ہفتہ، 9 نومبر، 2019

بارہ بروج کے درمیان باہمی تعلقات اور ہم آہنگی کے بنیادی اصول

اپنے شمسی برج کے مطابق تعلقات کاجائزہ لینے والوں کے لیے رہنما تحریر


ہم نے پہلے بھی نشان دہی کی تھی کہ دو افراد کے درمیان تعلقات اور ہم آہنگی کا جائزہ لینے کے لیے شمسی بروج کی موافقت یا ناموافقت کو دیکھ کر کوئی حتمی فیصلہ کرنا زیادہ قابل بھروسا طریقہ نہیں ہے جب کہ عام لوگ اسی پر زیادہ انحصار کرنے لگے ہیں جو ایک غلط روش ہے، اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ ہمارا برج حمل ہے تو کون سے برج کے ساتھ ہمارے تعلقات یا شادی بہتر رہے گی؟یاد رہے کہ آپ کا شمسی برج صرف آپ کی ظاہری شخصیت کا اظہار کرتا ہے،اس کی بنیاد پر دو افراد کے باہمی تعلقات سے متعلق کوئی ٹھوس فیصلہ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
یونانی علم نجوم میں بے شک شمسی برج کو ایک ممتاز مقام حاصل ہے اور مغرب نے اس حوالے سے بہت تحقیقی کام کیا ہے ، شمسی بروج کی خصوصیات اور اثرات پر لاکھوں کتابیں تحریر کی جاچکی ہیں اور ماہرین نجوم نے اس میدان میں بڑے کار ہائے نمایاں انجام دیے ہیں ، ہمیں اُن کارناموں سے انکار نہیں ہے لیکن ہمارے ملک پاکستان میں شمسی برج کی بنیاد پر جو کچھ ہورہا ہے ، وہ نہ صرف گمراہ کن ہے بلکہ اس علم کی بدنامی کا باعث بھی ہے مثلاً اکثر لوگ اس طرح بھی سوال کرتے ہیں کہ جناب ! میں جدی ہوں یا عقرب ہوں تو ذرا میرے بارے میں بتائیں کہ میرے حالات کیسے چل رہے ہیں ؟ یہ ایک انتہائی احمقانہ سوال ہے،خیال رہے کہ سن سائن جدی یا عقرب سے متعلق دنیا میں کروڑوں افراد زندگی گزار رہے ہیں تو کیا سب کے حالات ایک جیسے ہوسکتے ہیں؟ جواب ہوگا، نہیں ، حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اسی بنیاد پر لوگ ایسٹرولوجی کی پریکٹس کر رہے ہیں اور خلق خدا کو گمراہ کر رہے ہیں۔
ہم پہلے تذکرہ کرچکے ہیںکہ دو افراد کے درمیان ازدواجی تعلقات یا کاروباری پارٹنر شپ کو جانچنے اور پرکھنے کے لیے بھی دونوں کے شمسی بروج کو دیکھا جاتا ہے لیکن یہ طریقہ 100 فیصد دُرست نتائج نہیں دیتا ، یونانی علم نجوم یا ویسٹرن ایسٹرولوجی سسٹم بھی 100 فیصد اس پر انحصار کی اجازت نہیں دیتا البتہ تقریباً 25 فیصد ہم آہنگی اور ہم مزاجی دو موافق بروج کے درمیان دیکھی جاسکتی ہے ، اس کے بنیادی اصول یہ ہیں ۔

بارہ بروج کی بنیادی خصوصیات

دائرئہ بروج کے 12 برجوں کو اُن کی ماہیت اور عنصر کے مطابق تقسیم کیا گیا ہے ، 4 برج منقلب (Cardnial) یعنی تبدیل ہونے والے ہیں (حمل ، سرطان ، میزان اور جدی) اور چار ثابت یا منجمد (Fixed) ہیں اور استحکام اور ٹھہراو ¿ کی علامت ہےں (ثور ، اسد ، عقرب اور دلو) اور چار ذوجسدین (Moveable) یعنی دہری خصوصیات کے حامل ہیں (جوزا ، سنبلہ ، قوس اور حوت)ان میں تبدیلی کا رجحان بھی ہوتا ہے اور ٹھہراو ¿ بھی ۔
عنصری تقسیم کے مطابق آگ ، مٹی ، ہوا اور پانی کو مد نظر رکھا گیا ہے لہٰذا تین برج حمل ، اسد اور قوس آتشی ہیں جو پُرجوش ، سرگرم اور جذبات کے بھرپور اظہار کا مظاہرہ کرتے ہیں ، تین برج ثور ، سنبلہ اور جدی خاکی ہیں جو زمینی حقائق کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں ، سرد مزاجی اور پریکٹیکل سوچ رکھتے ہیں ، کھل کر جذبات کا اظہار نہیں کرتے ، زندگی میں نفع و نقصان کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں ، تین برج جوزا ، میزان اور دلو بادی یعنی ہوائی ہےں ، یہ آئیڈیالوجی پر زور دیتے ہیں ، عملیت کی کمی اور تخیّلاتی پرواز ان کا طرئہ امتیاز ہے ، انہیں تھنکنگ کا بادشاہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا ، ان کے احساسات بھی ان کی سوچ سے جُڑے رہتے ہیں ، آخری تین آبی بروج سرطان ، عقرب اور حوت ہیں ، ان کا طرہ ¿ امتیاز احساس (Filings)ہے ، یہ ہر بات کا نہایت گہرا احساس دل ودماغ کی گہرائیوں تک رکھتے ہیں ، بے حد جذباتی ردعمل ان میں پایا جاتا ہے ، ان کے احساسات ہر چیز پر غالب رہتے ہیں ، ان کی عقل و دانش پر بھی ۔

بروج کے باہمی تعلقات

اب دو افراد کے درمیان تعلقات کو جانچنے اور پرکھنے کے لیے پہلا اصول یہ ہے کہ ایک ہی عنصر اور ایک ہی ماہیت سے تعلق رکھنے والے باہم ایک دوسرے کو پسند بھی کرتے ہیں ، ان کی طرف کھنچتے بھی ہیں اور انہیں باہمی طور پر ایک دوسرے کے جذبات کو سمجھنے میں بھی آسانی ہوتی ہے ، مثلاً حمل ، اسد اور قوس ایک دوسرے کے اچھے پارٹنر ہوسکتے ہیں یا دیگر عناصر سے متعلق بروج کے بارے میں بھی یہ بات کہی جاتی ہے لیکن جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیا کہ اس کے 100 فیصد نتائج نہیں ملتے ‘ خصوصاً لائف پارٹنر شپ میں‘کیونکہ باہمی کشش اور پسندیدگی محبت کے جذبات تو پیداکرسکتی ہے لیکن زندگی کے کٹھن اور اونچے نیچے راستوں پر سفر کرتے ہوئے جومسائل ومشکلات دوافراد کو درپیش ہوتی ہیں‘ انہیں باہمی اتفاق رائے سے برداشت کرنا اور اور ایک دوسرے کا ساتھ دینا کبھی کبھی بہت مشکل ہوجاتاہے ۔
اس حوالے سے گویا پہلا اصول عناصر کے درمیان باہمی موافقت اور ناموافقت کا ہے اوردوسرا ماہیت کی باہمی ہم آہنگی کا یعنی آگ اور آگ باہم مل کر زیادہ تقویت پاتے ہیں اور ایک دوسرے سے زیادہ مانوس ہوتے ہیں ، اسی طرح آگ اور ہوا بھی ایک دوسرے کے مددگار ہوتے ہیں یعنی ہوا آگ کو جلنے میں مدد فراہم کرتی ہے اور آگ ہوا کو حرارت پہنچاکر متحرک کرتی ہے ، آگ اور مٹی میں بھی ایک قدرِ مشترک موجود ہے لیکن یہ دو طرفہ موافقت نہیں رکھتی، آگ مٹی کو کوئی نیا رنگ و روپ دے سکتی ہے جب کہ مٹی آگ کی شدت میں کمی کا باعث ہوتی ہے لیکن آگ اور پانی میں کوئی موافقت نہیں ہے ، یہ دونوں ایک دوسرے کے دشمن ہیں ، آگ پانی کو بھاپ بناکر اڑادیتی ہے جب کہ پانی کا غلبہ آگ کے وجود کو مٹادیتا ہے ۔
مٹی اور پانی بھی باہم موافق عنصر ہےں کیوں کہ پانی مٹی کو زرخیزی دیتا ہے اور مٹی پانی کے لیے ایک عمدہ گزرگاہ ہے البتہ مٹی اور ہوا میں دشمنی ہے ، دونوں ایک دوسرے کے لیے نہایت مضر ہیں ، مٹی ہوا کو کثیف اور آلودہ کردیتی ہے جب کہ ہوا مٹی کو منتشر کرتی ہے ، ہوا اور پانی میں کوئی موافقت یا ناموافقت نہیں ہے ، ہوا پانی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی اور پانی بھی ہوا کو کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتا لیکن دونوں ایک دوسرے کو کوئی فائدہ بھی نہیں پہنچاسکتے ۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو برج حمل آتشی ہے اور اصول کے مطابق دو حمل افراد کے باہمی تعلقات عمدہ ہونے چاہئیں ، بے شک دونوں ایک دوسرے میں کشش محسوس کرتے ہیں اور دونوں کی پارٹنر شپ ازدواجی ہو یا کاروباری طوفانی ہوتی ہے ، برج حمل کو ” ایکشن “ کا برج کہا جاتا ہے ، یہ لوگ کسی نمبر 2 پوزیشن کو قبول نہیں کرتے ، ” میں “ (I am) ، ان لوگوں کا تکیہ کلام ہوتا ہے ، گویا وہ ایک "Boss" ہیں ، اب دو باس اکٹھا کیسے رہیں گے ؟ دونوں کا حاکم سیارہ جنگ جو مریخ ہے ، دونوں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوششوں میں مصروف ہوجائیں گے ، بے شک ایک دوسرے کو پسند کریں گے ، ایک دوسرے کے لےے جان نچھاور کریں گے ، دونوں کی اپنے اپنے فرائض کی ادائیگی میں کارکردگی نہایت شان دار ہوگی مگر جب دونوں کے درمیان کسی معاملے میں کشمکش شروع ہوگی تو دونوں کے درمیان جنگ بھی قابل دید ہوگی ، واضح رہے کہ حمل لڑکیاں عام طورپر شوہر سے یا سسرال میں کسی سے مرعوب نہیں ہوتیں ، شوہر کے مقابلے پر کھڑی ہوسکتی ہیں ، اگر شوہر نے ہاتھ چلایا تو جواباً کچھ نہ کچھ ردعمل دوسری طرف سے بھی آئے گا ۔
اس صورت حال میں دونوں کے سروں پر علیحدگی اور طلاق کی تلوار ہمیشہ لٹکتی رہے گی ، عام طورپر ماہرین نجوم اس بات پر متفق ہیں کہ ایک ہی برج سے تعلق رکھنے والے دو افراد کی ازدواجی یا کاروباری پارٹنر شپ معیاری اور اعلیٰ درجے کی نہیں ہوسکتی ، اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک جیسی خصوصیات ، خوبیوں اور خامیوں کے حامل افراد کچھ عرصے بعد ایک دوسرے سے بور ہونے لگتے ہیں ، اکتاہٹ کا شکار ہوکر تفریح اور دلچسپی کے نئے ذرائع ڈھونڈنا شروع کردیتے ہیں ، یہ صورت حال تقریباً ہر برج کے ساتھ ہے ۔
دو ثور افراد کا ساتھ ایسا ہی ہے جیسے ایک کمرے میں پتھر کے دو ستون کھڑے ہوں ، بے شک ایک دوسرے سے گہرے وابستگی ، خلوص اور محبت ، ایک دوسرے کا عزت و احترام ، خدمت کا جذبہ ، سب کچھ ٹھیک ہے مگر دونوں ضدی اوراڑیل بیل ہیں ، دونوں میں سے کوئی کبھی پہل نہیں کرے گا بلکہ انتظار کرے گا کہ دوسرا کوئی پیش رفت کرے تو وہ بھی ردعمل ظاہر کرے ، اکثر تو ان کی بیڈ پارٹنر شپ کا بھی یہی حال ہوتا ہے ، کسی مسئلے میں اکڑ گئے تو اس وقت تک اکڑے رہیں گے جب تک دونوں میں سے کسی ایک کو دوسرے کی مدد کی شدید ضرورت نہ پیش آجائے ، دونوں گھر گھسنے ، عمدہ کھانوں کے شوقین اورآرام طلب ۔
دو جوزا افراد عجیب ہی رنگ دکھاتے ہیں ، ان کی مثال دو ایسے پرندوں کی سی ہے جو ابھی آپ کی نظر کے سامنے کسی شاخ پر بیٹھے چہچہا رہے ہوں، چُہلےں کررہے ہوں اور آپ کی پلک جھپکنے کے بعد اچانک ایک غائب ہوجائے اور پھر دوسرا بھی کسی اورسمت نکل جائے لیکن تھوڑی دیر کے بعد پھر دونوں ایک ہی جگہ بیٹھے چُہلیں کررہے ہوں گے ۔
دونوں اپنے ذاتی معاملات میں بے پروا اور غیر ذمہ دار ، مستقبل کی فکر سے آزاد ، صرف حاضر دلچسپیوں سے لطف اندوز ہونے والے ، بلا کے حاضر جواب اور بہانے باز ، کوئی نہیں کہہ سکتا کہ دونوں کب تک ساتھ رہیں گے اور کب ایک دوسرے کو چھوڑ دیں گے ۔
دو سرطان (Cancer) افراد کا تعلق بڑا مضبوط ہوتا ہے ، دونوں اپنے گھر خاندان اور بچوں سے بے حد محبت کرتے ہیں ، اپنے فیملی کی ترقی اور آرام کے لےے مسلسل کوششوں میں مصروف رہتے ہیں ، اگرچہ سرطان ایک منقلب برج ہے اور یہ لوگ تبدیلی چاہتے ہیں لیکن تبدیلی لانے سے ڈرتے ہیں ، ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ اگر موجودہ صورت حال سے بھی زیادہ خراب حال تبدیلی کے بعد ہوا تو کیا ہوگا ؟ سرطانی افراد لاشعوری طورپر مستقبل کے کسی نہ کسی خوف میں مبتلا رہتے ہیں ، لہٰذا تمام تر پریشانیوں ، تکلیفوں اور دکھ درد کے باوجود جن کا رونا دھونا بھی جاری رہتا ہے ، وہ اپنے معاملات میں تبدیلی کے لےے آسانی سے تیار نہیں ہوتے ۔
دو سرطان میاں بیوی آپ کو کبھی ایک دوسرے سے خوش اور مطمئن نظر نہیں آئیں گے ، دونوں کو ایک دوسرے سے کوئی نہ کوئی شکایت ضرور ہوگی ، دونوں کو اس بات کا یقین نہیں ہوگا کہ ان کا لائف پارٹنر ان سے سچی محبت کرتا ہے ، بلکہ ایک سرطان بیوی کو روزانہ اس بات کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ شوہر اسے اپنی محبت کا یقین دلائے ، یہی حال شوہر کا ہوتا ہے ، دونوں اپنے لائف پارٹنر کے روپ میں اپنی ماں کو تلاش کر رہے ہوتے ہیں ، یعنی وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کا اس طرح خیال رکھا جائے جیسے ماں خیال رکھتی ہے ، مثلاً شوہر یہ توقع کرے گا کہ اسے بیوی سے کھانا نہ مانگنا پڑے ، وہ اس کے کہنے سے پہلے ہر وہ کام کردے جواس کی ضرورت ہے اور یہی حال بیوی کا ہوگا ، اس حوالے سے دونوں میں اکثر نوک جھونک چلتی رہتی ہے ، لیکن بہر حال یہ جوڑی علیحدگی کے بارے میں نہیں سوچتی۔
دو اسد افراد کی جوڑی بڑی شان دار نظر آتی ہے ، دونوں باوقار ، محتاط اور کوئی کم تر درجے کا کام یا گھٹیا حرکت یا بات کرنا پسند نہیں کرتے ، دونوں کی انا کے مینار آسمان کو چھو رہے ہوتے ہیں ، ایک دوسرے کا طنز برداشت کرنا بھی مشکل ہوتا ہے ، دونوں تنقید کو ناپسند کرتے ہیں اور تعریف سے خوش ہوتے ہیں ، ان کے چالاک ملازمین خوشامدیں کرکے اپنا الو سیدھا کرتے رہتے ہیں اور یہ ان پر آنکھیں بند کرکے بھروسہ بھی کرلیتے ہیں۔
دونوں کے درمیان جدائی اسی صورت میں ہوسکتی ہے جب وہ توہین محسوس کریں ، کوئی ایک پارٹنر دوسرے کی عزت نفس کو مجروح کرنے کا شغل اختیار کرلے یا اسٹیٹس کے مسائل پیدا ہوجائیں ، ایک اسد لڑکی کم تر درجے کے گھر ، ماحول یا تنگ دستی میں گزارا نہیں کرسکتی ، دونوں رومان پسند ہیں ، ڈرامے کے شوقین ہیں ، اپنے انداز و اطوار میں ڈرامائی سچوئیشن کو پسند کرتے ہیں ، مثلاً دونوں کو ایک دوسرے کی سالگرہ کی تاریخ یاد رکھنی چاہئے اور برتھ ڈے پر کوئی گفٹ بھی ضروری ہوگا ، اگر دونوں میں بھی کوئی انتہا درجے کے گھٹیا پن کا مظاہرہ نہ کرے تو یہ جوڑی کامیاب رہتی ہے ۔
دو سنبلہ افراد کی جوڑی اگرچہ کامیاب ثابت ہوگی لیکن دونوں عدم اطمینان کا شکار اور ایک نہایت خشک و بے مزہ زندگی گزاریں گے ، دونوں نفاست پسند ہیں ، اپنے اپنے کاموں میں پرفیکٹ ، نکتہ چیں ، نکتہ طراز ، کام ، کام اور صرف کام کی دھن میں مگن ، غیر سوشل ، صرف نفع و نقصان کی بنیاد پر زندگی کو بھی ایک کاروبار بنا کر رکھ دیتے ہیں ، دونوں کے درمیان گفتگو کے موضوعات بھی نفع و نقصان اور کام یا ضروریات زندگی سے متعلق ہوں گے ، بعض سنبلہ افراد تو دفتر کا کام بھی گھر اٹھا لاتے ہیں اور چھٹی کے دن کو بھی ضائع کرنا پسند نہیں کرتے ، یہی حال سنبلہ خواتین کا ہوتا ہے کہ وہ بہت سے کام چھٹی کے دن پر اٹھا کے رکھ دیتی ہیں اور وہ سارے کام چھٹی کے دن کررہی ہوتی ہیں جو عام دنوں میں نہیں کرپاتیں ، ان کے گھر میں اگر غلطی سے کوئی حمل یا جوزا بچہ پیدا ہوجائے تو وہ انہیں تگنی کا ناچ نچاکے رکھ دیتا ہے ۔
دو میزان افراد ایک بڑی مشکل جوڑی ہے ، دونوں رومان پسند ، حق و انصاف کے متوالے ، امن و سکون سے رہنے والے ، ایک اچھی زندگی گزار سکتے ہیں ، لیکن دونوں ہمیشہ ایک دوسرے کے بارے میں ترازو لے کر بیٹھے رہتے ہیں اور یہ ناپ تول کرتے رہتے ہیں کہ دونوں کو ایک دوسرے سے کیا مل رہا ہے اور کیا نہیں مل رہا ، اکثر ان کی سوچ غیر جذباتی ہوتی ہے ، شوہر بیوی کو اور بیوی شوہر کو ہر وقت انصاف کے ترازو پر لٹکائے رہتی ہے ، لہٰذا دونوں کے پاس شکوے شکایات کا کافی بڑا ذخیرہ اکٹھا ہوجاتا ہے ، دونوں کی ایک جیسی خصوصیات دونوں تبدیلی پسندوں کو بور اور بے زار کردیتی ہے ، نوبت یہاں تک آجاتی ہے کہ ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے بھی روادار نہیں ہوتے لیکن اپنی فطری امن پسندی اور مصلحت اور مصالحت پسندی کے سبب کسی بڑے فساد کے ڈر سے کوئی احتجاج بھی نہیں کرتے اور بدستور پرانی تنخواہ پر کام جاری رکھتے ہیں ، دونوں کے ساتھ سب سے بڑا اور تکلیف دہ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ بے پناہ مصلحت پسندی کی وجہ سے صاف گوئی سے بچتے ہیں ، دوٹوک انداز میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے ، اس وجہ سے اکثر ان کی اولادیں آﺅٹ آف کنٹرول ہوجاتی ہیں اور اکثر تو بیوی یا شوہر کے آﺅٹ آف کنٹرول ہونے کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے ۔

برج عقرب

دوعقربی افراد کاباہمی اشتراک نہایت مشکوک ہوسکتاہے‘عام طور سے اس پارٹنر شپ سے گریز ہی کرنا بہتر ہے‘کیونکہ بنیادی طور پر عقرب ایک نہایت حساس اورشدت پسند برج ہے ‘یہ لوگ محبت یا نفرت دونوں صورتوں میں انتہا پسندانہ سوچ اور نظریات کے مالک ہوتے ہیں ‘اگر دو عقربی افراد کے درمیان محبت ہوگی تووہ بھی انتہا درجے کی ہوگی اورنفرت کا بھی یہی حال ہوگا ‘ اگر دونوں کے درمیان محاذ آرائی شروع ہوجائے تو ممکن ہے کہ کسی ایک کی موت پر ختم ہو‘شاید اسی لیے دونوں کی یکجائی کو مناسب نہیں سمجھاجاتا۔
ازدواجی تعلقات میں دونوں مضبوط کردار اور بھرپور جذبات کااظہارکرتے ہیں ‘ایک دوسرے کے لیے جان نثاری کاجذبہ رکھتے ہیں‘لیکن بے وفائی برداشت نہیں کرسکتے‘دونوں ہمیشہ ایک دوسرے کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں ‘ایک دوسرے پر گہری نظررکھتے ہیںاورکبھی کبھی تو ان کا شک اورحسد اس سطح پر پہنچ جاتاہے کہ اس کا ازالہ ممکن نہیں رہتا‘ دونوں ایک دوسرے کو کسی معاملے میں بھی آزادی اور خودمختاری دینے کے قائل نہیں ہوتے‘دونوں کی محبت کا انداز کبھی کبھی ایسی خطرناک صورت بھی اختیار کرلیتاہے کہ جس کی نشان دہی مشہور شاعر عبید اللہ علیم کے اس شعر سے ہوتی ہے۔
عزیز اتنا ہی رکھوکہ جی سنبھل جائے
اب اس قدر بھی نہ چاہوکہ دم نکل جائے

برج قوس

برج قوس بڑا سیلانی اورمہم جوہے دوقوس افراد ایک عمدہ پارٹنر شپ بناسکتے ہیں کیونکہ دونوں ایک دوسرے کے کاموں میں زیادہ مداخلت نہیں کرتے ‘ دونوں سچائی پسند ایک دوسرے کی آزادی کے حق کوتسلیم کرنے والے اورکسی حد اپنی مخصوص فلسفیانہ سوچ کے مالک ہوتے ہیں ‘دونوں اپنے اپنے نظریات میں سخت اورکٹّر ہوتے ہیں ان دونوں کی پارٹنر شپ کو صرف اس صورت میں خطرات ہوسکتے ہیں جب دونوں کے درمیان کوئی نظریاتی تصادم شروع ہوجائے بصورت دیگر دونوں اپنی اپنی حدود میں رہتے ہوئے ‘ اپنی مرضی کی زندگی گزارتے رہتے ہیں ‘دونوں گھومنے پھرنے اور سیر سپاٹا کرنے کے شوقین ‘من موجی ہوتے ہیں ‘دونوں کی محبت کاانداز بھی زیادہ شدت پسندانہ نہیں ہوتا‘ کسی مراحلے پر اگر دونوں کی پسند اورضروریات میں تبدیلی آجائے تونہایت شریفانہ طور پر اپنے راستے الگ کرسکتے ہیں‘قوسی افراد اس اعتبار سے بہت عجیب ہوتے ہیں کہ محبت کے معاملے میں وہ خود کبھی یہ نہیں جان پاتے کہ آخر وہ چاہتے کیا ہیں؟شاید ان کا سب سے بڑا مسئلہ سچائی اورآزادی ہے جب کسی قوسی کو سچائی کے معاملے میں شکایت پید ا ہوجائے تو وہ بے چین ہوجاتاہے اسی طرح جب اسے یہ احساس ہونے لگے کہ وہ کسی ایک ہی جگہ قید ہوکر رہ گیاہے تو وہ بھی بہت پریشان ہوتاہے اور زنجیریں توڑے کی کوششیں شروع کردیتاہے۔

برج جدی

یہ ایک مزاحمتی برج ہے اس کاحاکم سیارہ زحل چونکہ روک تھام اور احتیاط پسندی کامشورہ دیتاہے لہٰذا جدی افراد بھی اپنی زندگی اور اپنے اردگرد کے ماحول میں ایک مزاحمتی کردار اداکرتے ہیں‘لیکن حقیقت یہ ہے کہ تمام بروج میں برج جدی سے زیادہ آمرانہ سوچ اور طرز عمل کسی دوسرے کا نہیں ہے لیکن یہ لوگ اپنی سوچ اور طر زعمل کااظہار اپنے عملی اقدام سے کرتے ہیں ‘ ان کی کارکردگی زبردست ہوتی ہے یہ اپنے کام سے دوسروں کو اپنا محکوم بناتے ہیں ۔
دوجدی افراد کی پارٹنر شپ بہت کم اچھے نتائج دیتی ہے کیونہ دونوں اپنے کام اوراپنی سوچ کے ساتھ ایک دوسرے کو زیرکرنے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیںگھر یا آفس میں وہ اپنی مطلق العنانی کے لیے کوشش کرتے رہتے ہیں چونکہ یہ ایک خاکی برج ہے لہذا زمینی حقائق اوردنیاوی ضروریات ان کے پیش نظررہتی ہیں ان کی محبت میں بھی عمل نمایاں ہوتا ہے زبان اورجذبات سے محبت کااظہار نہیں کرتے ‘ اپنی شخصیت اورپوزیشن کو نمایاں رکھنا چاہتے ہیں‘دوجدی افراد عورت اور مرد شادی کے بندھن میں بندھنے کے بعد ایک نہایت خشک اور بور قسم کے لائف پارٹنرثابت ہوتے ہیں لیکن اگر انہیں تمام مادی سہولیات حاصل رہےں اور زندگی کی لازمی ضروریات آسانی سے پوری ہوتی رہیں تودونوں خوش وخرم انداز میں زندگی گزار سکتے ہیں‘بصورت دیگر پارٹنر بدلنے پرغور کرسکتے ہیں۔

برج دلو


”انوکھا لاڈلہ کھیلن کو مانگے چاند“
ایک مشہور گیت کا یہ مکھڑا برج دلو والوں پر سوفصید صادق آتاہے‘ بارہ برجوں میں شاید یہ سب سے انوکھا اور نرالہ برج ہے‘ یہ لوگ جدت پسند اور روایات سے بغاوت کرنے والے ہوتے ہیں ‘ بنیادی طور پر سچائی پنسد ‘ آزادی کے متوالے لیکن مصلحتاً یا ضرورت کے مطابق جھوٹ بولنے میں کوئی مضائقہ بھی نہیں سمجھتے ‘ ہر انوکھی اور عجیب چیز انہیں اپنی طرف متوجہ کرتی ہے اس لیے اگردودلو افراد ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے توحیرت نہیں ہونی چاہئے اورخاص طورپراس وقت جب ان کی پارٹنر شپ بظاہر بے جوڑ نظر آرہی ہو مثلاً دونوں کی عمروںمیں نمایاں فرق ہو یا ایک شادی شدہ ‘طلاق شدہ اور دوسرا کنوارہ ہو ‘مختصر یہ کہ دیکھنے والوں کو دونوں کی جوڑی کسی اعتبار سے بھی عجیب وغریب لگے مگر یہ مطمئین ہوں گے اورخوش ہوں گے ‘برج دلو والے کسی ایسی صورت حال میں بھی خوش رہ سکتے ہیں جو سخت تکلیف دہ اور ناپسندیدہ ہو ۔
یہ لوگ غیر روایتی ہونے کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ آزادی پسند بھی ہوتے ہیں اور عام طور پر اس وقت راہ فرار اختیار کرنے کے بارے میں سوچتے ہیں جب انہیں یہ احساس ہو کہ ان کی شخصی آزادی کوخطرہ پیدا ہوگیاہے پھر ایک دلو کوروکنا ناممکن ہوجائے گا ‘دلو افراد کی پارٹنر شپ کے حوالے سے ہم پھر عبیداللہ علیم کے ایک شعر سے مثال پیش کریں گے۔
ہوا کے دوش پہ رکھے ہوئے چراغ ہیں ہم
جو بجھ گئے توہوا سے شکایتیں کیسی

برج حوت

مشہور ہے کہ حوت بچہ اپنی پیدائش کے وقت ہی سو برس کاہوتاہے گویا پیدائش کے فوراً بعد ہی اسے واپس جانے کی فکر لاحق ہوجاتی ہے ۔
دائرہ بروج کا یہ آخری برج کتنا عجیب اورحیرت انگیز ہے اس کااندازہ لگانا بڑا مشکل کام ہے‘ ہماری ذاتی تحقیق ومشاہدہ اگر ضابطہءتحریر میں آئے تو شاید صرف ایک برج پر کئی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں اورماضی میں ہم نے اس پر بہت تفصیل سے لکھا بھی ہے۔
محبت اور محبت اور محبت‘یہی اس برج کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور یہ مسئلہ کبھی ختم نہیں ہوتا‘خواہ حوت افراد کتنی ہی محبتیں اورکتنی ہی شادیاں کیوں نہ کرلیں ۔
ہماری ایک واقف خاتون جن کی عمرتقریباً40سال تھی ‘وہ کئی بچوں کی ماں اورشادی شدہ تھیں‘ خود دوشادیا ں کرچکی تھیں اور ایک کالج میں پرنسپل تھیں ‘ ایک بار انہوں نے بتایا کہ ان کے کالج کے ڈائریکٹرز میں سے ایک صاحب ان سے محبت کرنے لگے ہیں جبکہ وہ خود تقریباً 60سال کے ہیں اور بیوی بچوں والے ہیں توہم نے ان سے بے ساختہ پوچھا کہ وہ حوت تونہیں ہیں؟
وہ بہت حیران ہوئیں اور پوچھنے لگیں کہ آپ کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی ؟
حوت افراد کا سب سے بڑا مسئلہ محبت ہے اور ایسی محبت جس کے بارے میں وہ خود بھی نہیں جانتے کہ وہ کیسی ہونی چاہیے لہذٰاایک محبت یا شادی کے بعد وہ مایوسی کاشکار ہوجاتے ہیں اورسمجھتے ہیں کہ شاید انہوں نے کوئی غلط فیصلہ کرلیاہے لہٰذا پھر نئی محبت کی تلاش شروع ہوجاتی ہے ۔
اس کامطلب یہ نہیں ہے کہ حوت افراد ایک کامیاب شریک حیات یا کاروباری پارٹنر نہیں بن سکتا‘ بتانے کامقصد یہ ہے کہ وہ محبت یا پارٹنر شپ کے معاملے میں اکثر غیر مطمئن رہتے ہیں اور بہتر سے بہتر کی جستجو جاری رہتی ہے اب آپ خود سوچیں کہ دو حوت افراد جب اکٹھا ہونگے تو کیا کریں گے؟
دونوں ہمیشہ ایک دوسرے کی شکایات کسی تیسرے سے کرتے نظر آئیں گے ‘ دونوں کے مسائل اور مصائب اکثر خودساختہ اور خیالی یا تصوراتی ہوں گے‘ دونوں کو یہ شک وشبہات ہوں گے کہ کوئی تیسرا ان کے درمیان مداخلت کررہاہے بلکہ ان پرکوئی جادو ٹونہ بھی کیاجارہاہے‘قصہ مختصر یہ کہ دونوں ایک غیر مطمئن ‘ ناآسودہ اورعجیب وغریب مسائل کے حامل زندگی گزاررہے ہوں گے جس کا اثر ان کی اولاد پر بھی نہایت خوشگوار ہوتاہے۔

ہفتہ، 2 نومبر، 2019

علم نجوم کا دائرئہ اختیار اور زندگی کے مسائل

زندگی کے فطری اصولوں کی پاسداری ضروری ہے ،ملکی سیاست اور نواز شریف کی صحت

اسلام آباد ہنگامہ خیز سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے، مولانا فضل الرحمن آزادی مارچ کے بعد اسلام آباد پہنچ چکے ہیں، تمام اپوزیشن جماعتیں انھیں جس حد تک سپورٹ کرسکتی ہیں ، کر رہی ہیں لیکن مولانا کو ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے شکایات بھی پیدا ہوگئی ہیں، وہ جس بھرپور انداز میں ان پارٹیوں کی شرکت چاہتے تھے ، وہ نہیں ہوسکی ہے،ابھی تک نہیں معلوم کہ مولانا اپنا دھرنا کب تک جاری رکھیں گے اور ان کے مطالبات میں مزید کیا اضافے ہوسکتے ہیں، علم نجوم کی روشنی میں مولانا کا آزادی مارچ چاند کی آخری تاریخوں میں شروع ہوا تھا ، ایسے وقت پر کسی کام کا آغاز مناسب نہیں ہوتا، اسی طرح اسلام آباد میں ان کا داخلہ جس وقت ہوا تو قمر درعقرب کا نحس وقت تھا، یہ وقت بھی اچھا خیال نہیں کیا جاتا چناں چہ اس مارچ یا ممکنہ دھرنے کے شاید وہ نتائج حاصل نہ ہوسکیں جس کی مولانا کو اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کو امید رہی ہوگی، دھرنا اگر زیادہ عرصے جاری رہا تو اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ 10 نومبر سے 20 نومبر کے درمیان میں کوئی ایمرجنسی نافذ ہوسکتی ہے، اس خدشے کا اظہار ہم نے پہلے بھی کیا تھا، اسی عرصے میں غیر ملکی مداخلت یا کسی شرانگیزی کا امکان بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
دوسری طرف ن لیگ کے قائد جناب نواز شریف کی بگڑتی ہوئی صحت خاصی تشویش ناک صورت اختیار کرچکی ہے، ان کے پیدائش کے زائچے میں بھی سیاروی پوزیشن اچھی نہیں ہے، چھٹے گھر کا حاکم سیارہ زحل چوتھے گھر میں حرکت کر رہا ہے اور آٹھویں گھر کے حاکم سیارہ مریخ سے حالت قران میں ہے، یہ صورت مرض کو بڑھانے میں معاون ہے، اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ بہت پابندی سے ہفتہ اور منگل کو صدقہ دیا جائے، مزید یہ کہ 6 نومبر 2011 ءسے زائچے میں عطارد کے دور اکبر میں چھٹے گھر کے حاکم سیارہ زحل کا دور اصغر شروع ہوجائے گا، یہ صورت حال بھی مرض کو بڑھانے اور مزید پیچیدگیاں پیدا کرنے کا باعث ہوسکتی ہے، ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں صحت و تندرستی عطا فرمائے، زحل کے دور اصغر کا آغاز ظاہر کرتا ہے کہ آئندہ سیاست میں وہ زیادہ فعال کردار ادا نہیں کرسکیں گے (واللہ اعلم بالصواب)

نئے کردار آتے جا رہے ہیں 
مگر ناٹک پرانا چل رہا ہے 

ایسٹرولوجی کا علم اتنا وسیع اور گہرا ہے کہ یہ زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کرتا ہے،کوئی بھی شعبہ ءحیات ہو، ایسٹرولوجی کے دائرئہ اختیار سے باہر نہیں ہے،چاہے وہ صحت کو برقرار رکھنے کا معاملہ ہو یا کسی سخت ترین بیماری کا علاج معالجہ ، اچھی نصابی یا پیشہ ورانہ تعلیم ، جذباتی استحکام ، کاروباری معاملات و مسائل ، سرمایہ کاری کرنے کی ٹائمنگ، اشتہاری مہم ، شادی اور ازدواجی زندگی کے مسائل وغیرہ۔
جدید دور کی پیچیدگیوں سے ہر شخص ایک مستقل تناو ¿ کی کیفیت میں مبتلا رہتا ہے اور مستقبل کے بارے میں فکر مند نظر آتا ہے،چاہے وہ مالی استحکام ہو یا خراب صحت میں بہتری لانا ہو، فیملی سے متعلق پلاننگ ہو ، سماجی حیثیت ، کرئر ، روحانیت کا فروغ یا ہمارے روحانی اور مذہبی مسائل وغیرہ ۔
 فیملی کے پھلنے پھولنے کے لیے ضروری ہے کہ فیملی میں صحت مند بچے پیدا ہوں تاکہ وہ معاشرے میں اپنا صحت مند کردار ادا کرسکیں،میڈیکل سائنس کسی خرابی یا بیماری کا علاج کرنے میں ایک حد تک معاون ہوسکتی ہے لیکن 100 فیصد نہیں ، ایسٹرولوجی کی مدد اور تعاون اس سے بہتر نتائج دے سکتا ہے ، یہ ایک صحت مند بچہ پیدا کرنے میں بھی معاون ہے۔
 ایک صحت مند بچہ خاندان کی خوشیوں میں اضافہ کرتا ہے جب کہ ایک بیمار بچہ پورے خاندان کے لیے نہ صرف فکر مندی کا باعث ہوتا ہے بلکہ اپنی تعلیم وغیرہ میں بھی پیچھے رہ جاتا ہے ، ایسا بچہ فیملی کی خوشیوں اور ان کی مثبت توانائیوں کو برباد کردیتا ہے۔
ایسٹرولوجی کا فلکیاتی علم پیدائش کے وقت بھی کسی کی زندگی کے مسائل زدہ پہلوو ¿ں کی شناخت کرنے میں مدد کرتا ہے اور نومولود کی دیکھ بھال اور نگہداشت کے لیے مناسب اور بہتر مشورہ دیتا ہے،آیئے ان طریقوں پر بات کرتے ہیں جس میں ہم بچوں کی صحت مند پیدائش اور پیدائش کے بعد کی صورت حال کو کنٹرول کرسکتے ہیں ۔

زندگی میں مشکلات کی وجوہات
عام طور پر انسانی زندگی میں مشکلات اور سختیوں کی یا بیماریوں کی چار وجوہات علم نجوم کی روشنی میں بیان کی جاسکتی ہیں۔
1 ۔ پیدائش کے زائچے میں سیارگان کی کمزوری ، خراب گھر میں واقع ہونا یا تحت الشعاع ہونا یعنی شمس سے ایک مخصوص فاصلے پر ہونا۔
2 ۔ کسی سیارے کا متاثر ہونا یعنی کسی دوسرے منحوس سیارے سے قران یا نظر میں ہونا۔
3 ۔ زائچے کے گھروں کا منحوس سیارگان سے متاثر ہونا۔
4 ۔ پیدائش کے وقت سُست رفتار سیاروں کی ساکت پوزیشن بھی نہایت منحوس اثر ڈالتی ہے اور نہ صرف یہ کہ پیدائش میں مشکلات پیدا کرتی ہے بلکہ بعد میں بھی ایسے سیارے مسائل پیدا کرنے کا باعث ہوتے ہیں۔
ایسٹرولوجی کے اصولوں پر عمل کرکے بڑی حد تک ایسے مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے اور زندگی میں خوشیاں لائی جاسکتی ہیں،بشرط یہ کہ ہم پہلے سے اس کے لیے پلاننگ کریں اور ہمارا ہر قدم ایسٹرولوجیکل موومنٹس سے ہم آہنگ ہو۔
ایک ذاتی مشاہدہ 
انگلینڈ سے ایک خاتون نے ہم سے رابطہ کیا اور اپنی نومولود بچی کے بارے میں سوال کیا کہ وہ زندہ رہے گی یا نہیں ؟ ہم عام طور پر ایسے سوالوں کا جواب دینے سے گریز کرتے ہیں اور پھر ایک ماں کو توکسی صورت میں بھی ایسا کوئی جواب نہیں دینا چاہیے جو اُس کی پریشانی میں اضافہ کردے لہٰذا ہم نے اُنہیں اطمینان دلایا اور تسلی دی،ساتھ ہی صدقات وغیرہ کی تاکید کی لیکن وہ ہماری باتوں سے مطمئن نہ ہوئیں بلکہ مستقل اصرار کرنے لگیں کہ آپ بچی کا تفصیلی زائچہ بناکر کوئی حتمی جواب دیں، ہم نے ایک بار پھر انہیں ٹالنا چاہا اور اُن کو اللہ کی رحمت پر یقین رکھنے کی ہدایت کی مگر خاتون بھی ٹس سے مس نہ ہوئیں ، انہوں نے بتایا کہ وہ خود ایسٹرولوجی سے دلچسپی رکھتی ہیں اور بچی کا زائچہ خود بناکر دیکھ چکی ہیں جو اطمینان بخش نہیں ہے، مزید یہ کہ ڈاکٹر حضرات بھی کوئی حوصلہ افزا بات نہیں کر رہے لہٰذا آپ سے درخواست ہے کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں اور میری ایسٹرولوجی کے علم کی روشنی میں تسلی و تشفی کریں،میں آپ کی جو بھی فیس ہوگی، وہ دینے کے لیے تیار ہوں۔
یہ جاننے کے بعد کہ موصوفہ علم نجوم کی بنیادی شُدھ بُد رکھتی ہیں ، ہمیں اطمینان ہوا کہ وہ صورت حال کو دُرست طور پر سمجھ بھی سکیں گی اور کوئی خراب بات سامنے آئی تو اُس کے معقول علاج میں بھی سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گی۔(عام لوگ اس حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرتے بلکہ بعض تو ایسی کسی ایسٹرولوجیکل بات کو زیادہ اہمیت ہی نہیں دیتے ، ہاں اگر کوئی بابا صاحب یا باجی اللہ والی ٹائپ شخصیت نہایت جاہلانہ بات بھی کردے تو اُس کو بہت اہمیت دیتے ہیں)
 ہم نے بچی کا زائچہ تیار کیا اور اُس کی ریڈنگ رپورٹ انہیں بھیج دی ، ساتھ ہی ممکنہ علاج کے طریقے بھی سمجھا دیے،ڈاکٹروں نے انہیں سخت نا امید کردیا تھا اور یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اگر بچی بچ بھی گئی تو ذہنی طور پر نارمل نہیں ہوگی اور اُن کی یہ بات غلط نہیں تھی،بچی کا زائچہ بھی کچھ ایسی ہی صورت حال کی نشان دہی کر رہا تھا اور خاتون کی پریشانی بھی شاید اسی وجہ سے تھی ۔
زائچے میں اچھی صحت کا انحصار شمس کی بہتر پوزیشن پر ہے، بچی کا طالع پیدائش اسد تھا اور شمس کمزور ہے جو طالع کا مالک ہے ، قمر کا تعلق دماغ سے ہے وہ بھی متاثرہ تھا،عطارد کا تعلق ذہانت ، اعصاب اور سمجھ بوجھ سے ہے اس کی پوزیشن بھی درست نہیں تھی، وہ بارھویں گھر میں تھا، مشتری اگرچہ دسویں گھر میں طاقت ور زہرہ کے ساتھ موجود ہے جو ملاویا یوگ بنارہا ہے مگر مشتری کا قران کیتو سے اور اس پر راہو کی پوری نظر ہے لہٰذا متاثرہ ہے ، مشتری پانچویں اور آٹھویں گھر کا مالک ہے، آٹھواں گھر گہری بیماری اور مصیبت کا گھر ہے،مریخ چوتھے گھر اور نویں گھر کا مالک ہے اور اس پر بھی کیتو کی پوری نظر ہے۔
پیدائش کے فوراً بعد کیتو کا دور جاری تھا جو تقریباً سال بھر بعد ختم ہونا تھا اور پھر زہرہ کے طاقت ور دور کا آغاز ہوگا،سب پیریڈ راہو کا تھا یہ بھی خطرناک تھا لیکن اکتوبر سے صورت حال تبدیل ہونا تھی،ہم نے انہیں ضروری صدقات اور مناسب ٹریٹمنٹ کے لیے کہا جس پر وہ عمل پیرا ہیں،یہ ٹریٹمنٹ لمبے عرصے تک کرنا پڑتا ہے۔بعد ازاں انہوں نے کوئی رابطہ نہیں کیا اور ہم نے ازخود ان سے رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کی، دل میں یہی خیال رہا کہ شاید ہمارے بتائے ہوئے طریقہ کار کو اہمیت نہیں دی گئی ہوگی لیکن پھر اُن کی ای میل ملی کہ وہ دوبارہ اولاد کی نعمت حاصل کرنے جارہی ہےں، نجوم سے اپنی واقفیت کے باعث وہ چاہتی ہیں کہ آپریشن کے لیے کوئی سعد اور اچھا وقت منتخب کریں اور ایک اچھے وقت کا انتخاب بڑا ہی مشکل ترین کام ہے،اس لیے وہ پھر ہم سے مشورہ چاہتی ہیں ، مشکل یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحبان ضروری نہیں ہے کہ اُس وقت کی پابندی کریں جو ہمارے خیال میں پیدائش کے لیے نہایت مبارک اور ہر اعتبار سے بہتر ہو،انہوں نے اپنے طور پر طالع برج میزان کا انتخاب کیا تھا مگر اُن کے علم میں یہ بات بھی تھی کہ زحل اور راہو برج میزان میں ہیں اور ہندو پنڈت اس پوزیشن کو ”شراپت یوگ“ کہتے ہیں اور اس یوگ کی نحوست کا بڑا چرچا ہے،حالاں کہ اب جدید تحقیق نے یہ ثابت کردیا ہے کہ شراپت یوگ محض ہندو پنڈتوں کا فراڈ ہے،وہ اس بہانے سے لوگوںسے ہزاروں لاکھوں روپے کماتے ہیں ، یہی صورت حال ”کال سپرا یوگ“ کی بھی ہے اس یوگ سے بھی لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے اور اس کا توڑ کرنے کے لیے ہزاروں لاکھوں روپے طلب کیے جاتے ہیں یعنی جو کام ہمارے ہاں اکثر عامل حضرات بندش ، آسیب و جنات یا سحروجادو کے نام پر کر رہے ہیں وہی انڈیا میں بھی جاری ہے۔
بہر حال مذکورہ خاتون کی جو مددومعاونت ہم کرسکتے تھے وہ ہم نے کی اور الحمد اللہ ان کے ہاں ایک صحت مند بیٹا پیدا ہوا، اس کے بعد ایک بار پھر بچے کی پیدائش کا مرحلہ آیا اور ہم نے انھیں گائیڈ کیا جس کے نتیجے میں 2018 ءمیں اللہ نے انھیں ایک پیاری سی بیٹی دی۔
مناسب و موافق وقت کا انتخاب
عزیزان من! ہم یہاں چند بنیادی اصول بیان کر رہے ہیں جو مناسب اور موافق وقت کے انتخاب میں مددگار ہوسکتے ہیں مگر اچھے وقت کو پانے کے لیے علم نجوم سے واقفیت ضروری ہے تب ہی آپ حسابی طریقے پر عمل کرکے کسی مناسب وقت کا استخراج کرسکتے ہیں ۔
1۔ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ ڈیلیوری کی متوقع تاریخ کے وقت زحل ، مشتری ، راہو اور کیتو جیسے سُست رفتار سیارے اپنی ساکت پوزیشن پر نہ ہوں۔ 
2 ۔ ایسے طالعات سے گریز کیا جائے جو راہو کیتو کے علاوہ بھی عملی منحوس حاکموں کی کثرت رکھتے ہوں یعنی ایک بہتر طالع پیدائش کا انتخاب۔
3 ۔ جب طالع کا انتخاب کرلیا جائے تو اس بات کو مدِ نظر رکھا جائے کہ زائچے میں سیارگان چھٹے ، آٹھویں اور بارھویں گھروں میں نہ ہوں۔
4 ۔ طالع کے درجات اس طرح مقرر کیے جائیں کہ وہ راہو ، کیتو اور دیگر زائچے کے عملی منحوس سیاروں کی نظر میں نہ ہوں اور اس سلسلے میں طالع کے درجات سے اور دیگر گھروں کے درجات سے دونوں طرف 5 ڈگری کے فاصلے کو مدِ نظر رکھا جائے،یعنی اگر طالع کے درجات 15 ڈگری ہوں اور راہو کیتو یا کوئی منحوس سیارہ 15 ڈگری سے پہلے یا بعد نظر قائم کرتا ہے تو یہ خطرناک بات ہوگی۔
ہمارے معاشرے میں عام طور پر آپریشن کے ذریعے ڈیلیوری کو اچھا نہیں سمجھا جاتا اور نارمل ڈیلیوری کی خواہش کی جاتی ہے جو یقیناً ایک اچھا رجحان ہے مگر ہمارا ذاتی مشاہدہ و تجربہ یہ ہے کہ جب سے ہمارے ملک میں پرائیوٹ اسپتالوں کی بھرمار ہوئی ہے ، آپریشن زیادہ ہونے لگے ہیں ، بعض اسپتال اس سلسلے میں خاصے ظالم اور سفاک بھی ہوتے ہیں کیوں کہ آپریشن کی وجہ سے اُن کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے ، غالباً بیرون ملک بھی آپریشن کے ذریعے ڈیلیوری اب عام بات ہے تو جب آپریشن ہی ناگزیر ہو تو پھر بچے کی پیدائش کے لیے اپنی مرضی کے وقت کا انتخاب کرنا چاہیے اور جہاں تک ممکن ہو اس امر کو یقینی بنانا چاہیے کہ ہمارا بچہ صحت مند اور اعلیٰ صلاحیتوں کا مالک ہو۔
خیال رہے کہ ایسٹرولوجی کے ذریعے ایک صحت مند اور اچھی صلاحیت اور قسمت کے مالک بچے کی پیدائش ممکن ہے بشرط یہ کہ اللہ اس کی توفیق دے اور یہ توفیق اسی صورت میں ممکن ہوتی ہے جب انسان اپنی زندگی فطرت کے اصولوں کے مطابق گزارنے کی کوشش کرے، اللہ اور اُس کے بنائے ہوئے قانونِ فطرت سے جنگ نہ کرے ورنہ ہمارا مشاہدہ یہ بھی ہے کہ ساری حکمت عملیاں اور تدبیریں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں اور صورت حال میر تقی میر کے مطابق وہی ہوتی ہے اُلٹی ہوگئیں سب تدبیریں، کچھ نہ دوا نے کام کیا۔

ہفتہ، 26 اکتوبر، 2019

ہمارے ذہنی مسائل ہی ہمارے روحانی مسائل ہیں

ذہنی اور روحانی مسائل کا شکار ایک مریضہ کے سوالات کا جواب

روحانی یا روحی یا نفسیاتی بیماریوں کی اصطلاح عام ہے اور لوگ اس میں اس طرح فرق کرتے ہیں کہ روحانی امراض کو ماورائی یعنی نادیدہ قوتوں کی طرف منسوب کرتے ہیں یا پھر سحر و جادو اور عملیات و تعویذات کی کارروائی قرار دیتے ہیں۔ جب کہ نفسیاتی بیماریوں کو ذہنی فتور یا دوسرے معنوں میں دماغ کا خلل قرار دیا جاتا ہے۔ اس طرح بیماریوں کی دو اقسام وجود میں آگئی ہیں یعنی روحانی یا روحی اور نفسیاتی۔ اکثر لوگ روحانی یا روحی میں بھی فرق کرتے ہیں حالانکہ اصولاً دونوں کا ماخذ ایک ہی ہے یعنی روح، انگریزی زبان میں ان دونوں لفظوں کے لیے یا ایسے روحانی معاملات کے لیے ایک ہی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے اور وہ ہے ”اسپریچول ازم“، یعنی روحانیات یا روحیات۔
نفسیات جسے انگریزی میں سائیکلوجی کہا جاتا ہے صرف انسان کے ذہن تک محدود ہو کر رہ گئی ہے یعنی وہ تمام مسائل جن کا تعلق انسان کے ذہنی میلان و رجحانات سے ہے علم نفسیات کے ماتحت کر دیے گئے ہیں، دوسرے الفاظ میں ہم اس بات کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس طرح انسانی ذہن اور روح کو الگ الگ کر دیا گیا ہے تو کیا واقعی ایسا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ مندرجہ بالا نظریات کی ضرورت اس لیے پیش آئی تاکہ جدید علم نفسیات کو سائنس کے جدید تجرباتی اصولوں تک محدود کر دیا جائے۔ کیوں کہ اس کے بغیر جدید سائنس کے مبلغین علم نفسیات کو سائنسی علم ماننے کے لیے تیار ہی نہیں تھے اور انسانی نفسیات کے حوالے سے جو مابعد الطبیعاتی مسئلے موجود تھے، انہیں تجربات کی کسوٹی پر پرکھنا بھی ممکن نہیں تھا، لہٰذا وہ انہیں قابل توجہ نہیں سمجھتے تھے ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ قدیم ترین فلاسفہ میں افلاطون نے انسانی نفسیات کے حوالے سے مابعدالطبیعاتی مسائل کو نفسیات کے علم سے علیحدہ نہیں رکھا اور وہ انسانی ذہن و روح کے معاملات میں کوئی تقسیم نہیں کرتا۔
اصل میں بنیادی جھگڑا اس وقت شروع ہوتا ہے جب مذہبی عقائد اور مادیت کے نظریات ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہوتے ہیں، مذہبی عقائد ایک انسانی روح کا تصور پیش کرتے ہیں جو ان کے خیال میں گوشت پوست، خون اور ہڈیوں کے پیکر انسانی کو نہ صرف متحرک رکھتی ہے بلکہ اسے برے بھلے کا شعور بھی دیتی ہے، اس کے مقابلے میں جدید سائنس چوں کہ روح کو ناقابل تجربہ سمجھتے ہوئے نظرانداز کرتی ہے لہٰذا وہ اس کی جگہ انسانی دماغ کی اس قوت و کارکردگی سے بحث کرتی ہے جسے ذہن کہا جاتا ہے لہٰذا اس سارے جھگڑے نے انسان کی روحانی بیماریوں کو دو حصوں میں تقسیم کرد یا ہے۔
انگریزی زبان میں علم نفسیات کے لیے سائیکلوجی کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے جس کا ڈکشنری کے مطابق ترجمہ روح کا علم ہوگا، اُردو میں ”نفسیات“ کا لفظ مروج ہے جو ”نفس“ سے لیا گیا ہے اور نفس کیا ہے؟ ہمارے اندر آتی جاتی سانس، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سانس کیا ہے؟ کیا ہم اسے صرف ناک سے اندر جاتی اور باہر آتی ہوا کہیں گے؟ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے، سانس، دم ، جان یا روح کے معنوں میں ہی مستعمل ہے، کسی انسان کی موت کے بعد ہمارے ہاں جو جملے بولے جاتے ہیں ان میں ”روح کا جسم سے پرواز کر جانا“ یا ”دم نکل جانا“ یا پھر ”سانس ٹوٹ جانا“ تقریباً ایک ہی معنی رکھتا ہے۔
عزیزانِ من! اب تک کی ساری گفتگو ممکن ہے ہمارے پڑھنے والوں کو بے سروپا، نہایت مشکل اور عجیب محسوس ہو رہی ہو۔ ہم نے اپنے طور پر کوشش تو کی ہے کہ روح اور ذہن میں جو فرق واقع ہوگیا ہے اس کی تھوڑی سی وضاحت کر سکیں اور یہ بتا سکیں کہ درحقیقت ہمارے ذہنی مسائل ہی ہمارے روحانی مسائل ہیں اور ہمارے روحانی مسائل درحقیقت ہمارے ذہنی مسائل ہیں، ایک ہی بات کو ہم دو مختلف طریقوں پر بیان کر سکتے ہیں اور سمجھ سکتے ہیں کیوں کہ اس مسئلے کو سمجھے بغیر ہمار ا معاشرہ جو حد سے زیادہ ماورائیت اور سحر و جادو کے مسائل میں الجھتا چلا جار ہا ہے درست طور پر اپنی بیماریوں اور جملہ تکلیفات کی حقیقت نہیں سمجھ سکتا۔ اس کے ساتھ ہی آیئے ایک خط کے چیدہ چیدہ اقتباسات کی طرف جس میں ہم سے کچھ ایسے سوالات کیے گئے ہیں جن کے جوابات مندرجہ بالا تشریح کے بغیر دینا ممکن نہ تھا۔ 
خط بھیجنے والی شخصیت کا نام و مقام ہم ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔ ان کے بارے میں صرف اتنا حوالہ دینا کافی سمجھتے ہیں کہ وہ روحانی علاج و معالجے کے سلسلے میں کئی روحانی معالجین کے رابطے میں رہی ہیں اور خود بھی علم نجوم و جفر، پامسٹری اور دیگر علوم خفیہ سے دلچسپی رکھنے کی وجہ سے خاصی صاحبِ مطالعہ ہیں، اپنے طویل خط میں وہ لکھتی ہیں”مجھے اس لائن کے لوگوں کی ذہنیت کا قطعی اندازہ نہیں اور ان کی قدروقیمت کیا ہے، یہ کس طرح تربیت کرتے ہیں، یہ کس طرح سے بندے کو ہینڈل کرتے ہیں، ان کے پاس جانے کا مطلب ایک لمبی قید ہوتی ہے، یہی چیز پریشان کر رہی ہے۔ ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ ہمیں بچا رہے ہیں یا ڈبور رہے ہیں؟ جو کچھ ہو رہا ہے اسے جادو میں شمار کیا جائے گا یا نہیں؟ دماغی بیماریاں ہیں تو اس کا علاج علم جفر سے ممکن ہے یا نہیں؟ اتنی علمی اور عملی قوتوں کے باوجود ان معاملات میں پھنس جانا کیا معنی رکھتا ہے کہ کوئی دشمنی کر رہا ہے! یہ کون سے اسماءالحسنہ کا علم و عرفان رکھتے ہیں؟ اور ان سے کیسے چھٹکارا ممکن ہے؟ پہلے تو شیطانی قوت سے حفاظت اور پھر جان و مال اور عزت کی حفاظت، مجھے وہ حرکت صاف محسوس ہوتی ہے جو آنکھوں کے ذریعے اثر ڈال کر اندھا کر دیتی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ جان بوجھ کر کوئی حرکت کی جا رہی ہے اور جیسے کوئی شخصیت ہمارے ساتھ ہے جو متحرک ہے۔ یقینا کوئی نادیدہ چیز ہمارے ساتھ کر دی گئی ہے، ہمیں اس ظلم سے نجات کب ملے گی؟ ان لوگوں کے اختیارات کے بارے میں کیسے علم ہوا؟ ان سے بازپرس کرنے والا کون ہے؟ میرا رابطہ اگرچہ اپنے روحانی معالج سے منقطع ہے لیکن میں دوبار خواب میں دیکھ چکی ہوں کہ میں انہیں فون کر رہی ہوں۔ اپنی پریشانی بتا رہی ہوں۔ کیا وہ میرے مددگار نہیں؟ ایک دن میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص جس کی داڑھی ہے وہ ہمارے گھر میں بیٹھا ہے اور میں اس سے کہہ رہی ہوں کہ تم یہاں سے جاتے کیوں نہیں؟ اس کے علاوہ جاگتی حالت میں بھی مجھے اپنے پیچھے ایک جسم محسوس ہوتا ہے اس کا کیا مطلب ہے؟ بعض اوقات میں خود کو مصیبت میں دیکھتی ہوں مگر حقیقت میں میری کوئی بہن یا عزیز اس پریشانی میں ہوتا ہے۔ کیا مختلف لوگ مختلف حالات و واقعات دکھاتے ہیں؟ ان تمام باتوں کو کیسے سمجھا جائے؟ اکثر مجھے غلاظت میں لپٹا کوئی جسم نظر آتا ہے اور وہ اپنی ایک رشتے دار کا محسوس ہوتا ہے، ہیں تو وہ بہت فسادی مگر اس کا مطلب کیا ہے؟ کڑی سے کڑی بندھی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ میری چھوٹی بہن بتاتی ہے کہ اسے آواز آتی ہے یعنی اسے بھی ایسا ہی کر دیا جائے گا، کیا کوئی ہمارے خاندان سے بدلہ لے رہا ہے؟ سب کے کام بگڑ ہی رہے ہیں۔“
جواب: عزیزم! ہم نے ابتدا میں روح ، ذہن اور روحانی و ذہنی امراض کے حوالے سے جو کچھ لکھا ہے اسے غور سے پڑھ لیں اور ہمارا مشورہ ہے کہ ایک بار نہیں بار بار پڑھیں اور اس حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ انسانی ذہن یا روح میں جب پےچیدگیاں جنم لیتی ہیں تو ہمارے اردگرد ایک جہانِ حیرت وجود میں آجاتا ہے جسے سمجھنا ہمارے بس کی بات نہیں ہوتا، اس کی بھول بھلیوں میں پھنس کر ہم ایسے ایسے تجربات و مشاہدات سے گزرتے ہیں جن کی عقلی توجیہہ ناممکن ہو کر رہ جاتی ہے اور پھر لامحالہ ذہن نادیدہ قوتوں کی کارفرمائی کی طرف چلا جاتا ہے۔ آپ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے جسے آپ کی حد سے بڑھی ہوئی انانیت تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
ہم اس بحث میں تو پڑنا نہیں چاہتے کہ اس راستے میں آپ کی جن معالجین سے ملاقات ہوئی اور ان کا جو سلوک اور طرزعمل رہا اس کی کیا حیثیت ہے لیکن ہم یہ وضاحت ضرور کریں گے کہ ان لوگوں سے آپ کو بہرحال درست رہنمائی نہیں ملی مثلاً آپ نے علم نجوم کے بارے میں جو کچھ سیکھا اور پڑھا وہ آپ کے ذہن کو مزید الجھانے اور گم راہ کرنے کا سبب بنا، یہی حال پامسٹری، علم جفر اور دیگر علوم کا بھی ہے۔آپ کی اکثر باتوں سے یہ تاثر ملتا ہے کہ شخصیت پرستی کا فریب آپ کو لے ڈوبا اور آپ پہلے مختلف شخصیات کے ٹرانس میں آئیں اور بعد میں مختلف علوم کے ٹرانس میں خو دکو دے دیا۔ ہمارا مشاہدہ ہے کہ جو لوگ اللہ کے دین کی درست معلومات نہیں رکھتے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور ہستی کو بالائے طاق رکھ کر مختلف علوم کے دعوے داروں کی ذات اور شخصیت ہی کو سب کچھ سمجھنے لگتے ہیں انہیں گم راہ ہوتے دیر نہیں لگتی اور پھر کوئی بھی مسئلہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا، وہ لاکھ کڑی سے کڑی ملاتے رہیں، ان کے خیالات کی زنجیر روز بہ روز الجھتی ہی چلی جاتی ہے۔ آپ کے سوالات میں الجھاﺅ کے ساتھ یہ کم علمی جگہ جگہ محسوس ہوتی ہے۔ مثلاً آپ نے طے کر لیا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ چوں کہ آپ کی سمجھ میں نہیں آرہا لہٰذا اگر اسے جادو میں شمار نہیں کیا جائے تو کیا کہا جائے؟ آپ دماغی بیماریوں کا علاج علم جفر سے ڈھونڈ رہی ہیں یا یہ کہ آپ کے ذہن میں علم جفر کے حوالے سے الجھنیں پیدا ہوگئی ہیں۔
جن شخصیات سے آپ ذہنی طور پر متاثر ہوئی ہیں ان سے مایوس ہونے کے بعد بھی ان کی علمی اور روحانی قوت سے خوف زدہ ہیں اور چھٹکارے کی خواہش مند ہیں، آپ کے خواب بھی آپ کی اسی الجھی ہوئی منتشر ذہنی اور روحانی کیفیات کو ظاہر کرتے ہیں۔ مثلاً آپ غلاظت میں لپٹی ہوئی ایک ایسی شخصیت کو دیکھتی ہیں جس کے بارے میں آپ کی رائے اچھی نہیں ہے۔ اپنے سابق معالج کو خواب میں فون کرنا اور ان سے اپنی پریشانی بیان کرنا اور پھر اس خواب کے بارے میں یہ خیال کرنا کہ یہ معالج کی کوئی کارستانی ہے۔ وہ اپنی سحری قوت سے آپ کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے، آپ کے لاشعور میں چھپا ہوا وہ چور ہے جس سے آپ خود حالتِ شعور میں نظریں چرا رہی ہیں۔ یہی حال دیگر خوابوں کا بھی ہے، یہاں ہمیں صوفی غلام مصطفی تبسم کا ایک شعر یاد آرہا ہے جو آپ کی ذہنی، نفسیاتی، روحانی کیفیات کی نہایت دلچسپ اور خوبصورت عکاسی کرتا ہے۔ ذرا اس پر غور کیجیے 
اللہ کرے جہاں کو میری یاد بھول جائے
اللہ کرے کہ تم کبھی ایسا نہ کر سکو
اب آیئے اپنے اصل مسئلے اور اپنی تازہ صورتِ حال کی طرف۔ مگر اس سے پہلے چند باتیں آپ کے زائچے کے حوالے سے کیوں کہ آپ خود بھی علم نجوم سے شغف رکھتی ہیں تو کم از کم ہماری ان باتوں سے انکار نہیں کر سکیں گی۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ اپنے شمسی، قمری برج کے علاوہ طالع پیدائش سے بھی آپ واقف ہیں اور اس سے متعلق مثبت اور منفی خصوصیات کا بھی یقینا علم ہوگا مگر جس اہم نکتے کی طرف ہم توجہ دلا رہے ہیں وہ یہ ہے کہ زائچے کے پہلے گھر میں یعنی طالع پیدائش میں شمس کی موجودگی کبھی کبھی تو انانیت کا ایسا طوفان کھڑا کرتی ہے کہ انسان اگر خدائی کا دعویٰ کر بیٹھے تو ایک اچھے ماہر نجوم کو تعجب نہیں ہوگا۔ ہمارے مشاہدے میں تو ایسے ہزاروں زائچے آچکے ہیں کہ اگر شمس طالع میں موجود ہو اور باقوت بھی ہو تو صاحب زائچہ کی انا آسمان کو چھوتی ہے اور اس پر طرفہ تماشا حالات کی ناسازگاری، زندگی کی محرومیاں بھی ساتھ میں ہوں تو انسان کی سائیکی بری طرح بگڑ جاتی ہے۔ جس کے نتیجے میں ہسٹریا یاشیزوفرینیا وغیرہ جیسی بیماریاں اسے اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں اور آپ درحقیقت شیزوفرینیا کی مریضہ ہیں۔ اس بیماری میں تقسیم شخصیت کا مرحلہ ایسے ہی حیرت انگیز تماشے دکھاتا ہے جن سے آپ دوچار ہو رہی ہیں۔ شیزوفرینیا کے مریض کو ایسا لگتا ہے کہ جیسے کوئی ہر وقت اس کے ساتھ ہے اور وہ نادیدہ آوازیں سنتا ہے۔ الغرض یہ کہ ہر وہ بات اسے محسوس ہوتی ہے جس کے بارے میں وہ شعور رکھتا ہے اور کسی وقت اس کا ذہن بھٹک کر اس طرف چلا جاتا ہے۔
شیزوفرینیا ایک ایسا نفسیاتی عارضہ ہے جس میں انسان کی تقسیم شدہ شخصیت کئی بہروپ دھار لیتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایسے واقعات عام ہیں جن میں لوگ نادیدہ مخلوق کی اپنی زندگی میں مداخلت کی نشان دہی کرتے ہیں اور عام طور پر ایسے معاملات کو جن بھوت یا کسی روح وغیرہ کی کارروائی خیال کیا جاتا ہے یا عام زبان میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کسی نے سحر و جادو کے ذریعے ہم پر گندی چیزیں مسلط کر دی ہیں۔ اس بیماری میں عورت یا مرد، دونوں ایسی کیفیات سے بھی گزر سکتے ہیں جن میں یہ محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ان کے ساتھ موجود نادیدہ وجود ان پر غلبہ پا رہا ہے۔ اکثر خواتین نے ایسے کیسوں میں یہ شکایت بھی کی ہے کہ وہ خلوت میں بالکل اس صورتِ حال سے دوچار ہوتی ہیں جو اپنے شوہر سے ملنے کے وقت ہوتی ہے۔ اس معاملے میں شادی شدہ اور غیرشادی شدہ کی تخصیص نہیں ہے۔ ہم بارہا ایسے کیسوں کا مشاہدہ کر چکے ہیں۔ الغرض ”شیزوفرنییا“ ایک ایسی بیماری ہے جس کے ہزار روپ ہو سکتے ہیں اگرچہ ماہرینِ نفسیات اسے صرف انسانی شخصیت کے بگاڑ تک محدود رکھتے ہیں اور ایک ذہنی عارضہ قرار دیتے ہیں لیکن ہمارے نزدیک یہ روحانی یا روحی عارضہ بھی ہے۔ بے شک اس کا علاج بہت مشکل ہوجاتا ہے اور اس کی وجہ بنیادی طور پر یہ ہوتی ہے کہ اکثر تو مریض معالج سے تعاون ہی نہیں کرتا اور دوسری بات یہ کہ مریض کو اپنے گھر میں معقول اور مناسب ماحول میسر نہیں ہوتا اور تیسری اور سب سے اہم وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس بیماری کے پیدا ہونے کی بنیادی اور اصل وجوہات جن کا تعلق مریض کے ماضی سے ہوتا ہے جوں کی توں برقرار رہتی ہیں۔
عزیزانِ من! یہ موضوع ناختم ہونے والا ہے۔ ماضی میں بھی ہم نے اس حوالے سے بہت لکھا ہے اور بہت سے کیسوں کا تجزیہ پیش کیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے امراض کے علاج معالجے کے لیے اعلیٰ سطح پر نہایت معیاری اسپتال قائم ہونے چاہئیں۔ جن میں ہر قسم کے معالجین کی نگرانی میں علاج معالجے کی تمام سہولتیں موجود ہوں۔ ایلوپیتھک طریقہ علاج ایسی پے چیدہ بیماریوں کے علاج میں قطعی طور پر ناکام رہا ہے۔ وہ فوری نوعیت کی روک تھام تو کر سکتے ہیں مگر مکمل صحت و تندرستی کے عمل کی طرف کوئی پیش رفت نہیں ہوتی بلکہ ان بیماریوں کے حوالے سے جو ایلوپیتھک دوائیں استعمال ہو رہی ہیں ان کا زیادہ اور طویل عرصے استعمال کچھ دوسرے عوارض کا سبب ثابت ہوا۔ ہمارے نزدیک ایسی بیماریوں کے علاج میں پیراسائیکالوجی کی جدید تحقیقات اور تجربات سے مدد لینا ضروری ہے اور اس کے ساتھ ہومیوپیتھک طریقہ علاج اختیار کرنا چاہیے۔ لوگ روحانی طریقہ ¿ علاج کے نام پرجو اعمال و وظائف نقش و تعویذ یا جھاڑ پھونک کرتے ہیں۔ اس سے ایسے کیس مزید خراب ہوتے ہیں۔ ہم نے ان طریقوں سے کبھی مریض کو مکمل طور پر صحت یاب ہوتے نہیں دیکھا بلکہ ایسی صورتوں میں مریض کے ساتھ دیگر اہل خانہ کو بھی اسی مرض کی لپیٹ میں آتے دیکھا ہے۔


ہفتہ، 19 اکتوبر، 2019

نومبر کی فلکیاتی صورت حال ، ایک نہایت چیلنجنگ مہینہ

ملکی ، سیاسی اور عوامی معاملات پر ایک تجزیاتی نظر، نومبر کے امکانات

گزشتہ ماہ اکتوبر کے حوالے سے ملک کی سیاسی صورت حال میں جن اندیشوں کا اظہار کیا گیا تھا، صورت حال اسی جانب بڑھ رہی ہے، وزیراعظم عمران خان بھی اپنی ٹیم کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں،یہی صورت سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی بھی نظر آتی ہے، دوسری طرف اپوزیشن بھی بھرپور محاذ آرائی پر آمادہ ہے، جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن آزادی مارچ اور اسلام آباد میں دھرنا دینے کا ارادہ ظاہر کرچکے ہیں،ان کی تیاریاں توجہ طلب ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہر صورت میں حکومت کی تبدیلی اور نئے الیکشن چاہتے ہیں۔
 فلکیاتی صورت حال بھی ناموافق ہے، اقتدار کا ستارہ شمس کمزور پوزیشن میں ہے، اس ماہ 6 نومبر کو سیارہ مشتری پاکستان کے زائچے کے آٹھویں گھرمیں داخل ہوگا تو ملک کے داخلی معاملات میں غیر ملکی قوتوں کی سرگرمیاں بڑھنے کا امکان موجود ہے، نئے حادثات و سانحات جنم لے سکتے ہیں، معاشی صورت حال بھی مزید خرابی کی طرف جائے گی، حکومت کے لیے نئے چیلنج اور سنجیدہ نوعیت کی پریشانیاں پیدا ہوسکتی ہیں، البتہ نئی تبدیلیاں بہتر نتائج لائیں گی، وزیروں اور مشیروں کی کارکردگی بہتر ہوگی۔
اس مہینے میں 10 نومبر سے 25 نومبر تک کا وقت خاصا تشویش ناک نظر آتا ہے کیوں کہ سیارہ مریخ زائچے کے چھٹے گھر میں داخل ہوجائے گا،اس دوران میں ملک میں کسی ایمرجنسی جیسی صورت حال کے پیدا ہونے کا اندیشہ موجود ہے اور اس کے نتیجے میں سخت قسم کے آئینی یا غیر آئینی اقدام و فیصلے ہوسکتے ہیں، مزید یہ کہ غیر ملکی قوتیں بھی بھرپور طریقے سے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرسکتی ہیں، چناں چہ حکومت اور وزیراعظم کی بہتر صلاحیتوں کا امتحان ہوگا کہ وہ کس طرح اس صورت حال سے عہدہ برآ ہوتے ہیں، امکان یہی ہے کہ 16 نومبر کے بعد صورت حال میں بہتری کے آثار نمودار ہوں گے اور بالآخر بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے معاملات طے کرنے میں آسانی ہوسکے گی (واللہ اعلم بالصواب)
اس موقع پر فیض صاحب کا مشہور یاد آرہا ہے 

اس جاں کے زیاں کی ہم کو بھی تشویش ہے لیکن کیا کیجیے
جو راہ اُدھر کو جاتی ہے مقتل سے گزر کر جاتی ہے

 نومبر کے ستارے

گردش سیارگان ہمارے نظام شمسی کی ایک اٹل حقیقت ہے، مختلف سیارگان مسلسل حرکت میں رہتے ہوئے دائرئہ بروج میں اپنا سفر جاری رکھتے ہیں اور اس طرح ان کے اثرات ہماری زمین کو متاثر کرتے ہیں، روز و شب کی تبدیلی ، موسموں کی تبدیلی اور زمانوں کی تبدیلی ہمارے مشاہدے میں آتی رہتی ہے، انسانی زندگی بھی سیاروی گردش سے متاثر ہوتی ہے، یہ اثرات قوت بخش اور فائدہ مند بھی ہوتے ہیں جب کہ بعض صورتوں میں نقصان دہ اور کمزوریاں لانے والی بھی ثابت ہوتے ہیں، اللہ کے قائم کردہ نظام میں فلکیاتی مشاہدات سے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔
نومبر کا آغاز ہونے والا ہے، اس ماہ اقتدار کا سیارہ شمس برج عقرب میں حرکت کر رہا ہے، 22 نومبر کو برج قوس میں داخل ہوگا اور اس ماہ کے آخر تک اسی برج میں رہے گا، ذرائع ابلاغ اور پیغام رسانی کا سیارہ عطارد بحالت رجعت برج عقرب میں ہے، پورا مہینہ اسی برج میں حرکت کرے گا اور 21 نومبر کو مستقیم ہوکر اپنی سیدھی چال پر آجائے گا، خیال رہے کہ عطارد کی الٹی چال میڈیا ، سفری امور اور ضروری معلومات کے حصول میں رکاوٹ ، التوا اور گفت و شنید میں مسائل کا باعث ہوتی ہے، اس عرصے میں نئے کاموں کا آغاز نہیں کرنا چاہیے۔
توازن اور ہم آہنگی کا سیارہ زہرہ برج عقرب میں ہے اور 2 نومبر کو برج قوس میں داخل ہوگا، یہاں اس کی پوزیشن بہتر ہوگی، توانائی اور محاذ آرائی کا سیارہ مریخ برج میزان میں حرکت کر رہا ہے، اس برج میں اس کی شدت پسندی کم ہوتی ہے،19 نومبر کو برج عقرب میں داخل ہوگا، اس وقت یہ زیادہ بہتر پوزیشن میں ہوگا، ترقی اور وسعت کا سیارہ مشتری اپنے ذاتی برج قوس میں حرکت کر رہا ہے اور اچھی پوزیشن رکھتا ہے، محنت اور کام سے متعلق سیارہ زحل اپنے ذاتی برج جدی میں ہے اور بہتر پوزیشن رکھتا ہے، ایجاد و اختراع کا سیارہ یورینس بحالت رجعت برج ثور میں حرکت کر رہا ہے،پراسرار نیپچون بحالت رجعت برج حوت میں ہے اور 27 نومبر کو مستقیم ہوگا، کایا کلپ کا سیارہ پلوٹو برج جدی میں حرکت کرے گا جب کہ راس اور ذنب بالترتیب برج سرطان اور جدی میں حرکت کریں گے،یہ سیاروی پوزیشن یونانی سسٹم کے مطابق ہے۔

اثرات و نظراتِ سیارگان

عزیزان من! ہماری کہکشاں میں ، اپنے اپنے دائروں نے تیرتے ہوئے سیارے مختلف اوقات میں مختلف نوعیت کے جیومیٹریکل زاویے باہمی طور پر تشکیل دیتے ہیں، ان زاویوں کی علم فلکیات میں بڑی اہمیت ہے، سالہا سال کے مشاہدات اور تجربات سے ان زاویوں کے اثرات ریکارڈ کیے گئے ہیں، اصطلاحی طور پر ان زاویوں کو ”نظرات“ کہا جاتا ہے، نومبر کے مہینے میں اہم سیارگان باہمی طور پر تثلیث کے چار سعد زاویے تشکیل دیں گے اور تسدیس کے سات زاویے بنیں گے، یہ بھی سعد اثر رکھتے ہیں جب کہ اسکوائر کے دو زاویے ہوں گے اور مقابلے کا ایک زاویہ اس کا اثر نحس یا ناموافق ہوتا ہے، دو سیارے جب باہم ایک دوسرے کے مقابل ہوتے ہیں تو اسے مقابلے کی نظر کہا جاتا ہے، اس ماہ مقابلے کا ایک زاویہ بنے گا، جب دونوں ایک ہی برج میں ایک ہی درجے پر اکٹھا ہوں تو اسے ”قران“ کہتے ہیں، اس ماہ دو قرانات بھی ہوں گے، مختلف سیاروں کے اس ماہ تشکیل پانے والے زاویوں کی تفصیل درج ذیل ہے۔
5 نومبر: سیارہ مریخ اور پلوٹو کے درمیان اسکوائر کا نحس زاویہ تشکیل پائے گا، دونوں سیارے طاقت اور توانائی کا اظہار کرتے ہیں، جارحانہ صورت حال پیدا ہوتی ہے، اس وقت میں تنازعات بڑھتے ہیں اور اکثر حادثات و سانحات یا جنگ و جدل کی صورت حال کا اندیشہ رہتا ہے، ملکی اور بین الاقوامی صورت حال میں پاور پلے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، عام آدمی اس زاویے سے زیادہ متاثر نہیں ہوتا، واضح رہے کہ ایسے زاویے بہت پہلے سے اپنا اثر شروع کرتے ہیں اور بہت بعد تک یہ اثرات جاری رہتے ہیں۔
8 نومبر: سیارہ شمس اور زحل کے درمیان تسدیس کا سعد زاویہ اور ساتھ ہی سیارہ شمس اور نیپچون کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ قائم ہورہا ہے، یہ صورت حال حکومت کے لیے معاون و مددگار ہوگی، انھیں اپنے مسائل یا مشکلات پر قابو پانے میں مدد ملے گی، عام افراد کے لیے یہ وقت موافق ہوگا جس میں سرکاری ملازمین کو بہتر مواقع مل سکتے ہیں، غیر سرکاری افراد ایسے کاموں سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں جن کا تعلق گورنمنٹ سے ہو، اس وقت علاج معالجہ بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔
9 نومبر: سیارہ زحل اور نیپچون کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ فوری نوعیت کے اثرات ظاہر نہیں کرتا، ایسے زاویے مستقبل میں غیر معمولی تبدیلیوں کی نشان دہی کرتے ہیں، کان کنی اور دیگر زمین سے متعلق کاموں مثلاً زراعت وغیرہ میں نئے رجحانات اور امکانات کو فروغ ملتا ہے۔
10 نومبر: عطارد اور پلوٹو کے درمیان تسدیس کا زاویہ میڈیا کی فعالیت اور جارحانہ کارکردگی ظاہر کرتا ہے، عام افراد اس وقت بات چیت اور گفت و شنید میں بھی اپنی بات پر زور دیتے اور اپنی بات منوانے کے لیے دباو ¿ ڈالتے نظر آتے ہیں۔
11 نومبر: شمس اور عطارد کا قران مختلف لوگوں کے لیے مختلف اثرات کا حامل ہوتا ہے لیکن مجموعی طور پر نحس اثرات رکھتا ہے، یہ وقت سفر میں رکاوٹ یا التوا لاتا ہے، کسی بھی نوعیت کی بات چیت یا مذاکرات کے لیے مثبت اثر نہیں رکھتا، اس وقت کسی نئی پیش رفت سے باز رہنے کی ضرورت ہوگی۔
12 نومبر: مریخ و مشتری کے درمیان تسدیس کی نظر سعد اثر رکھتی ہے،مشینری اور ٹیکنیکل نوعیت کے معاملات میں بہتری آتی ہے، البتہ ملک میں یہ زاویہ نئے آئینی تنازعات لاسکتا ہے، بیرونی دشمن زیادہ فعال ہوں گے، عام افراد کو مالی اور دیگر ترقیاتی کاموں میں فائدہ ہوگا۔
13 نومبر: سیارہ عطارد و زحل کے درمیان تسدیس کا زاویہ اور شمش و پلوٹو کے درمیان بھی تسدیس کا زاویہ قائم ہوگا، عوامی بہتری سے متعلق فیصلے و اقدام ہوسکتے ہیں، میڈیا میں دلچسپ خبریں سامنے آئیں گی، یہ وقت عام افراد کے لیے طویل المدت منصوبہ بندی میں معاون و مددگار ہوگا، نئے معاہدات پائیدار اور مفید ثابت ہوں گے۔
14 نومبر: عطارد اور نیپچون کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ ، نشرواشاعت سے متعلق معاملات میں بہتری لائے گا، عام افراد کے لیے یہ وقت سفری امور کو آگے بڑھانے یا نیا سفر کرنے کے لیے بہتر ہے، اس وقت میں تحریری ، تقریری صلاحیتوں کا بہتر اظہار ہوسکتا ہے، تخلیقی سرگرمیاں بہتر رہیں گی۔
اسی روز زہرہ و نیپچون کے درمیان اسکوائر کا نحس زاویہ ہے، رومانی معاملات میں محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی، کوئی دھوکا یا فراڈ ہوسکتا ہے،منگنی و نکاح وغیرہ میں بھی دیکھ بھال کے فیصلے کیے جائیں، جیسا نظر آرہا ہوگا درحقیقت ویسا نہیں ہوگا۔
24 نومبر: زہرہ اور مشتری کے درمیان قران کا زاویہ نہایت اہمیت رکھتا ہے، اسے ”قران السعدین“ بھی کہا جاتا ہے، عام افراد کے لیے یہ وقت ترقیاتی دلچسپیاں لاتا ہے، دو افراد کے باہمی تعلقات میں بہتری آتی ہے لیکن پاکستان کے زائچے کے مطابق یہ بہتر وقت نہیں ہوگا، نئے حادثات جنم لے سکتے ہیں۔
اسی تاریخ کو مریخ اور یورینس کے درمیان مقابلے کی نظر قائم ہوگی، غیر معمولی اثرات اور چونکا دینے والے واقعات سامنے آسکتے ہیں، کوئی غیر ملکی فیصلہ یا اقدام اہمیت اختیار کرے گا، ہماری توقع کے خلاف اچانک کوئی نئی صورت حال سامنے آسکتی ہے، عام افراد کو بھی اس نحس نظر میں محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی، کسی ایکسیڈنٹ کے اندیشے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا یا کوئی اور بڑا حادثہ رواں صورت حال کا رخ بدل سکتا ہے۔
28 نومبر: عطارد اور نیپچون کے درمیان تثلیث کا زاویہ دوسری بار قائم ہوگا، یہ سعد اثر رکھتا ہے اور اس وقت تخلیقی نوعیت کی سرگرمیاں فائدہ بخش رہی ہوں گی، تحریر و تقریر یا پیچیدہ نوعیت کے مسائل کو حل کرنے میں مدد ملے گی،اسی تاریخ کو عطارد اور یورینس کے درمیان بھی تثلیث کا سعد زاویہ قائم ہوگا اور میڈیا میں اچھی ، خوش گوار خبروں کی توقع رکھنا چاہیے، عام افراد کے لیے یہ وقت غیر متوقع طور پر فوائد لاسکتا ہے، کسی نئے سفر کا امکان اور نئے آئیڈیاز یا نئی اطلاعات کا حصول ممکن ہوگا۔
30 نومبر: عطارد اور زحل کے درمیان تسدیس کا زاویہ بھی دوبارہ قائم ہوگا، یہ بھی سعد اثر رکھتا ہے اور اس وقت نئے ایگریمنٹ یا طویل مدت کے منصوبوں کے لیے کام کرنا چاہیے، علاج معالجے کے لیے بھی بہتر وقت ہوگا۔

شرف قمر

سیارہ قمر کو برج ثور میں اعلیٰ پوزیشن حاصل ہوتی ہے جسے شرف کہتے ہیں، ہر ماہ یہ سعد اور مبارک وقت آتا ہے،اس ماہ قمر اپنے شرف کے برج میں پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 11 نومبر بروز پیر 04:17 am پر داخل ہوگا اور 13 نومبر بروز بدھ دوپہر 01:45 pm تک رہے گا لیکن اس تمام عرصے میں درجہ ءشرف پر 11 نومبر کو 08:12 am سے 10:08 am تک ہوگا، تقریباً 2 گھنٹے کا یہ وقت نہایت مبارک تسلیم کیا گیا ہے، اس وقت اسمائے الٰہی یا رحمن یا رحیم 556 مرتبہ اول آخر درود شریف کے ساتھ پڑھ کر اپنے جائز مقاصد کے لیے دعا کرنا چاہیے، خیال رہے کہ پیر کا دن بھی سیارہ قمر سے منسوب ہے اور عروج ماہ بھی ہے لہٰذا یہ نہایت ہی مو ¿ثر وقت ہے، اس وقت میں سیارہ قمر سے متعلق دیگر اعمال بھی کیے جاسکتے ہیں، خصوصاً لوح قمر نورانی یا برکاتی انگوٹھی وغیرہ اس وقت میں تیار کی جاسکتی ہے۔

قمر در عقرب

قمر جب برج عقرب کے تین درجے پر پہنچتا ہے اس کی قوت ختم ہوجاتی ہے، اس وقت کو انتہائی ناقص اور منحوس خیال کیا جاتا ہے، اس دوران میں کوئی اچھا ، ترقیاتی یا منگنی بیاہ وغیرہ کا کام نہیں کرنا چاہیے،اس ماہ قمر اپنے برج ہبوط میں بروز اتوار 24 نومبر کو پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 10:58 am پر داخل ہوگا اور 26 نومبر بروز منگل 01:10 pm تک برج عقرب میں رہے گا، اپنے درجہ ءہبوط پر 24 نومبر کو 02:17 pm سے 15:56 pm تک رہے گا۔
اس خراب وقت سے بھی ایسے کام لیے جاسکتے ہیں جن میں بیماریوں سے نجات ، بری عادتوں سے چھٹکارا اور دشمنوں سے تحفظ کے لیے عمل کیے جاتے ہیں، اس وقت علاج معالجہ کرانا بہتر ہوتا ہے،ایک چھوٹا سا آسان عمل یہاں دیا جارہا ہے جس سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔

مخالف کی زبان بندی

عین گہن کے وقت مندرجہ ذیل سطور کالی یا نیلی روشنائی سے لکھیں یا سیسے کی تختی پر کسی نوکدار چیز سے کندہ کریں اور پھر کسی بھاری چیز کے نیچے دبا دیں یا کسی نم دار جگہ دفن کر دیں۔ انشاءاﷲ وہ شخص آپ کی مخالفت سے باز آجائے گا۔
ا ح د ر س ص ط ع ک ل م و ہ لا د یا یا غفور یا غفور عقد اللسان فلاں بن فلاں فی الحق فلاں بن فلاں یا حراکیل

ہفتہ، 12 اکتوبر، 2019

رات دن گردش میں ہیں سیارگاں

20 سال بعد اہم سیاروی اجتماع، نئے رنگ ڈھنگ ، نئے نظریات

علم نجوم فلکیاتی سائنس ہے جس میں کرئہ قرض کے سات حرکت کرتے ہوئے دیگر اجرام فلکی کی گردش کا مطالعہ کیا جاتا ہے، ہماری کہکشاں کے معلوم سیارگان کی پوزیشن اور ان کے درمیان قائم ہونے والے باہمی زاویے اس مطالع میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، علم ہیئت (Astronomy) اگر فلکیاتی مشاہدات کا نام ہے تو علم نجوم (Astrology) فلکیاتی مشاہدات سے دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں سے آگاہی کا نام ہے، یہ سائنس ہزاروں سال سے مشاہداتی اور تجرباتی مراحل سے گزر کر اب اس مقام پر ہے کہ ماضی کے سیاروی اجتماعات یا زاویوں کی روشنی میں حال کے ایسے ہی اجتماعات اور زاویوں پر گفتگو کی جاسکتی ہے، یہ بالکل ایک تجزیاتی اور حسابی عمل ہے، اس میں ہر گز کسی غیب دانی کا کوئی عنصر شامل نہیں ہے، بدقسمتی سے ہمارے ملک میں اس قسم کی باتیں علم نجوم کے حوالے سے پھیلائی جاتی ہیں اور سادہ لوح عوام کو گمراہ کیا جاتا ہے، یاد رہے کہ ستارہ شناسی اور ستارہ پرستی میں بڑا فرق ہے، ماضی بعید میں دنیا بھر میں ستارہ پرستی عام رہی ہے اسی لیے دوسرے خلیفہ ءراشد حضرت عمر ؓ نے جب محسوس کیا کہ سمندر میں جہاز رانی ضروری ہے اور اس ضرورت کے لیے علم ہیئت سے واقفیت بھی ضروری ہے تو آپ نے فرمایا ”لوگوں علم نجوم سیکھو مگر رک جاو ¿، مبادہ ستارہ پرستی میں مبتلا نہ ہوجاو ¿“
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ اللہ رب العزت کا قائم کردہ نظام کائنات ایک مخصوص حسابی سسٹم کے تحت چل رہا ہے، وہ خود فرماتا ہے کہ سیارے اپنے اپنے دائروں میں تیر رہے ہیں اور سورج کی مجال نہیں کہ قمر کو پکڑ لے اور قمر بھی ایسا نہیں کرسکتا، مفہوم یہ ہے کہ تمام سیارے اللہ کے قائم کردہ نظام کے تابع ہےں اور اپنی اپنی گردش میں مصروف ہیں، ان کی گردش صرف دن اور رات یا موسمیاتی تغیر و تبدل تک محدود نہیں ہیں بلکہ زمانوں کی تبدیلی بھی ان کی گردش کا طویل مدتی نتیجہ ہوتی ہے، یہ حقیقت سالہا سال کے ایسٹرولوجیکل مشاہدے اور مطالع سے ثابت ہوچکی ہے۔
اکثر یہ سیارگان جب کسی ایسی خاص پوزیشن میں آتے ہیں جو معمول کے خلاف اور برسوں میں کبھی تشکیل پاتی ہے تو ماہرین فلکیات ان پر ضرور غوروفکر کرتے ہیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آنے والے زمانوں میں کیا توقعات کی جاسکتی ہیں، تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہمارا نظام کائنات منجمد نہیں ہے، ازل سے ہی اس میں تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں، یہ تبدیلیاں صرف ارضیاتی ہی نہیں معاشرتی، نظریاتی اور علمی ہوتی ہیں، قوموں کے عروج و زوال ان تبدیلیوں کے مظہر ہیں۔
26 دسمبر 2019 ءکو ایسا ہی ایک اہم سیاروی اجتماع ہونے والا ہے یعنی تقریباً سات اجرام فلکی ایک ہی برج قوس میں جمع ہوں گے،یونانی سسٹم کے مطابق یہ اجتماع برج جدی میں ہوگا،جب کہ ویدک سسٹم کے مطابق برج قوس میں، دونوں صورتوں میں برج کا حاکم سیارہ اس اجتماع میں شامل ہوگا۔
عزیزان من! ایسے سیاروی اجتماعات ماضی میں بھی ہوتے رہے ہیں اور ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ایسے اجتماعات کے بعد دنیا بہت بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کے مراحل سے گزرتی ہے، گویا ایک نئے دور یا زمانے کا آغاز ہوتا ہے، موجودہ اجتماع سے قبل ایسا ہی اجتماع برج حمل میں 4 مئی 2000 ءمیں ہوا تھا، ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے بعد دنیا کس طرح تبدیل ہوئی، برج حمل کا حاکم سیارہ مریخ طاقت و توانائی سے متعلق ہے لہٰذا دنیا بھر میں طاقت کا استعمال گزشتہ بیس سال سے جاری ہے، اس کے بعد نائن الیون کا خوف ناک واقعہ پیش آیا اور اس کے نتیجے میں امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا، عراق پر امریکی حملہ بھی اس اجتماع کے بعد ہی ہوا، ساری دنیا میں عالم اسلام کے خلاف دہشت گردی کا پروپیگنڈا کیا گیا، امریکا جو کہ فطری طور پر ایک جنگ جو قوم ہے، اپنی طاقت اور اثرورسوخ کی بنیاد پر دنیا بھر میں کوئی نہ کوئی تنازع کھڑا کرتا رہتا ہے، بہر حال سن 2000 ءسے اور 2019ءتک دنیا میں جو تبدیلیاں آئیں اور جو حالات و واقعات رہے، سب کے سامنے ہیں، اس سے بھی پیچھے ہم جائیں تو تقریباً بیس سال قبل یکم ستمبر 1981 ءکو ایسا ہی سیاروی اجتماع برج سنبلہ میں ہوا جس کے نتیجے میں روس افغانستان میں داخل ہوا اور پھر مسلسل جنگ جس میں امریکا پوری طرح شامل رہا، روس ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا، بعد میں مشرقی جرمنی اور مغربی جرمنی ایک ہوگئے،ایران ، عراق جنگ، کویت پر عراقی حملہ اور پھر امریکا کی ایران کے خلاف کارروائی گویا بین الاقوامی سطح پر غیر معمولی تبدیلیاں سامنے آئیں۔
مزید ماضی میں دیکھیں تو ایسا سیاروی اجتماع 5 فروری 1962 ءکو برج جدی میں نظر آتا ہے جس کے بعد روس اور امریکا کے درمیان سرد جنگ اپنے عروج پر پہنچی، دنیا کے دیگر ممالک کے درمیان زمینی تنازعات پر جنگ و جدل کا بازار گرم رہا، پاکستان اور بھارت کے درمیان دو جنگیں ہوئیں، پاکستان دولخت ہوگیا، اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان دو جنگیں ہوئیں، بیت المقدس اسرائیل کے قبضے میں چلا گیا، ایسا ہی اجتماع 26 اپریل 1941 ءمیں برج حمل میں نظر آتا ہے جس کے بعد دنیا یکسر تبدیل ہوگئی تھی ، ایک بار پھر طاقت و توانائی کا بھرپور اظہار ہوا جس میں پہلی بار ایٹمی طاقت بھی استعمال کی گئی۔
26 دسمبر 2019 ءکو ہونے والا سیاروی اجتماع اس اعتبار سے بھی منفرد ہے کہ اسی وقت سورج گہن بھی ہوگا، یہ ایک الگ بحث ہوگی ، اہم بات یہ ہے کہ یہ اجتماع اس بار آئین و قانون ، مذہب اور نظریات کے برج قوس میں ہورہا ہے، موجودہ سیاروی اجتماع دنیا میں کیا تبدیلیاں لائے گا ؟ اس کا انحصار دنیا کے مختلف ممالک کے انفرادی زائچوں پر ہوگا، اس حوالے سے علیحدہ مضمون کی ضرورت ہے جو بہت جلد آپ کی نظر سے گزرے گا، بنیادی بات بہر حال یہ ہے کہ اب دنیا نئے نظریات ، نئے قوانین اور آئینی ضروریات پر زور دے گی، طاقت کے استعمال کے بجائے نظریاتی اور آئینی محاذ آرائی نمایاں ہوگی، مذہبی انتہا پسندی یا کسی بھی نظریے کی انتہا پسندی اور شدت میں اضافہ ہوگا۔
فی الوقت ہمارا موضوع صرف پاکستان ہے اور پاکستان کا پیدائشی برج ثور تین درجہ 55 دقیقہ ہے، چناں چہ یہ اہم سیاروی اجتماع پاکستان کے آٹھویں گھر میں ہوگا، اس گھر کو کایا کلپ کا گھر بھی سمجھا جاتا ہے یعنی نئی زندگی بعد از موت۔
واضح رہے کہ پاکستان کے علاوہ بھارت ، مصر، ملائیشیا، بحرین اور میکسیکو کا پیدائشی برج بھی ثور ہے لیکن دیگر ملکوں کے زائچے اپنی پیدائشی سیاروی پوزیشن کے اعتبار سے ہی زیر بحث آسکتے ہیں، پاکستان کے زائچے میں اس سیاروی اجتماع کے اثرات کسی حد تک دوسرے ممالک سے مختلف ہوسکتے ہیں، اس اجتماع کے وقت راہو دوسرے گھر میں ، مریخ ساتویں گھر میں اور نہایت حساس پوزیشن میں ہوگا جب کہ شمس ، قمر ، عطارد، مشتری، زحل ،پلوٹو اور دیگر آٹھویں گھر میں ہوں گے، راہو کیتو کی موجودگی کے سبب قران شمس و قمر سورج گہن کا باعث بھی ہوگا، گویا زائچے کے اہم گھروں یعنی تیسرے، چوتھے، پانچویں ، آٹھویں، دسویں گھروں کے مالکان اس اجتماع میں شریک ہوں گے، تیسرا گھر ایکشن ، نئے فیصلوں اور اقدام کا ہے، اس کا تعلق ذرائع ابلاغ سے بھی ہے، اس کا حاکم قمر شمس سے قران کے سبب غروب ہوگا، چوتھے کا حاکم شمس ہے جس کا تعلق داخلی امور سے ہے، یہ راہو کیتو سے قریبی قران کی وجہ سے متاثرہ ہوگا، پانچویں گھر کا حاکم عطارد بھی غروب ہوگا اور آٹھویں گھر کا حاکم مشتری نہ صرف یہ کہ غروب ہوگا بلکہ راہو کیتو سے بھی متاثر ہوگا، زحل اور پلوٹو باہم قریبی قران میں ہوں گے، گویا زائچہ ءپاکستان کے تیسرے ، چوتھے ، پانچویں، آٹھویں اور دسویں گھر کے سیارگان بری طرح متاثر ہوں گے اور ان گھروں سے متعلق منسوبات بھی متاثر ہوں گی، مزید یہ کہ سیارہ مریخ زائچے کے ساتویں گھر میں رہتے ہوئے ساتویں، دسویں، پہلے اور دوسرے گھر کو متاثر کر رہا ہوگا، یہ صورت حال کسی طرح بھی ملک و قوم اور موجودہ حکومت کے لیے بہتر نہیں ہے، وزیراعظم عمران خان پہلے ہی حالات کی سختی کا شکار ہیں جس میں دیگر سیکورٹی کے خطرات بھی شامل ہیں، اس صورت حال میں وہ کیا فیصلے کرتے ہیں اور ان فیصلوں کے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں اس حوالے سے کئی امکانات موجود ہیں جن پر اظہار خیال مناسب نہیں ہے،صرف اتنا سمجھ لینا کافی ہوگا کہ وہ ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جو کسی مقابلے میں کمزوری دکھائیں اور ہتھیار ڈال دیں، آج کل میڈیا میں اس قسم کی باتیں بھی ہورہی ہیں کہ کوئی مائنس ون فارمولا زیر بحث ہے، اسمبلی ہی کے ذریعے تبدیلی لانے کے منصوبے زیر غور ہیں، وغیرہ وغیرہ، ہم پہلے اس اندیشے کا کئی بار اظہار کرچکے ہیں کہ عمران خان کسی انتہائی ناپسندیدہ صورت حال میں اسمبلی توڑنے کا قدم بھی اٹھا سکتے ہیں۔
سیارہ زہرہ جو زائچہ ءپاکستان میں چھٹے گھر کا حاکم اور فوج و بیوروکریسی ، عدلیہ، الیکشن کمیشن کے عملی فیصلوں اور اقدام کو ظاہر کرتا ہے، اس موقع پر نویں گھر میں اور حساس مقام پر ہوگا، گویا کسی ایمرجنسی کے نفاذ کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

سیاروی اجتماع کے طویل المدت اثرات

قدیم کلاسیکل ویدک ایسٹرولوجی میں ایسی پوزیشن کسی مخصوص ”یوگ“ کو ظاہر کرتی ہے، ویدک یوگ ودّیا کی قدیم کتابیں ہمیں بتاتی ہیں کہ جب تمام سیارگان کسی ایک برج یا دو یا تین برجوں میں قابض ہوں ، اس صورت حال کو ”سولہ یا گولا یوگ“ کہا جاتا ہے، کسی شخص کے انفرادی زائچے میں ایسا یوگ نہایت منحوس تصور کیا جاتا ہے، وہ صاحب زائچہ کو ظالم بناتا ہے، دولت اور ہمت سے محروم کرتا ہے، جنگ جویانہ رجحان اور اس کے ساتھ ہی زخمی ہونے کا امکان ظاہر کرتا ہے لیکن ایسے یوگ کو جب کسی ملک یا قوم کے زائچے میں دیکھا جائے گا تو یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ملک یا قوم ظالمانہ روش اختیار کرے گی، معاشی بدحالی کا شکار ہوگی اور کسی جنگ کے نتیجے میں نقصان اٹھائے گی، کسی بھی یوگ کی مزید وضاحت کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اس بات پر نظر رکھی جائے کہ وہ یوگ ملک کے زائچے میں کون سے گھروں میں تشکیل پارہا ہے جیسا کہ پہلے ہم بتاچکے ہیں کہ برج ثور سے تعلق رکھنے والے ممالک کا آٹھواں گھر اس سیاروی اجتماع کا مرکز ہے جب کہ دیگر ملکوں کے زائچوں میں اس کی پوزیشن مختلف ہوگی لیکن یہ طے ہے کہ موجودہ یوگ دیگر ممالک کے زائچوں میں خواہ کسی بھی گھر میں ہو ، سعد اثرات کا حامل نہیں ہوگا۔
برج ثور سے متعلق ممالک کی ہم نشان دہی کرچکے ہیں، دیگر اہم ممالک میں برج سرطان کے زیر اثر ممالک میں امریکا ، روس، فرانس، ایران، ترکی شامل ہیں، ان ملکوں کے چھٹے گھر میں یہ سیاروی اجتماع ہوگا جس کے نتیجے میں نئے تنازعات جنم لیں گے اور نئی محاذ آرائیاں سامنے آئیں گی۔
برج سنبلہ کے زیر اثر انگلینڈ ، جرمنی، کنیڈا، برما، لبنان اور افغانستان ہیں، ان ملکوں کے زائچوں میں یہ اجتماع چوتھے گھر میں ہوگا، داخلی صورت حال میں انتشار اور بدنظمی دیکھنے میں آئے گی، عوام کو مشکلات کا سامنا ہوگا۔
برج عقرب کے تحت شام ، شمالی کوریا اور لیبیا ہے،موجودہ اجتماع زائچے کے دوسرے گھر میں ہوگا جس کا تعلق اسٹیٹس ، معاشی اور اقتصادی صورت حال سے ہے، اچھی بات یہ ہے کہ سیارہ مریخ اور زہرہ اس قران میں شامل نہیں ہوں گے لہٰذا ان ملکوں میں صورت حال کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے گی لیکن ایک صبر آزما وقت گزرنے کے بعد۔
برج قوس کے زیر اثر سعودی عربیہ ہے، اس کے زائچے میں موجودہ اجتماع زائچے کے پہلے گھر میں ہوگا اور زائچے کا حاکم سیارہ مشتری غروب ہوگا، مستقبل میں نمایاں طور پر آئینی و نظریاتی تبدیلیاں سعودیہ عرب میں آسکتی ہیں، ملک کسی عوامی احتجاج کی طرف بڑھ سکتا ہے، مذہبی شدت پسندی میں کمی آئے گی، شاہی نظام کو خطرات پیدا ہوسکتے ہیں۔
برج جدی کے زیر اثر چین، جاپان، اسرائیل اور یوکرائن ہیں، موجودہ اجتماع زائچے کے بارھویں گھر میں ہوگا اور انتہائی نقصان دہ اثرات ڈالے گا، دیگر ممالک سے تنازعات بڑھیں گے اور اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
عزیزان من! یہ موضوع خاصا تفصیل طلب ہے، اس پر تفصیلی گفتگو کے لیے ہر ملک کے زائچے پر علیحدہ تجزیاتی نظر ڈالنے کی ضرورت ہے، چناں چہ ہم نے اختصار کے ساتھ اہم نکات بیان کردیے ہیں، ممکن ہوا تو آئندہ علیحدہ علیحدہ مختلف ممالک کے زائچوں پر تجزیاتی نظر ڈالنے کی کوشش کریں گے۔


ہفتہ، 5 اکتوبر، 2019

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی متنازع شخصیت

وہ زندگی کے ہر معاملے کو کاروباری نظر سے دیکھتے ہیںامریکا درحقیقت ایک مشکل اور چیلنجنگ دور سے گزر رہا ہے



متنازع شخصیت کے مالک مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ 14 جون 1946 ءکو جمیکا میں صبح 10:54 am پر اس جہان فانی میں تشریف لائے، ویدک سسٹم کے مطابق ان کا شمسی برج ثور ہے اور برتھ سائن اسد (Leo) ہے جب کہ قمری برج عقرب اور پیدائشی نچھتر جیشیٹھا ہے۔
برج اسد کو بادشاہوں کا برج کہا جاتا ہے،طالع کے درجات 6 درجہ 51 دقیقہ ہیں اور سیارہ مریخ برج اسد میں طالع کے درجات سے قران کر رہا ہے،مشتری دوسرے گھر میں برج سنبلہ میں ہے اور راہو کی نظر کا شکار ہے،یہ اس بات کی نشان دہی ہے کہ صاحب زائچہ ایک گیمبلر ہیں، ان کی زندگی میں داو ¿ لگانے ، بلف کرنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔
چوتھے گھر میں کیتو اور قمر حالت قران میں ہےں،دسویں گھر میں راہو اور شمس حالت قران میں ہیں گویا راہو کیتو محور کے ساتھ زائچے کے دو اہم سیارگان قمر اور شمس بری طرح متاثرہ ہیں، دوسرے گھر کا حاکم سیارہ عطارد گیارھویں گھر میں طاقت ور پوزیشن رکھتا ہے،گویا اس زائچے کے سب سے زیادہ سعد و باقوت سیارے عطارد اور مشتری ہےں،زہرہ اور زحل بارھویں گھر میں ہیں، زحل کی بارھویں گھر میں موجودگی ان کے مشیروں کے مشوروں کو مشکوک بناتی ہے اور مسٹر ٹرمپ کے لوگوں سے تعلقات کو بھی غیر مخلصانہ ظاہر کرتی ہے۔
سیارہ قمر کا تعلق انسانی زندگی میں دماغ سے ہے، جب کہ سیارہ عطارد ذہن سے اور ذہانت سے وابستہ ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ غیر معمولی ذہین ، ہوشیار، چالاک شخصیت کے مالک ہیں لیکن قمر کی برج عقرب میں موجودگی اور راہو کیتو سے اشتراک دماغی کجروی ، کسی حد تک پاگل پن ظاہر کرتا ہے، قمر زائچے کے بارھویں گھر کا حاکم ہے، اس کی یہ پوزیشن ظاہر کرتی ہے کہ مسٹر ٹرمپ کی زندگی میں بہت کچھ ایسا بھی ہے جو دنیا کی نظروں سے اوجھل ہے ، وہ جیسے نظر آتے ہیں درحقیقت ویسے نہیں ہیں۔
بے شک اسد افراد شاہانہ مزاج ، فیاض، بالغ نظر اور بہت سی دیگر اعلیٰ صفات کے حامل ہوتے ہیں،خاص طور پر انتظامی صلاحیتیں بھرپور ہوتی ہیں، یہ لوگ بزنس مائنڈ ہوتے ہیں اور اپنے ذاتی بزنس میں بہت ترقی کرتے ہیں لیکن کسی بھی زائچے میں کسی بھی برج کی بنیادی خصوصیات میں منفی یا مثبت اثرات کا جائزہ لینے کے لیے اس برج کے حاکم کی پوزیشن دیکھی جاتی ہے،مزید یہ کہ اس برج پر دیگر سیارگان کے اثرات کس نوعیت کے ہیں، چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ برج اسد کا حاکم سیارہ شمس کمزور ہے اور راہو کیتو محور میں پھنس کر برج اسد کی مثبت خصوصیات کو تباہ کر رہا ہے،راہو سے قران اور کیتو سے مقابلہ ، بالغ نظری کے بجائے کینہ پروری اور دیگر منفی کمزوریوں کی نشان دہی کر رہا ہے،راہو کی مشتری پر بھی نظر ہے جو پانچویں شعور کے گھر کا حاکم ہے لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ صاحب زائچہ کا شعور بھی منفی اثرات سے پاک نہیں ہے، البتہ راہو اور مشتری کی نظر ایسے بزنس میں بے پناہ کامیابی کا باعث ہوسکتی ہے جو اخلاقی نظریات کے مطابق ناجائز قرار پاتے ہیں، پیدائشی برج کے حاکم شمس کی متاثرہ پوزیشن صاحب زائچہ کے نزدیک جائز و ناجائز کے فرق کو زیادہ اہمیت نہیں دیتی، صرف اپنے ذاتی مفاد کو اولیت دی جاتی ہے،اس کے علاوہ برج اسد کی انا پرستی بھی عروج پر پہنچتی ہے، ایسے لوگ تنقید برداشت نہیں کرسکتے اور تعریف کے خواہش مند ہوتے ہیں۔
مریخ نویں گھر کا حاکم ہوکر طالع کے درجات سے قران کر رہا ہے،جس کے نتیجے میں مذہبی اور نظریاتی انتہا پسندی نمایاں ہوتی ہے، قمر اور شمس کے ساتھ کیتو کے نظرات بھی ہیں جو نظریاتی طور پر زیادہ شدت پسندی لاتے ہیں، مثبت پہلو یہ ہے کہ ایسے شخص پر قسمت ہمیشہ مہربان رہتی ہے۔
قمر برج عقرب میں ہبوط یافتہ اور راہو کیتو سے متاثرہ ہوکر فطری طور پر حسد ، جیلسی ، تنگ نظری اور دیگر اخلاقی برائیوں کو جنم دیتا ہے،چوں کہ برج عقرب ایک واٹر سائن ہے اور قمر یہاں ہبوط کا شکار ہوتا ہے،قمر کا تعلق دماغ سے ہے لہٰذا ایسے افراد راہو، کیتو کے اثرات کی وجہ سے اگر ذہنی اور نفسیاتی مریض بن جائیں تو حیرت نہیں ہونی چاہیے، اب تک اخبارات میں موصوف کے بارے میں جو جنونی نوعیت کے قصے سامنے آئے ہیں وہ قمر کی اس خرابی کی وجہ سے ہےں۔
سونے پر سہاگا یہ کہ قمر چاند کی منزل جیشٹھا میں ہے،یہ بڑا ہی جارح اور جنونی نچھتر ہے،اگرچہ اس پر ذہانت کے سیارے عطارد کی حکمرانی ہے لیکن زائچے کی دیگر آراستگی کا رُخ منفی ہے لہٰذا غیر معمولی ذہانت کا رُخ بھی منفی ہوگا، مشہور امریکی ارب پتی ہاورڈ ہیوز کی پیدائش بھی اسی نچھتر میں ہوئی تھی جو ”خبطی ارب پتی“ کے نام سے مشہور ہوا، ان لوگوں میں منفی اثرات کی وجہ سے عجیب و غریب عادتیں یا رجحانات پیدا ہوتے ہیں جو ابتدائی زندگی میں ہی نمایاں ہونے لگتے ہیں، ان کا حلقہ ءاحباب محدود ہوسکتا ہے یا وہ تنہائی پسند اور دوسروں سے الگ تھلگ رہنے لگتے ہیں،ایک گُھنی یا منافقانہ فطرت کا مشاہدہ اس نچھتر کی خصوصیات میں کیا جاسکتا ہے،ایک عجیب تضاد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سختی سے مذہبی رجحان ظاہر کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی مادّی آسائشوں کے متوالے بھی ہوتے ہیں،اکثر کیسوں میں مادّیت کے زیر اثر مذہب سے لاتعلق بھی ہوسکتے ہیں۔
اس نچھتر کا بنیادی محرک مادّی ترقی ہے، یہ لوگ خود خیالی اور خود توقیری کے مابین ایک باطنی جنگ میں مصروف رہتے ہیں،ایسٹرولوجی ایسے لوگوں کو گھمنڈ ، تکبر اور انانیت کی روک تھام کرنے کا مشورہ دیتی ہے،یہ لوگ چڑچڑے، بدمزاج اور جھگڑالو فطرت کے ہوسکتے ہیں،بے شک یہ اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کے سبب اعلیٰ مقام تک رسائی حاصل کرلیتے ہیں،اپنی فطرت میں یہ قمری منزل غیر انسانی (راکھشش) ہے، ایسے لوگ زندگی میں غیر معمولی کارنامے انجام دینے کے لیے بے چین ہوتے ہیں گویا وہ ایک عام زندگی پسند نہیں کرتے، دوسروں کے مقابلے میں کچھ نیا اور سب سے الگ کرنے یا کرکے دکھانے کی شدید خواہش رکھتے ہیں، گرم مزاج اور ہٹ دھرم ہوسکتے ہیں جس کی وجہ سے زندگی میں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اپنے اندازوں پر انحصار کرتے ہیں، دوسروں سے مشورہ لیتے ہوئے انھیں شرمندگی ہوتی ہے، فوری فیصلہ کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔
اس نچھتر (قمری منزل)کے زیر اثر پیدا ہونے والی دیگر مشہور شخصیات میں عیسائی فرقے کا بانی مارٹن لوتھر، ماہر فلکیات کوپر نیکس، اطالوی فلسفی نطشے، جرمن موسیقار موزارٹ، عظیم مصور ونسٹ وین گوگ، خبطی ارب پتی ہاورڈ ہیوز، بدنام زمانہ لارنس آف عربیہ،الپسینو، بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واج پائی،پاکستانی سیاست داں اور دانش ور رسول بخش پلیچو وغیرہ شامل ہیں۔ 
خیال رہے کہ فطری رجحانات کا جائزہ لیتے ہوئے مکمل زائچے کی ساخت پر نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے، مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ جس قمری منزل میں پیدا ہوئے ہیں ، اس میں پیدا ہونے والے بعض دیگر مشہور افراد کی بھی ہم نے نشان دہی کی ہے لیکن ضروری نہیں ہے کہ یہ تمام لوگ اپنی فطرت میں مکمل طور سے مسٹر ٹرمپ جیسے ہوں، ہاں یہ ضرور ہے کہ تقریباً 75 فیصد خصوصیات مشترک ہوں گی اور اس فرق کی وجہ کسی کے انفرادی زائچے کی جداگانہ ساخت ہوسکتی ہے،دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ہماری بعض خوبیاں دنیاوی معاملات میں اکثر خامیاں بن جاتی ہیں اور بعض خامیاں خوبیاں بن جاتی ہیں، مثلاً فیاضی، داد و دہش اگر ایک طرف عمدہ خصوصیات میں شمار ہوگی لیکن دنیاوی اعتبار سے کبھی کبھی سخت نقصان دہ بھی ثابت ہوتی ہے، رسک لینے کی فطرت اگر نقصان دہ ہوسکتی ہے تو کامیابی کی صورت میں غیر معمولی کارنامے انجام دینے میں بھی معاون ہوسکتی ہے، وہ مشہور شعر کو ضرور آپ نے سنا ہوگا 

گرتے ہیں شہ سوار ہی میدان جنگ میں
وہ طفل کیا لڑیں گے جو گھنٹوں کے بل چلیں

مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ رسک لینے والے اور نت نئے تجربات کرنے والے انسان ہیں، ان کے زائچے کی ساخت و پرداخت اگرچہ انھیں کچھ زیادہ ہی رسک لینے والا ، گیمبلر، بہت زیادہ اوور کانفیڈنس کا شکار بناتی ہے مگر ایسے ہی لوگ مثبت یا منفی کوئی غیر معمولی قدم بھی اٹھاسکتے ہیں، مسٹر ٹرمپ کی ظاہری و باطنی شخصیت سے آشنائی کے بعد ہم سمجھ سکتے ہیں کہ وہ کیا کرسکتے ہیں اور کیا نہیں کرسکتے۔
جیسا کہ پہلے نشان دہی کی گئی ہے کہ وہ ایک بزنس مائنڈ شخصیت کے مالک ہیں، اپنے کردار و عمل میں بھی بزنس کو اولیت دیتے ہیں اور ایک کامیاب بزنس مین ہیں،امریکا کا صدر بننے کے بعد انھوں نے امریکا کی معاشی ترقی کو اپنے ایجنڈے میں سرفہرست رکھا اور دیگر ملکوں سے اہم تجارتی معاہدات کیے، جب وہ سیاست میں آئے تو زائچے میں راہو کا مین پیریڈ (دور اکبر) جاری تھا، ان کا باقاعدہ رابطہ امریکا کی کسی پارٹی سے نہیں تھا، ماضی میں وہ ری پبلکن اور ڈیموکریٹ پارٹی کو وقتاً فوقتاً سپورٹ کرتے رہے ہیں،بہرحال صدارت کے لیے ان کی نام زدگی ری پبلکن پارٹی کی طرف سے ہوئی، سال 2016 ءمیں جب انھوں نے الیکشن میں حصہ لیا تو راہو کے مین پیریڈ میں سیارہ مریخ کا سب پیریڈ (دور اصغر) جاری تھا، مریخ ان کے زائچے کا لکی سیارہ ہے کیوں کہ نویں گھر (بھاگیہ استھان) کا مالک اور زائچے کے پہلے گھر میں براجمان ہے، انھیں الیکشن میں کامیابی حاصل ہوئی اور پھر 16 نومبر 2016 ءسے زائچے میں سیارہ مشتری کا مین پیریڈ اور سب پیریڈ شروع ہوا جو تاحال جاری ہے، مشتری کی پوزیشن زائچے میں بہت بہتر ہے اور وہ زائچے کے دوسرے گھر میں موجود ہے، جب کہ پانچویں گھر کا حاکم ہے، چناں چہ ان کے اسٹیٹس میں اضافہ ہوا اور انھوں نے گزشتہ سالوں میں اپنے مزاج اور فطرت کے مطابق جو اقدام اور فیصلے کیے وہ ساری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا باعث بن گئے، تاحال وہ اسی روش پر قائم ہیں، اس سال 4 جنوری 2019 ءسے زائچے میں سیارہ زحل کا سب پیریڈ شروع ہوا جو اگرچہ زائچے کا سعد سیارہ ہے لیکن زائچے کے بارھویں گھر میں موجود ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو بہت اچھے مشیر میسر نہیں آتے، چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اکثر اپنے مشیروں اور وزیروں سے خوش نہیں رہتے، انھیں تبدیل کرتے رہتے ہیں، موجودہ سال میں چوں کہ سیارہ زحل تقریباً سارا سال ہی راہو کیتومحور میں پھنسا رہا ہے لہٰذا اس سال بھی یقیناً انھیں اپنے مشیروں سے معقول مدد و معاونت نہیں ملی ہوگی، اسی طرح امریکی اسٹیبلشمنٹ سے بھی ان کے اختلافات سامنے آتے رہے ہیں اور ابھی تک ہیں۔ 
اگر زائچے کے پہلے گھر کا حاکم سیارہ متاثرہ ہو تو ایسے افراد اکثر عجیب و غریب حرکات کرتے نظر آتے ہیں، یہ پہلو بھی مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ کی لائف میں نمایاں ہیں اور آئندہ بھی رہے گا، اگلے سال وہ دوبارہ الیکشن میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں، ان کی کامیابی یا ناکامی کا درست فیصلہ تو اسی صورت میں ہوسکے گا جب ان کے مخالف امیدوار کے برتھ چارٹ کو بھی سامنے رکھا جائے لیکن خود ان کے برتھ چارٹ کی پوزیشن آئندہ سال بہت بہتر نظر نہیں آتی، خصوصاً ستمبر سے نومبر 2020 ءتک ، آئندہ سال ان کے زائچے میں زحل اگرچہ چھٹے گھر میں ہوگا اور اپریل ، مئی، جون میں سیارہ مشتری بھی چھٹے گھر میں ہبوط یافتہ ہوگا ، شاید انہی دنوں میں پارٹی ٹکٹ کا فیصلہ ہوگا، ممکن ہے انھیں پارٹی ٹکٹ سے بھی محروم ہونا پڑے، چناں چہ ان کی کامیابی کے بارے میں قوی امکانات نظر نہیں آتے، بہر حال امریکا کی تاریخ میں انھوں نے اپنا نام ایسے امریکی صدور کی فہرست میں لکھوالیا ہے جنھیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ آج کل ایک اسکینڈل کی زد میں ہیں اور اس کے نتیجے میں ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع ہوچکی ہے، یہ مسئلہ خاصی سنگین نوعیت اختیار کرسکتا ہے، ماضی میں صدر نکسن ایسی ہی صورت حال میں اپنے عہدے سے استعفا دینے پر مجبور ہوگئے تھے، یہ کارروائی اگر زیادہ طول پکڑے گی اور نومبر تک دراز ہوگی تو امکان ہے کہ وہ اس مواخذے سے بچنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں کیوں کہ نومبر میں سیارہ مشتری زائچے میں سپورٹنگ پوزیشن میں آچکا ہوگا لیکن نومبر سے جنوری تک تین مہینے ان کی شہرت اور حیثیت کو چیلنج کرنے والے خاصے نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔
جہاں تک آنے والے سال 2020 ءمیں ان کی ذاتی کارکردگی کا سوال ہے تو نئے سال میں ان کا سارا زور آنے والے الیکشن پر ہی رہے گا جس میں کامیابی کے امکانات بہت کمزور نظر آتے ہیں۔

امریکی برتھ چارٹ



صدر امریکا کے ساتھ ہی ایک نظر امریکی زائچے پر بھی ڈالنا ضروری ہے جو درحقیقت اس سال جون سے اچھی پوزیشن میں نہیں ہے، امریکا کے زائچے میں سیارہ شمس کا دور اکبر جاری ہے، شمس زائچے کا نہایت طاقت ور اور سعد سیارہ ہے لیکن اس سال فروری سے شمس کے دور اکبر میں سیارہ زحل کا دور اصغر چل رہا ہے جو آئندہ سال 26 جنوری تک جاری رہے گا، زحل امریکی زائچے کا سب سے زیادہ فعلی منحوس سیارہ ہے، دیگر سیارگان کی پوزیشن بھی خاصی خراب نظر آتی ہے، چناں چہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ موجودہ سال امریکا کے لیے بہت اچھا سال نہیں رہا ہے اور ابھی تک صورت حال بہتر نہیں ہے، اندرونی خلفشار، حادثات، سمندری طوفان، عوام میں بے چینی اور اضطراب کے علاوہ بیرون ملک معاملات بھی اطمینان بخش نہیں ہیں ، ایران سے محاذ آرائی اپنے عروج پر ہے اور اس اندیشے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ امریکا ایران کے خلاف کوئی سخت کارروائی کر بیٹھے، افغانستان میں بھی طالبان سے جو معاہدہ ہونے والا تھا اسی خراب صورت حال کی وجہ سے نہیں ہوسکا اور آنے والے مہینوں میں اس کا امکان بھی نظر نہیں آتا، افغانستان میں امریکا کے لیے مزید مسائل بڑھ سکتے ہیں، اسی طرح مشرق وسطیٰ میں بھی امریکی کردار پر نئے سوالات اٹھیں گے جو اس کی ساکھ کے لیے نقصان دہ ہوں گے، امریکی خارجہ پالیسی بھی نئے تنازعات اور مسائل کا شکار ہوگی، امریکی زائچے کے مطابق 15 نومبر سے 15 دسمبر تک امریکا کے لیے خاصا مشکل اور نئے چیلنج لانے والا وقت ہوگا جس میں صدر ٹرمپ کا کردار پہلے سے بھی کچھ زیادہ ہی متنازع ہوسکتا ہے۔
26 جنوری 2020 ءسے امریکی زائچے میں سیارہ عطارد کا دور اصغر شروع ہوگا تو صورت حال تبدیل ہوگی اور امریکا موجودہ دورانی صورت حال سے نکلنے میں کامیاب ہوسکے گا، مرکری کا سب پیریڈ 2 دسمبر 2020 ءتک جاری رہے گا اور امکان یہی ہے کہ اس عرصے میں امریکا کو افغانستان سے نکلنے کا موقع بھی مل سکے گا، امریکا کی خارجہ پالیسی میں بھی نمایاں تبدیلیاں آئیں گی جو مثبت ہوں گی (واللہ اعلم بالصواب)

ہفتہ، 28 ستمبر، 2019

اکتوبر کی فلکیاتی صورت حال ، انتظامی تبدیلیوں کا مہینہ

نئے حادثات کا اندیشہ، بھارت کی طرف سے شرانگیزی کے خدشات

بین الاقوامی سیاست کے اسٹیج پر ایک بڑا شو ستمبر میں ہوا، دنیا بھر سے اہم سیاسی رہنما امریکا پہنچے اور انھوں نے اقوام متحدہ میں خطاب کیا، پاکستان کے وزیراعظم بھی اس میں شامل ہیں، اس سیاسی میلے کی نمایاں شخصیت تو سپر پاور امریکا کے صدر مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ بھی تھے مگر بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے بھی ایک خصوصی پروگرام ہیوسٹن میں کیا جس میں انھوں نے خاصا دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا، بے شک امریکا اور دیگر ممالک سے بھارت کے تجارتی تعلقات جس سطح پر ہیں اور بھارت کے موجودہ الیکشن میں انھیں جو نمایاں کامیابی ملی ہے اس کے بعد ان کا یہ غروروتکبر قابل دید ہے لیکن انھیں شاید تاریخ کا شعور نہیں ہے اور نہ ہی نظام فطرت سے کوئی آگاہی ہے، تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ دنیا کے سارے فرعون بالآخر عبرت کا نمونہ بنے اور نظام فطرت کے اپنے اصول و قواعد ہیں جن پر کسی طاقت ور کا کوئی زور کبھی نہیں چلا، بڑے بڑے فرعونوں کی رعونت پر زمانے نے خاک ڈال دی، دارا رہا نہ جم نہ سکندر سا بادشاہ۔
جہاں تک مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ کا تعلق ہے تو وہ ایک اسد شخصیت ہیں ، برج اسد سے تعلق رکھنے والے اکثر افراد بنیادی طور پر بزنس مائنڈ ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ امریکا کے بڑے بزنس مینوں میں نمایاں ہیں، اپنی دولت کے بل بوتے پر امریکی صدر بنے ہیں، باقاعدہ کسی سیاسی پارٹی سے ان کا کوئی تعلق نہیں، ایسے بزنس مائنڈ افراد سیاست میں بھی کاروباری مفادات کو اولیت دیتے ہیں، چناں چہ انھوں نے جو کچھ مودی کے جلسے میں کہا یا وزیراعظم عمران خان کے ساتھ پریس کانفرنس میں گل افشانی ءگفتار کی اسے زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہیے، آنے والے دنوں میں ان کا اپنا سیارہ شمس اپنے برج ہبوط میں داخل ہونے والا ہے، امریکا میں ان کے خلاف کارروائی کا امکان بڑھتا جارہا ہے ،وہ اپنے آئندہ الیکشن کے لیے بھی کاروباری چالیں چل رہے ہیں، امریکا کے زائچے کے مطابق بھی صورت حال بہت زیادہ خوش گوار نہیں ہے، اس بات کا امکان موجود ہے کہ امریکا آنے والے دنوں میں مزید نئے محاذ کھولے گا جب کہ افغانستان کے محاذ پر وہ مسلسل دباو ¿ کا شکار ہے اور یہ گھنٹی گلے سے اتارنے کی کوششوں میں مصروف ہے، اکتوبر میں امریکا کی طرف سے ایران کے خلاف کارروائی کا امکان نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
پاکستان کے حوالے سے ہم نے پہلے بھی نشان دہی کی تھی کہ ستمبر اکتوبر وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے لیے مشکل مہینے ہیں،البتہ 5 اکتوبر سے سیارہ زہرہ جب برج میزان میں حرکت شروع کرے گا تو یہ وزیراعظم کو نئی توانائی دے گا،خیال رہے کہ 5 اکتوبر عمران خان کی تاریخ پیدائش بھی ہے، امکان ہے کہ امریکا سے واپسی کے بعد وہ اہم اقدام و فیصلے کریں گے۔
زائچہ ءپاکستان کے مطابق بھی موجودہ وقت موافق نظر نہیں آتا، اکتوبر کی ابتدا ہی کسی ناخوش گوار واقعے سے ہوسکتی ہے، خاص طور پر کوئی بیرونی مداخلت یا جارحیت سامنے آسکتی ہے، نریندر مودی کشمیر میں جس بدترین پوزیشن کا شکار ہوچکے ہوں، اس سے نکلنے کے لیے امکان ہے کہ وہ کوئی بہانہ ڈھونڈ سکتے ہیں، سیارہ مریخ زائچے کے پانچویں گھر میں داخل ہوگا تو یہ خدشہ موجود ہے کہ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں بھارت کی طرف سے کوئی نیا ڈراما سامنے آئے، یہ خطرہ اس کے بعد بھی اس وقت ممکن ہے جب سیارہ مریخ تقریباً 45 روز کے بعد برج میزان میں داخل ہوگا۔
مریخ کی تازہ پوزیشن کسی حادثے کے علاوہ قومی اسمبلی کے لیے بھی تشویش ناک ہے، اکتوبر کے مہینے میں شمس ، زہرہ ، عطارد وغیرہ زائچے کے چھٹے گھر سے گزریں گے لہٰذا انتظامی نوعیت کی تبدیلیاں نظر آتی ہیں جو نہ صرف وفاقی کابینہ میں بلکہ دوسرے صوبوں میں بھی ہوسکتی ہیں، خاص طور پر سندھ میں کسی بڑی تبدیلی کا امکان نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ تقریباً دسمبر تک ملکی حالات خاصے اُتار چڑھاو ¿ کا شکار رہیں گے (واللہ اعلم بالصواب)

اکتوبر کے ستارے

سیارہ شمس کو ہماری کہکشاں میں تمام سیارگان کے درمیان میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے، گویا اس کی حیثیت ایک بادشاہ کی ہے، دیگر تمام سیارگان سورج کے گرد گردش کر رہے ہیں، اسی لیے علم نجوم میں سیارہ شمس کو اسٹیٹس، عہدہ و مرتبہ رکھنے والے افراد سے منسوب کیا گیا ہے، اس کا ذاتی برج اسد ہے، چناں چہ برج اسد کے زیر اثر پیدا ہونے والے افراد کو ”شاہ مزاج“ کہا جاتا ہے، یہ آتشی برج ہے اور اپنی ماہیت کے اعتبار سے ثابت (Fixed) برج ہے، شمس کو برج حمل میں شرف کی اعلیٰ قوت حاصل ہوتی ہے جب کہ برج میزان میں یہ ہبوط یافتہ یعنی انتہائی کمزور ہوتا ہے، 23 ستمبر کو سیارہ شمس برج میزان میں داخل ہوگا لہٰذا ایک ماہ تک اس کی پوزیشن نہایت کمزور ہوگی جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں اعلیٰ عہدہ و مرتبہ رکھنے والے افراد متاثر ہوسکتے ہیں یا کوئی دباو ¿ محسوس کرسکتے ہیں۔
سیارہ عطارد 3 اکتوبر سے برج عقرب میں داخل ہوگا اور 31 اکتوبر کو اسے رجعت ہوگی، سیارہ زہرہ 8 اکتوبر کو برج عقرب میں داخل ہوگا اور پورا مہینہ اسی برج میں حرکت کرے گا، سیارہ مریخ 4 اکتوبر کو برج میزان میں داخل ہوگا اور اسی برج میں حرکت کرے گا، سیارہ مشتری برج قوس میں حرکت کر رہا ہے جب کہ سیارہ زحل برج جدی میں، یورینس برج ثور میں،نیپچون برج حوت میں اور پلوٹو بھی برج جدی میں ہے، راس و ذنب بالترتیب سرطان اور جدی میں حرکت کر رہے ہیں، یہ سیاروی پوزیشن یونانی علم نجوم کے مطابق دی گئی ہیں۔

نظرات و اثراتِ سیارگان

اکتوبر میں اہم سیارگان کے درمیان قران کا ایک زاویہ جب کہ تین مقابلے ، تربیع کے چار زاویے ، تسدیس کے پانچ اور تثلیث کے دو زاویے تشکیل پائیں گے، تسدیس اور تثلیث بہر حال سعد اثرات رکھتے ہیں جب کہ تربیع اور مقابلہ نحس اثرات ڈالتا ہے، اکتوبر کے نظرات اور ان کے اثرات کی تفصیل ترتیب وار درج ذیل ہے۔
یکم اکتوبر: زہرہ اور پلوٹو کے درمیان تربیع کا زاویہ ملکی معاملات میں کسی نئے دباو ¿ اور تناو ¿ کی نشان دہی کر رہا ہے، خاص طور سے اپوزیشن کی سرگرمیاں بڑھیں گی، عام افراد کے لیے یہ زاویہ ازدواجی زندگی میں تناو ¿ لاتا ہے، خواتین سے متعلق جرائم میں اضافہ ہوتا ہے۔
7 اکتوبر: عطارد اور یورینس کے درمیان مقابلے کی نظر نحس ہے، یہ زاویہ چونکا دینے والی خبریں اور انکشافات سامنے لاتا ہے، خاص طور سے میڈیا کے حوالے سے صورت حال کوئی نئی کروٹ لے سکتی ہے، میڈیا کا کردار منفی ہوسکتا ہے، ٹرانسپورٹیشن کے حوالے سے نئے مسائل سامنے آسکتے ہیں اور حادثات کا امکان رہتا ہے، عام افراد کی زندگی میں بھی بعض غیر متوقع تبدیلیاں اور واقعات ہوسکتے ہیں۔
8 اکتوبر: شمس اور زحل کے درمیان تربیع کا زاویہ حکومت اور عوام کے درمیان تنازعات اور ناپسندیدگی لاتا ہے، عوامی احتجاج شدید ہوسکتا ہے، عام لوگوں کی زندگی میں مشکلات بڑھ سکتی ہیں جب کہ حکومت کی پریشانیوں میں اضافہ ہوسکتا ہے،یہ وقت کاروبار یا روزگار کے حوالے سے اہم فیصلے کرنے کا نہیں ہوگا، خاص طور پر گورنمنٹ سے متعلق کاموں میں رکاوٹ آئے گی۔
13 اکتوبر؛ زہرہ اور یورینس کے درمیان مقابلے کی نظر اور ساتھ ہی شمس اور مشتری کے درمیان تسدیس کا سعد زاویہ قائم ہوگا، جذباتی معاملات میں توقع کے خلاف صورت حال سے واسطہ پڑسکتا ہے،ملکی معاملات میں بھی چونکا دینے والی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے، گویا جو کچھ بھی ہوگا، وہ اندازوں اور توقع کے خلاف ہوگا، اس وقت رومانی اور تفریحی دلچسپیاں بھی کسی اپ سیٹ کا شکار ہوسکتی ہیں، منگنی ، نکاح وغیرہ کے لیے ناموافق وقت ہوگا۔
14 اکتوبر: عطارد اور زحل کے درمیان تسدیس کا سعد زاویہ اور اسی روز شمس اور پلوٹو کے درمیان اسکوائر کا نحس زاویہ قائم ہوگا، عطارد اور زحل کی نظر کاموں میں مثبت پیش رفت اور اچھی کارکردگی کی نشان دہی کرتی ہے لیکن شمس اور پلوٹو کا زاویہ حادثات اور صدمات لاتا ہے، خاص طور پر اہم اور مشہور شخصیات سے متعلق حادثات و سانحات کا امکان بڑھتا ہے۔
16 اکتوبر: عطارد اور نیپچون کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ اعلیٰ درجے کی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار لاتا ہے، فنکارانہ نوعیت کی سرگرمیوں کے لیے یہ موافق وقت ہوگا، اس کے علاوہ پیچیدہ اور مشکل معاملات کو حل کرنے میں بھی یہ وقت معاون و مددگار ثابت ہوتا ہے۔
20 اکتوبر: عطارد اور پلوٹو کے درمیان تسدیس کا سعد زاویہ ملکوں کے درمیان سخت نوعیت کی بیان بازی لاتا ہے، میڈیا کا انداز جارحانہ ہوتا ہے، عام افراد کی زندگی میں بھی اپنے مو ¿قف پر مضبوطی سے جمے رہنے اور دوسروں کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کا رجحان پیدا ہوتا ہے۔
اسی تاریخ کو زہرہ اور زحل کے درمیان بھی تسدیس کا سعد زاویہ مثبت اثرات کا حامل ہے، خاص طور پر باہمی تعلقات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے میں مددگار ثابت ہوگا، اس وقت دوسروں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کوشش کرنا چاہیے۔
22 اکتوبر: زہرہ اور نیپچون کے درمیان تثلیث کا سعد زاویہ رومانی اور تفریحی سرگرمیوں میں اضافہ لاتا ہے، محبت، دوستی ، منگنی یا شادی وغیرہ کے معاملات طے کرنے کے لیے بہتر وقت ہوگا۔
25 اکتوبر: زہرہ اور پلوٹو کے درمیان تسدیس کا سعد زاویہ تعلقات میں دباو ¿ اور سختی کا رجحان لاتا ہے، آپ اپنی بات منوانے کے لیے شدت پسندی اختیار کرسکتے ہیں، خواتین کے مطالبات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
27 اکتوبر: مریخ اور زحل کے درمیان تربیع کا زاویہ نحس اثرات رکھتا ہے، زائچہ ءپاکستان کے مطابق یہ زاویہ حکومت اور وزیراعظم کے لیے خطرات ظاہر کرتا ہے، اس وقت کوئی بیرونی سازش سامنے آسکتی ہے، عام افراد کو ایسے کاموں سے پرہیز کرنا چاہیے جن میں کوئی رسک موجود ہو۔
28 اکتوبر: شمس اور یورینس کے درمیان مقابلے کی نظر بہت اہم ہے، خیال رہے کہ مہینے کے آخری دنوں میں مریخ و زحل کے ساتھ ہی شمس اور یورینس کی نحس نظر وزیراعظم پاکستان کے لیے غیر متوقع خطرات اور اندیشوں کی نشان دہی کر رہی ہے،انھیں اپنی سیکورٹی کے حوالے سے زیادہ محتاط ہونا پڑے گا، یہ وقت وزیراعظم کی طرف سے بھی غیر متوقع اعلان اور فیصلے کی نشان دہی کرتا ہے،عام افراد کے لیے یہ وقت کسی تبدیلی سے گریز کرنے کا ہوگا،کوئی جلد بازی نقصان دہ ہوگی، کوئی مقررہ پروگرام اپ سیٹ ہوسکتا ہے۔
31 اکتوبر: عطارد اور زہرہ کا قران سعد اور مثبت اثر رکھتا ہے، اس وقت نجی نوعیت کی دلچسپیاں بہتر ہوں گی،خصوصاً محبت ، دوستی ، منگنی جیسے معاملات کو بات چیت کے ذریعے طے کرنے میں مدد ملے گی۔

قمر در عقرب

ستمبر کے مہینے میں قمر دو مرتبہ اپنے ہبوط کے برج سے گزرا ہے، پہلی بار 3 ستمبر کو اور دوسری بار 30 ستمبر کو گزرے گا، پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 30 ستمبر کو قمر شام 05:56 pm پر اپنے درجہ ءہبوط پر ہوگا اور 07:33 تک اسی درجے پر رہے گا، یہ نحس وقت ہے، اس وقت کسی کام کی ابتدا نہیں کرنی چاہیے، اس وقت نحس اعمال کیے جاتے ہیں، خاص طور پر بندش، رکاوٹ یا بری عادتوں سے نجات کے لیے یا علاج معالجے کے لیے یہ بہتر وقت ہوگا۔

قمر در عقرب دوم

اکتوبر کے مہینے میں پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 28 اکتوبر کو قمر 04:45 am سے 06:20 am تک برج عقرب میں درجہ ءہبوط پر ہوگا اور جی ایم ٹی ٹائم کے مطابق27 اکتوبر 11:45 pm سے 28 اکتوبر 01:20 am تک ہوگا، یہ وقت بھی نحس ہے اور اس وقت بندش ، رکاوٹ اور بری عادتوں سے نجات کے لیے اعمال کیے جاسکتے ہیں، فی الحال ایک ضروری عمل دیا جارہا ہے۔

ناجائزو ناپسندیدہ تعلق کا خاتمہ

اکثر والدین اپنے بیٹے یا بیٹی کی ایسی محبت یا وابستگی سے پریشان رہتے ہیں جو ان کے نزدیک ناپسندیدہ ہوتی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا لڑکا یا لڑکی ایک غلط راستے پر چل رہے ہیں۔ 
 ایسی صورت میں طریقہ یہ ہے کہ گہن کے وقت کسی علیحدہ کمرے میں باوضو بیٹھ کر مندرجہ ذیل سطور کسی سفید کاغذ پر کالی یا نیلی روشنائی سے لکھیں اور کا غذ کو تہہ کر کے تعویذ کی شکل بنا لیں اور پھر اس کاغذ کو کسی بھاری وزنی چیز کے نیچے دبا دیں یا قبرستان میں دفن کردیں، اگر ایسے دو نقش تیار کیے جائیں اور دونوں کو لڑکا اور لڑکی کی گزر گاہ کے قریب دفن کیا جائے تو بھی نہایت مو ¿ثر ہوگا، انشاءاللہ دونوں کے درمیان علیحدگی ہوجائے گی۔
”احد رسص طعک لموہ لادیا یا غفور یا غفور بستم تعلق فلاں بن فلاں و بین فلاں بن فلاں عَقدَت قُلوبِھم ابداً یا حراکیل بحق یا قابض یا مانع العجل العجل الساعة الساعة“

شرف قمر

چاند کو برج ثور میں شرف کی قوت حاصل ہوتی ہے، اس ماہ پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق قمر اپنے درجہ ءشرف پر 15 اکتوبر شب 01:19 am سے 03:17 am تک رہے گا، جب کہ جی ایم ٹی ٹائم کے مطابق 14 اکتوبر 08:19 pm سے 10:17 pm تک رہے گا، یہ سعد وقت نیک اور جائز اعمال کے لیے موافق ہوتا ہے، اس وقت میں اسمائے الٰہی یا رحمن یا رحیم 556 مرتبہ اول آخر درود شریف کے ساتھ پڑھ کر اپنے جائز مقاصد کے لیے دعا کریں تو ان شاءاللہ کامیابی حاصل ہوگی۔

اوج عطارد

سیارہ عطارد کا تعلق ذہانت ، علمی مشاغل اور ذہنی سرگرمیوں سے ہے، عطارد کو اس کے اپنے برج سنبلہ میں شرف کی قوت حاصل ہوتی ہے جب کہ برج عقرب میں اوج کی قوت ملتی ہے، یہ سعد وقت لوح عطارد یا خاتم عطارد کی تیاری کے لیے بہتر ہوتا ہے اور ایسے تمام اعمال اس وقت میں کیے جاسکتے ہیں جن کا تعلق ذہنی اور علمی معاملات سے ہو۔
اس سال عطارد اپنے درجہ ءاوج پر پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 6 اکتوبر کو 09:50 am سے 7 اکتوبر 03:22 am تک رہے گا، اس وقت ضروری اعمال و وظائف سیارہ عطارد کی ساعت میں انجام دیے جاسکتے ہیں، لوح یا خاتم کی تیاری کا طریقہ معلوم کرنے کے لیے ویب سائٹ پر علم جفر کے لنک پر جائیں۔