ہفتہ، 27 مارچ، 2021

نوروز، تحویل آفتاب عالم تاب، ایک مؤثر وقتِ دُعا

نئے فلکیاتی سال کا آغاز اور شرف شمس و قمر کے اوقات


 پاکستان میں کوویڈ 19 اس مرتبہ انگلینڈ سے آیا ہے اور خاص طور پر پنجاب میں اپنا رنگ دکھا رہا ہے، حالاں کہ اب اس کی ویکسین بھی دستیاب ہے، اس بات کا امکان موجود ہے کہ کورونا کی وبا دنیا بھر میں بدستور اپنے نت نئے رنگ مزید دکھاتی رہے گی، پاکستان اور بھارت بھی اس کا شکار رہیں گے، علم نجوم کی روشنی میں وبائی امراض خصوصاً راہو کیتو کے نحس اثرات کی وجہ سے پھلتے پھولتے اور پھیلتے ہیں، گزشتہ سال سیارہ زحل مسلسل کیتو کے ساتھ قران میں رہا اور اس سال راہو کے ساتھ اس کی نظر تقریباً پورا سال رہے گی لہٰذا اس سال بھی وبائی امراض اور دیگر حادثاتِ ارضی و سماوی سے نجات ممکن نظر نہیں آتی۔

٭٭٭
پاکستان میں سینیٹ کے انتخابات ہوچکے، اپوزیشن فی الوقت انتشار اور باہمی اختلاف رائے کا شکار ہے گویا حکومت کو اپوزیشن کی طرف سے کوئی چیلنج درپیش نہیں ہے،البتہ وزیراعظم اور ان کی بیگم کوویڈ 19 کا شکار ہیں، اللہ انھیں جلد صحت یاب کرے۔

بھارت

بھارت کا پیدائشی زائچہ آنے والے دنوں میں کچھ نئے سیاروی نظرات کا شکار نظر آتا ہے جس کے نتیجے میں بھارت جون سے جولائی تک ایک نہایت سخت اور مشکل ترین وقت کا سامنا کرسکتا ہے،خیال رہے کہ زائچے کا سب سے منحوس اثر رکھنے والا سیارہ مشتری 5 اپریل کو برج دلو میں داخل ہوگا،برج دلو بھارت اور پاکستان کے زائچے کا دسواں یعنی سب سے اہم گھر ہے، اس گھر کا تعلق حکومت، کابینہ، پارلیمنٹ، عزت و وقار اور بین الاقوامی تجارت سے ہے، سیارہ مشتری جون تا جولائی 7 درجہ پر مستقیم پوزیشن میں رہے گا اور بھارتی زائچہ بھی 7 درجہ ثور ہے جس کی وجہ سے مشتری زائچے کے دوسرے (معیشت) چوتھے (داخلہ امور)،چھٹے (انتظامی امور) اور دسویں (حکومت اور تجارت) سے متعلق معاملات کو متاثر کرے گا جس کی وجہ سے ملک شدید انتشار اور بدامنی کا شکار ہوسکتا ہے، مزید یہ کہ دسویں گھر کا حاکم زحل چوں کہ مسلسل راہو کی نظر میں ہوگا اور سیارہ مشتری کی نظر پیدائشی زائچے کے مریخ پربھی ہوگی جس کے نتیجے میں اموات، حادثات ارضی و سماوی، عدلیہ کے حوالے سے تنازعات سامنے آسکتے ہیں (واللہ اعلم بالصواب)
٭٭٭
موسم بہار کا آغاز ہوچکا ہے، خزاں کے سائے رخصت ہورہے ہیں، اپریل سے نئی سیاروی سالانہ گردش کا آغاز ہورہا ہے، تیزرفتار سیارگان شمس، زہرہ اور عطارد دائرۂ بروج کے پہلے برج حمل میں داخل ہوں گے اور اپنے نئے سفر کا آغاز کریں گے،گویا دنیا بھرمیں نئی تبدیلیوں کا آغاز ہوگا۔
عزیزان من! ہم پہلے پابندی کے ساتھ تحویل آفتاب یعنی نوروز کا وقت دیا کرتے تھے جو پرانے سسٹم کے مطابق عموماً 20 یا21 مارچ کو مقرر ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جدید سسٹم کے تحت پرانا طریقہ کار ہمارے نزدیک زیادہ مؤثر نہیں ہے، اسے تبدیل کرنا اس لیے آسان نہیں ہے کہ نوروز سے اکثر مسلمانوں کے مذہبی اور مسلکی عقائد بھی وابستہ ہیں، اس لیے اس موضوع پر ہم مزید کوئی بات نہیں کرنا چاہتے لیکن دعا کے لیے کسی زیادہ موزوں وقت کی نشان دہی بھی ضروری سمجھتے ہیں، چناں چہ اس سال سے حسب روایت نوروز تحویل آفتاب کا وقت دینا ضروری ہے،ہمیں یقین ہے کہ بہت سے لوگ اس سے اتفاق نہیں کریں گے سو یہ ان کی مرضی و منشا پر منحصر ہے، ہم جو درست سمجھتے ہیں اس کا اظہار کرتے رہیں گے، وما توفیقیٰ الا باللہ۔

شمس در حمل تحویل آفتاب

اس سال 2021 میں 14 اپریل بہ روز بدھ پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق سیارہ شمس برج حمل کے پہلے درجے پر شب 02:11 am پر پہلا قدم رکھے گا جب کہ جی ایم ٹی ٹائم کے مطابق 13 اپریل بہ روز منگل شب 09:11 pm پر تحویل آفتاب کا عمل ہوگا،دیگر ممالک کے ہمارے قارئین جی ایم ٹی ٹائم سے اپنے ملک کے وقت کا فرق نفی یا جمع کرکے درست وقت حاصل کرسکتے ہیں۔
سورج کے برج حمل میں داخلے کو تحویل آفتاب کہتے ہیں اور جس دن سے یہ داخلہ ہوتا ہے اس دن کو فلکیاتی سال کا پہلا دن قرار دیا جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں اسے اسی مناسبت سے نوروز یعنی نیا دن کہا گیا، قدیم ایرانی کیلنڈر کی ابتدا بھی اسی دن سے ہوتی ہے، ماہرین فلکیات و روحانیات کا نظریہ ہے کہ اس لمحے میں نظام کائنات ایک نہایت قلیل ترین وقت کے لیے ساکت ہو کر دوبارہ متحرک ہوتا ہے لہٰذا اس وقت کو قبولیت دعا کا لمحہ بھی کہا جاتا ہے،فقہء جعفریہ کے مطابق اس دن کی اہمیت بہت زیادہ ہے،اس روز خصوصی عبادات کی تاکید کی جاتی ہے اور تحویل کے وقت کو قبولیتِ دعا کا وقت تسلیم کیا جاتا ہے۔
منجم اس وقت کو بنیاد بنا کر پورے سال کے لیے حسابات تیار کرتے ہیں اور ان کی روشنی میں نئے سال کے لیے پیش گوئیاں کی جاتی ہیں، دنیا بھر میں موسم بہارکا آغاز ہوتا ہے، سورج اپنے نئے سالانہ سفر کی ابتدا کرتا ہے کیوں کہ برج حمل دائرہ بروج کا پہلا برج ہے، اسی برج میں 19 درجے پر شمس کو شرف کی قوت حاصل ہوتی ہے اور علمائے جفر اس موقع پر اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لیے طلسم و نقش تیار کرتے ہیں، خصوصاً لوح شمس، لوح اسم اعظم اور خاتم اسم اعظم کی تیاری کے لیے شمس کے اس باقوت وقت کو نہایت اہمیت حاصل ہے۔
چونکہ اس وقت کو نہایت سعد اور موثر مانا گیا ہے لہٰذا اس وقت دعا کرنا نہایت مستجاب خیال کیا جاتا ہے۔ ماہرین جفر و عملیات اس لمحے کو پانے کے لیے مختلف تدابیر اختیار کرتے ہیں مثلاً کسی برتن میں معمولی سا سوراخ کر کے پانی بھر دیا جاتا ہے اور پانی کی دھار پر نظر جما دی جاتی ہے جب تحویل کا وقت آتا ہے تو پانی کی دھارپل بھر کے لیے رک جاتی ہے۔
ایران میں اس مقصد کے تحت ایک مخصوص قسم کی مچھلی گھروں میں پالی جاتی ہے، اسے شیشے کے مرتبان یا ایکیوریم میں رکھا جاتا ہے۔ تحویل آفتاب کے وقت وہ مچھلی تیزی سے حرکت کر کے پانی سے باہر چھلانگ لگاتی ہے۔ یہاں ہم اپنا مجرب اور ایک سادہ طریقہ لکھ رہے ہیں۔ قارئین اس پر عمل کر کے اس سعد وقت سے فیض یاب ہو سکتے ہیں۔

دعائے مستجاب اور طریق کار

تحویل آفتاب کے وقت سے کچھ پہلے پاک صاف لباس پہن کر باوضو قبلہ رخ بیٹھ جائیں، کوئی سرخ کپڑا یا جائے نمازپچھالیں، ممکن ہو تو سرخ رنگ کی شال یا کوئی سرخ رومال یا سرخ ٹوپی سر پر رکھ لیں، کسی بڑے پیالے یا برتن میں پانی بھر لیں اور اس پانی میں سرخ گلاب یا گیندے کا زرد پھول ڈال دیں۔ اگر کوئی پھول میسر نہ ہو تو کوئی بھی ایسی سرخ یا زرد رنگ کی چیز ڈال سکتے ہیں جو پانی میں ڈوبنے کے بجائے اس کی سطح پر تیرتی رہے۔ خیال رہے کہ اگر کمرے میں پنکھا تیزی سے چل رہا ہو تو اس کی ہوا سے بھی پانی کی سطح پر ارتعاش پیدا ہو گا اور پانی میں ڈالا ہوا پھول متحرک ہو جائے گا۔ اس لیے پنکھا وغیرہ بند کر دیں تاکہ پانی ساکت رہے اور پھول وغیرہ میں حرکت نہ ہو، اس کے بعد اللہ رب العزت کو یاد کریں۔ اس کی حمد و ثنا کریں، جس طرح بھی کر سکتے ہیں، پھر 11 مرتبہ درود شریف پڑھیں اور اس کے بعد مندرجہ ذیل دعا پڑھنا شروع کر دیں۔ اس دعا کو 366 مرتبہ اس طرح پڑھیں کہ اوپر دیا گیا تحویل آفتاب کا وقت درمیان میں آجائے، بعد ازاں پھر 11 بار درود شریف پڑھ کر اس عمل کو اختتام تک پہنچائیں۔ دعا یہ ہے۔
یَا اَللّٰہُ یَا مُقَلِبُ القُلُوبِِ وَ الاَبَصار یَا مُدَبِّرُ اللَیلِ وَالنَّھَارِ یَا مُحَولِ الحَولِ وَالاَحوَالِ حَوِّل حَالنَا اِلٰی اَحسَنُ الحَال یَا عَزِیزُ یَا غَنِیٍ
ترجمہ:۔ اے اللہ، اے دلوں اور نگاہوں کو بدلنے والے، اے رات اور دن کی تدبیر کرنے والے، اے حال اور احوال کو بدلنے والے تو ہمارے حال کو بہترین حال سے بدل دے۔ اے غالب، اے بے نیاز۔
وہ لوگ جو طویل عرصے سے خراب حالوں میں رہ رہے ہیں اس سعد وقتِ دعا میں یہ دعا ضرور مانگیں۔ انشاء اللہ اس سال وہ اپنے حال میں تبدیلی محسوس کر لیں گے۔ پڑھتے ہوئے گلاب کے پھول پر توجہ مرکوز رکھیں جس وقت پھول متحرک ہو گا آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ تحویل آفتاب کا عمل مکمل ہو گیا ہے اور آپ نے یقینا قبولیت دعا کا لمحہ پا لیا ہے۔

آب شفا

اس موقع پر ”آب شفا“ بھی تیار کیا جاتا ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ 7 کنوؤں کا پانی یا بارش کا پانی جو پہلے سے حاصل کر کے رکھا گیا ہو کسی بوتل میں بھر کر رکھیں اور تحویل کے وقت 7 سلام پڑھ کر اس پر دم کر لیں۔ یہ پانی مریض کو صبح شام تھوڑا تھوڑا پلاتے رہیں۔ اگر آب زم زم مہیا ہو تو اس پر بھی ساتوں سلام پڑھ کر دم کر سکتے ہیں، اگر یہ بھی دستیاب نہ ہو تو صاف پانی ابال کر کسی بوتل میں بھرلیں اور اس پر دم کرلیں دیگر ضروری علاج کے ساتھ ساتھ اس پانی کا استعمال مرض کی شدت کو کم کرے گا اور شفایابی کے عمل میں مددگار ثابت ہو گا۔ ساتوں سلام یہ ہیں۔
سلام علیٰ نوح فی العالمین۔ سلام قولاً من رب الرحیم۔ سلام علیٰ ابراہیم۔ سلام علیٰ موسیٰ و ہارون۔ سلام علیٰ اِل یٰسین۔ سلام علیکم طبتم فادخلوھا خٰلدین۔ سلام ِھیَ حتیٰ مطلع الفجر
آب شفاکی تیاری کے سلسلے میں اکثر لوگ یہ سوال بھی پوچھتے ہیں کہ ہم اس خاص وقت میں اپنے لیے دعا کریں یا آب شفا تیار کریں تو ظاہر ہے دعا کرنا افضل ہے، آب شفا بعد میں بھی تیار کیا جاسکتا ہے، کیو ں کہ سورج حمل کے پہلے درجے پر 24 گھنٹے تک رہتا ہے، اس دوران میں جو شمس کی ساعات دستیاب ہوں ان میں آب شفا تیار کیا جاسکتا ہے۔

اپریل کی سیاروی رفتاریں

سیارہ شمس برج حوت میں حرکت کر رہا ہے، 14 اپریل کو اپنے شرف کے برج حمل میں داخل ہوگا،سیارہ عطارد بھی برج حوت میں ہبوط یافتہ ہے، 16 اپریل کو برج حمل میں داخل ہوگا۔
سیارہ زہرہ جو توازن، ہم آہنگی، محبت، دوستی، شادی اور ازدواجی زندگی کے حوالے سے نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے، اپنے شرف کے برج حوت میں حرکت کر رہا ہے لیکن سیارہ شمس کی قربت سے غروب ہے، گزشتہ ماہ ہم نے نشان دہی کی تھی کہ زہرہ کا شرف قابل بھروسا نہیں ہے، سیارہ غروب ہو تو اپنی قوت کھودیتا ہے، البتہ برج شرف میں ہو تو تھوڑی بہت قوت اسے حاصل رہتی ہے، خیال رہے کہ سیارہ زہرہ تقریباً پانچ مئی تک غروب رہے گا۔
زہرہ کی موجودہ پوزیشن کو دیکھتے ہوئے ہم نے خواتین کے لیے خصوصی احتیاط کا مشورہ دیا تھا اور اس بات کا اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ اس دوران میں خواتین زیادہ حساس اور جذباتی انداز اختیار کرسکتی ہیں،ان کی ازدواجی زندگی میں بھی نئے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، اس عرصے میں نکاح و شادی سے بھی گریز کرنا چاہیے کیوں کہ سیارہ مشتری بھی 5 اپریل تک برج ہبوط میں ہے۔
سیارہ مریخ برج ثور میں حرکت کررہا ہے، 14 اپریل کو برج جوزا میں داخل ہوگا، سیارہ مشتری اپنے ہبوط کے برج جدی میں حرکت کر رہا ہے، 5 اپریل کو برج دلو میں داخل ہوگا،سیارہ زحل بھی جدی میں ہے جب کہ راہو کیتو بالترتیب اپنے شرف کے بروج ثور اور عقرب میں حرکت کررہے ہیں۔

شرف قمر

اس ماہ قمر اپنے شرف کے برج ثور میں پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 14 اپریل کو 11:42 pm پر داخل ہوگا اور 17 اپریل 12:41 pm تک برج ثور میں رہے گا، چوں کہ چاند کی پہلی تاریخ ہوگی لہٰذا اس شرف قمر کو بھی عروج ماہ کا شرف کہا جائے گا اور یہ نہایت موثر ہوگا، اس وقت میں برکاتی انگوٹھی، لوح قمر یا طلسم قمر وغیرہ کی تیاری موزوں ہوگی،ہم یہاں شرف کے خصوصی اور موثر اوقات کی نشان دہی کررہے ہیں۔
پہلا موثر وقت 15 اپریل 11:21 am سے 12:22 pm تک ہوگا، اس وقت ساعتِ قمر بھی ہوگی۔
دوسرا موثر وقت 15 اپریل ہی کو شام 04:32 pm سے 05:07 pm تک ہوگا۔
تیسرا اور ہمارے نزدیک انتہائی موثر ترین وقت رات کو 09:18 pm سے شروع ہوگا اور 10:05 pm تک رہے گا،ان اوقات میں آپ جو بھی ورد و وظائف کرنا چاہتے ہیں کرسکتے ہیں، کوئی نقش یا طلسم تیار کرنا ہو اور اگر وقت ختم ہوجائے تو اسے بند کرکے محفوظ کردیں اور کسی دوسرے وقت میں مکمل کرلیں، البتہ اگر کوئی وظیفہ پڑھ رہے ہیں اور وہ مقررہ وقت میں ختم نہ ہوسکے تو کوئی حرج نہیں ہے، اپنا وظیفہ جاری رکھیں اور اسے مکمل کریں۔

قمر در عقرب

اس ماہ قمر اپنے ہبوط کے برج عقرب میں یکم اپریل کو پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق قبل طلوع آفتاب 01:28 am پر داخل ہوگا اور 3 اپریل 03:15 am تک برج عقرب میں رہے گا، دوسری مرتبہ اسی مہینے میں 26 اپریل کو 11:28 am پر داخل ہوگا اور 30 اپریل 11:41 am تک اپنے ہبوط کے برج میں رہے گا، گویا اس ماہ قمر در عقرب کے دو نحس اوقات موجود ہیں، اس وقت کوئی نیا کام شروع کرنا مناسب نہیں ہوتا، خصوصاً نئے کاروبار کا آغاز، کوئی نیا معاہدہ، نکاح و منگنی وغیرہ سے گریز کرنا چاہیے۔
اس نحس وقت میں بندش اور روک تھام سے متعلق یا بری عادات سے نجات کے لیے اعمال و وظائف کیے جاتے ہیں، ہم برسوں سے ایسے وظائف و نقوش دے رہے ہیں اور ہماری ویب سائٹ پر پرانے آرٹیکلز میں بھی موجود ہیں، اس سلسلے میں ہماری کتابیں مسیحا حصہ اول، دوم اور سوم بھی دیکھی جاسکتی ہیں، ہم پہلے بھی وضاحت کرچکے ہیں کہ یہ تمام وقت نحوست کا ہے، اس وقت میں کسی خاص درجے کے بجائے مقصد کے موافق ساعت کا انتخاب کریں اور اس ساعت میں اپنا کام کریں، مثلاً کسی بھاگنے والے کو روکنا یا کسی معاملے میں استحکام اور پائیداری مقصود ہو تو قمر در عقرب کے وقت میں ساعت زحل کا انتخاب کریں، عادات بد سے نجات کے لیے ساعت قمر لیں، زبان بندی وغیرہ کے لیے ساعت عطارد لیں، اسی طرح مقصد کے مطابق ساعت کا انتخاب کریں اور رجال الغیب کا خیال رکھیں۔

شرف شمس

عزیزان من! روایتی اور یونانی طریق کار کے مطابق عام طور سے شرف شمس عموماً 7,8 اپریل کو مقرر کیا گیا ہے لیکن جدید ویدک سسٹم کے مطابق ہم نے اسے زیادہ مؤثر اور مفید پایا، چناں چہ ہم اپنے طریق کار کے مطابق شرف شمس کے اوقات کی نشان دہی کر رہے ہیں،یقیناً روایتی یونانی روش پر کاربند حضرات اس سے اختلاف کریں گے لیکن ہم جودرست سمجھتے ہیں اسی کی دعوت دیں گے، خیال رہے کہ اس حوالے سے ہماری زندگی کے تجربات کانچوڑ تقریباً چالیس سالہ ہے، وما توفیقیٰ الاباللہ۔
پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق سیارہ شمس اپنے شرف کے برج حمل میں 14 اپریل کو داخل ہوگا اور 14 مئی تک اسی برج میں شرف یافتہ رہے گا، ہمارے طریق کار کے مطابق ہر سیارہ اپنے برج کے ابتدائی پانچ اور آخری پانچ درجات پر کمزور تصور کیا جاتا ہے گویا ابتدائی پانچ درجات ”طفولیت“ کے ہیں اور آخری پانچ درجات ”ضعیفی“ کے ہیں چناں چہ ہم کسی بھی سیارے کے ضعف و قوت کو اسی پیمانے پر پرکھتے ہیں، قدیم زمانے سے سیارگان کے شرف کے لیے مخصوص درجات مقرر ہیں،یہ طریق کار یونانی سسٹم کے زیر اثر ہے جو اب ہمارے نزدیک معتبر نہیں رہا ہے، ذیل میں ہم شرف شمس کے موثر اوقات لکھ رہے ہیں، آپ ان سے استفادہ کرسکتے ہیں۔
شمس اپنی باقوت پوزیشن میں 23 اپریل بہ روز جمعہ ہوگا، اس وقت شمس کے علاوہ قمر اور مریخ بھی باقوت پوزیشن رکھتے ہوں گے،خیال رہے کہ شمس کو مریخ کے برج حمل میں شرف ہوتا ہے،اس لیے ایک موثر وقت پر مریخ کا باقوت ہونا بھی ضروری ہے، اسی طرح کسی بھی لوح یا طلسم کی تیاری کے وقت سیارہ قمر کا بھی باقوت پوزیشن میں ہونا ضروری ہے، قمر 23 اپریل کو شمس کے برج اسد میں ہوگا۔

23 اپریل کو اسلام آباد ٹائم کے مطابق 08:47 am تا 09:30 am شرف کاسعد وقت ہوگا۔
اسی روز 11:02 pm سے 11:43 pmتک سعد وقت ہوگا۔
24 اپریل بہ روز ہفتہ مندرجہ ذیل اوقات ہوں گے۔
08:48 am سے 09:31am تک۔
اسی روز 01:32 pm سے 02:18 pm تک
06:18 pmسے 07:18 pm تک۔
25 اپریل بہ روز اتوار اوقات درج ذیل ہیں
02:35 am قبل طلوع آفتاب سے 03:01 am
05:16 am سے 05:43 am
01:33 pm سے 02:18 pm
11:03 pm سے 11:43 pm
26 اپریل بہ روز پیر اوقات درج ذیل ہیں
08:20 am سے 09:32 am
01:35 pm سے 02:20 pm
عزیزان من! شرف شمس کے مؤثر اوقات خاصی تعداد میں دے دیے گئے ہیں اگر کام کسی ایک وقت میں مکمل نہ ہو تو اسے دوسرے وقت میں یا تیسرے وقت میں مکمل کیا جاسکتا ہے، خیال رہے کہ یہ اوقات اسلام آباد ٹائم کے مطابق دیگر شہروں میں رہنے والے افراد اسلام آباد سے اپنے شہر کا فرق معلوم کرکے مندرجہ بالا اوقات میں کمی بیشی کرلیں۔
شرف شمس کے ضروری اعمال خصوصاً لوح شمس، لوح اسم اعظم یا خاتم اسم اعظم کی تیاری کا طریقہ اگرچہ ہماری ویب سائٹ پر علم جفر کے لنک میں موجود ہے،اس سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں،اس کے علاوہ ان شاء اللہ آنے والے ہفتے میں اس حوالے سے مزید مضمون بھی پیش کیا جائے گا۔

 

جمعہ، 19 مارچ، 2021

قومی و ملکی زائچے کی منسوبات

دنیاوی علم نجوم کے حوالے سے شائقین کے لیے تحفہ


 دنیاوی نجوم، علم نجوم کی ایک شاخ ہے جو قوموں، شہروں، تنظیموں، کارپوریشنوں اور کاروباری تنظیموں وغیرہ کے زائچے میں برجوں اور سیاروں کے ادوار کے ذریعے سیاروں کے اثرات سے متعلق ہے، اس میں اقوام عالم کے مقاصد اور اہداف، ان کی دولت، سیاسی استحکام، مالی حیثیت، ترقی، دوسرے ممالک یا قوموں کے ساتھ تعلقات، قدرتی آفات، صحت عامہ، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، قومی آمدنی اور اس کے لوگوں کے روحانی اعتقاد کا احاطہ کیا جاتا ہے۔

اثرات کا مشاہدہ ان گھروں سے کیا جاتا ہے جو قومی زندگی یا سماجی زندگی کے مخصوص پہلوؤں پر حاکم ہوتے ہیں، برجوں کے ذریعے جو اثرات کی سطح کو ظاہر کرتے ہیں اور سیاروں کی زائچے میں بیٹھک، قوت، ان کی عملی فطرت سے اور دوسرے سیاروں یا گھروں سے ان کے قران اور نظرات کے تعلق سے تمام سیارگان کے اثرات کا مشاہدہ کیاجاتا ہے، خاص طور پر ان کا جو دوسرے سیاروں یا مختلف گھروں کے مؤثر مقامات سے قریبی قران یا نظرات رکھتے ہوں اور مختلف سیاروں کے مول ترکون برج سے کہ وہ کس گھر میں قابض ہیں۔
ممالک کے لیے سیاروں کے اثرات کا مشاہدہ قوم کی زندگی کے مختلف اوقات میں ان کے حاکموں، سیاسی سربراہوں کے زائچے سے کیا جاتا ہے،در حقیقت قوموں کے زائچے اور حکمرانوں، سیاسی سربراہوں کے زائچے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں، یہ بھی مشاہدہ میں آیا ہے کہ اگر ملکوں اور قوموں کے زائچے اور ان کے سربراہان کے زائچے باہم موافقت نہ رکھتے ہوں تو ایسی صورت میں ملک گمراہی، تباہی، انتشار اور بدنظمی کا شکار ہوجاتا ہے۔
قومی یا ملکی زائچے میں گھروں کی منسوبات
قوم کے زائچے میں مختلف گھر قوموں کی زندگی کے مندرجہ ذیل پہلوؤں کو ظاہر کرتے ہیں۔

پہلا گھر (First house)
زائچے کے پہلے گھر کو اصطلاحاً طالع پیدائش، لگن یا انگریزی میں ایسنڈنٹ (Ascendent) بھی کہاجاتا ہے، مجموعی طور پر ملک کے عام حالات، امن و امان کی صورت حال، عوام اور ان کے عمومی رجحانات، عوام کی صحت، حکومت کی ساکھ، بہادری اور دنیا میں اس کا مقام دیکھا جاتا ہے، پہلے گھر یا اس کے حاکم پر کوئی قریبی نحوست یا پہلے گھر میں کمزور سیارے کی موجودگی سے قومی تشخص کو درپیش مشکلات کی نشان دہی ہوتی ہے،دوسرے معنوں میں پہلا گھر اس ملک یا قوم کے وجود کی نشان دہی کرتا ہے۔
دوسرا گھر (Second house)
دوسرا گھر بنیادی طور پر قومی دولت،معیشت، ملکی حیثیت اور اس کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مراسم اور تعلقات سے متعلق ہے، یہ لوگوں کی قوت خرید، مالی استحکام، قومی آمدنی، کرنسی کی مضبوطی، بجٹ اور تجارت کے توازن پر بھی حاکم ہے، دوسرے گھر یا اس کے حاکم پر نحس گھروں یا نحس سیاروں کے اثرات یا دوسرے گھر میں نحس سیارے کی موجودگی یا نظر ساکھ کے نقصان اور مالی وسائل میں مشکلات کو ظاہر کرتی ہے۔
تیسرا گھر (Third house)
تیسرا گھر قیادت، عوام کے ساتھ حکومت کے رابطے، ملک میں ٹرانسپورٹ، میڈیا، ٹیلی مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت مواصلات کے ذرائع پر حاکم ہے، یہ ملک کے مصنف، فلسفی، فلسفیانہ فکر، ادب اور تعلیم یافتہ افراد، تعلیم اور بنیادی سہولیات کے علاوہ جمہوریت اور امن کے مکالمے پر بھی حاکم ہے، تیسرے گھر یا اس کے حاکم پر پیدائش نحوست یا نحس سیاروی اثرات یا تیسرے گھر میں نحس سیارے کی موجودگی مواصلات کے ذرائع سے متعلق حادثات کی نشان دہی کرتے ہیں۔
چوتھا گھر(Forth house)
چوتھا گھر ملک کے قدرتی وسائل، زراعت، کان کنی، معدنیات، زمینی املاک، امن عمومی اور سیاسی استحکام، قدرتی آفات، تعلیمی اداروں، امن و امان، رہائش اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر حاکم ہے، چوتھے گھر یا اس کے حاکم پر انتہائی نحس سیارے کی یا کسی نحس گھر سے کسی سست رو سیارے کا قریبی تعلق، پیدائشی نحوست یا نحس سیاروی گردش، قدرتی آفات، رہائش کے مسائل اور ملک کے لیے مالی پریشانیوں کی نشان دہی کرتے ہیں۔
پانچواں گھر (Fifth house)
پانچواں گھر دانشوروں، جذباتی استحکام، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، لوگوں کی قیاس آرائی کی فطرت، سرمایہ کاری، اسٹاک ایکسچینج، بچوں، آبادی، یونیورسٹیوں، اخلاقیات اور لوگوں کے اقدار پر حاکم ہے، پانچویں گھر یا اس کے حاکم پر انتہائی نحس سیارے کی یا کسی سست رو سیارے کا قریبی تعلق، نحوست یا نحس گردش ملک کے لیے جذباتی پریشانی اور ملک کی مالی منڈیوں کو درپیش مسائل کو ظاہر کرتی ہے۔
چھٹا گھر(Sixth house)
چھٹا گھر عوامی ہم آہنگی، ہمسایہ ممالک سے تعلقات، صحت عامہ، سیاسی استحکام، قوم کا مالی استحکام، قرضوں کا انتظام، قانونی چارہ جوئی، عدالتی کارروائی،الیکشن کمیشن کی فعالیت، ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مزدوروں کے معاملات پر حاکم ہے، چھٹے گھر یا اس کے حاکم پر انتہائی نحس سیارے کی یا کسی نحس گھر سے کسی سست رو سیارے کا قریبی تعلق، نحوست یا نحس گردش بڑی تعداد میں اموات دینے والے مہلک حادثات، قرضوں اور تنازعات سے دوچار ہونے کی نشان دہی ہے۔
ساتواں گھر (Seventh house)
ساتواں گھر عیش و آرام، تفریحی مقامات، سیاحت، عوام کے مابین تعلقات، کاروباری ترقی، خارجہ امور اور معاہدوں پر حاکم ہے، ساتویں گھر یا اس کے حاکم پر انتہائی نحس سیارے کی نظر یا کسی سست روی سیارے کا قریبی تعلق،نحوست یا نحس گردش عوام کے معیار زندگی اور ملک کی بین الاقوامی حیثیت خطرے میں ہونے کی نشان دہی ہے۔
آٹھواں گھر (Eight house)
آٹھواں گھر عوام الناس کے اعتقادات، سرخ فیتہ اقدامات، کاموں پر عملدرآمد کی رفتار، فوری نفع، تاخیر اور رکاوٹیں، حادثات، مہلک حادثات، وبائی امراض، سونے اور قیمتی پتھر، وراثت،بڑے فوائد، سیلاب، زلزلے، طوفان اور سمندری طوفان وغیرہ پر حاکم ہے، آٹھویں گھر یا اس کے حاکم پر انتہائی نحس سیارے کی یا کسی سست سیارے کی قریبی نحوست یا اس کے حاکم سیارے کی کمزوری اس کی علاقائی سالمیت اور وسائل سمیت ملک کے لیے خطرے کو ظاہر کرتی ہے۔
نواں گھر (Ninth house)
نواں گھر عدالتی نظام، الیکشن کمیشن، اخلاقیات، مذہب، سفارت کاری، غیر ملکی مشن، تعمیر اور ترقی پر حاکم ہے، نویں گھر یا اس کے حاکم پر نحس سیاروں کے اثرات خاص طور پر راہو یا کیتو جیسے سیاروں کے اثرات ملک کے لیے بدعنوانی کے معاملات اور قسمت کی خرابی لاتے ہیں۔
دسواں گھر(Tenth house)
دسواں گھر اعلیٰ عہدے دار، پارلیمنٹ، انتظامیہ، غیر ملکی تجارت اور امن و امان پر حاکم ہے، دسویں گھر یا اس کے حاکم کی خراب پوزیشن یا اس پر نحس سیاروں کے اثرات اس کی ساکھ کو خراب کردیتے ہیں اور ملک کی بین الاقوامی حیثیت کو درپیش مشکلات کی نشان دہی کرتے ہیں۔
گیارہواں گھر(Eleventh house)
گیارہواں گھر آمدنی، نفع اور مستقبل کے منصوبوں پر حاکم ہے، یہ دوستانہ بین الاقوامی اتحاد پر بھی حکمرانی کرتا ہے، گیارہویں گھر یا اس کے حاکم پر نحس سیاروں کے قریبی برے اثرات معیشت اور ملک کے بین الاقوامی تعلقات میں رکاوٹوں کی نشان دہی کرتے ہیں۔
بارہواں گھر (Twelve house)
بارہواں گھر مالی نقصانات، اخراجات، حادثات و سانحات، لوگوں کے کثیر تعداد میں اسپتال پہنچنے، غیر ملکی قرضوں، جنگوں اور اسمگلنگ پر حاکم ہے، بارہویں گھر یا اس کے حاکم پر نحس سیاروں کے نحس گھروں سے برے اثرات ملک کے لیے نقصانات کی نشان دہی کرتے ہیں۔

سیاروی منسوبات

شمس: شمس حکومت یا ریاستی اختیارات،ریاستی یا عوامی شعبے کے صنعتی کاروباری اداروں سمیت بڑی سماجی نوعیت کی تنظیموں کو ظاہر کرتا ہے، یہ نصب العین، محرک، فنکشن اور کنٹرول، حکومتی قائدین (وزیراعظم، صدر اور سیاستدان) اور پولیس سمیت دیگر خدمات کو بھی ظاہر کرتا ہے، دوسرے پیشے عدلیہ، بینکر، ٹھیکیدار، ڈاکٹر اور بیوروکریٹس بھی ہیں۔
قمر: قمر عوامی انتظامیہ خاص طور پر کھانے، مہمان نوازی اور شفایابی کو ظاہر کرتا ہے، عوام اور خواتین کی طاقت اور تربیت، تعلقات عامہ، انتظامیہ اور معالج جیسے پیشوں کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
مریخ: مریخ ذہنی اور جسمانی ہمت کو ظاہر کرتا ہے، یہ فوج، پولیس اور طاقت کے ذریعے احکامات، آگ اور دھات سے متعلقہ کام، انجینئرنگ، کیمیکلز، سرجن، دانتوں کے ڈاکٹروں اور ایگزیکٹو پوسٹوں پر حاکم ہے، یہ مردوں اور صنعت پر بھی حاکم ہے، جب راہو یا آٹھویں یا بارہویں گھر کے حاکم کے زیر اثر ہو تو سماج دشمن عناصر پر بھی حاکم ہوتا ہے، مریخ تیسرے اور دسویں گھر کے نمائندے(Significator) کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔
عطارد: عطارد تجزیاتی ادارے، مواصلات اور امتیازی سلوک اور اعتماد دینے کو ظاہر کرتا ہے، یہ ریاستی سربراہوں کے حکمت عملی طے کرنے والوں اور مشیروں پر حاکم ہے، یہ ریاضی دان، مشیر، کاروبار، شماریات، انجینئرنگ اور متعلقہ شعبوں، تحقیقی اسکالرز، ایڈیٹرز، مصنفین، وکلاء، تجزیاتی کاموں کے ماہر، سافٹ ویئر انجینئرز، دانشور، ٹرانسپورٹرز، پبلشرز، سیلز مین اور تاجر جیسے پیشوں پر حاکم ہے۔
مشتری: مشیر برائے سربراہ مملکت، وزراء، تعزیر کار، سفارتکار، جج،خزانچی، اعلیٰ سیاسی اور انتظامی عہدیداروں، درس و تدریس، قانون، مالیاتی ادارے اور مشاورتی کردار، منجم، انتظامیہ کے ماہرین، کاروباری مشاورت اور مالی خدمات کو ظاہر کرتا ہے، یہ نویں گھر کے نمائندے (Significator)کے طور پر بھی کام کرتا ہے، جب مضبوط ہو تو پھیلاؤ اور خوش امیدی پر بھی حاکم ہوتا ہے۔
زہرہ: زہرہ مادی سہولیات، خواتین کی طاقت، دنیاوی علم اور حصولیات، تخلیقی صلاحیتیں، فن اور بھرپور ذوق، وزراء، زندگی بچانے والی ادویات، مالی انتظامیہ، تفریح، مصوری، موسیقی، فن تعمیر، آرائشی آرٹس، تفریحی ماڈل، ٹیکسٹائل، اشتہار، حقوق و انصاف، ہوٹلوں، ہوا بازی، طبی تحقیق، ڈیزائن،فیشن اور پرتعیش اشیاء، زنانہ ضروریات، سنیما انڈسٹری، آرٹس اور تفریحی صنعت کو ظاہر کرتی ہے، یہ ساتویں گھر کے نمائندے کے طور پر بھی کام کرتی ہے۔
زحل: زحل نچلی ذات کے رہنما اور سرکاری ملازمین، سخت محنت اور کم معاوضے والی ملازمتیں، کارکنوں کی قیادت، حکومت میں عہدے حاصل کرنے کی کوشش، مزدوروں سے معاملات اور مزدوری والی صنعت، آئل ڈرلنگ اور ریفائننگ، زراعت، ماہی گیری، سامان کی تیاری، تعمیر، زمین کی نقل و حرکت، سڑک کی تعمیر، مزدور اور روزگار کو ظاہر کرتا ہے، یہ ہلکی ٹیکنالوجی کی صنعت اور کان کنی کا بھی حاکم ہے، یہ دسویں، چوتھے اور آٹویں گھر کے نمائندے کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔
راہو: سفارتی اقدامات، ہیرا پھیری اور دھوکہ دہی، شراب سازی اور نشہ آور چیزوں کی تیاری پر حاکم ہے، یہ زہر فروش، منشیات کی طرف دھکیلنے والے، شراب فروش، سیلز مین، سنسنی پھیلانے والے، اشکبار، خوشی کے متلاشی، ڈھونگ اور غیر اخلاقی حرکتیں کرنے والوں سے متعلق ہے۔
کیتو: کیتو قدرتی آفات، پر تشدد اقدامات یا واقعات، خوف اور حادثات کو ظاہر کرتا ہے، یہ غریب اور تنہا لوگوں پر حاکم ہے، یہ روحانی، مذہبی خدمات اور اداروں کو عروج دیتا ہے۔
ملکی کرنسی
یہ ریاست کی طاقت ہوتی ہے جو کہ کرنسی کی طاقت کے ذریعے دکھائی جاتی ہے، اختیارات پہلے شمس، دوسرے گھر پھر قمر کے زیر اثر ہوتے ہیں، قوم کی اچھی مالی حیثیت اور دولت دوسرے گھر سے دیکھی جاتی ہے اور آمدنی کا باقاعدہ بہاؤ گیارہویں گھر سے دیکھا جاتا ہے، اگر گیارہویں گھر میں کوئی مول ترکون برج نہ ہو تو تب ہم دسویں اور تیسرے گھروں کے حوالے سے دیکھ سکتے ہیں، ان تمام عوامل کو ساتھ لے کر کسی خاص ملک کی کرنسی کی اصل طاقت کو شناخت کیا جاتا ہے۔
جب ایک قوم کی کرنسی کی طاقت کا موازنہ دوسرے ملک سے کرنا ہو تو شرح تبادلہ کی رفتار کا انحصار ملک کے زائچے کے مندرجہ ذیل عوامل پر ہوگا۔
1۔ سیاروں کی طاقت
2۔ گردش کے اثرات
3۔ دور اصغر کے اثرات
مزید اہم بات یہ ہے کہ ان تینوں حوالوں سے ہمیں پورے زائچے کو ایک مکمل ہستی کی حیثیت سے دیکھنا چاہیے نہ کہ ایک عنصر کی طرح تاہم حقیقی طاقت کے تجزیے اور ہر کرنسی کی لچک اور ان پر طویل المدتی گردشی اثرات کے لیے کرنسی کی طاقت کو ظاہر کرنے والے اشاروں پر غور کرنا مددگار ہوگا۔

مارکیٹنگ اشاریہ

انفارمیشن ٹیکنالوجی:(IT)

 

 

50 سالہ اصول

ہر ملکی زائچے میں مدار کی ہر ایک ڈگری کی نظر کا بھرپور اثر ملک کی پیدائش سے پچاس سال بعد ظاہر ہوگا۔

آمریت کی شناخت کا اصول

ملکی زائچے میں طالع کے حاکم کے ابتدائی اثرات کو دیکھیں، تیسرے گھر کا مالک تیسرے گھر میں ہو، تیسرے گھر کا مالک پہلے اور دسویں گھر کو متاثر کرتا ہو (خاص طور پر وہ اگر شمس یا مریخ ہو)، اضافی اثرات چھٹے گھر کے حاکم کے ہوں گے اگر وہ پہلے، تیسرے یا چوتھے گھر میں ہو۔
دنیا بھر میں بڑھتی جمہوری اقدار کے ساتھ جب کہ مستقبل میں آمریت کا تسلط آسانی سے ممکن نہیں ہے، خدشہ ہے کہ جابر اور آمر رہنما سامنے آئیں گے، حکمران سیاسی رہنماؤں کے آمرانہ رجحانات لوگوں کی معاشرتی اور معاشی زندگی پر گہرے اثرات ڈالتے ہیں۔
چوں کہ آٹھواں گھر عوام کے اعتقاد پر حاکم ہے، رہنماؤں کے پیدائشی زائچے میں ایک مضبوط آٹھواں گھر ان کو بڑے پیمانے پر عوامی حمایت حاصل کرنے میں مدد کرتا ہے، اگر آٹھویں گھر میں کوئی مول ترکون برج نہ ہو تو چوتھے گھر کے مالک پر غور کیا جائے گا اور اگر چوتھے گھر میں بھی مول ترکون برج نہ ہو تو نویں گھر پر غور کیا جائے گا، ایسے معاملات میں جہاں نویں گھر پر بھی مول ترکون برج نہ ہو تو پھر ایک عمومی ترجمان کے طور پر سیارہ شمس پر غور کیا جائے گا۔
جن کا تیسرا گھر مضبوط ہو وہ مستقبل کے رہنما ہوں گے اور جن کے نویں گھر مضبوط ہوں وہ اپنی جاہ طلبی اور مستقبل کے منصوبوں کا ادراک رکھنے والے ہوں گے، ان گھروں میں مول ترکون برجوں کی عدم موجودگی میں مستقبل جاننے کے لیے شمس پر غور کریں۔

دھاتوں کے حاکم سیارے

شمس تانبے اور سونے پر حاکم ہے۔
قمر چاندی پر حاکم ہے۔
مریخ تانبے پر حاکم ہے۔
عطارد پیتل پر حاکم ہے۔
مشتری سونے پر حاکم ہے۔
زہرہ چاندی اور ایلومینیم پر حاکم ہے۔
زحل لوہے، معدنیات اور خام چیزوں پر حاکم ہے۔

کاروباری علامات

زراعت، چوتھا گھر
ماہی گیر، چوتھا گھر
کان کنی اور معدنیات، چوتھا گھر
مرکزی بینک اور رقم، شمس، قمر، دوسرا اور گیارہواں گھر
تعمیراتی صنعت، زحل، مریخ اور چوتھا گھر
پرنٹنگ اور اشاعت، تیسرا گھر اور عطارد
تعلیم، مشتری، شمس، چوتھا گھر
صحت کی خدمات، پہلا گھر، شمس، قمر، بارہواں گھر
خوردہ فروخت، عطارد، راہو
افادیت، زحل،مریخ اور قمر
تھوک فروخت، عطارد، زحل، راہو
نقل و حمل: عطارد، تیسرا گھر
ٹیلی مواصلات: عطارد،تیسرا گھر
سافٹ ویئر۔ عطارد، زہرہ، تیسرا گھر اور پانچواں گھر
انٹرنیٹ۔عطارد، تیسرا گھر
برقی سامان۔ عطارد اور مریخ
الیکٹرونک سامان۔ راہو
آرٹس اور دستکاری۔ زہرہ، زحل(دستکاری)
بینکنگ۔ مشتری، شمس، دوسرا گھر اور پانچواں گھر
قانونی خدمات۔ زہرہ، عطاد، چھٹا گھر
سیاحت۔ ساتواں گھر اور زہرہ
عدالتی اور مذہبی خدمات۔ مشتری، نواں گھر
لابنگ۔ مشتری، راہو، تیسرا گھر اور دسواں گھر
دنیاوی زائچے میں پہلے اور دسویں گھر پر چھٹے گھر کے حاکم کا اثر قوم کو دوسروں کے ساتھ معاملات میں جارح بناتا ہے۔ چوتھے یا دوسرے گھر پر چھٹے گھر کے حاکم کا اثر قوم کے لیے تنازعات اور قرضہ بڑھاتا ہے۔
چوتھے، دوسرے یا چھٹے گھر پر آٹھویں گھر کے حاکم کا قریبی نحس اثر قوم کے اثاثوں کے لیے مسائل لاتا ہے، چوتھے یا چھٹے گھر کے کمزور حاکم پر آٹھویں گھر کے حاکم کے شدید نحس اثر قوم کو قدرتی آفات، زلزلے اور مہلک حادثات کا شکار بناتا ہے۔
دوسرے سیاروں پر آٹھویں گھر کے مالک کے قریبی یا عین اثرات ان سیاروں یا گھروں کی منسوبات کے لیے خطرہ ہوتے ہیں۔
بارہویں گھر کے حاکم کے سخت نحس اثرات بدکرداری، بدعنوانی،بے جا اصراف اور عیاشیوں کے ذریعے نقصانات کو ظاہر کرتے ہیں۔مثال کے طور پر بارہویں گھر کا حاکم دوسرے گھر کے مؤثر مقام پر ہو تو معاشرے کے کچھ افراد کی مجرمانہ سرگرمیوں اور غیر مہذب رویوں کے باعث رتبے اور ساکھ کا نقصان ظاہر کرتا ہے،مثال کے طور پر چند لوگوں کے عصمت دری کے واقعات کے باعث پوری قوم کی ساکھ برباد ہوتی ہے اور یہ اشارے ملتے ہیں کہ خواتین محفوظ نہیں ہیں۔

شدید طویل گردشی نحس اثرات

 

 

پیدائشی زائچے میں کوئی بھی سیارہ چاہے تیزیا سست رفتار ہو، اگر طاقت ور ہو، خاص طور پر اپنے دور میں تو مذکورہ بالا نتائج ظاہر ہوسکتے ہیں، مشتری اور زحل جیسے آہستہ چلنے والے سیارے مختلف گھروں میں اپنی گردش کے دوران ایسے نتائج لاتے ہیں۔
مختلف گھروں کے حاکم جب طاقت ور یا طاقت ور ترین ہوتے ہیں تو درج ذیل نتائج ظاہر کرتے ہیں۔

 

 

 

 

جمعہ، 12 مارچ، 2021

برکاتی انگوٹھی اور شرف قمر کا خاص وقت

انعامی اسکیموں میں حصہ لینے والوں کے لیے خوش خبری

 سینیٹ کے انتخابات حسب روایت ہوئے، بکنے والے بکے اور خریداروں کی تجوریاں بھی کھلی رہیں، وہ لوگ بھی جیت گئے جن کی جیت ممکن نہ تھی اور وہ ہار گئے جن کی جیت یقینی تھی، اب ایک نیا معرکہ درپیش ہے یعنی سینیٹ کے چیئرمین کا انتخاب، کہا جارہا ہے کہ اس عہدے کے لیے جناب یوسف رضا گیلانی امیدوار ہوسکتے ہیں، سینیٹ میں اب اکثریتی پارٹی پی ٹی آئی ہے اور اصولی طور پر سینیٹ کا چیئرمین وہ اپنا ہی لانا چاہے گی لیکن ماضی میں اس کے برعکس ہوچکا ہے جب مسلم لیگ اکثریتی پارٹی تھی لیکن وہ سینیٹ میں اپنا چیئرمین نہیں لاسکی، دیکھیے اس بار کیا ہوتا ہے؟

زائچہ پاکستان میں راہو اور مریخ پہلے گھر میں حرکت کر رہے ہیں، پیدائشی عطارد راہو کیتو سے شدید متاثر ہے، گویا میڈیا بے لگام رہے گا اور ایسی ایسی خبریں یا افواہیں گردش کریں گی جو حیران کن اور چونکا دینے والی ہوگی، پبلشنگ اداروں کا حال پہلے ہی تباہ ہے، رہی سہی کسر آنے والے دنوں میں پوری ہوجائے گی، اس دوران میں ممکن ہے بعض صحافیوں یا اداروں کے حالات مزید خراب ہوں۔
راہو اور مریخ کا قران نہایت منحوس ثابت ہوسکتا ہے، اس کے اثرات کے مطابق غیر ملکی سازشیں اور مداخلت بڑھ جائے گی، حکومت کے خلاف بیرونی ہاتھ مزید سرگرم ہوگا، حکومت کے خاتمے کے لیے اپوزیشن کی کوششوں میں معاون و مددگار کا کردار ادا کرے گا۔
15 اپریل سے 15 مئی تک کا وقت پاکستان کے لیے زیادہ مشکل اور سخت ثابت ہوسکتا ہے، اسی طرح 15 مئی سے 15 جون تک کا وقت وزیراعظم عمران خان کے لیے مشکل اور سخت ثابت ہوگا (واللہ اعلم بالصواب)

شرف قمر

قمر اپنے شرف کے برج ثور میں اس ماہ پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 18 مارچ کو بروز جمعرات شام 04:52 pm پر داخل ہوگا اور تقریباً 06:00 am کو 21 مارچ تک برج ثور میں رہے گا، یہ سعد اور مبارک وقت ہے، اس وقت میں نئے کاموں کا آغاز بہتر ہوتا ہے، مزید یہ کہ شرف قمر کی سعادت زندگی کے ضروری امور میں مددگار ثابت ہوتی ہے، شرف قمر سے متعلق اعمال و وظائف ہر ماہ دیے جاتے ہیں، اس بار برکاتی انگوٹھی کی تیاری کا طریقہ دیا جارہا ہے، اس حوالے سے خصوصی اوقات کی بھی نشان دہی کی جارہی ہے۔
19 مارچ بروز جمعہ دوپہر 01:30 pm سے 02:11 pm تک تقریباً 45 منٹ کا ٹائم ہوگا جس میں انگوٹھی پر یہ نقش کندہ کرنا مؤثر ہوگا، دوسرا مؤثر وقت 20 مارچ کو قبل طلوع آفتاب 03:45 am سے 04:25 am تک ہوگا، امید ہے کہ ان مؤثر اوقات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جائے گی، وہ لوگ جو اپنی کسی مجبوری کے سبب یہ انگوٹھی خود تیار نہ کرسکیں وہ براہ راست رابطہ کرسکتے ہیں۔

برکاتی انگوٹھی کا راز

برسوں پہلے غالباً 1998 ء میں ہم نے برکاتی انگوٹھی کے راز کو عام کیا تھا اور بعد میں بھی کئی بار اس کا طریقہ کار شائع کیا گیا، اس انگوٹھی کی تیاری شرف قمر میں ممکن اور مؤثر ہوتی ہے اور ایسا شرف قمر جو عروج ماہ میں ہو یعنی نیا چاند ہونے کے بعد، عام طور پر ایسے مواقع ہر مہینے دستیاب نہیں ہوتے، اس بار شرف قمر کا وقت عروج ماہ میں ہوگا لہٰذا برکاتی انگوٹھی کی تیاری کا تفصیلی طریقہ کار دیا جارہا ہے، اس انگوٹھی کو اگر طلسمی انگوٹھی کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا، اسے پہننے والے کا ہاتھ کبھی پیسے سے خالی نہیں رہتا، گزشتہ 20,25 سال میں بے شمار لوگوں نے یہ انگوٹھی تیار کی ہے یا ہمارے دفتر سے حاصل کی ہے اور اس کے اثرات و نتائج خود ملاحظہ کیے ہیں، الا ماشاء اللہ۔
عزیزان من! یہ انگوٹھی علم جفر کے اہم رازوں میں سے ایک راز ہے، جفری اصولوں کے مطابق حروف ابجد کی ایک خاص قوت کو ”اعداد متحابہ“ کہا جاتا ہے، علمائے جفر کے درمیان ان اعداد کے سلسلے میں ایک دلچسپ اختلاف ہے یعنی بعض کے نزدیک 120 اعداد متحابہ ہیں اور بعض کے نزدیک 220۔ اس اختلاف سے قطع نظر دونوں کی اہمیت اپنی جگہ مُسلّم الثبوت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ 120 کا مرکب عدد دولت کے لیے ہے اور 220 کا مرکب عدد محبت کے لیے، چناں چہ 120 کا نقش مثلث اگر اپنے نام کے پہلے حرف کی عنصری چال کے مطابق تیار کیا جائے اور انگوٹھی میں پہنا جائے تو یہ برکاتی انگوٹھی مالی فراوانی اور کشادگی رزق و روزگار کے لیے تیر بہ ہدف ثابت ہوگی، حضرت کاش البرنی ؒ اپنی کتاب ”عامل کامل“ حصہ اول میں لکھتے ہیں کہ اعداد 120 کا نقش مثلث چاندی کی انگوٹھی پر کندہ کرکے پہنا جائے تو ایسے شخص کا ہاتھ کبھی پیسے سے خالی نہیں رہے گا، بس یہی اس انگوٹھی کا خفیہ راز ہے جو سب سے پہلے برنی صاحب ؒ مرحوم نے منکشف کیا، اس انگوٹھی سے فائدہ اٹھانے والوں پر لازم ہے کہ ان کے لیے ضرور ایصال ثواب و دعائے خیر کریں۔
عزیزان من! ہر شخص کے نام کا پہلا حرف اس انگوٹھی کی تیاری میں معاون ہے، خیال رہے کہ حروف ابجد اپنی عناصری تقسیم کے مطابق چار عناصر میں بٹے ہوئے ہیں یعنی آتش، باد، آب اور خاک، ہم یہاں اس کی تفصیل دے رہے ہیں تاکہ آپ جان سکیں کہ آ پ کے نام کا پہلا حرف کس عنصر سے تعلق رکھتا ہے، واضح رہے کہ اس سلسلے میں پورے نام کو لیا جائے، مثلاً اگر نام محمد رفیع ہے اور رفیع کے نام سے پکارا جاتا ہے تو پہلا حرف ”ر“ نہیں ”م“ ہوگا، اسی طرح عبد الرحمن میں ”ع“ کو لیا جائے گا، پکارنے والے نام کی اہمیت نہیں ہوگی اور نام بھی وہ جو آپ کے سرکاری شناختی کارڈ میں لکھا گیا ہو۔
حروف ابجد کی عنصری تقسیم
ا، ہ، ھ، ط، م، ف، ش، ذ = آتشی حروف
ب، پ، و، ی، ن، ص، ت، ٹ، ض = بادی حروف
ج، چ، ز، ک، س، ق، ث ظ = آبی حروف
د، ڈ، ح، ل، ع، ر، ڑ، خ، غ = خاکی حروف
اعداد 120 کو مثلث 9 خانوں کے نقش میں بھرا جائے تو اس کی چار عنصری چالیں ہوں گی، ہر شخص اپنے نام کے پہلے حرف کے عنصر کے مطابق چال کا انتخاب کرکے اپنے لیے نقش منتخب کرسکتا ہے، اس طرح کل چار نقش تیار ہوں گے جو تمام ناموں کے لیے کار آمد ہوں گے، عام لوگوں کی سہولت کے پیش نظر چاروں چالوں کے عنصری نقوش یہاں دیے جارہے ہیں، آپ اپنے نام کے پہلے حرف کا عنصر معلوم کریں اور اس کے مطابق عنصری چال کا نقش اپنے لیے منتخب کرکے چاندی کی انگوٹھی پر کندہ کرلیں۔

آتشی عنصری چال

 

 

بادی عنصری چال

 

 

آبی عنصری چال

 

خاکی عنصری چال

 

تمام حروف کے عناصر کی مناسبت سے جو چار نقوش ترتیب پاتے ہیں وہ آپ کے سامنے ہیں، کسی بھی نقش کے دائیں سے بائیں یا اوپر سے نیچے تین خانوں کی میزان 120 آئے گی جو اعدادِ متحابہ ہیں، نقش لکھتے وقت چال کی ترتیب کا خیال رکھنا ضروری ہوگا یعنی سب سے پہلے سب سے چھوٹا مرکب عدد 36 لکھا جائے گا، پھر ترتیب وار 37، 38، 39، 40، 41، 42، 43 اور آخر میں 44 لکھ کر نقش مکمل کرلیا جائے گا، چاندی کی انگوٹھی رنگ فنگر یعنی دائیں ہاتھ کی سب سے چھوٹی انگلی کی برابر والی انگلی کے سائز کی بنوالیں، اس پر 9 خانے بھی بنا لیں اور مقرر وقت پر کسی علیحدہ کمرے میں پاک صاف باوضو بیٹھ کر پہلے 11 بار درود شریف پھر سورہ فاتحہ اور چاروں قل پڑھ کر سفید رنگ کی مٹھائی پر فاتحہ دیں اور ایصال ثواب کرتے ہوئے حضرت کاش البرنی ؒ کو نہ بھولیں، بہتر ہوگا کہ سفید لباس زیب تن کریں اور فرش پر سفید کپڑا بچھائیں، لوبان یا صندل کی اگربتی جلاکر کمرے کو خوشبو دار کریں اور پھر کسی تیز نوک دار چیز سے انگوٹھی پر نقش کندہ کریں، بعد ازاں پیر کے روز صبح سورج نکلنے کے بعد ایک گھنٹے کے اندر بسم اللہ پڑھ کر پہن لیں، 2 فقیروں کو کھانا کھلادیں یا 200 روپے خیرات کریں، بس سمجھ لیں کہ آپ کے ہاتھ میں ایک ایسا مقناطیس آگیا ہے جو پیسے کو کھیچنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا، آپ کی ضروریات حیرت انگیز طورپر پوری ہوتی رہیں گی،وہ لوگ جو انعامی اسکیموں میں حصہ لیتے ہیں انھیں بھی اس انگوٹھی سے یقیناً فائدہ اٹھانا چاہیے، امید ہے جولوگ فائدہ اٹھائیں گے ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں گے۔

اتوار، 7 مارچ، 2021

آپ کی شخصیت کے مثبت اور منفی پہلو

 سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا؟


علم نجوم انسانی فطرت اور کردار کے مطالعے میں بے حد معاون مددگار ہے مگر افسوس ناک صورتِ حال یہ ہے کہ لوگ اس علم کے اس مفید ترین پہلو کی طرف زیادہ متوجہ نہیں ہوتے اور اگر کسی حد تک اس حوالے سے دل چسپی لیتے بھی ہیں تو اس میں اُن کی ذاتی انا قدم قدم پر حارج ہوتی ہے۔ یعنی اپنی خوبیوں کو تو خوشی خوشی تسلیم کر لیتے ہیں مگر خامیوں سے نظر چراتے ہوئے علم نجوم کے بیان کردہ حقائق کو رد کر رہے ہوتے ہیں مثلاً برج حمل کے زیر اثر پیدا ہونے والے کسی عورت یا مرد کو یہ بتایا جائے کہ آپ بلاشبہ بہت نڈر اور بے باک، عملیت پسند، صاف گو، متحرک، انتھک کام کرنے والے اور دیگر فلاں فلاں خوبیوں کے حامل ہیں تووہ خوشی خوشی ان باتوں کو تسلیم کرلے گالیکن جب اس کی منفی خصوصیات پر بات کی جائے کہ جناب ان خوبیوں کے ساتھ ساتھ آپ نہایت جارحانہ مزاج کے حامل، حاکمیت پسند، بے سوچے سمجھے خطرات میں کود جانے والے، ضدی، سرکش، منہ پھٹ، اپنی ذات میں مگن رہنے والے، ڈینگیں ہانکنے والے، بہت زیادہ خوش اُمید انسان ہیں تو وہ اچانک پہلو بدل کربائیں شائیں کرنا شروع کر دے گا اور ان تمام باتوں سے یکسر انکار کرتے ہوئے اپنے بہت سے غلط اقدام یا فیصلوں کا کوئی نہ کوئی جواز پیش کرنا شروع کر دے گا۔
بعض حملی افراد تو اپنی ذات کے معاملے میں اتنے انتہا پسند ہو جاتے ہیں کہ دوسروں کو بولنے ہی نہیں دیتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ دوسرے بس انہیں سنیں، انہیں دیکھیں اور اگر بات بھی کریں تو صرف ان کے حوالے سے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دوسروں سے ان کے تعلقات میں وہ گہرائی پیدا ہونا مشکل ہو جاتی ہے جو کسی بھی محبت یا رفاقت کے لیے ضروری ہے۔ اگر وہ اپنی اس خامی پر کنٹرول کر لیں تو ان کی یہ شکایت ختم ہو سکتی ہے کہ”ہم دوسروں کے ساتھ اچھائی کرتے ہیں لیکن جواب میں ہمیں برائی ملتی ہے۔“
قصّہ مختصر یہ کہ علم نجوم کی مدد سے جب ہم اپنی خوبیوں اور خامیوں کو جان لیتے ہیں تو ہمارے لیے اپنے مسائل کو سمجھنا اور ان کا حل تلاش کرنا بہت آسان ہو جاتا ہے۔
ہماری معاشرتی زندگی کا ایک نہایت اہم ترین پہلو محبت، شادی اور ازدواجی زندگی ہے اور ان تینوں حوالوں سے حقیقی خوشیاں اس وقت تک میسر نہیں آسکتیں جب تک فریقین کے درمیان اعلیٰ درجے کی فطری اور مزاجی ہم آہنگی موجود نہ ہو کیوں کہ ہزارہا تجربات کی روشنی میں یہ حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ دنیاوی عیش و عشرت، مال ودولت، عروج وشہرت، کسی بھی ازداواجی رفاقت میں کامیابی کی ضامن ثابت نہیں ہوئی ہیں، اگر ایسا ہوتا تو پرنس چارلس اور لیڈی ڈیانا یا اور ایسی ہی دیگر مشہور شخصیات کی ازدواجی زندگی ناکامی سے دوچار نہ ہوتی۔ علم نجوم اس حوالے سے بھی ہماری سب سے زیادہ درست اور معقول رہنمائی کرتا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں علیحدگی اور طلاق کی سب سے کم شرح انڈیا میں ہے کیوں کہ وہاں دو فریقین کے زائچوں کا باہمی موازنہ کیے بغیر رشتہ ہی طے نہیں ہو سکتا۔
عزیزانِ من! مندرجہ بالا مثال صرف اس لیے دی گئی ہے کہ علم نجوم کی افادیت کی ایک جھلک دکھائی جا سکے ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ زندگی کا وہ کون سا شعبہ ہے جس میں علم نجوم ہماری مناسب رہنمائی نہیں کرتا۔ صحت، تعلیم و تربیت، کیرئیر، روزگار، محبت، پارٹنرشب، سفر، سماجیات، سیاسیات، فنونِ لطیفہ، روحانیات، عملیات الغرض ہر شعبہئ حیات کسی نہ کسی حوالے سے ایسٹرولوجی کے تعاون کا محتاج ہے۔
آئیے آج کی نشست میں ہم آپ کو آپ کے برج کے حوالے سے آپ کی مثبت و منفی خصوصیات کے اہم اور بنیادی نکات سے متعارف کرائیں۔ ان کا غور سے مطالعہ کیجیے اور دیکھیے کہ کیا آپ ایسے ہی ہیں؟ اور مثبت یا منفی خصوصیات میں سے آپ کی شخصیت و کردار میں غالب خصوصیات کون سی ہیں؟ اگر مثبت خصوصیات کا غلبہ ہے تو یقیناًآپ اپنے برج کے اعلیٰ نمائندے ہیں۔ بصورتِ دیگر آپ کو اپنی اصلاح پر توجہ دینا چاہیے۔ اس طرح ممکن ہے آپ کی زندگی میں موجود بہت سے مسائل خود بخود ختم ہونے لگیں اور آپ ایک زیادہ خوشگوار اورکامیاب زندگی بسر کر سکیں۔
مختلف بروج کے حوالے سے ہم یہاں جو مثبت اور منفی خصوصیات پیش کر رہے ہیں ان میں کمی بیشی کا انحصار کسی فرد کے ذاتی، انفرادی زائچہ پر ہو سکتا ہے۔

بُرج حمل (سیّارہ مریخ)

اگر آپ کی تاریخ پیدائش 21 مارچ سے 20 اپریل تک ہے تو اپنی مثبت خصوصیات میں آپ پیدائشی طور پر عزم و ارادے کے پکے، مقصد کی لگن رکھنے والے ایک جنگ جو انسان ہیں۔صاف گوئی، ہمت و دانائی، سرگرمی و پھرتی، کشادہ ذہنی اور واضح ہدف رکھنا آپ کی مثبت خصوصیات میں شامل ہے۔
آپ کی شخصیت کے منفی پہلوؤں میں جلد بازی، خود پسندی و غرور، حسد، خود غرضی اور دوسروں پر غلبہ رکھنے کی خواہش،بے احتیاطی، سخت مزاجی جو تلخ کلامی کی حد تک بڑھ سکتی ہے اور شدت پسندی نمایاں ہیں۔

بُرج ثور (سیّارہ زُہرہ)

اگر آپ کی تاریخ پیدائش 21 اپریل سے 21 مئی تک ہے تو آپ کا شمسی برج ثور ہے۔ آپ کی شخصیت کے مثبت پہلووٗں میں نرم دلی اور مہربانی، عمل پسندی اور استحکام، اعتماد و وفاداری، سخاوت اور فنکارانہ صلاحیتیں شامل ہیں۔
جبکہ منفی پہلوؤں میں ضد اور ہٹ دھرمی، غلبہ پسندی اور مادہ پرستی، سستی و کاہلی تنگ نظری، خود پرستی اور اکھڑ پن شامل ہے۔

بُرج جوزا (سیّارہ عطارد)

برج جوزا کا عرصہ ہرسال 22 مئی تا 21 جون ہے۔ اگر آپ اس عرصے میں پیدا ہوئے ہیں تو آپ کی شخصیت کے مثبت پہلو یہ ہیں، حاضر جوابی، خوش مزاجی، ہمہ گیریت، ذہانت، پرجوشی، مصلحت اندیشی، موقع شناسی اور زندہ دلی شامل ہیں۔
جب کہ شخصیت کے منفی پہلوؤں میں قوت فیصلہ کا فقدان، بے ڈھنگا پن، خودپسندی، بے پروائی اور بے تعلقی، فضول گوئی، آوارگی پسندی، ہرجائی پن یعنی جلد بدل جانا شامل ہیں۔

بُرج سرطان (سیّارہ قمر)

22 جون سے 22 جولائی تک کے عرصے پربرج سرطان محیط ہے اگر آپ اس دوران میں پیدا ہوئے ہیں تو آپ کی شخصیت کے مثبت پہلوؤں میں مضبوطی اور استحکام، احساس اور تخیّل، ہم دردی اور اثرپذیری، وفاداری، اصول پسندی کے ساتھ پراسراریت نمایاں ہے۔
جب کہ منفی پہلوؤں میں من موجی پن، تذبذب اورڈھلمل یقینی، یاسیّت، احساس کمتری، زود رنجی (جلد ناراض ہونا یا صدمہ کرنا)اور معاف نہ کرنا شامل ہے۔

بُرج اسد (سیّارہ شمس)

22 جولائی سے 23 اگست تک کی مدت برج اسد کے لیے مخصوص ہے۔ اس عرصے میں پیدا ہونے والے مرد و خواتین کی مثبت خصوصیات میں فراخ دلی و سخاوت، گرم جوشی اور عاشق مزاجی، وفاداری اور خود شناسی، باوقار انداز، فنکارانہ صلاحیت، چُستی اور تحریک، ڈرامائی اور شاہانہ طور طریقے شامل ہیں۔
جب کہ ان کی منفی خصوصیات میں شیخی اور تکبر، ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی، خود پسندی اور تشدّد، بے صبرا پن اور موڈی ہونا شامل ہے۔

بُرج سنبلہ (سیّارہ عطارد)

اگر آپ 24 اگست تا 23 ستمبر کے درمیان کسی بھی تاریخ کو پیدا ہوئے ہیں تو اپنی شخصیت کے مثبت پہلوؤں میں سلیقہ مند، اصول وقواعد کے پابند، معقولیت پسند،جچے تُلے انداز میں کام کرنے والے، درستگی اور اصلاح پسندی پر مائل، منطقی، تجزیہ کرنے کے عادی، صاحبِ امتیاز، باشعور اور باطنی قوتوں کے حامل ہیں۔
آپ کی شخصیت کے منفی پہلوؤں میں نکتہ چینی یا اعتراض، تنگ نظری یا محدودیت اور بے لچک رویہ، بناوٹی یا مصنوعی شرم و حیا، عیب جوئی کا شوق، کنجوسی اور جھگڑالوپن نمایاں ہیں۔

بُرج میزان (سیّارہ زُہرہ)

ہر سال 24 ستمبر سے 23 اکتوبر تک پیدا ہونے والے افراد برج میزان کے زیر اثر ہیں۔ دائرۃ البروج کے 12برجوں میں یہ واحد برج ہے جس کا علامتی نشان ایک بے جان ترازو ہے۔ ورنہ اگر پہلے برج سے نظر ڈالی جائے تو ہر برج کا علامتی نشان کسی نہ کسی جان دار کی نشان دہی کرتا ہے لیکن برج میزان کا نشان ایک بے جان ترازو ہے۔ دراصل یہ وہ واحد برج ہے جو 12بروج کی قطار میں عین درمیان میں واقع ہے۔ توازن اور ہم آہنگی اس کا بنیادی وصف ہے جو اسے عدل و انصاف کی اعلیٰ خصوصیت پر فائز کرتا ہے۔ خیال رہے کہ عدل و انصاف کے اعلیٰ ترین معیار پر پورا اُترنے کے لیے نہایت غیر جذباتی ہونا ضروری ہے۔ دوسرے معنوں میں ہم اس بات کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ”بے جان“ ہونا ضروری ہے۔
اپنی مثبت خصوصیات میں ایک میزانی شخصیت منصف مزاج، سفارت کار، نفیس اور پرکشش، متوازن، ہر دل عزیز، دانش مند اور ہوشیار ہوتی ہے۔معتدل مزاجی کے ساتھ مصلحت اور مصالحت پسندی اس کا شعار ہے اور جمالیاتی ذوق کے ساتھ رومان سے رغبت رکھتی ہے۔
میزان شخصیت کے منفی پہلوؤں میں سستی اور سہل پسندی، تذبذب، خودغرضی، بے ثباتی، پس وپیش میں مبتلا ہونا، علیحدگی پسندی اور غیر مخلصی شامل ہے۔

بُرج عقرب (سیّارہ پلوٹو)

اس عجوبہئ روز گار برج کا عرصہ 24 اکتوبر سے 22 نومبر تک ہے۔ اس کے زیر اثر پیدا ہونے والے افراد کی شخصیت کے مثبت پہلوؤں میں مضبوط قوت ارادی، ہمت و حوصلہ،بے خوفی، ہوشیاری، مہارت، برداشت، بالغ نظری، فہم و فراست، محنت اور لگن شامل ہے۔
عقرب شخصیت کی منفی خصوصیات میں جوش و خروش اور جذباتی پن، زود رنجی و ذکی الحسی (شدید حساسیت)،حسد، فتنہ پر دازی، کینہ پروری، انتقام جوئی،غرورو تسلط پسندی، یا غلبہ پانے کا رجحان، طنزیہ رویہ اور تشدد شامل ہیں۔

بُرج قوس (سیّارہ مشتری)

23 نومبرسے21 دسمبر تک پیدا ہونے والے افراد برج وقوس کے زیر اثر ہیں۔ان کے مثبت پہلوؤں میں حکمت ودانائی، اصول پسندی، دیانت داری، سرگرمی و پرجوشی، صاف گوئی، کشادہ دلی، بے خوفی اور حوصلہ مندی، آزادرَوی اور فطرت پسندی، ذہانت و تجس، سخاوت و آرزومندی اور اسپورٹس مین شپ شامل ہیں۔
جبکہ منفی پہلوؤں میں شیخی، مبالغہ آرائی، ضرورت سے زیادہ خوداعتمادی، بے اصولی، جارحیت، اکھڑپن، لاتعلقی، سرکشی و نافرمانی، احمقانہ باتیں اور احمقانہ حرکات نمایاں ہیں۔

بُرج جدّی (سیّارہ زحل)

عرصہ پیدائش 22 دسمبر تا 20 جنوری ہے۔ ایک جدی شخصیت اپنے مثبت پہلوؤں میں مستقل مزاج، عملی اور کارگزار، مضبوط، کم گو یا خاموش طبع، منطقی، نظم و ضبط کی پابند، تعاون کرنے والی ہوتی ہے۔
جدی شخصیت کے منفی پہلوؤں میں شک اور بدظنی، سرد مزاجی، خودغرضی، خودسری یا ضدی پن، مزاحمت پسندی، زود رنجی اور یاسیت پسندی نمایاں ہیں۔

بُرج دلو (سیّارہ یورینس)

21 جنوری تا19 فروری انوکھے برج دلو کا عرصہ ہے جس کا بنیادی وصف ایجاد و اختراع اور سچائی کی طلب ہے۔
ایک دلو شخصیت کے مثبت پہلوؤں میں ذمّے داری، روشن خیالی، سچائی پسندی، ہم دردی اور ہر دلعزیزی، خوش مزاجی، تخلیق و اختراع، وجدانی قوت اور غیر جانب داری شامل ہیں۔
جب کہ منفی پہلوؤں میں مُتَلوِّن مزاجی، ڈانواڈول ہونا، نااہلی، خبط اور وہم، غیرروایتی طور طریقے اور رویے، سرکشی اور بغاوت،تغیرپسندی اور ہرجائی پن نمایاں ہیں۔

بُرج حوت (سیّارہ نیپچون)

20 فروری تا 20 مارچ پر اسرار برج حوت کا عرصہ ہے۔ایک حوت شخصیت اپنے مثبت پہلوؤں میں پراسرار، تخیلاتی، ہم درد و مہربان، ضرورت سے زیادہ حساس اور فیاض، ترقی پسند و روشن خیال، نرم خو، متاثرکن اور فطرت پسند ہوتی ہے۔
جب کہ اس کی منفی خصوصیات میں مبہم انداز، سست روی، بے پروائی، غیرعملی پن، اکثر موڈی،غیر متوازن سا طرز عمل، خود کو دوسروں کے لیے مشکل اور پے چیدہ بنائے رکھنا، غیر یقینی کیفیات اور انداز شامل ہیں۔
ہم نے برج حوت کو ”پراسرار برج“ لکھا ہے۔ اس کا حاکم سیارہ نیپچون پراسراریت یا دوسرے معنوں میں روحانیت سے متعلق ہے۔ حوت افراد کو ”مائع شخصیت“ بھی کہا جاتا ہے۔کیوں کہ ان کی شخصیت و کردار میں کسی سیال شے کے مانند بہاؤ اور پھیلاؤ موجود ہوتا ہے اور ایک خیالی پراسرریت ان کی شخصیت میں نظر آتی ہے اگر چہ اس کے ساتھ ہی ان کے اندر فنکارانہ نفاست بھی پائی جاتی ہے مگر حسن و خوبصورتی سے ان کی دل چسپی ایک انفرادی خصوصیت ہوتی ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ یہ دنیا کے سب سے عمدہ ”معمول“ (Medium)ہوتے ہیں اور کسی بھی نامناسب صورتِ حال میں ان کی سائیکی بگڑتے دیر نہیں لگتی۔ یہ بھی درست ہے کہ دنیا بھر میں شاید سب سے زیادہ وجدانی، تخلیقی اور ارتکاز توجہ کی قوتیں، ان کے اندر موجو دہیں۔جن سے یہ اکثر بے خبر رہتے ہیں اور جن لوگوں نے اپنی ان قوتوں کو پالیا وہ آج تاریخ کے نامور افراد میں شامل ہیں مثلاًالبرٹ آئن اسٹائن، نوبل انعام یافتہ ادیب و شاعر وکٹرہیوگو، ٹیلی فون کا مؤجد گراہم بیل، اداکارہ ایلزبتھ ٹیلر، مشہورامریکی پیش گو ایڈگرکیسی وغیرہ۔ ان لوگوں کی نمایاں شناخت ان کی خواب ناک اور چہرے پرنمایاں محسوس ہوتی ہوئی آنکھیں ہیں۔اگر آپ کسی شخصیت کے چہرے پرنظر ڈالنے کے بعد اس کی آنکھوں کو فراموش نہ کرسکیں تو سمجھ لیں کہ وہ یقیناًکوئی حوت شخصیت ہے۔
اپنی پریکٹس کے دوران میں ہم برسوں سے جو مشاہدہ کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ مخالف یا نامناسب بروج کے حامل افراد جب کسی بھی نوعیت کی باہمی شراکت قائم کرتے ہیں تو نہ صرف یہ کہ نت نئے مسائل کا شکار ہوتے ہیں بلکہ باہمی شراکت کے بنیادی مقاصد بھی تبا ہ و برباد ہوکر رہ جاتے ہیں۔ اسی نوعیت کی کاروباری شراکت چونکہ دونوں فریقین کو مالی اور کاروباری نقصانات و پریشانی میں مبتلا کرتی ہے اور بالآخر وہ علیحدگی اختیار کرکے نئے راستوں پر گامزن ہوجاتے ہیں۔ جب کہ ایسے دو افراد ازدواجی بندھن میں بندھتے ہیں تو یہ صرف کوئی مالی یا کاروباری نفع یا نقصان کا مسئلہ نہیں ہوتا بلکہ دو زندگیوں کا مسئلہ ہوتا ہے اور مزید آگے بڑھ کر نسل انسانی کے ارتقائی عمل کا مسئلہ ہوتا ہے۔ اگر بنیاد ہی غلط رکھ دی جائے یعنی دو مختلف مزاج اور فطرت کے افراد کو شادی کے بندھن میں باندھ کر یکجا کر دیا جائے تو ان کے متضاد رویے اور مخالفانہ طرز عمل نہ صرف ان کی زندگی کو جہنم کا نمونہ بنا کر رکھ دیں گے بلکہ ان کی اولاد بھی ماں باپ کے باہمی تعلقات میں موجود تضادات کے خراب اثرات کا شکار ہوگی اور اُس کی تعلیم و تربیت ایسے منفی ماحول میں ہوگی جو آئندہ زندگی کے لیے مثبت اور مضبوط بنیادیں فراہم نہیں کر سکتا۔ ذرا ایک مثال ملاحظہ کیجیے جس سے ایک سر سری سا اندازہ لگانے میں مدد ملے گی کہ دو مخالف یا نامناسب برجوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی باہمی رفاقت کیا رنگ دکھاتی ہے۔
برج جوزا ایک دہری شخصیت رکھنے والا برج ہے جس کا عنصر ہوا ہے اور سیارہ عطارد ہے۔ برج جوزا والے ہوا میں اڑتے ہیں اور پل پل رنگ بدلتے ہیں۔ ان کے مزاجی تغیر کا کوئی ٹھکانانہیں، بیک وقت کئی سمتوں میں ان کا ذہن دوڑ رہا ہوتا ہے، نت نئی دلچسپیاں انہیں مستقل چاہئیں۔ زندگی میں یکسانیت ان کے لیے زہر قاتل ہے۔ چو ں کہ یہ خود بھی نہایت ذہین اور فطین ہوتے ہیں لہٰذا احمقانہ باتوں اور گاؤدی قسم کے لوگوں کو پسند نہیں کرتے۔ حاضر جوابی، زبان درازی کے علاوہ بے پروائی اور اکثر غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایسے کسی شخص کی شادی اگر کسی حوت عورت کے ساتھ ہوجائے تو کیا صورت حال سامنے آئے گی؟
برج حوت کا حاکم سیارہ نپچون اور عنصر اس کا پانی ہے۔ ہوا اور پانی میں کوئی قدر مشترک نہیں ہے۔ حوتی افراد نہایت حساس، گہری وابستگی رکھنے والے محبت اور نفرت، دونوں جذبوں میں انتہا پسند، محدود انداز میں زندگی گزارنے والے گویا اپنے کام سے کام رکھنے والے، جاگتی آنکھوں خواب دیکھنے والے، اپنے نظریات میں مستحکم، بے حد رقیبانہ فطرت کے ساتھ دوسروں کی خصوصی توجہ کے طالب، کسی قدر سست اور آرام طلب، دنیا کے پل پل بدلتے رنگوں سے بیزار، انتہائی زود رنج، ڈپریس اور یاسیت کا شکار ہوتے ہیں۔ گویا برج جوزا کی ہوائی فطرت اور حوت کا آبی مزاج ایک دوسرے سے قطعاً متضاد ہیں۔
حوت عورت چاہے گی کہ اس کا جوزا شوہر اس کے علاوہ کسی کی طرف نہ دیکھے، ہروقت اس کے ہی معاملات میں دلچسپی لیتا رہے۔ اس کے گہرے جذبات کو سمجھنے کی کوشش کرے اور جوابی طور پر ایسی ہی محبت اور توجہ دے جیسی کہ وہ کرتی ہے۔ اس کی نرمی اور مروت کا خیال کرے اور اس کے لاشعور میں جواندیشے یا وسوسے یا خوف موجود ہیں انہیں دور کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے لیکن ایک جوزا مرد کو ان سب باتوں سے کیا سروکار، وہ آندھی طوفان کی طرح گھر میں داخل ہوتا ہے اور جب تک گھر میں موجود رہتا ہے اپنی ہی کسی سوچ میں مگن یا کسی دلچسپی میں مصروف رہتا ہے جب تک اسے کوئی ضرورت پیش نہ آئے اسے یاد بھی نہیں آتا کہ گھر کے اندر ایک خاموش، سہما سہما، شرمیلا سا کوئی اور وجود بھی موجود ہے اور اس کی ایک نگاہِ کرم کا منتظر ہے۔ اس کے برعکس وہ یہ سوچتا ہے کہ یہ کس قسم کی بزدل، ڈرپوک، ہر وقت رونے دھونے والی اداس اداس، احمقانہ خوابوں میں کھوئی ہوئی عورت میرے پلّے پڑ گئی ہے جسے نہ ہنسی مذاق سے کوئی دلچسپی ہے اور نہ گھومنے پھرنے اور سیر و تفریح کا کوئی خاص شوق ہے۔ اس کے علاوہ وہ چو ں کہ خود بہت تیز اور پھرتیلا ہے لہٰذا حوت عورت اس کو نہایت سست اور کاہل، اکثر و بیشتر ٹھنڈی آہیں بھرتی، منہ لٹکائے ساری دنیا سے بیزار نظر آتی ہے، لہٰذا وہ اسے پاگل و بیوقوف کے خطاب سے نوازتا ہوا گھر سے نکل جاتا ہے اور اپنا فالتو وقت کہیں اپنے دوستوں میں گزار کر خوش ہوتا ہے اور پھر اسے یہ بھی ہوش نہیں رہتا کہ اس کی عدم موجودگی میں اس کی بیوی پر کیا گزر رہی ہوگی۔
حوت عورت اس کے اس رویے سے سخت کوفت اور مایوسی کا شکار ہوتی ہے۔ جلنا کڑھنا، چپکے چپکے آنسو بہانا اور پھر شوہر کا غصہ بچوں پر اتارنا شروع کر دیتی ہے۔ یہی روز و شب بالآخر دونوں کے درمیان ذہنی اور دلی معاملات میں ایک ایسی خلیج پیدا کر دیتے ہیں کہ آہستہ آہستہ دونوں ایک دوسرے کی صورت دیکھنے کے بھی روادار نہیں رہتے۔
جوزا مرد تو ایک اڑتا پنچھی ہے، آج اس ڈال پر تو کل کسی دوسری ڈال پر بیٹھا نظر آئے گا۔ نت نئی دلچسپیاں وہ اپنے لیے ڈھونڈ لیتا ہے اور اپنے سارے غم و فکر یار دوستوں میں ہنس بول کر ہوا میں اڑا دیتا ہے لیکن ”حوت بیگم“ اس ساری صورت حال میں اگر خود کوٹی بی کی مریضہ بنا لے تو تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ ان حالات میں ان کے بچے کیا محسوس کریں گے اور ان کے دل و دماغ پر کس قسم کے منفی اثرات پڑیں گے اس کا اندازہ ہر باشعور انسان کر سکتا ہے۔ ہمیں مزید کچھ یہاں بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
عزیزان من اس مثال سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ علم نجوم سے ہمیں جو راہنمائی ملتی ہے وہ کس قدر اہم اور مفید ثابت ہوتی ہے۔ اگر ہم دو افراد کو شادی کے بندھن میں باندھنے سے پہلے ان کے مزاج وفطرت اور کردار کو سمجھ لیں تو ہزاروں گھرانے شادی کے بعد تباہ و برباد ہونے سے بچ سکتے ہیں۔ معاشرے میں خوشگوار اور محبت و خلوص سے بھرپور ازدواجی جوڑے بنائے جاسکتے ہیں جو نہ صرف یہ کہ اپنی زندگی کوخوش و خرم انداز سے گزاریں گے بلکہ ان کی اولاد بھی ورثے میں بہتر ماحول پائے گی۔
ہم نے اوپر جو مثال دی ہے اس میں ایک جوزا مرد کے طور طریقے ممکن ہیں بعض لوگوں کی نظر میں قابل اعتراض ہوں اور اس طرح یہ تصور پیدا ہو کہ جوزا افراد برے ہوتے ہیں۔ درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ اگر جوزا مرد کی شادی کسی اسد دعورت یا میزان یا قوس یا دلو یا حمل عورت سے کردی جائے تو یہ صوتِ حال پیش نہیں آئے گی کیوں کہ یہ ایسے بروج ہیں جو برج جوزا کے مزاج و کردار کو سمجھ سکتے ہیں یا اگر مکمل طور پر سمجھ نہ سکیں تو کم ا ز کم زندگی کے ہر مرحلے میں اُس کا ساتھ دے سکتے ہیں۔ ان میں جو خوبیاں اور خامیاں موجود ہیں وہ ایک جوزا شخص کے لیے قابل قبول ہوں گی اور جو خوبیاں اور خامیاں خود جوزا میں موجود ہیں وہ ان کے لیے قابل قبول ہوں گی۔ لہٰذا ازدواجی زندگی کی گاڑی بہت سے شور وہنگامے کے باوجود (جو اِن بروج کا خاصہ ہے)رواں دواں رہے گی۔
اسی طرح اگر ایک حوت عورت کی ازدواجی رفاقت ثور، سرطان، عقرب یا سنبلہ مرد سے قائم ہوتی ہے۔ تو وہ ایسی ناگوار صورتِ حال سے دو چار نہیں ہو گی جو جوزا مرد کے ساتھ پیش آ سکتی ہے بلکہ ایک مناسب رفاقت میں اس کی اپنی شخصیت و کردار کے مثبت پہلو نمایاں ہوں گے کیوں کہ مذکورہ بالا بروج، برج حوت سے ہم آہنگ اور ہم مزاج ہیں۔
یقیناًکچھ لوگ ایسی مثالیں بھی پیش کر سکتے ہیں جس میں دو ہم آہنگ اور ہم مزاج بروج کی شراکت یا رفاقت ناکام رہی ہے۔ خود ہمارے مشاہدے میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں۔
پہلی شہرہ آفاق مثال تو پرنس چارلس اور شہزادی ڈیانا کی ہے۔ چارلس کا برج عقرب اور ڈیانا کا سرطان تھا۔ دونوں موافق اور ہم آہنگ برج ہیں۔ شاید اسی وجہ سے دونوں نے ابتدائی طور پر ایک دوسرے میں کشش بھی محسوس کی لیکن درحقیقت دونوں کے درمیان ایک تیسری شخصیت یعنی شہزادے کی موجودہ شریک حیات کمیلا پارکر ابتدا ہی سے موجود تھی اور دلچسپ بات یہ ہے کہ کمیلا پارکر کا بھی شمسی برج سرطان ہی ہے۔
بہرحال کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی شخص کے انفرادی زائچہ پیدائش میں صرف ایک شمسی برج ہی اس کی شخصیت و فطرت اور کردار میں کلیدی کردار ادا نہیں کر رہا ہوتا بلکہ قمری برج (Moon sign) اور پیدائشی برج (Rising sing)اور اس کے علاوہ دیگر سیارگان اپنے اپنے مقامات پر اپنا اثر ظاہر کر رہے ہوتے ہیں۔ چنانچہ دو افراد کے درمیان دوستی اور رفاقت یا کسی بھی نوعیت کی شراکت کے مثبت اور منفی پہلو صرف اور صرف شمسی برج کی بنیاد پر حتمی تصور نہیں کیے جا سکتے دیگر عوامل ان میں فرق ڈال سکتے ہیں۔
شمسی برج ابتدائی سطح پر تو یقیناًہماری معقول رہنمائی کرتا ہے مگر ہمارے ہاں کی صورتِ حال اس کے بالکل بر عکس ہے ہم اس علم سے فائدہ اٹھانا ضروری ہی نہیں سمجھتے بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ ہم شادی اور ازدواجی زندگی جیسے اہم اور بنیادی مسئلے میں کسی علم سے بھی فائدہ اُٹھانا ضروری نہیں سمجھتے بلکہ اس معاملے میں ہم اپنی ذاتی خواہشات، اپنے بنائے ہوئے نظریات، اپنے خاندان و برادری میں جاری رسم و روایات کے غلام ہیں۔ ذرا تصور کیجیے جہاں وٹّے سٹّے کی شادیاں عام تصور کی جاتی ہوں 7،8 سال کے لڑکے سے 18،19سال کی لڑکی کی شادی کر دی جاتی ہوجسے وہ بچپن سے آپا یا باجی وغیرہ کہتا آیا ہو۔ یا اس کے برعکس 16,15 سال کی لڑکی کا ہاتھ 40،50 برس کے پختہ عمر شخص کے ہاتھ میں دے دیا جاتا ہو وہاں معقولیت کی کوئی بات کون سنے گا؟ بلکہ ایسی باتوں کوفضول باتیں اور خرافات قرار دے کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
عزیزان من! حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی میں جن گوناگوں مسائل اور نو بہ نو مصائب کا شکار ہوتا ہے ان کی تہ میں کہیں نہ کہیں اس کی کوئی غفلت یا جہالت پوشیدہ ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے علوم و فنون کے فروغ ہی کو قوموں کی حقیقی ترقی کہا جاتا ہے۔

ہفتہ، 27 فروری، 2021

مارچ کی فلکیاتی صورت حال، پل پل رنگ بدلتا مہینہ


اس مہینے کے خصوصی اعمال و وظائف اور سیاروی اوقات

 زائچہ ء پاکستان کے مطابق ملک مشکل صورت حال سے رفتہ رفتہ نکل رہا ہے، یہ درست ہے کہ برسوں سے جاری کرپشن، بدانتظامی اور مفاد پرستی نے ملک کو جس سطح پر پہنچا دیا ہے، اس سے مکمل نجات چند سالوں میں ممکن نہیں ہے لیکن زائچے کی سیاروی پوزیشن بتدریج مثبت رُخ اختیار کر رہی ہے، خوش گوار نتائج اور صورت حال میں مزید ایک سال لگ سکتا ہے بہ شرط یہ کہ درمیان میں کوئی بڑا حادثہ یا سانحہ پیش نہ آئے۔

ملک میں سیاسی طور پر شدید انارکی کی کیفیت ہے جس کا سبب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری مسلسل محاذ آرائی ہے،سب سے پہلے تو حکومت کی اپنی ہی صفوں میں ایک خانہ جنگی کی سی کیفیت ہے اور دوسری طرف اپوزیشن کے تابڑ توڑ حملے بھی جاری ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر حکومتی جماعت کے درمیان انتشار اور عدم اعتماد کی فضا ہے تو دوسری طرف اپوزیشن کا بھی کچھ ایسا ہی حال ہے، پی ڈی ایم ایک متحدہ اپوزیشن محاذ ہے لیکن اس محاذ میں شامل دوسری سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان ہم آہنگی نہیں ہے، قصہ مختصر یہ کہ میدان سیاست میں اگرچہ گرم بازاری ہے، ہر روز نت نئے خبریں اور نت نئے تماشے دیکھنے میں آتے ہیں، خصوصاً سینیٹ کے انتخابات آج کل ہر طرف موضوع بحث ہیں، حالاں کہ یہ بحث لاحاصل ہے، سینیٹ کے انتخابات میں ہمیشہ سے جو ہوتا آیا ہے، وہی ہورہا ہے، اسی گہما گہمی، مارا ماری میں بہر حال سینیٹ کے انتخابات بھی ہوجائیں گے لیکن یہ انتخابات بہر حال حکومت کے لیے تقویت کا باعث ہوں گے کیوں کہ سینی ٹ میں ان کی نشستوں میں مزید اضافہ ہوگا۔
اخبارات اور نیوز چینلز پر جو خبریں اور تبصرے ہوتے رہتے ہیں، ہم نے انھیں نظر انداز کر رکھا ہے، اب اخبار ہم پڑھتے نہیں اور نیوز چینلز خصوصاً ٹاک شوز دیکھتے نہیں کیوں کہ ہمیں معلوم ہے کہ پاکستان میں صحافت بھی اپنی موت آپ مر رہی ہے، نظریاتی حق پرست صحافت دم توڑ چکی ہے، پاکستان کے صحافتی حلقے سیاسی پارٹیوں سے وابستگی کے بعد اور اپنی بعض مجبوریوں کے سبب اپنا اعتبار کھوتے جارہے ہیں، تقریباً جو سیاست کا حال ہے، وہی صحافت کا حال ہے، اس پر سونے پر سہاگا سوشل میڈیا ہے جس پر یہ مشہور مصرع صادق آتا ہے ؎ سنتا جا شرماتا جا۔

زائچہ پاکستان

اس ساری صورت حال سے قطع نظر زائچہ پاکستان کی سیاروی پیش رفت خاصی دلچسپ ہے، آئیے ذرا اس پر ایک نظر ڈال لیں۔
زائچے میں سیاروی پوزیشن کسی طور بھی کمزور اور مکمل طور پر ناقص نہیں کہی جاسکتی، شرف یافتہ راہو زائچے کے پہلے گھر میں اور اس کے ہمراہ سیارہ مریخ موجود ہے جو زائچے کے پہلے، ساتویں اور آٹھویں گھر کو متاثر کر رہا ہے، گویا خفیہ ہاتھ اور شرپسند عناصر نقصان پہنچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، سیارہ مریخ بارھویں گھر کا حاکم ہے اور فعلی طور پر نقصان پہنچانے والا سیارہ ہے، چناں چہ جو کچھ ڈسکہ میں ہوا، وہ بھی مریخ کی اسی پوزیشن کا شاخسانہ ہے اور اس مہینے میں مزید ایسے ہی حادثات و سانحات کا امکان موجود ہے،سیارہ مریخ کی یہ نظر تقریباً 5 مارچ تک رہے گی۔
راہو سیارہ زحل اور مشتری کو ترچھی نظر (Trine) سے دیکھ رہا ہے، گویا اس عرصے میں حکومت سے غلطیاں اور غلط فہمیاں سرزد ہوسکتی ہیں جس کے نتیجے میں حکومتی احکام اور فیصلوں کو ہدف تنقید بنایا جاسکتا ہے،راہو تقریباً سارا سال سیارہ زحل سے ناظر رہے گا، چناں چہ سالانہ تجزیے میں ہم نے لکھا تھا کہ یہ سال حکومتی ارکان کے کرپشن اسکینڈلز سامنے لائے گا، کرپشن کا جمعہ بازار سینیٹ الیکشن کے دوران بھی گرم رہے گا جس کے چھینٹے خود وزیراعظم کے دامن پر بھی نظرآسکتے ہیں، خاص طور سے اپریل کا مہینہ اس حوالے سے خاصا ہنگامہ خیز نظر آتا ہے۔
سیارہ مرکری بھی راہو سے متاثرہ ہے، چناں چہ میڈیا میں افواہوں اور احمقانہ تبصروں کا زور رہے گا، یہ صورت حال پورا مہینہ جاری رہے گی۔
4 اہم ترین سیارے زحل، مشتری، عطارد اور قمر مارچ کے دوسرے ہفتے میں نویں گھر میں اپنے اثرات ڈال رہے ہیں جب کہ سیارہ شمس اور زہرہ دسویں گھر میں حالت قران میں رہتے ہوئے حکومت کے لیے مشکلات اور سختی ظاہر کر رہے ہیں،امکان ہے کہ مارچ ہی میں نئی قانون سازی کے لیے تیاریاں شروع ہوسکتی ہیں، مزید یہ کہ کسی مائنس ون فارمولے پر بھی کام تیزی پکڑ سکتا ہے۔
نیا چاند 12 مارچ کو ہوگا گویا اس کے بعد حکومت کچھ سکون کا سانس لے سکے گی اور اپوزیشن کے لیے نئے چیلنج سامنے آئیں گے، ممکن ہے ان کی صفوں میں اتحاد برقرار نہ رہ سکے، مجموعی طور پر مارچ کا مہینہ حکومت کے لیے کسی بڑے خطرے کی نشان دہی نہیں کرتا، البتہ اپوزیشن بدستور اپنی کوششوں میں مصروف رہے گی (واللہ اعلم بالصواب)

مارچ کی سیاروی رفتار

سیارہ شمس برج دلو میں حرکت کر رہا ہے، 14 مارچ کو برج حوت میں داخل ہوگا اور مہینے کے آخر تک اسی برج میں رہے گا، سیارہ عطارد برج جدی میں حرکت کر رہا ہے، گیارہ مارچ کو برج دلو میں داخل ہوگا اور پورا مہینہ اسی برج میں رہے گا، توازن و ہم آہنگی اور محبت و دوستی کا سیارہ زہرہ برج دلو میں حرکت کر رہا ہے، شمس سے قربت کے سبب غروب ہے، اس کی ناقص پوزیشن خواتین اور خصوصاً ازدواجی زندگی میں نت نئے مسائل پیدا کرتی ہے، اس عرصے میں شادی بیاہ، منگنی اور محبت کے معاملات اطمینان بخش نہیں رہتے، خیال رہے کہ تقریباً پورا مہینہ ہی سیارہ زہرہ کی ناقص پوزیشن زہرہ سے متعلق معاملات کے لیے ناموافق ہوگی، اس عرصے میں خواتین کو خصوصاً اپنے جذبات اور خواہشات پر قابو رکھنے کی ضرورت ہوگی۔
سیارہ مریخ برج ثور میں حرکت کر رہا ہے، پورا مہینہ اسی برج میں رہے گا، سیارہ مشتری بھی یہ مہینہ اپنے ہبوط کے برج جدی میں گزارے گا، سیارہ زحل اپنے ذاتی برج جدی میں حرکت کر رہا ہے اور پورا مہینہ اسی برج میں رہے گا، راہو اور کیتو بالترتیب اپنے شرف کے بروج ثور اور عقرب میں حرکت کریں گے، سیاروں کی یہ رفتاریں ویدک سسٹم کے مطابق ہیں۔

قمر در عقرب

قمر اس ماہ اپنے ہبوط کے برج عقرب میں 4 مارچ کو شام تقریباً 7:00 pm پر داخل ہوگا اور 6 مارچ شب 09:10 pm تک برج عقرب میں رہے گا، یہ سارا ہی عرصہ نحس وقت کا ہے، اس دوران میں کوئی نیا کام شروع کرنا فائدہ مند ثابت نہیں ہوگا، چناں چہ اپنے معمول کی ذمے داریاں ادا کرنا ہی کافی ہوگا، اس وقت میں رکاوٹ، بندش، بری عادتوں سے نجات کے لیے خصوصی اعمال کیے جاتے ہیں، البتہ اس وقت میں علاج معالجہ یا دیگر خرابیوں کو دور کرنے کے لیے کوشش کرنا مفید ثابت ہوتا ہے، روایتی طریق کار کے مطابق عموماً لوگ تین درجہ برج عقرب کو زیادہ مؤثر سمجھتے ہیں جب کہ ہمارے نزدیک یہ درست نہیں ہے، قمر برج عقرب میں مسلسل ہبوط یافتہ رہتا ہے، خصوصی عملیات میں صرف اس بات کا خیال رکھنا کافی ہے کہ ساعت مطلوبہ مقصد کے مطابق ہو مثلاً استحکام، پائیداری، قیام جیسے معاملات میں زحل کی ساعت کو ترجیح دی جائے، زبان بندی، مخالفت وغیرہ کی بندش میں سیارہ عطارد کی ساعت لی جائے، اسی طرح بری عادات اور رویے سے نجات کے لیے سیارہ قمر کی ساعات سے کام لیا جائے،وغیرہ وغیرہ۔اس حوالے سے اسی ویب سائٹ پر ہمارے پرانے آرٹیکلز میں دئیے گئے عملیات موجود ہیں، اپنی ضرورت کے مطابق کسی بھی عمل کا انتخاب کرکے اور دیے گئے وقت میں اس سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے، اگر آپ خود یہ کام نہ کرسکیں تو ہمارے دفتر سے رابطہ کرسکتے ہیں۔

عشق کا بھوت

اکثر ایسی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے جس میں لڑکا یا لڑکی کسی کے عشق میں تقریباً پاگل ہوجاتے ہیں اور اپنا اچھا برا سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھودیتے ہیں، ایسی صورت میں انھیں راہ راست پر لانے کے لیے یہاں ایک عمل لکھا جارہا ہے، مجرب ہے۔
قمر در عقرب یا قران شمس و قمر کے وقت ساعت قمر میں یہ عمل کیا جائے تو ان شاء اللہ نتائج مرضی کے مطابق سامنے آئیں گے۔
رجال الغیب کی سمت کا خیال رکھ کر بیٹھیں اور ایک سفید کاغذ پر مندرجہ ذیل عزیمت لکھ لیں ”احد رسص طعک لموہ عقد التعلق عاشقی فلاں بن فلاں و بین فلاں بنت فلاں (مرد کے لیے بن اور عورت کے لیے بنت، پہلے اس کا نام لکھیں جو کسی کے عشق میں مبتلا ہے) عقدت قلوبہم ابداً یا حراکیلُ بحق یا قابضُ یا مانعُ العجل العجل العجل الساعۃ الساعۃ الساعۃ“۔
دو نقش لکھیں کالی روشنائی سے ایک قبرستان میں کسی قبر کے سرہانے دفن کریں اور دوسرا عاشق کے راستے میں دفن کردیں جہاں سے وہ گزرتا ہو، ان شاء اللہ اپنے اندھے عشق سے بعض آجائے گا۔

نیا چاند (New moon)

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ہر مہینے نیا چاند سیارہ قمر اور شمس کی باہمی ملاقات (قران) کے بعد طلوع ہوتا ہے، قمر اور شمس جب کسی برج میں ایک ہی درجے پر قران کرتے ہیں تو اس کے تقریباً 20 سے 24 گھنٹے بعد نیا چاند اُفق پر نظر آتا ہے، اس حوالے سے ہمارے ملک میں ہمیشہ رویت ہلال کے مسائل موجود رہے ہیں لیکن یہاں یہ مسئلہ ہمارے پیش نظر نہیں ہے، قوانین جفر کے مطابق قران شمس و قمر کا وقت بھی نحس اثرات کا حامل ہوتا ہے، اس روز بھی کوئی نیا کام شروع نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس سے کچھ پہلے ہی اور بعد تک محتاط رہنے کی ضرورت ہوتی ہے کیوں کہ اول تو شمس کی قربت کے سبب قمر غروب (تحت الشاع) ہوجاتا ہے، دوم یہ کہ بعض صورتوں میں وہ شمس کے لیے بھی ضرر رساں بن جاتا ہے، چناں چہ یہ وقت بھی تقریباً ایسا ہی ہوتا ہے جیسا قمر در عقرب کا وقت ہوتا ہے، اس وقت میں بھی مختلف نوعیت کے عملیات و وظائف، نقوش و طلسم کیے جاسکتے ہیں، اس ماہ سے ہم پابندی سے اس وقت کی نشان دہی بھی کریں گے۔

قران شمس و قمر

پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق سیارہ شمس اور قمر ایک ہی درجے پر 13 مارچ سہ پہر 03:21 pm پر مکمل قران کریں گے، گویا نئے چاند کی پیدائش ہوگی لیکن اصول و قواعد کے مطابق مؤثر وقت کا آغاز 12 مارچ دوپہر 02:40pm سے ہوجائے گا یعنی سیارہ قمر غروب ہوجائے گا اور قمر کی یہ نحس پوزیشن 14 اکتوبر تقریباً سہ پہر 3 بجے تک رہے گی، اس تمام عرصے میں کوئی بھی وظیفہ، نقش یا طلسم مقصد کی مناسبت سے ساعت منتخب کرکے کیا جائے تو یقیناً ذود اثر ہوگا۔

برائے طلاق

عام طور پر ہم ایسے عملیات و وظائف دینے سے گریز کرتے ہیں جن میں تخریب کا پہلو موجود ہو لیکن بعض ایسی صورتیں بھی دیکھنے میں آئی ہیں جہاں علیحدگی ضروری ہوجاتی ہے،بعض ظالم لوگ خواتین پر ظلم کرتے ہیں اور ان کا حق دینے سے گریز کرتے ہیں، ایسی صورت میں اگر عورت یہ فیصلہ کرلے کہ مجھے اب اس شخص کے ساتھ نہیں رہنا تو مندرجہ ذیل عمل سے فائدہ اٹھاسکتی ہے۔
قران شمس و قمر کا جو وقت دیا گیا ہے، اس دوران میں قمر یا شمس کی ساعت میں باوضو ہوکر اور رجال الغیب کا خیال رکھتے ہوئے بیٹھیں (رجال الغیب کی سمت معمول کرنے کا نقشہ ہماری ویب سائٹ پر موجود ہے) کالی یا نیلی روشنائی سے کسی سفید کاغذ پر مندرجہ ذیل آیت 7 مرتبہ لکھیں اور ایسے دو نقش تیار کریں، دونوں کو تہہ کرکے تعویذ بنالیں اور کسی کالے کپڑے یا کالی ٹیپ میں لپیٹ کر محفوظ کرلیں، آیت کے نیچے بتائے گئے طریقے کے مطابق اپنا اور شوہر کا نام بھی لکھیں، ایک نقش شوہر کے سرانے تکیے میں رکھ دیں اور دوسرا کسی غیر پھل دار درخت میں دھاگے سے باندھ کر لٹکادیں، دی گئی آیت کو روزانہ 111 مرتبہ پڑھ کر اللہ سے دعا کیا کریں، اس وظیفے کی مدت 41 دن ہے۔
وَاَلقِینَا بَینَھُمُ العَدَاوَۃ وَلبَغضا وَعَلیٰ یَومَ الْقَیَمٰۃ
فلاں بن فلاں و بین فلاں بنت فلاں

شرف قمر

قمر اپنے شرف کے برج ثور میں اس ماہ 18 مارچ کو تقریباً شام 6 بجے داخل ہوگا اور تقریباً 06:00 am 21 مارچ تک برج ثور میں رہے گا، یہ سعد اور مبارک وقت ہے، اس وقت میں نئے کاموں کا آغاز بہتر ہوتا ہے، مزید یہ کہ شرف قمر کی سعادت زندگی کے ضروری امور میں مددگار ثابت ہوتی ہے، شرف قمر سے متعلق اعمال و وظائف ہر ماہ دیے جاتے ہیں، ویب سائٹ پر پرانے کالموں سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔

شرف زہرہ

عزیزان من! ہمارے ملک کے اکثر علم جفر سے شغف رکھنے والے ماہرین کرام علم نجوم سے عدم واقفیت کے سبب جفری اعمال کے سلسلے میں بعض ایسی غلطیوں اور کوتاہیوں کے مرتکب ہوتے ہیں جن کے نتیجے میں ان کی اپنی محنت اور ضرورت مند کا پیسا برباد ہوتا ہے، دانستہ یا نادانستہ وہ سیارگان کے شرف یا اوج وغیرہ کے اوقات اور ان سے متعلق عملیات و نقوش دیتے ہوئے اس حقیقت کو نظرانداز کردیتے ہیں کہ سیارہ اپنے شرف کے برج میں کس حالت میں ہے، یونانی سسٹم ہو یا ویدک ہر دو صورتوں میں اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ سیارے کی حالت ہر طرح سے اطمینان بخش اور باقوت ہو مگر پیسا کمانے کی ہوس میں اس حوالے سے مجرمانہ کوتاہی کی جاتی ہے۔
اس بار یونانی سسٹم یا ویدک سسٹم دونوں اعتبار سے سیارہ زہرہ اپنے شرف کے برج میں ہوتے ہوئے بھی سیارہ شمس سے قریب رہے گا جس کے نتیجے میں غروب ہوگا اور شرف کی قوت کم ہوجائے گی لہٰذا ہم زہرہ کے شرف کے اوقات دینے سے گریز کر رہے ہیں، ہمارے نزدیک اس بار شرف زہرہ ناقص ہوگا، اس دوران میں تیار کیے گئے نقوش وغیرہ ہر گز مؤثر نہیں ہوں گے۔

 

اتوار، 21 فروری، 2021

مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی

نفسیاتی امراض اور مسائل کی تشخیص میں علم نجوم کی اہمیت

 نفسیات کا علم دلچسپ بھی ہے اور زندگی آمیز و زندگی آموز بھی، علم نفسیات کو موجودہ دور میں ایک سائنس کا درجہ حاصل ہوچکا ہے، سگمنڈ فرائیڈ کو علم نفسیات کا باوا آدم تسلیم کیا جاتا ہے، اسی فرائیڈ کے شاگردوں میں کارل یونگ کا نام نہایت قابل احترام ہے، اس نے سگمنڈ فرائیڈ کے کام کو آگے بڑھایا اور بعض جگہ فرائیڈ سے اختلاف بھی کیا۔

تنگ نظر ماہرین نفسیات اس حقیقت کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں کہ کارل یونگ صرف ماہر نفسیات ہی نہیں ایک ایسٹرو لوجر بھی تھا، اس نے خود یہ اعتراف کیا کہ میں نے انسانی نفسیات کو سمجھنے میں علم نجوم سے رہنمائی لی، بعد میں کارل یونگ کے شاگردوں نے اس کی علم نجوم سے دلچسپی پر پردہ ڈالنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے، اس تمام گفتگو کا مقصد یہ ہے کہ اگر نفسیاتی مریضوں کے علاج معالجے میں علم نجوم سے مدد لی جائے تو تشخیص اور علاج آسان ہوجاتا ہے، مغرب میں ماہرین نفسیات علم نجوم سے استفادہ کر رہے ہیں لیکن ہمارا حال مختلف ہے، ہم تو ابھی تک اسی مخمصے میں پھنسے ہوئے ہیں کہ علم نجوم ایک سائنس ہے یا کوئی غیب کا علم یا قسمت کا حال؟ ؎

اڑائی رندوں نے مل کہ باہم، چڑھائی زاہد نے چھپ کر پیہم
یہاں تو یہ سوچتے ہی گزری کہ بادہ نوشی حرام کیوں ہے؟

ہمارے مذہبی حلقے آنکھیں بند کرکے اس علم کے خلاف فتوے صادر کرتے رہتے ہیں حالانکہ وہ اس علم کی ابجد سے بھی واقف نہیں بس ایک مفروضے کے طور پر علم نجوم کو علم غیب سمجھتے ہیں اور یہی وجہ مخاصمت ہے۔ لہٰذا اس علم سے فائدہ اٹھانے کی سنجیدہ کوششیں نہیں کی جاتیں، علم نجوم کی مزید بد قسمتی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اس کا نام بد نام کرنے والوں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے، خیر ہم اس وقت کسی بحث میں نہیں الجھنا چاہتے، ہمارے پیش نظر ایک خط ہے، آیئے پہلے اس کا مطالعہ کرتے ہیں، نام اور جگہ کو صیغہ راز میں رکھتے ہوئے ہم یہ خط نقل کر رہے ہیں۔
”میں بچپن سے تنہا رہنے کا عادی ہوں، بچپن میں، میں تنہائی میں اپنے آپ سے باتیں کرتا تھا، اسکول میں میرا کوئی دوست نہیں تھا، اسکول سے گھر آنے کے بعد تمام وقت پڑھائی میں صرف کردیتا، پڑھائی میں مجھے دقت پیش آتی مگر میں نے محنت کرکے اس پر کسی حد تک قابو پالیا، مجھے لوگوں کے رویّے اور گفتگو سمجھ میں نہیں آتے تھے، اب بھی ایسا ہوتا ہے، اسکول جاتے ہوئے گھبراہٹ ہوتی تھی، کلاس میں بھی خاموش رہتا، پی ٹی کے لئے بلایا جاتا تو ٹانگیں کانپنی شروع ہوجاتیں، اکثر بہانہ بنا کر الگ ہو جاتا، اکثر گھبراہٹ رہتی جس کو دور کرنے کے لئے مختلف بہانوں سے خوش رہنے کی کوشش کرتا، کبھی خیال آتا کہ میں دوسروں سے مختلف کیوں ہوں؟ میرے ہم عمر مجھ سے زیادہ ہوشیار ہیں، پڑھائی میں بھی اور دوسرے کاموں میں بھی، سات سال کی عمر میں جسمانی نشو نما رک گئی مگر میں نے ان تمام باتوں کا اپنے والدین سے ذکر نہیں کیا، کچھ تھوڑا سا بڑا ہوا تقریباً 12 سال کی عمر ہوئی تو والدین کہنے لگے کہ محلے کے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ کچھ وقت گزارا کرو مگر میں ان میں ایڈجسٹ نہ ہوسکا، ان کی باتیں میری سمجھ میں نہیں آتی تھیں اور میں سوچتا کہ میرا علم ان سے زیادہ ہے، وہ لڑکیوں کے بارے میں باتیں کرتے جس سے مجھے گھبراہٹ ہوتی، میٹرک کے بعد گھبراہٹ اور بڑھنے لگی، میں پڑھ نہیں سکتا تھا، کافی دیر تک ایک ہی صفحے کو پڑھتا رہتا اس موقعے پر بھی میں اپنے والدین کو بتا نہ سکا کہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے، کالج میں بہت خوش رہتا لطائف سناتا، لڑکے جب لڑکیوں کی باتیں کرتے تو مجھ سے کوئی جواب نہ بن پڑتا اور گھبراہٹ ہوتی، میں ان سے الگ ہوجاتا، رزلٹ آیا تو نمبر بہت کم تھے، بلخصوص انگلش اور حساب میں نمبر کم آئے، انجیئرنگ میں داخلہ نہ ملنے کا بہت دکھ ہوا، مجھ پر مایوسی طاری رہنے لگی کہ میں اس سے بہتر کارکردگی ظاہر کرسکتا تھا مگر ایسا کیوں نہ ہوسکا، حالانکہ میں نے محنت کرنے کی بڑی کوشش کی تھی، میں ایک دن اپنی والدہ کے سامنے رونے لگا کہ مجھے پتہ نہیں کیا ہوتا ہے، میری ذہنی سطح اور پست ہوگئی اب مجھے سمجھنے اور یاد کرنے میں اور مشکلات در پیش ہوگئیں۔
”اب میں سائیکا ٹرسٹ کے پاس گیا اس کو میں نے بتایا، اس نے مجھے ایک سائیکا لوجسٹ کے پاس بھجوایا مگر میں اس کے پاس نہ گیا کیونکہ وہ ایک خاتون تھیں، پھر تعلیمی سال کے آخر میں ایک اور سائیکا ٹرسٹ کے پاس گیا اور اسے بتایاکہ میں امتحان نہیں دینا چاہتا، اس نے کچھ ادویات تجویز کیں، امتحان کا نتیجہ پھر مایوس کن رہا، میں نے اس سائیکا ٹرسٹ کو بتایاکہ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ سب لوگ میری طرف دیکھ رہے ہیں، اس نے دوائی تجویز کی مگر اس سے بھی کوئی فائدہ نہ ہوا، بالآخر پھر میں یونیورسٹی میں پہنچ گیا، وہاں مجھے لڑکیوں سے خوف آنے لگا، تعلیمی معاملات میں، میں کنسنٹریٹ نہیں کرپاتا تھا، یوں محسوس ہوتا تھا کہ سب لوگ میری طرف دیکھ رہے ہیں، مجھے سخت گھبراہٹ ہوتی، گھر پر کئی کئی گھنٹے بے سدھ پڑا رہتا، یوں محسوس ہوتا کہ جسم میں جان نہیں، یہ کیفیت صبح کے وقت ہوتی، پھر میں نے ایک اور سائیکا ٹرسٹ سے مشورہ کیا، مگر بے سود، اب میری ذہنی کیفیت یہ ہوگئی کہ مجھے پڑھائی میں کسی بھی چیز کی سمجھ نہ آتی اور نہ ہی کچھ یاد رہتا، پھر مجھے ایک روحانی شفا خانے لے کر جایا گیا، وہاں سے کچھ تعویز صبح نہار منہ پینے کے لئے دیے گئے اور رات کو بھگوئے ہوئے چند بادا م کھانے کو کہا گیا، ایک مولوی صاحب نے آیات ِشفا پڑھنے کی ہدایت کی اور ایک اور وظیفہ بھی پڑھنے کے لئے بتایا، پھر ایک اور مولوی صاحب نے سورہ جن ایک خاص تعداد میں پڑھنے کو کہا، پھر مختلف اسپتالوں کے سائیکا ٹری وارڈ میں جاتا رہا، ایک سائیکا ٹرسٹ کی تجویز کردہ دوا سے بھولنے کامرض لاحق ہوگیا۔
”پھر مجھے یوں محسوس ہونے لگا کہ کچھ لوگ مجھے ابزرو کر رہے ہیں، اس دوران میں مجھے ایک ملازمت مل گئی مگر وہاں لوگوں کے رویے اور گفتگو نہ سمجھ سکا، مجھے ہر وقت گھبراہٹ ہونے لگی، کام کے بارے میں بھی کچھ سمجھ نہ آئی، دفتر میں دوپہر کا کھانا وہیں پکا ہوا ملتا تھا اور میں دوسرے لوگوں کے ساتھ کھانا کھاتا، اس دوران مجھے وہم ہونے لگا کہ وہ مجھے کھانے میں کچھ ملا کر کھلاتے رہے ہیں، میرا ذہن ماؤف ہوگیا، مجھے محسوس ہوا کہ میری یاد داشت ختم ہوگئی ہے، ذہن میں خیالات گھومنے لگے، میری ذہنی سطح ایک بچے کی طرح ہوگئی، میں اپنی ذہنی سطح کے بارے میں بات کرنا چاہتا تھا مگر مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ کیا بات کروں، جو کچھ پڑھا تھا وہ بھی بھول گیاتھا، پھر ایک اور ملازمت ملی لیکن میں وہاں بھی کام نہیں کرسکا اور مجھے نکال دیا گیا، اب میری ذہنی سطح بہت ہی پست ہوگئی ہے، جو کچھ پڑھتا ہوں وہ یاد نہیں رہتا یا سمجھ میں نہیں آتا، فقرہ زیادہ لمبا ہوجائے تو وہ بھی ذہن میں نہیں رہتا، اپنا سارا وقت گھر پر گزارتا ہوں، بچوں کی طرح گھر والے بتاتے رہتے ہیں کہ یہ بات اس طرح کرو، انجانا سا خوف رہتا ہے، باتوں اور مشاہدے سے نتائج اخذ نہیں کرپاتا، گھر کے کسی فرد سے جذباتی وابستگی نہیں، کسی بھی چیز سے کوئی دلچسپی نہیں، چھوٹے چھوٹے کام نہیں کرسکتا، اب مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کیا کام کروں اور اپنی طبیعت کو کیسے سنبھالوں؟“
جواب: عزیزم! آپ نے اپنی جو کیفیات لکھی ہیں اور موجودہ ذہنی کیفیت کی جو نشان دہی کی ہے آپ کی تحریر اس کے برخلاف تصویر دکھا رہی ہے، آپ کا کہنا یہ ہے کہ آپ کو کچھ یاد ہی نہیں رہتا، ذہنی سطح انتہائی پست ہوچکی ہے، آپ ایک بچے کے مانند ہوچکے ہیں، گھر والوں کو بتانا پڑتا ہے کہ فلاں کام اور فلاں بات اس طرح کرو وغیرہ وغیرہ مگر آپ نے اپنے خط میں اپنے بچپن سے لے کر آج تک کی کیس ہسٹری بہت عمدہ طریقے سے بیان کردی ہے، چھوٹی چھوٹی جزویات بھی آپ نے نظر انداز نہیں کیں، آپ کو یہ بھی یاد ہے کہ کب کیا ہوا تھا اور آپ نے کیا محسوس کیا تھا اور کیا سوچا تھا، لہٰذا ہم کیسے مان لیں کہ آپ کی یادداشت خراب ہے، آپ کو کچھ یاد نہیں رہتا، آپ کی تحریر میں بھی خاصی پختگی اور انداز بیان میں روانی ہے، آپ کی باتوں سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آپ سب کچھ جانتے اور سمجھتے ہیں، حد یہ کہ آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ کب آپ کو وہم ہوا یا شک ہوا، آپ تعلیمی میدان میں بھی جیسے تیسے بہر حال یونیورسٹی تک پہنچ گئے، اس ساری صورتِ حال کے باوجود آپ کہتے ہیں کہ آپ کو کچھ یاد نہیں رہتا اور آپ کے لئے پڑھنا لکھنا ہمیشہ ایک مسئلہ بنا رہا۔

ہمارا خیال ہے کہ آپ اپنے کیس کے سلسلے میں جو تجزیے کر رہے ہیں وہ درست نہیں ہیں، اپنے پورے بیان میں آپ نے ایک مرتبہ بھی یہ نہیں بتایا کہ سائیکا ٹرسٹ حضرات نے آپ کے مسائل اور امراض کے بارے میں کیا کہا، ان کی تشخیص کیا تھی، انہوں نے اس سلسلے میں کون سی دوا تجویز کی تھی یا یہ کہ آپ کے گھر والے یا دیگر ملنے جلنے والے آپ کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں، دراصل سب سے بڑی خامی اور مسئلہ یہی ہے کہ آپ اس بات پر توجہ ہی نہیں دیتے کہ کون کیا کہہ رہا ہے اور آپ کے بارے میں کیا رائے دے رہا ہے، آپ تو اپنے طور پر سب کچھ محسوس کرتے رہتے ہیں اور آپ کا سارا کھیل ہی احساسات پر مبنی ہے، آیئے ہم تھوڑا سا آپ کے زائچے کی روشنی میں آپ کو بتائیں کہ آپ کا مسئلہ کیا ہے؟
آپ کا شمسی برج میزان ہے لیکن شمس برج میزان کے پہلے درجے پر ہے، گویا اس نے ابھی برج میزان میں صرف قدم رکھا ہے، دوسرے معنوں میں ہم یہ کہیں گے کہ آپ کی پیدائش برج سنبلہ اور برج میزان کی سرحد پر ہوئی ہے، ایسے لوگوں کو دونوں برجوں کی مشترکہ خصوصیات کا حامل سمجھا جاتا ہے، میزان ایک ہوائی برج ہے اور سنبلہ خاکی، مٹی اور ہوا میں تضاد ہے، ایسے لوگ مزاج اور فطرت کے اعتبار سے متضاد رویّے کے مالک لیکن غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل اور بڑے کارنامے انجام دینے والے ہوتے ہیں اگر ان کے زائچے میں دیگر عوامل متوازن ہوں مگر آپ کا معاملہ مختلف ہے، آپ کا پیدائشی برج (Birth Sign) سرطان ہے اس کا حاکم سیارہ قمر برج حوت میں ہے، گویا آپ کا قمری برج حوت ہے، اس آدھے ہوائی اور آدھے خاکی برج کے ساتھ 2 آبی مونث برج (سرطان اورحوت) آپ کی ذہنی اور نفسیاتی تشکیل کر رہے ہیں، یہ بھی کوئی برائی یا خراب بات نہیں ہے کیونکہ ایسا کمبی نیشن ایک شان دار تخلیق کار کو جنم دیتا ہے، زبردست قسم کی تخلیقی اور وجدانی قوتیں آپ کے اندرموجود ہیں، خرابی یہ ہے کہ آپ کے زائچے میں سیارگان ایک ٹی اسکوائر بنا رہے ہیں، شمس، یورینس، مریخ، چیرون اورراہو کے درمیان مقابلہ اور تربیع ہے، مزید یہ کہ زہرہ، نیپچون کے درمیان تربیع ہے اورقمر و زہرہ بھی ایک دوسرے کے مقابل ہیں، سعد نظرات میں قمر اور مریخ کی تسدیس اور زہرہ اور مریخ کی تثلیث ہے۔
ہم یہاں زیادہ ٹیکنیکل باتوں میں نہیں الجھنا چاہتے کیونکہ وہ آپ کی یا ہمارے قارئین کی سمجھ میں بھی نہیں آئیں گی، مختصراً آپ کی شخصیت اور نفسیاتی پیچیدگی پرروشنی ڈالیں گے۔
پہلی بات تو یہ سمجھ لیں کہ آپ غیر معمولی طور پر حساس انسان ہیں، عمل سے زیادہ تصور آپ کی زندگی پر حاوی ہے، زائچے سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کے والد انتہائی سخت مزاج بلکہ نامناسب رویہ رکھنے والے انسان ہیں، ان کا سلوک آپ کی والدہ کے ساتھ بھی کبھی اچھا نہیں رہا ہوگا، ممکن ہے انہوں نے آپ کی والدہ کو کافی اذیتیں اور تکلیفیں پہنچائی ہوں جس کی وجہ سے ابتدا ہی سے گھر کا ماحو ل نہایت نا خوش گوار اور خوفزدہ کرنے والا رہا ہوگا، آپ کے دیگر بہن بھائی بھی اس ماحول سے متاثر ہوئے ہوں گے اورنتیجے کے طورپر ایک دوسرے سے بے تکلفانہ انداز نہ رہا ہوگا، والد کے نا مناسب رویّے اور طرز عمل سے والدہ بھی چڑچڑی اوربدمزاج ہوسکتی ہیں، اس صورتِ حال کا ناخوش گوار اثر آپ نے ابتدا ہی سے قبول کیا ہے، سرطانی ہونے کی وجہ سے آپ کی فطری وابستگی اور جھکاؤ ماں کی طرف رہا ہے اور آپ نے چھوٹی عمر میں ماں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا بھی گہرا اثر لیا ہے، بہت چھوٹی عمر میں یہ صورتِ حال شدید غصے کا سبب بنتی ہے مگر اس کا اظہار ممکن نہیں ہوتا جس کی وجہ سے اندر ہی اندر گھٹن بڑھتی ہے اور نیگٹیو رویے دل و دماغ میں جڑ پکڑنے لگتے ہیں، اس صورت ِ حال میں پرورش پانے والا بچہ اگر غیر معمولی طور پر حساس اورجذباتی بھی ہو تو اس کی نفسیات بگڑتے دیر نہیں لگتی، ایسا ہی کچھ آپ کے ساتھ ہوا ہے، بقول اقبال ؎مری تعمیر میں مضمر ہے صورت اک خرابی کی، ان تمام باتوں سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ آپ کے 2 برج یعنی سرطان اور حوت مونث برج ہیں، میزان کے ساتھ بھی مونث برج سنبلہ کے اثرات شامل ہیں، آپ کا زائچہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ ابتدا ہی سے ہارمون ڈسٹربنس کے مریض ہیں، آپ نے اپنے خط میں لڑکیوں یا خواتین سے بات کرنے میں یا ان کے پاس جانے میں گھبراہٹ اور پریشانی کا اظہار کیا ہے یہ ایک نفسیاتی بیماری ہے جو ہارمون ڈسٹربنس کی وجہ سے بھی پیدا ہوتی ہے، یقینا آپ کے کسی معالج کو آپ کے ہارمون ٹیسٹ کا خیال نہیں آیا ہوگا، ہومیو پیتھک علاج سے اس بیماری کو ختم کیا جاسکتا ہے۔
ابتدا ہی میں جب نفسیاتی پیچیدگیاں پیدا ہوجائیں تو بعد میں کچھ بھی ہوسکتا ہے مگر ہمارے خیال میں آپ کا اب بھی کچھ نہیں بگڑا ہے، یہ ضرور ہے کہ آپ اپنی بیماریوں سے فائدہ اٹھاکر سست اور کاہل ہوچکے ہیں اور اب آپ کو اس کیفیت میں رہتے ہوئے لطف آنے لگا ہے شاید مردانگی سے زیادہ نسوانیت کا غلبہ ہو رہا ہے اور دوسروں کے دست نگر بن کر رہنے کی خواہش بڑھ چکی ہے، لاشعوری طور پر ایسے مریض صحت مند ہونا نہیں چاہتے، وہ زندگی کی سختیوں اور زمانے کی نا ہمواری کا مقابلہ کرنے کے بجائے راہ فرار اختیار کرتے ہیں جو آپ نے اختیار کر رکھی ہے، سائیکا ٹرسٹ حضرات نے یقینا آپ کو مسکن ادویات استعمال کرائی ہوں گی جو اور بھی نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں، اگر اب بھی آپ ایسی میڈیسن استعمال کر رہے ہیں تو ہمت کرکے ان سے جان چھڑائیں، پیرا سائیکلوجی کا طریقہ علاج اختیار کریں اور ساتھ ہی ہومیو پیتھک ادویات کا سہارا لیں، آپ کا علاج ناممکن نہیں ہے، ایک قابل ہومیو پیتھ جو نفسیاتی مسائل کو بھی سمجھتا ہو آپ کا علاج کرسکتا ہے۔
چاند کا تعلق ہمارے دماغ سے بڑا گہرا ہے اور آپ کے زائچے میں چاند ہی زیادہ متاثر ہے، آپ کا حاکم سیارہ بھی چاند ہے اور زائچے کے نویں گھر میں ہونے کی وجہ سے اچھی پوزیشن رکھتا ہے، اس کی قوت کو بڑھانے کے لئے آپ کو سچا موتی پہننا چاہئے، ہومیو پیتھک دوائیں ہم یہاں تجویز نہیں کرسکتے، اس سلسلے میں آپ کو کسی ہومیوپیتھ ڈاکٹر سے رجوع کرنا پڑے گا، پیرا سائیکلو جیکل ٹریٹمنٹ کے لئے سب سے پہلے سانس کی مشق شروع کریں۔
آخری بات جو سب سے زیادہ اہم ہے وہ یہ کہ آپ جیسے مریض اپنا علاج خود نہیں کرسکتے، اس صورت ِ حال میں آپ کے گھر والوں کو اہم کردار ادا کرنا پڑے گا، آپ کی دیکھ بھال کی ذمہ داری اٹھانا ہوگی، ہمارے تجربے کے مطابق تو ایسے مریض دوا بھی وقت کی پابندی کے ساتھ نہیں کھاتے، ہر دوسرے تیسرے دن ان کی کیفیات اور موڈ مزاج بدلتا رہتا ہے، اس صورتِ حال کو گھر والے ہی کنٹرول کرسکتے ہیں، آپ چند دن ضرور ہمارے مشوروں پر عمل کرلیں گے مگر پھر کسی نئی قسمت آزمائی کی طرف آپ کا دھیان چلا جائے گا، اس طرح کوئی علاج بھی درست طور پر لمبے عرصے تک نہیں چل پاتا۔

اتوار، 14 فروری، 2021

Astrological Point of Narendra Moodi

کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے، ایک متضاد شخصیت

 گزشتہ چند سالوں میں بین الاقوامی سیاست کے اُفق پر بڑے بھرپور انداز میں نمایاں ہونے والے کرداروں میں مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی بہت شہرت حاصل کی، مسٹر ٹرمپ تو خاصی سخت جانی کا مظاہرہ کرکے بالآخر رخصت ہوئے مگر نریندر مودی ابھی تک بھارت کے وزیراعظم ہیں، وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں، ان کے پرانے اور نئے سیاسی کردار، رجحانات، فیصلے اور اقدام پوری دنیا کے سامنے ہیں، چناں چہ ہمیں ان کا مزید تعارف کرانے کی ضرورت نہیں ہے۔

2014 ء میں جب وہ پہلی بار وزیراعظم بنے تو دنیا بھر میں اور خاص طور پر بھارت میں ایسٹرولوجی سے دلچسپی رکھنے والے افراد نے معمول کے مطابق ان کے زائچہ ء پیدائش (Birth chart) کی کھوج شروع کی، مسٹر مودی کی معروف تاریخ پیدائش 17 ستمبر 1950 ہے، وقت پیدائش پر اس وقت بھی خاصے اختلافات سامنے آئے، مختلف ایسٹرولوجرز نے مختلف زائچے بنائے لیکن زیادہ اتفاق پیدائشی برج عقرب پر رہا مگر ہم اس وقت بھی ان کی معروف تاریخ پیدائش سے مطمئن نہیں تھے کیوں کہ بہت سے حالات و واقعات ان کی زندگی سے مطابقت نہیں رکھتے تھے، عام طور پر ایسی صورت حال میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ سال پیدائش میں شاید ایک دوسال کی کمی بیشی کی گئی ہوگی، پاکستان اور بھارت میں یہ چلن عام ہے، چناں چہ ہم نے ان کا سال پیدائش 1951 رکھا، اس کے مطابق کسی حد تک حالات و واقعات میں مناسبت محسوس ہورہی تھی، 2019 ء میں انھوں نے دوبارہ بھارتی انتخابات میں نمایاں ترین کامیابی حاصل کی اور دوسری بار بھی وزیراعظم بن گئے، یہ بات ہماری توقع کے خلاف تھی کیوں کہ سابقہ زائچے کی روشنی میں 2019 ء کے انتخابات میں کامیابی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا تھا، اس کے علاوہ بھی بعض حالاتِ زندگی اور صاحب زائچہ کا کردار اور ان کی فکر بھی ان کے عمل سے میل نہیں کھاتی تھی، اس حوالے سے ہماری تلاش جاری تھی کہ ایک بھارتی منجم جو ہماری ہی طرح درست تاریخ پیدائش کی تلاش میں تھے، کسی طرح مسٹر نریندر مودی کا پرائمری اسکول کا ریکارڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے، اس کے مطابق انھوں نے زائچہ پیدائش بنایا جس میں لگن برج اسد (Leo) رکھا یعنی پیدائش کا وقت صبح 7 بجے کا رکھا مگر کلاسیکل ویدک ایسٹرولوجی میں اتنے گھماؤ پھراؤ موجود ہیں کہ ہر ایسٹرولوجرکسی بھی زائچے سے اپنے مطلب کے نتائج اخذ کرلیتا ہے جو دلیل و منطق کے خلاف ہوتے ہیں، ہندو منجمین کی اکثریت اسی کلاسیکل ویدک سسٹم کی پیروکار ہے جس میں ہندو مائیتھا لوجی بھی شامل ہے گویا یہ ایک خالص سائنس نہیں رہی، چناں چہ مذکورہ بالا منجم صاحب نے لگن اسد رکھ کر مسٹر نریندر مودی کا ایک شاندار قصیدہ لکھ مارا، اس کے بعد ہی ہمیں بھی دلچسپی پیدا ہوئی اور تاریخ پیدائش کے ساتھ وقت پیدائش کی درستی کا خیال آیا جس کے نتیجے میں بھارتی وزیراعظم کا قریب ترین درست زائچہ سامنے آگیا، یہی زائچہ پیش خدمت ہے۔

زائچہ بھارتی وزیراعظم

  

اسکول ریکارڈ کے مطابق مسٹر نریندر مودی کی درست تاریخ پیدائش 29 اگست 1949 مہسنا ہے،ہماری تحقیق اور اندازے کے مطابق وقت پیدائش 12:15pm ہے، اس طرح لگن برج عقرب ایک درجہ 23 دقیقہ ہوگا، خیال رہے کہ مسٹر مودی کا قد بہت زیادہ نہیں ہے جو عام طور پر اسد افراد کا ہوتا ہے، عقربی افراد کسی خصوصی سیاروی پوزیشن کے سبب طویل قامت ہوسکتے ہیں ورنہ عام طور پر ان کا قد 5.6 سے زیادہ نہیں ہوتا۔
لگن کا مالک سیارہ مریخ زائچے کے نویں گھر میں ہبوط یافتہ (Debilated) ہے،زائچے کے دوسرے گھر قوس کا حاکم اپنے ہی گھر میں آخری درجات پر گویا ضعیف ہے، چوتھے اہم ترین گھر کا حاکم سیارہ زحل دسویں گھر میں شمس کی قربت کے سبب غروب ہے لیکن بہر حال شمس سے قران اور دسویں گھر میں ہونا اچھی بات ہے، سیارہ مریخ بھی اپنے گھر کے اعتبار سے بھاگیہ استھان میں ہے جو اچھی بات ہے، اس طرح مریخ کی کمزوری صرف پچاس فیصد رہے گی، زائچے میں دسویں گھر کرئر کے اعتبار سے نہایت اہمیت رکھتا ہے، اس گھر پر برج اسد قابض ہے اور سیارہ شمس اپنے ہی گھر میں نہایت باقوت پوزیشن رکھتا ہے، اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ ریلوے اسٹیشن پر چائے بیچنے والا گجرات کا وزیراعلیٰ اور بالآخر بھارت کا وزیراعظم سیارہ شمس کی اسی طاقت ور پوزیشن کی وجہ سے بن سکا،اصولی طور پر کیندر (4,10) کے مالکان راج یوگ بنارہے ہیں۔
نویں مول ترکون برج کا مالک سیارہ قمر بارھویں گھر میں ہے جب کہ قمری منزل وشاکا ہے جس کا حاکم سیارہ مشتری ہے، لگن بھی وشاکا نچھتر میں ہے، گیارھویں فوائد کے گھر میں برج سنبلہ کا حاکم عطارد موجود ہے لیکن نوامسا چارٹ (D-9) میں ہبوط یافتہ ہے، محبت، دوستی، شادی، ازدواجی زندگی کا نمائندہ سیارہ زہرہ برج سنبلہ ہی میں ہبوط یافتہ ہے، راہو برج حوت میں اور کیتو بھی برج سنبلہ میں ہیں۔
زائچے میں سیاروی آراستگی نہایت دلچسپ ہے جو پوری طرح مسٹر مودی کی زندگی پر بھرپور روشنی ڈالتی ہے مگر سب سے پہلے لگن عقرب اور جنم راشی میزان اور ان کی قمری منازل پر گفتگو ضروری ہے، خیال رہے کہ لگن ہمارے کردار و عمل کا آئنہ ہے جب کہ جنم راشی ہمارے فطری رجحانات اور خصوصیات پر روشنی ڈالتی ہے۔

برج عقرب

طالع برج عقرب (Birth sign) بلاشبہ ایک غیر معمولی برج ہے، عقربی افراد ثابت قدم، مسلسل کوشش و جدوجہد کرنے والے پختہ عزم کے مالک، ضدی، پیچیدہ شخصیت کے مالک، مشکل پسند،نظریات و عقائد میں شدید اور انتہا درجے تک جانے والے ہوتے ہیں، برج عقرب دائرۂ بروج کا آٹھواں برج ہے جس کا تعلق تناسلی اعضا سے ہے، ایک آبی برج ہونے کی وجہ سے روحانیت بھی اس برج کا خاصا ہے، چناں چہ یہ لوگ روحانی طور پر بھی مضبوط ہوتے ہیں اور سیکس بھی ان کی زندگی میں اہمیت اختیار کرتا ہے، یہ ایک عجیب تضاد ہے، ان کی منفی توانائیوں میں ملکیت کا شدید احساس، بہت زیادہ توجہ کے طالب، حاسد، معاف نہ کرنے والے، محبت اور نفرت میں انتہا پسند، غصہ ور، قاتل، خودکشی کرنے والے اور ہر صورت میں خود کو درست سمجھنے والے، دنیا میں عقربی افراد نے ہر اعتبار سے غیر معمولی کارنامے انجام دئیے ہیں، مثبت یا منفی۔

جنم راشی

پیدائش کے وقت چاند جس برج میں ہو اسے قمری برج یا جنم راشی (Moon sign) کہا جاتا ہے، مسٹر مودی کا قمر برج میزان میں ہے، گویا فطری طور پر وہ توازن، ہم آہنگی، شراکت، دوستی اور دشمنی، امن پسندی کے خواہاں ہوتے ہیں، اچھے سفارت کار اور دو افراد کے درمیان تنازعات ختم کرانے والے،لوگوں کو کسی ایک مقصد کے تحت یکجا کرنے والے، محبت اور دوستی میں پیش پیش ہوتے ہیں، برج میزان کی ان خصوصیات میں فرق اس صورت میں پیدا ہوتا ہے جب قمر کی پوزیشن ناقص ہو، قمری منزل اپنی جگہ ایک منفرد خصوصیات و رجحانات کی حامل ہوتی ہے، زائچے میں قمر کی پوزیشن ناقص ہے، وہ بارھویں ناموافق گھر میں قابض ہے، چناں چہ جنم راشی کی مثبت خصوصیات منفی رخ اختیار کرسکتی ہیں، نویں گھر کا مالک جب بارھویں گھر میں ہو تو صاحب زائچہ فطری طور پر منفی سوچ کا شکار ہوتا ہے، اس کے ذہن پر بہت سے نامعلوم مستقبل کے خوف مسلط ہوتے ہیں جو اسے نفسیاتی مسائل کا شکار بناتے ہیں، مزید یہ کہ قسمت پوری طرح ساتھ نہیں دیتی، کسی بڑے مقام و منزل تک پہنچنے میں پوری زندگی خرچ ہوجاتی ہے۔
لگن اور جنم راشی دونوں ایک ہی قمری منزل میں ہیں یعنی وشاکا، اس منزل پر سیارہ مشتری کی حکمرانی ہے جو عقل و دانش اور علم دوستی کا سیارہ ہے، اپنی فطرت میں یہ غیر انسانی (راکھشس) ہے، راکھشس کا لفظ ویدک ایسٹرولوجی میں استعمال کیا جاتا ہے اور اس کے جو معنی ہیں ہم ان سے متفق نہیں ہیں، ہمارے نزدیک غیر انسانی یعنی عام انسان سے بھی زیادہ جوش و جذبہ اور صلاحیت و ہمت ان لوگوں کی فطرت میں شامل ہے حقیقی معنوں میں یہی وہ لوگ ہیں جو بقول غالب کہتے ہیں ؎ کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے، ایسی قمری منزل کا طرۂ امتیاز ہوتا ہے جو غیر انسانی کہلاتی ہیں۔
اس منزل میں پیدا ہونے والے افراد انتہائی ذہین، دوسروں کو قائل کردینے والے، ہجوم کو اپنی طرف متوجہ کرنے والے یعنی لیڈر شپ کی صلاحیت کے حامل،سیاسی رجحان رکھنے والے ہوتے ہیں، اکثر اپنے خاندان سے دور رہتے ہیں، نمود و نمائش اور طم طراق کے قائل نہیں ہوتے، سادہ انداز میں زندگی بسر کرت ہیں، عام طور سے ان کی زندگی کسی نہ کسی تضاد کا شکار ہوتی ہے،خصوصاً جنم راشی اگر میزان ہو، روحانیت اور مادّیت کی ایک کشمکش ابتدا ہی سے ان کے اندر جاری رہتی ہے، بقول غالب ؎ ایماں مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر۔
ان کی منفی خصوصیات میں جارحیت، آمرانہ فطرت سامنے آسکتی ہے، غصہ، سفاکی، فرسٹریشن کے مسائل ہوسکتے ہیں، یہ لوگ بہت بلند عزائم رکھتے ہیں اور ان کے لیے کچھ بھی کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں، اپنی زندگی میں اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے غیر قانونی اور غیر اخلاقی راستے بھی اختیارکرسکتے ہیں، زائچے کی دیگر خوبیاں اور خامیاں ان کے رجحانات اور خواہشات کے رخ کا تعین کرتی ہیں، اس پر آگے چل کر گفتگو ہوگی۔

وشاکا کی دیگر مشہور شخصیات

ترک سلطان سلیمان ذیشان، ابو ریحان البیرونی، آمر ایڈولف ہٹلر، صدر جمی کارٹر، نیلسن منڈیلا، خان عبدالولی خان، اداکارہ جوہی چاولہ، ملکہ شراوت، الزبتھ ٹریلر، کرکٹر برائن لارا، عالمی شہرت یافتہ جرائم پیشہ بلی دی کڈ وغیرہ شامل ہیں۔

سیاروی آراستگی

زائچے میں سیارہ مشتری دوسرے گھر میں برج قوس میں اچھی پوزیشن رکھتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی میں اپنی حیثیت کو تسلیم کرانے اور نمایاں مقام حاصل کرنے میں مددگار ہے، زائچے کا دوسرا اہم سیارہ زحل چوتھے گھر کا حاکم ہوکر دسویں گھر میں سیارہ شمس کے ساتھ حالت قران میں ہے، اگرچہ شمس کی قربت کے سبب غروب ہے لیکن شمس کے ساتھ مل کر راج یوگ بنارہا ہے، یہ بھی زندگی میں کسی بلند مقام کے حصول میں کامیابی کا اشارہ ہے لیکن چوتھے گھر کا تعلق ماں باپ، ابتدائی تعلیم، رہائش، سواری اور پراپرٹی سے ہے لہٰذا والدین کی پوزیشن زحل کی غروب پوزیشن کے سبب کمزور تھی، ابتدائی تعلیم میں بھی دشواریاں رہیں، سیارہ مریخ چھٹے گھر کا حاکم ہوکر اور طالع کا مالک نویں گھر میں اپنے برج ہبوط میں ہے، گویا مریخ کی کمزوری بھی اپنی جگہ ہے مگر نویں گھر کی سعادت اپنی جگہ، سیارہ شمس زائچے کا سب سے نمایاں اور طاقت ور ترین سیارہ ہے، شمس جن لوگوں کے زائچے میں طاقت ور ہو وہ بلند حوصلہ اور مسلسل اپنے مقصد کے حصول کے لیے جدوجہد کرنے والے ہوتے ہیں، خاص طور پر دسویں گھر کا حاکم ہوکر پروفیشن کے معاملے میں مسٹر مودی کو اقتدار کے خواب دکھانا سیارہ شمس ہی کا کمال ہے،سیارہ عطارد گیارھویں گھر میں اور اپنے ہی برج عقرب میں موجود ہے، نوامسا چارٹ میں ہبوط یافتہ ہے، چناں چہ کاروباری فوائد سے محروم کرتا ہے، ایسے لوگ بزنس میں ناکام رہتے ہیں، سیارہ زہرہ بھی گیارہویں گھر میں اور برج سنبلہ میں ہے جو زہرہ کے ہبوط کا برج ہے، گویا زہرہ کی پوزیشن بدترین ہے، خصوصاً محبت، دوستی، شادی اور ازدواجی زندگی کے حوالے سے یہ ہبوط یافتہ زہرہ ہر گز اچھے نتائج نہیں دیتا، چناں چہ اگرچہ شادی جلد ہی ہوگئی تھی جسے نہ ہونے کے برابر سمجھا جائے، مودی صاحب نے بیوی سے دور رہنا ہی بہتر خیال کیا، ہبوط یافتہ زہرہ زائچے میں اکثر مرد کو عورت سے اور عورت کو مرد سے دور کرنے کا سبب بنتا ہے، مزاج میں خشکی، سردمہری اور عدم توازن کا باعث بنتا ہے، بعض لوگ روحانیت کی جانب راغب ہوتے ہیں یا کچھ دیگر پراسرار علوم کے حصول کو زندگی کا مقصد بناتے ہیں، سنا ہے کہ مودی صاحب بھی سادھوؤں اور جوگیوں کے بہت معتقد رہے ہیں اور زندگی کا خاصا بڑا حصہ اسی آوارگی میں گزارا ہے، زہرہ زائچے کے بارھویں گھر کا حاکم ہے، اس کا ہبوط یافتہ ہونا، بے خوابی، بستر کی لذت سے محرومی، مستقبل کے پریشان کن خوف لاتا ہے، مزید یہ کہ نویں آئین و قانون، مذہب اور روحانیت، قسمت سے متعلق امور و دلچسپیاں سیارہ زہرہ سے منسلک ہوجاتے ہیں، زائچے میں قمر اور مریخ نویں اور بارھویں میں بیٹھ کر چندر منگل یوگ بنارہے ہیں، یہ یوگ انسان کو بہت زیادہ مفاد پرست بناتا ہے، ایسے لوگ دولت کمانے کے جو ذرائع بھی اختیار کریں اس میں جائز اور ناجائز کی تمیز کھودیتے ہیں، عام طور سے اپنی ماں کے لیے تکلیف اور صدمے کا باعث بنتے ہیں۔

تعلیم و پیشہ

ابتدائی تعلیم میں مشکلات رہیں، چوتھے گھر کے حاکم سیارہ زحل کا دور اکبر جون 1962 ء سے شروع ہوگیا تھا جو جون 1981 ء تک جاری رہا، شمس زدہ زحل کیوں نا عظمت و بزرگی کے خواب دکھاتا، خیال رہے کہ سیارہ زحل دنیاوی علم و نجوم میں نچلے طبقے خصوصاً مزدوروں کا نمائندہ ہے، یہ مسلسل محنت اور کوشش کے بعد زندگی میں کامیابی کا باعث بنتا ہے، بلاشبہ مسٹر نریندر مودی کی طویل جدوجہد اور کوشش سے انکار ممکن نہیں ہے، شمس سے قران نچلے طبقے کو بلند مراتب کے خواب دکھا رہا تھا، سیارہ شمس اقتدار اور حکمرانی کا نمائندہ ہے، اپنی فطری خصوصیات کے سبب انھوں نے ایک انتہا پسند سیاسی جماعت سے رابطہ جوڑ لیا، بھارتی کانگریس پارٹی سے دور رہے،جون 1998 ء سے زائچے میں کیتو کا دور اکبر شروع ہوا جو فوائد کے گھر میں براجمان ہے، سیاسی نظریات میں مفاد پرستی کا عنصر نمایاں ہوگیا، کیتو کے دور اکبر میں 20 جنوری 2000 ء میں سیارہ شمس کا دور اصغر شروع ہوا تو مودی صاحب کا اقتدار کے راستوں پر سفر تیز ہوگیا اور بالآخر 17 اکتوبر 2001 ء کو کیتو کے دور اکبر میں راہو کا دور اصغر جاری تھا تو وہ گجرات کے وزیراعلیٰ بننے میں کامیاب ہوگئے اور اس طرح انھوں نے وہ سب کچھ حاصل کرلیا جو وہ چاہتے تھے، دوسری بار راہو کے ہی دور اصغر میں وہ وزیراعظم بھارت کی کرسی پر بیٹھنے میں کامیاب ہوئے، یہاں ایک اہم سوال موجود ہے، روایتی ویدک سسٹم میں راہو کو نہایت منحوس اور ضرر رساں کہا جاتا ہے اور اس حوالے سے کلاسیکل تعلیم خاصی متنازع ہے، راہو سیاست کا نمائندہ ہے، چھل فریب، مکاری، جھوٹ، دغا بازی اس کا ثمرہ ہے، زائچے میں راہو پانچویں گھر میں برج حوت میں ہے، اچھی پوزیشن رکھتا ہے، پانچواں گھر شعور و دانش کا ہے جو راہو کے زیر اثر منفی ہی ہوگا، زندگی کی خوشیاں بھی اس سے منسلک ہیں، ہمارے نظریات کے مطابق وہ کسی طرح بھی زندگی میں خوشی اور کامیابی لانے کا باعث ہوسکتا ہے مگر یہ بھی خیال رہے کہ راہو کی لائی ہوئی خوشیاں قانونی و دائمی نہیں ہوتیں، بعد کے نتائج پریشان کن ہوتے ہیں کیوں کہ یہ خوشیاں مثبت طریقوں سے حاصل نہیں ہوتیں، مودی صاحب نے بھی یقینا اقتدار کے سنگھاسن تک پہنچنے میں جو راستے اختیار کیے ہوں گے وہ قابل تعریف نہیں ہوسکتے اور بعد میں جس طرح گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام میں ان کے کردار کا چرچا ہوا وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے،یہ کہنا کافی نہیں ہوگا کہ بعد میں عدالتوں نے انھیں تمام الزامات سے بری کردیا تھا۔
ایک منفی سوچ کو ہوا دے کر انھوں نے سیکولر پارٹی کانگریس کے مقابلے میں اپنی سیاست چمکائی اور اب تک یہی کر رہے ہیں، کچھ ایسا ہی انھوں نے 2019 ء کا الیکشن جیتنے کے سلسلے میں بھی کیا یعنی کشمیر میں پلوامہ کا ڈراما اسٹیج کرکے پاکستان پر حملہ اور اپنے عوام کے سامنے ہیرو بننے کی کوشش جس میں ان کا خریدا ہوا میڈیا اہم کردار ادا کر رہا تھا۔
2019 ء میں سیارہ مشتری برج عقرب سے گزر رہا تھا یعنی پہلے گھر سے گویا پہلے گھر کے علاوہ پانچویں، ساتویں اور نویں قسمت کے گھر پر اس کی نظر کرم تھی، اس کے بعد مشتری برج قوس میں داخل ہوا جو دوسرا گھر ہے، مشتری کی یہ پوزیشن بھی معاون و مددگار تھی، اس دوران سیارہ زحل کا سب پیریڈ جاری تھا جو اس سال 24 جون 2021 ء تک جاری رہے گا، اس کے بعد زہرہ کے دور اکبر میں عطارد کا دور اصغر شروع ہوگا، ہبوط یافتہ عطارد آئندہ زیادہ مددگار نہیں ہوگا۔
20 نومبر 2020 ء سے مارچ 2021 ء تک حیثیت و مقام کا سیارہ مشتری بھی ہبوط یافتہ ہے، چناں چہ جو کچھ ان کے خلاف صورت حال پیدا ہوچکی ہے، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، بھارتی وزیراعظم بلاشبہ خاصی پریشان کن صورت حال سے دوچار ہیں جس میں آئندہ بھی کمی آتی نظر نہیں آرہی۔
اس سال 2021 ء میں راہو کیتو پہلے اور ساتویں گھر میں رہتے ہوئے مسٹر مودی اور بھارت کے زائچے میں اکتوبر تا دسمبر انتہائی سخت اثرات ڈالیں گے اور اس بات کا امکان موجود ہے کہ اپنی پوزیشن کو بچانے کے لیے وہ ایک بار پھر کوئی پلوامہ جیسی مہم جوئی کے بارے میں سوچیں اور پاکستان سے محاذ آرائی کریں لیکن بہر حال بھارت کی بگڑتی ہوئی معاشی صورت حال اور احتجاجی تحریکیں شاید انھیں اس کی اجازت نہ دیں مگر ایک شدت پسند انسان کچھ بھی کرسکتا ہے، مسٹر مودی نے ہندوتوا کے نعرے پر بھارت میں جو ماحول پیدا کیا ہے یہ بہر حال بھارت کو تقسیم کرنے کی طرف ایک قدم ہے، وہ ایسے آدمی نہیں ہیں کہ اپنے نظریات و عقائد سے پیچھے ہٹ جائیں، نتیجے کے طور پر ایسے لوگ بالآخر تاریخ کی کچرا کنڈی میں پہنچ جاتے ہیں، ان کے ایک دوست مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ تو پہنچ چکے ہیں (واللہ اعلم بالصواب)