ہفتہ، 31 اکتوبر، 2020

اماں کیسی کہ موجِ خوں ابھی سر سے نہیں گزری

نومبر کی فلکیاتی صورت حال، موجودہ حکومت اور اپوزیشن کی محاذ آرائی

 

 سال کے آخری مہینے خصوصاً اگست سے شروع ہونے والا وقت عموماً پاکستان کے لیے مشکل اور چیلنجنگ رہا ہے، اکثر اہم واقعات انہی مہینوں میں پیش آئے ہیں، اس سال اکتوبر کے دوسرے ہاف سے سیارہ شمس اپنے برج ہبوط میں چلا گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی سیارہ زہرہ بھی اپنے برج ہبوط میں ہے، خیال رہے کہ شمس زائچہ ء پاکستان میں چوتھے گھر کا حاکم ہے اور زہرہ چھٹے گھر کا حاکم ہے، شمس تقریباً 16 نومبر تک ہبوط یافتہ رہے گا اور یہ وقت اکثر اعلیٰ عہدے اور مرتبے رکھنے والے افراد کے لیے مشکل اور پریشان کن ثابت ہوگا، جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں، سیارہ زہرہ 17 نومبر تک اپنے برج ہبوط میں رہے گا، گویا سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی کارکردگی متاثر اور متنازع رہے گی اور ان کے لیے نئے مسائل اور چیلنج درپیش رہیں گے، سیارہ عطارد جو زائچے کا اہم سیارہ اور پانچویں گھر کا حاکم ہے، گزشتہ ماہ سے مسلسل زائچے کے چھٹے گھر میں حرکت کر رہا ہے، اس دوران میں اسے رجعت بھی ہوئی اور وہ شمس کی قربت کے سبب غروب بھی رہا، 3 نومبر سے طلوع ہوگا لیکن پاکستان کے زائچے میں بدستور چھٹے گھر میں ہی رہے گا، عطارد کی یہ پوزیشن ملک کے دانش ور طبقے کی عقل کو خبط کردینے والی رہے گی جس کا مظاہرہ آج کل دیکھنے میں آرہا ہے، ایسے ایسے بیانات اور تبصرے سامنے آرہے ہیں جنہیں سن کر حیرت ہوتی ہے، خاص طور سے حکومتی اور ن لیگی رہنما جن میں خود میاں نواز شریف سرفہرست ہیں، ملکی و قومی مفاد کی پروا کیے بغیر بیانات دے رہے ہیں، شاید وہ فرسٹریشن کی آخری حدوں کو چھو رہے ہیں۔

ہماری تحقیق کے مطابق میاں نواز شریف کا برتھ سائن سنبلہ ہے اور زائچے میں سنبلہ کے تقریباً تین درجے طلوع ہیں، گویا زائچے کا ہر گھر تین درجے سے شروع ہورہا ہے، سنبلہ افراد کام اور مسلسل کام کرنے والے اور بہت زیادہ مادّی سوچ کے حامل (بزنس مین) ہوتے ہیں، سونے پر سہاگا ان کا قمری برج بھی سنبلہ ہے لہٰذا کاروباری سوچ ہمیشہ ذہن پر غالب رہتی ہے اور ایسے لوگ اپنا کاروباری نقصان برداشت نہیں کرسکتے، صاف ظاہر ہے کہ مقتدر حلقوں سے مثبت رسپانس نہ ملنے کی وجہ سے وہ فرسٹریشن کا شکار نظر آتے ہیں، ہمارے قارئین کو یاد ہوگا کہ ہم نے 2016 ء میں ان کے زوال اور وزیراعظم کے عہدے سے برطرفی کی پیش گوئی کی تھی، اس کی وجہ یہ تھی کہ برج سنبلہ کے لیے سیارہ مریخ، شمس اور زحل فنکشنل منحوس سیارے ہیں اور گزشتہ تقریباً ڈھائی سال زحل ان کے زائچے کے چوتھے گھر میں رہا، اس سال جنوری سے پانچویں گھر میں داخل ہوچکا ہے، اسی طرح زائچے میں دور اصغر بھی سیارہ زحل ہی کا جاری ہے، یہ وہ صورت حال ہے جو ان کے زوال کا باعث بنی ہے اور تاحال جاری ہے، گزشتہ دنوں ستمبر میں سیارہ زحل زائچے کے پانچویں گھر میں ابتدائی درجات پر رہا اور اب تک ہے، جس کی وجہ سے پانچواں گھر جو شعور اور دانش کا ہے متاثر ہوا، اسی طرح ساتواں گھر، گیارھواں گھر اور دوسرا گھر متاثر ہیں، سیارہ زحل ان کے زائچے میں اختلاف اور تنازعات کا سیارہ ہے، چناں چہ موصوف نے اختلافات کی تمام حدیں پار کرلی ہیں اور یہ کوئی معاون و مددگار صورت حال نہیں ہے، ان کی پارٹی کا زائچہ بھی اچھی پوزیشن میں نہیں ہے، چناں چہ ن لیگ اور میاں نواز شریف جس مہم جوئی میں مصروف ہیں اس کے نتائج بہتر نظر نہیں آتے۔

وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کا برتھ سائن میزان ہے، ان کا سیارہ زہرہ ہے جو اپنے برج ہبوط میں ہے، ان کے مفادات کا حاکم سیارہ شمس بھی برج ہبوط میں ہے، ان کے زائچے میں بھی خراب دور کا آغاز ہوچکا ہے، چناں چہ بلاشبہ اپوزیشن جماعتیں اور ملکی صورت حال ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے لیکن امکان ہے کہ 17 نومبر کے بعد سے صورت حال بہتر ہوجائے گی، جب سیارہ زہرہ ان کے پہلے گھر برج میزان میں داخل ہوگا اور شمس بھی زائچے کے دوسرے گھر میں آجائے گا۔

زائچہ پاکستان کے مطابق پاکستان ایک مشکل وقت میں داخل ہوچکا ہے، جیسا کہ پہلے بھی نشان دہی کی گئی ہے، شمس اور زہرہ کی پوزیشن تو بہر حال جلد بہتر ہوجائے گی یعنی 17 نومبر کے بعد لیکن اس سے زیادہ اہم اور چیلنجنگ دور موجودہ حکومت کے لیے 20 نومبر سے شروع ہوگا جب سیارہ مشتری اپنے ہبوط کے برج جدی میں داخل ہوگا، یہاں پہلے سے دسویں گھر کا حاکم زحل موجود ہے، جس کا تعلق حکومت اور خود وزیراعظم سے ہے، مشتری پاکستان کے زائچے کا سب سے زیادہ منحوس اثر رکھنے والا سیارہ ہے جو برج جدی میں داخل ہوتے ہی سیارہ زحل سے حالت قران میں آجائے گا اور یہ صورت حال حکومت وقت کے لیے شدید نوعیت کے نئے چیلنج سامنے لائے گی جن کے نتیجے میں ترقیاتی امور بری طرح متاثر ہوں گے اور کوئی نیا آئینی بحران جنم لے گا، حکومت اس سے کس طرح نمٹے گی اور اپوزیشن اس کا کس طرح فائدہ اٹھائے گی اس بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا، خیال رہے کہ سیارہ مشتری اور زحل کا یہ قران جنوری 2021 تک جاری رہے گا، دو بڑے سست رفتار سیارگان کا نحس اثر رکھنے والا قران اکثر حالات و واقعات میں نمایاں طور پر نئی تبدیلیوں کا باعث بن سکتا ہے (واللہ اعلم بالصواب)

اماں کیسی کہ موجِ خوں ابھی سر سے نہیں گزری

گزر جائے تو شاید بازوئے قاتل ٹھہر جائے

نومبر کی سیاروی پوزیشن

حیثیت و اقتدار کا سیارہ شمس اپنے برج ہبوط میزان میں حرکت کر رہا ہے، یہ اس کی انتہائی کمزور اور ناقص پوزیشن ہے، اس وقت میں صاحبان اقتدار اور اعلیٰ پوزیشن پر فائز افراد پریشانیوں کا شکار ہوتے ہیں،17 نومبر سے سیارہ شمس برج عقرب میں داخل ہوگا تو اس کی پوزیشن بہتر ہوجائے گی۔

سیارہ عطارد بھی بحالت رجعت برج میزان میں حرکت کر رہا ہے اور شمس کی قربت کے سبب غروب ہے، 2 نومبر کو طلوع ہوگا اور 3 نومبر کو مستقیم ہوجائے گا،عطارد کی کمزور اور خراب پوزیشن تحریر و تقریر یا دیگر دستاویزی نوعیت کے کاموں میں مسائل لاتی ہے، سفر سے متعلق امور میں بھی الجھن اور پریشانیوں کا باعث بنتی ہے۔

سیارہ زہرہ برج سنبلہ میں حرکت کر رہا ہے، اس برج میں زہرہ کو ہبوط ہوتا ہے، چناں چہ زہرہ کی پوزیشن بھی نہایت خراب اور ناقص ہے، زہرہ توازن اور باہمی تعلقات پر اثر انداز ہے، اس کے علاوہ محبت کے معاملات، منگنی، شادی و نکاح وغیرہ یا ازدواجی زندگی کی خوشیاں بھی اس سے متعلق ہیں، زہرہ کی موجودہ پوزیشن ان تمام معاملات کے لیے ناموافق ہے، اس دوران میں منگنی و نکاح وغیرہ سے گریز کرنا چاہیے، 17 نومبر سے زہرہ اپنے ذاتی برج میزان میں داخل ہوگا، یہ زہرہ کے لیے اچھی پوزیشن ہوگی،17 نومبر سے 19 نومبر تک شادی و نکاح کے لیے موافق وقت ہوگا۔

سیارہ مریخ بدستور بحالت رجعت برج حوت میں حرکت کر رہا ہے، کیتو کی اس پر نظر ہے جو اکثر حادثات اور تنازعات کا باعث ثابت ہوتی ہے، 15 نومبر سے سیارہ مریخ مستقیم ہوگا اور اپنی سیدھی چال پر آجائے گا لیکن کیتو کی نظر سے نجات نہیں ملے گی، تقریباً 25 دسمبر تک کیتو کی نظر میں رہے گا، اس دوران میں غصے اور اشتعال پر کنٹرول رکھیں، ڈرائیونگ میں محتاط رہیں اور کسی مہم جوئی سے اجتناب کریں۔

سیارہ مشتری برج قوس میں حرکت کر رہا ہے، 20 نومبر کو اپنے برج ہبوط جدی میں داخل ہوگا اور تقریباً آئندہ سال 2021 ء میں مارچ کے آخر تک اسی برج میں حرکت کرے گا، یہ مشتری کی انتہائی ناقص اور خراب پوزیشن ہے، اس سال اپریل سے جون تک مشتری اپنے برج ہبوط میں رہا، اب دوبارہ یہ صورت حال سامنے آرہی ہے، مشتری کی خراب پوزیشن ترقیاتی امور میں رکاوٹ، مالی معاملات میں پریشانی لاتی ہے، مزید یہ کہ اس عرصے میں نکاح و شادی سے بھی گریز کرنا چاہیے کیوں کہ مشتری کی ہبوط یافتہ پوزیشن شوہر کے لیے خرابی کا باعث ثابت ہوتی ہے۔

سیارہ زحل برج جدی میں پورا ماہ رہے گا، مشتری جدی میں داخل ہوکر سیارہ زحل سے قران کرے گا، یہ قران طالع برج ثور، جوزا، سرطان، اسد، سنبلہ، دلو اور حوت والوں کے لیے مختلف نوعیت کے مسائل اور چیلنج لائے گا، خیال رہے کہ اس قران کا دورانیہ تقریباً جنوری 2021 ء تک ہوگا، مندرجہ بالا بروج سے تعلق رکھنے والے افراد کی زندگی میں اہم نوعیت کی تبدیلیاں آئیں گی، اس قران کے نتیجے میں آنے والی تبدیلیوں سے حقیقی اور درست آگاہی کے لیے اپنے انفرادی زائچہ ء پیدائش سے مدد لینی چاہیے۔

راہو اور کیتو اپنے شرف کے برج ثور اور عقرب میں حرکت کررہے ہیں، 14 نومبر 2020 سے 18 جنوری 2021 تک راہو کیتو مستقیم پوزیشن میں رہیں گے یعنی 26 درجہ ثور و عقرب پر مستقل قیام رہے گا، راہو کیتو کی یہ پوزیشن نہایت اہمیت کی حامل ہوتی ہے،وہ لوگ اور ممالک جن کے زائچہ ء پیدائش میں پیدائشی برج کے درجات 21 سے تقریباً 30 کے درمیان ہیں، وہ راہو کیتو کی اس ناقص پوزیشن سے بری طرح متاثر ہوں گے، اس صورت حال سے درست آگاہی حاصل کرنے کے لیے بھی اپنے انفرادی زائچہ ء پیدائش کا جائزہ لینا چاہیے۔

مندرجہ بالا سیاروی پوزیشن ویدک سسٹم کے مطابق دی گئی ہیں۔

قمر در عقرب

سیارہ قمر اپنے برج ہبوط عقرب میں پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 15 نومبر بہ روز اتوار 11:30am پر داخل ہوگا اور 17 نومبر بہ روز منگل دوپہر تقریباً 12 بجے تک برج عقرب میں رہے گا، یہ تمام عرصہ نحوست آثار ہے،اس دوران میں کوئی نیا کام شروع نہ کریں کیوں کہ اس وقت میں کیے گئے کاموں کے بہتر نتائج سامنے نہیں آتے، البتہ اس وقت علاج معالجہ کرانا مخالفین کے خلاف کارروائی وغیرہ بہتر ہوتی ہے، مزید یہ کہ اس وقت ایسے اعمال کرنا فائدہ بخش ہوتا ہے جن کے ذریعے دوسروں کو بری عادتوں سے یا ظلم و ستم سے روکا جاسکے، اس حوالے سے ہم ضرورت کے مطابق مختلف عملیات و وظائف دیتے رہے ہیں، ان سے استفادہ کیا جاسکتا ہے، فی الحال دو عمل یہاں دیے جارہے ہیں، وہ لوگ جو جفری عملیات کا شوق رکھتے ہیں، انھیں چاہیے کہ ہماری کتابوں، مسیحا حصہ اول، دوم اور سوم کا مطالعہ کریں، ان کتابوں میں ایسے تمام اہم نوعیت کے عملیات دیے گئے ہیں۔

عداوت و دشمنی کا خاتمہ

اکثر دو افراد کے درمیان عداوت یا دشمنی اس قدر بڑھ جاتی ہے اور پورے خاندان کے لیے عذاب بن جاتی ہے،اس کا خاتمہ ضروری ہے، اکثر تو اس بنیاد پر باہمی قریبی رشتوں میں دراڑیں پڑجاتی ہیں، ایسی صورت حال کے لیے درج ذیل عمل مفید ثابت ہوگا، دیکھنا یہ ہوگا کہ دونوں میں سے حق پر کون ہے اور ناحق کون کر رہا ہے؟ لہٰذا نقش لکھتے ہوئے پہلے اُس فریق کا نام مع والدہ لکھیں جو ظلم و زیادتی کر رہا ہو اور بعد میں اس کا نام لکھیں جو حق پر ہو اور اس ساری دشمنی میں اپنا دفاع کر رہا ہو، یہ عمل قمر در عقرم کے دوران میں قمر کی ساعت میں کیا جائے یا پھر خواتین کے درمیان مخالفت ہو تو زہرہ کی ساعت لی جائے اور اگر مرد افراد کے درمیان مخالفت ہو تو مشتری کی ساعت لی جائے۔

احدرسص طعک لموہ لادیایا غفور یا غفور بستم اختلاف و عداوت فلاں بن فلاں و بین فلاں بن فلاں بحق صمُ بکمُ عمیُ فہم لایعقلون یا حراکیل العجل العجل العجل الساعۃ الساعۃ الساعۃ الوحا الوحا الوحا

کسی صاف کاغذ پر نیلی یا کالی روشنائی سے دو نقش گہن کے وقت لکھیں اور موم جامہ یا اسکاچ ٹیپ لپیٹ کر اُس راستے میں دائیں بائیں کسی سائیڈ دفن کردیں، جہاں سے اُن کا گزر ہوتا ہو، زمین میں دفن کرنے سے پہلے نقش پر کوئی وزنی پتھر بھی رکھ دیں، اگر دونوں فریق ایک ہی گھر میں مقیم ہیں تو گھر میں کسی وزنی چیز کے نیچے یہ نقش اس طرح دبائے جائیں کہ دونوں فریقین کے کمروں میں ہوں، بعد ازاں 5 کلو چینی اور سوجی صدقے کے طور پر کسی قبرستان میں چیونٹیوں یا دیگر حشرات الارض کے لیے ڈال دیں۔

مخالف کی زبان بندی

عین گہن کے وقت مندرجہ ذیل سطور کالی یا نیلی روشنائی سے لکھیں یا سیسے کی تختی پر کسی نوکدار چیز سے کندہ کریں اور پھر کسی بھاری چیز کے نیچے دبا دیں یا کسی نم دار جگہ دفن کر دیں، یہ عمل قمر در عقرب کے دوران میں عطارد کی ساعت میں کرنا چاہیے، انشاء اللہ وہ شخص آپ کی مخالفت سے باز آجائے گا۔

ا ح د ر س ص ط ع ک ل م و ہ لا د یا یا غفور یا غفور عقد اللسان فلاں بن فلاں فی الحق فلاں بن فلاں یا حراکیل

اکثر دیکھا گیا ہے کہ دفتر یا روزگار کی جگہ پر کچھ شرپسند طبیعت کے افراد پریشانی کا باعث بنتے ہیں اور اپنی خباثت کے سبب دوسروں کے خلاف بدگوئی، چغلی یا بدزمانی کرتے ہیں مندرجہ بالا نقش ایسے لوگوں کے لیے کارآمد ہوگا، نقش کو دفتر میں یا روزگار کی جگہ پر پوشیدہ طور پر کسی وزنی چیز کے نیچے دبادیں، مزید یہ کریں کہ جب بھی اس شخص سے سامنا ہو تو دل ہی دل میں اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم لاحولہ ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم کا ورد شروع کردیں۔

شرف قمر

سیارہ قمر اپنے شرف کے برج ثور میں ہے، پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 29 نومبر بہ روز اتوار صبح 09:35 am پر داخل ہوگا اور یکم دسمبر بہ روز منگل صبح 09:10 am تک برج سنبلہ میں رہے گا، یہ نہایت مبارک اور سعد وقت ہے، اس وقت میں نئے کاموں کا آغاز بہتر ہوتا ہے، خیروبرکت اور ترقی یا باہمی محبت و یگانگت کے لیے اہم اعمال کیے جاسکتے ہیں۔

30 نومبر بروز پیر سیارہ قمر شرف یافتہ ہوگا اور پیر کا دن قمر ہی کا دن ہے، اس روز صبح پہلی ساعات قمر کی ہوگی جو تقریباً 06:57 am سے 07:57 am تک رہے گی،قمری پوزیشن نہایت عمدہ ہوگی، اس وقت میں اسمائے الٰہی یا رحمن یا رحیم 556 مرتبہ اول آخر گیارہ بار درود شریف کے ساتھ پڑھ کر رزق میں کشادگی یا حصول ملازمت اور کاروبار میں ترقی کے لیے دعا کریں، ان شاء اللہ عمدہ نتائج کا حصول ممکن ہوسکے گا۔

اس کے علاوہ وہ لوگ جو باہمی ناچاقیوں کا شکار ہیں، گھر میں یا خاندان میں اختلافات بہت ہیں، انھیں چاہیے کہ اس وقت میں 786 مرتبہ بسم اللہ الرحمن الرحیم اول آخر گیارہ بار درود شریف کے ساتھ پڑھ کر کچھ چینی پر اور سفید رنگ کی مٹھائی پر دم کرلیں، چینی کو گھر میں استعمال ہونے والی چینی میں ملادیں ِ تاکہ پورے گھر کے استعمال میں آسکے، مٹھائی کو ان لوگوں کے گھر بھیج دیں جن سے اختلافات یا تنازعات ہیں، ان شاء اللہ اس کے نتائج مثبت ظاہر ہوں گے۔

اگر میاں بیوی کے درمیان یا دو محبت کرنے والوں کے درمیان کسی وجہ سے اختلافات ہوگئے ہوں تو انھیں بھی یہ مٹھائی کھلائی جائے، ان شاء اللہ مثبت نتائج ظاہر ہوں گے۔

ہفتہ، 24 اکتوبر، 2020

جادو ، معجزہ اور کرامت میں فرق (4)

 

سحریات کی مختلف اقسام کا تجزیاتی جائزہ

جب ہم لفظ جادو استعمال کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں عجیب و غریب تصورات آنے لگتے ہیں مثلاً قبرستان ، مردوں کی ہڈیاں ، مضحکہ خیز لباس ، ڈراءونی شکلیں اوردیومالائی قسم کا پراسرار ماحول وغیرہ ، ایسا دراصل لغو روایات اور توہم پرستی کی وجہ سے ہے ورنہ علمی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو جادو ، کرامت یا معجزہ ایک ہی شے کے مختلف نام ہیں ، فرق صرف طرز فکر کا ہے ، اس بات کو یوں سمجھیے کہ لڑنے کی تربیت ایک ملک و قوم کا محافظ فوجی بھی لیتا ہے اور ایک تخریب کار بھی مگر فوجی میدان جنگ میں جب دشمنوں کو موت کے گھاٹ اتارے گا تو اس کی یہ کارکردگی ایک کارنامہ شمار ہوگی اور وہ تمغہ جراَت و بہادری کامستحق قرار پائے گا جبکہ تخریب کار کے ہاتھوں مرنے والا ایک بھی شخص اسے خونی ، سفاک ، قاتلوں کی صف میں لاکھڑا کرے گا اور نتیجے کے طورپر تخریب کار کو موت کی سزا کا حکم سنایا جائے گا ، اسی طرح فوجی کا لڑنا جہاد ہے جبکہ تخریب کار کی لڑائی بغاوت اور دہشت گردی قرار دی جائے گی ، فوجی اگر لڑائی کے دوران میں قتل ہوجائے تو شہید کہلائے گا اور عزت و توقیر کا نشان بنے گا جبکہ تخریب کار یا بدمعاش کی موت کے بعد لوگ اس سے اپنا تعلق ظاہر کرتے ہوئے بھی شرماتے ہیں ۔
لڑتا ایک سپاہی بھی ہے اور ایک بدمعاش بھی مگر ان کے کردار ، مقصد ، افعال اور معاشرتی عزت و مرتبہ میں زمین و آسمان کا فرق محض اسلیے ہوتا ہے کہ فوجی جب کسی پر گولی چلاتا ہے تو اس کا مقصد اپنے وطن کا دفاع ہوتا ہے ، اس کی سوچ اپنی ذات سے بلند ہوکر تمام اہل وطن کےلیے ہوتی ہے ، جبکہ اس کے برعکس ایک مجرم یا بدمعاش کی سوچ محض اپنی نفسانی خواہشات یا حصول مال و زر کےلیے ہوتی ہے ۔
دین ، مذہب ، ملت یا معاشرتی و اخلاقی اقدار کیا ہیں ;238; یہ سب کچھ محض ’’مثبت طرز فکر ‘‘ کا نام ہیں ، منفی سوچ اور طرز فکر ہمیشہ غیر مذہبی ، غیر اخلاقی و معاشرتی ہوگی ، یہی فرق ہے جادو میں ، کرامت میں یا معجزے میں ۔
اپنی پوشیدہ لازوال طاقتوں کا مثبت استعمال کرنے والے ولی اورمتقی کہلاتے ہیں جبکہ انہی قوتوں کو تخریب کےلیے اپنی ذاتی حرص و ہوس کےلیے استعمال کرنے والے ’’جادوگر‘‘ قرار پاتے ہیں ۔

سحر و ساحر علامہ ابن خلدون کی نظر میں

شہرہَ آفاق مورخ و عالم علامہ ابن خلدون نے اپنی لازوال کتاب ’’ مقدمہ ابن خلدون ‘‘ میں ’’باب سحر‘‘ کے تحت سحر و ساحر کے حوالے سے نہایت عالمانہ اور محققانہ بحث کی ہے، علامہ ابن خلدون بھی سحریات کو مثبت اور منفی دو رخوں میں تقسیم کرتے ہیں ، یعنی معجزہ اورکرامت جو انبیا اور اولیا کا خاصہ ہے ، سحر کی مثبت قسم ہے ، کیونکہ اس مظاہرے میں انبیا اور اولیا کی اپنی نفسی یا روحانی صلاحیت کے ساتھ تائید و امدادِ الٰہی انہیں حاصل ہوتی ہے ، جیساکہ جادوگروں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعے میں ہم دیکھتے ہیں ، اسلیے ایسے مظاہر کو سحر کی اعلیٰ ترین اور اکمل ترین مثبت صورت قرار دیا گیا ہے اور معجزہ قرار دیا گیا ہے ۔
دوسری قسم میں وہ جادوگر یا روحی و روحانی عامل آتے ہیں جو اپنی قوت نفسی سے کام لے کر سحری اثرات پیدا کرنے پر قادر تو ہوتے ہیں مگر اپنے منفی طرز فکر کی وجہ سے انہیں تائید و امداد الٰہی حاصل نہیں ہوتی ، ان کا یہ عمل صرف اپنی ذات کےلیے ہوتا ہے اور اس سے صرف انہی کے مفاد وابستہ ہوتے ہیں ۔
اس دوسری قسم کو منفی طرزفکر میں شمار کیاگیا ہے اور علامہ ابن خلدون نے اس کی بھی 3 مزید اقسام بیان کی ہیں ، اس سلسلے میں سحرِ حلال اور سحرِ حرام کے مباحث بھی موجود ہیں ۔
اول: وہ جادوگر جو صرف اپنی قوت نفسی سے کام لے کر سحری اثرات پیدا کرے اور اس مظاہرے میں دوسری اشیا سے کوئی مدد نہ لے ، ایسے جادوگروں کو ’’حقیقی ساحر‘‘ یا ’’فطری ساحر ‘‘ کہا جائے گا ، ایسے ساحروں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے ، ماضی میں اس کی مثال روس کے ’’راسپوٹین ‘‘ یا یورپ کے بعض چودھویں اور پندرھویں صدی کے ساحروں میں دیکھی جاسکتی ہے اور موجودہ دور میں ;698380; کی اعلیٰ ترین صلاحیتوں کے حامل افراد کو بھی اس فہرست میں شامل کیا جاسکتا ہے، آج کل مغرب میں سحری قوتوں کے مالک افراد کو ’’سائیکک‘‘بھی کہا جاتا ہے، یہ الگ بات ہے کہ سائیکک پاورز کا میدان بہت وسیع ہے، اس میں سحری قوتوں کے مظاہرے کے علاوہ مستقبل بینی اور پیش گوئی کی صلاحیتیں بھی شامل ہیں ۔
دوسری قسم میں وہ جادوگر آتے ہیں جو اپنی قوت نفسی کے ساتھ مادّی اشیا سے بھی سحری اثرات پیدا کرنے میں مدد لیتے ہیں ، مثلاً ہڈیاں ، خاک و خون اور نباتات وغیرہ یا اعداد و حروف کی مخفی قوتوں سے کام لینے والے عامل، ایسے لوگ اپنی قوت نفسی میں ناقص تصور کیے جاتے ہیں ، کیونکہ انہیں مادّی طورپر مدد و تعاون کی ضرورت ہوتی ہے ، اس قسم کی بھی 3 مزید قس میں ہیں ۔
تیسری قسم جادوگروں کی شعبدہ بازی کہلاتی ہے اس قسم میں وہ لوگ شامل ہیں جو خود اپنی قوت نفسی سے کام نہیں لیتے یا وہ اس کے اہل نہیں ہوتے ۔ وہ صرف مادّی اشیا کی مدد سے اور اور اپنے تجربے اور مہارت کے زور پر حیرت انگیز شعبدہ بازی کرتے ہیں ، خیال رہے کہ شعبدہ بازی کی بھی 2 قس میں ہیں ، ایک قسم میں شعبدہ باز صرف اپنے ہاتھ کی صفائی یا ہنر مندی سے حیرت انگیز کمالات دکھاتا ہے، یہ قسم سحر و جادو کے ذیل میں نہیں آتی ، دوسری قسم کو اصطلاحاً ’’ سیمیا‘‘ کا نام دیا گیا ہے ، سیمیا کا علم اشیا کے پوشیدہ خواص سے بحث کرتا ہے ، مثلاً اونٹ کی ہڈی کی پوشیدہ یا سحری قوت یہ ہے کہ جس گھر میں یہ ہڈی موجود ہوگی وہاں دیمک نہیں آئے گی یا مرغی کے انڈے کا چھلکا چھپکلیوں کو بھکانے میں معاون ثابت ہوتا ہے ، بالچھڑ کی خوشبو پر بلی مسحور ہوجاتی ہے ، موتیا کے پھول کی خوشبو چھپکلی کےلیے نہایت پسندیدہ ہے ، مینڈک کی چربی ہاتھوں پر مل لی جائے تو آگ سے محفوط رہتے ہیں ، خرگوش کا بایاں تخنہ اگر کوئی عورت پاس رکھے تو شوہر اس کا مطیع و فرماں بردار ہوتا ہے ، الغرض ایسی بے شمار خصوصیات مختلف اشیا میں پائی جاتی ہیں جنہیں ان کے سحری خواص سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔
پتھروں کے سحری خواص بھی مشہور اور عام ہیں مثلاً لہسنیا (;67;at ;69;ye) پہننے والے سے جنات دوررہتے ہیں اور سحری اثرات سے تحفظ ملتا ہے ، نظر بد سے حفاظت ہوتی ہے ، ٹائیگر آئی پہننے سے ہمت و حوصلے میں اضافہ ہوتا ہے ، یاقوت سرخ پہننے سے دوران خون تیز ہوتا ہے اور خون میں سرخ ذرات کی مقدار بڑھتی ہے ، زرقون کا نگینہ سورج اور چاند گہن کے منفی اثرات سے محفوظ رکھتا ہے ،ہیرا پہننے والی خواتین بانجھ پن سے محفوظ رہتی ہیں اور حمل بھی محفوظ رہتا ہے، فیروزہ علم و ذہانت عطاء کرتا ہے، پیلا پکھراج (;89;ellow suphire) وسعت و ترقی کا باعث ہوتا ہے جب کہ نیلم ذہنی سکون کا باعث بنتا ہے مگر خیال رہے کہ کوئی بھی اسٹون اس وقت تک نہیں پہننا چاہیے جب تک آپ کے پیدائشی زاءچے کے مطابق یہ معلوم نہ ہو کہ وہ آپ کے لیے سعد ہے یا نحس ، ایسی صورت میں فائدے کے بجائے نقصان کا اندیشہ رہتا ہے اور اکثر لوگ یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ ہم نے فلاں اسٹون پہنا تو سخت نقصان اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ۔
مختلف خوشبویات کے اپنے سحری اثرات موجود ہیں اور موجودہ جدید دور میں اس پر بہت تحقیق کی گئی ہے چنانچہ موقع محل کے اعتبار سے مخصوص عطریات اور پرفیومز بازار میں ملتے ہیں ، خوشبویات کے اثرات پر شاید فرانس میں ’’پرفیوم‘‘ کے نام سے ایک بہت اعلیٰ درجے کی فلم بھی بنائی گئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ مختلف قسم کی خوشبویات کس طرح اپنا اثر دکھاتی ہے اور ان کی تیاری میں کیسے فارمولے استعمال کیے جاتے ہیں ، سب جانتے ہیں عطرِ حنا جسے عطرِ سہاگ بھی کہا جاتا ہے، اپنی گرم تاثیر کی وجہ سے دوران خون کو تیز کرتا ہے، اس عطر کا استعمال عام طور سے شادی کے موقع پر دولہا دولہن کو کرایا جاتا ہے، اس کی تاثیر کے سبب اسے سرد موسم کا عطر کہا جاتا ہے، ایسی بے شمار مثالیں دی جاسکتی ہیں ۔
قصہ مختصر یہ کہ جانوروں کے جسمانی اعضا ، معدنیات و نباتات کا علم اسی ذیل میں آتا ہے ، جب کہ ان چیزوں کے طبی خواص کا علم ‘‘کیمیا‘‘ کہلاتا ہے ، اُلّو، ہدہد،چمگادڑ،سیاہ بلی اور بہت سے دیگر جانوروں سے متعلق سیمیا کے اعمال سے پرانی کتابیں بھری پڑی ہیں ،بے شمار لوگ سیمیا کے اعمال کے لیے سرگرداں رہتے ہیں لیکن یہ علم اتنا آسان نہیں ہے جو ہر شخص حاصل کرسکے، علم سیمیا میں مہارت حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان جڑی بوٹیوں ، جانوروں ، ہڈیوں ، خون اور دیگر تمام اشیا کے باطنی خواص سے واقفیت رکھتا ہو، مزید یہ کہ علم نجوم پر بھی دسترس رکھتا ہو اور علم الاعداد و علم الحروف پر بھی اسے عبور حاصل ہو، یہ شرائط پوری کرنا ہمہ شما کے بس کی بات نہیں ہے، اپنے قارئین کی دلچسپی کے لیے علم سیمیا کا ایک نادر عمل نمونے کے طور پر ہم یہاں پیش کر رہے ہیں جس سے اندازہ ہوگا کہ بظاہر بہت سادہ اور آسان نظر آنے والا یہ عمل درحقیقت کس قدر پیچیدہ ہوسکتا ہے ۔ اس عمل کے ذریعے دولت کی فراوانی ہوتی ہے ۔

فراوانی دولت کا عمل

ایک جنگلی بٹیر کا جوڑا حاصل کریں ، خیال رہے کہ آج کے زمانے میں بٹیر کی فارمنگ بھی ہوتی ہے اور بازار میں زیادہ تر فارمی بٹیر دستیاب ہیں جو لوگ شوق سے کھاتے ہیں ، اس بٹیر کے جوڑے کو ایسے وقت پر اپنے گھر ، دکان یا دفتر میں لائیں جب سیارہ مشتری باقوت اور نحوست سے پاک ہو، قمر اپنے گھر سرطان یا شرف کے گھر میں ہو، دن جمعرات کا ہو اور ساعت مشتری کی ہو، بس اتنا ہی کام کرنا ہے ، اس کے بعد گھر میں یا کاروباری جگہ پر دولت کی بارش شروع ہوجائے گی، اب پیچیدگی کیا ہے ;238; اگر آپ علم نجوم نہیں جانتے تو آپ سیارہ مشتری کی باقوت اور نحوست سے پاک پوزیشن معلوم نہیں کرسکتے، اسی طرح اگر آپ علم الساعات سے نا واقف ہیں تو مشتری کی ساعت سے بے بہرا ہوں گے ۔
چاند کی 28 منازل مقرر ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں بھی آیا ہے، ہر منزل کے اپنے عجیب اسرار ہیں ، ان منازل قمری میں خصوصی طلسمات تیار کیے جاتے ہیں ، ان کا تعلق بھی علم سیمیا سے ہے، ہم نے اپنی منازل قمری کی کتاب ’’اک جہان حیرت‘‘ میں چند ایسے طلسمات کی تیاری کا طریقہ دیا ہے اور منازل قمری کے عجائبات و اسرار کی نشان دہی کی ہے لیکن خیال رہے اللہ اگر توفیق نہ دے ، انسان کے بس کا کام نہیں ۔

استدراج یا سفلی و شیطانی اعمال

جادو کےلیے ایک اصطلاح ’’استدراج‘‘ کی بھی استعمال ہوتی ہے لیکن ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ استدراج تخریبی یا شیطانی قوتوں کے اوج کمال کا نام ہے ، جس میں مادی مظاہر و اعراض بظاہر استعمال نہیں ہوتے اور جادو ، استدراجی قوت کا کمتر یا ناقص رخ ہے جیساکہ ہم نے پہلے دوسری قسم کے حوالے سے وضاحت کی ہے ، استدراج میں جادوگر شیطانی قوتوں سے کام لیتاہے ، جیساکہ شیخ وحید بالی یا دیگر صاحبان علم نے نشاندہی کی ہے اور اس حوالے سے جادوکی مختلف اقسام بھی بیان کی ہیں جو درج ذیل ہیں :
-1 سحر التفریق : یعنی عداوت اور جدائی پیدا کرنے کا جادو
-2 سحر المحبتہ : یعنی پیار محبت اور عشق پیدا کرنے کا جادو
-3 سحر التخیل: یعنی خیالات بدلنے اور وہم میں مبتلا کرنے کا جادو
-4 سحر الجنون :یعنی پاگل اور حواس باختہ کرنے کا جادو
-5 سحر الخمول: یعنی کم زوری ، سستی و کاہلی اور جوڑوں کا درد پیدا کرنے کا جادو
-6 سحر الھواتف : یعنی غیبی آوازوں کے ذریعے پریشان کرنے کا جادو
-7 سحر المرض : یعنی مختلف بیماریوں میں مبتلا کرنے کا جادو
-8 سحر النزیف : یعنی خون حیض جاری کرنے کا جادو
-9 سحر التعطیل الزوج :یعنی شادی روکنے کا جادو
-10 سحر الربط عن الزوجۃ :یعنی مرد کی قوت جماع ختم کردینے کا جادو ۔
جادو کی مندرجہ بالا اقسام میں بقول مسلم عاملین جنات و شیاطین سے مدد لی جاتی ہے لیکن اس نظریے سے کلّی طورپر اتفاق کرنا ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ مندرجہ بالا تمام اقسام سے متعلق اعمال و مشاغل دیگر طریقوں سے بھی انجام پاتے ہیں ، لہٰذا صرف شیاطین و جنات کی قید لگانا مناسب نہیں ہوگا ، کیا خرگوش کے ٹخنے کی تاثیر کو سحر المحبتہ کا نمونہ نہیں سمجھا جاسکتا ;238; عرب میں قدیم زمانے سے یہ روایت موجود رہی ہے کہ دو افراد کے درمیان جدائی ڈالنے کےلیے انہیں ایک ہی کنگھا استعمال کرایا جائے ، کیا یہ عمل سحر التفریق کے ذیل میں نہیں آتا ;238; اسی طرح خیالات بدلنے اور وہم میں مبتلا ہونے کی اور بھی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں تو کیا انہیں سحر التخیّل قرار دیا جائے گا ;238; خاص طورپر نفسیاتی امراض اس ذیل میں آتے ہیں اور ضروری نہیں ہے کہ ہر مریض کے معاملے میں شیاطین و جنات کی کارفرمائی موجود ہو ، اسی طرح سحر الجنون یا دیگر اقسام پر بحث کی جاسکتی ہے ، ہمارے تجربے اور مشاہدے میں تو یہ بھی ہے کہ وقت کے پھیر میں آئے ہوئے لوگ سیارگان کے برے اثرات کے باعث مختلف بیماریوں یا مشکلات کا شکار ہوتے ہیں اور اپنے پیدائشی زاءچے کی خصوصیات کے سبب نامناسب حالات اور ماحول میں جب ان کی سائیکی بگڑتی ہے تو سحر الجنون یا سحر التخیل یا سحرالتعطیل الزوج یعنی شادی میں بندش جیسے مظاہرے سامنے آتے ہیں ۔
مذکورہ بالا سحری اقسام کی شناخت اور علامات کے حوالے سے جو تفصیل بیان کی گئی ہے وہ بھی معتبر اور قابل اعتماد نہیں ہے ، اس تفصیل کے حوالے سے تو ہر مسئلہ سحریات اور شیاطین کے ذیل میں آجائے گا ، شاید اسی قسم کی سحری تعریف اور سحری اثرات کی علامات بیان کرکے معاشرے میں سحر و جادو کے حوالے سے بہت زیادہ شکوک و شبہات پیدا کردیے گئے ہیں اور نتیجے کے طورپر ہرشخص اپنے ہر مسئلے کو سحر و جادو سے جوڑ بیٹھا ہے ، مثلاً سحر التفریق کی علامات یہ بیان کی گئی ہیں ۔

سحر التفریق کی علامات

’’ اچانک حالات ایسے تبدیل ہوتے ہیں کہ آپس میں محبت کرنے والے ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگتے ہیں ، دونوں کے درمیان بہت زیادہ شکوک و شبہات پیدا ہونے لگ جاتے ہیں ، آپس میں کسی قسم کا عذر قبول نہیں کرتے ، معمولی سے اختلاف کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں ، میاں بیوی ایک دوسرے کو بد صورت لگنے لگتے ہیں ، اگرچہ خوبصورت ہوں ، مسحور اپنے ساتھی کے ہر کام کو برا سمجھتا ہے ، مسحور ہر اس جگہ کو ناپسند کرتا ہے جہاں فریق ثانی موجود ہو ، مثلاً گھر کے باہر بیوی کو اپنا خاوند اچھا لگتا ہے لیکن جونہی خاوند گھر میں داخل ہوتا ہے بیوی کو شدید قسم کی الجھن اور ذہنی کوفت ہونے لگتی ہے یا کاروباری پارٹنر اگر گھر آئے تو اچھا لگتا ہے لیکن دفتر یا کاروباری جگہ پر برا لگتا ہے ۔ ‘‘
ان علامات کی بنیاد پر کسی کو سحر زدہ قراردینا کوئی قابل اعتماد تشخیص نہیں ہے ، ہمارا مشاہدہ ہے کہ دو محبت کرنے والے جو بظاہر باہمی طورپر ایک دوسرے کی کشش محسوس کرکے شادی کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں مگر حقیقتاً دونوں کے مزاج اور فطرت میں فرق ہوتا ہے لہٰذا عملی زندگی میں قدم رکھتے ہی ان کے درمیان اختلافات شروع ہوجاتے ہیں اور نتیجے کے طورپر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دونوں ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگتے ہیں ، دونوں کے درمیان بہت زیادہ شکوک و شبہات پیدا ہونے کی وجہ بھی دونوں کے فطری اور مزاجی اختلافات ہوتے ہیں اور جب ایک بار یہ فطری اور مزاجی اختلاف کھل کر سامنے آجاتے ہیں تو پھر کچھ بھی ہوسکتا ہے ، اسی طرح دیگر اقسام پر بھی عقلی اور مادّی دلائل دیے جاسکتے ہیں ۔

سحر اور سحرزدہ کی پہچان

ایک دلچسپ صورت حال یہ بھی ہے کہ ہمارے ماہرینِ روحانیات سحرزدہ کی پہچان اور سحری اثرات کی جو علامتیں بیان کرتے ہیں وہ بھی خاصی گمراہ کن ہےں ، بے شک ایسی علامات کسی سحر زدہ میں موجود ہوسکتی ہیں مگر حتمی طور پر ان کا سبب سحرو جادو کو قرار نہیں دیا جاسکتا کیوں کہ یہ علامات بعض دیگر امراض میں بھی پائی جاتی ہیں ، مسئلہ یہ ہے کہ طب یونانی اور ایلو پیتھی چوں کہ ایسی علامات کو اہمیت نہیں دیتی لہٰذا انہیں سحری اور ماورائی اثرات کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے یا پھر ایلوپیتھک ڈاکٹر حضرات ایسے کیس کو ماہرینِ نفسیات کے حوالے کردیتے ہیں ، صرف اور صرف ہومیو پیتھی ایسا طریقہ علاج ہے جو انسان کی جسمانی بیماریوں کے ساتھ ساتھ نفسیاتی اور روحانی امراض سے بھی بحث کرتا ہے کیوں کہ ہومیو پیتھک دواؤں کی پروونگ جن خطوط پر انجام دی جاتی ہے وہ ایک نہایت جداگانہ طریقہ ء کار ہے، علاج بالمثل کے اصول پر ہر دوا کو تجرباتی طور پر انسانوں پر ہی آزمایا جاتا ہے اور اس کے نتاءج کو نوٹ کیا جاتا ہے چناں چہ ہومیو پیتھی وہ واحد طریقہ علاج ہے جس میں توہم ، شک، بدمزاجی، عاداتِ بد جن میں چوری، چغلی، بدگوئی، گالم گفتار، مار پیٹ،چڑچڑاپن ، پیش گوئی ،اشراقیت الغرض بے شمار ایسی علامتوں اور بیماریوں پر توجہ دی گئی ہے جن پر کسی دوسرے طریقہ ء علاج میں توجہ نہیں دی گئی اور ان تمام اخلاقی یا روحانی خرابیوں کے لیے دوائیں موجود ہیں ، ہم شاید پہلے اپنے کسی مضمون میں عشق کا بھوت اتارنے کی ہومیو پیتھک دوا لکھ چکے ہیں اور ایسی ادویات کو اپنے مریضوں پر کامیابی سے استعمال بھی کرچکے ہیں ،شاید ہمارے قارئین کو یاد ہو ہم نے اپنے ایک ایسے مریض کا احوال لکھا تھا جس نے امام مہدی ہونے کا دعویٰ کردیا تھا ۔
عزیزان من! جادو کے موضوع پر گفتگو جاری ہے اور شاید یہ موضوع کچھ زیادہ ہی طوالت اختیار کرتا ہوا نظر آرہا ہے،امید ہے کہ آپ اسے پسند کر رہے ہوں گے اور آپ کی معلومات میں اضافے کا سبب بن رہا ہوگا مگر اس کے باوجود اگر آپ کے ذہن میں کچھ نئے سوالات موجود ہوں تو ہ میں ضرور لکھیے یا ہمارے کسی بات سے اختلاف ہو تو اس کا بھی ضرور اظہار کیجیئے ، اگر آپ کے علم میں سحرو جادو یا آسیب و جنات سے متعلق ایسے واقعات یا حالات ہوں جو آپ کے لیے حیرت انگیز اور نہ سمجھ میں آنے والے ہوں تو وہ بھی ہ میں ضرور ارسال کریں بذریعہ خط یا ای میل، ہم انشاء اللہ ایسے سوالات اور واقعات کو اس بحث میں ضرور شامل کریں گے اور اپنی بساط کے مطابق اُس کا جواب دینے کی کوشش بھی کریں گے ۔ (جاری ہے)

پیر، 19 اکتوبر، 2020

نفسِ انسانی کی ہیّت و حقیقت (3)

جادو اور مظاہرِ نفس کی بوالعجبیوں کا ماجرا

جادو کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے انسانی ذات یا نفس انسانی کو سمجھنا ضروری ہے کیوں کہ یہ تمام کائنات اپنی تمام تر وسعتوں اور عظمتوں کے ساتھ ’’نفس انسانی‘‘ کے سامنے صرف ایک نقطے کی سی حیثیت رکھتی ہے یا اس بات کو یوں سمجھ لیں کہ یہ دنیائے آب و گل محض ایک ثانوی مظہر ہے جس کا مقصد و مدعا صرف اور صرف انسان کی ضروریات کا پورا کرنا اور اس کی دل بستگی کا سامان مہیا کرنا ہے ۔

ہمارے موجودہ جدید معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم نے بنیادی حقائق کو چھوڑ کر ایک ثانوی شے یعنی مادے میں دلچسپی لینا شروع کردی ہے،ہماری تحقیق کا مرکز و محور ’’اصلِ حیات‘‘ کے بجائے ’’لوازم حیات‘‘ قرار پاچکے ہیں اور مظہر حیات یا نفس انسانی کا عرفان حاصل کرنے کی کوشش اوہام ، فرسودہ یا فضول خیال کی جاتی ہے ۔

یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ انسان کے تمام افعال و کردار اور خصوصاً روحانی یا روحی صلاحیتوں کے پیچھے نفس انسانی کی خفیہ اور بے پناہ قوت موجزن ہوتی ہے،چناں چہ جب تک ہم نفس انسانی کی ہیّت یا اس کی حقیقت کے بارے میں تھوڑا بہت نہ جان لیں گے ، کسی بھی سحری مظاہرے کی توجیح کرنا ممکن نہ ہوگا مگر اس دور جدید میں تجربہ پسندی کا رجحان اس قدر بڑھ گیا ہے کہ حکمت نفس کی جگہ نفسیات نے لے لی ہے اس پر طرّہ یہ کہ نفسیات داں حضرات مظاہر نفس کے بجائے انسانی کردار کی نیرنگیوں کے مطالعے پر زور دے رہے ہیں ، جدیدیت کے دعوے دار ذہن اور مادّہ پرست تو خیر محسوسات ہی کو تمام علوم و فنون کی بنیاد سمجھتے ہوئے اس سے آگے سوچنا ضروری نہیں سمجھتے، وہ تصوریت کو غیر منطقی جانتے ہیں ، انسانی نفسیات کے مسائل کو اس کے دماغ تک محدود کرکے روح اور روحیات کا باب بند کردیا گیا ہے ۔

ایسی صورت میں نفسِ انسانی کو سمجھنے کے لیے ایک ہی ذریعہ باقی رہتا ہے یعنی ’’وجدانیات‘‘ مگر مسئلہ تو یہ ہے کہ وجدانیات بھی اہل علم کے درمیان ایک متنازع مسئلہ ہے ، مختلف ذہن وجدان کی تعریف اپنے اپنے انداز میں مختلف کرتے ہیں ، اگر ہم کسی ایک تعریف کے حوالے سے وجدان کو سمجھ لیں اور اس کے ذریعے کائناتی حقیقت کو پانے کی کوشش کریں گے تو خواص کا مخصوص گروہ معترض ہوگا، اسی طرح اگر ہم وجدان کو کسی دوسرے زاویے سے بیان کرنا چاہیں تو بھی مشکلات موجود ہیں ۔

اس تمام بحث کے دوران میں ہماری کوشش ہوگی کہ ’’جادو‘‘ کے بارے میں تمام گروہی و فکری میلانات سے بچتے ہوئے ممکنہ حد تک حقائق پر گفتگو کرسکیں ۔

جادو کی حقیقت کو سمجھنے یا سمجھانے کے لیے اولاً انسان کو سمجھنا ہوگا، اس کے نفس کی کٹھنائیوں سے گزرنا ہوگا، نفس کی پُر پیچ گہرائیوں میں اترنا ہوگا اور فکر و عمل کے ساتھ روح اور وجدان کی شمع کو بھی روشن کرنا ہوگا، تب کہیں جاکر حقائق کے خزانے سے چند درِ آبدار ہاتھ لگیں گے ۔

آئیے پہلے چند نکات ’’نفس انسانی‘‘ کی ہیّت و حقیقت کے بارے میں بیان کرتے چلیں تاکہ جادو سے متعلق مباحث کو سمجھنے میں انسان کے کردار اور مقام کا تعین ہوسکے ۔

صاحبان علم و دانش اور ماہرین نفسیات نے ’’مظاہرِ نفس کلّی‘‘ کی سات اقسام بیان کی ہیں ۔

اول ایسی کیفیت یا حالت جس کا احساس ’’لمس‘‘سے ہو گویا یہ قسم چھونے سے تعلق رکھتی ہے،مثلاً گرمی سردی، نرم و سخت اور جسم کا حجم وغیرہ ’’لمس‘‘ کے جادو اور اعجاز سے انکار ممکن نہیں ۔

دوسری ضمنی قسم میں ’’ذوقِ زبان‘‘ ہے، ہر قسم کا ذائقہ مثلاً تلخ و ترش، میٹھا سیٹھا اور نمکین وغیرہ زبان کا مصرف تو اور بھی ہے لیکن یہاں وہ زیر بحث نہیں ۔

تیسری قسم میں وہ اشیاء یا مظاہر آتے ہیں جن کا ادراک نگاہوں کے ذریعے ہوتا ہے مثلاً دشت و کوہسار، کھیت و کھلیان ، اٹکھیلیاں کرتے غزالانِ دشت، یہ سب ہی ایسے مظاہر ہیں کہ جن کا احساس بذریعہ بصارت ہوتا ہے ۔

چوتھے نمبر پر ایسی تمام حالاتیں یا اعراض جن کا احساس سماعت سے ہو، مظاہرِ نفس کی چوتھی قسم میں شامل ہیں ، آواز تو بجائے خود ایک جادو ہے، سُر جب کائنات کی وسعتوں میں پھیلتے ہیں تو پھر انسان بے اختیارانہ کیفیت و جذب کے عالم میں تھرکنے لگتا ہے،آواز کا جادو تن بدن میں آگ لگادیتا ہے، سُر کی طاقت کہیں توڑتی ہے تو کہیں روٹھے ہوئے دلوں کو جوڑتی بھی ہے،عشقیہ نغمے ہوں یا آزادی کے ترانے، یہ سب ہی سماعت سے متعلق ہیں ، محفل سماع تو یوں بھی بعض روحانی سلسلوں میں باقاعدہ عبادت کا سا درجہ رکھتی ہے اور دنیا میں ایسے مذاہب و عقائد بھی موجود ہیں جن میں موسیقی عبادت و مذہبی رسومات کا لازمی جز قرار دی گئی ہے اور اس کا جادو بھی سر چڑھ کر بولتا ہے ۔

پانچویں قسم ’’حسِ شامہ‘‘ کہلاتی ہے یعنی سونگھنے کی حس، جس میں ہر طرح کی خوشبو و بدبو وغیرہ شامل ہیں ۔

چھٹی قسم میں ایسے تمام مظاہر و اعراض شامل ہیں جو محسوس بالحواس نہیں ہیں ،یعنی انہیں اپنے حواس کے ذریعے ہم محسوس نہیں کرسکتے اور جن کا ادراک و احساس دائرۃ حواس سے زیادہ صرف عقلی طور پر ثابت و مسلّم ہے، مثلا الٹرا ساوَنڈ لہریں یا فضائے بسیط میں پائی جانے والی دیگر اسی قسم کی شعائیں ، کاسمک شعائیں اور سیارگان سے آنے والے اثرات وغیرہ جیسا کہ چاند کے اثرات جو پانی میں اتار چڑھاوَ لاتے ہیں ۔

ساتویں قسم میں ایسے اعراض یا معاملات و حقائق شامل ہیں جو نہ تو محسوس بالحواس ہیں اور نہ ہی مدرک بالعقل یعنی ایسے تمام معاملات جنہیں نہ تو حواسِِ خمسہ کے ذریعے محسوس کیا جاسکے اور نہ ہی عقل کی رسائی ان تک ہو مگر انسانی وجدان کے لیے وہ ناقابل انکار ہوں ، مثلاً ’’احساسِ ذات ‘‘یا ’’انسانی انا‘‘ اور اس کے ’’احساساتِ نفسی‘‘ وغیرہ ۔ محبت، نفرت اور انتقام کے جذبات وغیرہ ۔

مظاہر کی اس تقسیم سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ مظاہرِ مادّی کے علاوہ ایک قسم ایسے مظاہرو اعراض کی بھی ہے جو ہر طرح کے حجم و جسم سے بری ہے اور ناقابل تجزیہ و اقسام ہے، اس کا تعلق براہِ راست نفسِ انسانی سے ہے، سامنے کی بات ہے، ہمارا احساس ذات بجائے خود غیر متغیّر و غیر متحیّر ہے اور ابھی تک عقلی طور پر نامعلوم بھی مگر اس کے باوجود ہم اس کا گویا اپنی ذات کا انکار نہیں کرسکتے ، ہم بغیر کسی دلیل و حجت کے اپنے وجود کو مانتے ہیں ۔

سحر اور ساحرکی اقسام

جادو سے متعلق مسائل و معاملات کو سمجھنا اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک انسان اور انسانیت کا صحیح مفہوم سمجھ میں نہ آجائے ، اس حوالے سے پھیلی ہوئی غلط فہمیوں کا ازالہ ضروری ہے جو انسانی وجود اور اس کی پوشیدہ صلاحیتوں کے بارے میں پیدا ہوتی رہی ہیں ، اسیلیے ’’مظاہر نفس کلّی‘‘ کی اقسام بیان کی گئی ہیں کیونکہ جادو کی حقیقت میں انسان کی قوت نفسانیہ کے کردار کو نظر انداز کرکے ہم مسئلے کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتے ۔

انسان اور جنات و شیاطین

مذہبی نظریات کی روشنی میں ہمارے علماَ نے انسان کی قوت نفسانیہ کے کردار کو نظر انداز کیا ہے اور تمام زور جادو کے حوالے سے جنات و شیاطین کے کردار پر ڈال دیا ہے ، ہمارے خیال میں یہ نقطہَ نظر جادو کے قدیم علم و فن کی بنیادی مبادیات کے بھی خلاف ہے اور انسان کی پوشیدہ قوتوں کی بھی نفی کرتا ہے، بے شک جادو کی بعض اقسام میں جنات و شیاطین یا ہمزاد کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا مگر جادو کی ایسی اقسام بھی موجود ہیں جن میں جنات و شیاطین سے کام نہیں لیا جاتا بلکہ ایک حقیقی جادوگر صرف اپنی قوت نفسانیہ سے کام لے کر سحری اثرات پیدا کرتا ہے اور وہ جادوگر بہرحال ایک انسان ہوتا ہے ، چنانچہ انسان کی پوشیدہ صلاحیتوں اور قوتوں کا ادراک ضروری ہے ، یہ ایک الگ بحث ہوگی کہ کوئی انسان اپنی پوشیدہ صلاحیتوں اور قوتوں کا استعمال جائز طورپر کرتا ہے یا ناجائز ، یعنی اس کا طرز فکر تعمیری ہے یا تخریبی ;238;

انسان، حیوانِ ناطق یا قرآنِ ناطق

دوسری طرف محسوسات ہی کو واحد اور یقینی علم و ادراک اور منتہائے علم سمجھنے والے ذہن یا علم نفسیات کے جدید ماہرین منجملہ دیگر حیوانات کے انسان کو بھی ایک ترقی یافتہ حیوان ہی سمجھتے ہیں ، ان میں ایسے دانشوروں کی کمی نہیں جو حیوانات میں ارتقائی نشوونما کے قائل ہیں اور انسان کو بھی ایک ارتقائی عمل کے ذریعے حاصل ہونے والا انتہائی ترقی یافتہ شکل کا حیوان سمجھتے ہیں ، محض ڈارون کے نظریہ ارتقا کی ہی یہ خصوصیت نہیں کہ وہ انسان کو ترقی یافتہ حیوان سمجھتا ہے ، انسان کی تعریف ’’حیوان ناطق‘‘ خاصی پرانی اور قدیم ہے لیکن ان معروضات سے قطع نظر اگر انسان اور انسانیت کو مذہب اورالہامی کتب کی روشنی میں دیکھا جائے تو انسان کا ایک مختلف تصور ذہن میں ابھرتا ہے ، ایسا تصور جس میں عظمت بھی ہے ، بڑائی بھی اور جو اس کائنات کے تمام مظاہر کا حکمران بھی ہے ، مذہب کی روشنی میں انسان ’’حیوان ناطق ‘‘نہیں بلکہ ’’ قرآن ناطق‘‘ ہے ۔

اب ضروری ہے کہ ’’قرآن ناطق‘‘ کے ذیل میں انسان کے مفہوم کو سمجھ لیا جائے ، انسان کی تعریف خود بہ خود آپ کے ذہن میں آجائے گی ، انسان کی تعریف کا یہ انداز اتنا جامع ، مکمل اورموَثر ہے کہ اس میں جہانِ معنی کا ایک سمندر ٹھاٹھیں مارتا دکھائی دیتا ہے لیکن یہاں اس بات کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ ’’قرآن ناطق‘‘ کی تعریف ہر شخص پر صرف اس وقت ہی صادق آتی ہے جب وہ اس کا ثبوت اپنی ذات کے عرفان کی صورت میں پیش کردے ، یعنی جب تک انسان نفس کلی کے عرفان کا حامل نہ ہوگا وہ ’’قرآن ناطق‘‘ نہیں کہلا سکتا ، ذات کے عرفان تک پہنچنے کےلیے ہ میں اپنے نفس کے راستے سے ہوکر گزرنا پڑے گا ، اس حوالے سے حضور اکرم ﷺ کا ارشاد نہایت قابل توجہ ہے :

’’ جس نے اپنے نفس کہ پہچانا اس نے اپنے ربِ کو پہچانا ‘‘

طرزِ فکر کا فرق

اس نکتے پر ہمارا زور اسلیے ہے کہ روحی اور روحانی صلاحیتوں کے مالک اشخاص آسمان سے براہ راست نہیں اترا کرتے ، وہ بھی ہمارے اور آپ کے جیسے انسان ہی ہوتے ہیں ، ہاں ، فرق اگر ہوتا ہے تو ہمارے اور ان کے طرز فکر میں ، یہ فرق بہ ظاہر تو بہت معمولی سمجھا جاتا ہے اور اسے خاطر خواہ اہمیت بھی نہیں دی جاتی مگر یاد رکھیے کہ صرف اور صرف طرز فکر ہی کے فرق سے ایک شخص بلندیوں پر فائز ہوتا ہے اور دوسرے کا مقدر پستیاں ٹھہرتی ہیں ، ایک انسان وہ ہے جو چند سکّوں کی خاطر جانوروں کی طرح اپنے جیسے انسانوں کو نوچتا کھسوٹتا ہے ، محض وقتی آرام یا لمحاتی تسکین کےلیے ذلت و ظلمت کی ان گہرائیوں میں اتر جاتا ہے کہ جن سے شیطان بھی شرمائے اور ایک وہ بھی انسان ہے جو ببانگ دہل کہتا ہے ;242;مقام بندگی دے کر نہ لوں شان خداوندی ۔

انسان اور انسان میں اتنا فرق ;238; آخر کیوں ;238;

جی ہاں ! یہ محض طرز فکر کا فرق ہے ، محض سوچنے کے انداز میں تفاوت سے انسان اتنا بلند اور اتنا پست ہوجاتا ہے کہ کہیں تو وہ جانوروں سے بھی بد تر ٹھہرے اور کہیں شان خدا وندی بھی اس کی نظروں میں نہ جچے ۔

انسان کی صلاحیتوں ، مرتبے ، قوتوں اور عظمت و بلندی میں پایا جانے والا یہ فرق ہ میں دعوت فکر دے رہا ہے، سوچنے اور انداز فکر میں مثبت تبدیلیاں لانے پر اکسا رہا ہے تاکہ ہم بھی حیوان ناطق کی صفوں سے نکل کر قرآن ناطق کی اولین و معزز صفوں میں جگہ پاسکیں ۔

ائمہ اور صوفیا کی رائے

خواجہ حسن بصری ;231; فرماتے ہیں ’’ جادوگر کا کوئی دین یا مذہب نہیں ہوتا ‘‘ یہاں یہ بات لازماً ذہن میں رہے کہ جادو سے مراد منفی طرز فکر ہوتی ہے ، مذہب سے متعلق کتب اور علماَ و فقہا نے جادوگروں کے متعلق مختلف آراَ کا اظہار کیا ہے ، امام مالک ;231; ، امام احمد بن حنبل ;231; اور امام اعظم ابو حنیفہ ;231; اس کے کفر کے قائل ہیں جبکہ علماَ کی کثیر تعداد کے نزدیک اگر جادوئی اثرات ادویات یا بخورات سے متعلق ہوں تو پھر یہ کفر نہ ہوگا ۔

اس ضمن میں حضرت امام شافعی;231; کا قول ہے کہ ’’ ہم جادوگر سے پوچھیں گے کہ وہ اپنے جادو کے بارے میں ہ میں بتائے ، اگر جادوگر کا بیان کفر کی حد تک پہنچ جائے جیساکہ اہل بابل کا عقیدہ تھا تو پھر وہ کافر ہے لیکن اگر جادوگر کی باتیں کفر کی حد تک نہیں پہنچتیں تو ہم یہ دیکھیں گے کہ آیا یہ شخص جادو کو مباح سمجھتا ہے یا نہیں ;238; اگر مباح سمجھے تو اس پر کفر کا اطلاق ہوگا ‘‘

دراصل ذہن و مذہب کی رو سے جادوگروں کو اسلیے ناپسندیدہ اور بعض اوقات کافر قرار دیا جاتا ہے کہ یہ لوگ اپنی قوت سے تخریب کا کام لیتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں سے بنی نوع انسان کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔

ابن قدامہ اپنی کتاب ’’الکافی‘‘ میں فرماتے ہیں ’’ سحر ان تعویذ گنڈوں اور دھاگوں کی گانٹھوں کو کہتے ہیں جو انسان کے بدن اور خصوصاً دل پر اثر کرتے ہیں ، جن کی وجہ سے انسان بیمار ہوجاتا ہے اور کبھی کبھی اس کی موت بھی واقع ہوجاتی ہے اور بعض اوقات میاں بیوی میں پھوٹ تک پڑجاتی ہے ۔ ‘‘(جاری ہے)

ہفتہ، 3 اکتوبر، 2020

2021 بھارت میں داخلی انتشار کا سال

مودی حکومت کو خطرات ،احتجاجی تحریکوں کا امکان

برصغیر ( انڈوپاکستان) ایک طویل جدوجہد کے بعد 15 اگست 1947ءکو آزاد ہوا اور اس طرح دو قومی نظریے کی بنیاد پر دو نئے ملک وجود میں آئے، بھارت اور پاکستان،ابتدا ہی سے دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات شروع ہوگئے تھے جن میں سرفہرست کشمیر کا مسئلہ تھا جو آج تک بھی تنازعات کا باعث ہے۔

مختلف تنازعات کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان چھوٹی بڑی کئی جنگیں ہوچکی ہیں، بھارت پاکستان کے مقابلے میں رقبے اور آبادی کے لحاظ سے بہت بڑا ملک ہے، پاکستان آزادی کے بعد دو حصوں میں تقسیم تھا، مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان لیکن بدقسمتی سے مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا اور مغربی پاکستان صرف پاکستان رہ گیا، یہاں ہمارا موضوع پاکستان نہیں ہے، بھارت ہے۔

15 اگست 1947 شب صفر بج کر صفر منٹ بمقام دہلی وجود میں آنے والا بھارت اپنے زائچہ ءپیدائش کے مطابق کیسا ہے اور آئندہ کیسا رہے گا؟ اس موضوع پر گفتگو ہوگی۔

زائچہ بھارت




بھارت ہمیشہ سے مختلف مذاہب ،عقائد اور قومیتوں کا مجموعہ ہے، شاید ہی دنیا میں کوئی ملک اس حوالے سے بھارت کا ہم پلہ ہوگا جہاں ہندو ،سکھ، عیسائی، مسلمان، بڈھست، جین، یہودی، پارسی،الغرض بے شمار مذاہب اور عقیدے سے تعلق رکھنے والے آباد ہیں، مزید طرفہ تماشا رنگ و نسل اور قومیتوں کا تضاد بھی نظر آتا ہے،بھارت کی تحریک آزادی میں حصہ لینے والے قائدین جن میں پنڈت جواہر لال نہرو اور ان کے رفقاءسرفہرست ہیں، اس حقیقت کو سمجھتے تھے کہ اس قدر مختلف النوع آبادی کو متحد اور ترقی کے راستے پر گامزن رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ریاست کو کسی مخصوص مذہب یا عقیدے کے بجائے سیکولر اسٹیٹ بنایا جائے، چناں چہ ابتدا ہی سے ملک کے آئین کو بھی سیکولر بنیادوں پر ترتیب دیا گیا، جواہر لال نہرو کی سیاسی جماعت کانگریس پارٹی جو تحریک آزادی میں ایک نمایاں کردار ادا کرکے ملک بھرمیں مقبولیت کے جھنڈے گاڑ چکی تھی، اس میں بھی سیکولر ازم کو نمایاں کیا گیا، ملک کے پہلے وزیر تعلیم ایک مسلمان مولانا ابوالکلام آزاد تھے، بعد میں صدارت کے عہدے پر بھی ایک مسلمان کو موقع دیا گیا جن کا نام پروفیسر ذاکر حسین تھا، الغرض کانگریس سیکولرازم کی بنیاد پر ملک کو ترقی اور کامیابی کے راستے پر چلانے میں کامیاب رہی لیکن اس کے ساتھ ہی ابتدا ہی سے ہندو انتہا پسند گروہ بھی مصروف کار تھا، اس نے اس صورت حال کو دل سے قبول نہیں کیا تھا اور وہ ملک کی تقسیم کے بھی خلاف تھا، یہ ہندو انتہا پسند جن سنگھ پارٹی تھی جس کے ایک رکن نے بالآخر بھارت کے سب سے زیادہ محترم لیڈر مہاتما گاندھی کو قتل کردیا اور اس طرح سیکولر ازم کے جاری نظام کے خلاف آواز بلند کی، رفتہ رفتہ جن سنگھ (RSS) کی بنیادیں مضبوط ہوتی چلی گئیں اور ایک مرحلے پر جب کانگریس پارٹی اپنی لیڈر اندرا گاندھی کی غلط پالیسیوں کے سبب کمزوری کا شکار ہوئی تو 1977 میں جن سنگھ کے زیر سایہ پروان چڑھنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) برسر اقتدار آگئی لیکن کانگریس کو بہت جلد اپنی غلطیوں کا احساس ہوگیا اور تھوڑے ہی عرصے میں بی جے پی کی حکومت ناکام ہوکر ختم ہوگئی اور دوبارہ کانگریس پارٹی اقتدارمیں آگئی، اندرا گاندھی اور ان کے بیٹے راجیو گاندھی کی ہلاکت کے بعد کانگریس آہستہ آہستہ کمزور ہوتی چلی گئی اور بی جے پی اپنے انتہا پسندانہ نظریات کے سبب اپنا اثرورسوخ بڑھاتی چلی گئی، بی جے پی کے مشہور انتہا پسند سیاست دانوں میں ایل کے ایڈوانی ،اٹل بہاری واجپائی وغیرہ نمایاں رہے ، موجودہ وزیراعظم اور ان کے رفقائے کار بھی جنتا پارٹی کے اہم رکن ہیں، یہ لوگ ماضی میں جن سنگھ کے ممبر رہے ہیں،یہی وہ لوگ ہیں جو بابری مسجد کو شہید کرنے میں پیش پیش تھے۔

بھارت کی اس مختصر ترین سیاسی تاریخ کے بعد ہم اس ساری صورت حال کو بھارت کے زائچے کی روشنی میں دیکھیں گے۔

زائچے کے پہلے گھر میں برج ثور سات درجہ 46 دقیقہ طلوع ہے، راہو زائچے میں پانچ درجہ 44 دقیقہ اور کیتو ساتویںگھر برج عقرب میں شرف یافتہ ہے، گویا یہ دونوں منحوس پرچھائیں سیارے پوری طرح زائچے کو متاثر کر رہے ہیں، زائچے کا پہلا ،تیسرا ، پانچواں، ساتواں ، نواں اور گیارھواں گھر راہو کیتو کی وجہ سے متاثرہ ہے، سیارہ مریخ زائچے کے دوسرے گھر میں سات درجہ 27دقیقہ برج جوزا میں موجود ہے، گویا ایک اور نحس نظر زائچے کے دوسرے ،چھٹے،آٹھویں اور نویں گھر کو متاثر کر رہی ہے، کسی عام آدمی کے زائچے میں مریخ کی ایسی نظر اسے ”مینگلیک“ بناتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ سیارہ مریخ یعنی منگل کی یہ پوزیشن شادی اور ازدواجی زندگی کے لیے نہایت منحوس اثر رکھتی ہے،کسی ملک کے زائچے میں مریخ کی یہ پوزیشن معاشی خرابیوں کے ساتھ حادثات و سانحات اور آئینی و قانونی تنازعات، ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹ کی نشان دہی کرتی ہے، ترقیاتی امور میں منفی رجحانات لاتی ہے۔

زائچے کے تیسرے گھر برج سرطان میں قمر ، عطارد، زحل،زہرہ اور شمس موجود ہیں، قمر، اپنے گھر میں ہے اور ملک کی قیادت کو ظاہر کرتا ہے لیکن ساتویں گھر سے کیتو کی نظر ظاہر کرتی ہے کہ بھارتی قائدین کسی نہ کسی سطح پر انتہا پسندانہ نظریات کے حامل رہے ہوںگے،ماضی میں اگر نہرو سیکولر ذہن رکھتے تھے تو سردار پٹیل اور بعض دوسرے رہنما انتہا پسندانہ نظریات کے حامل تھے،عطارد کی اچھی پوزیشن ملک میں تعلیمی نظام کو فروغ دینے کا باعث ہے، چناں چہ ملک بھر میں بے شمار کالج اور یونیورسٹیز وجود میں آئیں،سیارہ زہرہ اور زحل زائچے میںغروب ہیں جس کی وجہ سے حکمرانوں کو اگر ڈکٹیٹر بننے کا موقع کم ملا تو سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو بھی حدود میں رہنا پڑا، سیارہ شمس جو چوتھے گھر کا حاکم ہے، عوام اور اپوزیشن کی نمائندگی کرتا ہے، کمزور ہونے کے باوجود اچھی پوزیشن رکھتا ہے، چناں چہ اپوزیشن بھی مضبوط رہی اور عوام کو بھی اپنے حقوق کے لیے بھرپورانداز میں آواز اٹھانے کا موقع ملا، دوسرے معنوں میں بھارتی عوام جمہوری مزاج کو سمجھتے ہیں جب کہ پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔

سیارہ مشتری جو زائچے کا سب سے منحوس سیارہ ہے چھٹے گھر برج میزان میں ہے، گویا ابتدا ہی سے تنازعات بڑے حادثات اور سانحات کا باعث بنتے رہے ہیں اور آئندہ بھی بنتے رہےں گے۔

اگر ہم ماضی پر نظر ڈالیں تو جب بھی سیارہ قمر کا دور آیا ہے، بھارت میں ہندو انتہا پسندی کو بڑھاوا ملا ہے،خاص طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ سیارہ عطاد کے دور اکبر میں قمر کا دور اصغر 10 اکتوبر 1972 ءسے 11 مارچ 1974 ءتک جاری رہا، یہی وہ دور تھا جس میں کانگریس کمزور ہوئی، اندرا گاندھی کو ملک میں ایمرجنسی لگانا پڑی اور بالآخر آنے والے الیکشن میں جنتا پارٹی نے پہلی مرتبہ کامیابی حاصل کی اور ملک کی باگ دوڑ سنبھالی، اگست 1984 ءمیں کیتو کے دور اکبر میں قمر کا دور اصغر انتہا پسندانہ اقدام کی نمایاں مثال پیش کرتا ہے جب سکھوں کے خلاف امرتسر میںآپریشن کیا گیا اور نتیجے کے طور پر اندرا گاندھی قتل ہوئیں، قصہ مختصر یہ کہ قمر کا دور بھارت میں انتہا پسندانہ اور شدت پسندانہ رجحانات کے فروغ کا باعث نظر آتا ہے، 11 ستمبر 2015 سے بھارت کے زائچے میں سیارہ قمر کا دس سالہ دور اکبر شروع ہوا، ہمارے قارئین کو یاد ہوگا کہ ہم نے اکتوبر 2015 میں اس صورت حال پر روشنی ڈالی تھی، یہ آرٹیکل ماہنامہ آئینہ قسمت میں اور دیگر اخبارات و رسائل میں شائع ہوا تھا، اس آرٹیکل کا ایک اقتباس دیکھیے۔

”انڈیا کے زائچے میں سیارہ شمس کا دور اکبر جاری تھا جو 11 ستمبر 2015 ءکو ختم ہوگیا،شمس زائچے کے چوتھے گھر کا حاکم اور تیسرے گھر میں قابض ہے،زائچے کا سعد سیارہ ہے، 11 ستمبر سے قمر کا دور اکبر 10 سال تک جاری رہے گا،قمر بھی زائچے کا سعد سیارہ ہے لیکن جیسا کہ پہلے بتایا گیا کہ یہ ساتویں گھر میں قابض غضب ناک کیتو کی نظر میں ہے،زائچے کا تیسرا گھر پہل کاری ، قیادت، نئی سوچ اور نئے راستوں پر آگے بڑھنے کے لیے اہمیت رکھتا ہے،اس کا حاکم قمر چوں کہ منفی اثرات کا شکار ہے لہٰذا سمجھ لینا چاہیے کہ بھارت کے عزائم آئندہ دس سال تک جارحانہ ہی رہیں گے،اس میں سب پیریڈ کی مناسبت سے کمی بیشی ہوسکتی ہے لیکن یہ خیال کرنا حماقت ہوگی کہ باہمی بھائی چارے کی فضا پروان چڑھ سکے گی اور دونوں سابقہ حریف باہم شیروشکر ہوجائیں گے“۔

2014 ءمیں بی جے پی نے کامیابی حاصل کی تھی اور نریندر مودی وزیراعظم بن گئے تھے، قمر کا دور اکبر اور اس میں قمر ہی کا دور اصغر جو 11 جولائی 2016 ءتک جاری رہا اور نریندر مودی کے جن سنگھی عزائم کا آئینہ دار رہا، نریندر مودی کی حکومت اتنی اکثریت میں نہیں تھی کہ اہم اقدامات کے ذریعے اپنے اصل عزائم کو پایہ ءتکمیل تک پہنچاتی لیکن 2019 کے انتخابات میں بھارتی جنتا پارٹی زیادہ مضبوط ہوکر سامنے آئی اور پھر وہ سب کچھ ہواجو بتانے کی ضرورت نہیں ہے،کشمیر میں جاری لاک ڈاو¿ن اس کامنہ بولتا ثبوت ہے لیکن نریندر مودی کی دانش وری کا پول کھل گیا، ثابت ہوگیا کہ وہ انتہائی چھوٹا ذہن رکھنے والے انسان ہیں، دوسری بار وزیراعظم بننے کے بعد سے آج تک انھوں نے جو اقدام کیے وہ اب ان کے حلق کی ہڈی بن رہے ہیں۔

اگر نریندر مودی کے دور اقتدار کا ایسٹرولوجیکل جائزہ لیا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ قمر کے دور اکبر میں گیارہ جولائی 2016 سے سیارہ مریخ کا دور اصغر شروع ہوا، اس دور میں انھوں نے اپنے خفیہ عزائم کو پایہ ءتکمیل تک پہنچانے کے لیے دنیا بھر کے دورے کیے اور امریکا کے علاوہ عرب ممالک سے بھی تعلقات بڑھانے پر زور دیا، 9 فروری 2017 سے راہو کا فریبی دور شروع ہوا جو گیارہ اگست 2018 تک جاری رہا، اسی دور میں انھوں نے عوام کو گمراہ کرنے اور ”ہندوتوا“ کا پرچار کرنے کی کوشش کی، گویا کھل کر اپنے اصل عزائم کا اظہار شروع کردیا، 11 اگست 2018 سے 11 دسمبر 2019 تک سیارہ مشتری کا دور اصغر نہایت منحوس اثر کا حامل رہا جس میں نریندر مودی نے آرٹیکل 370 ختم کرکے نئی آئینی ترمیم کے ذریعے کشمیر اور دیگر بھارتی ریاستوں کی گردن پر چھری پھیر دی۔

2017 ءسے 2019ءتک دسویں گھر کا حاکم سیارہ زحل آٹھویں گھر میں نہایت خراب پوزیشن میں رہا، یہ صورت حال بھی مودی کے عزائم میں رکاوٹ کا سبب رہی، مزید یہ کہ اس عرصے میں بھارتی حکومت کو مسلسل دشواریوں اور نت نئے چیلنجز کا سامنا رہا، سال 2020 ءبھی بھارت کے لیے زیادہ خوش کن نہیں ہے، نریندر مودی اور ان کی حکومت جن خوش فہمیوں میں مبتلا ہے اور رام مندر کا افتتاح کرکے شادیانے بجا رہی ہے، پاکستان سے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان لینے کا پروگرام بنارہی ہے، ایک چھوٹے سے چین کے لداخ پر حملے سے بری طرح بوکھلا گئی ہے، یہی نہیں بلکہ بھارت کی دوسری ریاستوں میں بھی احتجاجی صورت حال نظر آتی ہے، نیپال نے نیا نقشہ جاری کرکے بھارت کے لیے نیا چیلنج پیدا کردیا ہے۔

نریندر مودی کی انتہا پسندانہ پالیسیاں اب رنگ لارہی ہیں، بھارتی معیشت بھی بری طرح تنزل کا شکار ہے، پاکستان کے ساتھ مسلسل سرحدی جھڑپیں جاری ہیں، آسام، ناگالینڈ اور دیگر ریاستیں بھی علیحدگی پسندانہ رجحانات ظاہر کر رہی ہیں۔

انڈیا کے زائچے میں اگرچہ سیارہ زحل اچھی پوزیشن میں آچکا ہے لیکن 2020 میں اسے وہ توانائی حاصل نہیں ہوسکی جو فائدہ بخش ثابت ہوسکتی ہے، راہو اور کیتو اب زائچے کے پہلے اور ساتویں گھر میں آچکے ہیں اور آئندہ سال 2021 میں سیارہ زحل کو راہو مسلسل متاثر کرے گا جس کی وجہ سے بھارتی قیادت مزید غلطیاں کرے گی، اس کے فیصلے اور اقدام مزید مسائل کا سبب بنیں گے، دوسری طرف اسی سال 20 نومبر کے بعد سے سیارہ مشتری برج جدی میں داخل ہوگا اور سیارہ زحل سے قران کرے گا، اس کے فوری بعد شمس کی قربت کے سبب غروب بھی ہوگا،مشتری نومبر دسمبر میں پیدائشی سیارہ قمر سے نظر قائم کرے گا ، یہ وقت بھارت کے لیے خاصا مشکل ہوگا، نئے حادثات اور سانحات کو جنم دے گا، اس عرصے میں بھارت کے کسی اہم لیڈر کی موت کا امکان بھی پایا جاتا ہے۔

نیا سال 2021

نئے سال کا آغاز بھارت کے لیے خوش آئند نظر نہیں آتا، کورونا وائرس کی وبا بھارت میں تاحال آو¿ٹ آف کنٹرول ہے اور آئندہ بھی یہ صورت حال مزید جاری رہنے کا امکان موجود ہے، مشتری اور مریخ کی پوزیشن جنوری میں بہت سے نئے مسائل کو جنم دے گی اور بالآخر 11 فروری 2021 ءکو زائچے کے نویں گھر میں 6 سیارگان کا قران بھارت میں غیر معمولی نئی تبدیلیوں کی بنیاد رکھ دے گا، موجودہ انتہا پسندانہ مذہبی جنون کے مقابلے میں سیکولر نظریات کی اہمیت کا شعور اجاگر ہوگا، نریندر مودی اور ان کی حکومت آہستہ آہستہ اپنا اثر کھونے لگی ہے، 2021 کا سال بھارتی عوام اور دانش وروں کو یہ سوچنے پر مجبور کردے گا کہ نریندر مودی نے بھارت کو جس راستے پر ڈالا ہے، وہ راستہ درست نہیں ہے،حقیقت پسندانہ سوچ بے دار ہوگی، اس حوالے سے بھارت میں نئی تحریکیں جنم لے سکتی ہیں اور نتیجے کے طور پر ملک میں ایک تصادم کی فضا جنم لے سکتی ہے جس کے نتیجے میں ممکن ہے کہ ملک میں کوئی ایمرجنسی نافذ کرنے کی ضرورت پیش آئے جیسا کہ ماضی میں اندرا گاندھی کو پیش آئی تھی، یہ صورت حال مودی حکومت کو کمزور کرے گی اور ملک میں بڑھتا ہوا انتشار نئے انتخابات کی راہ ہموار کرے گا۔

2020 اپنی ابتدا ہی سے بھارت کے لیے ایک مشکل ترین سال نظر آتا ہے اور ساتھ ہی بھارتی حکومت کے لیے بھی کچھ ایسے چیلنج لارہا ہے جن کا مقابلہ کرنا بھارتی قیادت کے لیے انتہائی مشکل ثابت ہوگا، خیال رہے کہ دسویں گھر کا حاکم سیارہ زحل اپریل کے مہینے میں بری طرح راہو سے متاثر ہوگا،اسی طرح سیارہ مشتری کی پوزیشن بھی زحل کے علاوہ زائچے کے تقریباً تمام ہی سیارگان کو جو زائچے کے دوسرے گھر میں پیدائشی طور پر موجود ہیں، متاثر کرے گی،اس کے بعد بھی راہو تقریباً ستمبر تک زحل کو متاثر کرتا رہے گا لیکن بدترین وقت کا آغاز 15 اکتوبر سے ہوگا جس کے نتیجے میں نریندر مودی کی حکومت جانے کا امکان موجود ہے۔

واضح رہے کہ راہو کیتو بھی تقریباً اکتوبر ہی سے ایسی پوزیشن میں ہوں گے جب زائچے کے پہلے ، تیسرے، پانچویں، ساتویں، نویں اور گیارھویں گھر کو بری طرح متاثر کریں گے،یہ صورت حال ملک میں شدید نوعیت کی سنسر شپ ، کوئی ایمرجنسی اور ملک میں داخلی انتشار ، عوامی احتجاج اور پڑوسی ممالک سے شدید نوعیت کی محاذ آرائی کا باعث ہوسکتی ہے۔


ہفتہ، 26 ستمبر، 2020

اکتوبر کی فلکیاتی صورت حال کا جائزہ

ایک سخت اور مشکل مہینے کا آغاز، حادثات اور سانحات کا امکان

پاکستان اپنی تاریخ کے ایسے بدترین سیاسی دور سے گزر رہا ہے جس میں تقریباً تمام ہی اہل سیاست اپنی ساکھ اور عزت کھو بیٹھے ہیں، کچھ سیاست داں کرپشن کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں تو کچھ اپنی غیر دانش مندانہ اقتدار پرستی کی سیاست کے باعث عوام کی نظروں میں بے وقار ہوئے ہیں، ہمارے ملک کے سیاست دانوں کے حوالے سے یہ تاثر بھی عام ہوتا جارہا ہے کہ یہ لوگ محض کاروباری مقاصد کے تحت سیاست میں آتے ہیں اور کروڑوں روپیہ خرچ کرکے اسمبلیوں تک پہنچتے ہیں اور پھر اربوں روپے کماتے ہیں، گویا سیاست ان کے لیے کوئی مقدس مشن نہیں رہا ہے، تقریباً یہی صورت حال پاکستانی صحافت کی بھی ہوچکی ہے، ہمارے ملک میں ایک فیشن اہل سیاست نے یہ بھی اختیار کیا ہے کہ فوج کو مورد الزام ٹھہرایا جائے اور ہر معاملے میں فوجی مداخلت کا رونا رویا جائے لیکن موجودہ دور میں اس حوالے سے بھی سیاست دانوں کے چہروں سے نقاب اترتی جارہی ہے،اس میں تو کوئی شک ہی نہیں ہے کہ ہمارے ملک کی مسلح افواج ہی درحقیقت ملکی تحفظ کی ضامن ہے اور جو لوگ اپنے مذموم مقاصد کے تحت فوج کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرتے ہیں، وہ یقیناً ملک سے دشمنی کے مرتکب ہوتے ہیں۔

زائچہ پاکستان کے حوالے سے ہم بہت پہلے یہ وضاحت کرچکے ہیں کہ زائچے کے چھٹے گھر (ملٹری اور سول اسٹیبلشمنٹ) کا حاکم سیارہ زہرہ زائچے کے نویں گھر میں نہایت حساس ڈگری پر قائم ہے، گویا اس ملک کی آئینی اور قائدانہ ذمے داریاں اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں ہیں اور رہیں گی لہٰذا یہ رونا فضول ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو اپنی ذمے داریوں سے فارغ کردیا جائے، ایسا اسی صورت میں ممکن ہوسکے گا جب پاکستان کی سیاست کے افق پر سیاست کو مقدس مشن سمجھنے والا کوئی ایمان دار اور صاحب کردار شخص طلوع ہوگا، اس سے پہلے یہ ممکن نظر نہیں آتا، افسوس کا مقام یہ ہے کہ پاکستان کے اہل سیاست کی بھیڑ میں کوشش کے باوجود بھی ایسے سیاست داں نظر نہیں آتے بلکہ اس کے برعکس اکثریت کا حال یہی ہے کہ ان کا بس چلے تو ملک و قوم کو ہی فروخت کردیں، اپنے اور اپنی پارٹی کے مفادات کے لیے یہ لوگ کچھ بھی کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔

کہتے ہیں کہ جمہوریت اور جمہوری نظام دنیا کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہے، چناں چہ پاکستان میں بھی جمہوری نظام ہونا چاہیے، ہمارے دانش ور، صحافی اور سیاست داں رات دن جمہوریت کا اور جمہوری روایات کا رونا روتے نظر آتے ہیں لیکن کیا درحقیقت یہ لوگ خود بھی جمہوری رویوں اور اخلاقیات کے پابند ہیں؟ پاکستان کی تقریباً ہر سیاسی پارٹی میں وراثتی نظام کون سی جمہوریت کا آئینہ دار ہے، پاکستان میں قائم جاگیرداری اور وڈیرہ شاہی سسٹم کیا جمہوریت کے لیے مناسب ہے؟یقیناً ان سوالات کا جواب دینے کی کوئی بھی کوشش نہیں کرتا، صرف اسٹیبلشمنٹ کو برا بھلا کہہ کر اپنی سیاسی حیثیت و کردار کی نمائش کی جاتی ہے اور جب بھی ملک میں کوئی جمہوری سیٹ اپ آتا ہے تو ہمیں جمہوری ڈکٹیٹر شپ اور انتظامی نا اہلی کے مظاہرے دیکھنے کو ملتے ہیں، ہماری اسمبلیوں میں عوامی مسائل کے حل کے لیے کوئی قانون سازی ضروری نہیں سمجھی جاتی، اس کے برعکس اگر نام نہاد عوامی نمائندوں کی مراعات سے متعلق معاملات ہوں تو اسمبلی فوراً قانون سازی میں مصروف ہوجاتی ہے، الا ماشاءاللہ۔

رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی میں معاف

آج کچھ درد میرے دل میں سوا ہوتا ہے

عزیزان من! اکتوبر کا آغاز ہورہا ہے اور اس مہینے میں سیارہ شمس، زہرہ اپنے برج ہبوط سے گزریں گے، گویا یہ مہینہ اہل اقتدار کے لیے نئے مسائل اور چیلنج لائے گا، اسی طرح فوجی اور سول سروسز کے لیے بھی ایک مشکل مہینہ ہوگا۔

زائچہ پاکستان کے مطابق ہر سال 15 اکتوبر سے 15نومبر تک کا وقت ہمیشہ اہم ثابت ہوتا ہے، اس عرصے میں منفی سرگرمیاں اور ناپسندیدہ واقعات و حوادث اور خصوصاً شدید نوعیت کے اختلاف رائے اور احتجاج سامنے آتے ہیں، چناں چہ اکتوبر کی 15 تاریخ کے بعد سے ایسی کسی بھی صورت حال کی توقع رکھی جاسکتی ہے۔

سیارہ مریخ 5 اکتوبر تک برج حمل میں بحالت رجعت رہے گا اس کے بعد واپس برج حوت میں آجائے گا اور زائچے کے ساتویں گھر میں موجود کیتو کے ساتھ نظر قائم کرے گا، اس سے پہلے ستمبر میں بھی یہ نظر قائم ہوئی تھی، چناں چہ کئی حادثات اور ناخوش گوار واقعات سامنے آئے تھے، ایسا ہی دوبارہ ہوسکتا ہے، اچھی بات یہ ہے کہ سیارہ زحل جو زائچے کے نویں گھر میں ہے ، مستقبل کے مثبت رجحانات کی نشان دہی کرتا ہے جن میں سے ایک کا اعلان حال ہی میں کیا گیا ہے یعنی گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنایا جائے گا اور اس حوالے سے گلگت بلتستان میں عام انتخابات کا پروگرام بھی ہے، اگر ایسا ہوگا اور ان شاءاللہ یقیناً ہوگا تو اس کے مطابق پاکستان ایک نئے دور میں داخل ہوگا، گلگت بلتستان کی پاکستان کے ساتھ نئی آئینی حیثیت پاکستان کے نئے زائچے کی داغ بیل ڈال سکتی ہے، ہمارا درد مندانہ مشورہ یہی ہے کہ ایسی صورت میں اس نئی آئین سازی اور نئے آرڈیننس وغیرہ کا اجرا ایسٹرولوجیکل کسی سعد اور مبارک وقت میں کیا جائے تاکہ پاکستان کے نئے زائچے میں مثبت اور مبارک تبدیلیاں ملک و قوم کے لیے بہتر ثابت ہوں۔

اکتوبر کے مہینے میں راہو کیتو پیدائشی زائچے کے مشتری سے طویل قران کریں گے، یہ قران اکتوبر کے دوسرے ہفتے ہی سے شروع ہوجائے گا اور جنوری 2021 تک جاری رہے گا، ہماری نظر میں یہ بہت منفی اثرات کی حامل نظر ہے جس کی وجہ سے ملک میں نئے حادثات و سانحات جنم لے سکتے ہیں، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس منحوس وقت میں اپنا رحم و کرم فرمائے، اکتوبر کے آخری دو ہفتے یقیناً تشویش ناک نظر آتے ہیں (واللہ اعلم بالصواب)

 اکتوبر کی سیاروی گردش

سیارہ شمس برج سنبلہ میں حرکت کر رہا ہے، 18 اکتوبر کو اپنے ہبوط کے برج میزان میں داخل ہوگا،گویا آئندہ ایک ماہ تک اس کی پوزیشن نہایت کمزور رہے گی، سیارہ عطارد برج میزان میں ہے،15 اکتوبر سے اسے رجعت ہوگی اور اس کی رفتار سست ہوجائے گی، 19 اکتوبر سے غروب ہوجائے گا لہٰذا پورا مہینہ غروب حالت میں کمزور پوزیشن میں رہے گا۔

امن و آشتی ، محبت، دوستی کا سیارہ زہرہ برج اسد میں حرکت کررہا ہے، 24 اکتوبر سے اپنے برج ہبوط سنبلہ میں داخل ہوگا، گویا نہایت ناقص اور کمزور حالت میں 18 نومبر تک رہے گا، اس عرصے میں منگنی، شادی جیسے معاملات سے گریز کریں کیوں کہ زہرہ کی خراب پوزیشن آئندہ ازدواجی زندگی میں نت نئے مسائل کا باعث ہوگی، ازدواجی زندگی کی خوشیاں نہ مل سکیں گی۔

سیارہ مریخ اپنے ذاتی برج حمل میں بحالت رجعت حرکت کر رہا ہے، 5 اکتوبر کو اس کی واپسی برج حوت میں ہوگی اور فوراً ہی کیتو سے نظر قائم ہوگی، خیال رہے کہ ستمبر میں بھی کیتو اور مریخ کے درمیان انتہائی نحس نظر قائم ہوئی تھی، یہ نظر حادثات اور جرائم میں اضافہ لاتی ہے، اس وقت مریخ برج حمل میں تھا اور کیتو برج قوس میں، دونوں آتشی برج ہیں، اس بار مریخ برج حوت میں اور کیتو برج عقرب میں ہوگا، دونوں آبی برج ہیں، چناں چہ ایسے حادثات اور جرائم میں اضافہ ہوگا جن کا تعلق خفیہ سرگرمیوں سے ہوسکتا ہے، سمندری اور دریائی سفر میں بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی، جنسی جرائم بڑھ سکتے ہیں، سیارہ مریخ اور کیتو کے درمیان موجودہ نظر 25 دسمبر تک قائم رہے گی۔

سیارہ مشتری بدستور 23 درجہ برج قوس پر مستقیم حالت میں ہے،5 اکتوبر سے اپنے نئے سفر کا آغاز کرے گا، سیارہ زحل برج جدی کے 2 درجے پر حرکت کر رہا ہے،پورا مہینہ اس کی یہی پوزیشن رہے گی،راہو کیتو20 ستمبر سے برج تبدیل کرکے اپنے شرف کے بروج ثور اور عقرب میں داخل ہوچکے ہیں،پورا مہینہ اسی برج میں حرکت کریں گے،یہ سیاروی گردش ویدک سسٹم کے مطابق ہے۔

شرف قمر

قمر اپنے شرف کے برج میں پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 5 اکتوبر بروز پیر رات 09:15 pmپر داخل ہوگا،8 اکتوبر 09:20 am تک برج ثورمیں رہے گا، یہ انتہائی سعادت افروز اور سعدوقت ہوگا، اس وقت میں اپنی جائز مشکلات اور حاجت کے لیے ضروری عمل و وظائف کیے جاسکتے ہیں، ایسے اعمال و وظائف کے لیے بہتر وقت 6 اکتوبر کو شام 04:47 سے 05:45 تک ہوگا۔

اس سعد وقت سے فائدہ اٹھانے کے لیے مقررہ وقت پر پاک صاف ہوکر قبلہ رخ بیٹھیں اور 786 بار بسم اللہ الرحمن الرحیم اول آخر گیارہ بار درود شریف کے ساتھ پڑھ کر کچھ چینی پر دم کرلیں اور یہ چینی گھر میں استعمال ہونے والی چینی میں ملادیں، ان شاءاللہ گھر میں باہمی اختلافات کا خاتمہ ہوگا اور محبت و یگانگت بڑھے گی، رزق میں برکت ہوگی، چینی جب ختم ہونے لگے تو اس میں مزید چینی ملا لیا کریں۔

قمر در عقرب

سیارہ قمر اکتوبر کے مہینے میں 19 تاریخ کو پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق رات 12:20 am پر برج عقرب میں داخل ہوگا اور 21 اکتوبر رات تقریباً دو بجے تک اپنے ہبوط کے برج عقرب میں رہے گا، اس دوران میں کوئی نیا کام شروع نہ کریں، پہلے سے جاری کاموں کو انجام دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہوگا، یہ انتہائی نحوست کا وقت ہوتا ہے، خاص طور پر اس وقت شادی بیاہ یا نئے ایگرمنٹ وغیرہ سائن کرنا ،نئی خریدوفروخت کرنا فائدے بخش نہیں ہوتا، اس موقع پر بری عادتوں اور خراب حرکتوں سے روکنے کے لیے جفری عملیات کیے جاتے ہیں، اس تمام وقت میں ایسے عملیات کے لیے حسب ضرورت سیاروی ساعتوں سے کام لیا جاتا ہے۔

میاں بیوی میں محبت کے لیے عمل خاص

زن و شوہر میں اختلافات، مزاجی ناہمواری، باہمی لڑائی جھگڑا، محبت کی کمی وغیرہ کے لیے یہ ایک مجرب طریقہ ہے اور صرف شادی شدہ خواتین و حضرات ہی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ نہایت آسان بھی ہے۔ گرہن کے درمیانی وقت میں ایک سفید کاغذ پر کالی یا نیلی روشنائی سے پوری بسم اﷲ لکھ کر سورہ الم نشرح پوری لکھیں پھر یہ آیت لکھیں۔

والقیت علیک محبة فلاں بن فلاں (یہاں مطلوب کا نام مع والدہ لکھیں) علیٰ محبة فلاں بنت فلاں (یہاں طالب کا نام مع والدہ لکھیں) کما الفت بین آدم و حوا و بین یوسف و زلیخا و بین موسیٰ و صفورا و بین محمد و خدیجة الکبریٰ و اصلح بین ھما اصلاحاً فیہ ابداً

اب تمام تحریر کے ارد گرد حاشیہ ( چاروں طرف لکیر) لگا کر کاغذ کو تہہ کر کے تعویز بنا لیں اور موم جامہ کر کے بازو پر باندھ لیں یا پھر اپنے تکیے میں رکھ لیں۔

خیال رہے کہ مندرجہ بالا نقوش لکھتے ہوئے باوضو رہیں، پاک صاف کپڑے پہنیں، علیحدہ کمرے کا انتخاب کریں، لکھنے کے دوران مکمل خاموشی اختیار کریں اور اپنے مقصد کو ذہن میں واضح رکھیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں، رجال الغیب کا خیال رکھیں کہ آپ جس طرف رخ کر کے بیٹھے ہوں وہ آپ کے سامنے نہ ہوں، رجال الغیب کا نقشہ اس کتاب میں دیا جارہا ہے ، اس سے مدد لیں۔


جمعہ، 18 ستمبر، 2020

جادو کی تعریف و حقیقت مذہب و الہامی کُتب کی روشنی میں

ہمارے معاشرے میںسحرو جادو کم علمی اور عدم واقفیت کی وجہ سے پھیل رہا ہے

پہلے بھی ہم اس صورت حال کی نشان دہی کرچکے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں سحرو جادو ، سفلی اور دیگر گندے عملیات کے ذریعے مقاصد کے حصول یا دوسروں کو تکلیف و ایذا پہنچانے کا عمل تیزی سے بڑھتا جارہا ہے،آج سے 25 ,30 سال پہلے تک صورت حالات اتنی شدید نہیں تھی جتنی اب ہوچکی ہے، کم پڑھے لکھے اور دین کی پوری طرح سمجھ نہ رکھنے والے افراد اس معاملے میں زیادہ ملوث نظر آتے ہیں اور خاص طور پر خواتین اس برائی کو پھیلانے میں اپنی کم علمی اور جذباتیت کی وجہ سے نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں،وہ اپنی پریشانیوں اور مسائل کے حل کے سلسلے میں اول تو ایک دوسرے سے سنے سنائے بہت سے وظیفوں یا عملیات کا بے دریغ اور بے تحاشا استعمال شروع کردیتی ہیں،بہت سے ٹونے ٹوٹکے جو شرکیہ بھی ہوسکتے ہیں، آزماتی رہتی ہیں اس کے علاوہ ایسے پیروں فقیروں ، نام نہاد عاملوں ،باباو¿ں اور ملنگوں یا اللہ والی باجیوں سے بھی رابطہ کرکے عمل و تعویذات استعمال کرتی ہیں جو خود جہالت کاشکار ہیں ،انہوں نے ادھر اُدھر سے کچھ کتابیں پڑھ کر یا اپنے ہی جیسے کسی استاد یا پیر کی شاگردی کرکے تھوڑا بہت کچھ سیکھ لیا ہوتا ہے اور پھر اس کے بل بوتے پر خلقِ خدا کے مسائل حل کرنے میں مصروف ہوجاتے ہیں، ایسے لوگ باقاعدہ طور پر دین کا علم بھی نہیں رکھتے اور انہیں کسی علم میں کوئی کمال یا دسترس بھی حاصل نہیں ہوتی،ان کا بنیادی مقصد معاشرے میں سستی عزت اور شہرت حاصل کرنا یا خلقِ خدا کو لوٹنا ہوتا ہے،انہیں یہ بھی فکر نہیں ہوتی کہ وہ اگر کسی کو کوئی علاج تجویز کر رہے ہیں تو اس کے خطرناک نتائج بھی برآمد ہوسکتے ہیں یا دوسرے معنوں میں انہیں خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے بتائے گئے کسی وظیفے ، عمل یا طریقہءکار کے کچھ سائیڈ افیکٹس بھی ہوسکتے ہیں اور وہ طریقہءکار شرعی طور پر کہاں تک درست ہے۔

عبرت سرائے دہر ہے

ہمیں اکثر ایسے لوگوں سے ملنے اور ان کے مسائل جاننے کا موقع ملتا ہے جو ایسے لوگوں کا شکار ہوتے ہیں،ایک صاحب نے بتایا کہ ان کی بیوی اُن پر جادو کرتی ہے انہیں اُس کے پرس میں سے ایک پرچہ اور کچھ تعویذ ملے،پرچے میں طریقہءکار کی وضاحت کی گئی تھی کہ تعویذ کو پانی میں گھول کر سارا پانی اپنے منہ میں ڈال لیں اور پھر کسی کپ میں کُلّی کردیں،بعد میں یہ پانی شوہر کو پلادیں۔

وہ صاحب کافی عرصے سے مختلف بیماریوں کا شکار تھے،جب یہ پرچہ اور تعویذ ان کی نظر سے گزرے تو پھر انہیں یقین ہوگیا کہ بیوی اُن پر جادو کر رہی ہے۔

ہم نے تعویذوں کا معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ شوہر کے دل میں اپنی محبت شدید کرنے کے لیے وہ تعویذ بنوائے گئے تھے مگر طریقہ ءکار قطعاً نا مناسب تھا اور نقوش سے یہ اندازہ بھی نہیں ہورہا تھا کہ وہ آیات و اسمِ الہٰی سے تیار کئے گئے ہیں یا کچھ اور جنتر منتر کا معاملہ ہے۔

ایک صاحب جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے تھے، انہوں نے اپنے حالات کی خرابی کے سلسلے میں رابطہ کیا اور یہ بھی بتایا کہ دو بار ہمارے گھر سے تعویذ برآمد ہوئے ہیں اور ایک بار گھر کے صحن میں ٹوٹا ہوا انڈا پڑا ہوا تھا اور انڈے کے چھلکے پر کوئی نقش لکھا گیا تھا ، انڈا گندہ تھا کیوں کہ اُس کے اندر خون موجود تھا واضح رہے کہ وہ اپنے شادی شدہ بھائی اور والدہ کے ساتھ جس گھر میں رہتے تھے اُس کا صحن ایک ہی تھا اور انڈہ رات کو کسی وقت صحن میں ڈالا گیا تھا، جب تمام صورت حال کی تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ یہ تمام کارروائیاں ان کی اپنی بیگم کی جانب سے ہورہی تھیں کیوں کہ وہ چاہتی تھیں کہ دونوں بھائیوں میں اختلافات بڑھ جائیں اور وہ الگ الگ ہوجائیں،شوہر سے ان کا پرانا مطالبہ تھا کہ الگ گھر لیں، وہ جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے ہوئے خوش نہیں تھیں۔

دو بیویوں کے شوہر تو لازمی تختہءمشق بنتے ہیں ، کیوں کہ دونوں اپنا پلڑا بھاری رکھنے کی فکر میں وہ سب کچھ کرنے کے لیے تیار رہتی ہیں جو ان کے اختیار میں ہوتا ہے اور اس کھینچا تانی میں کبھی کبھی شوہر قربان ہوجاتا ہے،ہم کئی ایسے مظلوم شوہروں سے مل چکے ہیں، قصہ مختصر یہ کہ ازدواجی مسائل اور دیگر خاندانی فتنہ و فساد، خواتین کو روحانی امداد کے بہانے سحرو جادو کے چکر میں پھنسا دیتے ہیں، اس کے علاوہ بھی بہت سی صورتیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے نادانستگی میں انسان کسی سحری و جادوئی مسئلے میں مبتلا ہوجاتا ہے،اپنے طور پر بھی لوگ ایسے کام کر بیٹھتے ہیں جن کے غلط نتائج کا خود انہیں اندازہ نہیں ہوتا، مثلاً سنے سنائے وظائف و عملیات یا مختلف کتابوں سے نقل کےے گئے نقوش و اعمال اپنی ضرورت کے مطابق منتخب کرکے ان پر عمل کرنا بھی کبھی کبھار نقصان دہ ہوجاتا ہے ، خاص طورپر ایسے اعمال جن میں اپنے درست استحقاق کا خیال نہ رکھا جائے یا وہ شرعی تقاضوں کے مطابق نہ ہوں ۔

جواہرات کے سحری اثرات

ایک اور صورت بھی مشاہدے میں آئی ہے جو عام ہے ، لوگوں میں مختلف قیمتی پتھر پہننے کا شوق کم نہیں ہے ، اس کے علاوہ اپنی ضرورت کے مطابق بھی لوگ پتھر استعمال کرتے ہیں اور پتھروں کے سحری (باطنی) اثرات سے انکار ممکن نہیں ہے ، اگر پتھر کا غلط استعمال کیا جائے تو بھی سحری اثرات نقصان پہنچاتے ہیں اور اکثر تو ناقص اور عیب دار پتھر بہت نقصان دہ ثابت ہوتا ہے لہٰذا اس سلسلے میں بھی سخت احتیاط کرنا چاہےے ۔

جادو یا عملیات کے نام پر فراڈ

بہت پہلے سحرو جادو کے موضوع پر ایک طویل سلسلہ ہم نے لکھا تھا جو کوشش کے باوجود کتابی شکل میں شائع نہیں ہوسکا،ممکن ہے ہمارے پرانے قارئین کے پاس اس کا ریکارڈ موجود ہو، بہر حال اب دوبارہ اس کی ضرورت محسوس ہورہی ہے تاکہ عام لوگوں کو اس مسئلے سے آگاہی حاصل ہوسکے۔

مندرجہ بالا مثالوں کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ ہمارے معاشرے میں جو لوگ اس قسم کے کام کر رہے ہیں وہ دوسروں کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں، اکثر معاملات میں ایسے کاموں کا نتیجہ خود کرنے والے کے خلاف نکلتا ہے اور جس پر کیا جائے وہ محفوظ رہتا ہے،بشرط یہ کہ وہ پاک صاف رہتا ہو اور اللہ پر کامل ایمان رکھتا ہو، مثبت سوچ کا حامل ہو،اکثر یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ نام نہاد عامل یا پیر فقیر تھوڑے سے پیسوں کے لیے لوگوں کو محض بے وقوف بناتے ہیں، کاغذ پر الٹی سیدھی لکیریں کھینچ کر یا کوئی بے معنی تحریر لکھ کر تعویذ بنا کر دے دیتے ہیں یا وہ تعویذ کسی اصول و قاعدے کے بغیر کسی کتاب سے نقل کیے ہوئے ہوتے ہیں جن کا کوئی اثر ظاہر نہیں ہوتا لیکن انسان وہم میں مبتلا ضرور ہوجاتا ہے،گویا ایک نفسیاتی اثر اُسے اپنے حصار میں لے لیتا ہے۔

نفسیاتی اثرات کی کرشمہ کاری

نفسیاتی اثر تو بعض لوگ اور خاص طور سے خواتین اپنے خوابوں کا بھی بہت زیادہ قبول کرتی ہیں مثلاً اگر کسی نے خواب میں لاش دیکھ لی یا کسی مردے کو دیکھ لیا یا کالی بلی، چھپکلی، چوہا ، سانپ وغیرہ دیکھ لیا تو پریشانی شروع ہوجاتی ہے، حالاں کہ ایسے خواب ہماری پوشیدہ بیماریوں کی نشان دہی کرتے ہیں، ہمارے لاشعور میں چھپے ہوئے خوف اور اندیشے عجیب عجیب بھیانک شکلیں بنا کر ہمارے خوابوں میں آتے ہیں لیکن ہم انہیں کچھ اور ہی معنی پہنا رہے ہوتے ہیں۔

اپنی خامیاں ،کوتاہیاں اور وقت کی گردش

بے شمار کیسوں میں لوگوں نے ہمیں بتایا کہ ان پر زبردست قسم کا جادو کیا گیا ہے اور ان کے دشمن برسوں سے انہیں نشانہ بنارہے ہیں جس کی وجہ سے وہ مختلف مسائل کا شکار رہتے ہیں،جب ہم نے اُن سے پوچھا کہ دشمنوں کے کیے ہوئے جادو سے آپ کو کون کون سے نقصانات اٹھانے پڑے اور انہوں نے نقصانات کی تفصیل بتائی تو معلوم ہوا کہ ان نقصانات میں سے کسی کا تعلق بھی سحری اثرات سے نہیں تھا بلکہ ان کی اپنی غلطیوں ، کوتاہیوں ، کم علمی یا پھر وقت کی گردش کا کھیل تھا، حقیقت یہ ہے کہ نام نہاد اور پیشہ ور قسم کے لوگوں نے جو خود جہالت کا شکار ہوتے ہیں، سحرو جادو وغیرہ کے حوالے سے اس قدر غلط باتیں معاشرے میں پھیلا دی ہیں کہ لوگ اپنے ہر مسئلے کی وجہ جادو یا آسیب و جنات کو سمجھنے لگے ہیں، جب کوئی کم علم اور کمزور قوت ارادی کا حامل انسان زندگی کے مسائل سے لڑتے لڑتے تھک جاتا ہے اور منفی سوچوں کے بھنور میں پھنس کر مایوسی کا شکار ہوتا ہے تو سب سے پہلے توہّم پرستی کا آسیب اسے اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور اس کا ذہن اپنے معاملات میں سحرو جادو یا کسی ماورائی مخلوق کی کار فرمائی کے امکان پر غور شروع کردیتا ہے۔سونے پر سہاگہ یہ کہ ایسی کسی بھی پیچیدہ صورت حال میں جب انسان کسی مشہور روحانی شخصیت سے رابطہ کرتا ہے اور مشورے کا طالب ہوتا ہے تو نوّے فیصد جواب یہی ملتا ہے کہ بندش ہے، کسی نے تعویذ کرادیے ہیں، سفلی ہوا ہے،آسیبی مداخلت ہے،وغیرہ وغیرہ۔

جادو کے لفظ کا استعمال

”جادو“ بذات خود ایک بڑا پر اسرار اور پرکشش لفظ ہے، ہماری عام زندگی میں بھی اس کا استعمال استعارے اور تشبیہ کی صورت میں عام ہے،اردو ادب میں شاید ہر شاعر و ادیب نے اس لفظ کو اپنے اپنے ڈھنگ سے بے شمار مرتبہ استعمال کیا ہوگا اگر چہ اس کے مخصوص لغوی معنی موجود ہیں مگر اس کا استعمال مختلف رنگ اور ڈھنگ سے بکثرت ہوتا ہے اور ہم اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں،با الفاظ دیگر ”جادو“ ان لوگوں کے سر پر بھی چڑھ کر بولتا ہے جو اسے ایک حقیقت کے طور پر تسلیم نہیں کرتے، بھلا کسی آہو چشم کی ایک ترچھی نظر کے عوض سلطنت و حکومت جیسی چیز کو پائے حقارت سے ٹھکرا دینا ، جادو کا سر چڑھ کر بولنا نہیں تو پھر اور کیا ہے ؟ 

”جادو“ نظر کا ہو یا کسی کے حسن و محبت کا، جب چلتا ہے تو خوب چلتا ہے، یوں تو جادو کی ان گنت غیر لغوی اقسام ہیں مگر ہمارا موضوع تو وہ جادو ہے جو عام طور پر بنگال ، مصر، بابل اور ہندوستان وغیرہ کے حوالے سے مشہور ہے اور اپنے دامن میں ہزارہا قصوں ، کہانیوں سمیت سینہ بسینہ چلنے والی روایات کی سحر بیانی لیے ہوئے ہیں۔

”جادو“یا سحر کو سحر بیانی کے زور پر یقیناً پہاڑ بنادیا گیا ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ رائی ہوتی ہے تو پہاڑ بنتا ہے، برسوں بعد ایک بار پھر اس موضوع پر لکھنے کا ارادہ کرلیا ہے اور ہمارا مقصد کسی شے یا حقیقت کا انکارِ محض یا اقرارِ محض نہیں ہے بلکہ ہمارا مدعا تو اپنے پڑھنے والوں کو درست صورت حال سے آگاہ کرنا ہے تاکہ معاشرے میں پھیلی ہوئی غلط معلومات اور گمراہ کن نظریات سے بچا جاسکے۔

جادو کا انکار یا اقرار

ہمارے معاشرے میں پائے جانے والے دیگر عقائد و نظریات کی طرح ”جادو“ بھی ہمیشہ سے فکری انتہا پسندی کا شکار رہا ہے، بعض لوگ تو اسے سرے سے مانتے ہی نہیں اور جادو یا اس کی کارفرمائی کو لغو ، وہم یا فرسودہ ذہنوں کی پیداوار قرار دیتے ہیں جب کہ اس کے برعکس دوسری انتہا یہ ہے کہ موسمی اثرات سے پیدا ہونے والی بیماریاں یا فطری طور پر ہوجانے والا نزلہ، زکام ، بخار بھی بعض گھروں میں جادو کے اثرات کا نتیجہ قرار پاتا ہے، خصوصاً شادی بیاہ کے معاملات میں یا ازدواجی زندگی کی مشکلات میں جادو ٹونے کا چکر ہمارے معاشرے میں بہت عام ہوچلا ہے،بیٹے کا بیوی کی محبت میں فطری طور پر مبتلا ہونا یا شوہر کا اپنی ماں کا بہت زیادہ فرماں بردار ہونا بھی جادو گری کا کمال سمجھا جاتا ہے،شادی میں فطری اور قدرتی تاخیر یا میڈیکل وجوہات کی بنیاد پر اولاد میں تاخیر یا اولاد کا نہ ہونا ، بے روزگاری، اپنی کوتاہیوں اور غیر ذمہ داریوں یا اناڑی پن کی وجہ سے کاروباری نقصان ،غرض ہر مسئلہ جادو کے زیر اثر آجاتا ہے اور پھر کسی عامل ، اونچی سرکار، بنگالی بابا، مستانی مائی یا باجی اللہ والی جیسی شخصیات کی چاندی ہونے لگتی ہے لیکن حاصل وصول کچھ نہیں ہوتا، بلکہ صورت حال بقول شاعر وہی ہوتی ہے کہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔

جادو، مذہب اور الہامی کُتب

اس تمام گفتگو کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ”جادو“ نام کی کوئی شے یا قوت دنیا میں سِرے سے موجود ہی نہیں، کہیں پائی ہی نہیں جاتی،جادو ایک حقیقت ہے ، ایک علم ہے، ایک کائناتی سائنس ہے، اسے بالکل ہی تسلیم نہ کرنا اگر جہالت نہیں تو کم از کم نا انصافی یا شدید کم علمی ضرور ہے۔ 

جادو کا شمار دنیا کے قدیم ترین علوم میں ہوتا ہے،ایک مکمل علم کے مانند اس کی باقاعدہ ایک تھیوری ہے،ایک نظریہ ہے، ایک عمل ہے اور باقاعدہ اطلاقی میدان ہے۔

موضوع گفتگو اگر جادو ہے تو پھر مذاہب اور الہامی کتب کا مطالعہ ناگزیر ہوجاتا ہے کیوں کہ موجودہ سائنس اپنی تمام تر ترقی اور رفتار کے باوجود ابھی تک بہت سے حقائق و علوم سے پردہ نہیں ہٹا پائی ہے اور جدید تہذیب کے اسی رویے کے باعث سائنس داں و دانش ور حضرات بھی انہی اشیا کو مرکز تحقیق بنائے ہوئے ہیں کہ جو براہ راست مادے سے متعلق ہےں ، جادو کے بارے میں آج کے علمی اور سائنسی ذہنوں کا رویہ ”میں مانوں کہ نہ مانوں“ والا ہے اور شاید اسی لےے اس ضمن میں تحقیق و تجسس کا کام ٹھوس بنیادوں پر شروع نہیں ہو پایا ہے ، اکثر مستند علما نے ذاتی تجربات و مشاہدے کی بنیاد پر جو کام کیا ہے وہ بہرحال موجود ہے لیکن عام آدمی کی رسائی اس تک نہیں ہوپاتی ، اس کے بجائے سطحی نوعیت کی تحریریں بہت زیادہ ہیں جن کے مطالعے سے مصنف کی کم علمی عیاں ہوتی ہے ۔

 ہمارے اکثر مذہبی اسکالرز کا علم بھی اس حوالے سے یکطرفہ ہے ، یعنی انہوں نے جادو کے بارے میں جس قدر بھی قرآن اور حدیث سے احکامات اور تشریحات کا مطالعہ کیا ہے وہ اس تک ہی خود کو محدود رکھتے ہیں ، اس سے آگے بڑھ کر کسی بھی علم کے بارے میں مزید تحقیق اور تجربے کو ضروری نہیں سمجھتے ، نتیجے کے طورپر عمر بھر مکھی پہ مکھی مارتے رہتے ہیں ، بے شک قرآن و حدیث کے ذریعے ہمیں جادو کی اہمیت اور اس سے اجتناب کے بارے میں احکام مل جاتے ہیں لیکن اس موضوع سے مکمل آشنائی کے لےے اس علم کی مکمل تاریخ اور طریقہ کار کا مطالعہ بھی ضروری ہے ، اکثر لوگ یہ زحمت نہیں کرتے ، نتیجے کے طورپر بہت سی ایسی چیزوں کو جادو قرار دے دیا جاتا ہے جو جادو نہیں ہوتیں یا بہت سی چیزوں کو جادو کی فہرست سے خارج کردیا جاتا ہے جو درحقیقت جادو کے ذیل میں آتی ہیں ، مثلاً بعض علما نے شعبدہ بازی ، علم نجوم ، پامسٹری یا علم الاعداد کو بھی جادو قرار دے دیا ، قصہ مختصر یہ کہ اس حوالے سے لکھی جانے والی اکثر کتابیں محققانہ بصیرت سے خالی نظر آتی ہیں ، مطالعے کے دوران میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ صاحب تحریر کا علم کسی نہ کسی حوالے سے نامکمل یا ادھورا ہے ۔(جاری ہے)


جمعہ، 4 ستمبر، 2020

زائچہ ءپاکستان کے حوالے سے تحقیق اور تجربات

قیام پاکستان سے آج تک کی صورت حال کا تجزیہ اور تبصرہ

1947 میں قیام پاکستان سے متعلق جو بھی زائچے بنائے گئے ان کے بارے میں ہمارے سابقہ یا حالیہ منجمین کوئی معقول ، ٹھوس بنیادوں پر مبنی تجزیہ کبھی پیش نہیں کرسکے، پاکستان کے حالات و واقعات پر ان زائچوں کی روشنی میں پیش گوئیاں بھی ہوتی رہیں اور تجزیے بھی ہوتے رہے جو تکنیکی اعتبار سے ہر گز معیاری نہیں تھے، مختلف اوقات میں مختلف نظریات پیش کیے جاتے رہے،مثلاً جب ملک دولخت ہوا تو کہا گیا کہ پاکستان کا پیدائشی برج حمل ہے اور یہ ایک منقلب برج ہے اور منقلب بروج کو استحکام نہیں ملتا، بھارت کا برج ثور ہے یہ ثابت (Fixed sign) ہے، اس لیے مستحکم ہے، پاکستان منقلب برج کی وجہ سے دو ٹکڑے ہوگیا، دنیا میں بہت سے ممالک جن میں سرفہرست امریکا ہے ان کا طالع منقلب ہے، وہ تو ابھی تک دولخت نہیں ہوئے، جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ ڈاکٹر ایوب تاجی لاہور کے ریڈیو اعلان کی بنیاد پر طالع ثور کا زائچہ بناتے تھے ، وہ بھی کبھی پاکستان کے دولخت ہونے پر کوئی معقول دلیل پیش نہیں کرسکے، ڈاکٹر اعجاز حسین بٹ جو 14 اگست صبح 09:35 am بمقام کراچی سے طالع سنبلہ کا زائچہ بناتے تھے ان کا موقف یہ تھا کہ سنبلہ ذوجسدین (Doube body) برج ہے، تبدیلیوں کا شکار ہوتا ہے، پاکستان دولخت ہوا اور مزید بھی ہوگا، وہ آخر عمر تک اس موقف پر قائم رہے کہ پاکستان کی مزید تقسیم ہوگی اور ”گریٹر پنجاب“ وجود میں آئے گا، بہر حال اب وہ اس دنیا میں نہیں ہیں، اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔

حضرت کاش البرنیؒ صاحب طالع برج جوزا یونانی حساب سے پاکستان کا طالع پیدائش مقرر کرتے تھے جیسا کہ ہمارے عزیز بھائی رفعت شیخ نے بھی جو پرانے ایسٹرولرجر ہیں کہا کہ میں بھی برج جوزا کو درست سمجھتا ہوں ۔

ہمیں یاد نہیں کہ برنی صاحب مرحوم و مغفور کس بنیاد پر طالع جوزا پاکستان کا طالع سمجھتے تھے، شاید وہ قائد اعظم محمد علی جناح کی کسی تقریر کا حوالہ دیتے تھے جو ریڈیو سے نشر کی گئی تھی اور اس وقت کو اہمیت دیتے تھے لیکن طالع جوزا بھی ذوجسدین برج ہے اور صرف یہ دلیل کافی نہیں ہے کہ برج جوزا کی وجہ سے پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔

جناب پیر پگارا صاحب بھی علم نجوم سے شغف رکھتے تھے اور کراچی کے اکثر منجمین ان کے در دولت پر حاضری دیتے تھے، ایک بار روزنامہ جرا¿ت میں ہمارے کسی کالم کو پڑھنے کے بعد انھوں نے ہم سے ملاقات کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا لیکن یہ ملاقات کبھی نہ ہوسکی، پیر صاحب بھی اکثریتی رائے کے مطابق پاکستان کا پیدائشی برج حمل ہی تصور کرتے تھے۔

پاکستان کے ایک اور بہت مشہور و معروف اور طویل عمر پانے والے منجم جو راولپنڈی میں ایک ایسٹرولوجیکل انسٹی ٹیوٹ بھی چلارہے تھے بہت عجیب و غریب قسم کی پیش گوئیاں کیا کرتے تھے، لال قلعے پر پاکستان کا جھنڈا لہرانے کی پیش گوئی، اندرا گاندھی کو اکثروبیشتر دھمکیاں اور آنے والے وقت سے ڈرانے کے لیے خطوط نویسی بھی ان کی کارگزاری میں شامل ہے، تمام دیگر منجمین ان کی بزرگی کے سبب ان کا بہت احترام کرتے تھے اسم گرامی غازی منجم تھا۔

عمر کے بالکل آخری حصے میں شاید 2010 ءمیں ہمیں ایک ایسے پروگرام میں شرکت کا موقع ملا جس میں تقریباً تمام ہی پاکستان کے مشہور منجم یکجا تھے، یہ تقریب لاہور میں منعقد ہوئی ، یہ ہمارے برادر عزیز سید انتظار حسین شاہ زنجانی کے بڑے صاحب زادے سید مصور علی زنجانی کا ولیمہ تھا جو لاہور کے پی سی میں ہوا۔

اس تقریب میں جناب غازی منجم ، جناب اعجاز حسین بٹ، لاہور کے مشہور و معروف ”ماموں“ الغرض تقریباً تمام ہی منجم حضرات اس ولیمے میں شریک تھے، بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ پاکستان کے شہرہ آفاق آرٹسٹ جناب شجاعت ہاشمی بھی ایسٹرولوجی کے حوالے سے ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں اور یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ وہ پنجاب کے بہت سے منجمین کی دائی ہیں، ہم سے ان کے برادرانہ اور بے تکلفانہ مراسم ہیں، اس تقریب میں شجاعت صاحب کے ذریعے فرداً فرداً تقریباً تمام ہی منجمین سے کم یا زیادہ گفتگو رہی اور اندازہ ہوا کہ سب اپنی اپنی جگہ ایک ”سنگ میل“ ہیں اور اپنے علاوہ کسی کو کچھ نہیں سمجھتے، علمی موضوع پر گفتگو سے پرہیزکرتے ہیں، صرف اپنی پیش گوئیوں کے حوالے سے اظہار خیال کو ضروری سمجھتے ہیں، کسی نے بھی پاکستان کے زائچے کے حوالے سے اظہار خیال کرنا پسند نہیں کیا، ہمیں بڑی حیرت ہوئی۔

پاکستانی منجمین میں بھی ایک شاعرانہ بیماری ہمیں نظر آئی یعنی جو ذرہ جس جگہ ہے وہیں آفتاب ہے۔

اگر علم نجوم ایک سائنسی علم ہے تو اسے جامد نہیں ہونا چاہیے اور مسلسل تحقیق و تجدید کا عمل جاری رہنا چاہیے، یہ تب ہی ممکن ہوتا ہے جب علمی موضوعات پر کھل کر اظہار خیال کیا جائے، باہمی مکالمہ ہو، مزید یہ کہ اس حوالے سے دنیا بھر میں کیا ہورہا ہے اس پر بھی نظر رہے، اپنے ”سینہ گزٹ“ پر قائم و دائم رہنے والے اپنے علم کے ساتھ انصاف نہیں کرسکتے۔

نیا زائچہ ءپاکستان





پاکستان کے بارے میں جیسا کہ پہلے ہم بتاچکے ہیں کہ نیا زائچہ ءپاکستان ہماری نظر میں 20 دسمبر 1971ءبمقام اسلام آباد 14:55 pm ہے اور اس کی بنیادی وجوہات پر خاصی گفتگو ہوچکی ہے،بلاشبہ 1971 میں مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان جو محاذ آرائی ہوئی اور اس وقت کی مغربی پاکستان کی عاقبت نا اندیش فوجی اور سیاسی قیادت نے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر جو کچھ کیا اس سے پڑوسی ملک بھارت نے فائدہ اٹھایا، 25 مارچ 1971 کو شیخ مجیب الرحمن نے پاکستان سے علیحدگی اور بنگلہ دیش کے قیام کا اعلان کردیا، 16 دسمبر 1971 کو سقوط ڈھاکا کے بعد پاکستان کی فوجی قیادت نے جناب ذوالفقار علی بھٹو کو فوری طور پر اسلام آباد طلب کیا اور 20 دسمبر کو وہ اسلام آباد پہنچے، پاکستان کرونیکل از عقیل عباس جعفری کے مطابق شام 4 بجے جب وہ ایوان صدر سے روانا ہوئے تو ان کی گاڑی پر پاکستانی پرچم لہرا رہا تھا، اس کا مطلب ہے کہ تقریباً ڈھائی اور تین بجے کے درمیان ٹرانسفر آف پاور اور تقریب حلف برداری کے مراحل طے ہوئے، چناں چہ ہم نے 02:55 pm کا وقت اندازاً رکھا ہے،اس وقت کے مطابق اس وقت اسلام آباد کے افق پر برج ثور کے دو درجہ 35 دقیقہ طلوع تھے، یہی نئے پاکستان کا طالع پیدائش یا لگن ہماری نظر میں درست ہے، ممکن ہے اس وقت میں مزید کمی بیشی کی جاسکے، تحقیق و تجربے کا دامن تنگ نہیں ہے، یہ وقت مقرر کرنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہر زائچے میں پہلے گھر یعنی لگن (Ascendent) کے درجات سب سے زیادہ اہمیت کے حامل ہوتے ہیں کیوں کہ ویدک سسٹم میں زائچے کے دیگر گھروں کے درجات بھی وہی تصور کیے جاتے ہیں یعنی ہر گھر کا آغاز پھر اسی درجے سے ہوتا ہے، ہمارا تجربہ اور مشاہدہ یہ بھی ہے کہ ابتدائی درجات یعنی ایک درجے سے تین درجے تک پاکستان کے لیے بہت حساس ثابت ہوتے ہیں، اس کی مثال آگے آئے گی، چناں چہ ہم نئے زائچہ ءپاکستان میں برج ثور کے ابتدائی درجات ہی کو درست سمجھتے ہیں۔

زائچے کے پہلے گھر میں سیارہ زحل بحالت رجعت 7 درجہ 39 دقیقہ اچھی مضبوط پوزیشن میں قابض ہے، سیارہ مشتری ساتویں گھر برج عقرب میں 26 درجہ 17 دقیقہ اور اسی برج اور گھر میں سیارہ عطارد بحالت رجعت اچھی پوزیشن میں قابض ہے، کیتو تیسرے گھر میں 12:15 درجہ ، شمس 04:23 نہایت کمزور اور خراب پوزیشن میں آٹھویں گھر برج قوس میں، زہرہ نویں گھر برج جدی میں 2 درجہ 59 دقیقہ اور اسی نویں گھر میں قمر 5 درجہ 38 دقیقہ ، راہو 12:15 درجہ ، سیارہ مریخ گیارھویں گھر برج حوت میں دو درجہ 28 دقیقہ قابض ہے۔

بہ وقت پیدائش سیارہ شمس کا دور اکبر (Main period) جاری تھا جب کہ اسی دور اکبر میں دور اصغر سب پیریڈ سیارہ عطارد کا جاری تھا۔

واضح رہے کہ جدید ایسٹرولوجیکل سسٹم کے مطابق طالع یا لگن ثور (Taurus) کے لیے سیارہ قمر ، شمس، عطارد اور زحل فعلی اور عملی طور پر سعد یعنی فائدہ بخش (Functional beneficial) سیارے ہیں جب کہ سیارہ زہرہ، مشتری اور مریخ فعلی اور عملی طور پر نقصان دہ (Functional melfic) سیارے ہیں، راہو کیتو تقریباً ہر زائچے میں نقصان دہ ہوتے ہیں اور ان کے فائدے اور نقصان کے حوالے سے ان کی مخصوص پوزیشن کا جائزہ لینا پڑتا ہے، اسی طرح دیگر سیارگان کے قوت و ضعف کا جائزہ لینا بھی ضروری ہوتا ہے،اس کے مطابق ہی زائچے میں جاری ادوار (Periods) کے اچھے یا برے ہونے کا فیصلہ ہوتا ہے مثلاً جیسا کہ پہلے بتایا گیا کہ سیارہ شمس کا دور اکبر جاری تھا جو 6 دسمبر 1973 تک جاری رہا ،سیارہ شمس زائچے کا سعد سیارہ ہے،چوتھے گھر کا حاکم ہے، اس کا تعلق داخلی معاملات اور عوامی صورت حال سے ہے،زائچے میں آٹھویں گھر میں نہایت کمزور حالت میں اور مصیبت میں ہے،چناں چہ عوام کی اچھی حالت کی نشان دہی نہیں کرتا لیکن اس کا دور اگر فائدہ بخش نہیں ہے ، شمس کی یہ کمزوری ہمیشہ کے لیے عام عوام کی بدحالی و زبوں حالی کا مظہر ہے ، اسی دور اکبر میں عطارد کا دور اصغر جاری ہے جو 31 جولائی 1972 تک جاری رہا، عطارد زائچے کے پانچویں گھر کا حاکم ہے، پانچواں گھر شعور اور دانش ورانہ اور فنکارانہ دلچسپیوں سے متعلق ہے،یہ زائچے میں بھی طاقت ور پوزیشن رکھتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس ملک میں اعلیٰ درجے کے ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے لہٰذا اس دور میں ملک کو سنبھالنے اور نیا آئین بنانے کے سلسلے میں پاکستان کی سیاسی قیادت نے مثبت انداز میں کام کیا اور بالآخر اپریل 1973 تک آئین سازی کا کام مکمل ہوگیا۔

زائچے کا پہلا گھر جسے طالع کہا جاتا ہے، برج ثور تقریباً تین درجہ ہے،جدید ایسٹرولوجی میں طالع کے درجات کی اہمیت بہت زیادہ ہے،اگر یہ درجہ درست طے ہوجائے تو زائچے کو سمجھنا اور اس کے مطابق سیاروی گردش کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے، عام طور پر درجے کا تعین درست طور پر صحیح وقت پیدائش سے ہوتا ہے، اسی لیے درست وقت پیدائش کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے جب کہ عام طور پر ہمارے ملک میں اس کا خیال نہیں رکھا جاتا، اکثر لوگوں کو تو اپنا وقت پیدائش معلوم ہی نہیں ہوتا، اگر معلوم ہو تو عموماً غلط ہوتا ہے،دس پندرہ منٹ کا فرق عام طور سے ضرور مشاہدے میں آتا ہے، ایک درست زائچے کے لیے اصل وقت وہ ہوتا ہے جب بچہ دنیا میں پہلی سانس لیتا ہے۔

زائچے کے درجات کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگالیجیے کہ برج ثور ایک سے زائد ممالک یا اشخاص کا پیدائشی برج ہوسکتا ہے، یہ درجات ہی ہیں جو ان کے حالات میں نمایاں فرق کا سبب بنتے ہیں، مثلاً پاکستان کے زائچے کے درجات تین ہیں، بھارت کا طالع برج بھی ثور ہے اس کے درجات تقریباً سات درجہ ہیں، مصر کا طالع برج بھی ثور ہے اس کے درجات پندرہ ہیں، ملائیشیا کے زائچے کا طالع برج بھی ثور ہے اور طالع کے درجات تقریباً 8 ہیں۔

طالع کے درجات کی اہمیت کیوں ہے؟

درحقیقت ہر زائچہ بارہ گھروں یا خانوں پر مشتمل ہےں، یہ درجات ہی نشان دہی کرتے ہیں کہ کون سا خانہ کہاں سے شروع اور کہاں ختم ہوتا ہے، اسی کی مناسبت سے سیاروں کی گردش سے قائم ہونے والے جیومیٹریکل زاویوں کو سمجھا اور پرکھا جاتا ہے ، انھیں اصطلاحاً ”نظرات“ کہا جاتا ہے اور نظرات ہی نئے واقعات و حالات کی نشان دہی کرتے ہیں، ایک تازہ مثال سامنے ہے، سیارہ مریخ طالع برج ثور کے لیے فعلی ضرر رساں سیارہ ہے، یہ زائچے کے کسی بھی گھر میں حرکت کرے گا تو اس گھر سے متعلق منسوبات کو متاثر کرے گا، اسی طرح سیارہ مشتری اور زہرہ بھی طالع ثور کے لیے فعلی اور عملی طور پر ضرر رساں ہیں، اس سال تقریباً 30 اپریل سے سیارہ مشتری زائچے کے نویں گھر میں داخل ہوا اور ابتدائی درجات یعنی تین درجے پر 30 جون تک رہا، گویا پاکستان کے زائچے کے پہلے ، تیسرے، پانچویں اور نویں گھر سے نظر قائم ہوئی جو نہایت ہی خراب اور ناموافق صورت حال کی نشان دہی کرتی ہے، پہلے گھر کے متاثر ہونے کا مطلب پاکستان کے مکمل حالات کا متاثر ہونا ، تیسرے گھر کے متاثر ہونے کا مطلب ٹرانسپورٹ، ترقیاتی امور، حکومتی فیصلے وغیرہ، پانچویں گھر کے متاثر ہونے کا مطلب بچوں سے متعلق تعلیمی امور وغیرہ جب کہ نویں گھر کا مطلب آئینی و قانونی معاملات ہیں، چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ اپریل سے جون تک ان حوالوں سے صورت حال نہایت خراب رہی بلکہ اسی عرصے میں کراچی میں ایک طیارہ بھی تباہ ہوا جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان بھی ہوا، اپریل سے جون تک کا عرصہ نہایت ہی اہم رہا ہے، اس دوران میں مختلف نوعیت کے اختلافات اور تنازعات بھی عروج پر رہے،خیال رہے کہ زائچے میں چھٹے گھر کا حاکم سیارہ زہرہ نویں گھر میں تین ڈگری پر ہے اور تیسرے گھر کا حاکم قمر تقریباً پانچ ڈگری پر ہے،اس کا مطلب یہ ہوا کہ مشتری کی ٹرانزٹ پوزیشن ان دونوں سیاروں کو بھی بری طرح متاثر کر رہی تھی جس کے نتیجے میں چھٹے گھر کی منسوبات سول و ملٹری سروسز، پڑوسیوں یا اندرون ملک اختلافی مسائل بری طرح متاثر ہوئے، اسی طرح قمر کے حوالے سے تمام کاروبار زندگی معطل ہوکر رہ گیا اور ایک بڑا حادثہ بھی پیش آیا۔