ہفتہ، 26 ستمبر، 2020

اکتوبر کی فلکیاتی صورت حال کا جائزہ

ایک سخت اور مشکل مہینے کا آغاز، حادثات اور سانحات کا امکان

پاکستان اپنی تاریخ کے ایسے بدترین سیاسی دور سے گزر رہا ہے جس میں تقریباً تمام ہی اہل سیاست اپنی ساکھ اور عزت کھو بیٹھے ہیں، کچھ سیاست داں کرپشن کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں تو کچھ اپنی غیر دانش مندانہ اقتدار پرستی کی سیاست کے باعث عوام کی نظروں میں بے وقار ہوئے ہیں، ہمارے ملک کے سیاست دانوں کے حوالے سے یہ تاثر بھی عام ہوتا جارہا ہے کہ یہ لوگ محض کاروباری مقاصد کے تحت سیاست میں آتے ہیں اور کروڑوں روپیہ خرچ کرکے اسمبلیوں تک پہنچتے ہیں اور پھر اربوں روپے کماتے ہیں، گویا سیاست ان کے لیے کوئی مقدس مشن نہیں رہا ہے، تقریباً یہی صورت حال پاکستانی صحافت کی بھی ہوچکی ہے، ہمارے ملک میں ایک فیشن اہل سیاست نے یہ بھی اختیار کیا ہے کہ فوج کو مورد الزام ٹھہرایا جائے اور ہر معاملے میں فوجی مداخلت کا رونا رویا جائے لیکن موجودہ دور میں اس حوالے سے بھی سیاست دانوں کے چہروں سے نقاب اترتی جارہی ہے،اس میں تو کوئی شک ہی نہیں ہے کہ ہمارے ملک کی مسلح افواج ہی درحقیقت ملکی تحفظ کی ضامن ہے اور جو لوگ اپنے مذموم مقاصد کے تحت فوج کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرتے ہیں، وہ یقیناً ملک سے دشمنی کے مرتکب ہوتے ہیں۔

زائچہ پاکستان کے حوالے سے ہم بہت پہلے یہ وضاحت کرچکے ہیں کہ زائچے کے چھٹے گھر (ملٹری اور سول اسٹیبلشمنٹ) کا حاکم سیارہ زہرہ زائچے کے نویں گھر میں نہایت حساس ڈگری پر قائم ہے، گویا اس ملک کی آئینی اور قائدانہ ذمے داریاں اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں ہیں اور رہیں گی لہٰذا یہ رونا فضول ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو اپنی ذمے داریوں سے فارغ کردیا جائے، ایسا اسی صورت میں ممکن ہوسکے گا جب پاکستان کی سیاست کے افق پر سیاست کو مقدس مشن سمجھنے والا کوئی ایمان دار اور صاحب کردار شخص طلوع ہوگا، اس سے پہلے یہ ممکن نظر نہیں آتا، افسوس کا مقام یہ ہے کہ پاکستان کے اہل سیاست کی بھیڑ میں کوشش کے باوجود بھی ایسے سیاست داں نظر نہیں آتے بلکہ اس کے برعکس اکثریت کا حال یہی ہے کہ ان کا بس چلے تو ملک و قوم کو ہی فروخت کردیں، اپنے اور اپنی پارٹی کے مفادات کے لیے یہ لوگ کچھ بھی کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔

کہتے ہیں کہ جمہوریت اور جمہوری نظام دنیا کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہے، چناں چہ پاکستان میں بھی جمہوری نظام ہونا چاہیے، ہمارے دانش ور، صحافی اور سیاست داں رات دن جمہوریت کا اور جمہوری روایات کا رونا روتے نظر آتے ہیں لیکن کیا درحقیقت یہ لوگ خود بھی جمہوری رویوں اور اخلاقیات کے پابند ہیں؟ پاکستان کی تقریباً ہر سیاسی پارٹی میں وراثتی نظام کون سی جمہوریت کا آئینہ دار ہے، پاکستان میں قائم جاگیرداری اور وڈیرہ شاہی سسٹم کیا جمہوریت کے لیے مناسب ہے؟یقیناً ان سوالات کا جواب دینے کی کوئی بھی کوشش نہیں کرتا، صرف اسٹیبلشمنٹ کو برا بھلا کہہ کر اپنی سیاسی حیثیت و کردار کی نمائش کی جاتی ہے اور جب بھی ملک میں کوئی جمہوری سیٹ اپ آتا ہے تو ہمیں جمہوری ڈکٹیٹر شپ اور انتظامی نا اہلی کے مظاہرے دیکھنے کو ملتے ہیں، ہماری اسمبلیوں میں عوامی مسائل کے حل کے لیے کوئی قانون سازی ضروری نہیں سمجھی جاتی، اس کے برعکس اگر نام نہاد عوامی نمائندوں کی مراعات سے متعلق معاملات ہوں تو اسمبلی فوراً قانون سازی میں مصروف ہوجاتی ہے، الا ماشاءاللہ۔

رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی میں معاف

آج کچھ درد میرے دل میں سوا ہوتا ہے

عزیزان من! اکتوبر کا آغاز ہورہا ہے اور اس مہینے میں سیارہ شمس، زہرہ اپنے برج ہبوط سے گزریں گے، گویا یہ مہینہ اہل اقتدار کے لیے نئے مسائل اور چیلنج لائے گا، اسی طرح فوجی اور سول سروسز کے لیے بھی ایک مشکل مہینہ ہوگا۔

زائچہ پاکستان کے مطابق ہر سال 15 اکتوبر سے 15نومبر تک کا وقت ہمیشہ اہم ثابت ہوتا ہے، اس عرصے میں منفی سرگرمیاں اور ناپسندیدہ واقعات و حوادث اور خصوصاً شدید نوعیت کے اختلاف رائے اور احتجاج سامنے آتے ہیں، چناں چہ اکتوبر کی 15 تاریخ کے بعد سے ایسی کسی بھی صورت حال کی توقع رکھی جاسکتی ہے۔

سیارہ مریخ 5 اکتوبر تک برج حمل میں بحالت رجعت رہے گا اس کے بعد واپس برج حوت میں آجائے گا اور زائچے کے ساتویں گھر میں موجود کیتو کے ساتھ نظر قائم کرے گا، اس سے پہلے ستمبر میں بھی یہ نظر قائم ہوئی تھی، چناں چہ کئی حادثات اور ناخوش گوار واقعات سامنے آئے تھے، ایسا ہی دوبارہ ہوسکتا ہے، اچھی بات یہ ہے کہ سیارہ زحل جو زائچے کے نویں گھر میں ہے ، مستقبل کے مثبت رجحانات کی نشان دہی کرتا ہے جن میں سے ایک کا اعلان حال ہی میں کیا گیا ہے یعنی گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنایا جائے گا اور اس حوالے سے گلگت بلتستان میں عام انتخابات کا پروگرام بھی ہے، اگر ایسا ہوگا اور ان شاءاللہ یقیناً ہوگا تو اس کے مطابق پاکستان ایک نئے دور میں داخل ہوگا، گلگت بلتستان کی پاکستان کے ساتھ نئی آئینی حیثیت پاکستان کے نئے زائچے کی داغ بیل ڈال سکتی ہے، ہمارا درد مندانہ مشورہ یہی ہے کہ ایسی صورت میں اس نئی آئین سازی اور نئے آرڈیننس وغیرہ کا اجرا ایسٹرولوجیکل کسی سعد اور مبارک وقت میں کیا جائے تاکہ پاکستان کے نئے زائچے میں مثبت اور مبارک تبدیلیاں ملک و قوم کے لیے بہتر ثابت ہوں۔

اکتوبر کے مہینے میں راہو کیتو پیدائشی زائچے کے مشتری سے طویل قران کریں گے، یہ قران اکتوبر کے دوسرے ہفتے ہی سے شروع ہوجائے گا اور جنوری 2021 تک جاری رہے گا، ہماری نظر میں یہ بہت منفی اثرات کی حامل نظر ہے جس کی وجہ سے ملک میں نئے حادثات و سانحات جنم لے سکتے ہیں، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس منحوس وقت میں اپنا رحم و کرم فرمائے، اکتوبر کے آخری دو ہفتے یقیناً تشویش ناک نظر آتے ہیں (واللہ اعلم بالصواب)

 اکتوبر کی سیاروی گردش

سیارہ شمس برج سنبلہ میں حرکت کر رہا ہے، 18 اکتوبر کو اپنے ہبوط کے برج میزان میں داخل ہوگا،گویا آئندہ ایک ماہ تک اس کی پوزیشن نہایت کمزور رہے گی، سیارہ عطارد برج میزان میں ہے،15 اکتوبر سے اسے رجعت ہوگی اور اس کی رفتار سست ہوجائے گی، 19 اکتوبر سے غروب ہوجائے گا لہٰذا پورا مہینہ غروب حالت میں کمزور پوزیشن میں رہے گا۔

امن و آشتی ، محبت، دوستی کا سیارہ زہرہ برج اسد میں حرکت کررہا ہے، 24 اکتوبر سے اپنے برج ہبوط سنبلہ میں داخل ہوگا، گویا نہایت ناقص اور کمزور حالت میں 18 نومبر تک رہے گا، اس عرصے میں منگنی، شادی جیسے معاملات سے گریز کریں کیوں کہ زہرہ کی خراب پوزیشن آئندہ ازدواجی زندگی میں نت نئے مسائل کا باعث ہوگی، ازدواجی زندگی کی خوشیاں نہ مل سکیں گی۔

سیارہ مریخ اپنے ذاتی برج حمل میں بحالت رجعت حرکت کر رہا ہے، 5 اکتوبر کو اس کی واپسی برج حوت میں ہوگی اور فوراً ہی کیتو سے نظر قائم ہوگی، خیال رہے کہ ستمبر میں بھی کیتو اور مریخ کے درمیان انتہائی نحس نظر قائم ہوئی تھی، یہ نظر حادثات اور جرائم میں اضافہ لاتی ہے، اس وقت مریخ برج حمل میں تھا اور کیتو برج قوس میں، دونوں آتشی برج ہیں، اس بار مریخ برج حوت میں اور کیتو برج عقرب میں ہوگا، دونوں آبی برج ہیں، چناں چہ ایسے حادثات اور جرائم میں اضافہ ہوگا جن کا تعلق خفیہ سرگرمیوں سے ہوسکتا ہے، سمندری اور دریائی سفر میں بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی، جنسی جرائم بڑھ سکتے ہیں، سیارہ مریخ اور کیتو کے درمیان موجودہ نظر 25 دسمبر تک قائم رہے گی۔

سیارہ مشتری بدستور 23 درجہ برج قوس پر مستقیم حالت میں ہے،5 اکتوبر سے اپنے نئے سفر کا آغاز کرے گا، سیارہ زحل برج جدی کے 2 درجے پر حرکت کر رہا ہے،پورا مہینہ اس کی یہی پوزیشن رہے گی،راہو کیتو20 ستمبر سے برج تبدیل کرکے اپنے شرف کے بروج ثور اور عقرب میں داخل ہوچکے ہیں،پورا مہینہ اسی برج میں حرکت کریں گے،یہ سیاروی گردش ویدک سسٹم کے مطابق ہے۔

شرف قمر

قمر اپنے شرف کے برج میں پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 5 اکتوبر بروز پیر رات 09:15 pmپر داخل ہوگا،8 اکتوبر 09:20 am تک برج ثورمیں رہے گا، یہ انتہائی سعادت افروز اور سعدوقت ہوگا، اس وقت میں اپنی جائز مشکلات اور حاجت کے لیے ضروری عمل و وظائف کیے جاسکتے ہیں، ایسے اعمال و وظائف کے لیے بہتر وقت 6 اکتوبر کو شام 04:47 سے 05:45 تک ہوگا۔

اس سعد وقت سے فائدہ اٹھانے کے لیے مقررہ وقت پر پاک صاف ہوکر قبلہ رخ بیٹھیں اور 786 بار بسم اللہ الرحمن الرحیم اول آخر گیارہ بار درود شریف کے ساتھ پڑھ کر کچھ چینی پر دم کرلیں اور یہ چینی گھر میں استعمال ہونے والی چینی میں ملادیں، ان شاءاللہ گھر میں باہمی اختلافات کا خاتمہ ہوگا اور محبت و یگانگت بڑھے گی، رزق میں برکت ہوگی، چینی جب ختم ہونے لگے تو اس میں مزید چینی ملا لیا کریں۔

قمر در عقرب

سیارہ قمر اکتوبر کے مہینے میں 19 تاریخ کو پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق رات 12:20 am پر برج عقرب میں داخل ہوگا اور 21 اکتوبر رات تقریباً دو بجے تک اپنے ہبوط کے برج عقرب میں رہے گا، اس دوران میں کوئی نیا کام شروع نہ کریں، پہلے سے جاری کاموں کو انجام دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہوگا، یہ انتہائی نحوست کا وقت ہوتا ہے، خاص طور پر اس وقت شادی بیاہ یا نئے ایگرمنٹ وغیرہ سائن کرنا ،نئی خریدوفروخت کرنا فائدے بخش نہیں ہوتا، اس موقع پر بری عادتوں اور خراب حرکتوں سے روکنے کے لیے جفری عملیات کیے جاتے ہیں، اس تمام وقت میں ایسے عملیات کے لیے حسب ضرورت سیاروی ساعتوں سے کام لیا جاتا ہے۔

میاں بیوی میں محبت کے لیے عمل خاص

زن و شوہر میں اختلافات، مزاجی ناہمواری، باہمی لڑائی جھگڑا، محبت کی کمی وغیرہ کے لیے یہ ایک مجرب طریقہ ہے اور صرف شادی شدہ خواتین و حضرات ہی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ نہایت آسان بھی ہے۔ گرہن کے درمیانی وقت میں ایک سفید کاغذ پر کالی یا نیلی روشنائی سے پوری بسم اﷲ لکھ کر سورہ الم نشرح پوری لکھیں پھر یہ آیت لکھیں۔

والقیت علیک محبة فلاں بن فلاں (یہاں مطلوب کا نام مع والدہ لکھیں) علیٰ محبة فلاں بنت فلاں (یہاں طالب کا نام مع والدہ لکھیں) کما الفت بین آدم و حوا و بین یوسف و زلیخا و بین موسیٰ و صفورا و بین محمد و خدیجة الکبریٰ و اصلح بین ھما اصلاحاً فیہ ابداً

اب تمام تحریر کے ارد گرد حاشیہ ( چاروں طرف لکیر) لگا کر کاغذ کو تہہ کر کے تعویز بنا لیں اور موم جامہ کر کے بازو پر باندھ لیں یا پھر اپنے تکیے میں رکھ لیں۔

خیال رہے کہ مندرجہ بالا نقوش لکھتے ہوئے باوضو رہیں، پاک صاف کپڑے پہنیں، علیحدہ کمرے کا انتخاب کریں، لکھنے کے دوران مکمل خاموشی اختیار کریں اور اپنے مقصد کو ذہن میں واضح رکھیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں، رجال الغیب کا خیال رکھیں کہ آپ جس طرف رخ کر کے بیٹھے ہوں وہ آپ کے سامنے نہ ہوں، رجال الغیب کا نقشہ اس کتاب میں دیا جارہا ہے ، اس سے مدد لیں۔


جمعہ، 18 ستمبر، 2020

جادو کی تعریف و حقیقت مذہب و الہامی کُتب کی روشنی میں

ہمارے معاشرے میںسحرو جادو کم علمی اور عدم واقفیت کی وجہ سے پھیل رہا ہے

پہلے بھی ہم اس صورت حال کی نشان دہی کرچکے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں سحرو جادو ، سفلی اور دیگر گندے عملیات کے ذریعے مقاصد کے حصول یا دوسروں کو تکلیف و ایذا پہنچانے کا عمل تیزی سے بڑھتا جارہا ہے،آج سے 25 ,30 سال پہلے تک صورت حالات اتنی شدید نہیں تھی جتنی اب ہوچکی ہے، کم پڑھے لکھے اور دین کی پوری طرح سمجھ نہ رکھنے والے افراد اس معاملے میں زیادہ ملوث نظر آتے ہیں اور خاص طور پر خواتین اس برائی کو پھیلانے میں اپنی کم علمی اور جذباتیت کی وجہ سے نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں،وہ اپنی پریشانیوں اور مسائل کے حل کے سلسلے میں اول تو ایک دوسرے سے سنے سنائے بہت سے وظیفوں یا عملیات کا بے دریغ اور بے تحاشا استعمال شروع کردیتی ہیں،بہت سے ٹونے ٹوٹکے جو شرکیہ بھی ہوسکتے ہیں، آزماتی رہتی ہیں اس کے علاوہ ایسے پیروں فقیروں ، نام نہاد عاملوں ،باباو¿ں اور ملنگوں یا اللہ والی باجیوں سے بھی رابطہ کرکے عمل و تعویذات استعمال کرتی ہیں جو خود جہالت کاشکار ہیں ،انہوں نے ادھر اُدھر سے کچھ کتابیں پڑھ کر یا اپنے ہی جیسے کسی استاد یا پیر کی شاگردی کرکے تھوڑا بہت کچھ سیکھ لیا ہوتا ہے اور پھر اس کے بل بوتے پر خلقِ خدا کے مسائل حل کرنے میں مصروف ہوجاتے ہیں، ایسے لوگ باقاعدہ طور پر دین کا علم بھی نہیں رکھتے اور انہیں کسی علم میں کوئی کمال یا دسترس بھی حاصل نہیں ہوتی،ان کا بنیادی مقصد معاشرے میں سستی عزت اور شہرت حاصل کرنا یا خلقِ خدا کو لوٹنا ہوتا ہے،انہیں یہ بھی فکر نہیں ہوتی کہ وہ اگر کسی کو کوئی علاج تجویز کر رہے ہیں تو اس کے خطرناک نتائج بھی برآمد ہوسکتے ہیں یا دوسرے معنوں میں انہیں خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے بتائے گئے کسی وظیفے ، عمل یا طریقہءکار کے کچھ سائیڈ افیکٹس بھی ہوسکتے ہیں اور وہ طریقہءکار شرعی طور پر کہاں تک درست ہے۔

عبرت سرائے دہر ہے

ہمیں اکثر ایسے لوگوں سے ملنے اور ان کے مسائل جاننے کا موقع ملتا ہے جو ایسے لوگوں کا شکار ہوتے ہیں،ایک صاحب نے بتایا کہ ان کی بیوی اُن پر جادو کرتی ہے انہیں اُس کے پرس میں سے ایک پرچہ اور کچھ تعویذ ملے،پرچے میں طریقہءکار کی وضاحت کی گئی تھی کہ تعویذ کو پانی میں گھول کر سارا پانی اپنے منہ میں ڈال لیں اور پھر کسی کپ میں کُلّی کردیں،بعد میں یہ پانی شوہر کو پلادیں۔

وہ صاحب کافی عرصے سے مختلف بیماریوں کا شکار تھے،جب یہ پرچہ اور تعویذ ان کی نظر سے گزرے تو پھر انہیں یقین ہوگیا کہ بیوی اُن پر جادو کر رہی ہے۔

ہم نے تعویذوں کا معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ شوہر کے دل میں اپنی محبت شدید کرنے کے لیے وہ تعویذ بنوائے گئے تھے مگر طریقہ ءکار قطعاً نا مناسب تھا اور نقوش سے یہ اندازہ بھی نہیں ہورہا تھا کہ وہ آیات و اسمِ الہٰی سے تیار کئے گئے ہیں یا کچھ اور جنتر منتر کا معاملہ ہے۔

ایک صاحب جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے تھے، انہوں نے اپنے حالات کی خرابی کے سلسلے میں رابطہ کیا اور یہ بھی بتایا کہ دو بار ہمارے گھر سے تعویذ برآمد ہوئے ہیں اور ایک بار گھر کے صحن میں ٹوٹا ہوا انڈا پڑا ہوا تھا اور انڈے کے چھلکے پر کوئی نقش لکھا گیا تھا ، انڈا گندہ تھا کیوں کہ اُس کے اندر خون موجود تھا واضح رہے کہ وہ اپنے شادی شدہ بھائی اور والدہ کے ساتھ جس گھر میں رہتے تھے اُس کا صحن ایک ہی تھا اور انڈہ رات کو کسی وقت صحن میں ڈالا گیا تھا، جب تمام صورت حال کی تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ یہ تمام کارروائیاں ان کی اپنی بیگم کی جانب سے ہورہی تھیں کیوں کہ وہ چاہتی تھیں کہ دونوں بھائیوں میں اختلافات بڑھ جائیں اور وہ الگ الگ ہوجائیں،شوہر سے ان کا پرانا مطالبہ تھا کہ الگ گھر لیں، وہ جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے ہوئے خوش نہیں تھیں۔

دو بیویوں کے شوہر تو لازمی تختہءمشق بنتے ہیں ، کیوں کہ دونوں اپنا پلڑا بھاری رکھنے کی فکر میں وہ سب کچھ کرنے کے لیے تیار رہتی ہیں جو ان کے اختیار میں ہوتا ہے اور اس کھینچا تانی میں کبھی کبھی شوہر قربان ہوجاتا ہے،ہم کئی ایسے مظلوم شوہروں سے مل چکے ہیں، قصہ مختصر یہ کہ ازدواجی مسائل اور دیگر خاندانی فتنہ و فساد، خواتین کو روحانی امداد کے بہانے سحرو جادو کے چکر میں پھنسا دیتے ہیں، اس کے علاوہ بھی بہت سی صورتیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے نادانستگی میں انسان کسی سحری و جادوئی مسئلے میں مبتلا ہوجاتا ہے،اپنے طور پر بھی لوگ ایسے کام کر بیٹھتے ہیں جن کے غلط نتائج کا خود انہیں اندازہ نہیں ہوتا، مثلاً سنے سنائے وظائف و عملیات یا مختلف کتابوں سے نقل کےے گئے نقوش و اعمال اپنی ضرورت کے مطابق منتخب کرکے ان پر عمل کرنا بھی کبھی کبھار نقصان دہ ہوجاتا ہے ، خاص طورپر ایسے اعمال جن میں اپنے درست استحقاق کا خیال نہ رکھا جائے یا وہ شرعی تقاضوں کے مطابق نہ ہوں ۔

جواہرات کے سحری اثرات

ایک اور صورت بھی مشاہدے میں آئی ہے جو عام ہے ، لوگوں میں مختلف قیمتی پتھر پہننے کا شوق کم نہیں ہے ، اس کے علاوہ اپنی ضرورت کے مطابق بھی لوگ پتھر استعمال کرتے ہیں اور پتھروں کے سحری (باطنی) اثرات سے انکار ممکن نہیں ہے ، اگر پتھر کا غلط استعمال کیا جائے تو بھی سحری اثرات نقصان پہنچاتے ہیں اور اکثر تو ناقص اور عیب دار پتھر بہت نقصان دہ ثابت ہوتا ہے لہٰذا اس سلسلے میں بھی سخت احتیاط کرنا چاہےے ۔

جادو یا عملیات کے نام پر فراڈ

بہت پہلے سحرو جادو کے موضوع پر ایک طویل سلسلہ ہم نے لکھا تھا جو کوشش کے باوجود کتابی شکل میں شائع نہیں ہوسکا،ممکن ہے ہمارے پرانے قارئین کے پاس اس کا ریکارڈ موجود ہو، بہر حال اب دوبارہ اس کی ضرورت محسوس ہورہی ہے تاکہ عام لوگوں کو اس مسئلے سے آگاہی حاصل ہوسکے۔

مندرجہ بالا مثالوں کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ ہمارے معاشرے میں جو لوگ اس قسم کے کام کر رہے ہیں وہ دوسروں کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں، اکثر معاملات میں ایسے کاموں کا نتیجہ خود کرنے والے کے خلاف نکلتا ہے اور جس پر کیا جائے وہ محفوظ رہتا ہے،بشرط یہ کہ وہ پاک صاف رہتا ہو اور اللہ پر کامل ایمان رکھتا ہو، مثبت سوچ کا حامل ہو،اکثر یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ نام نہاد عامل یا پیر فقیر تھوڑے سے پیسوں کے لیے لوگوں کو محض بے وقوف بناتے ہیں، کاغذ پر الٹی سیدھی لکیریں کھینچ کر یا کوئی بے معنی تحریر لکھ کر تعویذ بنا کر دے دیتے ہیں یا وہ تعویذ کسی اصول و قاعدے کے بغیر کسی کتاب سے نقل کیے ہوئے ہوتے ہیں جن کا کوئی اثر ظاہر نہیں ہوتا لیکن انسان وہم میں مبتلا ضرور ہوجاتا ہے،گویا ایک نفسیاتی اثر اُسے اپنے حصار میں لے لیتا ہے۔

نفسیاتی اثرات کی کرشمہ کاری

نفسیاتی اثر تو بعض لوگ اور خاص طور سے خواتین اپنے خوابوں کا بھی بہت زیادہ قبول کرتی ہیں مثلاً اگر کسی نے خواب میں لاش دیکھ لی یا کسی مردے کو دیکھ لیا یا کالی بلی، چھپکلی، چوہا ، سانپ وغیرہ دیکھ لیا تو پریشانی شروع ہوجاتی ہے، حالاں کہ ایسے خواب ہماری پوشیدہ بیماریوں کی نشان دہی کرتے ہیں، ہمارے لاشعور میں چھپے ہوئے خوف اور اندیشے عجیب عجیب بھیانک شکلیں بنا کر ہمارے خوابوں میں آتے ہیں لیکن ہم انہیں کچھ اور ہی معنی پہنا رہے ہوتے ہیں۔

اپنی خامیاں ،کوتاہیاں اور وقت کی گردش

بے شمار کیسوں میں لوگوں نے ہمیں بتایا کہ ان پر زبردست قسم کا جادو کیا گیا ہے اور ان کے دشمن برسوں سے انہیں نشانہ بنارہے ہیں جس کی وجہ سے وہ مختلف مسائل کا شکار رہتے ہیں،جب ہم نے اُن سے پوچھا کہ دشمنوں کے کیے ہوئے جادو سے آپ کو کون کون سے نقصانات اٹھانے پڑے اور انہوں نے نقصانات کی تفصیل بتائی تو معلوم ہوا کہ ان نقصانات میں سے کسی کا تعلق بھی سحری اثرات سے نہیں تھا بلکہ ان کی اپنی غلطیوں ، کوتاہیوں ، کم علمی یا پھر وقت کی گردش کا کھیل تھا، حقیقت یہ ہے کہ نام نہاد اور پیشہ ور قسم کے لوگوں نے جو خود جہالت کا شکار ہوتے ہیں، سحرو جادو وغیرہ کے حوالے سے اس قدر غلط باتیں معاشرے میں پھیلا دی ہیں کہ لوگ اپنے ہر مسئلے کی وجہ جادو یا آسیب و جنات کو سمجھنے لگے ہیں، جب کوئی کم علم اور کمزور قوت ارادی کا حامل انسان زندگی کے مسائل سے لڑتے لڑتے تھک جاتا ہے اور منفی سوچوں کے بھنور میں پھنس کر مایوسی کا شکار ہوتا ہے تو سب سے پہلے توہّم پرستی کا آسیب اسے اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور اس کا ذہن اپنے معاملات میں سحرو جادو یا کسی ماورائی مخلوق کی کار فرمائی کے امکان پر غور شروع کردیتا ہے۔سونے پر سہاگہ یہ کہ ایسی کسی بھی پیچیدہ صورت حال میں جب انسان کسی مشہور روحانی شخصیت سے رابطہ کرتا ہے اور مشورے کا طالب ہوتا ہے تو نوّے فیصد جواب یہی ملتا ہے کہ بندش ہے، کسی نے تعویذ کرادیے ہیں، سفلی ہوا ہے،آسیبی مداخلت ہے،وغیرہ وغیرہ۔

جادو کے لفظ کا استعمال

”جادو“ بذات خود ایک بڑا پر اسرار اور پرکشش لفظ ہے، ہماری عام زندگی میں بھی اس کا استعمال استعارے اور تشبیہ کی صورت میں عام ہے،اردو ادب میں شاید ہر شاعر و ادیب نے اس لفظ کو اپنے اپنے ڈھنگ سے بے شمار مرتبہ استعمال کیا ہوگا اگر چہ اس کے مخصوص لغوی معنی موجود ہیں مگر اس کا استعمال مختلف رنگ اور ڈھنگ سے بکثرت ہوتا ہے اور ہم اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں،با الفاظ دیگر ”جادو“ ان لوگوں کے سر پر بھی چڑھ کر بولتا ہے جو اسے ایک حقیقت کے طور پر تسلیم نہیں کرتے، بھلا کسی آہو چشم کی ایک ترچھی نظر کے عوض سلطنت و حکومت جیسی چیز کو پائے حقارت سے ٹھکرا دینا ، جادو کا سر چڑھ کر بولنا نہیں تو پھر اور کیا ہے ؟ 

”جادو“ نظر کا ہو یا کسی کے حسن و محبت کا، جب چلتا ہے تو خوب چلتا ہے، یوں تو جادو کی ان گنت غیر لغوی اقسام ہیں مگر ہمارا موضوع تو وہ جادو ہے جو عام طور پر بنگال ، مصر، بابل اور ہندوستان وغیرہ کے حوالے سے مشہور ہے اور اپنے دامن میں ہزارہا قصوں ، کہانیوں سمیت سینہ بسینہ چلنے والی روایات کی سحر بیانی لیے ہوئے ہیں۔

”جادو“یا سحر کو سحر بیانی کے زور پر یقیناً پہاڑ بنادیا گیا ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ رائی ہوتی ہے تو پہاڑ بنتا ہے، برسوں بعد ایک بار پھر اس موضوع پر لکھنے کا ارادہ کرلیا ہے اور ہمارا مقصد کسی شے یا حقیقت کا انکارِ محض یا اقرارِ محض نہیں ہے بلکہ ہمارا مدعا تو اپنے پڑھنے والوں کو درست صورت حال سے آگاہ کرنا ہے تاکہ معاشرے میں پھیلی ہوئی غلط معلومات اور گمراہ کن نظریات سے بچا جاسکے۔

جادو کا انکار یا اقرار

ہمارے معاشرے میں پائے جانے والے دیگر عقائد و نظریات کی طرح ”جادو“ بھی ہمیشہ سے فکری انتہا پسندی کا شکار رہا ہے، بعض لوگ تو اسے سرے سے مانتے ہی نہیں اور جادو یا اس کی کارفرمائی کو لغو ، وہم یا فرسودہ ذہنوں کی پیداوار قرار دیتے ہیں جب کہ اس کے برعکس دوسری انتہا یہ ہے کہ موسمی اثرات سے پیدا ہونے والی بیماریاں یا فطری طور پر ہوجانے والا نزلہ، زکام ، بخار بھی بعض گھروں میں جادو کے اثرات کا نتیجہ قرار پاتا ہے، خصوصاً شادی بیاہ کے معاملات میں یا ازدواجی زندگی کی مشکلات میں جادو ٹونے کا چکر ہمارے معاشرے میں بہت عام ہوچلا ہے،بیٹے کا بیوی کی محبت میں فطری طور پر مبتلا ہونا یا شوہر کا اپنی ماں کا بہت زیادہ فرماں بردار ہونا بھی جادو گری کا کمال سمجھا جاتا ہے،شادی میں فطری اور قدرتی تاخیر یا میڈیکل وجوہات کی بنیاد پر اولاد میں تاخیر یا اولاد کا نہ ہونا ، بے روزگاری، اپنی کوتاہیوں اور غیر ذمہ داریوں یا اناڑی پن کی وجہ سے کاروباری نقصان ،غرض ہر مسئلہ جادو کے زیر اثر آجاتا ہے اور پھر کسی عامل ، اونچی سرکار، بنگالی بابا، مستانی مائی یا باجی اللہ والی جیسی شخصیات کی چاندی ہونے لگتی ہے لیکن حاصل وصول کچھ نہیں ہوتا، بلکہ صورت حال بقول شاعر وہی ہوتی ہے کہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔

جادو، مذہب اور الہامی کُتب

اس تمام گفتگو کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ”جادو“ نام کی کوئی شے یا قوت دنیا میں سِرے سے موجود ہی نہیں، کہیں پائی ہی نہیں جاتی،جادو ایک حقیقت ہے ، ایک علم ہے، ایک کائناتی سائنس ہے، اسے بالکل ہی تسلیم نہ کرنا اگر جہالت نہیں تو کم از کم نا انصافی یا شدید کم علمی ضرور ہے۔ 

جادو کا شمار دنیا کے قدیم ترین علوم میں ہوتا ہے،ایک مکمل علم کے مانند اس کی باقاعدہ ایک تھیوری ہے،ایک نظریہ ہے، ایک عمل ہے اور باقاعدہ اطلاقی میدان ہے۔

موضوع گفتگو اگر جادو ہے تو پھر مذاہب اور الہامی کتب کا مطالعہ ناگزیر ہوجاتا ہے کیوں کہ موجودہ سائنس اپنی تمام تر ترقی اور رفتار کے باوجود ابھی تک بہت سے حقائق و علوم سے پردہ نہیں ہٹا پائی ہے اور جدید تہذیب کے اسی رویے کے باعث سائنس داں و دانش ور حضرات بھی انہی اشیا کو مرکز تحقیق بنائے ہوئے ہیں کہ جو براہ راست مادے سے متعلق ہےں ، جادو کے بارے میں آج کے علمی اور سائنسی ذہنوں کا رویہ ”میں مانوں کہ نہ مانوں“ والا ہے اور شاید اسی لےے اس ضمن میں تحقیق و تجسس کا کام ٹھوس بنیادوں پر شروع نہیں ہو پایا ہے ، اکثر مستند علما نے ذاتی تجربات و مشاہدے کی بنیاد پر جو کام کیا ہے وہ بہرحال موجود ہے لیکن عام آدمی کی رسائی اس تک نہیں ہوپاتی ، اس کے بجائے سطحی نوعیت کی تحریریں بہت زیادہ ہیں جن کے مطالعے سے مصنف کی کم علمی عیاں ہوتی ہے ۔

 ہمارے اکثر مذہبی اسکالرز کا علم بھی اس حوالے سے یکطرفہ ہے ، یعنی انہوں نے جادو کے بارے میں جس قدر بھی قرآن اور حدیث سے احکامات اور تشریحات کا مطالعہ کیا ہے وہ اس تک ہی خود کو محدود رکھتے ہیں ، اس سے آگے بڑھ کر کسی بھی علم کے بارے میں مزید تحقیق اور تجربے کو ضروری نہیں سمجھتے ، نتیجے کے طورپر عمر بھر مکھی پہ مکھی مارتے رہتے ہیں ، بے شک قرآن و حدیث کے ذریعے ہمیں جادو کی اہمیت اور اس سے اجتناب کے بارے میں احکام مل جاتے ہیں لیکن اس موضوع سے مکمل آشنائی کے لےے اس علم کی مکمل تاریخ اور طریقہ کار کا مطالعہ بھی ضروری ہے ، اکثر لوگ یہ زحمت نہیں کرتے ، نتیجے کے طورپر بہت سی ایسی چیزوں کو جادو قرار دے دیا جاتا ہے جو جادو نہیں ہوتیں یا بہت سی چیزوں کو جادو کی فہرست سے خارج کردیا جاتا ہے جو درحقیقت جادو کے ذیل میں آتی ہیں ، مثلاً بعض علما نے شعبدہ بازی ، علم نجوم ، پامسٹری یا علم الاعداد کو بھی جادو قرار دے دیا ، قصہ مختصر یہ کہ اس حوالے سے لکھی جانے والی اکثر کتابیں محققانہ بصیرت سے خالی نظر آتی ہیں ، مطالعے کے دوران میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ صاحب تحریر کا علم کسی نہ کسی حوالے سے نامکمل یا ادھورا ہے ۔(جاری ہے)


جمعہ، 4 ستمبر، 2020

زائچہ ءپاکستان کے حوالے سے تحقیق اور تجربات

قیام پاکستان سے آج تک کی صورت حال کا تجزیہ اور تبصرہ

1947 میں قیام پاکستان سے متعلق جو بھی زائچے بنائے گئے ان کے بارے میں ہمارے سابقہ یا حالیہ منجمین کوئی معقول ، ٹھوس بنیادوں پر مبنی تجزیہ کبھی پیش نہیں کرسکے، پاکستان کے حالات و واقعات پر ان زائچوں کی روشنی میں پیش گوئیاں بھی ہوتی رہیں اور تجزیے بھی ہوتے رہے جو تکنیکی اعتبار سے ہر گز معیاری نہیں تھے، مختلف اوقات میں مختلف نظریات پیش کیے جاتے رہے،مثلاً جب ملک دولخت ہوا تو کہا گیا کہ پاکستان کا پیدائشی برج حمل ہے اور یہ ایک منقلب برج ہے اور منقلب بروج کو استحکام نہیں ملتا، بھارت کا برج ثور ہے یہ ثابت (Fixed sign) ہے، اس لیے مستحکم ہے، پاکستان منقلب برج کی وجہ سے دو ٹکڑے ہوگیا، دنیا میں بہت سے ممالک جن میں سرفہرست امریکا ہے ان کا طالع منقلب ہے، وہ تو ابھی تک دولخت نہیں ہوئے، جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ ڈاکٹر ایوب تاجی لاہور کے ریڈیو اعلان کی بنیاد پر طالع ثور کا زائچہ بناتے تھے ، وہ بھی کبھی پاکستان کے دولخت ہونے پر کوئی معقول دلیل پیش نہیں کرسکے، ڈاکٹر اعجاز حسین بٹ جو 14 اگست صبح 09:35 am بمقام کراچی سے طالع سنبلہ کا زائچہ بناتے تھے ان کا موقف یہ تھا کہ سنبلہ ذوجسدین (Doube body) برج ہے، تبدیلیوں کا شکار ہوتا ہے، پاکستان دولخت ہوا اور مزید بھی ہوگا، وہ آخر عمر تک اس موقف پر قائم رہے کہ پاکستان کی مزید تقسیم ہوگی اور ”گریٹر پنجاب“ وجود میں آئے گا، بہر حال اب وہ اس دنیا میں نہیں ہیں، اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔

حضرت کاش البرنیؒ صاحب طالع برج جوزا یونانی حساب سے پاکستان کا طالع پیدائش مقرر کرتے تھے جیسا کہ ہمارے عزیز بھائی رفعت شیخ نے بھی جو پرانے ایسٹرولرجر ہیں کہا کہ میں بھی برج جوزا کو درست سمجھتا ہوں ۔

ہمیں یاد نہیں کہ برنی صاحب مرحوم و مغفور کس بنیاد پر طالع جوزا پاکستان کا طالع سمجھتے تھے، شاید وہ قائد اعظم محمد علی جناح کی کسی تقریر کا حوالہ دیتے تھے جو ریڈیو سے نشر کی گئی تھی اور اس وقت کو اہمیت دیتے تھے لیکن طالع جوزا بھی ذوجسدین برج ہے اور صرف یہ دلیل کافی نہیں ہے کہ برج جوزا کی وجہ سے پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔

جناب پیر پگارا صاحب بھی علم نجوم سے شغف رکھتے تھے اور کراچی کے اکثر منجمین ان کے در دولت پر حاضری دیتے تھے، ایک بار روزنامہ جرا¿ت میں ہمارے کسی کالم کو پڑھنے کے بعد انھوں نے ہم سے ملاقات کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا لیکن یہ ملاقات کبھی نہ ہوسکی، پیر صاحب بھی اکثریتی رائے کے مطابق پاکستان کا پیدائشی برج حمل ہی تصور کرتے تھے۔

پاکستان کے ایک اور بہت مشہور و معروف اور طویل عمر پانے والے منجم جو راولپنڈی میں ایک ایسٹرولوجیکل انسٹی ٹیوٹ بھی چلارہے تھے بہت عجیب و غریب قسم کی پیش گوئیاں کیا کرتے تھے، لال قلعے پر پاکستان کا جھنڈا لہرانے کی پیش گوئی، اندرا گاندھی کو اکثروبیشتر دھمکیاں اور آنے والے وقت سے ڈرانے کے لیے خطوط نویسی بھی ان کی کارگزاری میں شامل ہے، تمام دیگر منجمین ان کی بزرگی کے سبب ان کا بہت احترام کرتے تھے اسم گرامی غازی منجم تھا۔

عمر کے بالکل آخری حصے میں شاید 2010 ءمیں ہمیں ایک ایسے پروگرام میں شرکت کا موقع ملا جس میں تقریباً تمام ہی پاکستان کے مشہور منجم یکجا تھے، یہ تقریب لاہور میں منعقد ہوئی ، یہ ہمارے برادر عزیز سید انتظار حسین شاہ زنجانی کے بڑے صاحب زادے سید مصور علی زنجانی کا ولیمہ تھا جو لاہور کے پی سی میں ہوا۔

اس تقریب میں جناب غازی منجم ، جناب اعجاز حسین بٹ، لاہور کے مشہور و معروف ”ماموں“ الغرض تقریباً تمام ہی منجم حضرات اس ولیمے میں شریک تھے، بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ پاکستان کے شہرہ آفاق آرٹسٹ جناب شجاعت ہاشمی بھی ایسٹرولوجی کے حوالے سے ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں اور یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ وہ پنجاب کے بہت سے منجمین کی دائی ہیں، ہم سے ان کے برادرانہ اور بے تکلفانہ مراسم ہیں، اس تقریب میں شجاعت صاحب کے ذریعے فرداً فرداً تقریباً تمام ہی منجمین سے کم یا زیادہ گفتگو رہی اور اندازہ ہوا کہ سب اپنی اپنی جگہ ایک ”سنگ میل“ ہیں اور اپنے علاوہ کسی کو کچھ نہیں سمجھتے، علمی موضوع پر گفتگو سے پرہیزکرتے ہیں، صرف اپنی پیش گوئیوں کے حوالے سے اظہار خیال کو ضروری سمجھتے ہیں، کسی نے بھی پاکستان کے زائچے کے حوالے سے اظہار خیال کرنا پسند نہیں کیا، ہمیں بڑی حیرت ہوئی۔

پاکستانی منجمین میں بھی ایک شاعرانہ بیماری ہمیں نظر آئی یعنی جو ذرہ جس جگہ ہے وہیں آفتاب ہے۔

اگر علم نجوم ایک سائنسی علم ہے تو اسے جامد نہیں ہونا چاہیے اور مسلسل تحقیق و تجدید کا عمل جاری رہنا چاہیے، یہ تب ہی ممکن ہوتا ہے جب علمی موضوعات پر کھل کر اظہار خیال کیا جائے، باہمی مکالمہ ہو، مزید یہ کہ اس حوالے سے دنیا بھر میں کیا ہورہا ہے اس پر بھی نظر رہے، اپنے ”سینہ گزٹ“ پر قائم و دائم رہنے والے اپنے علم کے ساتھ انصاف نہیں کرسکتے۔

نیا زائچہ ءپاکستان





پاکستان کے بارے میں جیسا کہ پہلے ہم بتاچکے ہیں کہ نیا زائچہ ءپاکستان ہماری نظر میں 20 دسمبر 1971ءبمقام اسلام آباد 14:55 pm ہے اور اس کی بنیادی وجوہات پر خاصی گفتگو ہوچکی ہے،بلاشبہ 1971 میں مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان جو محاذ آرائی ہوئی اور اس وقت کی مغربی پاکستان کی عاقبت نا اندیش فوجی اور سیاسی قیادت نے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر جو کچھ کیا اس سے پڑوسی ملک بھارت نے فائدہ اٹھایا، 25 مارچ 1971 کو شیخ مجیب الرحمن نے پاکستان سے علیحدگی اور بنگلہ دیش کے قیام کا اعلان کردیا، 16 دسمبر 1971 کو سقوط ڈھاکا کے بعد پاکستان کی فوجی قیادت نے جناب ذوالفقار علی بھٹو کو فوری طور پر اسلام آباد طلب کیا اور 20 دسمبر کو وہ اسلام آباد پہنچے، پاکستان کرونیکل از عقیل عباس جعفری کے مطابق شام 4 بجے جب وہ ایوان صدر سے روانا ہوئے تو ان کی گاڑی پر پاکستانی پرچم لہرا رہا تھا، اس کا مطلب ہے کہ تقریباً ڈھائی اور تین بجے کے درمیان ٹرانسفر آف پاور اور تقریب حلف برداری کے مراحل طے ہوئے، چناں چہ ہم نے 02:55 pm کا وقت اندازاً رکھا ہے،اس وقت کے مطابق اس وقت اسلام آباد کے افق پر برج ثور کے دو درجہ 35 دقیقہ طلوع تھے، یہی نئے پاکستان کا طالع پیدائش یا لگن ہماری نظر میں درست ہے، ممکن ہے اس وقت میں مزید کمی بیشی کی جاسکے، تحقیق و تجربے کا دامن تنگ نہیں ہے، یہ وقت مقرر کرنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہر زائچے میں پہلے گھر یعنی لگن (Ascendent) کے درجات سب سے زیادہ اہمیت کے حامل ہوتے ہیں کیوں کہ ویدک سسٹم میں زائچے کے دیگر گھروں کے درجات بھی وہی تصور کیے جاتے ہیں یعنی ہر گھر کا آغاز پھر اسی درجے سے ہوتا ہے، ہمارا تجربہ اور مشاہدہ یہ بھی ہے کہ ابتدائی درجات یعنی ایک درجے سے تین درجے تک پاکستان کے لیے بہت حساس ثابت ہوتے ہیں، اس کی مثال آگے آئے گی، چناں چہ ہم نئے زائچہ ءپاکستان میں برج ثور کے ابتدائی درجات ہی کو درست سمجھتے ہیں۔

زائچے کے پہلے گھر میں سیارہ زحل بحالت رجعت 7 درجہ 39 دقیقہ اچھی مضبوط پوزیشن میں قابض ہے، سیارہ مشتری ساتویں گھر برج عقرب میں 26 درجہ 17 دقیقہ اور اسی برج اور گھر میں سیارہ عطارد بحالت رجعت اچھی پوزیشن میں قابض ہے، کیتو تیسرے گھر میں 12:15 درجہ ، شمس 04:23 نہایت کمزور اور خراب پوزیشن میں آٹھویں گھر برج قوس میں، زہرہ نویں گھر برج جدی میں 2 درجہ 59 دقیقہ اور اسی نویں گھر میں قمر 5 درجہ 38 دقیقہ ، راہو 12:15 درجہ ، سیارہ مریخ گیارھویں گھر برج حوت میں دو درجہ 28 دقیقہ قابض ہے۔

بہ وقت پیدائش سیارہ شمس کا دور اکبر (Main period) جاری تھا جب کہ اسی دور اکبر میں دور اصغر سب پیریڈ سیارہ عطارد کا جاری تھا۔

واضح رہے کہ جدید ایسٹرولوجیکل سسٹم کے مطابق طالع یا لگن ثور (Taurus) کے لیے سیارہ قمر ، شمس، عطارد اور زحل فعلی اور عملی طور پر سعد یعنی فائدہ بخش (Functional beneficial) سیارے ہیں جب کہ سیارہ زہرہ، مشتری اور مریخ فعلی اور عملی طور پر نقصان دہ (Functional melfic) سیارے ہیں، راہو کیتو تقریباً ہر زائچے میں نقصان دہ ہوتے ہیں اور ان کے فائدے اور نقصان کے حوالے سے ان کی مخصوص پوزیشن کا جائزہ لینا پڑتا ہے، اسی طرح دیگر سیارگان کے قوت و ضعف کا جائزہ لینا بھی ضروری ہوتا ہے،اس کے مطابق ہی زائچے میں جاری ادوار (Periods) کے اچھے یا برے ہونے کا فیصلہ ہوتا ہے مثلاً جیسا کہ پہلے بتایا گیا کہ سیارہ شمس کا دور اکبر جاری تھا جو 6 دسمبر 1973 تک جاری رہا ،سیارہ شمس زائچے کا سعد سیارہ ہے،چوتھے گھر کا حاکم ہے، اس کا تعلق داخلی معاملات اور عوامی صورت حال سے ہے،زائچے میں آٹھویں گھر میں نہایت کمزور حالت میں اور مصیبت میں ہے،چناں چہ عوام کی اچھی حالت کی نشان دہی نہیں کرتا لیکن اس کا دور اگر فائدہ بخش نہیں ہے ، شمس کی یہ کمزوری ہمیشہ کے لیے عام عوام کی بدحالی و زبوں حالی کا مظہر ہے ، اسی دور اکبر میں عطارد کا دور اصغر جاری ہے جو 31 جولائی 1972 تک جاری رہا، عطارد زائچے کے پانچویں گھر کا حاکم ہے، پانچواں گھر شعور اور دانش ورانہ اور فنکارانہ دلچسپیوں سے متعلق ہے،یہ زائچے میں بھی طاقت ور پوزیشن رکھتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس ملک میں اعلیٰ درجے کے ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے لہٰذا اس دور میں ملک کو سنبھالنے اور نیا آئین بنانے کے سلسلے میں پاکستان کی سیاسی قیادت نے مثبت انداز میں کام کیا اور بالآخر اپریل 1973 تک آئین سازی کا کام مکمل ہوگیا۔

زائچے کا پہلا گھر جسے طالع کہا جاتا ہے، برج ثور تقریباً تین درجہ ہے،جدید ایسٹرولوجی میں طالع کے درجات کی اہمیت بہت زیادہ ہے،اگر یہ درجہ درست طے ہوجائے تو زائچے کو سمجھنا اور اس کے مطابق سیاروی گردش کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے، عام طور پر درجے کا تعین درست طور پر صحیح وقت پیدائش سے ہوتا ہے، اسی لیے درست وقت پیدائش کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے جب کہ عام طور پر ہمارے ملک میں اس کا خیال نہیں رکھا جاتا، اکثر لوگوں کو تو اپنا وقت پیدائش معلوم ہی نہیں ہوتا، اگر معلوم ہو تو عموماً غلط ہوتا ہے،دس پندرہ منٹ کا فرق عام طور سے ضرور مشاہدے میں آتا ہے، ایک درست زائچے کے لیے اصل وقت وہ ہوتا ہے جب بچہ دنیا میں پہلی سانس لیتا ہے۔

زائچے کے درجات کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگالیجیے کہ برج ثور ایک سے زائد ممالک یا اشخاص کا پیدائشی برج ہوسکتا ہے، یہ درجات ہی ہیں جو ان کے حالات میں نمایاں فرق کا سبب بنتے ہیں، مثلاً پاکستان کے زائچے کے درجات تین ہیں، بھارت کا طالع برج بھی ثور ہے اس کے درجات تقریباً سات درجہ ہیں، مصر کا طالع برج بھی ثور ہے اس کے درجات پندرہ ہیں، ملائیشیا کے زائچے کا طالع برج بھی ثور ہے اور طالع کے درجات تقریباً 8 ہیں۔

طالع کے درجات کی اہمیت کیوں ہے؟

درحقیقت ہر زائچہ بارہ گھروں یا خانوں پر مشتمل ہےں، یہ درجات ہی نشان دہی کرتے ہیں کہ کون سا خانہ کہاں سے شروع اور کہاں ختم ہوتا ہے، اسی کی مناسبت سے سیاروں کی گردش سے قائم ہونے والے جیومیٹریکل زاویوں کو سمجھا اور پرکھا جاتا ہے ، انھیں اصطلاحاً ”نظرات“ کہا جاتا ہے اور نظرات ہی نئے واقعات و حالات کی نشان دہی کرتے ہیں، ایک تازہ مثال سامنے ہے، سیارہ مریخ طالع برج ثور کے لیے فعلی ضرر رساں سیارہ ہے، یہ زائچے کے کسی بھی گھر میں حرکت کرے گا تو اس گھر سے متعلق منسوبات کو متاثر کرے گا، اسی طرح سیارہ مشتری اور زہرہ بھی طالع ثور کے لیے فعلی اور عملی طور پر ضرر رساں ہیں، اس سال تقریباً 30 اپریل سے سیارہ مشتری زائچے کے نویں گھر میں داخل ہوا اور ابتدائی درجات یعنی تین درجے پر 30 جون تک رہا، گویا پاکستان کے زائچے کے پہلے ، تیسرے، پانچویں اور نویں گھر سے نظر قائم ہوئی جو نہایت ہی خراب اور ناموافق صورت حال کی نشان دہی کرتی ہے، پہلے گھر کے متاثر ہونے کا مطلب پاکستان کے مکمل حالات کا متاثر ہونا ، تیسرے گھر کے متاثر ہونے کا مطلب ٹرانسپورٹ، ترقیاتی امور، حکومتی فیصلے وغیرہ، پانچویں گھر کے متاثر ہونے کا مطلب بچوں سے متعلق تعلیمی امور وغیرہ جب کہ نویں گھر کا مطلب آئینی و قانونی معاملات ہیں، چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ اپریل سے جون تک ان حوالوں سے صورت حال نہایت خراب رہی بلکہ اسی عرصے میں کراچی میں ایک طیارہ بھی تباہ ہوا جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان بھی ہوا، اپریل سے جون تک کا عرصہ نہایت ہی اہم رہا ہے، اس دوران میں مختلف نوعیت کے اختلافات اور تنازعات بھی عروج پر رہے،خیال رہے کہ زائچے میں چھٹے گھر کا حاکم سیارہ زہرہ نویں گھر میں تین ڈگری پر ہے اور تیسرے گھر کا حاکم قمر تقریباً پانچ ڈگری پر ہے،اس کا مطلب یہ ہوا کہ مشتری کی ٹرانزٹ پوزیشن ان دونوں سیاروں کو بھی بری طرح متاثر کر رہی تھی جس کے نتیجے میں چھٹے گھر کی منسوبات سول و ملٹری سروسز، پڑوسیوں یا اندرون ملک اختلافی مسائل بری طرح متاثر ہوئے، اسی طرح قمر کے حوالے سے تمام کاروبار زندگی معطل ہوکر رہ گیا اور ایک بڑا حادثہ بھی پیش آیا۔


جمعہ، 28 اگست، 2020

ستمبر کی فلکیاتی صورت حال اور زائچہ ءپاکستان

قیام پاکستان کے بعد زائچہ ءپاکستان کے حوالے سے صورت حال کا جائزہ

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ کراچی میں ہونے والی موجودہ بارش ماضی کے بہت سے ریکارڈ توڑگئی، کہا جارہا ہے کہ تقریباً 90 سال بعد کراچی میں ایسی بارش ہوئی ہے،اس بارش نے کراچی کے تقریباً ہر شخص کو بری طرح متاثر کیا ہے، ہم بھی ان لوگوں میں شامل ہیں، ہمارا کلینک اور آفس ڈیفنس فیز 2 میں ہے اور تقریباً گزشتہ ایک ہفتے سے بند ہے، سڑک پر نالے کی صورت اختیار کرنے والا پانی کلینک میں داخل ہوگیا، ایسی ہی صورت حال کا سامنا گھر کی نچلی منزل میں بھی کرنا پڑا، خیال رہے کہ کلینک اور گھر دونوں کنٹونمنٹ ایریاز میں ہیں، چناں چہ ہر قسم کی لکھنے پڑھنے کی مصروفیات ختم ہوکر رہ گئیں پھر بھی کوشش ہے کہ ویب سائٹ کا معمول جاری رہے، چناں چہ اختصار سے ستمبر کی فلکیاتی صورت حال کا جائزہ پیش کیا جارہا ہے۔

ستمبر کے ستارے

یکم ستمبر کو سیارہ شمس اپنے ذاتی برج اسد میں موجود ہے اور 17 ستمبر کو برج سنبلہ میں داخل ہوگا، سیارہ عطارد برج اسد میں ہے ، تین ستمبر کو اپنے شرف کے برج سنبلہ میں داخل ہوگا جب کہ 23 ستمبر کو نہایت تیز رفتاری کے ساتھ برج میزان میں داخل ہوجائے گا، سیارہ زہرہ یکم ستمبر کو برج جوزا میں ہے،2 ستمبر کو برج سرطان میں داخل ہوگا اور 29 ستمبر کو برج دلو میں داخل ہوجائے گا، سیارہ مریخ تقریباً تین درجہ اپنے ذاتی برج حمل میں مستقیم پوزیشن میں ہے، اس کی یہ پوزیشن 22 ستمبر تک رہے گی، اسی پوزیشن میں 11 ستمبر سے اسے رجعت ہوجائے گی، سیارہ مشتری اپنے ذاتی برج قوس میں بحالت رجعت مستقیم پوزیشن پر تقریباً 23 ڈگری پر ہے اور اسی درجے پر 5 اکتوبر تک رہے گا، سیارہ زحل بحالت رجعت برج جدی میں حرکت کر رہا ہے جب کہ راہو کیتو برج جوزا اور سنبلہ میں بالترتیب ہیں، اس مہینے کی ایک اہم تبدیلی یہ ہے کہ یہ دونوں 20 ستمبر کو اپنے اپنے شرفی بروج ثور اور عقرب میں داخل ہوں گے اور آئندہ ڈیڑھ سال تک اسی برج میں رہیں گے، ان کی یہ تبدیلی مختلف برج سے تعلق رکھنے والے افراد کوآئندہ ڈیڑھ سال تک کس نوعیت کے مسائل اور چیلنج لائے گی، اس پر ان شاءاللہ آئندہ کسی مضمون میں بات ہوگی، ستمبر کی یہ سیاروی پوزیشن ویدک سسٹم کے مطابق ہے۔

شرف قمر

قمر اس ماہ 8 ستمبر کو پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق 02:40 am پر اپنے شرف کے برج ثور میں داخل ہوگا، خصوصی اعمال قمر کے لیے موافق اور مو¿ثر ٹائم 09 ستمبر کو 11:45 am سے 12:45 pm تک ہوگا، اس عرصے میں شرف قمر سے متعلق جو بھی عمل یا وظیفہ کرنا چاہیں کرسکتے ہیں۔

قمر در عقرب

قمر اپنے برج ہبوط میں پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق اس ماہ 21 ستمبر کو 04:48pm پر داخل ہوگا اور تقریباً 23 ستمبر کو 05:54 pm تک اپنے برج ہبوط میں رہے گا، یہ نحس ٹائم ہے، اس وقت نئے کاموں کی ابتدا نہ کریں، صرف معمول کی کار گزاری پر گزارا کریں، خصوصی اعمال کے لیے مقصد کے موافق سیاروی ساعات منتخب کرکے کام کریں۔

زائچہ ءپاکستان

علم نجوم سے متعلق ضروری معلومات کے بعد درحقیقت ہمارا اصل موضوع زائچہ ءپاکستان ہے اور یہ بھی ایک دلچسپ داستان ہے۔

قیام پاکستان کے بعد سے اب تک پاکستان کے نامعلوم کتنے زائچے سامنے آتے رہے ہیں، ہمارے پاکستانی منجمین یا بھارتی اور مغربی منجمین وقت گزاری کے لیے مختلف زائچے بناتے رہے ہیں، اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ یہ کام کبھی بھی سنجیدگی سے نہیں کیا گیا، کسی بھی زائچہ ءپیدائش کے حوالے سے سب سے اہم بات یہ ہوتی ہے کہ پیدائش کی درست تاریخ، وقت اور مقام کا پہلے تعین کیا جائے، ابتدا سے ہی اس معاملے میں اختلافات سامنے آئے، اس کی بنیادی وجہ شاید یہ رہی ہو کہ دو ملک یعنی بھارت اور پاکستان ایک ساتھ آزاد ہوئے تھے، بھارت کا زائچہ ءپیدائش 15 اگست 1947 بمقام دہلی شب صفر بج کر صفر منٹ طے ہوا اور اسی کے مطابق زائچہ بنایا گیا جو آج تک بغیر کسی اختلاف کے مستند مانا جاتا ہے۔

پاکستان میں پہلا مسئلہ تو یہ ہوا کہ لارڈ ماو¿نٹ بیٹن کو 15 اگست کی صبح دہلی میں گورنر کے عہدے کا حلف لینا تھا لہٰذا وہ موصوف 14 اگست کو پاکستان آگئے اور صبح 9 بجے کراچی کی اسمبلی میں ایک تقریر فرمائی جس میں بتایا گیا تھا کہ دولت برطانیہ نے ایک نئے ملک پاکستان کی منظوری دے دی ہے اور کل 15 اگست سے آپ ایک آزاد قوم ہوں گے،جوابی تقریر میں قائد اعظم نے دولت برطانیہ کا شکریہ ادا کیا اور 15 اگست کی صبح گورنر جنرل آف پاکستان کی حیثیت سے حلف اٹھایا جب کہ 14 اور 15 اگست کی درمیانی شب رات 12 بجے آل انڈیا ریڈیو کی نشریات روک دی گئیں اور پاکستان کے قیام کا اعلان کردیا گیا، یہ اعلان لاہور ریڈیو ، پشاور ریڈیو اور ڈھاکا ریڈیو سے نشر ہوا، پاکستان کا دارالحکومت کراچی مقرر ہوا۔

اب بعض منجمین نے جن میں بھارتی منجم بھی شامل ہیں، پاکستان کا زائچہ 13 اور 14 اگست کی درمیانی رات 00:00 am بمقام کراچی پر تیار کیا، بعض نے اعلان لاہور کے مطابق یہی وقت اور تاریخ لی اور مقام لاہور رکھا، پاکستان کے نہایت قابل منجم ڈاکٹر ایوب تاجی اسی پر قائم رہے اور ان کے شاگردان بھی۔

پاکستان کے ایک اور مایہ ناز منجم ڈاکٹر اعجاز حسین بٹ آف راولپنڈی نے 14 اگست 1947 ءبمقام کراچی صبح 09:30 am کے مطابق زائچہ بنایا، ان کا مو¿قف یہ تھا کہ ٹرانسفر آف پاور 14 اگست کو صبح ہوئی لہٰذا یہی زائچہ درست ہے، چند سال پہلے ایک بین الاقوامی پرتگالی منجم جارج انجلینو کی ویب سائٹ پر ہم نے دیکھا کہ اس نے بھی پاکستان کا زائچہ ڈاکٹر اعجاز حسین بٹ کے ٹائم اور تاریخ کے مطابق بنایا ہوا ہے، ہماری اس سے بات ہوئی اور ہم نے اسے بتایا کہ پاکستان کے ایک منجم بھی برسوں پہلے اسی زائچے پر زور دیتے تھے ، اس کا مو¿قف بھی یہی تھا کہ ٹرانسفر آف پاور کی تقریب 14 اگست صبح 9 بجے کراچی میں ہوئی۔

دی ورلڈ بک آف ہارسکوپ (The world book of horoscope) کے مطابق پاکستان کا زائچہ 15 اگست 1947 ءکے مطابق بنایا گیا ہے۔

ان تمام صورتوں میں پاکستان کے زائچے کا پیدائشی برج (Birth Sign) یا طالع پیدائش برج حمل ، برج ثور، برج سنبلہ اور پاکستان کے ایک اور نامور منجم حضرت کاش البرنیؒ کے مطابق طالع برج جوزا سامنے آیا ہے اور ہر منجم اپنے مو¿قف پر قائم رہا۔

یہ کوئی نئی یا عجیب صورت حال نہیں ہے کہ ایک ملک کے ایک سے زیادہ زائچے مختلف ماہرین نجوم اپنی اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق بناتے ہیں اور پھر ان کے مطابق زائچے کا تجزیہ کرتے ہیں، امریکا کے ایک سے زائد زائچے موجود ہیں، یہی صورت حال دیگر ممالک کی بھی ہے،تحقیق اور تجربے کا دامن تنگ نہیں ہے، ایک سائنسی علم کی طرح اس میں بھی تحقیقی کام جاری رہتا ہے اور نتائج کے مطابق کسی زائچے پر کم یا زیادہ اتفاق رائے ہوتا ہے،ماضی میں پاکستان کے جو زائچے 14 یا 15 اگست 1947 ءکے مطابق بنائے گئے، بہت سے لوگ آج تک انہی پر کاربند ہیں لیکن ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ ہمار ے پاکستانی منجمین پاکستان کے حالات پر ایسٹرولوجیکل تبصرہ کرتے ہوئے کسی بھی زائچے کا حوالہ دیں اور اس زائچے میں سیاروی گردش کی نشان دہی کرتے ہوئے اپنی پیش گوئی کے بارے میں دلیل پیش کریں ، اس انداز کی پیش گوئیوں کو ہم کوئی اہمیت نہیں دیتے، اگر ایسٹرولوجی ایک سائنس ہے تو لازمی طور پر زائچے کی بنیادی نکات اور حال کی سیاروی گردش کی نشان دہی کرتے ہوئے دلیل کے ساتھ بات ہونی چاہیے ۔

ہماری تحقیق

ہم نے جب اس وادی ءپرخار میں قدم رکھا تو پاکستان دولخت ہوچکا تھا، ہماری آنکھوں کے سامنے بنگلہ دیش وجود میں آیا اور پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہوگیا، اس حوالے سے ہمارے پاکستانی منجم سابقہ زائچوں کی روشنی میں کبھی کوئی اطمینان بخش اور ٹیکنیکل طور پر ٹھوس بات کرتے نظر نہیں آئے، ڈاکٹر ایوب تاجی صاحب ویدک سسٹم کے اساتذہ میں سے تھے، ہمیں بھی ان سے شرف تلمذ بہت تھوڑے عرصے حاصل رہا لیکن کبھی ہمت نہ ہوئی کہ ان کے پاکستانی زائچے کے حوالے سے کوئی اختلافی سوال کرتے،ڈاکٹر اعجاز حسین بٹ سے ہماری کئی نشستیں رہیں لیکن ان کی عمر کا آخری حصہ تھا، ان دنوں وہ کسی بات کا معقول جواب نہیں دیتے تھے۔

بالآخر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ پاکستان کا نیا زائچہ بننا چاہیے، 1947 ءمیں جو پاکستان وجود میں آیا تھا وہ موجودہ پاکستان نہیں ہے،ماضی کا کوئی بھی زائچہ موجودہ پاکستان کے حوالے سے کسی سوال کا بھی درست جواب نہیں دیتا، چناں چہ ہم نے سقوط ڈھاکہ کے بعد ٹرانسفر آف پاور کی تاریخ اور وقت کے مطابق پاکستان کا زائچہ بنایا، اس حوالے سے عزیزی عقیل عباس جعفری اور ان کی مایہ ناز کتاب ”پاکستان کرونیکل“ نہایت معاون و مددگار ثابت ہوئے۔

دنیا بھر میں یہ اصول رائج ہے کہ جب کسی ملک کے ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں واقع ہوں تو اس کا نیا زائچہ بنایا جاتا ہے، اس کی کئی مثالیں موجود ہیں، ایران قدیم ترین ملک ہے ، خدا معلوم اس ملک کا باقاعدہ آغاز کب ہوا تھا، یہی صورت حال بیشتر ممالک کی ہے، بھارت کے حوالے سے بھی ایک قدیم نظریہ موجود ہے، کہ بھارت کا برج جدی ہے لیکن منجمین کی اکثریت اسے تسلیم نہیں کرتی، چناں چہ ایران کا موجودہ زائچہ انقلاب ایران کے بعد یکم اپریل 1979 بمقام تہران بنایا جاتا ہے، سویت یونین جب کئی حصوں میں تقسیم ہوا اور کئی ریاستیں وجود میں آئیں تو ہر ریاست کا ایک الگ زائچہ بنایا گیا اور دنیا میں رائج ہے،سلطنت عثمانیہ ختم ہوئی تو ترکی کا نیا زائچہ وجود میں آیا اور وہ تمام عرب ممالک جو ترکی کے حلقہ ءاقتدار میں تھے ان کا بھی نیا زائچہ بنایا گیا، اس بنیادی اصول پر ساری دنیا میں ماہرین نجوم عمل کرتے ہیں، چناں چہ ہماری تحقیق کے مطابق پاکستان کا نیا زائچہ 20 دسمبر 1971 ءبمقام اسلام آباد دوپہر 02:55 pm ہماری نظر میں درست اور نتیجہ خیز ہے۔

اس زائچے پر ہم نے ملکی و غیر ملکی دیگر منجمین سے بھی تبادلہ خیال کیا، ڈاکٹر اعجاز حسین اس وقت تک حیات تھے ، انھوں نے ہماری بات کو رد تو نہیں کیا لیکن تسلیم بھی نہیں کیا اور اپنے پرانے مو¿قف پرقائم رہے،پاکستان کے ایک اور اہم منجم سید انتظار حسین شاہ زنجانی کافی بحث و مباحثے کے بعد ہماری بات کے قائل ہوگئے اور اب وہ بھی اس نئے زائچے کو اہمیت دیتے ہیں۔

غیر ملکی منجمین میں بھارت کے نامور منجم کے این راو¿ سے بھی ہم نے اس پر رائے لینے کی کوشش کی،وہ خاصے معقول آدمی ہیں اور ہم نے انھیں اتنا متعصب نہیں پایا جتنے دیگر ہندو منجمین ہیں لیکن وہ بھی اپنے قدیم نظریات پر قائم رہے، ان کی عمر اس وقت 80 سال ہوچکی تھی اور ان سے زیادہ گفت و شنید ممکن نہیں تھی،بھارت کا ایک اور بڑا نام بی وی رامن ہے، وہ بھارت ہی میں خاصے متنازع ہیں، اگرچہ انھوں نے کلاسیکل ایسٹرولوجی میں بہت کام کیا ہے اور برسوں ایک ایسٹرولوجیکل میگزین بھی بنگلور سے نکالتے رہے ہیں، انھیں ہم اس بحث سے خارج سمجھتے ہیں کیوں کہ ان کے نظریات کو اب ان کے جانشین یعنی بیٹا اور بیٹی دونوں رد کرچکے ہیں۔

جارج انجلینو آف پرتگال واحد ایسے منجم تھے جنہوں نے ہمارے بات سے اتفاق کیا اور اس حوالے سے ہماری حوصلہ افزائی بھی کی کہ آپ پاکستان کے نئے زائچے پر کام جاری رکھیں اور نتائج سے آگاہ کرتے رہیں، اسی طرح بعض دوسرے جدید نظریات رکھنے والے بین الاقوامی منجمین نے بھی حوصلہ افزائی کی اور ہم اس زائچے پر مسلسل تحقیقی و تجرباتی کام کرتے رہے ہیں، اسی کو درست سمجھتے ہیں،یقیناً بہت سے دیگر اہل علم کو اختلاف ہوسکتا ہے،اس صورت میں انھیں اپنے زائچے کے لیے معقول دلائل پیش کرنا چاہئیں اور پاکستان کے حالات کی تشریح زائچے کے مطابق کرنا چاہیے، ہم اس حوالے سے تفصیلی مضامین کے ذریعے پاکستان کے موجودہ زائچے کی تشریح کرچکے ہیں اور ان شاءاللہ آئندہ بھی کریںگے (جاری ہے)


جمعہ، 21 اگست، 2020

علم نجوم کی حقیقت اور قابل اعتراض امور

قدیم اور جدید علم نجوم کے درمیان فرق ، معروف طریقہ ءکار

ہماری زندگی کا ایک طویل عرصہ اسی دشت کی سیاہی میں گزرا ہے، اس موضوع پر ہم نے کئی کتابیں بھی تحریر کی ہیں اور ہزاروں مضامین بھی مختلف اخبارات و رسائل میں لکھے ہیں، ہمارے نزدیک علم نجوم نہ غیب کا علم ہے اور نہ قسمت کا حال، اس کی بنیاد علم ریاضی اور سیاروی گردش پر رکھی گئی ہے، ہماری کہکشاں میں مسلسل گردش کرتے ہوئے سیارگان اور باہمی طور پر مختلف جیومیٹریکل اشکال ترتیب دیتے سیارے اپنے ارتعاش سے دنیا پر جو اثرات مرتب کرتے ہیں ان کے مطالعے کا نام ایسٹرولوجی ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ وقت کی تاثیرات کی کیا اہمیت ہے؟ یہ علم ہزاروں سال قدیم ہے اور مسلسل تحقیق و تجربے کی بھٹی سے گزر کر آج دنیا میں جس مقام پر ہے اس کا اندازہ صرف اس حقیقت سے کیا جاسکتا ہے کہ جدید ایسٹرولوجی کے بانی پروفیسر وی کے چوہدری نوبل انعام کے لیے نومنی ہوئے، دنیا بھر میں اس علم کی بنیاد پر ایسٹرولوجیکل سافٹ ویئرز لاکھوں کی تعداد میں دستیاب ہیں جو اس بات کا ثبوت ہےں کہ یہ ایک سائنسی علم ہے۔

دنیا بھر میں اس علم سے دلچسپی رکھنے والے بھی لاکھوں ہیں اور اس کی مخالفت کرنے والے بھی لاکھوں ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں طرح کے افراد خود یہ نہیں جانتے کہ درحقیقت ایسٹرولوجی کیا ہے، ادھر اُدھر کی سنی سنائی باتوں اور بعض مذہبی نظریات کی بنیاد پر جو بے بنیاد ہیں کسی بھی علم کو رد کردینا یا ہدف تنقید بنانا ایک نامناسب رویہ ہے، ایسے افراد سے ہم معذرت خواہ ہیں۔

جیسا کہ ابتدا میں عرض کیا تھا کہ علم نجوم (Astrology) دنیا بھر میں مقبول بھی ہے اور مطعون بھی ہے،بے شمار لوگ اس سے رہنمائی کے طالب ہوتے ہیں اور بے شمار اس علم پر یقین نہیں رکھتے، ہم اس کی وجوہات پر گفتگو کرنا وقت کا زیاں سمجھتے ہیں لیکن یہ بتانا ضروری ہے کہ دنیا بھر میں اس کی بہت سی اقسام رائج ہےں اور اکثریت کا انداز اور طور طریقے ستارہ شناسی سے زیادہ ستارہ پرستی پر مبنی ہیں، معروف اقسام میں ویسٹرن سسٹم جسے یونانی علم نجوم بھی کہا جاتا ہے، سرفہرست ہے، دوسرے نمبر پر ویدک سسٹم جسے عرف عام میں ہندی جوتش کا نام دیا گیا ہے،برصغیر انڈوپاک اور اب پوری دنیا میں مقبول عام ہے، یہ دونوں اسکول آف تھاٹ یونانی دیومالا اور ہندودیومالا سے بری طرح متاثر اور آلودہ ہیں اور بے شک ایسے نظریات کا پرچار کرتے ہیں جو قدیم یونانی اور بابلی دور کی ستارہ پرستی کا مظہر ہیں، بیسویں صدی عیسوی اس اعتبار سے ایک ممتاز صدی ہے جس میں ایسے باطل نظریات اور عقائد سے اس سائنسی علم کو پاک کیا گیا او اس کی بنیادیں خالص سائنسی اصولوں پر استوار کی گئیں، اس حوالے سے جیسا کہ ہم نے پہلے نشان دہی کی پروفیسر وی کے چوہدری اور ان کے حلقہ ءاثر سے تعلق رکھنے والے ایسٹرولوجرز کا کام نمایاں ہے جو جدید تعلیم یافتہ طبقے میں نہایت تیزی سے مقبول ہورہا ہے۔

دونوں بڑے اور نمایاں طریق کار کے درمیان ایک بنیادی فرق زمین کے مسلسل جھکاو¿ کے سبب پیدا ہونے والے درجات کا ہے، یہ فرق اب تقریباً 24 ڈگری تک آچکا ہے جسے اصطلاحی طور پر ایانامسا کہتے ہیں، ویسٹرن سسٹم اس فرق کو تسلیم نہیں کرتا، ویدک سسٹم اس فرق کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے، اس فرق کی وجہ سے کسی برج یا سیارے کی درست پوزیشن پر اختلاف واقع ہوتا ہے، مثلاً بے شمار لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ ان کی پیدائش اگر 21 جنوری سے 19 فروری کے درمیان ہوئی ہے تو ان کا شمسی برج (Sun sign) دلو (Aquarius) ہے، یہ ویسٹرن سسٹم کے مطابق ہے، جب کہ ویدک سسٹم کے مطابق برج دلو کا عرصہ 24 ڈگری کے فرق سے 15 فروری تا 15 مارچ ہوگا، اسی طرح اگر کوئی سیارہ ویسٹرن سسٹم کے مطابق کسی برج میں حرکت کر رہا ہے تو ویدک سسٹم کے مطابق ممکن ہے وہ کسی دوسرے برج میں حرکت پذیر ہو۔

امید ہے دونوں معروف سسٹم کا بنیادی فرق سمجھ میں آگیا ہوگا، دونوں کے درمیان درستی کا فیصلہ ہمارے نزدیک صرف تجربے سے ہوسکتا ہے اور یہ بات بالکل سائنسی اصول کے مطابق ہے۔

چند موٹی موٹی باتیں علم نجوم کے حوالے سے بیان کرنا ضروری تھا، ایک اور اہم بات کی وضاحت بھی ضروری ہے، علم نجوم جیسا کہ ابتدا میں عرض کیا وقت کو سمجھنے کا علم ہے ، ایک انگریزی مقولہ ہے (Astrology is a knowlegde of the time) چناں چہ کسی اہم واقع کا ظہور اس وقت کی فلکیاتی پوزیشن کو واضح کرتا ہے،اس حوالے سے تاریخ، مہینہ، سال، وقت، عرض البلد، طول البلد نہایت اہمیت کے حامل ہیں، کسی شخص کی پیدائش یا کسی ملک کی یا کسی شہر کی پیدائش یا کسی واقع کا ظہور پذیر ہونا دائرئہ بروج کی پوزیشن اور ان میں حرکت کرتے ہوئے سیاروں کی پوزیشن اور پھر ان کے درمیان باہمی طور پر قائم ہونے والے جیومیٹریکل زاویوں کی پوزیشن اس وقت کی اہمیت پر روشنی ڈالتی ہے، گویا اس واقعے سے ایک نئے کائناتی سائیکل کا آغاز ہوتا ہے، یہ سائیکل درمیان میں کس نوعیت کے حالات و واقعات کی نشان دہی کرسکتا ہے اور اس کا اختتام کہاں اور کس طرح ہوگا، یہ ایک ماہرانہ مطالعاتی تجزیہ اور جائزہ ہے، چناں چہ تاریخ پیدائش وغیرہ کی اہمیت اپنی جگہ اہم ہے، ہمارے ملک میں لوگ نام سے یا نام کے پہلے حرف سے زائچے بناتے ہیں جو بالکل نامناسب اور غیر معتبر طریقہ ہے، اسی طرح ہمارے ملک میں اکثر ماہرین نجوم ٹی وی پر پیش گوئیاں کرتے نظر آتے ہیں تو ہمیں حیرت ہوتی ہے، وہ اصول و قواعد کے برخلاف بغیر کسی بنیاد کے مجذوبانہ انداز میں دعوے کر رہے ہوتے ہیں، مثلاً پاکستان یا کسی پاکستانی یا غیر ملکی شخصیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے وہ کبھی یہ نہیں بتاتے کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں اس کی بنیادی وجہ کیا ہے،ان کے نزدیک پاکستان کا یا کسی شخصیت کا درست زائچہ ءپیدائش (Birth chart) کیا ہے؟ درست تاریخ پیدائش، وقت پیدائش، پیدائش کا شہر وغیرہ کیا ہے؟ اور اس برتھ چارٹ میں ایسی کون سی سیاروی گردش جاری ہے جس کی بنیاد پر وہ کوئی پیش گوئی کر رہے ہیں، پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں ان اصول و قواعد کو اہمیت دی جاتی ہے، تاریخ پیدائش وغیرہ کی بنیاد پر ایسٹرولوجرز نے جو بھی زائچہ تیار کیا ہے وہ اسے سامنے لاتا ہے،اس کے بعد کوئی بات کرتا ہے، اس سے قطع نظر کہ اس کا تیار کردہ زائچہءپیدائش کس حد تک درست ہے یا غلط ہے اور جو سیاروی گردش زیر بحث ہے، اس کے نتائج کس حدتک وہ درست طور پر اخذ کر رہا ہے یا اس میں کوئی غلطی کر رہا ہے، یہی ایک حقیقی علمی طریقہ ہے جو کم از کم پاکستان میں ہمیں نظر نہیں آتا، دنیا بھر میں رائج ہے۔

مذہبی اختلاف

جیسا کہ پہلے بھی نشان دہی کی ہے کہ قدیم علم نجوم ستارہ شناسی سے زیادہ ستارہ پرستی کی طرف دنیا کو لے گیا تھا اور اسی بنیاد پر تقریباً تمام ہی آسمانی مذاہب نے اس کی مخالفت کی ، مشرق ہو یا مغرب دونوں جانب اس کی بنیادیں ایسے ہی خطوط پر کھڑی کی گئیں جو مکمل طور پر شرکیہ ہیں، مغرب میں ان بنیادوں کے بانی مبانی بطلیموس ہیں جن کا عہد غالباً ابتدائی عیسوی صدی ہے، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ علم نجوم بطلیموس سے پہلے مغرب میں نہیں تھا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ دستاویزی یا کتابی شکل میں بطلیموس نے مرتب کیا اور مشرق میں تین ہزار بیس قبل مسیح میں پراسرا اس علم کے ابتدائی لوگوں میں نظر آتا ہے، اس کی کتاب پاراسارا ہوراشاستر دستیاب ہے اور اب سنسکرت سے انگلش میں ترجمہ ہوچکی ہے، یہ فیصلہ آج تک نہیں ہوسکا کہ یہ علم مغرب میں پہلے شروع ہوا یا مشرق میں۔

اس علم کے ابتدائی ماہرین نے جو بنیادیں مقرر کیں ان میں سیارگان اور بروج کی حیثیت دیوی دیوتاو¿ں جیسی مقر کردی، جس کی بنیاد پر بے شمار عبادت گاہیں وجود میں آگئیں اور سیارگان کی پرستش کا کاروبار شروع ہوگیا، اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔

ان قدیم نظریات کے تحت یہ طے کرلیا گیا کہ سیارہ شمس زندگی دینے والا ہے تو سیارہ زحل تباہی و بربادی اور نحوست کا نشان ہے اور سیارہ مریخ جلاد فلک ہے کہ تمام جنگ و جدل ، قتل و غارت اسی کے سبب ہے، سیارہ مشتری سعادت اور دولت کا ذریعہ ہے ، سیارہ زہرہ حسن و خوبصورتی، محبت اور امن کی دیوی ہے وغیرہ وغیرہ۔

چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ آج بھی قدیم یعنی کلاسیکل علم نجوم میں یہی نظریات عام ہیں، ہمارے پاکستانی اور انڈین ایسٹرولوجر لوگوں کو سیارہ زحل کی ساڑھ ستی سے ڈراتے رہتے ہیں، مریخ کی غضب ناکی سے خوف زدہ کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

مغرب میں بہت پہلے ایسٹرولوجی کو سائنسی اصولوں پر استوار کرنے کا کام شروع ہوا اور اس قسم کے نظریات کو ختم کیا گیا، مشرق میں بھی یہ کام ہوا اور بالآخر اس اہم ترین سائنس کو ایسی تمام خرافات سے پاک کردیا گیا۔

حقیقت یہی ہے کہ ہمارے نظام شمسی میں اپنی اپنی مقررہ رفتار سے حرکت کرتے ہوئے سیارگان قرآنی آیات کے مطابق رب کائنات کے حکم کے پابند ہیں اور اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں، ان میں سے نہ کوئی سعد ہے اور نہ نحس، نہ تباہی کا دیوتا ہے اور نہ جلاد فلک ہے، نہ سعادت افروز ہے اور نہ حسن و خوبصورتی بخشنے والا، جدید تشریحات کے مطابق بے شک سیارہ شمس زندگی کا نمائندہ ہے اور ایسا اللہ کی دی ہوئی صفت کے ذریعے ہے کہ سورج کی روشنی زندگی بخش ہے، سیارہ زحل مسلسل محنت ، کوشش اور جدوجہد کا نمائندہ ہے، سیارہ مریخ انرجی کا نمائندہ ہے، غرض اسی طرح دیگر سیارگان کی جو بھی خصوصیات طویل تحقیق اور تجربے سے مشاہدے میں آئی ہیں وہ یقیناً اللہ ہی کی طرف سے ہےں، بالکل اس طرح جیسے قیمتی جواہرات ، جڑی بوٹیاں اپنے خواص رکھتی ہیں، یہ سیارے بھی اپنے خواص اور اثرات رکھتے ہیں، طویل تجربات اور مشاہدات اس حقیقت کے شاہد ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے جب کوئی بھی سیارہ سعد و نحس نہیں ہے تو پھر کسی ملک یا شخص کے زائچہ ءپیدائش میں اچھائی یا برائی کا عنصر کہاں سے آگیا؟ اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ کسی بھی شخص کے یا ملک کے انفرادی برتھ چارٹ میں ایسٹرولوجیکل اصول و قواعد کے مطابق کیا اچھا ہے اور کیا برا ہے، وہ اس نظام شمسی میں اپنے مخصوص دن تاریخ ، ماہ و سال اور وقت کے مطابق وجود میںآیا ہے، اس وقت کا مخصوص نقشہ جسے زائچہ یا برتھ چارٹ کہا جاتا ہے اس کے لیے اچھائی اور برائی کے کون سے پیمانے مقرر کرتا ہے، انہی کی بنیاد پر اس کی مثبت یا منفی خصوصیات اور زندگی کے مثبت اور منفی پہلوو¿ں پر تجزیاتی نظر ڈالی جاتی ہے اور نتائج اخذ کیے جاتے ہیں، اس کے مطابق سیارہ شمس اگر کسی کے لیے فائدہ بخش ہوسکتا ہے تو کسی دوسرے کے لیے ضر رساں اور نقصان دہ بھی ہوسکتا ہے، یہی اصول تمام سیارگان کی زائچہ ءپیدائش میں نشست پر لاگو ہوگا، امید ہے کہ مختصراً ہم اپنی بات سمجھانے میں کامیاب رہے ہوں گے، مکمل تفصیل کے لیے ہماری کتاب ”پیش گوئی کا فن حصہ اول“ دیکھی جاسکتی ہے۔


ہفتہ، 15 اگست، 2020

خصوصی اعمال برائے اوجِ زہرہ

شادی کے لیے نقش العلی اور طلسم زہرہ 

زندگی کے اونچے نیچے راستوں پر سفر کرتے ہوئے ہمیں اکثر وقت کی سعادت و نحوست سے سابقہ پڑتا رہتا ہے،سعد اوقات معاون و مددگار ثابت ہوتے ہیں اور نحس اوقات رکاوٹ یا پریشانیوں کا باعث بنتے ہیں،سوال یہ ہے کہ وقت کی سعادت و نحوست سے آگاہی کیسے ممکن ہے؟

اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے ، یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ وقت درحقیقت کیا ہے؟

ہمارے نظام شمسی میں موجود سیاروی گردش وقت کے تعین میں معاون و مددگار ہیں، چاند اور سورج کی گردش سے صبح و شام اور دن اور رات پیدا ہوتے ہیں، اسی صبح و شام اور رات دن کے درمیان وقت کی مزید تقسیم بھی سیاروی گردش کے مطابق گھنٹوں ، منٹوں اور سیکنڈوں میں کی جاتی ہے، اسی کی بنیاد پر علم الساعات کا علم ہمیں بتاتا ہے کہ اس وقت ہم کس سیاروی گھنٹے سے گزر رہے ہیں، گویا یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ علم نجوم سے رہنمائی لیے بغیر ہم وقت کی سعادت اور نحوست سے واقف نہیں ہوسکتے۔

تقریباً اپریل سے سیاروی گردش مسلسل کسی نہ کسی طور نحس اثرات کی حامل رہی ہے لیکن اگست کے آخر سے سیاروی پوزیشن سعد اور موافق اثرات کا باعث ہوگی، ایسے اوقات اس دوران میں آئیں گے جو بعض اوقات برسوں میں بھی نصیب نہیں ہوتے، چناں چہ ضروری سمجھا کہ ایسے اوقات کی نشان دہی کی جائے اور ان سے فائدہ اٹھانے کے طریقے بھی بتائے جائیں، اس حوالے سے پہلا غیر معمولی اور سعد وقت 24 اگست 2020 کو ہوگا،نیا چاند ہوچکا ہوگا، خیال رہے کہ یہ اوقات ویدک سسٹم کے تحت دیے جارہے ہیں۔

اس وقت سیارہ زہرہ اپنے اوج کے برج جوزا میں نہایت باقوت ہوگا اور سیارہ مشتری اپنے ذاتی برج قوس میں باقوت پوزیشن رکھتا ہوگا، دونوں کے درمیان سعد نظر ہوگی یعنی ایک دوسرے کو تقویت بھی دے رہے ہیں، زائچے کے مطابق طالع برج جوزا طلوع ہوگا اور دوسرے گھر کا حاکم قمر برج میزان میں طاقت ور ہوگا ، عروج ماہ ہوگا، تیسرے گھر کا حاکم شمس بھی اپنے ہی گھر میں طاقت ور ہوگا۔

اس موقع پر سیارہ زہرہ سے متعلق الواح و طلسم کی تیاری نہایت ذود اثر اور کارآمد ثابت ہوسکتی ہے۔

شادی کے لیے مجرب 

ہمارے موجودہ معاشرے میں معاشی مسائل کے بعد اگر کوئی مسئلہ سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے تو وہ لڑکیوں کی شادی اور ازدواجی زندگی سے متعلق ہے، اس مسئلے کے پیچیدہ اور گمبھیر ہونے کی معاشرتی وجوہات سے قطع نظر جو بات نہایت اہم ہے وہ مقدرات ہیں، ہم دیکھتے ہیں کہ یہ مسئلہ صرف ان گھرانوں اور خاندانوں تک محدود نہیں جہاں معاشی پریشانیاں موجود ہیں بلکہ ان خاندانوں کے لیے بھی یہ مسئلہ ایک عذاب کی صورت اختیار کرلیتا ہے جہاں ہر طرح کی معاشی سہولیات اور خوش حالی موجود ہے لہٰذا ہمارے نظریے کے مطابق اس کو صرف معاشیات سے منسلک کرنا مناسب نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے اکثر و بیشتر مختلف طریقے پیش کیے جاتے رہتے ہیں جس میں موافق پتھر، صدقات، وظائف و عملیات اور نقش و طلسم شامل ہوتے ہیں، اکثر لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور بعض پھر بھی ناکام رہتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ مایوسی گناہ ہے اس لیے کوشش و جدوجہد سے غافل نہیں رہنا چاہیے، بدلتے وقت کے تقاضوں کے مطابق اصلاح احوال ضروری ہے ، ضروری نہیں ہے کہ ہم آج اللہ کے حضور کوئی درخواست پیش کریں اور وہ فوری منظور کرلے، اس میں کچھ تاخیر بھی ہوسکتی ہے اور وہ نامنظور بھی ہوسکتی ہے کیوں کہ ہم نہیں جانتے ہمارے لیے کیا بہتر ہے، بس اللہ ہی جانتا ہے کہ ہمارے لیے کیا بہتر ہے۔

لڑکیوں کی شادی کے سلسلے میں اپنا ایک مجرب طریقہ یہاں لکھ رہے ہیں، یہ اسم الٰہی ”العلی“ کا طلسماتی نقش مثلث ہے، برسوں پہلے بھی یہ نقش عام کیا تھا اور ہماری کتاب مسیحا حصہ دوم میں بھی موجود ہے،بے شمار لوگوں نے اس سے فائدہ اٹھایا ہے۔

علی کے معنی سب سے زیادہ بلند مرتبے کے ہیں لہٰذا اس اسم کا ورد بلند مرتبہ اور قوت و اقتدار کے لیے موزوں ترین خیال کیا جاتا ہے، اس کے ذاکر کے درجات دینوی اور دنیاوی طور پر اللہ بلند کرتا ہے، ہر حاجت اس کی پوری ہوتی ہے، اس کا نقش پاس رکھنے سے لوگ اس کی عزت کرتے اور اس سے مرعوب رہتے ہیں، اعلیٰ حکام و افسران بالا اس کی عزت کرتے ہیں۔

علمائے جفر اس امر پر متفق ہیں کہ اسم الٰہی ”علی“ کا نقش اگر چاندی کی لوح پر شرف یا اوج زہرہ میں یا شرف قمر میں کندہ کرکے ایسی لڑکی کے گلے میں ڈالا جائے جس کا رشتہ ہی نہ آتا ہو تو اس کی برکت سے نصیب کھل جاتا ہے اور جلد ہی شادی کا انتظام ہوجاتا ہے کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ سیارہ زہرہ انسانی زندگی میں شادی اور ازدواجی زندگی کی خوشیوں کا نمائندہ ہے لہٰذا ہم اس نقش کو سیارہ زہرہ کے سعد اوقات میں تیار کرنے کو افضل سمجھتے ہیں اور جو وقت اس ماہ 24 اگست کو آرہا ہے یہ بہت ہی مو¿ثر اور مناسب ترین وقت ہے۔

یہ نقش ہر مرد اور عورت کے لیے اس کے نام کے پہلے حرف کی مناسبت سے تیار ہوگا، پے چیدہ حسابی عمل سے آپ کو بچانے کے لیے ہم نے اس کی ترتیب و تدوین خود کردی ہے، اس طرح یہ کل آٹھ نقش مرتب ہوئے ہیں، اس میں ہر فرد اپنے نام کے پہلے حرف کے مطابق اپنا نقش منتخب کرکے خود وقتِ مقررہ پر تیار کرسکتا ہے، تیاری کا درست طریقہ بھی تفصیل سے لکھا جارہا ہے، پہلے آپ نقوش ملاحظہ فرمائیے۔





اسم ”علی“ کے اعداد ابجد قمری سے ایک سو دس ہیں اور مفرد عدد دو ہے، ان آٹھوں نقوش کے اندر چار خانوں میں موجود اعداد کی کل میزان 110 ہے، دائرے میں دو مثلث ہیں، درمیانی چھوٹی مثلث میں سیارہ زہرہ کا نشان ہے، اس نقش کو چاندی کی گول پلیٹ پر یا عقیق وغیرہ کی تختی پر لکھا جائے، اس کے علاوہ چاندی کی انگوٹھی پر بھی کندہ کرسکتے ہیں، فوری طور پر اگر یہ سہولت میسر نہ ہو تو ہرن کی جھلّی پر لکھ لیں اور بعد ازاں اس جھلّی کو تعویذ کی طرح تہہ کرکے موم جامہ کریں یا پلاسٹک کوٹڈ کرلیں، چاندی کی انگوٹھی بنوائیں جو نیچے سے بند ہو، اس میں نقش رکھ کر اس کے اوپر عقیق کا نگینہ جڑوالیں، انگوٹھی کو دائیں ہاتھ کی رنگ فنگر میں جو سب سے چھوٹی انگلی کے برابر والی انگلی ہے، پہن لیں۔

پہلے 786 کے اعداد لکھیں پھر 110 لکھیں، اس کے بعد 195 اور پھر 278 لکھیں۔

اب اندرونی نقش کو اس طرح مکمل کریں کہ پہلے سب سے کم عدد والا خانہ بھریں یعنی پہلے نقش میں جو الف، ب وغیرہ کا ہے، سب سے چھوٹا عدد 19 ہے لہٰذا پہلے اسے لکھیں پھر 20 پھر 30 اور پھر 41 لکھیں گے، بس نقش مکمل ہوگیا، شروع کرنے سے پہلے اور بعد میں گیارہ گیارہ بار درود شریف پڑھ لیں، کام ختم ہونے پر کچھ سفید مٹھائی پر فاتحہ دیں اور مٹھائی بچوں میں تقسیم کردیں، خود بھی کھائیں، تمام کام علیحدہ کمرے میں کریں، صندل کی خوشبو جلائیں یعنی اگر بتی وغیرہ اور عطر سہاگ(حنا) لباس پر لگائیں، رجال الغیب کا خیال کرکے بیٹھیں، رجال الغیب کی سمت معلوم کرنے کا نقشہ ہماری ویب سائٹ پر موجود ہے، عام لوگوں کی سہولت کے لیے 24 اگست کی شب سے رجال الغیب مغرب کی سمت ہوں گے لہٰذا مشرق کی سمت رُخ کرکے بیٹھنا ہوگا۔

نقش تیار کرنے کے بعد چھپا کر رکھ دیں اور جمعہ کے روز سورج نکلنے کے فوراً بعد ایک سو دس بار یا علی اول و آخر گیارہ بار درود شریف کے ساتھ پڑھ کر نقش پر دم کریں اور اپنے مقصد کے لیے دعا کریں پھر گلے میں پہن لیں یا بازو پر باندھیں، چھ فقیروں کو اس روز کھانا کھلادیں یا چھ سو روپے خیرات کردیں۔

اب روزانہ کسی وقت اسم الٰہی یا علیُ ایک سو دس مرتبہ مقصد حاصل ہونے تک پڑھ لیا کریں، انشاءاللہ جلد مقصد پورا ہوگا۔

مختلف شہروں کے لیے اوقات

پاکستان اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق مختلف شہروں کے اوقات میں کچھ نہ کچھ فرق ہوتا ہے، اس لیے اسلام آباد اور چاروں صوبوں کے دارالحکومت کے مطابق خصوصی اوقات کی نشان دہی کی جارہی ہے،یاد رہے کہ درست وقت کی اہمیت اپنی جگہ نہایت اہم ہے جو لوگ مندرجہ ذیل اوقات پر نقش یا طلسم تیار کرلیں گے وہ حیرت انگیز نتائج بھی ملاحظہ کریں گے۔

اسلام آباد، راولپنڈی اور اردگرد کے قریبی شہروں کے لیے نقش لکھنے کا وقت 24 اگست بہ روز پیر 01:45 am سے 02:25 am تک ہوگا۔

لاہور، فیصل آباد، قصور اور قریبی شہروں کے لیے 01:45am سے 02:25 am تک ہوگا۔

پشاور اور قریبی شہروں کے لیے 01:50 pm سے 02:30 pm تک ۔

کراچی، کوئٹہ اور دیگر قریبی شہروں کے لیے 02:25am سے 03:05 am تک۔

طلسم زہرہ

اس موقع پر زہرہ کا ایک مخصوص طلسم بھی لکھا جاسکتا ہے جو اپنی افادیت میں نہایت اہمیت کا حامل اور لوگوں میں مقبولیت کے لیے تیر بہ ہدف ہے، اسے پاس رکھنے والا دوسروں کی محبت اور خلوص حاصل کرتا ہے، اس سے مزاج میں نرمی پیدا ہوتی ہے، غصے پر کنٹرول کرنے میں کامیابی ہوتی ہے، سوشل حلقوں میں لوگ اسے پسند کرتے ہیں، دوسروں کے ساتھ معاملات طے کرنے میں آسانی ہوتی ہے، طلسم یہ ہے۔




اس طلسم کی تیاری کا طریقہ یہ ہے کہ اسے کسی بھی رنگ کے عقیق پر کندہ کیا جائے یا تانبے کی چھوٹی تختی پر لکھا جائے، بعد ازاں سات روز تک سیارہ زہرہ کے سامنے رکھ کر اس کی تنجیم کی جائے اور اس وقت صندل سفید کا بخور جلایا جائے، جب یہ کام مکمل ہوجائے تو طلسم کو عطرِ حنا سے معطر کرکے کسی بھی نوچندے جمعے کو صبح زہرہ کی پہلی ساعت میں اپنے پاس رکھیں اور بعد ازاں 6 کنواری غریب لڑکیوں کی دعوت کریں ، انھیں عمدہ قسم کا کھانا کھلائیں، اگر صاحب توفیق ہیں تو ان کے لیے اس سے زیادہ بھی کچھ کرسکتے ہیں تو ضرور کریں۔

وہ لوگ جو اپنی مصروفیت یا کسی مجبوری کے تحت اسم الٰہی العلی کا نقش اپنے نام کے مطابق تیار نہ کرسکیں یا طلسم زہرہ خود تیار نہ کرسکیں تو وہ براہ راست رابطہ کرسکتے ہیں۔


جمعہ، 7 اگست، 2020

امریکا کے بدلتے رنگ اور امریکی انتخاب

صدر ٹرمپ اور مخالف امیدوار جیوبائیڈن کی کامیابی کے امکانات

سپر پاور امریکا نت نئے بحرانوں کی جانب رواں دواں ہے، کورونا وائرس نے امریکی معیشت کو ہی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ امریکی صدر مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ کے لیے بھی نت نئے مسائل پیدا کردیے، ابھی تک امریکا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں کوئی خاطر خواہ کمی نہیں ہوئی ہے،ساتھ ہی پولیس کی زیادتی کا شکار ایک بلیک مین کی موت بھی ٹرمپ حکومت کے لیے ایک مسئلہ بن چکی ہے،اس حوالے سے امریکا ایک شدید نوعیت کی احتجاجی تحریک کا سامنا کر رہا ہے، داخلی صورت کسی طور بھی اطمینان بخش نہیں ہے۔

موجودہ سال 2020 امریکا میں انتخابات کا سال ہے،آئین کے مطابق 3 نومبر 2020 ءکو انتخابات ہونا ہیں، صدر ڈونالڈ ٹرمپ اپنی کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن اور ملکی صورت حال کے سبب چاہتے ہیں کہ یہ انتخابات آگے بڑھادیے جائیں لیکن کانگریس اسے آئین کے خلاف کہتی ہے اور ہر قیمت پر انتخابات کی مقررہ وقت پر انجام دہی چاہتی ہے،گویا ایک تنازع یہ بھی سر اٹھا رہا ہے، اس حوالے سے سب سے پہلے امریکا کے زائچے کا جائزہ لیا جائے گا اور اس کے بعد انتخابات میں حصہ لینے والے دونوں صدارتی امیدواروں کے زائچے پر بات ہوگی۔




جیسا کہ ہمارے قارئین جانتے ہیں کہ امریکا کا درست زائچہ 2 فروری 1781 ءشام 5 بجے بمقام اناپولس ہے، زائچے میں برج سرطان کے 20 درجہ طلوع ہیں، گویا زائچے کا ہر خانہ یا گھر 20 درجہ سے شروع ہوتا ہے، تازہ صورت حال میں سیارہ شمس کا دور اکبر جاری ہے جس میں 26 جنوری 2020 ءسے سیارہ عطارد کا دور اصغر 2 دسمبر 2020 تک جاری رہے گا جو امریکا کے لیے مددگار پیریڈ ہے، اس کے بعد کیتو کا دور اصغر شروع ہوگا جو یقیناً موجودہ دور کے مقابلے میں ناموافق اثرات کا حامل اور ملک میں مزید انتشار اور افرا تفری کا باعث ہوسکتا ہے۔

 شمس اور عطارد زائچے میں اچھی اور مضبوط پوزیشن رکھتے ہیں لیکن سیاروی گردش شروع سال ہی سے مخالف اور چیلنجنگ رہی ہے،تازہ صورت حال میں یکم اگست سے چوتھے گھر کا حاکم سیارہ زہرہ راہو کے ساتھ قران کی حالت میں تھا، گویا داخلی معاملات میں انتشار کی نشان دہی ہورہی تھی، سیارہ مشتری زائچے کے چھٹے گھر میں موجود ہے جب کہ سیارہ زحل ساتویں گھر برج جدی میں، واضح رہے کہ برج سرطان طالع برج ہو تو راہو کیتو کے علاوہ مشتری اور زحل زائچے کے فعلی منحوس سیارے ہوجاتے ہیں، اس سال اپریل، مئی جون تین ماہ تک دونوں فعلی منحوس برج جدی میں تقریباً حالت قران میں رہے ہیں جس کی وجہ سے امریکا میں بھی ان دونوں کی نحوست کے اثرات محسوس کیے گئے۔

اہم ترین نظر (Aspect) جو امریکا کی داخلی صورت حال کو مزید پیچیدہ اور چیلنجنگ بناسکتی ہے،وہ سیارہ مشتری کی مستقیم پوزیشن ہوگی، اس نظر کا آغاز تو اگست کے دوسرے ہفتے سے ہوجائے گا یعنی پیدائشی زائچے کا سیارہ زہرہ چوں کہ چھٹے گھر برج قوس میں ہے اور مشتری بھی برج قوس میں بحالت رجعت حرکت کر رہا ہے لہٰذا اگست تا اکتوبر مشتری سیارہ زہرہ کو بری طرح متاثر کرے گا جس کے نتیجے میں ملک میں اختلافات اور احتجاجی لہر تیز ہوسکتی ہے اور مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ کو انتخابات ملتوی کرنے کاجواز مل سکتا ہے، اس عرصے میں ستمبر کے آخر سے ایک اور بڑی تبدیلی راہو کیتو کا گھر تبدیل کرنا ہے، راہو اپنے شرف کے برج ثور میں اور کیتو عقرب میں داخل ہوں گے اور چوں کہ برج عقرب میں سیارہ زحل تقریباً 26 ڈگری پر موجود ہے لہٰذا راہو کیتو پیدائشی زحل کو متاثر کریں گے اور دو فعلی منحوس کسی بڑے حادثے یا سانحے کا باعث بن سکتے ہیں۔

قصہ مختصر یہ کہ امریکن زائچہ آنے والے مہینوں میں مختلف نوعیت کے سخت ترین چیلنج سامنے لاسکتا ہے،عالمی صورت حال کسی بڑی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے،دنیا معاشی بحران کے ساتھ ساتھ باہمی تنازعات کے سبب ایک مسلسل معرکہ آرائی کی جانب بڑھ رہی ہے،امریکا اس صورت حال سے خود کو علیحدہ نہیں رکھ سکتا، اس طرح سے داخلی اور خارجہ محاذوں پر امریکا کے لیے بہت بڑے بڑے چیلنج موجود ہیں۔

عزیزان من! امریکی زائچے کے اس پس منظر کے ساتھ امریکی الیکشن مزید اہمیت کے حامل ہوجاتے ہیں،دنیا بھر کے دانش ور اور سیاست پر گہری نظر رکھنے والے افراد یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ امریکا کے لیے بہت سے مسائل پیدا کرنے کا سبب موجودہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ ہیں اور شاید اسی وجہ سے وہ آج مقبولیت کے اس مقام پر نہیں ہیں جہاں پہلے کبھی تھے، اس کمزور پوزیشن میں خیال کیا جارہا ہے کہ وہ شاید دوسری بار منتخب نہ ہوسکیں لیکن ان کے ہمدرد اور حمایتی خیال کرتے ہیں کہ انھوں نے امریکا کو ایک نئے انداز میں آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے اور ان کی پالیسیوں کو تسلسل ملنا چاہیے، ان کے مخالف امیدوار ڈیموکریٹک پارٹی کے جیوبائی©ڈن ہیں، سیاسی دانش ور جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں ہم اس پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے بلکہ دونوں امیدواروں کے پیدائشی زائچوں کا تجزیہ کریں گے اور یہ اندازہ لگانے کی کوشش کریں گے کہ اس انتخابی مقابلے میں کس امیدوار کے جیتنے کے امکانات زیادہ ہیں۔

زائچہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ




مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ کی تاریخ پیدائش 14 جون 1946 ہے، وہ جمیکا میں 10:54 am پر پیدا ہوئے گویا طالع پیدائش 6 درجہ 51 دقیقہ برج اسد ہے، مسٹر ٹرمپ کے زائچے پر تفصیلی مضمون گزشتہ سال ہم نے لکھا تھا جس میں ان کے مزاج اور فطرت وغیرہ پر روشنی ڈالی تھی، ساتھ ہی یہ بھی عرض کیا تھا کہ سال 2020 ان کے لیے بہت اچھا سال نہیں ہوگا اور وہ اس سال سخت حالات کا سامنا کریں گے، چناں چہ یہی کچھ ہورہا ہے۔

صدر ٹرمپ کے زائچے میں دور اکبر سیارہ مشتری کا جاری ہے،مشتری اور عطارد ان کے زائچے کے نہایت مضبوط اور فعلی سعد سیارے ہیں، گزشتہ الیکشن انھوں نے مشتری کے دور اکبر اور سیارہ مریخ کے دور اصغر میں جیتا، سیارہ مریخ ان کے نویں گھر کا حاکم اور طالع اسد میں موجود ہے، طالع کے درجات سے قریبی قران رکھتا ہے گویا قسمت ہمیشہ سے ان پر مہربان رہی ہے۔

اس سال وہ مشتری کے دور اکبر میں سیارہ زحل کے دور اصغر سے گزر رہے ہیں، زحل اگرچہ ساتویں گھر کا مالک ہے اور فعلی سعد اثر رکھتا ہے لیکن زائچے میں بارھویں گھر میں سیارہ زہرہ کے ساتھ ہے اور کمزور ہے۔

زائچے کے چوتھے گھر میں کیتو کے ساتھ بارھویں گھر کا حاکم جو فعلی منحوس ہے ، حالت قران میں ہے جب کہ دسویں گھر میں سیارہ شمس جو ان کا ذاتی سیارہ ہے، راہو کے ساتھ نہ صرف قران میں ہے بلکہ بارھویں گھر کے حاکم فعلی منحوس قمر کی نظر بد کا بھی شکار ہے،ایسے لوگ اپنے مفادات کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں، وہ جائز اور ناجائز میں تمیز نہیں کرتے،ستمبر کے آخر سے راہو کیتو جب گھر تبدیل کریں گے تو چوتھے اور دسویں گھر میں موجود سیارگان کو بری طرح متاثر کریں گے جس کے سبب ان کی صحت بھی بری طرح متاثر ہوسکتی ہے،اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ موجودہ صورت حال میں مسلسل شدید نوعیت کے ذہنی دباو¿ کا شکار ہیں اور یہ صورت آئندہ بھی الیکشن کے نتائج آنے تک رہے گی۔

اگر ہم تین نومبر 2020 یعنی الیکشن ڈے پر سیاروی گردش کا جائزہ لیں تو اس وقت مسٹر ٹرمپ کے زائچے کی صورت حال کچھ یوں ہوگی، شائقین 3 نومبر 2020 ءبمقام واشنگٹن صفر بج کر صفر منٹ شب کا زائچہ بناکر اس وقت کی سیاروی پوزیشن کا مشاہدہ کرسکتے ہیں۔

مشتری کے دور اکبر میں زحل کا دور اصغر جاری ہوگا، زحل بہر حال کمزور پوزیشن رکھتا ہے،ان کا اپنا سیارہ شمس اس وقت اپنے برج ہبوط میزان میں ہوگا جب کہ تیسرے گھر کا حاکم سیارہ زہرہ بھی اپنے برج ہبوط سنبلہ میں ہوگا، پیدائشی شمس و قمر راہو کیتو سے متاثرہ ہوں گے اور قمر بھی دسویں گھر میں متاثرہ ہوگا، پیدائشی مشتری پر بھی راہو کی طاقت ور نظر ہوگی، یہ صورت حال ان کی کامیابی کے امکانات کو مشکوک بناتی ہے لیکن مسٹر ٹرمپ کی لغت میں ناممکن کا لفظ نہیں ہے، منفی انانیت انتہا درجے پر ہے، سابقہ الیکشن میں بھی بعد کی اطلاعات کے مطابق انھوں نے کامیابی حاصل کرنے کے لیے ایسے ذرائع سے مدد لی تھی جن پر مسلسل تنقید ہوتی رہی، اس بار بھی وہ ایسا کوئی کام کرسکتے ہیں کہ اگر انتخابات ملتوی نہ ہوسکے تو وہ کوئی بھی خطرہ مول لے کر فاتح بننے کی کوشش کرسکتے ہیں، ان کی جیت کے لیے ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ان کے مخالف امیدوار جیوبائیڈن کا زائچہ بھی بہت زیادہ مضبوط پوزیشن کا حامل نہیں ہے،مزید یہ کہ ان کے خاندان پر کرپشن کے الزامات بھی موجود ہیں۔

آئیے مسٹر جیوبائیڈن کے زائچے کا بھی جائزہ لے لیا جائے۔

زائچہ مسٹر جیو بائیڈن




مسٹر جیوبائیڈن کی تاریخ پیدائش 20 نومبر 1942 ہے، وہ صبح 07:30 am پر پینسلوانیا کے شہر اسکرنٹن (Scranton) میں پیدا ہوئے، طالع برج میزان کے 28 درجہ 18 دقیقہ زائچے میں طلوع ہیں اور برج میزان میں مریخ کے علاوہ سیارہ عطارد بھی موجود ہے، دوسرے گھر میں شمس اور زہرہ تقریباً قران کی حالت میں ہےں یعنی زہرہ غروب ہے، کیتو پانچویں گھر میں جب کہ قمر برج حمل میں اور زحل آٹھویں گھر برج ثور میں ہے، سیارہ مشتری دسویں گھر برج سرطان میں ہے جب کہ راہو برج اسد میں ہے اور سیارہ قمر کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔

طالع برج میزان کے لیے راہو کیتو کے علاوہ سیارہ عطارد فعلی منحوس اثر رکھنے والا سیارہ ہے جو زائچے کے پہلے گھر میں طالع کے درجات سے حالت قران میں ہے اور ساتویں گھر کو بھی بری طرح متاثر کر ر ہے جس کے نتیجے میں ان کی پہلی بیوی ایک کار ایکسیڈنٹ میں ہلاک ہوگئی تھیں۔

زائچے میں اگرچہ دسویں گھر میں قابض شرف یافتہ مشتری کا دور اکبر جاری ہے لیکن مشتری ابتدائی درجات پر ہونے کے سبب کمزور ہے،مشتری کے دور اکبر میں راہو کا دور اصغر جاری ہے جو کسی طرح بھی امید افزا بات نہیں ہے اور راہو کی نظر دسویں گھر کے حاکم قمر پر ہے، اگر کسی انہونی کے نتیجے میں وہ الیکشن میں کامیاب ہوگئے تو دنیا میں طالع میزان کے حامل تیسرے سربراہ مملکت ہوں گے، ان سے پہلے دو میزانی سربراہ مملکت پاکستان کے عمران خان اور روس کے صدر پیوٹن ہیں، اتفاق یہ کہ عمران خان کا قمری برج بھی حمل ہے۔

3 نومبر کو الیکشن ڈے پر ان کا اپنا سیارہ زہرہ برج ہبوط میں بارھویں گھر میں ہوگا جب کہ گیارھویں گھر کا حاکم شمس برج میزان میں برج ہبوط میں ہوگا، دسویں گھر کا حاکم سیارہ قمر آٹھویں گھر میں راہو کے ساتھ ہوگا، قمر کی راہو کے ساتھ یہ پوزیشن ان کی کامیابی کے حوالے سے کسی وقت بھی کوئی ناگوار ٹرننگ پوائنٹ لاسکتی ہے،ساتویں گھر کا حاکم سیارہ مریخ چھٹے گھر میں ہوگا اور کیتو کی نظر اس پر ہوگی،مزید خرابی یہ ہے کہ راہو کیتو زائچے کے دوسرے ، چوتھے ، چھٹے ، آٹھویں ، دسویں اور بارھویں گھر کو متاثر کر رہے ہوں گے، چناں چہ یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ وہ نہایت آسانی سے انتخاب جیت کر امریکا کے نئے صدر بن جائیں گے حالاں کہ صدر ٹرمپ کے زائچے کی جو خرابیاں ہیں اور حالات نے ان کی مقبولیت میں جو کمی پیدا کی ہے ، اگر ڈیموکریٹک پارٹی کوئی ایسا امیدوار سامنے لاتی جس کا زائچہ زیادہ مضبوط پوزیشن رکھتا ہو تو مسٹر ٹرمپ کی کامیابی کے امکانات تقریباً ختم ہوجاتے لیکن مسٹر جیوبائیڈن کا زائچہ اتنا مضبوط نظر نہیں آتا کہ وہ آسانی سے ڈونالڈ ٹرمپ کو شکست دے سکیں، اپنی بہت سی کمزوریوں کے باوجود ڈونالڈ ٹرمپ دوبارہ الیکشن جیتنے کی پوزیشن میں ہیں،البتہ اس صورت حال کو امریکا کے زائچے سے ظاہر ہے ،نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ انتخابی نتائج انتہائی متنازع صورت اختیار کرلےں اور دونوں پارٹیاںاپنی ناکامی کی صورت میں انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کردیں،ایسی صورت میں ماضی کی ایک مثال صدر بش اور الگور کا الیکشن ہے جس کا فیصلہ بعد ازاں عدالت میں ہوا تھا (واللہ اعلم بالصواب)