پیر، 22 جولائی، 2019

وزیراعظم عمران خان اور روسی صدر پیوٹن میں مماثلت

دونوں شخصیات کی زندگی کے اتفاق و اختلاف پر تجزیاتی نظر
جڑواں بچوں کی پیدائش ہمیشہ ایسٹرولوجی پر اعتراض کرنے والوں کا پسندیدہ 
سوال ہوتا ہے،وہ کہتے ہیں کہ ایک ہی دن ، تاریخ، سال اور مقام پر پیدا ہونے والے بچے کیسے ایک دوسرے سے مختلف سوچ ، عمل اور رویے کے حامل ہوتے ہیں، یقیناً یہ ایک نہایت اہم سوال ہے اور اس علم پر بھرپور گرفت رکھنے والے ماہرین نے اس کا معقول جواب بھی دیا ہے یہاں ہمارا موضوع جڑواں بچے نہیں ہے لہٰذا اس سوال کا جواب دینے کا یہ موقع بھی نہیں ہے صرف اتنا اشارہ دینا کافی ہے کہ جڑواں بچے بے شک ایک ہی دن تاریخ اور مقام پر پیدا ہوتے ہیں لیکن پیدائش کے وقت میں چند منٹ کا فرق ضرور ہوتا ہے اور یہی فرق نہایت اہم ہے جو دونوں کی زندگی کے حالات پر اثر انداز ہوتا ہے۔
فی الوقت ہمارے پیش نظر ایک دوسرا دلچسپ اتفاق ہے، وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن ۔
اتفاق سے کچھ عرصہ پہلے صدر پیوٹن کی تاریخ پیدائش، وقت پیدائش وغیرہ ہماری نظر سے گزری، اس تاریخ کے مطابق بعض مشہور منجمین نے صدر پیوٹن کا زائچہءپیدائش بنایا ہے جسے دیکھ کر ہم خاصے حیران ہوئے کیوں کہ یہ زائچہ وزیراعظم عمران خان کے زائچے سے بے حد مماثل ہے۔



برسوں پہلے عمران خان کی مشہور تاریخ پیدائش 25 نومبر ہمارے پیش نظر رہی لیکن بعد ازاں محترم سید انتظار حسین شاہ زنجانی کی ذاتی کوشش سے عمران خان سے رابطہ کیا گیا اور انھوں نے بتایا کہ ان کی درست تاریخ پیدائش 5 اکتوبر1952 ، لاہور ہے جب کہ وقت پیدائش تقریباً صبح 9 بجے ہے، چناں چہ پہلی مرتبہ ہم نے ہی ماہنامہ آئینہ قسمت میں عمران خان کا درست زائچہ پیش کیا تھا،واضح رہے کہ تازہ اپ ڈیٹ کے مطابق اب وکی پیڈیا پر بھی عمران خان کی تاریخ پیدائش 5 اکتوبر 1952 ہے۔
روسی صدر ولادی میر پیوٹن کی تاریخ پیدائش7 اکتوبر 1952 ،سینٹ پیٹرز برگ ہے اور وقت پیدائش صبح 09:29 am ہے۔
اب دلچسپ صورت حال یہ ہے کہ دونوں افراد کا طالع پیدائش برج میزان ہے،یقیناً طالع کے درجات میں نمایاں فرق ہے، برج میزان کا حاکم سیارہ زہرہ اپنے گھر میں باقوت پوزیشن رکھتا ہے اور کلاسیکل ویدک سسٹم کے مطابق ”ملاویا یوگ“ بنارہا ہے،یہ یوگ خوش قسمتی کی علامت ہے اور چوں کہ طالع کا حاکم اس میں اہمیت رکھتا ہے لہٰذا یہ کسی راج یوگ سے کم نہیں ہے، راج یوگ کے اصولوں کے مطابق زائچے میں موجود پری ورتن یوگ اور گج کیسری یوگ بھی کسی راج یوگ سے کم نہیں ہےں۔
زائچے کے پہلے گھر میں برج میزان طلوع ہے اور اس کا مالک سیارہ زہرہ طاقت ور پوزیشن میں ملاویا یوگ بنارہا ہے، پہلے گھر کا حاکم پہلے گھر میں ہو تو یہ اچھی صحت اور سوسائٹی میں اچھی پوزیشن کے علاوہ لمبی عمر دیتا ہے، صاحب زائچے کی زندگی کا آغاز بہتر اور مناسب انداز میں ہوتا ہے اور وہ زندگی میں مسائل حل کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔
جب کہ ساتویں گھر کا حاکم سیارہ مریخ تیسرے گھر برج قوس میں قابض ہے اور برج قوس کا حاکم سیارہ مشتری مریخ کے گھر برج حمل میں براجمان ہے،اسے پری ورتن یوگ کہا جاتا ہے یعنی دو ستارے باہم ایک دوسرے کے گھروں میں قابض ہوتے ہیں، تیسرے گھر کا حاکم سیارہ مشتری ساتویں گھر میں ہو تو صاحب زائچہ زندگی میں لمبے سفر کرتا ہے، اسٹیٹس کا مالک ہوگا، بیرون ملک رہائش اختیار کرے گا، شریک حیات کے معاملات میں ایسے شخص کی ترجیحات شدید ہوں گی اور ایک سے زیادہ تعلقات ہوں گے گویا رومان پسندی نمایاں ہوگی۔
چوتھے گھر میں راہو جب کہ ساتویں گھر میں مشتری کے علاوہ سیارہ قمر موجود ہے،قمر اور مشتری کا ایک ہی گھر میں ہونا گج کیسری یوگ کہلاتا ہے، یہ بھی خوش قسمتی لانے والا یوگ ہے اور خاص طور پر ایسے لوگ خدمت خلق یا اصلاح معاشرہ کے لیے کام کرتے نظر آتے ہیں،زائچے کا دسواں گھر سرطان ہے اور یہاں غضب ناک کیتو موجود ہے،اس کے علاوہ زائچے کے بارھویں گھر میں سیارہ شمس، زحل اور عطاردقابض ہےں، یہ زائچے کا کمزور و ناقص پہلو ہے جو زندگی میں بہت سے مسائل ، پریشانیوں اور مصائب کو جنم دیتا ہے،عمران خان کی زندگی ایسے مصائب و مشکلات سے عبارت ہے، زندگی کا ابتدائی دور ہو یا درمیانہ یا آخری یہ مصائب و مشکلات جاری رہیں گے۔
سیارہ زحل زائچے کے پانچویں گھر کا حاکم اور یوگ کارک سیارہ ہے، خیال رہے کہ جو سیارہ زائچے کے دو سعد گھروں کا حاکم ہو اسے ”یوگ کارک“ کہا جاتا ہے، پانچویں گھر کا تعلق شعور ، زندگی کی خوشیاں ، بچے، اعلیٰ تعلیم ، زائد آمدن وغیرہ سے ہے ، اگر اس کا حاکم بارھویں گھر میں ہو تو ایسے لوگ اعلیٰ تعلیم کے لیے کسی دوسرے ملک جاتے ہیں،ہم دیکھتے ہیں کہ عمران خان ابتدائی عمر ہی میں تعلیم کے لیے ملک سے باہر یعنی انگلینڈ چلے گئے تھے اور پھر ایک طویل عرصہ انھوں نے ملک سے باہر گزارا کیوں کہ گیارھویں گھر کا حاکم شمس بھی بارھویں گھرمیں ہے لہٰذا ذرائع آمدن کا تعلق بھی بیرون ملک سے رہا۔
طالع برج میزان کے لیے راہو کیتو کے علاوہ سیارہ عطارد نحس اثرات کا حامل سیارہ ہے کیوں کہ یہ بارھویں گھر کا حاکم ہے اور پانچویں گھر کے حاکم سیارہ زحل کو متاثر بھی کر رہا ہے، مزید خرابی یہ ہے کہ شمس کی قربت کے سبب سیارہ زحل غروب بھی ہے،گویا تعلیمی زمانہ ہو یا کوئی اور دور عمران خان کے لیے آسانیاں کبھی نہیں رہیں، عطارد کی مداخلت کے سبب ابتدائی زندگی میں ان کی شہرت بھی خاصی متنازع ہوئی، عشق معاشقے ، اسکینڈلز و دیگر رنگ رلیاں نوجوانی میں اسی پانچویں گھر کے حاکم کی خرابی کا پھل ہیں۔
راہو کیتو کی پوزیشن زائچے کے بعض اہم گھروں کو متاثر کرتی ہے جن میں دوسرا گھر ، چوتھا گھر، چھٹا گھر، آٹھواں گھر، دسواں گھر اور بارھواں گھر شامل ہیں، دوسرے گھر کامتاثر ہونا اسٹیٹس ، ذرائع آمدن اور فیملی لائف کے لیے اچھا نہیں ہے، چوتھے گھر کا متاثر ہونا والدین اور خصوصاً ماں کے لیے نقصان دہ ہے، مزید یہ کہ ایسا شخص اپنے گھر میں سکون اور آرام نہیں پاتا، چھٹے گھر کا متاثر ہونا صحت کے معاملات کو خراب کرتا ہے، ساتھ ہی مزاج میں تندی تیزی اور جھگڑالو پن لاتا ہے، یہ تمام خامیاں ہمیں عمران خان کی شخصیت میں نظر آتی ہیں، زائچے کا آٹھواں گھر متاثر ہو تو وراثت میں کوئی بڑا ترکہ نہیں ملتا، مزید یہ کہ ازدواجی زندگی میں ناکامی اور طلاق کا اندیشہ موجود رہتا ہے، چناں چہ اب تک ان کی دو شادیاں ناکام ہوچکی ہیں، زائچے کا دسواں گھر متاثر ہو تو کرئر اور پیشہ ورانہ معاملات میں اُتار چڑھاو ¿ کا سامنا رہتا ہے، ایسے لوگوں کو ہمیشہ اپنے سپیریئرز یا اعلیٰ افسران سے تناو ¿ اور تنازعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، عمران خان کے کرئر میں یہ صورت حال بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی اور سیاست میں بھی یہ صورت حال بدستور ہے،زائچے کا بارھواں گھر بے آرامی ، بے خوابی، مستقبل کے خوف لاتا ہے جس کے نتیجے میں خواب آور ادویات کا استعمال شروع ہوسکتا ہے، ایسے لوگ خواب آور ادویات کے عادی ہوجاتے ہیں۔
زائچے کی کمزوریوں اور خرابیوں کے ساتھ زائچے کی خوبیاں بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتیں، یہ ممکن نہیں ہوتا ہے دنیا میں کسی بھی شخص کا زائچہ صرف خوبیوں سے عبارت ہو اور اس میں خامیاں ہی نہ ہو، خوبیوں میں سرفہرست طالع میزان کا طاقت ور ہونا اور ملاویا یوگ ہے، ایسے لوگوں کو ہمیشہ قدرت کی طرف سے مواقع ملتے رہتے ہیں اور وہ ان سے فوائد حاصل کرتے رہتے ہیں، برج میزان توازن اور ہم آہنگی کا برج ہے، فطری طور پر جمال و رومان پرست ہے،چوں کہ طالع کے درجات بھی سیارہ زہرہ کے زیر اثر ہےں لہٰذا پیدائشی طور پر وہ ایک حسین اور وجیہ شخصیت کے مالک رہے ہیں،ہمارے خیال سے یہ کہنا غلط ہوگا کہ عمران خان حسینان عالم کے پیچھے بھاگتے تھے ، حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر کی حسینائیں ان کے پیچھے بھاگتی رہی ہیں، وہ بنیادی طور پر نرگسیت کا شکار رہے ہیں، ایسے لوگوں کو چاہے جانے کی خواہش تو شدید ہوتی ہے لیکن وہ دوسروں کو نہیں چاہتے بلکہ اپنی ہی محبت میں مبتلا ہوتے ہیں اور اپنی ہی دھن میں مگن رہتے ہیں، ان کے ماضی کے رومانس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایما سارجنٹ، کرسٹن بیکر، سیتا وائٹ یا جمائما خان خود ان کی طرف متوجہ ہوئیں، فطری حسن پرستی نے کسی کے قدم روکنے کی کبھی کوشش بھی نہیں کی جو ملتا ہے محبت سے نیا غم دے ہی جاتا ہے۔

فطری رجحانات

کسی بھی زائچے میں صاحب زائچہ کے فطری معاملات کو سمجھنے کے لیے علم نجوم میں قمری برج کو بڑی اہمیت حاصل ہے، قمر جس برج میں موجود ہو وہ فطرت کی تشکیل کرتا ہے، عمران خان کے زائچے میں قمر برج حمل میں ہے، اس کا حاکم ڈائنامک سیارہ مریخ ہے جسے توانائی کا سیارہ کہا جاتا ہے، یہ لوگ پہل کار، نڈر، خوش امید، اپنی من مانی کرنے والے، ڈومینیٹنگ نیچر کے حامل، جلد باز، بے صبرے، بچگانہ حرکتیں کرنے والے ہوتے ہیں، عمران خان کے پورے کرئر میں ، وہ کرکٹ کرئر ہو یا سیاسی یہ فطری رجحانات نظر آئیں گے،انسانی فطرت کے حوالے سے مزید تحقیق کے لیے ایسٹرولوجی میں منازل قمری کو نہایت اہمیت حاصل ہے، ہم دیکھتے ہیں کہ قمر برج حمل میں ہوتے ہوئے ”اشونی نچھتر“ میں ہے، اس نچھتر پر غضب ناک کیتو حاکم ہے، کیتو کا تعلق روحانیات سے بھی ہے،اشونی نچھتر کا نشان گھوڑے کا سر ہے، فطرت نیک و پاکیزہ (Divine) اس کا محرک مذہب ہے،یہ لوگ آگے کی طرف دیکھتے ہیں، پیچھے نہیں، مریخ اور کیتو کا امتزاج اس نچھتر میں پیدا ہونے والے افراد کو زبردست توانائی فراہم کرتا ہے،غیر معمولی طو پر فعال ہوتے ہیں، ہٹ دھرمی یا استواری ، غضب ناکی اور زندگی کی امنگ کی تاثیر ہوتی ہے، اشونی نچھتر میں کھلندڑا پن اور بچگانہ فطرت بھی نمایاں ہے، ایک نڈر اور بے خوف جذبہ جو نئے جہان دریافت کرنا چاہتا ہو، سامنے آتا ہے، چوں کہ برج حمل سیارہ شمس کے شرف کا برج ہے لہٰذا لیڈر شپ ، جنگ جویانہ صلاحیت، اختیارات اور قدرومنزل کی چاہت بھی اس نچھتر سے وابستہ ہے،اس کا بنیادی محرک مذہبی کار نمایاں اور سرگرمی کا اصول ہے، قانون ، فرض، مذہب اور اخلاقی رویے پر یہاں زور دیا جاتا ہے، قمری منزل کے اس مختصر جائزے سے عمران خان کی فطرت پر روشنی پڑتی ہے اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ فطری طور پر ہمیشہ اعمال صالح کی طرف رغبت رکھتے تھے،اس کا اندازہ اس واقعے سے بھی ہوتا ہے جب وہ نوجوانی میں مشہور گلوکارہ کرسٹن بیکر سے شادی کا پروگرام بنارہے تھے، ایم ٹی وی کی یہ مشہور گلوکارہ ان کے عشق میں دیوانی تھی، جب عمران خان سے اس کی شادی نہ ہوسکی اور انھوں نے بعد ازاں جمائما خان سے شادی کرلی تو کرسٹن بیکر ایک نفسیاتی مریضہ بن گئی، عمران اس کو پاکستان بھی لائے تھے اور اپنے ملک کی خوبصورتی دکھانے کے لیے کاغان وغیرہ تک لے گئے تھے۔
کرسٹن بیکر بعد میں مسلمان ہوئی اور اس نے اپنی بائیوگرافی لکھی جو ”فرام ایم ٹی وی ٹو مکہ“ کے نام سے شائع ہوئی، وہ لکھتی ہے کہ ایک رات میں عمران خان کے فلیٹ پر اس کے ساتھ تھی اور وہ مجھے اپنے نبی ﷺ کی سیرت پڑھ کر سنارہے تھے، میں نے دیکھا کہ وہ رو رہے تھے، خصوصاً جب نبی اکرم ﷺ پر کفار مکہ کے ظلم و زیادتیوں کا ذکر آیا، وہ بہت حیران ہوئی کہ عمران جیسا مضبوط اعصاب کا مالک اور ایک سپاٹ چہرہ رکھنے والا انسان اتنا جذباتی کیسے ہوگیا“
کرسٹن بیکر سے شادی نہ کرنے کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ کسی صورت بھی مسلمان ہونے کے لیے تیار نہیں تھی، چناں چہ عمران خان اس سے دور ہوگئے اور جمائما گولڈ اسمتھ سے قریب ہوتے چلے گئے کیوں کہ وہ اسلام قبول کرنے کے لیے تیار تھیں، یہاں تک کہ دونوں کی شادی ہوگئی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کی ابتدائی زندگی گویا دور نوجوانی مغرب کے آزاد خیال ماحول میں گزرا اور کسی حد تک اس ماحول کا اثر بھی انھوں نے قبول کیا لیکن شاید اسی وقت فطری نیک خصلت بھی اپنا کام کر رہی تھی جس نے انھیں مکمل طور پر اس ماحول میں جذب نہ ہونے دیا ورنہ یہ بھی ممکن تھا کہ وہ شادی کے لیے کسی کرسچن یا یہودی سے قبول اسلام کی شرط نہ لگاتے، بالآخر یہی نیک فطرت انھیں اپنی والدہ کی بیماری کے بعد شوکت خانم کینسر اسپتال کے قیام کی جدوجہد میں مصروف کرتی نظر آتی ہے اور بعد ازاں سیاست میں لاتی ہے تاکہ وہ پاکستانی سیاست کے اس گلے سڑے اور تعفن زدہ ماحول کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں، اس کوشش میں انھیں اندازہ ہوگیا کہ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے، بہر حال زائچے کی پوزیشن ظاہر کرتی ہے کہ وہ آخری حد تک جانے والے انسان ہیں، خواہ اس راستے میں جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔
گزشتہ سال جولائی میں الیکشن کے بعد پاکستان کے لیجنڈ ادیب جناب مستنصر حسین تارڑ نے عمران خان پر کئی کالم لکھے حالاں کہ وہ عام طور سے سیاسی موضوعات پر نہیں لکھتے لیکن وہ ان لوگوںمیں شامل ہیں جو عمران خان کو پسند کرتے ہیں، اپنے ایک کالم میں انھوں نے آخر میں لکھا۔
”ایک خوش نما سنہرا پرندہ کوو ¿ں میں پھنس گیا ہے اور یہ اسے ٹھونگےں مار مار کر لہو لہان کردیں گے“
وزیراعظم پاکستان بننے کے بعد صورت حال کچھ ایسی ہی ہے ، ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ملک کی تمام سیاسی اشرافیہ، بزنس کمیونٹی، ہمارے لبرل دانش ور ، صحافی وغیرہ سب عمران خان کے خلاف ہوگئے ہیں ، بقول فیض
کسی کا درد ہو کرتے ہیں ترے نام رقم
گلہ ہے جو بھی کسی سے ترے سبب سے ہے
عمران خان کے زائچہ ءپیدائش میں سیاروی ٹرانزٹ پوزیشن نہایت موافق اور مددگار ہے، شاید یہی پوزیشن الیکشن میں ان کی کامیابی کا سبب بنی اور ابھی تک سپورٹ کر رہی ہے، سیارہ مشتری الیکشن کے دوران میں زائچے کے پہلے گھر سے گزر رہا تھا، مشتری عمران خان کے زائچے کا نہایت اہم اور سعد سیارہ ہے، اس سال بھی مشتری کی پوزیشن موافق اور مددگار ہے، زائچے میں سیارہ مشتری کا دور اکبر جاری ہے جو سعد اثر رکھتا ہے، دور اصغر سیارہ زحل کا جاری ہے جو اگرچہ یوگا کارک ہے مگر بارھویں گھرمیں قابض اور زائچے کے منحوس اثر رکھنے والے سیارگان سے متاثرہ ہے، چناں چہ الیکشن میں وہ کامیابی نہ مل سکی جو ضروری تھی اقتدار میں آنے کے بعد جس نوعیت کی صورت حال سامنے آئی وہ بھی نہایت پریشان کن رہی جس سے نکلنے کے لیے تاحال کوشش اور جدوجہد جاری ہے۔
سال 2019 ءمیں نہایت مشکل اور سخت ترین وقت جون سے ستمبر تک نظر آتا ہے اور خاص طور پر ستمبر کچھ زیادہ ہی بڑے چیلنج سامنے لائے گا کیوں کہ اس دوران میں عمران خان کا ذاتی سیارہ زہرہ بھی اپنے ہبوط کے برج سے گزر رہا ہوگا، ہماری دعا ہے کہ اللہ انھیں اپنے نیک مقاصد میں کامیابی دے اور موجودہ بحرانی صورت حال سے نکلنے میں مدد دے کیوں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ عمران خان فطری طور پر اس ملک و قوم سے مخلص ہےں اور قوم کی بھلائی چاہتے ہیں ،ان کے ذاتی مقاصد اور مفادات نہیں ہیں۔

روسی صدر پیوٹن




اپنی تاریخ پیدائش اور وقت پیدائش کے مطابق صدر پیوٹن کا طالع پیدائش بھی برج میزان تقریباً 10 درجے پر ہے، سیارہ زہرہ ان کے زائچے میں بھی پہلے گھر میں طاقت ور پوزیشن میں ملاویا یوگ بنارہا ہے، اسی طرح تیسرے گھر کا حاکم مشتری بھی ساتویں گھر برج حمل میں قابض ہے اور برج حمل کا حاکم سیارہ مریخ تیسرے گھر برج قوس میں براجمان ہے، گویا پری ورتن یوگ یہاں بھی موجود ہے، دیگر سیاروی پوزیشن دونوں زائچوں کی تقریباً ایک ہی ہےِِ، بنیادی فرق صرف اتنا ہے کہ سیارہ قمر برج ثور میں داخل ہوچکا ہے اور اس کی قمری منزل کرتکا ہے۔
عمران خان کی طرح ابتدائی زندگی میں انھیں بھی مشکلات اور سخت جدوجہد کا سامنا رہا، ان کا رجحان بھی اسپورٹس کی طرف ہوا، البتہ وہ کرکٹ کے بجائے مارشل آرٹس کی طرف متوجہ ہوئے، عمران خان کے زائچے کے برعکس ان کے زائچے کے دیگر گھر راہو کیتو یا کسی اور نحس سیارے سے متاثرہ نہیں ہیں جس کی وجہ سے ذاتی زندگی میں یا کرئر کے معاملات میں انھیں بہت زیادہ مسائل اور مصائب کا سامنا نہیں رہا ہوگا، البتہ حسن پرستی اور رومانی سرگرمیاں ضرور رہی ہوں گی،پہلی شادی لو میرج تھی جو بالآخر ختم ہوئی اور پھر دوسری شادی بھی لو میرج رہی، پہلی شادی سے دو لڑکیاں ہوئیں جو ان کے پاس نہیں ہیں۔
ولادی میر پیوٹن کی زندگی کا ابتدائی دور روس اور امریکا کے درمیان رسا کشی کا دور ہے ، روس اس وقت دنیا کی دوسری سپر پاور کی حیثیت اختیار کرچکا تھا، چناں چہ پیوٹن کو اپنے ملک سے باہر تعلیم کے لیے نہیں جانا پڑا لیکن ابتدا ہی سے اسپورٹس سے لگاو ¿ ظاہر ہوگیا تھا اور ابتدائی عمر ہی میں انھوں نے بلیک بیلٹ حاصل کرلی تھی، اسی طرح روسی کمیونسٹ پارٹی میں بھی شمولیت کا موقع مل گیا تھا، 1975 ءمیں وہ روسی خفیہ ایجنسی کے جی بی سے وابستہ ہوگئے تھے، ان کے سامنے ہی روسی سپر پاور کا خاتمہ ہوا اور ملک مختلف ریاستوں میں بٹ گیا، اگست 1999 میں انھیں ڈپٹی پرائم منسٹر بننے کا موقع ملا اور اسی سال وہ وزیراعظم بن گئے اور روسی صدر بورس نیلسن کے غیر متوقع استعفے نے انھیں روس کا صدر بنادیا ، بعد ازاں وہ صدارتی الیکشن بھی مسلسل جیتتے رہے، اقتدار میں آنے کے بعد روسی معیشت خاصی کمزور تھی، کرپشن ملک کا اہم مسئلہ تھا، انھوں نے آہستہ آہستہ معاشی طور پرملک کو بحران سے نکالا اور کرپشن پر بھی قابو پایا، اس وقت وہ دنیا کی دوسری سپرپاور کے صدر ہیں۔

فطری رجحانات


دونوں زائچوں کا بنیادی فرق فطری رجحانات ہےں جس کی نشان دہی زائچے میں قمر کی پوزیشن سے کی جاسکتی ہے،عمران خان کا قمر برج حمل اور اشونی نچھتر میں ہے جب کہ صدر پیوٹن کا قمر اپنے شرف کے برج ثور میں اور کرتکا نچھتر میں ہے،خیال رہے کہ برج ثور ایک خاکی برج ہے جو مادّیت سے جڑا ہوا ہے، چناں چہ دولت ثوری افراد کے لیے اہمیت رکھتی ہے، آف شور کمپنیوں کے سلسلے میں صدر پیوٹن کا نام بھی سامنے آیا تھا، وہ یقیناً روس کے دولت مند افراد میں شمار ہوتے ہیں۔
کرتکا نچھتر عظمت حاصل کرنے کی استقامت اور عزم کی نمائندگی کرتا ہے،یہ سماجی کاز کے لیے لڑنے والا جنگ جو ہے،اس کا نشان ”شعلہ، استرا اور کلہاڑی ہے، دیگر تیز دھار ہتھیار بھی اس نچھتر کے زیر اثر ہیں، کرتکا کے لغوی معنی ”کاٹنے والا“ کے ہیں ، اس کی فطرت غیر انسانی ہے، خیال رہے کہ غیر انسانی فطرت ہی دراصل غیر معمولی کارکردگی اور کارہائے نمایاں کی جانب لے جاتی ہے، یہ لوگ روایتی طور طریقوں اور اصولوں کی پابندی ضروری نہیں سمجھتے بلکہ اپنی خواہشات اور مقاصد کے مطابق کام کرتے ہیں، زندگی گزارنے کے ان کے اپنے اصول ہوتے ہیں، برج ثور کی وجہ سے خاموش طبع اور مستقل مزاج ہوتے، ان کے اندر قمر اور زہرہ کی مشترکہ خصوصیات موجود ہیں جن کا اظہار اکثر ہوتا رہتا ہے، اپنی طاقت کا اظہار کرنا جانتے ہیں، اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے کسی نفع و نقصان کی پروا کیے بغیر پٹری بدلنے کی عادت رکھتے ہیں، انھیں اپنی آزادی بھی بہت عزیز ہے، اپنی انا، ضد اور ہٹ دھرمی سے اپنے دوستوں کو ناراض کرسکتے ہیں، رسم و رواج اور عقائد کی اندھی تقلید نہیں کرتے، ایک جارحانہ فطرت انھیں کسی وقت بھی غضب ناک کرسکتی ہے پھر یہ قابو میں نہیں آتے، جنسِ مخالف میں خصوصی کشش رکھتے ہیں، فضول خرچ نہیں ہوتے،انھیں شہرت سے بھی خصوصی دلچسپی ہوتی ہے، ضرورت کے تحت غیر معمولی فیصلے اور اقدام کرسکتے ہیں۔

دونوں زائچوں کا بنیادی فرق

کئی اعتبار سے عمران خان اور صدر پیوٹن کے زائچوں میں بعض بنیادی فرق موجود ہےں، پہلی بات یہ کہ عمران خان کے زائچے کے اکثر اہم گھر راہو کیتو سے متاثرہ ہیں جب کہ صدر پیوٹن کے زائچے میں ایسے نحس اثرات نہیں ہیں، راہو کیتو اگرچہ دونوں زائچوں کے لیے نحس اثرات رکھنے والے سیارے ہیں لیکن صدر پیوٹن کے زائچے میں راہو کیتو دشاماسا چارٹ (D-10) میں شرف یافتہ ہےں، چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ 17 سال کی عمر میں جب راہو کا طویل دور شروع ہوا تو انھیں اپنا کرئر بنانے میں زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور وہ بہت جلد ترقی کرکے روسی کے جی بی میں ایک اعلیٰ مقام تک پہنچنے میں کامیاب رہے، راہو کا دور اکبر 1987 ءتک جاری رہا اور پھر سیارہ مشتری کا 16 سالہ دور بھی ان کے لیے ترقی کے نت نئے راستے کھولتا رہا، اب وہ سیارہ زحل کے دور اکبر سے گزر رہے ہیں اور اس قابل ہوچکے ہیں کہ ہر قسم کی ناموافق صورت حال کو بھی اپنے حق میں کرسکیں، جولائی 2017 ءسے ایک بار پھر زحل کے دور اکبر میں راہو کا دور اصغر جاری ہے جو مئی 2020ءتک رہے گا، جہاں تک زائچے میں ٹرانزٹ کی صورت حال ہے وہ بھی ناموافق نہیں ہے، چناں چہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ سال 2019 ءکی مشکل اور پیچیدہ ترین سیاروی گردش ان پر اثر انداز نہیں ہوگی اور وہ اس مشکل وقت میں روس کے لیے ایک بہتر رہنما ثابت ہوں گے۔

جمعہ، 12 جولائی، 2019

زائچہ ءپیدائش میں ہر ماہ چاند کا دلچسپ سفر

ہمارے روز مرہ معمولات میں اتار چڑھاو کا چشم کشا ماجرا 

چاند جسے عربی میں قمر ، ہندی میں چندر، فارسی میں ماہ اور انگریزی میں مون کہا جاتا ہے،دیگر زبانوں میں بھی اس کے بے شمار نام ہوں گے، ہماری کائنات میں اس کی حیثیت و اہمیت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی ہے، جدید سائنسی تحقیق کے بعد چاند کی زمین کے گرد گردش اپنی جگہ ایک حقیقت ہے اور اس کے اثرات بھی ظاہر ہیں، پہلا شخص جس نے چاند کے اثرات و مظاہر کی نشان دہی کی وہ شہرہ آفاق تصویر مونا لیزا کا خالق لیونارڈ ڈاو ¿نجی تھا، اس نے بتایا کہ سمندر میں مدوجزر چاند کی گردش سے پیدا ہوتا ہے، گزشتہ صدی میں چاند تک پہنچنے کی کوششیں بھی ہمارے علم میں ہیں اور غالباً 1969 ءمیں انسان نے چاند پر پہلا قدم بھی رکھ دیا تھا۔
علم نجوم میں ابتدا ہی سے چاند یعنی قمر کو بنیادی حیثیت و مرتبہ حاصل ہے، شاید ایسٹرونومی کے ماہرین بہت بعد میں چاند کے اسرار و رموز سے واقف ہوئے ہوں گے لیکن ایسٹرولوجی کے ماہرین و محققین ہزاروں سال قبل چاند کے رازوں سے واقفیت کے دعوے دار رہے ہیں، اس کی گردش کو اہمیت دی گئی اور اسے ایسٹرولوجی کے تمام تکنیکی امور میں اولیت دی گئی۔
الہامی کتابوں میں بھی چاند اور اس کی گردش کا تذکرہ موجود ہے، اللہ کی آخری کتاب میں چاند کی گردش اور اس کی مخصوص منزلوں کے بارے میں ارشار ربانی موجود ہے چناں چہ چاند کی گردش کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، اس حوالے سے ہم خاصے تفصیلی اور سیر حاصل مضامین پہلے بھی لکھ چکے ہیں، زیر نظر مضمون چاند کی کسی بھی زائچے میں گردش سے متعلق ہے ، کسی بھی معیاری جنتری کے ذریعے آپ معلوم کرسکتے ہیں کہ چاند آج کہاں ہے اور کل کہاں ہوگا،اس کے علاوہ ایسے سافٹ ویئرز بھی موجود ہیں جن کے ذریعے آپ چاند کی روزانہ یا صبح و شام کی درست پوزیشن معلوم کرسکتے ہیں، اگر آپ کے پاس اپنا زائچہ ءپیدائش بھی موجود ہے تو آپ زائچے میں چاند کی پوزیشن معلوم کرکے اندازہ کرسکتے ہیں کہ چاند حالات و واقعات پر کس طرح اثر انداز ہوسکتا ہے۔
علم نجوم میں اور بہت سی تہذیبوں میں چاند کو نسوانیت کا نمائندہ اور ماں کا متبادل سمجھا جاتا رہا ہے، اسے ہمیشہ چاہا گیا ہے اور اس کی پوچا کی گئی ہے۔ مصر کی قدیم تہذیب میں اسے مختلف ناموں سے پکارا جاتا رہا ہے، تقدیس کا نسوانی پہلو اس سے وابستہ ہے،اسے زراعت اور زرخیزی کی دیوی تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔
جب چاند ہمارے پیدائشی زائچے میں اچھا اثر ڈال رہا ہو تو ہمارا ماضی اچھا گزرتا ہے، ایک اچھی پوزیشن والا قمر بہت سی سطحوں پر ہمارے لیے معاون و مددگار ثابت ہوتا ہے نیز ہمیں بے خوف، کشادہ دل اور جذباتی طور پر مستحکم بناتا ہے جب کہ دوسری طرف ایک متاثرہ یا خراب پوزیشن کا حامل قمر ہمارے اندر ایک انجانا اور بے نام خوف اور دہشت پیدا کرتا ہے۔ یہ ایسے احساس کو جنم دیتا ہے کہ کچھ ہونے والا ہے۔ یہ سوچ میں قنوطیت کو جنم دیتا ہے، واضح رہے کہ میڈیکل ایسٹرولوجی میں چاند کا تعلق ہمارے دماغ سے ہے اور جسم میں رطوبات زندگی بھی اس سے متعلق ہیں،دوران خون کا گھٹنا اور بڑھنا بھی اسے سے منسلک ہے، اکثر نفسیاتی مسائل کا تعلق بھی قمر سے اس وقت جڑ جاتا ہے جب سیارہ عطارد کی پوزیشن بھی ناقص ہو۔
چاند کا سفر دائرئہ بروج میں خاصا باقاعدہ ہے اور اس کی گردش یقینی ہے، چاند ہمارے پیدائشی زائچے کا ایک چکر 28 دنوں میں پورا کرتا ہے اور بارہ گھروں سے ہر گھر میں ڈھائی دن (60 گھنٹے) اوسطاً قیام کرتا ہے، آئیے دیکھتے ہیں کہ چاند کی یہ گردش مختلف اوقات میں ہمیں کون سے فوائد پہنچاتی ہے اور کیسے نقصانات یا مسائل لاسکتی ہے۔

پہلے گھر سے چاند کا گزر

جب چاند آپ کے زائچے کے پہلے گھر سے گزرتا ہے تو آپ اپنے ماحول اور گرد و نواح کی طرف سے بے حد حساس ہوجاتے ہیں۔ یہ بے حد ضروری ہے کہ دوسرے لوگ آپ کے احساسات سے باخبر ہوں یا انھیں آگاہ کیا جائے اور وہ آپ کے احساسات کو قبول کرتے ہوئے ان کی حمایت اور تائید کریں۔ گھریلو معاملات اور گھریلو حالات سے با خبر ہوں یا انھیں آگاہ کیا جائے اور وہ آپ کے احساسات کو قبول کرتے ہوئے ان کی حمایت اور تائید کریں۔ گھریلو معاملات اور گھریلو حالات کو بڑی آسانی سے اولیت حاصل ہو سکتی ہے۔ اس ٹرانزٹ کا ایک سب سے مثبت اثر یہ ہے کہ آپ اپنے رشتے یا تعلق کو اپنے ماحول میں ڈھال سکتے ہیں جو آپ کے لیے سب سے زیادہ اطمینان بخش ہو۔ اس کا ایک منفی اثر یہ ہو سکتا ہے کہ آپ اس احساس سے دوچار ہو جائیں کہ آپ کے قریب ترین لوگوں نے آپ کو غلط سمجھا ہے یا وہ آپ کی طرف سے غلط فہمی کا شکار ہو گئے ہیں،اگر کسی زائچے میں چاند بنیادی طور پر فعلی طور پر بداثر ہے تو آپ کو اس ٹرانزٹ سے کوئی اچھی امید نہیں رکھنی چاہیے، پہلا گھر برج اسد یا قوس ہو تو ایسی صورت ممکن ہے۔

دوسرے گھر سے چاند کا گزر

زائچے کا دوسرا گھر آپ کا خانہ ءمال کہلاتا ہے ، جب چاند اس گھر میں ہو تو اس وقت ذاتی نوعیت کے مالی مسائل نمایاں ہوں گے، آپ پر یہ بات عیاں ہو سکتی ہے کہ گھریلو اور فیملی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پیسوں کی ضرورت ہے۔ اگر ان دنوں میں قمر، مشتری، زہرہ، شمس کے ساتھ مثبت زاویے رکھتا ہو تو اکثر مالی معاونت حاصل ہوتی ہےِ، اس کے برعکس معاملہ ہو تو مالی نقصانات اور پریشانیاں پیدا ہوسکتی ہیں، ایسی صورت میں ترنگ میں آ کر فضول خرچی سے گریز کریں۔ دوسرے گھر میں نیو مون یا گہن جیسی صورت حال ہو تو بہت محتاط ہونے کی ضرورت ہے، بھاری اخراجات یا مالی نقصانات کا سامنا ہوسکتا ہے جس کے نتیجے میں آپ کی حیثیت متاثر ہوسکتی ہے، ممکن ہے آپ کو قرض کی ضرورت پیش آجائے۔

تیسرے گھر سے چاند کا گزر

تیسرا گھر بہت اہم ہے ،چاند کا اس گھر میں داخلہ آپ کو زیادہ متحرک اور فعال بناتا ہے، آپ چاہتے ہیں کہ بہت سے کام جلد از جلد انجام تک پہنچ جائیں، صورت حال میں کسی تبدیلی کے لیے بھی آپ بے چین نظر آئیں گے، دوسرے افراد سے بہت قریبی، جذباتی تعلقات کے مواقع فراہم ہوں گے۔ ان سے گھل مل کر ان مواقع سے فائدہ اٹھائیں لیکن اگر اس پوزیشن میں سفر کرتے ہوئے چاند کو دوسرے سیارے متاثر کریں تو آزمائش اور مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں۔ ان چیلنجوں کو نظر انداز نہ کیا جائے جبکہ حقیقت پسندانہ طریقے سے انھیں حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس دوران آپ کی فیملی کا دوسروں کو وزٹ کرنا یا دوسری فیملی کا آپ کو وزٹ کرنا ایک عام سی بات ہو گی،یہ ایسا وقت ہے جب آپ کچھ نیا کرنے پر آمادہ ہوسکتے ہیں۔

چوتھے گھر سے چاند کا گزر

زائچے کا چوتھا گھر فطری طور پر چاند کا اپنا گھر ہے، اسے ایک پناہ گاہ کہا گیا ہے،آپ کے والدین اس گھر سے جڑے ہوئے ہیں، اپنے اندر جھانکنے اور اپنا جائزہ لینے کا یہ ایک اچھاموقع ہے۔ اس کا مطلب اپنا تنقیدی جائزہ لینا ہے، اس وقت چاند اپنے گھر آیا ہے۔ لہذا آپ کے لیے بھی بہتر ہے کہ آپ بھی ایسا کریں، آپ اپنے قریبی تعلقات کا جائزہ لیں اور اپنی حرکات پر غور کریں۔ اس سے آپ کے تعلقات میں بہتری آئے گی۔ اس وقت آپ کے جذباتی اور گھریلو زندگی کے علاقے بہت حساس ہیں اور ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ اپنے "اندر کے بچے" کی بہت اچھی طرح دیکھ بھال کریں۔ یہ سیکھنا کہ خود کو کیسے نکھارا جا سکتا ہے، زندگی بھر آپ کے کام آئے گا،اپنی سواری ، جائیداد اور جمع شدہ سرمائے پر توجہ دیں، اگر آپ کے پاس یہ سب کچھ نہیں ہے تو سوچیں کہ اس کی کیا وجہ ہے؟

پانچویں گھر سے چاند کا گزر

ہم تفریح اور خوشیوںکے لیے کیا کرتے ہیں جس میں ہمارے جذبات شامل ہوں اور ہمیں زندگی کے تناو ¿ سے سکون ملے؟ اس گھر سے گزرتا ہوا چاند اس قسم کے سوال کا جواب دے سکتا ہے، واضح رہے کہ زائچے کا پانچواں گھر زندگی کی خوشیوں کا گھر ہے، ایسی خوشیاں جن کا تعلق آپ کی روح سے ہے، آپ کی تفریحی دلچسپیاں ، رومانی امور اور بچوں سے وابستہ خوشیاں قمر کی موجودگی سے متحرک ہوں گی، بشرط یہ کہ اس وقت قمر اچھی پوزیشن رکھتا ہو اور کسی قسم کے منفی زاویوں کا شکار نہ ہو، جو چیز آپ کو خوش کرتی ہے یا وہ شے جو آپ کے خیال میں آپ کو مسرت سے ہمکنار کرتی ہے، اس کے بارے میں مثبت رہیں۔ اگر اس پڑاو ¿ کے دوران چاند اچھا ناظر ہوا تو آپ دیکھیں گے کہ مہینے کہ یہ ایام آپ کے لیے بے حد مسرت انگیز ہو سکتے ہیں، اس عرصہ کے دوران محبوب اور بچوں کے ساتھ تعلقات پر بھی زور ہے۔

چھٹے گھر سے چاند کا گزر

زائچے کا چھٹا گھر عملیت اور فعالیت کا تقاضا کرتا ہے،آپ کی مصروفیات میں اضافہ ممکن ہے دوسروں سے تعلقات کی نوعیت اہمیت اختیار کرتی ہے،کسی سے اختلاف یا اتفاق ہوتا ہے، جذبات و احساسات پر دباو ¿ پڑتا ہے، اب یہ دیکھنے کا موقع ہے کہ آپ کے کام کے علاقہ میں آپ کی جذباتی ضروریات کیسے پوری ہو رہی ہیں یا کیوں نہیں ہوری ہو رہی ہیں؟ آپ زندگی کے اس حصے میں دوسروں کی کس طرح تائید کر رہے ہیں اور دوسرے کس طرح آپ کی تائید کر رہے ہیں؟اس پوزیشن میں صحت ایک اور علاقہ ہے جو متاثر ہوتا ہے،آپ محسوس کرسکتے ہیں کہ آپ نے اس دوران میں کچھ مشکل وقت گزارا ہے، بہتر ہوگا کہ اس دوران میں اپنے جذبات اور احساسات کو قابو میں رکھیں، کسی مرحلے پر بھی غصے یا اشتعال کا شکار نہ ہوں،پہلے سے جاری کاموں کو نمٹانے پر توجہ دیں، کوئی نیا کام شروع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

ساتویں گھر سے چاند کا گزر

زائچے کے ساتویں گھر سے چاند کا گزر آپ کے مراسم و تعلقات کو متحرک کرسکتا ہے، یہ تعلقات نجی ہوں یا کاروباری، آپ کی توجہ کے متقاضی ہوں گے،اپنا مثبت یا منفی رنگ دکھائیں گے، یہاں چاند کی پوزیشن پر غور کرنے کی ضرورت ہوگی، اگر وہ اپنے ہبوط کے برج میں نہیں ہیں (طالع ثور) تو بہترین بات ہے،اس وقت میں لوگوں سے ملاقات اور ضروری امور میں بات چیت مفید اور نتیجہ خیز ہوسکتی ہے،جذباتی اور نفسیاتی مسائل، معائنہ کے لیے ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ یہ ایک سودمند قمری گزرگاہ ہے جب چاند زائچہ کے دوسرے سیاروں سے مختلف زاویے بنارہا ہو تو آپ کے دوسروں سے مراسم بھی نئی کروٹ لیتے محسوس ہوں گے، اپنی ذات کے اندر کی کشمکش اور آزمائشوں کی عکاسی نمایاں ہوگی، ہم ہر ماہ چاند کی اس پوزیشن میں اپنی اور دوسروں کی جذباتی طلب اور ضروریات کو جتنا زیادہ سمجھنے کی کوشش کریں اتنا ہی بہتر ہے۔

آٹھویں گھر سے چاند کا گزر

یہ اکثر ہم سب کے لیے کوئی اچھا وقت نہیں ہوتا، سوائے برج قوس کے، کیونکہ چاند آٹھویں گھر میں خوش نہیں رہتا۔ یہ وہی گھر ہے جس میں اسے (اور ہمیں) جذباتی چیلینج پیش آتے ہیں۔ ہم دوسروں کی جذباتی اور مالی ضروریات اور خواہشات کی دنیا میں رہ رہے ہیں اور کس طرح ان باتوں سے نمٹتے ہیں اس کے لیے فہم اور ادراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہم دوسروں کا خیال کرنے کے بجائے اپنی ضروریات اور خواہشات کو سب سے مقدم سمجھیں تو تنازع پیدا ہو گا۔ چاند کے اس آٹھویں گھر میں ہونے کے دوران میں اگر ہم دوسروں کی جذباتی ضروریات اور خواہشات کو اولیت دیں اور انھیں پورا کرنے کے لیے بلکل چوکنا رہیں تو اچھے نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، اس دوران میں کسی کام یا مسئلے کو زبردستی انجام تک پہنچانے کی کوشش مناسب نہیں ہوتی،تھوڑا سا صبر اور انتظار کرلینا بہتر ہوتا ہے۔

نویں گھر سے چاند کا گزر

نویں گھر میں چاند کی آمد خوش گواری کا تازہ احساس لاتی ہے، ہم محسوس کرتے ہیں کہ گویا گزشتہ چند روز سے جن مسائل و مشکلات کا سامنا کر رہے تھے وہ اب ختم ہونے والے ہیں ،امید کی نئی کرنیں پھوٹنے کا وقت شروع ہوا چاہتا ہے،آئینی و قانونی ، مذہبی نوعیت کے معاملات اہم ہوسکتے ہیں، ہم زیادہ حوصلے اور جرا ¿ت کے ساتھ کوئی نئی منصوبہ بندی شروع کرسکتے ہیں، بیرون ملک سفر یا رابطے اس دوران میں اہم ہوسکتے ہیں، مزید یہ کہ ہماری قوت کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے،ہم آئندہ کے لیے کوئی نیا ٹارگٹ منتخب کر رہے ہوتے ہیں، اس دوران میں دیگر سیاروی اثرات اگر چاند کے ساتھ مثبت ہوں تو بہترین نتائج کی امید رکھی جاسکتی ہے، اس کے برعکس صورت حال میں قسمت کی کوئی خرابی کسی نقصان یا غلط فیصلے کا سبب ہوسکتی ہے۔

دسویں گھر سے چاند کا گزر

چاند زائچے کے اہم ترین مقام سے گزر رہا ہے، اس وقت ہمارے سماجی رتبے، کرئر کے علاقے چاند کی کرنوں سے جگ مگا رہے ہیں، ہمیں ان معاملات پر بھرپور توجہ دینا چاہیے، اس وقت کو ضائع نہیں کرنا چاہیے، ہم کیا چاہتے ہیں اور ہمارے کیا مقاصد ہیں؟یہ سوالات اس وقت نہایت اہم ہیں، ہمیں پیش رفت کرنا چاہیے، ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھنا غلط ہے، کیا ہم ان لوگوں کو سپورٹ کر رہے ہیں جو ہمارے عزائم کو آگے بڑھا سکتے ہیں؟ کیا یہ مقاصد ہمارے لیے بہتر ہیں یا یہ کہ ہم محض جذباتی تحفظات کی خاطر اپنی بیرونی زندگی کی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں اور ہمیں باطنی گہری تسکین کی ضرورت نہیں ہے؟ اگر دسویں گھر پر برج عقرب قابض ہے تو محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی یا پہلا گھر قوس یا اسد ہے تو بھی احتیاط ضروری ہوگی،کوئی بات توقع کے خلاف بھی ہوسکتی ہے۔

گیارہویں گھر سے چاند کا گزر

ہماری کوششوں اور جدوجہد کا پھل پک چکا ہے، صلہ ملنے کا وقت شروع ہورہا ہے،ہم نے جو بویا ہے، اب وہی ہم کاٹیں گے، اس گھر میں چاند کی موجودگی کے دوران میں دوستی کو ایک خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب اپنے دوستوں کو سہارا دینا یا ان سے مدد طلب کرنا بہت اہمیت رکھتا ہے، اس عرصے میں اجتماعی سرگرمیوں میں اضافہ ہو سکتاہے، ہم کوئی مشترکہ پروگرام بناسکتے ہیں، اس وقت جو دوسرے حالات پیدا ہو سکتے ہیں، ان کا تعلق اس بات سے ہے کہ ہم مستقبل کے لیے اپنے وژن اور اپنی امیدوں کو کس طرح سپورٹ کر رہے ہیں۔ اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے ہمیں دوسروں کی کیسی سپورٹ چاہیے؟ یہ اس سوال کا جواب دینے کا بہت اہم وقت ہے تاکہ ہم یہ دیکھ سکیں کہ آیا ہم جو سماجی سیٹنگ چاہ رہے ہیں وہ درست بھی ہے یا نہیں۔

بارہویں گھر سے چاند کا گزر

بارھویں گھر میں چاند کا داخلہ ہمیں احساس دلاتا ہے کہ ہم کچھ تھکن محسوس کر رہے ہیں اور اب آرام کی ضرورت ہے، ایسے وقت میں ہم اپنے اردگرد کی دنیا سے تھوڑا لا تعلق ہوکر تنہائی اور تخلیے میں رہنے میں زیادہ راحت محسوس کرتے ہیں۔ آپ چاہتے ہیں کہ آپ اپنی ذمہ داریوں سے اور ساتھ ہی ان ذمہ داریوں سے تھوڑی فراغت حاصل کریں جو دوسروں نے آپ پر مسلط کر رکھی ہیں اور آپ سکھ کا سانس لیں سکیں لیکن ضروری نہیں ہے کہ ایسا ہی ہو، صورت حال اس کے برعکس بھی ہوسکتی ہے جس کے نتیجے میں آپ جھنجلاہٹ کا شکار ہوسکتے ہیں، چاند کی یہ پوزیشن کچھ لوگوں کو تحقیق کرنے اور گھر کی صفائی کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔ آپ کچھ بھی کرنا چاہیں یا نہ کرنا چاہیے، یہ وقت بیرونی سرگرمیوں کے لیے یقیناً مناسب نہیں ہے،اس وقت کوئی منفی سوچ بھی عملی طور پر ذہن کو متاثر کرسکتی ہے۔

نوٹ: اگر آپ کے پاس اپنا درست زائچہ ئ پیدائش موجود ہے تو آپ بہتر طور پر اپنے روز مرہ کے حالات و واقعات کے بارے میں با آسانی جان سکتے ہیں، عام طور پر لوگ صرف اپنے شمسی برج (سن سائن) کو اپنا برج سمجھتے ہیں جو کہ غلط ہے، لہٰذا ہمارا مشورہ ہے کہ اپنا درست زائچہ ضرور بنواکر پاس رکھیں۔

ہفتہ، 6 جولائی، 2019

بھارت میں انتہا پسندی کی لہر عروج پر

جنتا پارٹی اور نریندر مودی کی کامیابی کے اسباب پر ایک نظر

مشہور افراد کے زائچوں کے حوالے سے یہ مسئلہ ہمیشہ الجھن کا باعث رہا ہے کہ ان کی درست تاریخ پیدائش اور وقت پیدائش کا حصول آسان نہیں ہوتا جس کے نتیجے میں اکثر درست زائچہ بنانے میں دشواری ہوتی ہے اور غلطی کا امکان رہتا ہے، ایسا ہی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے حوالے سے ہو اہے، ان کی دستیاب تاریخ پیدائش پر ماضی میں بھی جب وہ برسراقتدار آئے تھے، دنیا بھر کے منجمین میں خاصا اختلاف رہا، البتہ جو زائچہ قریب ترین فطرت اور شخصیت کے مطابق ہوسکتا تھا اس پر ہمیشہ گفتگو ہوتی رہی اور اسی کے مطابق ہمارا خیال بھی یہی تھا کہ اس بار وہ اتنی نمایاں اکثریت حاصل نہیں کرسکیں گے اور دوبارہ شاید وزیراعظم بھی نہ بن سکیں لیکن اس کے برخلاف انھوں نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی اور دوسری بار وزیراعظم بن گئے جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ان کی تاریخ پیدائش درست نہیں ہے۔
تقریباً یہی صورت حال ان کی پارٹی کے زائچے کی بھی ہے، اس کے مطابق بھی ان کا ایسی اکثریت سے کامیاب ہونا محال تھا، یقیناً اس حوالے سے بھی تاریخ پیدائش اور وقت کا مسئلہ یقیناً درست اندازہ لگانے میں حارج رہا ہے، بہر حال بھارتیہ جنتا پارٹی نمایاں حیثیت میں کامیاب ہوچکی ہے اور بھارت مذہبی انتہا پسندی کے دوسرے دور میں داخل ہوچکا ہے،اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت سے سیکولرازم اور جمہوریت کی بساط لپیٹ دی گئی ہے،اس کی وجوہات کیا ہیں؟
ہمارے قارئین کو یاد ہوگا کہ اکتوبر 2015 ءمیں بھارت کے زائچے پر اظہار خیال کرتے ہوئے ہم نے نشان دہی کی تھی کہ بھارت کے زائچے میں سیارہ قمر کا دور اکبر ستمبر 2015 ءسے شروع ہوچکا ہے، قمر تیسرے گھر کا حاکم ایک رجحان ساز سیارہ ہے، ساتویں گھر میں موجود شرف یافتہ کیتو کی اس پر نظر ہے،کیتو کی نظر قمر کے دور میں انتہا پسندانہ رجحانات لاسکتی ہے اور ہم نے دیکھا کہ تقریباً 2015 ءہی سے بھارت میں مذہبی جنون بڑھنا شروع ہوگیا، انتہا پسندی کی لہر ملک کی دیگر اقلیتوں کے لیے پریشانی اور تکلیف کا باعث بنی، مودی حکومت جو بنیادی طور پر مذہبی شدت پسندی کی الم بردار ہے، اس لہر کو مزید بڑھاتی رہی، پورے بھارت اور خاص طور پر کشمیر میں مسلمانوں کے لیے حکومت کا رویہ جارحانہ رہا ، ان پر گائے کا گوشت کھانے کی پابندی لگائی گئی، گائے ذبح کرنے کے الزامات پر سزائیں دی گئیں ، جن سنگھ اور دیگر انتہا پسند مذہبی عناصر کو کھلی چھوٹ دی گئی کہ وہ مسلمانوں کے خلاف ظلم و ستم کا بازار کرم کریں، حال ہی میں ایک واقعہ نہایت دردناک سامنے آیا ہے بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ اب بھارت میں ایسے واقعات کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہی ہورہا ہے۔
قمر کا دور اکبر ستمبر 2015 ءسے ستمبر 2025 ءتک جاری رہے گا، تازہ بھارتی الیکشن کے وقت قمر کے دور اکبر میں مشتری کا دور اصغر جاری تھا، مشتری بے شک زائچے کا سب سے منحوس سیارہ ہے لیکن فطری طور پر مذہب کا نمائندہ ہے، زائچے میں اس دوران میں مشتری کی ٹرانزٹ پوزیشن بھی ساتویں اور آٹھویں گھر میں رہی ہے، چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ پورے ملک میں مذہبی انتہا پسندی کی لہر اپنی انتہا کو پہنچ گئی جس کا فائدہ بی جے پی اور نریندر مودی کو حاصل ہوا لیکن کیا یہ صورت حال بھارتی زائچے کے مطابق بھارت کے لیے بھی بہتر ہے؟
دنیا بھر میں انتہا پسندانہ نظریات اور اصول و قواعد کبھی بھی بہتر نہیں سمجھے جاتے، انھیں جمہوریت کے لیے بھی زہر قاتل کہا جاتاہے،جنتا پارٹی کا سابقہ دور حکومت بھی اس حوالے سے ناپسندیدہ خیال کیا جارہا ہے جس میں ملک کی اقلیتوں اور سیکولر نظریات رکھنے والے عوام کے لیے بے چینی اور اضطراب کی لہر موجود ہے، یہ صورت حال اب مزید جاری رہے گی اور اس کا نتیجہ یقیناً علیحدگی کی تحریکوں کو جنم دے گا، نت نئے تنازعات ابھر کر سامنے آئیں گے،حال ہی میں خالصہ تحریک کے زیر اہتمام لندن کے ہائیڈ پارک سے طویل جلوس نکالا گیا ہے جو سکھوں کے علیحدہ ملک کا مطالبہ کر رہا تھا، کشمیر کی صورت حال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، اس امکان کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کہ آنے والے دنوں میں بھارت میں ایسی مزید تحریکیں جنم لے سکتی ہیں۔
بھارت کے زائچے میں دسویں گھر کا حاکم سیارہ زحل آٹھویں گھر میں کیتو کے ساتھ حالت قران میں ہے،یہ صورت حال تقریباً اکتوبر تک جاری رہے گی جو وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے لیے یقیناً بہتر نہیں ہے، کیتو کے ساتھ راہو کی نظر بھی دسویں گھر کے حاکم زحل پر ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وزیراعظم کے انتہا پسندانہ رجحانات اور منفی فیصلے ملک کی صورت حال پر کوئی خوش گوار اثر نہیں ڈالیں گے، مزید یہ کہ ان کی کابینہ میں بھی ایسے لوگ اکثریت میں ہوں گے جو انتہا پسند اور منفی ذہنیت کے حامل ہوں، ایک رپورٹ کے مطابق موجودہ الیکشن میں کامیاب ہونے والے لوک سبھا کے ممبران کی اکثریت کرپشن اور جرائم کے حوالے سے مشہور ہے،مزید یہ کہ سیارہ مشتری ساتویں گھر میں رہتے ہوئے پیدائشی شمس سے ناظر ہے اور آنے والے مہینوں میں مریخ زائچے کے تیسرے گھر میں داخل ہوگا جہاں قمر ، عطارد، زحل، زہرہ اور شمس سے قران کرے گا، یہ صورت حال کسی طور بھی حکومت اور وزیراعظم کے لیے خوش کن نہیں ہے، نریندر مودی کسی قاتلانہ حملے کا شکار بھی ہوسکتے ہیں اور ان کی کابینہ کے افراد بھی اپنے منفی رجحانات کے سبب مستقبل میں مقدمات کا سامنا کرسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ بھارت کا زائچہ ماضی میں بھی اہم رہنماو ¿ں یا وزرائے اعظم کی حادثاتی ہلاکت کا آئینہ دار رہا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ سیارہ زحل جو دسویں گھر کا حاکم ہے ، زائچے میں چھٹے گھر کے حاکم زہرہ سے قریبی نظر رکھتا ہے لہٰذا ماضی میں اہم رہنما مہاتما گاندھی، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی قاتلانہ حملوں ہی میں ہلاک ہوئے ہیں لہٰذا نریندر مودی کو بھی اپنی سیکورٹی کا خصوصی خیال رکھنے کی ضرورت ہوگی۔
سیارہ زحل آئندہ سال جنوری تک موجودہ پوزیشن پر رہے گا اور یہی عرصہ خطرات کی نشان دہی کرتا ہے، البتہ آئندہ سال جنوری کے بعد زحل زائچے میں اچھی پوزیشن میں آجائے گا، اس کا امکان موجود ہے کہ برج جدی میں اور زائچے کے نویں گھر میں زحل کی پوزیشن نریندر مودی کو ملک کا ایک طاقت ور حکمران بنانے میں مددگار ثابت ہوگی، دوسرے معنوں میں وہ ایک جمہوری ڈکٹیٹر کے طور پر اپنی من مانی کرسکیں گے یعنی رام مندر کی تعمیر اور کشمیر کے حوالے سے نئی آئین سازی اور دیگر انتہا پسندانہ فیصلے جو بہر حال بھارت کے لیے کسی طور بھی بہتر نہیں ہوں گے (واللہ اعلم بالصواب)

دیکھو مجھے جو دیدئہ عبرت نگاہ ہو

بعض خطوط یا ای میلز سے اندازہ ہوتا ہے کہ علم نجوم کے بارے میں ہمارے ملک کی اکثریت بہت سی غلط فہمیوں اور کم علمی کا شکار ہے اور ہونا بھی چاہیے کیوں کہ اس حوالے سے معقول حد تک رہنمائی اور علمی مواد میسر نہیں ہے‘ ملک سے شائع ہونے والے اکثر رسائل اور جنتریاں اپنے قارئین کی درست اور معقول رہنمائی نہیںکرتیں‘ نتیجتاً شوقین حضرات وخواتین مستقل کسی نہ کسی کنفیوژن کا شکار رہتے ہیں اور ہم سے عجیب عجیب سوال کرتے ہیں‘ ہم اکثر و بیشتر اپنے مضامین کے ذریعے مروِّجہ علم نجوم سے پیدا ہونے والی غلط فہمیوں یا گمراہیوں کی وضاحت کرتے رہتے ہیں‘ اس بار ایک ایسی ہی طویل ای میل موصول ہوئی ہے ہم اسے اس لیے شائع کر رہے ہیں کہ دیگر قارئین بھی ایسی کسی الجھن میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔
 ایم .ایچ نواز لکھتے ہیں”سلام کے بعد میںآپ کی خدمت میں عرض کردوں کہ میں ایک دکھ درد کا مارا ہوا انسان ہوں یا آپ یوں کہہ لے لیں کہ زمانے بھر کی تکالیف میرے ہی حصے میں آئی ہےں‘ ان کے حل کی تلاش میں آپ کو لکھ رہا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ ان کا حل آپ کے پاس ضرور ہوگا‘ میں پابندی سے جنتریاں اور روحانی رسائل پڑھتا ہوں اور یہ شوق مجھے کئی سال سے ہے‘ آپ سے واقفیت2010ءمیں ہوئی‘ آپ کے مضامین بھی میرے مطالعے میں رہتے ہیں‘ سب سے پہلے میں اس بات کا ذکر کروں گا جو میرے تجربے میں آئی ہے اور وہ یہ ہے کہ سالانہ جنتریوں میں جس طرح لکھا ہوتا ہے‘میرے ساتھ اس کا بالکل اُلٹ ہوتا ہے مثلاً جب سیارہ زحل اپنے شرف کے برج سے گزر رہا تھا تو برج جدی والوں کے لیے لکھا گیا تھا کہ ان کی قسمت کو سنوار دے گا‘ یہ سال ان کی زندگی کے اہم سال ہوں گے‘ میری تاریخ پیدائش 17جنوری ہے‘ اس طرح میرا سن سائن جدی(CAPRICORN) ہے لیکن آپ یقین کریں کہ جتنی تکلیف مجھے ان دو سالوں میں ملی تھی، اتنی تکلیف زندگی میں کبھی نہیں ملی مثلا ان دو سالوں میں مجھ پرکئی لاکھ کا قرض چڑھ گیا‘ میں ہر بندے کے سامنے ذلیل ہوا بلکہ ذلیل و خوار ہوا اور ان سالوں کا اثر آج بھی محسوس کرتا ہوں‘ ان سالوں میں میرا رزق مکمل طور پر بند ہوگیا تھا بلکہ ایک وقت تو ایسا آیا تھا کہ میں نے دس روپے کی شکل بھی کئی دن بعد دیکھی تھی اور یہ سلسلہ کئی ماہ تک چلتا رہا تھا پھر عید پر میری والدہ نے مجھے500روپے کا نوٹ دیا تو میری آنکھ سے بے اختیار آنسو نکل آئے پھر میںاپنے رب کے حضور سجدے میں گِر گیا کہ یا اللہ تیرا شکر ہے تو نے مجھے بھی 500 کا نوٹ دکھایا، الغرض اسی طرح کی مزید اور بہت ساری پریشانیوں اور دکھ تکلیف سے گزرا ‘ وہ زحل کے شرف کا دور تھا جو برج جدی کے مطابق میرا حاکم ستارہ بھی ہے‘ بہرحال اب اللہ کا شکر ہے اب وہ حالات تو نہیں لیکن قرض ہے اور رزق کی کمی ہے‘ اس دوران میں پابندی سے ردِ نحوست سیارگان والی دعا پڑھتا رہا ہوں اور صدقات بھی دیتا رہا ہوں‘ میرا اعتراض یہ نہیں ہے کہ جنتریوں میں یہ لکھا تھا ”جدی والوں کی قسمت سنور جائے گی“ تو میرے ساتھ معاملہ مختلف کیوں ہوا‘ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ہر انسان کے ستاروںکی کہانی الگ ہوتی ہے‘ میں تو صرف یہ بتاتا چاہتا ہوں کہ جب میرا ستارہ زحل اچھی پوزیشن میں تھا تو مجھے نقصان ہوا اور جب وہ برج عقرب میں آیا جہاں اس کی پوزیشن خراب ہوتی ہے تو مجھے فائدہ ہوا‘ اب تک میری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ ایسا کیوں ہوتا ہے‘ بہر حال میں نے آپ سے اپنی پریشانی کا ذکر کردیا ہے اب آپ ضرور میری رہنمائی کریں اور مجھے بتائیں کہ میںکیا کروں؟حقیقت یہ ہے کہ میری آمدن سے زیادہ میرے اخراجات ہیں‘ رزق میںبرکت نہیں ہے‘ ایک اور بڑی پریشانی یہ بھی ہے کہ اس سال کے بعد میری ” ساڑھ ستی“ بھی شروع ہو رہی ہے‘ اس خیال سے بھی ذہن بہت پریشان ہے ‘ جواب کا انتظار کروں گا‘ آپ کے لیے دعا گو“
جواب : عزیزم !آپ نے لکھا ہے کہ آپ 2010ءسے ہمارے مضامین کا مطالعہ کر رہے ہیں تو یقیناً آپ کی نظر سے ہمارا وہ مضمون بھی گزرا ہوگا جو ہم نے ”سن سائن ایسٹرولوجی“ کے حوالے سے لکھا تھا اور عرض کیا تھا کہ ایسٹرولوجی کا یہ طریق کار زیادہ مستند اور کارآمد نہیں ہے، یہ تو اخبارات و رسائل نے اپنی ضرورت اور قارئین کو متوجہ کرنے کے لیے شروع کیا تھا جو برسوں سے جاری ہے‘ ایسٹرولوجی کے ذریعے معقول رہنمائی اپنے انفرادی زائچے (BIRTH CHART) کی روشنی میں ہی حاصل ہو سکتی ہے مگر شاید آپ نے ہمارے اس مضمون پر توجہ نہیں دی۔
پاکستان ہی کیا ‘ دنیا بھر میں ہر سال سیکڑوں جنتریاں اور سن سائن ایسٹرولوجی کی کتابیں شائع ہوتی ہیں جن میں ہر شخص کے شمسی برج کے مطابق سیارگان کی سالانہ گردش کے مطابق اسے گائیڈ کیا جاتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ طریق کار مستند نہیں ہے جیسا آپ کو تجربہ ہو چکا ہے‘ ہمارے ملک میں ایسے لوگوں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے جو کسی ایک سیارے کی طاقت ور پوزیشن یا کمزوری کو مدّنظر رکھتے ہوئے لوگوں کو گائیڈ بلکہ ”مس گائیڈ“ کرتے ہیں مثلا سیارہ مشتری اپنے شرف کے برج میں ہے اور یہ برج قوس کا حاکم سیارہ ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ برج قوس والوں کے دن پھر جائیںگے اور وہ سب کے سب دولت میںکھیلنے لگےں گے ۔
 ساڑھ ستی کے حوالے سے بھی ہم کئی بار لکھ چکے ہیں کہ ہمارے ملک میںبطور خاص اس مخصوص اصطلاح کا مسلسل غلط استعمال ہو رہا ہے‘ پاکستان میں عام طور پر یونانی علم نجوم پر زور دیا جاتا ہے‘ اکثر جنتریاں اوررسالے یونانی سسٹم کے تحت شائع ہوتے ہیں جبکہ یونانی سسٹم میں ساڑھ ستی نام کی کوئی شے پانی ہی نہیں جاتی‘ آپ کا شمسی برج جدی ہے اور آپ اس خوف میں مبتلا ہیںکہ زحل برج قوس میں داخل ہوگا توآپ پرساڑھ ستی کا اثر شروع ہوجائے گا حالانکہ ساڑھ ستی چونکہ ویدک سسٹم یعنی ہندی جوتش کی اصطلاح ہے اور اس کا اثر شمسی برج کے بجائے قمری برج کے تحت تسلیم کیا جاتا ہے مگر اس میں بھی بعض صورتوں میں استثنیٰ کی گنجائش موجود ہے، ہمارے ملک کے نام نہاد نجومی اپنی کم علمی چھپانے کے لیے بالکل اسی طرح ہر شخص پر ساڑھ ستی کا فتویٰ لگاتے ہیں جیسے ہمارے نام نہاد عامل اور روحانی معالج ہر شخص پر بندش ، سحری اثرات یا آسیبی اثر کا فتویٰ لگاتے ہیں ۔
 آئیے اپنے درست زائچے کی طرف مگر اس کا انحصار بھی آپ کی درست تاریخ پیدائش اور وقت پیدائش پر ہے جو آپ نے لکھا ہے‘ اگر اس میں کوئی غلطی ہوگی تو زائچہ بھی غلط ہوجائے گا‘ وقت کے پیدائش کے مطابق آپ کا پیدائشی برج سرطان ہے جس کا حاکم سیارہ قمر ہے جو زائچے کے چھٹے گھر میں بقول آپ کے ذلیل و خوار ہے‘ یہی آپ کا صحیح برج اور ستارہ ہے جو ہر مہینے شرف میں بھی آتا ہے اور ہبوط میں بھی ، اس کے مقابلے میں برج جدی یا زحل کی کوئی اہمیت نہیں۔
زائچے کا چھٹا گھر برج قوس ہے لہٰذا آپ کا مون سائن یعنی قمری برج قوس ہے اورآپ کا یہ اندیشہ بالکل درست ہے کہ آئندہ سال سے آپ زحل کی روایتی نحوست ”ساڑھ ستی“ کی زد میں آجائیںگے‘ کیوں کہ زحل آپ کے قمری برج قوس سے بارھویںگھر برج عقرب میں آجائے گا‘ (ویدک سسٹم کے مطابق)۔
آپ کو سمجھ لینا چاہیے کہ زحل اور مشتری آپ کے زائچے کے منحوس اثر دینے والے سیارے ہیں جب بھی یہ کسی خراب یا مخالف پوزیشن میں ہوں گے ، نقصان پہنچائیں گے۔
 آپ نے اپنے جن خراب سالوں کا ذکر کیا ہے اس وقت یقیناً یہ دونوں نقصان دہ پوزیشن پرتھے اور اس سے بھی بڑھ کر اہم بات یہ ہے کہ 8مارچ 2011ءسے آپ کے زائچے میں راہو کے منحوس دور اصغر کا آغاز ہوا جو 3جنوری 2012ءتک رہا اس کے بعد مشتری کا دور اصغر شروع ہوا جو 18 نومبر 2012ءتک جاری رہا پھر زحل کا دور اصغر شروع ہوا جو 31 اکتوبر 2013ءتک جاری رہا‘ یہ تمام دور انتہائی نحوست اثر تھے‘ اب آ پ عطارد کے دور اصغر سے گزر رہے ہیں جو آپ کے لیے مبارک دور ہے لہٰذا آپ کو وقت سے پہلے معقول منصوبہ بندی کرلینی چاہیے پھر زہرہ کا دور شروع ہوگا جو بہتر ہوگا‘ الغرض زندگی کی دھوپ چھاﺅں اسی طرح جاری رہے گی۔
 آپ نے اپنی مصیبتوںکا جو نقشہ پیش کیا ہے وہ کافی مایوس کن ہے‘ دراصل برج سرطان والے تھوڑی سی مصیبت کو بھی بہت زیادہ سمجھتے ہیں اور اکثر کسی نہ کسی خوف کا شکار رہتے ہیں، بہرحال ایک شادی شدہ بندے کے لیے بے روز گاری سے بڑا عذاب کوئی نہیں ہے لیکن سرطان والوں کی ایک خرابی یہ ہے کہ کسی تبدیلی کوآسانی سے قبول نہیں کرتے ‘ ترقی کے راستوں پرکوئی قدم بڑھاتے ہوئے کسی نہ کسی خوف میں مبتلا رہتے ہیں اورکوئی رسک لینا پسند نہیں کرتے‘ آپ کو چاہیے کہ اپنی ترقی کے امکانات پر غور کریں اور مناسب راستے اختیار کریں‘لکیر کے فقیر نہ بنیں‘ اپنی صلاحیتوں میںاضافہ کے لیے کوشش کریں‘ یاد رکھیں چپراسی بھرتی ہوکر پچپن سال بعد چپراسی ہی کے طور پر ریٹائر ہونا کسی شخص کی ذاتی نالائقی اور نااہلی تصور کیا جائے گا‘ ابھی آپ کی عمر ہی کیا ہے؟ 26 سال اور اس قدر مایوسی کی باتیں! 
 آپ کو سرخ یاقوت یا سرخ گومیدک کانگینہ کسی ایسے وقت پر پہننا چاہیے جس شمس با قوت ہو‘ اتوار کے روز گُڑ اور چنے بھنے ہوئے چیونٹیوں کو ڈالا کریں‘ دعائے رد نحوست سیار گان کا ورد جاری رکھیں‘ اگر لوح شمس پاس رکھیں تو بہت خوب ہوگا‘ مالی خوشحالی میںمعاون ہوگی‘ شمس آپ کے زائچے میں نحس اثرات کا شکار ہے‘ اور آپ کے خانہ مال کا حاکم ہے‘ امید ہے کہ اس قدر تفصیلی وضاحت اورمشورہ کافی ہوگا۔

بدھ، 19 جون، 2019

خاکی بروج کی محبت کا انداز و رنگ ڈھنگ


محبت خبط ہے یا وسوسہ ہے
مگر یہ واقعہ اپنی جگہ ہے

اب تک تین عناصر پانی، ہوا اور آگ سے متعلق بروج کے انداز و اظہار محبت پر گفتگو ہوئی ہے۔ ایک بار پھر ہم یہ واضح کرتے چلیں کہ صرف شمسی برج (Sun Sign) کی بنیاد پر کوئی حتمی رائے قائم نہیں کرنا چاہیے، انفرادی طور پر کسی بھی شخص کے محبت یا زندگی کے دیگر معاملات میں رویے اور رنگ ڈھنگ شمسی برج کے ساتھ قمری برج (Moon Sign) اور پیدائشی برج (Rising Sign) پر بھی انحصار کرتے ہیں۔ ہم نے ابتداءمیں اس کی مثالیں بھی دی ہیں لیکن یہ ضرور ہے کہ شمسی برج کا اپنا اثر اور خصوصیات بہرحال اہمیت کا حامل ہے۔ اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ قمری یا پیدائشی برج کی وجہ سے شمسی برج کی بعض خصوصیات میں کمی بیشی ہو سکتی ہے۔ 
چوتھا عنصر مٹی ہے۔ دائرہ بروج میں ثور(Tauras)، سنبلہ (Virgo) اور جدی (Capricorn) خاکی بروج کہلاتے ہیں۔ تمام بروج میں عناصر کی کارفرمائی کے حوالے سے ایک بنیادی کلّیہ ذہن میں رکھنا چاہیے۔ وہ یہ کہ آگ کی بنیادی خصوصیت گرم جوشی اور شدت ہے۔ باد یعنی ہوا کی بنیادی خصوصیت تصّور و تخیّل ہے۔ پانی کی بنیادی خصوصیت احساس ہے جبکہ مٹی کی بنیادی خصوصیت مادیّت ہے۔
مندرجہ بالا وضاحت کی روشنی میں ہم سمجھ سکتیں ہیں کہ خاکی بروج محبت جیسے لطیف جذبے کے لیے کس قدر موزوں اور مناسب ہو سکتے ہیں۔ اگر پوری سچائی کے ساتھ بات کی جائے تو مادیّت اور لطافت تقریباً ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ خاکی بروج کا محبت سے کیا واسطہ؟ بقول میر تقی میر 

ہو گا کسی دیوار کے سائے کے تلے میر
کیا کام محبت سے اس آرام طلب کو

کہا جاتا ہے کہ اگر خاک کا عنصر نہ ہوتا تو شاید یہ دنیا نہ ہوتی۔ ہماری یہ زمین مٹی کا ایک ڈھیر ہی تو ہے۔ ہمارے اجزائے ترکیبی میں خاک کا عنصر ہی ہمیں عملیت اور حقیقت کا شعور دیتا ہے۔ خوابوں اور خیالوں کی دنیا سے نکال کر میدان عمل میں صلاحیتوں کے اظہار پر آمادہ کرتا ہے۔ خاکی عنصر کی حقیقت پسندی اور برے بھلے کی تمیز ہی وہ جوہر ہے جس کی وجہ سے اس جہاں رنگ و بو میں نت نئی رنگینیاں اور بوالعجبّیاں نظر آتی ہیں۔

برج ثور کا انداز محبت


خاکی بروج میں پہلا نمبر برج ثور کا ہے جو اپنی ماہیت یا ثابت (Fixed) اور فطرت میں مونّث برج ہے۔ اس کا حاکم سیارہ زہرہ ہے جسے حسن و محبت کی دیوی کہا جاتا ہے۔ ثور دائرہ بروج کا دوسرا برج ہے۔ گویا فطری زائچے کا خانہ مال ہے۔ لہذا حسن و محبت کی دیوی اس برج کے تحت دولت کو نظر انداز نہیں کر سکتی بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہو گا کہ اس کی محبت کا رخ دولت کی طرف ہو جاتا ہے۔
یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ سیارہ زہرہ کے زیر اثر ثور افراد حسن و خوبصورتی اور محبت کے جذبے سے نظر چرا کر گزر جائیں لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ اپنی خاکی اور ثابت خصوصیات کی وجہ سے وہ محبت میں بھی زمینی حقائق کو مدِ نظر رکھیں۔ بے شک ثور افراد محبت کے جذبے کی گہرائی اور گیرائی کو سمجھتے ہیں اور ان کی محبت نہایت ٹھوس بنیادوں پر استوار ہوتی ہے لیکن اندھی نہیں ہوتی۔
ثور شخصیات کے مثبت پہلوو ¿ں میں نرم دلی اور مہربانی، عمل و استحکام، اعتماد و وفاداری، حسن پرستی اور فنکارانہ صلاحیتیں نمایاں ہوتی ہیں جبکہ منفی پہلوو ¿ں میں ضد و ہٹ دھرمی، حسد، غلبہ پسندی، مادہ پرستی، سستی اور کاہلی، تنگ نظری، خود پرستی اور اکھڑ پن شامل ہیں۔ مثبت اور منفی خصوصیات میں کمی بیشی قمری اور پیدائشی برج کے امتزاج اور زائچے میں سیارگان کی پوزیشن کے باعث ہو سکتی ہے مثلاً نرم دلی اور فنکارانہ خوبیاں انتہا کو پہنچ سکتی ہیں یا ضد اور ہٹ دھرمی اور مادہ پرستی بھی انتہا کو پہنچ سکتی ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ مندرجہ بالا خصوصیات میں کمی بیشی کا اندازہ کسی شخص کے انفرادی زائچے سے ہی ہو سکتا ہے۔
جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ برج ثور کا حاکم سیارہ زہرہ حسن و عشق، دوستی و توازن اور ہم آہنگی کا سیارہ کہلاتا ہے۔ تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ برج ثور والے محبت کے معاملے میں کسی سے پیچھے رہیں البتہ یہ ضرور ہے کہ یہ لوگ دیگر معاملات کی طرح محبت و تعلقات میں بھی اپنے مخصوص تحفظات کو پیش نظر رکھتے ہیں۔ ان کی محبت یا دوسروں سے تعلقات سطحی یا رواداری کے انداز میں نہیں ہوتے۔ یہ اپنا آئیڈیل بھی تلاش کرتے نہیں پھرتے البتہ یہ ضرور ہے کہ ثور افراد محبت میں بھی اکثر ظاہری اور جسمانی حسن سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی دولت کی کشش بھی ان کی نظرمیں اہم ہو سکتی ہے۔
ثور ایک زبردست جذباتی پیار کرنے والا اور پرورش کرنے والا برج ہے۔ اس کی زرخیزی بھی مشہور ہے۔ اس کے زیر اثر پیدا ہونے والے افراد (مرد و خواتین) ایک پر سکون، مطمئن اور ذمہ دارانہ ازدواجی زندگی گزارنا پسند کرتے ہیں گویا ثوری افراد کے دل میں حقیقی اور گہری محبت کا جذبہ شادی کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ شادی ایک ایسا معاہدہ ہے جو ثوری افراد کو تحفظ کا احساس دلاتا ہے اور خیال رہے کہ برج سرطان کی طرح ثوری افراد بھی ہر معاملے میں یقینی تحفظ کے خواہش مند رہتے ہیں۔
شادی سے پہلے بھی تعلقات یا رومانس میں ثوری افراد فریقین کے درمیان واضح حدود کا تعیّن چاہتے ہیں۔ ان لوگوں کو صرف باتوں یا اداو ¿ں سے متاثر نہیں کیا جا سکتا۔ وہ محبت اور تعلقات میں عملی ثبوت کے قائل ہوتے ہیں۔ اسی لیے ان کے اپنے جذبوں اور رویوں میں بھی بے حد گہرائی پائی جاتی ہے۔ ان کی وفاداری اور خلوص پر کوئی شک نہیں کیا جا سکتا بس مسئلہ یہ ہے کہ غیر یقینی صورت حال اور کیفیات سے انہیں نفرت ہوتی ہے اور خصوصی طور پر ذاتی تعلقات میں ان کے جذبات نہایت شدید ہو سکتے ہیں۔ باہمی تعلقات میں یہ کچھ زیادہ انا پرست بھی ہوتے ہیں۔ اگر آپ کے رویے اور طور طریقوں میں تھوڑی سی بھی اجنبیت اور بے توجہی محسوس کریں گے تو یہ ان کے لیے جذباتی اور روحانی طور پر ایک تازیانہ ہو گا۔ ایسی صورت میں یہ آپ سے دور بھاگ سکتے ہیں۔ محبت اور نرم رویہ انہیں موم کی طرح پگھلا دیتا ہے۔ اس کا جواب فوراً نہایت گرم جوشی سے دیتے ہیں۔
ثور افراد کی محبت کے بارے میں صرف شمسی برج کو مدِ نظر رکھ کر کوئی حتمی رائے قائم کرنا غلط ہو گا کیونکہ اپنے زائچے کی ساخت و پرداخت کی مناسبت سے وہ کوئی بھی ایسا رنگ دکھا سکتے ہیں جس کی کسی کو توقع بھی نہ ہو یعنی ایسی شدید محبت جو محبت کے اعلٰی ترین روایتی معیار کی نمائندہ ہو یا پھر اس کے برعکس محض حسن پرستی اور بوالہوسی، خود غرضی اور خود پرستی کا نمونہ ہو ۔

برج سنبلہ کا انداز محبت


خاکی بروج کی تکون میں سنبلہ دوسرے نمبر پر ہے جب کہ دائرہ بروج میں چھٹے نمبر پر۔ اپنی ماہیت کے اعتبار سے ذوجسدین یعنی دو رخوں والا، فطرت میں مو ¿نث اور منفی ہے۔ ادراک و فہم اس کی نفسیات اور تجزیہ اس کا طرہ ¿ امتیاز ہے۔ اپنی علامت "دوشیزہ" کی مناسبت سے شرمیلا پن اس کی پہچان ہے۔ عالمی زائچے میں اس کا تعلق صحت اور کام سے ہے۔ اعضائے جسمانی میں ناف اور آنتیں اس کے زیر اثر ہیں۔
سنبلہ افراد اپنی مثبت خصوصیات میں سلیقہ مند، طور طریقوں کے پابند، جچے تلے انداز کے مالک، دوستی اور اصلاح پسندی پر مائل، منطقی، تجزیہ کار، صاحب امتیاز، ذی شعور اور باطنی قوتوں کے حامل ہوتے ہیں۔
اپنے دوسرے رخ میں یعنی منفی پہلوو ¿ں کے اعتبار سے سنبلہ افراد خائف، بے اعتبار، حاسد، نہایت باریک بین، نکتہ چیں، اپنے عقائد اور نظریات کے خلاف ہر شے میں کیڑے نکالنے والے، صفائی ستھرائی اور حفظان صحت کے اصولوں کے معاملے میں حد سے زیادہ محتاط، تنگ نظر اور سخت رویے کے حامل ہو سکتے ہیں۔
مثبت اور منفی خصوصیات میں کمی بیشی کا انحصار انفرادی زائچہ پیدائش پر ہوگا۔
اگر بات عشق و محبت کی ہو رہی ہو تو پھر یہ کہنا پڑے گا کہ شاید خالق کائنات نے برج سنبلہ کو اس لطیف ترین جذبے کے لیے نہیں بنایا ہے لہذا کسی سنبلہ شخصیت کو دنیا کے عظیم محبت کرنے والے افراد کی فہرست میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ دراصل یہ لوگ محبت اور شادی کے معاملے میں بے حد روایتی انداز کے حامل ہیں۔ چونکہ اس برج کا تعلق کام اور صحت سے ہے۔ لہذا جو چیز سب سے زیادہ ان کے ذہن پر سوار رہتی ہے وہ کام اور صحت کے معاملات ہیں۔ اسی طرح ان کی نکتہ چینی جو درحقیقت اصلاح پسندی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ وہ بھی محبت جیسے اندھے اور گونگے بہرے جذبے کے لیے کچھ مناسب نہیں ہوتی لہذا یہ لوگ عشق میں ہوش و ہواس سے بے گانہ ہو کر دیوانگی کی حدود کو نہیں چھو سکتے کیونکہ ان کی عقل کی کارفرمائیاں معاملات دل میں بھی غالب رہتی ہیں اور ان کے نزدیک رومان یا شادی بھی زندگی کی بس ایک ضرورت ہے جسے سود و زیاں سے بالاتر ہو کر نہیں دیکھا جا سکتا چناں چہیہ لوگ اپنے محبوب یا شریک حیات کی ذات میں خوبیوں اور خامیوں کا جائزہ لینے کے بعد ہی کسی پیش قدمی کا فیصلہ کریں گے اور پیش قدمی کے بعد بھی اگر انہیں کوئی خامی نظر آگئی تو ان کے بڑھتے ہوئے قدم رک سکتے ہیں۔
روایتی عاشقوں کی طرح پہلی نظر کا اندھا عشق سنبلہ افراد کے مزاج اور فطرت کے خلاف ہے۔ دراصل یہ لوگ محبت، شادی کے لیے کرتے ہیں اور شادی گھریلو سکھ اور چین، تحفظ و آرام اور آسائش کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ لہذا محبت میں پیش قدمی سے پہلے خاصی دور تک دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں۔ جب تک انہیں مکمل اطمینان حاصل نہ ہو جائے کہ اس تعلق میں کوئی نقصان نہیں ہے، کسی مضبوط بندھن میں بندھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کہ اکثر سنبلہ افراد کی زندگی میں محبت کا جذبہ پوری شدت کے ساتھ شادی کے بعد اس وقت نمودار ہوتا ہے جب وہ اپنے شریک حیات سے پوری طرح مطمئن ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد محبت میں ان کی ثابت قدمی اور وفاداری انتہائی شاندار اور قابل قدر ہوتی ہے۔ یہ اپنے محبوب کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے، یہ الگ بات ہے کہ ان کا پوری طرح مطمئن ہوجانا بھی یقینی نہیں ہوتا، ان کی فطری کاملیت پسندی کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی کمی ، کمزوری یا خامی ڈھونڈ ہی لیتی ہے۔
اپنے محبوب یا شریک حیات سے شدید محبت اور گہری وابستگی کے باوجود یہ رومانی تعلقات میں خاصے سرد مہر اور خشک مزاج نظر آتے ہیں۔ اپنے جذبہ محبت کا کھل کر اظہار کرنا ان کے لیے بڑا مشکل کام ہے۔ کچھ تو ان کا فطری شرمیلا پن آڑے آتا ہے اور کچھ کام کی مصروفیات میں خود کو حد سے زیادہ ملوث کرنا بھی ان کی رومانی اور سوشل زندگی کو متاثرکرتا ہے۔ بے شک ان کے تعلقات دوستی اور محبت میں ٹھوس اور پائیدار ہوتے ہیں مگر غیر معمولی نہیں ہوتے۔ یہ لوگ توقع رکھتے ہیں کہ ان کے شریک حیات میں بھی وہی ساری خوبیاں ہوں جو ان میں موجود ہیں۔ یہ ایک غلط سوچ ہے جس کی وجہ سے اکثر سنبلہ افراد خود اپنے لیے مسائل پیدا کرتے ہیں۔ ایک صاف ستھرا گھر اور کاموں میں عمدہ سلیقہ، مالی طور پر استحکام سنبلہ افراد کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔
شادی کے بعد اکثر انتہائی نجی نوعیت کے مسائل ازدواجی زندگی میں اختلافات کو جنم دے سکتے ہیں کیونکہ محض جنسی تعلق ہی سنبلہ افراد کی وابستگی کو مستحکم کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ ان کے لیے ذہنی ہم آہنگی بھی ضروری ہے۔ بہ صورت دیگر بعض نفسیاتی مسائل ان لوگوں کو پریشان کر سکتے ہیں۔
محبت اور شادی کے حوالے سے سنبلہ افراد کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ وہ جس کاملیت کے متلاشی ہیں، درحقیقت اس کا کوئی وجود نہیں ہے اور یہ انسانی کمزوریاں ہی تو ہیں جن پر دوسروں کو اکثر سب سے زیادہ پیار آتا ہے۔ آخر ہم معصوم بچوں کی نادانیوں پر کیوں خوش ہو کر ان سے پیار کرتے ہیں؟ بے شک سنبلہ افراد نہایت اعلٰی ظرف، شائستہ اور پاکیزہ محبت کے اہل ہیں۔ جسے اپنا بناتے ہیں یا جسے چاہتے ہیں اس کی خاطر ہر تکلیف اور مصیبت برداشت کرنے کی خوبی رکھتے ہیں۔ تاہم چونکہ برج سنبلہ کا نشان دوشیزگی یعنی کنوارپن ہے اور کنوارا ظاہر ہے کہ تنہا ہوتا ہے۔ لہذا اکثر سنبلہ افراد کو محبت ایک کوہ گراں یعنی بھاری بوجھ محسوس ہوتی ہے اور یہ اس دشت بے اماں کی سیّاحی سے کتراتے ہیں۔ وہ کبھی کبھی یہ بھی سوچتے ہیں کہ اس سے بہتر تو تنہا وقت گزارنا ہی ہے۔ بات دراصل وہی ہے کہ اگر یہ لوگ کسی ایسی ہستی کو پا لیں جس سے ان کی ذہنی ہم آہنگی ہو تو پھر اس کی خامیوں کو بھی نظر انداز کر دیں گے اور اس کے ساتھ عمر بھر کی رفاقت جاری رہے گی۔
جیسا کے بار بار تذکرہ ہو چکا ہے کہ برج سنبلہ کا نشان دوشیزہ ہے اور کنوارا پن اس کا طرہ ¿ امتیاز ہے۔ لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا بھر میں کنواروں کی ایک بڑی تعداد کا تعلق برج سنبلہ سے ہے۔ قوسی افراد دوسرے نمبر پر آتے ہیں۔ یہ لوگ اصلاح معاشرہ یا کسی اور عظیم مقصد کی خاطر بھی محبت اور شادی سے دور ہو سکتے ہیں۔ جیسے شہرہ آفاق اور نوبل انعام یافتہ مدر ٹریسا یا بابائے اردو مولوی عبد الحق۔ دونوں کا تعلق برج سنبلہ سے تھا۔

برج جدی کا انداز محبت


دائرہ بروج کا دسواں اور خاکی تکون کا تیسرا برج جدی ہے جس کا حاکم سیارہ زحل ہے۔
نظم و ضبط، اصول و قواعد اور تربیت کے لیے سفاکانہ طرز عمل سیارہ زحل سے منسوب ہے۔ برج جدی ماہیت کے اعتبار سے منقلب یعنی تغیر پذیر، اپنی فطرت میں مو ¿نث اور منفی ہے۔ انسانی جسم میں جوڑ اور گھٹنے اس سے منسوب ہیں۔ مادیت، جاہ طلبی اور عاقبت اندیشی اس کا خاصہ ہیں۔ برج جدی کے زیر اثر پیدا ہونے والے افراد اعلٰی درجے کے منتظم اور قائدانہ صلاحیتیں رکھتے ہیں۔ یہ عمدہ دماغی قوتوں کے مالک، نکتہ رس اور شاندار سوجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ محنت اور استقامت کے ساتھ اپنے مقصد کے حصول کی جدوجہد میں مصروف رہتے ہیں۔ برج جدی کا نشان پہاڑی بکرا ہے جو اپنی دھیمی رفتار سے ایک سیدھی راہ پر اپنا سفر جاری رکھتا ہے اور بالآخر پہاڑ کی سب سے اونچی چوٹی پر پہنچ جاتا ہے۔
جدی افراد اپنے مثبت پہلوو ¿ں میں بنیادی طور پر عملیت پسند، کارگزار، مستقل مزاج، معاون اور مضبوط کردار رکھتے ہیں۔ یہ لوگ محنتی، کم گو اور کسی حد تک تنہائی پسند ہوتے ہیں۔ ان کا منطقی ذہن صرف دلیل سے ہی مطمئن ہو سکتا ہے۔ جدی افراد کے منفی پہلو شک و بد ظنی، سرد مہری، خود غرضی، مزاحمت پسندی یعنی روک ٹوک، ضد، ہٹ دھرمی، کٹ ہجتی، ناراضگی، یاسیت پسندی اور غیر جذباتی انداز فکر ہیں۔
محبت کے حوالے سے کسی شاعر نے کہا تھا "یہ وہ نغمہ ہے جو ہر ساز پر گایا نہیں جاتا"۔ شاید برج جدی بھی ایک ایسا ہی ساز ہے جس کے لیے یہ نغمہ نہیں بنایا گیا۔ یہ لوگ دوسروں پر اپنی محبتیں نچھاور کرتے نہیں پھرتے۔ ان میں اصول پسندی اور فرض شناسی تو موجود ہوتی ہے لیکن رومان کے معاملے میں یہ خاصے خشک مزاج ہوتے ہیں۔ اس بات کو یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ برج جدی کے زیر اثر پیدا ہونے والے افراد روایتی اعلٰی معیار کے عاشق نہیں ہوتے۔ اس برج کا خاکی عنصر ان لوگوں کو اس قدر عملی سوچ اور رویوں کا عادی بنا دیتا ہے کہ یہ لوگ اپنی حقیقت پسندی کے خبط میں رومانیت کے افسانوی لطف کو غارت کر بیٹھتے ہیں ۔
(اگر برج جدی کے ساتھ کوئی آبی برج بھی فعال ہو تو یہ صورت حال تبدیل بھی ہو سکتی ہے)۔
 جدی افراد کی عملیت پسندی اور مادیت انہیں محبت جیسے لطیف جذبے کو سمجھنے اور اس کا احساس کرنے سے روکتی ہے۔ ان کی نظر میں یہ ایک کارِ بے کار ہو سکتا ہے جس میں زندگی کا قیمتی وقت ضائع کرنا ایک حماقت ہو گی۔ جدی افراد کو شادی یا ازدواجی زندگی کا بھی زیادہ شوق نہیں ہوتا۔ انہیں تو اپنے کرئیر میں کسی بلند مقام تک پہنچنے کا شوق خبط کی حد تک رہتا ہے چناں چہ یہ لوگ محبت کے معاملے میں صنف مخالف کی دلچسپی اور وارفتگی کا جواب مثبت انداز میں تو ضرور دیتے ہیں مگر خود ان کی دلچسپی اور جوش و جذبہ احتیاط کے حصار میں قید نظر آتا ہے جسے محسوس کر کے ان سے محبت کرنے والے پر جوش اور جذباتی افراد کا دل ٹوٹ سکتا ہے مگر انہیں اس کی بھی پروا نہیں ہو گی، یہاں بھی ان کی حقیقت پسندی اسے پاگل قرار دے کر آگے بڑھ جائے گی۔ 
عام طور پر ان کی نجی ضروریات اور خواہشات انہیں شادی کے بندھن میں بندھنے پر مجبور کرتی ہےں اور اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ یہ شادی کے بعد اپنی ذمہ داریاں اور ازدواجی حقوق بڑی خوش اسلوبی سے ادا کرتے ہیں یعنی شریک حیات کی ہر ضرورت کا پوری طرح خیال رکھتے ہیں مثلاً گھر، مالی استحکام، عزت اور وقار، معقول رویہ وغیرہ لیکن اس معقول رویے میں نظم و ضبط اور مزاحمتی انداز کی جھلکیاں موجود ہوتی ہیں۔ ان کا حاکمانہ مزاج اپنے شریک حیات کو ہر آزادی نہیں دے سکتا۔ وہ اسے اپنے ایک ماتحت کے روپ میں دیکھنا پسند کریں گے۔ البتہ دنیاوی آرام و آسائش اور سہولیات فراہم کرنے میں یہ کوئی کوتاہی اپنی جانب سے نہیں کرتے مگر صرف ایک چیز اس کے لیے ان کے پاس نہیں ہوتی اور وہ ہے تھوڑی سی رومانیت اور روایتی انداز محبت۔ یہ لوگ اپنے عملی انداز محبت کو ہی کافی سمجھتے ہیں مثلاً ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ میں نے دنیا کی ہر نعمت اور سہولت اپنے محبوب یا شریک حیات کو مہیا کر دی ہے ، اب اس کے بعد صرف زبانی اور روایتی اظہار محبت کی کیا ضرورت ہے؟ شاید ان کا یہ خیال دوسروں کے لیے نامناسب اور ناقابل قبول ہو۔ ان لوگوں کو چاہیے کہ یہ دوسروں کو احساس محبت اور جذباتی تسکین بھی فراہم کریں۔ یوں زندگی زیادہ رنگین اور پرسکون ہو جائے گی۔
جدی افراد کی زندگی میں جو لوگ آئیں، انہیں تھوڑی سی توجہ دینے، محبت اور تعریف کے دو بول بول دینے سے کوئی نقصان نہیں ہو گا یا آپ کمتر نہیں ہو جائیں گے بلکہ جواب میں آپ کو بھی سچی محبت کی روحانی خوشی ملے گی۔ صرف آپ کی اصول پسندی اور فرض شناسی ہی زندگی میں سارے رنگ نہیں بھر سکتی۔ زندگی کا اصل اور دلچسپ ترین رنگ تو محبت ہے۔
جدی افراد پیدائشی طور پر نظم و ضبط کے قائل ہوتے ہیں اور اپنی رومانوی یا ازدواجی زندگی میں بھی نظم و ضبط اور اصول و قواعد کی پابندی پر زور دیتے نظر آتے ہیں۔ اسی طرح چونکہ ان کی عملیت پسندی زندگی کی مادی ضروریات اور مادی حقائق پر زیادہ توجہ دیتی ہے لہذا محبت اور دوستی کے معاملات میں بھی یہ لوگ دل کے بجائے دماغ سے کام لیتے ہیں اور اپنے مادی نفع و نقصان کو نظر انداز نہیں کرتے۔ جس طرح ایک جدی مرد اپنے پیشہ ورانہ مفادات سے کبھی غافل نہیں رہتا بلکل اسی طرح جدی خواتین بھی شوہر کی ترقی اور آمدن میں اضافہ کے لیے اس سے بھرپور تعاون کرتی ہیں اور وہ کسی نکمے اور آرام طلب شوہر کو پسند نہیں کرتیں جو انہیں مادی آرام و سکون مہیا نہ کر سکے۔
جدی افراد کی شادیاں عموماً پائیدار ہوتی ہیں۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ شاذ و نادر ہی جلدی میں شادی کرتے ہیں اور اس بات کا امکان بہت ہی کم ہوتا ہے کہ شریک حیات کا انتخاب کرنے میں ضرورت سے زیادہ احتیاط کے باعث ان سے کوئی غلطی ہو جائے کیونکہ وہ یہ کام جذبات کی رو میں بہہ کر یا بے پروائی سے کبھی نہیں کرتے۔
جدی افراد کم از کم محبت کے روایتی معیار اور تصور پر پورا اترتے نظر نہیں آتے۔ محبت کا روایتی تصور رکھنے والے ان کے انداز و اظہار محبت سے خوش نہیں ہو سکتے۔
عشق و محبت تقریباً ہر زبان کی شاعری کا بنیادی موضوع رہا ہے۔ اگر ہم رومانی شاعری کرنے والے قد آور شعراءکی فہرست پر ایک نظر ڈالیں تو اس میں بھی سر فہرست حوت اور عقرب نظر آئیں گے مثلاً ہمارے یہاں اردو شاعری میں میر تقی میر، علامہ اقبال،فیض احمد فیض، پروین شاکر، عطا شاد وغیرہ کے ہاں روایتی عشق کے اعلٰی ترین نمونے نظر آتے ہیں۔ یہ تمام شعراءبرج عقرب سے تعلق رکھتے ہیں۔ دوسری طرف اردو شاعری میں برج جدی سے تعلق رکھنے والے دو بڑے نام مرزا اسد اللّٰہ خان غالب اور جوش ملیح آبادی ہیں۔ غالب نے اگرچہ رومانوی موضوعات کو بھرپور طریقے سے اپنایا ہے اور ان کا دور رومانی شاعری کا دور تھا مگر غالب کے رومانی موضوعات پر عقل غالب نظر آتی ہے شاید اسی چیز نے انہیں اپنے دور میں دیگر رومانی شعراءسے منفرد بنا دیا تھا۔ وہ محبت میں میر کی طرح اندھے عشق کے قائل نہیں۔ زندگی کے مادی پہلوو ¿ں کو سامنے رکھتے ہوئے محبت کی بات کرتے ہیں۔ جوش ملیح آبادی کی رومانی شاعری کسی بگڑے نواب کی آوارہ گردی اور عیش طلبی کا شاہکار نظر آتی ہے۔ البتہ ان کی حاکمیت پسندی انہیں انقلابی رجحانات کی طرف لے گئی اور اس طرح رومانی شاعری کا پودا قد آور درخت نہ بن سکا۔ 

آتشی برجوں کے آئینے میں محبت کے رنگ ڈھنگ


آگ تھے ابتدائے عشق میں ہمہوگئے خاک انتہا ہے یہ


اب تک ہم آبی اور ہوائی بروج کے انداز و اظہار محبت پر بات کر چکے ہیں۔ بے شک یہ دونوں عنصر رومان پسند ہیں اور ان کی زندگی میں اگر عشق و محبت کی دلچسپیاں نہ ہوں تو انہیں اپنی زندگی بے کار اور بور محسوس ہوتی ہے۔ بقول مرزا غالب، یہ وہی لوگ ہیں جو چاہتے ہیں بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے۔
ہم پہلے بھی عرض کر چکے ہیں کہ آبی یا ہوائی بروج کے ساتھ اگر آتشی یا خاکی بروج کا امتزاج ہو جائے تو صورت حال خاصی تبدیل ہو جاتی ہے پھر ان لوگوں کی محبت کے انداز اور اظہار میں جوش و ولولے کے ساتھ عملیت پسندی بھی نظر آتی ہے، یہ ایک علیحدہ موضوع ہے جو بہت زیادہ طوالت اختیار کر سکتا ہے کہ مختلف عناصر کے باہمی امتزاج کے نتیجے میں کس قسم کی شخصیت اور محبت وجود میں آتی ہے اور پھر اس کا انداز و اظہار کیا رنگ دکھاتا ہے۔ مغرب میں اس موضوع پر ضخیم کتابیں لکھی گئی ہیں جو انسانی نفسیات کے دلچسپ اور حیرت انگیز پہلوو ¿ں کو اجاگر کرتی ہیں۔

آتشی بروج کا انداز محبت


بارہ بروج میں تین برج آتشی عنصر رکھتے ہیں، ان تینوں برجوں کی تکون میں پہلے نمبر پر حمل (Aries)، دوسرے نمبر پر اسد (Leo) اور تیسرے نمبر پر قوس (Sagittarius) ہے۔ تینوں اگرچہ آتشی عنصر رکھتے ہیں لیکن اپنی ماہیت اور فطرت میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں، حمل منقلب (Movable) ہے، اسد ثابت یعنی استقلال کا حامل ہے تو قوس ذوجسدین (ڈبل باڈی سائن) ہونے کی وجہ سے تغیر پذیر بھی ہے اور ٹھہراو ¿ کا حامل بھی، تینوں کے بنیادی نظریات اور دلچسپیوں میں بھی نمایاں فرق ہے۔ آئیے تینوں کی محبت کے رنگ ڈھنگ پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

برج حمل کا انداز محبت


برج حمل دائرہ بروج کا پہلا برج اور اپنی ماہیت کے اعتبار سے منقلب (Cardinal) ہے۔ اس کا حاکم سیارہ مریخ ہے۔ اپنی فطرت میں یہ مذکر اور تغیر پذیر ہے۔ اس کا حاکم مریخ طاقت و توانائی، جنگ اور جرا ¿ت و ہمت کا ستارہ کہلاتا ہے۔ حمل افراد کی بنیادی خصوصیات میں پہل کاری، قیادت اور بھرپور توانائی کا اظہار شامل ہے۔ یہ لوگ اپنی پہل کاری کی خصوصیت کی وجہ سے انتظار کرنے کے قائل نہیں ہوتے۔ محبت میں نہایت پرجوش اور سرگرم نظر آتے ہیں۔ جب یہ کسی کو پسند کر لیں تو اظہار محبت کرنے میں دیر نہیں لگاتے بلکہ باقی معاملات بھی جلد از جلد طے کر لینا چاہتے ہیں۔ برج حمل کو بے صبرا بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اپنے عمل کا فوری نتیجہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ لہذا محبت کے معاملے میں ان کی سرگرمی اور جوش و خروش قابل دید ہوتا ہے۔ بقول شاعر

تیرے کوچے اس بہانے مجھے دن سے رات کرنا
کبھو اس سے بات کرنا کبھو اس سے بات کرنا

بے قراری اور جلد بازی برج حمل کا خاصا ہے اور اس حوالے سے یہ لوگ کوئی عملی قدم اٹھانے سے پہلے کچھ سوچنے سمجھنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے۔ ان کی خود اعتمادی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ لہذا ہر قسم کے خطرات کی پروا کیے بغیر ان کے قدم آگے ہی آگے بڑھتے رہتے ہیں۔
حمل مرد ہو یا عورت دونوں بہت جلدی فیصلہ کرتے ہیں۔ اگر آپ نے ان کے سامنے فیصلہ کرنے میں دیر کر دی تو وہ آپ کا انتظار نہیں کریں گے۔ گویا حمل افراد کی محبت میں ٹہراو ¿ اور گہرائی نہیں ہوتی جب انہیں جو چیز پسند آگئی، بس اسی وقت بچوں کی طرح اس کے حصول کے لیے مچلنے لگیں گے اور عموماً اسے حاصل کر کے ہی چھوڑیں گے۔ ایک مرتبہ جب وہ اپنی پسندیدہ چیز کو حاصل کر لیں تو پھر ان کی دلچسپی کم یا ختم بھی ہو سکتی ہے، وہ کسی دوسری انوکھی چیز کے لےے دلچسپی محسوس کر سکتے ہیں۔ برج حمل کی یہ تغیر پذیری کسی پائیدار محبت کا امکان کم کر دیتی ہے۔ البتہ حمل کے ساتھ اگر کوئی آبی (Scorpio) یا خاکی برج (Tauras)موجود ہو تو حمل کی تغیر پذیری میں کمی آسکتی ہے۔
برج حمل کا نشان مینڈھا ہے اور آپ نے دیکھا ہو گا کہ مینڈھے کو اگر چیلنج کیا جائے یعنی صرف ہاتھ کے اشارے سے اسے دعوت مبارزت دی جائے تو وہ فوراً اپنا سر نیچے جھکا کر پیچھے کی طرف ہٹنا شروع کر دیتا ہے تاکہ تیزی کے ساتھ آپ پر حملہ آور ہو۔ بس یہی خصوصیت حمل افراد میں بھی نظر آئے گی یعنی چیلنج قبول کرنا۔ اکثر یہ لوگ محبت کو بھی ایک چیلنج سمجھ کر قبول کرتے ہیں اور جب وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر ان کی دلچسپی ختم ہو جاتی ہے۔ اب انہیں کوئی نیا چیلنج چاہیے ہوتا ہے۔ جوزا، اسد، قوس اور دلو ایسے برج ہیں جو حمل افراد کے لیے زندگی بھر ایک چیلنج بنے رہتے ہیں۔ لہذا ان لوگوں سے حمل افراد کے تعلقات لمبے عرصے تک چلتے ہیں اور ان کی دلچسپی کبھی کم نہیں ہوتی۔ 
برج حمل مریخی اثرات کی وجہ سے ایک جنگجو برج ہے۔ لہذا کسی بھی قسم کی پارٹنر شپ کے لیے زیادہ موزوں نہیں سمجھا جاتا۔ یہ لوگ مزاجاً سرکش، شعلہ صفت اور تند خو ہوتے ہیں۔ اسی لیے دوسروں کی سرکشی اور تند خوئی ان کے لیے ناقابل برداشت ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں یہ فوراً مقابلے پر اتر آتے ہیں اورمینڈھے کی طرح جوابی کاروائی کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ اگر کسی حمل شخصیت کے انفرادی زائچے میں کوئی نرم گوشہ موجود نہ ہو تو اس کے ساتھ تعلقات نبھانا بڑا ہی مشکل کام ہو گا۔
حمل مرد و خواتین کے تعلقات ان کی پسند کے مطابق ہوتے ہیں اور پھر مزید طرفہ تماشہ یہ کہ یہ لوگ اپنے محبوب یا شریک حیات یا شریک کار کو اپنا ماتحت دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس صورت میں محبت کے بنیادی اصول مجروح ہوتے ہیں۔ لہذا برج حمل کو ایک جنگجو برج تو کہا جا سکتا ہے لیکن لو سائن Love Sign نہیں کہا جا سکتا۔ بہرحال اس بات کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ حمل افراد محبت نہیں کر سکتے لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب برج حمل کے ساتھ قمری یا پیدائشی برج آبی یا ہوائی ہو۔ حالانکہ ایسی صورت بھی محبت کے اعلٰی روایتی معیار کو جنم نہیں دے سکتی جو محبت کا طرہ ¿ امتیاز ہے۔ دوسرے معنوں میں یوں سمجھ لیں کہ حمل افراد قربانی دینے والے نہیں ہوتے۔ جبکہ محبت بہرحال قربانی مانگتی ہے۔
حمل افراد اسی تعلق کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں جو ان کی پسند کے مطابق ہو، مزید یہ کہ وہ اپنی پسندیدہ ہستی کی صحبت سے محظوظ ہوتے ہوں وہ ان کے لیے بوریت اور کسی پریشانی کا سبب نہ ہو۔ فرماں بردار اور اطاعت گزار ہو۔ محبت میں پر خلوص اور ایماندار ہو۔
حمل افراد کو محبت کے معاملے میں چیلنج دینے والی طاقتور شخصیات میں بڑی کشش محسوس ہوتی ہے اور ایسی شخصیات میں سر فہرست خود برج حمل ہے۔ لہذا دو حمل افراد خاص طور سے مرد و خواتین پہلی ہی نظرمیں ایک دوسرے سے متاثر ہو سکتے ہیں لیکن ان کی جوڑی سخت تباہ کن بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ کیونکہ"دو باس" ایک جگہ اکھٹا نہیں رہ سکتے اور یہ دونوں پیچھے ہٹنا یا ہتھیار ڈالنا بھی نہیں جانتے۔ جب ان کے درمیان کسی بات پر اختلاف شروع ہو گا تو پھر علیحدگی پر ہی ختم ہو گا۔ دوسرے نمبر پر حمل افراد کے لیے عقربی لوگ بڑی دلچسپی کا باعث ہوتے ہیں اور عقرب کو بھی حمل افراد میں بڑی کشش محسوس ہوتی ہے لیکن یہ جوڑی بھی بڑی خطرناک ہے۔ دونوں جنگجو برج ہیں اور دونوں زندگی بھر ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنے کی کوشش میں لگے رہیں گے جس کا نتیجہ مستقل خانہ جنگی کی صورت میں ظاہر ہو گا۔
حمل افراد کو کسی بھی قسم کی شراکت اور تعلقات میں بہت اچھے انداز میں ہینڈل کرنے والے برج جوزا، میزان اور دلو ہیں۔ جوزا کی ذہانت، ہوشیاری اور معاملہ فہمی، میزان کی توازن پسندی اور مصلحت اندیشی، برج حمل کو آسانی سے کنٹرول کر لیتی ہے جبکہ برج دلو کی بے نیازی اور جدت پسندی خود برج حمل کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ وہ اسے اپنے پیچھے لگانے کی فطری کوشش میں با لآخر خود اس کے پیچھے لگ جاتا ہے۔ 

برج اسد کا انداز محبت


دائرہ بروج کا پانچواں اور آتشی تکون کا دوسرا برج اسد ہے۔ فطری اور کسی بھی زائچے میں پانچواں گھر محبت، اولاد، اضافی آمدن، وجدانی توانائی،شعور اور خوشی سے منسوب ہے۔ گویا برج اسد محبت کا برج ہے۔ اس کا نشان شیر اور ماہیت ثابت (Fixed) ہے۔ حاکم سیارہ شمس یعنی سورج ہے جسے ہمارے نظام شمسی میں مرکزی حیثیت حاصل ہے یعنی تمام سیارے سورج کے گرد گھوم رہے ہیں لہذا شمس کو ایک حکمران کا درجہ حاصل ہے۔
برج اسد کو بادشاہوں کا برج کہا جاتا ہے۔ اسی لیے اسدی افراد کے طور طریقوں میں ایک شاہانہ رنگ جھلکتا ہے۔ ان کی انا کا پرچم بہت بلند رہتا ہے۔ ان کی زندگی میں کم تر اور گھٹیا چیزوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ یہ لوگ اعلٰی پوزیشن پر کام کرنا پسند کرتے ہیں۔
محبت کے معاملے میں بھی اسدی افراد کسی سے پیچھے نہیں رہتے مگر ان کی محبت کا انداز اور اظہار سب سے مختلف ہے۔ یہ لوگ بنیادی طور پر عاشق یعنی چاہنے والے ہوتے ہیں لیکن معشوق بننا ان کے مزاج کے خلاف ہے کیونکہ ان کی انا محبت میں بھی بلند رہتی ہے اور یہ کسی کے سامنے سر جھکانا پسند نہیں کرتے۔ گویا محبت میں بھی حاکمیت و اقتدار کا تصور موجود ہے۔

 بندگی میں بھی وہ خود بین و خود آراءہیں کہ ہم
الٹے پھر آئے درِ کعبہ اگر وا نہ ہوا

 اسد افراد جب کسی پر عاشق و فریفتہ ہوتے ہیں تو انہیں عموماً اس بات کی زیادہ پروا نہیں ہوتی کہ ان کا محبوب بھی انہیں چاہتا ہے یا نہیں یا وہ ان سے کتنی محبت کرتا ہے۔ دوسرے معنوں میں وہ بنیادی طور پر ایک جمال پرست ہیں یعنی حسن و خوب صورتی سے انہیں عشق ہے۔ یہ حسن و خوب صورتی جہاں بھی نظر آئے وہ اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے، اس کی محبت میں گرفتار ہو سکتے ہیں، اگر مناسب جوابی توجہ نہ ملے تو ممکن ہے اس داغ کو دل پر لے کر آگے بڑھ جائےں لیکن جواباً محبت اور خلوص کا اظہار کیا جائے اور ان کے جذبات کو سراہا جائے تو بہت خوش ہوں گے۔ محبت میں کامیابی اور کسی بھی نوعیت کی رفاقت میں وہ یہ ضرور دیکھتے ہیں کہ ان کا شریک کار یا شریک حیات فرماں برادر اور اطاعت گزار ہے یا نہیں اور ان سے کس حد تک متاثر و مرعوب ہے، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ سرکشی، بغاوت اور مخالفت کی وجہ سے ان کا عشق ختم ہو جاتا ہے اور وہ اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ محبوب کی سرکشی بھی انہیں محبوب ہوتی ہے۔ البتہ اس صورت میں اس پر ان کی عنایات اور مہربانیاں کم ہو جاتی ہیں۔ 

نیپولین اور جوزیفائن


اسد افراد کی مثالی محبت کا ایک شاندار کیس فرانس کے عظیم شہنشاہ نیپولین بوناپارٹ کا ہے۔ اس نے بادشاہ بننے سے قبل جوزیفائن سے محبت کی تھی اور اس کی یہ محبت یا پسندیدگی کبھی کم نہ ہوئی۔ اگرچہ بعد میں جوزیفائن نے اس کے ساتھ بڑی زیادتیاں کیں یہاں تک کہ بے وفائی کی بھی مرتکب ہوئی مگر نیپولین کی اس سے محبت اور دلچسپی اس وقت بھی قائم رہی جب ان دونوں کے درمیان علیحدگی ہو چکی تھی۔ نیپولین اور جوزیفائن کے عشق کا قصہ اب تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ اسد کی محبت کو سمجھنے کے لیے اس کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
تینوں آتشی بروج میں برج اسد محبت کے معاملے میں جتنا گرم جوش اورسرگرم ہے، اتنا ہی مستحکم مزاج بھی ہے۔ یہ خصوصیت حمل اور قوس میں نہیں ہے۔ اسدی مرد و خواتین جب ایک بار کسی سے محبت کرتے ہیں تو دل کی گہرائیوں سے اور پوری سچائی کے ساتھ اس کا ساتھ دیتے ہیں لیکن جواباً ایسی ہی محبت اور سچائی مکمل وفاداری کے ساتھ انہیں چاہےے ہوتی ہے۔ ابتداءمیں ان کی محبت دیوانگی کی حد تک جا سکتی ہے جو کبھی کبھی ان کے محبوب کے لیے پریشانی کا باعث بھی بن سکتی ہے مگر پھر جب انہیں یقین آ جائے کہ ان کا محبوب ان کی دسترس سے باہر نہیں ہے اور بے وفائی نہیں کرے گا تو وہ نارمل ہو جاتے ہیں۔
محبت اور رفاقت میں اسد افراد کو اعلٰی معیار کے ساتھ ذاتی تعریف و توصیف کی بھی ضرورت ہوتی ہے یعنی وہ اپنے محبوب یا رفیق کار سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ ان کی تعریف کرے اور ان کی اعلٰی صفات کا برملا اظہار کرے۔ برج اسد تعریف اور خوشامد سے خوش ہوتا ہے اور تنقید برداشت نہیں کر سکتا لہذا اسدی افراد کی بیویوں اور شوہروں کو اس نکتہ پر توجہ دینا چاہیے تاکہ گھر کا ماحول خوش گوار رہے اور باہمی محبت میں اضافہ ہو۔
اسد افراد محبت کی ابتدا میں جتنے پرجوش اور سرگرم ہوتے ہیں، شادی کے بعد اتنے ہی محتاط اور بظاہر سردمزاج نظر آتے ہیں، دراصل وہ اپنی محبت کا اظہار بھی بڑے باوقار اور لیے دیے انداز میں کرنے کے قائل ہوتے ہیں، اسدی افراد کی محبت میں بچگانہ طور طریقے نہیں ہوتے بلکہ یہاں بھی وہ ایک شاہانہ انداز میں نظر آتے ہیں۔ اپنی محبت کا اظہار اپنی فیاضی اور دریا دلی کے مظاہروں سے کرتے ہیں۔ محبوب کے حسن و جمال کی تعریف میں بھی وہ بہت اختصار سے کام لیتے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کہ اسد افراد دوسروں کی تعریف کرنے میں خاصے کنجوس واقع ہوئے ہیں۔ دوسرے معنوں میں صرف اپنی تعریف ہی ان کے پیش نظر ہوتی ہے ۔
کسی اسد مرد یا عورت کے دل میں جگہ بنانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ یہ لوگ عام اور سطحی انداز سے متاثر نہیں ہوتے۔ آپ کو اپنی شخصیت اور کردار میں تمام اخلاقی اور معاشرتی اعلٰی معیارات پر توجہ دینا ہو گی اوراس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اپنی مالی حیثیت کا بھی جائزہ لینا ہو گا کیونکہ اسد افراد کسی مرحلے پر بھی آپ کی کنجوسی یا کفایت شعاری کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ اگر آپ ان کے ساتھ سیر و تفریح کا پروگرام بنائیں یا انہیں کھانے پر مدعو کریں تو کسی مرحلے پر بھی انہیں یہ محسوس نہ ہونے دیں کہ آپ نے کہیں کنجوسی سے کام لیا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ ایسے کسی موقع پر وہ آپ سے بڑھ کر فیاضی کا مظاہرہ کریں تو آپ کو ان سے کسی طور پیچھے نہیں رہنا چاہیے ورنہ آپ ان کی نظر سے گر سکتے ہیں۔ دراصل اسد افراد عام لوگوں کے معاملے میں بہت بلند سوچ کے مالک ہوتے ہیں اور یہی صورت حال محبت کے میدان میں بھی ہوتی ہے۔ برج اسد کے ساتھ دوسرے عناصر اور بروج کا امتزاج اسدی افراد کی شخصیت اور کردار میں کوئی مثبت یا منفی تبدیلی لا سکتا ہے لیکن اس کا اندازہ کسی کے انفرادی زائچے سے ہی کیا جاسکتا ہے 

برج قوس کا انداز محبت

آتشی تکون کا تیسرا اور دائرہ بروج کا نواں برج قوس ہے جس کا حاکم سیارہ مشتری ہے۔ قوس اپنی ماہیت میں ذو جسدین (Common Sign) اور فطرت میں مذکر ہے۔ چونکہ یہ فطری زائچے کا نواں برج ہے لہذا اس کا تعلق مذہب، آئین و قانون، فلسفہ اور بیرونی سرگرمیوں سے ہے۔ یہ لوگ کسی ایک جگہ ٹک کر بیٹھنے والے نہیں ہوتے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے پیروں میں کھجلی ہوتی رہتی ہے چنانچہ سیر و سیاحت، اسپورٹس اور ایڈونچر انہیں ہمیشہ اپنی طرف متوجہ رکھتے ہیں۔ 
محبت کے معاملات میں بھی قوسی افراد اپنا مخصوص فلسفیانہ نظریہ رکھتے ہیں اور اس نظریے کی تشریح بھی یہ خود ہی کر سکتے ہیں۔ ضروری نہیں ہے کہ آپ کو اس تشریح سے اتفاق ہو۔
ایک پرانی کہاوت ہے کہ مرد عورت کا اس وقت تک تعاقب کرتا ہے جب تک عورت اس کو پکڑ نہیں لیتی۔ قوس افراد کو تعاقب کی سنسنی بہت پسند ہے تاہم کبھی کبھی وہ بے خیالی میں کچھ اس طرح کسی تعلق کے اسیر ہو جاتے ہیں جیسے کوئی شکاری خود اپنے ہی لگائے ہوئے جال میں پھنس جائے۔ 
قوس افراد کے اندر ایک بامعنی ربط کی خواہش موجزن رہتی ہے لیکن بہر حال صورت حال کچھ بھی ہو قوس افراد محبت کے معاملے میں بھی عامیانہ پن سے گریز کرتے ہیں۔ ان کی فطری مثالیت پسندی یا فلسفیانہ سوچ اپنے ساتھی یا محبوب میں کوئی نمایاں خوبی تلاش کرتی رہتی ہے۔
مشہور ہے کہ مہم جو، نڈر اور خطرات سے کھیلنے والے افراد خواتین کی توجہ کا مرکز جلد بن جاتے ہیں۔ قوس افراد (مرد و خواتین) بھی کچھ اسی قسم کے مہم جو ہوتے ہیں جو دوسروں کو اپنی طرف جلد متوجہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان میں سے کچھ فلرٹ کرنے والے بے پروا بھی ہو سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قوس افراد کسی ایسے شو کے میزبان ہوتے ہیں جو ایک ہجوم کی توجہ اپنی جانب کھینچ لیتا ہے۔ قوس مرد و خواتین بہت جلد اپنے چاہنے والوں کا ایک بڑا حلقہ پیدا کر لیتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دائرہ بروج کے تمام برجوں میں سب سے زیادہ بے فکرے اور اکثر غیر شادی شدہ قوس افراد ہی ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کو شادی کے بندھن میں بندھنے کی کوئی جلدی نہیں ہوتی۔ شاید اسی وجہ سے ان کے معاشقے خاصا طول کھینچتے ہیں اور شادیاں خاصی پختہ عمر میں ہوتی ہیں بلکہ کم عمری میں ہونے والی شادیوں کی ناکامی کا خطرہ رہتا ہے۔ 
قوس افراد محبت کے روایتی نظریات اور فلسفے پر ذرا کم ہی پورا اترتے ہیں۔ وہ اکثر ایک تعلق سے دوسرے تعلق کی طرف بھاگتے نظر آتے ہیں۔ ابتدا میں وہ بڑے پُر جوش اور سرگرم ہوتے ہیں لیکن برج دلو کی طرح جب شادی کے بندھن میں بندھنے کا مرحلہ قریب ہو تو یہ لوگ بوکھلا اٹھتے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ قوس افراد دل کی گہرائیوں میں جھانکنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ یہ دل کھول کر محبت کرتے ہیں لہذا ان سے کھلے دل کے ساتھ ملنا جلنا بہتر رہتا ہے۔ وہ دوسروں کی خوشیوں میں شریک ہو کر لطف اندوز ہوتے ہیں اور کسی بڑے گروپ کا حصہ بن کر انہیں مسّرت ہوتی ہے البتہ کسی سے گہرا تعلق قائم کرنے میں انہیں کچھ دقت کا سامنا ہوتا ہے۔ تنہائی میں یہ بے چینی اور اضطراب کا مظاہرہ کرتے ہیں مگر یہ جسم اور روح دونوں کو اپنی محبت میں شامل کرنے والے ہوتے ہیں۔ چنانچہ ایسی ہی محبت کی تلاش انہیں ایک تعلق سے دوسرے تعلق تک لے جاتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر بار وہ یہی سمجھتے ہیں کہ جس جنت کی انہیں تلاش تھی وہ انہیں مل گئی ہے مگر جب کچھ وقت گزرتا ہے تو یہ خود کو پھنسا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ انہیں اپنی آزادیاں ضبط ہوتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں اور اپنا ساتھی ایک بوجھ نظر آنے لگتا ہے چنانچہ پھر نئے امکانات کی طلب انہیں بے چین کرنے لگتی ہے۔ یہ وہ وجوہات ہےں جو انہیں کہیں رکنے کا موقع نہیں دیتیں۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ قوس کو برج دلو کی طرح آزادی درکار ہوتی ہے لہذا انہیں قید و بند کا احساس نہ دلایا جائے اس صورت میں بے شک یہ لوگ محبت میں وفادار ثابت ہو سکتے ہیں۔
قوس عورت محبت کے معاملے میں تھوڑی سی قوس مرد سے مختلف ہوتی ہے۔ وہ اسی صورت میں ساتھی بدلتی ہے جب وہ مطمئن اور آسودہ نہ ہو، اس کے بنیادی نظریات کو نہ چھیڑا جائے۔ تعلقات میں سچائی اور ایمانداری اس کے بنیادی نظریات میں شامل ہیں۔ باقی معاملات میں وہ مکمل قوسی صفات کی حامل ہوتی ہیں۔ اسپورٹس اور مہم جوئی کے شعبوں میں اکثر قوس خواتین نمایاں نظر آتی ہیں۔ محبت کے معاملات میں بھی ان کا رویہ بہت زیادہ اور بہت جلدی سنجیدہ نہیں ہوتا۔ شادی کی انہیں بھی کوئی جلدی نہیں ہوتی۔ قوس مرد و خواتین کو اپنا آئیڈیل ڈھونڈنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی لیکن اس تعلق کو مضبوط اور پائیدار بنانا ان کے لیے ایک مشکل کام ہوتا ہے۔

قوس ہیرو دلیپ کمار

برصغیر کے شہرہ آفاق اداکار یوسف خان المعروف دلیپ کمار کا شمسی برج قوس ہے۔ اگر ہم ان کے معاشقوں پر نظر ڈالیں تو قوسی رنگ ڈھنگ صاف نظر آتا ہے۔ اپنے کریئر کی ابتدا ہی میں وہ اداکارہ کامنی کوشل کے عشق میں دیوانے ہو گئے اور جب اس نے اپنے بہنوئی سے بحالت مجبوری شادی کر لی تو دلیپ صاحب نے خود کو غرق مے ¿ ناب کر لیا۔ یہ صدمہ ان کے لیے ناقابل برداشت تھا۔ اس کے بعد ان کا طوفانی عشق اداکارہ مدھو بالا سے شروع ہوا جس کا انجام بھی مدھوبالا کے لیے خاصا اذیت ناک رہا البتہ دلیپ صاحب بلاتکلف فوراً ہی اداکارہ وجنتی مالا کی زلف گرہ گیر کے اسیر بن گئے۔ اس کے بعد اداکارہ سائرہ بانو ان کی زندگی میں ایک چیلینج بن کرآئیں اور بالآخر ان کی شریک حیات بن گئیں مگر سائرہ بانو کی موجودگی ہی میں انہوں نے ایک اور شادی خفیہ طور پر کی جسے بعد میں طلاق دینا پڑی۔ ان کے ہم عصر اداکار اور ہدایت کار راج کپور کا شمسی برج بھی قوس ہے۔ راج کپور کے باپ پرتھوی راج کپور چونکہ خود فلمی دنیا کے کھلاڑی تھے لہذا بیٹے کی شادی کم عمری میں ہی کر دی تھی مگر اس کے بعد بھی راج کپور کی زندگی میں خواتین کی آمد کا سلسلہ نہیں رک سکا۔ قصہ مختصر یہ کہ برج قوس کو رومان پسند تو کہا جا سکتا ہے لیکن محبت کے تعلقات کی اعلٰی روایات کا حامل نہیں سمجھا جا سکتا۔

ہوائی بروج کا انداز محبت

میں جسے پیار کا انداز سمجھ بیٹھا تھا
ہوائی بروج کی جذباتی زندگی کے اتار چڑھاو  

ہوائی بروج کا انداز محبت

جوزا، میزان اور دلو کا عنصر ہوا ہے۔ ان تینوں بروج میں جوزا ذو جسدین یعنی دہرے پن کا حامل، میزان منقلب یعنی تغیر پذیر، تبدیل ہونے والا اور دلو ثابت یعنی ٹہراو ¿ رکھنے والا برج ہے۔ لہذا تینوں ہوائی برج اپنا ایک مختلف انداز رکھتے ہیں۔ اپنے عنصر ہوا کی مناسبت سے تینوں تخیلات اور تصورات کی دنیا میں رہتے ہیں اور اس حوالے سے ان کی محبت کے اظہار اور انداز بھی جدا جدا اور نرالے ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ یہ تینوں ہوائی تکون کے رکن دائرہ بروج کے انوکھے اور نرالے برج ہیں تو غلط نہیں ہوگا،تینوں بروج میں البتہ برج دلو اپنی انفرادیت میں یکتا ہے، ثابت قدم اور عملیت پسند ہیں جب کہ جوزا اور میزان نے ثابت قدمی اور عملیت کا فقدان ہے، چناں چہ ان کی محبت خیالی دنیا سے باہر قدم نکالنے میں ناکام رہتی ہے، ان کی محبت کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کھیل بچوں کا ہوا، دیدئہ بینا نہ ہوا۔

برج جوزا کا انداز محبت

برج جوزا کا تعلق انسانی ذہن اور ذہنی اعمال و افعال سے ہے لہذا جوزا افراد کوئی کام بھی ذہنی تحریک کے بغیر نہیں کرتے۔ سوچنا سمجھنا اور جاننا ان کے لیے اولیت رکھتا ہے لہذا محبت کے معاملات میں دل کے بجائے ان کا دماغ اور ذہن اپنا کردار ادا کررہا ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جوزا افراد کی محبت احساساتی نہیں ہوتی بلکہ کسی سوچے سمجھے منصوبے کا مظہر ہوتی ہے۔ شاید اسی وجہ سے وہ روایتی اور افسانوی محبت کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔ محبت ان کے نزدیک زندگی کے لیے ضروری تو ہے مگر ناگزیر نہیں ہے۔ کبھی کبھی تو وہ صرف تفریح طبع کے لیے بیک وقت دو تین جگہ عشق لڑا رہے ہوتے ہیں اور کبھی کسی ایسی محبت سے اچانک راہ فرار اختیار کرتے نظرآتے ہیں جس میں وہ مرنے جینے اور ہمیشہ ساتھ رہنے کی قسمیں کھائے بیٹھیں ہوں۔ دراصل جوزا ایک بڑا شریر بچہ ہے جس کی دلچسپیاں گزرتے وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ یہ صورت حال ان کی محبت کے انداز اور اظہار میں بھی جاری رہتی ہے۔
دو جوزا افراد کی محبت کا انداز بلکل ایسا ہی ہو گا جیسے درخت کی شاخ پر بیٹھے دو پرندے باہم چوہلیں، خوش فعلیاں کرتے نظر آئیں لیکن تھوڑی دیر بعد دوبارہ آپ اس شاخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہو گا کہ ایک ان میں سے غائب ہو چکا ہے اور دوسرا بھی کسی اور سمت پرواز کرنے کے لیے تیار ہے۔ پھر کچھ ہی دیر بعد دونوں اسی جگہ موجود ہوں گے اور حسب سابق اسی طرح باہم چوہلیں کرتے نظر آرہے ہوں گے۔
جوزا والوں کا انداز محبت ہی کیا، زندگی کے اور معاملات میں بھی طرز عمل اسی طرح جاری رہتا ہے، ان کی زندگی میں اکثر کام ادھورے رہ جاتے ہیں۔ یہ جتنی تیزی سے کسی نئی دلچسپی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اتنی ہی تیزی سے اس سے منہ موڑ بھی لیتے ہیں۔ ان لوگوں میں اپنے ذاتی معاملات کے لیے قوت فیصلہ بہت کمزور ہوتی ہے۔ بے شک یہ دوسروں کو ہر معاملے میں نت نئے مشورے دیتے ان کی مدد کرتے نظر آئیں گے مگر خود اپنے معاملات میں ان کے لیے کوئی حتمی فیصلہ کرنا بڑا مشکل کام ہوتا ہے۔ محبت کے معاملے میں بھی یہ آخر تک یہ فیصلہ ہی نہیں کر پاتے کہ وہ جسے پسند کرتے ہیں اس سے محبت بھی کرتے ہیں یا نہیں۔ دراصل ان کا ہر وقت سوچنے والا ذہن انہیں مستقل کسی نہ کسی الجھن میں مبتلا رکھتا ہے اور جب وہ الجھن ان کے سر کا درد بن جائے تو یہ ایک لمحے میں اسے ذہن سے جھٹک کر کسی نئی الجھن کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔ جوزا افراد سے محبت کرنے والے ان کی بے پروائی، کج ادائی اور بے وفائی کا شکوہ کرتے نظر آتے ہیں مگر وہ اپنی ان خصوصیات کو تسلیم نہیں کرتے۔ بلکہ اس سلسلے میں ان کا اپنا ایک نقطہ نظر ہے۔ ان کا فلسفہ یہ ہے کہ انسان کو کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ دنیا کو جان لینا چاہیے اور اس سلسلے میں آگے ہی آگے بڑھتے رہنا چاہیے، پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھنا چاہیے۔ گویا محبت کے روایتی نظریہ اور فلسفہ کے مطابق جوزا افراد اس کے بلکل برعکس نظر آتے ہیں۔ ان کی محبت میں عدم استحکام نظر آتا ہے۔ وہ کسی شاعر کے بقول تو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی کی مثال کو مدِ نظر رکھتے ہیں۔
یقیناً شمسی برج جوزا کے تحت پیدا ہونے والے اکثر افراد یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم ایسے نہیں ہیں تو یقیناً ان کے قمری یا پیدائشی برج ان کی محبت میں استحکام لانے کا سبب ہو سکتے ہیں۔
نوٹ: برجوں کے دلچسپ حیرت کدے میں محبت کے رنگ ڈھنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

برج میزان کا انداز محبت

ہوائی تکون کا دوسرا برج میزان ہے۔ بارہ بروج میں یہ واحد برج ہے جس کا نشان ایک بے جان چیز ترازو ہے۔ گویا توازن اور ہم آہنگی اس کی بنیادی خصوصیات میں شامل ہیں۔ اسی لیے ان کی انصاف پسندی اور سفارت کاری مشہور ہے۔ زندگی کا کوئی بھی معاملہ ہو یہ ہاتھ میں ترازو تھامے نظر آئیں گے یعنی محبت جیسے جذبے میں بھی ان کی ناپ تول جاری رہتی ہے۔ یہ ہر وقت تجزیہ کرتے رہتے ہیں کہ وہ جتنی محبت کسی سے کر رہے ہیں یا جتنا کسی کا خیال رکھتے ہیں کیا وہ بھی جواباً اتنا ہی ان کے ساتھ کر رہا ہے یا نہیں؟
میزانی افراد کا سارا زور توازن (Balance) پر رہتا ہے۔ لہذا محبت کے معاملات میں بھی یہ عدم توازن کا شکار نہیں ہوتے لیکن اگر کسی وجہ سے کسی معاملے میں بھی توازن بگڑ جائے تو یہ لوگ بہت پریشان ہوتے ہیں بلکہ کبھی کبھی اذیت کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ بارہ بروج میں برج میزان سب سے زیادہ رومان پسند اور امن پسند برج ہے۔ انہیں ہر وقت اور ہر معاملہ میں رومانس اور امن چاہیے کیونکہ رومانس اور امن کے بغیر ان کی بھرپور دلچسپی نمایاں نہیں ہوتی۔ یہ دنیا کہ سب سے زیادہ حسن پسند اور حسن پرست لوگ بھی ہیں۔ اسی لیے فنون لطیفہ میں بھی ان کا کردار غیر معمولی رہا ہے۔
ایک متوازن محبت اور پرسکون ماحول برج میزان کی ناگزیر ضرورت ہے۔ محبت میں انتہا پسندی اور جذبے کی شدت ان کے نزدیک خطرناک ہوتی ہے۔ یہ خود بھی اپنے انداز اور اظہار محبت میں محتاط روی کا خیال رکھتے ہیں اور اپنے محبوب سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں۔
ہوائی برج ہونے کی وجہ سے برج میزان بھی ذہانت اورذہن سے متعلق ہے۔ لہذا میزانی افراد کی محبت کا جذبہ دل سے زیادہ ذہن کا طابع ہوتا ہے۔ خیال رہے کہ برج میزان دائرہ بروج میں ایک مرکزی برج ہے۔ جو بارہ بروج کے درمیان میں واقع ہے۔ گویا بروج کے ہجوم میں گھرا ہوا ہے۔ لہذا یہ لوگ تنہائی سے خوفزدہ رہتے ہیں۔ انہیں ہر وقت ایک ساتھی کی ضرورت رہتی ہے۔ برج میزان شادی کا برج بھی ہے۔ لہذا شادی میزانی افراد کے لیے بہت خوشی کا باعث ہوتی ہے اور اگر من پسند ساتھی مل جائے تو یہ لوگ بہت مطمئن اور خوش رہتے ہیں لیکن ان کے ساتھی کو ہمیشہ کسی انتہا پسندی سے گریز کرنا چاہیے۔ ورنہ میزانی افراد پریشان ہو کر راہ فرار ڈھونڈنے لگتے ہیں۔ واضح رہے کہ اپنی امن پسندی کی وجہ سے میزانی افراد کسی مقابلے یا تنازع سے گھبراتے ہیں اور وہ مقابلہ کرنے کے بجائے اپنا راستہ بدل لینا بہتر سمجھتے ہیں۔
ایک شوہر یا بیوی کی حیثیت سے میزانی افراد تھوڑے سے مشکل ثابت ہوتے ہیں کیونکہ جس قسم کا توازن وہ ہر معاملے میں چاہتے ہیں اسے برقرار رکھنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔
میزانی افراد ضروری نہیں ہے کہ صرف ایک محبت پر قناعت کر لیں۔ ان کی زندگی میں ایک سے زیادہ رومانی تعلقات اور دلچسپیاں ہو سکتی ہیں۔ لہذا محبت کے روایتی تصور پر یہ اسی صورت میں پورا اتر سکتے ہیں جب کسی دوسرے آبی یا آتشی برج کا تعاون انہیں مل رہا ہو۔ میزانی افراد کے لیے محبت ایک رفاقت، ایک علاج تنہائی ہے۔ کسی کا ساتھ وہ اپنے لیے ضروری سمجھتے ہیں اور اس ساتھ کو استحکام دینے کے لیے شادی کو بھی ضروری خیال کرتے ہیں اگر ان کا ساتھی ایک اچھا سامع بھی ہووتو وہ بہت خوش رہتے ہیں۔ شادی کے بغیر ان کی محبت اتار چڑھاو ¿ کا شکار رہتی ہے۔ یہ بھی ان لوگوں میں سے ہیں جو آخر تک کسی نہ کسی تذبذب کا شکار رہتے ہیں اور کوئی حتمی فیصلہ کرنا ان کے لیے مشکل ثابت ہوتا ہے۔ بلکل آخری لمحوں میں یہ اپنا کوئی بھی فیصلہ تبدیل کر سکتے ہیں بلکہ اکثر تو یہ ہوتا ہے کہ میزانی افراد کسی مسئلہ میں الجھ کر اس کا بہت دیر تک ہر ہر پہلو سے جائزہ لیتے رہتے ہیں۔ بہت غور و فکر کرتے ہیں لیکن کسی فیصلے پر پھر بھی نہیں پہنچتے بلکہ آخر میں تنگ آ کر کوئی فیصلہ کیے بغیر ہی مسئلے کو ادھورا چھوڑ دیتے ہیں اور اپنے دل کو یہ کہہ کر تسلی دے لیتے ہیں کہ جب دوسرے فریق کی طرف سے کچھ ہو گا تو پھر اس کے مطابق ہی ہم بھی کوئی قدم اٹھا لیں گے۔ یہاں پر میزان افراد کے بارے میں ایک اہم حقیقت یہ سمجھ لینی چاہیے کہ یہ لوگ "پہل کار" نہیں ہوتے یعنی اپنی طرف سے کبھی پہل نہیں کرتے۔ محبت کے اظہار میں بھی پہل کرنے سے ہچکچاتے ہیں کیونکہ کوئی واضح فیصلہ کر نہیں پاتے۔ لہذا ان سے محبت کرنے والوں کو خود پہل کرنا چاہیے۔ اس انتظار میں نہیں رہنا چاہیے کہ وہ خود آگے بڑھیں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میزان افراد کو متاثر کرنے اور ان کا دل جیتنے کا سب سے بڑا گر یہی ہے کہ آپ انہیں پہل کرنے کی زحمت سے بچا لیں۔ وہ آپ کی پیش قدمی کو بہت اہمیت دیں گے اور اس سے انہیں خصوصی خوشی حاصل ہو گی۔ میزان شوہر یا بیوی کے سلسلے میں اگر اس بات کا خیال رکھا جائے تو اس کا نتیجہ بہت شاندار نکلے گا۔

برج دلو کا انداز محبت


دائرة البروج کا سب سے انوکھا اور نرالا برج دلو ہے۔ تو ظاہر ہے اس کی محبت کے انداز بھی انوکھے اور نرالے ہی ہوں گے۔ ہوائی برجوں کی تکون میں یہ تیسرا اور آخری برج ہے۔ اس کا نشان مشکیزہ بردار ایک معمّر شخص ہے۔ اپنی ماہیت کے اعتبار سے یہ ثابت (Fixed) ہے۔ 
برج دلو کا نمبر برجوں کی قطار میں گیارہواں ہے۔ گویا یہ فطری زائچہ کا گیارہواں گھر ہے جس کا تعلق امید و خواہشات اور دوستی سے ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ دلو افراد کے نزدیک محبت کے معنٰی دوستی ہیں تو غلط نہیں ہو گا۔ یہ لوگ کافی بڑا حلقہ احباب رکھتے ہیں اور اپنے دوستوں کے درمیان خوش رہتے ہیں۔ دوستوں کے کام آنا ان کے دکھ درد اور خوشی و غم میں شریک ہونا ان کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ لوگ ہمدردی کا جذبہ بھی بہت رکھتے ہیں۔ اگر سڑک پر کوئی حادثہ پیش آجائے یا کسی معذور کو سہارے کی ضرورت ہو تو ممکن نہیں ہے کہ ایک دلو شخص اسے نظر انداز کر کے آگے بڑھ جائے مگر اس خوبی کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ وہ یہ کہ اپنے اس سوشل ورک کی وجہ سے یہ لوگ اپنے ذاتی کام بھول جاتے ہیں۔ ان کی وہی مثال ہے کہ اپنے گھر میں اندھیرا اور پڑوسی کے گھر میں چراغ جلا رہے ہیں۔ دلو افراد سے ان کے اہل خانہ کو شکایت ہو سکتی ہے لیکن پڑوسیوں کو نہیں۔
برج دلو کی محبت، ہمدردی اور دوستی کے دائرے سے باہر نہیں نکلتی۔ حد یہ ہے کہ شادی کے بعد دلو مرد اور خواتین کو شوہر یا بیوی کی شکل میں ایک دوست چاہیے ہوتا ہے۔ اگر بیوی یا شوہر دوستانہ انداز اور ماحول پیدا نہ کرے تو یہ لوگ پریشان ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں یہ کوئی لڑائی جھگڑا یا تنازع مول لینے کے بجائے وقت گزاری کے لیے کوئی متبادل راستہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔
برج دلو کی محبت میں جوش و ولولہ، گہرائی اور گیرائی کا فقدان ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ شمسی برج دلو کے ساتھ کوئی آبی برج بھی موجود ہو۔
دلو افراد تعلقات کے معاملے میں کھلے دل اور کھلے ہاتھ کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔ وہ بہت جلدی تکلفات کی ساری حدیں توڑ کر آپ کے دل میں گھر کر لیں گے لیکن جیسے ہی وہ یہ محسوس کریں گے کہ آپ ان کی محبت میں بہت زیادہ سنجیدگی اور دیوانہ پن کی حدود میں داخل ہو رہے ہیں تو وہ گھبرا جائیں گے اور ممکن ہے راہ فرار اختیار کریں۔ دراصل برج دلو دوستی کے علاوہ آزادی، سچائی اور روشن خیالی کا برج بھی ہے۔ دلو افراد کے نزدیک ان کی سب سے سب سے زیادہ قیمتی شے ان کی آزادی ہے۔ جب وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ فریق ثانی ان کی محبت میں دیوانہ ہو رہا ہے اور یہ دیوانگی ان کے پیروں کی زنجیر بن سکتی ہے تو وہ گھبرا جاتے ہیں، سمجھ لیتے ہیں اب وہ ضرور ان سے شادی کا تقاضا کرے گا جس کا مطلب پابندی اور ذمہ داری ہے۔ کسی بھی قسم کی پابندی دلو افراد کے لیے ناقابل قبول ہے۔ ایسی صورت میں انہیں یہ احساس دلانے کی ضرورت ہو گی کہ شادی ایک دوستانہ اور ہمدردانہ تعلق کو مزید مضبوط بناتی ہے اور وہ اس رشتے میں بندھ کر بھی اپنی آزادی کا سودا نہی کر رہے۔
اگر دو دلو افراد ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور پھر شادی کر لیتے ہیں تو یہ جوڑی بری نہیں ہے لیکن اس میں خرابی یہ ہے کہ یہ کسی وقت بھی ٹوٹ سکتی ہے یعنی جب بھی دونوں ایک دوسرے سے بے زار ہوں گے یا ایک دوسرے سے شکایات پیدا ہوں گی تو دونوں بڑی آسانی کے ساتھ اپنے راستے الگ کر لیں گے۔ طویل عرصے تک ایک ساتھ رہنے کے باوجود وہ کسی بڑے جذباتی صدمے کا شکار بھی نہیں ہوں گے۔ بقول شاعر چار دن تڑپے تھے آخر پھر قرار آ ہی گیا۔
برج دلو سے متعلق افراد ہر معاملے میں رسم و روایات کے خلاف چلتے ہیں۔ وہ کوئی کام بھی اس طرح نہیں کرنا چاہتے جس طرح اس کام کو دوسرے کرتے ہوں۔ یہ لوگ اپنا نیا راستہ نکالنا پسند کرتے ہیں۔ اسی لیے برج دلو کو جدت پسندی اور غیر متوقع رویوں کا برج بھی کہا جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے یہ دوسروں کو حیران کرنے والے کام کر گزرتے ہیں۔ مشہور سائنسدان تھامس ایلو ایڈیسن کا شمسی برج دلو تھا۔ اس نے دنیا کو اپنی بے شمار ایجادات سے حیران کر دیا۔ جب وہ بچہ تھا تو ایک بار مرغی کے انڈوں پر بیٹھا ہوا تھا۔گھر والے بہت حیران ہوئے اور پوچھا کہ تم یہ کیا کر رہے ہو؟ تو اس نے جواب دیا "میں یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہوں کہ میں بھی مرغی کی طرح انڈوں میں سے بچے نکال سکتا ہوں یا نہیں۔"
محبت، دوستی اور تعلقات کے حوالے سے بھی دلو افراد کا رویہ حیرت انگیز ہوتا ہے۔ وہ اس معاملے میں بھی دوسروں کو چونکا دیتے ہیں۔ مثلاً وہ کسی ایسی شخصیت سے شادی کر سکتے ہیں جس سے انہیں محبت نہ ہو یا جو انہیں پسند نہ ہو۔ دلو مرد یا خواتین پوری زندگی ایسے کسی ازدواجی رشتے کو نبھانے کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتے ہیں جو ان کے لیے ناپسندیدہ ہو۔ ایسے رشتے کبھی تو ہمدردی کے جذبے کے تحت قائم ہوتے ہیں اور کبھی سوشل ورک کے طور پر وہ کسی ایسی شخصیت سے شادی کے لیے اچانک تیار ہو سکتے ہیں جس سے کوئی بھی شادی کرنا پسند نہ کرتا ہو یا اسے سہارے کی ضرورت ہو۔ ایسے موقعے پر وہ فوراً اپنی خدمات پیش کر سکتے ہیں۔
دلو افراد انوکھے ہوتے ہیں اور انوکھی چیزیں پسند کرتے ہیں جو روایت کے برعکس ہوں۔ اکثر بے جوڑ تعلقات اور شادیوں میں دلو افراد ہی اہم کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ مثلاً کوئی دلو مرد کسی ایسی عورت سے شادی کر سکتا ہے جو اس کے مقابلے میں انتہائی بدصورت یا کسی نہ کسی اعتبار سے نہایت کمتر ہو یا کوئی دلو عورت کسی ایسے شریک حیات کا انتخاب کر سکتی ہے جو ہر اعتبار سے اس سے کمتر نظر آئے۔ ایسی صورت میں وہ کسی مخالفت کی بھی پروا نہیں کرتے۔ نہ ہی انہیں اپنے اس انتخاب پر کوئی شرمندگی یا پشیمانی ہوتی ہے۔ دراصل اس معاملے میں بھی دلوافراد کی روایت شکنی اور انوکھی اور نرالی چیزوں کے پیچھے لپکنے کی فطرت کارفرما ہوتی ہے۔ وہ اپنی بے جوڑ شادی میں سب کچھ بھول کر فریق ثانی کی کسی انوکھی خوبی یا ادا کے اسیر ہو جاتے ہیں۔
دلو افراد کا اظہار محبت بڑا ہی عجیب ہوتا ہے۔ وہ اکثر دوسروں کو دھوکا دیتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ ایسا جان بوجھ کر نہیں کرتے بلکہ یہ ان کا ایک غیر اختیاری فعل ہوتا ہے۔ جب وہ کسی سے تعلقات بڑھاتے ہیں تو ان کی بے تکلفی اور ہمدردی حد سے بڑھ جاتی ہے۔ آپ کو یہ محسوس ہو گا کہ آپ کے سوا انہیں دنیا میں کسی چیز سے دلچسپی ہی نہیں ہے اور وہ آپ کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ آپ یقیناً یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ وہ آپ سے شدید محبت کرنے لگے ہیں۔ بس اب کسی وقت بھی شادی کی فرمائش کر سکتے ہیں مگر جب ایک طویل عرصہ گزرنے کے باوجود بھی وہ شادی کا لفظ زبان پر نہیں لاتے تو آپ یقیناً خود پہل کرنے کے بارے میں سوچیں گے یا کسی اور ذریعے سے انہیں شادی پر رضامند کرنے کی کوشش کریں گے مگر یاد رکھیں اس مرحلے پر بھی وہ آپ کو چونکا سکتے ہیں اور ان کا جواب کچھ اس قسم کا ہو سکتا ہے کہ میں نے تو کبھی بھی اس طرح نہیں سوچا۔ ہم بس بہت اچھے دوست ہیں یا یہ کہ میرا اب تک کا رویہ کسی ہمدردی کے جذبے کے تحت تھا۔ 
ذرا سوچیے اس قسم کے جواب کے بعد آپ کا کیا حال ہو گا؟ ساحر لدھیانوی کا ایک شعر تھوڑی سے ترمیم کے بعد دلو افراد کے اس رویے کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔

میں جیسے پیار کا انداز سمجھ بیٹھا تھا
وہ تبسم، وہ تکلم تیری عادت نکلا

بعض دلو افراد (مرد یا خواتین) برسوں کسی ایسے ہی محبت نما تعلق میں بندھے رہنے کے بعد اچانک کسی اور جگہ شادی کر بیٹھتے ہیں اور پھر یہی جواز پیش کر رہے ہوتے ہیں کہ ہمارا تعلق تو دوستی اور ہمدردی کا تھا۔ ہم ایسے کئی کیس دیکھ چکے ہیں۔ ایسی صورت حال کا نتیجہ فریق ثانی کے حق میں بہت برا نکلتا ہے۔
اس تمام گفتگو کا مطلب یہ نہیں کہ دلو افراد طوطا چشم، ہرجائی اور غیر جذباتی ہوتے ہیں۔ محبت کا پودا ان کے دل میں سرسبز و شاداب نہیں ہو سکتا۔ ایسا ہر گز نہیں ہے وہ جب کسی سے محبت کرتے ہیں تو آخری وقت تک ساتھ نبھاتے ہیں۔ بس بات صرف اتنی سی ہے کہ ان کی محبت صورت شکل، مال و دولت یا دیگر روایتی دنیاوی معیارات کے طابع نہیں ہوتی بلکہ کوئی انوکھی بات ان کی محبت کی بنیاد بنتی ہے۔ یہ بتانا بہت مشکل ہے کہ وہ ایسی کون سی بات ہو سکتی ہے۔ البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ کوئی ایسی بات جو ان کے خیال میں بہت انوکھی اور نایاب ترین ہو خواہ وہ بات دوسروں کی نظر میں معمولی اور غیر اہم ہی کیوں نہ ہو؟ 
شادی یا کسی بھی پارٹنر شپ سے دلو افراد اسی صورت میں بے زار ہوں گے۔ جب انہیں یہ محسوس ہو کہ ان کی فطری اور ذاتی آزادی خطرے میں ہے۔ دائرہ بروج کے بعض برج حاکمانہ مزاجی اور غلبہ پسندی پر مائل ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ دلو افراد ہر گز گزارا نہیں کر سکتے۔ ایسے بروج میں اسد، ثور، عقرب سر فہرست ہیں۔ دلو افراد کے ساتھ ان کی شراکت زیادہ مضبوط اور پائیدار ثابت نہیں ہو سکتی۔