اتوار، 21 فروری، 2021

مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی

نفسیاتی امراض اور مسائل کی تشخیص میں علم نجوم کی اہمیت

 نفسیات کا علم دلچسپ بھی ہے اور زندگی آمیز و زندگی آموز بھی، علم نفسیات کو موجودہ دور میں ایک سائنس کا درجہ حاصل ہوچکا ہے، سگمنڈ فرائیڈ کو علم نفسیات کا باوا آدم تسلیم کیا جاتا ہے، اسی فرائیڈ کے شاگردوں میں کارل یونگ کا نام نہایت قابل احترام ہے، اس نے سگمنڈ فرائیڈ کے کام کو آگے بڑھایا اور بعض جگہ فرائیڈ سے اختلاف بھی کیا۔

تنگ نظر ماہرین نفسیات اس حقیقت کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں کہ کارل یونگ صرف ماہر نفسیات ہی نہیں ایک ایسٹرو لوجر بھی تھا، اس نے خود یہ اعتراف کیا کہ میں نے انسانی نفسیات کو سمجھنے میں علم نجوم سے رہنمائی لی، بعد میں کارل یونگ کے شاگردوں نے اس کی علم نجوم سے دلچسپی پر پردہ ڈالنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے، اس تمام گفتگو کا مقصد یہ ہے کہ اگر نفسیاتی مریضوں کے علاج معالجے میں علم نجوم سے مدد لی جائے تو تشخیص اور علاج آسان ہوجاتا ہے، مغرب میں ماہرین نفسیات علم نجوم سے استفادہ کر رہے ہیں لیکن ہمارا حال مختلف ہے، ہم تو ابھی تک اسی مخمصے میں پھنسے ہوئے ہیں کہ علم نجوم ایک سائنس ہے یا کوئی غیب کا علم یا قسمت کا حال؟ ؎

اڑائی رندوں نے مل کہ باہم، چڑھائی زاہد نے چھپ کر پیہم
یہاں تو یہ سوچتے ہی گزری کہ بادہ نوشی حرام کیوں ہے؟

ہمارے مذہبی حلقے آنکھیں بند کرکے اس علم کے خلاف فتوے صادر کرتے رہتے ہیں حالانکہ وہ اس علم کی ابجد سے بھی واقف نہیں بس ایک مفروضے کے طور پر علم نجوم کو علم غیب سمجھتے ہیں اور یہی وجہ مخاصمت ہے۔ لہٰذا اس علم سے فائدہ اٹھانے کی سنجیدہ کوششیں نہیں کی جاتیں، علم نجوم کی مزید بد قسمتی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اس کا نام بد نام کرنے والوں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے، خیر ہم اس وقت کسی بحث میں نہیں الجھنا چاہتے، ہمارے پیش نظر ایک خط ہے، آیئے پہلے اس کا مطالعہ کرتے ہیں، نام اور جگہ کو صیغہ راز میں رکھتے ہوئے ہم یہ خط نقل کر رہے ہیں۔
”میں بچپن سے تنہا رہنے کا عادی ہوں، بچپن میں، میں تنہائی میں اپنے آپ سے باتیں کرتا تھا، اسکول میں میرا کوئی دوست نہیں تھا، اسکول سے گھر آنے کے بعد تمام وقت پڑھائی میں صرف کردیتا، پڑھائی میں مجھے دقت پیش آتی مگر میں نے محنت کرکے اس پر کسی حد تک قابو پالیا، مجھے لوگوں کے رویّے اور گفتگو سمجھ میں نہیں آتے تھے، اب بھی ایسا ہوتا ہے، اسکول جاتے ہوئے گھبراہٹ ہوتی تھی، کلاس میں بھی خاموش رہتا، پی ٹی کے لئے بلایا جاتا تو ٹانگیں کانپنی شروع ہوجاتیں، اکثر بہانہ بنا کر الگ ہو جاتا، اکثر گھبراہٹ رہتی جس کو دور کرنے کے لئے مختلف بہانوں سے خوش رہنے کی کوشش کرتا، کبھی خیال آتا کہ میں دوسروں سے مختلف کیوں ہوں؟ میرے ہم عمر مجھ سے زیادہ ہوشیار ہیں، پڑھائی میں بھی اور دوسرے کاموں میں بھی، سات سال کی عمر میں جسمانی نشو نما رک گئی مگر میں نے ان تمام باتوں کا اپنے والدین سے ذکر نہیں کیا، کچھ تھوڑا سا بڑا ہوا تقریباً 12 سال کی عمر ہوئی تو والدین کہنے لگے کہ محلے کے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ کچھ وقت گزارا کرو مگر میں ان میں ایڈجسٹ نہ ہوسکا، ان کی باتیں میری سمجھ میں نہیں آتی تھیں اور میں سوچتا کہ میرا علم ان سے زیادہ ہے، وہ لڑکیوں کے بارے میں باتیں کرتے جس سے مجھے گھبراہٹ ہوتی، میٹرک کے بعد گھبراہٹ اور بڑھنے لگی، میں پڑھ نہیں سکتا تھا، کافی دیر تک ایک ہی صفحے کو پڑھتا رہتا اس موقعے پر بھی میں اپنے والدین کو بتا نہ سکا کہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے، کالج میں بہت خوش رہتا لطائف سناتا، لڑکے جب لڑکیوں کی باتیں کرتے تو مجھ سے کوئی جواب نہ بن پڑتا اور گھبراہٹ ہوتی، میں ان سے الگ ہوجاتا، رزلٹ آیا تو نمبر بہت کم تھے، بلخصوص انگلش اور حساب میں نمبر کم آئے، انجیئرنگ میں داخلہ نہ ملنے کا بہت دکھ ہوا، مجھ پر مایوسی طاری رہنے لگی کہ میں اس سے بہتر کارکردگی ظاہر کرسکتا تھا مگر ایسا کیوں نہ ہوسکا، حالانکہ میں نے محنت کرنے کی بڑی کوشش کی تھی، میں ایک دن اپنی والدہ کے سامنے رونے لگا کہ مجھے پتہ نہیں کیا ہوتا ہے، میری ذہنی سطح اور پست ہوگئی اب مجھے سمجھنے اور یاد کرنے میں اور مشکلات در پیش ہوگئیں۔
”اب میں سائیکا ٹرسٹ کے پاس گیا اس کو میں نے بتایا، اس نے مجھے ایک سائیکا لوجسٹ کے پاس بھجوایا مگر میں اس کے پاس نہ گیا کیونکہ وہ ایک خاتون تھیں، پھر تعلیمی سال کے آخر میں ایک اور سائیکا ٹرسٹ کے پاس گیا اور اسے بتایاکہ میں امتحان نہیں دینا چاہتا، اس نے کچھ ادویات تجویز کیں، امتحان کا نتیجہ پھر مایوس کن رہا، میں نے اس سائیکا ٹرسٹ کو بتایاکہ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ سب لوگ میری طرف دیکھ رہے ہیں، اس نے دوائی تجویز کی مگر اس سے بھی کوئی فائدہ نہ ہوا، بالآخر پھر میں یونیورسٹی میں پہنچ گیا، وہاں مجھے لڑکیوں سے خوف آنے لگا، تعلیمی معاملات میں، میں کنسنٹریٹ نہیں کرپاتا تھا، یوں محسوس ہوتا تھا کہ سب لوگ میری طرف دیکھ رہے ہیں، مجھے سخت گھبراہٹ ہوتی، گھر پر کئی کئی گھنٹے بے سدھ پڑا رہتا، یوں محسوس ہوتا کہ جسم میں جان نہیں، یہ کیفیت صبح کے وقت ہوتی، پھر میں نے ایک اور سائیکا ٹرسٹ سے مشورہ کیا، مگر بے سود، اب میری ذہنی کیفیت یہ ہوگئی کہ مجھے پڑھائی میں کسی بھی چیز کی سمجھ نہ آتی اور نہ ہی کچھ یاد رہتا، پھر مجھے ایک روحانی شفا خانے لے کر جایا گیا، وہاں سے کچھ تعویز صبح نہار منہ پینے کے لئے دیے گئے اور رات کو بھگوئے ہوئے چند بادا م کھانے کو کہا گیا، ایک مولوی صاحب نے آیات ِشفا پڑھنے کی ہدایت کی اور ایک اور وظیفہ بھی پڑھنے کے لئے بتایا، پھر ایک اور مولوی صاحب نے سورہ جن ایک خاص تعداد میں پڑھنے کو کہا، پھر مختلف اسپتالوں کے سائیکا ٹری وارڈ میں جاتا رہا، ایک سائیکا ٹرسٹ کی تجویز کردہ دوا سے بھولنے کامرض لاحق ہوگیا۔
”پھر مجھے یوں محسوس ہونے لگا کہ کچھ لوگ مجھے ابزرو کر رہے ہیں، اس دوران میں مجھے ایک ملازمت مل گئی مگر وہاں لوگوں کے رویے اور گفتگو نہ سمجھ سکا، مجھے ہر وقت گھبراہٹ ہونے لگی، کام کے بارے میں بھی کچھ سمجھ نہ آئی، دفتر میں دوپہر کا کھانا وہیں پکا ہوا ملتا تھا اور میں دوسرے لوگوں کے ساتھ کھانا کھاتا، اس دوران مجھے وہم ہونے لگا کہ وہ مجھے کھانے میں کچھ ملا کر کھلاتے رہے ہیں، میرا ذہن ماؤف ہوگیا، مجھے محسوس ہوا کہ میری یاد داشت ختم ہوگئی ہے، ذہن میں خیالات گھومنے لگے، میری ذہنی سطح ایک بچے کی طرح ہوگئی، میں اپنی ذہنی سطح کے بارے میں بات کرنا چاہتا تھا مگر مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ کیا بات کروں، جو کچھ پڑھا تھا وہ بھی بھول گیاتھا، پھر ایک اور ملازمت ملی لیکن میں وہاں بھی کام نہیں کرسکا اور مجھے نکال دیا گیا، اب میری ذہنی سطح بہت ہی پست ہوگئی ہے، جو کچھ پڑھتا ہوں وہ یاد نہیں رہتا یا سمجھ میں نہیں آتا، فقرہ زیادہ لمبا ہوجائے تو وہ بھی ذہن میں نہیں رہتا، اپنا سارا وقت گھر پر گزارتا ہوں، بچوں کی طرح گھر والے بتاتے رہتے ہیں کہ یہ بات اس طرح کرو، انجانا سا خوف رہتا ہے، باتوں اور مشاہدے سے نتائج اخذ نہیں کرپاتا، گھر کے کسی فرد سے جذباتی وابستگی نہیں، کسی بھی چیز سے کوئی دلچسپی نہیں، چھوٹے چھوٹے کام نہیں کرسکتا، اب مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کیا کام کروں اور اپنی طبیعت کو کیسے سنبھالوں؟“
جواب: عزیزم! آپ نے اپنی جو کیفیات لکھی ہیں اور موجودہ ذہنی کیفیت کی جو نشان دہی کی ہے آپ کی تحریر اس کے برخلاف تصویر دکھا رہی ہے، آپ کا کہنا یہ ہے کہ آپ کو کچھ یاد ہی نہیں رہتا، ذہنی سطح انتہائی پست ہوچکی ہے، آپ ایک بچے کے مانند ہوچکے ہیں، گھر والوں کو بتانا پڑتا ہے کہ فلاں کام اور فلاں بات اس طرح کرو وغیرہ وغیرہ مگر آپ نے اپنے خط میں اپنے بچپن سے لے کر آج تک کی کیس ہسٹری بہت عمدہ طریقے سے بیان کردی ہے، چھوٹی چھوٹی جزویات بھی آپ نے نظر انداز نہیں کیں، آپ کو یہ بھی یاد ہے کہ کب کیا ہوا تھا اور آپ نے کیا محسوس کیا تھا اور کیا سوچا تھا، لہٰذا ہم کیسے مان لیں کہ آپ کی یادداشت خراب ہے، آپ کو کچھ یاد نہیں رہتا، آپ کی تحریر میں بھی خاصی پختگی اور انداز بیان میں روانی ہے، آپ کی باتوں سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آپ سب کچھ جانتے اور سمجھتے ہیں، حد یہ کہ آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ کب آپ کو وہم ہوا یا شک ہوا، آپ تعلیمی میدان میں بھی جیسے تیسے بہر حال یونیورسٹی تک پہنچ گئے، اس ساری صورتِ حال کے باوجود آپ کہتے ہیں کہ آپ کو کچھ یاد نہیں رہتا اور آپ کے لئے پڑھنا لکھنا ہمیشہ ایک مسئلہ بنا رہا۔

ہمارا خیال ہے کہ آپ اپنے کیس کے سلسلے میں جو تجزیے کر رہے ہیں وہ درست نہیں ہیں، اپنے پورے بیان میں آپ نے ایک مرتبہ بھی یہ نہیں بتایا کہ سائیکا ٹرسٹ حضرات نے آپ کے مسائل اور امراض کے بارے میں کیا کہا، ان کی تشخیص کیا تھی، انہوں نے اس سلسلے میں کون سی دوا تجویز کی تھی یا یہ کہ آپ کے گھر والے یا دیگر ملنے جلنے والے آپ کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں، دراصل سب سے بڑی خامی اور مسئلہ یہی ہے کہ آپ اس بات پر توجہ ہی نہیں دیتے کہ کون کیا کہہ رہا ہے اور آپ کے بارے میں کیا رائے دے رہا ہے، آپ تو اپنے طور پر سب کچھ محسوس کرتے رہتے ہیں اور آپ کا سارا کھیل ہی احساسات پر مبنی ہے، آیئے ہم تھوڑا سا آپ کے زائچے کی روشنی میں آپ کو بتائیں کہ آپ کا مسئلہ کیا ہے؟
آپ کا شمسی برج میزان ہے لیکن شمس برج میزان کے پہلے درجے پر ہے، گویا اس نے ابھی برج میزان میں صرف قدم رکھا ہے، دوسرے معنوں میں ہم یہ کہیں گے کہ آپ کی پیدائش برج سنبلہ اور برج میزان کی سرحد پر ہوئی ہے، ایسے لوگوں کو دونوں برجوں کی مشترکہ خصوصیات کا حامل سمجھا جاتا ہے، میزان ایک ہوائی برج ہے اور سنبلہ خاکی، مٹی اور ہوا میں تضاد ہے، ایسے لوگ مزاج اور فطرت کے اعتبار سے متضاد رویّے کے مالک لیکن غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل اور بڑے کارنامے انجام دینے والے ہوتے ہیں اگر ان کے زائچے میں دیگر عوامل متوازن ہوں مگر آپ کا معاملہ مختلف ہے، آپ کا پیدائشی برج (Birth Sign) سرطان ہے اس کا حاکم سیارہ قمر برج حوت میں ہے، گویا آپ کا قمری برج حوت ہے، اس آدھے ہوائی اور آدھے خاکی برج کے ساتھ 2 آبی مونث برج (سرطان اورحوت) آپ کی ذہنی اور نفسیاتی تشکیل کر رہے ہیں، یہ بھی کوئی برائی یا خراب بات نہیں ہے کیونکہ ایسا کمبی نیشن ایک شان دار تخلیق کار کو جنم دیتا ہے، زبردست قسم کی تخلیقی اور وجدانی قوتیں آپ کے اندرموجود ہیں، خرابی یہ ہے کہ آپ کے زائچے میں سیارگان ایک ٹی اسکوائر بنا رہے ہیں، شمس، یورینس، مریخ، چیرون اورراہو کے درمیان مقابلہ اور تربیع ہے، مزید یہ کہ زہرہ، نیپچون کے درمیان تربیع ہے اورقمر و زہرہ بھی ایک دوسرے کے مقابل ہیں، سعد نظرات میں قمر اور مریخ کی تسدیس اور زہرہ اور مریخ کی تثلیث ہے۔
ہم یہاں زیادہ ٹیکنیکل باتوں میں نہیں الجھنا چاہتے کیونکہ وہ آپ کی یا ہمارے قارئین کی سمجھ میں بھی نہیں آئیں گی، مختصراً آپ کی شخصیت اور نفسیاتی پیچیدگی پرروشنی ڈالیں گے۔
پہلی بات تو یہ سمجھ لیں کہ آپ غیر معمولی طور پر حساس انسان ہیں، عمل سے زیادہ تصور آپ کی زندگی پر حاوی ہے، زائچے سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کے والد انتہائی سخت مزاج بلکہ نامناسب رویہ رکھنے والے انسان ہیں، ان کا سلوک آپ کی والدہ کے ساتھ بھی کبھی اچھا نہیں رہا ہوگا، ممکن ہے انہوں نے آپ کی والدہ کو کافی اذیتیں اور تکلیفیں پہنچائی ہوں جس کی وجہ سے ابتدا ہی سے گھر کا ماحو ل نہایت نا خوش گوار اور خوفزدہ کرنے والا رہا ہوگا، آپ کے دیگر بہن بھائی بھی اس ماحول سے متاثر ہوئے ہوں گے اورنتیجے کے طورپر ایک دوسرے سے بے تکلفانہ انداز نہ رہا ہوگا، والد کے نا مناسب رویّے اور طرز عمل سے والدہ بھی چڑچڑی اوربدمزاج ہوسکتی ہیں، اس صورتِ حال کا ناخوش گوار اثر آپ نے ابتدا ہی سے قبول کیا ہے، سرطانی ہونے کی وجہ سے آپ کی فطری وابستگی اور جھکاؤ ماں کی طرف رہا ہے اور آپ نے چھوٹی عمر میں ماں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا بھی گہرا اثر لیا ہے، بہت چھوٹی عمر میں یہ صورتِ حال شدید غصے کا سبب بنتی ہے مگر اس کا اظہار ممکن نہیں ہوتا جس کی وجہ سے اندر ہی اندر گھٹن بڑھتی ہے اور نیگٹیو رویے دل و دماغ میں جڑ پکڑنے لگتے ہیں، اس صورت ِ حال میں پرورش پانے والا بچہ اگر غیر معمولی طور پر حساس اورجذباتی بھی ہو تو اس کی نفسیات بگڑتے دیر نہیں لگتی، ایسا ہی کچھ آپ کے ساتھ ہوا ہے، بقول اقبال ؎مری تعمیر میں مضمر ہے صورت اک خرابی کی، ان تمام باتوں سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ آپ کے 2 برج یعنی سرطان اور حوت مونث برج ہیں، میزان کے ساتھ بھی مونث برج سنبلہ کے اثرات شامل ہیں، آپ کا زائچہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ ابتدا ہی سے ہارمون ڈسٹربنس کے مریض ہیں، آپ نے اپنے خط میں لڑکیوں یا خواتین سے بات کرنے میں یا ان کے پاس جانے میں گھبراہٹ اور پریشانی کا اظہار کیا ہے یہ ایک نفسیاتی بیماری ہے جو ہارمون ڈسٹربنس کی وجہ سے بھی پیدا ہوتی ہے، یقینا آپ کے کسی معالج کو آپ کے ہارمون ٹیسٹ کا خیال نہیں آیا ہوگا، ہومیو پیتھک علاج سے اس بیماری کو ختم کیا جاسکتا ہے۔
ابتدا ہی میں جب نفسیاتی پیچیدگیاں پیدا ہوجائیں تو بعد میں کچھ بھی ہوسکتا ہے مگر ہمارے خیال میں آپ کا اب بھی کچھ نہیں بگڑا ہے، یہ ضرور ہے کہ آپ اپنی بیماریوں سے فائدہ اٹھاکر سست اور کاہل ہوچکے ہیں اور اب آپ کو اس کیفیت میں رہتے ہوئے لطف آنے لگا ہے شاید مردانگی سے زیادہ نسوانیت کا غلبہ ہو رہا ہے اور دوسروں کے دست نگر بن کر رہنے کی خواہش بڑھ چکی ہے، لاشعوری طور پر ایسے مریض صحت مند ہونا نہیں چاہتے، وہ زندگی کی سختیوں اور زمانے کی نا ہمواری کا مقابلہ کرنے کے بجائے راہ فرار اختیار کرتے ہیں جو آپ نے اختیار کر رکھی ہے، سائیکا ٹرسٹ حضرات نے یقینا آپ کو مسکن ادویات استعمال کرائی ہوں گی جو اور بھی نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں، اگر اب بھی آپ ایسی میڈیسن استعمال کر رہے ہیں تو ہمت کرکے ان سے جان چھڑائیں، پیرا سائیکلوجی کا طریقہ علاج اختیار کریں اور ساتھ ہی ہومیو پیتھک ادویات کا سہارا لیں، آپ کا علاج ناممکن نہیں ہے، ایک قابل ہومیو پیتھ جو نفسیاتی مسائل کو بھی سمجھتا ہو آپ کا علاج کرسکتا ہے۔
چاند کا تعلق ہمارے دماغ سے بڑا گہرا ہے اور آپ کے زائچے میں چاند ہی زیادہ متاثر ہے، آپ کا حاکم سیارہ بھی چاند ہے اور زائچے کے نویں گھر میں ہونے کی وجہ سے اچھی پوزیشن رکھتا ہے، اس کی قوت کو بڑھانے کے لئے آپ کو سچا موتی پہننا چاہئے، ہومیو پیتھک دوائیں ہم یہاں تجویز نہیں کرسکتے، اس سلسلے میں آپ کو کسی ہومیوپیتھ ڈاکٹر سے رجوع کرنا پڑے گا، پیرا سائیکلو جیکل ٹریٹمنٹ کے لئے سب سے پہلے سانس کی مشق شروع کریں۔
آخری بات جو سب سے زیادہ اہم ہے وہ یہ کہ آپ جیسے مریض اپنا علاج خود نہیں کرسکتے، اس صورت ِ حال میں آپ کے گھر والوں کو اہم کردار ادا کرنا پڑے گا، آپ کی دیکھ بھال کی ذمہ داری اٹھانا ہوگی، ہمارے تجربے کے مطابق تو ایسے مریض دوا بھی وقت کی پابندی کے ساتھ نہیں کھاتے، ہر دوسرے تیسرے دن ان کی کیفیات اور موڈ مزاج بدلتا رہتا ہے، اس صورتِ حال کو گھر والے ہی کنٹرول کرسکتے ہیں، آپ چند دن ضرور ہمارے مشوروں پر عمل کرلیں گے مگر پھر کسی نئی قسمت آزمائی کی طرف آپ کا دھیان چلا جائے گا، اس طرح کوئی علاج بھی درست طور پر لمبے عرصے تک نہیں چل پاتا۔

اتوار، 14 فروری، 2021

Astrological Point of Narendra Moodi

کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے، ایک متضاد شخصیت

 گزشتہ چند سالوں میں بین الاقوامی سیاست کے اُفق پر بڑے بھرپور انداز میں نمایاں ہونے والے کرداروں میں مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی بہت شہرت حاصل کی، مسٹر ٹرمپ تو خاصی سخت جانی کا مظاہرہ کرکے بالآخر رخصت ہوئے مگر نریندر مودی ابھی تک بھارت کے وزیراعظم ہیں، وہ کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں، ان کے پرانے اور نئے سیاسی کردار، رجحانات، فیصلے اور اقدام پوری دنیا کے سامنے ہیں، چناں چہ ہمیں ان کا مزید تعارف کرانے کی ضرورت نہیں ہے۔

2014 ء میں جب وہ پہلی بار وزیراعظم بنے تو دنیا بھر میں اور خاص طور پر بھارت میں ایسٹرولوجی سے دلچسپی رکھنے والے افراد نے معمول کے مطابق ان کے زائچہ ء پیدائش (Birth chart) کی کھوج شروع کی، مسٹر مودی کی معروف تاریخ پیدائش 17 ستمبر 1950 ہے، وقت پیدائش پر اس وقت بھی خاصے اختلافات سامنے آئے، مختلف ایسٹرولوجرز نے مختلف زائچے بنائے لیکن زیادہ اتفاق پیدائشی برج عقرب پر رہا مگر ہم اس وقت بھی ان کی معروف تاریخ پیدائش سے مطمئن نہیں تھے کیوں کہ بہت سے حالات و واقعات ان کی زندگی سے مطابقت نہیں رکھتے تھے، عام طور پر ایسی صورت حال میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ سال پیدائش میں شاید ایک دوسال کی کمی بیشی کی گئی ہوگی، پاکستان اور بھارت میں یہ چلن عام ہے، چناں چہ ہم نے ان کا سال پیدائش 1951 رکھا، اس کے مطابق کسی حد تک حالات و واقعات میں مناسبت محسوس ہورہی تھی، 2019 ء میں انھوں نے دوبارہ بھارتی انتخابات میں نمایاں ترین کامیابی حاصل کی اور دوسری بار بھی وزیراعظم بن گئے، یہ بات ہماری توقع کے خلاف تھی کیوں کہ سابقہ زائچے کی روشنی میں 2019 ء کے انتخابات میں کامیابی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا تھا، اس کے علاوہ بھی بعض حالاتِ زندگی اور صاحب زائچہ کا کردار اور ان کی فکر بھی ان کے عمل سے میل نہیں کھاتی تھی، اس حوالے سے ہماری تلاش جاری تھی کہ ایک بھارتی منجم جو ہماری ہی طرح درست تاریخ پیدائش کی تلاش میں تھے، کسی طرح مسٹر نریندر مودی کا پرائمری اسکول کا ریکارڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے، اس کے مطابق انھوں نے زائچہ پیدائش بنایا جس میں لگن برج اسد (Leo) رکھا یعنی پیدائش کا وقت صبح 7 بجے کا رکھا مگر کلاسیکل ویدک ایسٹرولوجی میں اتنے گھماؤ پھراؤ موجود ہیں کہ ہر ایسٹرولوجرکسی بھی زائچے سے اپنے مطلب کے نتائج اخذ کرلیتا ہے جو دلیل و منطق کے خلاف ہوتے ہیں، ہندو منجمین کی اکثریت اسی کلاسیکل ویدک سسٹم کی پیروکار ہے جس میں ہندو مائیتھا لوجی بھی شامل ہے گویا یہ ایک خالص سائنس نہیں رہی، چناں چہ مذکورہ بالا منجم صاحب نے لگن اسد رکھ کر مسٹر نریندر مودی کا ایک شاندار قصیدہ لکھ مارا، اس کے بعد ہی ہمیں بھی دلچسپی پیدا ہوئی اور تاریخ پیدائش کے ساتھ وقت پیدائش کی درستی کا خیال آیا جس کے نتیجے میں بھارتی وزیراعظم کا قریب ترین درست زائچہ سامنے آگیا، یہی زائچہ پیش خدمت ہے۔

زائچہ بھارتی وزیراعظم

  

اسکول ریکارڈ کے مطابق مسٹر نریندر مودی کی درست تاریخ پیدائش 29 اگست 1949 مہسنا ہے،ہماری تحقیق اور اندازے کے مطابق وقت پیدائش 12:15pm ہے، اس طرح لگن برج عقرب ایک درجہ 23 دقیقہ ہوگا، خیال رہے کہ مسٹر مودی کا قد بہت زیادہ نہیں ہے جو عام طور پر اسد افراد کا ہوتا ہے، عقربی افراد کسی خصوصی سیاروی پوزیشن کے سبب طویل قامت ہوسکتے ہیں ورنہ عام طور پر ان کا قد 5.6 سے زیادہ نہیں ہوتا۔
لگن کا مالک سیارہ مریخ زائچے کے نویں گھر میں ہبوط یافتہ (Debilated) ہے،زائچے کے دوسرے گھر قوس کا حاکم اپنے ہی گھر میں آخری درجات پر گویا ضعیف ہے، چوتھے اہم ترین گھر کا حاکم سیارہ زحل دسویں گھر میں شمس کی قربت کے سبب غروب ہے لیکن بہر حال شمس سے قران اور دسویں گھر میں ہونا اچھی بات ہے، سیارہ مریخ بھی اپنے گھر کے اعتبار سے بھاگیہ استھان میں ہے جو اچھی بات ہے، اس طرح مریخ کی کمزوری صرف پچاس فیصد رہے گی، زائچے میں دسویں گھر کرئر کے اعتبار سے نہایت اہمیت رکھتا ہے، اس گھر پر برج اسد قابض ہے اور سیارہ شمس اپنے ہی گھر میں نہایت باقوت پوزیشن رکھتا ہے، اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ ریلوے اسٹیشن پر چائے بیچنے والا گجرات کا وزیراعلیٰ اور بالآخر بھارت کا وزیراعظم سیارہ شمس کی اسی طاقت ور پوزیشن کی وجہ سے بن سکا،اصولی طور پر کیندر (4,10) کے مالکان راج یوگ بنارہے ہیں۔
نویں مول ترکون برج کا مالک سیارہ قمر بارھویں گھر میں ہے جب کہ قمری منزل وشاکا ہے جس کا حاکم سیارہ مشتری ہے، لگن بھی وشاکا نچھتر میں ہے، گیارھویں فوائد کے گھر میں برج سنبلہ کا حاکم عطارد موجود ہے لیکن نوامسا چارٹ (D-9) میں ہبوط یافتہ ہے، محبت، دوستی، شادی، ازدواجی زندگی کا نمائندہ سیارہ زہرہ برج سنبلہ ہی میں ہبوط یافتہ ہے، راہو برج حوت میں اور کیتو بھی برج سنبلہ میں ہیں۔
زائچے میں سیاروی آراستگی نہایت دلچسپ ہے جو پوری طرح مسٹر مودی کی زندگی پر بھرپور روشنی ڈالتی ہے مگر سب سے پہلے لگن عقرب اور جنم راشی میزان اور ان کی قمری منازل پر گفتگو ضروری ہے، خیال رہے کہ لگن ہمارے کردار و عمل کا آئنہ ہے جب کہ جنم راشی ہمارے فطری رجحانات اور خصوصیات پر روشنی ڈالتی ہے۔

برج عقرب

طالع برج عقرب (Birth sign) بلاشبہ ایک غیر معمولی برج ہے، عقربی افراد ثابت قدم، مسلسل کوشش و جدوجہد کرنے والے پختہ عزم کے مالک، ضدی، پیچیدہ شخصیت کے مالک، مشکل پسند،نظریات و عقائد میں شدید اور انتہا درجے تک جانے والے ہوتے ہیں، برج عقرب دائرۂ بروج کا آٹھواں برج ہے جس کا تعلق تناسلی اعضا سے ہے، ایک آبی برج ہونے کی وجہ سے روحانیت بھی اس برج کا خاصا ہے، چناں چہ یہ لوگ روحانی طور پر بھی مضبوط ہوتے ہیں اور سیکس بھی ان کی زندگی میں اہمیت اختیار کرتا ہے، یہ ایک عجیب تضاد ہے، ان کی منفی توانائیوں میں ملکیت کا شدید احساس، بہت زیادہ توجہ کے طالب، حاسد، معاف نہ کرنے والے، محبت اور نفرت میں انتہا پسند، غصہ ور، قاتل، خودکشی کرنے والے اور ہر صورت میں خود کو درست سمجھنے والے، دنیا میں عقربی افراد نے ہر اعتبار سے غیر معمولی کارنامے انجام دئیے ہیں، مثبت یا منفی۔

جنم راشی

پیدائش کے وقت چاند جس برج میں ہو اسے قمری برج یا جنم راشی (Moon sign) کہا جاتا ہے، مسٹر مودی کا قمر برج میزان میں ہے، گویا فطری طور پر وہ توازن، ہم آہنگی، شراکت، دوستی اور دشمنی، امن پسندی کے خواہاں ہوتے ہیں، اچھے سفارت کار اور دو افراد کے درمیان تنازعات ختم کرانے والے،لوگوں کو کسی ایک مقصد کے تحت یکجا کرنے والے، محبت اور دوستی میں پیش پیش ہوتے ہیں، برج میزان کی ان خصوصیات میں فرق اس صورت میں پیدا ہوتا ہے جب قمر کی پوزیشن ناقص ہو، قمری منزل اپنی جگہ ایک منفرد خصوصیات و رجحانات کی حامل ہوتی ہے، زائچے میں قمر کی پوزیشن ناقص ہے، وہ بارھویں ناموافق گھر میں قابض ہے، چناں چہ جنم راشی کی مثبت خصوصیات منفی رخ اختیار کرسکتی ہیں، نویں گھر کا مالک جب بارھویں گھر میں ہو تو صاحب زائچہ فطری طور پر منفی سوچ کا شکار ہوتا ہے، اس کے ذہن پر بہت سے نامعلوم مستقبل کے خوف مسلط ہوتے ہیں جو اسے نفسیاتی مسائل کا شکار بناتے ہیں، مزید یہ کہ قسمت پوری طرح ساتھ نہیں دیتی، کسی بڑے مقام و منزل تک پہنچنے میں پوری زندگی خرچ ہوجاتی ہے۔
لگن اور جنم راشی دونوں ایک ہی قمری منزل میں ہیں یعنی وشاکا، اس منزل پر سیارہ مشتری کی حکمرانی ہے جو عقل و دانش اور علم دوستی کا سیارہ ہے، اپنی فطرت میں یہ غیر انسانی (راکھشس) ہے، راکھشس کا لفظ ویدک ایسٹرولوجی میں استعمال کیا جاتا ہے اور اس کے جو معنی ہیں ہم ان سے متفق نہیں ہیں، ہمارے نزدیک غیر انسانی یعنی عام انسان سے بھی زیادہ جوش و جذبہ اور صلاحیت و ہمت ان لوگوں کی فطرت میں شامل ہے حقیقی معنوں میں یہی وہ لوگ ہیں جو بقول غالب کہتے ہیں ؎ کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے، ایسی قمری منزل کا طرۂ امتیاز ہوتا ہے جو غیر انسانی کہلاتی ہیں۔
اس منزل میں پیدا ہونے والے افراد انتہائی ذہین، دوسروں کو قائل کردینے والے، ہجوم کو اپنی طرف متوجہ کرنے والے یعنی لیڈر شپ کی صلاحیت کے حامل،سیاسی رجحان رکھنے والے ہوتے ہیں، اکثر اپنے خاندان سے دور رہتے ہیں، نمود و نمائش اور طم طراق کے قائل نہیں ہوتے، سادہ انداز میں زندگی بسر کرت ہیں، عام طور سے ان کی زندگی کسی نہ کسی تضاد کا شکار ہوتی ہے،خصوصاً جنم راشی اگر میزان ہو، روحانیت اور مادّیت کی ایک کشمکش ابتدا ہی سے ان کے اندر جاری رہتی ہے، بقول غالب ؎ ایماں مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر۔
ان کی منفی خصوصیات میں جارحیت، آمرانہ فطرت سامنے آسکتی ہے، غصہ، سفاکی، فرسٹریشن کے مسائل ہوسکتے ہیں، یہ لوگ بہت بلند عزائم رکھتے ہیں اور ان کے لیے کچھ بھی کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں، اپنی زندگی میں اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے غیر قانونی اور غیر اخلاقی راستے بھی اختیارکرسکتے ہیں، زائچے کی دیگر خوبیاں اور خامیاں ان کے رجحانات اور خواہشات کے رخ کا تعین کرتی ہیں، اس پر آگے چل کر گفتگو ہوگی۔

وشاکا کی دیگر مشہور شخصیات

ترک سلطان سلیمان ذیشان، ابو ریحان البیرونی، آمر ایڈولف ہٹلر، صدر جمی کارٹر، نیلسن منڈیلا، خان عبدالولی خان، اداکارہ جوہی چاولہ، ملکہ شراوت، الزبتھ ٹریلر، کرکٹر برائن لارا، عالمی شہرت یافتہ جرائم پیشہ بلی دی کڈ وغیرہ شامل ہیں۔

سیاروی آراستگی

زائچے میں سیارہ مشتری دوسرے گھر میں برج قوس میں اچھی پوزیشن رکھتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی میں اپنی حیثیت کو تسلیم کرانے اور نمایاں مقام حاصل کرنے میں مددگار ہے، زائچے کا دوسرا اہم سیارہ زحل چوتھے گھر کا حاکم ہوکر دسویں گھر میں سیارہ شمس کے ساتھ حالت قران میں ہے، اگرچہ شمس کی قربت کے سبب غروب ہے لیکن شمس کے ساتھ مل کر راج یوگ بنارہا ہے، یہ بھی زندگی میں کسی بلند مقام کے حصول میں کامیابی کا اشارہ ہے لیکن چوتھے گھر کا تعلق ماں باپ، ابتدائی تعلیم، رہائش، سواری اور پراپرٹی سے ہے لہٰذا والدین کی پوزیشن زحل کی غروب پوزیشن کے سبب کمزور تھی، ابتدائی تعلیم میں بھی دشواریاں رہیں، سیارہ مریخ چھٹے گھر کا حاکم ہوکر اور طالع کا مالک نویں گھر میں اپنے برج ہبوط میں ہے، گویا مریخ کی کمزوری بھی اپنی جگہ ہے مگر نویں گھر کی سعادت اپنی جگہ، سیارہ شمس زائچے کا سب سے نمایاں اور طاقت ور ترین سیارہ ہے، شمس جن لوگوں کے زائچے میں طاقت ور ہو وہ بلند حوصلہ اور مسلسل اپنے مقصد کے حصول کے لیے جدوجہد کرنے والے ہوتے ہیں، خاص طور پر دسویں گھر کا حاکم ہوکر پروفیشن کے معاملے میں مسٹر مودی کو اقتدار کے خواب دکھانا سیارہ شمس ہی کا کمال ہے،سیارہ عطارد گیارھویں گھر میں اور اپنے ہی برج عقرب میں موجود ہے، نوامسا چارٹ میں ہبوط یافتہ ہے، چناں چہ کاروباری فوائد سے محروم کرتا ہے، ایسے لوگ بزنس میں ناکام رہتے ہیں، سیارہ زہرہ بھی گیارہویں گھر میں اور برج سنبلہ میں ہے جو زہرہ کے ہبوط کا برج ہے، گویا زہرہ کی پوزیشن بدترین ہے، خصوصاً محبت، دوستی، شادی اور ازدواجی زندگی کے حوالے سے یہ ہبوط یافتہ زہرہ ہر گز اچھے نتائج نہیں دیتا، چناں چہ اگرچہ شادی جلد ہی ہوگئی تھی جسے نہ ہونے کے برابر سمجھا جائے، مودی صاحب نے بیوی سے دور رہنا ہی بہتر خیال کیا، ہبوط یافتہ زہرہ زائچے میں اکثر مرد کو عورت سے اور عورت کو مرد سے دور کرنے کا سبب بنتا ہے، مزاج میں خشکی، سردمہری اور عدم توازن کا باعث بنتا ہے، بعض لوگ روحانیت کی جانب راغب ہوتے ہیں یا کچھ دیگر پراسرار علوم کے حصول کو زندگی کا مقصد بناتے ہیں، سنا ہے کہ مودی صاحب بھی سادھوؤں اور جوگیوں کے بہت معتقد رہے ہیں اور زندگی کا خاصا بڑا حصہ اسی آوارگی میں گزارا ہے، زہرہ زائچے کے بارھویں گھر کا حاکم ہے، اس کا ہبوط یافتہ ہونا، بے خوابی، بستر کی لذت سے محرومی، مستقبل کے پریشان کن خوف لاتا ہے، مزید یہ کہ نویں آئین و قانون، مذہب اور روحانیت، قسمت سے متعلق امور و دلچسپیاں سیارہ زہرہ سے منسلک ہوجاتے ہیں، زائچے میں قمر اور مریخ نویں اور بارھویں میں بیٹھ کر چندر منگل یوگ بنارہے ہیں، یہ یوگ انسان کو بہت زیادہ مفاد پرست بناتا ہے، ایسے لوگ دولت کمانے کے جو ذرائع بھی اختیار کریں اس میں جائز اور ناجائز کی تمیز کھودیتے ہیں، عام طور سے اپنی ماں کے لیے تکلیف اور صدمے کا باعث بنتے ہیں۔

تعلیم و پیشہ

ابتدائی تعلیم میں مشکلات رہیں، چوتھے گھر کے حاکم سیارہ زحل کا دور اکبر جون 1962 ء سے شروع ہوگیا تھا جو جون 1981 ء تک جاری رہا، شمس زدہ زحل کیوں نا عظمت و بزرگی کے خواب دکھاتا، خیال رہے کہ سیارہ زحل دنیاوی علم و نجوم میں نچلے طبقے خصوصاً مزدوروں کا نمائندہ ہے، یہ مسلسل محنت اور کوشش کے بعد زندگی میں کامیابی کا باعث بنتا ہے، بلاشبہ مسٹر نریندر مودی کی طویل جدوجہد اور کوشش سے انکار ممکن نہیں ہے، شمس سے قران نچلے طبقے کو بلند مراتب کے خواب دکھا رہا تھا، سیارہ شمس اقتدار اور حکمرانی کا نمائندہ ہے، اپنی فطری خصوصیات کے سبب انھوں نے ایک انتہا پسند سیاسی جماعت سے رابطہ جوڑ لیا، بھارتی کانگریس پارٹی سے دور رہے،جون 1998 ء سے زائچے میں کیتو کا دور اکبر شروع ہوا جو فوائد کے گھر میں براجمان ہے، سیاسی نظریات میں مفاد پرستی کا عنصر نمایاں ہوگیا، کیتو کے دور اکبر میں 20 جنوری 2000 ء میں سیارہ شمس کا دور اصغر شروع ہوا تو مودی صاحب کا اقتدار کے راستوں پر سفر تیز ہوگیا اور بالآخر 17 اکتوبر 2001 ء کو کیتو کے دور اکبر میں راہو کا دور اصغر جاری تھا تو وہ گجرات کے وزیراعلیٰ بننے میں کامیاب ہوگئے اور اس طرح انھوں نے وہ سب کچھ حاصل کرلیا جو وہ چاہتے تھے، دوسری بار راہو کے ہی دور اصغر میں وہ وزیراعظم بھارت کی کرسی پر بیٹھنے میں کامیاب ہوئے، یہاں ایک اہم سوال موجود ہے، روایتی ویدک سسٹم میں راہو کو نہایت منحوس اور ضرر رساں کہا جاتا ہے اور اس حوالے سے کلاسیکل تعلیم خاصی متنازع ہے، راہو سیاست کا نمائندہ ہے، چھل فریب، مکاری، جھوٹ، دغا بازی اس کا ثمرہ ہے، زائچے میں راہو پانچویں گھر میں برج حوت میں ہے، اچھی پوزیشن رکھتا ہے، پانچواں گھر شعور و دانش کا ہے جو راہو کے زیر اثر منفی ہی ہوگا، زندگی کی خوشیاں بھی اس سے منسلک ہیں، ہمارے نظریات کے مطابق وہ کسی طرح بھی زندگی میں خوشی اور کامیابی لانے کا باعث ہوسکتا ہے مگر یہ بھی خیال رہے کہ راہو کی لائی ہوئی خوشیاں قانونی و دائمی نہیں ہوتیں، بعد کے نتائج پریشان کن ہوتے ہیں کیوں کہ یہ خوشیاں مثبت طریقوں سے حاصل نہیں ہوتیں، مودی صاحب نے بھی یقینا اقتدار کے سنگھاسن تک پہنچنے میں جو راستے اختیار کیے ہوں گے وہ قابل تعریف نہیں ہوسکتے اور بعد میں جس طرح گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام میں ان کے کردار کا چرچا ہوا وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے،یہ کہنا کافی نہیں ہوگا کہ بعد میں عدالتوں نے انھیں تمام الزامات سے بری کردیا تھا۔
ایک منفی سوچ کو ہوا دے کر انھوں نے سیکولر پارٹی کانگریس کے مقابلے میں اپنی سیاست چمکائی اور اب تک یہی کر رہے ہیں، کچھ ایسا ہی انھوں نے 2019 ء کا الیکشن جیتنے کے سلسلے میں بھی کیا یعنی کشمیر میں پلوامہ کا ڈراما اسٹیج کرکے پاکستان پر حملہ اور اپنے عوام کے سامنے ہیرو بننے کی کوشش جس میں ان کا خریدا ہوا میڈیا اہم کردار ادا کر رہا تھا۔
2019 ء میں سیارہ مشتری برج عقرب سے گزر رہا تھا یعنی پہلے گھر سے گویا پہلے گھر کے علاوہ پانچویں، ساتویں اور نویں قسمت کے گھر پر اس کی نظر کرم تھی، اس کے بعد مشتری برج قوس میں داخل ہوا جو دوسرا گھر ہے، مشتری کی یہ پوزیشن بھی معاون و مددگار تھی، اس دوران سیارہ زحل کا سب پیریڈ جاری تھا جو اس سال 24 جون 2021 ء تک جاری رہے گا، اس کے بعد زہرہ کے دور اکبر میں عطارد کا دور اصغر شروع ہوگا، ہبوط یافتہ عطارد آئندہ زیادہ مددگار نہیں ہوگا۔
20 نومبر 2020 ء سے مارچ 2021 ء تک حیثیت و مقام کا سیارہ مشتری بھی ہبوط یافتہ ہے، چناں چہ جو کچھ ان کے خلاف صورت حال پیدا ہوچکی ہے، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، بھارتی وزیراعظم بلاشبہ خاصی پریشان کن صورت حال سے دوچار ہیں جس میں آئندہ بھی کمی آتی نظر نہیں آرہی۔
اس سال 2021 ء میں راہو کیتو پہلے اور ساتویں گھر میں رہتے ہوئے مسٹر مودی اور بھارت کے زائچے میں اکتوبر تا دسمبر انتہائی سخت اثرات ڈالیں گے اور اس بات کا امکان موجود ہے کہ اپنی پوزیشن کو بچانے کے لیے وہ ایک بار پھر کوئی پلوامہ جیسی مہم جوئی کے بارے میں سوچیں اور پاکستان سے محاذ آرائی کریں لیکن بہر حال بھارت کی بگڑتی ہوئی معاشی صورت حال اور احتجاجی تحریکیں شاید انھیں اس کی اجازت نہ دیں مگر ایک شدت پسند انسان کچھ بھی کرسکتا ہے، مسٹر مودی نے ہندوتوا کے نعرے پر بھارت میں جو ماحول پیدا کیا ہے یہ بہر حال بھارت کو تقسیم کرنے کی طرف ایک قدم ہے، وہ ایسے آدمی نہیں ہیں کہ اپنے نظریات و عقائد سے پیچھے ہٹ جائیں، نتیجے کے طور پر ایسے لوگ بالآخر تاریخ کی کچرا کنڈی میں پہنچ جاتے ہیں، ان کے ایک دوست مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ تو پہنچ چکے ہیں (واللہ اعلم بالصواب)

ہفتہ، 6 فروری، 2021

نئے امریکی صدر جیو بائیڈن زائچے کی روشنی میں

دنیا کے تین سربراہان مملکت کے درمیان باہمی مماثلت


تازہ امریکی انتخابات نے دنیا کو روسی صدر پیوٹن اور پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے بعد ایک اور میزانی صدر سے روشناس کرایا ہے، اس طرح دنیا میں 2 میزان صدر اور ایک میزان وزیراعظم سامنے آگئے ہیں، مسٹر پیوٹن کا طالع پیدائش (Birth sign) میزان جب کہ قمری برج ثور ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران خان اور مسٹر جیوبائیڈن دونوں کا طالع پیدائش میزان اور قمری برج حمل ہے، دونوں چاند کی منزل اشونی میں پیدا ہوئے ہیں لہٰذا دونوں کی فطری خصوصیات تقریباً ایک جیسی ہیں جو مجموعی زائچے کی سیاروی آراستگی کے سبب مختلف نت نئے رنگ ڈھنگ ظاہر کرتی ہیں، ان کا مطالعہ ایک الگ دلچسپ تفریح ہے،انسان اپنی فطری خصوصیات کی یکسانیت میں زائچے میں سیاروی پوزیشن کے سعد و نحس اثرات کے سبب نت نئے رجحانات اختیار کرتا ہے۔

عملی کردار

طالع برج میزان کا تعلق توازن اور ہم آہنگی سے ہے، اس برج کے تحت پیدا ہونے والے افراد مصلحت اور مصالحت کو ہمیشہ پیش نظر رکھتے ہیں، یہ بہت اچھے سفارت کا رتو ہوسکتے ہیں لیکن اعلیٰ درجے کے سیاست داں نہیں ہوتے کیوں کہ ہمیشہ اہم فیصلے کرنے میں تاخیر کرتے ہیں، بہت زیادہ سوچ بچار اور مشاورت کے بعد بھی کوئی فیصلہ کرنے میں دیر لگاتے ہیں،برج میزان ایک ایسا برج ہے جس میں اقتدار کا سیارہ شمس نہایت کمزور یعنی ہبوط یافتہ ہوتا ہے، شاید یہی بات ان لوگوں کو زندگی کے اکثر معاملات میں تذبذب کا شکار بناتی ہے، حسن و خوبصورتی ان کی کمزوری ہے، ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ کسی تصادم سے خود کو دور رکھیں اور امن و سکون سے زندگی گزاریں لیکن جو بات عمران خان سے جیوبائیڈن کو سیاسی سوجھ بوجھ کے حوالے سے ممتاز کرتی ہے،وہ ان کے زائچے میں سیارہ قمر پر راہو کی نظر ہے، راہو سیاست اور نئے داؤ پیچ کا بھرپور شعور دیتا ہے، مزید یہ کہ ان کا اپنا سیارہ زہرہ اقتدار کے سیارے شمس سے قریبی قربت رکھتا ہے۔

فطری خصوصیات

قمری برج حمل اور قمری منزل (اشونی نچھتر) فطری خصوصیات اور رجحانات کے آئینہ دار ہیں، برج حمل ایک کھلنڈرا بچہ ہے جو کبھی بوڑھا نہیں ہوتا لہٰذا اس سے کبھی بھی بردباری اور تدبر کی توقع نہیں کرنی چاہیے، حمل افراد کی ”میں“مشہور ہے، یہ چیلنج قبول کرنے والے لوگ ہوتے ہیں، برج حمل کا نشان مینڈھا ہے اور آپ نے دیکھا ہوگا کہ اگر مینڈھے کو چیلنج کے انداز میں صرف ہاتھ کا اشارہ ہی دیا جائے تو وہ حملے کی نیت سے تیار ہوکر پیچھے ہٹنا شروع کردیتا ہے تاکہ ایک بھرپور ٹکر مارکر چیلنج کرنے والے کو زمیں بوس کردے، حمل افراد دوسروں کے تجربات کی پیروی کرنے کے بجائے خود تجربات کرکے نتائج کو جانچتے پرکھتے ہیں، وہ دوسروں کی پیروی کرنا ضروری نہیں سمجھتے، یہ ان کی ایک بڑی خامی ہے۔
چاند کی قمری منزل اشونی ان لوگوں کو فطری طور پر نیکی اور بھلائی کی ترغیب دیتی ہے، یہ لوگ بہت جوشیلے، جذباتی اور جلد غصے میں آجانے والے ہوتے ہیں، دوسروں کو بہت جلد متاثر کرلیتے ہیں،پرکشش شخصیت کے مالک اور روشن دماغ ہوتے ہیں، دوسروں کے تجربات سے سیکھنے کے بجائے خود تجربات کرکے سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں جو ایک غلطی ہے،برج حمل میں سیارہ شمس کو شرف کی قوت حاصل ہوتی ہے لہٰذا لیڈر شپ، عزت و وقار اور اختیارات کے حصول کا رجحان ان میں فطری طور پر موجود ہوتا ہے، یہ اچھے لیڈر ہوتے ہیں اور زندگی میں ہمیشہ پہلی پوزیشن پر رہنا پسند کرتے ہیں ِ، ان کی منفی خصوصیات میں ہوائی قلعے بنانا سرفہرست ہے، حالاں کہ ان کے خیالات ہمیشہ صاف اور صحت مند ہوتے ہیں، ان کے اندر زبردست قسم کی قوت مدافعت پائی جاتی ہے، چناں چہ زندگی میں اپنی بیماریوں سے جلد نجات پانے میں کامیاب رہتے ہیں۔

مشہور شخصیات

قمر کی برج حمل میں اس پوزیشن پر پیدا ہونے والی دنیا کی مشہور شخصیات میں خاصے عجیب و غریب، غیر معمولی،منفی یا مثبت خصوصیات کے حامل افراد ہمیں دیکھنے کو ملتے ہیں، مثلاً رسوائے زمانہ،رومن شہنشاہ کیلی گولا، چنگیز خان، جھانسی کی رانی، بھارتی صدر ذاکر حسین، جسٹس افتخار چوہدری، پرنس چالس، جیکی اناسیس،جیری لوئس، اداکارہ انگرڈ برگمن اور جینا ڈیوس وغیرہ۔
زائچے کی روشنی میں کسی بھی شخصیت کے انفرادی زائچے کی عمومی خوبیوں اور خامیوں سے قطع نظر مخصوص خوبیاں اور خامیاں اسے دنیا میں دیگر اسی جیسے بہت سے افراد سے مختلف بناتی ہیں، چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ صدرامریکا مسٹر جیوبائیڈن بہت سی مشترکہ عمومی خوبیوں اور خامیوں کے باوجود صدر پیوٹن اور جناب عمران خان سے خاصے مختلف نظر آتے ہیں۔

 

زائچہ جیوبائیڈن

 


 
 

جیوبائیڈن 20 نومبر 1942 کو پنسلوانیا کے شہر اسکرٹن میں صبح 07:30 am پر پیدا ہوئے، خیال رہے کہ ان کی پیدائش کے وقت میں خاصا اختلاف پایا جاتا ہے، چند ماہ قبل جب وہ الیکشن لڑ رہے تھے تو بین الاقوامی منجمین کے مختلف حلقوں میں ان کے دو زائچے زیر بحث رہے، ایک 08:30 am پر بنایا گیا تھا اور دوسرا 07:30 am پر، جب کہ اکثریت 08:30 am کو اولیت دے رہی تھی، اس وقت کے مطابق ان کا طالع پیدائش برج عقرب ہوگا لیکن عقربی خصوصیات اور ان کی زندگی کے بعض اہم حالات و واقعات برج عقرب سے میل نہیں کھاتے، پہلی بات تو یہی ہے کہ وہ اپنے قد و قامت میں ایک بھرپور میزانی ہیں، عقرب افراد کا قد عام طور سے زیادہ نہیں ہوتا، دوسری بات یہ کہ ان کی زندگی کا ایک اہم ترین واقعہ بھی صرف طالع میزان سے ہی واضح ہوتا ہے، بہر حال اور بھی دیگر عوامل ثابت کرتے ہیں کہ وہ ایک میزانی ہیں۔
ان کے زائچے میں برج میزان کے 28 درجہ 24 دقیقہ طلوع ہیں، سیارہ عطارد جو بارھویں گھر کا حاکم اور زائچے کا سب سے زیادہ منحوس اثر رکھنے والا سیارہ ہے، وہ برج میزان میں 28 درجہ 18 دقیقہ پر موجود ہے اور زائچے کے پہلے گھر اور ساتویں گھر کو بری طرح متاثر کر رہا ہے، اس خرابی سے مسٹر بائیڈن کے دماغی اور ذہنی رجحانات اور صدمات کی نشان دہی ہوتی ہے اور کسی حد تک بعض منفی رجحانات کا بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے، الیکشن کے دوران میں ان کے صاحب زادے کے حوالے سے بعض کرپشن کے اسکینڈل بھی سامنے آئے ہیں، ان پر اور ان کے صاحب زادے پر کاروباری معاملات میں غیر قانونی اور غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔
ضرر رساں مرکری ساتویں گھر کو بھی بری طرح متاثر کرتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی پہلی ازدواجی زندگی میں بہت بڑے صدمات سے دوچار ہوئے جب 1972ء میں ان کی پہلی بیوی کار ایکسیڈنٹ میں جاں بحق ہوگئیں، بیوی کے ساتھ ایک بیٹی بھی اپنی جان سے گئی جب کہ دو بیٹے بری طرح زخمی ہوئے، بعد میں بھی انھیں ایک جوان بیٹے کی موت کا صدمہ برداشت کرنا پڑا۔
زائچے کی دیگر سیاروی نشست کے مطابق عطارد اور مریخ برج میزان میں ہیں جب کہ شمس اور زہرہ زائچے کے دوسرے گھر برج عقرب میں اور زہرہ و مریخ غروب ہیں، کیتو برج دلو میں، قمر حمل میں راہو کی نظر کا شکار ہے،واضح رہے کہ قمر کا تعلق دماغ سے ہے اور راہو کی نظر دماغی طور پر انھیں زیادہ ہوشیار اور چالاک بناتی ہے، فطری طور پر سیاست کی طرف راغب ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے، سیارہ زحل زائچے کے آٹھویں گھر میں جب کہ سیارہ مشتری دسویں گھر برج سرطان میں شرف یافتہ اور شمس و زہرہ سے ناظر ہے، اگرچہ ابتدائی درجات پر ہے گویا اپنے زمانہ ء طفولیت میں ہے لیکن دسویں شرف کے گھر میں اس کی موجودگی کرئر میں ان کی کارکردگی کوشش اور طویل جدوجہد میں معاون و مددگار ہے۔
بہ ظاہر صدر امریکا جیو بائیڈن کا زائچہ ہر گز اتنا طاقت ور نہیں ہے کہ وہ کسی اہم مقابلے میں کامیاب ہوسکیں، اس سے پہلے بھی اس مرحلے پر وہ صدارتی امیدواری سے دست بردار ہوچکے ہیں، نائب صدارت قبول کرلی تھی، ہم نے الیکشن سے پہلے مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کے زائچے کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ٹرمپ کا زائچہ زیادہ طاقت ور ہے، ان کے مقابلے میں مسٹر بائیڈن کا زائچہ کمزور ہے لہٰذا مسٹر بائیڈن کے لیے ڈونالڈ ٹرمپ کو ہرانا آسان نہیں ہوگا اور نہ ہی وہ آسانی سے اپنی شکست تسلیم کریں گے، مسٹر ٹرمپ کی بدقسمتی یہ تھی کہ 2020 ء میں ان کے ساتویں گھر کا حاکم سیارہ زحل زائچے کے چھٹے گھر میں تھا جو برتھ چارٹ میں بارھویں گھر میں اور سب پیریڈ بھی سیارہ زحل ہی کا جاری تھا، اگر مسٹر بائیڈن کے علاوہ کوئی دوسرا زیادہ بہتر زائچے کا حامل امیدوار ہوتا تو مسٹر ٹرمپ کو زیادہ آسانی سے اور غیر معمولی شکست سے دوچار کرتا، مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ نے بہت سے الزامات لگائے ہیں، انھوں نے اس الیکشن کو فراڈ قرار دیا، ممکن ہے مستقبل میں اس الیکشن کے حوالے سے ایسی باتیں سامنے آئیں جن سے ثابت ہو کہ ڈونالڈ ٹرمپ کو ہرانے کے لیے کچھ خصوصی کوششیں کی گئی تھیں۔
مسٹر بائیڈن کے زائچے میں الیکشن کے دوران میں مشتری کے مین پیریڈ میں راہو کا سب پیریڈ 7 اگست 2020 ء سے شروع ہوا، راہو ہماری نظر میں سیاست کا ستارہ ہے، چال بازیاں، مکاریاں، غیر قانونی طریقے اس کے اثرات میں اہمیت رکھتے ہیں، مسٹر بائیڈن کے زائچے میں دسویں گھر کے حاکم قمر پر اس کی بھرپور نظر ہے، قمر دسویں گھر کا حاکم ہے جہاں سیارہ مشتری بحالت شرف براجمان ہے، بے شک انھیں اپنی پارٹی کی بھرپور سپورٹ رہی ہوگی، وہ ماضی میں بھی نائب صدر جیسے اہم عہدے پر فائز رہے ہیں، ایک طویل عرصہ سیاست کے صحرا کی خاک چھانی ہے،ممکن ہے اس الیکشن کو جیتنے کے لیے انھوں نے بعض ایسے فیصلے کیے ہوں جو ان کی کامیابی کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوئے ہوں، اس کے برعکس اپنے خراب وقت کی وجہ سے مسٹر ٹرمپ نے اس کے برعکس غلط فیصلے کیے ہوں، بہر حال پس پردہ کیا ہوا ہے اس کا فیصلہ تو مستقبل ہی کرے گا کیوں کہ امریکا جیسے ملک میں بہر حال کچھ بھی راز میں نہیں رہتا، ہر راز سے آخر ایک نہ ایک دن پردہ اٹھ ہی جاتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مسٹر جیو بائیڈن اپنی جملہ خوبیوں اور خصوصیات میں بہت سے دیگر میزانی افراد کی بہ نسبت زیادہ دانش مند اور ہوشیار ہیں، اس کی پہلی وجہ بارھویں گھر کے حاکم عطارد کی برج میزان میں نہایت حساس پوائنٹ پر موجودگی اور راہو کی سیارہ قمر پر نظر، مزید دلچسپ صورت حال یہ ہے کہ ان کا اپنا سیارہ زہرہ زائچے میں غروب ہے، ذاتی سیارہ غروب ہو یا کسی ناقص پوزیشن میں ہو تو بے شک زندگی میں بہت سے مسائل جنم لیتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی قدرت ایسے لوگوں کو بعض خفیہ صلاحیتوں سے بھی نوازتی ہے جن کی مدد سے وہ اپنے لیے کامیابی کے راستے ڈھونڈ لیتے ہیں، ساتویں گھر کا حاکم سیارہ مریخ بھی اگرچہ غروب ہے لیکن شمس سے فاصلہ خاصا زیادہ ہے، گویا ان کے مشیر اور دیگر قریبی افراد بھی یقیناً زیادہ ہوشیار اور چالاک ہوسکتے ہیں۔
ان کے زائچے کا سب سے اہم پوائنٹ سیارہ مشتری کی زائچے کے دسویں گھر برج سرطان میں موجودگی ہے، گویا ان کے پورے کرئر پر مشتری کی سعادت اپنا اثر دکھارہی ہے، پہلی بار جب وہ نائب صدر بنیں تو مشتری ہی کا دور اکبر اور اصغر جاری تھا جو تاحال جاری ہے، مشتری کی نظر اسٹیٹس اور فوائد کے سیارے شمس پر بھی ہے اور ان کے اپنے سیارے زہرہ پر بھی گویا شمس اور زہرہ کی کمزوری کو تقویت حاصل ہے، سیارہ مشتری زائچے میں ہمسا یوگ بنارہا ہے، اس یوگ کے حامل افراد زندگی کے مختلف شعبوں میں غیر معمولی کارنامے انجام دینے کے اہل ہوتے ہیں، دوسری طرف قمر سے ساتویں گھر میں مقیم سیارہ مریخ زائچے میں چندر منگل یوگ ترتیب دے رہا ہے،یہ یوگ بہر حال ایسی صلاحیتوں سے نوازتا ہے جس میں انسان نہ صرف یہ کہ زیادہ پیسا کمانے کی صلاحیت حاصل کرتا ہے بلکہ جائز و ناجائز کی تمیز بھی ختم ہوجاتی ہے۔
قمر و مشتری باہمی طور پر ایک اور یوگ ترتیب دے رہے ہیں جسے ”گج کیسری یوگ“ کہا جاتا ہے جو کسی راج یوگ سے کم نہیں ہے، ایسے لوگ دنیا میں اعلیٰ عہدہ و مراتب ضرور حاصل کرتے ہیں،خانہ ہائے اوتاد (1,4,7,10) کے مالکان اگر اوتاد میں ہوں تو یہ بھی اعلیٰ درجے کا راج یوگ ہے، زائچے میں صرف سیارہ زحل جو زائچے کا یوگ کارک سیارہ ہے یعنی چوتھے پانچویں گھر کا حاکم ہے، آٹھویں گھر میں مصیبت زدہ ہے، چناں چہ گھریلو سکون اور اولاد کی تکالیف و صدمے مقدر ہیں۔

مستقبل

صدر امریکا مسٹر جیو بائیڈن کے زائچے میں الیکشن کے وقت سیاروی بیٹھک نہایت مناسب تھی، سیارہ مشتری اپنے برج میں تیسرے گھر میں حرکت کر رہا تھا، البتہ 20 نومبر کے بعد سے اپنے برج ہبوط جدی میں چلا گیا اور مارچ تک یہاں رہے گا، اس کے بعد پانچویں گھر برج دلو میں داخل ہوگا اور مئی جون میں پیدائشی کیتو سے قران کرے گا، اس وقت امکان ہے کہ مسٹر بائیڈن بعض معاملات میں نہایت جارحانہ فیصلے کریں اور امریکا کا جارحانہ کردار دنیا کے سامنے آئے جس کے نتیجے میں امریکا کی پالیسیوں کے مخالفین مزید برہم ہوسکتے ہیں، امریکا کسی نئے ایڈونچر میں مصروف ہوسکتا ہے، خود امریکی زائچہ اسے دنیا کے ”پولیس مین“ کا کردار دیتا ہے، فطری طور پر بھی امریکی ایک جنگ جو قوم ہے۔
جیسا کہ پہلے نشان دہی کی گئی ہے کہ زائچے میں سیارہ مشتری کا دور اکبر جاری ہے جو یکم جنوری 2023 ء تک جاری رہے گا لہٰذا مین پیریڈ کی سعادت مسٹر بائیڈن کوحاصل رہے گی ساتھ ہی راہو کا سب پیریڈ بھی جاری رہے گا اور مسٹر بائیڈن سیاسی میدان میں شاید بہت سے اصول و قواعد کو بالائے طاق رکھ کر فیصلے کریں گے یقیناً وہ سابق صدر مسٹر ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف اقدام کریں گے جس کی ابتدا وہ کرچکے ہیں۔
امریکا میں دو جماعتیں عموماً اقتدار میں آتی ہیں، مسٹر بائیڈن کی پارٹی ڈیموکریٹک اور مسٹر ٹرمپ کی پارٹی ریپبلیکن، چناں چہ ایک امریکی صدر کو اپنی پارٹی پالیسیوں کی بھی پیروی کرنا پڑتی ہے، عام طور سے ڈیموکریٹک صدور دنیا بھر میں جمہوری اقدار اور رویوں کو اہمیت دیتے ہیں، اس کے برعکس ریپبلیکن صدر اکثر انھیں نظرانداز بھی کرتے رہتے ہیں لہٰذا مسٹر بائیڈن کو بھی پارٹی کی پالیسیوں کو آگے بڑھانا ہوگا اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے فیصلے کرنا ہوں گے۔
صدر بائیڈن کی زندگی میں ایک نیا موڑ یکم جنوری 2023 ء کے بعد آئے گا، جب وہ سیارہ زحل کے دور اکبر و اصغر میں داخل ہوں گے،بے شک سیارہ زحل ان کے زائچے کا ”یوگ کارک“ سیارہ ہے لیکن زائچے میں آٹھویں گھر میں مصیبت زدہ ہے، نوامسا چارٹ میں اس کی پوزیشن اچھی ہے لیکن کرئر سے متعلق D-10 میں یہ خراب پوزیشن رکھتا ہے، واضح رہے کہ سیارہ زحل عمر کا بھی کارک (نمائندہ) ہے، مسٹر بائیڈن تقریباً 76 سال کے ہوچکے ہیں، اس اندیشے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ آٹھویں گھر کے قابض زحل کے دور میں ان کی صحت کے معاملات تشویش ناک ہوجائیں اور کوئی ایسی صورت سامنے آجائے کہ ملکی نائب صدر کمالہ ہیرس پر تمام صدارتی ذمے داریوں کا بوجھ آجائے، یہ خاتون اپنی ماں کی طرف سے انڈین ہیں اور ان کے شوہر ایک یہودی ہیں۔
امریکا کے مستقبل کے حوالے سے صرف مسٹر بائیڈن کے زائچے پر انحصار نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس حوالے سے امریکی زائچہ زیادہ اہم ہے،تقریباً ہر ملک کا معاملہ ایسا ہی ہے، صدر و وزیراعظم آتے جاتے رہتے ہیں لیکن ملک اور قوم کا زائچہ تبدیل نہیں ہوتا، مستقبل میں دیکھنا یہ ہے کہ دنیا کے تین اہم ممالک میں موجود تین منفرد و مختلف میزانی افراد کی کارکردگی کیا ہوگی؟

  

ہفتہ، 30 جنوری، 2021

فروری کی فلکیاتی صورت حال،نئی بنیادیں، نیا منظرنامہ

دنیا بدل رہی ہے، آنسو بہانے والو!


 ہر گزرتا دن دنیا کو ایک نئی صورت حال یا کسی نئے غیر معمولی واقعے سے روشناس کراتا ہے، گزشتہ ماہ امریکا میں نئے صدر جیوبائیڈن نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا، اس بار امریکی صدر کے زائچہ ء حلف کی پوزیشن خاصی دلچسپ ہے، زائچے میں بیک وقت کئی اہم یوگ ترتیب پارہے ہیں، برج حمل زائچے کے پہلے گھر میں طلوع ہے جہاں سیارہ مریخ اپنی مضبوط پوزیشن کے ساتھ موجود ہے، گویا رچاکا یوگ ترتیب پارہا ہے، اسی طرح دسویں گھر برج جدی میں سیارہ زحل بھی طاقت ور پوزیشن میں ساسا یوگ بنارہا ہے،یہ دونوں یوگ اقتدار میں شدت پسندی اور اپنی حیثیت اور خواہش کو منوانے کے لیے جارحانہ طرز عمل ظاہر کرتے ہیں، چناں چہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ نئے امریکی صدر کی پالیسیاں بین الاقوامی ماحول کے لیے خاصی جارحانہ ہوسکتی ہے، ان شاء اللہ کسی نشست میں صدر امریکا مسٹر جیوبائیڈن کے پیدائشی زائچے پر بات ہوگی، فی الحال ایک دلچسپ اتفاق کا اظہار ضروری ہے۔

موجودہ دور میں مختلف ممالک کے سربراہان مملکت کے برتھ چارٹ جو دستیاب ہیں، ان میں تین افراد کا پیدائشی برج (Birth sign) میزان ہے، اول روسی صدر ولادی میر پیوٹن، دوم پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور اب امریکی صدر جیوبائیڈن۔
برج میزان کا نشان ترازو ہے، میزانی افراد امن پسند اور توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں، عدم توازن انھیں پسند نہیں ہوتا، وہ اس بات کا بھی خصوصی طور پر خیال رکھتے ہیں کہ باہمی تعلقات میں دوسرے ان کے ساتھ کس طرح پیش آرہے ہیں، ان کا رویہ اور برتاؤ کیسا ہے؟اکثر میزانی افراد اس معاملے میں ترازو ہاتھ میں لے کر بیٹھتے ہیں، وزیراعظم پاکستان عمران خان اور جیوبائیڈن کے زائچے میں دوسری مشترکہ خصوصیت دونوں کا قمری برج (Moon sign) ہے جو برج حمل میں ہے، البتہ دونوں کی قمری منزل میں فرق ہے اور یہ فرق بڑا اہم ہے جو دونوں کی فطرت جو جداگانہ رنگ دیتا ہے، بہر حال ہم عمران خان اور صدر پیوٹن کے زائچوں پر پہلے تفصیلی گفتگو کرچکے ہیں، ان شاء اللہ آئندہ کسی نشست میں مسٹر جیوبائیڈن کا زائچہ بھی زیر بحث آئے گا۔

بھارت

دنیا کی ”بڑی جمہوریت“ کہلانے والا بھارت آج کل بڑی مشکل میں ہے، اگرچہ ہم پہلے اس کی نشان دہی کرچکے ہیں اور یہ بھی بتاچکے ہیں کہ سال 2021 ء بھارت کے لیے ایک مشکل ترین سال ثابت ہوگا، بھارت کے حوالے سے ہم نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ آنے والا وقت بھارت کو شدید انتشار اور علیحدگی پسندگی کے رجحانات کی طرف لے جاسکتا ہے، جنوری کے آخری ہفتے میں یوم جمہوریہ کے موقع پر کسانوں نے جو کچھ دہلی میں کیا اور لال قلعہ پر خالصتان کا پرچم لہرایا، یہ کوئی معمولی اور نظرانداز کی جانے والی بات نہیں ہے، انتہا پسند نظریات رکھنے والے مسٹر نریندر مودی اور ان کا رفیق ٹولہ پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت پر نازاں اور مغرور ہے، وہ کشمیر سے لے کر ناگالینڈ تک اپنی من مانی کرنا چاہتا ہے، جنتا پارٹی کا نیا چہرہ ایک انتہا پسند، مذہبی جنونی پارٹی کا چہرہ ہے، اس کے بدترین نتائج بہر حال اب نظرآنے لگے ہیں، اس سال اس خطرے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ مسٹر مودی اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ کسی نئی مہم جوئی کا منصوبہ بنائیں جیسا کہ انہوں نے پہلے پلوامہ میں کیا تھا۔

پاکستان

زائچہ ء پاکستان کے مطابق ایک بڑا سیاروی اجتماع زائچے کے نویں گھر میں شروع ہوچکا ہے، سیارہ زحل، مشتری، شمس اور زہرہ فروری کے شروع ہی سے نویں گھر میں حرکت کر رہے ہیں، شمس کی قربت کے سبب زحل اور مشتری غروب ہیں، سیارہ زہرہ زائچے کے حساس درجے پر موجود ہے جو حکومت کی عمدہ اور ماہرانہ ٹیکنک کا اظہار کرتا ہے، ساتھ ہی نویں گھر کی مناسبت سے قانونی اور آئینی معاملات کے ذریعے فوائد حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہے، شاید اسی ماہرانہ ٹیکنک کا نتیجہ ہے کہ اپوزیشن کا اتحاد اب دم توڑ رہا ہے، اب پیپلز پارٹی نے تھوڑا سا رخ بدل کر بات کرنا شروع کردی ہے، اس مہینے میں سینٹ کے انتخابات بھی متوقع ہیں اور صاف نظر آرہا ہے کہ اس حوالے سے بھی حکومت کو مزید برتری حاصل ہوجائے گی۔
سیارہ عطارد دسویں گھر کے ابتدائی درجات پر بحالت رجعت حرکت کر رہا ہے لیکن 5 فروری کو وہ بھی نویں گھر میں واپس ہوگا اور غروب ہوگا، 11 فروری کو اسی نویں گھر میں قمر کی موجودگی کے سبب سات سیارگان کا اجتماع ہورہا ہے جس کے حوالے سے پہلے بھی ہم لکھ چکے ہیں، بے شک یہ اجتماع دنیا ہی کو نہیں پاکستان کو بھی ایک نئے رخ پر لے جائے گا، یہ الگ بات ہے کہ ترقی کی شاہراہ پر سفر کے دوران میں بہت سے مشکل مراحل بھی آتے ہیں اور گزر جاتے ہیں مگر سفر بہر حال جاری رہتا ہے، لوگ آتے جاتے رہتے ہیں، ناگزیر کوئی نہیں ہوتا، کوئی سیاست داں، کوئی بیوروکریٹ، کوئی جرنل، ہمیشہ اپنے مقام پر نہیں رہتا، یہی اس دنیا کا نظام ہے، ابھی کل تک دنیا بھر میں مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ کے نام کا چرچا تھا، 20 جنوری کو ان کا سورج غروب ہوگیا۔
ہر شعبے میں غیر معمولی کارکردگی دکھانے والے کبھی بھی دنیا میں کم نہیں رہے لیکن بہر حال وہ ہمیشہ نہیں رہے، ہاں ان کا کام ضرور ہمیشہ یاد رہتا ہے، لوگ ان کے کام کی اچھائی یا برائی کواہمیت دیتے ہیں، ابھی حال ہی میں جرمن چانسلر انجیلا مارکل ریٹائر ہوکر اپنے اسی فلیٹ میں واپس چلی گئی ہیں جہاں سے 20 سال پہلے انھوں نے سیاست کے سفر کا آغاز کیا تھا، وہ 16 سال تک اقتدار میں رہیں، قیادت اور اختیار کے ان تمام سالوں میں کوئی مالیاتی اسکینڈل نہیں بنا، انھوں نے کوئی بندربانٹ نہیں کی، ان کا کسی پانامہ اسکینڈل میں نام نہیں آیا، انھوں نے کوئی پلاٹ الاٹ نہیں کرایا، کوئی جہاز یا رولز رائز نہیں خریدی، ان کے کوئی خفیہ اکاؤنٹ کبھی موجود نہیں رہے، ملک میں 16 سال کے عرصے میں تقریباً ڈیڑھ ٹریلین ڈالرز کا جی ڈی پی میں اضافہ کیا، خاموشی سے اپنا کام کیا اور اپنے پرانے فلیٹ میں واپس چلی گئیں، پاکستانی سیاست دانوں کو ان سے سبق سیکھنا چاہیے۔
آج ہم دیکھتے ہیں کہ مختلف ٹی وی چینلز پر یا اخبارات و رسائل میں تبصرے کرنے والے دانش ور یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ اپوزیشن پر بڑا دباؤ ہے، یہ باتیں آج ہی نہیں، ہم نے ہر دور میں سنی ہے، ہر دور کی اپوزیشن پر حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ کا چرچا رہتا ہے اور ساتھ ہی یہ رونا بھی کہ اگر وہ حکومت کے خلاف جائیں تو دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے، اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیتا کہ آخر یہ دباؤ کہاں سے آتا ہے اور کیوں آتا ہے؟ اور ہمارے سیاست داں اپنے دور اقتدار میں کیوں ایسے کام کرتے ہیں کہ انھیں بعد میں کسی بھی نوعیت کا دباؤ برداشت کرنا پڑے، گویا انھوں نے ملک و قوم کی ترقی سے زیادہ اپنی ترقی اور اپنے مفادات کو پیش نظر رکھا تھا تو ظاہر ہے اقتدار کی چاندنی ختم ہونے کے بعد احتساب کا دروازہ کھلنا کوئی غیر متوقع بات نہیں ہوتی، ہمارے اکثر سیاست داں،بیوروکریٹس، فوجی اپنے کرئر کی ابتدا میں کیا تھے؟ اور کرئر کے اختتام پر کس مقام پر فائز ہیں یہ اس ملک کے عام شہری بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔
عزیزان من! وقت بہت تیزی سے بدل رہا ہے، ابھی ہم نے جس سعد سیاروی اجتماع کا ذکر کیا ہے یہ اجتماع مستقبل میں بہت کچھ بدل دے گا، لوگ حقیقت پسندی اختیار کریں گے،جھوٹی باتیں اور کھوکھلے دعوے ختم ہوں گے، آنے والا دور حقیقت پسندی کا دور ہوگا اور ہم دیکھیں گے کہ رفتہ رفتہ چہروں سے جھوٹی اور منافقانہ نقابیں اتر جائیں گی، ان شاء اللہ۔

فروری کی سیاروی چال

سیارہ شمس برج جدی میں حرکت کر رہا ہے، 12 فروری کو برج دلو میں داخل ہوگا، سیارہ عطارد بحالت رجعت برج دلو میں ہے، 4 فروری کو برج جدی میں آجائے گا اور پورا مہینہ اسی برج میں حرکت کرے گا،21 فروری کو مستقیم ہوگا۔
سیارہ زہرہ برج جدی میں ہے 21 فروری کو برج دلو میں داخل ہوگا، سیارہ مریخ برج حمل میں حرکت کررہا ہے، 22 فروری کو برج ثور میں داخل ہوگا، سیارہ مشتری اور زحل برج جدی میں حرکت کر رہے ہیں، پورا مہینہ اسی برج میں حرکت کریں گے،راہو کیتو اپنے شرف کے برج ثور اور عقرب میں ہوں گے۔

قمر در عقرب

قمر اپنے برج ہبوط عقرب میں 5 فروری کو بعد دوپہر داخل ہوگا اور 17 فروری تقریباً شام 03:48 pm تک ہبوط یافتہ رہے گا، یہ تمام عرصہ نحس اثرات رکھتا ہے، اس دوران میں کوئی نیا کام شروع کرنا یا منگنی و نکاح وغیرہ کرنا سخت نحس اثرات رکھتا ہے، البتہ اس دوران میں علاج معالجہ کرانا بہتر ہوتا ہے یا بری عادات سے نجات کے لیے ضروری عمل و نقوش کیے جاسکتے ہیں۔

شرف قمر

قمر اپنی شرف کے برج ثور میں 19 فروری کو داخل ہوگا، یہ وقت مبارک اور نیک کاموں کے لیے سعد ہے، اس وقت میں اپنی جائز ضروریات کے لیے خصوصی وظائف و اعمال کیے جاسکتے ہیں، پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق شرف کا مبارک وقت 20فروری کو صبح 05:35am سے شروع ہوگا اور 07:00 am تک رہے گا، اس وقت اسمائے الٰہی یا رحمن یا رحیم 556 مرتبہ پڑھ کر اپنے جائز مقاصد کے لیے دعا کریں تو ان شاء اللہ کامیابی حاصل ہوگی، اس وقت 786 مرتبہ بسم اللہ الرحمن الرحیم اول آخر گیارہ بار درود شریف کے ساتھ پڑھ کر کچھ چینی پر دم کرلیں اور وہ چینی گھر میں استعمال ہونے والی چینی میں ملادیں تاکہ گھر کے تمام افراد وہی چینی استعمال کریں، اس کی برکت سے خاندان میں محبت خلوص اور اتحاد پیدا ہوگا، نا اتفاقیوں کا خاتمہ ہوگا، رزق میں خیروبرکت رہے گی، اس چینی کو ختم نہ ہونے دیں، جب تھوڑی سی رہ جائے تو اس میں مزید چینی ملا لیا کریں۔

 

سوال و جواب

کیا کروں، کیا نہ کروں؟

رانا فرخ عظیم،جگہ نا معلوم،لکھتے ہیں ”میں موٹر سائیکل کا کام جانتا ہوں اور مزید تجربے کار ہونا چاہتا ہوں،کیا اسی کام کو سیکھ کر روزی کمانے کا کام کروں؟یا مجھے نیوی میں بھرتی ہونا چاہیے؟میں باہر ملک جا سکتا ہوں، اگر جا سکتا ہوں تو کب تک اور زندگی میں روپے کی ریل پیل ہے یا نہیں؟میں نے سیکنڈ ائیر کا امتحان دیا ہے،میری تعلیم مزید کہا ں تک ہے، میں کار مکینک کا کام سیکھوں یا نہیں؟“
جواب:عزیزم! آپ کو سارے کاموں کو پس پشت ڈال کر اپنی تعلیم مکمل کرنا چاہیے اور ابھی سے پیسہ کمانے کی ہوس میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے، ابھی آپ کی عمر ہی کیا ہے کہ آپ روپے کی ریل پیل کے چکر میں پڑ گئے ہیں،آپ کا زائچہ بہت اچھا ہے اور آپ اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکتے ہیں مگر چونکہ آپ کا شمسی برج عقرب اور پیدائشی برج حمل ہے جس کا حاکم سیارہ مریخ ہے لہٰذا آپ کی طبیعت میں بے صبری، جلد بازی اورنا فرمانی کا عنصر بھی موجود ہے، ممکن ہے حالات بھی آپ کو فوری طور پر پیسہ کمانے کے لئے مجبور کررہے ہوں مگر یاد رکھیں جو لوگ اپنی تعلیمی اور تربیتی بنیادوں کے مضبوط ہونے سے پہلے ہی دولت کے پیچھے دوڑنا شروع کر دیتے ہیں وہ ساری زندگی پھر دوڑتے ہی رہتے ہیں کیونکہ ان کی بنیاد کمزور ہوتی ہے جس کی وجہ سے انہیں زندگی میں ملنے والے بہترین چانس حاصل نہیں ہوپاتے اور وہ اپنی تعلیمی کمی کی وجہ سے دوسروں سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔
اگر مالی مسائل کی وجہ سے آپ کار مکینک کا کام سیکھ رہے ہیں اسے ایک پارٹ ٹائم جاب کے طور پر کرتے رہیں مگر اپنا تعلیمی کرئر جاری رکھیں اسے کسی قیمت پر نہ چھوڑیں اگر نیوی میں کوئی چانس مل رہا ہے تو وہ بھی اچھا ہے لیکن ہمیں امید نہیں ہے کہ آپ کو فی الحال کوئی سرکاری جاب مل سکے گی، بے شک آپ مستقبل میں باہر بھی جا سکتے ہیں مگر باہر جا کر کیا کریں گے، ٹیکسی چلائیں گے یا کسی ہوٹل میں پلیٹیں صاف کریں گے؟آپ کے لئے بہترین مشورہ یہی ہے کہ اپنی تعلیم مکمل کریں خواہ اس کے لئے آپ کو کچھ بھی کرنا پڑے، بے شک آپ ٹیکنیکل مائنڈ ہیں لہٰذا اگر کمپیوٹر کورسز کریں تو زیادہ بہتر ہوگا، موٹر سائیکل یا کار مکینک ہونا آج کے زمانے میں زیادہ فائدہ بخش کام نہیں ہے۔

پیدائشی کمزوری

جاوید حسن، سکھر:عزیزم!آپ کا زائچہ کافی کمزور ہے جس کی وجہ سے ابتداء ہی سے زندگی میں مشکلات اور محرومیاں نظر آتی ہیں‘آپ کا شمسی برج جدی اور پیدائشی برج جوزا ہے جبکہ قمری برج قوس ہے زائچے کے آٹھویں گھر میں شمس، زہرہ اور مریخ موجود ہیں جبکہ سیارہ مشتری بارھویں گھر میں ہے چار اہم سیار گان زائچے میں اگر منحوس گھروں میں ہوں تو زندگی کافی مشکل ہو جاتی ہے، خوشیاں اورکامیابیاں خواب و خیال بن جاتی ہیں،آپ کی تو ازدواجی زندگی بھی اطمینان بخش نظر نہیں آتی۔ آپ کا حاکم سیارہ عطارد ہے وہ زائچے کے ساتویں گھر میں کمزور ہے، آپ کے زائچے میں واحد طاقت ور سیارہ زحل ہے یا قمر ہے۔بہر حال ایسی صور ت حال میں خاتم زحل یقیناً فائدے مند ہو سکتی ہے مگر ایسے زائچوں کو دیکھتے ہوئے کچھ خصوصی روحانی علاج کی ضرورت ہوتی ہے جو بہر حال آسان نہیں ہوتا۔فی الحال سیارہ زحل آپ کے زائچے میں نا موافق پوزیشن میں ہے،آئندہ سال بہتر پوزیشن میں آجائے گالہٰذا اس وقت تک جو کام بھی کررہے ہیں کرتے رہیں، باقی مشورہ براہ راست فون پر کر لیں۔
”کاروباری ناکامی“
ف،الف لکھتی ہیں ”میں آپ کا کالم بڑے ذوق و شوق سے پڑھتی ہوں، ستاروں اور سیاروں کی تیکنک زیادہ سمجھ میں نہیں آتی مگر پھر بھی آپ کا کالم پڑھتی ہوں۔میرے ساتھ بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جو کہ میرے بیٹے کا ہے،مجھے اُس کے روزگار کے لیے معلوم کرنا ہے۔اُس نے جو کاروبار کیا تھا وہ ختم ہوگیا ہے اور بہت نقصان اٹھایا ہے۔دو بار دکان میں چوری بھی ہوئی، اب جاب کے لئے اپلائی کیا ہے مگر کہیں معاملہ نہیں بنتا۔ آپ سے گزارش ہے کہ اس معاملے میں میری رہنمائی فرمائیں کہ میرے بیٹے کے لیے کیا بہتر رہے گا، وہ آگے بھی پرائیویٹ امتحان دینے کی کوشش میں ہے۔“
جواب:عزیزم آپ کے بیٹے کا شمسی برج ثور اور قمری برج اسد ہے جبکہ پیدائشی برج سرطان ہے۔بے شک وہ اچھی کاروباری صلاحیتوں کا مالک ہے اور محنتی بھی ہے لیکن اُس کے گزشتہ سال ستارہ زحل کی نحوست کے تھے۔ گزشتہ سال ستمبر سے یہ نحوست ختم ہوگئی ہے مگر فی الحال ذاتی کاروبار کرنا مشکل ثابت ہوگا۔ مئی سے اکتوبر تک ایسا وقت ہے جب اُسے کوئی اچھی جاب مل سکتی ہے یا ملک سے باہر جانے کا موقع مل سکتا ہے، اس دوران میں اگر وہ کسی کاروبار کی منصوبہ بند ی کرے تو یہ بھی اچھا فیصلہ ہوگا، مزید تعلیم کے حصول پر یقینا توجہ دینی چاہیے اور ایک بات آپ کو بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ وہ ابھی خاصا کم عمر ہے۔زندگی کا زیادہ تجربہ نہیں رکھتا لہذا ذاتی کاروبار کو سنبھالنا اُس کے بس کی بات نہیں ہے،اگر کوئی ذاتی کاروبار کرنا ضروری ہو تو چھوٹے پیمانے پر شروع کیا جائے ورنہ جاب ہی بہتر رہے گی اور ساتھ ساتھ مزید تعلیم حاصل کرنے پر زور دیں۔اس کے لیے لکی اسٹون مرجان اور زرد پکھراج ہیں، ان میں سے کوئی بھی اس کو پہنا دیں۔

اتوار، 24 جنوری، 2021

جِنّی کا حملہ اورمعافی کے لیے کالی مرغیاں

ایک طالب علم کا پراسرار واقعہ اور پراسرار مرض

 کائنات رب عظیم کا ایک ایسا شاہکار ہے جس کا مطالعہ روز بہ روزعقل انسانی کے لیے حیرتوں کے نت نئے باب کھولتا رہتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ انسان ابھی صرف کرہ ارض پر موجود زندگی کے اسرارو رموز ہی سے پوری طرح واقف نہیں ہوسکا۔ بہت سے مقامات ایسے ہیں جہاں ابھی انسان کے قدم ہی نہیں پہنچ سکے۔ انسان کی بے بسی اور کم علمی تو اکثر زندگی کے روزمرہ مسائل کے مقابلے میں ہی نظر آجاتی ہے۔ وہ اپنی سی ہر کوشش کرنے کے بعد بھی جب ناکام ہوتا ہے تو سخت جھنجلاہٹ اور مایوسی کا اظہار کرتا ہے۔ یہاں تک کہ اپنی ناکامیوں اور محرومیوں یا بعض موذی اور تکلیف دہ بیماریوں کا ذمے دار کسی ماورائی نادیدہ پراسرار قوت کو ٹھہراتا ہے۔ ایک بار جب انسان حوصلہ اور ہمت ہار دے اور یہ سوچ لے کہ کوئی نادیدہ قوت اس پر اثرانداز ہورہی ہے تو پھر اسے ہر معاملے میں ناکامی کا ہی منہ دیکھنا پڑتا ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، دنیا میں انسان سے زیادہ با صلاحیت اور کرشمہ ساز کوئی اور مخلوق نہیں ہے۔ سحروجادو یا آسیب وجنات کوئی بھی ماورائی اثر زیادہ عرصے تک انسان کو اپنے قابو میں نہیں رکھ سکتا۔ تاوقت یہ کہ وہ اپنا حوصلہ نہ ہار جائے اورذہنی طور پر شکست نہ تسلیم کرلے۔

ہمارے مشاہدے میں ایسے معاملات آتے رہتے ہیں جو حوصلے کی کمی کی وجہ سے اور غلط سوچ کی وجہ سے نت نئی پے چیدگیاں اختیار کر لیتے ہیں۔ کوئی ناکامی یا کوئی مشکل یا کوئی بیماری انسان کو ایسا پست ہمت اور توہم کا شکار بنا دیتی ہے کہ پھر وہ کوئی مثبت بات سوچنے کے قابل ہی نہیں رہتا ہے۔
چند روز پہلے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی جو اپنا مسئلہ لے کر آئے تھے۔ ان کی عمر تقریبا 35 سال کے قریب ہوگی۔ تعلیم زیادہ حاصل نہیں کرسکے تھے مگر بہت سے ہنر جانتے تھے۔ اب تک شادی نہیں ہوئی تھی۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ کوئی نادیدہ قوت ان کے پیچھے لگی ہوئی ہے جو انہیں کامیاب نہیں ہونے دیتی۔ وہ کاروبار کرتے ہیں تو اس میں نقصان ہوتا ہے۔ جاب کرتے ہیں تو زیادہ عرصے نہیں چلتی۔ شادی کے لیے بہت کوشش کی مگر شادی نہیں ہوتی۔ ایک جگہ دو سال پہلے منگنی ہوگئی تھی وہ ابھی تک قائم ہے مگر شادی کی نوبت نہیں آتی۔ لڑکی والے جب بھی شادی کی تاریخ دینے کا ارادہ کرتے ہیں تو کوئی نہ کوئی مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے۔ ایک بار لڑکی کی دادی کا انتقال ہوگیا۔ ایک مرتبہ لڑکی کے بھائی کو کاروبار میں نقصان ہوگیا وغیرہ وغیرہ۔ ان کے اپنے گھریلو حالات بھی بہت خراب تھے۔ دوسال سے خود بھی بیروزگار بیٹھے تھے۔ بس گھوم پھر کر کوئی کام مل جاتا تو کرلیتے۔ دو سال پہلے تک کسی فیکٹری میں اچھی خاصی جاب تھی جو صرف اس وجہ سے چھوڑنا پڑی کہ فیکٹری کے کچھ سینیئر افسران ان سے ناجائز کام لینا چاہتے تھے۔ قصہ مختصر یہ کہ ان کا خیال یہی تھا کہ ان کے ساتھ جو کچھ بھی ہورہا ہے یہ کسی پراسرار نادیدہ قوت کی کارفرمائی ہے۔
جب ان کا زائچہ دیکھا تو اندازہ ہوا کہ موصوف اول درجے کے بے فکرے، غیر ذمے دار، کام چور، آرام طلب اور فضول کاموں میں دلچسپی لینے والے انسان ہیں۔ ان کی غیر مستقل مزاجی اور غیر ذمے داری کا شاخسانہ یہ ہے کہ زندگی میں بہت سے کام سیکھنے اور کرنے کے باوجود آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں ابتدائی عمر میں کھڑے تھے۔ اب اپنی نالائقیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے بہانے گھڑ لیے ہیں کہ میرے ساتھ کوئی پراسرار مسئلہ ہے۔ میں تو بہت کچھ کرنا چاہتا ہوں مگر مجھے کرنے نہیں دیا جاتا۔ پھر اپنے دعوے کے ثبوت میں انہوں نے ایک مثال پیش کی۔ بولے ”میں نے چائے کا ہوٹل کھولا تو چائے بنانے کے لیے چولہے پر جو پانی رکھاوہ گرم ہی نہیں ہوتا تھا۔ خواہ کتنی دیر بھی آگ پر رکھا رہے مگر گرم نہیں ہوتا تھا۔ اب آپ بتائیں یہ سب کیا ہے؟“
ہمارے لیے ممکن نہیں تھاکہ ان سے کہتے”یہ سب آپ کی ڈرامے بازی ہے۔“ انہوں نے اپنے ایسے بہت سے واقعات سنائے کہ ان کے کھانے میں سے کیڑے مکوڑے نکلتے ہیں۔ کبھی لال بیگ، کبھی مکھی اور حد یہ کہ ایک مرتبہ چھپکلی نکل آئی وغیرہ وغیرہ۔ ہم نے ان سے عرض کیا ”آپ الیکٹرک اور ایئر کنڈیشننگ کا اچھا کام جانتے ہیں اور اس کام کی ڈیمانڈ بھی بہت ہے پھر آپ نے یہ کام چھوڑ کر چائے کا ہوٹل کیوں کھول لیا؟“
کہنے لگے ”اس کام میں بے ایمانی کرنا پڑتی ہے اور جھوٹ بھی بولنا پڑتا ہے اور چونکہ میں سخت مذہبی آدمی ہوں، ایک سلسلے سے بیعت ہوں لہذا یہ کام چھوڑدیا۔“
ہم نے عرض کیا ”جب آپ مذہبی بھی ہیں اور صاحب سلسلہ ہیں، بیعت کرچکے ہیں تو یقینا آپ کے پیرومرشد بھی ہوں گے؟ تو پھر آپ کے پیچھے جو چیز لگی ہوئی ہے اس سے نجات کیوں نہیں ملتی؟“
بولے”وہ ہمیں نماز نہیں پڑھنے دیتی اور اسی وجہ سے ہمارے پیر صاحب بھی ہم سے ناراض رہتے ہیں اور اس معاملے میں ہماری کوئی مدد نہیں کرتے۔“
عزیزان من، یہ گفتگو اس لیے نقل کردی گئی ہے کہ آپ خود اندازہ لگالیں کہ مسئلہ کیا ہے اور صاحب مسئلہ کی کیفیت کیا ہے؟ دراصل ہم یہاں ایک اور مسئلے پر گفتگو کرنا چاہتے تھے مگر درمیان میں یہ واقعہ یاد آگیا۔ آئیے ایک خط کی جانب جو ای میل کے ذریعے ہمیں ملا ہے۔ نام اور جگہ ہم ظاہر نہیں کررہے۔
”میرا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہے۔ میٹرک کے بعد میں نے جاب کے بارے میں سوچا لیکن والد نے مزید تعلیم جاری رکھنے پر زور دیا، والد اور گھر والوں کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے میں نے محنت کی اور اچھی پوزیشن لے کر یونیورسٹی تک آگیا، اس دوران میں ٹیوشن بھی کرتا رہا، گریجویشن کرنے کے بعد اب دوسال ہونے کو ہیں مجھے جاب نہ ملنا تھی، نہ ملی۔

”یہ دسمبر 2002 کی بات ہے۔ میں ٹیوشن پڑھا کر واپس گھر آرہا تھا، راستے میں ایک سنسان گلی میں مجھے زور کا پیشاب محسوس ہوا اور میں وہیں سائیڈ میں پیشاب کرنے بیٹھ گیا، ابھی پیشاب کررہا تھا کہ اچانک مجھے ایسا محسوس ہوا کہ کسی نے میرے سر میں ہتھوڑا مار دیا ہو اور میرا سر بھاری ہوگیا، حالاں کہ وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔ میں جیسے تیسے گھر پہنچا اور آکر بستر پر لیٹ گیا۔ میری حالت خراب ہوتی جارہی تھی۔ جس جگہ چوٹ لگی تھی، وہ جگہ سن ہوتی جارہی تھی۔ آنکھیں لال پیلی ہوچکی تھیں اور جسم بھاری ہوگیا تھا۔ یہ حالت دیکھ کر سارے گھر والوں نے رونا شروع کردیا اور ابو پڑوس کی مسجد کے قاری صاحب کو لے کر آئے۔ انہوں نے پورا واقعہ پوچھا،وہ اسی وقت ابو امی کو لے کر اس جگہ پر گئے اور تقریبا دو گھنٹے بعد واپس آکر انہوں نے کہا کہ جس جگہ آپ نے پیشاب کیا ہے وہاں جنات کی ایک فیملی بیٹھی تھی اور پیشاب کی چھینٹیں ان کو لگی ہیں جس پر اس فیملی کی ایک نوجوان لڑکی نے غصے میں آکر آپ پر حملہ کردیا ہے۔ آپ کے سر پرپچھلی طرف تھپڑ مارا ہے۔ میں ان جنات سے بات کرکے آیا ہوں۔ کل صبح دو کالی مرغیاں لے کر ان سے معافی مانگنی ہوگی پھر انہوں نے کچھ قرانی آیات پڑھ کر مجھ پر دم کیا۔ اس کے بعد میری حالت کچھ سنبھل گئی۔ دوسرے دن صبح دو کالی مرغیاں لے کر ہم وہاں گئے اور ان سے معافی مانگ لی، ان سب نے مجھے معاف کردیا مگر شاید جس جن لڑکی نے مجھ پر حملہ کیا تھا اس نے معاف نہیں کیا اور وہ تکلیف آج تک مجھے ہوتی ہے۔ سر بھاری اور سن ہوجاتا ہے۔ تعلیم کے دوران میں میرا سر اتنا بھاری ہوجاتا کہ سیدھا رکھنا مشکل ہوجاتا۔ اتنی تکلیف کے باوجود میں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد مجھے اور بھی تکلیفیں شروع ہوئیں جو ابھی تک جاری ہیں۔ دوسال پہلے یہ مسئلہ شروع ہوا کہ جسم سے بدبو آنے لگی حالانکہ میں صفائی اور پاکیزگی کا بہت خیال رکھتا ہوں۔ اس بدبو کے عذاب نے جینا دوبھر کردیا ہے۔ میری سوشل لائف ختم ہوچکی ہے، شرم کے مارے کسی سے ملتا نہیں ہوں۔ سارا دن گھر میں پڑا رہتا ہوں۔ اب ناامیدی حد سے بڑھ چکی ہے اور خودکشی کے خیالات زور پکڑ رہے ہیں۔ میرے گھر والے سب مایوس ہوچکے ہیں مگر اس مایوسی کی سیاہ کالی رات میں بھی ابھی ایک امید کی کرن باقی ہے۔ میں اللہ کی مدد کی روشنی کے انتظار میں ہوں۔ میں نے آپ کی کتاب مسیحا پارٹ ون میں اسم اعظم نکالنے کا طریقہ دیکھ کر اپنے نام کے اعداد 174کا اسم اعظم نکالا ہے جو یہ ہے۔ ”یا وہاب اللطیف۔“ اس کے علاوہ ”یا اللہ الوکیل“،”ھوالطبیب الحکیم“ اور ”یا طیب القوی“ سب کے اعداد 174ہیں۔ اب آپ بتائیں انہیں کس طرح پڑھا جائے۔ میں نے مختلف مقاصد کے تحت مختلف اسم اعظم نکالے ہیں۔ میں اس کی زکات سوا لاکھ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ اس کی آپ اجازت دیں۔“
جواب: عزیزم، آپ کے ساتھ جو واقعہ ہوا وہ یقینا قابل غور ہے۔ بے شک سنسان اور ویران جگہوں پر جنات ہوسکتے ہیں لیکن اس طرح آباد گلی کوچوں میں جنات کی فیمیلیز قیام نہیں کرتیں۔ بے شک کسی بھی جگہ پیشاب کرنا دوسرے معنوں میں گندگی پھیلانا ایک نامناسب اور غیر اخلاقی بات ہے۔ قاری صاحب نے آپ کی بروقت مدد کی اور قرانی آیات پڑھ کر دم کیا جن کی وجہ سے آپ کو تقویت حاصل ہوئی، ڈر اور خوف دور ہوگیا لیکن کالی مرغیوں کا معاملہ سمجھ میں نہیں آیا، معافی کی حد تک بات ٹھیک ہے لیکن کالی مرغیوں کا بھتا جنات کودینا خاصا عجیب ہے، دوسری بات یہ کہ اگر آپ ایک غلط حرکت کر رہے تھے یعنی پیشاب کرنا شروع کردیا تو جنات کا وہاں بیٹھنا بھی قابل غور ہے، کیا آپ نے خود دیکھا تھا کہ کالی مرغیاں قاری صاحب نے جنات کو پیش کی تھیں؟آپ کو اپنے سر درد یا سر کی تکلیف کے سلسلے میں بھی قاری صاحب سے مزید رجوع کرنا چاہیے تھا۔
آپ کی دیگر بیماریوں کا تعلق اس واقعے سے الگ نظر آتا ہے۔ آپ نے جو مسائل اور تکالیف لکھی ہیں یہ عموما سفلس اور سائیکوٹک امراض میں پائی جاتی ہیں۔ خاص طور پر جسم یا پسینے اور دیگر اخراجات میں بدبوکا پایا جانا۔ ایک اور رہنما علامت آپ نے یہ بھی لکھی ہے کہ آپ کو صفائی اور پاکی کا بہت خیال رہتا ہے۔ یہ بھی سفلس کی علامت ہے۔
سفلس کی بیماریاں عموما غیر فطری مشاغل کی وجہ سے جنم لیتی ہیں مگر ان کی ایک وجہ کسی نامناسب جگہ پر پیشاب کرنا بھی ہوسکتاہے خصوصا جلتی دوپہر میں تپتی زمین یا پتھر پر یا ایسی جگہ جہاں زمین میں چونا موجود ہو۔ بہرحال وجوہات کچھ بھی رہی ہوں آپ کو معقول علاج معالجے پر توجہ دینا چاہیے۔ایسی بیماریوں کا شافی و کافی علاج ہومیو پیتھک طریقہ ء کار میں موجود ہے۔ آپ کی بیماری اب خاصی پیچیدہ ہوچکی ہے لیکن لاعلاج نہیں ہے۔گھر میں منہ چھپا کر بیٹھنے کے بجائے کسی تجربے کار ہومیو پیتھ ڈاکٹر سے رجوع کریں اور اپنے ذہن سے یہ وہم نکال دیں کہ ”جن لڑکی“ کا تھپڑ ابھی تک آپ کے لیے ایک سزا بنا ہوا ہے اور اس کا آپ کو معاف نہ کرنا آپ کے لیے عذاب کا سبب ہے۔ ایسے واقعات زیادہ عرصے تک اپنا اثر نہیں رکھتے اور جو غلطی آپ سے ہوئی تھی، وہ بھی اتنی بڑی نہیں تھی کہ جس کی سزا آپ کو عمر بھر بھگتنا پڑے۔ اللہ نے اتنا اختیار کسی کو نہیں دیا کہ معمولی باتوں پر غصے میں آکر زندگی بھر کسی کو عذاب میں مبتلا کرے۔ ایسا کرنے والا پھر خود بھی قہر خداوندی کا شکار ہوتا ہے۔ اگر انصاف کی بات کی جائے تو اس جن فیملی سے بھی یہ پوچھا جاسکتا تھا کہ آپ لوگ ایک راہ گزر میں دھرنا دیے کیوں بیٹھے تھے اور کیوں ایک شخص کے پیشاب کرنے کا نظارہ فرما رہے تھے جبکہ قانون قدرت کے مطابق وہ تو آپ کو نہیں دیکھ سکتا تھا مگر آپ تو اس کو دیکھ رہے تھے اور سمجھ رہے تھے کہ وہ کیا کرنے جارہا ہے۔ اس کی حرکت تو غیر اخلاقی اس صورت میں ہوگی جب وہ آپ کو دیکھ کر اور جان بوجھ کر پیشاب کرتا۔ آپ کو ناپاک ہونے کا خیال پہلے کیوں نہیں آیا کہ اس جگہ سے دور ہٹ جاتے۔ بہرحال اب یہ بحث فضول ہے اور آپ اپنے ذہن سے یہ خیال نکال دیں۔ آپ نے یہ نہیں لکھا کہ جسم سے آنے والی بدبو صرف آپ کو محسوس ہوتی ہے یا دوسروں کو بھی؟ ہمیں یقین ہے کہ یہ بدبو صرف آپ کو ہی محسوس ہوتی ہوگی۔ اگر دوسروں کو محسوس ہوتی تو آپ کے گھر والے ضرور اس کا نوٹس لیتے اور آپ کو کسی معالج کے پاس لے جاتے۔
آپ کا زائچہ دیکھنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ آپ نے کچھ باتیں ہم سے بھی پوشیدہ رکھی ہیں اور اپنی بیماریوں کے سلسلے میں بعض وجوہات کو راز میں رکھا ہے کیونکہ آپ کا پیدائشی برج عقرب ہے اور طالع کا حاکم مریخ بارہویں گھر میں بیٹھا ہے جبکہ بارہویں گھر کا حاکم زہرہ طالع میں ذنب کے ساتھ ہے۔ یہ ”پری ورتن یوگ“ ہے اور یوگ بنانے والے اسٹار زہرہ اور مریخ پہلے بارہویں اور چھٹے ساتویں گھروں سے تعلق رکھتے ہیں لہذا پیچیدہ نوعیت کی ذہنی اور دماغی بیماریاں جنم لے سکتی ہیں۔ ایسے لوگوں کی زندگی میں کچھ نہ کچھ خفیہ راز ضرور ہوتے ہیں۔ ہم بھی ان کی نقاب کشائی نہیں کریں گے۔
آپ نے جو اسم اعظم ترتیب دیے ہیں وہ بلاشبہہ بہت شان دار ہیں۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کا اسم اعظم ”یا حی و یا قیوم“ بھی ہے کیونکہ دونوں اسمائے الہی کے اعداد 174 ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ آپ کے لیے زیادہ بہتر ہے، آپ کا پہلا مسئلہ صحت یابی ہے اور یا حی و یاقیوم کا ورد صرف نفع بخش ہی نہیں، صحت بخش بھی ہے۔ باقی فی الحال زکات ادا کرنے کی مہم میں خود کو نہ ڈالیں۔ آپ کی موجودہ حالت اور صحت ایسے وظیفوں اور چلوں کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ صرف ہومیو پیتھک علاج ہی آپ کی بگڑی ہوئی کیمسٹری کو درست کرسکتا ہے۔
شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات!

ہفتہ، 16 جنوری، 2021

ذہنی مسائل، روحانی مسائل اور روحانی مسائل ہی ذہنی مسائل

ہمارے مسائل کے رنگ برنگے زاویوں پر ایک دلچسپ تحریر

 روحانی یا روحی یا نفسیاتی بیماریوں کی اصطلاح عام ہے اور لوگ اس میں اس طرح فرق کرتے ہیں کہ روحانی امراض کو ماورائی یعنی نادیدہ قوتوں کی طرف منسوب کرتے ہیں یا پھر سحر و جادو اور عملیات و تعویذات کی کارروائی قرار دیتے ہیں۔ جب کہ نفسیاتی بیماریوں کو ذہنی فتور یا دوسرے معنوں میں دماغ کا خلل قرار دیا جاتا ہے۔ اس طرح بیماریوں کی دو اقسام وجود میں آگئی ہیں یعنی روحانی یا روحی اور نفسیاتی۔ اکثر لوگ روحانی یا روحی میں بھی فرق کرتے ہیں حالانکہ اصولاً دونوں کا ماخذ ایک ہی ہے یعنی روح۔ انگریزی زبان میں ان دونوں لفظوں کے لیے یا ایسے روحانی معاملات کے لیے ایک ہی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے اور وہ ہے ”اسپریچول ازم“، یعنی روحانیات یا روحیات۔

نفسیات جسے انگریزی میں سائیکلوجی کہا جاتا ہے صرف انسان کے ذہن تک محدود ہو کر رہ گئی ہے یعنی وہ تمام مسائل جن کا تعلق انسان کے ذہنی میلان و رجحانات سے ہے علم نفسیات کے ماتحت کر دیے گئے ہیں، دوسرے الفاظ میں ہم اس بات کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس طرح انسانی ذہن اور روح کو الگ الگ کر دیا گیا ہے، تو کیا واقعی ایسا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ مندرجہ بالا نظریات کی ضرورت اس لیے پیش آئی تاکہ جدید علم نفسیات کو سائنس کے جدید تجرباتی اصولوں تک محدود کر دیا جائے کیوں کہ اس کے بغیر جدید سائنس کے مبلغین علم نفسیات کو سائنسی علم ماننے کے لیے تیار ہی نہیں تھے اور انسانی نفسیات کے حوالے سے جو مابعد الطبیعاتی مسئلے موجود تھے، انہیں تجربات کی کسوٹی پر پرکھنا بھی ممکن نہیں تھا، لہٰذا وہ انہیں قابل توجہ نہیں سمجھتے تھے ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ قدیم ترین فلاسفہ میں افلاطون نے انسانی نفسیات کے حوالے سے مابعدالطبیعاتی مسائل کو نفسیات کے علم سے علیحدہ نہیں رکھا اور وہ انسانی ذہن و روح کے معاملات میں کوئی تقسیم نہیں کرتا۔
اصل میں بنیادی جھگڑا اس وقت شروع ہوتا ہے جب مذہبی عقائد اور مادیت کے نظریات ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہوتے ہیں، مذہبی عقائد ایک انسانی روح کا تصور پیش کرتے ہیں جو ان کے خیال میں گوشت پوست، خون اور ہڈیوں کے پیکر انسانی کو نہ صرف متحرک رکھتی ہے بلکہ اسے برے بھلے کا شعور بھی دیتی ہے، اس کے مقابلے میں جدید سائنس چوں کہ روح کو ناقابل تجربہ سمجھتے ہوئے نظرانداز کرتی ہے لہٰذا وہ اس کی جگہ انسانی دماغ کی اس قوت و کارکردگی سے بحث کرتی ہے جسے ذہن کہا جاتا ہے لہٰذا اس سارے جھگڑے نے انسان کی روحانی بیماریوں کو دو حصوں میں تقسیم کرد یا ہے۔
انگریزی زبان میں علم نفسیات کے لیے سائیکلوجی کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے جس کا ڈکشنری کے مطابق ترجمہ روح کا علم ہوگا۔
اُردو میں ”نفسیات“ کا لفظ مروج ہے جو ”نفس“ سے لیا گیا ہے اور نفس کیا ہے، ہمارے اندر آتی جاتی سانس۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سانس کیا ہے؟ کیا ہم اسے صرف ناک سے اندر جاتی اور باہر آتی ہوا کہیں گے، ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ سانس، دم یا جان یا روح کے معنوں میں ہی مستعمل ہے، کسی انسان کی موت کے بعد ہمارے ہاں جو جملے بولے جاتے ہیں ان میں ”روح کا جسم سے پرواز کر جانا“ یا ”دم نکل جانا“ یا پھر ”سانس ٹوٹ جانا“ تقریباً ایک ہی معنی رکھتا ہے۔
عزیزانِ من! اب تک کی ساری گفتگو ممکن ہے ہمارے پڑھنے والوں کو بے سروپا، نہایت مشکل اور عجیب محسوس ہو رہی ہو۔ ہم نے اپنے طور پر کوشش تو کی ہے کہ روح اور ذہن میں جو فرق واقع ہوگیا ہے اس کی تھوڑی سی وضاحت کر سکیں اور یہ بتا سکیں کہ درحقیقت ہمارے ذہنی مسائل ہی ہمارے روحانی مسائل ہیں اور ہمارے روحانی مسائل درحقیقت ہمارے ذہنی مسائل ہیں، ایک ہی بات کو ہم دو مختلف طریقوں پر بیان کر سکتے ہیں اور سمجھ سکتے ہیں کیوں کہ اس مسئلے کو سمجھے بغیر ہمار ا معاشرہ جو حد سے زیادہ ماورائیت اور سحر و جادو کے مسائل میں الجھتا چلا جارہا ہے، درست طور پر اپنی بیماریوں اور جملہ تکلیفات کی حقیقت نہیں سمجھ سکتا۔ اس کے ساتھ ہی آیئے ایک خط کے چیدہ چیدہ اقتباسات کی طرف جس میں ہم سے کچھ ایسے سوالات کیے گئے ہیں جن کے جوابات مندرجہ بالا تشریح کے بغیر دینا ممکن نہ تھا۔
خط بھیجنے والی شخصیت کا نام و مقام ہم ظاہر نہیں کرنا چاہتے، ان کے بارے میں صرف اتنا حوالہ دینا کافی سمجھتے ہیں کہ وہ روحانی علاج و معالجے کے سلسلے میں کئی روحانی معالجین کے رابطے میں رہی ہیں اور خود بھی علم نجوم و جفر، پامسٹری اور دیگر علوم خفیہ سے دلچسپی رکھنے کی وجہ سے خاصی صاحبِ مطالعہ ہیں۔ اپنے طویل خط میں وہ لکھتی ہیں:
”مجھے اس لائن کے لوگوں کی ذہنیت کا قطعی اندازہ نہیں اور ان کی قیمت کیا ہے، یہ کس طرح تربیت کرتے ہیں، یہ کس طرح سے بندے کو ہینڈل کرتے ہیں۔ ان کے پاس جانے کا مطلب ایک لمبی قید ہوتی ہے۔ یہی چیز پریشان کر رہی ہے۔ ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ ہمیں بچا رہے ہیں یا ڈبور رہے ہیں؟ جو کچھ ہو رہا ہے اسے جادو میں شمار کیا جائے گا یا نہیں؟ دماغی بیماریاں ہیں تو اس کا علاج علم جفر سے ممکن ہے یا نہیں۔ اتنی علمی اور عملی قوتوں کے باوجود ان معاملات میں پھنس جانا کیا معنی رکھتا ہے کہ کوئی دشمنی کر رہا ہے! یہ کون سے اسماء الحسنیٰ کا علم و عرفان رکھتے ہیں؟ اور ان سے کیسے چھٹکارا ممکن ہے۔ پہلے تو شیطانی قوت سے حفاظت اور پھر جان و مال اور عزت کی حفاظت، مجھے وہ حرکت صاف محسوس ہوتی ہے جو آنکھوں کے ذریعے اثر ڈال کر اندھا کر دیتی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ جان بوجھ کر کوئی حرکت کی جا رہی ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے کوئی اور شخصیت ہمارے ساتھ ہے جو متحرک ہے، یقینا کوئی نادیدہ چیز ہمارے ساتھ کر دی گئی ہے، ہمیں اس ظلم سے نجات کب ملے گی؟ ان لوگوں کے اختیارات کے بارے میں کیسے علم ہو؟ ان سے بازپرس کرنے والا کون ہے؟ میرا رابطہ اگرچہ اپنے روحانی معالج سے منقطع ہے لیکن میں دوبار خواب میں دیکھ چکی ہوں کہ میں انہیں فون کر رہی ہوں، اپنی پریشانی بتا رہی ہوں۔ کیا وہ میرے مددگار نہیں؟ ایک دن میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص جس کی داڑھی ہے وہ ہمارے گھر میں بیٹھا ہے اور میں اس سے کہہ رہی ہوں کہ تم یہاں سے جاتے کیوں نہیں؟ اس کے علاوہ جاگتی حالت میں بھی مجھے اپنے پیچھے ایک جسم محسوس ہوتا ہے اس کا کیا مطلب ہے؟ بعض اوقات میں خود کو مصیبت میں دیکھتی ہوں مگر حقیقت میں میری کوئی بہن یا عزیز اس پریشانی میں ہوتا ہے کیا مختلف لوگ مختلف حالات و واقعات دکھاتے ہیں۔ ان تمام باتوں کو کیسے سمجھا جائے؟ اکثر مجھے غلاظت میں لپٹا کوئی جسم نظر آتا ہے اور وہ اپنی ایک رشتے دار کا محسوس ہوتا ہے، ہیں تو وہ بہت فسادی مگر اس کا مطلب کیا ہے؟ کڑی سے کڑی جڑی ہوئی محسوس ہوتی ہے، میری چھوٹی بہن بتاتی ہے کہ اسے آواز آتی ہے یعنی اسے بھی ایسا ہی کر دیا جائے گا، کیا کوئی ہمارے خاندان سے بدلہ لے رہا ہے؟ سب کے کام بگڑ ہی رہے ہیں۔“
جواب: عزیزم! ہم نے ابتدا میں روح اور ذہن اور روحانی و ذہنی امراض کے حوالے سے جو کچھ لکھا ہے اسے غور سے پڑھ لیں اور ہمارا مشورہ ہے کہ ایک بار نہیں بار بار پڑھیں اور اس حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ انسانی ذہن یا روح میں جب پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں تو ہمارے اردگرد ایک جہانِ حیرت وجود میں آجاتا ہے جسے سمجھنا ہمارے بس کی بات نہیں ہوتا۔ اس کی بھول بھلیوں میں پھنس کر ہم ایسے ایسے تجربات و مشاہدات سے گزرتے ہیں جن کی عقلی توجیہہ ناممکن ہو کر رہ جاتی ہے اور پھر لامحالہ ذہن نادیدہ قوتوں کی کارفرمائی کی طرف چلا جاتا ہے۔ آپ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے جسے آپ کی حد سے بڑھی ہوئی انانیت تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
ہم اس بحث میں تو پڑنا نہیں چاہتے کہ اس راستے میں آپ کی جن معالجین سے ملاقات ہوئی اور ان کا جو سلوک اور طرزعمل رہا اس کی کیا حیثیت ہے لیکن ہم یہ وضاحت ضرور کریں گے کہ ان لوگوں سے آپ کو بہرحال درست رہنمائی نہیں ملی مثلاً آپ نے علم نجوم کے بارے میں جو کچھ سیکھا اور پڑھا وہ آپ کے ذہن کو مزید الجھانے اور گم راہ کرنے کا سبب بنا، یہی حال پامسٹری، علم جفر اور دیگر علوم کا بھی ہے،آپ کی اکثر باتوں سے یہ تاثر ملتا ہے کہ شخصیت پرستی کا فریب آپ کو لے ڈوبا اور آپ پہلے مختلف شخصیات کے ٹرانس میں آئیں اور بعد میں مختلف علوم کے ٹرانس میں خو دکو دے دیا، ہمارا مشاہدہ ہے کہ جو لوگ اللہ کے دین کی درست معلومات نہیں رکھتے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور ہستی کو بالائے طاق رکھ کر مختلف علوم کے دعوے داروں کی ذات اور شخصیت ہی کو سب کچھ سمجھنے لگتے ہیں انہیں گم راہ ہوتے دیر نہیں لگتی اور پھر کوئی بھی مسئلہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا، وہ لاکھ کڑی سے کڑی ملاتے رہیں ان کے خیالات کی زنجیر روز بہ روز الجھتی ہی چلی جاتی ہے، آپ کے سوالات میں الجھاؤ کے ساتھ یہ کم علمی جگہ جگہ محسوس ہوتی ہے، مثلاً آپ نے طے کر لیا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ چوں کہ آپ کی سمجھ میں نہیں آرہا لہٰذا اگر اسے جادو میں شمار نہیں کیا جائے تو کیا کہا جائے؟ آپ دماغی بیماریوں کا علاج علم جفر سے ڈھونڈ رہی ہیں یا یہ کہ آپ کے ذہن میں علم جفر کے حوالے سے الجھنیں پیدا ہوگئی ہیں۔
جن شخصیات سے آپ ذہنی طور پر متاثر ہوئی ہیں ان سے مایوس ہونے کے بعد بھی ان کی علمی اور روحانی قوت سے خوف زدہ ہیں اور چھٹکارے کی خواہش مند ہیں۔ آپ کے خواب بھی آپ کی اسی الجھی ہوئی منتشر ذہنی اور روحانی کیفیات کو ظاہر کرتے ہیں۔ مثلاً آپ غلاظت میں لپٹی ہوئی ایک ایسی شخصیت کو دیکھتی ہیں جس کے بارے میں آپ کی رائے اچھی نہیں ہے، اپنے سابق معالج کو خواب میں فون کرنا اور ان سے اپنی پریشانی بیان کرنا اور پھر اس خواب کے بارے میں یہ خیال کرنا کہ یہ معالج کی کوئی کارستانی ہے، وہ اپنی سحری قوت سے آپ کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے، آپ کے لاشعور میں چھپا ہوا وہ چور ہے جس سے آپ خود حالتِ شعور میں نظریں چرا رہی ہیں۔ یہی حال دیگر خوابوں کا بھی ہے۔ یہاں ہمیں صوفی غلام مصطفی تبسمؔ کا ایک شعر یاد آرہا ہے جو آپ کی ذہنی، نفسیاتی، روحانی کیفیات کی نہایت دلچسپ اور خوبصورت عکاسی کرتا ہے۔ ذرا اس پر غور کیجیے ؎

 

اللہ کرے جہاں کو میری یاد بھول جائے
اللہ کرے کہ تم کبھی ایسا نہ کر سکو

اب آیئے اپنے اصل مسئلے اور اپنی تازہ صورتِ حال کی طرف مگر اس سے پہلے چند باتیں آپ کے زائچے کے حوالے سے کیوں کہ آپ خود بھی علم نجوم سے شغف رکھتی ہیں تو کم از کم ہماری ان باتوں سے انکار نہیں کر سکیں گی۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ اپنے شمسی، قمری برج کے علاوہ طالع پیدائش سے بھی آپ واقف ہیں اور اس سے متعلق مثبت اور منفی خصوصیات کا بھی یقینا علم ہوگا مگر جس اہم نکتے کی طرف ہم توجہ دلا رہے ہیں وہ یہ ہے کہ زائچے کے پہلے گھر میں یعنی طالع پیدائش میں شمس کی موجودگی کبھی کبھی تو انانیت کا ایسا طوفان کھڑا کرتی ہے کہ انسان اگر خدائی کا دعویٰ کر بیٹھے تو ایک اچھے ماہر نجوم کو تعجب نہیں ہوگا۔ ہمارے مشاہدے میں تو ایسے ہزاروں زائچے آچکے ہیں کہ اگر شمس طالع میں موجود ہو اور باقوت بھی ہو تو صاحب زائچہ کی انا آسمان کو چھوتی ہے اور اس پر طرفہ تماشا حالات کی ناسازگاری، زندگی کی محرومیاں بھی ساتھ میں ہوں تو انسان کی سائیکی بری طرح بگڑ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں ہسٹریا یاشیزوفرینیا وغیرہ جیسی بیماریاں اسے اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں اور آپ درحقیقت شیزوفرینیا کی مریضہ ہیں، اس بیماری میں تقسیم شخصیات کا مرحلہ ایسے ہی حیرت انگیز تماشے دکھاتا ہے جن سے آپ دوچار ہو رہی ہیں، شیزوفرینیا کے مریض کو ایسا لگتا ہے کہ جیسے کوئی ہر وقت اس کے ساتھ ہے اور وہ نادیدہ آوازیں سنتا ہے۔ الغرض یہ کہ ہر وہ بات اسے محسوس ہوتی ہے جس کے بارے میں وہ شعور رکھتا ہے اور کسی وقت اس کا ذہن بھٹک کر اس طرف چلا جاتا ہے۔
شیزوفرینیا ایک ایسا نفسیاتی عارضہ ہے جس میں انسان کی تقسیم شدہ شخصیت کئی بہروپ دھار لیتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایسے واقعات عام ہیں جن میں لوگ نادیدہ مخلوق کی اپنی زندگی میں مداخلت کی نشان دہی کرتے ہیں اور عام طور پر ایسے معاملات کو جن بھوت یا کسی روح وغیرہ کی کارروائی خیال کیا جاتا ہے یا عام زبان میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کسی نے سحر و جادو کے ذریعے ہم پر گندی چیزیں مسلط کر دی ہیں، اس بیماری میں عورت یا مرد، دونوں ایسی کیفیات سے بھی گزر سکتے ہیں جن میں یہ محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ان کے ساتھ موجود نادیدہ وجود ان پر غلبہ پا رہا ہے، اکثر خواتین نے ایسے کیسوں میں یہ شکایت بھی کی ہے کہ وہ خلوت میں بالکل اس صورتِ حال سے دوچار ہوتی ہیں جو اپنے شوہر سے ملنے کے وقت ہوتی ہے۔ اس معاملے میں شادی شدہ اور غیرشادی شدہ کی تخصیص نہیں ہے۔ ہم بارہا ایسے کیسوں کا مشاہدہ کر چکے ہیں۔ الغرض ”شیزوفرنییا“ ایک ایسی بیماری ہے جس کے ہزار روپ ہو سکتے ہیں اگرچہ ماہرینِ نفسیات اسے صرف انسانی شخصیت کے بگاڑ تک محدود رکھتے ہیں اور ایک ذہنی عارضہ قرار دیتے ہیں لیکن ہمارے نزدیک یہ روحانی یا روحی عارضہ بھی ہے، بے شک اس کا علاج بہت مشکل ہوجاتا ہے اور اس کی وجہ بنیادی طور پر یہ ہوتی ہے کہ اکثر تو مریض معالج سے تعاون ہی نہیں کرتا اور دوسری بات یہ کہ مریض کو اپنے گھر میں معقول اور مناسب ماحول میسر نہیں ہوتا اور تیسری اور سب سے اہم وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس بیماری کے پیدا ہونے کی بنیادی اور اصل وجوہات جن کا تعلق مریض کے ماضی سے ہوتا ہے جوں کی توں برقرار رہتی ہیں۔
عزیزانِ من! یہ موضوع ناختم ہونے والا ہے، ماضی میں بھی ہم نے اس حوالے سے بہت لکھا ہے اور بہت سے کیسوں کا تجزیہ پیش کیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے امراض کے علاج معالجے کے لیے اعلیٰ سطح پر نہایت معیاری اسپتال قائم ہونے چاہئیں جن میں ہر قسم کے معالجین کی نگرانی میں علاج معالجے کی تمام سہولتیں موجود ہوں، ایلوپیتھک طریقہ علاج ایسی پے چیدہ بیماریوں کے علاج میں قطعی طور پر ناکام رہا ہے، وہ فوری نوعیت کی روک تھام تو کر سکتے ہیں مگر مکمل صحت و تندرستی کے عمل کی طرف کوئی پیش رفت نہیں ہوتی بلکہ ان بیماریوں کے حوالے سے جو ایلوپیتھک دوائیں استعمال ہو رہی ہیں ان کا زیادہ اور طویل عرصے استعمال کچھ دوسرے عوارض کا سبب ثابت ہوا، ہمارے نزدیک ایسی بیماریوں کے علاج میں پیراسائیکالوجی کی جدید تحقیقات اور تجربات سے مدد لینا ضروری ہے اور اس کے ساتھ ہومیوپیتھک طریقہ علاج اختیار کرنا چاہیے۔ لوگ روحانی طریقہئ علاج کے نام پرجو اعمال و وظائف نقش و تعویذ یا جھاڑ پھونک کرتے ہیں، اس سے ایسے کیس مزید خراب ہوتے ہیں۔ ہم نے ان طریقوں سے کبھی مریض کو مکمل طور پر صحت یاب ہوتے نہیں دیکھا بلکہ ایسی صورتوں میں مریض کے ساتھ دیگر اہل خانہ کو بھی اسی مرض کی لپیٹ میں آتے دیکھا ہے۔
ہمارا ارادہ ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ ایسی پے چیدہ بیماریوں کے حوالے سے اپنے تجربات و مشاہدات پر مشتمل ایک کتاب مرتب کی جائے تاکہ لوگوں کی اس ہزار رنگ و روپ رکھنے والے پُراسرار مرض سے درست آشنائی ہو سکے۔

 

ہفتہ، 9 جنوری، 2021

حالات سے آگاہی کے لیے علم الاعداد کا ایک قاعدہ(2)

سال، مہینہ، دن یا کوئی شخصیت آپ کے لیے کیسی ہے؟ 


نمبر5کے اثرات

اس سال اگر آپ کلیدی مقسومی عدد5 کے زیر اثر ہیں توسمجھ لیں کہ یہ ایک غیر یقینی کیفیت کا حامل سال ہے۔ بے شک آپ کے اردگرد حالات وواقعات میں تیز رفتاری نظرآئے گی اور آپ کو نئے مواقع بھی ملیں گے مگریہ مواقع ایسے ہوں گے جن سے آپ کی زندگی سنور بھی سکتی ہے اور بگڑ بھی سکتی ہے، اب یہ آپ پرمنحصرہوگا کہ آپ اپنی صلاحیتوں کا استعمال کس انداز میں کرتے ہیں، یہ سال زائد سفر بھی لائے گا گویا آپ کو سال کے بڑے حصے میں سفر سے متعلق مسائل کا سامنا رہے گا اور نئی تبدیلیوں کے عمل سے گزرنا پڑے گا۔
نمبر5 کے تحت اس بات کا امکان موجود ہے کہ آپ کسی پرانی غلطی کو دوبارہ دہرائیں یا ماضی کے کسی ادھورے چھوڑے ہوئے کام یا منصوبے کی طرف متوجہ ہوجائیں، اس سلسلے میں آپ عملی قدم اٹھائیں گے۔ آپ نے اچھی طرح غوروفکر کے بعد قدم آگے بڑھایا اور ثابت قدمی سے مصروف عمل رہے تو یقیناً کامیابی آپ کے قدم چومے گی، یہ سال مقبولیت اور شہرت کے لیے بھی بہتر ثابت ہوگا۔ آپ عام لوگوں کے درمیان زیادہ وقت گزاریں گے لہذا خیال رہے کہ عوامی مصروفیات ایسی نہ ہوں جن کی وجہ سے آپ کا قیمتی وقت برباد ہوا اور ضروری کام پڑے رہ جائیں۔ دوسرے لوگ بھی چاہیں گے کہ آپ انہیں زیادہ سے زیادہ وقت دیں اور آپ کوا پنی تقریبات اور دلچسپیوں میں شامل کریں۔ ایسی صورت میں یہ آپ پر منحصر ہوگا کہ آپ کام اور تفریح میں کس کا انتخاب کرتے ہیں۔
اگر آپ کا شمسی برج جوزا یا سنبلہ ہے یا آپ کی تاریخ پیدائش5‘4 اور23ہے تو اس سال کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی اور یہ سال آپ کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
دوسروں سے تعلقات
محبت یا منگنی کے حوالے سے یہ سال خاصا دلچسپ ثابت ہوسکتا ہے آپ کے حلقہ احباب میں اضافہ ہوگا اور لوگ آپ کی طرف خود بہ خود متوجہ ہوں گے جن غیر شادی شدہ لڑکے اور لڑکیوں کے رشتے میں رکاوٹ اور مسائل کا سامنا ہے ان کے رشتے طے ہوسکتے ہیں لیکن اس معاملے میں احتیاط کی ضرورت ہوگی کیوں کہ ایسے تعلقات میں خاصی جلد بازی کا مظاہرہ دیکھنے میں آئے گا لہٰذا کوئی غلط تعلق بھی قائم ہوسکتا ہے۔
تعلقات کے حوالے سے آپ کا رجحان زیادہ تر اپنے سے کم عمر یا برابر کی عمر کے افراد سے زیادہ رہے گا ممکن ہے اس سال کوئی ثور‘جوزا‘سنبلہ اور میزان شخصیت خصوصیت سے آپ کی توجہ کا مرکز بن جائے یا پھر جن لوگوں کی تاریخ پیدائش یا نام کا عدد2‘5یا6ہوں آپ زیادہ کشش محسوس کریں گے، تعلقات کے حوالے سے اس سال کے اہم مہینے جنوری‘مارچ‘جون‘اکتوبر اور دسمبر ہیں۔
کام اورکرئر
جیسا کہ ہم نے ابتدا میں بتایا ہے کہ اس سال بہترین مواقع آپ کے منتظر ہیں اور آپ بھی صرف اپنی ذات کی بہتری اور مفادات کی طرف توجہ دیں گے خاص کر پیشہ ورانہ معاملات میں، ممکن ہے آپ کا رویہ خاصا خود غرضانہ ہوجائے جس کی وجہ سے کچھ لوگوں کو آپ سے شکایت بھی پیدا ہوسکتی ہے، بہرحال اس سال آپ کو ایسے مواقع مل سکتے ہیں جن سے فائدہ اٹھا کر آپ اپنے لیے بہتر مقام حاصل کر سکتے ہیں، لوگ آپ کی کامیابی کو دیکھ کر حیرت کا اظہار کریں گے۔گویا یہ سال آپ کے لیے اس اعتبار سے نہایت شان دار ہے کہ آپ خود کو دوسروں کی توجہ کا مرکز بنا سکیں اور انہیں متاثر کر سکیں۔
جمعہ اور بدھ کے دن کسی نئی مہم جوئی یعنی ملازمت کی تلاش یا ترقی کی کوشش کے لیے موافق ثابت ہوں گے،اس طرح مارچ‘مئی‘ستمبر اور دسمبر بھی موافق مہینے ہوں گے۔
آپ کی صحت
اچھی اور پرسکون نیند اس سال آپ کا سب سے بڑا مسئلہ ہوگا کیوں کہ مصروفیات کی نوعیت اور زیادہ غور و فکر کی وجہ سے آپ بے خوابی یا نیند میں خلل سے دوچار ہوسکتے ہیں، یہ بھی ممکن ہے کہ آپ جلد یا درست وقت پر نہ سو سکیں اور اس طرح ایک بھر پور نیند سے محروم رہیں جس کے نتیجے میں چڑچڑے پن اور کسی قسم کی الرجی وغیرہ کا شکار ہوجائیں لہٰذا بہتر ہوگا کہ بیک وقت دو تین سمتوں میں یا دو تین کاموں میں خود کا نہ الجھائیں بلکہ مرحلہ وار کسی ایک کام پر بھرپور توجہ دیتے ہوئے اسے مکمل کرنے کی کوشش کریں، اپنے اوقات کار اور خوراک و آرام کے اوقات میں توازن کا خیال رکھیں یقیناََ یہ سال آپ کو بہت متحرک اور تیز رو بنائے گا مگر آپ کو توازن کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا ہے اس بات کا بھی امکان ہے کہ آپ اگ کوئی نشہ آور چیز مثلاََ سگریٹ‘پان یا مسکن دوا استعمال کرتے ہیں تو اس کی مقدار بڑھ جائے گی لہٰذا احتیاط کی زیادہ ضرورت ہو گی۔
نمبر 6کے اثرات
اگر اس سال آپ کا کلیدی مقسومی عدد 6ہے تو سمجھ لیں کہ آپ کی نجی زندگی زیادہ اہمیت کی حامل ہوگی اور آپ کا واسطہ نئی تبدیلیوں اور کچھ اضافی ذمہ داریوں سے پڑے گا آپ کی زندگی میں دوستوں‘عزیزوں اور محبت کرنے والوں کے مسائل اہمیت اختیار کریں گے اور آپ ان کی مدد کرنا اپنا فرض سمجھیں گے۔
اس سال آپ ایسی چیزوں کو اپنائیں گے جن کی طرف آپ کی دلی رغبت ہوگی اور جو آپ کی نظروں کو اچھی لگیں گی۔ دوسرے معنوں میں ان چیزوں یا شخصیات کی طرف آپ کا جھکاؤ ہوگا جو آپ کے لیے روحانی اور جذباتی سکون کا باعث ہو۔محبت‘زمین و جائداد‘رہائش اور خاندان کے معاملات زیادہ آپ کی توجہ کا مرکز رہیں گے۔
اس سال چوں کہ گھریلو معاملات پر زیادہ توجہ رہے گی لہٰذا اس بات کا بھی امکان موجود ہے کہ آپ رہائش کی جگہ تبدیل کریں یا پھر موجودہ رہائش گا کو زیادہ آرام دہ اور پر آسائش بنانے پر توجہ دیں،اعلیٰ تعلیم یا کوئی غیر معمولی کورس بھی آپ شروع کر سکتے ہیں جس سے آپ کی حیثیت و عزت میں اضافہ ہو اور آپ کے ذہن کو وسعت ملے۔
یہ سال سماجی مصروفیات میں بھی اضافہ لائے گا۔ آپ تقریبات یا تفریحات میں زیادہ شرکت کریں گے یا پھر سماجی نوعیت کے کاموں میں دلچسپی لیں گے۔بہرحال اس قسم کی دلچسپیاں اور مصروفیات آگے چل کر آپ کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گی، اگر آپ کسی بھی مہینے کی 6‘15 اور 24 تاریخ کوپیدا ہوئے ہیں یا آپ کا برج ثور‘ سرطان یا میزان ہے تو یہ سال آپ کے لیے توقع سے بڑھ کر مثبت تبدیلیاں لے کر آئے گا۔
دوسروں سے تعلقات
عدد 6 کے زیر اثر سال آپ کے لیے محبت‘ دوستی‘ منگنی یا شادی کی خوشیاں لارہا ہے مگر اس سال کا تعلقات کے حولے سے ایک منفی پہلو بھی ہے، اگر آپ محبت‘ دوستی یا ازدواجی زندگی میں اپنے موجودہ تعلق سے مطمئن نہیں ہیں اور متنازع مسائل کا شکار ہیں تو پھر یہ سال علیحدگی یا طلاق کے خدشات ظاہر کررہا ہے لہذا بہتر ہوگا کہ باہمی اختلافات کودور کرنے اور تعلقات کو مزید بہتر بنیادوں پر استوار کرنے کی کوشش کریں، اگر آپ اپنی فیملی میں اضافے کے خواہاں ہیں یعنی مزید اولاد چاہتے ہیں تواس سال آپ کی یہ خواہش پوری ہوسکتی ہے۔
فروری‘مئی‘ ستمبر اورنومبراس سال کے اہم مہینے ثابت ہوسکتے ہیں جن میں آپ کو اپنی شخصیت کونمایاں کرنے اور تعلقات کووسعت دینے کے مواقع مل سکتے ہیں۔
کام اور کرئر
یہ سال ماضی کی کارکردگی کی بنیاد پر ترقی کے دروازے کھولے گا، ایسے کاموں کا صلہ ملے گا جو آپ نے گزشتہ سالوں میں انجام دیے تھے، ملازمت میں اگر آپ کی ترقی رکی ہوئی ہے تو اس سال آپ کو آگے بڑھنے کا موقع ملے گا، بہتر ہوگا کہ مایوسی اور نا امیدی کا شکار نہ ہوں جس طرح اب تک کام کرتے آئے ہیں اسی طرح اپنا کام جاری رکھیں اور اپنے فرائض کو پورا کرنے میں کسی کوتاہی کا مظاہرہ نہ کریں، یقیناً آپ کے اعلیٰ افسران یا باس یاساتھ کام کرنے والے دوسرے افراد آپ کی کارکردگی اور ذمہ دارانہ رویے کو محسوس کریں گے اورسراہیں گے، اس کے نتیجے میں آپ کو اپنی محبت کا پھل ضرور ملے گا۔
اس سال کسی بھی مہینے کے پیر‘ جمعرات اور جمعہ موافق ترین دن ہوں گے، نئی ملازمت کی تلاش یاانٹرویو، اہم لوگوں سے ملاقات کے لیے ان دنوں کا انتخاب کریں، اسی طرح فروری‘ اپریل‘ا گست‘ ستمبر اورنومبر کے مہینے نئے مواقع لائیں گے۔
آپ کی صحت
اس سال ناک‘ حلق اور گلے کے غدودوں سے متعلق تکالیف آپ کو پریشان کرسکتی ہیں۔ متوازن غذا‘ ورزش‘ دھوپ اور تازہ ہوا اس سال آپ کے لیے ضروری ہے، اس کے علاوہ آؤٹ اور تفریحات سے بھی آپ کی صحت پر اچھا اثر پڑے گا اور صاف پانی کا زیادہ استعمال بھی آپ کے لیے مفید رہے گا کیوں کہ گردے اور مثانے سے متعلق شکایات بھی پیدا ہوسکتی ہیں، مارچ‘ جولائی‘ ستمبر اور دسمبرمیں صحت کے معاملات پرزیادہ توجہ دیں۔
نمبر 7کے اثرات
یہ باطنی فروغ کا سال ہے اور اس کا بھی کہ آپ کو کیا ناگوار گزرتا ہے اور آپ کس بات سے خوش ہوتے ہیں، اس انفرادی سال میں خود آگاہی اور دریافت پر بھی زور ہے،گویا اس سال آپ کو اپنے اندر کی آوازوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ آپ کی حقیقی رہنمائی ممکن ہو۔
آپ کو اپنی ذاتی زندگی اور اپنی بہتری پر زور دینے کا پورا پورا موقع ملے گا ایسے بہت سے مواقع آئیں گے جب آپ اپنے پیچھے محرکات اور افعال کا تجزیہ کرسکیں گے اور اپنی ذاتی ضروریات‘اہداف اور خواہشات پر بھی زیادہ توجہ دے سکیں گے اور ایسے بھی بہت سے مواقع آئیں گے جب آپ الجھنوں اور شور وغل سے نجات حاصل کرنا چاہیں گے، تنہائی میں گزارا جانے والا وقت رائیگاں نہیں جائے گا، یہ آپ کو سوچنے اور غور کرنے کا موقع دے گا، آپ اب تک ٹھیک ٹھیک کہاں تک پہنچے ہیں اور مستقبل میں کیا جانا چاہتے ہیں، یہ بہت اہم ہے کہ آپ اس کے بارے میں اپنا ذہن بنالیں کہ آپ اس مخصوص سال سے کیا چاہتے ہیں کیوں کہ آپ ایک مرتبہ ایسا کرکے اپنے وہ عزائم پورے کرسکتے ہیں، اس میں ناکامی کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ اپنے ہی سائے کا تعاقب کرتے ہوئے انجام کو پہنچ گئے اور یہ وقت اور توانائی کا سراسرضیاع ہے، آپ پر اپنے راز بھی عیاں ہوں گے اور اس سال کے دوران دوسرے لوگ بھی نمودار ہو رہے ہوں گے، اگر آپ برج حوت یا سرطان کے تحت یا 7‘16یا 25تاریخ کو پیدا ہوئے ہیں تو یہ خاص طورپر ایک حیرت انگیز سال ہوگا۔
دوسروں سے تعلقات
یہ کہنا پڑتا ہے کہ محبت یاروحانی دلچسپی کے لیے یہ بہترین سال نہیں ہے،غوروفکر کرنے کی شدید ضرورت کا مطلب ہوگا کہ آپ کوتنہائی میں وقت گزارنا پڑے گا، اس سال اگرکوئی محبت پروان چڑھی بھی تو یہ آپ کی توقعات پرپوری نہیں اترے گی لیکن اگرآپ اچھنبے میں پڑے بغیر معاملات کوجوں کا توں قبول کرلیں گے تو آپ کودکھ نہیں ہوگا اورآپ لطف اندوز ہوں گے،فیصلہ کریں کہ آپ کے ذہن میں ٹھیک ٹھیک کیاہے اورپھر اس کے حصول کی کوشش کریں،اس سال رومانی دلچسپی کا امکان ان لوگوں کے لیے ہے جو4`2یا 7تاریخ کویا برج سرطان یاحوت کے تحت پیدا ہوئے ہوں۔ رومانی یا شادی کے مواقع کے لیے جنوری‘اپریل‘اگست اوراکتوبر کودھیان میں رکھیں۔
کام اورکرئر
جب ہم اس مخصوص انفرادی گردش سے گزرتے ہیں جونمبرسات کے زیراثر ہے توزندگی میں دوباتیں پیش آسکتی ہیں،شہرت سے کنارہ کشی اور عمومی سرگرمی میں کمی، لوگ یا توطویل رخصت پرچلے جاتے ہیں یا ازسرنو اپنی تربیت کرتے ہیں،اس کا بھی امکان ہے کہ آپ اپنی پیشہ ورانہ مہارت اوراہلیت سے زیادہ آگاہ ہوسکیں گے، اپنی زندگی کے صحیح مقصد کوسمجھنے لگیں گے اوراپنے آپ کوپہلے سے زیادہ باشعور اورروشن خیال تصور کرنے لگیں گے،اگرآپ ادھر کچھ عرصے سے بھٹکتے رہے تھے تووہ اہداف ایک بارپھر جی اٹھیں گے جنہیں آپ حاصل کرنے کے آرزو مند تھے۔
اس پورے سال میں آپ کا رویہ چھان بین کرنے والا ہوناچاہیے، آپ کواپنے کام کے معاملے میں چھان بین کرنی پڑے گی، اگرآپ گفت وشنید یا انٹرویو یا میٹنگ کا اہتمام کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے‘سومواریاجمعہ کا دن مقررکریں۔یہ دونوں دن آپ کے لیے مبارک ہیں۔جنوری‘مارچ‘جولائی‘اگست‘ اکتوبر اوردسمبر ذاتی ترقی کیلئے بالخصوص اچھے مہینے ہیں۔
صحت کے مسائل
گزشتہ سالوں کے مقابلے میں یہ ایک پرسکون سال ہوگا،صحت کے معمولی مسائل درپیش ہوں گے۔ بعض مسائل پریشانی اورچڑچڑے پن سے پیداہوں گے اوران کے بچنے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ خاموش اور پرسکون رہیں،اس پرسکون ذہنی کیفیت سے اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔اس میں ناکامی سے غیرضروری مسائل پیدا ہوں گے جس سے آپ کے تصورات قابو سے باہرہوجائیں گے۔ آپ کوغورو فکر کرنے اوراپنی صحت بحال کرنے کے لیے یہ سال مددگار ہے،اگرصحت میں کوئی تبدیلی واقع ہوئی تو فروری‘جون‘اگست اورنومبر میں ہوگی۔

نمبر8کے اثرات

یہ کامیابی حاصل کرنے‘اہم پیش رفت کرنے اور تبدیلیاں لانے کاسال ہے اوریہ ایک ایسا وقت بھی ہے جب آپ اختیارات حاصل کرسکتے ہیں اورآپ کی صلاحیتیوں کوبھی تسلیم کیاجائے گا۔
یہ انفرادی سال آپ کوسوچنے کا زیادہ موقع دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا وقت ہے کہ جب آپ شہرت‘مقبولیت اورطاقت حاصل کرسکتے ہیں اگر آپ 8‘17 یا 26 تاریخ کوپیدا ہوئے ہیں یا برج جدی کے تحت آتے ہیں تو اس سال پرتوجہ دیجیے اوراس امرکویقینی بنائیے کہ اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاسکیں۔ آپ کوچاہیے کہ اپنے اندر اوربھی شعور اوراعتماد کا سچا احساس پیدا کریں وقت کی گردش کے اس حصہ کا تعلق کرئر‘عزم اورپیسے سے ہے لیکن پچھلے قرض بھی چکانے پڑیں گے۔ مثال کے طورپر کوئی پرانی ذمہ داری یاقرض جسے ادا کرنے سے آپ پچھلے کئی برسوں سے گریز کرتے رہے ہیں،اب آپ کوپریشان کریں گے۔ بہرحال آپ ان بارہ مہینوں کے درمیان کچھ بھی کریں۔ عزم بلند رکھیں‘اعلیٰ سوچیں‘کامیابی کاسوچیں اورسب سے بڑھ کر یہ کہ مثبت سوچیں۔

دوسروں سے تعلقات

یہ وہ مخصوص انفرادی سال ہے جوپیدائش‘طلاق اورشادی جیسی حقیقتوں سے جڑا ہواہے جن سے ہمیں گزرنا پڑتاہے۔ محبت کی فہم رکھنے والے آپ سے زیادہ تجربہ کار‘عمرکے لوگ یا اثرورسوخ کے مالک یااختیاراورطاقت وراوردولت مندحضرات آپ کے لیے بہت پرکشش ہوں گے۔اس سال ماضی کے پرانے دوستوں‘ساتھیوں‘شریک کاروں‘رفیقوں سے رابطہ ہوگا۔ یہاں تک کہ پرانی محبتیں بھی ایک بارپھرنمودارہوں گی اس سال رومانس کے حوالے سے آپ کوزیادہ پریشانیاں نہیں اٹھانی پڑیں گی۔ خاص طورسے اگرآپ کوبرج جدی یامیزان والوں سے یاان لوگوں سے معاملات کرناپڑیں جو17`8اور26تاریخ کوپیدا ہوئے ہیں۔محبت پروان چڑھانے کے لیے مارچ‘جولائی‘ستمبراوردسمبربہترین مہینے ہیں۔

کام اورکرئر

نمبر8کے تحت سال پیسے کے معاملے میں سب سے اچھا سمجھاجاتاہے۔یہ تنخواہ میں اضافے یا پروموشن یااختیارات کے مطالبے کے لیے بھی بہت اچھا ہے۔یہ ترقی اورکامیابی کے زینے پرقدم رکھنے کا بھی سال ہے جوغالباً آپ کی پچھلی کوششوں کا نتیجہ ہے۔آپ کوصلہ ملے گا،مالی کامیابی کی بھی ضمانت دی جاسکتی ہے بشرط یہ کہ آپ اپنے ارادوں پرقائم رہیں،یہ ضروری ہے کہ آپ اپنے لیے اہم اہداف مقررکریں اورآہستہ آہستہ ان کی طرف بڑھیں،آپ یہ دیکھ کرحیران رہ جائیں گے کہ وہ منصوبے کتنی آسانی سے پورے ہورہے ہیں۔اگرآپ کام کی تلاش میں ہیں توانٹرویو یامیٹنگ وغیرہ کے لیے ترجیحاً سنیچر‘جمعہ یا جمعرات کا دن مقررکریں جوآپ کے لیے مبارک ترین دن ہیں۔فروری جون‘جولائی‘ستمبراورنومبربھی آپ کے لیے قدرے بہترہیں۔

صحت کے مسائل

آپ ڈپریشن اورتنہائی کے احساس کی طرف سے محتاط رہ کرصحت کے بہت سے مسائل خصوصاً سرکے درد‘قبض اورجگرکی شکایتوں سے بچ سکتے ہیں،اگرآپ ان مسائل سے دوچارہوں توضروری ہے کہ ان کی طرف سے دھیان ہٹانے کے لیے اپنے آپ کومصروف رکھیں۔سوچ سمجھ کرکھائیں اورزندگی کے بارے میں پرجوش اورمثبت نقطہ نظررکھیں،سب ٹھیک ہوجائے گا۔آپ کوجنوری‘مئی‘جولائی اوراکتوبر میں اپناخاص خیال رکھناپڑے گا۔

نمبر9کے اثرات

یہ کمرکسنے کا وقت ہے،آرزوؤں کے پورے ہونے کاامکان ہے۔ معاملات کا فوری نتیجہ برآمد ہوگا،زیادہ سفرکا بھی امکان ہے۔
9نمبر کے تحت سال شاید سب سے کامیاب سال ہے یہ معاملات کی تکمیل کی نمائندگی کرتاہے،چاہے ان کی نوعیت‘ کام‘کاروبار یا ذاتی معاملات کی ہو۔آپ میں عادتوں کو‘لوگوں کواورمنفی حالات یا صورت احوال کوجوآپ کوروکے ہوئے تھیں نظراندازکرنے کی اہلیت بہت پختہ ہے۔آپ کے کردارمیں ہمدردانہ اورانسانیت کا پہلو بھی ابھرتاہے اورآپ کسی صلے کی پرواکیے بغیر لوگوں کے کام آتے ہیں۔ آپ جوبھی نیک کام کرتے ہیں اس سے آپ کواطمینان قلب اورشاید مالی فائدہ بھی حاصل ہوگا۔اگرآپ برج حمل یا عقرب کے تحت یا مہینے کی18`9یا27تاریخ کوپیداہوئے تویہ آپ کے لیے بہت اہم سال ہوگا۔

دوسروں سے تعلقات

9نمبرکے تحت سال ایک ایسا چکر ہے جوکشش اور اس کے ساتھ ہی اثرپذیری عطا کرتاہے لہٰذا اس کے سبب آپ صنف مخالف کے کسی ایسے فرد سے جذباتی طور پر وابستہ ہوں گے جوآپ کی برادری یالسانی گروپ سے تعلق نہیں رکھتا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس مخصوص عدد کا تعلق انسانیت سے ہے اورسوبات کی ایک بات یہ ہے کہ عشق نہ پوچھے ذات۔آپ پریہ بھی عیاں ہوگاکہ حمل‘ اسد اورعقرب والوں کا اوراس کے ساتھ ساتھ 1`3`9 تاریخ کوپیدا ہونے والوں کا آپ کے گھریلو معاملات میں عمل داخل رہے گا۔تعلقات کے لیiے فروری‘جون‘اگست اورنومبر اہم مہینے ہیں۔ یہ رومانی نقطہ نظر سے بہت مصروف اورمعنی خیز ہوں گے اوران اوقات میں آپ ہوش وحواس سے بے گانہ ہوجائیں گے یعنی رومانس کا جادو سرچڑھ کر بولے۔

کام اورکرئر

یہ وہ سال ہے کہ جب آپ کے بہت سے خواب اورارادے پایہ تکمیل کوپہنچیں گے۔ مزید یہ کہ اگرآپ مارکیٹنگ سے وابستہ ہیں تو یہ کامیابی کا وقت ہے جس میں آپ اپنی صلاحیتوں‘مہارتوں اوراہلیت کوبہت وسعت دے سکتے ہیں۔ مثال کے طورپر آپ بیرون ملک کاروبار کووسعت دینے کے بارے میں سوچتے رہے ہیں اور اگر ایساہے تواچھی بات ہے۔ آپ یہ دیکھیں گے کہ اپنے رفیق اورشریک کاروں سے آپ کی ہم آہنگی پہلے سے زیادہ اورآسان ہے اوریہ آپ کے خوابوں اورعزائم کی تکمیل میں معاون ہوگی۔ انٹرویو یامیٹنگ وغیرہ کے لیے منگل اورجمعرات بہت مبارک دن ہوں گے۔کوئی بھی کام شروع کریں تو ان 2دنوں کومدنظررکھیں، جنوری‘ مئی‘ جون‘اگست اوراکتوبر کے دوران ملازمت یا کاروبار میں تبدیلیاں واقع ہوسکتی ہیں۔

صحت کے مسائل

آپ کے ساتھ اس سال واحد جسمانی مسئلہ کسی حادثے کے نتیجے میں پیش آسکتا ہے۔لہٰذا احتیاط برتیں،, لوگوں سے خواہ مخواہ الجھنے اورذہنی تناؤکا شکار ہونے سے بچیں۔جب سڑک پرہوں تو اپنا خاص خیال رکھیں۔ آپ خود اپنے بدترین دشمن کا کردارادا کرکے ہی اپنے لیے مسائل کھڑے کرسکتے ہیں کچن اورباتھ روم میں ہوں تواپنا خاص خیال رکھیں۔ ان جگہوں پرتیز دھار آلوں سے آپ زخمی ہوسکتے ہیں لہٰذا احتیاط برتیں۔