ہفتہ، 30 جنوری، 2021

فروری کی فلکیاتی صورت حال،نئی بنیادیں، نیا منظرنامہ

دنیا بدل رہی ہے، آنسو بہانے والو!


 ہر گزرتا دن دنیا کو ایک نئی صورت حال یا کسی نئے غیر معمولی واقعے سے روشناس کراتا ہے، گزشتہ ماہ امریکا میں نئے صدر جیوبائیڈن نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا، اس بار امریکی صدر کے زائچہ ء حلف کی پوزیشن خاصی دلچسپ ہے، زائچے میں بیک وقت کئی اہم یوگ ترتیب پارہے ہیں، برج حمل زائچے کے پہلے گھر میں طلوع ہے جہاں سیارہ مریخ اپنی مضبوط پوزیشن کے ساتھ موجود ہے، گویا رچاکا یوگ ترتیب پارہا ہے، اسی طرح دسویں گھر برج جدی میں سیارہ زحل بھی طاقت ور پوزیشن میں ساسا یوگ بنارہا ہے،یہ دونوں یوگ اقتدار میں شدت پسندی اور اپنی حیثیت اور خواہش کو منوانے کے لیے جارحانہ طرز عمل ظاہر کرتے ہیں، چناں چہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ نئے امریکی صدر کی پالیسیاں بین الاقوامی ماحول کے لیے خاصی جارحانہ ہوسکتی ہے، ان شاء اللہ کسی نشست میں صدر امریکا مسٹر جیوبائیڈن کے پیدائشی زائچے پر بات ہوگی، فی الحال ایک دلچسپ اتفاق کا اظہار ضروری ہے۔

موجودہ دور میں مختلف ممالک کے سربراہان مملکت کے برتھ چارٹ جو دستیاب ہیں، ان میں تین افراد کا پیدائشی برج (Birth sign) میزان ہے، اول روسی صدر ولادی میر پیوٹن، دوم پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور اب امریکی صدر جیوبائیڈن۔
برج میزان کا نشان ترازو ہے، میزانی افراد امن پسند اور توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں، عدم توازن انھیں پسند نہیں ہوتا، وہ اس بات کا بھی خصوصی طور پر خیال رکھتے ہیں کہ باہمی تعلقات میں دوسرے ان کے ساتھ کس طرح پیش آرہے ہیں، ان کا رویہ اور برتاؤ کیسا ہے؟اکثر میزانی افراد اس معاملے میں ترازو ہاتھ میں لے کر بیٹھتے ہیں، وزیراعظم پاکستان عمران خان اور جیوبائیڈن کے زائچے میں دوسری مشترکہ خصوصیت دونوں کا قمری برج (Moon sign) ہے جو برج حمل میں ہے، البتہ دونوں کی قمری منزل میں فرق ہے اور یہ فرق بڑا اہم ہے جو دونوں کی فطرت جو جداگانہ رنگ دیتا ہے، بہر حال ہم عمران خان اور صدر پیوٹن کے زائچوں پر پہلے تفصیلی گفتگو کرچکے ہیں، ان شاء اللہ آئندہ کسی نشست میں مسٹر جیوبائیڈن کا زائچہ بھی زیر بحث آئے گا۔

بھارت

دنیا کی ”بڑی جمہوریت“ کہلانے والا بھارت آج کل بڑی مشکل میں ہے، اگرچہ ہم پہلے اس کی نشان دہی کرچکے ہیں اور یہ بھی بتاچکے ہیں کہ سال 2021 ء بھارت کے لیے ایک مشکل ترین سال ثابت ہوگا، بھارت کے حوالے سے ہم نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ آنے والا وقت بھارت کو شدید انتشار اور علیحدگی پسندگی کے رجحانات کی طرف لے جاسکتا ہے، جنوری کے آخری ہفتے میں یوم جمہوریہ کے موقع پر کسانوں نے جو کچھ دہلی میں کیا اور لال قلعہ پر خالصتان کا پرچم لہرایا، یہ کوئی معمولی اور نظرانداز کی جانے والی بات نہیں ہے، انتہا پسند نظریات رکھنے والے مسٹر نریندر مودی اور ان کا رفیق ٹولہ پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت پر نازاں اور مغرور ہے، وہ کشمیر سے لے کر ناگالینڈ تک اپنی من مانی کرنا چاہتا ہے، جنتا پارٹی کا نیا چہرہ ایک انتہا پسند، مذہبی جنونی پارٹی کا چہرہ ہے، اس کے بدترین نتائج بہر حال اب نظرآنے لگے ہیں، اس سال اس خطرے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ مسٹر مودی اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ کسی نئی مہم جوئی کا منصوبہ بنائیں جیسا کہ انہوں نے پہلے پلوامہ میں کیا تھا۔

پاکستان

زائچہ ء پاکستان کے مطابق ایک بڑا سیاروی اجتماع زائچے کے نویں گھر میں شروع ہوچکا ہے، سیارہ زحل، مشتری، شمس اور زہرہ فروری کے شروع ہی سے نویں گھر میں حرکت کر رہے ہیں، شمس کی قربت کے سبب زحل اور مشتری غروب ہیں، سیارہ زہرہ زائچے کے حساس درجے پر موجود ہے جو حکومت کی عمدہ اور ماہرانہ ٹیکنک کا اظہار کرتا ہے، ساتھ ہی نویں گھر کی مناسبت سے قانونی اور آئینی معاملات کے ذریعے فوائد حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہے، شاید اسی ماہرانہ ٹیکنک کا نتیجہ ہے کہ اپوزیشن کا اتحاد اب دم توڑ رہا ہے، اب پیپلز پارٹی نے تھوڑا سا رخ بدل کر بات کرنا شروع کردی ہے، اس مہینے میں سینٹ کے انتخابات بھی متوقع ہیں اور صاف نظر آرہا ہے کہ اس حوالے سے بھی حکومت کو مزید برتری حاصل ہوجائے گی۔
سیارہ عطارد دسویں گھر کے ابتدائی درجات پر بحالت رجعت حرکت کر رہا ہے لیکن 5 فروری کو وہ بھی نویں گھر میں واپس ہوگا اور غروب ہوگا، 11 فروری کو اسی نویں گھر میں قمر کی موجودگی کے سبب سات سیارگان کا اجتماع ہورہا ہے جس کے حوالے سے پہلے بھی ہم لکھ چکے ہیں، بے شک یہ اجتماع دنیا ہی کو نہیں پاکستان کو بھی ایک نئے رخ پر لے جائے گا، یہ الگ بات ہے کہ ترقی کی شاہراہ پر سفر کے دوران میں بہت سے مشکل مراحل بھی آتے ہیں اور گزر جاتے ہیں مگر سفر بہر حال جاری رہتا ہے، لوگ آتے جاتے رہتے ہیں، ناگزیر کوئی نہیں ہوتا، کوئی سیاست داں، کوئی بیوروکریٹ، کوئی جرنل، ہمیشہ اپنے مقام پر نہیں رہتا، یہی اس دنیا کا نظام ہے، ابھی کل تک دنیا بھر میں مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ کے نام کا چرچا تھا، 20 جنوری کو ان کا سورج غروب ہوگیا۔
ہر شعبے میں غیر معمولی کارکردگی دکھانے والے کبھی بھی دنیا میں کم نہیں رہے لیکن بہر حال وہ ہمیشہ نہیں رہے، ہاں ان کا کام ضرور ہمیشہ یاد رہتا ہے، لوگ ان کے کام کی اچھائی یا برائی کواہمیت دیتے ہیں، ابھی حال ہی میں جرمن چانسلر انجیلا مارکل ریٹائر ہوکر اپنے اسی فلیٹ میں واپس چلی گئی ہیں جہاں سے 20 سال پہلے انھوں نے سیاست کے سفر کا آغاز کیا تھا، وہ 16 سال تک اقتدار میں رہیں، قیادت اور اختیار کے ان تمام سالوں میں کوئی مالیاتی اسکینڈل نہیں بنا، انھوں نے کوئی بندربانٹ نہیں کی، ان کا کسی پانامہ اسکینڈل میں نام نہیں آیا، انھوں نے کوئی پلاٹ الاٹ نہیں کرایا، کوئی جہاز یا رولز رائز نہیں خریدی، ان کے کوئی خفیہ اکاؤنٹ کبھی موجود نہیں رہے، ملک میں 16 سال کے عرصے میں تقریباً ڈیڑھ ٹریلین ڈالرز کا جی ڈی پی میں اضافہ کیا، خاموشی سے اپنا کام کیا اور اپنے پرانے فلیٹ میں واپس چلی گئیں، پاکستانی سیاست دانوں کو ان سے سبق سیکھنا چاہیے۔
آج ہم دیکھتے ہیں کہ مختلف ٹی وی چینلز پر یا اخبارات و رسائل میں تبصرے کرنے والے دانش ور یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ اپوزیشن پر بڑا دباؤ ہے، یہ باتیں آج ہی نہیں، ہم نے ہر دور میں سنی ہے، ہر دور کی اپوزیشن پر حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ کا چرچا رہتا ہے اور ساتھ ہی یہ رونا بھی کہ اگر وہ حکومت کے خلاف جائیں تو دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے، اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیتا کہ آخر یہ دباؤ کہاں سے آتا ہے اور کیوں آتا ہے؟ اور ہمارے سیاست داں اپنے دور اقتدار میں کیوں ایسے کام کرتے ہیں کہ انھیں بعد میں کسی بھی نوعیت کا دباؤ برداشت کرنا پڑے، گویا انھوں نے ملک و قوم کی ترقی سے زیادہ اپنی ترقی اور اپنے مفادات کو پیش نظر رکھا تھا تو ظاہر ہے اقتدار کی چاندنی ختم ہونے کے بعد احتساب کا دروازہ کھلنا کوئی غیر متوقع بات نہیں ہوتی، ہمارے اکثر سیاست داں،بیوروکریٹس، فوجی اپنے کرئر کی ابتدا میں کیا تھے؟ اور کرئر کے اختتام پر کس مقام پر فائز ہیں یہ اس ملک کے عام شہری بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔
عزیزان من! وقت بہت تیزی سے بدل رہا ہے، ابھی ہم نے جس سعد سیاروی اجتماع کا ذکر کیا ہے یہ اجتماع مستقبل میں بہت کچھ بدل دے گا، لوگ حقیقت پسندی اختیار کریں گے،جھوٹی باتیں اور کھوکھلے دعوے ختم ہوں گے، آنے والا دور حقیقت پسندی کا دور ہوگا اور ہم دیکھیں گے کہ رفتہ رفتہ چہروں سے جھوٹی اور منافقانہ نقابیں اتر جائیں گی، ان شاء اللہ۔

فروری کی سیاروی چال

سیارہ شمس برج جدی میں حرکت کر رہا ہے، 12 فروری کو برج دلو میں داخل ہوگا، سیارہ عطارد بحالت رجعت برج دلو میں ہے، 4 فروری کو برج جدی میں آجائے گا اور پورا مہینہ اسی برج میں حرکت کرے گا،21 فروری کو مستقیم ہوگا۔
سیارہ زہرہ برج جدی میں ہے 21 فروری کو برج دلو میں داخل ہوگا، سیارہ مریخ برج حمل میں حرکت کررہا ہے، 22 فروری کو برج ثور میں داخل ہوگا، سیارہ مشتری اور زحل برج جدی میں حرکت کر رہے ہیں، پورا مہینہ اسی برج میں حرکت کریں گے،راہو کیتو اپنے شرف کے برج ثور اور عقرب میں ہوں گے۔

قمر در عقرب

قمر اپنے برج ہبوط عقرب میں 5 فروری کو بعد دوپہر داخل ہوگا اور 17 فروری تقریباً شام 03:48 pm تک ہبوط یافتہ رہے گا، یہ تمام عرصہ نحس اثرات رکھتا ہے، اس دوران میں کوئی نیا کام شروع کرنا یا منگنی و نکاح وغیرہ کرنا سخت نحس اثرات رکھتا ہے، البتہ اس دوران میں علاج معالجہ کرانا بہتر ہوتا ہے یا بری عادات سے نجات کے لیے ضروری عمل و نقوش کیے جاسکتے ہیں۔

شرف قمر

قمر اپنی شرف کے برج ثور میں 19 فروری کو داخل ہوگا، یہ وقت مبارک اور نیک کاموں کے لیے سعد ہے، اس وقت میں اپنی جائز ضروریات کے لیے خصوصی وظائف و اعمال کیے جاسکتے ہیں، پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق شرف کا مبارک وقت 20فروری کو صبح 05:35am سے شروع ہوگا اور 07:00 am تک رہے گا، اس وقت اسمائے الٰہی یا رحمن یا رحیم 556 مرتبہ پڑھ کر اپنے جائز مقاصد کے لیے دعا کریں تو ان شاء اللہ کامیابی حاصل ہوگی، اس وقت 786 مرتبہ بسم اللہ الرحمن الرحیم اول آخر گیارہ بار درود شریف کے ساتھ پڑھ کر کچھ چینی پر دم کرلیں اور وہ چینی گھر میں استعمال ہونے والی چینی میں ملادیں تاکہ گھر کے تمام افراد وہی چینی استعمال کریں، اس کی برکت سے خاندان میں محبت خلوص اور اتحاد پیدا ہوگا، نا اتفاقیوں کا خاتمہ ہوگا، رزق میں خیروبرکت رہے گی، اس چینی کو ختم نہ ہونے دیں، جب تھوڑی سی رہ جائے تو اس میں مزید چینی ملا لیا کریں۔

 

سوال و جواب

کیا کروں، کیا نہ کروں؟

رانا فرخ عظیم،جگہ نا معلوم،لکھتے ہیں ”میں موٹر سائیکل کا کام جانتا ہوں اور مزید تجربے کار ہونا چاہتا ہوں،کیا اسی کام کو سیکھ کر روزی کمانے کا کام کروں؟یا مجھے نیوی میں بھرتی ہونا چاہیے؟میں باہر ملک جا سکتا ہوں، اگر جا سکتا ہوں تو کب تک اور زندگی میں روپے کی ریل پیل ہے یا نہیں؟میں نے سیکنڈ ائیر کا امتحان دیا ہے،میری تعلیم مزید کہا ں تک ہے، میں کار مکینک کا کام سیکھوں یا نہیں؟“
جواب:عزیزم! آپ کو سارے کاموں کو پس پشت ڈال کر اپنی تعلیم مکمل کرنا چاہیے اور ابھی سے پیسہ کمانے کی ہوس میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے، ابھی آپ کی عمر ہی کیا ہے کہ آپ روپے کی ریل پیل کے چکر میں پڑ گئے ہیں،آپ کا زائچہ بہت اچھا ہے اور آپ اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکتے ہیں مگر چونکہ آپ کا شمسی برج عقرب اور پیدائشی برج حمل ہے جس کا حاکم سیارہ مریخ ہے لہٰذا آپ کی طبیعت میں بے صبری، جلد بازی اورنا فرمانی کا عنصر بھی موجود ہے، ممکن ہے حالات بھی آپ کو فوری طور پر پیسہ کمانے کے لئے مجبور کررہے ہوں مگر یاد رکھیں جو لوگ اپنی تعلیمی اور تربیتی بنیادوں کے مضبوط ہونے سے پہلے ہی دولت کے پیچھے دوڑنا شروع کر دیتے ہیں وہ ساری زندگی پھر دوڑتے ہی رہتے ہیں کیونکہ ان کی بنیاد کمزور ہوتی ہے جس کی وجہ سے انہیں زندگی میں ملنے والے بہترین چانس حاصل نہیں ہوپاتے اور وہ اپنی تعلیمی کمی کی وجہ سے دوسروں سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔
اگر مالی مسائل کی وجہ سے آپ کار مکینک کا کام سیکھ رہے ہیں اسے ایک پارٹ ٹائم جاب کے طور پر کرتے رہیں مگر اپنا تعلیمی کرئر جاری رکھیں اسے کسی قیمت پر نہ چھوڑیں اگر نیوی میں کوئی چانس مل رہا ہے تو وہ بھی اچھا ہے لیکن ہمیں امید نہیں ہے کہ آپ کو فی الحال کوئی سرکاری جاب مل سکے گی، بے شک آپ مستقبل میں باہر بھی جا سکتے ہیں مگر باہر جا کر کیا کریں گے، ٹیکسی چلائیں گے یا کسی ہوٹل میں پلیٹیں صاف کریں گے؟آپ کے لئے بہترین مشورہ یہی ہے کہ اپنی تعلیم مکمل کریں خواہ اس کے لئے آپ کو کچھ بھی کرنا پڑے، بے شک آپ ٹیکنیکل مائنڈ ہیں لہٰذا اگر کمپیوٹر کورسز کریں تو زیادہ بہتر ہوگا، موٹر سائیکل یا کار مکینک ہونا آج کے زمانے میں زیادہ فائدہ بخش کام نہیں ہے۔

پیدائشی کمزوری

جاوید حسن، سکھر:عزیزم!آپ کا زائچہ کافی کمزور ہے جس کی وجہ سے ابتداء ہی سے زندگی میں مشکلات اور محرومیاں نظر آتی ہیں‘آپ کا شمسی برج جدی اور پیدائشی برج جوزا ہے جبکہ قمری برج قوس ہے زائچے کے آٹھویں گھر میں شمس، زہرہ اور مریخ موجود ہیں جبکہ سیارہ مشتری بارھویں گھر میں ہے چار اہم سیار گان زائچے میں اگر منحوس گھروں میں ہوں تو زندگی کافی مشکل ہو جاتی ہے، خوشیاں اورکامیابیاں خواب و خیال بن جاتی ہیں،آپ کی تو ازدواجی زندگی بھی اطمینان بخش نظر نہیں آتی۔ آپ کا حاکم سیارہ عطارد ہے وہ زائچے کے ساتویں گھر میں کمزور ہے، آپ کے زائچے میں واحد طاقت ور سیارہ زحل ہے یا قمر ہے۔بہر حال ایسی صور ت حال میں خاتم زحل یقیناً فائدے مند ہو سکتی ہے مگر ایسے زائچوں کو دیکھتے ہوئے کچھ خصوصی روحانی علاج کی ضرورت ہوتی ہے جو بہر حال آسان نہیں ہوتا۔فی الحال سیارہ زحل آپ کے زائچے میں نا موافق پوزیشن میں ہے،آئندہ سال بہتر پوزیشن میں آجائے گالہٰذا اس وقت تک جو کام بھی کررہے ہیں کرتے رہیں، باقی مشورہ براہ راست فون پر کر لیں۔
”کاروباری ناکامی“
ف،الف لکھتی ہیں ”میں آپ کا کالم بڑے ذوق و شوق سے پڑھتی ہوں، ستاروں اور سیاروں کی تیکنک زیادہ سمجھ میں نہیں آتی مگر پھر بھی آپ کا کالم پڑھتی ہوں۔میرے ساتھ بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جو کہ میرے بیٹے کا ہے،مجھے اُس کے روزگار کے لیے معلوم کرنا ہے۔اُس نے جو کاروبار کیا تھا وہ ختم ہوگیا ہے اور بہت نقصان اٹھایا ہے۔دو بار دکان میں چوری بھی ہوئی، اب جاب کے لئے اپلائی کیا ہے مگر کہیں معاملہ نہیں بنتا۔ آپ سے گزارش ہے کہ اس معاملے میں میری رہنمائی فرمائیں کہ میرے بیٹے کے لیے کیا بہتر رہے گا، وہ آگے بھی پرائیویٹ امتحان دینے کی کوشش میں ہے۔“
جواب:عزیزم آپ کے بیٹے کا شمسی برج ثور اور قمری برج اسد ہے جبکہ پیدائشی برج سرطان ہے۔بے شک وہ اچھی کاروباری صلاحیتوں کا مالک ہے اور محنتی بھی ہے لیکن اُس کے گزشتہ سال ستارہ زحل کی نحوست کے تھے۔ گزشتہ سال ستمبر سے یہ نحوست ختم ہوگئی ہے مگر فی الحال ذاتی کاروبار کرنا مشکل ثابت ہوگا۔ مئی سے اکتوبر تک ایسا وقت ہے جب اُسے کوئی اچھی جاب مل سکتی ہے یا ملک سے باہر جانے کا موقع مل سکتا ہے، اس دوران میں اگر وہ کسی کاروبار کی منصوبہ بند ی کرے تو یہ بھی اچھا فیصلہ ہوگا، مزید تعلیم کے حصول پر یقینا توجہ دینی چاہیے اور ایک بات آپ کو بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ وہ ابھی خاصا کم عمر ہے۔زندگی کا زیادہ تجربہ نہیں رکھتا لہذا ذاتی کاروبار کو سنبھالنا اُس کے بس کی بات نہیں ہے،اگر کوئی ذاتی کاروبار کرنا ضروری ہو تو چھوٹے پیمانے پر شروع کیا جائے ورنہ جاب ہی بہتر رہے گی اور ساتھ ساتھ مزید تعلیم حاصل کرنے پر زور دیں۔اس کے لیے لکی اسٹون مرجان اور زرد پکھراج ہیں، ان میں سے کوئی بھی اس کو پہنا دیں۔

اتوار، 24 جنوری، 2021

جِنّی کا حملہ اورمعافی کے لیے کالی مرغیاں

ایک طالب علم کا پراسرار واقعہ اور پراسرار مرض

 کائنات رب عظیم کا ایک ایسا شاہکار ہے جس کا مطالعہ روز بہ روزعقل انسانی کے لیے حیرتوں کے نت نئے باب کھولتا رہتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ انسان ابھی صرف کرہ ارض پر موجود زندگی کے اسرارو رموز ہی سے پوری طرح واقف نہیں ہوسکا۔ بہت سے مقامات ایسے ہیں جہاں ابھی انسان کے قدم ہی نہیں پہنچ سکے۔ انسان کی بے بسی اور کم علمی تو اکثر زندگی کے روزمرہ مسائل کے مقابلے میں ہی نظر آجاتی ہے۔ وہ اپنی سی ہر کوشش کرنے کے بعد بھی جب ناکام ہوتا ہے تو سخت جھنجلاہٹ اور مایوسی کا اظہار کرتا ہے۔ یہاں تک کہ اپنی ناکامیوں اور محرومیوں یا بعض موذی اور تکلیف دہ بیماریوں کا ذمے دار کسی ماورائی نادیدہ پراسرار قوت کو ٹھہراتا ہے۔ ایک بار جب انسان حوصلہ اور ہمت ہار دے اور یہ سوچ لے کہ کوئی نادیدہ قوت اس پر اثرانداز ہورہی ہے تو پھر اسے ہر معاملے میں ناکامی کا ہی منہ دیکھنا پڑتا ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، دنیا میں انسان سے زیادہ با صلاحیت اور کرشمہ ساز کوئی اور مخلوق نہیں ہے۔ سحروجادو یا آسیب وجنات کوئی بھی ماورائی اثر زیادہ عرصے تک انسان کو اپنے قابو میں نہیں رکھ سکتا۔ تاوقت یہ کہ وہ اپنا حوصلہ نہ ہار جائے اورذہنی طور پر شکست نہ تسلیم کرلے۔

ہمارے مشاہدے میں ایسے معاملات آتے رہتے ہیں جو حوصلے کی کمی کی وجہ سے اور غلط سوچ کی وجہ سے نت نئی پے چیدگیاں اختیار کر لیتے ہیں۔ کوئی ناکامی یا کوئی مشکل یا کوئی بیماری انسان کو ایسا پست ہمت اور توہم کا شکار بنا دیتی ہے کہ پھر وہ کوئی مثبت بات سوچنے کے قابل ہی نہیں رہتا ہے۔
چند روز پہلے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی جو اپنا مسئلہ لے کر آئے تھے۔ ان کی عمر تقریبا 35 سال کے قریب ہوگی۔ تعلیم زیادہ حاصل نہیں کرسکے تھے مگر بہت سے ہنر جانتے تھے۔ اب تک شادی نہیں ہوئی تھی۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ کوئی نادیدہ قوت ان کے پیچھے لگی ہوئی ہے جو انہیں کامیاب نہیں ہونے دیتی۔ وہ کاروبار کرتے ہیں تو اس میں نقصان ہوتا ہے۔ جاب کرتے ہیں تو زیادہ عرصے نہیں چلتی۔ شادی کے لیے بہت کوشش کی مگر شادی نہیں ہوتی۔ ایک جگہ دو سال پہلے منگنی ہوگئی تھی وہ ابھی تک قائم ہے مگر شادی کی نوبت نہیں آتی۔ لڑکی والے جب بھی شادی کی تاریخ دینے کا ارادہ کرتے ہیں تو کوئی نہ کوئی مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے۔ ایک بار لڑکی کی دادی کا انتقال ہوگیا۔ ایک مرتبہ لڑکی کے بھائی کو کاروبار میں نقصان ہوگیا وغیرہ وغیرہ۔ ان کے اپنے گھریلو حالات بھی بہت خراب تھے۔ دوسال سے خود بھی بیروزگار بیٹھے تھے۔ بس گھوم پھر کر کوئی کام مل جاتا تو کرلیتے۔ دو سال پہلے تک کسی فیکٹری میں اچھی خاصی جاب تھی جو صرف اس وجہ سے چھوڑنا پڑی کہ فیکٹری کے کچھ سینیئر افسران ان سے ناجائز کام لینا چاہتے تھے۔ قصہ مختصر یہ کہ ان کا خیال یہی تھا کہ ان کے ساتھ جو کچھ بھی ہورہا ہے یہ کسی پراسرار نادیدہ قوت کی کارفرمائی ہے۔
جب ان کا زائچہ دیکھا تو اندازہ ہوا کہ موصوف اول درجے کے بے فکرے، غیر ذمے دار، کام چور، آرام طلب اور فضول کاموں میں دلچسپی لینے والے انسان ہیں۔ ان کی غیر مستقل مزاجی اور غیر ذمے داری کا شاخسانہ یہ ہے کہ زندگی میں بہت سے کام سیکھنے اور کرنے کے باوجود آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں ابتدائی عمر میں کھڑے تھے۔ اب اپنی نالائقیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے بہانے گھڑ لیے ہیں کہ میرے ساتھ کوئی پراسرار مسئلہ ہے۔ میں تو بہت کچھ کرنا چاہتا ہوں مگر مجھے کرنے نہیں دیا جاتا۔ پھر اپنے دعوے کے ثبوت میں انہوں نے ایک مثال پیش کی۔ بولے ”میں نے چائے کا ہوٹل کھولا تو چائے بنانے کے لیے چولہے پر جو پانی رکھاوہ گرم ہی نہیں ہوتا تھا۔ خواہ کتنی دیر بھی آگ پر رکھا رہے مگر گرم نہیں ہوتا تھا۔ اب آپ بتائیں یہ سب کیا ہے؟“
ہمارے لیے ممکن نہیں تھاکہ ان سے کہتے”یہ سب آپ کی ڈرامے بازی ہے۔“ انہوں نے اپنے ایسے بہت سے واقعات سنائے کہ ان کے کھانے میں سے کیڑے مکوڑے نکلتے ہیں۔ کبھی لال بیگ، کبھی مکھی اور حد یہ کہ ایک مرتبہ چھپکلی نکل آئی وغیرہ وغیرہ۔ ہم نے ان سے عرض کیا ”آپ الیکٹرک اور ایئر کنڈیشننگ کا اچھا کام جانتے ہیں اور اس کام کی ڈیمانڈ بھی بہت ہے پھر آپ نے یہ کام چھوڑ کر چائے کا ہوٹل کیوں کھول لیا؟“
کہنے لگے ”اس کام میں بے ایمانی کرنا پڑتی ہے اور جھوٹ بھی بولنا پڑتا ہے اور چونکہ میں سخت مذہبی آدمی ہوں، ایک سلسلے سے بیعت ہوں لہذا یہ کام چھوڑدیا۔“
ہم نے عرض کیا ”جب آپ مذہبی بھی ہیں اور صاحب سلسلہ ہیں، بیعت کرچکے ہیں تو یقینا آپ کے پیرومرشد بھی ہوں گے؟ تو پھر آپ کے پیچھے جو چیز لگی ہوئی ہے اس سے نجات کیوں نہیں ملتی؟“
بولے”وہ ہمیں نماز نہیں پڑھنے دیتی اور اسی وجہ سے ہمارے پیر صاحب بھی ہم سے ناراض رہتے ہیں اور اس معاملے میں ہماری کوئی مدد نہیں کرتے۔“
عزیزان من، یہ گفتگو اس لیے نقل کردی گئی ہے کہ آپ خود اندازہ لگالیں کہ مسئلہ کیا ہے اور صاحب مسئلہ کی کیفیت کیا ہے؟ دراصل ہم یہاں ایک اور مسئلے پر گفتگو کرنا چاہتے تھے مگر درمیان میں یہ واقعہ یاد آگیا۔ آئیے ایک خط کی جانب جو ای میل کے ذریعے ہمیں ملا ہے۔ نام اور جگہ ہم ظاہر نہیں کررہے۔
”میرا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہے۔ میٹرک کے بعد میں نے جاب کے بارے میں سوچا لیکن والد نے مزید تعلیم جاری رکھنے پر زور دیا، والد اور گھر والوں کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے میں نے محنت کی اور اچھی پوزیشن لے کر یونیورسٹی تک آگیا، اس دوران میں ٹیوشن بھی کرتا رہا، گریجویشن کرنے کے بعد اب دوسال ہونے کو ہیں مجھے جاب نہ ملنا تھی، نہ ملی۔

”یہ دسمبر 2002 کی بات ہے۔ میں ٹیوشن پڑھا کر واپس گھر آرہا تھا، راستے میں ایک سنسان گلی میں مجھے زور کا پیشاب محسوس ہوا اور میں وہیں سائیڈ میں پیشاب کرنے بیٹھ گیا، ابھی پیشاب کررہا تھا کہ اچانک مجھے ایسا محسوس ہوا کہ کسی نے میرے سر میں ہتھوڑا مار دیا ہو اور میرا سر بھاری ہوگیا، حالاں کہ وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔ میں جیسے تیسے گھر پہنچا اور آکر بستر پر لیٹ گیا۔ میری حالت خراب ہوتی جارہی تھی۔ جس جگہ چوٹ لگی تھی، وہ جگہ سن ہوتی جارہی تھی۔ آنکھیں لال پیلی ہوچکی تھیں اور جسم بھاری ہوگیا تھا۔ یہ حالت دیکھ کر سارے گھر والوں نے رونا شروع کردیا اور ابو پڑوس کی مسجد کے قاری صاحب کو لے کر آئے۔ انہوں نے پورا واقعہ پوچھا،وہ اسی وقت ابو امی کو لے کر اس جگہ پر گئے اور تقریبا دو گھنٹے بعد واپس آکر انہوں نے کہا کہ جس جگہ آپ نے پیشاب کیا ہے وہاں جنات کی ایک فیملی بیٹھی تھی اور پیشاب کی چھینٹیں ان کو لگی ہیں جس پر اس فیملی کی ایک نوجوان لڑکی نے غصے میں آکر آپ پر حملہ کردیا ہے۔ آپ کے سر پرپچھلی طرف تھپڑ مارا ہے۔ میں ان جنات سے بات کرکے آیا ہوں۔ کل صبح دو کالی مرغیاں لے کر ان سے معافی مانگنی ہوگی پھر انہوں نے کچھ قرانی آیات پڑھ کر مجھ پر دم کیا۔ اس کے بعد میری حالت کچھ سنبھل گئی۔ دوسرے دن صبح دو کالی مرغیاں لے کر ہم وہاں گئے اور ان سے معافی مانگ لی، ان سب نے مجھے معاف کردیا مگر شاید جس جن لڑکی نے مجھ پر حملہ کیا تھا اس نے معاف نہیں کیا اور وہ تکلیف آج تک مجھے ہوتی ہے۔ سر بھاری اور سن ہوجاتا ہے۔ تعلیم کے دوران میں میرا سر اتنا بھاری ہوجاتا کہ سیدھا رکھنا مشکل ہوجاتا۔ اتنی تکلیف کے باوجود میں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد مجھے اور بھی تکلیفیں شروع ہوئیں جو ابھی تک جاری ہیں۔ دوسال پہلے یہ مسئلہ شروع ہوا کہ جسم سے بدبو آنے لگی حالانکہ میں صفائی اور پاکیزگی کا بہت خیال رکھتا ہوں۔ اس بدبو کے عذاب نے جینا دوبھر کردیا ہے۔ میری سوشل لائف ختم ہوچکی ہے، شرم کے مارے کسی سے ملتا نہیں ہوں۔ سارا دن گھر میں پڑا رہتا ہوں۔ اب ناامیدی حد سے بڑھ چکی ہے اور خودکشی کے خیالات زور پکڑ رہے ہیں۔ میرے گھر والے سب مایوس ہوچکے ہیں مگر اس مایوسی کی سیاہ کالی رات میں بھی ابھی ایک امید کی کرن باقی ہے۔ میں اللہ کی مدد کی روشنی کے انتظار میں ہوں۔ میں نے آپ کی کتاب مسیحا پارٹ ون میں اسم اعظم نکالنے کا طریقہ دیکھ کر اپنے نام کے اعداد 174کا اسم اعظم نکالا ہے جو یہ ہے۔ ”یا وہاب اللطیف۔“ اس کے علاوہ ”یا اللہ الوکیل“،”ھوالطبیب الحکیم“ اور ”یا طیب القوی“ سب کے اعداد 174ہیں۔ اب آپ بتائیں انہیں کس طرح پڑھا جائے۔ میں نے مختلف مقاصد کے تحت مختلف اسم اعظم نکالے ہیں۔ میں اس کی زکات سوا لاکھ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ اس کی آپ اجازت دیں۔“
جواب: عزیزم، آپ کے ساتھ جو واقعہ ہوا وہ یقینا قابل غور ہے۔ بے شک سنسان اور ویران جگہوں پر جنات ہوسکتے ہیں لیکن اس طرح آباد گلی کوچوں میں جنات کی فیمیلیز قیام نہیں کرتیں۔ بے شک کسی بھی جگہ پیشاب کرنا دوسرے معنوں میں گندگی پھیلانا ایک نامناسب اور غیر اخلاقی بات ہے۔ قاری صاحب نے آپ کی بروقت مدد کی اور قرانی آیات پڑھ کر دم کیا جن کی وجہ سے آپ کو تقویت حاصل ہوئی، ڈر اور خوف دور ہوگیا لیکن کالی مرغیوں کا معاملہ سمجھ میں نہیں آیا، معافی کی حد تک بات ٹھیک ہے لیکن کالی مرغیوں کا بھتا جنات کودینا خاصا عجیب ہے، دوسری بات یہ کہ اگر آپ ایک غلط حرکت کر رہے تھے یعنی پیشاب کرنا شروع کردیا تو جنات کا وہاں بیٹھنا بھی قابل غور ہے، کیا آپ نے خود دیکھا تھا کہ کالی مرغیاں قاری صاحب نے جنات کو پیش کی تھیں؟آپ کو اپنے سر درد یا سر کی تکلیف کے سلسلے میں بھی قاری صاحب سے مزید رجوع کرنا چاہیے تھا۔
آپ کی دیگر بیماریوں کا تعلق اس واقعے سے الگ نظر آتا ہے۔ آپ نے جو مسائل اور تکالیف لکھی ہیں یہ عموما سفلس اور سائیکوٹک امراض میں پائی جاتی ہیں۔ خاص طور پر جسم یا پسینے اور دیگر اخراجات میں بدبوکا پایا جانا۔ ایک اور رہنما علامت آپ نے یہ بھی لکھی ہے کہ آپ کو صفائی اور پاکی کا بہت خیال رہتا ہے۔ یہ بھی سفلس کی علامت ہے۔
سفلس کی بیماریاں عموما غیر فطری مشاغل کی وجہ سے جنم لیتی ہیں مگر ان کی ایک وجہ کسی نامناسب جگہ پر پیشاب کرنا بھی ہوسکتاہے خصوصا جلتی دوپہر میں تپتی زمین یا پتھر پر یا ایسی جگہ جہاں زمین میں چونا موجود ہو۔ بہرحال وجوہات کچھ بھی رہی ہوں آپ کو معقول علاج معالجے پر توجہ دینا چاہیے۔ایسی بیماریوں کا شافی و کافی علاج ہومیو پیتھک طریقہ ء کار میں موجود ہے۔ آپ کی بیماری اب خاصی پیچیدہ ہوچکی ہے لیکن لاعلاج نہیں ہے۔گھر میں منہ چھپا کر بیٹھنے کے بجائے کسی تجربے کار ہومیو پیتھ ڈاکٹر سے رجوع کریں اور اپنے ذہن سے یہ وہم نکال دیں کہ ”جن لڑکی“ کا تھپڑ ابھی تک آپ کے لیے ایک سزا بنا ہوا ہے اور اس کا آپ کو معاف نہ کرنا آپ کے لیے عذاب کا سبب ہے۔ ایسے واقعات زیادہ عرصے تک اپنا اثر نہیں رکھتے اور جو غلطی آپ سے ہوئی تھی، وہ بھی اتنی بڑی نہیں تھی کہ جس کی سزا آپ کو عمر بھر بھگتنا پڑے۔ اللہ نے اتنا اختیار کسی کو نہیں دیا کہ معمولی باتوں پر غصے میں آکر زندگی بھر کسی کو عذاب میں مبتلا کرے۔ ایسا کرنے والا پھر خود بھی قہر خداوندی کا شکار ہوتا ہے۔ اگر انصاف کی بات کی جائے تو اس جن فیملی سے بھی یہ پوچھا جاسکتا تھا کہ آپ لوگ ایک راہ گزر میں دھرنا دیے کیوں بیٹھے تھے اور کیوں ایک شخص کے پیشاب کرنے کا نظارہ فرما رہے تھے جبکہ قانون قدرت کے مطابق وہ تو آپ کو نہیں دیکھ سکتا تھا مگر آپ تو اس کو دیکھ رہے تھے اور سمجھ رہے تھے کہ وہ کیا کرنے جارہا ہے۔ اس کی حرکت تو غیر اخلاقی اس صورت میں ہوگی جب وہ آپ کو دیکھ کر اور جان بوجھ کر پیشاب کرتا۔ آپ کو ناپاک ہونے کا خیال پہلے کیوں نہیں آیا کہ اس جگہ سے دور ہٹ جاتے۔ بہرحال اب یہ بحث فضول ہے اور آپ اپنے ذہن سے یہ خیال نکال دیں۔ آپ نے یہ نہیں لکھا کہ جسم سے آنے والی بدبو صرف آپ کو محسوس ہوتی ہے یا دوسروں کو بھی؟ ہمیں یقین ہے کہ یہ بدبو صرف آپ کو ہی محسوس ہوتی ہوگی۔ اگر دوسروں کو محسوس ہوتی تو آپ کے گھر والے ضرور اس کا نوٹس لیتے اور آپ کو کسی معالج کے پاس لے جاتے۔
آپ کا زائچہ دیکھنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ آپ نے کچھ باتیں ہم سے بھی پوشیدہ رکھی ہیں اور اپنی بیماریوں کے سلسلے میں بعض وجوہات کو راز میں رکھا ہے کیونکہ آپ کا پیدائشی برج عقرب ہے اور طالع کا حاکم مریخ بارہویں گھر میں بیٹھا ہے جبکہ بارہویں گھر کا حاکم زہرہ طالع میں ذنب کے ساتھ ہے۔ یہ ”پری ورتن یوگ“ ہے اور یوگ بنانے والے اسٹار زہرہ اور مریخ پہلے بارہویں اور چھٹے ساتویں گھروں سے تعلق رکھتے ہیں لہذا پیچیدہ نوعیت کی ذہنی اور دماغی بیماریاں جنم لے سکتی ہیں۔ ایسے لوگوں کی زندگی میں کچھ نہ کچھ خفیہ راز ضرور ہوتے ہیں۔ ہم بھی ان کی نقاب کشائی نہیں کریں گے۔
آپ نے جو اسم اعظم ترتیب دیے ہیں وہ بلاشبہہ بہت شان دار ہیں۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کا اسم اعظم ”یا حی و یا قیوم“ بھی ہے کیونکہ دونوں اسمائے الہی کے اعداد 174 ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ آپ کے لیے زیادہ بہتر ہے، آپ کا پہلا مسئلہ صحت یابی ہے اور یا حی و یاقیوم کا ورد صرف نفع بخش ہی نہیں، صحت بخش بھی ہے۔ باقی فی الحال زکات ادا کرنے کی مہم میں خود کو نہ ڈالیں۔ آپ کی موجودہ حالت اور صحت ایسے وظیفوں اور چلوں کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ صرف ہومیو پیتھک علاج ہی آپ کی بگڑی ہوئی کیمسٹری کو درست کرسکتا ہے۔
شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات!

ہفتہ، 16 جنوری، 2021

ذہنی مسائل، روحانی مسائل اور روحانی مسائل ہی ذہنی مسائل

ہمارے مسائل کے رنگ برنگے زاویوں پر ایک دلچسپ تحریر

 روحانی یا روحی یا نفسیاتی بیماریوں کی اصطلاح عام ہے اور لوگ اس میں اس طرح فرق کرتے ہیں کہ روحانی امراض کو ماورائی یعنی نادیدہ قوتوں کی طرف منسوب کرتے ہیں یا پھر سحر و جادو اور عملیات و تعویذات کی کارروائی قرار دیتے ہیں۔ جب کہ نفسیاتی بیماریوں کو ذہنی فتور یا دوسرے معنوں میں دماغ کا خلل قرار دیا جاتا ہے۔ اس طرح بیماریوں کی دو اقسام وجود میں آگئی ہیں یعنی روحانی یا روحی اور نفسیاتی۔ اکثر لوگ روحانی یا روحی میں بھی فرق کرتے ہیں حالانکہ اصولاً دونوں کا ماخذ ایک ہی ہے یعنی روح۔ انگریزی زبان میں ان دونوں لفظوں کے لیے یا ایسے روحانی معاملات کے لیے ایک ہی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے اور وہ ہے ”اسپریچول ازم“، یعنی روحانیات یا روحیات۔

نفسیات جسے انگریزی میں سائیکلوجی کہا جاتا ہے صرف انسان کے ذہن تک محدود ہو کر رہ گئی ہے یعنی وہ تمام مسائل جن کا تعلق انسان کے ذہنی میلان و رجحانات سے ہے علم نفسیات کے ماتحت کر دیے گئے ہیں، دوسرے الفاظ میں ہم اس بات کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس طرح انسانی ذہن اور روح کو الگ الگ کر دیا گیا ہے، تو کیا واقعی ایسا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ مندرجہ بالا نظریات کی ضرورت اس لیے پیش آئی تاکہ جدید علم نفسیات کو سائنس کے جدید تجرباتی اصولوں تک محدود کر دیا جائے کیوں کہ اس کے بغیر جدید سائنس کے مبلغین علم نفسیات کو سائنسی علم ماننے کے لیے تیار ہی نہیں تھے اور انسانی نفسیات کے حوالے سے جو مابعد الطبیعاتی مسئلے موجود تھے، انہیں تجربات کی کسوٹی پر پرکھنا بھی ممکن نہیں تھا، لہٰذا وہ انہیں قابل توجہ نہیں سمجھتے تھے ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ قدیم ترین فلاسفہ میں افلاطون نے انسانی نفسیات کے حوالے سے مابعدالطبیعاتی مسائل کو نفسیات کے علم سے علیحدہ نہیں رکھا اور وہ انسانی ذہن و روح کے معاملات میں کوئی تقسیم نہیں کرتا۔
اصل میں بنیادی جھگڑا اس وقت شروع ہوتا ہے جب مذہبی عقائد اور مادیت کے نظریات ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہوتے ہیں، مذہبی عقائد ایک انسانی روح کا تصور پیش کرتے ہیں جو ان کے خیال میں گوشت پوست، خون اور ہڈیوں کے پیکر انسانی کو نہ صرف متحرک رکھتی ہے بلکہ اسے برے بھلے کا شعور بھی دیتی ہے، اس کے مقابلے میں جدید سائنس چوں کہ روح کو ناقابل تجربہ سمجھتے ہوئے نظرانداز کرتی ہے لہٰذا وہ اس کی جگہ انسانی دماغ کی اس قوت و کارکردگی سے بحث کرتی ہے جسے ذہن کہا جاتا ہے لہٰذا اس سارے جھگڑے نے انسان کی روحانی بیماریوں کو دو حصوں میں تقسیم کرد یا ہے۔
انگریزی زبان میں علم نفسیات کے لیے سائیکلوجی کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے جس کا ڈکشنری کے مطابق ترجمہ روح کا علم ہوگا۔
اُردو میں ”نفسیات“ کا لفظ مروج ہے جو ”نفس“ سے لیا گیا ہے اور نفس کیا ہے، ہمارے اندر آتی جاتی سانس۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سانس کیا ہے؟ کیا ہم اسے صرف ناک سے اندر جاتی اور باہر آتی ہوا کہیں گے، ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ سانس، دم یا جان یا روح کے معنوں میں ہی مستعمل ہے، کسی انسان کی موت کے بعد ہمارے ہاں جو جملے بولے جاتے ہیں ان میں ”روح کا جسم سے پرواز کر جانا“ یا ”دم نکل جانا“ یا پھر ”سانس ٹوٹ جانا“ تقریباً ایک ہی معنی رکھتا ہے۔
عزیزانِ من! اب تک کی ساری گفتگو ممکن ہے ہمارے پڑھنے والوں کو بے سروپا، نہایت مشکل اور عجیب محسوس ہو رہی ہو۔ ہم نے اپنے طور پر کوشش تو کی ہے کہ روح اور ذہن میں جو فرق واقع ہوگیا ہے اس کی تھوڑی سی وضاحت کر سکیں اور یہ بتا سکیں کہ درحقیقت ہمارے ذہنی مسائل ہی ہمارے روحانی مسائل ہیں اور ہمارے روحانی مسائل درحقیقت ہمارے ذہنی مسائل ہیں، ایک ہی بات کو ہم دو مختلف طریقوں پر بیان کر سکتے ہیں اور سمجھ سکتے ہیں کیوں کہ اس مسئلے کو سمجھے بغیر ہمار ا معاشرہ جو حد سے زیادہ ماورائیت اور سحر و جادو کے مسائل میں الجھتا چلا جارہا ہے، درست طور پر اپنی بیماریوں اور جملہ تکلیفات کی حقیقت نہیں سمجھ سکتا۔ اس کے ساتھ ہی آیئے ایک خط کے چیدہ چیدہ اقتباسات کی طرف جس میں ہم سے کچھ ایسے سوالات کیے گئے ہیں جن کے جوابات مندرجہ بالا تشریح کے بغیر دینا ممکن نہ تھا۔
خط بھیجنے والی شخصیت کا نام و مقام ہم ظاہر نہیں کرنا چاہتے، ان کے بارے میں صرف اتنا حوالہ دینا کافی سمجھتے ہیں کہ وہ روحانی علاج و معالجے کے سلسلے میں کئی روحانی معالجین کے رابطے میں رہی ہیں اور خود بھی علم نجوم و جفر، پامسٹری اور دیگر علوم خفیہ سے دلچسپی رکھنے کی وجہ سے خاصی صاحبِ مطالعہ ہیں۔ اپنے طویل خط میں وہ لکھتی ہیں:
”مجھے اس لائن کے لوگوں کی ذہنیت کا قطعی اندازہ نہیں اور ان کی قیمت کیا ہے، یہ کس طرح تربیت کرتے ہیں، یہ کس طرح سے بندے کو ہینڈل کرتے ہیں۔ ان کے پاس جانے کا مطلب ایک لمبی قید ہوتی ہے۔ یہی چیز پریشان کر رہی ہے۔ ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ ہمیں بچا رہے ہیں یا ڈبور رہے ہیں؟ جو کچھ ہو رہا ہے اسے جادو میں شمار کیا جائے گا یا نہیں؟ دماغی بیماریاں ہیں تو اس کا علاج علم جفر سے ممکن ہے یا نہیں۔ اتنی علمی اور عملی قوتوں کے باوجود ان معاملات میں پھنس جانا کیا معنی رکھتا ہے کہ کوئی دشمنی کر رہا ہے! یہ کون سے اسماء الحسنیٰ کا علم و عرفان رکھتے ہیں؟ اور ان سے کیسے چھٹکارا ممکن ہے۔ پہلے تو شیطانی قوت سے حفاظت اور پھر جان و مال اور عزت کی حفاظت، مجھے وہ حرکت صاف محسوس ہوتی ہے جو آنکھوں کے ذریعے اثر ڈال کر اندھا کر دیتی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ جان بوجھ کر کوئی حرکت کی جا رہی ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے کوئی اور شخصیت ہمارے ساتھ ہے جو متحرک ہے، یقینا کوئی نادیدہ چیز ہمارے ساتھ کر دی گئی ہے، ہمیں اس ظلم سے نجات کب ملے گی؟ ان لوگوں کے اختیارات کے بارے میں کیسے علم ہو؟ ان سے بازپرس کرنے والا کون ہے؟ میرا رابطہ اگرچہ اپنے روحانی معالج سے منقطع ہے لیکن میں دوبار خواب میں دیکھ چکی ہوں کہ میں انہیں فون کر رہی ہوں، اپنی پریشانی بتا رہی ہوں۔ کیا وہ میرے مددگار نہیں؟ ایک دن میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص جس کی داڑھی ہے وہ ہمارے گھر میں بیٹھا ہے اور میں اس سے کہہ رہی ہوں کہ تم یہاں سے جاتے کیوں نہیں؟ اس کے علاوہ جاگتی حالت میں بھی مجھے اپنے پیچھے ایک جسم محسوس ہوتا ہے اس کا کیا مطلب ہے؟ بعض اوقات میں خود کو مصیبت میں دیکھتی ہوں مگر حقیقت میں میری کوئی بہن یا عزیز اس پریشانی میں ہوتا ہے کیا مختلف لوگ مختلف حالات و واقعات دکھاتے ہیں۔ ان تمام باتوں کو کیسے سمجھا جائے؟ اکثر مجھے غلاظت میں لپٹا کوئی جسم نظر آتا ہے اور وہ اپنی ایک رشتے دار کا محسوس ہوتا ہے، ہیں تو وہ بہت فسادی مگر اس کا مطلب کیا ہے؟ کڑی سے کڑی جڑی ہوئی محسوس ہوتی ہے، میری چھوٹی بہن بتاتی ہے کہ اسے آواز آتی ہے یعنی اسے بھی ایسا ہی کر دیا جائے گا، کیا کوئی ہمارے خاندان سے بدلہ لے رہا ہے؟ سب کے کام بگڑ ہی رہے ہیں۔“
جواب: عزیزم! ہم نے ابتدا میں روح اور ذہن اور روحانی و ذہنی امراض کے حوالے سے جو کچھ لکھا ہے اسے غور سے پڑھ لیں اور ہمارا مشورہ ہے کہ ایک بار نہیں بار بار پڑھیں اور اس حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ انسانی ذہن یا روح میں جب پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں تو ہمارے اردگرد ایک جہانِ حیرت وجود میں آجاتا ہے جسے سمجھنا ہمارے بس کی بات نہیں ہوتا۔ اس کی بھول بھلیوں میں پھنس کر ہم ایسے ایسے تجربات و مشاہدات سے گزرتے ہیں جن کی عقلی توجیہہ ناممکن ہو کر رہ جاتی ہے اور پھر لامحالہ ذہن نادیدہ قوتوں کی کارفرمائی کی طرف چلا جاتا ہے۔ آپ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے جسے آپ کی حد سے بڑھی ہوئی انانیت تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
ہم اس بحث میں تو پڑنا نہیں چاہتے کہ اس راستے میں آپ کی جن معالجین سے ملاقات ہوئی اور ان کا جو سلوک اور طرزعمل رہا اس کی کیا حیثیت ہے لیکن ہم یہ وضاحت ضرور کریں گے کہ ان لوگوں سے آپ کو بہرحال درست رہنمائی نہیں ملی مثلاً آپ نے علم نجوم کے بارے میں جو کچھ سیکھا اور پڑھا وہ آپ کے ذہن کو مزید الجھانے اور گم راہ کرنے کا سبب بنا، یہی حال پامسٹری، علم جفر اور دیگر علوم کا بھی ہے،آپ کی اکثر باتوں سے یہ تاثر ملتا ہے کہ شخصیت پرستی کا فریب آپ کو لے ڈوبا اور آپ پہلے مختلف شخصیات کے ٹرانس میں آئیں اور بعد میں مختلف علوم کے ٹرانس میں خو دکو دے دیا، ہمارا مشاہدہ ہے کہ جو لوگ اللہ کے دین کی درست معلومات نہیں رکھتے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور ہستی کو بالائے طاق رکھ کر مختلف علوم کے دعوے داروں کی ذات اور شخصیت ہی کو سب کچھ سمجھنے لگتے ہیں انہیں گم راہ ہوتے دیر نہیں لگتی اور پھر کوئی بھی مسئلہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا، وہ لاکھ کڑی سے کڑی ملاتے رہیں ان کے خیالات کی زنجیر روز بہ روز الجھتی ہی چلی جاتی ہے، آپ کے سوالات میں الجھاؤ کے ساتھ یہ کم علمی جگہ جگہ محسوس ہوتی ہے، مثلاً آپ نے طے کر لیا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ چوں کہ آپ کی سمجھ میں نہیں آرہا لہٰذا اگر اسے جادو میں شمار نہیں کیا جائے تو کیا کہا جائے؟ آپ دماغی بیماریوں کا علاج علم جفر سے ڈھونڈ رہی ہیں یا یہ کہ آپ کے ذہن میں علم جفر کے حوالے سے الجھنیں پیدا ہوگئی ہیں۔
جن شخصیات سے آپ ذہنی طور پر متاثر ہوئی ہیں ان سے مایوس ہونے کے بعد بھی ان کی علمی اور روحانی قوت سے خوف زدہ ہیں اور چھٹکارے کی خواہش مند ہیں۔ آپ کے خواب بھی آپ کی اسی الجھی ہوئی منتشر ذہنی اور روحانی کیفیات کو ظاہر کرتے ہیں۔ مثلاً آپ غلاظت میں لپٹی ہوئی ایک ایسی شخصیت کو دیکھتی ہیں جس کے بارے میں آپ کی رائے اچھی نہیں ہے، اپنے سابق معالج کو خواب میں فون کرنا اور ان سے اپنی پریشانی بیان کرنا اور پھر اس خواب کے بارے میں یہ خیال کرنا کہ یہ معالج کی کوئی کارستانی ہے، وہ اپنی سحری قوت سے آپ کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے، آپ کے لاشعور میں چھپا ہوا وہ چور ہے جس سے آپ خود حالتِ شعور میں نظریں چرا رہی ہیں۔ یہی حال دیگر خوابوں کا بھی ہے۔ یہاں ہمیں صوفی غلام مصطفی تبسمؔ کا ایک شعر یاد آرہا ہے جو آپ کی ذہنی، نفسیاتی، روحانی کیفیات کی نہایت دلچسپ اور خوبصورت عکاسی کرتا ہے۔ ذرا اس پر غور کیجیے ؎

 

اللہ کرے جہاں کو میری یاد بھول جائے
اللہ کرے کہ تم کبھی ایسا نہ کر سکو

اب آیئے اپنے اصل مسئلے اور اپنی تازہ صورتِ حال کی طرف مگر اس سے پہلے چند باتیں آپ کے زائچے کے حوالے سے کیوں کہ آپ خود بھی علم نجوم سے شغف رکھتی ہیں تو کم از کم ہماری ان باتوں سے انکار نہیں کر سکیں گی۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ اپنے شمسی، قمری برج کے علاوہ طالع پیدائش سے بھی آپ واقف ہیں اور اس سے متعلق مثبت اور منفی خصوصیات کا بھی یقینا علم ہوگا مگر جس اہم نکتے کی طرف ہم توجہ دلا رہے ہیں وہ یہ ہے کہ زائچے کے پہلے گھر میں یعنی طالع پیدائش میں شمس کی موجودگی کبھی کبھی تو انانیت کا ایسا طوفان کھڑا کرتی ہے کہ انسان اگر خدائی کا دعویٰ کر بیٹھے تو ایک اچھے ماہر نجوم کو تعجب نہیں ہوگا۔ ہمارے مشاہدے میں تو ایسے ہزاروں زائچے آچکے ہیں کہ اگر شمس طالع میں موجود ہو اور باقوت بھی ہو تو صاحب زائچہ کی انا آسمان کو چھوتی ہے اور اس پر طرفہ تماشا حالات کی ناسازگاری، زندگی کی محرومیاں بھی ساتھ میں ہوں تو انسان کی سائیکی بری طرح بگڑ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں ہسٹریا یاشیزوفرینیا وغیرہ جیسی بیماریاں اسے اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں اور آپ درحقیقت شیزوفرینیا کی مریضہ ہیں، اس بیماری میں تقسیم شخصیات کا مرحلہ ایسے ہی حیرت انگیز تماشے دکھاتا ہے جن سے آپ دوچار ہو رہی ہیں، شیزوفرینیا کے مریض کو ایسا لگتا ہے کہ جیسے کوئی ہر وقت اس کے ساتھ ہے اور وہ نادیدہ آوازیں سنتا ہے۔ الغرض یہ کہ ہر وہ بات اسے محسوس ہوتی ہے جس کے بارے میں وہ شعور رکھتا ہے اور کسی وقت اس کا ذہن بھٹک کر اس طرف چلا جاتا ہے۔
شیزوفرینیا ایک ایسا نفسیاتی عارضہ ہے جس میں انسان کی تقسیم شدہ شخصیت کئی بہروپ دھار لیتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایسے واقعات عام ہیں جن میں لوگ نادیدہ مخلوق کی اپنی زندگی میں مداخلت کی نشان دہی کرتے ہیں اور عام طور پر ایسے معاملات کو جن بھوت یا کسی روح وغیرہ کی کارروائی خیال کیا جاتا ہے یا عام زبان میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کسی نے سحر و جادو کے ذریعے ہم پر گندی چیزیں مسلط کر دی ہیں، اس بیماری میں عورت یا مرد، دونوں ایسی کیفیات سے بھی گزر سکتے ہیں جن میں یہ محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ان کے ساتھ موجود نادیدہ وجود ان پر غلبہ پا رہا ہے، اکثر خواتین نے ایسے کیسوں میں یہ شکایت بھی کی ہے کہ وہ خلوت میں بالکل اس صورتِ حال سے دوچار ہوتی ہیں جو اپنے شوہر سے ملنے کے وقت ہوتی ہے۔ اس معاملے میں شادی شدہ اور غیرشادی شدہ کی تخصیص نہیں ہے۔ ہم بارہا ایسے کیسوں کا مشاہدہ کر چکے ہیں۔ الغرض ”شیزوفرنییا“ ایک ایسی بیماری ہے جس کے ہزار روپ ہو سکتے ہیں اگرچہ ماہرینِ نفسیات اسے صرف انسانی شخصیت کے بگاڑ تک محدود رکھتے ہیں اور ایک ذہنی عارضہ قرار دیتے ہیں لیکن ہمارے نزدیک یہ روحانی یا روحی عارضہ بھی ہے، بے شک اس کا علاج بہت مشکل ہوجاتا ہے اور اس کی وجہ بنیادی طور پر یہ ہوتی ہے کہ اکثر تو مریض معالج سے تعاون ہی نہیں کرتا اور دوسری بات یہ کہ مریض کو اپنے گھر میں معقول اور مناسب ماحول میسر نہیں ہوتا اور تیسری اور سب سے اہم وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس بیماری کے پیدا ہونے کی بنیادی اور اصل وجوہات جن کا تعلق مریض کے ماضی سے ہوتا ہے جوں کی توں برقرار رہتی ہیں۔
عزیزانِ من! یہ موضوع ناختم ہونے والا ہے، ماضی میں بھی ہم نے اس حوالے سے بہت لکھا ہے اور بہت سے کیسوں کا تجزیہ پیش کیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے امراض کے علاج معالجے کے لیے اعلیٰ سطح پر نہایت معیاری اسپتال قائم ہونے چاہئیں جن میں ہر قسم کے معالجین کی نگرانی میں علاج معالجے کی تمام سہولتیں موجود ہوں، ایلوپیتھک طریقہ علاج ایسی پے چیدہ بیماریوں کے علاج میں قطعی طور پر ناکام رہا ہے، وہ فوری نوعیت کی روک تھام تو کر سکتے ہیں مگر مکمل صحت و تندرستی کے عمل کی طرف کوئی پیش رفت نہیں ہوتی بلکہ ان بیماریوں کے حوالے سے جو ایلوپیتھک دوائیں استعمال ہو رہی ہیں ان کا زیادہ اور طویل عرصے استعمال کچھ دوسرے عوارض کا سبب ثابت ہوا، ہمارے نزدیک ایسی بیماریوں کے علاج میں پیراسائیکالوجی کی جدید تحقیقات اور تجربات سے مدد لینا ضروری ہے اور اس کے ساتھ ہومیوپیتھک طریقہ علاج اختیار کرنا چاہیے۔ لوگ روحانی طریقہئ علاج کے نام پرجو اعمال و وظائف نقش و تعویذ یا جھاڑ پھونک کرتے ہیں، اس سے ایسے کیس مزید خراب ہوتے ہیں۔ ہم نے ان طریقوں سے کبھی مریض کو مکمل طور پر صحت یاب ہوتے نہیں دیکھا بلکہ ایسی صورتوں میں مریض کے ساتھ دیگر اہل خانہ کو بھی اسی مرض کی لپیٹ میں آتے دیکھا ہے۔
ہمارا ارادہ ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ ایسی پے چیدہ بیماریوں کے حوالے سے اپنے تجربات و مشاہدات پر مشتمل ایک کتاب مرتب کی جائے تاکہ لوگوں کی اس ہزار رنگ و روپ رکھنے والے پُراسرار مرض سے درست آشنائی ہو سکے۔

 

ہفتہ، 9 جنوری، 2021

حالات سے آگاہی کے لیے علم الاعداد کا ایک قاعدہ(2)

سال، مہینہ، دن یا کوئی شخصیت آپ کے لیے کیسی ہے؟ 


نمبر5کے اثرات

اس سال اگر آپ کلیدی مقسومی عدد5 کے زیر اثر ہیں توسمجھ لیں کہ یہ ایک غیر یقینی کیفیت کا حامل سال ہے۔ بے شک آپ کے اردگرد حالات وواقعات میں تیز رفتاری نظرآئے گی اور آپ کو نئے مواقع بھی ملیں گے مگریہ مواقع ایسے ہوں گے جن سے آپ کی زندگی سنور بھی سکتی ہے اور بگڑ بھی سکتی ہے، اب یہ آپ پرمنحصرہوگا کہ آپ اپنی صلاحیتوں کا استعمال کس انداز میں کرتے ہیں، یہ سال زائد سفر بھی لائے گا گویا آپ کو سال کے بڑے حصے میں سفر سے متعلق مسائل کا سامنا رہے گا اور نئی تبدیلیوں کے عمل سے گزرنا پڑے گا۔
نمبر5 کے تحت اس بات کا امکان موجود ہے کہ آپ کسی پرانی غلطی کو دوبارہ دہرائیں یا ماضی کے کسی ادھورے چھوڑے ہوئے کام یا منصوبے کی طرف متوجہ ہوجائیں، اس سلسلے میں آپ عملی قدم اٹھائیں گے۔ آپ نے اچھی طرح غوروفکر کے بعد قدم آگے بڑھایا اور ثابت قدمی سے مصروف عمل رہے تو یقیناً کامیابی آپ کے قدم چومے گی، یہ سال مقبولیت اور شہرت کے لیے بھی بہتر ثابت ہوگا۔ آپ عام لوگوں کے درمیان زیادہ وقت گزاریں گے لہذا خیال رہے کہ عوامی مصروفیات ایسی نہ ہوں جن کی وجہ سے آپ کا قیمتی وقت برباد ہوا اور ضروری کام پڑے رہ جائیں۔ دوسرے لوگ بھی چاہیں گے کہ آپ انہیں زیادہ سے زیادہ وقت دیں اور آپ کوا پنی تقریبات اور دلچسپیوں میں شامل کریں۔ ایسی صورت میں یہ آپ پر منحصر ہوگا کہ آپ کام اور تفریح میں کس کا انتخاب کرتے ہیں۔
اگر آپ کا شمسی برج جوزا یا سنبلہ ہے یا آپ کی تاریخ پیدائش5‘4 اور23ہے تو اس سال کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی اور یہ سال آپ کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
دوسروں سے تعلقات
محبت یا منگنی کے حوالے سے یہ سال خاصا دلچسپ ثابت ہوسکتا ہے آپ کے حلقہ احباب میں اضافہ ہوگا اور لوگ آپ کی طرف خود بہ خود متوجہ ہوں گے جن غیر شادی شدہ لڑکے اور لڑکیوں کے رشتے میں رکاوٹ اور مسائل کا سامنا ہے ان کے رشتے طے ہوسکتے ہیں لیکن اس معاملے میں احتیاط کی ضرورت ہوگی کیوں کہ ایسے تعلقات میں خاصی جلد بازی کا مظاہرہ دیکھنے میں آئے گا لہٰذا کوئی غلط تعلق بھی قائم ہوسکتا ہے۔
تعلقات کے حوالے سے آپ کا رجحان زیادہ تر اپنے سے کم عمر یا برابر کی عمر کے افراد سے زیادہ رہے گا ممکن ہے اس سال کوئی ثور‘جوزا‘سنبلہ اور میزان شخصیت خصوصیت سے آپ کی توجہ کا مرکز بن جائے یا پھر جن لوگوں کی تاریخ پیدائش یا نام کا عدد2‘5یا6ہوں آپ زیادہ کشش محسوس کریں گے، تعلقات کے حوالے سے اس سال کے اہم مہینے جنوری‘مارچ‘جون‘اکتوبر اور دسمبر ہیں۔
کام اورکرئر
جیسا کہ ہم نے ابتدا میں بتایا ہے کہ اس سال بہترین مواقع آپ کے منتظر ہیں اور آپ بھی صرف اپنی ذات کی بہتری اور مفادات کی طرف توجہ دیں گے خاص کر پیشہ ورانہ معاملات میں، ممکن ہے آپ کا رویہ خاصا خود غرضانہ ہوجائے جس کی وجہ سے کچھ لوگوں کو آپ سے شکایت بھی پیدا ہوسکتی ہے، بہرحال اس سال آپ کو ایسے مواقع مل سکتے ہیں جن سے فائدہ اٹھا کر آپ اپنے لیے بہتر مقام حاصل کر سکتے ہیں، لوگ آپ کی کامیابی کو دیکھ کر حیرت کا اظہار کریں گے۔گویا یہ سال آپ کے لیے اس اعتبار سے نہایت شان دار ہے کہ آپ خود کو دوسروں کی توجہ کا مرکز بنا سکیں اور انہیں متاثر کر سکیں۔
جمعہ اور بدھ کے دن کسی نئی مہم جوئی یعنی ملازمت کی تلاش یا ترقی کی کوشش کے لیے موافق ثابت ہوں گے،اس طرح مارچ‘مئی‘ستمبر اور دسمبر بھی موافق مہینے ہوں گے۔
آپ کی صحت
اچھی اور پرسکون نیند اس سال آپ کا سب سے بڑا مسئلہ ہوگا کیوں کہ مصروفیات کی نوعیت اور زیادہ غور و فکر کی وجہ سے آپ بے خوابی یا نیند میں خلل سے دوچار ہوسکتے ہیں، یہ بھی ممکن ہے کہ آپ جلد یا درست وقت پر نہ سو سکیں اور اس طرح ایک بھر پور نیند سے محروم رہیں جس کے نتیجے میں چڑچڑے پن اور کسی قسم کی الرجی وغیرہ کا شکار ہوجائیں لہٰذا بہتر ہوگا کہ بیک وقت دو تین سمتوں میں یا دو تین کاموں میں خود کا نہ الجھائیں بلکہ مرحلہ وار کسی ایک کام پر بھرپور توجہ دیتے ہوئے اسے مکمل کرنے کی کوشش کریں، اپنے اوقات کار اور خوراک و آرام کے اوقات میں توازن کا خیال رکھیں یقیناََ یہ سال آپ کو بہت متحرک اور تیز رو بنائے گا مگر آپ کو توازن کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا ہے اس بات کا بھی امکان ہے کہ آپ اگ کوئی نشہ آور چیز مثلاََ سگریٹ‘پان یا مسکن دوا استعمال کرتے ہیں تو اس کی مقدار بڑھ جائے گی لہٰذا احتیاط کی زیادہ ضرورت ہو گی۔
نمبر 6کے اثرات
اگر اس سال آپ کا کلیدی مقسومی عدد 6ہے تو سمجھ لیں کہ آپ کی نجی زندگی زیادہ اہمیت کی حامل ہوگی اور آپ کا واسطہ نئی تبدیلیوں اور کچھ اضافی ذمہ داریوں سے پڑے گا آپ کی زندگی میں دوستوں‘عزیزوں اور محبت کرنے والوں کے مسائل اہمیت اختیار کریں گے اور آپ ان کی مدد کرنا اپنا فرض سمجھیں گے۔
اس سال آپ ایسی چیزوں کو اپنائیں گے جن کی طرف آپ کی دلی رغبت ہوگی اور جو آپ کی نظروں کو اچھی لگیں گی۔ دوسرے معنوں میں ان چیزوں یا شخصیات کی طرف آپ کا جھکاؤ ہوگا جو آپ کے لیے روحانی اور جذباتی سکون کا باعث ہو۔محبت‘زمین و جائداد‘رہائش اور خاندان کے معاملات زیادہ آپ کی توجہ کا مرکز رہیں گے۔
اس سال چوں کہ گھریلو معاملات پر زیادہ توجہ رہے گی لہٰذا اس بات کا بھی امکان موجود ہے کہ آپ رہائش کی جگہ تبدیل کریں یا پھر موجودہ رہائش گا کو زیادہ آرام دہ اور پر آسائش بنانے پر توجہ دیں،اعلیٰ تعلیم یا کوئی غیر معمولی کورس بھی آپ شروع کر سکتے ہیں جس سے آپ کی حیثیت و عزت میں اضافہ ہو اور آپ کے ذہن کو وسعت ملے۔
یہ سال سماجی مصروفیات میں بھی اضافہ لائے گا۔ آپ تقریبات یا تفریحات میں زیادہ شرکت کریں گے یا پھر سماجی نوعیت کے کاموں میں دلچسپی لیں گے۔بہرحال اس قسم کی دلچسپیاں اور مصروفیات آگے چل کر آپ کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گی، اگر آپ کسی بھی مہینے کی 6‘15 اور 24 تاریخ کوپیدا ہوئے ہیں یا آپ کا برج ثور‘ سرطان یا میزان ہے تو یہ سال آپ کے لیے توقع سے بڑھ کر مثبت تبدیلیاں لے کر آئے گا۔
دوسروں سے تعلقات
عدد 6 کے زیر اثر سال آپ کے لیے محبت‘ دوستی‘ منگنی یا شادی کی خوشیاں لارہا ہے مگر اس سال کا تعلقات کے حولے سے ایک منفی پہلو بھی ہے، اگر آپ محبت‘ دوستی یا ازدواجی زندگی میں اپنے موجودہ تعلق سے مطمئن نہیں ہیں اور متنازع مسائل کا شکار ہیں تو پھر یہ سال علیحدگی یا طلاق کے خدشات ظاہر کررہا ہے لہذا بہتر ہوگا کہ باہمی اختلافات کودور کرنے اور تعلقات کو مزید بہتر بنیادوں پر استوار کرنے کی کوشش کریں، اگر آپ اپنی فیملی میں اضافے کے خواہاں ہیں یعنی مزید اولاد چاہتے ہیں تواس سال آپ کی یہ خواہش پوری ہوسکتی ہے۔
فروری‘مئی‘ ستمبر اورنومبراس سال کے اہم مہینے ثابت ہوسکتے ہیں جن میں آپ کو اپنی شخصیت کونمایاں کرنے اور تعلقات کووسعت دینے کے مواقع مل سکتے ہیں۔
کام اور کرئر
یہ سال ماضی کی کارکردگی کی بنیاد پر ترقی کے دروازے کھولے گا، ایسے کاموں کا صلہ ملے گا جو آپ نے گزشتہ سالوں میں انجام دیے تھے، ملازمت میں اگر آپ کی ترقی رکی ہوئی ہے تو اس سال آپ کو آگے بڑھنے کا موقع ملے گا، بہتر ہوگا کہ مایوسی اور نا امیدی کا شکار نہ ہوں جس طرح اب تک کام کرتے آئے ہیں اسی طرح اپنا کام جاری رکھیں اور اپنے فرائض کو پورا کرنے میں کسی کوتاہی کا مظاہرہ نہ کریں، یقیناً آپ کے اعلیٰ افسران یا باس یاساتھ کام کرنے والے دوسرے افراد آپ کی کارکردگی اور ذمہ دارانہ رویے کو محسوس کریں گے اورسراہیں گے، اس کے نتیجے میں آپ کو اپنی محبت کا پھل ضرور ملے گا۔
اس سال کسی بھی مہینے کے پیر‘ جمعرات اور جمعہ موافق ترین دن ہوں گے، نئی ملازمت کی تلاش یاانٹرویو، اہم لوگوں سے ملاقات کے لیے ان دنوں کا انتخاب کریں، اسی طرح فروری‘ اپریل‘ا گست‘ ستمبر اورنومبر کے مہینے نئے مواقع لائیں گے۔
آپ کی صحت
اس سال ناک‘ حلق اور گلے کے غدودوں سے متعلق تکالیف آپ کو پریشان کرسکتی ہیں۔ متوازن غذا‘ ورزش‘ دھوپ اور تازہ ہوا اس سال آپ کے لیے ضروری ہے، اس کے علاوہ آؤٹ اور تفریحات سے بھی آپ کی صحت پر اچھا اثر پڑے گا اور صاف پانی کا زیادہ استعمال بھی آپ کے لیے مفید رہے گا کیوں کہ گردے اور مثانے سے متعلق شکایات بھی پیدا ہوسکتی ہیں، مارچ‘ جولائی‘ ستمبر اور دسمبرمیں صحت کے معاملات پرزیادہ توجہ دیں۔
نمبر 7کے اثرات
یہ باطنی فروغ کا سال ہے اور اس کا بھی کہ آپ کو کیا ناگوار گزرتا ہے اور آپ کس بات سے خوش ہوتے ہیں، اس انفرادی سال میں خود آگاہی اور دریافت پر بھی زور ہے،گویا اس سال آپ کو اپنے اندر کی آوازوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ آپ کی حقیقی رہنمائی ممکن ہو۔
آپ کو اپنی ذاتی زندگی اور اپنی بہتری پر زور دینے کا پورا پورا موقع ملے گا ایسے بہت سے مواقع آئیں گے جب آپ اپنے پیچھے محرکات اور افعال کا تجزیہ کرسکیں گے اور اپنی ذاتی ضروریات‘اہداف اور خواہشات پر بھی زیادہ توجہ دے سکیں گے اور ایسے بھی بہت سے مواقع آئیں گے جب آپ الجھنوں اور شور وغل سے نجات حاصل کرنا چاہیں گے، تنہائی میں گزارا جانے والا وقت رائیگاں نہیں جائے گا، یہ آپ کو سوچنے اور غور کرنے کا موقع دے گا، آپ اب تک ٹھیک ٹھیک کہاں تک پہنچے ہیں اور مستقبل میں کیا جانا چاہتے ہیں، یہ بہت اہم ہے کہ آپ اس کے بارے میں اپنا ذہن بنالیں کہ آپ اس مخصوص سال سے کیا چاہتے ہیں کیوں کہ آپ ایک مرتبہ ایسا کرکے اپنے وہ عزائم پورے کرسکتے ہیں، اس میں ناکامی کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ اپنے ہی سائے کا تعاقب کرتے ہوئے انجام کو پہنچ گئے اور یہ وقت اور توانائی کا سراسرضیاع ہے، آپ پر اپنے راز بھی عیاں ہوں گے اور اس سال کے دوران دوسرے لوگ بھی نمودار ہو رہے ہوں گے، اگر آپ برج حوت یا سرطان کے تحت یا 7‘16یا 25تاریخ کو پیدا ہوئے ہیں تو یہ خاص طورپر ایک حیرت انگیز سال ہوگا۔
دوسروں سے تعلقات
یہ کہنا پڑتا ہے کہ محبت یاروحانی دلچسپی کے لیے یہ بہترین سال نہیں ہے،غوروفکر کرنے کی شدید ضرورت کا مطلب ہوگا کہ آپ کوتنہائی میں وقت گزارنا پڑے گا، اس سال اگرکوئی محبت پروان چڑھی بھی تو یہ آپ کی توقعات پرپوری نہیں اترے گی لیکن اگرآپ اچھنبے میں پڑے بغیر معاملات کوجوں کا توں قبول کرلیں گے تو آپ کودکھ نہیں ہوگا اورآپ لطف اندوز ہوں گے،فیصلہ کریں کہ آپ کے ذہن میں ٹھیک ٹھیک کیاہے اورپھر اس کے حصول کی کوشش کریں،اس سال رومانی دلچسپی کا امکان ان لوگوں کے لیے ہے جو4`2یا 7تاریخ کویا برج سرطان یاحوت کے تحت پیدا ہوئے ہوں۔ رومانی یا شادی کے مواقع کے لیے جنوری‘اپریل‘اگست اوراکتوبر کودھیان میں رکھیں۔
کام اورکرئر
جب ہم اس مخصوص انفرادی گردش سے گزرتے ہیں جونمبرسات کے زیراثر ہے توزندگی میں دوباتیں پیش آسکتی ہیں،شہرت سے کنارہ کشی اور عمومی سرگرمی میں کمی، لوگ یا توطویل رخصت پرچلے جاتے ہیں یا ازسرنو اپنی تربیت کرتے ہیں،اس کا بھی امکان ہے کہ آپ اپنی پیشہ ورانہ مہارت اوراہلیت سے زیادہ آگاہ ہوسکیں گے، اپنی زندگی کے صحیح مقصد کوسمجھنے لگیں گے اوراپنے آپ کوپہلے سے زیادہ باشعور اورروشن خیال تصور کرنے لگیں گے،اگرآپ ادھر کچھ عرصے سے بھٹکتے رہے تھے تووہ اہداف ایک بارپھر جی اٹھیں گے جنہیں آپ حاصل کرنے کے آرزو مند تھے۔
اس پورے سال میں آپ کا رویہ چھان بین کرنے والا ہوناچاہیے، آپ کواپنے کام کے معاملے میں چھان بین کرنی پڑے گی، اگرآپ گفت وشنید یا انٹرویو یا میٹنگ کا اہتمام کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے‘سومواریاجمعہ کا دن مقررکریں۔یہ دونوں دن آپ کے لیے مبارک ہیں۔جنوری‘مارچ‘جولائی‘اگست‘ اکتوبر اوردسمبر ذاتی ترقی کیلئے بالخصوص اچھے مہینے ہیں۔
صحت کے مسائل
گزشتہ سالوں کے مقابلے میں یہ ایک پرسکون سال ہوگا،صحت کے معمولی مسائل درپیش ہوں گے۔ بعض مسائل پریشانی اورچڑچڑے پن سے پیداہوں گے اوران کے بچنے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ خاموش اور پرسکون رہیں،اس پرسکون ذہنی کیفیت سے اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔اس میں ناکامی سے غیرضروری مسائل پیدا ہوں گے جس سے آپ کے تصورات قابو سے باہرہوجائیں گے۔ آپ کوغورو فکر کرنے اوراپنی صحت بحال کرنے کے لیے یہ سال مددگار ہے،اگرصحت میں کوئی تبدیلی واقع ہوئی تو فروری‘جون‘اگست اورنومبر میں ہوگی۔

نمبر8کے اثرات

یہ کامیابی حاصل کرنے‘اہم پیش رفت کرنے اور تبدیلیاں لانے کاسال ہے اوریہ ایک ایسا وقت بھی ہے جب آپ اختیارات حاصل کرسکتے ہیں اورآپ کی صلاحیتیوں کوبھی تسلیم کیاجائے گا۔
یہ انفرادی سال آپ کوسوچنے کا زیادہ موقع دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا وقت ہے کہ جب آپ شہرت‘مقبولیت اورطاقت حاصل کرسکتے ہیں اگر آپ 8‘17 یا 26 تاریخ کوپیدا ہوئے ہیں یا برج جدی کے تحت آتے ہیں تو اس سال پرتوجہ دیجیے اوراس امرکویقینی بنائیے کہ اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاسکیں۔ آپ کوچاہیے کہ اپنے اندر اوربھی شعور اوراعتماد کا سچا احساس پیدا کریں وقت کی گردش کے اس حصہ کا تعلق کرئر‘عزم اورپیسے سے ہے لیکن پچھلے قرض بھی چکانے پڑیں گے۔ مثال کے طورپر کوئی پرانی ذمہ داری یاقرض جسے ادا کرنے سے آپ پچھلے کئی برسوں سے گریز کرتے رہے ہیں،اب آپ کوپریشان کریں گے۔ بہرحال آپ ان بارہ مہینوں کے درمیان کچھ بھی کریں۔ عزم بلند رکھیں‘اعلیٰ سوچیں‘کامیابی کاسوچیں اورسب سے بڑھ کر یہ کہ مثبت سوچیں۔

دوسروں سے تعلقات

یہ وہ مخصوص انفرادی سال ہے جوپیدائش‘طلاق اورشادی جیسی حقیقتوں سے جڑا ہواہے جن سے ہمیں گزرنا پڑتاہے۔ محبت کی فہم رکھنے والے آپ سے زیادہ تجربہ کار‘عمرکے لوگ یا اثرورسوخ کے مالک یااختیاراورطاقت وراوردولت مندحضرات آپ کے لیے بہت پرکشش ہوں گے۔اس سال ماضی کے پرانے دوستوں‘ساتھیوں‘شریک کاروں‘رفیقوں سے رابطہ ہوگا۔ یہاں تک کہ پرانی محبتیں بھی ایک بارپھرنمودارہوں گی اس سال رومانس کے حوالے سے آپ کوزیادہ پریشانیاں نہیں اٹھانی پڑیں گی۔ خاص طورسے اگرآپ کوبرج جدی یامیزان والوں سے یاان لوگوں سے معاملات کرناپڑیں جو17`8اور26تاریخ کوپیدا ہوئے ہیں۔محبت پروان چڑھانے کے لیے مارچ‘جولائی‘ستمبراوردسمبربہترین مہینے ہیں۔

کام اورکرئر

نمبر8کے تحت سال پیسے کے معاملے میں سب سے اچھا سمجھاجاتاہے۔یہ تنخواہ میں اضافے یا پروموشن یااختیارات کے مطالبے کے لیے بھی بہت اچھا ہے۔یہ ترقی اورکامیابی کے زینے پرقدم رکھنے کا بھی سال ہے جوغالباً آپ کی پچھلی کوششوں کا نتیجہ ہے۔آپ کوصلہ ملے گا،مالی کامیابی کی بھی ضمانت دی جاسکتی ہے بشرط یہ کہ آپ اپنے ارادوں پرقائم رہیں،یہ ضروری ہے کہ آپ اپنے لیے اہم اہداف مقررکریں اورآہستہ آہستہ ان کی طرف بڑھیں،آپ یہ دیکھ کرحیران رہ جائیں گے کہ وہ منصوبے کتنی آسانی سے پورے ہورہے ہیں۔اگرآپ کام کی تلاش میں ہیں توانٹرویو یامیٹنگ وغیرہ کے لیے ترجیحاً سنیچر‘جمعہ یا جمعرات کا دن مقررکریں جوآپ کے لیے مبارک ترین دن ہیں۔فروری جون‘جولائی‘ستمبراورنومبربھی آپ کے لیے قدرے بہترہیں۔

صحت کے مسائل

آپ ڈپریشن اورتنہائی کے احساس کی طرف سے محتاط رہ کرصحت کے بہت سے مسائل خصوصاً سرکے درد‘قبض اورجگرکی شکایتوں سے بچ سکتے ہیں،اگرآپ ان مسائل سے دوچارہوں توضروری ہے کہ ان کی طرف سے دھیان ہٹانے کے لیے اپنے آپ کومصروف رکھیں۔سوچ سمجھ کرکھائیں اورزندگی کے بارے میں پرجوش اورمثبت نقطہ نظررکھیں،سب ٹھیک ہوجائے گا۔آپ کوجنوری‘مئی‘جولائی اوراکتوبر میں اپناخاص خیال رکھناپڑے گا۔

نمبر9کے اثرات

یہ کمرکسنے کا وقت ہے،آرزوؤں کے پورے ہونے کاامکان ہے۔ معاملات کا فوری نتیجہ برآمد ہوگا،زیادہ سفرکا بھی امکان ہے۔
9نمبر کے تحت سال شاید سب سے کامیاب سال ہے یہ معاملات کی تکمیل کی نمائندگی کرتاہے،چاہے ان کی نوعیت‘ کام‘کاروبار یا ذاتی معاملات کی ہو۔آپ میں عادتوں کو‘لوگوں کواورمنفی حالات یا صورت احوال کوجوآپ کوروکے ہوئے تھیں نظراندازکرنے کی اہلیت بہت پختہ ہے۔آپ کے کردارمیں ہمدردانہ اورانسانیت کا پہلو بھی ابھرتاہے اورآپ کسی صلے کی پرواکیے بغیر لوگوں کے کام آتے ہیں۔ آپ جوبھی نیک کام کرتے ہیں اس سے آپ کواطمینان قلب اورشاید مالی فائدہ بھی حاصل ہوگا۔اگرآپ برج حمل یا عقرب کے تحت یا مہینے کی18`9یا27تاریخ کوپیداہوئے تویہ آپ کے لیے بہت اہم سال ہوگا۔

دوسروں سے تعلقات

9نمبرکے تحت سال ایک ایسا چکر ہے جوکشش اور اس کے ساتھ ہی اثرپذیری عطا کرتاہے لہٰذا اس کے سبب آپ صنف مخالف کے کسی ایسے فرد سے جذباتی طور پر وابستہ ہوں گے جوآپ کی برادری یالسانی گروپ سے تعلق نہیں رکھتا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس مخصوص عدد کا تعلق انسانیت سے ہے اورسوبات کی ایک بات یہ ہے کہ عشق نہ پوچھے ذات۔آپ پریہ بھی عیاں ہوگاکہ حمل‘ اسد اورعقرب والوں کا اوراس کے ساتھ ساتھ 1`3`9 تاریخ کوپیدا ہونے والوں کا آپ کے گھریلو معاملات میں عمل داخل رہے گا۔تعلقات کے لیiے فروری‘جون‘اگست اورنومبر اہم مہینے ہیں۔ یہ رومانی نقطہ نظر سے بہت مصروف اورمعنی خیز ہوں گے اوران اوقات میں آپ ہوش وحواس سے بے گانہ ہوجائیں گے یعنی رومانس کا جادو سرچڑھ کر بولے۔

کام اورکرئر

یہ وہ سال ہے کہ جب آپ کے بہت سے خواب اورارادے پایہ تکمیل کوپہنچیں گے۔ مزید یہ کہ اگرآپ مارکیٹنگ سے وابستہ ہیں تو یہ کامیابی کا وقت ہے جس میں آپ اپنی صلاحیتوں‘مہارتوں اوراہلیت کوبہت وسعت دے سکتے ہیں۔ مثال کے طورپر آپ بیرون ملک کاروبار کووسعت دینے کے بارے میں سوچتے رہے ہیں اور اگر ایساہے تواچھی بات ہے۔ آپ یہ دیکھیں گے کہ اپنے رفیق اورشریک کاروں سے آپ کی ہم آہنگی پہلے سے زیادہ اورآسان ہے اوریہ آپ کے خوابوں اورعزائم کی تکمیل میں معاون ہوگی۔ انٹرویو یامیٹنگ وغیرہ کے لیے منگل اورجمعرات بہت مبارک دن ہوں گے۔کوئی بھی کام شروع کریں تو ان 2دنوں کومدنظررکھیں، جنوری‘ مئی‘ جون‘اگست اوراکتوبر کے دوران ملازمت یا کاروبار میں تبدیلیاں واقع ہوسکتی ہیں۔

صحت کے مسائل

آپ کے ساتھ اس سال واحد جسمانی مسئلہ کسی حادثے کے نتیجے میں پیش آسکتا ہے۔لہٰذا احتیاط برتیں،, لوگوں سے خواہ مخواہ الجھنے اورذہنی تناؤکا شکار ہونے سے بچیں۔جب سڑک پرہوں تو اپنا خاص خیال رکھیں۔ آپ خود اپنے بدترین دشمن کا کردارادا کرکے ہی اپنے لیے مسائل کھڑے کرسکتے ہیں کچن اورباتھ روم میں ہوں تواپنا خاص خیال رکھیں۔ ان جگہوں پرتیز دھار آلوں سے آپ زخمی ہوسکتے ہیں لہٰذا احتیاط برتیں۔

جمعہ، 25 دسمبر، 2020

نئے سال 2021 ء کا آغاز اور عظیم سیاروی اجتماع

دنیا تبدیلی کی ایک نئی لہر کی طرف گامزن


 کورونا وائرس کا دنیا پر حملہ نومبر 2019 سے شروع ہوا، ہمارے قارئین اگر ہماری ویب سائٹ پر جائیں تو سال 2020 کو ہم نے جنگ و جدل، عالمی معاشی بحران اور معاشرتی ٹوٹ پھوٹ کا سال قرار دیا تھا، کورونا وائرس کی وبا نے بلاشبہ دنیا بھر میں ایک بڑے معاشی بحران اور معاشرتی انحطاط کی صورت حال پیدا کردی ہے، دسمبر 2019 کو برج قوس میں سات سیارگان کا اجتماع ہوا تھا، اس حوالے سے بھی ہم نے لکھا تھا کہ دنیا نظریاتی طور پر تبدیل ہونے جارہی ہے،کورونا وائرس نے ایسی صورت حال پیدا کردی ہے کہ اب مستقبل میں آنے والی تبدیلیاں انسانوں کو نئے انداز میں سوچنے اور نئے اصول و قوانین کی طرف لے جانے کا باعث بنیں گی، سال 2020 ایک ایسا سال ثابت ہوا جسے تاریخ میں فراموش نہیں کیا جاسکتا، ساری دنیا جس نوعیت کے حالات سے گزر رہی ہے،اس پر فیض صاحب کا شہر آشوب یاد آرہا ہے ؎

اب بزم سخن صحبت لب سوختگاں ہے
اب حلقہ ء مے طائفہ ء بے طلباں ہے
گھر رہیے تو ویرانی ء دل کھانے کو آوے
راہ چلیے تو ہر گام پہ غوغائے سگاں ہے

دسمبر 2019 کے بعد ایک بار پھر یعنی تقریباً 13 ماہ بعد ہی سات سیارگان ایک ہی برج جدی میں 11 فروری کو جمع ہورہے ہیں، یہ ایک غیر معمولی صورت حال ہے، ہمیں نہیں معلوم کہ ماضی میں ایسی کوئی مثال موجود ہو، عام طور پر ایسے اجتماعات تقریباً 19,20 سال کے بعد ہوتے ہیں، بہتر ہوگا کہ ایسے اجتماع کی مختصر تاریخ پر ایک نظر ڈال لی جائے۔
گزشتہ صدی میں 21 ستمبر 1921 میں سیارہ زحل اور مشتری کے ساتھ شمس، عطارد اور راہو برج سنبلہ میں اکٹھا ہوئے تھے، سنبلہ بھی ایک خاکی برج ہے گویا ارضیاتی تبدیلیاں اور زمینی مسائل اس کے زیر اثر ہیں، چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا اور بہت سے نئے ملک دنیا کے نقشے پر نمودار ہوگئے، اس کے ساتھ ہی برطانیہ عظمیٰ کا کالونیل سسٹم بھی زوال پذیر ہوا، برطانیہ کے زیر قبضہ علاقوں میں آزادی کی تحریکوں نے جنم لیا، جن کے نتیجے میں برصغیر ہندوپاک تقسیم ہوا اور دیگر بہت سے ممالک بھی بالآخر آزاد ہوئے۔
اس کے بعد 26 اپریل 1941 کو ایک بار پھر شمس و قمر، زہرہ، عطارد اور مشتری و زحل برج حمل میں جمع ہوئے، خیال رہے کہ یہ انرجی سے متعلق برج ہے چناں چہ دوسری جنگ عظیم کاآغاز ہوچکا تھا اور اس کا اختتام ایٹمی توانائی کے استعمال پر ہوا، جب امریکا نے جاپان پر دو ایٹم بم گرائے۔
5 فروری 1962 کو برج جدی میں یہ عظیم سیاروی اجتماع ہوا جس میں کیتو سمیت تقریباً 8 سیارگان شمس و قمر، زہرہ، مریخ، عطارد، مشتری اور زحل اکٹھا ہوئے، ہم نے دیکھا کہ اس کے بعد تقریباً بیس سال میں یعنی 1981 ء تک دنیا سرد جنگ کے آزار میں مبتلا رہی کیوں کہ یہ اجتماع خاکی برج جدی میں تھا، کوئی بڑی عالم گیر جنگ نہیں ہوئی لیکن دیگر ممالک کے درمیان جنگیں ہوتی رہیں، خاکی برج کی وجہ سے دنیا مذہب سے دور ہوئی اور سائنس کے زیادہ قریب ہوتی چلی گئی، رسم و رواج تبدیل ہوئے، دنیا میں حد سے زیادہ خود غرضی اور مفاد پرستی کا فروغ ہوا، پاکستان دولخت ہوا، مشرق وسطیٰ میں اسرائیل عرب جنگ کے نتیجے میں بیت المقدس اسرائیل کے قبضے میں چلا گیا اور بالآخر دنیا کی دو سپر پاورز کے درمیان تنازعات نے کچھ ایسا رخ اختیار کیا کہ ایک سپر پاور سویت یونین کا خاتمہ ہوا۔
یکم ستمبر 1981 ء کو ایک بار پھر عظیم سیاروی قران برج سنبلہ میں ہوا،یہ بھی خاکی برج ہے،اس کے نتیجے میں وہی کچھ ہوا جو ماضی میں ہوا تھا یعنی ایک سپر پاور کا خاتمہ، دیوار برلن کا ٹوٹنا، ایران میں انقلاب اور ایران عراق جنگ کے علاوہ اور بھی بہت سے واقعات جو ارضیاتی تبدیلیوں کا باعث بنے۔
24 مئی 2000 ء کو یہ عظیم اجتماع برج حمل میں ہوا جیسا کہ پہلے بھی نشان دہی کی ہے کہ برج حمل کا تعلق انرجی سے ہے، اس کا حاکم سیارہ مریخ ہے لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کا رجحان طاقت کے اظہار کی طرف رہا، نائن الیون ہوا اور پھر امریکا افغان وار شروع ہوئی، امریکا عراق پر بھی حملہ آور ہوا گویا بیس سال تک دنیا میں طاقت کا اظہار جاری رہا۔
اب 21 ویں صدی میں برج قوس کے بعد ایک بار پھر برج جدی میں سات سیارگان کا عظیم اجتماع ہورہا ہے یعنی پلوٹو، زحل، مشتری، شمس، عطارد، زہرہ اور قمر ایک ہی برج میں ہوں گے، اس قران کے نتیجے میں ایک بار پھر دنیا عظیم ارضیاتی تبدیلیوں سے گزرے گی، آنے والے بیس سال بہت سے ملکوں کی سرحدیں تبدیل کریں گے، زلزلے، آفاتِ ارضی و سماوی، جنگ و جدل کا بازار گرم رہے گا، بہت سے ممالک ابھر کر دنیا میں نمایاں ہوں گے اور کئی ایک ممالک زوال پذیر ہوں گے، خاکی برج جدی کی وجہ سے دنیا بہت زیادہ حقیقت پسندی کی طرف مائل ہوگی، سائنٹیفک سوچ پروان چڑھے گی، ایسے نظریات جن کی کوئی سائنٹیفک توجیہ نہ ہو،نظرانداز کیے جائیں گے، روایتی تصورات وہ کسی فلسفے کے تحت ہوں یا مذہب اور عقیدے کے تحت ان پر سوال اٹھیں گے،حقیقت پسندانہ سوچ کے ساتھ ان کی اصلاح پر توجہ دی جائے گی، اہم ترین بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں عوامی سطح پر یا قومی سطح پر خود غرضی بڑھے گی جس کے نتیجے میں روایتی خاندانی ماحول بری طرح متاثر ہوگا، رشتے ناتے کمزور پڑیں گے، ہر شخص نفسہ نفسی کا شکار ہوگا۔
ماضی کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں، 1962 ء میں جب یہ قران برج جدی میں ہوا تو ہم دیکھ سکتے ہیں اس کے بعد بیس سالوں میں دنیا کس طرح تبدیل ہوئی، ایسا ہی آئندہ بھی ہوگا۔

پاکستان

پاکستان کے زائچے میں یہ قران نویں گھر میں ہوگا جو مستقبل میں ترقی اور عملی منصوبوں، آئین و قانون، عدلیہ، الیکشن کمیشن، مذہب کا گھر ہے، بھارت اور ملائیشیا، مصر وغیرہ کے زائچوں میں بھی یہ قران زائچے کے نویں گھر میں ہوگا لہٰذا یہ ممالک بھی پاکستان جیسے حالات سے گزریں گے۔
نویں گھر میں اس عظیم اجتماع کے نتیجے میں پاکستان میں حقیقت پسندانہ تبدیلیاں آئیں گی، ملک کو ترقی کے راستے پر ڈالنے کے لیے عملی اقدام ہوں گے اور آئینی طور پر اصلاح و درستگی کا کام کیا جائے گا، عدلیہ اور الیکشن کمیشن کو زیادہ بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ کوششیں ہوں گی، مذہبی انتہا پسندی کا زور ٹوٹے گا اور سائنسی نظریات کو نہ صرف یہ کہ فروغ ملے گا بلکہ عملی طور پر بھی اس پر توجہ دی جائے گی، ماضی میں اس ملک میں جو کچھ ہوتا رہا ہے، اس صورت حال کا خاتمہ اب قریب ہے، گزشتہ 35 سال سے ملک میں جو کچھ ہوتا رہا اور جو لوگ اس کے ذمے دار تھے وہ بالآخر منظر سے غائب ہوجائیں گے (وما علینا الالبلاغ)
نئے سال کا پہلا مہینہ جنوری خاصا تیز رفتار اور ہنگامہ خیز نظر آتا ہے، اس مہینے میں سیارہ مشتری اور زحل کا قران جاری ہے جو حکومت کے لیے ایک سخت وقت کی نشان دہی کر رہا ہے، خصوصاً وزیراعظم پاکستان اور ان کی کابینہ جنوری کے مہینے میں نہ صرف یہ کہ اپوزیشن کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہے بلکہ بین الاقوامی طور پر بھی پاکستان کی ساکھ کو متاثر کرنے کے لیے منصوبہ بندی ہورہی ہے لیکن حکومت بالآخر اس دباؤ سے نکلنے میں کامیاب ہوجائے گی، ع ظیم سیاروی اجتماع کا آغاز اسی ماہ کی 14 تاریخ سے شروع ہوجائے گا، تقریباً تمام ہی سیارگان برج جدی میں داخل ہوچکے ہوں گے اور امکان ہے کہ فروری کا آغاز ایک ایسی نئی صورت حال سامنے لائے گا جو بہت سے لوگوں کے لیے چونکا دینے والی یعنی حیران کن ہوگی یعنی سینٹ کے قبل از وقت الیکشن اور ضمنی انتخابات اور اس کے بعد یقیناً صورت حال وہ نہیں رہے گی جو آج نظر آرہی ہے (واللہ اعلم بالصواب)

جنوری کی سیاروی پوزیشن

سیارہ شمس برج قوس میں حرکت کر رہا ہے، 14 جنوری کو برج جدی میں داخل ہوگا اور جنوری کے آخر تک برج جدی ہی میں حرکت کرے گا۔
سیارہ عطارد بھی برج قوس میں ہے، 5 جنوری کو برج جدی میں داخل ہوگا اور اپنی تیز رفتاری کے سبب 25 جنوری کو برج دلو میں داخل ہوجائے گا، 30 جنوری کو اسے رجعت ہوگی اور پھر 4 فروری کو دوبارہ برج جدی میں آئے گا۔
سیارہ زہرہ برج عقرب میں ہے، 4 جنوری کو برج قوس میں داخل ہوگا اور پھر 28 جنوری کو برج جدی میں داخل ہوجائے گا۔
سیارہ مریخ برج حمل میں حرکت کر رہا ہے جو اس کا ذاتی برج ہے،پورا مہینہ اسی برج میں حرکت کرے گا۔
سیارہ مشتری برج جدی میں جب کہ سیارہ زحل بھی برج جدی میں حرکت کر رہے ہیں اور تقریباً حالت قران میں ہیں، مشتری اور زحل کا یہ قران گزشتہ ماہ دسمبر سے جاری ہے اور تقریباً 29 جنوری تک جاری رہے گا، خیال رہے کہ زحل اور مشتری کا قران برسوں بعد ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں دنیا نئی تبدیلیوں کا سامنا کرتی ہے، مختلف افراد کے ذاتی زائچے میں ایسے قرانات کے اثرات کا جائزہ انفرادی طور پر لیا جاسکتا ہے۔
راہو اور کیتو اپنے شرف کے برج ثور اور عقرب میں ہیں، ان کی مستقیم پوزیشن 19 فروری کو ختم ہوگی۔مندرجہ بالا سیاروی پوزیشن ویدک سسٹم کے مطابق دی گئی ہیں۔

قمر در عقرب

نئے سال کا پہلا قمر در عقرب پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 9 جنوری 2021 صبح 06:30 am سے شروع ہوگا اور 11 جنوری صبح 08:42 am تک قمر اپنے برج ہبوط عقرب میں رہے گا، یہ مکمل طور پر نحس وقت ہے،اس وقت میں کوئی کام کرنا مناسب نہیں ہوتا، خصوصاً کوئی نیا کام یا کسی کام کی ابتدا، رشتہ طے کرنا، شادی و نکاح، نئے کاروبار کا آغاز یا نئی جاب کی ابتدا وغیرہ۔
البتہ یہ وقت علاج معالجے کے لیے اور برائیوں یا بری عادات وغیرہ سے نجات کے لیے معاون و مددگار ہوتا ہے، اس وقت میں ایسے عملیات و نقوش تیار کیے جاتے ہیں جو عادات بد یا کسی کے ظلم و زیادتی کو روکنے کے لیے مؤثر ثابت ہوتے ہیں، ایسے عملیات ہم برسوں سے دے رہے ہیں، ہماری کتابوں میں بھی موجود ہیں اور ویب سائٹ پر بھی، ان سے مدد لی جاسکتی ہے۔

شرف قمر

سیارہ قمر کو برج ثور میں شرف کی قوت حاصل ہوتی ہے، پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق اس ماہ قمر اپنے شرف کے برج ثور میں 23 جنوری کو تقریباً رات ایک بجے داخل ہوگا اور 25 جنوری 12:35 pm تک برج ثور میں رہے گا، اس دوران میں اپنے جائز مقاصد کے لیے عملیات و نقوش کیے جاسکتے ہیں، اس حوالے سے مناسب وقت 23 جنوری کو 12:45 pm سے 01:36 pm تک ہوگا۔

جمعہ، 18 دسمبر، 2020

 ایک سے نو تک عددی قوتیں ہمارے ناموں میں نت نئے رنگ بھرتی ہیں


کائنات میں کوئی جان دار یا بے جان ایسا نہیں ہے جس کا کوئی نام نہ ہو‘ نام ہر جان دار یا بے جان کی شناخت کا فرض ادا کرتا ہے‘ ہم معاشرے میں اپنے نام سے جانے پہچانے جاتے ہیں‘کوئی بھی نام انسان کی پیدائش کے بعد تجویز ہوتا ہے اور پھر اس کی ذات کا ایک لازمی حصہ قرارپاتا ہے‘ دنیا میں انبیاء کو یہ شرف حاصل ہے کہ ان کے نام کسی انسان نے نہیں بلکہ خود خالق کائنات اللہ جل جلالہ نے تجویز فرمائے جیسا کہ محمدﷺ۔مشہور شاعر محترم حنیف اسعدی نے کیا خوب صورت بات کی ہے ؎

نام نامی بھی صدا ہو جیسے
سب زمانوں نے سنا ہو جیسے

عام طور پر بچوں کے نام ان کے والدین یا دیگر اہل خانہ اپنی پسند کے مطابق رکھتے ہیں۔ قدیم زمانوں میں یہ فریضہ مذہبی یا بزرگ شخصیات کے ذمہ بھی رہا ہے‘ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ”بچوں کے نام اچھے معنوں کے رکھے جائیں“ لیکن فی زمانہ معنویت پر توجہ کم ہو گئی ہے‘نام ہماری ذات سے منسلک ہونے کے بعد ہماری شخصیت پر اور ہمارے کردار پر اثر انداز ہوتا ہے اور اس کی وجہ نام کے حروف اور اعداد ہیں۔
ہمارے ہاں نام کے حوالے سے بہت سے غلط تصورات بھی رائج ہیں‘ مثلاً نام کے ذریعے قسمت کا حال معلوم کیا جاتا ہے یا حالات زندگی کا حساب کتاب کیا جاتا ہے اور یہ کام ہر ایسا شخص باآسانی نہایت ذوق وشوق سے کرتا ہے جس کی اپنی علمی سطح مشکوک ہوتی ہے‘ دلچسپ بات یہ ہے کہ اکثر نام نہاد روحانی علاج کا دعویٰ کرنے والے خواتین و حضرات‘ نام کے ذریعے جادو ٹونے‘ بندش‘ آسیب وجنا ت کے اثرات کی پیش گوئی کرتے نظر آتے ہیں۔ بہر حال یہ ہمارا موضوع نہیں ہے۔
جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ نام کی اہمیت کا ہمارے معاشرے میں غلط استعمال بھی مرّوج ہے اور اکثر نام نہاد ماہرین نجوم و جفر یا علم ا لاعداد صرف نام کی بنیاد پر بڑے بڑے دعوے کرتے اور مسائل حل کرتے نظر آتے ہیں لیکن انہیں خود بھی نہیں معلوم ہوتا کہ نام کی اصل حقیقت کیا ہے اور اس کا دائرہ کار کتنا وسیع یا محدود ہے‘ اس حوالے سے ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ ہماری قسمت اور حالات زندگی کا راز ہماری درست تاریخ پیدائش‘ وقت پیدائش میں پوشیدہ ہے‘ نام کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے کیوں کہ تاریخ پیدائش اور وقت پیدائش اللہ کی طرف سے مقرر کردہ ہیں جبکہ نام ایک اختیاری شے ہے جو ابتدا میں ہمیں اپنے والدین کی طرف سے ملتا ہے اور بعد میں اکثر ہم اسے تبدیل بھی کرلیتے ہیں گویا نا م کے اثرات تبدیل ہو سکتے ہیں لیکن تاریخ پیدائش کے اثرات کبھی نہیں بدل سکتے کیوں کہ ہم دوبارہ اس تاریخ اور وقت پر پیدا نہیں ہو سکتے‘ یہی ہماری قسمت ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ نام اپنے حروف اور اعداد کی طاقت کے ساتھ ہماری شخصیت اور کردار پر اثر اندار ہوتا ہے اور یہ کام وہ ہماری تاریخ پیدائش کی عددی طاقت کے ساتھ مل کر انجام دیتا ہے‘ اگر تاریخ پیدائش اور نام کے اعداد باہمی طور پر ہم آہنگ نہ ہوں‘ ایک دوسرے سے متضاد ہوں تو شخصیت میں بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے‘ ہم آہنگی کی صورت میں پیدائش کے اعداد مزید تقویت پاتے ہیں اور ان کی کارکردگی یا اثر بڑھ جاتا ہے‘ اس کے علاوہ نام کے حروف سے تشکیل پانے والا لفظ بھی اپنی معنوی حیثیت میں اثر انداز ہوتا ہے اور اسی لیے حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ”اچھے معنوں کے نام رکھو“۔
بعض لوگوں نے نام کی تبدیلی کو عجیب تماشا بنا رکھا ہے‘ ذرا کسی بچے کو زیادہ سرکش‘ نافرمان یا شرارتی دیکھا یا صحت کی خرابی کے مسائل زیادہ نظر آئے فوراً نام کو مورد الزام ٹھہرا دیا گیا اور ایسے نام نہاد سیانے بھی موجود ہیں جو فوراً ایسی صورت حال میں فتویٰ جاری کردیتے ہیں کہ نام ”بھاری“ ہے۔ اس حوالے سے جومثالیں پیش کی جاتی ہیں وہ بھی کم فہمی اور کم علمی پر مبنی ہیں۔
نام کے حروف اور اعداد چوں کہ ہماری شخصیت اور کردار پر اثر انداز ہوتے ہیں اور تاریخ پیدائش سے ان کی ہم آہنگی بھی ضروری ہوتی ہے‘ لہٰذا کسی تضاد کی صورت میں نام اپنے ناقص اثرات شخصیت اور کردار پر ڈال رہا ہوتا ہے اس کی درستگی بہرحال ضروری ہوتی ہے۔
آئیے نام کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے چندبنیادی اصول آپ کے سامنے پیش کیے جائیں تاکہ آپ خود اپنے نام کے بارے میں جان سکیں کہ وہ کیسا ہے؟

آپ کا نام اورآپ

علم الاعداد اور علم الحروف ایک قدیم علم ہے جو برسوں کی تحقیق اور تجربے کے بعد آج بھی دنیا میں رائج ہے‘ اہل علم وعرفان اس سے رہ نمائی حاصل کرتے ہیں‘ہم یہاں جو طریقے کار دے رہے ہیں یہ انتہائی قدیم ہے‘ لہٰذا اردو حروف تہجی اور عربی ابجد کے اصول و قواعد اس طریقے کار میں استعمال نہیں ہوں گے بلکہ انگریزی حروف تہجی اور ان کی مقررہ قیمت استعمال کی جائے گی جس کی ٹیبل ہم ذیل میں دے رہے ہیں۔

 

 



  

نام خواہ کوئی بھی ہو‘حروف تہجی اور اعداد یہی رہیں گے‘ دنیا کے تمام نام ان حروف اور نمبروں کے محتاج ہیں‘ بنیادی اہمیت اعداد کو حاصل ہے اور اعداد ہی طاقت اور اثر رکھتے ہیں‘ ان کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں جیسا کہ قدیم دانشور اور ریاضی داں فیثاغورث کا قول ہے”دنیا اعداد کی قوت پر تعبیر کی گئی ہے“۔
ہر عدد یا نمبر اپنی مخصوص طاقت‘خصوصیت اور دائرہ اثر رکھتا ہے جس کے بارے میں جاننا ہمارے لیے ضروری ہے تاکہ ہم اپنے نام کے حروف کا درست تجزیہ کر سکیں‘ اس تجزیہ میں ہمیں یہ معلوم کرنا ہوگا کہ ہمارے مکمل نام میں موجود حروف کی قیمتیں کیا ہیں؟اور نمبر ہمارے نام کو کس نوعیت کی قوت اور خصوصیت سے نواز رہے ہیں‘ کون سے نمبر نام میں زیادہ ہیں اور کون سے کم ہیں یا کون سے نمبر ایسے ہیں جن کا ہمارے نام میں کوئی وجود ہی نہیں ہے۔
ہمیں ایک سادہ سے اصول کو ذہن میں رکھنا ہوگا‘ ان نمبروں پر خصوصی نظر رکھنا ہوگی جو ہمارے نام میں اکثریت رکھتے ہیں اور نا م کے حروف میں ان کی مسلسل تکرار موجود ہے‘ گویا یہ نمبر ہمارے نام کی زیادہ بااثر قوت ہیں‘ دوسرے نمبر پر ان نمبروں پر بھی نظر رکھنا ہوگی جو ہمارے نام میں موجود ہی نہیں ہیں‘ تیسرے نمبر پر وہ نمبر ہوں گے جو صرف ایک بار نام میں اپنا جلوہ دکھا رہے ہیں۔
آئیے ایک مثال کے ذریعے اس سارے عمل کا جائزہ لیا جائے۔ مثال کے طور پر ایک شخص کا نام ابرار علی(ABRAR ALI) ہے‘ نام میں موجود حروف کے اعداد کی تفصیل یہ ہوگی 1+2+1+1+1+1+3+1=11
اب غور کرنے کا مقام یہ ہے کہ نمبر 1 پورے نام میں غالب اکثریت کا حامل ہے اور اس کی تکرار یا ارتعاش بہت زیادہ ہے جبکہ نمبر2اور 3 صرف ایک مرتبہ جلوہ فرما ہیں۔اس کا مطلب یہ ہواکہ نا م کی حاکم قوت 1ہے جبکہ 4,5,6,7,8,9, نمبر نام سے خارج یاغائب ہیں‘ گویا نام ان غائب اعداد کی قوت اور خصوصیات سے محروم ہے‘2اور 3 نام میں موجود ہیں اور ان کے اثر سے انکار ممکن نہیں ہے‘نام میں موجود اکثریتی نمبر اپنے بھرپور اثر وطاقت کا مظاہرہ کرے گا جبکہ غائب اعداد کی قوت اور اثر سے محرومی اس نام میں کسی کمزوری یا خامی کا پتہ دیتی ہے اور اس کی وجہ سے بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں‘ جن کا آگے چل کر جائزہ لیا جائے گا، مکمل نام کا مرکب عدد گیارہ ہے گویا یہاں بھی 1 نمبر کی تکرار ہے، 11 کے مرکب عدد کی تاثیر بھی پیش نظر رہنی چاہیے جب کہ نام مفرد عدد 2 ہوگا لہٰذا عدد 2 ظاہر کرے گا کہ ابرار علی کا کردار ظاہری طور پر کیسا ہے جب کہ نام کے دیگر اعداد ظاہرکریں گے کہ ابرار علی اپنے باطن میں کیسا کردار رکھتا ہے، اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ بعض لوگ اپنے باطن میں کچھ اور ہوتے ہیں اور ظاہر میں کچھ اور۔
مندرجہ بالا مثال میں بھی کچھ ایسی ہی صورت حال ہے، عدد2 ظاہر کرتا ہے کہ ابرار علی لوگوں سے اچھے تعلقات رکھتا ہے وہ ملن سار، خوش مزاج شخصیت کا مالک ہے لیکن اپنے باطن میں 1 نمبر کی تکرار اور اس سے پیدا ہونے والا ارتعاش اسے بہت زیادہ انانیت اور ذاتی غرور و مفادات کا حامل بناتا ہے، امید ہے کہ آپ اس طریقے سے اپنے نام کا تجزیہ کرکے اپنی خوبیوں اور خامیوں سے آگاہ ہوسکتے ہیں۔

نام اور نیا سال

اپنے گزشتہ مضمون میں ہم نے کسی بھی سال کی مجموعی کیفیت اور خصوصیت معلوم کرنے کا طریقہ بیان کیا تھا جس کے لیے تاریخ پیدائش اور پیدائش کے مہینے کا عدد معلوم کر کے مطلوبہ سال میں جمع کیا جاتا ہے اور پھر اس سال کا ذاتی نمبر حاصل کیا جاتا ہے جو سال کے بار ے میں ہماری رہ نمائی کرتا ہے۔ اگر ذاتی سال کا نمبر ہمارے نام کے حروف میں موجود نہیں ہوگا تو وہ سال ہمارے لیے ایک مشکل سال ثابت ہو سکتا ہے اس کے برعکس اگر سال کا ذاتی نمبر ہمارے نام میں موجود ہے تو اس عدد سے وابستہ فطری صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملے گا اور اگر وہ عدد اکثریت رکھتا ہے تو یہ بات یقینی ہوجائے گی کہ ہم مطلوبہ سال میں اس عدد کے زیر اثر غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے اور نہایت کامیاب رہیں گے۔
مثلاً موجودہ سال 2021ء در حقیقت 5 نمبر کا سال ہے اور تاریخ پیدائش‘ مہینے کے اعداد بھی اس میں جمع کردیے جائیں تو جو بھی ذاتی سال کا نمبر حاصل ہوگا وہ ہمارے نام میں ہونا چاہیے‘ بصورت دیگر موجودہ سال ایک مشکل سال ثابت ہو سکتا ہے لیکن اگر ذاتی سال کا نمبر نام میں موجود ہے تو یقیناً اس عدد کے حوالے سے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ سامنے آئے گا، اس حوالے سے علم الاعداد کے موضوع پر دوسرا مضمون ان شاء اللہ آئندہ ہفتے پیش کیا جائے گا۔

نام کے اعداد کا اثرو رسوخ

نمبر 1
اگر عدد ایک آپ کے نام میں موجود ہے یا ایک سے زیادہ مرتبہ اس کی تکرار موجود ہے تو آپ ان لوگوں میں سے ہیں جو اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے قابل ہیں‘ کم یا زیادہ عزت نفس کا احساس آپ کے اندر موجود ہے‘ جرأت اور مردانگی کے حامل ہیں‘ آزادی پسند ہیں‘ فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور دبنگ ہیں، انا کے مسائل کا شکار بھی ہوتے ہیں۔
بہتر ہوگا کہ حاکمیت پسندی‘ انا پرستی اور دوسروں پر دباؤ ڈالنے سے گریز کریں۔
غائب عدد: اگر نمبر 1 آپ کے نام میں موجود نہیں ہے تو آپ کی ذات اولین اہمیت کی حامل نہیں ہے‘آپ کے کردار میں لگن‘ پہل کرنے اور خود اعتمادی کا فقدان ہے‘ آپ دبنگ نہیں ہیں‘ جرأت کی کمی ہے‘ وقت کی مناسبت کا شعور نہیں رکھتے‘ فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے‘ آگے بڑھ کر نمایاں ہونا‘ اگلی صفوں میں رہنا‘ پہل کرنا نہیں جانتے‘ آپ حد سے زیادہ محتاط ہیں‘ رسک لینے سے ڈرتے ہیں اور یہ کمزوریاں یا خامیاں آپ کو بھرپور فوائد حاصل کرنے سے روک سکتی ہیں‘خاص طور پر ذاتی نمبر 1 کے سال میں۔
حاکم عدد: اگر نمبر 1 آپ کے نام کا اکثریتی عدد ہے تو ”حاکم عدد“ کہلائے گا اور ایسی صورت میں آپ کی خود اعتمادی بڑھ جائے گی‘ قائدانہ صلاحیتوں کا اعلیٰ اظہار ہوگا‘ آپ اپنی ذات سے اور اپنے کام سے لطف اندوز ہوں گے لیکن حد سے بڑھی ہوئی خود اعتمادی اور تکبر پر قابو رکھنے کی ضرورت ہوگی۔
نمبر 2
نمبر 2 کی نام میں موجودگی یا تکرار آپ کو ملن سار اور تعاون کرنے والا بناتی ہے‘ آپ دوسروں کا لحاظ کرتے ہیں‘ حساس ہیں‘ موقع شناس ہیں‘ شراکت میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں‘ تال میل کا شعور رکھتے ہیں اور کسی معاملت میں بہتر رویہ اپناتے ہیں‘ وقت کی مناسبت سے قدم اٹھاتے ہیں لیکن ڈر پوک ہیں۔
بہتر ہوگا کہ دوسروں کو بہت زیادہ خوش کرنے‘ نرم خُو ہونے اور حد سے زیادہ حساس ہونے سے گریز کریں۔
غائب عدد: اگر 2 نمبر آپ کے نام میں موجود نہیں ہے تو جذبات کو آسانی سے ٹھیس لگتی ہے‘ آپ تفصیلات کے معاملے میں بے پروا ہو سکتے ہیں‘ زود رنج ہو سکتے ہیں‘ صبر وتحمل‘ تدبیر اور حکمت عملی کا فقدان ہو سکتا ہے‘ شراکتی نوعیت کے معاملات میں پریشانی ہو سکتی ہے۔
حاکم عدد:اگر نمبر 2 آپ کے نام کا حاکم عدد ہے تو آپ دوسروں کے ساتھ کام کر کے لطف اندوز ہوتے ہیں‘ چیزیں جمع کرنے کا شوق رکھتے ہیں‘ شراکتی سرگرمیوں میں دلچسپی لیتے ہیں اور ان سے اچھے نتائج حاصل کرتے ہیں‘موسیقی‘ رقص اور شاعری سے شغف ہے‘ فن کارانہ قدردانی ہے،ساتھ ہی اس بات کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ آپ زندگی کی رنگینیوں میں خود کو بہت زیادہ ملوث نہ کرلیں۔
نمبر 3
اگر نام میں عدد 3 موجود ہے یا اس کی تکرار ہے تو آپ اپنے آپ کو اور اپنے آئیڈیوں کو دوسروں کے ہاتھ فروخت کر سکتے ہیں‘بے فکر‘ تخّیل پرست اور ملن سار ہیں‘ رابطے کا ہنر جانتے ہیں اور تخلیق کار ہیں۔
اپنی توانائیوں کو بکھیرنے‘ فضول خرچ ہونے‘ باتونی ہونے‘ شیخی بگھارنے‘ بے صبری کا مظاہرہ کرنے اور خوش فہم ہونے سے گریز کریں۔
غائب عدد: اگر 3کا عدد نام میں موجود نہیں ہے تو آپ کو آگے بڑھنے میں دشواری ہو سکتی ہے‘ آپ احساس کمتری کا شکار ہو سکتے ہیں‘ اظہار ذات میں دشواری محسوس کر سکتے ہیں‘ ڈرپوک اور پست ہمت ہو سکتے ہیں۔
حاکم عدد: اگر نا م کا حاکم عدد 3ہے تو آپ تقریر اورتحریر کے ذریعے اظہار کر کے لطف اندوز ہوتے ہیں‘ خوش رہنا جانتے ہیں‘ اثر قبول کرتے ہیں‘ تخّیل پرست ہیں‘ پرجوش‘ خوش مزاج‘ تخلیق کار اور بے تکلف ہیں، آپ کو جنسی معاملات میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
نمبر 4
آپ سخت محنت‘ کاوش‘ توجہ مرکوز کرنے اور ارتکاز کو قائم رکھنے کی اہلیت رکھتے ہیں‘ ایک عملی‘ حقیقت پسند‘ منظم اور نظم و ضبط کے پابند انسان ہیں‘ تحمل اور برداشت رکھتے ہیں۔
سخت گیر‘ بے لچک‘ بے حس‘ ہٹ دھرم‘ تنگ نظر یا حد سے زیادہ لکیر کے فقیر ہونے سے گریز کریں۔
غائب عدد: اگر 4 نمبر آپ کے نام میں نہیں ہے تو آپ کے اندر بے صبری اور عاقبت نااندیشی پائی جاتی ہے‘ ترتیب اور سسٹم کا فقدان ہے‘آپ من موجی ہیں‘ روز مرہ کے امور پر پابند نہیں رہ سکتے‘ کام چور اور کاہل ہیں یا الٹا سیدھا کام کر کے جلد از جلد اپنی جان چھڑا لیتے ہیں یا سرے سے کام کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچاتے‘ آپ مکمل نہیں ہیں‘ شارٹ کٹ ڈھونڈنے اور محنت سے جی چرانے کا رحجان رکھتے ہیں۔
حاکم عدد:اگر آپ کے نام میں عدد 4 کی تکرار اور ارتعاش زیادہ ہے تو آپ کام کو کام سمجھ کر لطف اندوز ہوتے ہیں‘ اچھا کام کر کے فخر محسوس کرتے ہیں‘ سلیقہ مند‘ ترتیب اور سسٹم پسند ہیں‘محنتی‘ فرض شناس اور با ضمیر ہیں۔
نمبر 5
اگر آپ کے نام میں نمبر 5 ایک یا زیادہ بار موجود ہے تو آپ آزادی‘ تبدیلی‘ ایڈونچر‘ تفریح‘ اسپورٹس‘ آؤٹ ڈور سفر‘ سیکس اور لوگوں سے ملنے جلنے کے شائق ہیں۔ با تدبیر ہیں‘متجسس ذہن رکھتے ہیں اور خود کو ماحول کے مطابق ڈھالنا جانتے ہیں۔
حد سے زیادہ من موجی پن‘ بے چینی‘ عجلت پسندی‘ شہوانیت‘ اندھا دھند کام کرنے اور حد سے زیادہ رنگ رلیاں منانے سے پرہیز کرنا چاہیے‘ آپ کے ہاں پرانے دوستوں کو چھوڑ کر نئے دوست بنانے کا رحجان پایا جاتا ہے۔
غائب عدد:اگر پانچ نمبر آپ کے نام میں موجود نہیں ہے تو آپ کے لیے کسی تبدیلی کو قبول کرنا بہت مشکل ہے‘ ہجوم میں بے اطمینانی محسوس کریں گے‘ تجسس اور ماحول کے مطابق خود کو ڈھالنا یا ایڈجسٹ کرنا مشکل ہوگا‘ آپ دبے ہوئے یا آزادانہ جنسی تعلقات کے حامی ہو سکتے ہیں‘ زندگی کا تجربہ محدود ہوگا‘ آئین نو سے خوف محسوس کریں گے‘ عوامی آدمی نہیں ہوں گے اور تجربے سے سیکھنے میں ناکام رہیں گے‘ ماضی کی غلطیاں دھرا سکتے ہیں۔
حاکم عدد: اگر نمبر 5 آپ کا حاکم عدد ہے تو آپ زندگی سے بھرپور لطف اندوز ہوں گے‘ آپ کی ورسٹائل خصوصیات آپ کو نت نئے تجربات سے آشنا کریں گی۔
نمبر 6
آپ کے نام میں چھ کا عدد آپ کو گھریلو‘ مہمان نواز‘ پروش کرنے والا‘ خیال رکھنے والا اور ذمہ دار بناتا ہے۔آپ دوسروں کے لیے خود کو وقف کر سکتے ہیں اور دوسروں کی ذمہ داریاں بھی اپنے سر لے سکتے ہیں‘ آپ کے لیے انکار کرنا کافی مشکل ہوتا ہے۔
مداخلت کرنے‘ اپنے آپ کو درست سمجھنے‘ خود کو دوسروں سے زیادہ نیک سمجھنے‘ ہٹ دھرمی‘ ملکیت جتانے‘ بے لچک ہونے‘ ناصح بننے سے گریز کریں۔
غائب عدد:عدد نمبر 6آپ کے نام سے غائب ہے تو آپ ذمہ داریوں سے بھاگنے والے ہوں گے‘ آپ کے مزاج میں بچگانہ پن ہو سکتا ہے‘ آپ کو ایک اچھا شریک حیات یا ماں باپ ہونا سیکھنا پڑے گا‘ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہوگی‘ آپ کام شروع کرتے ہیں لیکن مکمل نہیں کرتے‘گھریلو مسائل آپ کے لیے پریشانی کا باعث ہیں‘ اس حقیقت سے آزردہ رہتے ہیں کہ دوسرے آپ پر تکیہ کرتے ہیں‘ آپ کو بندش یاپابندیوں کا خوف لاحق رہتا ہے۔
حاکم عدد: آپ کو گھر اور خاندان سے محبت ہے‘ اس بات سے مطمئن اور لطف اندوز ہوں گے کہ دوسرے آپ پر انحصار کرتے ہیں‘ وہ آپ کے بغیر نہیں رہ سکتے‘ آپ محبت کرنے والے اورقابل بھروسہ ہیں۔
نمبر7
عدد 7کی موجودگی یازیادتی آپ کو ایک تجزیہ کار بناتی ہے‘ آپ کا دماغ تیز اور متجسس ہے‘ آپ گُھنّے‘ انتخاب کے اہل‘ خلوت نشین‘ تحقیق کرنے والے اور مشاہدہ نفس کرنے والے ہو سکتے ہیں‘ اپنی ہی صحبت میں خوش رہ سکتے ہیں‘ تخلیہ اور سکوت پسند ہیں۔
کیڑے نکالنے‘ افسردہ رہنے‘ راز مخفی رکھنے‘ گوشہ نشینی‘ عیاری‘ منشیات یا الکوحل کا عادی ہونے سے پرہیز کریں۔
غائب عدد:آپ عدد 7 کی غیر موجودگی کے باعث پریشان ہوتے رہتے ہیں‘ آپ کے لیے یہ سیکھنا ضروری ہے کہ تنہا ہو ئے بغیر بھی تنہا کیسے ہوا جاتا ہے‘ روحانی آگہی کو ڈیویلپ کرنے کی ضرورت ہے‘ آپ کے ”فلسفہ حیات“ کی آزمائش 7سال میں ہوجائے گی۔
حاکم عدد: آپ ذہنی یا دانشورانہ دلچسپیوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں‘ مطالعہ کرنے‘ زندگی کے اسرار و رموز کو کُریدنے‘ صلاح و مشورہ کرنے‘ غور و فکر کرنے اور سوچنے میں آپ کو لطف آتا ہے۔
نمبر 8
ایک یا زیادہ 8کا عدد آپ کو شاندار صلاحیتوں کا مالک بناتا ہے‘ آپ کامیابی حاصل کرنے اور پیسا کمانے کے اہل ہیں‘لائق‘ خطرہ مول لینے والے‘ باتدبیر اور منظم ہیں‘ ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی اچھی صلاحیت رکھتے ہیں۔
حد سے زیادہ مادّہ پرست ہونے سے گریز کریں اور یاد رکھیں کہ زندگی کی تمام خوشیاں صرف اور صرف دولت کے ذریعے حاصل نہیں ہوتیں۔
غائب عدد: اگر 8نمبر نام میں موجود نہیں ہے تو عمدہ مالی سوجھ بوجھ کا فقدان ہوگا‘پیسہ آتا ہے مگر خرچ ہوجاتا ہے‘پیسے اور کامیابی کی یا تو بہت فکر رہتی ہے یا پھر اس طرف سے بالکل بے پروا اور بے فکر رہتے ہیں‘ عام طور پر معاملات کو سنبھالنے‘ مالی مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔
حاکم عدد:اگر آپ کے نام کا حاکم عدد 8 ہے تو آپ کی سوچ بڑی ہے اور آپ کسی بڑی مہم جوئی سے لطف اندوز ہوتے ہیں‘مادی کامیابی کے حصول کی شدیدلگن رکھتے ہیں‘ نمایاں مقام حاصل کرتے ہیں اور ہر اس شے سے لطف اندوز ہوتے ہیں جوپیسے سے خریدی جا سکتی ہے۔
نمبر 9
عدد 9کی موجودگی آپ کو انسانیت نواز بناتی ہے‘ آپ مہربان ہیں‘ آپ کی سوچ عالمی ہے‘ رحم دل‘ رومینٹک‘محبت میں پرتپاک‘ فراخ دل ہیں‘ آپ میں فنکارانہ صلاحیتیں ہیں اور آپ سیاست‘ تہذیبی وثقافتی معاملات اور سماجی مسائل میں دلچسپی لیتے ہیں۔
حد سے زیادہ جذباتی ہونے‘ دوسروں پرضرورت سے زیادہ اثر انداز ہونے ‘ خود کو قانون سمجھنے‘ سب پر چھا جانے یا چھائے رہنے اور طوفانی ہونے سے پرہیز کریں۔
غائب عدد:اگر 9 کا عدد نام میں موجود نہیں ہے تو آپ کو صرف اپنی ذات اور اپنے حلقے سے دلچسپی ہے‘ دنیاوی معاملات یا غیروں کی خوشی اور غم سے برائے نام سروکار ہے‘ آپ کے لیے دوسروں کے جذبات و احساسات اور ضروریات کو سمجھنا مشکل ہے‘ ہمدردی اوررحم دلی مفقودہو سکتی ہے‘ ایک نو سالہ چکر میں دنیا آپ کا دروازہ پیٹنے لگے گی کیوں کہ آپ کو بنی نوع انسان کے مسائل سے دوچارہونا پڑے گا اور آپ کے لیے صورت حال خاصی پریشان کن ہوجائے گی‘ زندگی آپ کو مجبور کردے گی کہ آپ انسانیت کے لیے کچھ کریں‘ سیکھنے کے لیے باہر ایک وسیع دنیا پھیلی ہوئی ہے‘ دنیا صرف وہی نہیں ہے جو آپ کے گرد صرف آپ کی خاطر گھومتی ہے۔
حاکم عدد: اگر 9 نمبر حاکم عدد کی حیثیت رکھتا ہے تو آپ دوسروں کے کام آ کر لطف اندوز ہوتے ہیں‘ آپ کو فن‘ تہذیب وثقافت اور سیاست سے دلچسپی ہے۔

 

جمعہ، 4 دسمبر، 2020

نظم و ضبط، عملی اقدام اور اہم فیصلوں کا سال

خود غرضی اور مفاد پرستی میں اضافہ، پاکستان میں نیا نظام‘ آئینی ترامیم

 ہماری دنیا میں آنے والا ہر نیا سال زندگی کے لیے کچھ نئے چیلنج، نئی تبدیلیاں اور نیا ماحول لاتا ہے، علم فلکیات اپنی سیاروی گردش سے ہمیں ہر سال کے بارے میں نہایت لطیف اور معنی خیز اشارے فراہم کرتا ہے،ان اشاروں کو سمجھنا اور ان کے معنی پر غور کرنا ماہرین فلکیات کا کام ہے، بے شک ہمارے علاوہ دنیا بھر کے دیگر منجمین بھی یہ کام پوری ذمے داری اور مہارت کے ساتھ کرتے ہیں، ہم بھی گزشتہ کئی سالوں سے یہ فریضہ انجام دے رہے ہیں، 2021 کا آغاز ہوا چاہتا ہے، اس سے پہلے کہ اس نئے سال پر گفتگو کا آغاز کیا جائے، بہتر ہوگا کہ گزشتہ سال 2020 کے حوالے سے تھوڑی سی یادداشت تازہ کرلی جائے۔

2020 کے بارے میں ہم نے جن خدشات کا اظہار کیا تھا، صورت حال تقریباً اس کے مطابق رہی، ہم نے لکھا تھا ”2020 جنگ و جدل، عالمی معاشی بحران، معاشرتی ٹوٹ پھوٹ کا سال ہوگا اور پاکستان ایک نئے نظام کی طرف بڑھے گا“
بے شک عالمی صورت حال کچھ ایسی ہی رہی، چین اور امریکا کے درمیان ایک سرد جنگ کا آغاز ہوچکا ہے، چینی مسلح افواج بھارت کی سرحدوں پر بھارتی فوج کے مقابل کھڑی ہیں اور چین لداخ کے تقریبا ایک ہزار کلو میٹر علاقے پر قابض ہوچکا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت نے کوئی بڑی جوابی کارروائی کرنے کے بجائے روس میں مذاکرات کی ٹیبل پر اپنی شکست تسلیم کرلی لیکن یہ معاملہ یہاں نہیں رکے گا، بھارت کو اس صورت حال کی مزید قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
اسرائیل اور ایران کے درمیان بھی خاموش محاذ آرائی جاری ہے، سیاسی طور پر نئی گروپ بندیاں ہورہی ہیں، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں نئی تبدیلیاں شروع ہوچکی ہیں، بعض عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کر رہے ہیں، یورپ کی صورت حال بھی انتشار اور اضطراب کی آئینہ دار ہے، ترکی اور یونان کے درمیان تنازع خاصا سنجیدہ ہوچکا ہے جس میں فرانس بھی ترکی کے مقابل آچکا ہے، قصہ مختصر یہ کہ ہر نیا سال دنیا کو ایک نئی سمت کی جانب لے جارہا ہے اور یہی اس متحرک نظام کائنات کا خاصہ ہے۔

غیر معمولی سیاروی اجتماعات

26 دسمبر 2019 کو تقریباً 7 سیارگان کا ایک بڑا اجتماع برج قوس میں ہوا تھا اور ہم نے اس کا تجزیہ کرتے ہوئے امکان ظاہر کیا تھا کہ اب دنیا نظریاتی طور پر تبدیل ہونے جارہی ہے،عالمی معاشی بحران کے ساتھ معاشرتی ٹوٹ پھوٹ بھی اپنی انتہا کو پہنچ رہی ہے، 2020 میں یہ مشاہدہ بھی ہوا،کورونا وائرس نے پوری دنیا کی فضا تبدیل کردی، معاشی بحران کے ساتھ ساتھ معاشرتی سرگرمیاں بھی محدود ہوکر رہ گئیں، اکثر ممالک ابھی تک اس صورت حال سے دوچار ہیں،نظریاتی طور پر بھی دنیا تبدیل ہورہی ہے یعنی عرب ممالک اسرائیل سے دوستانہ معاہدے کر رہے ہیں، اسرائیل کو تسلیم کر رہے ہیں، سعودی عرب جو عالم اسلام میں ایک قائدانہ کردار کا حامل رہا ہے وہ بھی اسرائیل کے حوالے سے نرم رویہ اختیار کر رہا ہے، دنیا جو ہمیشہ امریکا اور یورپ کی طرف دیکھتی تھی، اب چین اور روس کی طرف دیکھ رہی ہے۔
ہم نے 2020 کے بارے میں لکھا تھا ”فطری زائچے کے مطابق یہ قران اگر ایک طرف دنیا بھرمیں مذہبی انتہا پسندی، آئین و قانون سے ماورا فیصلے و اقدام اور معاشی بحران لائے گا تو دوسری طرف عالمی زائچے کے مطابق قوموں اور ملکوں کی نئی حد بندیوں اور اندرونی انتشار کا باعث ہوگا“
بین الاقوامی زائچے کے مطابق 11 فروری 2021 بمقام لندن 01:13 pm پر قران شمس و قمر ہوگا، نیو مون کا یہ زائچہ ظاہر کرتا ہے کہ سات سیارگان کا اجتماع اس بین الاقوامی زائچے میں آٹھویں گھر میں ہوگا، شمس و قمر، زہرہ،عطارد، مشتری اور زحل برج جدی میں اکٹھا ہوں گے،سیارہ مریخ اس اجتماع میں شریک نہیں ہوگا، جب کہ راہو کیتو ایسی پوزیشن میں ہوں گے جسے ایک انتہائی منحوس اثر کا حامل یوگ کہا جاتا ہے یعنی ”کال سرپ یوگ“گویا ویدک علم نجوم کے مطابق کال سرپ یوگ کی وجہ سے سال 2021 گویا ایک انتہائی نحوست کا سال ہوگا، ہم روایتی ویدک سسٹم کے اس یوگ کو تسلیم نہیں کرتے، یہ ضرور ہے کہ بین الاقوامی زائچے کے آٹھویں گھر میں اس اجتماع کے غیر معمولی اور ناموافق اثرات ممکن ہیں۔
برج جدی ایک خاکی اور منقلب برج (Earth sign) ہے، دسمبر 2019 میں ہونے والا سات سیارگان کا اجتماع برج قوس میں ہوا تھا جو آتشی اور ذوجسدین برج (Fire Sign) ہے، برج قوس مذہبی نظریات اور دنیاوی آئینی و قانونی نظریات یا فلسفے کا برج ہے، چناں چہ ہم نے 2020 میں دیکھا کہ دنیا کس طرح نظریاتی طور پر تبدیلی کی طرف گامزن ہوئی ہے، فروری 2021 میں ہونے والا سیاروی اجتماع ایک بالکل برعکس صورت حال کی نشان دہی کرتا ہے۔
اس اجتماع میں شریک سیارہ قمر، عطارد، مشتری غروب ہوں گے، مجموعی طور پر اس اجتماع کا اثر دنیا بھر میں عملیت پسندی اور تبدیلی کا رجحان لائے گا اور یہ تبدیلیاں مفادات کی بنیاد پر ہوں گی، نظم و ضبط اور اصول و قواعد پر زور دیا جائے گا، لوگ زیادہ پریکٹیکل ہوجائیں گے، خیالی دنیا سے نکل کر میدان عمل میں سرگرم ہوں گے، توہماتی،قیاسی باتوں سے زیادہ حقیقت پسندانہ یا دوسرے معنوں میں سائنسی سوچ اور فکر پر توجہ دی جائے گی اور یہ ایک مثبت رجحان ہوگا، بہت سے جذباتی رویوں، نظریوں اور فلسفوں کا خاتمہ ہوگا اور ایسی رسومات و روایات کی بھی حوصلہ شکنی کی جائے گی جو عملی طور پر عام انسان کے لیے محض وقت کا زیاں ہوں اور بے فائدہ ہوں مگر اس کے ساتھ ہی دنیا بھر میں خود پرستی اور خود غرضی بہت زیادہ بڑھ جائے گی، لوگ صرف نفع و نقصان کی بنیاد پر قدم آگے بڑھانے کو ترجیح دیں گے، اس سے قریبی رشتے ناتے بھی بری طرح متاثر ہوں گے،یہی صورت حال ملکوں اور قوموں کی بھی ہوگی،کسی ملک یا قوم کے حوالے سے اس سیاروی اجتماع کا جائزہ اس کے ذاتی برتھ چارٹ کے مطابق ہی درست ہوگا، یہاں ہم صرف اس اہم اجتماع سیارگان کے پوری دنیا کے لیے مجموعی اثرات پیش کر رہے ہیں۔
مختصراً ہم نشان دہی کرتے چلیں کہ طالع برج حمل کے تحت افراد یا ممالک کے زائچے میں یہ اجتماع دسویں (تجارت اور انتظامی امور) گھر میں ہوگا، برج ثور سے متعلق افراد و ممالک کے نویں گھر(ترقیاتی اور آئینی امور) میں، برج جوزا سے آٹھویں گھر (حادثات و سانحات) میں،برج سرطان سے ساتویں گھر(تعلقات) میں، برج اسد سے چھٹے گھر(فوجی اور سویلین سرگرمیاں) میں، برج سنبلہ سے پانچویں گھر(اعلیٰ تعلیمی اور دانش ورانہ سرگرمیاں) میں، برج میزان سے چوتھے گھر(داخلی اور عوامی امور) میں، برج عقرب سے تیسرے گھر (قائدانہ فیصلے اور تبدیلیاں) میں، برج قوس سے دوسرے گھر(معاشی حیثیت) میں، برج جدی کے پہلے گھر(ذاتی مفادات) میں ہوگا، چناں چہ مختلف افراد یا ممالک کو اسی حوالے سے دیکھا جائے گا اور مخصوص اثرات نوٹ کیے جائیں گے۔

پاکستان

پاکستان کا طالع پیدائش برج ثور ہے، پاکستان گزشتہ تقریباً 12 سال سے اپنے زائچے کے سب سے منحوس سیارے مشتری کے دور اکبر سے گزر رہا ہے، سیارہ مشتری کا دور اکبر 16 سال کے عرصے پر محیط ہوتا ہے، چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ دسمبر 2008 سے اب تک اس دور کے منفی اثرات ہمارے ملک پر نمایاں ہیں، معاشی، اخلاقی، سیاسی، انتظامی، تعمیری،ترقیاتی اور بھی دیگر ہر لحاظ سے ہمارے حالات روز بہ روز بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں، سونے پر سہاگا ہر سال کی سیاروی گردش بھی نت نئے مسائل اور مصائب کا باعث رہی ہے، تقریباً 2017 سے سیارہ زحل زائچے کے آٹھویں گھر میں آگیا تھا، زحل زائچے کا نہایت اہم ترین سیارہ ہے، دسویں گھر کا مالک ہے جس کا تعلق اعلیٰ عہدے داروں، حکومت اور تجارتی امور سے ہے،سیارہ زحل کی یہ پوزیشن 2019 سے مزید خراب ہوئی کیوں کہ اس پورے سال میں کیتو بھی زحل کے ساتھ حالت قران میں رہا، بے شک جنوری 2020 سے یہ بدترین پوزیشن تبدیل ہوئی اور زحل نے زائچے کے نویں گھر برج جدی میں قدم رکھا جو اس کا اپنا ذاتی برج ہے اور نواں گھر بھی سعادت افروز ہے لیکن زحل کی جس بھرپور توانائی کی ضرورت تھی، وہ 2020 میں حاصل نہیں ہوسکی کیوں کہ زائچے میں پورا سال اس کی موجودگی ابتدائی درجات پر عالم طفولیت کی رہی۔
نئے سال 2021 کے آغاز سے پہلے ہی یعنی تقریباً 20 نومبر 2019 کے بعد سے سیارہ مشتری بھی برج جدی میں داخل ہوگا اور اس طرح مشتری اور زحل کے درمیان ایک ایسے قران کا آغاز ہوگا جو حکومت، تجارت اور اعلیٰ عہدے داران کے لیے کسی طور بھی بہتر نہیں ہوگا، دسمبر ہی سے سیارہ زحل شمس کی قربت کے سبب غروب بھی ہوجائے گا اور یہ صورت حال تقریباً جنوری تک رہے گی، گویا رواں سال کے آخری مہینے نومبر دسمبر بھی زیادہ خوش کن نہیں ہیں، حکومت کے لیے اور عوام کے لیے بھی نئے چیلنج ان مہینوں میں موجود ہیں۔
نئے سال کے آغاز پر سیارہ مشتری کے دور اکبر میں سیارہ قمر کا دور اصغر جاری ہے جو فنکشنل اثرات کا حامل ہے، قمر زائچے کے تیسرے گھر کا حاکم اور نویں گھر میں قابض ہے، چھٹے گھر کے حاکم سیارہ زہرہ سے قریبی قران رکھتا ہے، اس کی وجہ سے قائدانہ باگ دوڑ اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہے، یہ دور 7 اگست 2021 تک جاری رہے گا اور اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انتظامی امور میں سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی بالادستی برقرار رہے گی، اگست سے زائچے کے بارھویں گھر کے حاکم سیارہ مریخ کا دور اصغر شروع ہوگا جسے کسی طرح بھی موافق اور بہتر نہیں کہا جاسکتا، مریخ زائچے میں نقصانات کی نشان دہی کرتا ہے اور دنیاوی علم نجوم میں فوج، پولیس سے متعلق ہے، اس امکان کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ مریخ کا یہ دور جو 7 اگست 2021 سے 14 جولائی 2022 تک جاری رہے گا، ملک میں مکمل فوجی اور بیوروکریٹ عمل داری کا باعث ثابت ہو، گویا سیاسی بساط ہی لپٹ جائے۔
نئے سال کے آغاز میں دسمبر سے جاری کشیدہ سیاسی صورت حال اور بین الاقوامی صورت حال مزید پیچیدہ ہوتی نظر آتی ہے، بہت زیادہ دباؤ حکومت اور وزیراعظم پر ہوگا،ساتھ ہی فوج اور بیوروکریسی بھی دباؤ میں آئے گی،پڑوسی ملک بھارت سے محاذ آرائی اور کسی متوقع جنگ کے امکانات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا،صورت حال کے اس شدید دباؤ کے نتیجے میں موجودہ نظام کے خاتمے اور کسی نئے نظام کے بارے میں قیاس آرائیاں بڑھ جائیں گی، اندرون خانہ اس حوالے سے تیاریاں بھی ممکن ہیں۔
فروری میں جیسا کہ سات سیاروں کے نویں گھر میں اجتماع کا ذکر ہوچکا ہے اور اسی مہینے میں پاکستان میں سینیٹ کے انتخابات بھی متوقع ہیں، چناں چہ سیاسی محاذ آرائی عروج پر نظر آئے گی،سیارہ زحل کی پوزیشن بہتر ہوگی جس کی وجہ سے حکومت اپنی من مانی کرسکے گی لیکن خیال رہے کہ موجودہ سال میں سیارہ زحل مسلسل وقتاً فوقتاً راہو کے نحس اثر سے متاثر رہے گا اور اس کے نتیجے میں کرپشن بڑھے گی اور حکومتی وزرا یا مشیروں کے نت نئے اسکینڈل بھی سامنے آتے رہیں گے، سینیٹ میں بھی حکومت کی پوزیشن بہتر ہوجائے گی لیکن میڈیا اور عوام کے لیے سہولیات کا فقدان بھی نظر آتا ہے۔
مارچ کے مہینے سے آئین سازی کے معاملات پر زیادہ زور ہوگا، نئے قوانین کے لیے کوششیں تیز ہوں گی،اٹھارہویں آئینی ترمیم میں مزید ترامیم ہوسکتی ہیں، اپوزیشن کا حکومت پر دباؤ بڑھے گا اور نئی محاذ آرائیاں سیاسی میدان میں نظر آئیں گی مارچ کا مہینہ قدرتی اور غیر قدرتی حادثات و سانحات کے علاوہ وبائی امراض کے خدشات بھی ظاہرکرتا ہے لیکن ساتھ ہی اس مہینے میں عوامی مسائل کے حل کے لیے اور عوامی مفادات کے لیے بھی حکومت کے اقدام سامنے آئیں گے، ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت ہوگی، مارچ کی ابتدا اہم صاحب حیثیت افراد اور اعلیٰ عہدوں پر متمکن شخصیات کے لیے ناموافق نظر آتی ہے۔
اپریل پاکستان اور حکومت پاکستان کے لیے ایک سخت مہینہ نظر آتا ہے جس میں حکومت کی تبدیلی کے لیے اپوزیشن کی کوششیں تیز ہوں گی،خفیہ ذرائع بروئے کار ہوں گے، پارلیمنٹ کی صورت حال انتہائی متنازع ہوجائے گی، اس بات کا خدشہ موجود ہے کہ اسمبلیوں کو ختم کرنے کے بارے میں سوچا جائے یا ملک میں کسی ریفرنڈم کی ضرورت پر زور دیا جائے جو موجودہ پارلیمانی نظام کو ختم کرنے اور صدارتی نظام لانے کے بارے میں ہوسکتا ہے، اپریل کا مہینہ خصوصاً 15 اپریل سے 15مئی خاصا مشکل اور چیلنجنگ ثابت ہوگا۔
مئی کا دوسرا ہاف ملک میں اہم واقعات لاسکتا ہے، حکومت کی پوزیشن بہتر ہوگی، تجارتی معاملات میں بھی نئے امکانات سامنے آئیں گے اور ملکی ترقی کے لیے اہم فیصلے اور اقدام ہوسکیں گے لیکن اس کے ساتھ ہی جرائم کی رفتار میں اضافہ ہوگا،عوام کی بہتری کے لیے سنجیدہ کوششیں دیکھنے میں آئیں گی، میڈیا اور سوشل میڈیا کی بہتری کے لیے بھی نئے امکانات پر غور کیا جائے گا، خیال رہے کہ سال 2021 پاکستان میں میڈیا کے معاملات میں غیر معمولی تبدیلیوں کا سال ہے،میڈیا پر جو غیر ذمے دارانہ رویے دیکھنے میں آتے ہیں اس کے پیش نظر بہت سی نئی تبدیلیاں اس سال متوقع ہیں۔
جون کا مہینہ اہم صاحب حیثیت شخصیات خصوصاً وزیراعظم یا وزراء اور مشیروں کے لیے ایک مشکل مہینہ ثابت ہوگا، اسی طرح میڈیا کے حوالے سے بھی بعض ناخوش گوار واقعات سامنے آسکتے ہیں، عوام اور اپوزیشن دونوں کے لیے یہ ایک بدترین مہینہ ہوگا، عوام کو موسمی حالات کی سختی کا بھی سامنا ہوگا، اسی مہینے میں ملکی قائدین کے غلط فیصلے بھی ان کے اپنے لیے نئے مسائل پیدا کرسکتے ہیں۔
جولائی کا آغاز اگرچہ خاصا اطمینان بخش نظر آتا ہے لیکن 15 جولائی کے بعد سے صورت حال تبدیل ہوگی، حکومت اور وزیراعظم کے لیے نئے چیلنج سامنے آئیں گے،ساتھ ہی فوجی اور سول بیوروکریسی سے متعلق نئے مسائل اور نئی تبدیلیاں بھی متوقع ہوں گی، خیال رہے کہ سال 2021 فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا آخری سال ہے، اس حوالے سے چہ مہ گوئیاں سامنے آسکتی ہیں کہ وہ اب ریٹائر ہوں گے یا مزید ایکسٹینشن انھیں ملے گی، جولائی کے آخر میں خاص طور پر یہ موضوعات زیر بحث آسکتے ہیں، مزید یہ کہ مون سون کا آغاز ہوگا اور اس سال بھی سابقہ سال کی طرح شدید نوعیت کی بارشیں، سیلابی صورت حال اور دیگر آفات ارضی و سماوی کے امکانات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
اگست سے ایسے وقت کا آغاز ہورہا ہے جو کرپشن سے متعلق اور غیر ذمے دارانہ رویوں سے متعلق صورت حال کو انتہا پر لے جاسکتا ہے، بہت سے غیر معمولی اسکینڈلز اگست کے دوران میں یا بعد میں سامنے آنا شروع ہوں گے جوحکومت کی بدنامی کا باعث ہوں گے، یقیناً اس معاملے میں وزیراعظم اور دیگر مقتدر حلقے اہم اقدام اور فیصلے کرسکتے ہیں، احتساب کے نظام کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا جائے گا یا پھر پورے نظام ہی کو تبدیل کرنے کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے، خیال رہے کہ یہ ایسا وقت ہوگا جس میں ایک بار پھر اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کے خدشات پیدا ہوسکتے ہیں، وزیراعظم سے استعفیٰ لینے کی باتیں ہوسکتی ہیں، اگست کا مہینہ ان حوالوں سے بہت ہی اہم نظر آتا ہے،یہ بھی ذہن میں رہے کہ 7 اگست سے زائچہ پاکستان میں سیارہ مریخ کا دور اصغر شروع ہوجائے گا اور جیسا کہ پہلے نشان دہی کی گئی ہے کہ مریخ فوج پولیس کا خصوصی نمائندہ ہے، کیا اگست میں حالات کسی ایسے رخ پر جاسکتے ہیں جس کا منطقی انجام جمہوریت کی بساط کو لپیٹ کر ملک میں کوئی ایمرجنسی یا مارشل لا ہوگا؟
اگست کی 12 تاریخ سے 6 ستمبر تک وزیراعظم کے لیے بھی سخت ناموافق وقت ہوگا، ستمبر کا مہینہ حسب سابق بہت زیادہ چیلنجنگ تو نہیں ہوگا لیکن سربراہ مملکت اور ان کی کابینہ کے لیے ضرور دشواریوں کا باعث ہوسکتا ہے جیسا کہ پہلے نشان دہی کی جاچکی ہے کہ اس سال کرپشن اوربے ضابطگیاں بہت زیادہ بڑھ جائیں گی، وزیراعظم کے لیے اپنے ہی لوگوں کو سنبھالنا بہت مشکل ہوجائے گا، اس بات کا امکان موجود ہے کہ ستمبر میں کابینہ میں زیادہ بہتر لوگوں کو لایا جائے، اسی طرح سول بیوروکریسی میں بھی اچھی شہرت رکھنے والے ایمان دار لوگوں کو آگے لایا جائے گا،اس اعتبار سے پاکستان کے لیے یہ ایک مثبت اثرات کا حامل مہینہ ہوسکتا ہے۔
اکتوبر کا آغاز پاکستان کے زائچے میں مزید مثبت تبدیلیوں کی نشان دہی کر رہا ہے، خاص طور پر 15 یا 16 اکتوبر تک ملکی حالات کو بہتر بنانے کے لیے اہم فیصلے اور اقدام ہوں گے،اس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ اکتوبر کے مہینے میں فوجی حلقوں میں خصوصی سرگرمی دیکھنے میں آئے گی اور شاید اس کی وجہ نئے فوجی سربراہ کے انتخاب کا مسئلہ ہوگا، تقریباً 20 اکتوبر سے 15 نومبر تک خاصا ہنگامہ خیز وقت ہوسکتا ہے، پاکستان کے اہم اداروں میں خاصی اکھاڑ پچھاڑ کا امکان موجود ہے، بہت سے سینئر لوگ ریٹائر ہوں گے اور بعض کو شاید جبری طور پر گھر بھیج دیا جائے۔
نومبر کا مہینہ بھی جیسا کہ پہلے نشان دہی کی ہے، خاصی افرا تفری کا مہینہ ہوگا جس میں اہم فیصلے اور اقدام دیکھنے میں آئیں گے،مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے کہ 15 اکتوبر سے شروع ہونے والا وقت تقریباً 15 دسمبر تک بہت زیادہ فعال رہے گا، اس عرصے میں بہت سے عدالتی فیصلے بھی متوقع ہوں گے، بہت کچھ تبدیل ہونے کا امکان موجود ہے، خاص طور پر نومبر کی 15 تاریخ کے بعد خارجہ پالیسی اور بیرون ملک تعلقات میں بہت نمایاں طور پر بہتری کا امکان موجود ہے۔
دسمبر کاابتدائی ہفتہ یقیناً ملکی معاملات میں مثبت پیش رفت کا آئینہ دار ہوگا لیکن 15 دسمبر کے بعد سے کوئی نہایت ناخوش گوار صورت حال سامنے آسکتی ہے،معاشی،داخلی، شدید نوعیت کے اختلافی اور حکومت کے لیے چیلنجنگ ثابت ہونے والے معاملات 15 دسمبر سے 15جنوری تک جاری رہیں گے، واضح رہے کہ سیارہ مشتری دسویں گھر برج دلو میں داخل ہوگا اور جنوری تک اس کی پوزیشن زائچے میں مخدوش حالات کی نشان دہی کرتی ہے چناں چہ 15 جنوری 2021 ء کے بعد ہی پاکستان کا نیا اور تروتازہ چہرہ ہمارے سامنے آسکے گا، ان شاء اللہ۔