جمعہ، 16 اگست، 2019

اُمت پہ تِری آکے عجب وقت پڑا ہے

بھارت و پاکستان کے درمیان جنگ کا خطرہ بڑھ رہا ہے

کشمیر میں بھارتی کارروائی درحقیقت پاکستان کے خلاف ایک اعلان جنگ ہے، ہم دونوں ملکوں کے زائچوں کی روشنی میں تازہ صورت حال کی وضاحت اپنے گزشتہ کالم میں کرچکے ہیں، پاکستان بلاشبہ خاصی حساس پوزیشن میں آچکا ہے، پوری قوم بھارتی جارحیت کے خلاف سینہ سپر ہے، کسی بھی تصادم کے لیے تیار ہے، اقوام متحدہ سے بھی رابطہ کرلیا گیا ہے اور دیگر سفارتی ذرائع بھی استعمال ہورہے ہیں لیکن کیا صرف اتنا کافی ہے؟انڈیا کے وزیراعظم کا مذہبی و نسلی جنون ایسے اقدام سے کم ہوجائے گا؟اس کا جواب نہیں میں ہے، پاکستان کی حکومت اور مسلح افواج کو اس سے آگے بڑھ کر سوچنا ہوگا اور اس کا امکان موجود ہے، ایک معتبر ذرائع کے مطابق پاکستانی سفیر بھی اب جنگ کو ناگزیر سمجھ رہے ہیں۔
بھارت اور پاکستان دونوں کے زائچوں میں تیزی سے تبدیل ہوتی سیاروی پوزیشن دونوں ممالک کو جنگ کی طرف لے جارہی ہے، نریندر مودی ذہنی طور پر اس کے لیے تیار ہے، شاید پاکستان کو بھی تیار ہونا پڑے گا کیوں کہ عوامی دباو ¿ بڑھ رہا ہے، وہ لوگ بھی جو ہمیشہ جنگ مخالف رہے ہیں، اب جنگ کی باتیں کر رہے ہیں، دونوں ملکوں کے زائچوں میں زہرہ و مریخ جنگ کی آگ کو ہوا دینے والے سیارے ہیں اور زائچے کے چوتھے گھر میں داخل ہوچکے ہیں، اس کا تعلق عوام اور ملک کی داخلی صورت حال سے ہے، اس حوالے سے اگست ، ستمبر اور اکتوبر کے مہینے نہایت حساس اور خطرناک ہیں، بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ جنگ کا آغاز پاکستان کی طرف سے نہیں ہوگا، حالاں کہ بھارت تو آغاز کرچکا ہے، پاکستان سفارتی کوششوں سے اس جنگ کو ٹالنا چاہتا ہے، ہماری دعا ہے کہ جنگ کے شعلے ہمارے ملک سے دور رہیں کیوں کہ ہم بہر حال معاشی طور پر پہلے ہی شدید دباو ¿ میں ہیں 
اے خاصہءخاصان رُسل وقتِ دعا ہے
اُمت پہ تِری آکے عجب وقت پڑا ہے

ہے کہاں تمنا کادوسرا قدم یا رب

اکثر افراد خاص طورسے خواتین جب اپنے نہایت الجھے ہوئے پیچیدہ ترین مسائل ہمیں لکھتے ہیں اور ساتھ میں یہ فرمائش کرتے ہیں کہ خط کا جواب کالم کے ذریعے دیاجائے اورہمارا نام اورخط کالم میں شائع نہ کیاجائے۔ مزید یہ بھی فرمائش ہوتی ہے کہ جواب نہایت تفصیل سے دیاجائے۔
ہم بھی اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ اصل نام وپتا ظاہر نہ کیا جائے اور اکثربہت ضروری نہ ہوتو خط اور سوالات شائع کیے بغیر ہی جواب دے دیتے ہیں۔ الجھن اس وقت پیش آتی ہے جب نہایت پیچیدہ مسائل کے حوالے سے تفصیلی جواب طویل ہوتا نظر آئے چونکہ بعض گتھیوں کوسلجھانے کے لیے بہت سے پہلوﺅں پر بات کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ ایسی صورت میں اگراصل مسائل سے متعلق خط شائع نہ کیاجائے تو ہمارے دیگر پڑھنے والوں کے ساتھ ناانصافی ہوجاتی ہے۔ اس طرح وہ صرف ہمارا جواب پڑھ کر مطمئن نہیں ہوتے کیونکہ مسئلے کی اصل تصویر ان کی نظروں میں واضح نہیں ہوتی اور وہ یہی خیال کرتے ہیں کہ ہم نے اپنا پورا کالم کسی ایک شخص کومخاطب کرکے لکھ دیاہے‘ حالاں کہ ایسانہیں ہوتا۔ ہم عموماً ایسے ہی خطوط کا تفصیلی جواب لکھتے ہیں جن میں مسائل ایسے ہوں جودوسروں کوبھی پیش آسکتے ہیں یا آتے ہیں ایک ایسا ہی خط اس وقت ہمارے پیش نظر ہے۔ ہم نام ومقام ظاہر کیے بغیر خط کے صرف ایسے اقتباسات نقل کررہے ہیں جن سے مسئلے کی نوعیت واضح ہوسکے اورایسااس لیے کررہے ہیں کہ یہ مسائل ہماری کسی ایک بیٹی کے نہیں ہیں بلکہ ہمارا ذاتی مشاہدہ ہے کہ ہزاروں بہنیں ‘بیٹیاں ایسی ہی کسی نہ کسی صورت حال سے دوچار ہیں اوران میں سے اکثر خودکشی یا کسی دوسرے غلط راستے کی طرف متوجہ ہونے پر مجبور ہوتی ہیں ان کاکوئی پرسان حال نہیں ہے۔یہ معاملات حکومت کے دائرہ اختیار میں بہرحال نہیں آتے مگران معاملات کے معاشرتی اورمذہبی پہلو ایسے بھی ہیں جن پردانشوران وقت اورعلمائے کرام کووقت کے تقاضوں کے مطابق زبان کھولنی چاہیے۔ 
برسوں پہلے مشہور شاعر ساحر لدھیانوی جوکہنے کوایک اشتراکی شاعر تھا اپنی ایک نظم میں خواتین پرہونے والے مظالم کے لیے جوفریاد کرگیاہے اس کی گونج ابھی باقی ہے اورا س کی ضرورت بھی ابھی ختم نہیں ہوئی۔
ساحر لدھیانوی نے اپنی شہرئہ آفاق نظم ”چکلے“ کا اختتام مندرجہ ذیل مصرعوں پر کیاتھا۔
مددچاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی
پشودھاکی ہم جنس رادھا کی بیٹی
پیمبرکی امت زلیخا کی بیٹی 
ذرا ملک کے رہبروں کوبلاﺅ
یہ کوچے پہ نیلام گھر سب دکھاﺅ
ثناءخوان تقدیس مشرق کولاﺅ
ثناءخوان تقدیس مشرق کہاں ہیں
آئیے!اس خط سے چند چیدہ چیدہ اقتباسات ملاحظہ کیجیے مگراس سے پہلے ہم آپ کویہ بتاتے چلیں کہ ہمارے معاشرے میں ایسے لاتعداد خاندان موجود ہیں جہاں ماں باپ نے بھیڑ بکریوں کی طرح بچوں کے ریوڑ تو پال لیے ہیں اورپال بھی کیا لیے ہیں بس اﷲ کے کرم سے وہ خود ہی جیسے تیسے پل کرجوان ہورہے ہیں۔ ان کی شادیوںکے سلسلے میں انہیں اگرکوئی فکر ہے توصرف اس قدرکے جب اﷲ کی مرضی ہوگی توشادی ہوجائے گی یہ بات کہہ کراکثرلوگ خودکومطمئن کرلیتے ہیں اورپھر اپنے حال میں مست ہوجاتے ہیں۔ وہ یہ نہیں سوچتے کہ اﷲ کی مرضی توہروقت شامل حال ہے۔خود آپ کی مرضی اورموڈ اورآپ کی کوشش اورجدوجہد کی نوعیت کیاہے؟ یہ بھی ایک ایسے ہی خاندان کا قصہ ہے جس میں تقریباً درجن بھربہن بھائی منزل بلوغت کی دہلیز پر کھڑے اپنے آئندہ مستقبل کے بارے میںسوچ رہے ہیں۔ 
انجام گلستاں کیا ہوگا؟
نامعلوم بیٹی لکھتی ہے ”سر‘ہمارے گھر کا یہ حال ہے کہ ہرشاخ پرالو بیٹھا ہے انجام گلستان کیا ہوگا۔ میں آپ کوچیلنج کرتی ہوں کہ اگرآپ میں ہمت ہے تو ہمارے گھر کے ماحول میں زیادہ نہیں توکم سے کم 3`2دن گھرکا فرد بن کررہیں۔مجھے یقین ہے آپ دوسرے دن ہی کانوں کوہاتھ لگاکربھاگیں گے۔ آپ مرد ہیں بھاگ بھی سکتے ہیں، مسئلہ تو ہم لڑکیوں کا ہے کہ ہم بھاگ کرکہاںجائیں؟گھرمیں ہروقت ٹینشن ‘ہرلمحہ ایک دوسرے سے توتو میں میں‘نہ بڑے کوچھوٹے کا لحاظ ‘نہ چھوٹے کوکوئی تمیز ‘ماں باپ کی لڑائیاں ‘بہن بھائیوں کے درمیان سخت نفرت اوردلوں میں کدورت ‘ہماری عمریں نکلی جارہی ہیں کوئی پرسان حال نہیں ۔ہم بیٹیاں ہوکراپنی گزرتی عمروں کی طرف ابوامی کی توجہ دلاتے ہیں مگرایک ہی جواب ہے کہ ”بیٹا، اﷲ مالک ہے“۔
پہلے بہت اچھے اچھے رشتے آتے تھے مگرجب گھرکے افرادہی مخلص نہ ہوں توکوئی کیا کرے۔ ان کے آگے بڑی بڑی شرطیں رکھ دی جاتیں تاکہ وہ دوبارہ پلٹ کرہی نہ آئیں۔ بعد میں یہ کہہ دیاجائے کہ یہ لوگ کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے تھے۔اب تویہ حال ہے کہ لوگ جان گئے ہیں کہ اس گھر سے رشتہ ملنا ناممکن ہے۔ 
آپ ایک بات کا جواب مجھے ضرور دیں کہ جب اولاد کوماں باپ خاص کرباپ ان کے جائز حقوق نہ دے نہ ا چھی تعلیم ‘نہ اچھا ماحول اورنہ اچھی تربیت نہ کوئی عزیز دوست۔ نہ ہی سہیلیاں بنانے کی اجازت نہ خاندان میں کہیں جانے کی اجازت ‘نہ کسی شادی میں شرکت کی اجازت‘ حتیٰ کہ مرضی کا کھانا پہننا بھی ناممکن۔ توایسی صورت میں ایسے والدین کا کیا کیاجائے ؟جب کہ بڑے بڑے عالم دین اوراسلامی کتابیں یہی بتارہی ہیں کہ والدین کی خدمت کرو۔ان کے سامنے اف تک نہ کروچاہے وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہوں۔ میراآپ سے یہ ہی سوال ہے ؟کیا اس کا جواب آپ کے پاس ہے؟
میں توروروکر‘گڑگڑاکراﷲ سے دعائیں کرتی ہوں باقاعدہ تہجد پڑھ کے ہرطریقے سے اﷲ کوراضی کرنے کی کوشش کرتی ہوں اوراس کی ذات سے بالکل مایوس بھی نہیں ہوں مگریہ بتائیں کہ وظیفے کا کیا مطلب ہوتاہے ؟اگرہرکام اپنے وقت پرہی ہونا ہے اور ہرچیز اپنے وقت پرہی ملنی ہے توہم کیوں اس کے حصول کے لیے وظائف کرتے ہیں؟ بہت پہلے ایک بارآپ نے میرے خط کے جواب میں بڑی امیددلائی تھی اورمیںنے ایک وظیفہ بھی کیاتھا مگرابھی تک صورت حال میں کوئی فرق نہیں آیا۔ اس سلسلے میں آپ کا کیا جواب ہوگا؟“
جواب؛۔عزیزم‘آپ نے اپنے بہت سے سوالوں کا جواب توخود ہی دے دیاہے۔ مثلاً جس خاندان میں بے حسی ‘نفسانفسی ‘حسد ‘جلن ‘ذاتی مفاد پرستی ‘فرائض سے غفلت ‘محبت اورخلوص کا فقدان‘ رشتوں کی بے توقیری اس حد تک ہووہاں سے اﷲ کی رحمت توپہلے ہی رخصت ہوجائے گی۔ ایسا گھرتوشیطان کی ذریات کے لیے جشن گاہ ہوگا۔ وہاں ایک اکیلا چنا کیا بھاڑپھوڑے گا۔یعنی آپ کی نمازیں‘تہجد اوروظائف اس شیطانی کارخانے میں کیا حیثیت رکھتے ہیں۔ جہاں وہ لوگ جوصاحب اختیار واقتدار ہیں خودغلط روش اپنائے بیٹھے ہیں خصوصاً تمہارے باپ۔
تمہارے اس قصے میں اہم ترین سوال یہی ہے کہ ایسی صورت میں مذہبی نقطہ نظر کیاہوگا؟تم نے کتابوں اورعلما کی باتوں کا حوالہ دیاہے جس میں والدین کی خدمت اوران کاحکم ماننے کوہرصورت میں اولیت دی گئی ہے لیکن یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے جوتم نے دیکھا یا آج کل دکھایاجاتاہے۔ دوسرے رخ پر یا توکسی کی نظرنہیں جاتی یا شاید مذہب کے اس پہلو کوجان بوجھ کر صرف اس لیے نظرانداز کیاجاتاہے کہ اس سے معاشرے میں افراتفری اوربغاوت پھیلنے کا خطرہ ہے۔ 
مگرہمارا موقف یا ہماراخیال معاشرے کے موجودہ ٹھیکیداروں کی رائے کے برعکس ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ناجائز اورظالمانہ طورپرپروان چڑھنے والی روایات کونظرانداز کرنا دین فطرت کے خلاف عمل ہے جس کے نتائج کبھی بھی اچھے نہیں نکل سکتے۔ کھلی ہوئی بات ہے کہ شادی اﷲ کے نزدیک ایک پسندیدہ فعل ہے۔ کیونکہ یہ انسانی نفسیات اورمعاشرتی بھلائی کیلئے ایک صحت مند قدم ہے۔ سن بلوغت کوپہنچنے کے بعد جومسائل جنم لے سکتے ہیں شادی ان کا کافی وشافی علاج ہی نہیں بلکہ نسل انسانی کے ارتقائی مراحل کا پہلا زینہ بھی ہے لہٰذا اﷲ اوراس کے رسول نے اس سلسلے میں واضح احکامات دیئے ہیں اوریہ بھی کہاگیاہے کہ اگرتمہارے والدین تمہاری شادی نہ کریں اوراس سلسلے میں رکاوٹ کا سبب بنیں تو تم اپنی شادی خودکرلو۔
آپ نے جوحوالہ دیا ہے کہ ماں باپ غیر مسلم بھی ہوں توان کا حکم ماننے اوران کی خدمت کرنے ‘ان کے سامنے باادب رہنے کاحکم ہے۔ توبے شک یہ درست ہے مگریہ مکمل بات نہیں ہے، مکمل بات یہ ہے کہ اگرآپ کے ماں باپ غیر مسلم یعنی کافر ہیں تویقیناً ان کی خدمت اوران کااحترام توآپ پرفرض ہے مگران کاکوئی ایسا حکم ماننا آپ پرفرض یا واجب نہیں ہے جوآپ کودین سے دورلے جاتاہو اوردین کا مطلب ہے احکامات الٰہی ‘لہٰذا شادی ایک حکم الٰہی ہے۔ سنت نبوی ہے اگرآپ محسوس کررہے ہوں کہ آپ کے والدین یا کوئی بھی اس معاملے میں رکاوٹ ڈال رہاہے اورآپ کواس فریضے کی ادائیگی سے روک رہاہے تو آپ اس کی بات ماننے کے پابندنہیں ہیں بلکہ اپنے طورپر مناسب فیصلہ کرسکتے ہیں۔ بشرطیکہ آپ عاقل وبالغ ہوں۔
مسئلے کے اس حصے کواس لیے فروغ نہیں دیاجاتاہے کہ اس طرح نوجوان لڑکے لڑکیاں پسند کی شادی اورماں باپ سے بغاوت کی راہ پرچل پڑیں گے۔حالانکہ پسند کی شادی اورمحبت کی نادانی کے کھیل بلاشبہ اس صورت میں قطعاً ناجائز ہیں جس میں لڑکیاں اپنے شریف اورذمہ دار محبت کرنے والے ماں باپ کی عزت اچھالتی نظر آتی ہیں یالڑکے اپنے ماں باپ ‘بہن بھائی اوردیگراہل خانہ سے منہ موڑ کرمحبت کی شادی رچالیتے ہیں اورپھرپلٹ کربوڑھے ماں باپ کی خبربھی نہیں لیتے لیکن جہاں صورت حال ایسی ہوجس کا آپ نے اظہار کیا ہے کہ لڑکیاں لڑکے جوانی کی دہلیز پار کرکے بڑھاپے کے ویران وسنسان صحرا میں داخل ہورہے ہوں اوروالدین اپنی ہی مستی میں مست ہوں،اپنے خودساختہ اصول وقواعد اورطورطریقوں پربضد ہوں تویہ توکھلی ہوئی دین فطرت کی خلاف ورزی ہے۔
ہمارے پاس اکثرآپ جیسی بے شمار لڑکیاں آتی رہتی ہیں جن کی عمریں 40`35تک پہنچ جاتی ہیں۔ اورشادی نہ ہونے کی وجہ کچھ ان کی غلط سوچ اورحماقیتں ہوتی ہیںاورکچھ ان کے گھروالوں کی۔ رہا سوال وظائف کی اثرپذیری کا توعزیزم‘ہم کئی باران ہی کالموں میں اس بات کی وضاحت کرچکے ہیں کہ روحانی مدد بھی ان ہی لوگوں کوملتی ہے جو مادی طورپر اپنا راستہ درست رکھتے ہیں۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک شخص قابل ترین ڈاکٹر سے عمدہ ترین دوائیں لاکر کھارہاہواور ساتھ میں ایسی اشیا بھی استعمال کررہاہوجن سے پرہیز لازم تھا اورپھروہ کہے کہ مجھے دوا سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ایسی مثالیں اکثرہمارے سامنے آتی رہتی ہیں جس میں روحانی مدد کے طالب افراد مادی طورپر وہ کچھ نہیں کررہے ہوتے جوانہیں اپنے مقصد کے حصول کے لیے کرناچاہیے یا مادی طورپر موجودہ رکاوٹوں کودور کرنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھارہے ہوتے۔اگرکسی ظالمانہ ماحول یا نظام میں پھنسے ہوئے ہیں تواسی کا حصہ بنے رہتے ہیں۔ بے شک دل سے اورزبان سے اس کے مخالف ہوتے ہیں لیکن عملی طورپراس سے نکلنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھاتے۔بے شک ہماری خواتین اس سلسلے میں کچھ زیادہ ہی مجبوراوربے بس ہوتی ہیں لیکن ہم نے تویہ بھی دیکھا ہے کہ مرد حضرات بھی ایسی صورت حال کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ابھی چند دن پہلے ہی ایک صاحب ہمارے پاس آئے جن کی عمرتقریباً42`40سال تھی اوروہ اس لیے پریشان تھے کہ اب تک ان کی شادی نہیں ہوئی تھی اوراس کی وجہ ان کے گھروالے تھے جوگزشتہ دس بارہ سال سے ان کے لیے لڑکی ڈھونڈنے میں مصروف تھے مگرکہیں بات بن ہی نہیں رہی تھی الغرض ایسی بے شمار مثالیں معاشرے میں موجود ہیں لیکن اکثریت لڑکیوں کی اس عذاب میں مبتلاہے کیونکہ وہ اگراپنے طورپرکوئی کوشش کرناچاہیں توہمارا معاشرہ ایک طوفان کھڑا کردیتاہے اوران پر ایسے ایسے گندے الزامات لگائے جاتے ہیں جنہیں بیان کرنا ضروری نہیں۔ ایسی صورت حال میں وہ بے چاریاں کیاکریں؟ ہمارے خیال میں تواس وقت تک ایسے مظلوموں کے لیے کوئی راستہ نہیں نکل سکتا جب تک معاشرتی روایات کووقت کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔
آپ نے اپنے خط میں جس صورت حال کی نشاندہی کی ہے اس میں وظائف اگراپنا کوئی اثردکھائیں بھی تو اس کانتیجہ کیا نکلے گا۔ یہی ناکہ آئے ہوئے رشتوں کوبھی مختلف بہانوں سے واپس کردیاجائے گا۔ جیساکہ خودآپ کے بقول پہلے بھی یہی ہوا۔ لہٰذا وظائف کوالزام دیناکسی صورت جائزنہیں۔ آپ کے مسئلے میں توویسے بھی ایک پیچ یہ بھی پڑا ہواہے کہ پہلے بڑی بہنوں کی شادی ہوتوپھرکہیں آپ کانمبرآئے گا۔
جیسی صورت حال کی آپ نے نشاندہی کی ہے اس میںہم اس بات کوبہترسمجھتے ہیں کہ لڑکیاں گھرمیں بیٹھنے کے بجائے اپنا کوئی کرئر بنانے پرتوجہ دیں۔ اس طرح نہ صرف یہ کہ وہ مالی طورپر بہترپوزیشن میں آجاتی ہیں بلکہ ان کے ذاتی اعتماد میں بھی اضافہ ہوجاتاہے اوران میں اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی ہمت وجرا ¿ت پیدا ہوتی ہے۔ خصوصاً ملازمت پیشہ لڑکیاں اس طرح اپنے اہل خانہ کے علاوہ بھی اپناایک حلقہ شناسائی پیدا کرلیتی ہیں اورجب معاشرتی میل جول بڑھتاہے تومناسب رشتوں کاحصول بھی آسان ہوجاتاہے لیکن یہ بھی دیکھنے میں آرہاہے کہ ایسی صورت حال میں پھنسی ہوئی لڑکیاں اپنے کرئر کے لیے بھی اس لیے کچھ نہیں کرپاتیں کہ گھرکے جاہل اور جابرسربراہ مذہب اورغیرت کے نام پر انہیں گھر سے نکلنے ہی نہیں دیتے، ان غیرت مندوں کی غیرت صرف اسی حوالے سے زیادہ جوش میں آتی ہے کہ ہمارے خاندان میں عورت کا ملازمت کرنابے عزتی کی بات ہے اوراس حوالے سے انہیں مذہب کی بھی بہت سی روایات یاد آنے لگتی ہیں لیکن جوظلم وہ ان جیتی جاگتی زندہ جانوں پرکررہے ہوتے ہیں اس کا گناہ انہیں کبھی محسوس نہیں ہوتا۔ نہ اس حوالے سے کوئی قرآنی حکم یا مذہبی روایات انہیں یاد آتی ہےں۔ ہاں ‘ہنگامہ اس وقت برپا ہوتاہے جب کوئی باغی یا سرکش لڑکی بالآخر کوئی سہارا ڈھونڈکرخاموشی سے اس کے ساتھ گھرسے نکل جائے۔ 
تمہیں ہم کیا مشورہ دیں اورتمہارے لیے کون ساعمل یا وظیفہ تجویز کریں صرف ایک ہی بات ایسی ہے جوتمہارے تمام مسئلوں کا حل ہے۔ اگرتم نے اس پرعمل کیا تویقیناً ایک نہ ایک دن اپنے سارے مسائل سے نجات پاجاﺅگی اوروہ یہ ہے کہ ان باتوں پرکبھی سمجھوتا نہ کروجوفطری اصولوں کے خلاف نظرآتی ہےں، خواہ اس مزاحمت کی کتنی ہی بڑی قیمت کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔ باقی تم نے ہم سے اپنے زائچے اوردیگر معاملات میں مدد کی جودرخواست کی ہے ،اس سے ہمیں انکارنہیں ہے،ہم جوکچھ کرسکتے ہیں ضرور کریں گے۔





ہفتہ، 10 اگست، 2019

بھارتی جنون اور کشمیر پر جابرانہ قبضے کی کوشش

امریکی جنگ جویانہ فطرت دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے قریب لے آئی

مذہبی جنون بھارت میں اپنی آخری حدوں کو چھورہا ہے اور ایک ایسی سیاسی پارٹی برسر اقتدار ہے جو ابتدا ہی سے مذہبی انتہا پسندی کے لیے مشہور ہے، بھارتیہ جنتا پارٹی 2014 ءمیں برسراقتدار آئی تھی لیکن اسمبلی میں اسے ایسی واضح اکثریت نہیں مل سکی تھی کہ وہ اپنے انتہا پسندانہ نظریات پر پوری طرح عمل درآمد کرسکے، 2019 ءکے انتخابات میں اسے یہ موقع حاصل ہوگیا ہے چناں چہ وزیراعظم نریندر مودی کو مقبوضہ کشمیر پر ایک سخت وار کرنے کا موقع مل گیا اور انھوں نے آرٹیکل 370 کو ختم کرکے مقبوضہ کشمیر کی بین الاقوامی شناخت ختم کردی ہے، اس آرٹیکل کے تحت جو سابق بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو اور کشمیری رہنما شیخ عبداللہ کے باہمی مذاکرات کے نتیجے میں وجود میں آیا تھا، کشمیر کو ایک خصوصی حیثیت حاصل تھی، وہ بھارت کا حصہ نہیں تھا بلکہ ایک آزاد ریاست تھی، اس کا اپنا پرچم تھا، اپنی خود مختار قومی اسمبلی تھی، خیال رہے کہ 1947 ءمیں بھی کشمیر ایک آزاد ریاست کے طور پر برصغیر کے نقشے میں نمایاں تھا، یہاں مسلم آبادی اکثریت میں تھی لیکن حکومت ایک ہندو راجا کی تھی، مسلم اکثریت چاہتی تھی کہ تقسیم ہند کے بعد پاکستان کے ساتھ الحاق کرے لیکن ہندو راجا اس کے لیے تیار نہیں تھا، اس نے اپنے طور پر بھارت سے الحاق کا فیصلہ کیا مگر یہ شرط قائم رکھی کہ کشمیر کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا جائے گا، چناں چہ 26 اکتوبر 1947 ءکو بھارتی فوجیں اس کی دعوت پر کشمیر میں داخل ہوگئیں اور اس طرح بھارت جابرانہ طور پر کشمیر پر قابض ہوگیا۔
پاکستان کے پہلے گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح نے اس موقع پر فوجی مداخلت کی کوشش کی لیکن اس وقت کے کمانڈر ان چیف جنرل گریسی نے قائد اعظم کا حکم ماننے سے انکار کردیا، وہ براہ راست برطانیہ کے زیر اثر تھا اور اس وقت تک دونوں نوزائیدہ ممالک بھارت اور پاکستان پوری طرح آزاد نہیں ہوئے تھے، برطانوی اثرورسوخ حاوی تھا، بھارت میں برطانوی گورنر جنرل لارڈ ماو ¿نٹ بیٹن بھارتی مفادات کی نگرانی کر رہا تھا۔
یہ تنازع بالآخر اقوام متحدہ تک پہنچ گیا جو بھارتی مفاد کے خلاف تھا، چناں چہ بھارت نواز مسلم لیڈر شیخ عبداللہ کو بھارتی وزیراعظم نہرو نے اس بات پر راضی کرلیا کہ آرٹیکل 370 کے تحت کشمیر کو خصوصی حیثیت دے دی جائے، اس طرح مسلم لیڈر شیخ عبداللہ کی حکومت قائم ہوگئی اور نہرو کو یہ بہانہ مل گیا کہ مسلم اکثریتی علاقے میں ایک مسلم حکومت قائم ہے جو اپنی علیحدہ شناخت رکھتی ہے۔
پاکستان نے بھی اپنے زیر اثر کشمیری علاقے میں ایک علیحدہ ریاست قائم کردی جو آزاد کشمیر کہلاتی ہے، اسے بھی خصوصی حیثیت حاصل ہے، اس کا پرچم ، اسمبلی اور حکومت کا سربراہ الگ ہے لیکن یہ تنازع گزشتہ 70 سال سے بھارت و پاکستان کے درمیان جاری ہے اور اس حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان جنگیں بھی ہوچکی ہیں جن کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔
نریندر مودی نے اس آرٹیکل کو ختم کرکے کشمیر کو بھارت کے ساتھ ضم کرنے کی جو کارروائی کی ہے یہ اگرچہ خود بھارت کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہوگی لیکن پاکستان کے لیے بھی ایک تکلیف دہ عمل ہے،کشمیری مسلمان مسلسل ظلم و زیادتی کا شکار ہورہے ہیں، ان کی نسل کشی کی جارہی ہے، پورے کشمیر کو فوجی چھاو ¿نی بنادیا گیا ہے اور کرفیو نافذ کردیا گیا ہے، انٹرنیٹ یا ٹیلی فون کی سہولت منقطع کردی گئی ہے۔
عزیزان من! ہم نے شروع سال ہی میں موجودہ سال 2019 ءکے حوالے سے لکھا تھا کہ یہ سال ایک نہایت غیر معمولی سال ہے، ”آفاتِ ارضی و سماوی اور اختلافات و جنگ و جدل کا سال “چناں چہ آج دنیا بھر میں صورت حال کچھ ایسی ہی ہے، ہم نے لکھا تھا ”جون 2019 ءسے 17 اگست 2019 ءتک نہایت ہی حساس اور خطرناک وقت ہوگا، اس وقت میں تیسری عالمی جنگ کے آغاز کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے، اس وقت کے عالمی لیڈر صورت حال کو کس طرح کنٹرول کرتے ہیں، اس پر مستقبل کے نئے منظر نامے کا انحصار ہوگا، کیا کوئی ہٹلر ٹائپ شخصیت جنگ کے شعلوں کو ہوا دے گی یا کوئی چرچل ، ڈیگال یا روز ویلٹ ٹائپ کردار صورت حال کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوگا، نریندر مودی ، مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ، بشارالاسد، کم جون آف کوریا، جنرل عبدالفتح السیسی نمایاں طور پر جنگ کے شعلوں کو ہوا دینے والے لیڈر ہوسکتے ہیں جب کہ طیب اردوان ، ولادی میر پیوٹن، چینی صدر اور عمران خان کا کردار مصالحانہ ہوسکتا ہے“ 
ایک طرف ایران اور امریکا تنازع جاری ہے جو اب خاصی پیچیدہ نوعیت اختیار کرتا جارہا ہے، دوسری طرف بھارت نے یہ نیا شگوفہ کھلادیا ہے، تیسری جانب پہلے سے جاری چین اور امریکا محاذ آرائی اس سال لمحہ بہ لمحہ بڑھتی جارہی ہے، چین کا سی پیک منصوبہ بھی امریکا کی نظر میں کھٹک رہا ہے، دنیا بھر میں ایک نئی صف بندی ہورہی ہے جس کا مرکزی کردار بہر حال امریکا ہے، امریکی زائچے میں ایسے عوامل موجود ہیں جو اس کی جنگ جویانہ فطرت کی نشان دہی کرتے ہیں، چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ پہلی عالم گیر جنگ سے آج تک امریکی فوجیں ہمیشہ کسی نہ کسی تنازع میں ملوث نظر آتی ہیں، گزشتہ 19 سال سے امریکا افغانستان میں محاذ آرائی کرتا رہا ہے اور اب اس کی سمجھ میں یہ بات آئی ہے کہ افغان قوم کو غلام بناکر نہیں رکھا جاسکتا لہٰذا افغانستان سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی نئے محاذ بھی کھول رہا ہے،خصوصاً ایران، چین اور شمالی کوریا اس کا ہدف ہےں، شام میں جو کچھ ہورہا ہے اس میں بھی امریکی مداخلت موجود ہے، یہاں اس کی محاذ آرائی روس سے ہے۔
ایک اور محاذ ایشیا میں جنوبی یمن اور سعودی عرب کے درمیان گرم ہے، گویا 2019 ءکا سال پوری دنیا میں کسی نہ کسی محاذ آرائی کے حوالے سے اہمیت اختیار کرچکا ہے جس کا نتیجہ بالآخر کسی عالمی جنگ کی صورت میں ظاہر ہوسکتا ہے۔
بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی اگرچہ خاصی پرانی ہے لیکن کشمیر کی نئی صورت حال دونوں ملکوں کو بہر حال کسی خطرناک جنگ تک لے جاسکتی ہے جس کا امکان روز بہ روز بڑھتا جارہا ہے، خصوصی طور پر بھارت کے زائچے کی روشنی میں۔
2015 ءمیں ہم نے اس صورت حال کی نشان دہی کی تھی اور بتایا تھا کہ بھارتی زائچے میں قمر کا دور اکبر شروع ہوچکا ہے جو زائچے کے تیسرے گھر کا حاکم اور اسی گھر میں موجود ہے، زائچے کا تیسرا گھر کوشش ، پہل کاری، جدوجہد اور رجحانات کو ظاہر کرتا ہے، بدقسمتی سے قمر پر ساتویں گھر کے قابض کیتو کی قریبی نظر ہے کیتو کا تعلق انتہا پسندانہ فیصلوں، اقدام اور رجحانات سے ہے، چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ 2015 ءکے بعد سے انڈیا میں مذہبی انتہا پسندی کا رجحان نہایت تیزی سے بڑھ رہا ہے اور آج کل اپنے عروج پر ہے، بھارتیہ جنتا پارٹی کی موجودہ کامیابی بھی کسی متشدد رجحان کا سبب ہے، بھارت جو کبھی ایک سیکولر اسٹیٹ کے طور پر مشہور تھا، اب ہندو نظریاتی ریاست بن چکا ہے۔
بھارتی زائچے میں کثرت سیارگان تیسرے گھر میں ہے ، قمر کے علاوہ عطارد ، شمس، زہرہ اور زحل بھی اسی گھرمیں ہےں، شمس کی قربت کے سبب سیارہ زحل اور زہرہ غروب ہیں، سیارہ مریخ زائچے کے دوسرے گھر میں دوسرے ، پانچویں، آٹھویں اور نویں گھر سے ناظر ہے، گویا شدت پسندانہ نظریات اور رجحانات پیدائشی طور پر بھارت کو ملے ہیں، شاید اسی وجہ سے بھارت کے قیام کے فوری بعد ایک شدت پسند نے تحریک آزادی کے اہم رہنما گاندھی کو قتل کردیا تھا، قاتل کا تعلق ایک انتہا پسند جماعت سے تھا جو ”اکھنڈ بھارت“ کا نعرہ لگاتی ہے اور موجودہ وزیراعظم نریندر مودی نے بھی اپنے سیاسی کرئر کی ابتدا اسی جماعت آر ایس ایس سے کی تھی، تحریک آزادی کے اہم رہنما گاندھی کا قاتل اس جماعت اور موجودہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا ہیرو ہے۔
راہو کیتو بھارت کے زائچے میں شرف یافتہ ہےں، قمر کے دور اکبر میں گیارہ اگست 2018 ءسے سیارہ مشتری کا دور اصغر جاری ہے جو اس سال گیارہ دسمبر کو ختم ہوگا، سیارہ مشتری بھارتی زائچے کا سب سے منحوس سیارہ ہے، چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس دور میں بھارتی رویہ اور اقدام منفی ہیں، مصالحت ، امن اور بھائی چارے کی فضا قائم کرنے کے بجائے مودی حکومت مسلسل محاذ آرائی اور نفرت کو فروغ دے رہی ہے، پاکستان کے خلاف مودی حکومت گزشتہ کئی سالوں سے سازشوں میں مصروف ہے، اس کا ثبوت بلوچستان سے گرفتار کیا جانے والا جاسوس کلبھوشن ہے، یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ بلوچستان کے باغیوں کی سرپرستی بھارتی خفیہ ایجنسی را کر رہی ہے ، دوسری طرف افغانستان میں بھی بھارت اپنا اثرورسوخ بڑھا رہا ہے اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کررہا ہے، پاکستان کی مصالحانہ اور امن پسندانہ کوششوں کو مسلسل نظرانداز کر رہا ہے، کشمیری عوام کی آزادی کی کوششوں کو کچلنے کے لیے پاکستان کو ایک دہشت گرد ملک قرار دینے کی کوششیں کر رہا ہے، یہ سب اسی لیے ہے کہ کشمیر پر اپنا ناجائز تسلط مستقل بنیادوں پر قائم کیا جائے۔
جولائی کے آخر سے سیارہ مشتری اپنی ٹرانزٹ پوزیشن میں ساتویں گھر میں تقریباً 21 درجے پر اسٹیشنری پوزیشن پر ہے اور اسی دوران میں دیگر سیارگان شمس، زہرہ، مریخ اور عطارد بھی تیسرے گھر سے گزر رہے ہیں، گویا پیدائشی سیاروں سے ناظر ہیں اور مشتری سے بھی نظر بنارہے ہیں لیکن خاص طور پر مشتری کی نظر زحل اور زہرہ سے 23 جولائی تا یکم ستمبر قائم ہے، یہی وہ صورت حال ہے جس نے نریندر مودی کو اس وقت ایک نامناسب فیصلہ کرنے پر آمادہ کردیا ہے جس کا آئندہ انتہائی خطرناک نتیجہ برآمد ہوسکتا ہے۔
آنے والے دنوں میں بارھویں گھر کا حاکم سیارہ مریخ زائچے کے چوتھے گھر میں داخل ہوگا جس کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ پاکستان سے محاذ آرائی میں اضافہ ہوگا بلکہ بین الاقوامی طور پر بھی بھارت کا امیج خراب ہوگا اور داخلی طور پر بھی بھارت میں بے چینی اور مخالفت کی لہر شدت اختیار کرے گی، بے شک اپنی پارٹی کی اکثریتی پوزیشن کے باعث اور ملک میں بڑھتے ہوئے شدت پسندانہ مذہبی رجحانات کے سبب نریندر مودی یہی سوچتے اور سمجھتے رہے کہ ایک درست سمت میں جارہے ہیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوگا، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شاید انھیں اپنی غلطی کا احساس ہو، خصوصاً اس وقت جب 11 دسمبر 2019 ءسے قمر کے دور اکبر میں سیارہ زحل کا دور اصغر شروع ہوگا اور جولائی 2021 ءتک جاری رہے گا، جب کہ آئندہ جنوری کے بعد سے سیارہ زحل بھی برج جدی میں داخل ہوگا، زحل کی برج جدی میں موجودگی آنے والے سالوں میں نچلے طبقے کے عوام میں زندگی کا بہتر شعور پیدا کرے گی اور انتہا پسندانہ سوچ میں کمی لائے گی۔
نریندر مودی کے انتہا پسندانہ اقدام ان کی زندگی کے لیے بھی خطرات کا باعث ہوسکتے ہیں، آئندہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ وہ بھی سابق وزیراعظم اندرا گاندھی یا راجیو گاندھی کی طرح کسی حملے کا شکار ہوں۔
جہاں تک بھارت میں مذہبی جنون اور شدت پسندانہ رجحانات کا معاملہ ہے تو یہ لہر ستمبر 2025 ءتک جاری رہے گی اور اس دوران میں ملک مکمل طور پر ایک ہندو ریاست نظر آئے گا، اس لہر کی انتہا دسمبر 2022 ءسے مارچ 2026 ءتک نظر آتی ہے اور یہی وہ وقت ہوگا جب بھارت میں انتشار اور علیحدگی پسندانہ رجحانات بھی عروج پر ہوں گے، گویا بھارت کے کئی حصوں میں تقسیم ہونے کا وقت شروع ہوجائے گا۔
بھارت کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ ہمیشہ سے مختلف ریاستوں میں تقسیم رہا ہے، کبھی کبھی کسی طاقت ور بادشاہ کا دور ضرور ایسا آیا ہے جب پورے ملک میں طویل عرصہ اس کی حکومت رہی ہو لیکن بحیثیت مجموعی ہمیشہ ہندوستان مختلف ریاستوں میں تقسیم رہا ہے اور آئندہ بھی ایسا ہی ہوگا۔

زائچہ ءپاکستان

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان بھی خاصے طویل عرصے سے چوں کہ زائچے کے سب سے منحوس سیارے مشتری کے دور اکبر سے گزر رہا ہے اور اس دور کا آغاز دسمبر 2008 ءسے ہوا تھا اور اختتام 29 نومبر 2024 ءکو ہوگا، اگر باریک بینی سے مطالعہ کیا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہر قسم کی آفات اور مشکلات کا آغاز اسی دور میں نظر آتا ہے، وہ مہنگائی کا طوفان ہو ، بجلی کا بحران ہو، معیشت کی تباہی ہو یا کرپشن کی انتہا ہو ، دیگر ممالک سے محاذ آرائی اور تعلقات کی خرابی ہو الغرض ہر قسم کی خرابیاں اس دور میں موجود ہیں جن کا بدترین نتیجہ بہر حال عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے،اگرچہ کہنے کو ہم ایک جمہوری دور میں داخل ہوچکے تھے، جنرل پرویز مشرف کا دور ختم ہوا تھا اور پاکستان پیپلز پارٹی برسراقتدار تھی، اسی دور میں اُسامہ بن لادن کا واقعہ بھی پیش آیا ، اسی دور میں میموگیٹ اسکینڈل بھی سامنے آیا، ڈالر کی قیمت بڑھنا شروع ہوئی ، بعد ازاں جناب نواز شریف 2013 ءمیں وزیراعظم بنے اور ن لیگ برسراقتدار آئی ، حالات و واقعات مزید بگڑتے چلے گئے جن کے نتیجے میں ملک مزید مصائب و مشکلات کا شکار ہوا، گویا ایک طویل تسلسل سے ہم روز بہ روز نت نئی مشکلات اور پریشانیوں کا شکار ہیں۔
تحریک انصاف نے گزشتہ سال اگست میں اقتدار سنبھالا تو سابقہ خرابیوں کا تسلسل اسے ورثے میں ملا،وزیراعظم عمران خان مسلسل کوششوں میں مصروف ہیں لیکن مسائل کا پہاڑ سامنے کھڑا ہے، اس پر طرفہ تماشا اپوزیشن کا جارحانہ طرز عمل ہے کیوں کہ عمران خان اپوزیشن سے کوئی کمپرومائز کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، وہ ماضی میں ہونے والی کرپشن اور بدعنوانیوں کا حساب چاہتے ہیں، یہ صورت حال عمران خان کو بیک وقت اندرونی اور بیرونی محاذوں پر زیادہ بڑے چیلنج دے رہی ہے جس میں ان کی زندگی کے لیے بھی خطرات موجود ہیں۔
زائچہ ءپاکستان 20 دسمبر 1971ءکے مطابق پاکستان مشتری کے دور اکبر میں اب سیارہ شمس کے دور اصغر سے گزر رہا ہے جو زائچے کے آٹھویں گھر میں کمزور پوزیشن رکھتا ہے،یہ چوتھے گھر کا حاکم ہے ، اس کا تعلق عوام اور اپوزیشن سے ہے، آٹھویں گھر میں موجودگی بہر حال عوامی اور اپوزیشن کی مشکلات کا باعث ہے لیکن اس حوالے سے حکومت کو کوئی خطرہ نظر نہیں آتا، شمس کا دور اصغر آئندہ سال جنوری تک جاری رہے گا، اس کے بعد قمر کا دور اصغر شروع ہوگا ، قمر زائچے میں تیسرے گھر کا حاکم ہوکر نویں گھر میں اچھی جگہ واقعہ ہے، البتہ چھٹے گھر کے حاکم زہرہ سے ایک قریبی قران رکھتا ہے،قمر کا دور یقیناً ملک اور قوم کے لیے بہتر نتائج لائے گا۔
زائچے میں سیارگان کی ٹرانزٹ پوزیشن بھی سپورٹنگ نہیں ہے، جولائی سے کثرت سیارگان تیسرے گھر میں رہی، گویا نویں گھر میں موجود قمر زہرہ اور کیتو سے اہم نظرات قائم ہوئیں، جولائی کے آخر سے مشتری کی مستقیم پوزیشن ساتویں گھر میں پیدائشی عطارد اور مشتری پر اثرانداز ہورہی ہے جس کے خراب اثرات میڈیا پر زیادہ سخت ہیں، دسویں گھر کا حاکم سیارہ زحل اس سال شروع ہی سے کیتو کے ساتھ حالت قران میں ہے، یہ صورت حال ملکی تجارت، ساکھ، وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے لیے بہتر نہیں ہیں لہٰذا مارچ سے تاحال ہم حکومت کو مسلسل مشکلات کا شکار دیکھ رہے ہیں، اس صورت حال میں بہتری اکتوبر کے بعد شروع ہوگی اور مکمل طور پر آئندہ سال جنوری کے بعد۔
جولائی ہی سے اکثر سیارگان زہرہ، عطارد اور مریخ غروب حالت میں ہیں گویا اگست و ستمبر میں بھی کسی نمایاں بہتری کی توقع نہیں رکھنی چاہیے، جہاں تک انڈیا سے تعلقات کی خرابی اور جنگ جیسے نتائج کا سوال ہے تو فی الحال اس کا امکان نظر نہیں آتا لیکن اس امکان کو مکمل طور پر نظرانداز بھی نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ غیر اعلانیہ طور پر بھارت نے جنگ کی سی صورت حال پیدا کردی ہے، پاکستان اسے نظرانداز نہیں کرسکتا لیکن اپنی طرف سے وہ کوئی پہل بہر حال نہیں کرے گا، اس کا امکان بھی بھارت ہی کی طرف سے ہے جس نے پاکستان کو نئے مسائل سے دوچار کیا ہے،بھارت و پاکستان کے درمیان کسی نئی جنگ کا امکان اس صورت میں ممکن نظر آتا ہے جب یہ دونوں ملک دنیا کی سپر پاورز کی محاذ آرائی میں اپنا کوئی کردار ادا کریں گے۔
تازہ صورت حال میں بعض جذباتی لوگ بھارت سے کوئی نئی جنگ چھیڑنے کے لیے بھی تیار نظر آتے ہیں لیکن ایسا کرنا غلط ہوگا، بھارت نے جو کچھ کیا ہے اس کا خمیازہ اسے بھگتنا ہوگا ، وہ ایک مسلم اکثریتی علاقے کو فلسطین بناکر اس کی نسل کشی نہیں کرسکتا، آگے چل کر بھارت کی دیگر ریاستیں بھی بھارتی مذہبی انتہا پسندی کا شکار ہوکر احتجاج کرسکتی ہیں، چناں چہ پاکستان کو بیرونی سطح پر اور اندرونی سطح پر مستقبل کے لیے نہایت دانش مندانہ حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے، ہماری دعا ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت اس کوشش میں کامیابی حاصل کرے۔

ہفتہ، 3 اگست، 2019

نام اور تاریخ پیدائش کے اختلافی پہلو

صرف نام کے ذریعے دو افراد کے درمیان موافقت معلوم کرنا معتبر نہیں

پاکستان میں سیاست کے رنگ ڈھنگ نہایت ہی عجیب مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں، ایسا نہیں ہے کہ اس سے پہلے پاکستان میں ایسی پیچیدہ صورت حال کبھی دیکھی نہ گئی ہو، پہلے بھی ایسے اُتار چڑھاو ¿ آتے رہے ہیں، البتہ اس بار صورت احوال میں ایک نیا رنگ احتساب کا بہت نمایاں ہے، ملکی سیاسی اشرافیہ اور بیوروکریسی ماضی میں جو کچھ کرتی رہی ہے، اس پر نہایت سختی کے ساتھ گرفت کی جارہی ہے جس کے نتیجے میں پورے ملک میں ایک ہاہا کار مچی ہوئی ہے، بڑے بڑے کرپشن اور بدعنوانیوں کے کیس سامنے آرہے ہیں، اپوزیشن جماعتیں اس صورت حال کو انتقامی کارروائی قرار دے رہی ہےں،نتیجے کے طور پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان محاذ آرائی عروج پر ہے، جوابی کارروائی کے طور پر اپوزیشن نے چیئرمین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کردی جو تازہ خبر کے مطابق ناکام ہوگئی، یہ بھی ایک حیرت انگیز خبر ہے کیوں کہ سینٹ میں اکثریت بہر حال اپوزیشن کو حاصل ہے پھر یہ چمتکار کیسے ہوا؟
دوسری طرف مولانا فضل الرحمن اکتوبر میں اسلام آباد پر چڑھائی کا اعلان کرچکے ہیں، قصہ مختصر یہ کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان معرکہ آرائی عروج پر ہے، دوسری طرف ملک میں مہنگائی کا طوفان روز بہ روز بڑھتا جارہا ہے۔
عزیزان من! شاید آپ کو یاد ہو کہ ہم نے جب وزیراعظم عمران خان کے زائچہ ءحلف پر اظہار خیال کیا تھا تو نشان دہی کی تھی کہ مئی کے بعد زائچے میں سیارہ مریخ کا دور اصغر شروع ہوگا جو نہایت ہی طاقت ور اور موافق اثر ظاہر کرے گا کیوں کہ مریخ زائچے میں رچاکا یوگ بنارہا ہے، اس یوگ کے زیر اثر طاقت اور قوت کا بھرپور اظہار سامنے آتا ہے، صاحب زائچہ کا مزاج جمہوری نہیں رہتا بلکہ کچھ آمرانہ رنگ ڈھنگ سامنے آتے ہیں، ہم دیکھ رہے ہیں کہ وزیراعظم کا موڈ مزاج کچھ ایسا ہی رُخ اختیار کر رہا ہے اور وہ ہر سطح پر اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کی حکمت عملی پر آمادہ نظر آرہے ہیں، بعض اطلاعات کے مطابق انھوں نے اپنے ساتھیوں کو بھی سخت رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے، ایسی صورت حال بہر حال مثبت نہیں ہوتی اور تصادم کی فضا ملک میں انتشار اور بے چینی لاتی ہے، ہمارے خیال میں یہی صورت حال بدستور اکتوبر تک جاری رہے گی لیکن اس کے بعد حالات نئی کروٹ لیں گے مگر اس وقت تک شاید بہت کچھ تبدیل ہوچکا ہوگا ، اگست اور ستمبر کے مہینے خاصے جارحانہ فیصلوں اور اقدام کی نشان دہی کر رہے ہیں (واللہ اعلم بالصواب)
ہمیں اکثر اس مسئلے کا سامنا رہتا ہے جب لوگ دو افراد کے بارے میں موافقت اور ناموافقت کے حوالے سے سوال کرتے ہیں اور اکثریت اس حوالے سے دونوں فریقین کے ناموں کو ہی کافی سمجھتی ہے یا زیادہ سے زیادہ والدہ کا نام بھی اس میں شامل کر لیا جاتا ہے جب کہ تاریخ پیدائش کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی اور صرف اسی بات پر زور دیا جاتا ہے کہ دونوں کے نام سے ستارہ ملا دیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ مثالیں بھی پیش کی جاتی ہیں کہ فلاں فلاں نے دونوں کے نام کے حوالے سے یہ رائے دی اور فلاں فلاں نے فرمایا ہے کہ دونوں میں سے ایک کا نام بدل دیں تو سب ٹھیک ہوجائے گا۔ یہی صورت حال بچوں کے ناموں کے سلسلے میں بھی دیکھنے میں آتی ہے۔ کوئی بچہ زیادہ شریر ہے یا تعلیم میں کمزور ہے یا کسی سخت بیماری میں مبتلا ہے تو فوراً والدین یا خاندان کے کسی سیانے کا ذہن اس کے نام کی طرف جاتا ہے اور پھر کسی بزرگ یا مولانا یا ماہر جفر و نجوم سے مشورہ کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں اکثر فوراً ہی یہ فتویٰ مل جاتا ہے کہ نام درست نہیں ہے یا ”بھاری“ ہے وغیرہ وغیرہ لہٰذا نام تبدیل کر دیا جائے۔
اس سلسلے میں تاریخ پیدائش کو قطعی طور پر نظر انداز کر کے محض سنی سنائی باتوں پر قیاس آرائی کی جاتی ہے اور اس قیاس آرائی میں ایسی ایسی جاہلانہ کہاوتیں، ٹوٹکے یا شگون کی باتیں مروج ہیں کہ اگر ان خرافات کو یکجا کرنے کی کوشش کی جائے تو علیحدہ سے ایک کتاب مرتب ہو جائے گی۔
ہمارا تجربہ اور مشاہدہ یہ ہے کہ جو لوگ علم نجوم سے مکمل واقفیت نہیں رکھتے یا محض واجبی سی واقفیت رکھتے ہیں ”جیسا کہ اس علم سے واقفیت کے اکثر دعویداروں کا حال ہے“ تو وہ تاریخ پیدائش کو نظر انداز کر کے اپنا کام محض نام کی بنیاد پر چلاتے ہیں اور اس سلسلے میں اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لئے علم جفر کی آڑ لیتے ہیں کیوں کہ علم جفر بہرحال حروف اور اعداد سے بحث کرتا ہے۔ مگر اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ کلی طور پر علم جفر صرف حروف اور اعداد پر ہی انحصار نہیں کرتا بلکہ علم نجوم ہر سطح پر علم جفر سے جڑا ہوا ہے۔ یہاں ضروری محسوس ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا دونوں علوم کے درمیان بنیادی فرق اور ان کی حدود کو واضح کر دیا جائے اگرچہ ہم اپنے اکثر مضامین میں اس موضوع پر پہلے بھی بہت لکھ چکے ہیں مگر ایک بار پھر مختصر طور پر وضاحت کی جا رہی ہے۔
علم نجوم (Astrology) مکمل طور پر کائنات میں موجود فلکیاتی صورت حال اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اثرات سے بحث کرتا ہے اور اس سلسلے میں دائرہ بروج (Zodic Sign) اور ثوابت و سیارگان (Stars and Planets) بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ مختلف اوقات میں ان کی مختلف پوزیشن اور بروج کے اثرات کے ساتھ مل کر سیارگان کے ا ثرات کسی شخص جگہ یا واقعے پر کیا اثرات مرتب کر رہے ہیں، اسی مطالعے کا نام ایسٹرولوجی ہے۔
علم جفر میں حروف بنیادی اہمیت رکھتے ہیں اور ان حروف سے منسوب اعداد یا یہ کہ ان حروف کی جو عددی قیمتیں مقرر کی گئی ہیں وہ نہایت اہم ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام حروف اور تمام اعداد، سیارگان کے یا بروج کے جو اثرات قبول کر رہے ہیں اسے بھی نظر انداز نہیں کیا جاتا۔ یہیں سے علم جفر خود بخود علم نجوم کے ماتحت ہوجاتا ہے اور یہی حال علم الاعداد (Numreology) کا بھی ہے کیوں کہ اعداد بھی سیارگان و بروج کے زیر اثر تسلیم کئے جاتے ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ علم جفر ہو یا علم الاعداد، علم نجوم مذکورہ بالا دونوں علوم پر محیط ہے اور اسے نظر انداز کرنا کسی صورت ممکن نہیں۔
اب آئیے تاریخ پیدائش اور نام کے مسئلے کی طرف۔
ہم پہلے بھی یہ بات کئی بار لکھ چکے ہیں کہ کسی بھی انسان یا جاندار کی تاریخ پیدائش قانون قدرت کے مطابق اﷲ رب العزت کی مقرر کر دہ ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی شخص اپنی مرضی اور اختیار سے اپنی پیدائش کی تاریخ، مہینہ، سال، وقت اور جگہ کا انتخاب کر سکے یا کوئی دوسرا کسی انسان کو اپنے کسی مقررہ اور پسندیدہ وقت پر پیدا کر سکے۔ چنانچہ ہمارے نزدیک کسی انسان کی شخصیت، فطرت، کردار اور حالات و واقعات کا مطالعہ کرنے کے لئے وقت، تاریخ پیدائش، مہینہ اور سال کی اہمیت درجہ اول پر ہے اور معتبر اور مستند ٹھہرتی ہے۔
نام انسان کی پیدائش کے بعد رکھا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ وہ انسان ہی تجویز کرتے ہیں۔ صرف ایک ہی نام دنیا میں ایسا ہے جو خود رب کائنات نے تجویز فرمایا اور وہ ہے ”محمد“ صلی اﷲ علیہ وسلم۔ باقی نام خود انسان ہی تجویز کرتے ہیں جس میں غلطی کا امکان موجود ہے اور ضروری نہیں ہے کہ جو نام رکھا جائے وہ نومولود کی تاریخ پیدائش سے بھی مطابقت رکھتا ہو یا اس کے پیدائشی برج اور ستارے سے بھی ہم آہنگ ہو۔ نتیجے کے طور پر انسان دو مختلف قسم کے طاقتور اثرات کے زیر اثر آجاتا ہے جو مخالف بھی ہو سکتے ہیں اور موافق بھی اور اس مخالفت یا موافقت کا فیصلہ ایک علمی اور منطقی طریقہ کار کے مطابق ہی کیا جا سکتا ہے۔ صرف کسی کی بیماری، پریشانی، بدمزاجی، شرارت، کم فہمی یا بدعقلی کی بنیاد پر نہیں لیکن ہمارے یہاں صورت کچھ ایسی ہی ہے کہ تاریخ پیدائش کو علم نجوم سے عدم واقفیت کی بنیاد پر قطعاً نظر انداز کر کے محض نام پر علم جفر اور علم الاعداد کے داﺅ آزمائے جاتے ہیں اور اس سلسلے میں ہمارے نام نہاد ماہرین علم نجوم و جفر کا حال یہ ہے کہ وہ علم جفر میں جو علم نجوم کے اصول موجود ہیں انہی کی بنیاد پر نجومی احکام مرتب کر رہے ہوتے ہیں مثلاً حروف تہجی کے جو حروف علم جفر میں سیارہ زحل سے منسوب ہیں انہی کی بنیاد پر کسی شخص کا ستارہ اور برج مقرر کر دیتے ہیں مثلاً ۔ ۱ ، ب ، ج ، د۔ علم جفر میں سیارہ زحل سے منسوب ہیں لہٰذا جس شخص کا نام ان حروف سے شروع ہورہا ہوگا اس کا ستارہ زحل قرار دے دیا گیا۔
جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا ہے کہ نام ایک اختیار کردہ شے ہے جو بچپن میں ماں باپ تجویز کرتے ہیں یا خاندان کے بزرگ اور معتبر لوگ یا عمر کے کسی حصے میں لوگ خود بھی اپنا نام بدل کر کوئی اور نام رکھ لیتے ہیں چنانچہ ایک اختیاری اور تبدیل ہونے والی شے کے اثرات کو وسیع تر اور پائیدار کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔
ہماری اس بات کا مطلب یہ نہیں ہے کہ نام کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے یا وہ ہماری شخصیت اور کردار پر کوئی اثر ہی نہیں ڈالتا، یقینا نام کے حروف اور اعداد اپنا ایک طاقتور اثر رکھتے ہیں جن سے انکار ممکن نہیں، لیکن یہ اثر ذیلی ہے اور اس اثر کے تابع یا مخالف ہے جو تاریخ پیدائش کے اعداد اور پیدائش کے وقت کی فلکیاتی صورت حال کے تحت ہمیں پیدائشی طور پر ملا ہے لہٰذا ہم جب بھی نام کے حوالے سے بات کریں گے تو ہمیں پہلے اس بنیادی اثر سے واقفیت حاصل کرنا ہو گی جو پیدائشی طور پر ہماری ذات کا حصہ ہے اور غیر مبتدل او ر دائمی ہے کیوں کہ ہم دوبارہ اس مقررہ وقت، تاریخ، مہینے اور سال پر پیدا نہیں ہو سکتے لہٰذا اس اثر میں تبدیلی ممکن نہیں ہے۔
جیسا کہ ابتدا میں ہم نے عرض کیا ، نام اور تاریخ پیدائش کے حوالے سے اختلافی صورت حال اکثر ہمارے سامنے آتی رہتی ہے۔ چند روز پہلے ایک صاحب تشریف لائے وہ اپنے بیٹے کی شادی کسی لڑکی سے کرنا چاہتے تھے۔ لڑکی کے والد شاید خود بھی ان علوم سے شغف رکھتے ہیں اور ایسے لوگوں سے رابطہ بھی رکھتے ہیں لہٰذا انہوں نے کسی ماہر جفر سے دونوں کا زائچہ بنوا کر یہ فتویٰ حاصل کر لیا کہ ان دونوں کی شادی لڑکی پر یا لڑکی والوں پر بھاری پڑے گی لہٰذا یہ شادی نہ کی جائے۔ اتفاق سے لڑکا اور لڑکی دونوں ایک دوسرے کے لئے پسندیدگی کا جذبہ بھی رکھتے تھے، خاص طور سے لڑکا کہیں اور شادی کرنے پر تیار ہی نہیں تھا۔ نتیجے کے طور پر لڑکے کے ماں باپ کو بھی بیٹے کی خوشی عزیز تھی۔ انہوں نے ہم سے کہا ذرا آپ بھی دیکھیے یہ رشتہ کیسا رہے گا؟ ہمارے خیال میں وہ ایک نہایت موزوں اور مناسب رشتہ تھا اس میں کوئی ایسی بات نہیں تھی جس کی وجہ سے اس شادی کو روکا جاتا۔
لڑکے کے والد نے بتایا کہ ہم نے خود بھی استخارہ کیا اور بعض معتبر افراد سے بھی استخارہ کروایا ہے اور ہمیں مثبت جواب ملا لیکن لڑکی کے والد کہتے ہیں کہ ہمیں استخارے میں بھی منفی جواب مل رہا ہے اور زائچے میں بھی صورت حال درست نہیں ہے جب ہم نے ان کے بنوائے ہوئے زائچے کی حقیقت معلوم کی تو پتا چلا کہ وہ زائچہ علم جفر کے حساب سے بنایا گیا تھا، یقیناً بہت سے لوگ علم جفر سے زائچہ بھی بناتے ہیں اور مختلف سوالوں کے جواب بھی حاصل کرتے ہیں کیوں کہ علم جفر دو حصوں میں تقسیم ہے۔ ایک حصے کو ”اخبار“ کہا جاتا ہے اور دوسرے حصے کو ”آثار“ کہا جاتا ہے۔
علم جفر کا حصہ اخبار خبر حاصل کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ پاکستان اور ہندوستان میں اس شعبے کے بہت سے نامور جفار گزرے ہیں اور شاید آج بھی ہوں لیکن کم از کم ہمارے علم میں نہیں کیوں کہ اس علم میں ایسے ایسے اختلافی مسائل موجود ہیں جن پر ماہرین جفر کبھی متفق نہیں ہوتے اور چونکہ اردو زبان میں عربی حروف تہجی سے کمی اور بیشی کی بنیاد پر جو اختلافات موجود ہیں یا جو کمی موجود ہے اسے آج تک کوئی اردو داں ماہر جفر پورا نہیں کر سکا اسی لئے اس ذریعے سے حاصل کردہ جوابات کبھی معتبر بھی نہیں ٹھہرتے اور اس کی بنیاد پر بنایا گیا زائچہ بھی غیر معتبر ہی رہتا ہے۔
علم جفر کا حصہ آثار اعمال روحانی یعنی علاج معالجے سے بحث کرتا ہے۔ بے شک اس شعبے میں زمانہ قدیم سے زمانہ حال تک ماہرین جفر کا ایک طویل سلسلہ موجود ہے جس میں بہت بڑے بڑے نام سامنے آتے ہیں۔ علم نقوش و طلسمات اسی حصہ جفر کے ماتحت ہے۔ امید ہے اس ساری تفصیل کی روشنی میں ہمارے قارئین نہ صرف نام اور تاریخ پیدائش کے فرق کی اہمیت سمجھ گئے ہوں گے بلکہ علم نجوم اور جفر کے وہ مسائل بھی واضح ہو گئے ہوں گے جن کی بنیاد پر فی زمانہ اکثر نام نہاد ماہرین نجوم و جفر لوگوں کوگمراہ کرتے ہیں اور محض اپنی جھوٹی علمی شان کا پرچم بلند کرنے کے لئے یا تھوڑے سے پیسوں کے لئے غلط نظریات اور روایات کو فروغ دیتے ہیں۔

مسیحا میرج بیورو


گزشتہ کالم میں مسیحا میرج بیورو کے حوالے سے تعارف پیش کیا گیاتھا لیکن اندازہ ہوا کہ ہمارے قارئین نے اس پر زیادہ توجہ نہیں دی، ہماری ویب سائٹ پر متعلقہ فارم کو دیکھنے کی بھی شاید زحمت نہیں کی گئی، البتہ ہمیں براہ راست رشتوں کے لیے بہت سے میسج ضرور کیے گئے ، خیال رہے کہ اس سلسلے سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ متعلقہ فارم بھر کر روانہ کیا جائے، صرف میسج وغیرہ پر اطلاع دینا کافی نہیں ہے، فارم کے مطابق مکمل نام اور ضروری کوائف کے علاوہ لڑکا یا لڑکی کی تصویر بھیجنا بھی ضروری ہے تاکہ اسے ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے چناں چہ ہماری درخواست ہے کہ اس سلسلے کے مکمل طریق کار کو سمجھنے کے لیے ایک بار ویب سائٹ پر مسیحا میرج بیورو کے لنک کا وزٹ ضرور کریں اور پھر اس کے مطابق ہی عمل کریں تاکہ آپ کا نام ریکارڈ کا حصہ بن جائے، اس سلسلے میں مزید معلومات کے لیے صرف میسج کرنا کافی نہیں ہے، بہتر ہوگا کہ براہ راست فون پر رابطہ کریں۔

پیر، 22 جولائی، 2019

وزیراعظم عمران خان اور روسی صدر پیوٹن میں مماثلت

دونوں شخصیات کی زندگی کے اتفاق و اختلاف پر تجزیاتی نظر
جڑواں بچوں کی پیدائش ہمیشہ ایسٹرولوجی پر اعتراض کرنے والوں کا پسندیدہ 
سوال ہوتا ہے،وہ کہتے ہیں کہ ایک ہی دن ، تاریخ، سال اور مقام پر پیدا ہونے والے بچے کیسے ایک دوسرے سے مختلف سوچ ، عمل اور رویے کے حامل ہوتے ہیں، یقیناً یہ ایک نہایت اہم سوال ہے اور اس علم پر بھرپور گرفت رکھنے والے ماہرین نے اس کا معقول جواب بھی دیا ہے یہاں ہمارا موضوع جڑواں بچے نہیں ہے لہٰذا اس سوال کا جواب دینے کا یہ موقع بھی نہیں ہے صرف اتنا اشارہ دینا کافی ہے کہ جڑواں بچے بے شک ایک ہی دن تاریخ اور مقام پر پیدا ہوتے ہیں لیکن پیدائش کے وقت میں چند منٹ کا فرق ضرور ہوتا ہے اور یہی فرق نہایت اہم ہے جو دونوں کی زندگی کے حالات پر اثر انداز ہوتا ہے۔
فی الوقت ہمارے پیش نظر ایک دوسرا دلچسپ اتفاق ہے، وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن ۔
اتفاق سے کچھ عرصہ پہلے صدر پیوٹن کی تاریخ پیدائش، وقت پیدائش وغیرہ ہماری نظر سے گزری، اس تاریخ کے مطابق بعض مشہور منجمین نے صدر پیوٹن کا زائچہءپیدائش بنایا ہے جسے دیکھ کر ہم خاصے حیران ہوئے کیوں کہ یہ زائچہ وزیراعظم عمران خان کے زائچے سے بے حد مماثل ہے۔



برسوں پہلے عمران خان کی مشہور تاریخ پیدائش 25 نومبر ہمارے پیش نظر رہی لیکن بعد ازاں محترم سید انتظار حسین شاہ زنجانی کی ذاتی کوشش سے عمران خان سے رابطہ کیا گیا اور انھوں نے بتایا کہ ان کی درست تاریخ پیدائش 5 اکتوبر1952 ، لاہور ہے جب کہ وقت پیدائش تقریباً صبح 9 بجے ہے، چناں چہ پہلی مرتبہ ہم نے ہی ماہنامہ آئینہ قسمت میں عمران خان کا درست زائچہ پیش کیا تھا،واضح رہے کہ تازہ اپ ڈیٹ کے مطابق اب وکی پیڈیا پر بھی عمران خان کی تاریخ پیدائش 5 اکتوبر 1952 ہے۔
روسی صدر ولادی میر پیوٹن کی تاریخ پیدائش7 اکتوبر 1952 ،سینٹ پیٹرز برگ ہے اور وقت پیدائش صبح 09:29 am ہے۔
اب دلچسپ صورت حال یہ ہے کہ دونوں افراد کا طالع پیدائش برج میزان ہے،یقیناً طالع کے درجات میں نمایاں فرق ہے، برج میزان کا حاکم سیارہ زہرہ اپنے گھر میں باقوت پوزیشن رکھتا ہے اور کلاسیکل ویدک سسٹم کے مطابق ”ملاویا یوگ“ بنارہا ہے،یہ یوگ خوش قسمتی کی علامت ہے اور چوں کہ طالع کا حاکم اس میں اہمیت رکھتا ہے لہٰذا یہ کسی راج یوگ سے کم نہیں ہے، راج یوگ کے اصولوں کے مطابق زائچے میں موجود پری ورتن یوگ اور گج کیسری یوگ بھی کسی راج یوگ سے کم نہیں ہےں۔
زائچے کے پہلے گھر میں برج میزان طلوع ہے اور اس کا مالک سیارہ زہرہ طاقت ور پوزیشن میں ملاویا یوگ بنارہا ہے، پہلے گھر کا حاکم پہلے گھر میں ہو تو یہ اچھی صحت اور سوسائٹی میں اچھی پوزیشن کے علاوہ لمبی عمر دیتا ہے، صاحب زائچے کی زندگی کا آغاز بہتر اور مناسب انداز میں ہوتا ہے اور وہ زندگی میں مسائل حل کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔
جب کہ ساتویں گھر کا حاکم سیارہ مریخ تیسرے گھر برج قوس میں قابض ہے اور برج قوس کا حاکم سیارہ مشتری مریخ کے گھر برج حمل میں براجمان ہے،اسے پری ورتن یوگ کہا جاتا ہے یعنی دو ستارے باہم ایک دوسرے کے گھروں میں قابض ہوتے ہیں، تیسرے گھر کا حاکم سیارہ مشتری ساتویں گھر میں ہو تو صاحب زائچہ زندگی میں لمبے سفر کرتا ہے، اسٹیٹس کا مالک ہوگا، بیرون ملک رہائش اختیار کرے گا، شریک حیات کے معاملات میں ایسے شخص کی ترجیحات شدید ہوں گی اور ایک سے زیادہ تعلقات ہوں گے گویا رومان پسندی نمایاں ہوگی۔
چوتھے گھر میں راہو جب کہ ساتویں گھر میں مشتری کے علاوہ سیارہ قمر موجود ہے،قمر اور مشتری کا ایک ہی گھر میں ہونا گج کیسری یوگ کہلاتا ہے، یہ بھی خوش قسمتی لانے والا یوگ ہے اور خاص طور پر ایسے لوگ خدمت خلق یا اصلاح معاشرہ کے لیے کام کرتے نظر آتے ہیں،زائچے کا دسواں گھر سرطان ہے اور یہاں غضب ناک کیتو موجود ہے،اس کے علاوہ زائچے کے بارھویں گھر میں سیارہ شمس، زحل اور عطاردقابض ہےں، یہ زائچے کا کمزور و ناقص پہلو ہے جو زندگی میں بہت سے مسائل ، پریشانیوں اور مصائب کو جنم دیتا ہے،عمران خان کی زندگی ایسے مصائب و مشکلات سے عبارت ہے، زندگی کا ابتدائی دور ہو یا درمیانہ یا آخری یہ مصائب و مشکلات جاری رہیں گے۔
سیارہ زحل زائچے کے پانچویں گھر کا حاکم اور یوگ کارک سیارہ ہے، خیال رہے کہ جو سیارہ زائچے کے دو سعد گھروں کا حاکم ہو اسے ”یوگ کارک“ کہا جاتا ہے، پانچویں گھر کا تعلق شعور ، زندگی کی خوشیاں ، بچے، اعلیٰ تعلیم ، زائد آمدن وغیرہ سے ہے ، اگر اس کا حاکم بارھویں گھر میں ہو تو ایسے لوگ اعلیٰ تعلیم کے لیے کسی دوسرے ملک جاتے ہیں،ہم دیکھتے ہیں کہ عمران خان ابتدائی عمر ہی میں تعلیم کے لیے ملک سے باہر یعنی انگلینڈ چلے گئے تھے اور پھر ایک طویل عرصہ انھوں نے ملک سے باہر گزارا کیوں کہ گیارھویں گھر کا حاکم شمس بھی بارھویں گھرمیں ہے لہٰذا ذرائع آمدن کا تعلق بھی بیرون ملک سے رہا۔
طالع برج میزان کے لیے راہو کیتو کے علاوہ سیارہ عطارد نحس اثرات کا حامل سیارہ ہے کیوں کہ یہ بارھویں گھر کا حاکم ہے اور پانچویں گھر کے حاکم سیارہ زحل کو متاثر بھی کر رہا ہے، مزید خرابی یہ ہے کہ شمس کی قربت کے سبب سیارہ زحل غروب بھی ہے،گویا تعلیمی زمانہ ہو یا کوئی اور دور عمران خان کے لیے آسانیاں کبھی نہیں رہیں، عطارد کی مداخلت کے سبب ابتدائی زندگی میں ان کی شہرت بھی خاصی متنازع ہوئی، عشق معاشقے ، اسکینڈلز و دیگر رنگ رلیاں نوجوانی میں اسی پانچویں گھر کے حاکم کی خرابی کا پھل ہیں۔
راہو کیتو کی پوزیشن زائچے کے بعض اہم گھروں کو متاثر کرتی ہے جن میں دوسرا گھر ، چوتھا گھر، چھٹا گھر، آٹھواں گھر، دسواں گھر اور بارھواں گھر شامل ہیں، دوسرے گھر کامتاثر ہونا اسٹیٹس ، ذرائع آمدن اور فیملی لائف کے لیے اچھا نہیں ہے، چوتھے گھر کا متاثر ہونا والدین اور خصوصاً ماں کے لیے نقصان دہ ہے، مزید یہ کہ ایسا شخص اپنے گھر میں سکون اور آرام نہیں پاتا، چھٹے گھر کا متاثر ہونا صحت کے معاملات کو خراب کرتا ہے، ساتھ ہی مزاج میں تندی تیزی اور جھگڑالو پن لاتا ہے، یہ تمام خامیاں ہمیں عمران خان کی شخصیت میں نظر آتی ہیں، زائچے کا آٹھواں گھر متاثر ہو تو وراثت میں کوئی بڑا ترکہ نہیں ملتا، مزید یہ کہ ازدواجی زندگی میں ناکامی اور طلاق کا اندیشہ موجود رہتا ہے، چناں چہ اب تک ان کی دو شادیاں ناکام ہوچکی ہیں، زائچے کا دسواں گھر متاثر ہو تو کرئر اور پیشہ ورانہ معاملات میں اُتار چڑھاو ¿ کا سامنا رہتا ہے، ایسے لوگوں کو ہمیشہ اپنے سپیریئرز یا اعلیٰ افسران سے تناو ¿ اور تنازعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، عمران خان کے کرئر میں یہ صورت حال بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی اور سیاست میں بھی یہ صورت حال بدستور ہے،زائچے کا بارھواں گھر بے آرامی ، بے خوابی، مستقبل کے خوف لاتا ہے جس کے نتیجے میں خواب آور ادویات کا استعمال شروع ہوسکتا ہے، ایسے لوگ خواب آور ادویات کے عادی ہوجاتے ہیں۔
زائچے کی کمزوریوں اور خرابیوں کے ساتھ زائچے کی خوبیاں بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتیں، یہ ممکن نہیں ہوتا ہے دنیا میں کسی بھی شخص کا زائچہ صرف خوبیوں سے عبارت ہو اور اس میں خامیاں ہی نہ ہو، خوبیوں میں سرفہرست طالع میزان کا طاقت ور ہونا اور ملاویا یوگ ہے، ایسے لوگوں کو ہمیشہ قدرت کی طرف سے مواقع ملتے رہتے ہیں اور وہ ان سے فوائد حاصل کرتے رہتے ہیں، برج میزان توازن اور ہم آہنگی کا برج ہے، فطری طور پر جمال و رومان پرست ہے،چوں کہ طالع کے درجات بھی سیارہ زہرہ کے زیر اثر ہےں لہٰذا پیدائشی طور پر وہ ایک حسین اور وجیہ شخصیت کے مالک رہے ہیں،ہمارے خیال سے یہ کہنا غلط ہوگا کہ عمران خان حسینان عالم کے پیچھے بھاگتے تھے ، حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر کی حسینائیں ان کے پیچھے بھاگتی رہی ہیں، وہ بنیادی طور پر نرگسیت کا شکار رہے ہیں، ایسے لوگوں کو چاہے جانے کی خواہش تو شدید ہوتی ہے لیکن وہ دوسروں کو نہیں چاہتے بلکہ اپنی ہی محبت میں مبتلا ہوتے ہیں اور اپنی ہی دھن میں مگن رہتے ہیں، ان کے ماضی کے رومانس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایما سارجنٹ، کرسٹن بیکر، سیتا وائٹ یا جمائما خان خود ان کی طرف متوجہ ہوئیں، فطری حسن پرستی نے کسی کے قدم روکنے کی کبھی کوشش بھی نہیں کی جو ملتا ہے محبت سے نیا غم دے ہی جاتا ہے۔

فطری رجحانات

کسی بھی زائچے میں صاحب زائچہ کے فطری معاملات کو سمجھنے کے لیے علم نجوم میں قمری برج کو بڑی اہمیت حاصل ہے، قمر جس برج میں موجود ہو وہ فطرت کی تشکیل کرتا ہے، عمران خان کے زائچے میں قمر برج حمل میں ہے، اس کا حاکم ڈائنامک سیارہ مریخ ہے جسے توانائی کا سیارہ کہا جاتا ہے، یہ لوگ پہل کار، نڈر، خوش امید، اپنی من مانی کرنے والے، ڈومینیٹنگ نیچر کے حامل، جلد باز، بے صبرے، بچگانہ حرکتیں کرنے والے ہوتے ہیں، عمران خان کے پورے کرئر میں ، وہ کرکٹ کرئر ہو یا سیاسی یہ فطری رجحانات نظر آئیں گے،انسانی فطرت کے حوالے سے مزید تحقیق کے لیے ایسٹرولوجی میں منازل قمری کو نہایت اہمیت حاصل ہے، ہم دیکھتے ہیں کہ قمر برج حمل میں ہوتے ہوئے ”اشونی نچھتر“ میں ہے، اس نچھتر پر غضب ناک کیتو حاکم ہے، کیتو کا تعلق روحانیات سے بھی ہے،اشونی نچھتر کا نشان گھوڑے کا سر ہے، فطرت نیک و پاکیزہ (Divine) اس کا محرک مذہب ہے،یہ لوگ آگے کی طرف دیکھتے ہیں، پیچھے نہیں، مریخ اور کیتو کا امتزاج اس نچھتر میں پیدا ہونے والے افراد کو زبردست توانائی فراہم کرتا ہے،غیر معمولی طو پر فعال ہوتے ہیں، ہٹ دھرمی یا استواری ، غضب ناکی اور زندگی کی امنگ کی تاثیر ہوتی ہے، اشونی نچھتر میں کھلندڑا پن اور بچگانہ فطرت بھی نمایاں ہے، ایک نڈر اور بے خوف جذبہ جو نئے جہان دریافت کرنا چاہتا ہو، سامنے آتا ہے، چوں کہ برج حمل سیارہ شمس کے شرف کا برج ہے لہٰذا لیڈر شپ ، جنگ جویانہ صلاحیت، اختیارات اور قدرومنزل کی چاہت بھی اس نچھتر سے وابستہ ہے،اس کا بنیادی محرک مذہبی کار نمایاں اور سرگرمی کا اصول ہے، قانون ، فرض، مذہب اور اخلاقی رویے پر یہاں زور دیا جاتا ہے، قمری منزل کے اس مختصر جائزے سے عمران خان کی فطرت پر روشنی پڑتی ہے اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ فطری طور پر ہمیشہ اعمال صالح کی طرف رغبت رکھتے تھے،اس کا اندازہ اس واقعے سے بھی ہوتا ہے جب وہ نوجوانی میں مشہور گلوکارہ کرسٹن بیکر سے شادی کا پروگرام بنارہے تھے، ایم ٹی وی کی یہ مشہور گلوکارہ ان کے عشق میں دیوانی تھی، جب عمران خان سے اس کی شادی نہ ہوسکی اور انھوں نے بعد ازاں جمائما خان سے شادی کرلی تو کرسٹن بیکر ایک نفسیاتی مریضہ بن گئی، عمران اس کو پاکستان بھی لائے تھے اور اپنے ملک کی خوبصورتی دکھانے کے لیے کاغان وغیرہ تک لے گئے تھے۔
کرسٹن بیکر بعد میں مسلمان ہوئی اور اس نے اپنی بائیوگرافی لکھی جو ”فرام ایم ٹی وی ٹو مکہ“ کے نام سے شائع ہوئی، وہ لکھتی ہے کہ ایک رات میں عمران خان کے فلیٹ پر اس کے ساتھ تھی اور وہ مجھے اپنے نبی ﷺ کی سیرت پڑھ کر سنارہے تھے، میں نے دیکھا کہ وہ رو رہے تھے، خصوصاً جب نبی اکرم ﷺ پر کفار مکہ کے ظلم و زیادتیوں کا ذکر آیا، وہ بہت حیران ہوئی کہ عمران جیسا مضبوط اعصاب کا مالک اور ایک سپاٹ چہرہ رکھنے والا انسان اتنا جذباتی کیسے ہوگیا“
کرسٹن بیکر سے شادی نہ کرنے کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ کسی صورت بھی مسلمان ہونے کے لیے تیار نہیں تھی، چناں چہ عمران خان اس سے دور ہوگئے اور جمائما گولڈ اسمتھ سے قریب ہوتے چلے گئے کیوں کہ وہ اسلام قبول کرنے کے لیے تیار تھیں، یہاں تک کہ دونوں کی شادی ہوگئی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کی ابتدائی زندگی گویا دور نوجوانی مغرب کے آزاد خیال ماحول میں گزرا اور کسی حد تک اس ماحول کا اثر بھی انھوں نے قبول کیا لیکن شاید اسی وقت فطری نیک خصلت بھی اپنا کام کر رہی تھی جس نے انھیں مکمل طور پر اس ماحول میں جذب نہ ہونے دیا ورنہ یہ بھی ممکن تھا کہ وہ شادی کے لیے کسی کرسچن یا یہودی سے قبول اسلام کی شرط نہ لگاتے، بالآخر یہی نیک فطرت انھیں اپنی والدہ کی بیماری کے بعد شوکت خانم کینسر اسپتال کے قیام کی جدوجہد میں مصروف کرتی نظر آتی ہے اور بعد ازاں سیاست میں لاتی ہے تاکہ وہ پاکستانی سیاست کے اس گلے سڑے اور تعفن زدہ ماحول کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں، اس کوشش میں انھیں اندازہ ہوگیا کہ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے، بہر حال زائچے کی پوزیشن ظاہر کرتی ہے کہ وہ آخری حد تک جانے والے انسان ہیں، خواہ اس راستے میں جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔
گزشتہ سال جولائی میں الیکشن کے بعد پاکستان کے لیجنڈ ادیب جناب مستنصر حسین تارڑ نے عمران خان پر کئی کالم لکھے حالاں کہ وہ عام طور سے سیاسی موضوعات پر نہیں لکھتے لیکن وہ ان لوگوںمیں شامل ہیں جو عمران خان کو پسند کرتے ہیں، اپنے ایک کالم میں انھوں نے آخر میں لکھا۔
”ایک خوش نما سنہرا پرندہ کوو ¿ں میں پھنس گیا ہے اور یہ اسے ٹھونگےں مار مار کر لہو لہان کردیں گے“
وزیراعظم پاکستان بننے کے بعد صورت حال کچھ ایسی ہی ہے ، ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ملک کی تمام سیاسی اشرافیہ، بزنس کمیونٹی، ہمارے لبرل دانش ور ، صحافی وغیرہ سب عمران خان کے خلاف ہوگئے ہیں ، بقول فیض
کسی کا درد ہو کرتے ہیں ترے نام رقم
گلہ ہے جو بھی کسی سے ترے سبب سے ہے
عمران خان کے زائچہ ءپیدائش میں سیاروی ٹرانزٹ پوزیشن نہایت موافق اور مددگار ہے، شاید یہی پوزیشن الیکشن میں ان کی کامیابی کا سبب بنی اور ابھی تک سپورٹ کر رہی ہے، سیارہ مشتری الیکشن کے دوران میں زائچے کے پہلے گھر سے گزر رہا تھا، مشتری عمران خان کے زائچے کا نہایت اہم اور سعد سیارہ ہے، اس سال بھی مشتری کی پوزیشن موافق اور مددگار ہے، زائچے میں سیارہ مشتری کا دور اکبر جاری ہے جو سعد اثر رکھتا ہے، دور اصغر سیارہ زحل کا جاری ہے جو اگرچہ یوگا کارک ہے مگر بارھویں گھرمیں قابض اور زائچے کے منحوس اثر رکھنے والے سیارگان سے متاثرہ ہے، چناں چہ الیکشن میں وہ کامیابی نہ مل سکی جو ضروری تھی اقتدار میں آنے کے بعد جس نوعیت کی صورت حال سامنے آئی وہ بھی نہایت پریشان کن رہی جس سے نکلنے کے لیے تاحال کوشش اور جدوجہد جاری ہے۔
سال 2019 ءمیں نہایت مشکل اور سخت ترین وقت جون سے ستمبر تک نظر آتا ہے اور خاص طور پر ستمبر کچھ زیادہ ہی بڑے چیلنج سامنے لائے گا کیوں کہ اس دوران میں عمران خان کا ذاتی سیارہ زہرہ بھی اپنے ہبوط کے برج سے گزر رہا ہوگا، ہماری دعا ہے کہ اللہ انھیں اپنے نیک مقاصد میں کامیابی دے اور موجودہ بحرانی صورت حال سے نکلنے میں مدد دے کیوں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ عمران خان فطری طور پر اس ملک و قوم سے مخلص ہےں اور قوم کی بھلائی چاہتے ہیں ،ان کے ذاتی مقاصد اور مفادات نہیں ہیں۔

روسی صدر پیوٹن




اپنی تاریخ پیدائش اور وقت پیدائش کے مطابق صدر پیوٹن کا طالع پیدائش بھی برج میزان تقریباً 10 درجے پر ہے، سیارہ زہرہ ان کے زائچے میں بھی پہلے گھر میں طاقت ور پوزیشن میں ملاویا یوگ بنارہا ہے، اسی طرح تیسرے گھر کا حاکم مشتری بھی ساتویں گھر برج حمل میں قابض ہے اور برج حمل کا حاکم سیارہ مریخ تیسرے گھر برج قوس میں براجمان ہے، گویا پری ورتن یوگ یہاں بھی موجود ہے، دیگر سیاروی پوزیشن دونوں زائچوں کی تقریباً ایک ہی ہےِِ، بنیادی فرق صرف اتنا ہے کہ سیارہ قمر برج ثور میں داخل ہوچکا ہے اور اس کی قمری منزل کرتکا ہے۔
عمران خان کی طرح ابتدائی زندگی میں انھیں بھی مشکلات اور سخت جدوجہد کا سامنا رہا، ان کا رجحان بھی اسپورٹس کی طرف ہوا، البتہ وہ کرکٹ کے بجائے مارشل آرٹس کی طرف متوجہ ہوئے، عمران خان کے زائچے کے برعکس ان کے زائچے کے دیگر گھر راہو کیتو یا کسی اور نحس سیارے سے متاثرہ نہیں ہیں جس کی وجہ سے ذاتی زندگی میں یا کرئر کے معاملات میں انھیں بہت زیادہ مسائل اور مصائب کا سامنا نہیں رہا ہوگا، البتہ حسن پرستی اور رومانی سرگرمیاں ضرور رہی ہوں گی،پہلی شادی لو میرج تھی جو بالآخر ختم ہوئی اور پھر دوسری شادی بھی لو میرج رہی، پہلی شادی سے دو لڑکیاں ہوئیں جو ان کے پاس نہیں ہیں۔
ولادی میر پیوٹن کی زندگی کا ابتدائی دور روس اور امریکا کے درمیان رسا کشی کا دور ہے ، روس اس وقت دنیا کی دوسری سپر پاور کی حیثیت اختیار کرچکا تھا، چناں چہ پیوٹن کو اپنے ملک سے باہر تعلیم کے لیے نہیں جانا پڑا لیکن ابتدا ہی سے اسپورٹس سے لگاو ¿ ظاہر ہوگیا تھا اور ابتدائی عمر ہی میں انھوں نے بلیک بیلٹ حاصل کرلی تھی، اسی طرح روسی کمیونسٹ پارٹی میں بھی شمولیت کا موقع مل گیا تھا، 1975 ءمیں وہ روسی خفیہ ایجنسی کے جی بی سے وابستہ ہوگئے تھے، ان کے سامنے ہی روسی سپر پاور کا خاتمہ ہوا اور ملک مختلف ریاستوں میں بٹ گیا، اگست 1999 میں انھیں ڈپٹی پرائم منسٹر بننے کا موقع ملا اور اسی سال وہ وزیراعظم بن گئے اور روسی صدر بورس نیلسن کے غیر متوقع استعفے نے انھیں روس کا صدر بنادیا ، بعد ازاں وہ صدارتی الیکشن بھی مسلسل جیتتے رہے، اقتدار میں آنے کے بعد روسی معیشت خاصی کمزور تھی، کرپشن ملک کا اہم مسئلہ تھا، انھوں نے آہستہ آہستہ معاشی طور پرملک کو بحران سے نکالا اور کرپشن پر بھی قابو پایا، اس وقت وہ دنیا کی دوسری سپرپاور کے صدر ہیں۔

فطری رجحانات


دونوں زائچوں کا بنیادی فرق فطری رجحانات ہےں جس کی نشان دہی زائچے میں قمر کی پوزیشن سے کی جاسکتی ہے،عمران خان کا قمر برج حمل اور اشونی نچھتر میں ہے جب کہ صدر پیوٹن کا قمر اپنے شرف کے برج ثور میں اور کرتکا نچھتر میں ہے،خیال رہے کہ برج ثور ایک خاکی برج ہے جو مادّیت سے جڑا ہوا ہے، چناں چہ دولت ثوری افراد کے لیے اہمیت رکھتی ہے، آف شور کمپنیوں کے سلسلے میں صدر پیوٹن کا نام بھی سامنے آیا تھا، وہ یقیناً روس کے دولت مند افراد میں شمار ہوتے ہیں۔
کرتکا نچھتر عظمت حاصل کرنے کی استقامت اور عزم کی نمائندگی کرتا ہے،یہ سماجی کاز کے لیے لڑنے والا جنگ جو ہے،اس کا نشان ”شعلہ، استرا اور کلہاڑی ہے، دیگر تیز دھار ہتھیار بھی اس نچھتر کے زیر اثر ہیں، کرتکا کے لغوی معنی ”کاٹنے والا“ کے ہیں ، اس کی فطرت غیر انسانی ہے، خیال رہے کہ غیر انسانی فطرت ہی دراصل غیر معمولی کارکردگی اور کارہائے نمایاں کی جانب لے جاتی ہے، یہ لوگ روایتی طور طریقوں اور اصولوں کی پابندی ضروری نہیں سمجھتے بلکہ اپنی خواہشات اور مقاصد کے مطابق کام کرتے ہیں، زندگی گزارنے کے ان کے اپنے اصول ہوتے ہیں، برج ثور کی وجہ سے خاموش طبع اور مستقل مزاج ہوتے، ان کے اندر قمر اور زہرہ کی مشترکہ خصوصیات موجود ہیں جن کا اظہار اکثر ہوتا رہتا ہے، اپنی طاقت کا اظہار کرنا جانتے ہیں، اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے کسی نفع و نقصان کی پروا کیے بغیر پٹری بدلنے کی عادت رکھتے ہیں، انھیں اپنی آزادی بھی بہت عزیز ہے، اپنی انا، ضد اور ہٹ دھرمی سے اپنے دوستوں کو ناراض کرسکتے ہیں، رسم و رواج اور عقائد کی اندھی تقلید نہیں کرتے، ایک جارحانہ فطرت انھیں کسی وقت بھی غضب ناک کرسکتی ہے پھر یہ قابو میں نہیں آتے، جنسِ مخالف میں خصوصی کشش رکھتے ہیں، فضول خرچ نہیں ہوتے،انھیں شہرت سے بھی خصوصی دلچسپی ہوتی ہے، ضرورت کے تحت غیر معمولی فیصلے اور اقدام کرسکتے ہیں۔

دونوں زائچوں کا بنیادی فرق

کئی اعتبار سے عمران خان اور صدر پیوٹن کے زائچوں میں بعض بنیادی فرق موجود ہےں، پہلی بات یہ کہ عمران خان کے زائچے کے اکثر اہم گھر راہو کیتو سے متاثرہ ہیں جب کہ صدر پیوٹن کے زائچے میں ایسے نحس اثرات نہیں ہیں، راہو کیتو اگرچہ دونوں زائچوں کے لیے نحس اثرات رکھنے والے سیارے ہیں لیکن صدر پیوٹن کے زائچے میں راہو کیتو دشاماسا چارٹ (D-10) میں شرف یافتہ ہےں، چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ 17 سال کی عمر میں جب راہو کا طویل دور شروع ہوا تو انھیں اپنا کرئر بنانے میں زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور وہ بہت جلد ترقی کرکے روسی کے جی بی میں ایک اعلیٰ مقام تک پہنچنے میں کامیاب رہے، راہو کا دور اکبر 1987 ءتک جاری رہا اور پھر سیارہ مشتری کا 16 سالہ دور بھی ان کے لیے ترقی کے نت نئے راستے کھولتا رہا، اب وہ سیارہ زحل کے دور اکبر سے گزر رہے ہیں اور اس قابل ہوچکے ہیں کہ ہر قسم کی ناموافق صورت حال کو بھی اپنے حق میں کرسکیں، جولائی 2017 ءسے ایک بار پھر زحل کے دور اکبر میں راہو کا دور اصغر جاری ہے جو مئی 2020ءتک رہے گا، جہاں تک زائچے میں ٹرانزٹ کی صورت حال ہے وہ بھی ناموافق نہیں ہے، چناں چہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ سال 2019 ءکی مشکل اور پیچیدہ ترین سیاروی گردش ان پر اثر انداز نہیں ہوگی اور وہ اس مشکل وقت میں روس کے لیے ایک بہتر رہنما ثابت ہوں گے۔

جمعہ، 12 جولائی، 2019

زائچہ ءپیدائش میں ہر ماہ چاند کا دلچسپ سفر

ہمارے روز مرہ معمولات میں اتار چڑھاو کا چشم کشا ماجرا 

چاند جسے عربی میں قمر ، ہندی میں چندر، فارسی میں ماہ اور انگریزی میں مون کہا جاتا ہے،دیگر زبانوں میں بھی اس کے بے شمار نام ہوں گے، ہماری کائنات میں اس کی حیثیت و اہمیت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی ہے، جدید سائنسی تحقیق کے بعد چاند کی زمین کے گرد گردش اپنی جگہ ایک حقیقت ہے اور اس کے اثرات بھی ظاہر ہیں، پہلا شخص جس نے چاند کے اثرات و مظاہر کی نشان دہی کی وہ شہرہ آفاق تصویر مونا لیزا کا خالق لیونارڈ ڈاو ¿نجی تھا، اس نے بتایا کہ سمندر میں مدوجزر چاند کی گردش سے پیدا ہوتا ہے، گزشتہ صدی میں چاند تک پہنچنے کی کوششیں بھی ہمارے علم میں ہیں اور غالباً 1969 ءمیں انسان نے چاند پر پہلا قدم بھی رکھ دیا تھا۔
علم نجوم میں ابتدا ہی سے چاند یعنی قمر کو بنیادی حیثیت و مرتبہ حاصل ہے، شاید ایسٹرونومی کے ماہرین بہت بعد میں چاند کے اسرار و رموز سے واقف ہوئے ہوں گے لیکن ایسٹرولوجی کے ماہرین و محققین ہزاروں سال قبل چاند کے رازوں سے واقفیت کے دعوے دار رہے ہیں، اس کی گردش کو اہمیت دی گئی اور اسے ایسٹرولوجی کے تمام تکنیکی امور میں اولیت دی گئی۔
الہامی کتابوں میں بھی چاند اور اس کی گردش کا تذکرہ موجود ہے، اللہ کی آخری کتاب میں چاند کی گردش اور اس کی مخصوص منزلوں کے بارے میں ارشار ربانی موجود ہے چناں چہ چاند کی گردش کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، اس حوالے سے ہم خاصے تفصیلی اور سیر حاصل مضامین پہلے بھی لکھ چکے ہیں، زیر نظر مضمون چاند کی کسی بھی زائچے میں گردش سے متعلق ہے ، کسی بھی معیاری جنتری کے ذریعے آپ معلوم کرسکتے ہیں کہ چاند آج کہاں ہے اور کل کہاں ہوگا،اس کے علاوہ ایسے سافٹ ویئرز بھی موجود ہیں جن کے ذریعے آپ چاند کی روزانہ یا صبح و شام کی درست پوزیشن معلوم کرسکتے ہیں، اگر آپ کے پاس اپنا زائچہ ءپیدائش بھی موجود ہے تو آپ زائچے میں چاند کی پوزیشن معلوم کرکے اندازہ کرسکتے ہیں کہ چاند حالات و واقعات پر کس طرح اثر انداز ہوسکتا ہے۔
علم نجوم میں اور بہت سی تہذیبوں میں چاند کو نسوانیت کا نمائندہ اور ماں کا متبادل سمجھا جاتا رہا ہے، اسے ہمیشہ چاہا گیا ہے اور اس کی پوچا کی گئی ہے۔ مصر کی قدیم تہذیب میں اسے مختلف ناموں سے پکارا جاتا رہا ہے، تقدیس کا نسوانی پہلو اس سے وابستہ ہے،اسے زراعت اور زرخیزی کی دیوی تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔
جب چاند ہمارے پیدائشی زائچے میں اچھا اثر ڈال رہا ہو تو ہمارا ماضی اچھا گزرتا ہے، ایک اچھی پوزیشن والا قمر بہت سی سطحوں پر ہمارے لیے معاون و مددگار ثابت ہوتا ہے نیز ہمیں بے خوف، کشادہ دل اور جذباتی طور پر مستحکم بناتا ہے جب کہ دوسری طرف ایک متاثرہ یا خراب پوزیشن کا حامل قمر ہمارے اندر ایک انجانا اور بے نام خوف اور دہشت پیدا کرتا ہے۔ یہ ایسے احساس کو جنم دیتا ہے کہ کچھ ہونے والا ہے۔ یہ سوچ میں قنوطیت کو جنم دیتا ہے، واضح رہے کہ میڈیکل ایسٹرولوجی میں چاند کا تعلق ہمارے دماغ سے ہے اور جسم میں رطوبات زندگی بھی اس سے متعلق ہیں،دوران خون کا گھٹنا اور بڑھنا بھی اسے سے منسلک ہے، اکثر نفسیاتی مسائل کا تعلق بھی قمر سے اس وقت جڑ جاتا ہے جب سیارہ عطارد کی پوزیشن بھی ناقص ہو۔
چاند کا سفر دائرئہ بروج میں خاصا باقاعدہ ہے اور اس کی گردش یقینی ہے، چاند ہمارے پیدائشی زائچے کا ایک چکر 28 دنوں میں پورا کرتا ہے اور بارہ گھروں سے ہر گھر میں ڈھائی دن (60 گھنٹے) اوسطاً قیام کرتا ہے، آئیے دیکھتے ہیں کہ چاند کی یہ گردش مختلف اوقات میں ہمیں کون سے فوائد پہنچاتی ہے اور کیسے نقصانات یا مسائل لاسکتی ہے۔

پہلے گھر سے چاند کا گزر

جب چاند آپ کے زائچے کے پہلے گھر سے گزرتا ہے تو آپ اپنے ماحول اور گرد و نواح کی طرف سے بے حد حساس ہوجاتے ہیں۔ یہ بے حد ضروری ہے کہ دوسرے لوگ آپ کے احساسات سے باخبر ہوں یا انھیں آگاہ کیا جائے اور وہ آپ کے احساسات کو قبول کرتے ہوئے ان کی حمایت اور تائید کریں۔ گھریلو معاملات اور گھریلو حالات سے با خبر ہوں یا انھیں آگاہ کیا جائے اور وہ آپ کے احساسات کو قبول کرتے ہوئے ان کی حمایت اور تائید کریں۔ گھریلو معاملات اور گھریلو حالات کو بڑی آسانی سے اولیت حاصل ہو سکتی ہے۔ اس ٹرانزٹ کا ایک سب سے مثبت اثر یہ ہے کہ آپ اپنے رشتے یا تعلق کو اپنے ماحول میں ڈھال سکتے ہیں جو آپ کے لیے سب سے زیادہ اطمینان بخش ہو۔ اس کا ایک منفی اثر یہ ہو سکتا ہے کہ آپ اس احساس سے دوچار ہو جائیں کہ آپ کے قریب ترین لوگوں نے آپ کو غلط سمجھا ہے یا وہ آپ کی طرف سے غلط فہمی کا شکار ہو گئے ہیں،اگر کسی زائچے میں چاند بنیادی طور پر فعلی طور پر بداثر ہے تو آپ کو اس ٹرانزٹ سے کوئی اچھی امید نہیں رکھنی چاہیے، پہلا گھر برج اسد یا قوس ہو تو ایسی صورت ممکن ہے۔

دوسرے گھر سے چاند کا گزر

زائچے کا دوسرا گھر آپ کا خانہ ءمال کہلاتا ہے ، جب چاند اس گھر میں ہو تو اس وقت ذاتی نوعیت کے مالی مسائل نمایاں ہوں گے، آپ پر یہ بات عیاں ہو سکتی ہے کہ گھریلو اور فیملی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پیسوں کی ضرورت ہے۔ اگر ان دنوں میں قمر، مشتری، زہرہ، شمس کے ساتھ مثبت زاویے رکھتا ہو تو اکثر مالی معاونت حاصل ہوتی ہےِ، اس کے برعکس معاملہ ہو تو مالی نقصانات اور پریشانیاں پیدا ہوسکتی ہیں، ایسی صورت میں ترنگ میں آ کر فضول خرچی سے گریز کریں۔ دوسرے گھر میں نیو مون یا گہن جیسی صورت حال ہو تو بہت محتاط ہونے کی ضرورت ہے، بھاری اخراجات یا مالی نقصانات کا سامنا ہوسکتا ہے جس کے نتیجے میں آپ کی حیثیت متاثر ہوسکتی ہے، ممکن ہے آپ کو قرض کی ضرورت پیش آجائے۔

تیسرے گھر سے چاند کا گزر

تیسرا گھر بہت اہم ہے ،چاند کا اس گھر میں داخلہ آپ کو زیادہ متحرک اور فعال بناتا ہے، آپ چاہتے ہیں کہ بہت سے کام جلد از جلد انجام تک پہنچ جائیں، صورت حال میں کسی تبدیلی کے لیے بھی آپ بے چین نظر آئیں گے، دوسرے افراد سے بہت قریبی، جذباتی تعلقات کے مواقع فراہم ہوں گے۔ ان سے گھل مل کر ان مواقع سے فائدہ اٹھائیں لیکن اگر اس پوزیشن میں سفر کرتے ہوئے چاند کو دوسرے سیارے متاثر کریں تو آزمائش اور مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں۔ ان چیلنجوں کو نظر انداز نہ کیا جائے جبکہ حقیقت پسندانہ طریقے سے انھیں حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس دوران آپ کی فیملی کا دوسروں کو وزٹ کرنا یا دوسری فیملی کا آپ کو وزٹ کرنا ایک عام سی بات ہو گی،یہ ایسا وقت ہے جب آپ کچھ نیا کرنے پر آمادہ ہوسکتے ہیں۔

چوتھے گھر سے چاند کا گزر

زائچے کا چوتھا گھر فطری طور پر چاند کا اپنا گھر ہے، اسے ایک پناہ گاہ کہا گیا ہے،آپ کے والدین اس گھر سے جڑے ہوئے ہیں، اپنے اندر جھانکنے اور اپنا جائزہ لینے کا یہ ایک اچھاموقع ہے۔ اس کا مطلب اپنا تنقیدی جائزہ لینا ہے، اس وقت چاند اپنے گھر آیا ہے۔ لہذا آپ کے لیے بھی بہتر ہے کہ آپ بھی ایسا کریں، آپ اپنے قریبی تعلقات کا جائزہ لیں اور اپنی حرکات پر غور کریں۔ اس سے آپ کے تعلقات میں بہتری آئے گی۔ اس وقت آپ کے جذباتی اور گھریلو زندگی کے علاقے بہت حساس ہیں اور ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ اپنے "اندر کے بچے" کی بہت اچھی طرح دیکھ بھال کریں۔ یہ سیکھنا کہ خود کو کیسے نکھارا جا سکتا ہے، زندگی بھر آپ کے کام آئے گا،اپنی سواری ، جائیداد اور جمع شدہ سرمائے پر توجہ دیں، اگر آپ کے پاس یہ سب کچھ نہیں ہے تو سوچیں کہ اس کی کیا وجہ ہے؟

پانچویں گھر سے چاند کا گزر

ہم تفریح اور خوشیوںکے لیے کیا کرتے ہیں جس میں ہمارے جذبات شامل ہوں اور ہمیں زندگی کے تناو ¿ سے سکون ملے؟ اس گھر سے گزرتا ہوا چاند اس قسم کے سوال کا جواب دے سکتا ہے، واضح رہے کہ زائچے کا پانچواں گھر زندگی کی خوشیوں کا گھر ہے، ایسی خوشیاں جن کا تعلق آپ کی روح سے ہے، آپ کی تفریحی دلچسپیاں ، رومانی امور اور بچوں سے وابستہ خوشیاں قمر کی موجودگی سے متحرک ہوں گی، بشرط یہ کہ اس وقت قمر اچھی پوزیشن رکھتا ہو اور کسی قسم کے منفی زاویوں کا شکار نہ ہو، جو چیز آپ کو خوش کرتی ہے یا وہ شے جو آپ کے خیال میں آپ کو مسرت سے ہمکنار کرتی ہے، اس کے بارے میں مثبت رہیں۔ اگر اس پڑاو ¿ کے دوران چاند اچھا ناظر ہوا تو آپ دیکھیں گے کہ مہینے کہ یہ ایام آپ کے لیے بے حد مسرت انگیز ہو سکتے ہیں، اس عرصہ کے دوران محبوب اور بچوں کے ساتھ تعلقات پر بھی زور ہے۔

چھٹے گھر سے چاند کا گزر

زائچے کا چھٹا گھر عملیت اور فعالیت کا تقاضا کرتا ہے،آپ کی مصروفیات میں اضافہ ممکن ہے دوسروں سے تعلقات کی نوعیت اہمیت اختیار کرتی ہے،کسی سے اختلاف یا اتفاق ہوتا ہے، جذبات و احساسات پر دباو ¿ پڑتا ہے، اب یہ دیکھنے کا موقع ہے کہ آپ کے کام کے علاقہ میں آپ کی جذباتی ضروریات کیسے پوری ہو رہی ہیں یا کیوں نہیں ہوری ہو رہی ہیں؟ آپ زندگی کے اس حصے میں دوسروں کی کس طرح تائید کر رہے ہیں اور دوسرے کس طرح آپ کی تائید کر رہے ہیں؟اس پوزیشن میں صحت ایک اور علاقہ ہے جو متاثر ہوتا ہے،آپ محسوس کرسکتے ہیں کہ آپ نے اس دوران میں کچھ مشکل وقت گزارا ہے، بہتر ہوگا کہ اس دوران میں اپنے جذبات اور احساسات کو قابو میں رکھیں، کسی مرحلے پر بھی غصے یا اشتعال کا شکار نہ ہوں،پہلے سے جاری کاموں کو نمٹانے پر توجہ دیں، کوئی نیا کام شروع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

ساتویں گھر سے چاند کا گزر

زائچے کے ساتویں گھر سے چاند کا گزر آپ کے مراسم و تعلقات کو متحرک کرسکتا ہے، یہ تعلقات نجی ہوں یا کاروباری، آپ کی توجہ کے متقاضی ہوں گے،اپنا مثبت یا منفی رنگ دکھائیں گے، یہاں چاند کی پوزیشن پر غور کرنے کی ضرورت ہوگی، اگر وہ اپنے ہبوط کے برج میں نہیں ہیں (طالع ثور) تو بہترین بات ہے،اس وقت میں لوگوں سے ملاقات اور ضروری امور میں بات چیت مفید اور نتیجہ خیز ہوسکتی ہے،جذباتی اور نفسیاتی مسائل، معائنہ کے لیے ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ یہ ایک سودمند قمری گزرگاہ ہے جب چاند زائچہ کے دوسرے سیاروں سے مختلف زاویے بنارہا ہو تو آپ کے دوسروں سے مراسم بھی نئی کروٹ لیتے محسوس ہوں گے، اپنی ذات کے اندر کی کشمکش اور آزمائشوں کی عکاسی نمایاں ہوگی، ہم ہر ماہ چاند کی اس پوزیشن میں اپنی اور دوسروں کی جذباتی طلب اور ضروریات کو جتنا زیادہ سمجھنے کی کوشش کریں اتنا ہی بہتر ہے۔

آٹھویں گھر سے چاند کا گزر

یہ اکثر ہم سب کے لیے کوئی اچھا وقت نہیں ہوتا، سوائے برج قوس کے، کیونکہ چاند آٹھویں گھر میں خوش نہیں رہتا۔ یہ وہی گھر ہے جس میں اسے (اور ہمیں) جذباتی چیلینج پیش آتے ہیں۔ ہم دوسروں کی جذباتی اور مالی ضروریات اور خواہشات کی دنیا میں رہ رہے ہیں اور کس طرح ان باتوں سے نمٹتے ہیں اس کے لیے فہم اور ادراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہم دوسروں کا خیال کرنے کے بجائے اپنی ضروریات اور خواہشات کو سب سے مقدم سمجھیں تو تنازع پیدا ہو گا۔ چاند کے اس آٹھویں گھر میں ہونے کے دوران میں اگر ہم دوسروں کی جذباتی ضروریات اور خواہشات کو اولیت دیں اور انھیں پورا کرنے کے لیے بلکل چوکنا رہیں تو اچھے نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، اس دوران میں کسی کام یا مسئلے کو زبردستی انجام تک پہنچانے کی کوشش مناسب نہیں ہوتی،تھوڑا سا صبر اور انتظار کرلینا بہتر ہوتا ہے۔

نویں گھر سے چاند کا گزر

نویں گھر میں چاند کی آمد خوش گواری کا تازہ احساس لاتی ہے، ہم محسوس کرتے ہیں کہ گویا گزشتہ چند روز سے جن مسائل و مشکلات کا سامنا کر رہے تھے وہ اب ختم ہونے والے ہیں ،امید کی نئی کرنیں پھوٹنے کا وقت شروع ہوا چاہتا ہے،آئینی و قانونی ، مذہبی نوعیت کے معاملات اہم ہوسکتے ہیں، ہم زیادہ حوصلے اور جرا ¿ت کے ساتھ کوئی نئی منصوبہ بندی شروع کرسکتے ہیں، بیرون ملک سفر یا رابطے اس دوران میں اہم ہوسکتے ہیں، مزید یہ کہ ہماری قوت کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے،ہم آئندہ کے لیے کوئی نیا ٹارگٹ منتخب کر رہے ہوتے ہیں، اس دوران میں دیگر سیاروی اثرات اگر چاند کے ساتھ مثبت ہوں تو بہترین نتائج کی امید رکھی جاسکتی ہے، اس کے برعکس صورت حال میں قسمت کی کوئی خرابی کسی نقصان یا غلط فیصلے کا سبب ہوسکتی ہے۔

دسویں گھر سے چاند کا گزر

چاند زائچے کے اہم ترین مقام سے گزر رہا ہے، اس وقت ہمارے سماجی رتبے، کرئر کے علاقے چاند کی کرنوں سے جگ مگا رہے ہیں، ہمیں ان معاملات پر بھرپور توجہ دینا چاہیے، اس وقت کو ضائع نہیں کرنا چاہیے، ہم کیا چاہتے ہیں اور ہمارے کیا مقاصد ہیں؟یہ سوالات اس وقت نہایت اہم ہیں، ہمیں پیش رفت کرنا چاہیے، ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھنا غلط ہے، کیا ہم ان لوگوں کو سپورٹ کر رہے ہیں جو ہمارے عزائم کو آگے بڑھا سکتے ہیں؟ کیا یہ مقاصد ہمارے لیے بہتر ہیں یا یہ کہ ہم محض جذباتی تحفظات کی خاطر اپنی بیرونی زندگی کی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں اور ہمیں باطنی گہری تسکین کی ضرورت نہیں ہے؟ اگر دسویں گھر پر برج عقرب قابض ہے تو محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی یا پہلا گھر قوس یا اسد ہے تو بھی احتیاط ضروری ہوگی،کوئی بات توقع کے خلاف بھی ہوسکتی ہے۔

گیارہویں گھر سے چاند کا گزر

ہماری کوششوں اور جدوجہد کا پھل پک چکا ہے، صلہ ملنے کا وقت شروع ہورہا ہے،ہم نے جو بویا ہے، اب وہی ہم کاٹیں گے، اس گھر میں چاند کی موجودگی کے دوران میں دوستی کو ایک خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب اپنے دوستوں کو سہارا دینا یا ان سے مدد طلب کرنا بہت اہمیت رکھتا ہے، اس عرصے میں اجتماعی سرگرمیوں میں اضافہ ہو سکتاہے، ہم کوئی مشترکہ پروگرام بناسکتے ہیں، اس وقت جو دوسرے حالات پیدا ہو سکتے ہیں، ان کا تعلق اس بات سے ہے کہ ہم مستقبل کے لیے اپنے وژن اور اپنی امیدوں کو کس طرح سپورٹ کر رہے ہیں۔ اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے ہمیں دوسروں کی کیسی سپورٹ چاہیے؟ یہ اس سوال کا جواب دینے کا بہت اہم وقت ہے تاکہ ہم یہ دیکھ سکیں کہ آیا ہم جو سماجی سیٹنگ چاہ رہے ہیں وہ درست بھی ہے یا نہیں۔

بارہویں گھر سے چاند کا گزر

بارھویں گھر میں چاند کا داخلہ ہمیں احساس دلاتا ہے کہ ہم کچھ تھکن محسوس کر رہے ہیں اور اب آرام کی ضرورت ہے، ایسے وقت میں ہم اپنے اردگرد کی دنیا سے تھوڑا لا تعلق ہوکر تنہائی اور تخلیے میں رہنے میں زیادہ راحت محسوس کرتے ہیں۔ آپ چاہتے ہیں کہ آپ اپنی ذمہ داریوں سے اور ساتھ ہی ان ذمہ داریوں سے تھوڑی فراغت حاصل کریں جو دوسروں نے آپ پر مسلط کر رکھی ہیں اور آپ سکھ کا سانس لیں سکیں لیکن ضروری نہیں ہے کہ ایسا ہی ہو، صورت حال اس کے برعکس بھی ہوسکتی ہے جس کے نتیجے میں آپ جھنجلاہٹ کا شکار ہوسکتے ہیں، چاند کی یہ پوزیشن کچھ لوگوں کو تحقیق کرنے اور گھر کی صفائی کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔ آپ کچھ بھی کرنا چاہیں یا نہ کرنا چاہیے، یہ وقت بیرونی سرگرمیوں کے لیے یقیناً مناسب نہیں ہے،اس وقت کوئی منفی سوچ بھی عملی طور پر ذہن کو متاثر کرسکتی ہے۔

نوٹ: اگر آپ کے پاس اپنا درست زائچہ ئ پیدائش موجود ہے تو آپ بہتر طور پر اپنے روز مرہ کے حالات و واقعات کے بارے میں با آسانی جان سکتے ہیں، عام طور پر لوگ صرف اپنے شمسی برج (سن سائن) کو اپنا برج سمجھتے ہیں جو کہ غلط ہے، لہٰذا ہمارا مشورہ ہے کہ اپنا درست زائچہ ضرور بنواکر پاس رکھیں۔

ہفتہ، 6 جولائی، 2019

بھارت میں انتہا پسندی کی لہر عروج پر

جنتا پارٹی اور نریندر مودی کی کامیابی کے اسباب پر ایک نظر

مشہور افراد کے زائچوں کے حوالے سے یہ مسئلہ ہمیشہ الجھن کا باعث رہا ہے کہ ان کی درست تاریخ پیدائش اور وقت پیدائش کا حصول آسان نہیں ہوتا جس کے نتیجے میں اکثر درست زائچہ بنانے میں دشواری ہوتی ہے اور غلطی کا امکان رہتا ہے، ایسا ہی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے حوالے سے ہو اہے، ان کی دستیاب تاریخ پیدائش پر ماضی میں بھی جب وہ برسراقتدار آئے تھے، دنیا بھر کے منجمین میں خاصا اختلاف رہا، البتہ جو زائچہ قریب ترین فطرت اور شخصیت کے مطابق ہوسکتا تھا اس پر ہمیشہ گفتگو ہوتی رہی اور اسی کے مطابق ہمارا خیال بھی یہی تھا کہ اس بار وہ اتنی نمایاں اکثریت حاصل نہیں کرسکیں گے اور دوبارہ شاید وزیراعظم بھی نہ بن سکیں لیکن اس کے برخلاف انھوں نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی اور دوسری بار وزیراعظم بن گئے جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ان کی تاریخ پیدائش درست نہیں ہے۔
تقریباً یہی صورت حال ان کی پارٹی کے زائچے کی بھی ہے، اس کے مطابق بھی ان کا ایسی اکثریت سے کامیاب ہونا محال تھا، یقیناً اس حوالے سے بھی تاریخ پیدائش اور وقت کا مسئلہ یقیناً درست اندازہ لگانے میں حارج رہا ہے، بہر حال بھارتیہ جنتا پارٹی نمایاں حیثیت میں کامیاب ہوچکی ہے اور بھارت مذہبی انتہا پسندی کے دوسرے دور میں داخل ہوچکا ہے،اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت سے سیکولرازم اور جمہوریت کی بساط لپیٹ دی گئی ہے،اس کی وجوہات کیا ہیں؟
ہمارے قارئین کو یاد ہوگا کہ اکتوبر 2015 ءمیں بھارت کے زائچے پر اظہار خیال کرتے ہوئے ہم نے نشان دہی کی تھی کہ بھارت کے زائچے میں سیارہ قمر کا دور اکبر ستمبر 2015 ءسے شروع ہوچکا ہے، قمر تیسرے گھر کا حاکم ایک رجحان ساز سیارہ ہے، ساتویں گھر میں موجود شرف یافتہ کیتو کی اس پر نظر ہے،کیتو کی نظر قمر کے دور میں انتہا پسندانہ رجحانات لاسکتی ہے اور ہم نے دیکھا کہ تقریباً 2015 ءہی سے بھارت میں مذہبی جنون بڑھنا شروع ہوگیا، انتہا پسندی کی لہر ملک کی دیگر اقلیتوں کے لیے پریشانی اور تکلیف کا باعث بنی، مودی حکومت جو بنیادی طور پر مذہبی شدت پسندی کی الم بردار ہے، اس لہر کو مزید بڑھاتی رہی، پورے بھارت اور خاص طور پر کشمیر میں مسلمانوں کے لیے حکومت کا رویہ جارحانہ رہا ، ان پر گائے کا گوشت کھانے کی پابندی لگائی گئی، گائے ذبح کرنے کے الزامات پر سزائیں دی گئیں ، جن سنگھ اور دیگر انتہا پسند مذہبی عناصر کو کھلی چھوٹ دی گئی کہ وہ مسلمانوں کے خلاف ظلم و ستم کا بازار کرم کریں، حال ہی میں ایک واقعہ نہایت دردناک سامنے آیا ہے بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ اب بھارت میں ایسے واقعات کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہی ہورہا ہے۔
قمر کا دور اکبر ستمبر 2015 ءسے ستمبر 2025 ءتک جاری رہے گا، تازہ بھارتی الیکشن کے وقت قمر کے دور اکبر میں مشتری کا دور اصغر جاری تھا، مشتری بے شک زائچے کا سب سے منحوس سیارہ ہے لیکن فطری طور پر مذہب کا نمائندہ ہے، زائچے میں اس دوران میں مشتری کی ٹرانزٹ پوزیشن بھی ساتویں اور آٹھویں گھر میں رہی ہے، چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ پورے ملک میں مذہبی انتہا پسندی کی لہر اپنی انتہا کو پہنچ گئی جس کا فائدہ بی جے پی اور نریندر مودی کو حاصل ہوا لیکن کیا یہ صورت حال بھارتی زائچے کے مطابق بھارت کے لیے بھی بہتر ہے؟
دنیا بھر میں انتہا پسندانہ نظریات اور اصول و قواعد کبھی بھی بہتر نہیں سمجھے جاتے، انھیں جمہوریت کے لیے بھی زہر قاتل کہا جاتاہے،جنتا پارٹی کا سابقہ دور حکومت بھی اس حوالے سے ناپسندیدہ خیال کیا جارہا ہے جس میں ملک کی اقلیتوں اور سیکولر نظریات رکھنے والے عوام کے لیے بے چینی اور اضطراب کی لہر موجود ہے، یہ صورت حال اب مزید جاری رہے گی اور اس کا نتیجہ یقیناً علیحدگی کی تحریکوں کو جنم دے گا، نت نئے تنازعات ابھر کر سامنے آئیں گے،حال ہی میں خالصہ تحریک کے زیر اہتمام لندن کے ہائیڈ پارک سے طویل جلوس نکالا گیا ہے جو سکھوں کے علیحدہ ملک کا مطالبہ کر رہا تھا، کشمیر کی صورت حال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، اس امکان کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کہ آنے والے دنوں میں بھارت میں ایسی مزید تحریکیں جنم لے سکتی ہیں۔
بھارت کے زائچے میں دسویں گھر کا حاکم سیارہ زحل آٹھویں گھر میں کیتو کے ساتھ حالت قران میں ہے،یہ صورت حال تقریباً اکتوبر تک جاری رہے گی جو وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے لیے یقیناً بہتر نہیں ہے، کیتو کے ساتھ راہو کی نظر بھی دسویں گھر کے حاکم زحل پر ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وزیراعظم کے انتہا پسندانہ رجحانات اور منفی فیصلے ملک کی صورت حال پر کوئی خوش گوار اثر نہیں ڈالیں گے، مزید یہ کہ ان کی کابینہ میں بھی ایسے لوگ اکثریت میں ہوں گے جو انتہا پسند اور منفی ذہنیت کے حامل ہوں، ایک رپورٹ کے مطابق موجودہ الیکشن میں کامیاب ہونے والے لوک سبھا کے ممبران کی اکثریت کرپشن اور جرائم کے حوالے سے مشہور ہے،مزید یہ کہ سیارہ مشتری ساتویں گھر میں رہتے ہوئے پیدائشی شمس سے ناظر ہے اور آنے والے مہینوں میں مریخ زائچے کے تیسرے گھر میں داخل ہوگا جہاں قمر ، عطارد، زحل، زہرہ اور شمس سے قران کرے گا، یہ صورت حال کسی طور بھی حکومت اور وزیراعظم کے لیے خوش کن نہیں ہے، نریندر مودی کسی قاتلانہ حملے کا شکار بھی ہوسکتے ہیں اور ان کی کابینہ کے افراد بھی اپنے منفی رجحانات کے سبب مستقبل میں مقدمات کا سامنا کرسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ بھارت کا زائچہ ماضی میں بھی اہم رہنماو ¿ں یا وزرائے اعظم کی حادثاتی ہلاکت کا آئینہ دار رہا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ سیارہ زحل جو دسویں گھر کا حاکم ہے ، زائچے میں چھٹے گھر کے حاکم زہرہ سے قریبی نظر رکھتا ہے لہٰذا ماضی میں اہم رہنما مہاتما گاندھی، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی قاتلانہ حملوں ہی میں ہلاک ہوئے ہیں لہٰذا نریندر مودی کو بھی اپنی سیکورٹی کا خصوصی خیال رکھنے کی ضرورت ہوگی۔
سیارہ زحل آئندہ سال جنوری تک موجودہ پوزیشن پر رہے گا اور یہی عرصہ خطرات کی نشان دہی کرتا ہے، البتہ آئندہ سال جنوری کے بعد زحل زائچے میں اچھی پوزیشن میں آجائے گا، اس کا امکان موجود ہے کہ برج جدی میں اور زائچے کے نویں گھر میں زحل کی پوزیشن نریندر مودی کو ملک کا ایک طاقت ور حکمران بنانے میں مددگار ثابت ہوگی، دوسرے معنوں میں وہ ایک جمہوری ڈکٹیٹر کے طور پر اپنی من مانی کرسکیں گے یعنی رام مندر کی تعمیر اور کشمیر کے حوالے سے نئی آئین سازی اور دیگر انتہا پسندانہ فیصلے جو بہر حال بھارت کے لیے کسی طور بھی بہتر نہیں ہوں گے (واللہ اعلم بالصواب)

دیکھو مجھے جو دیدئہ عبرت نگاہ ہو

بعض خطوط یا ای میلز سے اندازہ ہوتا ہے کہ علم نجوم کے بارے میں ہمارے ملک کی اکثریت بہت سی غلط فہمیوں اور کم علمی کا شکار ہے اور ہونا بھی چاہیے کیوں کہ اس حوالے سے معقول حد تک رہنمائی اور علمی مواد میسر نہیں ہے‘ ملک سے شائع ہونے والے اکثر رسائل اور جنتریاں اپنے قارئین کی درست اور معقول رہنمائی نہیںکرتیں‘ نتیجتاً شوقین حضرات وخواتین مستقل کسی نہ کسی کنفیوژن کا شکار رہتے ہیں اور ہم سے عجیب عجیب سوال کرتے ہیں‘ ہم اکثر و بیشتر اپنے مضامین کے ذریعے مروِّجہ علم نجوم سے پیدا ہونے والی غلط فہمیوں یا گمراہیوں کی وضاحت کرتے رہتے ہیں‘ اس بار ایک ایسی ہی طویل ای میل موصول ہوئی ہے ہم اسے اس لیے شائع کر رہے ہیں کہ دیگر قارئین بھی ایسی کسی الجھن میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔
 ایم .ایچ نواز لکھتے ہیں”سلام کے بعد میںآپ کی خدمت میں عرض کردوں کہ میں ایک دکھ درد کا مارا ہوا انسان ہوں یا آپ یوں کہہ لے لیں کہ زمانے بھر کی تکالیف میرے ہی حصے میں آئی ہےں‘ ان کے حل کی تلاش میں آپ کو لکھ رہا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ ان کا حل آپ کے پاس ضرور ہوگا‘ میں پابندی سے جنتریاں اور روحانی رسائل پڑھتا ہوں اور یہ شوق مجھے کئی سال سے ہے‘ آپ سے واقفیت2010ءمیں ہوئی‘ آپ کے مضامین بھی میرے مطالعے میں رہتے ہیں‘ سب سے پہلے میں اس بات کا ذکر کروں گا جو میرے تجربے میں آئی ہے اور وہ یہ ہے کہ سالانہ جنتریوں میں جس طرح لکھا ہوتا ہے‘میرے ساتھ اس کا بالکل اُلٹ ہوتا ہے مثلاً جب سیارہ زحل اپنے شرف کے برج سے گزر رہا تھا تو برج جدی والوں کے لیے لکھا گیا تھا کہ ان کی قسمت کو سنوار دے گا‘ یہ سال ان کی زندگی کے اہم سال ہوں گے‘ میری تاریخ پیدائش 17جنوری ہے‘ اس طرح میرا سن سائن جدی(CAPRICORN) ہے لیکن آپ یقین کریں کہ جتنی تکلیف مجھے ان دو سالوں میں ملی تھی، اتنی تکلیف زندگی میں کبھی نہیں ملی مثلا ان دو سالوں میں مجھ پرکئی لاکھ کا قرض چڑھ گیا‘ میں ہر بندے کے سامنے ذلیل ہوا بلکہ ذلیل و خوار ہوا اور ان سالوں کا اثر آج بھی محسوس کرتا ہوں‘ ان سالوں میں میرا رزق مکمل طور پر بند ہوگیا تھا بلکہ ایک وقت تو ایسا آیا تھا کہ میں نے دس روپے کی شکل بھی کئی دن بعد دیکھی تھی اور یہ سلسلہ کئی ماہ تک چلتا رہا تھا پھر عید پر میری والدہ نے مجھے500روپے کا نوٹ دیا تو میری آنکھ سے بے اختیار آنسو نکل آئے پھر میںاپنے رب کے حضور سجدے میں گِر گیا کہ یا اللہ تیرا شکر ہے تو نے مجھے بھی 500 کا نوٹ دکھایا، الغرض اسی طرح کی مزید اور بہت ساری پریشانیوں اور دکھ تکلیف سے گزرا ‘ وہ زحل کے شرف کا دور تھا جو برج جدی کے مطابق میرا حاکم ستارہ بھی ہے‘ بہرحال اب اللہ کا شکر ہے اب وہ حالات تو نہیں لیکن قرض ہے اور رزق کی کمی ہے‘ اس دوران میں پابندی سے ردِ نحوست سیارگان والی دعا پڑھتا رہا ہوں اور صدقات بھی دیتا رہا ہوں‘ میرا اعتراض یہ نہیں ہے کہ جنتریوں میں یہ لکھا تھا ”جدی والوں کی قسمت سنور جائے گی“ تو میرے ساتھ معاملہ مختلف کیوں ہوا‘ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ہر انسان کے ستاروںکی کہانی الگ ہوتی ہے‘ میں تو صرف یہ بتاتا چاہتا ہوں کہ جب میرا ستارہ زحل اچھی پوزیشن میں تھا تو مجھے نقصان ہوا اور جب وہ برج عقرب میں آیا جہاں اس کی پوزیشن خراب ہوتی ہے تو مجھے فائدہ ہوا‘ اب تک میری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ ایسا کیوں ہوتا ہے‘ بہر حال میں نے آپ سے اپنی پریشانی کا ذکر کردیا ہے اب آپ ضرور میری رہنمائی کریں اور مجھے بتائیں کہ میںکیا کروں؟حقیقت یہ ہے کہ میری آمدن سے زیادہ میرے اخراجات ہیں‘ رزق میںبرکت نہیں ہے‘ ایک اور بڑی پریشانی یہ بھی ہے کہ اس سال کے بعد میری ” ساڑھ ستی“ بھی شروع ہو رہی ہے‘ اس خیال سے بھی ذہن بہت پریشان ہے ‘ جواب کا انتظار کروں گا‘ آپ کے لیے دعا گو“
جواب : عزیزم !آپ نے لکھا ہے کہ آپ 2010ءسے ہمارے مضامین کا مطالعہ کر رہے ہیں تو یقیناً آپ کی نظر سے ہمارا وہ مضمون بھی گزرا ہوگا جو ہم نے ”سن سائن ایسٹرولوجی“ کے حوالے سے لکھا تھا اور عرض کیا تھا کہ ایسٹرولوجی کا یہ طریق کار زیادہ مستند اور کارآمد نہیں ہے، یہ تو اخبارات و رسائل نے اپنی ضرورت اور قارئین کو متوجہ کرنے کے لیے شروع کیا تھا جو برسوں سے جاری ہے‘ ایسٹرولوجی کے ذریعے معقول رہنمائی اپنے انفرادی زائچے (BIRTH CHART) کی روشنی میں ہی حاصل ہو سکتی ہے مگر شاید آپ نے ہمارے اس مضمون پر توجہ نہیں دی۔
پاکستان ہی کیا ‘ دنیا بھر میں ہر سال سیکڑوں جنتریاں اور سن سائن ایسٹرولوجی کی کتابیں شائع ہوتی ہیں جن میں ہر شخص کے شمسی برج کے مطابق سیارگان کی سالانہ گردش کے مطابق اسے گائیڈ کیا جاتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ طریق کار مستند نہیں ہے جیسا آپ کو تجربہ ہو چکا ہے‘ ہمارے ملک میں ایسے لوگوں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے جو کسی ایک سیارے کی طاقت ور پوزیشن یا کمزوری کو مدّنظر رکھتے ہوئے لوگوں کو گائیڈ بلکہ ”مس گائیڈ“ کرتے ہیں مثلا سیارہ مشتری اپنے شرف کے برج میں ہے اور یہ برج قوس کا حاکم سیارہ ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ برج قوس والوں کے دن پھر جائیںگے اور وہ سب کے سب دولت میںکھیلنے لگےں گے ۔
 ساڑھ ستی کے حوالے سے بھی ہم کئی بار لکھ چکے ہیں کہ ہمارے ملک میںبطور خاص اس مخصوص اصطلاح کا مسلسل غلط استعمال ہو رہا ہے‘ پاکستان میں عام طور پر یونانی علم نجوم پر زور دیا جاتا ہے‘ اکثر جنتریاں اوررسالے یونانی سسٹم کے تحت شائع ہوتے ہیں جبکہ یونانی سسٹم میں ساڑھ ستی نام کی کوئی شے پانی ہی نہیں جاتی‘ آپ کا شمسی برج جدی ہے اور آپ اس خوف میں مبتلا ہیںکہ زحل برج قوس میں داخل ہوگا توآپ پرساڑھ ستی کا اثر شروع ہوجائے گا حالانکہ ساڑھ ستی چونکہ ویدک سسٹم یعنی ہندی جوتش کی اصطلاح ہے اور اس کا اثر شمسی برج کے بجائے قمری برج کے تحت تسلیم کیا جاتا ہے مگر اس میں بھی بعض صورتوں میں استثنیٰ کی گنجائش موجود ہے، ہمارے ملک کے نام نہاد نجومی اپنی کم علمی چھپانے کے لیے بالکل اسی طرح ہر شخص پر ساڑھ ستی کا فتویٰ لگاتے ہیں جیسے ہمارے نام نہاد عامل اور روحانی معالج ہر شخص پر بندش ، سحری اثرات یا آسیبی اثر کا فتویٰ لگاتے ہیں ۔
 آئیے اپنے درست زائچے کی طرف مگر اس کا انحصار بھی آپ کی درست تاریخ پیدائش اور وقت پیدائش پر ہے جو آپ نے لکھا ہے‘ اگر اس میں کوئی غلطی ہوگی تو زائچہ بھی غلط ہوجائے گا‘ وقت کے پیدائش کے مطابق آپ کا پیدائشی برج سرطان ہے جس کا حاکم سیارہ قمر ہے جو زائچے کے چھٹے گھر میں بقول آپ کے ذلیل و خوار ہے‘ یہی آپ کا صحیح برج اور ستارہ ہے جو ہر مہینے شرف میں بھی آتا ہے اور ہبوط میں بھی ، اس کے مقابلے میں برج جدی یا زحل کی کوئی اہمیت نہیں۔
زائچے کا چھٹا گھر برج قوس ہے لہٰذا آپ کا مون سائن یعنی قمری برج قوس ہے اورآپ کا یہ اندیشہ بالکل درست ہے کہ آئندہ سال سے آپ زحل کی روایتی نحوست ”ساڑھ ستی“ کی زد میں آجائیںگے‘ کیوں کہ زحل آپ کے قمری برج قوس سے بارھویںگھر برج عقرب میں آجائے گا‘ (ویدک سسٹم کے مطابق)۔
آپ کو سمجھ لینا چاہیے کہ زحل اور مشتری آپ کے زائچے کے منحوس اثر دینے والے سیارے ہیں جب بھی یہ کسی خراب یا مخالف پوزیشن میں ہوں گے ، نقصان پہنچائیں گے۔
 آپ نے اپنے جن خراب سالوں کا ذکر کیا ہے اس وقت یقیناً یہ دونوں نقصان دہ پوزیشن پرتھے اور اس سے بھی بڑھ کر اہم بات یہ ہے کہ 8مارچ 2011ءسے آپ کے زائچے میں راہو کے منحوس دور اصغر کا آغاز ہوا جو 3جنوری 2012ءتک رہا اس کے بعد مشتری کا دور اصغر شروع ہوا جو 18 نومبر 2012ءتک جاری رہا پھر زحل کا دور اصغر شروع ہوا جو 31 اکتوبر 2013ءتک جاری رہا‘ یہ تمام دور انتہائی نحوست اثر تھے‘ اب آ پ عطارد کے دور اصغر سے گزر رہے ہیں جو آپ کے لیے مبارک دور ہے لہٰذا آپ کو وقت سے پہلے معقول منصوبہ بندی کرلینی چاہیے پھر زہرہ کا دور شروع ہوگا جو بہتر ہوگا‘ الغرض زندگی کی دھوپ چھاﺅں اسی طرح جاری رہے گی۔
 آپ نے اپنی مصیبتوںکا جو نقشہ پیش کیا ہے وہ کافی مایوس کن ہے‘ دراصل برج سرطان والے تھوڑی سی مصیبت کو بھی بہت زیادہ سمجھتے ہیں اور اکثر کسی نہ کسی خوف کا شکار رہتے ہیں، بہرحال ایک شادی شدہ بندے کے لیے بے روز گاری سے بڑا عذاب کوئی نہیں ہے لیکن سرطان والوں کی ایک خرابی یہ ہے کہ کسی تبدیلی کوآسانی سے قبول نہیں کرتے ‘ ترقی کے راستوں پرکوئی قدم بڑھاتے ہوئے کسی نہ کسی خوف میں مبتلا رہتے ہیں اورکوئی رسک لینا پسند نہیں کرتے‘ آپ کو چاہیے کہ اپنی ترقی کے امکانات پر غور کریں اور مناسب راستے اختیار کریں‘لکیر کے فقیر نہ بنیں‘ اپنی صلاحیتوں میںاضافہ کے لیے کوشش کریں‘ یاد رکھیں چپراسی بھرتی ہوکر پچپن سال بعد چپراسی ہی کے طور پر ریٹائر ہونا کسی شخص کی ذاتی نالائقی اور نااہلی تصور کیا جائے گا‘ ابھی آپ کی عمر ہی کیا ہے؟ 26 سال اور اس قدر مایوسی کی باتیں! 
 آپ کو سرخ یاقوت یا سرخ گومیدک کانگینہ کسی ایسے وقت پر پہننا چاہیے جس شمس با قوت ہو‘ اتوار کے روز گُڑ اور چنے بھنے ہوئے چیونٹیوں کو ڈالا کریں‘ دعائے رد نحوست سیار گان کا ورد جاری رکھیں‘ اگر لوح شمس پاس رکھیں تو بہت خوب ہوگا‘ مالی خوشحالی میںمعاون ہوگی‘ شمس آپ کے زائچے میں نحس اثرات کا شکار ہے‘ اور آپ کے خانہ مال کا حاکم ہے‘ امید ہے کہ اس قدر تفصیلی وضاحت اورمشورہ کافی ہوگا۔

بدھ، 19 جون، 2019

خاکی بروج کی محبت کا انداز و رنگ ڈھنگ


محبت خبط ہے یا وسوسہ ہے
مگر یہ واقعہ اپنی جگہ ہے

اب تک تین عناصر پانی، ہوا اور آگ سے متعلق بروج کے انداز و اظہار محبت پر گفتگو ہوئی ہے۔ ایک بار پھر ہم یہ واضح کرتے چلیں کہ صرف شمسی برج (Sun Sign) کی بنیاد پر کوئی حتمی رائے قائم نہیں کرنا چاہیے، انفرادی طور پر کسی بھی شخص کے محبت یا زندگی کے دیگر معاملات میں رویے اور رنگ ڈھنگ شمسی برج کے ساتھ قمری برج (Moon Sign) اور پیدائشی برج (Rising Sign) پر بھی انحصار کرتے ہیں۔ ہم نے ابتداءمیں اس کی مثالیں بھی دی ہیں لیکن یہ ضرور ہے کہ شمسی برج کا اپنا اثر اور خصوصیات بہرحال اہمیت کا حامل ہے۔ اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ قمری یا پیدائشی برج کی وجہ سے شمسی برج کی بعض خصوصیات میں کمی بیشی ہو سکتی ہے۔ 
چوتھا عنصر مٹی ہے۔ دائرہ بروج میں ثور(Tauras)، سنبلہ (Virgo) اور جدی (Capricorn) خاکی بروج کہلاتے ہیں۔ تمام بروج میں عناصر کی کارفرمائی کے حوالے سے ایک بنیادی کلّیہ ذہن میں رکھنا چاہیے۔ وہ یہ کہ آگ کی بنیادی خصوصیت گرم جوشی اور شدت ہے۔ باد یعنی ہوا کی بنیادی خصوصیت تصّور و تخیّل ہے۔ پانی کی بنیادی خصوصیت احساس ہے جبکہ مٹی کی بنیادی خصوصیت مادیّت ہے۔
مندرجہ بالا وضاحت کی روشنی میں ہم سمجھ سکتیں ہیں کہ خاکی بروج محبت جیسے لطیف جذبے کے لیے کس قدر موزوں اور مناسب ہو سکتے ہیں۔ اگر پوری سچائی کے ساتھ بات کی جائے تو مادیّت اور لطافت تقریباً ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ خاکی بروج کا محبت سے کیا واسطہ؟ بقول میر تقی میر 

ہو گا کسی دیوار کے سائے کے تلے میر
کیا کام محبت سے اس آرام طلب کو

کہا جاتا ہے کہ اگر خاک کا عنصر نہ ہوتا تو شاید یہ دنیا نہ ہوتی۔ ہماری یہ زمین مٹی کا ایک ڈھیر ہی تو ہے۔ ہمارے اجزائے ترکیبی میں خاک کا عنصر ہی ہمیں عملیت اور حقیقت کا شعور دیتا ہے۔ خوابوں اور خیالوں کی دنیا سے نکال کر میدان عمل میں صلاحیتوں کے اظہار پر آمادہ کرتا ہے۔ خاکی عنصر کی حقیقت پسندی اور برے بھلے کی تمیز ہی وہ جوہر ہے جس کی وجہ سے اس جہاں رنگ و بو میں نت نئی رنگینیاں اور بوالعجبّیاں نظر آتی ہیں۔

برج ثور کا انداز محبت


خاکی بروج میں پہلا نمبر برج ثور کا ہے جو اپنی ماہیت یا ثابت (Fixed) اور فطرت میں مونّث برج ہے۔ اس کا حاکم سیارہ زہرہ ہے جسے حسن و محبت کی دیوی کہا جاتا ہے۔ ثور دائرہ بروج کا دوسرا برج ہے۔ گویا فطری زائچے کا خانہ مال ہے۔ لہذا حسن و محبت کی دیوی اس برج کے تحت دولت کو نظر انداز نہیں کر سکتی بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہو گا کہ اس کی محبت کا رخ دولت کی طرف ہو جاتا ہے۔
یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ سیارہ زہرہ کے زیر اثر ثور افراد حسن و خوبصورتی اور محبت کے جذبے سے نظر چرا کر گزر جائیں لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ اپنی خاکی اور ثابت خصوصیات کی وجہ سے وہ محبت میں بھی زمینی حقائق کو مدِ نظر رکھیں۔ بے شک ثور افراد محبت کے جذبے کی گہرائی اور گیرائی کو سمجھتے ہیں اور ان کی محبت نہایت ٹھوس بنیادوں پر استوار ہوتی ہے لیکن اندھی نہیں ہوتی۔
ثور شخصیات کے مثبت پہلوو ¿ں میں نرم دلی اور مہربانی، عمل و استحکام، اعتماد و وفاداری، حسن پرستی اور فنکارانہ صلاحیتیں نمایاں ہوتی ہیں جبکہ منفی پہلوو ¿ں میں ضد و ہٹ دھرمی، حسد، غلبہ پسندی، مادہ پرستی، سستی اور کاہلی، تنگ نظری، خود پرستی اور اکھڑ پن شامل ہیں۔ مثبت اور منفی خصوصیات میں کمی بیشی قمری اور پیدائشی برج کے امتزاج اور زائچے میں سیارگان کی پوزیشن کے باعث ہو سکتی ہے مثلاً نرم دلی اور فنکارانہ خوبیاں انتہا کو پہنچ سکتی ہیں یا ضد اور ہٹ دھرمی اور مادہ پرستی بھی انتہا کو پہنچ سکتی ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ مندرجہ بالا خصوصیات میں کمی بیشی کا اندازہ کسی شخص کے انفرادی زائچے سے ہی ہو سکتا ہے۔
جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ برج ثور کا حاکم سیارہ زہرہ حسن و عشق، دوستی و توازن اور ہم آہنگی کا سیارہ کہلاتا ہے۔ تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ برج ثور والے محبت کے معاملے میں کسی سے پیچھے رہیں البتہ یہ ضرور ہے کہ یہ لوگ دیگر معاملات کی طرح محبت و تعلقات میں بھی اپنے مخصوص تحفظات کو پیش نظر رکھتے ہیں۔ ان کی محبت یا دوسروں سے تعلقات سطحی یا رواداری کے انداز میں نہیں ہوتے۔ یہ اپنا آئیڈیل بھی تلاش کرتے نہیں پھرتے البتہ یہ ضرور ہے کہ ثور افراد محبت میں بھی اکثر ظاہری اور جسمانی حسن سے متاثر ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی دولت کی کشش بھی ان کی نظرمیں اہم ہو سکتی ہے۔
ثور ایک زبردست جذباتی پیار کرنے والا اور پرورش کرنے والا برج ہے۔ اس کی زرخیزی بھی مشہور ہے۔ اس کے زیر اثر پیدا ہونے والے افراد (مرد و خواتین) ایک پر سکون، مطمئن اور ذمہ دارانہ ازدواجی زندگی گزارنا پسند کرتے ہیں گویا ثوری افراد کے دل میں حقیقی اور گہری محبت کا جذبہ شادی کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ شادی ایک ایسا معاہدہ ہے جو ثوری افراد کو تحفظ کا احساس دلاتا ہے اور خیال رہے کہ برج سرطان کی طرح ثوری افراد بھی ہر معاملے میں یقینی تحفظ کے خواہش مند رہتے ہیں۔
شادی سے پہلے بھی تعلقات یا رومانس میں ثوری افراد فریقین کے درمیان واضح حدود کا تعیّن چاہتے ہیں۔ ان لوگوں کو صرف باتوں یا اداو ¿ں سے متاثر نہیں کیا جا سکتا۔ وہ محبت اور تعلقات میں عملی ثبوت کے قائل ہوتے ہیں۔ اسی لیے ان کے اپنے جذبوں اور رویوں میں بھی بے حد گہرائی پائی جاتی ہے۔ ان کی وفاداری اور خلوص پر کوئی شک نہیں کیا جا سکتا بس مسئلہ یہ ہے کہ غیر یقینی صورت حال اور کیفیات سے انہیں نفرت ہوتی ہے اور خصوصی طور پر ذاتی تعلقات میں ان کے جذبات نہایت شدید ہو سکتے ہیں۔ باہمی تعلقات میں یہ کچھ زیادہ انا پرست بھی ہوتے ہیں۔ اگر آپ کے رویے اور طور طریقوں میں تھوڑی سی بھی اجنبیت اور بے توجہی محسوس کریں گے تو یہ ان کے لیے جذباتی اور روحانی طور پر ایک تازیانہ ہو گا۔ ایسی صورت میں یہ آپ سے دور بھاگ سکتے ہیں۔ محبت اور نرم رویہ انہیں موم کی طرح پگھلا دیتا ہے۔ اس کا جواب فوراً نہایت گرم جوشی سے دیتے ہیں۔
ثور افراد کی محبت کے بارے میں صرف شمسی برج کو مدِ نظر رکھ کر کوئی حتمی رائے قائم کرنا غلط ہو گا کیونکہ اپنے زائچے کی ساخت و پرداخت کی مناسبت سے وہ کوئی بھی ایسا رنگ دکھا سکتے ہیں جس کی کسی کو توقع بھی نہ ہو یعنی ایسی شدید محبت جو محبت کے اعلٰی ترین روایتی معیار کی نمائندہ ہو یا پھر اس کے برعکس محض حسن پرستی اور بوالہوسی، خود غرضی اور خود پرستی کا نمونہ ہو ۔

برج سنبلہ کا انداز محبت


خاکی بروج کی تکون میں سنبلہ دوسرے نمبر پر ہے جب کہ دائرہ بروج میں چھٹے نمبر پر۔ اپنی ماہیت کے اعتبار سے ذوجسدین یعنی دو رخوں والا، فطرت میں مو ¿نث اور منفی ہے۔ ادراک و فہم اس کی نفسیات اور تجزیہ اس کا طرہ ¿ امتیاز ہے۔ اپنی علامت "دوشیزہ" کی مناسبت سے شرمیلا پن اس کی پہچان ہے۔ عالمی زائچے میں اس کا تعلق صحت اور کام سے ہے۔ اعضائے جسمانی میں ناف اور آنتیں اس کے زیر اثر ہیں۔
سنبلہ افراد اپنی مثبت خصوصیات میں سلیقہ مند، طور طریقوں کے پابند، جچے تلے انداز کے مالک، دوستی اور اصلاح پسندی پر مائل، منطقی، تجزیہ کار، صاحب امتیاز، ذی شعور اور باطنی قوتوں کے حامل ہوتے ہیں۔
اپنے دوسرے رخ میں یعنی منفی پہلوو ¿ں کے اعتبار سے سنبلہ افراد خائف، بے اعتبار، حاسد، نہایت باریک بین، نکتہ چیں، اپنے عقائد اور نظریات کے خلاف ہر شے میں کیڑے نکالنے والے، صفائی ستھرائی اور حفظان صحت کے اصولوں کے معاملے میں حد سے زیادہ محتاط، تنگ نظر اور سخت رویے کے حامل ہو سکتے ہیں۔
مثبت اور منفی خصوصیات میں کمی بیشی کا انحصار انفرادی زائچہ پیدائش پر ہوگا۔
اگر بات عشق و محبت کی ہو رہی ہو تو پھر یہ کہنا پڑے گا کہ شاید خالق کائنات نے برج سنبلہ کو اس لطیف ترین جذبے کے لیے نہیں بنایا ہے لہذا کسی سنبلہ شخصیت کو دنیا کے عظیم محبت کرنے والے افراد کی فہرست میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ دراصل یہ لوگ محبت اور شادی کے معاملے میں بے حد روایتی انداز کے حامل ہیں۔ چونکہ اس برج کا تعلق کام اور صحت سے ہے۔ لہذا جو چیز سب سے زیادہ ان کے ذہن پر سوار رہتی ہے وہ کام اور صحت کے معاملات ہیں۔ اسی طرح ان کی نکتہ چینی جو درحقیقت اصلاح پسندی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ وہ بھی محبت جیسے اندھے اور گونگے بہرے جذبے کے لیے کچھ مناسب نہیں ہوتی لہذا یہ لوگ عشق میں ہوش و ہواس سے بے گانہ ہو کر دیوانگی کی حدود کو نہیں چھو سکتے کیونکہ ان کی عقل کی کارفرمائیاں معاملات دل میں بھی غالب رہتی ہیں اور ان کے نزدیک رومان یا شادی بھی زندگی کی بس ایک ضرورت ہے جسے سود و زیاں سے بالاتر ہو کر نہیں دیکھا جا سکتا چناں چہیہ لوگ اپنے محبوب یا شریک حیات کی ذات میں خوبیوں اور خامیوں کا جائزہ لینے کے بعد ہی کسی پیش قدمی کا فیصلہ کریں گے اور پیش قدمی کے بعد بھی اگر انہیں کوئی خامی نظر آگئی تو ان کے بڑھتے ہوئے قدم رک سکتے ہیں۔
روایتی عاشقوں کی طرح پہلی نظر کا اندھا عشق سنبلہ افراد کے مزاج اور فطرت کے خلاف ہے۔ دراصل یہ لوگ محبت، شادی کے لیے کرتے ہیں اور شادی گھریلو سکھ اور چین، تحفظ و آرام اور آسائش کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ لہذا محبت میں پیش قدمی سے پہلے خاصی دور تک دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں۔ جب تک انہیں مکمل اطمینان حاصل نہ ہو جائے کہ اس تعلق میں کوئی نقصان نہیں ہے، کسی مضبوط بندھن میں بندھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کہ اکثر سنبلہ افراد کی زندگی میں محبت کا جذبہ پوری شدت کے ساتھ شادی کے بعد اس وقت نمودار ہوتا ہے جب وہ اپنے شریک حیات سے پوری طرح مطمئن ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد محبت میں ان کی ثابت قدمی اور وفاداری انتہائی شاندار اور قابل قدر ہوتی ہے۔ یہ اپنے محبوب کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے، یہ الگ بات ہے کہ ان کا پوری طرح مطمئن ہوجانا بھی یقینی نہیں ہوتا، ان کی فطری کاملیت پسندی کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی کمی ، کمزوری یا خامی ڈھونڈ ہی لیتی ہے۔
اپنے محبوب یا شریک حیات سے شدید محبت اور گہری وابستگی کے باوجود یہ رومانی تعلقات میں خاصے سرد مہر اور خشک مزاج نظر آتے ہیں۔ اپنے جذبہ محبت کا کھل کر اظہار کرنا ان کے لیے بڑا مشکل کام ہے۔ کچھ تو ان کا فطری شرمیلا پن آڑے آتا ہے اور کچھ کام کی مصروفیات میں خود کو حد سے زیادہ ملوث کرنا بھی ان کی رومانی اور سوشل زندگی کو متاثرکرتا ہے۔ بے شک ان کے تعلقات دوستی اور محبت میں ٹھوس اور پائیدار ہوتے ہیں مگر غیر معمولی نہیں ہوتے۔ یہ لوگ توقع رکھتے ہیں کہ ان کے شریک حیات میں بھی وہی ساری خوبیاں ہوں جو ان میں موجود ہیں۔ یہ ایک غلط سوچ ہے جس کی وجہ سے اکثر سنبلہ افراد خود اپنے لیے مسائل پیدا کرتے ہیں۔ ایک صاف ستھرا گھر اور کاموں میں عمدہ سلیقہ، مالی طور پر استحکام سنبلہ افراد کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔
شادی کے بعد اکثر انتہائی نجی نوعیت کے مسائل ازدواجی زندگی میں اختلافات کو جنم دے سکتے ہیں کیونکہ محض جنسی تعلق ہی سنبلہ افراد کی وابستگی کو مستحکم کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ ان کے لیے ذہنی ہم آہنگی بھی ضروری ہے۔ بہ صورت دیگر بعض نفسیاتی مسائل ان لوگوں کو پریشان کر سکتے ہیں۔
محبت اور شادی کے حوالے سے سنبلہ افراد کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ وہ جس کاملیت کے متلاشی ہیں، درحقیقت اس کا کوئی وجود نہیں ہے اور یہ انسانی کمزوریاں ہی تو ہیں جن پر دوسروں کو اکثر سب سے زیادہ پیار آتا ہے۔ آخر ہم معصوم بچوں کی نادانیوں پر کیوں خوش ہو کر ان سے پیار کرتے ہیں؟ بے شک سنبلہ افراد نہایت اعلٰی ظرف، شائستہ اور پاکیزہ محبت کے اہل ہیں۔ جسے اپنا بناتے ہیں یا جسے چاہتے ہیں اس کی خاطر ہر تکلیف اور مصیبت برداشت کرنے کی خوبی رکھتے ہیں۔ تاہم چونکہ برج سنبلہ کا نشان دوشیزگی یعنی کنوارپن ہے اور کنوارا ظاہر ہے کہ تنہا ہوتا ہے۔ لہذا اکثر سنبلہ افراد کو محبت ایک کوہ گراں یعنی بھاری بوجھ محسوس ہوتی ہے اور یہ اس دشت بے اماں کی سیّاحی سے کتراتے ہیں۔ وہ کبھی کبھی یہ بھی سوچتے ہیں کہ اس سے بہتر تو تنہا وقت گزارنا ہی ہے۔ بات دراصل وہی ہے کہ اگر یہ لوگ کسی ایسی ہستی کو پا لیں جس سے ان کی ذہنی ہم آہنگی ہو تو پھر اس کی خامیوں کو بھی نظر انداز کر دیں گے اور اس کے ساتھ عمر بھر کی رفاقت جاری رہے گی۔
جیسا کے بار بار تذکرہ ہو چکا ہے کہ برج سنبلہ کا نشان دوشیزہ ہے اور کنوارا پن اس کا طرہ ¿ امتیاز ہے۔ لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا بھر میں کنواروں کی ایک بڑی تعداد کا تعلق برج سنبلہ سے ہے۔ قوسی افراد دوسرے نمبر پر آتے ہیں۔ یہ لوگ اصلاح معاشرہ یا کسی اور عظیم مقصد کی خاطر بھی محبت اور شادی سے دور ہو سکتے ہیں۔ جیسے شہرہ آفاق اور نوبل انعام یافتہ مدر ٹریسا یا بابائے اردو مولوی عبد الحق۔ دونوں کا تعلق برج سنبلہ سے تھا۔

برج جدی کا انداز محبت


دائرہ بروج کا دسواں اور خاکی تکون کا تیسرا برج جدی ہے جس کا حاکم سیارہ زحل ہے۔
نظم و ضبط، اصول و قواعد اور تربیت کے لیے سفاکانہ طرز عمل سیارہ زحل سے منسوب ہے۔ برج جدی ماہیت کے اعتبار سے منقلب یعنی تغیر پذیر، اپنی فطرت میں مو ¿نث اور منفی ہے۔ انسانی جسم میں جوڑ اور گھٹنے اس سے منسوب ہیں۔ مادیت، جاہ طلبی اور عاقبت اندیشی اس کا خاصہ ہیں۔ برج جدی کے زیر اثر پیدا ہونے والے افراد اعلٰی درجے کے منتظم اور قائدانہ صلاحیتیں رکھتے ہیں۔ یہ عمدہ دماغی قوتوں کے مالک، نکتہ رس اور شاندار سوجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ محنت اور استقامت کے ساتھ اپنے مقصد کے حصول کی جدوجہد میں مصروف رہتے ہیں۔ برج جدی کا نشان پہاڑی بکرا ہے جو اپنی دھیمی رفتار سے ایک سیدھی راہ پر اپنا سفر جاری رکھتا ہے اور بالآخر پہاڑ کی سب سے اونچی چوٹی پر پہنچ جاتا ہے۔
جدی افراد اپنے مثبت پہلوو ¿ں میں بنیادی طور پر عملیت پسند، کارگزار، مستقل مزاج، معاون اور مضبوط کردار رکھتے ہیں۔ یہ لوگ محنتی، کم گو اور کسی حد تک تنہائی پسند ہوتے ہیں۔ ان کا منطقی ذہن صرف دلیل سے ہی مطمئن ہو سکتا ہے۔ جدی افراد کے منفی پہلو شک و بد ظنی، سرد مہری، خود غرضی، مزاحمت پسندی یعنی روک ٹوک، ضد، ہٹ دھرمی، کٹ ہجتی، ناراضگی، یاسیت پسندی اور غیر جذباتی انداز فکر ہیں۔
محبت کے حوالے سے کسی شاعر نے کہا تھا "یہ وہ نغمہ ہے جو ہر ساز پر گایا نہیں جاتا"۔ شاید برج جدی بھی ایک ایسا ہی ساز ہے جس کے لیے یہ نغمہ نہیں بنایا گیا۔ یہ لوگ دوسروں پر اپنی محبتیں نچھاور کرتے نہیں پھرتے۔ ان میں اصول پسندی اور فرض شناسی تو موجود ہوتی ہے لیکن رومان کے معاملے میں یہ خاصے خشک مزاج ہوتے ہیں۔ اس بات کو یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ برج جدی کے زیر اثر پیدا ہونے والے افراد روایتی اعلٰی معیار کے عاشق نہیں ہوتے۔ اس برج کا خاکی عنصر ان لوگوں کو اس قدر عملی سوچ اور رویوں کا عادی بنا دیتا ہے کہ یہ لوگ اپنی حقیقت پسندی کے خبط میں رومانیت کے افسانوی لطف کو غارت کر بیٹھتے ہیں ۔
(اگر برج جدی کے ساتھ کوئی آبی برج بھی فعال ہو تو یہ صورت حال تبدیل بھی ہو سکتی ہے)۔
 جدی افراد کی عملیت پسندی اور مادیت انہیں محبت جیسے لطیف جذبے کو سمجھنے اور اس کا احساس کرنے سے روکتی ہے۔ ان کی نظر میں یہ ایک کارِ بے کار ہو سکتا ہے جس میں زندگی کا قیمتی وقت ضائع کرنا ایک حماقت ہو گی۔ جدی افراد کو شادی یا ازدواجی زندگی کا بھی زیادہ شوق نہیں ہوتا۔ انہیں تو اپنے کرئیر میں کسی بلند مقام تک پہنچنے کا شوق خبط کی حد تک رہتا ہے چناں چہ یہ لوگ محبت کے معاملے میں صنف مخالف کی دلچسپی اور وارفتگی کا جواب مثبت انداز میں تو ضرور دیتے ہیں مگر خود ان کی دلچسپی اور جوش و جذبہ احتیاط کے حصار میں قید نظر آتا ہے جسے محسوس کر کے ان سے محبت کرنے والے پر جوش اور جذباتی افراد کا دل ٹوٹ سکتا ہے مگر انہیں اس کی بھی پروا نہیں ہو گی، یہاں بھی ان کی حقیقت پسندی اسے پاگل قرار دے کر آگے بڑھ جائے گی۔ 
عام طور پر ان کی نجی ضروریات اور خواہشات انہیں شادی کے بندھن میں بندھنے پر مجبور کرتی ہےں اور اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ یہ شادی کے بعد اپنی ذمہ داریاں اور ازدواجی حقوق بڑی خوش اسلوبی سے ادا کرتے ہیں یعنی شریک حیات کی ہر ضرورت کا پوری طرح خیال رکھتے ہیں مثلاً گھر، مالی استحکام، عزت اور وقار، معقول رویہ وغیرہ لیکن اس معقول رویے میں نظم و ضبط اور مزاحمتی انداز کی جھلکیاں موجود ہوتی ہیں۔ ان کا حاکمانہ مزاج اپنے شریک حیات کو ہر آزادی نہیں دے سکتا۔ وہ اسے اپنے ایک ماتحت کے روپ میں دیکھنا پسند کریں گے۔ البتہ دنیاوی آرام و آسائش اور سہولیات فراہم کرنے میں یہ کوئی کوتاہی اپنی جانب سے نہیں کرتے مگر صرف ایک چیز اس کے لیے ان کے پاس نہیں ہوتی اور وہ ہے تھوڑی سی رومانیت اور روایتی انداز محبت۔ یہ لوگ اپنے عملی انداز محبت کو ہی کافی سمجھتے ہیں مثلاً ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ میں نے دنیا کی ہر نعمت اور سہولت اپنے محبوب یا شریک حیات کو مہیا کر دی ہے ، اب اس کے بعد صرف زبانی اور روایتی اظہار محبت کی کیا ضرورت ہے؟ شاید ان کا یہ خیال دوسروں کے لیے نامناسب اور ناقابل قبول ہو۔ ان لوگوں کو چاہیے کہ یہ دوسروں کو احساس محبت اور جذباتی تسکین بھی فراہم کریں۔ یوں زندگی زیادہ رنگین اور پرسکون ہو جائے گی۔
جدی افراد کی زندگی میں جو لوگ آئیں، انہیں تھوڑی سی توجہ دینے، محبت اور تعریف کے دو بول بول دینے سے کوئی نقصان نہیں ہو گا یا آپ کمتر نہیں ہو جائیں گے بلکہ جواب میں آپ کو بھی سچی محبت کی روحانی خوشی ملے گی۔ صرف آپ کی اصول پسندی اور فرض شناسی ہی زندگی میں سارے رنگ نہیں بھر سکتی۔ زندگی کا اصل اور دلچسپ ترین رنگ تو محبت ہے۔
جدی افراد پیدائشی طور پر نظم و ضبط کے قائل ہوتے ہیں اور اپنی رومانوی یا ازدواجی زندگی میں بھی نظم و ضبط اور اصول و قواعد کی پابندی پر زور دیتے نظر آتے ہیں۔ اسی طرح چونکہ ان کی عملیت پسندی زندگی کی مادی ضروریات اور مادی حقائق پر زیادہ توجہ دیتی ہے لہذا محبت اور دوستی کے معاملات میں بھی یہ لوگ دل کے بجائے دماغ سے کام لیتے ہیں اور اپنے مادی نفع و نقصان کو نظر انداز نہیں کرتے۔ جس طرح ایک جدی مرد اپنے پیشہ ورانہ مفادات سے کبھی غافل نہیں رہتا بلکل اسی طرح جدی خواتین بھی شوہر کی ترقی اور آمدن میں اضافہ کے لیے اس سے بھرپور تعاون کرتی ہیں اور وہ کسی نکمے اور آرام طلب شوہر کو پسند نہیں کرتیں جو انہیں مادی آرام و سکون مہیا نہ کر سکے۔
جدی افراد کی شادیاں عموماً پائیدار ہوتی ہیں۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ شاذ و نادر ہی جلدی میں شادی کرتے ہیں اور اس بات کا امکان بہت ہی کم ہوتا ہے کہ شریک حیات کا انتخاب کرنے میں ضرورت سے زیادہ احتیاط کے باعث ان سے کوئی غلطی ہو جائے کیونکہ وہ یہ کام جذبات کی رو میں بہہ کر یا بے پروائی سے کبھی نہیں کرتے۔
جدی افراد کم از کم محبت کے روایتی معیار اور تصور پر پورا اترتے نظر نہیں آتے۔ محبت کا روایتی تصور رکھنے والے ان کے انداز و اظہار محبت سے خوش نہیں ہو سکتے۔
عشق و محبت تقریباً ہر زبان کی شاعری کا بنیادی موضوع رہا ہے۔ اگر ہم رومانی شاعری کرنے والے قد آور شعراءکی فہرست پر ایک نظر ڈالیں تو اس میں بھی سر فہرست حوت اور عقرب نظر آئیں گے مثلاً ہمارے یہاں اردو شاعری میں میر تقی میر، علامہ اقبال،فیض احمد فیض، پروین شاکر، عطا شاد وغیرہ کے ہاں روایتی عشق کے اعلٰی ترین نمونے نظر آتے ہیں۔ یہ تمام شعراءبرج عقرب سے تعلق رکھتے ہیں۔ دوسری طرف اردو شاعری میں برج جدی سے تعلق رکھنے والے دو بڑے نام مرزا اسد اللّٰہ خان غالب اور جوش ملیح آبادی ہیں۔ غالب نے اگرچہ رومانوی موضوعات کو بھرپور طریقے سے اپنایا ہے اور ان کا دور رومانی شاعری کا دور تھا مگر غالب کے رومانی موضوعات پر عقل غالب نظر آتی ہے شاید اسی چیز نے انہیں اپنے دور میں دیگر رومانی شعراءسے منفرد بنا دیا تھا۔ وہ محبت میں میر کی طرح اندھے عشق کے قائل نہیں۔ زندگی کے مادی پہلوو ¿ں کو سامنے رکھتے ہوئے محبت کی بات کرتے ہیں۔ جوش ملیح آبادی کی رومانی شاعری کسی بگڑے نواب کی آوارہ گردی اور عیش طلبی کا شاہکار نظر آتی ہے۔ البتہ ان کی حاکمیت پسندی انہیں انقلابی رجحانات کی طرف لے گئی اور اس طرح رومانی شاعری کا پودا قد آور درخت نہ بن سکا۔