں ہونا چاہیے جس کی وجہ سے اپوزیشن جماعتیں متحد ہوکر حکومت کے مقابل آجائیں گی،فی الحال پیپلز پارٹی ، اے این پی، جے یو آئی وغیرہ جمہوریت کے نام پر حکومت کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہیں لیکن نئے سال کے آغاز میں فروری کے دوسرے ہفتے ہی سے صورت حال تبدیل ہونے لگے گی اور مارچ تک حکومت کو خاصی مشکل صورت حال کا سامنا ہوگا اور ممکن ہے کسی ایمرجنسی کے نفاذ کا امکان پیدا ہوجائے۔

 ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ فروری کے تیسرے ہفتے سے زحل نویں گھر کے حساس درجات سے ناظر ہوگا یہ وقت کسی قانونی ایمرجنسی کی صورت حال سامنے لا سکتا ہے  عدلیہ کا کردار بھی وہ نہیں ہوگا جو گزشتہ سالوں میں نظر آیا ہے، اس دوران میں اندرون ملک آپریشن کی رفتار بھی تیز ہوگی۔

سیارہ مریخ تقریباً 15مئی کو زحل کے مقابل ہوگا ‘ یہ بہت ہی خطرناک نظر ہے جو آئین وقانون سے متعلق امور پر ناخوش گوار اثرات مرتب کر سکتی ہے  چونکہ مریخ نویں گھر میں رہتے ہوئے بارہویں   تیسرے اور چوتھے گھر کو بھی ناظر ہوگا  لہٰذا آئین کے معطل ہونے کے خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

حکومت

 زائچے کا دسواں گھر حکومت اور سربراہ حکومت کے علاوہ ملکی عزت و وقار سے بھی تعلق رکھتا ہے  اس کا حاکم عطارد کمزور ہے  ہم پہلے بھی حکومت کی کمزوری کے بارے میں بتا چکے ہیں اس پر مزید اضافہ صرف اتنا ہی کریں گے کہ جلاد فلک مریخ برج جوزا میں 16جون تک داخل ہوجائے گا اور دسویں گھر میں قیام کے دوران حکومت کو کم از کم دو بار زور دار جھٹکے دے گا  پہلی بار 28 جون سے 13 جولائی تک کا وقت نہایت مخدوش ہے جس میں حکومت یا سربراہ مملکت کو خطرات درپیش ہوسکتے ہیں اس وقت کابینہ میں بھی کوئی اکھاڑ پچھاڑ دیکھنے میں آسکتی ہے‘ تقریباً 10 جولائی ہی سے مریخ اورپلوٹو کا مقابلہ شروع ہوجائے گا اور یہ نظر تقریباً 25جولائی تک قائم رہے گی  اس کے فوراً بعد مریخ اور یورنس کے درمیان تربیع کا زاویہ قائم ہوگا جو کسی بڑی چونکا دینے والی خبرکا باعث بن سکتا ہے۔


عزیزان من! نئے سال کا فلکیاتی تجزیہ ایک ہی کالم میں ممکن نہیں ہے  اس کا بقیہ حصہ انشاءاللہ آئندہ ہفتے پیش کیا جائے گا  ہماری طرف سے نئے سال کی مبارک باد قبول کیجیے  نئے سال کا آغاز اس اعتبار سے خوش آئند ہے کہ ملک میں جاری دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوج کے ساتھ تمام سیاسی پارٹیوں نے یک جہتی کا مظاہرہ کیا ہے اور اس فتنہ پروری کو جڑ سے ختم کرنے کا ارادہ کرلیا ہے   دُعا کیجیے کہ اس ملک سے دہشت گردی اور قتل و غارت گری کا یہ خونی کھیل ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے۔