جمعرات، 26 مئی، 2016

اصطلاحاتِ جفر کی تشریح اور دیگر اہم جفری رموز و نکات

ایک ایسے علم کے بنیادی اصول و قواعد جس میں طویل چلّہ کشی کی ضرورت نہیں 



گیارہ مئی 2013 ءکے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد جب وزیراعظم پاکستان جناب نواز شریف نے حلف اٹھانے کے لیے 5 جون 2013 ءکا انتخاب کیا تھا تو ہم نے لکھا تھا کہ بہتر ہوتا ، حلف کے لیے تاریخ 3 یا 4 جون رکھی جاتی، اگر 5 جون رکھی گئی ہے تو بہتر ہوگا کہ حلف اسلام آباد کے وقت کے مطابق تقریباً ساڑھے گیارہ بجے سے بارہ بجے کے درمیان لیا جائے مگر ظاہر ہے کہ ہمارا مشورہ تو اخباری کالم تک ہی محدود رہتا ہے،اس پر کون عمل کرتا ہے؟ چناں چہ حلف شام 5:37:34 pm پر مکمل ہوا اور ہم نے اس وقت کے مطابق زائچہ ءحلف پر جو تجزیاتی رپورٹ پیش کی تھی، اس میں سے ایک مختصر اقتباس پیش خدمت ہے۔
”عزیزان من ! حلف کے زائچے کے مطابق ایسا نظر آتا ہے کہ نئے وزیر اعظم اپنی تمام تر خوبیوں اور نیک نیتی کے
 باوجود مشکل ترین حالات کا مقابلہ کریں گے اور محاورتاً نہیں حقیقتاً وزارت عظمیٰ انہیں کانٹوں کی سیج محسوس ہوگی ، کرپشن پر قابو پانا ان کے لیے آسان نہ ہوگا ، اقربا پروری سے نجات مشکل ہوگی ، پارٹی میں انتشار و افتراق کا سامنا رہے گا ، اپنے فطری زائچے کے مطابق اور زائچہ ءحلف کے مطابق جس نوعیت کے اختیارات وہ چاہتے ہیں ، شاید وہ نہ مل سکیں اور نتیجے کے طور پر وہ کسی ایسی محاذ آرائی میں الجھ جائیں جو کوئی خطرناک صورت اختیار کرجائے ، سندھ خصوصاً کراچی اور بلوچستان کے معاملات اور دہشت گردی کے مسائل مزید پیچیدہ ہوجائیں ”معاشی دھماکہ“ محض ایک خواب ثابت ہوسکتا ہے اور ممکن ہے کہ وہ سابقہ حکومت کی طرح مفاہمتی پالیسیوں پر مجبور ہوکر خدانخواستہ سابقہ حکومت جیسے انجام تک پہنچ جائیں ۔ “
اسی زائچے کے تجزیے میں ہم نے عرض کیا تھا کہ 14 ستمبر 2014 ءتک وہ قمر کے دور اصغر سے گزر رہے ہیں اور اُس وقت تک ان کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے کیوں کہ یہ ان کا ”ہنی مون پیریڈ “ ہے، چناں چہ ایسا ہی ہوا، اگست 2014 ءمیں عمران خان کی اسلام آباد پر یلغار اور ایک طویل دھرنا بھی ان کی حکومت گرانے میں ناکام رہا، حالاں کہ اگست کے آخر اور ستمبر کے پہلے ہفتے میں صورت حال نہایت سنگین ہوگئی تھی، اسی تجزیے میں ہم نے یہ بھی لکھا تھا۔
” زائچے کا واحد سعد اور مضبوط سیارہ شمس ہے جو دسویں گھر کا مالک ہوکر ساتویں گھر کیندر میں ہے یہ وزیرا عظم کے لیے ایک سپورٹنگ پوزیشن ہے لہٰذا جب تک کوئی نہایت منحوس دور زائچے میں شروع نہیں ہوتا وہ اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے لیکن وزارت عظمیٰ کی مدت پوری کرنا ان کے لیے مشکل ثابت ہوسکتا ہے ، سابق وزیر اعظم جناب یوسف رضا گیلانی کی طرح انہیں بھی وقت سے پہلے فارغ کیا جاسکتا ہے ، راہو کا منحوس دور 14 ستمبر 2015 ءسے شروع ہوگا ۔“
زائچہ ءحلف کے مطابق 15 ستمبر 2015 ءسے راہو کا منحوس دور اصغر شروع ہوچکا ہے،جب کہ دور اکبر دوسرے منحوس زہرہ کا ابتدا ہی سے جاری ہے جو زائچے کے بارھویں گھر کا حاکم ہوکر آٹھویں گھر میں قابض ہے، راہو اگر زائچے سے منحوس گھروں میں ہو تو اور بھی خطرناک ہوجاتا ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ راہو کا دور شروع ہوتے ہی وزیراعظم کے لیے نت نئے پیچیدہ مسائل شروع ہوچکے ہیں، خصوصاً تازہ مسئلہ پانامالیکس تو بالکل ایسا ہی ہے جیسے قدرتی آفات اچانک نازل ہوگئی ہوں، مزید یہ کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ مسئلہ مزید الجھتا ہی جارہا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ اسے معقول طریقے سے ہینڈل نہیں کیا جارہا یا شاید ایسا ممکن ہی نہ ہو، خراب وقت کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ انسان مسئلے کے حل کے لیے نامناسب اور غلط طریقے اختیار کرتا ہے، غلط راستہ دکھانے والوں کی باتوں میں آجاتا ہے۔
جیسا کہ گزشتہ کالم میں بھی عرض کیا تھا کہ مئی کا مہینہ ایک سخت مہینہ ہے اور حکومت کے لیے بھی اس مہینے میں مزید پریشانیاں موجود ہیں، خصوصاً مئی کے آخری ہفتے سے تقریباً 15 جون تک وزیراعظم کے لیے ایک نہایت سخت وقت کی نشان دہی ہورہی ہے،جون میں رمضان شریف ہےں اور نواز شریف صاحب یہ عرصہ عام طور پر سعودی عرب میں گزارنا پسند کرتے ہیں تاکہ رمضان المبارک کی بھرپور سعادتوں کا حصول ممکن ہوسکے، امکان ہے کہ اس بار بھی وہ اس کام میں سستی نہیں کریں گے۔
اصطلاحاتِ جفر
گزشتہ ہفتوں میں علم جفر کے شائقین کی فرمائش پر اس علم سے متعلق بنیادی ابتدائی معلومات فراہم کی گئیں، زیر نظر مضمون بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں علم جفر میں استعمال ہونے والی مختلف اصطلاحات کی تشریح مثالوں کے ساتھ کی گئی ہے، امید ہے کہ علم جفر سیکھنے کے شوقین اسے پسند کریں گے۔
تخلیص
اکثر جفری اعمال میں ”تخلیص“ کا لفظ سامنے آتا ہے کہ حروف کی تخلیص کرو، اس کا مطلب حروف کو خالص کرنا ہے یعنی ایسے حروف جن کی تکرار ہورہی ہو، انہیں خارج کرکے اصل حروف برقرار رکھے جائیں، مثال کے طور پر کسی عمل میں نام مع والدہ اور کوئی اسم الٰہی یا آیت لی گئی ہے تو تمام حروف کو جب علیحدہ علیحدہ کرکے لکھا جائے گا تو بعض حروف ایک سے زیادہ مرتبہ آئیں گے، انہیں خارج کرکے اصل حروف کو برقرار رکھنا ”تخلیص“ کہلاتا ہے،مثال اس کی یہ ہے کہ محمد احسن بن زبیدہ کے نام میں مندرجہ ذیل حروف ہیں۔
م ح م د ا ح س ن ز ب ی د ہ 
اب اس سطر میں بعض حرف ایک سے زیادہ مرتبہ موجود ہیں،مثلاً م ح د وغیرہ تخلیص کے نتیجے میں خالص حروف یہ ہوں گے۔
م ح د ا س ن ز ب ی ہ
اس مثال سے تخلیص کا مطلب آپ سمجھ ہوگئے ہوں گے۔
بسط حرفی
یہ بھی ایک جفری اصطلاح ہے جس کا مطلب کسی بھی نام ، آیت وغیرہ کے حروف کو علیحدہ علیحدہ کرکے لکھنا ہے، جیسا کہ اوپر کی مثال میں محمد احسن بن زبیدہ کے نام کو علیحدہ علیحدہ حروف میں لکھا گیا ہے،بسط حرفی کی دیگر اقسام بھی ہیں مثلاً ”بسط تمازج، بسط تضعیف“ وغیرہ۔
بسط تمازج
بسط تمازج کی ضرورت اُس وقت پیش آتی ہے جب کسی عمل میں طالب و مطلوب کے نام کے حروف میں کمی بیشی کا مسئلہ درپیش ہو ، مثلاً مطلوب کے نام مع والدہ میں حروف کم ہوں یا طالب کے نام مع والدہ میں حروف زیادہ ہوں، قصہ مختصر یہ کہ دونوں فریقین کے ناموں میں حروف کی کمی و بیشی کا مسئلہ درپیش ہو تو بسط تمازج کا قانون کام کرتا ہے،اس کا طریقہ یہ ہے کہ جب ایسی صورت درپیش ہو یعنی ایک کے نام میں حروف کم ہوں اور دوسرے کے نام میں حروف زیادہ ہوں تو دونوں کے ناموں کے حروف علیحدہ علیحدہ الگ لکھ لیے جائیں اور زیادہ حرف کم کرکے دونوں کو برابر کرلیا جائے،اس کے بعد دونوں ناموں کو باہم امتزاج دیا جائے، اس طرح کہ پہلے طالب کے نام کا حرف لیا جائے اور پھر مطلوب کے نام کا، اس طرح ایک نئی سطر دونوں ناموں کے حروف کی تیار ہوگی، اس میں ان حروف کا اضافہ کردیا جائے جو زیادہ تھے لیکن اگر وہ طالب کے نام سے نکالے گئے تھے تو سطر کے شروع میں اضافہ کیا جائے گا، اگر مطلوب کے نام سے نکالے گئے تھے تو سطر کے آخرمیں اضافہ ہوگا، اس حوالے سے حضرت کاش البرنیؒ نے محبت کا ایک سریع التاثیر جفری عمل دیا ہے جو ہمارے بھی تجربے میں آچکا ہے اور اس کے اثر سے انکار ممکن نہیں ہے لہٰذا ہم یہ عمل یہاں لکھ رہے ہیں۔
جفری عمل محبت
دو افراد کے درمیان محبت اور دوستی کے لیے مندرجہ بالا طریقے کے مطابق دونوں کے نام مع والدہ لے کر دیکھیں کہ ان میں کتنے حروف ہیں، اگر دونوں کے نام مع والدہ کے حروف برابر ہوں تو پھر کوئی مسئلہ نہیں، بسط تمازج کی ضرورت پیش نہیں آئے گی، اگر کمی بیشی ہے تو مندرجہ بالا بسط تمازج کے طریقے پر عمل کرتے ہوئے دونوں ناموں کے حروف کی ایک نئی سطر تیار کریں اور پھر اس کی تکسیر جفری کریں اور زمام نکالیں، اس کے بعد تین فتیلہ تیار کریں، پہلا فتیلہ پہلی لائن سے بنایا جائے اور پہلے روز جلایا جائے، دوسرا فتیلہ درمیانی لائنوں سے بنایا جائے اور دوسرے دن جلایا جائے جب کہ تیسرا فتیلہ آخری لائن یعنی زمام سے تیار کیا جائے اور تیسرے روز جلایا جائے، تین روز ہی کے عمل سے مقصد حاصل ہوجائے گا۔
یہی عمل دو افراد کے درمیان مخالفت پیدا کرنے یا جدائی کے لیے بھی استعمال ہوسکتا ہے مگر طریقِ عمل میں فرق ہوگا جس کا اظہار ضروری نہیں ہے،ایسے اعمال کے لیے بہتر وقت کا انتخاب بھی ضروری ہوتا ہے۔
بسط تضعیف
بسط تضعیف عام طور پر بلندی ¿ مرتبہ اور ترقیاتی امور کے لیے مستعمل ہے،اس کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے نام کے حروف علیحدہ علیحدہ لکھیں اور پھر ہر حرف کی قوت میں اضافہ کریں یعنی اُسے دوگنا کرلیں،مثلاً کسی کا نام احمد ہے، ا ۔ح۔ م۔ د ، اب اس کو بسط تضعیف کے ذریعے دوگنا کیا، الف کا دوگنا ب ہوگا کیوں کہ الف کا عدد 1 ہے اور ب کے عدد 2 ہیں،اسی طرح ح کا عدد 8 ہے اس کا دوگنا 16 ہوگا لہٰذا ی۔و لیں گے ، م کے اعداد 40 ہیں، دوگنا 80 ہوا لہٰذا حرف ف لیا جائے گا، د کا عدد 4 ہے، دوگنا 8 ہوا لہٰذا حرف ح لیا جائے گا،اب بسط تضعیف کے ذریعے احمد کے حروف کی نئی سطر یہ حاصل ہوئی۔
ب۔ ی۔ و۔ف۔ ح،گویا اس طرح نام کے حروف کو ترقی دے کر ان کی قوت میں اضافہ کردیا گیا۔
جفری عملِ ترقی
 اس طریقِ کار کے مطابق بھی ایک جفری عمل نہایت پرتاثیر تجربے میں آیا ہے جو یہاں پیش کیا جارہا ہے۔
یہ عمل چاند کی ابتدائی تاریخوں میں شروع کیا جاتا ہے اور 14 دن کا عمل ہے، چاند کی پہلی تاریخ سے مغرب کے فوراً بعد شروع کیا جائے،نام مع والدہ کے حروف کو بسط تضعیف کے ذریعے دوگنا کرکے جو حروف حاصل ہوں، ان کی تکسیر جفری کرکے ایک فتیلہ تیار کریں اور جس وقت مغرب کے بعد چاند طلوع ہو تو چنبیلی کا تیل کورے چراغ میں ڈال کر اس فتیلے کو جلائیں، کاغذ کی بتی پر صاف روئی لپیٹ کر چراغ میں رکھیں، اس کے بعد بسط تضعیف کے بعد جو حروف حاصل ہوئے ہیں، ان کے اعداد نکالیں اور اسی تعداد کے مطابق اسم الٰہی ”یا متعالی“ کا ورد کریں، اگر پڑھائی کے دوران تعداد جلد پوری ہوجائے اور فتیلہ پورا نہ جل سکے تو کوئی حرج نہیں،اس کو بچا کر احتیاط سے رکھ لیں اور دوسرے دن کی پڑھائی میں شامل کرلیں، اگر پورا جل جائے تو دوسرے دن نیا فتیلہ تیار کریں،اسی طرح 14 روز مکمل کریں، انشاءاللہ ترقی ہوگی اور زندگی میں نمایاں کامیابی حاصل ہوں گی،حضرت کاش البرنیؒ نے اس عمل کو دست غیب کا عمل کہا ہے۔
تکسیرِ جفری
مندرجہ بالا عمل میں علم جفر کی مزید اصطلاحات کا ذکر ہوا ہے،اس کی وضاحت بھی ضروری ہے،مثلاً تکسیر جفری کا ذکر ہوا ہے، اگرچہ اس کی بہت سی اقسام ہیں لیکن تمام اقسام کا ذکر ضروری نہیں ہے،جس سطر کی تکسیر کرنا مقصود ہو ، اُسے علیحدہ علیحدہ حروف میں لکھ کر ایک حرف بائیں جانب سے لیں اور ایک دائیں جانب سے، اس طرح ایک نئی سطر وجود میں آئے گی، اسی عمل کو اس دوسری سطر پر بھی دہرائیں تو ایک تیسری سطر وجود میں آئے گی، یہی عمل ہر نئی سطر پر دہراتے رہیں، یہاں تک کہ پہلی سطر دوبارہ وجود میں آجائے، بس اب تکسیر کا عمل مکمل ہوا، اس آخری سطر سے پہلے جو لائن ہوگی، اسے زمام کہا جاتا ہے،ایک مثال کے ذریعے طریق کار کو سمجھ لیں۔
مثلاً زاہد کی والدہ کا نام زبیدہ ہے، نام کے علیحدہ علیحدہ حروف ز، ا،ہ، د، ز، ب، ی، د،ہ ہیں،ان حروف کی تکسیر جفری کی مثال یہ ہوگی لیکن مثال میں صرف زاہد کے نام کی تکسیر دی جارہی ہے۔
سطر اول: ز ا ہ د 
د ز ہ ا
زمام: ا د ہ ز
سطر آخر: ز ا ہ د
تکسیر جفری کے اور بھی بہت سے قاعدے اور قانون ہیں لیکن یہ قاعدہ عام اور سادہ ہے،دیگر قواعد عموماً علم جفر حصہ اخبار میں زیادہ مستعمل ہیں یا پھر کسی مخصوص عمل میں مخصوص تکسیری طریقہ اختیار کیا جاتا ہے،علم جفر کی اکثر کتابوں میں دیگر تکسیری طریقے موجود ہیں۔
اقسام حروف
جیسا کہ پہلے بتایا جاچکا ہے کہ علم جفر درحقیقت علم الحروف ہے،علمائے جفر نے حروف کے بارے میں جو تحقیقی کام کیا ہے،وہ نہایت قابل قدر ہے،حروف کے ہر ہر پہلو کا جائزہ لیا گیا ہے اور ان کی اقسام بھی مقرر کی گئی ہےں ، علم جفر کے طالب علم کو حروف کی جملہ اقسام کے بارے میں مکمل معلومات ہونا چاہیے۔
ہم یہاں حروف کی نمایاں اور مشہور اقسام بیان کر رہے ہیں۔
حروف صوامت: یہ کل 13 حروف ہیں جن میں کوئی نقطہ نہیں ہے۔
ا۔ ح۔د۔ر۔س۔ص۔ط۔ع۔ک۔ل۔م۔و۔ہ۔
حروف صوامت کو گُپ چُپ کے حروف کہا جاتا ہے،عام طور پر استحکام ، روک تھام اور بندش کے کاموں میں استعمال ہوتے ہیں،اساتذہ نے اس کے علاوہ بھی ان سے کام لینے کے طریقے ایجاد کیے ہیں جو دیگر اعمال میں بھی معاون و مددگار ثابت ہوتے ہیں، زندگی کی تقریباً تین چوتھائی ضروریات میں ان سے کام لیا جاسکتا ہے۔
حروف ناطق: یہ ایسے حروف ہیں جن میں نقطہ ضروری ہے، ان کی کل تعداد 15 ہے۔
 ب۔ ت۔ ث۔ ج۔ خ۔ذ۔ز۔ش۔ض۔ ظ۔ غ۔ ف۔ق۔ن اور ی۔
 عام طور پر ”ی، ے“ مفرد انداز میں لکھا جائے تو اس پر نقطے نہیں ہوتے لیکن درحقیقت ی کے نیچے دو نقطے ہوتے ہیں جو اس وقت ظاہر ہوتے ہیں، جب اسے دوسرے حرفوں کے ساتھ ملاکر لکھا جاتا ہے۔
حروف ناطق ، حروف صوامت کی ضد ہےں، اگر صوامت سے بندش کے کام لیے جاتے ہیں تو حروف ناطق سے کشادگی اور بندشوں کو کھولنے میں مدد لی جاتی ہے۔
حروف نورانی: یہ تعداد میں 14 ہیں۔
ح۔ ر۔س۔ص۔ط۔ع۔ ک۔ق۔ل۔م۔ن۔و۔ہ۔ی۔ا
قرآن کریم میں جو حروف مقطعات مختلف سورتوں میں استعمال ہوئے ہیں،وہ انہی حروف نورانی پر مشتمل ہےں،اس اعتبار سے انہیں نہایت مقدس اور متبرک حروف قرار دیا گیا ہے، تحفظ ، قوت و غلبہ، کشادگی ¿ رزق اور دیگر بہت سے امور میں ان سے کام لیا جاتا ہے۔
حروف ظلمانی: یہ حروف نورانی کی ضد ہیں۔
 ب۔ت۔ ث۔ ج۔ خ۔ د۔ ذ۔ ز۔ ش۔ ض۔ ظ۔غ اورف
یہ حروف اعمال شر میں مستعمل ہیں جن کا مقصد کسی کو نقصان پہنچانا ہوسکتا ہے لیکن اساتذہ نے ان کے ذریعے اعمال خیر میں بھی مدد لی ہے اور ایسے طریقے تعلیم کیے ہیں جو مثبت ہیں۔
حروف تواخیہ: علم جفر کی اصطلاح میں حروف تواخیہ ایسے حروف کو کہا جاتا ہے جو ایک ہی شکل و صورت کے ہوں اور دو یا دو سے زیادہ یا تین ہوں۔
 جیسا کہ ب ، ت، ث۔
ج، ح،خ۔
د،ذ۔
ر،ز۔
س،ش۔ 
ص،ض۔
 ط، ظ۔
ع،غ۔
حروف مکتوبی: ایسے حروف کو کہا جاتا ہے جنہیں الفاظ میں بیان کیا جائے یا لکھا جائے تو ان کا پہلا اور آخری حرف ایک ہی ہو اور وہ حروف تعداد میں صرف 3 ہیں، میم، نون، واو ¿۔ان تینوں حروف میں پہلا اور آخری حرف ایک ہی ہے۔
حروف مسروری: یہ ایسے حروف ہیں جنہیں اگر لکھا جائے تو دو ہی حروف پر مشتمل ہوں، جیسا کہ با۔ تا۔ ثا۔ حا۔ را۔زا۔طا۔ظا۔ہا۔یا وغیرہ۔
اساس و نظیرہ
یہ بھی علم جفر کا ایک قاعدہ ہے جسے نہایت کارآمد سمجھا جاتا ہے،بعض اعمال میں اس کی ضرورت پیش آجاتی ہے،چناں چہ اسے یاد رکھنا چاہیے۔
تمام حروف 28ہیں جنہیں دو حصوں میں تقسیم کردیا گیاہے، الف سے نون تک 14 حروف کو اساس قرار دیا گیا ہے اور سین سے غین تک 14 حروف کو نظیرہ کہا گیا ہے لہٰذا جب کسی عمل میں کہا جائے کہ اصل حروف کے نظیرہ حروف سے کام لیا جائے تو یہ طریقہ کام آتا ہے،اس کی تفصیل یہ ہے کہ ہر حرف کا 15 واں حرف اس کا نظیرہ ہے مثلاً الف کا نظیرہ حرف سین ہوگا، اسی طرح بے کا نظیرہ عین ہوگا، اس کا تفصیلی چارٹ بھی دیا جارہا ہے۔
اساس: ا ب ج د ہ و ز ح ط ی ک ل م ن 
نظیرہ:س ع ف ص ق ر ش ت ث خ ذ ض ظ غ
مزید اصطلاحاتِ جفر
علم جفر میں اصطلاحات کی بھرمار ہے،چیدہ چیدہ اصطلاحات اور ان کے معنی و مفہوم بیان کردیے گئے ہیں، مزید بھی کچھ اصطلاحات کے بارے میں وضاحت کی جارہی ہے۔
جمل یا جمل کبیر: اس سے مراد یہ ہے کہ عبارتی حروف کو ابجد قمری کے ذریعے سے بسط حرفی کرکے اس کے اعداد لیے جائیں۔
مفصل اعداد: اس کی تعریف یہ ہے کہ بسط ملفوظی کیا جائے اور اس کے اعداد لیے جائیں،مثلاً اگر نام فہد ہے تو اسے ملفوظی طریقے پر لکھا جائے جیسے کہ فا، حا، دال اور پھر تمام حروف کے اعداد لیے جائیں، اس طرح فہد کے اعداد 125 ہوں گے۔
مسبوط اعداد: اس کا مطلب یہ ہے کہ حروف جس قدر بھی ہوں، اُن کے اعداد بسط عددی کے ذریعے حاصل کیے جائیں۔
ترفع عددی: ترفع سے مراد ترقی دینا یا آگے بڑھانا ہے لہٰذا حروف کے اعداد کو ترقی دی جائے یعنی اکائی کے اعداد کو دہائی میں اور دہائی کے اعداد کو سیکڑے میں تبدیل کردیا جائے تو یہ ترفع عددی کہلائے گا۔
ترفع حرفی: اس طریق کار میں حروف کو ترقی دینا مقصود ہے مثلاً الف کی ترقی ب میں اور ب کی ترقی ج میں ہے، اسی طرح ترتیب وار ہر حرف کو ترقی دی جائے گی اور اس حرف کے مراتب بلند ہوتے چلے جائیں گے۔
ترفع طبعی: ضرورت کے تحت حروف کی عنصری حیثیت میں تبدیلی کی جائے ، تمام حروف آتشی، خاکی، آبی اور بادی ہیں، انہیں ضرورت کے مطابق کسی دوسرے عنصری حروف سے تبدیل کردیا جائے، اسی تبدیلی کو ترفع طبعی کہا جاتا ہے۔
ترفع اقراری: حروف کی ترقی کی ایک شکل یہ بھی ہے جسے اقراری کہا جاتا ہے،اس طریقے میں حرف کے بعد آنے والے تیسرے حرف سے ترقی کا عمل مکمل کیا جاتا ہے،مثلاً الف کے بعد اگرچہ ب ہے مگر تیسرا حرف ج لیا جائے تو یہ ترفع اقراری کہلائے گا، اسی طرح بے کا ترفع د میں ہوگا اور دال کا واو ¿ میں ، وغیرہ وغیرہ۔
مراتب عددی: اس طریق کار میں کسی نام یا اسم و آیت وغیرہ کے حروف سے جو اعداد حاصل ہوتے ہیں، انہیں مراتب کے اعتبار سے ترتیب دے کر لکھا جاتا ہے،مثلاً نام رزاق ہے تو اعداد کی تفصیل یہ ہوگی، ۰۰۲، ۷، ۱، ۰۰۱۔
مرتبے کے اعتبار سے ترتیب دیا تو ،ر کے عدد ۰۰۲ ہیں تو وہ افضل ہے لہٰذا مراتب عددی کے مطابق ترتیب یہ ہوگی، ۰۰۲، ۰۰۱، ۷، ۱۔
اسی طرح اگر طالب و مطلوب کا نام لیا جائے گا تو اس میں بھی مراتب عددی کا خیال رکھا جائے گا، یہ قواعد تکسیر کے موقع پر زیادہ اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اور اس قانون کے تحت مراتب علوی اور مراتب سفلی کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے،ان مراتب کی تفصیل سے گریز کیا جارہا ہے کیوں کہ جفر کی تمام کتابوں میں یہ تفاصیل موجود ہےں ۔
جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے کہ اس کے علاوہ بھی مزید اصطلاحاتِ جفر موجود ہے جن کا بیان یہاں غیر ضروری ہے، بہت سی اصطلاحات کا تعلق علم جفر کے حصہ ءاخبار سے ہے جو ہمارا موضوع نہیں ہے۔
علم جفر کے موضوع پر ابتدائی نوعیت کے بنیادی اصول و قواعد کا بیان جاری ہے اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا
آئیے اپنے سوالات اور ان کے جوابات کی طرف
کوئی پتھر بتائیں
آر، زیڈ، کراچی سے لکھتی ہیں ”میں آپ کا کالم پچھلے 15 سال سے پڑھ رہی ہوں اور اس کی رہنمائی میں بچوں کی تعلیم مکمل کی ہے،اب میں یہ چاہتی ہوں کہ آپ زائچے کی روشنی میں مجھے اور میرے شوہر کو کوئی پتھر بتائیں،ان کی سیلری کم ہے، اب میں بیمار رہنے لگی ہوں، ٹینشن کی وجہ سے“
جواب: نکاح کی تاریخ اور وقت کے مطابق برج سنبلہ طالع میں طلوع ہے اور اس کا حاکم عطارد زائچے کے چھٹے گھر میں کمزور بھی ہے اور غروب بھی ، بے شک سنبلہ ایک خاکی برج ہے اور انسان کو مسلسل کام اور محنت کی ترغیب دیتا ہے جس کے نتیجے میں اپنے شوہر کے ساتھ آپ نے بھی سخت محنت اور جدوجہد سے کام لیا، عطارد کی کمزوری سے اعصابی مسائل پیدا ہوتے ہیں جو آپ کے ساتھ موجود ہیں،لہٰذا آپ کو زمرد یا عمدہ قسم کا فیروزہ پہننا چاہیے، شوہر کے لیے بھی یہی پتھر بہتر ہوگا لیکن پہننے کے لیے مناسب وقت ہم سے معلوم کرلیجیے گا، کم از کم مئی کے مہینے میں عطارد کا پتھر پہننے کے لیے کوئی اچھا ٹائم نہیں ہے، آپ کو اپنا اور شوہر کا صدقہ بھی پابندی سے ہفتہ، اتوار اور منگل کو دیتے رہنا چاہیے۔
نکاح کا وقت اور تاریخ
اے، اے میرپور خاص سے لکھتی ہیں ”میری ایک دوست کی پہلی شادی 23 سال کی عمر میں ہوئی اور 10 سال بعد اس کے شوہر کا انتقال ہوگیا، پھر دوسری شادی ہوئی لیکن وہ 6 ماہ بھی نہیں چل سکی اور طلاق ہوگئی، اب اس کی تیسری شادی ہوئی ہے، میں نے اسے شادی نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا کیوں کہ مجھے خدشات تھے ، میں اُس کی شادی کی کنفرم تاریخ اور ٹائم ارسال کر رہی ہوں، یہ تاریخ اور ٹائم لڑکے نے اپنے پیر صاحب سے نکلوایا ہے،مجھے آپ کے جواب کا بے چینی سے انتظار رہے گا“
جواب: آپ پابندی سے ہمارا کالم پڑھتی ہیں لیکن حیرت ہے کہ آپ نے غور نہیں کیا کہ جس وقت پر نکاح ہوا اور جو تاریخ نکاح کے لیے لڑکے کے پیر صاحب نے تجویز کی، یہ تاریخ اور ٹائم تو ہم نے اپنے کالم میں دیا تھا اور اس وقت پر لوح سعادت الکبریٰ تیار کرنے کی ہدایت بھی دی تھی،شاید مارچ یا اپریل میں کسی نے نکاح کے لیے ٹائم پوچھا تھا تو اس وقت بھی ہم نے یہی ٹائم اور تاریخ بتائی تھی، ممکن ہے لڑکے کے پیر صاحب بھی ہمارا کالم پابندی سے پڑھتے ہوں، بہر حال اگر نکاح میرپورخاص میں ہوا ہے اور شام 05:40 pm کے بعد مغرب تک ہوا ہے تو یہ بہت مبارک اور سعد وقت تھا، آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، انشاءاللہ شادی کامیاب رہے گی، اگر نکاح کا وقت مذکورہ بالا ٹائم سے پہلے ہے تو پھر آپ کے اندیشے درست ثابت ہوں گے، بہتر ہوگا کہ وقت کی درستی کے لیے مزید تحقیق کرلیں۔
پورے پاکستان میں یہ وقت ہمارے علاوہ صرف وہی لوگ تجویز کرسکتے ہیں جو ہمارے طریقہ ءکار کی پیروی کرتے ہوں، ہماری کتاب پیش گوئی کا فن جن کے مطالعے میں ہو، عام نوعیت کے پیر فقیر یا نجومی حضرات تو اس وقت کی درست تشریح بھی نہیں کرسکتے،میرپورخاص میں بھی ایسے لوگ ہیں جو ہمارے طریق کار کی پیروی کرتے ہیں اور ہم سے رابطے میں بھی رہتے ہیں۔

بدھ، 30 دسمبر، 2015

نیا مریخی سال فوج کی حکمرانی اور جنگجو یانہ خصوصیات کا حامل

سال کا عدد 9سیارہ مریخ سے منسوب اور مریخ  کا طویل قیام برج عقرب میں
لکھ گیا چہروں پہ اپنا مرثیہ
وقت بھی کتنا بڑا فنکار تھا
ہر نیا سال گزرے ہوئے سال کی بازگشت ہے عام طور پر ہم نئے سال میں بھی پرانے سال کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہیں لیکن وقت کے تھپیڑے ہمارا رخ تبدیل کرتے رہتے ہیں اور ہم بحالت مجبوری وقت کے دھارے کا ساتھ دیتے ہیں سال ختم ہوتا ہے تو نئے سال کی آمد کا جشن مناتے ہیں لیکن بہت کم گزرے ہوئے سال میں اپنی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں ماضی کو فراموش کرنا شاید ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے حالانکہ کہا یہ جاتا ہے کہ انسان اپنے ماضی کے تجربات سے سیکھتا ہے ۔

 قوموں کے عروج و زوال پر نظر ڈالی جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی ایک شخص نمودار ہوتا ہے اور قوموں کی تقدیر بدل دیتا ہے اپنی ذہانت  قابلیت  مستقل مزاجی اور اعلیٰ کارکردگی سے وہ کسی قوم کو متحد کر کے دنیا کی عظیم قوم بنادیتا ہے  ماضی قریب میں ایسی مثال ہمارے قائداعظم کی ہے مگر کیا قیام پاکستان کے بعد کوئی ایسا شخص سامنے آیا جو قائداعظم کا متبادل ثابت ہوتا ‘ جواب یقیناً نفی میں ہوگا اور یہ قحط الرجال تاحال جاری ہے شاید یہی پاکستانی قوم کی بد نصیبی ہے  کوئی اتاترک  کوئی ماؤ زے تنگ کوئی ڈیگال کوئی مہا تیر محمد اس ملک میں پیدا نہیں ہوتا اور اگر غلطی سے پیدا ہوگیا تو اس ملک کی نام نہاد اشرافیہ اسے زندہ نہیں رہنے دے گی یا اسے ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑے گا۔



گزشتہ سال 2015  کے حوالے سے جو فلکیاتی تجزیہ پیش کیا گیا تھا  اب تک کا منظر نامہ اس کے مطابق ہی نظر آ رہا ہے  ملک بدستور ایک ’’منی مار شل لا‘‘ کے زیر اثر ہے جسے ملک کے جمہوری اداروں کی تائید حاصل ہے اور سپریم کورٹ نے بھی اس ضرورت کو تسلیم کرلیا ہے گویا دوسرے معنوں میں اہل سیاست اور جمہوری نظام کی ناکامی پر مہر تصدیق ثبت ہوگئی ہے‘ اب سیاست داں اس صورت حال کی کوئی بھی توجیح پیش کرتے رہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ فوج سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ملک کے انتظامی امور کو بھی سنبھال رہی ہے  یہی 2015 کے حوالے سے لکھا گیا تھا  آئیے نئے سال 2016 کے زائچے پر نظر ڈالتے ہیں۔

زائچہ سال 2016  

یکم جنوری 2016 صفر بج کر صفر منٹ بمقام اسلام آباد برج سنبلہ 12درجہ 43 دقیقہ زائچے میں طلوع ہے‘ قمر اور راہو قران کی حالت میں طالع میں موجود ہیں  سیارہ مریخ دوسرے گھر میں   زہرہ اور زحل تیسرے گھر میں ‘ شمس اور پلوٹو چوتھے گھر میں‘ عطارد پانچویں ‘ نیپچون چھٹے ‘ کیتو اور یورنیس ساتویں اور سیارہ مشتری بارھویں گھر میں قابض ہیں۔

 طالع کا حاکم عطارد اگرچہ اچھی جگہ ہے یعنی پانچویں گھر میں لیکن زائچے کے سب سے منحوس سیارے مریخ کی نظر میں ہے   مزید یہ کہ راہو بھی اس پر ایک کمزور سی نظر ڈال رہا ہے   یہ صورت حال نئے سال کے آغاز اور انجام کے لیے خوش آئند نہیں ہے  نیا سال پاکستان کے لیے کوئی آسان سال نہیں ہوگا  پاکستان کو دہشت گردی  پڑوسی ممالک اور اقتصادی محاذ پر بدستور گزشتہ سالوں کے تسلسل میں چیلنجز کا سامنا رہے گا۔
نئے سال کا آغاز سیارہ شمس کے دور اکبر میں ہو رہا ہے جبکہ دور اصغر راہو کا 25جون 2016  تک جاری رہے گا‘ یہ بھی ایک نا خوش گوار صورت حال ہے‘ شمس بارھویں گھر کا حاکم ہو کر فعلی منحوس بن گیا ہے اور راہو کی نحوست اپنی جگہ مسلم الثبوت ہے ‘ راہو کا تعلق سیاست اور فریب سے ہے‘ شمس بارھویں گھر کا حاکم ہے اور اس گھر کا تعلق نقصانات‘ مستقبل کے خوف‘ رکاوٹوں اور بندشوں سے ہے ۔

 شمس اور راہو کے دور اکبر اور دور اصغرکا مشترکہ اثر شدید نوعیت کا سیاسی عدم استحکام لا سکتا ہے جس میں فریب اور فراڈ کے ساتھ بدترین نوعیت کے مالی نقصانات اور بدعنوانیاں نمایاں ہوں گی جو کچھ کہا جائے گا اور دکھایا جائے گا‘ وہ حقیقت سے بہت دور ہوگا ‘ اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اہل سیاست اور بیورو کریسی کچھ بھی کر سکتی ہے لیکن خوش کن بات یہ ہے کہ چھٹے گھر کا حاکم سیارہ زحل زائچے میں اچھی اور طاقت ور پوزیشن رکھتا ہے‘ چھٹے گھر کا تعلق سول اور ملٹری کے اداروں سے ہے جو بہرحال اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کرنے کی پوزیشن میں ہیں اور کسی بھی مرحلے پر انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔

 سیارہ زحل چھٹے گھر کا مالک ہوتے ہوئے طاقت ور بھی ہے اور زائچے کا فعلی منحوس بھی ہے لہٰذا اپنا کردار مزید سخت انداز میں ادا کرے گا ‘ اب تک اگر آئینی حدود میں حالات کو بہتر بنانے کی کوشش ہو رہی ہے تو 2016  میں کوئی غیر آئینی صورت حال بھی پیدا ہو سکتی ہے یعنی نام نہاد جمہوری تماشا ختم کر کے ملک کو حقیقی جمہوری راستے پر ڈالنے کی کوشش کی جائے کیوں کہ زحل زائچے کے تیسرے (پہل کاری اور کوشش) پانچویں (شعور و حکمت عملی)نویں (آئین و عدلیہ) بارھویں گھر (نقصانات اور غیر آئینی اقدام) پر اثر انداز ہے، اگرچہ یہ نظر کمزور ہے مگر پھر بھی اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ گیارھویں گھر کا حاکم قمر بری طرح راہو سے متاثرہ ہے جس کے نتیجے میں پارلیمنٹ ایک مذاق بن کر رہ جائے گی اور ممبران اسمبلی کا کردار مشکو ک ہو کر رہ جائے گا ‘ بڑے بڑے دھوکے اور فراڈ کے اسکینڈل سامنے آئیں گے‘ اس صورت میں اسٹیبلشمنٹ کی قوت و اثر میں اضافہ ہوگا اور اسمبلی کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔

اس حوالے سے 6 جون سے 25 جون تک کا وقت خصوصی طور پر خطرناک ثابت ہوسکتا ہے،بہر حال سال کا آغاز بھی کوئی خوش گوار نظر نہیں آتا کیوں کہ جنوری کے پہلے ہفتے میں ہی راہو کیتو گھر تبدیل کر رہے ہیں اور نئے سال کے زائچے میں چھٹے اور بارھویں گھر میں داخل ہوتے ہی مشتری سے قران کریں گے جو چوتھے گھر کا حاکم ہے گویا جنوری کا پہلا ہفتہ عوام اور اپوزیشن کے لیے سازگار نہیں ہوگا،اس عرصے میں اقتصادی صورت حال زیادہ خراب ہوسکتی ہے اور اسٹاک مارکیٹ کو بھی کوئی دھچکا لگ سکتا ہے اس کے علاوہ پڑوسی ممالک سے تعلقات میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے جو حالات کی سنگینی میں مزید اضافہ کرے گی۔

زائچے کی مجموعی صورت حال پر اظہار خیال کے بعد حسب روایت زائچے کے مختلف گھروں کی منسوبات اور سیاروی اثرات پر ایک نظر ڈال لی جائے،زائچے کا پہلا گھر صاحب زائچہ (ملک و قوم) کی نشان دہی کرتا ہے اور اس کا حاکم عطارد اگرچہ اچھی جگہ بیٹھا ہے مگر مریخ اور راہو کی نظر میں ہے جس کی وجہ سے ملک میں ترقی کی رفتار اطمینان بخش نہیں ہوسکتی، سیاست داں اور بیوروکریٹ ملک و قوم سے مخلصی اور محب وطنی کا مظاہرہ کرنے سے قاصر ہوں گے، اس کے برعکس ذاتی مفادات ان کے پیش نظر رہیں گے،عوامی سطح پر بھی تقریباً ایسی ہی صورت حال رہے گی لہٰذا یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ نیا سال 2016  کوئی ترقیاتی یا خوش کن سال ہوگا۔

معیشت

زائچے کے دوسرے گھر پر برج میزان قابض ہے،اس کا حاکم سیارہ زہرہ تیسرے گھر میں کمزور ہے کیوں کہ نوامسا چارٹ میں چھٹے گھر میں ہبوط یافتہ ہے چنانچہ آمدن ،سرمایہ اور حیثیت مشکوک ہوجاتی ہے، معاشی ترقی اور ملک سے بدحالی ختم کرنے کے جو خواب دکھائے جارہے ہیں، یہ محض خواب ہی ہوں گے،بڑھتا ہوا قرض نئے سال میں مزید بڑھ جائے گا جس کی وجہ سے عام آدمی کی زندگی متاثر ہوگی،بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی حیثیت معاشی طور پر اس سال مستحکم دکھائی نہیں دیتی، اس صورت حال کے نتیجے میں عام آدمی کی زندگی مزید مشکل اور سخت ہوسکتی ہے۔

پہل کاری ، کوشش اور اقدام

تیسرا گھر برج عقرب ہے جہاں کمزور خانہ  مال کا حاکم اور طاقت ور چھٹے گھر کا حاکم زحل قابض ہیں، زحل تیسرے گھر کے درجات سے قریبی قران میں ہے،اگر کمیونیکیشن پر اسٹیبلشمنٹ کا اثرورسوخ مزید بڑھ جائے اور ذرائع ابلاغ اُسی کی بولی بولنے لگیں تو حیرت کی بات نہیں ہوگی،ممکن ہے بعض اخبارات اور چینلز اس سال بھی یعنی گزشتہ سال کی طرح عتاب کا شکار ہوں،صحافی اور بعض اینکر پرسن حادثات یا قید و بند کا سامنا کریں، جہاں تک حکومت کی کوشش اور پہل کاری کا تعلق ہے تو اس حوالے سے کسی بہتر کارکردگی کا امکان نظر نہیں آتا چونکہ اس گھر کا تعلق پڑوسی ممالک سے بھی ہے لہٰذا باہمی تعلقات میں کشیدگی اور سرحدی جھڑپیں جاری رہیں گی‘ اس سال پڑوسی ممالک سے کسی جنگ کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا مگر جنگ سے بچنے کے لیے بین الاقوامی دباؤ کے زیر اثر کوششیں بھی تیز ہوں گی۔

 سال 2016  سیارہ مریخ کی رجعت کا سال ہے‘ زائچہ پاکستان اور نئے سال کے زائچے میں سیارہ مریخ ایک فعلی منحوس سیارہ ہے‘ نقصانات ‘ حادثات ‘ تشدد وغیرہ اس کا خاصہ ہے‘ نئے سال کے زائچے میں یہ سال کا بیشتر حصہ زائچے کے تیسرے گھر میں بحالت رجعت و استقامت گزارے گا اس حوالے سے مارچ کا مہینہ نہایت اہم نظر آتا ہے جب یہ تیسرے ‘ چھٹے‘ نویں اور دسویں گھروں سے ناظر ہوگا‘ اس وقت مریخ کی اسٹیشنری پوزیشن ملکی حالات میں زبردست نوعیت کا اتار چڑھاؤ لا سکتی ہے خصوصاً اپریل میں رجعت سے پہلے اور رجعت کے بعد ۔مریخ کی یہ پوزیشن پاکستان میں کسی ایمرجنسی کے نفاذ کی نشان دہی کرتی ہے۔

 تیسرے گھر کی منسوبات کے مطابق اس وقت حکومت ایسی غلطیاں کر سکتی ہے جو اس کے لیے بدترین نوعیت کے مسائل پیدا کردے جن کے نتیجے میں حکومت جا نے کا خطرہ پیدا ہوجائے ‘ یہ وقت حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان شدید نوعیت کے تنازعات کی بھی نشان دہی کر رہا ہے‘ دوسری طرف پڑوسی ممالک سے بھی اس دوران میں تنازعات اپنے عروج پر ہوں گے ‘ دہشت گردی کی وارداتوں میں اضافہ ہوگا ‘خیال رہے کہ اس سال تیسرا گھر تقریباً نصف سال سے زیادہ فعال رہے گا کیوں کہ مریخ کا قیام اور پھر سیارہ زحل سے قران اسی گھر میں ہے‘ مریخ اور زحل کے قران کو منحوس ترین سمجھا جاتا ہے‘ یہ قران اس سال بھی اگست میں ہوگا۔

عوام اور اپوزیشن

زائچے کے چوتھے گھر پر برج قوس کی حکمرانی ہے جس کا حاکم سیارہ مشتری زائچے کے بارھویں گھر میں بری جگہ اور کمزور ہے لہٰذا عوام کی حالت میں بہتری اس سال بھی ممکن نظر نہیں آتی،اپوزیشن غیر مؤثر کردار ادا کرے گی،ملک میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہوگا،منشیات کے استعمال کا رجحان بڑھے گا، وبائی امراض پھیلنے کا اندیشہ موجود ہے،اپوزیشن سے حکومت کی محاذ آرائی کی ابتدا اگرچہ اسی سال 2015   میں شروع ہوچکی ہے مگر 2016 اس حوالے سے زیادہ نمایاں سال ہوگا،اگر اہم پارٹی ارکان اور رہنما جیل جائیں اور انہیں سزائیں ہوں تو تعجب کی بات نہیں ہوگی‘ خاص طور پر جنوری کا پہلا ہفتہ اس حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل ہو سکتا ہے‘ چوتھے گھر کا حاکم مشتری سال کی ابتدا ہی سے خاصے لمبے عرصے تک راہو کیتو محور میں پھنسا رہے گا اور نحوست کا شکار ہوگا لہٰذا چوتھے گھر کی منسوبات متاثر رہیں گی جن میں عوام سر فہرست ہیں‘ چوتھا گھر پراپرٹی سیکٹر (زمین و جائداد) کی بھی نشاندہی کر تا ہے   اس سال اس حوالے سے زمین و جائداد کے بڑے بڑے اسکینڈل سامنے آ سکتے ہیں ‘ اگرچہ ایسے اسکینڈل ہر سال ہی سامنے آتے ہیں مگر اس بار صورت حال خاصی مختلف ہوگی،جنوری تا فروری ملک میں ٹریفک حادثات کی شرح بھی بڑھ سکتی ہے۔

انٹرٹینمنٹ اور عوامی شعور

انٹرٹینمنٹ انڈسٹری اور باشعور طبقہ اس گھر سے متعلق ہے، اس کا حاکم زحل اچھی پوزیشن میں ہے لہٰذا یہ شعبہ مزید ترقی کرے گا لیکن یہ ترقی مادر پدر آزاد قسم کی ہوسکتی ہے جسے دیکھ کر مذہبی حلقے شور مچاسکتے ہیں اور بعد ازاں انہیں حدود قیود میں لانے کے لیے کوششیں ہوسکتی ہیں‘ سیارہ زہرہ جو انٹرٹینمنٹ اور شو بزنس کا نمائندہ ہے زائچے میں کمزور ہے جس کی وجہ سے حسب سابق پروگرامز کا معیار بہتر نہیں ہوگا ‘ شو بزنس سے متعلق خواتین کے اسکینڈلز اس سال بھی منظر عام پر آئیں گے جیسا کہ گزشتہ سال بھی ہوا‘ ایک مشہور ماڈل ایان علی کی گرفتاری اور قید و بند کا بہت چرچا رہا،سوشل میڈیا پر مادر پدر آزاد اظہار خیال کا سلسلہ شدت اختیار کرے گا،باشعور طبقہ ملک میں کسی نئی تحریک کو جنم دینے کا باعث بن سکتا ہے۔

سول اور ملٹری ایڈمنسٹریشن

زائچے کا چھٹا گھر ملکی انتظامیہ ‘ فوج پولیس اور بیوروکریسی‘ قرض ‘ صحت کے معاملات سے متعلق ہے‘اس کا حاکم زحل طاقتور اور مضبوط پوزیشن رکھتا ہے‘ یہ گھر اختلافات اور تنازعات سے بھی متعلق ہے‘ نئے سال میں کیتو اس گھر میں داخل ہو رہا ہے لہٰذا داخلی اور بیرونی امور میں اختلافات اورتنازعات مزید بڑھ سکتے ہیں لیکن اس گھر کے حاکم کی مضبوطی صورت حال پر قابو پانے میں مدد گار ہوگی‘ مارچ کا مہینہ اس حوالے سے اہم نظر آتا ہے‘اندرونی اور بیرونی خلفشار اپنے عروج پر ہوگا ‘ کیوں کہ مریخ تیسرے گھر میں اور زہرہ ‘ عطارد و شمس چھٹے گھر سے گزریں گے ‘ اس مہینے میں جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا ہے کہ حکومت اور مقتدر حلقوں کے درمیان کشیدگی نمایاں رہے گی اور کسی مرحلے پر ایسی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے کہ موجودہ حکومت کی بساط لپٹ جائے ‘ عوام اور اپوزیشن کا احتجاج بھی اس سال زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آئے گا اور اہل سیاست کے شکوہ شکایات مقتدر حلقوں سے بہت بڑھ جائیں گے ‘ یہی وہ وقت ہے جب آئینی اور غیر آئینی اقدام کی بحث سامنے آ سکتی ہے، اس دوران میں بعض عدالتی فیصلے بھی اہمیت کے حامل اور متنازع صورت اختیار کرسکتے ہیں، طالع اور گیارھویں گھر کے مالکان کی کمزوری حکومت، پارلیمنٹ کی کمزوری ظاہر کرتی ہے جب کہ چھٹے گھر کے حاکم کی باقوت پوزیشن ملٹری اور بیوروکریسی کی مضبوط پوزیشن کا اظہار ہے، بہت عرصے سے ایک ٹیکنوکریٹ حکومت کے قیام کی باتیں ہورہی ہیں، اگر اس سال ایسا ہوجائے تو اسے خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا کیوں کہ نئے سال 2016  میں بہر حال اسٹیبلشمنٹ کا ستارہ طاقت ور نظر آتا ہے۔

 تعلقات اور معاہدات

ساتویں گھر پر برج حوت قابض ہے اورکیتو یہاں موجود ہے‘ یہ گھر بیرون ملک سفر اور تعلقات سے متعلق ہے‘اگرچہ اس کا حاکم بارھویں گھر میں بری جگہ ہے اورکیتو بھی اسی گھر میں ہے لیکن اس کا اثر نمایاں نہیں ہے‘ چناں چہ ساتویں گھرکی منسوبات کے متاثر ہونے کا اندیشہ نہیں ہے‘ مارچ کے مہینے میں سیارگان اس گھر سے گزریں گے‘ اس وقت 20تا 25 مارچ سفری حادثات اور بیرونِ ملک تعلقات پر دباؤ پڑے گا اور ایسی ہی صورت حال ستمبر اکتوبر میں بھی نظر آئے گی، ملکی سطح پر کیے گئے طویل المدت معاہدات اور دوست ممالک سے تعلقات کے متاثر ہونے کا کوئی اندیشہ نہیں ہے،البتہ سال کے آخر میں یعنی اگست کے بعد اس گھر پر زیادہ دباؤ آئے گا جس کے نتیجے میں دیگر ممالک سے تعلقات اور معاہدات عارضی طور پر متاثر ہوسکتے ہیں۔

حادثات و سانحات

 زائچے کا آٹھواں گھر نہایت منحوس تصور کیا جاتا ہے ‘ اس گھر سے حادثات‘ سانحات اور اموات منسوب ہیں‘ زائچے میں اس گھرکا حاکم جلاد فلک سیارہ مریخ ہے جو اس سال زائچے کے تیسرے گھر میں بحالت رجعت و استقامت خاصا طویل وقت گزارے گا گویا اپریل سے ستمبر تک، اس دوران میں بحالتِ رجعت زائچے کے دوسرے گھر میں بھی داخل ہوگا،پہلی مرتبہ مارچ کے آخر میں زائچے کے تیسرے، چھٹے، نویں اور دسویں گھروں پر نحس نظر ڈالے گا اور یہ نظر اسٹینشری پوزیشن کی وجہ سے خاصے لمبے عرصے یعنی مئی تک قائم رہے گی لہٰذا مارچ تا مئی اس سال کا سب سے زیادہ حساس وقت ہوگا، اس وقت میں حادثات و سانحات میں اضافہ، احتجاجی صورت حال، کمیونیکیشن کے شعبے میں مسائل، سول سروسز میں اکھاڑ پچھاڑ اور فوج کے لیے نئے چیلنج سامنے آسکتے ہیں،آئینی امور اور عدالتی صورت حال بھی تسلی بخش نہ ہوگی، اگر ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ ملک گیر پیمانے پر ہوجائے تو تعجب نہیں ہوگا،بعد ازاں ستمبر تا نومبر مریخ چوتھے گھر میں ہوگا،یہ وقت صاحبان اقتدار اور بیرون ملک تعلقات کے حوالے سے تشویش ناک ہوسکتا ہے۔

آئین ، عدلیہ اور قسمت

زائچے کا نواں گھر مذہب،آئینی امور اور عدلیہ سے متعلق ہے،اس کا تعلق قسمت سے بھی ہے اور جیسا کہ پہلے نشان دہی کی گئی ہے کہ آٹھویں گھر کے حاکم زائچے کے سب سے منحوس سیارے مریخ کی خصوصی جلالی نظر اس گھر پر براہ راست ہوگی جس کی وجہ سے آئین کی معطلی کا خطرہ پیدا ہوتا ہے یا آئین میں مزید ترامیم کی ضرورت پیدا ہوسکتی ہے، یہ خیال شدت اختیار کرسکتا ہے کہ موجودہ آئین وقت کے تقاضوں اور نئے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے زیادہ موزوں اور مددگار نہیں ہے،ملک میں مزید ایڈمنسٹریٹیو یونٹس کے قیام کے لیے بھی آئین میں ترمیم کی ضرورت پر زور دیا جاسکتا ہے،اس سال عدلیہ کا کردار بھی شکوک و شبہات کی زد میں آسکتا ہے، بینچ اور بار اس سال احتجاج کرتے نظر آتے ہیں، آئینی ماہرین اور جج صاحبان حادثات و سانحات کا شکار ہوسکتے ہیں،ان کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدام کی ضرورت ہوگی۔

نواں گھر ملکی زائچے میں خارجہ پالیسی اور بیرونی ممالک سے تعلقات کا گھر بھی ہے لہٰذا اس گھر کی مخدوش پوزیشن بین الاقوامی تعلقات میں نئے ٹرننگ پوائنٹ لاسکتی ہے،خارجہ پالیسی میں بھی نئی تبدیلیاں اس سال دیکھنے کو ملیں گی۔

حکومت اور کابینہ

زائچے کا دسواں گھر سربراہ مملکت اور کابینہ سے متعلق ہے، اس کے علاوہ ملکی عزت و وقار اور تجارتی پیشہ ورانہ امور بھی اسی گھر کے زیر اثر ہیں،سیارہ شمس چوتھے گھر میں بارھویں گھر کا حاکم ہوکر قابض ہے اور چوتھے گھر کے علاوہ دسویں گھر کو بھی ناظر ہے،بارھواں گھر نقصانات کے علاوہ مستقبل کے ڈر اور خوف پیدا کرتا ہے لہٰذا وزیر اعظم اور کابینہ گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی حکومت جانے کے خوف میں مبتلا رہیں گے اور یہ سال گزشتہ سال کے مقابلے میں درحقیقت زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، اکتوبر کا مہینہ خاص طور پر اہم ہوگا جس میں حکومت اور اسمبلی کے حوالے سے خطرات بڑھ سکتے ہیں،اس ماہ میں تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوں گی اور ملک کے وقار کو بھی کوئی دھچکا پہنچ سکتا ہے۔حکومت اور کابینہ کے لیے سال کی ابتدا ہی سے صورت حال ناموافق ہوگی جو مئی تک نہایت پریشان کن ثابت ہوسکتی ہے۔

پارلیمنٹ اور کاروباری مفادات

زائچے کے گیارھویں گھر پر برج سرطان قابض ہے اور سیارہ قمر زائچے میں راہو کیتو محور کے درمیان بری طرح متاثرہ ہے۔ اس صورت حال سے اسمبلی کی کارکردگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، حسب سابق اسمبلی کی کارکردگی عوامی مسائل کے حل کے لیے کوئی مثبت کردار نمایاں طور پر ادا کرنے کے قابل نہیں ہوگی، اسمبلی کی پوزیشن گزشتہ سال سے بھی گئی گزری ہوگی، اسمبلی کے اراکین ذاتی فوائد کے حصول میں سرگرم رہیں گے،گیارھواں گھر ملک کے کاروباری مفادات کا گھر بھی ہے، اس حوالے سے بھی قمر کی پوزیشن کاروباری معاملات میں کرپشن اور مشکوک نوعیت کے کاروباری پروجیکٹس کی نشان دہی کرتی ہے،ایسے معاہدات ہوسکتے ہیں جن میں فوائد کے بجائے نقصانات زیادہ ہوں، پارلیمنٹ سے متعلق افراد کے مالی اور رومانی اسکینڈلز بڑے پیمانے پر سامنے آسکتے ہیں۔

نقصانات اور خوف

بارھواں گھر نقصانات، مستقبل کے خوف، رکاوٹوں اور پریشانیوں سے متعلق ہے،جرائم بھی اس گھر سے دیکھے جاتے ہیں،اس کا حاکم سیارہ شمس زائچے کے چوتھے گھر میں موجود ہے اور تقریباً ہر نئے سال کے زائچے میں اس کی یہ پوزیشن برقرار ہے،خرابی یہ بھی ہے کہ گزشتہ کئی سال سے شمس کی یہ پوزیشن زائچے کے درجات سے قران کی ہے اور یہی بنیادی خرابی ہے، اسی وجہ سے ملک میں جرائم کی شرح زیادہ ہے اور کرپشن ، بے ایمانی، دولت کی ہوس حد سے بڑھی ہوئی ہے،ا س سال بھی اس خرابی کا سامنا رہے گا،جرائم کی شرح میں اضافہ ہوگا، اس پر کنٹرول کرنے کے لیے جزا اور سزا کا سخت ترین نظام ضروری ہوگا، جب تک جرم پیشہ افراد کو بدترین سزا کا خوف نہیں ہوگا ، جرائم پر قابو پانا ناممکن ہوگا،ملکی نقصانات میں اضافہ ہوتا رہے گا۔
نئے سال کی ابتدا ہی سے اس گھر کے حاکم سیارہ شمس کا دور اکبر جاری ہے جو سال کے اختتام تک جاری رہے گا گویا پورا سال ہم نقصانات اور مستقبل کے خوف کا شکار رہیں گے اور حسب سابق ہماری پوزیشن اس مشہور مصرعے کے مطابق ہوگی ؂ جو جل اٹھتا ہے یہ پہلو تو وہ پہلو بدلتے ہیں۔

اس پر طرفہ تماشا 25 جون تک راہو کا دور اصغر ہے جس کی وجہ سے جون تک ممکن ہے یہ سمجھنا ہی مشکل ہوجائے کہ ہم کدھر جارہے ہیں اور ملک میں کیا ہورہا ہے؟ مزید یہ کہ جو کچھ بھی ہورہا ہے،وہ صحیح ہے یا غلط؟ 25 جون کے بعد جب مشتری کا دور اصغر شروع ہوگا تو عوامی احتجاج شروع ہوسکتا ہے،لوگ یہ سمجھنے کے قابل ہوسکیں گے کہ کیا غلط ہے اور کیا صحیح ہے۔




پیر، 12 اکتوبر، 2015

اے خاک کربلا تو اس احسان کو نہ بھول

یوم عاشورہ سے متعلق اہم واقعات‘علامہ اقبال ؒاور علم نجوم ‘جسٹس جاوید اقبال کا زائچہ

پندرہویں صدی ہجری کے 37 ویں سال کا آغاز 15 یا 16 اکتوبر سے ہورہا ہے،سن ہجری کا پہلا مہینہ محرم الحرام ہے، اگرچہ ہجری سال کے بعض دیگر مہینے بھی کسی نہ کسی اعتبار سے اہمیت کے متقاضی ،مبارک اور مقدس سمجھے جاتے ہیں جیسے ربیع الاول سرکار دو عالمﷺ کی آمد کا مہینہ یا رمضان المبارک ، ذی الحج وغیرہ لیکن پہلا مہینہ محرم اپنی ایک جداگانہ تاریخ رکھتا ہے جو صدیوں پر محیط ہے اور اس کی وجہ ماہ محرم کی 10 تاریخ ہے جسے یوم عاشورہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے،اسی روز دریائے فرات کے کنارے میدان کربلا میں اللہ کے سب سے پیارے اور برگزیدہ نبیﷺ کے نواسے امام عالی مقام حضرت حسینؑ عین حالت سجدہ میں شہید ہوئے اور دین اسلام میں قیامت تک کے لیے حق و باطل کے درمیان ایک امتیاز پیدا ہوگیا ۔امام عالی مقام کا قیامت تک کے لیے امت مسلمہ پر یہ احسان عظیم تاریخ کا ایک ناقابل فراموش باب ہے، مولانا ظفر خان (مرحوم) فرماتے ہیں۔

اے خاک کربلا تو اس احسان کو نہ بھول
تڑپی ہے تجھ پہ لاشِ جگر گوشہ ءرسول

10 محرم الحرام یوم عاشورہ اس عظیم شہادت کے بعد شاید ہمیشہ کے لیے ایک ایسا یادگار دن بن گیا جس کی یاد کبھی دلوں سے نہیں نکل سکتی اور تمام عالم اسلام میں ہر سال اس دن کو یاد رکھا جاتا ہے، حالاں کہ اس دن کی اہمیت ماضی میں بھی کم نہ تھی، سلسلہ ءنبوت کے بہت سے اہم ترین واقعات یوم عاشور 10 محرم سے منسوب ہےں، کہا جاتا ہے کہ اسی روز حضرت آدم ؑ کی توبہ قبول ہوئی اور آپ کی ملاقات حضرت حوا سے ہوئی، طوفان نوح کے بعد حضرت نوح ؑ کی کشتی کوہِ جودی پر اسی روز ٹھہری، حضرت موسیٰ ؑ نے جب مصر سے ہجرت کی تو یہ بھی یوم عاشور تھا، حضرت یونس ؑ کو مچھلی کے پیٹ سے اسی روز نجات ملی، اگر تاریخ کو کھنگالا جائے تو اور بھی بہت سے واقعات اس تاریخ سے منسوب ہیں لیکن فی الحال ہمارے پیش نظر ایک ایسا واقعہ ہے جس کے بارے میں کسی شک و شبے کی گنجائش نہیں ہے، تمام مؤرخ اس پر متفق ہیں۔

قریش مکہ نے تمام قبائل کو اکٹھا کرکے ایک معاہدہ کیا جس کے تحت قبیلہ بنو ہاشم اور بنو مُطّلب کا سوشل بائیکاٹ کردیا، اس معاہدے کے تحت کوئی فرد اُن سے میل جول نہیں رکھ سکتا تھا، ان سے کسی قسم کا لین دین یا کاروبار نہیں کرسکتا تھا، ان سے شادی بیاہ بھی نہیں ہوسکتا تھا، اس صورت حال کی وجہ سے حضور اکرمﷺ کو اپنے محترم چچا کے ساتھ مکہ کے مضافات میں شعب ابی طالب کی گھاٹی میں پناہ لینا پڑی، یہ سوشل بائیکاٹ نہایت تکلیف دہ تھا جو تین سال تک جاری رہا،تاریخ عرب میں اس سے پہلے ایسا کوئی واقعہ قبائل کے درمیان دیکھنے میں نہیں آیا تھا،بالآخر تین سال بعد جب 10 محرم کا دن آیا تو حضور اکرمﷺ نے اپنے چچا حضرت ابو طالب سے کہا کہ آپ حرم کعبہ جائیں اور آپ کو ایک خوش خبری بھی سنادی۔

10 محرم کی صبح لوگ حسب معمول حرم کعبہ کے ایک مقام حطیم میں بیٹھے تھے کہ ایک شخص ریشمی لباس زیب تن کیے حرم میں آیا ، اُس نے حجرِ اسود کو بوسہ دیا، کعبے کے طواف میں سات چکر لگائے، پھر رؤسائے قریش کے درمیان آکھڑا ہوا، لوگوں کو مخاطب کرکے بولا ”اے اہلِ مکہ! کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہم تو کھائیں پئیں، کپڑے پہنیں، خوشبو لگائیں اور بنو ہاشم فاقے کریں، نہ اُن سے خریدا جائے، نہ انہیں کچھ بیچا جائے، خدا کی قسم جب تک یہ ظالمانہ عہد نامہ تار تار نہ کردوں، میں اس مجلس میں نہیں بیٹھوں گا،واضح رہے کہ اس شخص کا نام زہیر مخزومی تھا اور ابو جہل کا تعلق بھی اسی کے قبیلے سے تھا، چناں چہ ابو جہل سخت ناراض ہوا اور کہا ”بیٹھ جاؤ کوئی نہیں پھاڑ سکتا وہ عہد نامہ“ اس مجلس کے لوگوں میں کھسر پھسر شروع ہوگئی،اچانک ایک اور شخص زمعہ بن الاسود کھڑا ہوا اور برہم لہجے میں بولا ”ابوالحکم! (ابوجہل کی کنیت ابوالحکم تھی) تم غلط کہتے ہو، بکواس کرتے ہو، جس وقت وہ عہد نامہ تم نے لکھوایا، ہم اُس وقت بھی اس سے خوش نہ تھے، بہتر یہی ہے کہ اب اس کوپھاڑ دیا جائے“ اس کے بعد مزید آوازیں بھی اٹھنے لگیں تو ابو جہل غصے سے آگ بگولا ہوگیا اور بولا ”یہ سب پہلے کہیں طے کیا ہوا معاملہ لگتا ہے، تم سب نے کوئی سازش کی ہے مگر میں یہ عہد نامہ کسی کو پھاڑنے نہیں دوں گا، اس پر سب قبیلوں کے سرداروں کے دستخط ہیں“ کچھ فاصلے پر بیٹھے حضرت ابو طالب یہ ماجرا دیکھ رہے تھے، آپ نے اس مجلس کی طرف اپنا رُخ پھیرا اور انہیں مخاطب کیا ، تمام امراءاور سردار سیدنا ابو طالب کی طرف متوجہ ہوگئے، آپ نے فرمایا ”تم لوگ جس معاہدے کو پھاڑنے اور نہ پھاڑنے پر جھگڑ رہے ہو، اُس کے بارے میں میرے بھتیجے الاامین الصادقﷺ نے کچھ بتایا ہے

کیا بتایا ہے؟“ قریش کے کئی سردار ایک ساتھ بولے ۔ سیدنا ابو طالب نے فرمایا ” میرا بھتیجا جسے آسمان سے خبریں آتی ہیں، اُسے خبر ملی ہے کہ جس معاہدے کی تم بات کر رہے ہو، اس پر خدا نے پہلے ہی دیمک مسلط کردی ہے، ساری لکھی ہوئی تحریر اور تمہارے سرداروں کے دستخط دیمک نے چاٹ لیے ہیں، کاغذ پر صرف ایک ہی لکھی ہوئی سطر باقی ہے ”شروع اللہ کے نام سے“ سارے ہجوم میں ایک بار پھر بھنبھناہٹ شروع ہوگئی، آپ نے پھر فرمایا ” تم جانتے ہو میں یا بنوہاشم کا کوئی فرد ان تین برسوں میں حرم کے اندر نہیں گیا،میں نے جو کہا وہ میں نے اپنے بھتیجے سے سنا ہے جس کی خبر آسمان والے نے آسمان سے بھیجی ہے۔ اب اگر وہ خبر سچی ہے تو لکھا گیا تمہارا عہد نامہ ختم ہوگیا اور اگر یہ بات غلط نکلی تو میں درمیان سے ہٹ جاؤں گا، تمہارا جو جی چاہے، پھر تم کرنا اور تم جانتے ہو کہ اس نے کبھی جھوٹ نہیں بولا
مجلس میں سناٹا چھا گیا، ابو جہل کے علاوہ قریش کے سب سرداروں نے کہا ”سردار تم نے انصاف کی بات کی

عہد نامے کا حال دیکھنے کے لیے سب بے تاب تھے ، سب سے پہلے مطعم بن عدی اُٹھا اور کعبے کے دروازے سے اندر گیا، اُس کے ساتھ قریش کے کئی سردار بھی گئے، سیدنا ابو طالب جہاں بیٹھے تھے ، وہیں بیٹھے مسکراتے رہے،جیسے جانتے ہوں کہ آسمان سے اُتری خبر کبھی بھتیجا غلط نہیں بتاتا۔ قریش کے سردار کعبے کی دیوار پر لگے اپنے لکھوائے ہوئے عہد نامے کے پاس پہنچے تو سب کی آنکھیں حیرانی سے ابلنے لگیں ، سارا عہد نامہ دیمک کھاچکی تھی، سارا کاغذ ختم ہوچکا تھا، صرف عہد نامے کے اوپر لکھی ایک سطر ”باسمک اللھم“ شروع اللہ کے نام سے۔قریش کے سرداروں کی گردنیں شرمندگی اور ندامت سے جھک گئیں، یہ 10 محرم الحرام یوم عاشورہ کا دن تھا جو ہر سال کے آغاز میں اب ہمارے دلوں میں ایک غم لازوال کو تازہ کرتا اور ہمیں حق و باطل میں تمیز کرنے کا شعور دیتا ہے ، شاعر مشرق علامہ اقبال نے اس موضوع پر جو شعر کہا ہے ، وہ گویا کوزے میں سمندر کو بند کرنے کے مترادف ہے، آپ نے فرمایا

غریب و سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم
نہایت اس کی حسین ابتدا ہے اسماعیل

علامہ اقبال ؒ اور علم نجوم

علامہ اقبال کے لائق اور قابل فخر فرزند جسٹس جاوید اقبال 3 اکتوبر کو اپنے مالک حقیقی سے جاملے، ان کی تاریخ پیدائش 5 اکتوبر 1924 تھی ، گویا تقریباً 91 برس کی طویل عمر پائی، جسٹس جاوید اقبال نہ صرف یہ کہ ایک ماہر قانون تھے بلکہ دیگر دینی و دنیاوی علوم پر بھی گہری نظر رکھتے تھے، وہ کئی کتابوں کے مصنف بھی تھے، علامہ کی سوانح حیات تحریر کی اور اپنی سرگزشت بھی لکھی، بے شک وہ اُن لوگوں میں سے تھے جن کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی، اللہ اُن کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے۔

بہت عرصہ پہلے جب ہم علامہ اقبال کے زائچہ پیدائش پر کام کر رہے تھے تو جسٹس جاوید اقبال کا زائچہ بھی ہماری نظر سے گزرا جو جنوبی ہندوستان کے کسی ویدک ایسٹرولوجر بی آر سری نیواسایا (B.R. SRINIVASAIYA) نے بنایا تھا،اس کا تعلق میسور سے تھا، یہ زائچہ یعنی جنم پتری اقبال اکیڈمی لاہور کے ریکارڈ میں محفوظ ہے، ہمیں حیرت ہوئی کہ علامہ اقبال کو علم نجوم سے کیوں کر دلچسپی پیدا ہوئی اور انہوں نے کیوں یہ جنم پتری تیار کروائی؟علامہ کو اس علم سے کبھی کوئی دلچسپی نہیں رہی تھی بلکہ اپنے ایک شعر میں فرمایا

ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا
وہ خود فراخی افلاک میں ہے خوار و زبوں

اقبال اکیڈمی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سہیل عمر ہمارے دوستوں میں شامل ہیں اور ڈپٹی ڈائریکٹر احمد جاوید ہمارے نوجوانی کے دوستوں میں سے ہیں لہٰذا ہم نے ڈاکٹر سہیل عمر سے بات کی، انہوں نے ایک کتاب کا ایک صفحہ فوٹو کاپی کرکے ہمیں روانہ کردیا، یہ کتاب محمود نظامی صاحب کے ملفوظات کا غالباً مجموعہ ہے جس میں علامہ اقبال کے بہت سے واقعات بیان کیے گئے ہیں، جو صفحہ ہمیں بھیجا گیا ، اس میں جسٹس جاوید اقبال کی جنم پتری کا ماجرا خود علامہ اقبال کی زبانی موجود ہے۔


علامہ فرماتے ہیں ”میرے ایک پنڈت دوست نے اپنے استاد سے جو بنارس میں اس فن کا بہت ماہر تسلیم کیا جاتا تھا،جاوید کی ولادت پر جنم پتری بنوائی، میں اس کا قائل نہیں ہوں، اس لیے میں نے اس پر کچھ توجہ نہ کی، چند دن گزرے ، بڑے بھائی صاحب نے وہ پتری نکال کر دیکھی اور مجھے بھی دکھائی ، اس میں علاوہ اور باتوں کے یہ بھی لکھا تھا کہ یہ بچہ اتنے سال کی عمر کو پہنچے گا تو اس کا والد لمبی بیماری میں مبتلا ہوجائے گا اور یہ خود کئی سال تک معدے (یا شاید جگر) کے مرض میں مبتلا رہے گا، تعجب ہے کہ یہ دونوں باتیں صحیح ہورہی ہیں

علامہ کے اس بیان سے یہ تو ظاہر ہوگیا کہ جنم پتری انہوں نے خود نہیں بنوائی تھی بلکہ ان کے کسی واقف اور مربّی نے ازخود یہ کارنامہ انجام دے کر علامہ کی خدمت میں پیش کردیا تھا جس پر علامہ نے کوئی توجہ بھی نہ دی تھی۔ جسٹس جاوید اقبال کی پیدائش 1924 کی ہے اور علامہ کا انتقال 1938 میں ہوا اور وہ اس سے پہلے کافی عرصہ بیمار رہے، ہم نے اس جنم پتری کی فوٹو کاپی اقبال اکیڈمی سے حاصل کی اور اس کا مطالعہ کیا ۔  جنوبی ہندوستان میں ٹھیٹ کلاسیکل ویدک ایسٹرولوجی برسوں سے رائج ہے اور پروفیسر بینگلور وینکٹ رامن کے نام کا ڈنکا ہمیشہ بجتا رہا ہے جو یونانی اور ویدک سسٹم میں ایانامسا کے حوالے سے بھی دیگر ویدک ایسٹرولوجرز سے اختلاف رکھتے تھے اور اس اختلاف کی بنیاد پر بھارت کے تمام دیگر ماہرین نجوم سے اُن کے اختلافات نہایت شدید رہے مگر جنوبی ہندوستان میں اُن کے ایانامسا کے مطابق ہی دیگر ایسٹرولوجر صاحبان پریکٹس کرتے رہے، حالاں کہ بعد میں اُن کے بعض اہم شاگردوں اور خود اُن کی بیٹی نے بھی اس حوالے سے اختلاف کیا۔

 جنم پتری بنانے والے ایسٹرولوجر سے ہم واقف نہیں ہیں اور یہ بھی معلوم نہیں ہوسکا کہ ایانامسا رامن کا استعمال کیا ہے یا لہری کا جو پوری دنیا میں درست تسلیم کیا جاتا ہے اور دنیا بھر کے تمام ویدک ایسٹرولوجرز پروفیسر لہری کی تقلید کرتے ہیں ، انڈیا میں سرکاری طور پر بھی لہری کا ایانامسا مستند تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے جو زائچے کی ریڈنگ کی ہے وہ بھی روایتی اور بہت ہی عام قسم کی ہے جس میں چند باتیں ضرور درست ثابت ہوئیں جن پر علامہ نے بھی حیرت کا اظہار کیا ہے لیکن دیگر حالاتِ زندگی میں خاصا تضاد موجود ہے، انہوں نے ایک بہترین تعلیمی کیرئر کی نشان دہی کی ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ وہ خاصے پڑھاکو ، لٹریچر اور قانون کے شعبے سے دلچسپی لینے والے ہوں گے، یہ بات درست ہے، اختلافی امر یہ ہے کہ انہوں نے طالع لگن ثور لیا ہے، جب کہ برج ثور کے تحت پیدا ہونے والے افراد عام طور پر زیادہ قد آور نہیں ہوتے، جسٹس جاوید اقبال کا شمار اگر طویل قامت افراد میں نہیں ہوتا تو انہیں پستہ قامت بھی نہیں کہا جاسکتا، طالع ثور ایک نہایت سخت اور مشکل طالع ہے ، اس کے زیر اثر پیدا ہونے والے افراد زندگی بھر سخت محنت اور جدوجہد کے بعد ہی کسی مقام پر پہنچتے ہیں، جسٹس جاوید اقبال کے سلسلے میں علامہ اقبال ایسے انتظامات کر گئے تھے کہ وہ سہولت کے ساتھ اپنی تعلیم مکمل کرسکیں اور اس حوالے سے انہیں کوئی پریشانی نہیں ہوئی بعد میں کرئر کے حوالے سے بھی وہ خاصے خوش قسمت رہے، بہر حال ہم ان کے بنائے ہوئے زائچے کو نظر انداز کرتے ہوئے یہاں جسٹس صاحب کا درست زائچہ پیش کر رہے ہیں ۔

5 اکتوبر 1924 ءبمقام سیالکوٹ تقریباً رات 10:31:10 pm کے مطابق طالع جوزا طلوع ہے، طالع کا حاکم عطارد چوتھے گھر میں شرف یافتہ ہے،اسی گھر میں سیارہ شمس بھی موجود ہے اور عطارد سے خاصے فاصلے پر ہونے کی وجہ سے عطارد غروب نہیں ہے، یہ پوزیشن مہاپنچم یوگ میں سے ”بھدرا یوگ“ بناتی ہے، اس یوگ کے تحت پیدا ہونے والے افراد خوب صورت، وجیہہ اور پرکشش شخصیت کے مالک ہوتے ہیں،وہ علمی میدان میں نمایاں کارنامے انجام دیتے ہیں،خصوصاً ریسرچ ورک وغیرہ میں اور اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ بھدرا یوگ کے حامل افراد کا اوڑھنا بچھونا زندگی بھر لکھنا پڑھنا ہی رہتا ہے،چنانچہ جسٹس جاوید صاحب اپنی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے علاوہ تحریر اور تحقیق کے میدان میں بھی نمایاں رہے۔

دوسرے گھر کا حاکم قمر زائچے کے ساتویں گھر برج قوس میں ہے جس کا حاکم عقل و دانش کا سیارہ مشتری ہے لیکن مشتری نوامسا چارٹ میں اپنے برج ہبوط میں ہے، پیدائشی قمری منزل پروشدھ ہے جس پر فن و آرٹ کا سیارہ زہرہ حکمران ہے، قمری برج قوس آئین و قانون ، مذہب سے متعلق ہے، دوسری طرف اعلیٰ تعلیم کے گھر کا حاکم سیارہ زحل پانچویں گھر میں شرف یافتہ ہے اور دہ بہرہ (D-10) چارٹ میں زحل برج جدی میں ہے،  D-10  کا طالع اسد ہے، یہ تمام صورت حال قانون کی تعلیم اور پھر اعلیٰ سرکاری عہدوں پر تعیناتی ، جسٹس کے عہدے تک ترقی کا باعث ہے،دہ بہرہ (D-10) زائچے کے طالع میں برج اسد کا طلوع ہونا اعلیٰ سرکاری عہدہ و مراتب کی نشان دہی ہے۔

زائچے کے دوسرے گھر میں راہو، تیسرے گھر میں زہرہ ، چھٹے گھر میں مشتری، آٹھویں گھر میں کیتو اور نویں گھر میں سیارہ مریخ قابض ہیں،زحل کے علاوہ زہرہ بھی نہایت باقوت پوزیشن رکھتا ہے،پانچویں گھر کا مالک ہونے کی وجہ سے اعلیٰ ترین شعور ، اچھی اور قابل فخر اولاد اور زندگی میں بھرپور خوشیاں اس کا ثمرہ ہیں۔ مشتری کی زائچے میں پوزیشن جسٹس صاحب کی مذہبی اور فلسفیانہ سوچ میں ”ٹیڑھ“ کی مظہر ہے، اول تو مشتری نوامسا میں اپنی برج ہبوط میں ہے ، دوم یہ کہ زائچے کے چھٹے گھر میں ہے جو اختلاف و تنازعات کا گھر ہے،جسٹس صاحب اپنے مذہبی یا فلسفیانہ نظریات میں ایک جداگانہ سوچ اور نظریہ رکھتے تھے،اسلامی تعلیمات یا فقہی امور پر بھی ان کا زاویۂ نظر دیگر علماءیا صوفیا سے اختلافی رہا، ملائیت سے ان کے والد بھی بے زار رہتے تھے اور وہ بھی، وہ دین ملّا فی سبیل اللہ فساد۔ کے قائل تھے، اکثر علمی معاملات میں ان کی اپنی مجتہدانہ مو شگافیاں نمایاں رہتی تھیں، واضح رہے کہ برج قوس جو اُن کی جنم راشی ہے، آئین و قانون ، مذہب و فلسفہ کا برج ہے لہٰذا یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ ان موضوعات سے دور ہوتے۔ مشتری زائچے میں ساتویں گھر کا حاکم ہے اور اس کی پوزیشن شادی میں تاخیر بھی ظاہر کرتی ہے لیکن ساتویں گھر پر برج قوس اور مشتری کے باعث شریک حیات کا تعلق بھی آئین و قانون سے ہے ، وہ بھی ایک قابل فخر جسٹس کے طور پر خدمات انجام دیتی رہی ہیں۔

پروشدھ

قمری منزل پروشدھ کے معنی ناقابل شکست یا نہ جھکنے والا کے ہیں، اس نچھتر پر زہرہ کی حکمرانی مقبولیت کی عکاسی کرتی ہے یعنی صاحب زائچہ مقبول ہوتا ہے، اس کا بنیادی محرک روحانی آزادی اور فطرت انسانی ہے ، اس نچھتر میں پیدا ہونے والے افراد ایک گہری فلسفیانہ اور روحانی فطرت کو ظاہر کرتے ہیں، یہ لوگ بحث و مباحثہ کرنے والے آزاد فطرت کے مالک اور بحث میں کسی کو بھی شکست دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں،ہٹیلے اور ضدی ہوتے ہیں،کسی کی بھی نہیں سنتے،انانیت بھی اس نچھتر کا ایک پہلو ہے،ان لوگوں کو اپنی بڑائی کا بڑا احساس رہتا ہے،دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ لوگ دوسروں کو مشورے دے سکتے ہیں لیکن دوسری طرف خود کسی سے مشورہ نہیں لے سکتے اور دوسروں کے مشوروں کو مشکوک نظروں سے دیکھتے ہیں،ایک بار کوئی نظریہ یا عقیدہ ان کے دل و دماغ میں راسخ ہوجائے تو پھر اُس پر سمجھوتا کرنا ان کے لیے تقریباً نا ممکن کام بن جاتا ہے،اگرچہ یہ نچھتر مذہبی رجحانات کا حامل ہے اور بعض لوگ مذہب میں نہایت شدت پسند ہوسکتے ہیں لیکن صورت حال اس کے برعکس بھی ہوسکتی ہے یعنی یہ لوگ کسی ذاتی نظریے اور فلسفے کے پیروکار ہوجائیں، مذہب سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کردیں، جیسا کہ غلام احمد پرویز اور گورو رجنیش کے کیس میں دیکھا گیا ہے، جسٹس جاوید اقبال بھی اپنے مذہبی نظریات میں بعض دیگر علما کے مقابلے میں اپنا الگ فلسفۂ مذہب رکھتے تھے اور شاید یہ علامہ کی اُس نصیحت کا اثر بھی ہوسکتا ہے جس میں انہوں نے اپنے بیٹے کو مخاطب کرکے فرمایا تھا۔

دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ، نئے صبح و شام پیدا کر

طالع جوزا بنیادی طور پر ”نالج“ کا برج ہے، یہ لوگ زیادہ سے زیادہ جاننا چاہتے ہیں اور ساری عمر علم کے حصول اور پھر اُسے پھیلانے کے لیے یا دوسروں تک پہنچانے کے لیے کوششوں میں مصروف رہتے ہیں، طالع جوزا تمام برجوں میں سب سے بہتر طالع ہے کیوں کہ راہو کیتو کے علاوہ کوئی سیارہ اس طالع کے لیے منحوس اثر نہیں رکھتا، چنانچہ عام طور پر طالع جوزا والے ایک اچھی اور کامیاب زندگی گزارتے ہیں، اگر زائچے میں سیارگان اچھے گھروں میں ہوں، جسٹس صاحب نے بھی ایک بھرپور اور کامیاب زندگی گزاری، سیارہ زحل عمر کا نمائندہ بھی ہے اور اُس کی مضبوط ترین پوزیشن اور شرف یافتہ حیثیت کے باعث انہوں نے طویل عمر پائی۔

جسٹس جاوید اقبال کی زندگی کا پہلا سانحہ 21 اپریل 1938 کو بہ عمر 13 سال 5 ماہ میں پیش آیا ، اُس وقت شمس کا دور اکبر جاری تھا جو باپ کا نمائندہ ہے اور کیتو کے دور اصغر اور دور صغیر کی ابتدا ہوئی، اسی تاریخ کو والد محترم نے وفات پائی، کیتو کا دور 27 اگست 1938 ءتک جاری رہا، یقیناً یہ ایک تکلیف دہ دور تھا،کیتو زائچے میں آٹھویں گھر میں قابض ہے اور آٹھویں گھر کا حاکم یا قابض اکثر والد کے لیے یا صاحب زائچہ کے لیے خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ اُس کے فوری بعد زہرہ کا دور اصغر ایک نئے حوصلے اور نئی لگن کی نشان دہی کرتا ہے جو ظاہر ہے تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابی کے عزم سے متعلق ہے۔

جاوید اقبال بمقابلہ ذوالفقار علی بھٹو

جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا ہے کہ ساتویں گھر کا حاکم زہرہ تیسرے گھر میں بہت عمدہ پوزیشن رکھتا ہے، تیسرا گھر پہل کاری اور کوشش سے متعلق ہے،راہو کے دور اکبر میں جسٹس صاحب عملی طور پر سیاست کے میدان میں داخل ہوئے، 15 مارچ 1968 ءسے راہو کے دور اکبر میں زہرہ کا دور اصغر شروع ہوا تو انہوں نے 70 کے الیکشن میں لاہور کے ایک حلقے سے جناب ذوالفقار علی بھٹو کے مقابلے پر الیکشن لڑا ، اگرچہ وہ کامیاب نہ ہوسکے کیوں کہ اُس وقت جناب ذوالفقار علی بھٹو کا ستارہ عروج پر تھا لیکن سیاست سے اُن کی دلچسپی راہو کے دور اکبر میں جاری رہی اور پھر عملی طور پر نہ سہی لیکن تفریح طبع کے لیے ایک مشق سخن جاری رہی، سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد زحل کے دور اکبر میں انہوں نے ایک بہت ہی پرسکون اور اطمینان بخش زندگی گزاری، زحل کا دور اکبر 27 اگست 1990 سے شروع ہوا، زحل چوں کہ نویں گھر کا حاکم اور پانچویں گھر میں قابض شرف یافتہ سیارہ ہے لہٰذا 1990 کے بعد ان کا زیادہ وقت تصنیف و تالیف اور دیگر علمی نوعیت کے کاموں میں گزرا۔

22 ستمبر سے زائچے میں عطارد کے دور اکبر میں زہرہ ہی کا دور اصغر جاری تھا لیکن دور صغیر کیتو کا چل رہا تھا،زائچے کے منحوس ترین راہو کیتو چوتھے اور دسویں گھر میں رہتے ہوئے دوسرے ، چوتھے، چھٹے ، آٹھویں، دسویں اور بارھویں گھروں کو مکمل ناظر تھے،ساتھ ہی چوتھے گھر کے حاکم عطارد کو بھی متاثر کر رہے تھے، نویں بھاگیا استھان کا حاکم چھٹے گھر میں اور دوسرے گھر کا حاکم بارھویں گھرمیں تھا،جب تین اکتوبر کو وہ اپنے مالک حقیقی سے جاملے، گویا عمر طبعی کو پہنچ گئے، اتنی طویل عمر اور بھرپور زندگی کی خوشیاں کم کم لوگوں کا نصیب ہوتی ہیں حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔

آئیے اپنے خطوط اور ان کے جوابات کی طرف:

رشتہ مناسب ہے یا نا منا سب؟

این،اے نے رشتے کے حوالے سے مشورہ طلب کیا ہے اور نام اور مقام ظاہر کرنے سے منع کیا ہے۔

عزیزم ! آپ کی تاریخ پیدائش اور فریق ثانی کی تاریخ پیدائش کے مطابق آپ کا شمسی برج جدی اور قمری برج اسد ہے جب کہ فریق ثانی (ٹی اے) کا شمسی برج سنبلہ اور قمری برج حوت ہے۔آپ دونوں کے شمسی برج اپنے عنصر کے اعتبار سے خاکی ہیں اور دائرةالبروج میں باہم دوستی کی نظر رکھتے ہیں برج جدی سے سنبلہ 9ویں نمبر پر ہے جو برج جدی کا خانہ قسمت بھی ہے اور مستقبل بھی ۔جب کہ برج سنبلہ سے برج جدی 5ویں نمبر پر ہے 5واں خانہ محبوب اور رومانی سرگرمیوں کو ظاہر کرتا ہے ۔ گویا سنبلہ کے لیے کوئی جدی شخص محبوب کا درجہ رکھتا ہے اور آپ دونوں کی شخصیت اور مزاج میں ظاہر ی ہم آہنگی موجود ہے ۔دونوں ایک دوسرے کے مزاج آشنا ثابت ہوں گے ۔ دونوں علمی سوچ کے حامل ہیں اور زندگی کے مادی حقائق کو سمجھتے ہیں اس اعتبار سے آپ کی جوڑی مناسب رہے گی۔

اور دوسری طرف آپ کا قمری برج اسد اور فریق ثانی کا حوت ہے۔ یہ دونوں برج نہایت گہرائی میں آپ دونوں کے فطری رجحانات کی نشان دہی کرتے ہیں ۔اسد آتشی برج ہے جب کہ حوت کا عنصر پانی ہے اور آگ اور پانی میں موافقت نہیں ہے لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ آپ دونوں بظاہر ایک کامیاب ازدواجی زندگی گزاریں گے لیکن آپ کو فطری میلانات رحجانات کا اختلاف زندگی میں اکثر و بیش تر پریشان کرتا رہے گا جس کی وجہ سے کبھی کبھی چھوٹی موٹی جھڑپیں ہوتی رہیں گی اور کبھی کوئی بڑا اہم تنازع بھی جگہ لے سکتا ہے ۔

زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ وہ تنازع آپ کی وجہ سے کوئی خطرناک صورت اختیار کرے کیوں کہ آپ فطری طور پر زیادہ انا پرست ہیں، آپ دونوں کے قمری بروج سے جو فطری اختلافات جنم لے سکتے ہیں وہ یہ ہوں گے ۔

قمری برج اسد کے تحت آپ بہت زیادہ انا پرست ،ضدی ، اپنی عزت اور وقار کو بہت زیادہ اہمیت دینے والی، دنیاوی نمود و نمائش سے متاثر ہونے والی ، بہتر اور عمدہ ماحول میں زندگی گزارنے کی خواہش مند ہیں۔ جب کہ قمری برج حوت کے تحت فریق ثانی اپنی فطرت میں بہت آئیڈیل پرست ، گہری جذباتی وابستگی رکھنے والا ، اور صرف اپنے کام سے کام رکھنے والا ، مالی معاملات میںمخصوص حدود قیود کا پابند ، کچھ ”حال مست “قسم کا انسان، بے حد حساس ، کسی حد تک شکی و وہمی ہوسکتا ہے ۔

اب ہمارے اس تجزیے کی روشنی میں اگر دونوں ایک دوسرے کی خوبیوں اور خامیوں کو سمجھ کر زندگی گزارنے کی کوشش کریں تو کبھی کوئی گڑبڑ پیدا نہیں ہو گی، اپنی خامیوں کی اصلاح کریں ، دوسرے کو اس کی خامیوں کا الاؤنس دیں ۔ انتہا پسندانہ طرز عمل سے گریز کریں تو انشاءا ﷲ آپ کی ازدواجی زندگی خوشگوار رہے گی ۔

ہندی جوتش اور ہندی رسم الخط

عبدالصمد، حیدرآباد : محترم ! آپ نے جو زائچہ ہمیں روانہ کیا ہے وہ ہندی جوتش کا ہے ۔ ہمارے لیے ہندی جوتش کو سمجھنا مشکل نہیں ہے، خدا کے فضل وکرم سے یہ بھی ہماری پریکٹس میں ہے لیکن ہندی رسم الخط سے ہمیں کوئی واقفیت نہیں ہے اور آپ کا مکمل زائچہ ہندی رسم الخط میں تحریر کیا گیا ہے اگر اس کا ترجمہ کوئی ہندی سمجھنے والا کر دے تو باقی کام ہمارے لیے آسان ہو جائے گا، بے شک برسوں پہلے جس ماہر جوتش نے اسے تیار کیا ہے وہ اس علم کا عالم ہو گا اردو ترجمے سے اس کے ذریعے رہنمائی لی جاسکتی ہے، باقی آپ کی تاریخ پیدائش جو آپ نے لکھی ہے، اگر درست ہے تو اس کی بنیاد پر زائچہ یا جنم کنڈلی بنائی جاسکتی ہے، اگر آپ ہندی جاننے والے سے ترجمہ کرواکر ہمیں روانہ کر دیں تو بہتر ہو گا۔

کیا کاروبار پر بندش ہے؟

اے، آر، ایم جگہ نامعلوم، لکھتے ہیں۔ ”میں اپنے کاروبار کے متعلق جاننا چاہتا ہوں اور اپنے بارے میں بھی۔ پہلے ہمارا کاروبار بہت اچھا چلتا تھا لیکن اب بہت ہی ڈاؤن ہے۔ کچھ لوگوں سے معلوم کیا تو انہوں نے کہا کہ کسی نے آپ پر کاروباری بندش کی ہوئی ہے۔ میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے باہر جانا چاہتا تھا لیکن گھر والوں نے روک دیا۔ کیا میں باہر جا سکوں گا؟

جواب: عزیزم! آپ کے کاروبار پر بندش وغیرہ تو کوئی نظر نہیں آتی، البتہ آپ کے زائچے کے مطابق چونکہ آپ تقریباً گزشتہ ڈھائی سال سے سیارہ زحل کی ساڑھ ستی کا شکار ہیں لہٰذا کاموں میں رکاوٹ اور خرابیاں خود آپ کی کوتاہیوں اور غلطیوں کے سبب نظر آ رہی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ہمارا اندازہ ہے کہ آپ کے قریبی عزیزوں اور رشتہ داروں نے بھی آپ کا ساتھ چھوڑ دیا ہے، آپ مزاجاً خاصے منہ پھٹ اور دوٹوک بات کرنے والے آدمی ہیں جو کچھ صحیح سمجھتے ہیں وہ کسی کا لحاظ کیے بغیر اور مصلحت کے تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کہہ دیتے ہیں کیوں کہ آپ کا پیدائشی برج سنبلہ ہے اور قمری برج قوس ہے، آپ فطرتاً خاصا تنقیدی رویہ رکھتے ہیں، اپنی دانست میں آپ دوسروں کی اصلاح اور بھلائی چاہتے ہیں لیکن ضروری تو نہیں ہے کہ دوسرے آپ کی رائے یا آپ کے اختلافی نظریات سے اتفاق کریں، ہمارے خیال میں آپ ایک اچھے سیلز مین بھی نہیں ہیں، ممکن ہے آپ کے پاس آنے والے خریداروں کو بھی آپ سے شکایات ہوں اور وہ آپ کو ایک اکھڑ اور سخت مزاج آدمی سمجھتے ہوں۔ اگر آپ اپنی ان خامیوں پر قابو پائیں تو آپ کا کاروبار بہتر ہو سکتا ہے۔ اس سال دسمبر سے ایسا وقت شروع ہو رہا ہے کہ آپ بیرون ملک جانے کی کوششوں میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ بہت سی اچھی باتوں کے ساتھ خراب بات یہ ہے کہ سیارہ زحل کی ساڑھ ستی کے ابھی 5 سال باقی ہیں۔ اگر آپ نے دانشمندی، صبر و تحمل اور برداشت سے کام نہ لیا تو ناکامیاں اور پریشانیاں بڑھ جائیں گی اور آپ خواہ کہیں بھی ہوں، پریشانیوںکا شکار رہیں گے۔

سرکاری نوکری ملے گی یا نہیں؟

زیڈ، ایچ، شہداد پور : عزیزم! ابھی آپ کی تعلیم تو مکمل ہوئی نہیں تو آپ سرکاری نوکری کی شرائط کیسے پوری کریں گے۔ بہتر ہو گاکہ تعلیم مکمل کرنے پر دھیان دیں اور آگے ایل ایل بی کا ارادہ درست ہے۔ نیا سال تعلیمی معاملات میں معاون ثابت ہو گا۔ اگر روزگار آپ کے لیے بہت ضروری ہے تو کسی پرائیویٹ جاب کے لیے کوشش کریں۔ دسمبر، فروری اور اپریل کے مہینے کامیابی لائیں گے لیکن جاب کے چکر میں تعلیمی معاملات سے غفلت نہ برتیں۔ 2017  تک محنت اور جدوجہد کا وقت ہے۔ اس عرصے میں تعلیم مکمل کریں تاکہ آئندہ آپ کا کیرئر شاندار ہو سکے۔